<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 17 Aug 2026 01:41:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 17 Aug 2026 01:41:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد نہ کرنے پر اسرائیل کی مذمت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30513289/eight-islamic-countries-including-pakistan-condemn-israel-for-not-implementing-gaza-peace-plan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد نہ کرنے پر اسرائیل کی مذمت کردی ہے، مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنا بھی قابل مذمت ہے، یہ ٹرمپ کے جامع منصوبے سے براہ راست انحراف ہے، اسرائیل امن کی راہ میں رکاوٹ کا ذمہ دار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا غزہ جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کو مسترد کرنا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اسرائیل غزہ میں امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ جامع منصوبے پر عمل درآمد سے انکار اسرائیل کی جانب سے امن کو واضح طور پر مسترد کرنے کے مترادف ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششوں پر تشویش ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2089035639920762933?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2089035639920762933?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل پر امن منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ کے نتائج کی مکمل ذمہ داری عائد ہوگی، غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامی ممالک نے غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے، سیکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے یا مسترد کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں اور دو ریاستی حل ہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30513254/hamas-delegation-meets-egyptian-intelligence-chief-kushner-meeting-also-planned'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30513254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ 1967 کی سرحدوں پر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور فلسطینی ریاست سے انکار خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ آف پیس کے کردار کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بورڈ آف پیس سے غزہ روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور امریکا کی فعال حمایت اور شمولیت سے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام فریق غزہ جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت میں تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد نہ کرنے پر اسرائیل کی مذمت کردی ہے، مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنا بھی قابل مذمت ہے، یہ ٹرمپ کے جامع منصوبے سے براہ راست انحراف ہے، اسرائیل امن کی راہ میں رکاوٹ کا ذمہ دار ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا غزہ جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کو مسترد کرنا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اسرائیل غزہ میں امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ذمہ دار ہے۔</p>
<p>مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ غزہ جامع منصوبے پر عمل درآمد سے انکار اسرائیل کی جانب سے امن کو واضح طور پر مسترد کرنے کے مترادف ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوششوں پر تشویش ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2089035639920762933?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2089035639920762933?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل پر امن منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ کے نتائج کی مکمل ذمہ داری عائد ہوگی، غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔</p>
<p>اسلامی ممالک نے غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے، سیکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے یا مسترد کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہیں اور دو ریاستی حل ہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30513254/hamas-delegation-meets-egyptian-intelligence-chief-kushner-meeting-also-planned'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30513254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ 1967 کی سرحدوں پر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور فلسطینی ریاست سے انکار خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔</p>
<p>بورڈ آف پیس کے کردار کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بورڈ آف پیس سے غزہ روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور امریکا کی فعال حمایت اور شمولیت سے جامع منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔</p>
<p>مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام فریق غزہ جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کی پیش رفت میں تعاون کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30513289</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Aug 2026 23:37:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/16232808f6f0bf1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/16232808f6f0bf1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
