<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 11:37:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 11:37:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی محاصرے کے دوران امریکی طیارہ بردار جہاز کے اہلکاروں کی خستہ حالت، خاندان ٹرمپ کے خلاف پھٹ پڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30513042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کا محاصرہ کرنے والے امریکی طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ پر تعینات اہلکاروں کے اہلِ خانہ اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے جہاز پر موجود اہلکاروں کی ناقص ذہنی صحت اور خراب حالت کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز کا سمندر میں گزارا گیا آٹھ ساڑھے آٹھ ماہ کا وقت بالکل بھی زیادہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا سمندر میں گزارا گیا یہ طویل وقت حد سے زیادہ ہے، تو انہوں نے کہا کہ ”بالکل بھی نہیں۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل بھی زیادہ نہیں ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”وہ جہاز اب آگے بڑھ رہا ہے اور بہت جلد بالکل اسی جیسا دوسرا جہاز  اس کی جگہ لے گا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امریکی بحری جہاز گزشتہ سال نومبر میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا اور بعد میں اسے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی مدد کے لیے مشرق وسطیٰ کی طرف بھیج دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق جہاز پر اس وقت تقریباً پانچ ہزار ملٹری اور نیوی کے اہلکار موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30513041'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30513041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن سینیٹر رچرڈ بلومنتھل کے مطابق اس جہاز نے مسلسل دو سو سے زائد دن سمندر میں گزار کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے اور اتنے دنوں کے دوران یہ کسی بھی بندرگاہ پر نہیں رکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکاروں کے گھر والوں اور ڈیموکریٹک رہنماؤں نے جہاز پر خراب کھانے، صفائی کے ناقص نظام، سپلائی میں کمی اور اہلکاروں کی ذہنی صحت بگڑنے کی خبروں پر جواب طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملٹری ٹائمز کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جہاز پر موجود کچھ اہلکاروں نے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان باتوں کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ ہر جہاز، تمام اہلکاروں اور کپتان کو تمام ضروری سامان ہر وقت ملتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کچھ سمندری سفر دوسرے سفر کے مقابلے میں زیادہ لمبے ہوتے ہیں اور وہ ان اہلکاروں کا دل سے عزت اور احترام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف نیوی کے قائم مقام سیکرٹری ہنگ کاو نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس جہاز نے اپنے مقصد کو بہترین انداز میں مکمل کیا ہے اور یہ جلد ہی طے شدہ طریقہ کار کے تحت گھر واپس آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مشن کی سخت ضرورت کے سبب اہلکاروں کو سمندر میں اتنے دن گزارنے پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سمندری مشن مشکل ہوتے ہیں اور جنگ انہیں مزید کٹھن بنا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کچھ اہلکاروں کی ذہنی صحت پر اثر پڑا ہے مگر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا ہمارے بہادر جوانوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ ہمارے جوانوں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حکومتی بیانات کے برعکس جہاز پر موجود ایک اہلکار کی اہلیہ نے ان دعوؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512841/araghchi-trump-hormuz-fake-intelligence'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے برطانوی خبر رساں اخبار ”دی گارجین“ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا شوہر پہلے بھی کئی مشن پر جا چکا ہے لیکن اس نے اسے زندگی کا سب سے مشکل سفر قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر کے ساتھی بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جہاز کی حالت انتہائی خراب ہے اور یہ پانی پر تیرتی ہوئی ایک لوہے کی جیل کی طرح لگ رہا ہے جہاں لوگ دن میں بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور صرف چار پانچ گھنٹے سو پاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کھانے کی مقدار اور معیار دونوں انتہائی خراب ہیں اور لوگوں کو راشن کے حساب سے محدود کھانا دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ اہلِ خانہ پریشان نہیں ہیں، تو انہیں یہ سن کر بہت غصہ آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے کہا کہ صدر بات کرنے سے پہلے سوچتے نہیں ہیں اور انہیں اپنے فوجیوں، جہازوں اور اپنی جنگ کے حالات کی ذمہ داری لینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص جھوٹ نہیں بول رہا اور جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کا محاصرہ کرنے والے امریکی طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ پر تعینات اہلکاروں کے اہلِ خانہ اور ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے جہاز پر موجود اہلکاروں کی ناقص ذہنی صحت اور خراب حالت کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>جمعہ کو نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز کا سمندر میں گزارا گیا آٹھ ساڑھے آٹھ ماہ کا وقت بالکل بھی زیادہ نہیں ہے۔</p>
<p>جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا سمندر میں گزارا گیا یہ طویل وقت حد سے زیادہ ہے، تو انہوں نے کہا کہ ”بالکل بھی نہیں۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ بالکل بھی زیادہ نہیں ہے“۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”وہ جہاز اب آگے بڑھ رہا ہے اور بہت جلد بالکل اسی جیسا دوسرا جہاز  اس کی جگہ لے گا“۔</p>
<p>یہ امریکی بحری جہاز گزشتہ سال نومبر میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا اور بعد میں اسے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی مدد کے لیے مشرق وسطیٰ کی طرف بھیج دیا گیا تھا۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق جہاز پر اس وقت تقریباً پانچ ہزار ملٹری اور نیوی کے اہلکار موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30513041'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30513041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن سینیٹر رچرڈ بلومنتھل کے مطابق اس جہاز نے مسلسل دو سو سے زائد دن سمندر میں گزار کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے اور اتنے دنوں کے دوران یہ کسی بھی بندرگاہ پر نہیں رکا۔</p>
<p>اہلکاروں کے گھر والوں اور ڈیموکریٹک رہنماؤں نے جہاز پر خراب کھانے، صفائی کے ناقص نظام، سپلائی میں کمی اور اہلکاروں کی ذہنی صحت بگڑنے کی خبروں پر جواب طلب کیا ہے۔</p>
<p>ملٹری ٹائمز کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جہاز پر موجود کچھ اہلکاروں نے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان باتوں کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ ہر جہاز، تمام اہلکاروں اور کپتان کو تمام ضروری سامان ہر وقت ملتا رہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کچھ سمندری سفر دوسرے سفر کے مقابلے میں زیادہ لمبے ہوتے ہیں اور وہ ان اہلکاروں کا دل سے عزت اور احترام کرتے ہیں۔</p>
<p>دوسری طرف نیوی کے قائم مقام سیکرٹری ہنگ کاو نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس جہاز نے اپنے مقصد کو بہترین انداز میں مکمل کیا ہے اور یہ جلد ہی طے شدہ طریقہ کار کے تحت گھر واپس آئے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مشن کی سخت ضرورت کے سبب اہلکاروں کو سمندر میں اتنے دن گزارنے پڑے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سمندری مشن مشکل ہوتے ہیں اور جنگ انہیں مزید کٹھن بنا دیتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کچھ اہلکاروں کی ذہنی صحت پر اثر پڑا ہے مگر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا ہمارے بہادر جوانوں کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ ہمارے جوانوں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔</p>
<p>ان حکومتی بیانات کے برعکس جہاز پر موجود ایک اہلکار کی اہلیہ نے ان دعوؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512841/araghchi-trump-hormuz-fake-intelligence'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512841"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے برطانوی خبر رساں اخبار ”دی گارجین“ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا شوہر پہلے بھی کئی مشن پر جا چکا ہے لیکن اس نے اسے زندگی کا سب سے مشکل سفر قرار دیا ہے۔</p>
<p>کاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر کے ساتھی بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جہاز کی حالت انتہائی خراب ہے اور یہ پانی پر تیرتی ہوئی ایک لوہے کی جیل کی طرح لگ رہا ہے جہاں لوگ دن میں بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور صرف چار پانچ گھنٹے سو پاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کھانے کی مقدار اور معیار دونوں انتہائی خراب ہیں اور لوگوں کو راشن کے حساب سے محدود کھانا دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ اہلِ خانہ پریشان نہیں ہیں، تو انہیں یہ سن کر بہت غصہ آیا۔</p>
<p>خاتون نے کہا کہ صدر بات کرنے سے پہلے سوچتے نہیں ہیں اور انہیں اپنے فوجیوں، جہازوں اور اپنی جنگ کے حالات کی ذمہ داری لینی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص جھوٹ نہیں بول رہا اور جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ بالکل سچ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30513042</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 09:04:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/150858340611a1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/150858340611a1d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
