<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 10 Jun 2026 04:46:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 10 Jun 2026 04:46:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیپلز پارٹی کے  سینئر رہنما جہانگیر بدر انتقال کرگئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/69685/%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7-%d8%ac%db%81%d8%a7%d9%86%da%af%db%8c%d8%b1-%d8%a8%d8%af%d8%b1</link>
      <description>&lt;caption id="attachment_69686" align="aligncenter" width="800"&gt;&lt;a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/11/jahangir.png"&gt;&lt;img class="wp-image-69686 size-full" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/11/jahangir.png" alt="فائل فوٹو" width="800" height="480" /&gt;&lt;/a&gt; جہانگیر بدرکا شمار بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا /فائل فوٹو&lt;/caption&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر دل کا دورہ پڑنے کے باعث لاہور کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر کے صاحبزادے ذوالفقار علی کے مطابق رات گئے جہانگیر بدر کو دل میں تکلیف محسوس ہونے پر فوری طور پر لاہور کےعلاقے ڈیفنس میں واقع اسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt; ذوالفقارعلی کے مطابق جہانگیر بدر گردوں اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور انہیں دل میں تکلیف کی شکایت پر اسپتال پہنچایا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما جہانگیر بدر نے سیاسی سفر کا آغاز جنرل ایوب کے خلاف تحریک سے کیا۔ جنرل ضیاء کے دور میں گرفتار کیے گئے ۔ جہانگیر بدر نے بحالی جمہوریت کی کئی تحاریک میں حصہ لیا اور متعدد بار جیل بھی گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ان کا شمار بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر کی زندگی کی جھلک پر ایک نظر ڈالتے ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر 25 اکتوبر 1944 میں لاہور میں پیدا ہوئے ۔ان کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر 1966 میں طالب علم رہنما تھے اور انہوں نے جنرل ایوب کی آمریت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کے ساتھ ملاقات کے بعد جہانگیر بدر یپیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر کو1977 میں فوجی عدالت نے  ایک سال قید اور کوڑے مارنے کی سزا سنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;ان پر 1978 میں فوجی عدالت نے نو ماہ کی سزا اور تیس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جنرل ضیا نے 1981 میں طیارہ اغوا کیس میں جہانگیر بدر کو گرفتار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جنرل ضیا کے دور میں1984میں 2 برس جیل میں رہنے کےبعد رہا کر دئیے گئے اور پھر جنرل ضیا کے خلاف تحریک کے دوران دوبارہ گرفتار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;بینظیر بھٹو نے1985 میں  انہیں پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر منتخب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;1986 میں جہانگیر بدر بینظیر بھٹو کے ساتھ جلا وطن ہوئے،، 1987 میں انہیں وطن واپسی پر گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;وہ 1991 اور اس کے بعد دو بار پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر نے 1993 میں بینظیر بھٹو کی زیر قیادت لانگ مارچ میں بھی حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر کو 1999 میں پاکستان پیپلزپارٹی کا سیکریٹری جنرل بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیربدر2009میں دوبارہ سینیٹ کے رکن مختب ہوئے۔وہ سینیٹ کے کئی کمیٹیوں کے چیئرمین بھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;جہانگیر بدر پہلی بار1994میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p style="text-align: right;"&gt;کامیابی کے بعد پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیرمقرر ہوئے۔وہ ہاؤسنگ اور ورکس، سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;http://www.dailymotion.com/video/x51xlbx&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<caption id="attachment_69686" align="aligncenter" width="800"><a href="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/11/jahangir.png"><img class="wp-image-69686 size-full" src="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/11/jahangir.png" alt="فائل فوٹو" width="800" height="480" /></a> جہانگیر بدرکا شمار بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا /فائل فوٹو</caption>
<p style="text-align: right;"><strong>پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر دل کا دورہ پڑنے کے باعث لاہور کے نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔</strong></p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر کے صاحبزادے ذوالفقار علی کے مطابق رات گئے جہانگیر بدر کو دل میں تکلیف محسوس ہونے پر فوری طور پر لاہور کےعلاقے ڈیفنس میں واقع اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;"> ذوالفقارعلی کے مطابق جہانگیر بدر گردوں اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور انہیں دل میں تکلیف کی شکایت پر اسپتال پہنچایا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔</p>
<p style="text-align: right;">پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما جہانگیر بدر نے سیاسی سفر کا آغاز جنرل ایوب کے خلاف تحریک سے کیا۔ جنرل ضیاء کے دور میں گرفتار کیے گئے ۔ جہانگیر بدر نے بحالی جمہوریت کی کئی تحاریک میں حصہ لیا اور متعدد بار جیل بھی گئے۔</p>
<p style="text-align: right;">ان کا شمار بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر کی زندگی کی جھلک پر ایک نظر ڈالتے ہیں</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر 25 اکتوبر 1944 میں لاہور میں پیدا ہوئے ۔ان کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر 1966 میں طالب علم رہنما تھے اور انہوں نے جنرل ایوب کی آمریت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا۔</p>
<p style="text-align: right;">پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کے ساتھ ملاقات کے بعد جہانگیر بدر یپیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر کو1977 میں فوجی عدالت نے  ایک سال قید اور کوڑے مارنے کی سزا سنائی۔</p>
<p style="text-align: right;">ان پر 1978 میں فوجی عدالت نے نو ماہ کی سزا اور تیس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا۔</p>
<p style="text-align: right;">جنرل ضیا نے 1981 میں طیارہ اغوا کیس میں جہانگیر بدر کو گرفتار کیا۔</p>
<p style="text-align: right;">جنرل ضیا کے دور میں1984میں 2 برس جیل میں رہنے کےبعد رہا کر دئیے گئے اور پھر جنرل ضیا کے خلاف تحریک کے دوران دوبارہ گرفتار ہوئے۔</p>
<p style="text-align: right;">بینظیر بھٹو نے1985 میں  انہیں پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر منتخب کیا تھا۔</p>
<p style="text-align: right;">1986 میں جہانگیر بدر بینظیر بھٹو کے ساتھ جلا وطن ہوئے،، 1987 میں انہیں وطن واپسی پر گرفتار کیا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;">وہ 1991 اور اس کے بعد دو بار پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رہے۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر نے 1993 میں بینظیر بھٹو کی زیر قیادت لانگ مارچ میں بھی حصہ لیا۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر کو 1999 میں پاکستان پیپلزپارٹی کا سیکریٹری جنرل بنایا گیا۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیربدر2009میں دوبارہ سینیٹ کے رکن مختب ہوئے۔وہ سینیٹ کے کئی کمیٹیوں کے چیئرمین بھی تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">جہانگیر بدر پہلی بار1994میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔</p>
<p style="text-align: right;">کامیابی کے بعد پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیرمقرر ہوئے۔وہ ہاؤسنگ اور ورکس، سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے۔</p>
<p>http://www.dailymotion.com/video/x51xlbx</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/69685</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Nov 2016 12:04:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حنا بلال)</author>
      <media:content type="image/" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/wp-content/uploads/2016/11/jahangir-150x150.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
