<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 15:05:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 15 Aug 2026 15:05:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بار بار میٹھا کھانے کی خواہش؟ کہیں یہ کسی سنگین بیماری کی علامت تو نہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30513081/craving-sweets-frequently-could-it-be-a-sign-of-a-serious-illness</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر لوگوں کو کھانا کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ میٹھا کھانے سے مزاج فوراً خوشگوار ہو جاتا ہے اور جسم کو ایک دم سے توانائی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھکاوٹ یا بھوک لگنے پر ہمارا دل کسی میٹھی چیز کی طرف للچاتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو دن میں کئی بار مٹھائی، چاکلیٹ، بسکٹ یا میٹھے مشروبات پینے کا دل کرتا ہے تو اسے صرف ذائقے کی پسند سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ عادت آپ کی خراب نیند، ذہنی دباؤ، کھانے پینے کی غلط روٹین یا پھر ذیابیطس یعنی شوگر جیسی کسی خطرناک بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے طبی ماہرین اور غذائی ڈاکٹرز عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، مسلسل میٹھے کی طلب آپ کے جسم کی طرف سے ایک الارم ہے کہ اندرونی طور پر کچھ ٹھیک نہیں چل رہا اور آپ کو اپنی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کھانے میں غذائیت کی کمی اور لمبی بھوک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ کئی گھنٹوں تک کچھ کھاتے پیتے نہیں ہیں تو جسم کو فوری توانائی کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ایسے میں انسان کا دل میٹھی چیزوں کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے کیونکہ ان میں موجود شکر جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ لیکن میٹھی چیزوں سے ملنے والی طاقت عارضی ہوتی ہے اور کچھ ہی دیر بعد آپ کو دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30353783'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353783"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر آپ کی خوراک میں پروٹین، دالیں، تازہ سبزیاں، پھل اور خالص اناج شامل نہیں ہیں تو آپ کا پیٹ جلدی خالی ہو جائے گا۔ اس سے بسکٹ، چاکلیٹ اور میٹھے مشروبات پینے کی خواہش بڑھے گی اور نتیجہ ضرورت سے زیادہ کیلوریز اور موٹاپے کی صورت میں نکلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ کا اثر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیند پوری نہ ہونے سے سارا دن تھکاوٹ رہتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو  فوری توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب انسان کام کے بوجھ، گھریلو مسائل، ذہنی دباؤ، پریشانی یا ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو وہ سکون پانے کے لیے میٹھے کا سہارا لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹھی چیز کھانے سے کچھ دیر کے لیے موڈ بہتر محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اگر ہر مرتبہ پریشانی کے وقت مٹھائی کا سہارا لیا جائے تو یہ عادت بن سکتی ہے۔ اس لیے تناؤ کم کرنے کے لیے چہل قدمی، ورزش، آرام اور مناسب نیند جیسے صحت مند طریقوں کو بھی معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;ذیابیطس کا خطرہ اور جسمانی علامات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ میٹھے کی طلب شوگر کی بیماری سے کیسے جڑی ہے۔ جب جسم میں انسولین صحیح طرح کام نہیں کرتی، تو خون میں موجود شوگر خلیوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس وجہ سے جسم کے خلیے توانائی سے محروم رہتے ہیں اور دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہ اسے مزید میٹھا چاہیے تاکہ طاقت مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر میٹھے کی اس شدید خواہش کے ساتھ آپ کو حد سے زیادہ پیاس لگتی ہے، بار بار پیشاب آتا ہے، بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہو رہا ہے یا آپ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، تو یہ ذیابیطس کی واضح علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوراً کسی مستند ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کروانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسلسل میٹھا کھانے کی خواہش کو ہر صورت ذیابیطس کی علامت قرار دینا درست نہیں۔ صرف مٹھائی کھانے کی خواہش سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی شخص کو ذیابیطس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دماغی کیمیکلز کا کردار اور چینی کا نشہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید طبی تحقیق بتاتی ہے کہ جب ہم چینی کھاتے ہیں تو ہمارے دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے جو ہمیں خوشی کا احساس دلاتا ہے۔ بار بار چینی کھانے سے دماغ اس خوشی کا عادی ہو جاتا ہے اور بالکل کسی نشے کی طرح مزید چینی کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میٹھا چھوڑنا بعض اوقات بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات بھی دماغ کو دھوکہ دیتے ہیں جس سے میٹھے کی طلب میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30345129'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345129"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس عادت سے کیسے جان چھڑائیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹھا کھانے کی خواہش کم کرنے کے لیے سب سے پہلے کھانے کے اوقات بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اپنی روزمرہ خوراک کو متوازن بنائیں اور اس میں انڈے، دودھ، دہی، دالیں اور پروٹین سے بھرپور چیزیں شامل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات کو وقت پر سوئیں اور اپنی نیند پوری کریں۔ اپنے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے ورزش یا چہل قدمی کو معمول بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم بات، جب بھی میٹھا کھانے کا دل کرے تو بازار کی مٹھائیوں، بسکٹوں یا چاکلیٹس کی جگہ قدرتی تازے پھل کھائیں، جو آپ کو صحت مند توانائی فراہم کریں گے اور بیماریوں سے بھی بچائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر لوگوں کو کھانا کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کی عادت ہوتی ہے۔ میٹھا کھانے سے مزاج فوراً خوشگوار ہو جاتا ہے اور جسم کو ایک دم سے توانائی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھکاوٹ یا بھوک لگنے پر ہمارا دل کسی میٹھی چیز کی طرف للچاتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو دن میں کئی بار مٹھائی، چاکلیٹ، بسکٹ یا میٹھے مشروبات پینے کا دل کرتا ہے تو اسے صرف ذائقے کی پسند سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ عادت آپ کی خراب نیند، ذہنی دباؤ، کھانے پینے کی غلط روٹین یا پھر ذیابیطس یعنی شوگر جیسی کسی خطرناک بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے</strong>۔</p>
<p>اس حوالے سے طبی ماہرین اور غذائی ڈاکٹرز عوام کو متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، مسلسل میٹھے کی طلب آپ کے جسم کی طرف سے ایک الارم ہے کہ اندرونی طور پر کچھ ٹھیک نہیں چل رہا اور آپ کو اپنی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p><strong>کھانے میں غذائیت کی کمی اور لمبی بھوک</strong></p>
<p>طبی ماہرین کے مطابق اگر آپ کئی گھنٹوں تک کچھ کھاتے پیتے نہیں ہیں تو جسم کو فوری توانائی کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ایسے میں انسان کا دل میٹھی چیزوں کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے کیونکہ ان میں موجود شکر جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ لیکن میٹھی چیزوں سے ملنے والی طاقت عارضی ہوتی ہے اور کچھ ہی دیر بعد آپ کو دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30353783'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30353783"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اگر آپ کی خوراک میں پروٹین، دالیں، تازہ سبزیاں، پھل اور خالص اناج شامل نہیں ہیں تو آپ کا پیٹ جلدی خالی ہو جائے گا۔ اس سے بسکٹ، چاکلیٹ اور میٹھے مشروبات پینے کی خواہش بڑھے گی اور نتیجہ ضرورت سے زیادہ کیلوریز اور موٹاپے کی صورت میں نکلے گا۔</p>
<p><strong>نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ کا اثر</strong></p>
<p>نیند پوری نہ ہونے سے سارا دن تھکاوٹ رہتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو  فوری توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جب انسان کام کے بوجھ، گھریلو مسائل، ذہنی دباؤ، پریشانی یا ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے تو وہ سکون پانے کے لیے میٹھے کا سہارا لیتا ہے۔</p>
<p>میٹھی چیز کھانے سے کچھ دیر کے لیے موڈ بہتر محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اگر ہر مرتبہ پریشانی کے وقت مٹھائی کا سہارا لیا جائے تو یہ عادت بن سکتی ہے۔ اس لیے تناؤ کم کرنے کے لیے چہل قدمی، ورزش، آرام اور مناسب نیند جیسے صحت مند طریقوں کو بھی معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔</p>
<p><br><strong>ذیابیطس کا خطرہ اور جسمانی علامات</strong></p>
<p>یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ میٹھے کی طلب شوگر کی بیماری سے کیسے جڑی ہے۔ جب جسم میں انسولین صحیح طرح کام نہیں کرتی، تو خون میں موجود شوگر خلیوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس وجہ سے جسم کے خلیے توانائی سے محروم رہتے ہیں اور دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں کہ اسے مزید میٹھا چاہیے تاکہ طاقت مل سکے۔</p>
<p>اگر میٹھے کی اس شدید خواہش کے ساتھ آپ کو حد سے زیادہ پیاس لگتی ہے، بار بار پیشاب آتا ہے، بغیر کسی وجہ کے وزن کم ہو رہا ہے یا آپ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، تو یہ ذیابیطس کی واضح علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں فوراً کسی مستند ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کروانا چاہیے۔</p>
<p>تاہم مسلسل میٹھا کھانے کی خواہش کو ہر صورت ذیابیطس کی علامت قرار دینا درست نہیں۔ صرف مٹھائی کھانے کی خواہش سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی شخص کو ذیابیطس ہے۔</p>
<p><strong>دماغی کیمیکلز کا کردار اور چینی کا نشہ</strong></p>
<p>جدید طبی تحقیق بتاتی ہے کہ جب ہم چینی کھاتے ہیں تو ہمارے دماغ میں ڈوپامین نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے جو ہمیں خوشی کا احساس دلاتا ہے۔ بار بار چینی کھانے سے دماغ اس خوشی کا عادی ہو جاتا ہے اور بالکل کسی نشے کی طرح مزید چینی کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میٹھا چھوڑنا بعض اوقات بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات بھی دماغ کو دھوکہ دیتے ہیں جس سے میٹھے کی طلب میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30345129'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345129"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>اس عادت سے کیسے جان چھڑائیں؟</strong></p>
<p>میٹھا کھانے کی خواہش کم کرنے کے لیے سب سے پہلے کھانے کے اوقات بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اپنی روزمرہ خوراک کو متوازن بنائیں اور اس میں انڈے، دودھ، دہی، دالیں اور پروٹین سے بھرپور چیزیں شامل کریں۔</p>
<p>رات کو وقت پر سوئیں اور اپنی نیند پوری کریں۔ اپنے ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے ورزش یا چہل قدمی کو معمول بنائیں۔</p>
<p>سب سے اہم بات، جب بھی میٹھا کھانے کا دل کرے تو بازار کی مٹھائیوں، بسکٹوں یا چاکلیٹس کی جگہ قدرتی تازے پھل کھائیں، جو آپ کو صحت مند توانائی فراہم کریں گے اور بیماریوں سے بھی بچائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30513081</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Aug 2026 12:31:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/15122444b3ef3f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/15122444b3ef3f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
