<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:15:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 14:15:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا نے 7 لاکھ فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹ وجہ بتائے بغیر ڈیلیٹ کردیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512790/australia-social-media-ban-meta-instagram-facebook-teen-accounts-online-safety-children-fb-account-internet-court-case</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا نے آسٹریلیا میں 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس 16 سال سے کم عمر بچوں کے تھے۔ کمپنی کے مطابق یہ قدم اُس قانون کی پاسداری کے لیے اٹھایا گیا ہے جس کے تحت کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/meta-says-it-has-taken-down-756000-australian-teen-accounts-ban-enforcement-2026-08-13/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; میٹا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر سے اِس سال جون کے درمیان انسٹاگرام کے 4 لاکھ 62 ہزار اور فیس بک کے 2 لاکھ 94 ہزار مشکوک اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510998/artificial-intelligence-hacked-data-breach-cybersecurity-anthropic-claude-claude-ai-ai-security-hacked-by-claude'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ان اکاؤنٹس کی نشان دہی کے لیے اے آئی کی مدد لے رہی ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارف کے پروفائل اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، جیسے کہ سالگرہ کے مبارکباد والے پیغامات یا اسکول کی کلاسوں کا ذکر، تاکہ عمر کا اندازہ لگایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی حکومت نے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر یہ قانون نافذ کیا تھا۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ ہونے کے ابتدائی تین مہینوں میں بھی 16 سال سے کم عمر 80 فیصد سے زائد بچے کسی نہ کسی طریقے سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آسٹریلین انٹرنیٹ ریگولیٹراتھارٹی ان سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی پر غور کر رہا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ انہوں نے پابندی کو نافذ کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512495/meta-social-media-addiction-tiktok-google-snapchat-tech-lawsuits-social-media-safety-addiction'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی حکومت نے قانون پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے جرمانے کی رقم دوگنی کر کے تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں آسٹریلوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے میٹا، ٹک ٹاک، گوگل اور اسنیپ چیٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے لیے انٹرنیٹ کو محفوظ اور ان کی عمر کے مطابق بنانے کے سرکاری مقصد سے متفق ہے اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا نے آسٹریلیا میں 7 لاکھ 56 ہزار سے زائد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس 16 سال سے کم عمر بچوں کے تھے۔ کمپنی کے مطابق یہ قدم اُس قانون کی پاسداری کے لیے اٹھایا گیا ہے جس کے تحت کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/meta-says-it-has-taken-down-756000-australian-teen-accounts-ban-enforcement-2026-08-13/">رائٹرز کے مطابق</a> میٹا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر سے اِس سال جون کے درمیان انسٹاگرام کے 4 لاکھ 62 ہزار اور فیس بک کے 2 لاکھ 94 ہزار مشکوک اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510998/artificial-intelligence-hacked-data-breach-cybersecurity-anthropic-claude-claude-ai-ai-security-hacked-by-claude'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510998"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ان اکاؤنٹس کی نشان دہی کے لیے اے آئی کی مدد لے رہی ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارف کے پروفائل اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، جیسے کہ سالگرہ کے مبارکباد والے پیغامات یا اسکول کی کلاسوں کا ذکر، تاکہ عمر کا اندازہ لگایا جا سکے۔</p>
<p>آسٹریلیا کی حکومت نے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر یہ قانون نافذ کیا تھا۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار اور آزادانہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ ہونے کے ابتدائی تین مہینوں میں بھی 16 سال سے کم عمر 80 فیصد سے زائد بچے کسی نہ کسی طریقے سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے رہے۔</p>
<p>دوسری جانب آسٹریلین انٹرنیٹ ریگولیٹراتھارٹی ان سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی پر غور کر رہا ہے جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ انہوں نے پابندی کو نافذ کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512495/meta-social-media-addiction-tiktok-google-snapchat-tech-lawsuits-social-media-safety-addiction'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آسٹریلیا کی حکومت نے قانون پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے جرمانے کی رقم دوگنی کر کے تقریباً 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں آسٹریلوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے میٹا، ٹک ٹاک، گوگل اور اسنیپ چیٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔</p>
<p>میٹا کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے لیے انٹرنیٹ کو محفوظ اور ان کی عمر کے مطابق بنانے کے سرکاری مقصد سے متفق ہے اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512790</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 12:33:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/13122034c43959e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/13122034c43959e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
