<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Opinion</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 09:42:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 09 Aug 2026 09:42:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب محفوظ سرمایہ کاری کو بھی بچانے کی ضرورت آن پڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512015/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عشروں سے مالیاتی منڈیاں ایک ایسے مفروضے پر چلتی آ رہی ہیں جو اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ شاید ہی کسی سرمایہ کار نے اسے کبھی چیلنج کرنے کا سوچا ہو۔ جب بھی غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے، امریکی ٹریژری بانڈز خرید لیجیے، کیونکہ انہیں دنیا کی سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی محفوظ سرمایہ کاری خود غیر محفوظ دکھائی دینے لگے تو پھر کیا ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند برس پہلے تک یہ سوال شاید مضحکہ خیز محسوس ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج، شاید یہی سوال اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر اس صورتِ حال کی فوری وجہ کا امریکی سرکاری قرض سے کوئی خاص تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ جاپانی ین چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے، جاپانی سرکاری بانڈز کی منافع بخش شرحیں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ بینک آف جاپان اب بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ مالیاتی پالیسی کو معمول پر لا سکتا ہے، مگر اس عمل سے اپنے ہی بانڈ مارکیٹ کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ تاہم اصل غیر معمولی پیش رفت ٹوکیو میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1998 کے بعد پہلی مرتبہ امریکا نے جاپان کے ساتھ مل کر ین کی خریداری کی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 2011 کے بعد یہ واشنگٹن کی پہلی زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت تھی۔ یہی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ امریکی پالیسی ساز محض کرنسی کی معمول کی اتار چڑھاؤ والی صورتِ حال سے کہیں زیادہ سنگین خطرہ محسوس کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر وہ کس چیز کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری مؤقف یہ تھا کہ مقصد کرنسی کی غیر معمولی بے یقینی اور اتار چڑھاؤ پر قابو پانا تھا۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو، لیکن مالیاتی منڈیاں دہائیوں سے کرنسیوں کی شدید نوسان کا سامنا کرتی رہی ہیں، مگر اس کے باوجود واشنگٹن نے کبھی اس نوعیت کا غیر معمولی قدم نہیں اٹھایا۔ پھر اب ایسا کیوں کیا گیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اس لیے کہ معاملہ صرف جاپانی ین کا نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان ایک کھرب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز کا مالک ہونے کے باعث امریکا کا سب سے بڑا غیر ملکی قرض دہندہ ہے۔ معمول کے حالات میں یہ تعلق دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند رہتا ہے، مگر مالیاتی منڈیاں ہمیشہ معمول کے مطابق نہیں چلتیں۔ اگر جاپانی بانڈز کی منافع بخش شرح مزید بڑھتی رہی اور ین مزید کمزور ہوا تو ٹوکیو پر اپنے مالیاتی نظام کو مستحکم رکھنے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اگر اس مقصد کے لیے جاپان کو ماضی کی طرح اپنے وسیع امریکی ٹریژری بانڈز کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کرنا پڑا تو امریکا میں قرض لینے کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ ایسا خطرہ کسی اور سمت سے جنم لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام تصور یہی تھا کہ امریکا کا سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی حریف چین کسی دن اپنے پاس موجود امریکی ٹریژری بانڈز کو معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ مگر گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین نے بتدریج اپنی سرمایہ کاری کم کر دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب فوری تشویش کا باعث امریکا کا سب سے قریبی ایشیائی اتحادی جاپان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ اکثر مالیاتی منڈیوں کے دیرینہ مفروضوں کو نئے سرے سے لکھ دیتی ہے، کیا ایسا نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت سرمایہ کار کئی غیر معمولی اور پریشان کن عوامل کا بیک وقت سامنا کر رہے ہیں۔ انتہائی طویل المدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں عالمی مالیاتی بحران سے پہلے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی امریکی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے سرمایہ کار اب زیادہ معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے باعث ٹرم پریمیم میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان، دونوں کی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بتدریج کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جاپانی سرکاری بانڈز، امریکی ٹریژری بانڈز اور جاپانی ین تینوں ایک ہی وقت میں دباؤ کا شکار ہیں، اور مالیاتی تاریخ میں ایسا امتزاج نہایت کم دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو کیا مالیاتی منڈیاں کسی ایسے طوفان کو آہستہ آہستہ بنتا دیکھ رہی ہیں جو ابھی پوری شدت سے سامنے نہیں آیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ پالیسی ساز ایک ایسے ممکنہ بحران کو ٹالنے کی فکر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جسے مالیاتی منڈیاں اب بھی انتہائی بعید از امکان سمجھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کی مداخلت سے ممکن ہے جاپانی ین کو سہارا ملا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس اقدام سے جاپان پر مستقبل میں کرنسی کو سہارا دینے کے لیے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے کا دباؤ بھی کم ہو گیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بظاہر زرمبادلہ کی منڈی کے لیے کیے گئے اس اقدام کا اصل فائدہ خاموشی سے دنیا کی سب سے بڑی بانڈ مارکیٹ، یعنی امریکی ٹریژری مارکیٹ، کو پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امکان ایک نہایت اہم اور قدرے تشویشناک سوال کو جنم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر امریکا کو اب اپنے سب سے بڑے قرض دہندہ کی کرنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے خود میدان میں آنا پڑ رہا ہے تو اس سے امریکی ٹریژری مارکیٹ کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی شدت کا اندازہ کیا ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیوں کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ ان خطرات کو عموماً نظرانداز کر دیتی ہیں جو پہلے کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے ہوں۔ امریکی سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں بے ہنگم ردوبدل کے خدشات پر کئی دہائیوں سے بحث ہوتی رہی ہے، لیکن زیادہ تر ایسے خدشات کا اظہار وہی لوگ کرتے رہے جنہیں وال اسٹریٹ میں مستقل مایوسی پھیلانے والے ”پرما بیئرز“ قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی ہر پیش گوئی وقت سے پہلے ثابت ہوئی اور ہر غلط الارم نے اگلے انتباہ کو مزید آسانی سے نظرانداز کرنے کی راہ ہموار کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے مالیاتی بحران اکثر انہی خطرات سے جنم لیتے ہیں جو اس وقت تک محض نظریاتی تصور سمجھے جاتے ہیں، جب تک وہ اچانک حقیقت کا روپ نہ دھار لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے یہ تمام خدشات کبھی سنگین بحران میں تبدیل نہ ہوں۔ ممکن ہے بینک آف جاپان دوبارہ اپنی ساکھ بحال کر لے، جاپانی ین مستحکم ہو جائے اور امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں بتدریج کم ہونے لگیں۔ اس صورت میں حالیہ مشترکہ مداخلت کو بین الاقوامی پالیسی تعاون کی ایک غیر معمولی مگر کامیاب مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی زیادہ بنیادی خطرے کو نظرانداز کر رہی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر بڑے مالیاتی بحران نے سرمایہ کاروں کے کسی نہ کسی ایسے یقین کو غلط ثابت کیا ہے جسے وہ ناقابلِ تردید سمجھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے پہلے یہ یقین تھا کہ امریکا بھر میں مکانات کی قیمتیں بیک وقت نہیں گر سکتیں۔ یورو زون کے بحران کے دوران یہ تصور ٹوٹا کہ مالیاتی اتحاد ہمیشہ برقرار رہے گا۔ اور حالیہ برسوں میں سرمایہ کاروں کو احساس ہوا کہ طویل عرصے تک غائب رہنے والی مہنگائی بھی دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو کیا آئندہ کبھی امریکی ٹریژری مارکیٹ پر اعتماد بھی انہی مفروضوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ بحث بظاہر بہت دور کی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان کے پاس امریکی ٹریژری بانڈز کے کھربوں ڈالر کے ذخائر موجود نہیں، لیکن اس کی معیشت عالمی مالیاتی نظام سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اگر امریکی سرکاری قرض کی قیمتوں میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے تو عالمی مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی سکڑ سکتی ہے، امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور ابھرتی ہوئی و سرحدی معیشتوں کے اثاثوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے بیرونی مالی وسائل کا حصول مزید مہنگا ہو جاتا ہے، شرح مبادلہ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور پالیسی سازوں کو ایسے مالیاتی حالات سے نمٹنا پڑتا ہے جن کا تعین بڑی حد تک ملک سے باہر ہو رہا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے واشنگٹن میں ہونے والی پیش رفت اسلام آباد کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ملک کے اندر رونما ہونے والی معاشی تبدیلیاں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے امریکا اور جاپان کی مشترکہ مداخلت کامیاب ثابت ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے صرف کچھ وقت ہی خریدا جا سکا ہو۔ لیکن دونوں صورتوں میں اس واقعے نے خاموشی سے ایک ایسا سوال جنم دے دیا ہے جس پر چند ہی سرمایہ کاروں نے کبھی غور کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دنیا کے محفوظ ترین اثاثے کو بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے تحفظ کی ضرورت پڑ جائے، تو آخر محفوظ پناہ گاہ فراہم کون کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6 اگست 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عشروں سے مالیاتی منڈیاں ایک ایسے مفروضے پر چلتی آ رہی ہیں جو اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ شاید ہی کسی سرمایہ کار نے اسے کبھی چیلنج کرنے کا سوچا ہو۔ جب بھی غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے، امریکی ٹریژری بانڈز خرید لیجیے، کیونکہ انہیں دنیا کی سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی محفوظ سرمایہ کاری خود غیر محفوظ دکھائی دینے لگے تو پھر کیا ہوگا؟</strong></p>
<p>چند برس پہلے تک یہ سوال شاید مضحکہ خیز محسوس ہوتا۔</p>
<p>آج، شاید یہی سوال اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔</p>
<p>بظاہر اس صورتِ حال کی فوری وجہ کا امریکی سرکاری قرض سے کوئی خاص تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ جاپانی ین چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے، جاپانی سرکاری بانڈز کی منافع بخش شرحیں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ بینک آف جاپان اب بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ مالیاتی پالیسی کو معمول پر لا سکتا ہے، مگر اس عمل سے اپنے ہی بانڈ مارکیٹ کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ تاہم اصل غیر معمولی پیش رفت ٹوکیو میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں ہوئی۔</p>
<p>1998 کے بعد پہلی مرتبہ امریکا نے جاپان کے ساتھ مل کر ین کی خریداری کی۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ 2011 کے بعد یہ واشنگٹن کی پہلی زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت تھی۔ یہی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ امریکی پالیسی ساز محض کرنسی کی معمول کی اتار چڑھاؤ والی صورتِ حال سے کہیں زیادہ سنگین خطرہ محسوس کر رہے تھے۔</p>
<p>آخر وہ کس چیز کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے؟</p>
<p>سرکاری مؤقف یہ تھا کہ مقصد کرنسی کی غیر معمولی بے یقینی اور اتار چڑھاؤ پر قابو پانا تھا۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو، لیکن مالیاتی منڈیاں دہائیوں سے کرنسیوں کی شدید نوسان کا سامنا کرتی رہی ہیں، مگر اس کے باوجود واشنگٹن نے کبھی اس نوعیت کا غیر معمولی قدم نہیں اٹھایا۔ پھر اب ایسا کیوں کیا گیا؟</p>
<p>شاید اس لیے کہ معاملہ صرف جاپانی ین کا نہیں تھا۔</p>
<p>جاپان ایک کھرب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز کا مالک ہونے کے باعث امریکا کا سب سے بڑا غیر ملکی قرض دہندہ ہے۔ معمول کے حالات میں یہ تعلق دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند رہتا ہے، مگر مالیاتی منڈیاں ہمیشہ معمول کے مطابق نہیں چلتیں۔ اگر جاپانی بانڈز کی منافع بخش شرح مزید بڑھتی رہی اور ین مزید کمزور ہوا تو ٹوکیو پر اپنے مالیاتی نظام کو مستحکم رکھنے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اگر اس مقصد کے لیے جاپان کو ماضی کی طرح اپنے وسیع امریکی ٹریژری بانڈز کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کرنا پڑا تو امریکا میں قرض لینے کی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>برسوں تک سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ ایسا خطرہ کسی اور سمت سے جنم لے گا۔</p>
<p>عام تصور یہی تھا کہ امریکا کا سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی حریف چین کسی دن اپنے پاس موجود امریکی ٹریژری بانڈز کو معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ مگر گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین نے بتدریج اپنی سرمایہ کاری کم کر دی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب فوری تشویش کا باعث امریکا کا سب سے قریبی ایشیائی اتحادی جاپان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔</p>
<p>تاریخ اکثر مالیاتی منڈیوں کے دیرینہ مفروضوں کو نئے سرے سے لکھ دیتی ہے، کیا ایسا نہیں؟</p>
<p>اس وقت سرمایہ کار کئی غیر معمولی اور پریشان کن عوامل کا بیک وقت سامنا کر رہے ہیں۔ انتہائی طویل المدتی امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں عالمی مالیاتی بحران سے پہلے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں۔</p>
<p>طویل المدتی امریکی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے سرمایہ کار اب زیادہ معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے باعث ٹرم پریمیم میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان، دونوں کی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بتدریج کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔</p>
<p>ادھر جاپانی سرکاری بانڈز، امریکی ٹریژری بانڈز اور جاپانی ین تینوں ایک ہی وقت میں دباؤ کا شکار ہیں، اور مالیاتی تاریخ میں ایسا امتزاج نہایت کم دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>تو کیا مالیاتی منڈیاں کسی ایسے طوفان کو آہستہ آہستہ بنتا دیکھ رہی ہیں جو ابھی پوری شدت سے سامنے نہیں آیا؟</p>
<p>شاید سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ پالیسی ساز ایک ایسے ممکنہ بحران کو ٹالنے کی فکر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، جسے مالیاتی منڈیاں اب بھی انتہائی بعید از امکان سمجھ رہی ہیں۔</p>
<p>واشنگٹن کی مداخلت سے ممکن ہے جاپانی ین کو سہارا ملا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس اقدام سے جاپان پر مستقبل میں کرنسی کو سہارا دینے کے لیے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کرنے کا دباؤ بھی کم ہو گیا ہو۔ اگر ایسا ہے تو بظاہر زرمبادلہ کی منڈی کے لیے کیے گئے اس اقدام کا اصل فائدہ خاموشی سے دنیا کی سب سے بڑی بانڈ مارکیٹ، یعنی امریکی ٹریژری مارکیٹ، کو پہنچا ہے۔</p>
<p>یہ امکان ایک نہایت اہم اور قدرے تشویشناک سوال کو جنم دیتا ہے۔</p>
<p>اگر امریکا کو اب اپنے سب سے بڑے قرض دہندہ کی کرنسی کو مستحکم رکھنے کے لیے خود میدان میں آنا پڑ رہا ہے تو اس سے امریکی ٹریژری مارکیٹ کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی شدت کا اندازہ کیا ہوتا ہے؟</p>
<p>مالیاتی منڈیوں کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ ان خطرات کو عموماً نظرانداز کر دیتی ہیں جو پہلے کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکے ہوں۔ امریکی سرکاری بانڈز کی قیمتوں میں بے ہنگم ردوبدل کے خدشات پر کئی دہائیوں سے بحث ہوتی رہی ہے، لیکن زیادہ تر ایسے خدشات کا اظہار وہی لوگ کرتے رہے جنہیں وال اسٹریٹ میں مستقل مایوسی پھیلانے والے ”پرما بیئرز“ قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔</p>
<p>ماضی کی ہر پیش گوئی وقت سے پہلے ثابت ہوئی اور ہر غلط الارم نے اگلے انتباہ کو مزید آسانی سے نظرانداز کرنے کی راہ ہموار کر دی۔</p>
<p>تاہم تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔</p>
<p>بڑے مالیاتی بحران اکثر انہی خطرات سے جنم لیتے ہیں جو اس وقت تک محض نظریاتی تصور سمجھے جاتے ہیں، جب تک وہ اچانک حقیقت کا روپ نہ دھار لیں۔</p>
<p>ممکن ہے یہ تمام خدشات کبھی سنگین بحران میں تبدیل نہ ہوں۔ ممکن ہے بینک آف جاپان دوبارہ اپنی ساکھ بحال کر لے، جاپانی ین مستحکم ہو جائے اور امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع بخش شرحیں بتدریج کم ہونے لگیں۔ اس صورت میں حالیہ مشترکہ مداخلت کو بین الاقوامی پالیسی تعاون کی ایک غیر معمولی مگر کامیاب مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p>لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی زیادہ بنیادی خطرے کو نظرانداز کر رہی ہوں۔</p>
<p>ہر بڑے مالیاتی بحران نے سرمایہ کاروں کے کسی نہ کسی ایسے یقین کو غلط ثابت کیا ہے جسے وہ ناقابلِ تردید سمجھتے تھے۔</p>
<p>2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے پہلے یہ یقین تھا کہ امریکا بھر میں مکانات کی قیمتیں بیک وقت نہیں گر سکتیں۔ یورو زون کے بحران کے دوران یہ تصور ٹوٹا کہ مالیاتی اتحاد ہمیشہ برقرار رہے گا۔ اور حالیہ برسوں میں سرمایہ کاروں کو احساس ہوا کہ طویل عرصے تک غائب رہنے والی مہنگائی بھی دوبارہ لوٹ سکتی ہے۔</p>
<p>تو کیا آئندہ کبھی امریکی ٹریژری مارکیٹ پر اعتماد بھی انہی مفروضوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے؟</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ بحث بظاہر بہت دور کی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان کے پاس امریکی ٹریژری بانڈز کے کھربوں ڈالر کے ذخائر موجود نہیں، لیکن اس کی معیشت عالمی مالیاتی نظام سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اگر امریکی سرکاری قرض کی قیمتوں میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے تو عالمی مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی سکڑ سکتی ہے، امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور ابھرتی ہوئی و سرحدی معیشتوں کے اثاثوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایسی صورت میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے بیرونی مالی وسائل کا حصول مزید مہنگا ہو جاتا ہے، شرح مبادلہ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور پالیسی سازوں کو ایسے مالیاتی حالات سے نمٹنا پڑتا ہے جن کا تعین بڑی حد تک ملک سے باہر ہو رہا ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے واشنگٹن میں ہونے والی پیش رفت اسلام آباد کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ملک کے اندر رونما ہونے والی معاشی تبدیلیاں۔</p>
<p>ممکن ہے امریکا اور جاپان کی مشترکہ مداخلت کامیاب ثابت ہو جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے صرف کچھ وقت ہی خریدا جا سکا ہو۔ لیکن دونوں صورتوں میں اس واقعے نے خاموشی سے ایک ایسا سوال جنم دے دیا ہے جس پر چند ہی سرمایہ کاروں نے کبھی غور کیا تھا۔</p>
<p>اگر دنیا کے محفوظ ترین اثاثے کو بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے تحفظ کی ضرورت پڑ جائے، تو آخر محفوظ پناہ گاہ فراہم کون کر رہا ہے؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 6 اگست 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512015</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 14:52:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/071441552dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/071441552dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مودی کے سیاسی زوال کا آغاز ہو چکا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512006/narendra-modi-india-bjp-gen-z-protests-in-india-rss-modi-abhijeet-dipke-cockroach-janata-party-supreme-court-of-india-student-protests</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ”سچائی“ کے ایسے ریکارڈ کی پابندی پر قائم رہے جو ایسے حقائق پر مبنی ہو جو بنیادی طور پر مضبوط اور ناقابلِ تردید ہوں۔ مؤرخین کا زیادہ تخیل استعمال کرنا معمول کے مطابق واقعات کو مسخ کر دیتا ہے۔ تاریخ کو وہ افسانہ نہیں ہونا چاہیے جو جان بوجھ کر سچائی کو چھوڑ دے۔ تاریخ ایک حقیقت ہے، کوئی انسان یا ملک ایسا نہیں جس کی تاریخ نہ ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے اور کئی دوسرے لوگوں کے افسوس کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی 2012 سے اپنے عہدے پر قائم ہیں۔ اگر کچھ نہ ہوا تو وہ جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑ کر بھارت کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم بن جائیں گے۔ ان دو بالکل متضاد سیاسی کرداروں کا ایک ہی جملے میں ذکر کرنا ایک سیاسی اور تاریخی گستاخی ہے۔ ایک سیکیولر بھارت کے لیے کھڑا تھا جبکہ دوسرا ہندوتوا کے لیے جدوجہد کررہاہے۔ ایک امن کا داعی انسان بمقابلہ ایک ایسا شخص جو نفرت سے بھرا ہوا ہے اور جو کمزوروں اور مظلوموں کے خلاف تشدد کے استعمال کو خوشی سے بروئے کار لاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہرو اپنی جیو اور جینے دو کی وابستگی کی وجہ سے مقبول تھے۔ وہ ایک پکے سیکیولر تھے۔ مودی ایک سیاسی اور مذہبی جنونی ہیں۔ ان کی سیاست بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دینا رہی ہے۔ مودی بھارت کے سیکیولر آئین کو سبوتاژ کرنے کی اپنی تخریبی سیاست میں مسلسل مصروف رہے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں ہندو مت کو اس کی اصل شکل یعنی امن اور رواداری کا مذہب ہونے کی بجائے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سال سے زائد کی حکمرانی کا حوالہ دے کر تاریخ کا ایک مظلوم بنا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے مسلمانوں کے خلاف انتقام کی اپنی سیاست کو کبھی نہیں چھپایا اور نہ ہی اس پر پچھتاوا ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے منظم طریقے سے نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا آغاز گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی سے ہوا جہاں مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کبھی دکھ یا پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ درحقیقت اس واقعے نے انہیں اپنے تعصب کو آگے بڑھانے کے لیے مزید دلیر بنا دیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی ساتھیوں جیسے امیت شاہ کے ساتھ مل کر بھارت کے نوجوانوں میں ہندوتوا کے تصور کو راسخ کیا۔ اب تک وہ کامیاب رہے ہیں، لیکن قدرت کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کا مقصد ہندو بھارت بنانا ہے۔ آر ایس ایس جس کے کارکن گوڈسے نے گاندھی کا قتل کیا تھا، جن سنگھ پارٹی کی پیش رو (بنیاد) تھی جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں تبدیل ہو گئی۔ ایم ایس گولولکر، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک آر ایس ایس کی قیادت کی، کا ماننا تھا کہ بھارت ہندوؤں کی مقدس زمین ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ہندوستان ہندوؤں کی سر زمین ہے اور یہ صرف ہندو قوم کے پھلنے پھولنے کے لیے ہی ایک بنیاد ہے۔یہ مودی سوچ کی اس دھار کے ایک سرگرم پیروکار ہیں۔ یہ بات ان کے اقدامات اور اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ حال کے بارے میں ہوتی ہے نہ کہ مستقبل کے بارے میں۔ یہ لمحہ جو اب ہے ایک لمحے بعد تاریخ بن جائے گا۔ ایک ایماندارانہ تجزیے میں مودی کو ہندوستانی سیاست پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کا کریڈٹ دینے کی ضرورت ہے، باوجود اس کے کہ وہ عدم برداشت کے علمبردار ہیں اور جن کی سیاست نفرت میں لپٹی ہوئی ہے۔ ان کا سیاسی جذبہ اور اصول اکھنڈ بھارت میں پوشیدہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے معاشی طور پر اچھی ترقی کی ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر بھی وہ بہترین کام کر رہے تھے۔ مودی نے مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کیے، جن میں سے کچھ ہمارے لیے نقصان دہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کا غیر ضروری دورہ کرنے تک سفارتی طور پر بہترین جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کو تل ابیب میں لال قالین پر خوش آمدید کہا گیا اور ممکنہ طور پر کوئی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو الگ تھلگ کر دیا۔ اس سفارتی جارحیت کے باوجود مودی کو مشرق وسطیٰ کے ہمارے دوست ممالک کی طرف سے اب بھی توجہ اور اہمیت دی جا رہی تھی۔ نیتن یاہو اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ چونکہ مودی اور نیتن یاہو گجرات اور غزہ کے قصائی ہونے کے خطابات کا اشتراک کرتے ہیں، اس لیے وہ گریٹر اسرائیل اور گریٹر انڈیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سوچ کی یکسانیت بھی رکھتے ہیں۔ بھارت نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور مالدیپ کے ساتھ دھونس کا رویہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مودی کو جنگی مہارت کا ایک سبق سکھایا۔ ہم نے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی والہانہ قیادت میں بھارتیوں کو ششدر (حیران) کر دیا۔ بھارتی طیاروں کو گرایا جانا کسی بھی فضائیہ کے لیے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے، فرانسیسی ساختہ رافیل طیارہ ایک ایسا گہرا زخم ہے جسے مودی سہلا رہے ہیں۔ ہمیں اس سپیرے سے ہوشیار رہنا چاہیے، جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والا اور دیگر زہریلی خصلتوں کا حامل ہے۔ شکست کا یہ زخم امریکی صدر کی جانب سے مسلسل تازہ کیا جاتا ہے، جو اس محدود تصادم میں آسمان سے گرنے والے طیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کے آخری شمار کے مطابق یہ تعداد گیارہ تھی!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفرت کی سیاست کو بلا تعطل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ جب نظام ناانصافیوں پر استوار کیے جاتے ہیں تو قدرت کا عمل میں آنا اور غلطیوں کی اصلاح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بد اعمالیوں کا مکافاتِ عمل ایک فطری نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اب مودی کے احتساب کا وقت آ پہنچا ہے، کیونکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے حالات کی سمت درست طور پر نہیں سمجھی اور میرا خیال ہے کہ وہ آئندہ بھی یہی غلطی دہراتے رہیں گے۔ اڈیشہ، مغربی بنگال اور بہار میں کامیابیوں کے بعد مودی خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے تھے۔ تاہم جس احتجاجی تحریک کو کاکروچ کا نام دیا گیا، غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید قوت پکڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ ابھیجیت دیپکے کو کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام اور اس کا نام رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ پارٹی کا نام اس توہین آمیز لفظ سے اخذ کیا گیا، جو بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے استعمال کیا تھا۔ چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر سرگرم بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور طفیلی سے تشبیہ دی تھی۔ اس کے بعد دیپکے نے تمام کاکروچز سے متحد ہونے کی اپیل کی اور وہ متحد ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس کے ایک توہین آمیز جملے نے بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک نقطۂ اتحاد کی شکل اختیار کر لی، جیسا کہ دیپکے کا کہنا ہے کاکروچ صرف ایک بوسیدہ اور سڑے ہوئے ماحول ہی میں پھلتے پھولتے ہیں، اس لیے جنریشن زی کی قیادت میں پورے نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی عام آدمی پارٹی کی طرح ناکامی یا لڑکھڑاہٹ کا شکار نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ چِپٹا، رات کے وقت متحرک رہنے والا ایک ایسا کیڑا ہے جس کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ تاہم ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ ان سب کا خول سخت، اینٹینا طویل اور چھ مضبوط ٹانگیں ہوتی ہیں۔ انہی کیڑوں نے ڈھاکا میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یہ ممکنہ سیاسی کاکروچ روشنی سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ مرکزِ نگاہ اور مرکزی اسٹیج کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سرد خون والے ہوتے ہیں، وہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک بغیر خوراک کے زندہ رہ سکتے ہیں اور چالیس منٹ سے زیادہ دیر تک سانس روک سکتے ہیں۔ ان کا کاٹنا سوجن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ بھارت کی کاکروچ پارٹی نے بلا شک و شبہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی کاکروچز کی ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ جنتا پارٹی نے 25 سال سے کم عمر کے ان 40 فیصد سے زائد ہندوستانی گریجویٹس کی توجہ حاصل کر لی ہے جو بے روزگار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں امتحانی پیپرز کے لیک ہونے کے مسئلے پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ منوایا۔ سی جے پی اپنے مظاہروں کو دوبارہ شروع کر سکتی ہے کیونکہ ان کے سرکاری ایجنڈے کا مرکزی نقطہ سخت کرپشن مخالف قوانین، عدالتی اصلاحات اور شدید ادارہ جاتی تبدیلیاں ہیں۔ مودی حکومت کو اس کاکروچ انقلاب سے خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں جنریشن زی کی تحریک، جس نے 15 سال سے زائد عرصے سے مضبوطی سے اقتدار پر براجمان حکومت کا تختہ الٹ دیا، نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں کی پیامبر بن چکی ہے۔ سیاسی احیاء (بیداری) کے اس سفر میں نئی دہلی دوسرا پڑاؤ تھا۔ 1968 کی تحریک کے بعد سے نوجوانوں نے ہمیشہ موجودہ نظام (اسٹیٹس کو) کو چیلنج کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی نے نفرت کی جو زہریلی فصل بوئی ہے وہ غالباً جلد یا بدیر اس کے نتیجے میں اٹھنے والے طوفان کا سامنا کریں گے اور اسے بھگتیں گے۔ ایک سوراخ جہاز کو ڈبو دیتا ہے اور ایک گناہ گنہگار کو تباہ کر دیتا ہے۔(جان بنین، ڈراما ’پلگرمز پروگریس)۔ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“ایک آزمودہ کہاوت ہے۔ تاریخ انسانوں کی حماقتوں کا ایک بڑا ڈھیر اور امبار ہے۔ کاک روچ جنتا پارٹی مودی کی سیاست کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب بہار ارادے کی کمی اور بے وفائی کی وجہ سے سڑکوں پر دم توڑ گئی تھی۔ سی جے پی ایک ایسی تحریک ہے جو مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کا امکان رکھتی ہے۔ تخمینہ ہے کہ بھارت کی تقریباً 30 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس میں ایک طالب علم کی موت بھی واقع ہوئی۔ پاکستان نے سرکاری طور پر پیلٹ کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور جنتر منتر کا ماحول اس کی تمام وسعتوں میں آسانی سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود سی جے پی کی تحریک نے جنوب میں تلنگانہ تک زلزلے کے جھٹکے بھیجے۔ سی جے پی اور اس کا منشور کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر نریندر مودی کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ بہرحال اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی قدرتی اصلاح ہو کر رہے گی، یہ بس وقت کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچز اکٹھے ہو رہے ہیں اور مودی کے خلاف وقت کی ٹک ٹک جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6 اگست 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ”سچائی“ کے ایسے ریکارڈ کی پابندی پر قائم رہے جو ایسے حقائق پر مبنی ہو جو بنیادی طور پر مضبوط اور ناقابلِ تردید ہوں۔ مؤرخین کا زیادہ تخیل استعمال کرنا معمول کے مطابق واقعات کو مسخ کر دیتا ہے۔ تاریخ کو وہ افسانہ نہیں ہونا چاہیے جو جان بوجھ کر سچائی کو چھوڑ دے۔ تاریخ ایک حقیقت ہے، کوئی انسان یا ملک ایسا نہیں جس کی تاریخ نہ ہو۔</strong></p>
<p>میرے اور کئی دوسرے لوگوں کے افسوس کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی 2012 سے اپنے عہدے پر قائم ہیں۔ اگر کچھ نہ ہوا تو وہ جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑ کر بھارت کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم بن جائیں گے۔ ان دو بالکل متضاد سیاسی کرداروں کا ایک ہی جملے میں ذکر کرنا ایک سیاسی اور تاریخی گستاخی ہے۔ ایک سیکیولر بھارت کے لیے کھڑا تھا جبکہ دوسرا ہندوتوا کے لیے جدوجہد کررہاہے۔ ایک امن کا داعی انسان بمقابلہ ایک ایسا شخص جو نفرت سے بھرا ہوا ہے اور جو کمزوروں اور مظلوموں کے خلاف تشدد کے استعمال کو خوشی سے بروئے کار لاتا ہے۔</p>
<p>نہرو اپنی جیو اور جینے دو کی وابستگی کی وجہ سے مقبول تھے۔ وہ ایک پکے سیکیولر تھے۔ مودی ایک سیاسی اور مذہبی جنونی ہیں۔ ان کی سیاست بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دینا رہی ہے۔ مودی بھارت کے سیکیولر آئین کو سبوتاژ کرنے کی اپنی تخریبی سیاست میں مسلسل مصروف رہے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں ہندو مت کو اس کی اصل شکل یعنی امن اور رواداری کا مذہب ہونے کی بجائے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سال سے زائد کی حکمرانی کا حوالہ دے کر تاریخ کا ایک مظلوم بنا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے مسلمانوں کے خلاف انتقام کی اپنی سیاست کو کبھی نہیں چھپایا اور نہ ہی اس پر پچھتاوا ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے منظم طریقے سے نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔</p>
<p>اس کا آغاز گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی سے ہوا جہاں مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کبھی دکھ یا پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ درحقیقت اس واقعے نے انہیں اپنے تعصب کو آگے بڑھانے کے لیے مزید دلیر بنا دیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی ساتھیوں جیسے امیت شاہ کے ساتھ مل کر بھارت کے نوجوانوں میں ہندوتوا کے تصور کو راسخ کیا۔ اب تک وہ کامیاب رہے ہیں، لیکن قدرت کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔</p>
<p>مودی کا مقصد ہندو بھارت بنانا ہے۔ آر ایس ایس جس کے کارکن گوڈسے نے گاندھی کا قتل کیا تھا، جن سنگھ پارٹی کی پیش رو (بنیاد) تھی جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں تبدیل ہو گئی۔ ایم ایس گولولکر، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک آر ایس ایس کی قیادت کی، کا ماننا تھا کہ بھارت ہندوؤں کی مقدس زمین ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ہندوستان ہندوؤں کی سر زمین ہے اور یہ صرف ہندو قوم کے پھلنے پھولنے کے لیے ہی ایک بنیاد ہے۔یہ مودی سوچ کی اس دھار کے ایک سرگرم پیروکار ہیں۔ یہ بات ان کے اقدامات اور اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>تاریخ حال کے بارے میں ہوتی ہے نہ کہ مستقبل کے بارے میں۔ یہ لمحہ جو اب ہے ایک لمحے بعد تاریخ بن جائے گا۔ ایک ایماندارانہ تجزیے میں مودی کو ہندوستانی سیاست پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کا کریڈٹ دینے کی ضرورت ہے، باوجود اس کے کہ وہ عدم برداشت کے علمبردار ہیں اور جن کی سیاست نفرت میں لپٹی ہوئی ہے۔ ان کا سیاسی جذبہ اور اصول اکھنڈ بھارت میں پوشیدہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے معاشی طور پر اچھی ترقی کی ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر بھی وہ بہترین کام کر رہے تھے۔ مودی نے مشرق وسطیٰ میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کیے، جن میں سے کچھ ہمارے لیے نقصان دہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کا غیر ضروری دورہ کرنے تک سفارتی طور پر بہترین جا رہے تھے۔</p>
<p>مودی کو تل ابیب میں لال قالین پر خوش آمدید کہا گیا اور ممکنہ طور پر کوئی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو الگ تھلگ کر دیا۔ اس سفارتی جارحیت کے باوجود مودی کو مشرق وسطیٰ کے ہمارے دوست ممالک کی طرف سے اب بھی توجہ اور اہمیت دی جا رہی تھی۔ نیتن یاہو اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ چونکہ مودی اور نیتن یاہو گجرات اور غزہ کے قصائی ہونے کے خطابات کا اشتراک کرتے ہیں، اس لیے وہ گریٹر اسرائیل اور گریٹر انڈیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سوچ کی یکسانیت بھی رکھتے ہیں۔ بھارت نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور مالدیپ کے ساتھ دھونس کا رویہ رکھتا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے مودی کو جنگی مہارت کا ایک سبق سکھایا۔ ہم نے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی والہانہ قیادت میں بھارتیوں کو ششدر (حیران) کر دیا۔ بھارتی طیاروں کو گرایا جانا کسی بھی فضائیہ کے لیے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے، فرانسیسی ساختہ رافیل طیارہ ایک ایسا گہرا زخم ہے جسے مودی سہلا رہے ہیں۔ ہمیں اس سپیرے سے ہوشیار رہنا چاہیے، جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والا اور دیگر زہریلی خصلتوں کا حامل ہے۔ شکست کا یہ زخم امریکی صدر کی جانب سے مسلسل تازہ کیا جاتا ہے، جو اس محدود تصادم میں آسمان سے گرنے والے طیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کے آخری شمار کے مطابق یہ تعداد گیارہ تھی!</p>
<p>نفرت کی سیاست کو بلا تعطل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ جب نظام ناانصافیوں پر استوار کیے جاتے ہیں تو قدرت کا عمل میں آنا اور غلطیوں کی اصلاح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بد اعمالیوں کا مکافاتِ عمل ایک فطری نتیجہ ہے۔</p>
<p>شاید اب مودی کے احتساب کا وقت آ پہنچا ہے، کیونکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے حالات کی سمت درست طور پر نہیں سمجھی اور میرا خیال ہے کہ وہ آئندہ بھی یہی غلطی دہراتے رہیں گے۔ اڈیشہ، مغربی بنگال اور بہار میں کامیابیوں کے بعد مودی خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے تھے۔ تاہم جس احتجاجی تحریک کو کاکروچ کا نام دیا گیا، غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید قوت پکڑے گی۔</p>
<p>30 سالہ ابھیجیت دیپکے کو کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام اور اس کا نام رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ پارٹی کا نام اس توہین آمیز لفظ سے اخذ کیا گیا، جو بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے استعمال کیا تھا۔ چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر سرگرم بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور طفیلی سے تشبیہ دی تھی۔ اس کے بعد دیپکے نے تمام کاکروچز سے متحد ہونے کی اپیل کی اور وہ متحد ہو گئے۔</p>
<p>چیف جسٹس کے ایک توہین آمیز جملے نے بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک نقطۂ اتحاد کی شکل اختیار کر لی، جیسا کہ دیپکے کا کہنا ہے کاکروچ صرف ایک بوسیدہ اور سڑے ہوئے ماحول ہی میں پھلتے پھولتے ہیں، اس لیے جنریشن زی کی قیادت میں پورے نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی عام آدمی پارٹی کی طرح ناکامی یا لڑکھڑاہٹ کا شکار نہیں ہوگی۔</p>
<p>کاکروچ چِپٹا، رات کے وقت متحرک رہنے والا ایک ایسا کیڑا ہے جس کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ تاہم ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ ان سب کا خول سخت، اینٹینا طویل اور چھ مضبوط ٹانگیں ہوتی ہیں۔ انہی کیڑوں نے ڈھاکا میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یہ ممکنہ سیاسی کاکروچ روشنی سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ مرکزِ نگاہ اور مرکزی اسٹیج کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سرد خون والے ہوتے ہیں، وہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک بغیر خوراک کے زندہ رہ سکتے ہیں اور چالیس منٹ سے زیادہ دیر تک سانس روک سکتے ہیں۔ ان کا کاٹنا سوجن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ بھارت کی کاکروچ پارٹی نے بلا شک و شبہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی کاکروچز کی ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔</p>
<p>کاکروچ جنتا پارٹی نے 25 سال سے کم عمر کے ان 40 فیصد سے زائد ہندوستانی گریجویٹس کی توجہ حاصل کر لی ہے جو بے روزگار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں امتحانی پیپرز کے لیک ہونے کے مسئلے پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ منوایا۔ سی جے پی اپنے مظاہروں کو دوبارہ شروع کر سکتی ہے کیونکہ ان کے سرکاری ایجنڈے کا مرکزی نقطہ سخت کرپشن مخالف قوانین، عدالتی اصلاحات اور شدید ادارہ جاتی تبدیلیاں ہیں۔ مودی حکومت کو اس کاکروچ انقلاب سے خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش میں جنریشن زی کی تحریک، جس نے 15 سال سے زائد عرصے سے مضبوطی سے اقتدار پر براجمان حکومت کا تختہ الٹ دیا، نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں کی پیامبر بن چکی ہے۔ سیاسی احیاء (بیداری) کے اس سفر میں نئی دہلی دوسرا پڑاؤ تھا۔ 1968 کی تحریک کے بعد سے نوجوانوں نے ہمیشہ موجودہ نظام (اسٹیٹس کو) کو چیلنج کیا ہے۔</p>
<p>نریندر مودی نے نفرت کی جو زہریلی فصل بوئی ہے وہ غالباً جلد یا بدیر اس کے نتیجے میں اٹھنے والے طوفان کا سامنا کریں گے اور اسے بھگتیں گے۔ ایک سوراخ جہاز کو ڈبو دیتا ہے اور ایک گناہ گنہگار کو تباہ کر دیتا ہے۔(جان بنین، ڈراما ’پلگرمز پروگریس)۔ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“ایک آزمودہ کہاوت ہے۔ تاریخ انسانوں کی حماقتوں کا ایک بڑا ڈھیر اور امبار ہے۔ کاک روچ جنتا پارٹی مودی کی سیاست کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>عرب بہار ارادے کی کمی اور بے وفائی کی وجہ سے سڑکوں پر دم توڑ گئی تھی۔ سی جے پی ایک ایسی تحریک ہے جو مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کا امکان رکھتی ہے۔ تخمینہ ہے کہ بھارت کی تقریباً 30 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے۔</p>
<p>جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس میں ایک طالب علم کی موت بھی واقع ہوئی۔ پاکستان نے سرکاری طور پر پیلٹ کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور جنتر منتر کا ماحول اس کی تمام وسعتوں میں آسانی سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود سی جے پی کی تحریک نے جنوب میں تلنگانہ تک زلزلے کے جھٹکے بھیجے۔ سی جے پی اور اس کا منشور کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر نریندر مودی کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ بہرحال اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی قدرتی اصلاح ہو کر رہے گی، یہ بس وقت کی بات ہے۔</p>
<p>کاکروچز اکٹھے ہو رہے ہیں اور مودی کے خلاف وقت کی ٹک ٹک جاری ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 6 اگست 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512006</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 14:27:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0714201242fcb69.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0714201242fcb69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی عالمی درجہ بندی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511717/world-bank-pakistan-imf-foundation-moodys-heritage-standard-and-poor</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اچھی خبر یہ ہے کہ حال ہی میں اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بی مائنس سے بڑھا کر بی کر دیا ہے۔ اس سے قبل موڈیز نے بھی پاکستان کی ریٹنگ کو Caa1 تک بہتر کیا تھا۔ مجموعی طور پر اب پاکستان کا اسکور 100 میں سے 23 ہے، جبکہ چھ ماہ قبل یہ 21 تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں استحکام میں بہتری اور بین الاقوامی لین دین میں خطرات میں کمی کے اس اعتراف کی پہلی بڑی وجہ مالی سال 2025-26 میں ادائیگیوں کے توازن کا نسبتاً مضبوط نتیجہ ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب رہا، جو 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس سے تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے محفوظ کوریج فراہم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بیرونی قرضوں کو محدود رکھنے کی کوششوں کو بھی شاید مناسب پذیرائی نہیں ملی۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں بیرونی قرضوں کی سطح میں صرف 1.5 ارب ڈالر اضافہ ہوا اور یہ 137.5 ارب ڈالر تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کے استحکام نے بھی جی ڈی پی کے مقابلے میں بیرونی قرضوں کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے۔ 30 جون 2025 کو بیرونی قرضے جی ڈی پی کا 33.9 فیصد تھے، جبکہ مارچ 2026 کے اختتام تک یہ شرح اندازاً 30.5 فیصد رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً اس کارکردگی کو برقرار رکھنے اور مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ان اہم اشاریوں میں شامل ہے جن کی بنیاد پر غیر ملکی قرض دہندگان اور سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم پاکستان کی دیگر بین الاقوامی درجہ بندیوں کا جائزہ لیں گے، خصوصاً معیشت میں سرمایہ کاری کی کشش اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں مختلف اشاریے شامل ہیں، جن میں اقتصادی آزادی کا اشاریہ ، حکمرانی (گورننس)، کاروبار کرنے میں آسانی اور بدعنوانی کی سطح شامل ہیں۔ آخر میں مضمون میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں کا بین الاقوامی موازنہ بھی کیا جائے گا، کیونکہ یہ مسابقتی صلاحیت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے سالانہ جاری کیے جانے والے اقتصادی آزادی کے اشاریے میں درمیانی درجہ بندی حاصل ہے۔ تازہ ترین درجہ بندی 2026 کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اشاریے کے پانچ بنیادی اجزا ہیں:جائیداد کے حقوق کا احترام، حکومتی دیانت داری کی سطح، عدالتی مؤثریت، ٹیکسوں کا بوجھ، حکومتی اخراجات کے اثرات،ہر جزو اور مجموعی کارکردگی کو 0 سے 100 تک اسکور دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا اقتصادی آزادی کے اشاریے میں مجموعی اسکور 48.9 ہے، جو 2022 کے 48.8 کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرادی شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی ٹیکسوں کے بوجھ اور حکومتی اخراجات کے حوالے سے نسبتاً بہتر ہے، جبکہ جائیداد کے حقوق، حکومتی دیانت داری اور عدالتی مؤثریت کے شعبوں میں اسکور کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا اسکور نسبتاً کم ہے۔بنگلہ دیش کا اسکور 54.8، بھارت کا 52.5 اور سری لنکا کا 50.3 ہے پاکستان کو خاص طور پر حکومتی دیانت داری اور عدالتی مؤثریت کے بارے میں عوامی تاثر بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سے پاکستان ان ممالک کے برابر آنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی عالمی درجہ بندی ورلڈ بینک کے گورننس میٹرز سے متعلق ہے۔اس میں کارکردگی کے پانچ اشاریے شامل ہیں:اظہار رائے اور احتساب، حکومتی مؤثریت، ریگولیٹری معیار، قانون کی حکمرانی، بدعنوانی پر قابو پانا،ہر اشاریے کا اسکور 0 سے 100 کے درمیان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچوں اشاریوں میں پاکستان کی بہترین کارکردگی ریگولیٹری معیار میں ہے، جہاں اس کا اسکور 43.06 ہے، جبکہ اس کے بعد اظہار رائے اور احتساب کا اسکور 41.60 ہے۔ سب سے کم اسکور بدعنوانی پر قابو پانے کے شعبے میں ہے، جو 26.11 ہے۔مجموعی طور پر پاکستان کا اوسط اسکور 38.02 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم بات یہ ہے کہ مجموعی حکمرانی کے اعتبار سے پاکستان کی کارکردگی بنگلہ دیش سے بہتر ہے، جس کا مجموعی اسکور 37.14 ہے۔ خاص طور پر بدعنوانی پر قابو پانے کے شعبے میں بنگلہ دیش کا اسکور 25.55 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بنگلہ دیش کے مقابلے میں یہ بہتر پوزیشن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔اس انڈیکس میں پاکستان 182 ممالک میں 136 ویں نمبر پر ہے، جبکہ بنگلہ دیش 150 ویں نمبر پر ہے۔ تاہم مجموعی طور پر پاکستان کی پوزیشن اب بھی بہت کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور معروف عالمی اشاریہ ورلڈ بینک کا ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس ہے۔یہ اشاریہ ممالک کو کاروبار شروع کرنے، تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے، بجلی کے کنکشن کے حصول، جائیداد کی رجسٹریشن اور قرض تک رسائی کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے۔ان تمام شعبوں کے لیے الگ الگ درجہ بندی کے ساتھ مجموعی رینکنگ بھی دی جاتی ہے۔اس اشاریے میں 2025 تک 190 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اس اشاریے میں ایک بار پھر مجموعی طور پر درمیانی درجہ بندی حاصل ہوئی ہے، جہاں اس کا رینک 108 ہے۔ کاروبار شروع کرنے کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہے، جبکہ جائیداد کی رجسٹریشن کے شعبے میں کارکردگی نسبتاً کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی، جن میں بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا شامل ہیں، بالترتیب 168، 63 اور 99 ہے۔ یہاں بھی پاکستان کی کارکردگی بنگلہ دیش سے بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف کا جائزہ لیتے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار گلوبل پیٹرول پرائسز ڈاٹ کام پر دستیاب ہیں۔ یہ قیمتیں کسی بھی ملک کی برآمدی مسابقت اور عوام کے معیارِ زندگی کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹھ جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک میں قیمتوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 1.203 ڈالر فی لیٹر ہے، جو درمیانی سطح پر ہے۔سری لنکا، تھائی لینڈ، فلپائن اور نیپال میں پیٹرول کی قیمتیں ڈالر فی لیٹر کے حساب سے پاکستان سے زیادہ ہیں، جبکہ انڈونیشیا، بھارت اور بنگلہ دیش میں قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تشویش کی بات یہ ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں پاکستان اور سری لنکا سب سے اوپر ہیں۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت 1.392 ڈالر فی لیٹر جبکہ سری لنکا میں 1.424 ڈالر فی لیٹر ہے۔اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں ڈیزل کی قیمت صرف 0.932 ڈالر فی لیٹر اور بھارت میں 1.026 ڈالر فی لیٹر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے ٹیرف کا جائزہ لیا جائے تو اس معاملے میں فلپائن اور پاکستان کے ٹیرف سب سے زیادہ ہیں۔ فلپائن میں صنعتی بجلی کی قیمت 0.209 ڈالر فی کلو واٹ آور جبکہ پاکستان میں 0.153 ڈالر فی کلو واٹ آور ہے۔اس کے برعکس بنگلہ دیش اور بھارت میں صنعتی بجلی کے ٹیرف بہت کم ہیں، جو بالترتیب 0.063 ڈالر اور 0.077 ڈالر فی کلو واٹ آور ہیں۔واضح طور پر پاکستان کی نسبتی مسابقتی پوزیشن پر بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہت زیادہ قیمتوں نے منفی اثر ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اگرچہ حالیہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو کچھ حد تک سراہنے کی ضرورت ہے، تاہم مناسب معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر مؤثر عملدرآمد، حکمرانی خصوصاً بدعنوانی کے خاتمے، اور انتظامی کارکردگی کے شعبوں میں مزید بہتری کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ پاکستان میں سست معاشی نمو کے عمل کو روکا جا سکے اور نجی شعبے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں آنے والی مسلسل کمی کو دوبارہ مثبت سمت میں تبدیل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 اگست 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اچھی خبر یہ ہے کہ حال ہی میں اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بی مائنس سے بڑھا کر بی کر دیا ہے۔ اس سے قبل موڈیز نے بھی پاکستان کی ریٹنگ کو Caa1 تک بہتر کیا تھا۔ مجموعی طور پر اب پاکستان کا اسکور 100 میں سے 23 ہے، جبکہ چھ ماہ قبل یہ 21 تھا۔</strong></p>
<p>پاکستان میں استحکام میں بہتری اور بین الاقوامی لین دین میں خطرات میں کمی کے اس اعتراف کی پہلی بڑی وجہ مالی سال 2025-26 میں ادائیگیوں کے توازن کا نسبتاً مضبوط نتیجہ ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں کامیاب رہا، جو 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جس سے تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے محفوظ کوریج فراہم ہوئی۔</p>
<p>پاکستان کے بیرونی قرضوں کو محدود رکھنے کی کوششوں کو بھی شاید مناسب پذیرائی نہیں ملی۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں بیرونی قرضوں کی سطح میں صرف 1.5 ارب ڈالر اضافہ ہوا اور یہ 137.5 ارب ڈالر تک پہنچا۔</p>
<p>روپے کے استحکام نے بھی جی ڈی پی کے مقابلے میں بیرونی قرضوں کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے۔ 30 جون 2025 کو بیرونی قرضے جی ڈی پی کا 33.9 فیصد تھے، جبکہ مارچ 2026 کے اختتام تک یہ شرح اندازاً 30.5 فیصد رہ گئی ہے۔</p>
<p>یقیناً اس کارکردگی کو برقرار رکھنے اور مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ ان اہم اشاریوں میں شامل ہے جن کی بنیاد پر غیر ملکی قرض دہندگان اور سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری اور مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p>اب ہم پاکستان کی دیگر بین الاقوامی درجہ بندیوں کا جائزہ لیں گے، خصوصاً معیشت میں سرمایہ کاری کی کشش اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے۔</p>
<p>اس میں مختلف اشاریے شامل ہیں، جن میں اقتصادی آزادی کا اشاریہ ، حکمرانی (گورننس)، کاروبار کرنے میں آسانی اور بدعنوانی کی سطح شامل ہیں۔ آخر میں مضمون میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں کا بین الاقوامی موازنہ بھی کیا جائے گا، کیونکہ یہ مسابقتی صلاحیت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے سالانہ جاری کیے جانے والے اقتصادی آزادی کے اشاریے میں درمیانی درجہ بندی حاصل ہے۔ تازہ ترین درجہ بندی 2026 کی ہے۔</p>
<p>اس اشاریے کے پانچ بنیادی اجزا ہیں:جائیداد کے حقوق کا احترام، حکومتی دیانت داری کی سطح، عدالتی مؤثریت، ٹیکسوں کا بوجھ، حکومتی اخراجات کے اثرات،ہر جزو اور مجموعی کارکردگی کو 0 سے 100 تک اسکور دیا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا اقتصادی آزادی کے اشاریے میں مجموعی اسکور 48.9 ہے، جو 2022 کے 48.8 کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔</p>
<p>انفرادی شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی ٹیکسوں کے بوجھ اور حکومتی اخراجات کے حوالے سے نسبتاً بہتر ہے، جبکہ جائیداد کے حقوق، حکومتی دیانت داری اور عدالتی مؤثریت کے شعبوں میں اسکور کم ہے۔</p>
<p>جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو پاکستان کا اسکور نسبتاً کم ہے۔بنگلہ دیش کا اسکور 54.8، بھارت کا 52.5 اور سری لنکا کا 50.3 ہے پاکستان کو خاص طور پر حکومتی دیانت داری اور عدالتی مؤثریت کے بارے میں عوامی تاثر بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس سے پاکستان ان ممالک کے برابر آنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگلی عالمی درجہ بندی ورلڈ بینک کے گورننس میٹرز سے متعلق ہے۔اس میں کارکردگی کے پانچ اشاریے شامل ہیں:اظہار رائے اور احتساب، حکومتی مؤثریت، ریگولیٹری معیار، قانون کی حکمرانی، بدعنوانی پر قابو پانا،ہر اشاریے کا اسکور 0 سے 100 کے درمیان ہوتا ہے۔</p>
<p>پانچوں اشاریوں میں پاکستان کی بہترین کارکردگی ریگولیٹری معیار میں ہے، جہاں اس کا اسکور 43.06 ہے، جبکہ اس کے بعد اظہار رائے اور احتساب کا اسکور 41.60 ہے۔ سب سے کم اسکور بدعنوانی پر قابو پانے کے شعبے میں ہے، جو 26.11 ہے۔مجموعی طور پر پاکستان کا اوسط اسکور 38.02 ہے۔</p>
<p>ایک اہم بات یہ ہے کہ مجموعی حکمرانی کے اعتبار سے پاکستان کی کارکردگی بنگلہ دیش سے بہتر ہے، جس کا مجموعی اسکور 37.14 ہے۔ خاص طور پر بدعنوانی پر قابو پانے کے شعبے میں بنگلہ دیش کا اسکور 25.55 ہے۔</p>
<p>پاکستان کی بنگلہ دیش کے مقابلے میں یہ بہتر پوزیشن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔اس انڈیکس میں پاکستان 182 ممالک میں 136 ویں نمبر پر ہے، جبکہ بنگلہ دیش 150 ویں نمبر پر ہے۔ تاہم مجموعی طور پر پاکستان کی پوزیشن اب بھی بہت کمزور ہے۔</p>
<p>ایک اور معروف عالمی اشاریہ ورلڈ بینک کا ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈیکس ہے۔یہ اشاریہ ممالک کو کاروبار شروع کرنے، تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے، بجلی کے کنکشن کے حصول، جائیداد کی رجسٹریشن اور قرض تک رسائی کے حوالے سے درجہ بندی کرتا ہے۔ان تمام شعبوں کے لیے الگ الگ درجہ بندی کے ساتھ مجموعی رینکنگ بھی دی جاتی ہے۔اس اشاریے میں 2025 تک 190 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو اس اشاریے میں ایک بار پھر مجموعی طور پر درمیانی درجہ بندی حاصل ہوئی ہے، جہاں اس کا رینک 108 ہے۔ کاروبار شروع کرنے کے معاملے میں پاکستان کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہے، جبکہ جائیداد کی رجسٹریشن کے شعبے میں کارکردگی نسبتاً کمزور ہے۔</p>
<p>دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کی درجہ بندی، جن میں بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا شامل ہیں، بالترتیب 168، 63 اور 99 ہے۔ یہاں بھی پاکستان کی کارکردگی بنگلہ دیش سے بہتر ہے۔</p>
<p>اب ہم مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف کا جائزہ لیتے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار گلوبل پیٹرول پرائسز ڈاٹ کام پر دستیاب ہیں۔ یہ قیمتیں کسی بھی ملک کی برآمدی مسابقت اور عوام کے معیارِ زندگی کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>آٹھ جنوبی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک میں قیمتوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 1.203 ڈالر فی لیٹر ہے، جو درمیانی سطح پر ہے۔سری لنکا، تھائی لینڈ، فلپائن اور نیپال میں پیٹرول کی قیمتیں ڈالر فی لیٹر کے حساب سے پاکستان سے زیادہ ہیں، جبکہ انڈونیشیا، بھارت اور بنگلہ دیش میں قیمتیں پاکستان سے کم ہیں۔</p>
<p>ایک تشویش کی بات یہ ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں پاکستان اور سری لنکا سب سے اوپر ہیں۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت 1.392 ڈالر فی لیٹر جبکہ سری لنکا میں 1.424 ڈالر فی لیٹر ہے۔اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش میں ڈیزل کی قیمت صرف 0.932 ڈالر فی لیٹر اور بھارت میں 1.026 ڈالر فی لیٹر ہے۔</p>
<p>اب اگر صنعتی شعبے کے لیے بجلی کے ٹیرف کا جائزہ لیا جائے تو اس معاملے میں فلپائن اور پاکستان کے ٹیرف سب سے زیادہ ہیں۔ فلپائن میں صنعتی بجلی کی قیمت 0.209 ڈالر فی کلو واٹ آور جبکہ پاکستان میں 0.153 ڈالر فی کلو واٹ آور ہے۔اس کے برعکس بنگلہ دیش اور بھارت میں صنعتی بجلی کے ٹیرف بہت کم ہیں، جو بالترتیب 0.063 ڈالر اور 0.077 ڈالر فی کلو واٹ آور ہیں۔واضح طور پر پاکستان کی نسبتی مسابقتی پوزیشن پر بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہت زیادہ قیمتوں نے منفی اثر ڈالا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر اگرچہ حالیہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو کچھ حد تک سراہنے کی ضرورت ہے، تاہم مناسب معاشی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر مؤثر عملدرآمد، حکمرانی خصوصاً بدعنوانی کے خاتمے، اور انتظامی کارکردگی کے شعبوں میں مزید بہتری کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔</p>
<p>یہ اقدامات اس لیے ضروری ہیں کہ پاکستان میں سست معاشی نمو کے عمل کو روکا جا سکے اور نجی شعبے کی ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں آنے والی مسلسل کمی کو دوبارہ مثبت سمت میں تبدیل کیا جا سکے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 اگست 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511717</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 15:01:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/051451534b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/051451534b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادائیگیوں کا توازن</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510877/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں مالی سال 26-2025 کے لیے پاکستان کے بیرونی توازنِ ادائیگی کے سالانہ اور سہ ماہی دونوں طرح کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں توازنِ ادائیگی کا سرپلس (بچت/منافع) حاصل کیا ہے۔ تاہم یہ 1.8 ارب امریکی ڈالر کے نسبتاً کم حجم پر مشتمل تھا۔ یہ مالی سال 25-2024 میں حاصل ہونے والے 3.7 ارب ڈالر کے سرپلس کے نصف سے بھی کم تھا۔توازنِ ادائیگی کے دو اہم اجزا (حصے) ہوتے ہیں: کرنٹ اکاؤنٹ اور فنانشل اکاؤنٹ۔ کرنٹ اکاؤنٹ، جو مالی سال 25-2024 میں 1.8 ارب ڈالر کے سرپلس میں تھا، مالی سال 26-2025 میں معمولی حد تک منفی (خسارے میں) ہو گیا۔ جب کہ فنانشل اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر کے سرپلس کے ساتھ بند ہوا،اب مالی سال 25-2024 کے حجم سے صرف معمولی سا کم ہے۔توازنِ ادائیگی کے سہ ماہی اعداد و شمار فروری 2026 کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید توقعات کے برعکس مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں پاکستان کا توازنِ ادائیگی مستحکم رہا۔ یہ 905 ملین ڈالر کے سرپلس کے قریب پہنچ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ سرپلس 365 ملین ڈالر تھا۔اب ہم ادائیگی کے توازنِ کے دونوں کھاتوں کے اندر مختلف لین دین (تجارتی و مالی معاملات) کا جائزہ لیتے ہیں۔ اشیا کی تجارت کا خسارہ تقریباً 25 فیصد تک نمایاں طور پراضافے کے بعد مالی سال 25-2024 کے 26.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 33.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔دونوں محاذوں پر منفی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ برآمدات میں تقریباً 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ اشیا کی در آمدات میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے منفی اثرات یہاں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ چوتھی سہ ماہی میں اشیا کے تجارتی خسارے میں 36 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بنیادی طور پر پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی در آمدات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔خوش قسمتی سے اور شاید حیران کن طور پر اس نقصان کو چوتھی سہ ماہی میں ورکرز ریمیٹنسز میں 7 فیصد اور پورے سال کے دوران 8 فیصد سے زائد کے اضافے نے کسی حد تک متوازن کر دیا۔ تاہم یہ اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے کہ کیا یہ واقعی ایک حقیقی اضافہ تھا یا ہم جنگ کے آغاز کے بعد مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص دبئی سے واپس لوٹنے والے پاکستانی کارکنوں کی جانب سے یکمشت بھیجی گئی رقم کا اثر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدمات کی تجارتی کارکردگی اور بنیادی آمدنی کے خالص توازن میں صرف معمولی یا برائے نام تبدیلیاں آئی ہیں۔ پرائمری انکم کے دو اجزا میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کا اپنے منافع کو واپس اپنے ملک منتقل کرنا شامل ہیں۔ بعد الذکر (یعنی منافع کی منتقلی) میں شاید پاکستان سے متعدد بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے نکل جانے کے بعد نمایاں کمی آئی ہے۔پاکستان سے غیر ملکی کمپنیوں کے اس انخلا کے ساتھ ہی ، جو پاکستان کی معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق منفی تاثر کو ظاہر کرتا ہے، ہمیں پاکستان میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی ایک بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ مالی سال 25-2024 کے 2.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 26-2025 میں 1.9 ارب ڈالر پر آ گئی ہے، جو 24 فیصد کی بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل گورنمنٹ اکاؤنٹ نے 2.9 ارب ڈالر کے خالص بہاؤ (نیٹ ان فلو) میں اضافے کے ساتھ ایک مثبت رجحان دکھایا ہے۔ اس میں پیش رفت یہ ہے کہ مجموعی درآمدی بہاؤ (گراس فلو) میں 22 فیصد اضافے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد کا خالص بہاؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کھاتے میں ٹائم ڈیپازٹس (مدتی امانتوں) کی تبدیلیاں شامل ہیں یا نہیں۔جیسا کہ پہلے بھی نشاندہی کی گئی کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مجموعی توازنِ ادائیگی کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام سے حاصل ہونے والے خالص بہاؤ میں اضافے کے باعث ایک نمایاں سرپلس برقرار رہا۔مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 3.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 25-2024 میں یہ اضافہ 5.2 ارب ڈالر تھا۔مالی سال 23-2022 کے بعد سے توازنِ ادائیگی کو مستحکم کرنے میں حاصل ہونے والی کامیابی کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جب پاکستان خطرناک حد تک ڈیفالٹ (دیوالیہ) ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت سے توازنِ ادائیگی کا نتیجہ مثبت رہا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مالی سال 24-2023 میں 5.5 ارب ڈالر، مالی سال 25-2024 میں 5.1 ارب ڈالر اور مالی سال 26-2025 میں 3.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔نتیجتاً مالی سال 26-2025 کے اختتام پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی در آمدات کے لیے کافی (امپورٹ کور) ہیں اور انہیں ایک ’محفوظ‘ سطح قرار دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے جس نے پاکستان کو پہلے ایک سالہ اسٹینڈ بائی فیسلٹی اور پھر تین سال سے زائد کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) کے ذریعے مالی بحران سے نکالا۔ اگر پاکستان موجودہ پروگرام میں بہتر کارکردگی جاری رکھتا ہے تو ان دو سہولیات کی مد میں آئی ایم ایف سے قرض کا مجموعی بہاؤ مالی سال 27-2026 کے اختتام تک 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے مالی سال 27-2026 کے لیے توازنِ ادائیگی کے پیش کردہ تخمینوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ تخمینے 14 مئی 2026 کو پاکستان کی جانب سے تیسرے پروگرام کے کامیاب جائزے کی تکمیل کے بعد تیار کیے گئے تھے۔ لہٰذا یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے دوران مرتب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 27-2026 کے لیے آئی ایم ایف کے توازنِ ادائیگی کے تخمینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا شامل ہے۔ تاہم مثبت توقع یہ ہے کہ اشیا کی در آمدات میں ہونے والا اضافہ، برآمدات میں بڑے اضافے کے باعث بڑی حد تک برابر ہو جائے گا۔آئی ایم ایف کی ایک شاید حیران کن توقع یہ ہے کہ مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹنسز میں کمی آئے گی۔ یہ شاید کچھ پاکستانی کارکنوں کے، بالخصوص دبئی سے، انخلا کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم فنانشل اکاؤنٹ کی طرف آئیں تو یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ اس کھاتے میں آمد 3 ارب ڈالر سے زائد تک نمایاں طور پر بڑھے گی۔ یہ توقع غیر ملکی نجی سرمایہ کاری اور دیگر ذرائع سے رقم کی آمد میں نمایاں اضافے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ اس کے اپنے قرض کی رقم کی منتقلی کو ملا کر پاکستان کے ذخائر مالی سال 27-2026 میں مزید 3.4 ارب ڈالر بڑھ جائیں گے۔ اس سے ان ذخائر کی سطح تقریباً 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو کہ تین ماہ کے در آمدی احاطے (امپورٹ کور) سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے بعد پاکستان 27-2026 کے بعد آئی ایم ایف کی چھتری یا سہارے کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔تاہم آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئیاں اب حد سے زیادہ پرامید نظر آتی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں حالیہ شدت آنے کے بعد اب اس بات کا خطرہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے ذریعے رسائی بھی رک سکتی ہے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔نتیجتاً پاکستان کے حکام کو مالی سال 27-2026 کے امکانات کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ تیل کے در آمدی بل میں بے تحاشا اضافے، بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بڑی کمی اور عالمگیر کساد بازاری (عالمی معاشی مندی) کے باعث دنیا بھر میں برآمدات میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔ یہ منفی پیش رفت غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 28 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں مالی سال 26-2025 کے لیے پاکستان کے بیرونی توازنِ ادائیگی کے سالانہ اور سہ ماہی دونوں طرح کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔</strong></p>
<p>خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں توازنِ ادائیگی کا سرپلس (بچت/منافع) حاصل کیا ہے۔ تاہم یہ 1.8 ارب امریکی ڈالر کے نسبتاً کم حجم پر مشتمل تھا۔ یہ مالی سال 25-2024 میں حاصل ہونے والے 3.7 ارب ڈالر کے سرپلس کے نصف سے بھی کم تھا۔توازنِ ادائیگی کے دو اہم اجزا (حصے) ہوتے ہیں: کرنٹ اکاؤنٹ اور فنانشل اکاؤنٹ۔ کرنٹ اکاؤنٹ، جو مالی سال 25-2024 میں 1.8 ارب ڈالر کے سرپلس میں تھا، مالی سال 26-2025 میں معمولی حد تک منفی (خسارے میں) ہو گیا۔ جب کہ فنانشل اکاؤنٹ 1.2 ارب ڈالر کے سرپلس کے ساتھ بند ہوا،اب مالی سال 25-2024 کے حجم سے صرف معمولی سا کم ہے۔توازنِ ادائیگی کے سہ ماہی اعداد و شمار فروری 2026 کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>شاید توقعات کے برعکس مالی سال 26-2025 کی چوتھی سہ ماہی میں پاکستان کا توازنِ ادائیگی مستحکم رہا۔ یہ 905 ملین ڈالر کے سرپلس کے قریب پہنچ گیا، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ سرپلس 365 ملین ڈالر تھا۔اب ہم ادائیگی کے توازنِ کے دونوں کھاتوں کے اندر مختلف لین دین (تجارتی و مالی معاملات) کا جائزہ لیتے ہیں۔ اشیا کی تجارت کا خسارہ تقریباً 25 فیصد تک نمایاں طور پراضافے کے بعد مالی سال 25-2024 کے 26.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 33.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔دونوں محاذوں پر منفی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ برآمدات میں تقریباً 5 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ اشیا کی در آمدات میں 9 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے منفی اثرات یہاں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ چوتھی سہ ماہی میں اشیا کے تجارتی خسارے میں 36 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو بنیادی طور پر پیٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی در آمدات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔خوش قسمتی سے اور شاید حیران کن طور پر اس نقصان کو چوتھی سہ ماہی میں ورکرز ریمیٹنسز میں 7 فیصد اور پورے سال کے دوران 8 فیصد سے زائد کے اضافے نے کسی حد تک متوازن کر دیا۔ تاہم یہ اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے کہ کیا یہ واقعی ایک حقیقی اضافہ تھا یا ہم جنگ کے آغاز کے بعد مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص دبئی سے واپس لوٹنے والے پاکستانی کارکنوں کی جانب سے یکمشت بھیجی گئی رقم کا اثر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>خدمات کی تجارتی کارکردگی اور بنیادی آمدنی کے خالص توازن میں صرف معمولی یا برائے نام تبدیلیاں آئی ہیں۔ پرائمری انکم کے دو اجزا میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کا اپنے منافع کو واپس اپنے ملک منتقل کرنا شامل ہیں۔ بعد الذکر (یعنی منافع کی منتقلی) میں شاید پاکستان سے متعدد بڑی غیر ملکی کمپنیوں کے نکل جانے کے بعد نمایاں کمی آئی ہے۔پاکستان سے غیر ملکی کمپنیوں کے اس انخلا کے ساتھ ہی ، جو پاکستان کی معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق منفی تاثر کو ظاہر کرتا ہے، ہمیں پاکستان میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بھی ایک بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ مالی سال 25-2024 کے 2.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 26-2025 میں 1.9 ارب ڈالر پر آ گئی ہے، جو 24 فیصد کی بڑی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>جنرل گورنمنٹ اکاؤنٹ نے 2.9 ارب ڈالر کے خالص بہاؤ (نیٹ ان فلو) میں اضافے کے ساتھ ایک مثبت رجحان دکھایا ہے۔ اس میں پیش رفت یہ ہے کہ مجموعی درآمدی بہاؤ (گراس فلو) میں 22 فیصد اضافے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد کا خالص بہاؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کھاتے میں ٹائم ڈیپازٹس (مدتی امانتوں) کی تبدیلیاں شامل ہیں یا نہیں۔جیسا کہ پہلے بھی نشاندہی کی گئی کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مجموعی توازنِ ادائیگی کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام سے حاصل ہونے والے خالص بہاؤ میں اضافے کے باعث ایک نمایاں سرپلس برقرار رہا۔مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 میں غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 3.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 25-2024 میں یہ اضافہ 5.2 ارب ڈالر تھا۔مالی سال 23-2022 کے بعد سے توازنِ ادائیگی کو مستحکم کرنے میں حاصل ہونے والی کامیابی کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، جب پاکستان خطرناک حد تک ڈیفالٹ (دیوالیہ) ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت سے توازنِ ادائیگی کا نتیجہ مثبت رہا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مالی سال 24-2023 میں 5.5 ارب ڈالر، مالی سال 25-2024 میں 5.1 ارب ڈالر اور مالی سال 26-2025 میں 3.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔نتیجتاً مالی سال 26-2025 کے اختتام پر غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی در آمدات کے لیے کافی (امپورٹ کور) ہیں اور انہیں ایک ’محفوظ‘ سطح قرار دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے جس نے پاکستان کو پہلے ایک سالہ اسٹینڈ بائی فیسلٹی اور پھر تین سال سے زائد کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) کے ذریعے مالی بحران سے نکالا۔ اگر پاکستان موجودہ پروگرام میں بہتر کارکردگی جاری رکھتا ہے تو ان دو سہولیات کی مد میں آئی ایم ایف سے قرض کا مجموعی بہاؤ مالی سال 27-2026 کے اختتام تک 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے مالی سال 27-2026 کے لیے توازنِ ادائیگی کے پیش کردہ تخمینوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ تخمینے 14 مئی 2026 کو پاکستان کی جانب سے تیسرے پروگرام کے کامیاب جائزے کی تکمیل کے بعد تیار کیے گئے تھے۔ لہٰذا یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے دوران مرتب کیے گئے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 27-2026 کے لیے آئی ایم ایف کے توازنِ ادائیگی کے تخمینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا شامل ہے۔ تاہم مثبت توقع یہ ہے کہ اشیا کی در آمدات میں ہونے والا اضافہ، برآمدات میں بڑے اضافے کے باعث بڑی حد تک برابر ہو جائے گا۔آئی ایم ایف کی ایک شاید حیران کن توقع یہ ہے کہ مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹنسز میں کمی آئے گی۔ یہ شاید کچھ پاکستانی کارکنوں کے، بالخصوص دبئی سے، انخلا کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم فنانشل اکاؤنٹ کی طرف آئیں تو یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ اس کھاتے میں آمد 3 ارب ڈالر سے زائد تک نمایاں طور پر بڑھے گی۔ یہ توقع غیر ملکی نجی سرمایہ کاری اور دیگر ذرائع سے رقم کی آمد میں نمایاں اضافے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ اس کے اپنے قرض کی رقم کی منتقلی کو ملا کر پاکستان کے ذخائر مالی سال 27-2026 میں مزید 3.4 ارب ڈالر بڑھ جائیں گے۔ اس سے ان ذخائر کی سطح تقریباً 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو کہ تین ماہ کے در آمدی احاطے (امپورٹ کور) سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے بعد پاکستان 27-2026 کے بعد آئی ایم ایف کی چھتری یا سہارے کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔تاہم آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئیاں اب حد سے زیادہ پرامید نظر آتی ہیں، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں حالیہ شدت آنے کے بعد اب اس بات کا خطرہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے ذریعے رسائی بھی رک سکتی ہے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔نتیجتاً پاکستان کے حکام کو مالی سال 27-2026 کے امکانات کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ تیل کے در آمدی بل میں بے تحاشا اضافے، بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بڑی کمی اور عالمگیر کساد بازاری (عالمی معاشی مندی) کے باعث دنیا بھر میں برآمدات میں کمی کا خطرہ موجود ہے۔ یہ منفی پیش رفت غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 28 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510877</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 13:28:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/301328244b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/301328244b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کو قبل از وقت نرمی سے گریز کرنا چاہیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510620/us-treasury-interest-rates-sbp-inflation-mpc-monetary-policy-committee-pakistan-middle-east</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج پالیسی ریٹ کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے طے شدہ ہے۔ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اجلاس میں ایک رکن نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ باقی آٹھ نے بغیر کسی تبدیلی کی حمایت کی تھی۔ اس بار پالیسی کو مزید سخت کرنے کی جانب جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال آج کا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک اب افراطِ زر (مہنگائی)، معاشی نمو اور آگے مانیٹری پالیسی کے راستے کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔حالات واضح طور پر خراب ہوئے ہیں۔ جون میں افراطِ زر پہلے ہی دوبارہ ڈبل ڈیجیٹ میں داخل ہو چکی تھی جبکہ ایران تنازع کی شدت نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے اور بیرونی ماحول کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس تازہ ترین جھٹکے سے پہلے مالی سال 27ء کے لیے اوسط افراطِ زر کی زیادہ تر پیش گوئیاں 7 سے 9 فیصد کے درمیان تھیں۔ اگر پٹرولیم کی قیمتیں کئی مہینوں تک بلند سطح پر برقرار رہیں تو اس اندازے کو برقرار رکھنا معاشی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے پاس حالات سے نمٹنے کی گنجائش بہت محدود چھوڑی ہے۔ بیرونی جھٹکوں کا سامنا کرنے والے مرکزی بینک عام طور پر شرحِ سود، تبادلے کی شرح (ایکسچینج ریٹ) کی نقل وحرکت اور معاشی طلب کو کم کرنے کے امتزاج پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے ان میں سے ایک راستہ تقریباً بند کر رکھا ہے۔ حکام تبادلے کی شرح کو سخت کنٹرول میں رکھنے کے فیصلے پر قائم ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی بوجھ کا غیر متناسب حصہ مانیٹری پالیسی کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔اس فیصلے کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔ اگر روپے کو مناسب قدر میں تبدیلی کی اجازت نہ دی جائے تو شرحِ سود کو لازماً اُس سطح سے بلند رکھنا پڑے گا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔ ایسی صورتِ حال میں حقیقی مثبت شرحِ سود صرف ایک محتاط معاشی پالیسی نہیں رہ جاتی بلکہ وہ بڑھتی ہوئی معاشی طلب، سرمائے کا بیرونِ ملک فرار اور بیرونی مالیاتی توازن میں بگاڑ سے بچاؤ کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج ریٹ کی اس پالیسی کے نقصان دہ اثرات بھی اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) بڑھ کر 106.5 تک پہنچ چکا ہے، جو 2018 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ اس اشاریے کو منصفانہ قیمت ناپنے کا حتمی طریقہ نہیں ماننا چاہیے لیکن اس کا رخ اہم ہے۔ روپے کی قدر میں اس وقت حقیقی طور پر بڑا اضافہ ہوا ہے جب ہماری برآمدی صلاحیت کمزور اور تجارتی خسارہ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شرحِ سود میں فوری کمی کی توقعات بے جا ہیں۔ اگر ایران کا تنازع کل ہی ختم ہو جائے اور تیل کی قیمتیں دوبارہ 70 ڈالر فی بیرل کی نچلی سطح پر بھی آ جائیں، تب بھی اسٹیٹ بینک کے پاس شرحِ سود میں تیزی سے کٹوتی کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ افراطِ زر بلند سطح پر موجود ہے، بیرونی خطرات بڑھ چکے اور ایکسچینج ریٹ معاشی ایڈجسٹمنٹ میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کو اس سے قبل بھی ایک بار اپنا رخ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے گھٹا کر 10.5 فیصد پر لانے کے بعد افراطِ زر اور بیرونی خطرات میں اضافے کی وجہ سے اسے دوبارہ شرحِ سود بڑھانی پڑی تھی۔ شرحِ سود میں کٹوتی کی طرف ایک اور فوری واپسی معاشی پالیسی کے تسلسل اور کریڈبیلٹی کو کمزور کرے گی۔ اگر تیل کی بلند قیمتیں برقرار رہتی ہیں اور عام افراطِ زر میں سرائیت کرنے لگتی ہیں تو رواں کیلنڈر سال کے اختتام سے پہلے شرحِ سود میں ایک اور اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات ماننے سے انکار نہیں کہ شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کے فوری اضافے کے لیے ایک معقول دلیل موجود ہے لیکن موجودہ حالات میں جلد بازی سے بچنے کے جواز بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ معاشی سرگرمیاں سست پڑتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ مالیاتی حالات پہلے ہی سے سخت اور پابند ہیں۔ اگر مقامی سطح پر طلب پہلے ہی سے کمزور ہو اور قیمتوں کے بڑھنے کا ثانوی اثر کنٹرول میں رہے تو محض بیرونی سپلائی کے جھٹکے کی بنا پر فوری شرحِ سود بڑھانا ناگزیر نہیں ہوتا لیکن یہ ثانوی اثرات ہی ہیں جن پر اسٹیٹ بینک کو اس وقت کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ایندھن کی بلند قیمتیں بالآخر ترسیل، پیداوار اور تقسیم کے اخراجات میں ظاہر ہوں گی۔ فوری جھٹکا بیرونی ہو سکتا ہے لیکن اس کا طویل عرصے تک قائم رہنا ہی یہ طے کرے گا کہ آیا یہ صرف وقتی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ ہے یا بنیادی افراطِ زر اور مارکیٹ کی توقعات میں سرائیت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیاں اس خطرے سے واقف معلوم ہوتی ہیں۔ سرکاری بانڈز کی پیداوار (ییلڈز) ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال شرحِ سود میں کمی کے امکانات بالکل نہیں دیکھ رہے، بلکہ اس میں مزید سختی کے کچھ امکانات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی طلب کو کمزور کرے گا اور افراطِ زر کا دباؤ بھی اونچا رکھے گا۔ یہ ایسا ماحول نہیں ہے جس میں قبل از وقت نرم پالیسی کا تجربہ کیا جائے۔اس کے برعکس سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اب تمام تر توجہ معاشی نمو (گروتھ) پر ہونی چاہیے۔ تاہم یہ ایک خطرناک جوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ سرمایہ کاری سست ہے اور قرضوں کی لاگت تکلیف دہ ہے، لیکن صرف بلند شرحِ سود ہی وہ بنیادی وجہ نہیں جس سے پاکستان کو سرمایہ کاری راغب کرنے میں دشواری ہو رہی ہو۔ کم شرحِ سود کمزور پیداواری صلاحیت، غیر یقینی ریگولیٹری ماحول، ناپائیدار برآمدی صلاحیت اور اس معاشی ڈھانچے کا متبادل نہیں بن سکتی جو ملکی طلب بڑھتے ہی بار بار ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس کچھ امید ان خبروں سے پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان نے امریکی خزانے (یو ایس ٹریژری) سے 10 ارب ڈالر کی معاشی استحکام کی سہولت (اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی) کی درخواست کی ہے۔ اگر یہ سہولت سازگار شرائط پر مل جاتی ہے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہو سکتے ہیں، پاکستان کی کریڈٹ پروفائل بہتر ہو سکتی ہے اور قلیل مدتی بیرونی مالیاتی خطرات کم ہو سکتے ہیں لیکن کسی ممکنہ امکان اور ایک پختہ معاشی پالیسی کے مفروضے کے درمیان ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ارجنٹائن کے ساتھ موازنہ اس حوالے سے آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ارجنٹائن کے معاملے میں سینئر امریکی حکام نے مدد کی فراہمی سے پہلے ہی حکمتِ عملی اور سیاسی تناظر میں عوامی سطح پر حمایت کی بات کی تھی لیکن پاکستان کی اس مبینہ درخواست کے حوالے سے امریکی ٹریژری کی جانب سے ابھی تک کوئی آن ریکارڈ اشارہ نہیں ملا، چہ جائیکہ اس کے ملنے کے امکان، ساخت یا وقت کی وضاحت موجود ہو۔ معاشی پالیسی کو مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مرتب نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی نقطہ یہ ہے کہ سالہا سال کی دردناک ایڈجسٹمنٹ کے بعد بھی ایک اور مالیاتی سہولت مانگنے کی ضرورت خود کئی تلخ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان نے مالیاتی پرائمری سرپلس حاصل کیا، بلند حقیقی شرحِ سود برقرار رکھی اور بھاری معاشی قیمت چکا کر ملکی طلب کو دبایا۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری بے جان ہے، برآمدات کمزور اور بیرونی استحکام کا تمام تر انحصار اب بھی غیر ملکی ترسیلاتِ زر (ریمیٹنس) اور سرکاری مالیاتی امداد پر ہے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اصل مسئلہ کہیں اور ہے، گہری مالیاتی اصلاحات، ریگولیٹری ڈھانچے میں بہتری، برآمدی مسابقت میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کی پائیدار بحالی کے بغیر معاشی استحکام محض عارضی ثابت ہوگا۔ مانیٹری پالیسی یہ نتائج حاصل نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس سے یہ توقع رکھی جانی چاہیے کہ وہ اس ایکسچینج ریٹ پالیسی کی خامیوں کی تلافی غیر معینہ مدت تک کرتی رہے جو کرنسی کے ذریعے ہونے والی قدرتی ایڈجسٹمنٹ کو روکتی ہے۔لہٰذا فی الحال سب سے معقول طریقہ یہی ہے کہ پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے اور آئندہ کے لیے سخت پالیسی (ہاکش بائس) کا واضح اشارہ دیا جائے۔ اسٹیٹ بینک کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ شرحِ سود میں کمی فی الحال ممکن نہیں اور اگر توانائی اور خوراک کی قیمتیں بنیادی افراطِ زر میں سرائیت کرتی ہیں تو مزید سختی کا آپشن موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر سخت شرحِ سود برقرار رکھنا سرمایہ کاری اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے لیے حد سے زیادہ دردناک ہو جائے تو پاکستان کے پاس ایڈجسٹمنٹ کا ایک اور راستہ موجود ہے۔ ایکسچینج ریٹ کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ شرحِ سود کو تمام معاشی بوجھ اکیلے نہ اٹھانا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج پالیسی ریٹ کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے طے شدہ ہے۔ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنا ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ اجلاس میں ایک رکن نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ باقی آٹھ نے بغیر کسی تبدیلی کی حمایت کی تھی۔ اس بار پالیسی کو مزید سخت کرنے کی جانب جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال آج کا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک اب افراطِ زر (مہنگائی)، معاشی نمو اور آگے مانیٹری پالیسی کے راستے کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔حالات واضح طور پر خراب ہوئے ہیں۔ جون میں افراطِ زر پہلے ہی دوبارہ ڈبل ڈیجیٹ میں داخل ہو چکی تھی جبکہ ایران تنازع کی شدت نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے اور بیرونی ماحول کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس تازہ ترین جھٹکے سے پہلے مالی سال 27ء کے لیے اوسط افراطِ زر کی زیادہ تر پیش گوئیاں 7 سے 9 فیصد کے درمیان تھیں۔ اگر پٹرولیم کی قیمتیں کئی مہینوں تک بلند سطح پر برقرار رہیں تو اس اندازے کو برقرار رکھنا معاشی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p>مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے پاس حالات سے نمٹنے کی گنجائش بہت محدود چھوڑی ہے۔ بیرونی جھٹکوں کا سامنا کرنے والے مرکزی بینک عام طور پر شرحِ سود، تبادلے کی شرح (ایکسچینج ریٹ) کی نقل وحرکت اور معاشی طلب کو کم کرنے کے امتزاج پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے ان میں سے ایک راستہ تقریباً بند کر رکھا ہے۔ حکام تبادلے کی شرح کو سخت کنٹرول میں رکھنے کے فیصلے پر قائم ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی بوجھ کا غیر متناسب حصہ مانیٹری پالیسی کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔اس فیصلے کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔ اگر روپے کو مناسب قدر میں تبدیلی کی اجازت نہ دی جائے تو شرحِ سود کو لازماً اُس سطح سے بلند رکھنا پڑے گا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔ ایسی صورتِ حال میں حقیقی مثبت شرحِ سود صرف ایک محتاط معاشی پالیسی نہیں رہ جاتی بلکہ وہ بڑھتی ہوئی معاشی طلب، سرمائے کا بیرونِ ملک فرار اور بیرونی مالیاتی توازن میں بگاڑ سے بچاؤ کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار بن جاتی ہے۔</p>
<p>ایکسچینج ریٹ کی اس پالیسی کے نقصان دہ اثرات بھی اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) بڑھ کر 106.5 تک پہنچ چکا ہے، جو 2018 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ اس اشاریے کو منصفانہ قیمت ناپنے کا حتمی طریقہ نہیں ماننا چاہیے لیکن اس کا رخ اہم ہے۔ روپے کی قدر میں اس وقت حقیقی طور پر بڑا اضافہ ہوا ہے جب ہماری برآمدی صلاحیت کمزور اور تجارتی خسارہ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شرحِ سود میں فوری کمی کی توقعات بے جا ہیں۔ اگر ایران کا تنازع کل ہی ختم ہو جائے اور تیل کی قیمتیں دوبارہ 70 ڈالر فی بیرل کی نچلی سطح پر بھی آ جائیں، تب بھی اسٹیٹ بینک کے پاس شرحِ سود میں تیزی سے کٹوتی کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ افراطِ زر بلند سطح پر موجود ہے، بیرونی خطرات بڑھ چکے اور ایکسچینج ریٹ معاشی ایڈجسٹمنٹ میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کو اس سے قبل بھی ایک بار اپنا رخ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے گھٹا کر 10.5 فیصد پر لانے کے بعد افراطِ زر اور بیرونی خطرات میں اضافے کی وجہ سے اسے دوبارہ شرحِ سود بڑھانی پڑی تھی۔ شرحِ سود میں کٹوتی کی طرف ایک اور فوری واپسی معاشی پالیسی کے تسلسل اور کریڈبیلٹی کو کمزور کرے گی۔ اگر تیل کی بلند قیمتیں برقرار رہتی ہیں اور عام افراطِ زر میں سرائیت کرنے لگتی ہیں تو رواں کیلنڈر سال کے اختتام سے پہلے شرحِ سود میں ایک اور اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات ماننے سے انکار نہیں کہ شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کے فوری اضافے کے لیے ایک معقول دلیل موجود ہے لیکن موجودہ حالات میں جلد بازی سے بچنے کے جواز بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ معاشی سرگرمیاں سست پڑتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ مالیاتی حالات پہلے ہی سے سخت اور پابند ہیں۔ اگر مقامی سطح پر طلب پہلے ہی سے کمزور ہو اور قیمتوں کے بڑھنے کا ثانوی اثر کنٹرول میں رہے تو محض بیرونی سپلائی کے جھٹکے کی بنا پر فوری شرحِ سود بڑھانا ناگزیر نہیں ہوتا لیکن یہ ثانوی اثرات ہی ہیں جن پر اسٹیٹ بینک کو اس وقت کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ایندھن کی بلند قیمتیں بالآخر ترسیل، پیداوار اور تقسیم کے اخراجات میں ظاہر ہوں گی۔ فوری جھٹکا بیرونی ہو سکتا ہے لیکن اس کا طویل عرصے تک قائم رہنا ہی یہ طے کرے گا کہ آیا یہ صرف وقتی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ ہے یا بنیادی افراطِ زر اور مارکیٹ کی توقعات میں سرائیت کر رہا ہے۔</p>
<p>مالیاتی منڈیاں اس خطرے سے واقف معلوم ہوتی ہیں۔ سرکاری بانڈز کی پیداوار (ییلڈز) ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال شرحِ سود میں کمی کے امکانات بالکل نہیں دیکھ رہے، بلکہ اس میں مزید سختی کے کچھ امکانات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی طلب کو کمزور کرے گا اور افراطِ زر کا دباؤ بھی اونچا رکھے گا۔ یہ ایسا ماحول نہیں ہے جس میں قبل از وقت نرم پالیسی کا تجربہ کیا جائے۔اس کے برعکس سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اب تمام تر توجہ معاشی نمو (گروتھ) پر ہونی چاہیے۔ تاہم یہ ایک خطرناک جوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ سرمایہ کاری سست ہے اور قرضوں کی لاگت تکلیف دہ ہے، لیکن صرف بلند شرحِ سود ہی وہ بنیادی وجہ نہیں جس سے پاکستان کو سرمایہ کاری راغب کرنے میں دشواری ہو رہی ہو۔ کم شرحِ سود کمزور پیداواری صلاحیت، غیر یقینی ریگولیٹری ماحول، ناپائیدار برآمدی صلاحیت اور اس معاشی ڈھانچے کا متبادل نہیں بن سکتی جو ملکی طلب بڑھتے ہی بار بار ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس کچھ امید ان خبروں سے پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان نے امریکی خزانے (یو ایس ٹریژری) سے 10 ارب ڈالر کی معاشی استحکام کی سہولت (اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی) کی درخواست کی ہے۔ اگر یہ سہولت سازگار شرائط پر مل جاتی ہے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہو سکتے ہیں، پاکستان کی کریڈٹ پروفائل بہتر ہو سکتی ہے اور قلیل مدتی بیرونی مالیاتی خطرات کم ہو سکتے ہیں لیکن کسی ممکنہ امکان اور ایک پختہ معاشی پالیسی کے مفروضے کے درمیان ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ارجنٹائن کے ساتھ موازنہ اس حوالے سے آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ارجنٹائن کے معاملے میں سینئر امریکی حکام نے مدد کی فراہمی سے پہلے ہی حکمتِ عملی اور سیاسی تناظر میں عوامی سطح پر حمایت کی بات کی تھی لیکن پاکستان کی اس مبینہ درخواست کے حوالے سے امریکی ٹریژری کی جانب سے ابھی تک کوئی آن ریکارڈ اشارہ نہیں ملا، چہ جائیکہ اس کے ملنے کے امکان، ساخت یا وقت کی وضاحت موجود ہو۔ معاشی پالیسی کو مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مرتب نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>بنیادی نقطہ یہ ہے کہ سالہا سال کی دردناک ایڈجسٹمنٹ کے بعد بھی ایک اور مالیاتی سہولت مانگنے کی ضرورت خود کئی تلخ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان نے مالیاتی پرائمری سرپلس حاصل کیا، بلند حقیقی شرحِ سود برقرار رکھی اور بھاری معاشی قیمت چکا کر ملکی طلب کو دبایا۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری بے جان ہے، برآمدات کمزور اور بیرونی استحکام کا تمام تر انحصار اب بھی غیر ملکی ترسیلاتِ زر (ریمیٹنس) اور سرکاری مالیاتی امداد پر ہے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اصل مسئلہ کہیں اور ہے، گہری مالیاتی اصلاحات، ریگولیٹری ڈھانچے میں بہتری، برآمدی مسابقت میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کی پائیدار بحالی کے بغیر معاشی استحکام محض عارضی ثابت ہوگا۔ مانیٹری پالیسی یہ نتائج حاصل نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس سے یہ توقع رکھی جانی چاہیے کہ وہ اس ایکسچینج ریٹ پالیسی کی خامیوں کی تلافی غیر معینہ مدت تک کرتی رہے جو کرنسی کے ذریعے ہونے والی قدرتی ایڈجسٹمنٹ کو روکتی ہے۔لہٰذا فی الحال سب سے معقول طریقہ یہی ہے کہ پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے اور آئندہ کے لیے سخت پالیسی (ہاکش بائس) کا واضح اشارہ دیا جائے۔ اسٹیٹ بینک کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ شرحِ سود میں کمی فی الحال ممکن نہیں اور اگر توانائی اور خوراک کی قیمتیں بنیادی افراطِ زر میں سرائیت کرتی ہیں تو مزید سختی کا آپشن موجود ہے۔</p>
<p>اگر سخت شرحِ سود برقرار رکھنا سرمایہ کاری اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے لیے حد سے زیادہ دردناک ہو جائے تو پاکستان کے پاس ایڈجسٹمنٹ کا ایک اور راستہ موجود ہے۔ ایکسچینج ریٹ کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ شرحِ سود کو تمام معاشی بوجھ اکیلے نہ اٹھانا پڑے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510620</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 15:35:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/281534517e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/281534517e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبی وسائل کا ناقص انتظام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510619/gwadar-water-scarcity-gulf-states-indus-basin-water-mismanagement-icimd-mithi-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں سولہویں نمبر پر ہے جو پانی کی شدید قلت کے دباؤ کا شکار ہیں۔ ملک میں فی کس سالانہ دستیاب پانی کی مقدار 1947 میں 5,600 مکعب میٹر سے گھٹ کر 2023 میں 930 مکعب میٹر رہ گئی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2035 تک پاکستان مطلق آبی قلت کی سطح پر پہنچ جائے گا، جو آج سے نو سال سے بھی کم عرصے کی بات ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، سکڑتے ہوئے دریائے سندھ پر بڑھتا ہوا انحصار اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے اور ملک کے مطلق آبی قلت سے دوچار ہونے کی مدت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کی جانب سے جاری کردہ اسنو اپڈیٹ رپورٹ 2026 میں دریائے سندھ کے آبی ذخیرے (انڈس بیسن) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2020 میں برف کی پائیداری 19.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، تاہم 2024 میں اس میں نمایاں کمی آکر یہ معمول سے 24.5 فیصد کم رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 برسوں میں انڈس بیسن میں برف کی پائیداری کی یہ سب سے کم سطح ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 میں بھی یہ خسارہ برقرار رہا، جب برف کی پائیداری معمول سے 18.1 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتِ حال ایسے دریائی نظام میں، جہاں تقریباً نصف بہاؤ برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی پر منحصر ہے، موسمِ گرما کے آغاز ہی میں پانی کی شدید قلت کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ اس سے تقریباً 30 کروڑ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو مؤثر اور جامع آبی وسائل کے انتظام کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی شدید قلت سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان سے بھی زیادہ دباؤ کا شکار ممالک میں کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور بحرین شامل ہیں۔ تاہم ان ممالک نے اپنے وافر مالی وسائل کی بدولت سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس نصب کر رکھے ہیں، جو ان کی آبادی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ان تنصیبات پر حملوں اور تنازع بڑھنے کی صورت میں مزید حملوں کے خدشات بدستور موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی سیلینیشن پلانٹ ایک صنعتی تنصیب ہے جو سمندری یا کھارے پانی سے نمکیات اور معدنیات الگ کرکے اسے پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ ساحلی علاقوں کے لیے خشک سالی سے نسبتاً محفوظ پانی کا مستقل ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریورس اوسموسس (پانی کو جھلیوں سے گزار کر) یا ڈسٹلیشن (پانی کو گرم کرکے) جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ عمل توانائی کا بہت زیادہ متقاضی ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں انتہائی نمکین محلول (برائن) بطور ضمنی پیداوار خارج ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر میں مجموعی طور پر 82 ڈی سیلینیشن پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن کی مشترکہ یومیہ استعداد 9 لاکھ 17 ہزار مکعب میٹر ہے۔ الجزائر میں ان پلانٹس کی سالانہ گنجائش 63 کروڑ 10 لاکھ مکعب میٹر ہے، جبکہ عمان بھی اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بھی کئی ڈی سیلینیشن پلانٹس موجود ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر چھوٹے پیمانے پر کام کر رہے ہیں اور انہیں آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔ البتہ چینی تعاون سے گوادر کے قریب قائم ایک پلانٹ روزانہ 3 ہزار ٹن پینے کا پانی فراہم کر رہا ہے، مٹھی میں قائم شمسی توانائی کے منصوبے کے تحت روزانہ 80 لاکھ لیٹر پینے کا پانی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ پورٹ قاسم، کراچی میں ایک نیا پلانٹ زیرِ تعمیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ساحلی علاقوں میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کا قیام مستقبل کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کو بالخصوص گرمیوں میں توانائی کی شدید قلت کا بھی سامنا رہتا ہے۔ ملک کا بجلی کا شعبہ مسلسل غیر مؤثر انتظام، پن بجلی کی پیداوار میں سالانہ مرمت کے باعث کمی کے دوران مہنگے ایندھن کے استعمال، اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں میں موجود بھاری کیپیسٹی پیمنٹس جیسے عوامل کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، حکومت کے لیے آبی ذخیرہ گاہوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں آبی وسائل ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 103 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ 2025-26 میں یہ رقم 133 ارب روپے تھی۔ اس کے برعکس، سڑکوں کی تعمیر کے لیے 224.5 ارب روپے رکھے گئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنے پی ایس ڈی پی کی ترجیحات کو سڑکوں کی تعمیر سے ہٹا کر آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر پر مرکوز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”شمالی پاکستان کے بالائی علاقوں میں غیر موسمی زرعی تجاوزات: پائیدار اراضی انتظام کی ضرورت“ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے:“تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ غیر موسمی کاشت کاری نقد آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے، جسے بنیادی طور پر گزشتہ کئی دہائیوں سے آباد اور بااثر مزارع برادریوں نے اختیار کیا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران یہ کاشت کاری مسلسل نشیبی علاقوں سے بلند مقامات (2,980 سے 3,800 میٹر) تک پھیلتی گئی اور وادیوں میں واقع قابلِ رسائی چراگاہوں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق دو اہم سبزیوں، یعنی مٹر اور آلو، کی کاشت مجموعی طور پر 417.4 ہیکٹر چراگاہی اراضی پر کی گئی، جن میں 367.2 ہیکٹر پر مٹر جبکہ 50.2 ہیکٹر پر آلو کاشت کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ فصلوں کی گردش (کروپ روٹیشن) اور مناسب اراضی انتظامی طریقوں کے بغیر ایک ہی فصل کی بار بار کاشت سے زمین کی پیداواری صلاحیت وقت کے ساتھ نمایاں طور پر کم ہوئی۔ نئی زیرِ کاشت اراضی میں مٹر کی پیداوار 1.8 ٹن فی ہیکٹر اور آلو کی 14.8 ٹن فی ہیکٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ پرانی زیرِ کاشت زمین میں یہ پیداوار گھٹ کر بالترتیب 0.6 ٹن اور 8.2 ٹن فی ہیکٹر رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رجحان کے نتیجے میں کسان غیر پیداواری زرعی اراضی کو چھوڑ کر نئی حاشیائی زمینوں پر کاشت شروع کر رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ مقررہ حد 16 ڈگری سے زیادہ ڈھلوان والی زمینوں پر بھی فصلیں اگا رہے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ کسانوں نے اہم چراگاہی علاقوں کو وسیع پیمانے پر زیرِ کاشت لا کر بے زمین چرواہوں کو ان کی روایتی چراگاہوں سے محروم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، ان زرعی تجاوزات نے چرواہوں کے روزگار اور ان بالائی علاقوں کے نازک ماحولیاتی نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جن پر ان کا انحصار ہے۔ اس لیے شمالی پاکستان کے بالائی علاقوں میں سماجی و معاشی انصاف اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے پائیدار اراضی انتظام کو فروغ دینے والی مؤثر پالیسیوں اور ضوابط کی اشد ضرورت ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں کئی دہائیوں سے دو نہایت تشویشناک رجحانات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، بااثر اور خوشحال طبقے کی جانب سے غیر موسمی کاشت کاری کے ذریعے آمدن میں اضافے کے لیے اراضی پر ناجائز قبضے اور بے دریغ استعمال کا رجحان، جس نے پائیدار اراضی انتظام کے بنیادی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے سماجی و معاشی عدم مساوات کو بڑھایا اور ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں میں وسیع پیمانے پر مالی بدانتظامی، کمزور طرزِ حکمرانی اور گہری جڑیں رکھنے والی انتظامی ناکارکردگی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کے نظام میں موجود بنیادی خامیاں ملک کے آبی اور توانائی کے تحفظ کو کمزور کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں واپڈا، ارسا، فیڈرل فلڈ کمیشن، پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز سمیت اہم اداروں میں ادارہ جاتی کمزوریوں کی تشویشناک تصویر پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ان اداروں نے مجموعی طور پر 359.6 ارب روپے کے اخراجات اور 194.3 ارب روپے کی وصولیوں کا انتظام کیا۔ آڈٹ میں بے ضابطگیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سب سے زیادہ کیسز مالیاتی نظم و نسق سے متعلق تھے، جبکہ اس کے بعد معاہدوں کا انتظام، خریداری کا نظام، اثاثہ جات کا انتظام، انسانی وسائل، منصوبہ بندی اور آپریشنل امور سے متعلق بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ انتظامی مسائل کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام ادارہ جاتی شعبوں میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً پاکستان اب آبی شعبے میں اصلاحات مؤخر کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس شعبے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم کرے، جامع اصلاحات نافذ کرے اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف، خواہ وہ سرکاری شعبے سے تعلق رکھتے ہوں یا نجی شعبے سے، بلاامتیاز سخت اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں سولہویں نمبر پر ہے جو پانی کی شدید قلت کے دباؤ کا شکار ہیں۔ ملک میں فی کس سالانہ دستیاب پانی کی مقدار 1947 میں 5,600 مکعب میٹر سے گھٹ کر 2023 میں 930 مکعب میٹر رہ گئی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2035 تک پاکستان مطلق آبی قلت کی سطح پر پہنچ جائے گا، جو آج سے نو سال سے بھی کم عرصے کی بات ہے۔</strong></p>
<p>مزید برآں، سکڑتے ہوئے دریائے سندھ پر بڑھتا ہوا انحصار اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے اور ملک کے مطلق آبی قلت سے دوچار ہونے کی مدت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کی جانب سے جاری کردہ اسنو اپڈیٹ رپورٹ 2026 میں دریائے سندھ کے آبی ذخیرے (انڈس بیسن) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2020 میں برف کی پائیداری 19.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، تاہم 2024 میں اس میں نمایاں کمی آکر یہ معمول سے 24.5 فیصد کم رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 برسوں میں انڈس بیسن میں برف کی پائیداری کی یہ سب سے کم سطح ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>2026 میں بھی یہ خسارہ برقرار رہا، جب برف کی پائیداری معمول سے 18.1 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتِ حال ایسے دریائی نظام میں، جہاں تقریباً نصف بہاؤ برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی پر منحصر ہے، موسمِ گرما کے آغاز ہی میں پانی کی شدید قلت کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ اس سے تقریباً 30 کروڑ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو مؤثر اور جامع آبی وسائل کے انتظام کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>پانی کی شدید قلت سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان سے بھی زیادہ دباؤ کا شکار ممالک میں کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور بحرین شامل ہیں۔ تاہم ان ممالک نے اپنے وافر مالی وسائل کی بدولت سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس نصب کر رکھے ہیں، جو ان کی آبادی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ان تنصیبات پر حملوں اور تنازع بڑھنے کی صورت میں مزید حملوں کے خدشات بدستور موجود ہیں۔</p>
<p>ڈی سیلینیشن پلانٹ ایک صنعتی تنصیب ہے جو سمندری یا کھارے پانی سے نمکیات اور معدنیات الگ کرکے اسے پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ ساحلی علاقوں کے لیے خشک سالی سے نسبتاً محفوظ پانی کا مستقل ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریورس اوسموسس (پانی کو جھلیوں سے گزار کر) یا ڈسٹلیشن (پانی کو گرم کرکے) جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ عمل توانائی کا بہت زیادہ متقاضی ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں انتہائی نمکین محلول (برائن) بطور ضمنی پیداوار خارج ہوتا ہے۔</p>
<p>مصر میں مجموعی طور پر 82 ڈی سیلینیشن پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن کی مشترکہ یومیہ استعداد 9 لاکھ 17 ہزار مکعب میٹر ہے۔ الجزائر میں ان پلانٹس کی سالانہ گنجائش 63 کروڑ 10 لاکھ مکعب میٹر ہے، جبکہ عمان بھی اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں بھی کئی ڈی سیلینیشن پلانٹس موجود ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر چھوٹے پیمانے پر کام کر رہے ہیں اور انہیں آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔ البتہ چینی تعاون سے گوادر کے قریب قائم ایک پلانٹ روزانہ 3 ہزار ٹن پینے کا پانی فراہم کر رہا ہے، مٹھی میں قائم شمسی توانائی کے منصوبے کے تحت روزانہ 80 لاکھ لیٹر پینے کا پانی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ پورٹ قاسم، کراچی میں ایک نیا پلانٹ زیرِ تعمیر ہے۔</p>
<p>اگرچہ ساحلی علاقوں میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کا قیام مستقبل کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کو بالخصوص گرمیوں میں توانائی کی شدید قلت کا بھی سامنا رہتا ہے۔ ملک کا بجلی کا شعبہ مسلسل غیر مؤثر انتظام، پن بجلی کی پیداوار میں سالانہ مرمت کے باعث کمی کے دوران مہنگے ایندھن کے استعمال، اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں میں موجود بھاری کیپیسٹی پیمنٹس جیسے عوامل کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، حکومت کے لیے آبی ذخیرہ گاہوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں آبی وسائل ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 103 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ 2025-26 میں یہ رقم 133 ارب روپے تھی۔ اس کے برعکس، سڑکوں کی تعمیر کے لیے 224.5 ارب روپے رکھے گئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنے پی ایس ڈی پی کی ترجیحات کو سڑکوں کی تعمیر سے ہٹا کر آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر پر مرکوز کرے۔</p>
<p>”شمالی پاکستان کے بالائی علاقوں میں غیر موسمی زرعی تجاوزات: پائیدار اراضی انتظام کی ضرورت“ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے:“تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ غیر موسمی کاشت کاری نقد آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے، جسے بنیادی طور پر گزشتہ کئی دہائیوں سے آباد اور بااثر مزارع برادریوں نے اختیار کیا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران یہ کاشت کاری مسلسل نشیبی علاقوں سے بلند مقامات (2,980 سے 3,800 میٹر) تک پھیلتی گئی اور وادیوں میں واقع قابلِ رسائی چراگاہوں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کی گئیں۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق دو اہم سبزیوں، یعنی مٹر اور آلو، کی کاشت مجموعی طور پر 417.4 ہیکٹر چراگاہی اراضی پر کی گئی، جن میں 367.2 ہیکٹر پر مٹر جبکہ 50.2 ہیکٹر پر آلو کاشت کیے گئے۔</p>
<p>مزید یہ کہ فصلوں کی گردش (کروپ روٹیشن) اور مناسب اراضی انتظامی طریقوں کے بغیر ایک ہی فصل کی بار بار کاشت سے زمین کی پیداواری صلاحیت وقت کے ساتھ نمایاں طور پر کم ہوئی۔ نئی زیرِ کاشت اراضی میں مٹر کی پیداوار 1.8 ٹن فی ہیکٹر اور آلو کی 14.8 ٹن فی ہیکٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ پرانی زیرِ کاشت زمین میں یہ پیداوار گھٹ کر بالترتیب 0.6 ٹن اور 8.2 ٹن فی ہیکٹر رہ گئی۔</p>
<p>اس رجحان کے نتیجے میں کسان غیر پیداواری زرعی اراضی کو چھوڑ کر نئی حاشیائی زمینوں پر کاشت شروع کر رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ مقررہ حد 16 ڈگری سے زیادہ ڈھلوان والی زمینوں پر بھی فصلیں اگا رہے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ کسانوں نے اہم چراگاہی علاقوں کو وسیع پیمانے پر زیرِ کاشت لا کر بے زمین چرواہوں کو ان کی روایتی چراگاہوں سے محروم کر دیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، ان زرعی تجاوزات نے چرواہوں کے روزگار اور ان بالائی علاقوں کے نازک ماحولیاتی نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جن پر ان کا انحصار ہے۔ اس لیے شمالی پاکستان کے بالائی علاقوں میں سماجی و معاشی انصاف اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے پائیدار اراضی انتظام کو فروغ دینے والی مؤثر پالیسیوں اور ضوابط کی اشد ضرورت ہے۔“</p>
<p>مذکورہ حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں کئی دہائیوں سے دو نہایت تشویشناک رجحانات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔</p>
<p>اول، بااثر اور خوشحال طبقے کی جانب سے غیر موسمی کاشت کاری کے ذریعے آمدن میں اضافے کے لیے اراضی پر ناجائز قبضے اور بے دریغ استعمال کا رجحان، جس نے پائیدار اراضی انتظام کے بنیادی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے سماجی و معاشی عدم مساوات کو بڑھایا اور ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>دوم، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں میں وسیع پیمانے پر مالی بدانتظامی، کمزور طرزِ حکمرانی اور گہری جڑیں رکھنے والی انتظامی ناکارکردگی موجود ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کے نظام میں موجود بنیادی خامیاں ملک کے آبی اور توانائی کے تحفظ کو کمزور کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں واپڈا، ارسا، فیڈرل فلڈ کمیشن، پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز سمیت اہم اداروں میں ادارہ جاتی کمزوریوں کی تشویشناک تصویر پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ان اداروں نے مجموعی طور پر 359.6 ارب روپے کے اخراجات اور 194.3 ارب روپے کی وصولیوں کا انتظام کیا۔ آڈٹ میں بے ضابطگیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سب سے زیادہ کیسز مالیاتی نظم و نسق سے متعلق تھے، جبکہ اس کے بعد معاہدوں کا انتظام، خریداری کا نظام، اثاثہ جات کا انتظام، انسانی وسائل، منصوبہ بندی اور آپریشنل امور سے متعلق بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ انتظامی مسائل کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام ادارہ جاتی شعبوں میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً پاکستان اب آبی شعبے میں اصلاحات مؤخر کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس شعبے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم کرے، جامع اصلاحات نافذ کرے اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف، خواہ وہ سرکاری شعبے سے تعلق رکھتے ہوں یا نجی شعبے سے، بلاامتیاز سخت اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510619</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 15:30:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/28152839ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/28152839ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کا مالی سہارا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510462/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن سے رواں ہفتے سامنے آنے والی ان اطلاعات نے، جن کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ”ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی“ کی درخواست کی ہے، بجا طور پر امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگر اس درخواست کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں دوطرفہ مالی معاونت کے اہم ترین انتظامات میں سے ایک ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، غیرملکی سرمایہ کے ایک اور ممکنہ بہاؤ پر خوشی منانے سے پہلے پاکستان کو ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا: کیا ایک اور قرض معیشت کی بیماری کا علاج کرے گا، یا محض اس کی علامات کو کچھ عرصے کے لیے ٹال دے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اس سہولت کے نام سے ظاہر ہے، ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کا مقصد کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا، اس کی کرنسی پر دباؤ کم کرنا اور مالیاتی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نوعیت کے انتظامات کئی دہائیوں سے امریکی وزارتِ خزانہ کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے موجود ہیں، تاہم ان کا استعمال نہایت محدود رہا ہے اور تقریباً ہمیشہ انہی مواقع پر کیا گیا ہے جہاں امریکا کے براہِ راست اسٹریٹجک مفادات وابستہ رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1995 میں میکسیکو کے لیے ای ایس ایف کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کو اس کی نمایاں ترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید مالیاتی عدم استحکام کا شکار بعض دیگر ممالک کو بھی محدود معاونت فراہم کی گئی، مگر ایسی مداخلتیں کبھی خیرات یا ہمدردی کی بنیاد پر نہیں کی گئیں۔ ان کے پسِ پشت ہمیشہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی مفادات کا اشتراک کارفرما رہا ہے، اور اس وقت پاکستان دونوں حوالوں سے امریکا کے لیے ایک موزوں شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان اس مطلوبہ سہولت کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے کسی گرانٹ یا بلاعوض امداد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی طرح یہ بھی تقریباً یقینی طور پر ایک قابلِ واپسی مالی سہولت ہوگی، جس کے ساتھ ادائیگی کی مقررہ مدت، سود، رپورٹنگ کی شرائط اور پالیسی سے متعلق تقاضے منسلک ہوں گے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ یہ روایتی آئی ایم ایف پروگرام کے مقابلے میں نسبتاً کم سخت شرائط کی حامل ہو، تاہم یہ تصور کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ واشنگٹن کسی پالیسی عزم، شفافیت اور تزویراتی تعاون کی توقع کے بغیر پاکستان کو 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی قرضوں کے حوالے سے پاکستان کا تجربہ کئی تلخ حقائق کی یاد دلاتا ہے۔ مختلف حکومتوں نے بارہا غیرملکی مالی معاونت کو داخلی اصلاحات کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔ آئی ایم ایف کے پروگرام، دوست ممالک کی جانب سے جمع کرائی گئی رقوم، تجارتی قرضے اور کثیرالجہتی مالی معاونت نے وقتی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر کو ضرور سہارا دیا، مگر ان میں سے کوئی بھی معیشت کی بنیادی ساختی کمزوریوں کو دور نہ کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک قرض کے بعد دوسرے قرض کا سلسلہ معمول بنتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی بیرونی رقوم کی آمد میں کمی آتی ہے، زرمبادلہ کی قلت، مالیاتی عدم توازن اور قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف ڈالر کی کمی نہیں، بلکہ برآمدات سے خاطر خواہ زرمبادلہ کمانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، توانائی کے شعبے کے نقصانات کم کرنے اور پائیدار پیداواری سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مسلسل ناکامی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھپت یا بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے قرض لینا درحقیقت ضروری معاشی اصلاحات کو مؤخر کرنے کے مترادف ہے، جبکہ اس سے آئندہ نسلوں پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کی آمدنی کا پہلے ہی ایک بڑا حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، جو تشویش ناک صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے میں مزید 10 ارب ڈالر کا قرض، خواہ نرم شرائط پر ہی کیوں نہ ہو، مستقبل میں ادائیگیوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھا دے گا، الا یہ کہ ان رقوم سے ایسے معاشی فوائد حاصل ہوں جو ان کی مالی لاگت سے زیادہ ہوں۔ یہی کسی بھی بیرونی قرض کے حصول کا بنیادی معیار ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس نوعیت کی سہولت کی منظوری مل جاتی ہے، اور بظاہر اس کے امکانات موجود ہیں، تو اس کے استعمال کو سخت قومی ترجیحات کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ رقم حکومتی جاری اخراجات، سیاسی مقاصد کے تحت دی جانے والی سبسڈیز یا خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں پر صرف نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ یہ وسائل ایک مرتبہ پھر بااثر طبقوں کے مفادات کی نذر ہو جائیں، جبکہ عام شہری بدستور مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی خدمات میں گراوٹ کا بوجھ اٹھاتے رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، ہر ڈالر کو ایسے منصوبوں سے منسلک کیا جانا چاہیے جن کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں، مثلاً برآمدی مسابقت میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، آبی تحفظ، لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعتی پیداوار میں اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاشبہ یہ تمام اہداف بلند اور شاید موجودہ حالات میں مشکل دکھائی دیتے ہیں، لیکن پاکستان کو قرضوں کے دائمی چکر سے نکالنے کا یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کے تزویراتی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی بڑا دوطرفہ مالیاتی انتظام لازماً پالیسی سازی کی خودمختاری سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ امریکا کے ساتھ معاشی تعاون کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، لیکن مالیاتی انحصار کو کبھی بھی تزویراتی انحصار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مضبوط داخلی اداروں کی بدولت پاکستان زیادہ معاشی خودمختاری حاصل کرے، نہ کہ بیرونی قرض دہندگان پر مسلسل انحصار کرتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی استحکامی مالی سہولت قبول کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس ایسا نظم و نسق، شفافیت اور اصلاحات پر عمل درآمد کا نظم موجود ہے جو قرض کی رقم کو پائیدار قومی دولت میں تبدیل کر سکے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام پاکستانیوں کے لیے کسی بھی نئے بیرونی قرض کی اہمیت اسی وقت ہوگی جب اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، مہنگائی میں کمی آئے، برآمدات میں اضافہ ہو، ریاستی ادارے مضبوط ہوں اور مستقبل میں قرضوں پر انحصار کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بصورتِ دیگر، یہ قرض بھی ملک کی اس طویل تاریخ کا ایک اور باب بن جائے گا جس میں آج کے مسائل کا حل کل کے مواقع کو گروی رکھ کر تلاش کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صرف اپنی کرنسی کے استحکام کی نہیں، بلکہ اپنے معاشی نظم و نسق کے استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن سے رواں ہفتے سامنے آنے والی ان اطلاعات نے، جن کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ”ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی“ کی درخواست کی ہے، بجا طور پر امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگر اس درخواست کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں دوطرفہ مالی معاونت کے اہم ترین انتظامات میں سے ایک ہوگا۔</strong></p>
<p>تاہم، غیرملکی سرمایہ کے ایک اور ممکنہ بہاؤ پر خوشی منانے سے پہلے پاکستان کو ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا: کیا ایک اور قرض معیشت کی بیماری کا علاج کرے گا، یا محض اس کی علامات کو کچھ عرصے کے لیے ٹال دے گا؟</p>
<p>جیسا کہ اس سہولت کے نام سے ظاہر ہے، ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کا مقصد کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا، اس کی کرنسی پر دباؤ کم کرنا اور مالیاتی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>اس نوعیت کے انتظامات کئی دہائیوں سے امریکی وزارتِ خزانہ کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے موجود ہیں، تاہم ان کا استعمال نہایت محدود رہا ہے اور تقریباً ہمیشہ انہی مواقع پر کیا گیا ہے جہاں امریکا کے براہِ راست اسٹریٹجک مفادات وابستہ رہے ہوں۔</p>
<p>1995 میں میکسیکو کے لیے ای ایس ایف کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کو اس کی نمایاں ترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید مالیاتی عدم استحکام کا شکار بعض دیگر ممالک کو بھی محدود معاونت فراہم کی گئی، مگر ایسی مداخلتیں کبھی خیرات یا ہمدردی کی بنیاد پر نہیں کی گئیں۔ ان کے پسِ پشت ہمیشہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی مفادات کا اشتراک کارفرما رہا ہے، اور اس وقت پاکستان دونوں حوالوں سے امریکا کے لیے ایک موزوں شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p>اگر پاکستان اس مطلوبہ سہولت کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے کسی گرانٹ یا بلاعوض امداد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی طرح یہ بھی تقریباً یقینی طور پر ایک قابلِ واپسی مالی سہولت ہوگی، جس کے ساتھ ادائیگی کی مقررہ مدت، سود، رپورٹنگ کی شرائط اور پالیسی سے متعلق تقاضے منسلک ہوں گے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ یہ روایتی آئی ایم ایف پروگرام کے مقابلے میں نسبتاً کم سخت شرائط کی حامل ہو، تاہم یہ تصور کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ واشنگٹن کسی پالیسی عزم، شفافیت اور تزویراتی تعاون کی توقع کے بغیر پاکستان کو 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔</p>
<p>بیرونی قرضوں کے حوالے سے پاکستان کا تجربہ کئی تلخ حقائق کی یاد دلاتا ہے۔ مختلف حکومتوں نے بارہا غیرملکی مالی معاونت کو داخلی اصلاحات کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔ آئی ایم ایف کے پروگرام، دوست ممالک کی جانب سے جمع کرائی گئی رقوم، تجارتی قرضے اور کثیرالجہتی مالی معاونت نے وقتی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر کو ضرور سہارا دیا، مگر ان میں سے کوئی بھی معیشت کی بنیادی ساختی کمزوریوں کو دور نہ کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک قرض کے بعد دوسرے قرض کا سلسلہ معمول بنتا چلا گیا۔</p>
<p>جیسے ہی بیرونی رقوم کی آمد میں کمی آتی ہے، زرمبادلہ کی قلت، مالیاتی عدم توازن اور قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف ڈالر کی کمی نہیں، بلکہ برآمدات سے خاطر خواہ زرمبادلہ کمانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، توانائی کے شعبے کے نقصانات کم کرنے اور پائیدار پیداواری سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مسلسل ناکامی ہے۔</p>
<p>کھپت یا بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے قرض لینا درحقیقت ضروری معاشی اصلاحات کو مؤخر کرنے کے مترادف ہے، جبکہ اس سے آئندہ نسلوں پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کی آمدنی کا پہلے ہی ایک بڑا حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، جو تشویش ناک صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے میں مزید 10 ارب ڈالر کا قرض، خواہ نرم شرائط پر ہی کیوں نہ ہو، مستقبل میں ادائیگیوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھا دے گا، الا یہ کہ ان رقوم سے ایسے معاشی فوائد حاصل ہوں جو ان کی مالی لاگت سے زیادہ ہوں۔ یہی کسی بھی بیرونی قرض کے حصول کا بنیادی معیار ہونا چاہیے۔</p>
<p>اگر اس نوعیت کی سہولت کی منظوری مل جاتی ہے، اور بظاہر اس کے امکانات موجود ہیں، تو اس کے استعمال کو سخت قومی ترجیحات کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ رقم حکومتی جاری اخراجات، سیاسی مقاصد کے تحت دی جانے والی سبسڈیز یا خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں پر صرف نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ یہ وسائل ایک مرتبہ پھر بااثر طبقوں کے مفادات کی نذر ہو جائیں، جبکہ عام شہری بدستور مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی خدمات میں گراوٹ کا بوجھ اٹھاتے رہیں۔</p>
<p>اس کے برعکس، ہر ڈالر کو ایسے منصوبوں سے منسلک کیا جانا چاہیے جن کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں، مثلاً برآمدی مسابقت میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، آبی تحفظ، لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعتی پیداوار میں اضافہ۔</p>
<p>بلاشبہ یہ تمام اہداف بلند اور شاید موجودہ حالات میں مشکل دکھائی دیتے ہیں، لیکن پاکستان کو قرضوں کے دائمی چکر سے نکالنے کا یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کے تزویراتی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی بڑا دوطرفہ مالیاتی انتظام لازماً پالیسی سازی کی خودمختاری سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ امریکا کے ساتھ معاشی تعاون کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، لیکن مالیاتی انحصار کو کبھی بھی تزویراتی انحصار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مضبوط داخلی اداروں کی بدولت پاکستان زیادہ معاشی خودمختاری حاصل کرے، نہ کہ بیرونی قرض دہندگان پر مسلسل انحصار کرتا رہے۔</p>
<p>لہٰذا بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی استحکامی مالی سہولت قبول کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس ایسا نظم و نسق، شفافیت اور اصلاحات پر عمل درآمد کا نظم موجود ہے جو قرض کی رقم کو پائیدار قومی دولت میں تبدیل کر سکے؟</p>
<p>عام پاکستانیوں کے لیے کسی بھی نئے بیرونی قرض کی اہمیت اسی وقت ہوگی جب اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، مہنگائی میں کمی آئے، برآمدات میں اضافہ ہو، ریاستی ادارے مضبوط ہوں اور مستقبل میں قرضوں پر انحصار کم ہو۔</p>
<p>بصورتِ دیگر، یہ قرض بھی ملک کی اس طویل تاریخ کا ایک اور باب بن جائے گا جس میں آج کے مسائل کا حل کل کے مواقع کو گروی رکھ کر تلاش کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صرف اپنی کرنسی کے استحکام کی نہیں، بلکہ اپنے معاشی نظم و نسق کے استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 25 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510462</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 13:29:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/271325049d02367.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/271325049d02367.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوہرے ہندسے کی مہنگائی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جون 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل اپریل اور مئی 2026 میں بھی مہنگائی بالترتیب 10.9 فیصد اور 11.7 فیصد رہی، یعنی دونوں ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں برقرار رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، جولائی 2025 سے سی پی آئی میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جب یہ 4.1 فیصد تھی۔ فروری 2026 تک یہ تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر، اور پاکستان میں بھی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، فروری 2026 میں 7 فیصد رہنے والی مہنگائی جون 2026 تک بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی میں اس تیز اضافے کے باعث پورے مالی سال کے دوران سی پی آئی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی، جو 2024-25 میں ریکارڈ کیے گئے 4.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی اشیا اور توانائی کو نکال کر شمار کی جانے والی بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 8.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ٹرمڈ انفلیشن اس سے بھی زیادہ 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی مانیٹری پالیسی میں بنیادی مہنگائی اور پالیسی شرحِ سود کے درمیان تعلق کو مدنظر رکھتا ہے۔ چنانچہ بنیادی مہنگائی میں اضافے کے باعث آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی میں یہ نمایاں اضافہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے یا پاکستان کے اندر بھی دیگر عوامل نے دوہرے ہندسے کی مہنگائی میں کردار ادا کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب یہ ہے کہ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے براہِ راست مہنگائی پر وسیع اثرات مرتب کیے، کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور یوٹیلیٹی بلوں میں عمومی اضافہ ہوا۔ تاہم ایک اہم پہلو جس پر کم توجہ دی گئی، وہ خوراک کی قیمتوں میں غیر متوقع تیزی ہے، جس کی بنیادی وجہ گندم کی قیمت میں تقریباً 65 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر گندم کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیوں ہوا؟ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں گندم کے زیرِ کاشت رقبے اور پیداوار میں بالترتیب 4.3 فیصد اور 4.4 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق پاکستان میں 2025-26 کے دوران گندم کی پیداوار 2024-25 کے 3 کروڑ 18 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم ہو کر 2 کروڑ 84 لاکھ ٹن رہ گئی، جو 10.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہی بڑی کمی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وضاحت کرتی ہے۔ بظاہر اس کی ایک اہم وجہ کسانوں سے گندم کی خریداری کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی پالیسی کا خاتمہ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینسیٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مہنگائی کے بوجھ کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ اس میں 51 بنیادی اشیا اور خدمات کی قیمتیں شامل کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث کم آمدنی والے دو طبقوں کے لیے ایس پی آئی کے تحت مہنگائی کی شرح بڑھ کر 13.5 فیصد ہو گئی، جبکہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 10.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتاً کم معاشی نمو کے باعث بڑھتی بے روزگاری اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے اشیائے ضروریہ کی لاگت میں زیادہ اضافے کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کی اکثریتی آبادی کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ پانچ برسوں سے یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مہنگائی کا تقابل دیگر جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً بھارت اور بنگلہ دیش سے کیا جا سکتا ہے۔ جون 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باوجود بھارت میں مہنگائی کی شرح صرف 4.4 فیصد رہی، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 9.2 فیصد تھی۔ تاہم یہ دونوں شرحیں پاکستان کی 11.1 فیصد مہنگائی سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ اس فرق کی بڑی وجہ پاکستان میں گندم اور دیگر بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مفید تقابل پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں کا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بھارت اور بنگلہ دیش میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کم رہی، جبکہ پیٹرول نسبتاً مہنگا رکھا گیا۔ خام تیل اور پیٹرول کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے مجموعی مہنگائی پر اثرات محدود رکھنے کے لحاظ سے یہ پالیسی زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس وقت صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا اوسط ٹیرف (امریکی ڈالر فی کلوواٹ گھنٹہ) بھارت میں پاکستان سے 20 فیصد اور بنگلہ دیش میں 34 فیصد کم ہے۔ اس سے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو واضح نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک 2026-27 میں مہنگائی کے منظرنامے کا تعلق ہے، آئی ایم ایف اور سالانہ منصوبے کے مطابق اوسط شرحِ مہنگائی 7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو 2025-26 کے برابر ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے امکانات سازگار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 2026-27 کے دوران یہ تنازع برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 114 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے یا اس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس سے پاکستان میں مہنگائی مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی برقرار رہ سکتی ہے اور اس کے 15 فیصد تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسیوں کا بنیادی مرکز خوراک کی قیمتوں، بالخصوص گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنا ہونا چاہیے، جیسا کہ 2025-26 میں دیکھنے میں آیا۔ بصورت دیگر تیل اور خوراک دونوں کی بڑھتی قیمتیں پاکستان کے بیشتر گھرانوں کے معیارِ زندگی کو مزید متاثر کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو 2019-20 میں کووڈ-19، 2022-23 کے تباہ کن سیلاب اور اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد بھی کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ قدر اور قابلِ اعتراف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جون 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل اپریل اور مئی 2026 میں بھی مہنگائی بالترتیب 10.9 فیصد اور 11.7 فیصد رہی، یعنی دونوں ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسے میں برقرار رہی۔</strong></p>
<p>درحقیقت، جولائی 2025 سے سی پی آئی میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جب یہ 4.1 فیصد تھی۔ فروری 2026 تک یہ تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر، اور پاکستان میں بھی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، فروری 2026 میں 7 فیصد رہنے والی مہنگائی جون 2026 تک بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کی آخری سہ ماہی میں مہنگائی میں اس تیز اضافے کے باعث پورے مالی سال کے دوران سی پی آئی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی، جو 2024-25 میں ریکارڈ کیے گئے 4.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
<p>غذائی اشیا اور توانائی کو نکال کر شمار کی جانے والی بنیادی مہنگائی (کور انفلیشن) مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 8.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ٹرمڈ انفلیشن اس سے بھی زیادہ 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اپنی مانیٹری پالیسی میں بنیادی مہنگائی اور پالیسی شرحِ سود کے درمیان تعلق کو مدنظر رکھتا ہے۔ چنانچہ بنیادی مہنگائی میں اضافے کے باعث آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں کمی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی میں یہ نمایاں اضافہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے یا پاکستان کے اندر بھی دیگر عوامل نے دوہرے ہندسے کی مہنگائی میں کردار ادا کیا ہے؟</p>
<p>اس کا جواب یہ ہے کہ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے براہِ راست مہنگائی پر وسیع اثرات مرتب کیے، کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور یوٹیلیٹی بلوں میں عمومی اضافہ ہوا۔ تاہم ایک اہم پہلو جس پر کم توجہ دی گئی، وہ خوراک کی قیمتوں میں غیر متوقع تیزی ہے، جس کی بنیادی وجہ گندم کی قیمت میں تقریباً 65 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔</p>
<p>آخر گندم کی قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیوں ہوا؟ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق مالی سال 2025-26 میں گندم کے زیرِ کاشت رقبے اور پیداوار میں بالترتیب 4.3 فیصد اور 4.4 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی تھی۔</p>
<p>تاہم امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق پاکستان میں 2025-26 کے دوران گندم کی پیداوار 2024-25 کے 3 کروڑ 18 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم ہو کر 2 کروڑ 84 لاکھ ٹن رہ گئی، جو 10.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہی بڑی کمی گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وضاحت کرتی ہے۔ بظاہر اس کی ایک اہم وجہ کسانوں سے گندم کی خریداری کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی پالیسی کا خاتمہ بھی ہے۔</p>
<p>سینسیٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور مہنگائی کے بوجھ کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ اس میں 51 بنیادی اشیا اور خدمات کی قیمتیں شامل کی جاتی ہیں۔</p>
<p>گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث کم آمدنی والے دو طبقوں کے لیے ایس پی آئی کے تحت مہنگائی کی شرح بڑھ کر 13.5 فیصد ہو گئی، جبکہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 10.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتاً کم معاشی نمو کے باعث بڑھتی بے روزگاری اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے اشیائے ضروریہ کی لاگت میں زیادہ اضافے کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کی اکثریتی آبادی کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ پانچ برسوں سے یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں مہنگائی کا تقابل دیگر جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً بھارت اور بنگلہ دیش سے کیا جا سکتا ہے۔ جون 2026 میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باوجود بھارت میں مہنگائی کی شرح صرف 4.4 فیصد رہی، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 9.2 فیصد تھی۔ تاہم یہ دونوں شرحیں پاکستان کی 11.1 فیصد مہنگائی سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ اس فرق کی بڑی وجہ پاکستان میں گندم اور دیگر بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>ایک اور مفید تقابل پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں کا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بھارت اور بنگلہ دیش میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کم رہی، جبکہ پیٹرول نسبتاً مہنگا رکھا گیا۔ خام تیل اور پیٹرول کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے مجموعی مہنگائی پر اثرات محدود رکھنے کے لحاظ سے یہ پالیسی زیادہ مؤثر دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس وقت صنعتی صارفین کے لیے بجلی کا اوسط ٹیرف (امریکی ڈالر فی کلوواٹ گھنٹہ) بھارت میں پاکستان سے 20 فیصد اور بنگلہ دیش میں 34 فیصد کم ہے۔ اس سے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو واضح نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>جہاں تک 2026-27 میں مہنگائی کے منظرنامے کا تعلق ہے، آئی ایم ایف اور سالانہ منصوبے کے مطابق اوسط شرحِ مہنگائی 7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو 2025-26 کے برابر ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے امکانات سازگار نہیں۔</p>
<p>اگر 2026-27 کے دوران یہ تنازع برقرار رہا تو برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 114 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے یا اس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس سے پاکستان میں مہنگائی مزید تیز ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورت میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی برقرار رہ سکتی ہے اور اس کے 15 فیصد تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔</p>
<p>مہنگائی پر قابو پانے کی پالیسیوں کا بنیادی مرکز خوراک کی قیمتوں، بالخصوص گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنا ہونا چاہیے، جیسا کہ 2025-26 میں دیکھنے میں آیا۔ بصورت دیگر تیل اور خوراک دونوں کی بڑھتی قیمتیں پاکستان کے بیشتر گھرانوں کے معیارِ زندگی کو مزید متاثر کریں گی۔</p>
<p>افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو 2019-20 میں کووڈ-19، 2022-23 کے تباہ کن سیلاب اور اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد بھی کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ قدر اور قابلِ اعتراف ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509930</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 14:50:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/231450144b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/231450144b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گڈ گورننس : ایک نایاب پہلو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509927/youth-youthful-population-governance-issue-jinnah-the-missing-piece-constituent-assembly</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بطورِ قوم شاید ہم بہت سے دیگر ترقی پذیر ممالک سے اس حد تک بہتر ہیں کہ ہم آگے کی سوچ رکھتے اور تخلیق کاری کی طرف تیزی سے مائل ہوتے ہیں۔ ہمارا فکر و عمل فعال (متحرک) رہتا ہے، اگرچہ کبھی کبھار اس کا رخ منفی سمت میں بھی ہو جاتا ہے۔ مثبت اور تخلیقی سوچ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کی تصدیق ہماری نوجوان آبادی کی متحرک صورتِ حال (پُرجوش ماحول) سے بھی ہوتی ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق ہماری تقریباً 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور یہ طبقہ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر واقف ہے اور اس کا استعمال کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ترقی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن یہ صورتِ حال دونوں طرف جا سکتی ہے۔ اگر زیادہ اقتصادی پیداوار کے حصول کے لیے اس صلاحیت کو درست سمت میں لگایا جائے تو یہ ایک مثبت طاقت بن سکتی ہے۔ تاہم اگر ان نوجوانوں کو نئے تجربات اور ترقی کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہی صلاحیت انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ لفظی طور پر ایک چلتا پھرتا بم ثابت ہو سکتی ہے۔ اقربا پروری کی بیماری کے باعث مواقع کی کمی پر ان نوجوانوں کا خاموش ردِعمل ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہونا ہے۔ ماننا جاتا ہے کہ صرف گزشتہ چند سالوں میں ہم نے بیرونِ ملک مواقع کی وجہ سے تقریباً 15 لاکھ ماہرین اور پیشہ ور افراد کو کھو دیا ہے۔ اصل مسئلہ گڈ گورننس (بہتر حکمرانی) کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے قیادت پر یہ بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے کہ وہ عوام کو کس طرح تعلیم سے آراستہ کرے۔ ہمارے سامنے ایک تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں اور یہ مسئلہ ہم سے جواب طلب کر رہا ہے۔اس محرومی میں مزید اضافہ پرانے نصاب کو زبردستی قائم رکھنے اور تدریس و تربیت کے فرسودہ طریقوں کو اپنانے کی ضد سے ہو رہا ہے۔ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں حکمرانی کے متوقع معیار کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان کر دیا تھا۔ تاہم بدقسمتی سے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان کی اس تقریر کو نہ صرف کاٹا گیا بلکہ اس میں سے اہم آئینی امور کو حذف بھی کر دیا گیا، تاکہ پے در پے آنے والی حکومتوں کے منحرف (راہِ راست سے ہٹنے والے) عناصر کے مفادات کو پورا کیا جا سکے۔انہوں نے حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں، جمہوری نظام میں احتساب کے عمل، کرپشن و بدعنوانی کی لعنت اور عام آدمی کے حقوق و فرائض جیسے موضوعات پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی تھی اور ان سب سے بڑھ کر ریاست کے مختلف اداروں کی اعلیٰ جمہوری اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ذاتی اور سیاسی مفادات کو دوام دینے اور بچانے کے لیے ان تمام باتوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1947 اور 1948 کے بعد ہماری توجہ اس بات کی وضاحت پر نہ رہی کہ ہمارے لیے ”گڈ گورننس“ کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بہترین طرزِ عمل کون سے ہیں۔ اگرچہ ہم ”پالیسی کے معیارات“ تیار کرنے میں بہت تیز اور ماہر ہیں، لیکن جب ان پر عمل درآمد کی باری آتی ہے تو ہم سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی اچھی پالیسی کا خاتمہ ”استثنیٰ“ دینے کے اختیار کے غلط استعمال سے شروع ہوتا ہے۔ اگر موجودہ ماحول قوانین کے بجائے رعایتوں اور استثنیٰ کی بنیاد پر چل رہا ہو تو حکمرانی کے کسی بھی معیار کو قائم رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔اشرافیہ اور غیر اشرافیہ دونوں کی طرف سے ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی ہمارے عمومی رویے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، جہاں قوانین یا اصولوں کو توڑنے کو طاقت اور اختیار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کے ہر سطح کے قائدین قانون شکن رویوں سے آنکھیں چرانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے پیروکار خواہ وہ سرکاری شعبے میں ہوں یا نجی شعبے میں بہتر حکمرانی کے اچھے طریقوں کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے افسران کی اجتماعى بداعمالیوں کی پناہ میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں؛ لہٰذا انہیں بھی بدعنوانی میں اپنا حصہ ڈالنے کی شہ ملتی ہے۔ وہ اس مقولے پر سختی سے کاربند ہیں کہ روما میں رہ کر پاپائے روم سے دشمنی نہیں کی جا سکتی (یعنی طاقتور کے ساتھ رہ کر اس کے خلاف نہیں چلا جا سکتا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں یہ بیماری بہت گہری ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ انتظامیہ کی سب سے نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔گڈ گورننس (بہتر حکمرانی) کرپشن کا علاج ہے۔ کرپشن کا یہ عفریت برگد کے درخت کی طرح پھیلتا ہےجو ہر قسم کے بدعنوان طریقوں کو اپنے سایے میں لے لیتا ہے۔ کرپشن کی سب سے بہترین شکل زرتلافی (سبسڈی) کی قانونی تقسیم ہے جس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، ان کا فائدہ عام عوام کو نہیں بلکہ صرف بااثر اشرافیہ کو ہوتا ہے۔ درحقیقت اشرافیہ کی مراعات کا بوجھ عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔حکومت، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی تنظیموں سے متعلق گڈ گورننس کے عمومی معیارات، ڈیٹا کے تحفظ اور سالمیت کے ساتھ ان بنیادی اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں جن میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ شفافیت، احتساب، قانون اور قانونی ڈھانچے کی بالا دستی، اثر انگیزی، افادیت اور قابلیت شامل ہیں اور ان اصولوں کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔گڈ گورننس فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کے انسانی سرمائے (ماہر افراد) کا ہونا ضروری ہے، خواہ وہ سرکاری شعبہ ہو یا نجی ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور استعمال کرنے پر ہماری توجہ غفلت اور عدم توجہی کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے طویل المدتی نتائج کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم پر کم ذہین انسانی وسائل حکمرانی کریں گے۔گڈ گورننس اور بہترین اقدامات کو معیشت میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ انہیں سستی کا بہانہ، تبدیلی، نئے قوانین اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کے خلاف مستقل ذہنی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گڈ گورننس قائم کرنے کے لیے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ برف ہمیشہ اوپر سے پگھلتی ہے اور مچھلی کا گلنا بھی سر سے شروع ہوتا ہے۔ حکمرانی کو پہلے قیادت کو اپنانا ہوگا تب ہی ماتحت نچلا طبقہ ان کی پیروی کرے گا ۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بطورِ قوم شاید ہم بہت سے دیگر ترقی پذیر ممالک سے اس حد تک بہتر ہیں کہ ہم آگے کی سوچ رکھتے اور تخلیق کاری کی طرف تیزی سے مائل ہوتے ہیں۔ ہمارا فکر و عمل فعال (متحرک) رہتا ہے، اگرچہ کبھی کبھار اس کا رخ منفی سمت میں بھی ہو جاتا ہے۔ مثبت اور تخلیقی سوچ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔</strong></p>
<p>اس حقیقت کی تصدیق ہماری نوجوان آبادی کی متحرک صورتِ حال (پُرجوش ماحول) سے بھی ہوتی ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق ہماری تقریباً 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور یہ طبقہ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر واقف ہے اور اس کا استعمال کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ترقی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن یہ صورتِ حال دونوں طرف جا سکتی ہے۔ اگر زیادہ اقتصادی پیداوار کے حصول کے لیے اس صلاحیت کو درست سمت میں لگایا جائے تو یہ ایک مثبت طاقت بن سکتی ہے۔ تاہم اگر ان نوجوانوں کو نئے تجربات اور ترقی کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو یہی صلاحیت انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ لفظی طور پر ایک چلتا پھرتا بم ثابت ہو سکتی ہے۔ اقربا پروری کی بیماری کے باعث مواقع کی کمی پر ان نوجوانوں کا خاموش ردِعمل ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہونا ہے۔ ماننا جاتا ہے کہ صرف گزشتہ چند سالوں میں ہم نے بیرونِ ملک مواقع کی وجہ سے تقریباً 15 لاکھ ماہرین اور پیشہ ور افراد کو کھو دیا ہے۔ اصل مسئلہ گڈ گورننس (بہتر حکمرانی) کا ہے۔</p>
<p>آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے قیادت پر یہ بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے کہ وہ عوام کو کس طرح تعلیم سے آراستہ کرے۔ ہمارے سامنے ایک تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں اور یہ مسئلہ ہم سے جواب طلب کر رہا ہے۔اس محرومی میں مزید اضافہ پرانے نصاب کو زبردستی قائم رکھنے اور تدریس و تربیت کے فرسودہ طریقوں کو اپنانے کی ضد سے ہو رہا ہے۔ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں حکمرانی کے متوقع معیار کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان کر دیا تھا۔ تاہم بدقسمتی سے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان کی اس تقریر کو نہ صرف کاٹا گیا بلکہ اس میں سے اہم آئینی امور کو حذف بھی کر دیا گیا، تاکہ پے در پے آنے والی حکومتوں کے منحرف (راہِ راست سے ہٹنے والے) عناصر کے مفادات کو پورا کیا جا سکے۔انہوں نے حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں، جمہوری نظام میں احتساب کے عمل، کرپشن و بدعنوانی کی لعنت اور عام آدمی کے حقوق و فرائض جیسے موضوعات پر پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی تھی اور ان سب سے بڑھ کر ریاست کے مختلف اداروں کی اعلیٰ جمہوری اصولوں کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ذاتی اور سیاسی مفادات کو دوام دینے اور بچانے کے لیے ان تمام باتوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔</p>
<p>1947 اور 1948 کے بعد ہماری توجہ اس بات کی وضاحت پر نہ رہی کہ ہمارے لیے ”گڈ گورننس“ کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بہترین طرزِ عمل کون سے ہیں۔ اگرچہ ہم ”پالیسی کے معیارات“ تیار کرنے میں بہت تیز اور ماہر ہیں، لیکن جب ان پر عمل درآمد کی باری آتی ہے تو ہم سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی اچھی پالیسی کا خاتمہ ”استثنیٰ“ دینے کے اختیار کے غلط استعمال سے شروع ہوتا ہے۔ اگر موجودہ ماحول قوانین کے بجائے رعایتوں اور استثنیٰ کی بنیاد پر چل رہا ہو تو حکمرانی کے کسی بھی معیار کو قائم رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔اشرافیہ اور غیر اشرافیہ دونوں کی طرف سے ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی ہمارے عمومی رویے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، جہاں قوانین یا اصولوں کو توڑنے کو طاقت اور اختیار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچے کے ہر سطح کے قائدین قانون شکن رویوں سے آنکھیں چرانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے پیروکار خواہ وہ سرکاری شعبے میں ہوں یا نجی شعبے میں بہتر حکمرانی کے اچھے طریقوں کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے افسران کی اجتماعى بداعمالیوں کی پناہ میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں؛ لہٰذا انہیں بھی بدعنوانی میں اپنا حصہ ڈالنے کی شہ ملتی ہے۔ وہ اس مقولے پر سختی سے کاربند ہیں کہ روما میں رہ کر پاپائے روم سے دشمنی نہیں کی جا سکتی (یعنی طاقتور کے ساتھ رہ کر اس کے خلاف نہیں چلا جا سکتا)۔</p>
<p>ایسے حالات میں یہ بیماری بہت گہری ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ انتظامیہ کی سب سے نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے۔گڈ گورننس (بہتر حکمرانی) کرپشن کا علاج ہے۔ کرپشن کا یہ عفریت برگد کے درخت کی طرح پھیلتا ہےجو ہر قسم کے بدعنوان طریقوں کو اپنے سایے میں لے لیتا ہے۔ کرپشن کی سب سے بہترین شکل زرتلافی (سبسڈی) کی قانونی تقسیم ہے جس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، ان کا فائدہ عام عوام کو نہیں بلکہ صرف بااثر اشرافیہ کو ہوتا ہے۔ درحقیقت اشرافیہ کی مراعات کا بوجھ عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔حکومت، سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی تنظیموں سے متعلق گڈ گورننس کے عمومی معیارات، ڈیٹا کے تحفظ اور سالمیت کے ساتھ ان بنیادی اصولوں پر مبنی ہوتے ہیں جن میں دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ شفافیت، احتساب، قانون اور قانونی ڈھانچے کی بالا دستی، اثر انگیزی، افادیت اور قابلیت شامل ہیں اور ان اصولوں کو قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔گڈ گورننس فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کے انسانی سرمائے (ماہر افراد) کا ہونا ضروری ہے، خواہ وہ سرکاری شعبہ ہو یا نجی ملک کے باصلاحیت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور استعمال کرنے پر ہماری توجہ غفلت اور عدم توجہی کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے طویل المدتی نتائج کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم پر کم ذہین انسانی وسائل حکمرانی کریں گے۔گڈ گورننس اور بہترین اقدامات کو معیشت میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ انہیں سستی کا بہانہ، تبدیلی، نئے قوانین اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کے خلاف مستقل ذہنی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>گڈ گورننس قائم کرنے کے لیے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ برف ہمیشہ اوپر سے پگھلتی ہے اور مچھلی کا گلنا بھی سر سے شروع ہوتا ہے۔ حکمرانی کو پہلے قیادت کو اپنانا ہوگا تب ہی ماتحت نچلا طبقہ ان کی پیروی کرے گا ۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 21 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509927</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 14:41:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2314291642fcb69.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2314291642fcb69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی بدستور عوام کا سب سے حساس مسئلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509628/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے مطابق مئی 2026 میں صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد رہی، جو اپریل 2026 کی 10.9 فیصد شرح سے 0.8 فیصد پوائنٹ زیادہ اور جون کی شرح سے 0.6 فیصد پوائنٹ بلند تھی۔ ماہرینِ معاشیات مئی میں اس اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران قرار دیتے ہیں، جس کے باعث تیل، جیٹ ایندھن، کھاد اور ہیلیم سمیت اہم معدنیات کی رسد شدید متاثر ہوئی۔ ہیلیم کمپیوٹر چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک اہم جزو ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اعدادوشمار کی ساکھ، بالخصوص مہنگائی سے متعلق اعدادوشمار، پر 2024 میں اس وقت سوالات اٹھے جب آئی ایم ایف نے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری کے موقع پر نشاندہی کی کہ ”مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ حکومتی مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔ حکومت فنڈ کی تکنیکی معاونت کے ذریعے جی ایف ایس اور نئے پیداواری قیمت اشاریے (پی پی آئی) سے متعلق ان کمزوریوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی آئی ایک اہم معاشی اشاریہ ہے، جو ملک میں تیار ہونے والی اشیا اور خدمات کی فیکٹری گیٹ (کارخانے سے فروخت) کی سطح پر قیمتوں میں وقت کے ساتھ آنے والی اوسط تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں نقل و حمل کے اخراجات اور ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔ فنڈ نے ادارۂ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے تجویز کردہ پی پی آئی کے طریقۂ کار میں مزید ترامیم کی سفارش کی تاکہ اسے زیادہ معتبر اور مستند بنایا جا سکے۔ اسی وجہ سے اس ضمن میں فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کی مدت، جو جون کے آخر میں مکمل ہونا تھی، بڑھا کر رواں سال اکتوبر تک کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارۂ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے ایک عہدیدار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جدید پیداواری قیمت اشاریہ (پی پی آئی) حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد دے گا کہ پیداواری لاگت اور آخری صارف تک پہنچنے والی قیمت میں غیرمعمولی فرق یا اچانک اضافے یا کمی کی صورت میں آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کا کردار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ نیا پی پی آئی تجارتی اور نقل و حمل کے مارجن کی نگرانی کے ذریعے آڑھتیوں کے کردار کا بھی سراغ لگانے میں مدد دے گا، کیونکہ پاکستان میں زرعی پیداوار کو منڈی تک پہنچانے میں درمیانی واسطہ رکھنے والے افراد کا کردار انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک طور پر عہدیدار نے اعتراف کیا کہ زرعی شعبے کے حوالے سے اب تک نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ بن چکی ہے اور صوبوں کے کراپ رپورٹنگ سروسز کے اداروں میں پی پی آئی کی ضروریات پوری کرنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) کی تیاری میں خوراک اور غیرالکحل مشروبات کو دیا گیا 34.58 فیصد وزن (جس میں جلد خراب ہونے والی اشیا کا حصہ 29.60 فیصد ہے) اور پی پی آئی کے حساب کے طریقہ کار میں مستقبل میں نظرثانی کی جا سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کی استعداد کار میں اضافے پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ زرعی پیداوار کے تخمیناً 80 فیصد حصے پر آڑھتیوں کی گرفت اور قیمتوں پر ان کا اثر اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں دوسرا سب سے زیادہ وزن رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے شعبے کو دیا گیا ہے، جو 23.63 فیصد بنتا ہے۔ رہائش کے حصے کو، جو غالباً مجموعی وزن کا ڈیڑھ فیصد سے بھی کم ہوگا، چھوڑ کر باقی تمام مدیں آئی ایم ایف کی اس شرط کے تابع ہیں جس کے تحت خدمات کی مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنانا لازم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اس عمل کو نسبتاً نرم انداز میں ”انتظامی اقدامات“ قرار دیتا ہے، جس سے مراد لاگت بڑھنے کی صورت میں یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کرنا ہے، خواہ اس کی وجہ درآمدی ایندھن کی مہنگائی ہو یا شعبے کی اپنی نااہلی اور غیر مؤثر کارکردگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے سے متعلق یہ اقدامات بنیادی طور پر گردشی قرضے میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں، جو اس شعبے کی انتہائی کمزور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی کمزوری کے باعث حکومت کو یا تو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سبسڈی دینا پڑتی ہے یا پھر مارکیٹ سے قرض لینا پڑتا ہے۔ رواں سال حکومت نے 1.25 کھرب روپے قرض حاصل کیا، جس پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی صارفین پر منتقل کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں سی پی آئی کا 58 فیصد سے زیادہ وزن ایسی اشیا اور خدمات پر مشتمل ہے جو ایس بی پی کے براہِ راست دائرۂ اثر سے باہر ہیں، جبکہ توانائی کے شعبے کی بڑی پیداواری لاگت نہ صرف بین الاقوامی قیمتوں بلکہ روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ سے بھی وابستہ ہے، جس کے باعث پاکستان میں توانائی کی قیمتیں خطے کے دیگر حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی مہنگائی میں کمی کی بنیادی ذمہ داری ایس بی پی پر ڈالتا ہے اور اس مقصد کے لیے پالیسی ریٹ میں ردوبدل کو مؤثر ذریعہ قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اگر اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ مقامی کمرشل بینکوں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کا تقریباً 75 فیصد حکومت کے ذمہ محفوظ ہوتا ہے، اور حکومت ان رقوم کا بڑا حصہ جاری اخراجات پر خرچ کرتی ہے، جو خود مہنگائی بڑھانے والی پالیسی ہے، تو پھر صرف پالیسی ریٹ کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی مزید غیر منطقی محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں جنوری سے فروری کے دوران 1.92 فیصد اضافہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پہلے ہوا تھا اور اس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت طے پانے والی قیمتوں میں ردوبدل تھا۔ خاص طور پر بجلی اور گیس کے سرکاری نرخوں میں اضافہ، نیز پٹرولیم لیوی بڑھانے کے باعث نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ اس کی اہم وجوہات تھیں۔ پٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جس میں صوبوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال سے اب تک جاری ہونے والے تمام مانیٹری پالیسی بیانات (ایم پی ایس) میں درمیانی مدت کے لیے 5 سے 7 فیصد مہنگائی کے تخمینے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ہدف شاید آئی ایم ایف کی جانب سے طے کیا گیا ہے، اگرچہ اس سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی بھی کی جاتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 جنوری کے ایم پی ایس میں کہا گیا تھا کہ ”مجموعی طور پر کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 2026 اور 2027 میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستحکم رہے گی، اگرچہ رواں کیلنڈر سال کے دوران چند ماہ کے لیے یہ اس حد سے اوپر جا سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد مارچ سے اپریل کے دوران سی پی آئی میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا، جس پر مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم 27 اپریل کے ایم پی ایس میں بھی کہا گیا کہ ”کمیٹی کے جائزے کے مطابق موجودہ رسدی جھٹکے کے باعث آئندہ چند ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسوں میں جا سکتی ہے، تاہم بعد ازاں اس میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 2027 کے بیشتر عرصے میں مہنگائی کے 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، حکومتیں سیاسی وجوہات کی بنا پر مہنگائی کے معاملے میں غیر معمولی حساس ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مہنگائی سے متعلق ایسے درست اور قابلِ اعتماد اعدادوشمار مرتب کیے جائیں جو عوامی تجربات سے ہم آہنگ ہوں اور حکومت کو مالیاتی، زری اور شعبہ جاتی پالیسیوں کے حوالے سے باخبر اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے مطابق مئی 2026 میں صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد رہی، جو اپریل 2026 کی 10.9 فیصد شرح سے 0.8 فیصد پوائنٹ زیادہ اور جون کی شرح سے 0.6 فیصد پوائنٹ بلند تھی۔ ماہرینِ معاشیات مئی میں اس اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران قرار دیتے ہیں، جس کے باعث تیل، جیٹ ایندھن، کھاد اور ہیلیم سمیت اہم معدنیات کی رسد شدید متاثر ہوئی۔ ہیلیم کمپیوٹر چپس کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایک اہم جزو ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے اعدادوشمار کی ساکھ، بالخصوص مہنگائی سے متعلق اعدادوشمار، پر 2024 میں اس وقت سوالات اٹھے جب آئی ایم ایف نے جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری کے موقع پر نشاندہی کی کہ ”مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ حکومتی مالیاتی شماریات (جی ایف ایس) کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔ حکومت فنڈ کی تکنیکی معاونت کے ذریعے جی ایف ایس اور نئے پیداواری قیمت اشاریے (پی پی آئی) سے متعلق ان کمزوریوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔“</p>
<p>پی پی آئی ایک اہم معاشی اشاریہ ہے، جو ملک میں تیار ہونے والی اشیا اور خدمات کی فیکٹری گیٹ (کارخانے سے فروخت) کی سطح پر قیمتوں میں وقت کے ساتھ آنے والی اوسط تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں نقل و حمل کے اخراجات اور ٹیکس شامل نہیں ہوتے۔ فنڈ نے ادارۂ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کی جانب سے تجویز کردہ پی پی آئی کے طریقۂ کار میں مزید ترامیم کی سفارش کی تاکہ اسے زیادہ معتبر اور مستند بنایا جا سکے۔ اسی وجہ سے اس ضمن میں فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کی مدت، جو جون کے آخر میں مکمل ہونا تھی، بڑھا کر رواں سال اکتوبر تک کر دی گئی۔</p>
<p>ادارۂ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے ایک عہدیدار نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جدید پیداواری قیمت اشاریہ (پی پی آئی) حکومت کو یہ معلوم کرنے میں مدد دے گا کہ پیداواری لاگت اور آخری صارف تک پہنچنے والی قیمت میں غیرمعمولی فرق یا اچانک اضافے یا کمی کی صورت میں آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کا کردار کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ نیا پی پی آئی تجارتی اور نقل و حمل کے مارجن کی نگرانی کے ذریعے آڑھتیوں کے کردار کا بھی سراغ لگانے میں مدد دے گا، کیونکہ پاکستان میں زرعی پیداوار کو منڈی تک پہنچانے میں درمیانی واسطہ رکھنے والے افراد کا کردار انتہائی اہم ہے۔</p>
<p>تشویشناک طور پر عہدیدار نے اعتراف کیا کہ زرعی شعبے کے حوالے سے اب تک نہ ہونے کے برابر کام ہوا ہے، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت صوبائی معاملہ بن چکی ہے اور صوبوں کے کراپ رپورٹنگ سروسز کے اداروں میں پی پی آئی کی ضروریات پوری کرنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں۔</p>
<p>اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) کی تیاری میں خوراک اور غیرالکحل مشروبات کو دیا گیا 34.58 فیصد وزن (جس میں جلد خراب ہونے والی اشیا کا حصہ 29.60 فیصد ہے) اور پی پی آئی کے حساب کے طریقہ کار میں مستقبل میں نظرثانی کی جا سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کی استعداد کار میں اضافے پر ہوگا۔</p>
<p>مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ زرعی پیداوار کے تخمیناً 80 فیصد حصے پر آڑھتیوں کی گرفت اور قیمتوں پر ان کا اثر اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز کی صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں دوسرا سب سے زیادہ وزن رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے شعبے کو دیا گیا ہے، جو 23.63 فیصد بنتا ہے۔ رہائش کے حصے کو، جو غالباً مجموعی وزن کا ڈیڑھ فیصد سے بھی کم ہوگا، چھوڑ کر باقی تمام مدیں آئی ایم ایف کی اس شرط کے تابع ہیں جس کے تحت خدمات کی مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنانا لازم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اس عمل کو نسبتاً نرم انداز میں ”انتظامی اقدامات“ قرار دیتا ہے، جس سے مراد لاگت بڑھنے کی صورت میں یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کرنا ہے، خواہ اس کی وجہ درآمدی ایندھن کی مہنگائی ہو یا شعبے کی اپنی نااہلی اور غیر مؤثر کارکردگی۔</p>
<p>توانائی کے شعبے سے متعلق یہ اقدامات بنیادی طور پر گردشی قرضے میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں، جو اس شعبے کی انتہائی کمزور کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی کمزوری کے باعث حکومت کو یا تو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سبسڈی دینا پڑتی ہے یا پھر مارکیٹ سے قرض لینا پڑتا ہے۔ رواں سال حکومت نے 1.25 کھرب روپے قرض حاصل کیا، جس پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی صارفین پر منتقل کیا جانا تھا۔</p>
<p>یوں سی پی آئی کا 58 فیصد سے زیادہ وزن ایسی اشیا اور خدمات پر مشتمل ہے جو ایس بی پی کے براہِ راست دائرۂ اثر سے باہر ہیں، جبکہ توانائی کے شعبے کی بڑی پیداواری لاگت نہ صرف بین الاقوامی قیمتوں بلکہ روپے اور ڈالر کی شرحِ مبادلہ سے بھی وابستہ ہے، جس کے باعث پاکستان میں توانائی کی قیمتیں خطے کے دیگر حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔</p>
<p>ایسی صورتِ حال میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آئی ایم ایف اب بھی مہنگائی میں کمی کی بنیادی ذمہ داری ایس بی پی پر ڈالتا ہے اور اس مقصد کے لیے پالیسی ریٹ میں ردوبدل کو مؤثر ذریعہ قرار دیتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، اگر اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ مقامی کمرشل بینکوں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کا تقریباً 75 فیصد حکومت کے ذمہ محفوظ ہوتا ہے، اور حکومت ان رقوم کا بڑا حصہ جاری اخراجات پر خرچ کرتی ہے، جو خود مہنگائی بڑھانے والی پالیسی ہے، تو پھر صرف پالیسی ریٹ کے ذریعے مہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی مزید غیر منطقی محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>صارف اشاریۂ قیمت (سی پی آئی) میں جنوری سے فروری کے دوران 1.92 فیصد اضافہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پہلے ہوا تھا اور اس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت طے پانے والی قیمتوں میں ردوبدل تھا۔ خاص طور پر بجلی اور گیس کے سرکاری نرخوں میں اضافہ، نیز پٹرولیم لیوی بڑھانے کے باعث نقل و حمل کی لاگت میں اضافہ اس کی اہم وجوہات تھیں۔ پٹرولیم لیوی حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جس میں صوبوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال سے اب تک جاری ہونے والے تمام مانیٹری پالیسی بیانات (ایم پی ایس) میں درمیانی مدت کے لیے 5 سے 7 فیصد مہنگائی کے تخمینے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ہدف شاید آئی ایم ایف کی جانب سے طے کیا گیا ہے، اگرچہ اس سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی بھی کی جاتی رہی ہے۔</p>
<p>26 جنوری کے ایم پی ایس میں کہا گیا تھا کہ ”مجموعی طور پر کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 2026 اور 2027 میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستحکم رہے گی، اگرچہ رواں کیلنڈر سال کے دوران چند ماہ کے لیے یہ اس حد سے اوپر جا سکتی ہے۔“</p>
<p>اس کے بعد مارچ سے اپریل کے دوران سی پی آئی میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا، جس پر مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ تاہم 27 اپریل کے ایم پی ایس میں بھی کہا گیا کہ ”کمیٹی کے جائزے کے مطابق موجودہ رسدی جھٹکے کے باعث آئندہ چند ماہ میں مہنگائی دوہرے ہندسوں میں جا سکتی ہے، تاہم بعد ازاں اس میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود مالی سال 2027 کے بیشتر عرصے میں مہنگائی کے 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔“</p>
<p>نتیجتاً، حکومتیں سیاسی وجوہات کی بنا پر مہنگائی کے معاملے میں غیر معمولی حساس ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مہنگائی سے متعلق ایسے درست اور قابلِ اعتماد اعدادوشمار مرتب کیے جائیں جو عوامی تجربات سے ہم آہنگ ہوں اور حکومت کو مالیاتی، زری اور شعبہ جاتی پالیسیوں کے حوالے سے باخبر اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد دیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509628</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 14:11:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/21140407ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/21140407ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے بیرونی معاشی استحکام کی حقیقت توقع سے زیادہ نازک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509625/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مالی سال 2026ء کا اختتام بظاہر مضبوط بیرونی معاشی اشاریوں کے ساتھ کیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محض 139 ملین ڈالر رہا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ استحکام ابھی نازک بنیادوں پر قائم ہے اور بیرونی مالی معاونت، قرضوں کی ادائیگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا یہ ظاہری بیرونی سکون برآمدات میں کسی پائیدار اضافے یا پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مسابقت میں کسی نمایاں بہتری پر مبنی نہیں ہے۔ یہ تمام تر دارومدار بیرونِ ملک سے آنے والی ریکارڈ ترسیلاتِ زر (ریمنٹس) اور انٹربینک مارکیٹ سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی مسلسل خریداری پر ہے۔ اسی لیے اندرونی حساب کتاب اس قدر شاندار نہیں ہے جتنا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی سرخیوں سے دکھائی دیتا ہے۔مالی سال 2026ء میں، پاکستان کو اشیاء اور خدمات کی تجارت میں تقریباً 35.5 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس میں پرائمری انکم کا خسارہ بھی شامل کیا گیا (جو کہ زیادہ تر سود اور منافع کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے) تو یہ خسارہ بڑھ کر تقریباً 44 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس بڑے فرق کو سیکنڈری انکم کی صورت میں آنے والے 43.8 ارب ڈالر کے فنڈز نے پورا کیا، جس میں 41.6 ارب ڈالر سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے تھے۔ اس سال اشیاء کی برآمدات میں کمی جبکہ امپورٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ برآمدات کی بدولت ادائیگیوں کے توازن میں آنے والی کوئی بہتری نہیں تھی بلکہ یہ ترسیلاتِ زر کے سرمائے سے امپورٹ کی صلاحیت میں کیا جانے والا اضافہ تھا۔اسٹیٹ بینک اپنے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے انٹربینک مارکیٹ سے مستقل ڈالر خرید رہا ہے۔ پچھلے بحران کے دوران بیرونی ذخائر کے تقریباً ختم ہو جانے کے بعد یہ پالیسی سمجھ میں آتی ہے، لیکن ذخائر کے اس اکٹھا ہونے کو پاکستان کی بیرونی آمدنی کی صلاحیت میں کوئی قدرتی مضبوطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ مرکزی بینک دراصل غیر معمولی ترسیلاتِ زر سے پیدا ہونے والی کیش کی سہولت کو اپنے پاس محفوظ کرکے اسے سرکاری ذخائر میں تبدیل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بنیادیں اب مزید کمزور ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی خطرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہتی ہے یا پھیلتی ہے تو ایسی صورت میں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سب سے فوری خطرہ ہیں۔ پاکستان پٹرولیم کی امپورٹ پر شدید انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کے تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے پاس سے گزرتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں، مال برداری کے کرایوں یا انشورنس کے اخراجات میں کوئی بھی مسلسل اضافہ براہِ راست امپورٹ بل، ملکی مہنگائی اور توانائی پر حکومتی اخراجات کو بڑھا دے گا۔ تاہم خطرات صرف تیل تک محدود نہیں ہیں۔پاکستان بیرونِ ملک مقیم اپنے کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔ یہ آمدنی تین سال پہلے کے تقریباً 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 41.6 ارب ڈالر ہو چکی ہے، یعنی 14 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہواہے۔ اسی عرصے کے دوران ڈالر کی شکل میں اشیاء کی برآمدات جمود کا شکار رہیں اور معیشت کے حجم کے لحاظ سے ان میں کمی آئی۔پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 54 فیصد حصہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آتا ہے۔ مالی سال 2026ء کے دوران سعودی عرب نے تقریباً 9.8 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات نے 8.8 ارب ڈالر اور دیگر خلیجی معیشتوں نے 3.9 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔ سعودی عرب کو نکال کر بھی سالانہ تقریباً 12.7 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر ان خلیجی ممالک سے آتی ہیں جو علاقائی تجارت، ہوا بازی، سیاحت، تعمیرات اور غیر ملکی ملازمتوں کے شعبے میں کسی بھی ممکنہ خرابی کی زد میں آ سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ تیل کی بلند قیمتیں خود بخود ترسیلاتِ زر کو کم کر دیتی ہیں۔ ماضی میں تیل کی اچھی آمدنی سے خلیجی ممالک میں روزگار، سرکاری اخراجات اور ترسیلاتِ زر کو سہارا ملتا رہا ہے لیکن موجودہ خطرہ مختلف ہے۔ ایک علاقائی تنازع جو تجارتی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ کے رابطوں، مالیاتی ذرائع یا غیر ملکی لیبر مارکیٹ کو متاثر کرے وہ تیل کی زیادہ قیمتوں سے ہونے والے فائدے کو دبا سکتا ہے۔اصل کمزوری ایک ہی جگہ پر انحصار میں ہے۔ پاکستان ملکی تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے چند غیر ملکی معیشتوں پر انحصار کر رہا ہے۔ غیر سعودی خلیجی ممالک کی ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد کمی بھی بیرونی اکاؤنٹ سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کم کر دے گی اور پاکستان کے پاس اس کی جگہ لینے کے لیے برآمدات کا کوئی متبادل انجن تیار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کا طویل بحران پاکستان کی بڑی برآمدی مارکیٹوں میں ڈیمانڈ کو بھی کمزور کر دے گا۔ ایندھن کی زیادہ قیمتیں یورپ اور امریکہ میں سود کی شرح کم کرنے کے عمل کو مشکل بنا دیں گی، جس سے وہاں کے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی اور امپورٹڈ ٹیکسٹائل، ملبوسات اور تیار شدہ اشیاء کی طلب کم ہو جائے گی۔ یوں پاکستان کو ایک ہی وقت میں زیادہ امپورٹ بل، کم ترسیلاتِ زر اور برآمدات کی کم طلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی ایک جھٹکے کے بجائے یہ تمام عوامل کا ایک ساتھ جمع ہو جانا موجودہ صورتحال کو خطرناک بناتا ہے۔تاہم داخلی معاشی پالیسی بالکل غلط سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کے بار بار دعووں کے باوجود پاکستان نے برآمدات کے شعبے کو بتدریج غیر پرکشش بنا دیا ہے۔ اشیاء کی برآمدات مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کے تقریباً 8.5 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026ء میں تقریباً 6.8 فیصد رہ گئی ہیں۔ برآمد کنندگان کو اب نارمل کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس اور ماضی کی کئی مراعات کی واپسی کا سامنا ہے، جبکہ وہ توانائی کے بھاری اخراجات، مہنگے قرضوں، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور ناقابلِ بھروسہ انفرااسٹرکچر کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ایکسچینج ریٹ (شرحِ مبادلہ) کی پالیسی بھی حد سے زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا جاری کردہ ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) جون میں تقریباً 106.4 تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کئی برسوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔ 100 سے اوپر آر ای ای آر کا ہونا خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ روپیہ بنیادی طور پر حد سے زیادہ مہنگا ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔برآمدات بڑھانے کی حکمتِ عملی کے ساتھ اس سمت کا میل بیٹھنا مشکل ہے، خاص طور پر جب برآمد کنندگان پہلے ہی کم منافع اور بڑھتے ہوئے ملکی اخراجات کا سامنا کر رہے ہوں۔ پاکستان برآمدات پر مبنی معیشت کے نتائج تو چاہتا ہے لیکن ان قیمتوں، مراعات یا پالیسی کے ڈسپلن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو ایسی معیشت بنانے کے لیے درکار ہیں۔اس کے برعکس انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور بزنس سروسز کے شعبے کی صورتحال کافی واضح ہے۔ ان سرگرمیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ترجیحی ٹیکس، آسان ادائیگی کے انتظامات اور نرم ریگولیٹری ڈھانچہ ہے۔ جہاں مراعات برآمدی ترقی کے موافق ہوتی ہیں وہاں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمدنی مثبت ردِعمل دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ حجم کا ہے۔ خدمات (سروسز) کی برآمدات مالی سال 2026ء میں بڑھ کر تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن یہ اشیاء کی تجارت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے اب بھی ناکافی ہیں۔ پاکستان صرف سافٹ ویئر کی برآمدات کے ذریعے 33 ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ پورا نہیں کر سکتا، خصوصاً اس وقت جب زراعت، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کی مسابقت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو۔امپورٹ میں ہونے والی بحالی کی نوعیت بھی اتنی ہی تشویشناک ہے۔ غیر تیل امپورٹ بحران کے بعد کی نچلی سطح سے تیزی سے اوپر آئی ہے اور اب اپنی پرانی بلندی کے قریب پہنچ رہی ہے، حالانکہ معاشی ترقی کی شرح اب بھی 4 فیصد سے کم ہے۔اس بحالی کا کم از کم ایک بڑا حصہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے عام استعمال کی اشیاء پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ گاڑیوں کے اسیمبلنگ پارٹس کی امپورٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے حالانکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری اب بھی اپنی پرانی بلندی سے کم ہے، جو مہنگی گاڑیوں اور امپورٹڈ سامان کی طرف رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح کے رجحانات اسمارٹ فونز اور دیگر صارفین کی اشیاء میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ملکی پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں استعمال کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ وہ صورتحال ہے جس کا پاکستان کو ماضی کے بیرونی شعبے کے بحرانوں سے پہلے بار بار سامنا کرنا پڑا ہے۔اگر بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو پالیسی ساز ایک بار پھر نام نہاد غیر ضروری امپورٹ پر انتظامی پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ پاکستان یہ تجربہ پہلے بھی کر چکا ہے۔ یہ صنعتی پیداوار کو دباتا ہے، اشیاء کی قلت پیدا کرتا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور برآمدی آمدنی کی بنیادی کمی کو حل کیے بغیر عارضی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ کو تو قابو کر لیتا ہے لیکن مستقل حل فراہم نہیں کرتا۔طویل مدتی بنیادی عوامل بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہیں۔ میکرو اکنامک استحکام کی سرخیوں کے باوجود سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر کمزور ہے۔ مالی سال 2026ء میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) گر کر تقریباً 1.6 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ ملکی بچت ملک کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ مائننگ (کان کنی) کے شعبے میں مواقع کا بہت چرچا کیا گیا لیکن وہ اب بھی بڑے پیمانے پر سرمائے کی آمد میں تبدیل نہیں ہو سکا، جس کی ایک وجہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال ہے جو منصوبوں کی لاگت بڑھاتی اور سرمایہ کاروں کو دور رکھتی ہے۔یورپی مارکیٹوں تک پاکستان کی رسائی کے حوالے سے خود پالیسی سازوں کا پیدا کردہ ایک خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کے حالیہ جائزے میں ایک بار پھر شہری آزادیوں، میڈیا کی آزادی، جبری گمشدگیوں اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستان کی جی ایس پی پلس مراعات کو فوری طور پر ختم کیے جانے کا خطرہ تو نہیں، لیکن یہ قریبی جانچ پڑتال اس معیشت کے لیے ایک اور غیر ضروری خطرہ پیدا کرتی ہے جس کی برآمدات پہلے ہی یورپی مارکیٹ میں حد سے زیادہ مرکوز ہے۔چنانچہ پاکستان کے حالیہ بیرونی استحکام کو ایک مستقل تبدیلی کے بجائے صرف چند دن کی مہلت سمجھا جانا چاہیے۔ حالیہ اعداد و شمار اس فرق کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء اور 2026ء کو ملا کر دیکھا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہا۔ پاکستان نے کوئی بڑا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جمع نہیں کیا۔ اس نے ایک بڑے تجارتی خسارے کے دوران ترسیلاتِ زر اور سرکاری ذخائر جمع کیے۔یہ ذخائر قیمتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور متوازن کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی معیشت کی بنیادی مضبوطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اشیاء کی مضبوط برآمدات، زیادہ سرمایہ کاری اور ایک مسابقتی پیداواری معیشت کے بغیر پاکستان اب بھی تارکینِ وطن کارکنوں، مرکزی بینک کی مداخلت اور سازگار بیرونی حالات پر منحصر رہے گا۔ اگر عالمی جغرافیائی ماحول معمولی سا بھی ناموافق ہوا تو یہ ظاہری استحکام سرخیاں بنانے والے اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے غائب ہو سکتا ہے۔لہٰذا مالی سال 2027ء کے لیے معیشت کا اصل چیلنج صرف یہ نہیں ہے کہ کیا پاکستان 4 فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کر سکتا ہے بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ملک غیر ملکی زرِ مبادلہ کو دوبارہ ختم کیے بغیر اس ترقی کو برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مالی سال 2026ء کا اختتام بظاہر مضبوط بیرونی معاشی اشاریوں کے ساتھ کیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محض 139 ملین ڈالر رہا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ استحکام ابھی نازک بنیادوں پر قائم ہے اور بیرونی مالی معاونت، قرضوں کی ادائیگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ دوبارہ بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کا یہ ظاہری بیرونی سکون برآمدات میں کسی پائیدار اضافے یا پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مسابقت میں کسی نمایاں بہتری پر مبنی نہیں ہے۔ یہ تمام تر دارومدار بیرونِ ملک سے آنے والی ریکارڈ ترسیلاتِ زر (ریمنٹس) اور انٹربینک مارکیٹ سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی مسلسل خریداری پر ہے۔ اسی لیے اندرونی حساب کتاب اس قدر شاندار نہیں ہے جتنا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی سرخیوں سے دکھائی دیتا ہے۔مالی سال 2026ء میں، پاکستان کو اشیاء اور خدمات کی تجارت میں تقریباً 35.5 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس میں پرائمری انکم کا خسارہ بھی شامل کیا گیا (جو کہ زیادہ تر سود اور منافع کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے) تو یہ خسارہ بڑھ کر تقریباً 44 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس بڑے فرق کو سیکنڈری انکم کی صورت میں آنے والے 43.8 ارب ڈالر کے فنڈز نے پورا کیا، جس میں 41.6 ارب ڈالر سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے تھے۔ اس سال اشیاء کی برآمدات میں کمی جبکہ امپورٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ برآمدات کی بدولت ادائیگیوں کے توازن میں آنے والی کوئی بہتری نہیں تھی بلکہ یہ ترسیلاتِ زر کے سرمائے سے امپورٹ کی صلاحیت میں کیا جانے والا اضافہ تھا۔اسٹیٹ بینک اپنے ذخائر کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے انٹربینک مارکیٹ سے مستقل ڈالر خرید رہا ہے۔ پچھلے بحران کے دوران بیرونی ذخائر کے تقریباً ختم ہو جانے کے بعد یہ پالیسی سمجھ میں آتی ہے، لیکن ذخائر کے اس اکٹھا ہونے کو پاکستان کی بیرونی آمدنی کی صلاحیت میں کوئی قدرتی مضبوطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ مرکزی بینک دراصل غیر معمولی ترسیلاتِ زر سے پیدا ہونے والی کیش کی سہولت کو اپنے پاس محفوظ کرکے اسے سرکاری ذخائر میں تبدیل کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ بنیادیں اب مزید کمزور ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی خطرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار رہتی ہے یا پھیلتی ہے تو ایسی صورت میں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سب سے فوری خطرہ ہیں۔ پاکستان پٹرولیم کی امپورٹ پر شدید انحصار کرتا ہے، جبکہ اس کے تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے پاس سے گزرتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں، مال برداری کے کرایوں یا انشورنس کے اخراجات میں کوئی بھی مسلسل اضافہ براہِ راست امپورٹ بل، ملکی مہنگائی اور توانائی پر حکومتی اخراجات کو بڑھا دے گا۔ تاہم خطرات صرف تیل تک محدود نہیں ہیں۔پاکستان بیرونِ ملک مقیم اپنے کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔ یہ آمدنی تین سال پہلے کے تقریباً 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 41.6 ارب ڈالر ہو چکی ہے، یعنی 14 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہواہے۔ اسی عرصے کے دوران ڈالر کی شکل میں اشیاء کی برآمدات جمود کا شکار رہیں اور معیشت کے حجم کے لحاظ سے ان میں کمی آئی۔پاکستان کی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 54 فیصد حصہ خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آتا ہے۔ مالی سال 2026ء کے دوران سعودی عرب نے تقریباً 9.8 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات نے 8.8 ارب ڈالر اور دیگر خلیجی معیشتوں نے 3.9 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔ سعودی عرب کو نکال کر بھی سالانہ تقریباً 12.7 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر ان خلیجی ممالک سے آتی ہیں جو علاقائی تجارت، ہوا بازی، سیاحت، تعمیرات اور غیر ملکی ملازمتوں کے شعبے میں کسی بھی ممکنہ خرابی کی زد میں آ سکتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ تیل کی بلند قیمتیں خود بخود ترسیلاتِ زر کو کم کر دیتی ہیں۔ ماضی میں تیل کی اچھی آمدنی سے خلیجی ممالک میں روزگار، سرکاری اخراجات اور ترسیلاتِ زر کو سہارا ملتا رہا ہے لیکن موجودہ خطرہ مختلف ہے۔ ایک علاقائی تنازع جو تجارتی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ کے رابطوں، مالیاتی ذرائع یا غیر ملکی لیبر مارکیٹ کو متاثر کرے وہ تیل کی زیادہ قیمتوں سے ہونے والے فائدے کو دبا سکتا ہے۔اصل کمزوری ایک ہی جگہ پر انحصار میں ہے۔ پاکستان ملکی تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے چند غیر ملکی معیشتوں پر انحصار کر رہا ہے۔ غیر سعودی خلیجی ممالک کی ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد کمی بھی بیرونی اکاؤنٹ سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کم کر دے گی اور پاکستان کے پاس اس کی جگہ لینے کے لیے برآمدات کا کوئی متبادل انجن تیار نہیں ہے۔</p>
<p>توانائی کا طویل بحران پاکستان کی بڑی برآمدی مارکیٹوں میں ڈیمانڈ کو بھی کمزور کر دے گا۔ ایندھن کی زیادہ قیمتیں یورپ اور امریکہ میں سود کی شرح کم کرنے کے عمل کو مشکل بنا دیں گی، جس سے وہاں کے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی اور امپورٹڈ ٹیکسٹائل، ملبوسات اور تیار شدہ اشیاء کی طلب کم ہو جائے گی۔ یوں پاکستان کو ایک ہی وقت میں زیادہ امپورٹ بل، کم ترسیلاتِ زر اور برآمدات کی کم طلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی ایک جھٹکے کے بجائے یہ تمام عوامل کا ایک ساتھ جمع ہو جانا موجودہ صورتحال کو خطرناک بناتا ہے۔تاہم داخلی معاشی پالیسی بالکل غلط سمت میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کے بار بار دعووں کے باوجود پاکستان نے برآمدات کے شعبے کو بتدریج غیر پرکشش بنا دیا ہے۔ اشیاء کی برآمدات مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کے تقریباً 8.5 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026ء میں تقریباً 6.8 فیصد رہ گئی ہیں۔ برآمد کنندگان کو اب نارمل کارپوریٹ ٹیکس، سپر ٹیکس اور ماضی کی کئی مراعات کی واپسی کا سامنا ہے، جبکہ وہ توانائی کے بھاری اخراجات، مہنگے قرضوں، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور ناقابلِ بھروسہ انفرااسٹرکچر کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ایکسچینج ریٹ (شرحِ مبادلہ) کی پالیسی بھی حد سے زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا جاری کردہ ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) جون میں تقریباً 106.4 تک پہنچ گیا، جو گزشتہ کئی برسوں میں اس کی بلند ترین سطح ہے۔ 100 سے اوپر آر ای ای آر کا ہونا خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ روپیہ بنیادی طور پر حد سے زیادہ مہنگا ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔برآمدات بڑھانے کی حکمتِ عملی کے ساتھ اس سمت کا میل بیٹھنا مشکل ہے، خاص طور پر جب برآمد کنندگان پہلے ہی کم منافع اور بڑھتے ہوئے ملکی اخراجات کا سامنا کر رہے ہوں۔ پاکستان برآمدات پر مبنی معیشت کے نتائج تو چاہتا ہے لیکن ان قیمتوں، مراعات یا پالیسی کے ڈسپلن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو ایسی معیشت بنانے کے لیے درکار ہیں۔اس کے برعکس انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور بزنس سروسز کے شعبے کی صورتحال کافی واضح ہے۔ ان سرگرمیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ترجیحی ٹیکس، آسان ادائیگی کے انتظامات اور نرم ریگولیٹری ڈھانچہ ہے۔ جہاں مراعات برآمدی ترقی کے موافق ہوتی ہیں وہاں غیر ملکی زرِ مبادلہ کی آمدنی مثبت ردِعمل دیتی ہے۔</p>
<p>اصل مسئلہ حجم کا ہے۔ خدمات (سروسز) کی برآمدات مالی سال 2026ء میں بڑھ کر تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن یہ اشیاء کی تجارت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے اب بھی ناکافی ہیں۔ پاکستان صرف سافٹ ویئر کی برآمدات کے ذریعے 33 ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ پورا نہیں کر سکتا، خصوصاً اس وقت جب زراعت، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کی مسابقت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہو۔امپورٹ میں ہونے والی بحالی کی نوعیت بھی اتنی ہی تشویشناک ہے۔ غیر تیل امپورٹ بحران کے بعد کی نچلی سطح سے تیزی سے اوپر آئی ہے اور اب اپنی پرانی بلندی کے قریب پہنچ رہی ہے، حالانکہ معاشی ترقی کی شرح اب بھی 4 فیصد سے کم ہے۔اس بحالی کا کم از کم ایک بڑا حصہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے عام استعمال کی اشیاء پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔ گاڑیوں کے اسیمبلنگ پارٹس کی امپورٹ ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے حالانکہ مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری اب بھی اپنی پرانی بلندی سے کم ہے، جو مہنگی گاڑیوں اور امپورٹڈ سامان کی طرف رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح کے رجحانات اسمارٹ فونز اور دیگر صارفین کی اشیاء میں بھی نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ملکی پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں استعمال کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ وہ صورتحال ہے جس کا پاکستان کو ماضی کے بیرونی شعبے کے بحرانوں سے پہلے بار بار سامنا کرنا پڑا ہے۔اگر بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو پالیسی ساز ایک بار پھر نام نہاد غیر ضروری امپورٹ پر انتظامی پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ پاکستان یہ تجربہ پہلے بھی کر چکا ہے۔ یہ صنعتی پیداوار کو دباتا ہے، اشیاء کی قلت پیدا کرتا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور برآمدی آمدنی کی بنیادی کمی کو حل کیے بغیر عارضی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ کو تو قابو کر لیتا ہے لیکن مستقل حل فراہم نہیں کرتا۔طویل مدتی بنیادی عوامل بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہیں۔ میکرو اکنامک استحکام کی سرخیوں کے باوجود سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر کمزور ہے۔ مالی سال 2026ء میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) گر کر تقریباً 1.6 ارب ڈالر رہ گئی، جبکہ ملکی بچت ملک کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ مائننگ (کان کنی) کے شعبے میں مواقع کا بہت چرچا کیا گیا لیکن وہ اب بھی بڑے پیمانے پر سرمائے کی آمد میں تبدیل نہیں ہو سکا، جس کی ایک وجہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال ہے جو منصوبوں کی لاگت بڑھاتی اور سرمایہ کاروں کو دور رکھتی ہے۔یورپی مارکیٹوں تک پاکستان کی رسائی کے حوالے سے خود پالیسی سازوں کا پیدا کردہ ایک خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کے حالیہ جائزے میں ایک بار پھر شہری آزادیوں، میڈیا کی آزادی، جبری گمشدگیوں اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستان کی جی ایس پی پلس مراعات کو فوری طور پر ختم کیے جانے کا خطرہ تو نہیں، لیکن یہ قریبی جانچ پڑتال اس معیشت کے لیے ایک اور غیر ضروری خطرہ پیدا کرتی ہے جس کی برآمدات پہلے ہی یورپی مارکیٹ میں حد سے زیادہ مرکوز ہے۔چنانچہ پاکستان کے حالیہ بیرونی استحکام کو ایک مستقل تبدیلی کے بجائے صرف چند دن کی مہلت سمجھا جانا چاہیے۔ حالیہ اعداد و شمار اس فرق کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء اور 2026ء کو ملا کر دیکھا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہا۔ پاکستان نے کوئی بڑا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جمع نہیں کیا۔ اس نے ایک بڑے تجارتی خسارے کے دوران ترسیلاتِ زر اور سرکاری ذخائر جمع کیے۔یہ ذخائر قیمتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ریکارڈ ترسیلاتِ زر اور متوازن کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں لیکن ان میں سے کسی کو بھی معیشت کی بنیادی مضبوطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اشیاء کی مضبوط برآمدات، زیادہ سرمایہ کاری اور ایک مسابقتی پیداواری معیشت کے بغیر پاکستان اب بھی تارکینِ وطن کارکنوں، مرکزی بینک کی مداخلت اور سازگار بیرونی حالات پر منحصر رہے گا۔ اگر عالمی جغرافیائی ماحول معمولی سا بھی ناموافق ہوا تو یہ ظاہری استحکام سرخیاں بنانے والے اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے غائب ہو سکتا ہے۔لہٰذا مالی سال 2027ء کے لیے معیشت کا اصل چیلنج صرف یہ نہیں ہے کہ کیا پاکستان 4 فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کر سکتا ہے بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ملک غیر ملکی زرِ مبادلہ کو دوبارہ ختم کیے بغیر اس ترقی کو برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 20 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509625</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 13:58:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/211354177e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/211354177e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی انقلاب، حقیقی یا مالیاتی سراب؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509009/united-states-artificial-intelligence-trade-wall-street-investments-financial-markets-conviction-paradox</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی منڈیوں میں ایک غیر معمولی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ جتنا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا جا رہا ہے، اتنا ہی سرمایہ کار اس بات پر زیادہ یقین رکھتے نظر آتے ہیں کہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ ایک عجیب کیفیت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار عام طور پر غیر یقینی صورتحال احتیاط کو جنم دیتی ہے۔ لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ یہی غیر یقینی صورتحال یقین پیدا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا یہی سب سے بڑا انتباہ نہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے گرد جاری بحث اب تیزی سے دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ پُرامید حلقے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اے آئی بجلی، انٹرنیٹ یا اسمارٹ فون جیسا ایک انقلابی ٹیکنالوجی انقلاب ہے۔ ان کے مطابق، اس شعبے میں ہونے والی کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بالآخر پیداواریت میں اضافے اور ایسے منافع کی صورت میں سامنے آئے گی جو آج کی غیر معمولی حد تک بلند مارکیٹ ویلیوایشنز کو درست ثابت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کا ماننا ہے کہ سرمایہ کار اے آئی کے وعدوں سے اس قدر مسحور ہو چکے ہیں کہ وہ اب یہ بنیادی سوال ہی نہیں پوچھ رہے کہ کیا ممکنہ منافع واقعی اس بے تحاشا سرمایہ کاری کا جواز فراہم کر سکے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فریق عین اسی وقت پہلے سے زیادہ پُریقین ہوتے جا رہے ہیں، جب دستیاب شواہد پہلے کے مقابلے میں کم واضح اور کم فیصلہ کن ہوتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، کسی کے پاس بھی اے آئی کے لیے کوئی تیار شدہ رہنما کتاب موجود نہیں۔ تاریخ میں ایسا کوئی ماڈل موجود نہیں جو یہ بتا سکے کہ کاروباری ادارے اس ٹیکنالوجی کو کتنی تیزی سے اپنائیں گے، مہنگے اور نجی اے آئی ماڈلز کب تک اپنی قیمت مقرر کرنے کی طاقت برقرار رکھ سکیں گے، اوپن سورس متبادل کتنے سستے ہو جائیں گے، یا آخرکار اس دوڑ کے حقیقی فاتح کون ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود جیسے جیسے نامعلوم عوامل بڑھ رہے ہیں، منڈیاں زیادہ محتاط ہونے کے بجائے اپنے اپنے مؤقف پر مزید مضبوطی سے قائم ہوتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ غیر یقینی صورتحال یقین کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کر دے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اس کا جواب ان اعداد و شمار کی غیر معمولی وسعت میں پوشیدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی کارپوریٹ کمپنیاں آج مصنوعی ذہانت پر اتنی بڑی رقوم خرچ کر رہی ہیں جن کا تصور چند سال پہلے تک بھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ڈیٹا سینٹرز حیران کن رفتار سے وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیاں بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔ ہر سہ ماہی مالی نتائج کے ساتھ سرمایہ جاتی اخراجات کے مزید بڑے بجٹوں کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایک اور طرح کے اعداد و شمار بھی اتنی ہی توجہ کے مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ اب ایسی کمپنیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جن کے اپنے فری کیش فلو پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتی جا رہی ہیں، جبکہ اس توسیعی منصوبے کے لیے وہ پہلے سے کہیں زیادہ قرض اور ایکویٹی مارکیٹوں پر انحصار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر فوری مالی فائدے کا بڑا حصہ بظاہر کسی اور کو مل رہا ہے، خاص طور پر ان سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کو جو اس انقلاب کو طاقت دینے والی چپس فراہم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا اس مساوات کے دونوں پہلو غیر معینہ مدت تک اسی طرح ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید چل سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی انقلابی ٹیکنالوجی نے وسیع معاشی فوائد دینے سے پہلے بھاری ابتدائی سرمایہ کاری کا تقاضا کیا تھا۔ ریلوے نے بھی کیا، بجلی نے بھی، اور یقیناً انٹرنیٹ نے بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کے انقلابات اور قیاس آرائی پر مبنی مالیاتی ببل اکثر ایک ساتھ جنم لیتے رہے ہیں۔ ایک کا وجود لازماً دوسرے کی نفی نہیں کرتا۔ انٹرنیٹ نے عالمی معیشت کو بدل کر رکھ دیا، لیکن اسی دوران ڈاٹ کام ببل نے اربوں ڈالر کی دولت بھی تباہ کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی جدت اور مالیاتی حد سے بڑھی ہوئی سرمایہ کاری کبھی بھی ایک دوسرے کی ضد نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کی مارکیٹ خاص طور پر دلچسپ ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج امریکا میں اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری نئی کارپوریٹ سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کا ریکارڈ حد تک بڑا حصہ بن چکی ہے، جبکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار نمایاں طور پر سست پڑ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں کارپوریٹ امریکا ایک ہی ٹیکنالوجی، ایک ہی کہانی اور بالآخر مستقبل سے متعلق ایک ہی مفروضے پر اپنی شرط مسلسل بڑی کرتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ اعتماد ہے، یا پھر سرمایہ کاری کے غیر معمولی ارتکاز کا خطرہ؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیاں اب یہی سوال اپنی ہی زبان میں پوچھنا شروع کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتار چڑھاؤ کا دور واپس آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کہانی کے مرکز میں موجود دنیا کی چند بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی اور شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص، جو صرف چند ماہ قبل تک تقریباً ناقابلِ تنزلی محسوس ہوتے تھے، اچانک سرمایہ کاروں کو یہ یاد دلا رہے ہیں کہ مومینٹم صرف اوپر کی طرف نہیں بلکہ دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کا چِپس پر مبنی کوسپی انڈیکس عالمی مالیاتی بحران کے بعد اپنی سب سے بڑی گراوٹوں میں سے بعض کا سامنا کر چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں تیز کمی رہی۔ انفرادی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں بھی اس وقت اتنی زیادہ غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو اس تیزی کے ابتدائی مراحل میں غیر معمولی تصور کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہ اتار چڑھاؤ ہمیں وہ بات بتانے کی کوشش کر رہا ہے، جسے یقین سننے سے انکار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر مالیاتی منڈیاں اس وقت زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہیں جب سرمایہ کار کسی اثاثے کی اصل قدر پر متفق نہ ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اختلاف کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہر مالیاتی نتائج کی رپورٹ ، ہر سرمایہ جاتی اخراجات کا اعلان، اور اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی طلب میں آنے والی ہر تبدیلی کو وہی فریق فیصلہ کن ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو پہلے ہی اس مؤقف پر زیادہ مضبوطی سے قائم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا مالیاتی منڈیاں حقیقت دریافت کرنے سے زیادہ اپنے پہلے سے قائم یقین کا دفاع کرنے میں دلچسپی لینے لگی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی اصل تضاد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جتنا غیر یقینی پن بڑھتا جا رہا ہے، دونوں بیانیے اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہی رجحان جاری رہا تو اے آئی سے وابستہ سرمایہ کاری میں اتار چڑھاؤ ایک عارضی استثنا نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل خصوصیت بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورت میں قیمتوں میں بڑے بڑے اتار چڑھاؤ خوف و ہراس کی علامت نہیں ہوں گے بلکہ وہ ذریعہ بن جائیں گے، جس کے ذریعے مالیاتی منڈیاں بتدریج یہ طے کریں گی کہ ان کمپنیوں کی حقیقی قدر آخر ہے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے شاید یہ پوری بحث بظاہر بہت دور کی معلوم ہوتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نہ جدید سیمی کنڈکٹر تیار کرتا ہے اور نہ ہی دنیا کے بڑے ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ عالمی مالیاتی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں سے گہرے طور پر متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دنیا کی سب سے زیادہ بھیڑ والی سرمایہ کاری میں اچانک بڑی اصلاح آتی ہے تو اس کے اثرات صرف سلیکان ویلی تک محدود نہیں رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتحال عالمی مالیاتی لیکویڈیٹی کو محدود کر سکتی ہے، امریکی ڈالر کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، خطرے کے پریمیم میں اضافہ کر سکتی ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوںکی جانب سرمایہ کے بہاؤ کو کم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بتاتی ہے کہ جب عالمی سرمایہ کار خوفزدہ ہوتے ہیں تو وہ مختلف ابھرتی ہوئی معیشتوں میں زیادہ فرق نہیں کرتے بلکہ عمومی طور پر ان سب میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکل اسی لیے وال اسٹریٹ پر ہونے والی پیش رفت اسلام آباد کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کو بدلے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غالب امکان یہی ہے کہ وہ ضرور بدلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ مشکل سوال یہ ہے کہ کیا مالیاتی منڈیاں مستقبل کی کئی دہائیوں کی کامیابی کو پہلے ہی آج کی قیمتوں میں شامل کر چکی ہیں، جبکہ اس ٹیکنالوجی کی بنیادی معاشی حقیقتیں اب بھی ضدی انداز میں غیر یقینی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کہ پُرامید لوگ مکمل طور پر درست ثابت ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کہ آج کی یہ سرمایہ کاری کی لہر پیداواریت میں ایسا انقلاب لے آئے جو ماضی کی ہر ٹیکنالوجی انقلاب سے بھی کہیں بڑا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کہ آج کی یہ بلند قیمتیں مستقبل میں حیرت انگیز طور پر سستی محسوس ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یا پھر ممکن ہے کہ مستقبل کے مورخین یہ نتیجہ اخذ کریں کہ مالیاتی منڈیوں نے اگلے عظیم ٹیکنالوجی انقلاب کی درست نشاندہی تو کر لی تھی، لیکن اس سے وابستہ تقریباً ہر اثاثے کی قیمت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ واقعی پہلی بار ہوگا کہ سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں درست ثابت ہوں، مگر قیمت کے تعین میں غلطی کر بیٹھیں؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 16 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالیاتی منڈیوں میں ایک غیر معمولی صورتحال جنم لے رہی ہے۔ جتنا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا جا رہا ہے، اتنا ہی سرمایہ کار اس بات پر زیادہ یقین رکھتے نظر آتے ہیں کہ وہ پہلے ہی جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ ایک عجیب کیفیت ہے۔</strong></p>
<p>آخرکار عام طور پر غیر یقینی صورتحال احتیاط کو جنم دیتی ہے۔ لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ یہی غیر یقینی صورتحال یقین پیدا کر رہی ہے۔</p>
<p><strong>کیا یہی سب سے بڑا انتباہ نہیں؟</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت کے گرد جاری بحث اب تیزی سے دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ پُرامید حلقے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اے آئی بجلی، انٹرنیٹ یا اسمارٹ فون جیسا ایک انقلابی ٹیکنالوجی انقلاب ہے۔ ان کے مطابق، اس شعبے میں ہونے والی کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بالآخر پیداواریت میں اضافے اور ایسے منافع کی صورت میں سامنے آئے گی جو آج کی غیر معمولی حد تک بلند مارکیٹ ویلیوایشنز کو درست ثابت کرے گی۔</p>
<p>دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کا ماننا ہے کہ سرمایہ کار اے آئی کے وعدوں سے اس قدر مسحور ہو چکے ہیں کہ وہ اب یہ بنیادی سوال ہی نہیں پوچھ رہے کہ کیا ممکنہ منافع واقعی اس بے تحاشا سرمایہ کاری کا جواز فراہم کر سکے گا؟</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں فریق عین اسی وقت پہلے سے زیادہ پُریقین ہوتے جا رہے ہیں، جب دستیاب شواہد پہلے کے مقابلے میں کم واضح اور کم فیصلہ کن ہوتے جا رہے ہیں۔</p>
<p>آخرکار، کسی کے پاس بھی اے آئی کے لیے کوئی تیار شدہ رہنما کتاب موجود نہیں۔ تاریخ میں ایسا کوئی ماڈل موجود نہیں جو یہ بتا سکے کہ کاروباری ادارے اس ٹیکنالوجی کو کتنی تیزی سے اپنائیں گے، مہنگے اور نجی اے آئی ماڈلز کب تک اپنی قیمت مقرر کرنے کی طاقت برقرار رکھ سکیں گے، اوپن سورس متبادل کتنے سستے ہو جائیں گے، یا آخرکار اس دوڑ کے حقیقی فاتح کون ہوں گے۔</p>
<p>اس کے باوجود جیسے جیسے نامعلوم عوامل بڑھ رہے ہیں، منڈیاں زیادہ محتاط ہونے کے بجائے اپنے اپنے مؤقف پر مزید مضبوطی سے قائم ہوتی جا رہی ہیں۔</p>
<p>آخر ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ غیر یقینی صورتحال یقین کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کر دے؟</p>
<p>شاید اس کا جواب ان اعداد و شمار کی غیر معمولی وسعت میں پوشیدہ ہے۔</p>
<p>امریکا کی کارپوریٹ کمپنیاں آج مصنوعی ذہانت پر اتنی بڑی رقوم خرچ کر رہی ہیں جن کا تصور چند سال پہلے تک بھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ ڈیٹا سینٹرز حیران کن رفتار سے وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیاں بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔ ہر سہ ماہی مالی نتائج کے ساتھ سرمایہ جاتی اخراجات کے مزید بڑے بجٹوں کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>لیکن ایک اور طرح کے اعداد و شمار بھی اتنی ہی توجہ کے مستحق ہیں۔</p>
<p>اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ اب ایسی کمپنیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جن کے اپنے فری کیش فلو پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتی جا رہی ہیں، جبکہ اس توسیعی منصوبے کے لیے وہ پہلے سے کہیں زیادہ قرض اور ایکویٹی مارکیٹوں پر انحصار کر رہی ہیں۔</p>
<p>ادھر فوری مالی فائدے کا بڑا حصہ بظاہر کسی اور کو مل رہا ہے، خاص طور پر ان سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کو جو اس انقلاب کو طاقت دینے والی چپس فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p>کیا اس مساوات کے دونوں پہلو غیر معینہ مدت تک اسی طرح ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟</p>
<p>شاید چل سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی انقلابی ٹیکنالوجی نے وسیع معاشی فوائد دینے سے پہلے بھاری ابتدائی سرمایہ کاری کا تقاضا کیا تھا۔ ریلوے نے بھی کیا، بجلی نے بھی، اور یقیناً انٹرنیٹ نے بھی۔</p>
<p>تاہم تاریخ ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کے انقلابات اور قیاس آرائی پر مبنی مالیاتی ببل اکثر ایک ساتھ جنم لیتے رہے ہیں۔ ایک کا وجود لازماً دوسرے کی نفی نہیں کرتا۔ انٹرنیٹ نے عالمی معیشت کو بدل کر رکھ دیا، لیکن اسی دوران ڈاٹ کام ببل نے اربوں ڈالر کی دولت بھی تباہ کر دی۔</p>
<p>حقیقی جدت اور مالیاتی حد سے بڑھی ہوئی سرمایہ کاری کبھی بھی ایک دوسرے کی ضد نہیں رہے۔</p>
<p>اور یہی وہ مقام ہے جہاں آج کی مارکیٹ خاص طور پر دلچسپ ہو جاتی ہے۔</p>
<p>آج امریکا میں اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری نئی کارپوریٹ سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کا ریکارڈ حد تک بڑا حصہ بن چکی ہے، جبکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی رفتار نمایاں طور پر سست پڑ گئی ہے۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں کارپوریٹ امریکا ایک ہی ٹیکنالوجی، ایک ہی کہانی اور بالآخر مستقبل سے متعلق ایک ہی مفروضے پر اپنی شرط مسلسل بڑی کرتا جا رہا ہے۔</p>
<p>کیا یہ اعتماد ہے، یا پھر سرمایہ کاری کے غیر معمولی ارتکاز کا خطرہ؟</p>
<p>مالیاتی منڈیاں اب یہی سوال اپنی ہی زبان میں پوچھنا شروع کر رہی ہیں۔</p>
<p>اتار چڑھاؤ کا دور واپس آ چکا ہے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کہانی کے مرکز میں موجود دنیا کی چند بڑی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی اور شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص، جو صرف چند ماہ قبل تک تقریباً ناقابلِ تنزلی محسوس ہوتے تھے، اچانک سرمایہ کاروں کو یہ یاد دلا رہے ہیں کہ مومینٹم صرف اوپر کی طرف نہیں بلکہ دونوں سمتوں میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کا چِپس پر مبنی کوسپی انڈیکس عالمی مالیاتی بحران کے بعد اپنی سب سے بڑی گراوٹوں میں سے بعض کا سامنا کر چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں تیز کمی رہی۔ انفرادی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں بھی اس وقت اتنی زیادہ غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو اس تیزی کے ابتدائی مراحل میں غیر معمولی تصور کیا جاتا۔</p>
<p>شاید یہ اتار چڑھاؤ ہمیں وہ بات بتانے کی کوشش کر رہا ہے، جسے یقین سننے سے انکار کر رہا ہے۔</p>
<p>عام طور پر مالیاتی منڈیاں اس وقت زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہیں جب سرمایہ کار کسی اثاثے کی اصل قدر پر متفق نہ ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اختلاف کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>اب ہر مالیاتی نتائج کی رپورٹ ، ہر سرمایہ جاتی اخراجات کا اعلان، اور اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی طلب میں آنے والی ہر تبدیلی کو وہی فریق فیصلہ کن ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو پہلے ہی اس مؤقف پر زیادہ مضبوطی سے قائم ہوتا ہے۔</p>
<p>کیا مالیاتی منڈیاں حقیقت دریافت کرنے سے زیادہ اپنے پہلے سے قائم یقین کا دفاع کرنے میں دلچسپی لینے لگی ہیں؟</p>
<p>شاید یہی اصل تضاد ہے۔</p>
<p>جتنا غیر یقینی پن بڑھتا جا رہا ہے، دونوں بیانیے اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p>اگر یہی رجحان جاری رہا تو اے آئی سے وابستہ سرمایہ کاری میں اتار چڑھاؤ ایک عارضی استثنا نہیں رہے گا بلکہ ایک مستقل خصوصیت بن جائے گا۔</p>
<p>اس صورت میں قیمتوں میں بڑے بڑے اتار چڑھاؤ خوف و ہراس کی علامت نہیں ہوں گے بلکہ وہ ذریعہ بن جائیں گے، جس کے ذریعے مالیاتی منڈیاں بتدریج یہ طے کریں گی کہ ان کمپنیوں کی حقیقی قدر آخر ہے کیا۔</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے شاید یہ پوری بحث بظاہر بہت دور کی معلوم ہوتی ہو۔</p>
<p>لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نہ جدید سیمی کنڈکٹر تیار کرتا ہے اور نہ ہی دنیا کے بڑے ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ عالمی مالیاتی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں سے گہرے طور پر متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر دنیا کی سب سے زیادہ بھیڑ والی سرمایہ کاری میں اچانک بڑی اصلاح آتی ہے تو اس کے اثرات صرف سلیکان ویلی تک محدود نہیں رہیں گے۔</p>
<p>ایسی صورتحال عالمی مالیاتی لیکویڈیٹی کو محدود کر سکتی ہے، امریکی ڈالر کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، خطرے کے پریمیم میں اضافہ کر سکتی ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوںکی جانب سرمایہ کے بہاؤ کو کم کر سکتی ہے۔</p>
<p>تاریخ بتاتی ہے کہ جب عالمی سرمایہ کار خوفزدہ ہوتے ہیں تو وہ مختلف ابھرتی ہوئی معیشتوں میں زیادہ فرق نہیں کرتے بلکہ عمومی طور پر ان سب میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔</p>
<p>بالکل اسی لیے وال اسٹریٹ پر ہونے والی پیش رفت اسلام آباد کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کو بدلے گی یا نہیں۔</p>
<p>غالب امکان یہی ہے کہ وہ ضرور بدلے گی۔</p>
<p>زیادہ مشکل سوال یہ ہے کہ کیا مالیاتی منڈیاں مستقبل کی کئی دہائیوں کی کامیابی کو پہلے ہی آج کی قیمتوں میں شامل کر چکی ہیں، جبکہ اس ٹیکنالوجی کی بنیادی معاشی حقیقتیں اب بھی ضدی انداز میں غیر یقینی ہیں؟</p>
<p>ممکن ہے کہ پُرامید لوگ مکمل طور پر درست ثابت ہوں۔</p>
<p>ممکن ہے کہ آج کی یہ سرمایہ کاری کی لہر پیداواریت میں ایسا انقلاب لے آئے جو ماضی کی ہر ٹیکنالوجی انقلاب سے بھی کہیں بڑا ہو۔</p>
<p>ممکن ہے کہ آج کی یہ بلند قیمتیں مستقبل میں حیرت انگیز طور پر سستی محسوس ہوں۔</p>
<p>یا پھر ممکن ہے کہ مستقبل کے مورخین یہ نتیجہ اخذ کریں کہ مالیاتی منڈیوں نے اگلے عظیم ٹیکنالوجی انقلاب کی درست نشاندہی تو کر لی تھی، لیکن اس سے وابستہ تقریباً ہر اثاثے کی قیمت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔</p>
<p>کیا یہ واقعی پہلی بار ہوگا کہ سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں درست ثابت ہوں، مگر قیمت کے تعین میں غلطی کر بیٹھیں؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 16 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509009</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 15:54:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/161549162dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/161549162dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیرونی مالی معاونت کے بلند اہداف، حصول کتنا ممکن؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508718/world-bank-adb-imf-asian-development-bank-ministry-of-economic-affairs-imf-and-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بجٹ برائے 27-2026 میں مجموعی بیرونی امداد (غیر ملکی فنڈز) کی مد میں 23.37 ارب امریکی ڈالر کی آمد کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ کی مختصر دستاویز میں یہ رقم پاکستانی روپے میں 6 ہزار 780 ارب روپے&lt;/strong&gt; &lt;strong&gt;بتائی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تخمینے کے لیے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا متوقع تبادلہ نرخ 290 روپے فی ڈالر رکھا گیا ہے، جس سے بیرونی امداد کا یہ تخمینہ 23.37 ارب ڈالر بنتا ہے۔ان بیرونی فنڈز میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے جمع کرائے گئے ٹائم ڈپازٹس کا تسلسل بھی شامل ہے، جو 27-2026 میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر بنتے ہیں، جن میں سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں دیئے گئے مزید 3 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ چنانچہ ان ٹائم ڈپازٹس (معیادی امانتوں) کو نکال کر 27-2026 میں بیرونی امداد کی آمد کا کل ہدف 11.37 ارب ڈالر رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تخمینے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ 27-2026 میں بیرونی فنڈز کی آمد میں ایک بہت بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ معیادی امانتوں کے بغیر 26 مئی تک 26-2025 کے لیے بیرونی فنڈز کی آمد کا ترمیمی تخمینہ 9.07 ارب ڈالر رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگلے مالی سال (27-2026) کے لیے متوقع 11.37 ارب ڈالر کا ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فنڈز کی آمد میں تقریباً 25 فیصد کی ریکارڈ شرحِ نمو کی توقع رکھی جا رہی ہے۔دوسری طرف 26-2025 کے دوران فنڈز کی آمد میں واضح کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ سال 25-2024 میں معیادی امانتوں کے بغیر کل بیرونی فنڈز 12.14 ارب ڈالر تھے، جس کا مطلب ہے کہ 26-2025 میں بیرونی امداد کی آمد میں 25.3 فیصد تک کی بڑی گراوٹ آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 27-2026 کے بجٹ میں بیرونی فنڈز کے حوالے سے اتنی خوش فہمی کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کا مسلسل تعاون ہے؟ لیکن آئی ایم ایف پروگرام تو 26-2025 میں بھی کامیابی سے چل رہا تھا، اس کے باوجود فنڈز کی آمد میں کمی دیکھی گئی۔کیا پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں اپنے انتہائی مفید سفارتی ثالثی کے کردار کے بعد عالمی برادری سے نئی اور اضافی امداد کی توقع ہے؟اس حوالے سے زیادہ معروضی اور غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ہو گا کہ ہم 25-2024 کے مقابلے میں 26-2025 کے دوران مختلف ذرائع سے آنے والے فنڈز میں تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ وزارتِ اقتصادی امور نے 26-2025 کے لیے مختلف فنڈز کے جو اہداف مقرر کیے تھے ان کے اصل فنڈز سے فرق کو جانچنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائم ڈپازٹس کی تجدید یا نئے فنڈز کے علاوہ پاکستان کے پاس بیرونی امداد حاصل کرنے کے پانچ بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں دو طرفہ (دو ممالک کے درمیان) اور کثیر طرفہ (بین الاقوامی اداروں جیسے عالمی بینک وغیرہ سے) فنڈز، بانڈز جاری کرکے حاصل ہونے والے خالص فنڈز، بین الاقوامی تجارتی (کمرشل) بینکوں سے لیے جانے والے قرضے اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے آنے والا پیسہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جب آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہو تو اس ذریعے سے بھی فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔سال 26-2025 میں دو طرفہ فنڈز اپنے ہدف کے کافی قریب رہے ہیں۔ تاہم اس کی مجموعی مالیت محض 1.32 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 1.00 ارب ڈالر سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کے ہیں۔ ایک دہائی قبل ایسا دور بھی تھا جب سی پیک کے تحت چین سے بڑے پیمانے پر دو طرفہ فنڈز پاکستان آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیر طرفہ فنڈنگ آسان شرائط پر قرض (رعایتی مالی اعانت) کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔ تاہم سال 26-2025 میں اس ذریعے سے حاصل ہونے والے فنڈز میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ 26-2025 کے لیے اس کا ہدف تقریباً 5 ارب ڈالر تھا، کیونکہ 25-2024 میں اصل فنڈز 4.8 ارب ڈالر رہے تھے۔ لیکن 26-2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں کثیر طرفہ ذرائع سے صرف 3.1 ارب ڈالر حاصل ہو سکے، جو ہدف سے تقریباً 38 فیصد کم ہیں۔سب سے بڑی گراوٹ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے آنے والے فنڈز میں ہوئی، جو روایتی طور پر آسان شرائط پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے بڑے ادارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی امداد ہدف سے 53 فیصد کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی بینک سے ملنے والے فنڈز میں 10 فیصد کی کمی متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈز میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی اس بڑی کمی کے اسباب کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 26-2025 میں بانڈز کی فروخت کے ذریعے 40 کروڑ (0.4) ارب ڈالر کے قرض کا ہدف تھا اور کامیابی کا ایک اہم اشارہ یہ ہے کہ اس مد میں اصل رقم 1 ارب ڈالر تک حاصل کی گئی ہے۔ چین میں پانڈا بانڈز کے اجراء کا عمل کامیابی سے شروع ہو چکا ہے۔سال 26-2025 کی دوسری بڑی ناکامی بین الاقوامی تجارتی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں میں دیکھی گئی۔ 25-2024 میں تجارتی بینکوں سے 4.3 ارب ڈالر کے بھاری قرضوں کے بعد 26-2025 کے لیے اس کا ہدف 3.1 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر 26 مئی تک بیرونی تجارتی بینکوں نے پاکستان کو صرف 20 کروڑ (0.2) ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔ اس بڑی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی چل رہا ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی پورے سال 26-2025 کے دوران جون 2025 کے 14.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں بہتر رہے ہیں اور سال کے اختتام پر 16.5 ارب ڈالر پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مالی ساکھ اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے باوجود عالمی تجارتی بینکوں کا پاکستان کو قرض دینے سے گریز کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا گہرا تجزیہ لازمی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کثیر طرفہ فنڈز میں بھی کمی کا سامنا تھا، پاکستان کو اس تجارتی فنڈنگ کی سخت ضرورت تھی۔آخری اہم ذریعہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہے۔ یہ بیرونی فنڈز کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ 26-2025 کے دوران اس اسکیم میں 2.5 ارب ڈالر کے فنڈز آئے، جبکہ 25-2024 میں یہ حجم 1.9 ارب ڈالر تھا اور اس کا بجٹ ہدف حیرت انگیز طور پر محض 60 کروڑ (0.6) ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔مجموعی طور پر معیادی امانتوں کے تسلسل کو نکال کر 26-2025 میں پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی فنڈز کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ بجٹ ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔ یہ حجم 25-2024 کے اصل فنڈز کے مقابلے میں 32 فیصد تک کی بڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔اس ناکامی کے باوجود وزارتِ خزانہ نے معیادی امانتوں کے بغیر 27-2026 کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی امداد کا ہدف مقرر کیا ہے، جو 26-2025 کی اصل سطح سے 15 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اس بڑھے ہوئے ہدف کی بظاہر وجہ بیرونی قرضوں کی واپسی کی ادائیگیوں کا بوجھ ہے، جس کے 12 ارب ڈالر سے یکدم بڑھ کر 19.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، بشرطیکہ کچھ معیادی امانتوں کی واپسی کی مدت پوری ہو جائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے جمع کرائے گئے فنڈز کے ساتھ ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کمی کو سعودی عرب کی جانب سے امانتوں میں اضافے کے ذریعے سنبھال لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں 27-2026 میں ادائیگیوں کا توازن دوبارہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دو طرفہ، کثیر طرفہ اور بیرونی تجارتی بینکوں کے ذرائع سے بڑے فنڈز کا حصول یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر اگلے سال آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 14 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بجٹ برائے 27-2026 میں مجموعی بیرونی امداد (غیر ملکی فنڈز) کی مد میں 23.37 ارب امریکی ڈالر کی آمد کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ کی مختصر دستاویز میں یہ رقم پاکستانی روپے میں 6 ہزار 780 ارب روپے</strong> <strong>بتائی گئی ہے۔</strong></p>
<p>اس تخمینے کے لیے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا متوقع تبادلہ نرخ 290 روپے فی ڈالر رکھا گیا ہے، جس سے بیرونی امداد کا یہ تخمینہ 23.37 ارب ڈالر بنتا ہے۔ان بیرونی فنڈز میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے جمع کرائے گئے ٹائم ڈپازٹس کا تسلسل بھی شامل ہے، جو 27-2026 میں مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر بنتے ہیں، جن میں سعودی عرب کی جانب سے حال ہی میں دیئے گئے مزید 3 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ چنانچہ ان ٹائم ڈپازٹس (معیادی امانتوں) کو نکال کر 27-2026 میں بیرونی امداد کی آمد کا کل ہدف 11.37 ارب ڈالر رہ جاتا ہے۔</p>
<p>اس تخمینے کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ 27-2026 میں بیرونی فنڈز کی آمد میں ایک بہت بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ معیادی امانتوں کے بغیر 26 مئی تک 26-2025 کے لیے بیرونی فنڈز کی آمد کا ترمیمی تخمینہ 9.07 ارب ڈالر رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگلے مالی سال (27-2026) کے لیے متوقع 11.37 ارب ڈالر کا ہدف یہ ظاہر کرتا ہے کہ فنڈز کی آمد میں تقریباً 25 فیصد کی ریکارڈ شرحِ نمو کی توقع رکھی جا رہی ہے۔دوسری طرف 26-2025 کے دوران فنڈز کی آمد میں واضح کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ سال 25-2024 میں معیادی امانتوں کے بغیر کل بیرونی فنڈز 12.14 ارب ڈالر تھے، جس کا مطلب ہے کہ 26-2025 میں بیرونی امداد کی آمد میں 25.3 فیصد تک کی بڑی گراوٹ آئی ہے۔</p>
<p>اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 27-2026 کے بجٹ میں بیرونی فنڈز کے حوالے سے اتنی خوش فہمی کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کا مسلسل تعاون ہے؟ لیکن آئی ایم ایف پروگرام تو 26-2025 میں بھی کامیابی سے چل رہا تھا، اس کے باوجود فنڈز کی آمد میں کمی دیکھی گئی۔کیا پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں اپنے انتہائی مفید سفارتی ثالثی کے کردار کے بعد عالمی برادری سے نئی اور اضافی امداد کی توقع ہے؟اس حوالے سے زیادہ معروضی اور غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ہو گا کہ ہم 25-2024 کے مقابلے میں 26-2025 کے دوران مختلف ذرائع سے آنے والے فنڈز میں تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔ اس کے علاوہ وزارتِ اقتصادی امور نے 26-2025 کے لیے مختلف فنڈز کے جو اہداف مقرر کیے تھے ان کے اصل فنڈز سے فرق کو جانچنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ٹائم ڈپازٹس کی تجدید یا نئے فنڈز کے علاوہ پاکستان کے پاس بیرونی امداد حاصل کرنے کے پانچ بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں دو طرفہ (دو ممالک کے درمیان) اور کثیر طرفہ (بین الاقوامی اداروں جیسے عالمی بینک وغیرہ سے) فنڈز، بانڈز جاری کرکے حاصل ہونے والے خالص فنڈز، بین الاقوامی تجارتی (کمرشل) بینکوں سے لیے جانے والے قرضے اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے ذریعے آنے والا پیسہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جب آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہو تو اس ذریعے سے بھی فنڈز حاصل ہوتے ہیں۔سال 26-2025 میں دو طرفہ فنڈز اپنے ہدف کے کافی قریب رہے ہیں۔ تاہم اس کی مجموعی مالیت محض 1.32 ارب ڈالر ہے، جس میں سے 1.00 ارب ڈالر سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل کی سہولت کے ہیں۔ ایک دہائی قبل ایسا دور بھی تھا جب سی پیک کے تحت چین سے بڑے پیمانے پر دو طرفہ فنڈز پاکستان آتے تھے۔</p>
<p>کثیر طرفہ فنڈنگ آسان شرائط پر قرض (رعایتی مالی اعانت) کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہے۔ تاہم سال 26-2025 میں اس ذریعے سے حاصل ہونے والے فنڈز میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ 26-2025 کے لیے اس کا ہدف تقریباً 5 ارب ڈالر تھا، کیونکہ 25-2024 میں اصل فنڈز 4.8 ارب ڈالر رہے تھے۔ لیکن 26-2025 کے پہلے گیارہ مہینوں میں کثیر طرفہ ذرائع سے صرف 3.1 ارب ڈالر حاصل ہو سکے، جو ہدف سے تقریباً 38 فیصد کم ہیں۔سب سے بڑی گراوٹ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے آنے والے فنڈز میں ہوئی، جو روایتی طور پر آسان شرائط پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرنے والے بڑے ادارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ملنے والی امداد ہدف سے 53 فیصد کم رہنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی بینک سے ملنے والے فنڈز میں 10 فیصد کی کمی متوقع ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے فنڈز میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی اس بڑی کمی کے اسباب کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سال 26-2025 میں بانڈز کی فروخت کے ذریعے 40 کروڑ (0.4) ارب ڈالر کے قرض کا ہدف تھا اور کامیابی کا ایک اہم اشارہ یہ ہے کہ اس مد میں اصل رقم 1 ارب ڈالر تک حاصل کی گئی ہے۔ چین میں پانڈا بانڈز کے اجراء کا عمل کامیابی سے شروع ہو چکا ہے۔سال 26-2025 کی دوسری بڑی ناکامی بین الاقوامی تجارتی بینکوں سے لیے جانے والے قرضوں میں دیکھی گئی۔ 25-2024 میں تجارتی بینکوں سے 4.3 ارب ڈالر کے بھاری قرضوں کے بعد 26-2025 کے لیے اس کا ہدف 3.1 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر 26 مئی تک بیرونی تجارتی بینکوں نے پاکستان کو صرف 20 کروڑ (0.2) ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔ اس بڑی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ جبکہ آئی ایم ایف کا پروگرام بھی چل رہا ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی پورے سال 26-2025 کے دوران جون 2025 کے 14.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں بہتر رہے ہیں اور سال کے اختتام پر 16.5 ارب ڈالر پر موجود ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی مالی ساکھ اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت میں بہتری کے باوجود عالمی تجارتی بینکوں کا پاکستان کو قرض دینے سے گریز کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جس کا گہرا تجزیہ لازمی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کثیر طرفہ فنڈز میں بھی کمی کا سامنا تھا، پاکستان کو اس تجارتی فنڈنگ کی سخت ضرورت تھی۔آخری اہم ذریعہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ ہے۔ یہ بیرونی فنڈز کے حصول کے لیے ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔ 26-2025 کے دوران اس اسکیم میں 2.5 ارب ڈالر کے فنڈز آئے، جبکہ 25-2024 میں یہ حجم 1.9 ارب ڈالر تھا اور اس کا بجٹ ہدف حیرت انگیز طور پر محض 60 کروڑ (0.6) ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔مجموعی طور پر معیادی امانتوں کے تسلسل کو نکال کر 26-2025 میں پاکستان کو ملنے والے نئے بیرونی فنڈز کا تخمینہ تقریباً 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ بجٹ ہدف 10.9 ارب ڈالر تھا۔ یہ حجم 25-2024 کے اصل فنڈز کے مقابلے میں 32 فیصد تک کی بڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔اس ناکامی کے باوجود وزارتِ خزانہ نے معیادی امانتوں کے بغیر 27-2026 کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی امداد کا ہدف مقرر کیا ہے، جو 26-2025 کی اصل سطح سے 15 فیصد سے بھی زیادہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔اس بڑھے ہوئے ہدف کی بظاہر وجہ بیرونی قرضوں کی واپسی کی ادائیگیوں کا بوجھ ہے، جس کے 12 ارب ڈالر سے یکدم بڑھ کر 19.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے، بشرطیکہ کچھ معیادی امانتوں کی واپسی کی مدت پوری ہو جائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے جمع کرائے گئے فنڈز کے ساتھ ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کمی کو سعودی عرب کی جانب سے امانتوں میں اضافے کے ذریعے سنبھال لیا گیا تھا۔</p>
<p>پاکستان اس وقت بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں 27-2026 میں ادائیگیوں کا توازن دوبارہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دو طرفہ، کثیر طرفہ اور بیرونی تجارتی بینکوں کے ذرائع سے بڑے فنڈز کا حصول یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا، خاص طور پر اگلے سال آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 14 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508718</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:46:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/141344344b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/141344344b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیانیہ مارکیٹ کے بارے میں تاثر قائم کر سکتا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508716/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ نظریہ کہ منڈیاں طلب اور رسد کے باہمی توازن کے ذریعے، جو کسی بھی شے کی قیمت کا تعین کرتا ہے، خودبخود توازن کی کیفیت تک پہنچ جاتی ہیں، اس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ بیانیہ بھی منڈی پر اثرانداز ہو کر اسے اپنی سمت میں موڑ سکتا ہے۔ ایسا یا تو اس وقت ہوتا ہے جب منڈی زمینی حقائق کو جائز طور پر غلط سمجھ بیٹھتی ہے، یا پھر جان بوجھ کر کسی بیانیے کی غلط تشریح کر کے اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی منڈی پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا سلسلہ بار بار دیکھا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کرتے رہے جن کا وقت اس انداز سے منتخب کیا جاتا تھا کہ پیر کے روز منڈی پر براہِ راست اثر پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرزِ عمل نے تیل کی منڈی میں کام کرنے والوں کی بظاہر سادہ لوحی پر حقیقی حیرت پیدا کی، جو صدر کے ایک دوسرے سے متضاد بیانات کو بار بار درست مانتے رہے۔ کبھی وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایسی تشریح پیش کرتے جو ایران کی تشریح سے بالکل مختلف ہوتی، کبھی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے، اور پھر وقفے وقفے سے ایران پر حملے کیے جاتے جن کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں سامنے آتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو منڈی پر اثرانداز ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ممکن ہے انہوں نے دو حوالوں سے غلط اندازہ لگایا ہو: اول، توانائی کی عالمی منڈی کے باہمی ربط کو پوری طرح نہ سمجھنا، یعنی یہ ادراک نہ کرنا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی رسد میں پیدا ہونے والی کمی امریکا میں گیس کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی، حالانکہ امریکا خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے؛ اور دوم، اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ)، خواہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ، جو انہیں اپنے قریبی حلقے کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد امریکا کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود تھے، تاہم اب جبکہ یہ جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، ان ذخائر میں خطرناک حد تک کمی آنے لگی ہے، جس سے معاشی کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال نے عام امریکیوں، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کو بھی ناراض کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ امکان ہے کہ اس کے اثرات 6 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی 140 نشستیں محفوظ سمجھی جا رہی ہیں، 55 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ اس کی موجودہ 45 نشستوں پر مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے اور وہ کسی بھی جماعت کے حصے میں جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی 182 نشستیں محفوظ تصور کی جا رہی ہیں، 10 مزید نشستیں جیتنے کی توقع ہے، جبکہ اس کی موجودہ صرف 3 نشستوں پر سخت مقابلے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 4 نشستیں محفوظ ہیں، ایک مزید نشست جیتنے کی توقع ہے، جبکہ 4 نشستوں کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس کی 18 نشستیں محفوظ ہیں، 6 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ 6 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر موجودہ اندازوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جس کے خدشے کا وہ خود بھی عوامی سطح پر اعتراف کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ الزامات زور پکڑ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں یا حملوں سے متعلق بیانات چند مخصوص تاجروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جن کا حجم تازہ اندازوں کے مطابق 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان کرتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں کمی بنیادی طور پر فیوچرز مارکیٹ تک محدود رہتی ہے، جس کا اثر ابھی تک پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے ایندھن کی قیمتوں پر نہیں پڑا۔ اس تناظر میں پاکستان میں عوام کی جانب سے حکومت سے فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، الاّ یہ کہ ملک کو رعایتی نرخوں پر درآمدی تیل دستیاب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل سامنے آنے والے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چونکہ پٹرول پمپوں پر قیمتیں کم نہیں ہوئیں، اس لیے امریکی عوام صدر ٹرمپ کے اس بیانیے کو قبول نہیں کر رہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک لوگوں کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہے، وہ کسی بھی بیانیے کی صداقت پر آسانی سے یقین نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بھی عوام حکومت کے اس دعوے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے کہ مہنگائی میں کمی آ گئی ہے، اگرچہ ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بیانیے کے ساتھ ساتھ اعدادوشمار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت اسٹاک مارکیٹ کی غیر معمولی تیزی ہے۔ تاہم، چونکہ پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لیے موجودہ وزیرِ خزانہ سمیت مختلف وزرائے خزانہ کی جانب سے تیزی کا شکار اسٹاک مارکیٹ کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت قرار دینا مضبوط بنیادوں پر مبنی استدلال نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مؤقف کو متعدد تحقیقی مطالعات بھی تقویت دیتے ہیں، جن میں حسین اور طارق محمود کی تحقیق قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ”پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسے معاشی سرگرمیوں کا پیشگی اشاریہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اگر دیگر مضبوط معاشی اشاریے موجود نہ ہوں تو حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ محض ایک قیاس آرائی پر مبنی بلبلے یعنی غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں قیمتوں میں آنے والا ناپائیدار اضافہ( اسپیکیولیٹیو ببل) کی علامت ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجرباتی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بروکرز کے ایک باہم مربوط اور بااثر گروہ کا غلبہ ہے، جو مارکیٹ کے رجحانات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص ایسے مواقع پر، جب موجودہ وزیرِ خزانہ شدید تنقید کی زد میں ہوں، اسٹاک مارکیٹ میں اچانک تیزی آنے کے باعث ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کا اصل دباؤ اس دھمکی میں پوشیدہ ہے کہ وہ مارکیٹ پر مزید ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت لسٹڈ سیکیورٹیز پر فائلرز کے لیے 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور نان فائلرز کے لیے 30 فیصد شرح مقرر ہے، تاہم حقیقی لین دین اور سرمایہ جاتی منافع (کیپیٹل گین) پر عائد ٹیکس کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں ہر خرید و فروخت پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) وصول کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اور قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) پر بھی الگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اکتوبر 2024 کی اپنی رپورٹ میں ان اعدادوشمار میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس مؤقف کی تائید آزاد ماہرینِ معاشیات نے بھی کی، جس کے بعد ادارۂ شماریات پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں رد و بدل سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیانیہ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو قائل کر سکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کو مسلسل اپنی آمدنی کی حقیقی قدر میں کمی محسوس ہوتی رہے تو پُرجوش حامی بھی رفتہ رفتہ اپنی حمایت واپس لے لیتے ہیں۔ مہنگائی ایسا معاشی اشاریہ ہے جس کے اثرات ہر گھرانے کو اس وقت فوری محسوس ہوتے ہیں جب وہ روزمرہ استعمال کی کوئی چیز یا خدمت خریدنے بازار جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ حکومتی کامیابیوں کے دعوے ایسے اعدادوشمار سے تقویت پانے چاہییں جو عوام کو درپیش زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 13 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ نظریہ کہ منڈیاں طلب اور رسد کے باہمی توازن کے ذریعے، جو کسی بھی شے کی قیمت کا تعین کرتا ہے، خودبخود توازن کی کیفیت تک پہنچ جاتی ہیں، اس بنیاد پر چیلنج کیا جا سکتا ہے کہ بیانیہ بھی منڈی پر اثرانداز ہو کر اسے اپنی سمت میں موڑ سکتا ہے۔ ایسا یا تو اس وقت ہوتا ہے جب منڈی زمینی حقائق کو جائز طور پر غلط سمجھ بیٹھتی ہے، یا پھر جان بوجھ کر کسی بیانیے کی غلط تشریح کر کے اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔</strong></p>
<p>28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی منڈی پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا سلسلہ بار بار دیکھا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات جاری کرتے رہے جن کا وقت اس انداز سے منتخب کیا جاتا تھا کہ پیر کے روز منڈی پر براہِ راست اثر پڑے۔</p>
<p>اس طرزِ عمل نے تیل کی منڈی میں کام کرنے والوں کی بظاہر سادہ لوحی پر حقیقی حیرت پیدا کی، جو صدر کے ایک دوسرے سے متضاد بیانات کو بار بار درست مانتے رہے۔ کبھی وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایسی تشریح پیش کرتے جو ایران کی تشریح سے بالکل مختلف ہوتی، کبھی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے، اور پھر وقفے وقفے سے ایران پر حملے کیے جاتے جن کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں سامنے آتیں۔</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو منڈی پر اثرانداز ہونے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ ممکن ہے انہوں نے دو حوالوں سے غلط اندازہ لگایا ہو: اول، توانائی کی عالمی منڈی کے باہمی ربط کو پوری طرح نہ سمجھنا، یعنی یہ ادراک نہ کرنا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی رسد میں پیدا ہونے والی کمی امریکا میں گیس کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالے گی، حالانکہ امریکا خود ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے؛ اور دوم، اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ)، خواہ دانستہ ہو یا غیر دانستہ، جو انہیں اپنے قریبی حلقے کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی زد میں لا سکتی ہے۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد امریکا کے پاس تیل کے بڑے ذخائر موجود تھے، تاہم اب جبکہ یہ جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، ان ذخائر میں خطرناک حد تک کمی آنے لگی ہے، جس سے معاشی کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال نے عام امریکیوں، حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کو بھی ناراض کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ امکان ہے کہ اس کے اثرات 6 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔</p>
<p>ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر دوبارہ انتخاب ہوگا۔</p>
<p>موجودہ جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی 140 نشستیں محفوظ سمجھی جا رہی ہیں، 55 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ اس کی موجودہ 45 نشستوں پر مقابلہ سخت رہنے کی توقع ہے اور وہ کسی بھی جماعت کے حصے میں جا سکتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی 182 نشستیں محفوظ تصور کی جا رہی ہیں، 10 مزید نشستیں جیتنے کی توقع ہے، جبکہ اس کی موجودہ صرف 3 نشستوں پر سخت مقابلے کا امکان ہے۔</p>
<p>سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی 4 نشستیں محفوظ ہیں، ایک مزید نشست جیتنے کی توقع ہے، جبکہ 4 نشستوں کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس کی 18 نشستیں محفوظ ہیں، 6 مزید نشستیں جیتنے کا امکان ہے، جبکہ 6 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔</p>
<p>اگر موجودہ اندازوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جس کے خدشے کا وہ خود بھی عوامی سطح پر اعتراف کر چکے ہیں۔</p>
<p>یہ الزامات زور پکڑ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدوں یا حملوں سے متعلق بیانات چند مخصوص تاجروں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اس وقت کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن مبینہ غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہا ہے، جن کا حجم تازہ اندازوں کے مطابق 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا اعلان کرتے ہیں تو تیل کی قیمتوں میں کمی بنیادی طور پر فیوچرز مارکیٹ تک محدود رہتی ہے، جس کا اثر ابھی تک پٹرول پمپوں پر فروخت ہونے والے ایندھن کی قیمتوں پر نہیں پڑا۔ اس تناظر میں پاکستان میں عوام کی جانب سے حکومت سے فوری طور پر پٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، الاّ یہ کہ ملک کو رعایتی نرخوں پر درآمدی تیل دستیاب ہو۔</p>
<p>مسلسل سامنے آنے والے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چونکہ پٹرول پمپوں پر قیمتیں کم نہیں ہوئیں، اس لیے امریکی عوام صدر ٹرمپ کے اس بیانیے کو قبول نہیں کر رہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک لوگوں کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہے، وہ کسی بھی بیانیے کی صداقت پر آسانی سے یقین نہیں کرتے۔</p>
<p>پاکستان میں بھی عوام حکومت کے اس دعوے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے کہ مہنگائی میں کمی آ گئی ہے، اگرچہ ہمارے ہاں صورتِ حال یہ ہے کہ بیانیے کے ساتھ ساتھ اعدادوشمار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>سرکاری بیانیہ یہ ہے کہ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا ثبوت اسٹاک مارکیٹ کی غیر معمولی تیزی ہے۔ تاہم، چونکہ پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لیے موجودہ وزیرِ خزانہ سمیت مختلف وزرائے خزانہ کی جانب سے تیزی کا شکار اسٹاک مارکیٹ کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت قرار دینا مضبوط بنیادوں پر مبنی استدلال نہیں۔</p>
<p>اس مؤقف کو متعدد تحقیقی مطالعات بھی تقویت دیتے ہیں، جن میں حسین اور طارق محمود کی تحقیق قابلِ ذکر ہے۔ ان کے مطابق ”پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسے معاشی سرگرمیوں کا پیشگی اشاریہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اگر دیگر مضبوط معاشی اشاریے موجود نہ ہوں تو حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ محض ایک قیاس آرائی پر مبنی بلبلے یعنی غیر حقیقی توقعات کے نتیجے میں قیمتوں میں آنے والا ناپائیدار اضافہ( اسپیکیولیٹیو ببل) کی علامت ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>تجرباتی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بروکرز کے ایک باہم مربوط اور بااثر گروہ کا غلبہ ہے، جو مارکیٹ کے رجحانات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص ایسے مواقع پر، جب موجودہ وزیرِ خزانہ شدید تنقید کی زد میں ہوں، اسٹاک مارکیٹ میں اچانک تیزی آنے کے باعث ناقدین یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کا اصل دباؤ اس دھمکی میں پوشیدہ ہے کہ وہ مارکیٹ پر مزید ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس وقت لسٹڈ سیکیورٹیز پر فائلرز کے لیے 15 فیصد جنرل سیلز ٹیکس اور نان فائلرز کے لیے 30 فیصد شرح مقرر ہے، تاہم حقیقی لین دین اور سرمایہ جاتی منافع (کیپیٹل گین) پر عائد ٹیکس کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں ہر خرید و فروخت پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) وصول کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایل ٹی سی جی) اور قلیل مدتی سرمایہ جاتی منافع (ایس ٹی سی جی) پر بھی الگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اکتوبر 2024 کی اپنی رپورٹ میں ان اعدادوشمار میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس مؤقف کی تائید آزاد ماہرینِ معاشیات نے بھی کی، جس کے بعد ادارۂ شماریات پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار میں رد و بدل سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔</p>
<p>آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی بیانیہ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو قائل کر سکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کو مسلسل اپنی آمدنی کی حقیقی قدر میں کمی محسوس ہوتی رہے تو پُرجوش حامی بھی رفتہ رفتہ اپنی حمایت واپس لے لیتے ہیں۔ مہنگائی ایسا معاشی اشاریہ ہے جس کے اثرات ہر گھرانے کو اس وقت فوری محسوس ہوتے ہیں جب وہ روزمرہ استعمال کی کوئی چیز یا خدمت خریدنے بازار جاتا ہے۔</p>
<p>اس سے حاصل ہونے والا سبق یہ ہے کہ حکومتی کامیابیوں کے دعوے ایسے اعدادوشمار سے تقویت پانے چاہییں جو عوام کو درپیش زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 13 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508716</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 13:40:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/14133719ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/14133719ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تو کیا واقعی سب کچھ "ختم"ہو گیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508070/iran-israel-war-iran-us-dollars-us-federal-reserve-us-treasury-donald-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے، اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 09 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟</strong></p>
<p>منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟</p>
<p>یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے، اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔</p>
<p>منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔</p>
<p>کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔</p>
<p>کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟</p>
<p>ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔</p>
<p>شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔</p>
<p>منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟</p>
<p>تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔</p>
<p>ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔</p>
<p>شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 09 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508070</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 14:56:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/091452082dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/091452082dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507954/fbr-psdp-taxes-bisp-super-tax-budget-2026-27-federal-budget-2026-2027</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زرعی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خدمات کا شعبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلاصہ اور نتیجہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی.&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 07 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے کے مضمون میں 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینہ کردہ شعبہ وار شرح نمو اور پلاننگ کمیشن کے سالانہ منصوبے میں دی گئی شعبہ وار شرح نمو کے درمیان پائے جانے والے فرق کی نشاندہی درج ذیل انداز میں کی گئی تھی:</strong></p>
<p>شعبہ وار شرح نمو میں ان بڑے اختلافات نے ان شرحوں کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ مزید یہ کہ شعبوں کے مجموعی قومی پیداوار میں حصے کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ منصوبے کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد نہیں بلکہ 3.2 فیصد بنتی ہے۔</p>
<p>شرح نمو کا تجزیہ ذیلی شعبوں کی سطح پر کیا گیا ہے۔ توجہ نسبتاً بڑے شعبوں پر مرکوز ہے جو جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ ان میں زرعی شعبے کی بڑی فصلیں اور لائیو اسٹاک، صنعتی شعبے میں مینوفیکچرنگ، جبکہ خدمات کے شعبے میں تھوک و پرچون تجارت، نقل و حمل، اور سرکاری انتظامیہ و سماجی تحفظ شامل ہیں۔ چھوٹے شعبوں کی شرح نمو وہی تسلیم کی گئی ہے جو پاکستان بیورو آف شماریات نے رپورٹ کی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2020-21 سے زرعی شعبے میں بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی سالانہ شرح نمو میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے کی شرح نمو نسبتاً مستحکم رہی ہے اور بظاہر 2025-26 میں یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صنعتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے۔ یہی صورتحال خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔</p>
<p><strong>زرعی شعبہ</strong></p>
<p>پاکستان اکنامک سروے میں مالی سال 2025-26 کے لیے بڑی فصلوں کے تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق شرح نمو گنے میں 6.2 فیصد سے لے کر کپاس میں منفی 0.5 فیصد تک ہے۔ پاکستان اکنامک سروے میں ہر فصل کا متعلقہ وزن بھی دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر بڑی فصلوں کے ذیلی شعبے کی تخمینی شرح نمو 3.0 فیصد بنتی ہے۔ یہ کسی حد تک حیران کن ہے کیونکہ یہ پاکستان بیورو آف شماریات کے صرف 0.7 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/081506106d9283e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے بعد لائیو اسٹاک کے شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی اضافی قدر کا 54 فیصد سے زیادہ حصہ مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی پیداوار سے آتا ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان بیورو آف شماریات کے گھریلو مربوط معاشی سرویز میں ان مصنوعات کی کھپت کی سطح سے لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ان مصنوعات کی مجموعی کھپت میں صرف 6.2 فیصد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ شرح نمو محض ایک فیصد رہی۔ اس کی بڑی وجہ حقیقی فی کس آمدنی میں کمزور اضافہ ہے۔ اضافی قدر کا تقریباً باقی نصف حصہ مویشیوں کی خالص تعداد میں سالانہ اضافے سے حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا، امکان یہی ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو بڑی فصلوں میں تقریباً 3 فیصد اور لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے میں تقریباً 2 فیصد کے درمیان رہی ہو۔ اس بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی 2.4 فیصد شرح نمو کا تخمینہ، پاکستان بیورو آف شماریات کے 2.9 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں، زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>صنعتی شعبہ</strong></p>
<p>اب صنعتی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک اس شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔ یہی شرح عملاً جی ڈی پی کے تخمینوں میں بھی اختیار کی گئی ہے۔</p>
<p>انفرادی صنعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تین بڑی صنعتوں، یعنی چینی، آٹوموبائل اور پیٹرولیم، آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) مصنوعات، نے مالی سال 2025-26 میں بالترتیب 31.6 فیصد، 64.3 فیصد اور 10.0 فیصد کی بلند شرح نمو حاصل کی۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی مجموعی شرح نمو میں ان تین صنعتوں کا حصہ 62 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔</p>
<p>تاہم، ان تخمینوں سے متعلق کچھ سوالات موجود ہیں۔ پہلی بات یہ کہ مالی سال 2025-26 میں گنے کی پیداوار میں اضافہ صرف 6.2 فیصد رہا۔ اس لیے چینی کی پیداوار میں 31.6 فیصد اضافے کا تخمینہ قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث حالیہ مہینوں میں پی او ایل صنعت کی شرح نمو بھی کم ہوئی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح 8.5 فیصد شرح نمو کے ساتھ چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں بظاہر دکھائی دینے والی تیزی بھی زیادہ قابلِ یقین نہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران روزگار میں سالانہ اضافہ صرف 3.3 فیصد رہا ہے۔ مزید برآں، مالی سال 2025-26 میں چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی برآمدات کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔</p>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان بیورو آف شماریات کا 3.5 فیصد شرح نمو کا تخمینہ زیادہ قابلِ اعتماد معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں تقریباً 2.1 فیصد کی نمایاں طور پر کم شرح نمو کا تخمینہ زیادہ حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p><strong>خدمات کا شعبہ</strong></p>
<p>آخر میں خدمات کے شعبے کے بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پہلا ذیلی شعبہ تھوک و پرچون تجارت ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں اس ذیلی شعبے کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2024-25 کی محض 0.5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی مشترکہ شرح نمو زیادہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ درآمدات کے حجم میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے تھوک و پرچون تجارت کے شعبے کی شرح نمو مناسب اور حقیقت سے قریب معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>خدمات کے شعبے کا دوسرا بڑا ذیلی شعبہ نقل و حمل ہے۔ قومی آمدنی کے کھاتوں میں اس کی شرح نمو صرف 2.3 فیصد بتائی گئی ہے۔ تاہم، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے باقاعدگی سے جاری ہونے والے ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی فروخت میں 6.1 فیصد جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی فروخت میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ایندھن کی کھپت میں متوقع اضافہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں نقل و حمل کے شعبے کی شرح نمو بھی اسی کے قریب زیادہ رہی ہوگی۔</p>
<p>آخر میں مالی سال 2025-26 میں سرکاری انتظامیہ اور سماجی تحفظ کے ذیلی شعبے کی شرح نمو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس شعبے کی رپورٹ کردہ شرح نمو 8.5 فیصد ہے، جو کافی بلند ہے۔ رواں اور گزشتہ دونوں مالی برسوں میں یہ شرح تقریباً 8.5 فیصد رہی، جو گزشتہ چھ برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔</p>
<p>اس شعبے کی اضافی قدر کا بڑا حصہ ملازمین کے مجموعی معاوضوں پر مشتمل ہے۔ وفاقی سطح پر اس میں دفاعی اخراجات، سول حکومت کے انتظامی اخراجات اور پنشن کی ادائیگیاں نمایاں حصہ رکھتی ہیں، جبکہ صوبائی سطح پر جاری اخراجات کا بڑا حصہ بھی ملازمین کو ادائیگیوں سے وابستہ ہے۔</p>
<p>وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی کارروائیوں سے متعلق معلومات مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی تک دستیاب ہیں۔ مذکورہ بالا اخراجات میں مجموعی اضافہ 12 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر افراطِ زر کی شرح تقریباً 7 فیصد مانی جائے تو اس ذیلی شعبے کی حقیقی شرح نمو غالباً 5 فیصد کے قریب بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 8.5 فیصد کی رپورٹ کردہ شرح نمو کچھ زیادہ معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>نقل و حمل کے شعبے میں نسبتاً زیادہ شرح نمو کا اثر سرکاری انتظامیہ کے شعبے میں کم شرح نمو سے متوازن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے خدمات کے شعبے کی مجموعی شرح نمو تقریباً 4.1 فیصد بنتی ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینے کے قریب ہے۔</p>
<p><strong>خلاصہ اور نتیجہ</strong></p>
<p>مجموعی طور پر مذکورہ بالا نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے ذیلی شعبوں کی شرح نمو، پاکستان بیورو آف شماریات کے تخمینوں کے مقابلے میں، نمایاں طور پر مختلف ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے لائیو اسٹاک، مینوفیکچرنگ اور سرکاری انتظامیہ کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے سرکاری اندازوں سے کم ہیں، جبکہ بڑی فصلوں اور نقل و حمل کے ذیلی شعبوں کی شرح نمو کے متبادل تخمینے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ شعبہ وار شرح نمو کے یہ متبادل تخمینے جدول نمبر 2 میں پیش کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/08150846ffd508f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مجموعی طور پر مالی سال 2025-26 میں جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 3.3 فیصد معلوم ہوتی ہے۔ یہ شرح سالانہ منصوبے میں تخمینہ کردہ 3.2 فیصد اور پاکستان بیورو آف شماریات کے قومی آمدنی کے کھاتوں میں درج 3.7 فیصد کے درمیان بنتی ہے۔ یہ مالی سال 2024-25 کی 3.2 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کے مقابلے میں معمولی بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ امید ہے کہ مالی سال 2026-27 میں معیشت مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی اور سالانہ منصوبے میں مقرر کردہ 4.0 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی.</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 07 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507954</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 15:15:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/081510254b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/081510254b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس اصلاحات خواب ہی رہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507811/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں پر غیر معمولی انحصار، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے، دو اہم پہلوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس پروگرام کی مجموعی ساخت پر سوالیہ نشان ہے، جس کے تحت بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، اور دوسری جانب یہ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں 14.131 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جسے بعد ازاں کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، بجٹ دستاویزات میں درج نظرثانی شدہ تخمینے اب قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ ایف بی آر کے باخبر ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں بھی تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، رواں مالی سال میں مجموعی ٹیکس وصولیاں غالب امکان ہے کہ 12 کھرب روپے کے لگ بھگ رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، معیشت کی شرح نمو جتنی زیادہ ہوگی، ٹیکس وصولیاں بھی اسی قدر بڑھیں گی۔ تاہم حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا، جبکہ بجٹ میں اسے 4.2 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ شرح نمو بھی حقیقت سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پُرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا تعین بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ان تفصیلی دستاویزات کا شاید مطالعہ نہیں کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ: ”قومی حسابات ( نیشنل اکاؤنٹس) اور سرکاری مالیاتی اعدادوشمار میں موجود کمزوریاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت سے گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف شماریات مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی حسابات کی نئی بنیاد کے لیے جلد ہی چار بڑے سرویز کا فیلڈ ورک بھی شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تکنیکی معاونت (ٹی اے) کی تکمیل 30 جون 2026 تک ہونا تھی، تاہم آئی ایم ایف مشن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی مدت بڑھا کر اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے لیے حکومت کی متوقع شرح نمو حقیقت سے زیادہ ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نیچے کی جانب نظرثانی متوقع ہے۔ یہ امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معیشت اس وقت سخت مالیاتی اور مالیاتی نظم و ضبط (مالیاتی اور مالی سال کی پالیسی) کے تحت چل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ دستاویزات کے مطابق، ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مالی سال 2026-27 کے لیے 7.613 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے ان کی وصولی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 6.431 کھرب روپے ہے، حالانکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6.9 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گزشتہ سال براہِ راست ٹیکسوں کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کی مد میں، جو ایف بی آر کی وصولیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے، 7,480.5 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 6,331.4 ارب روپے ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6,811.2 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں، انکم ٹیکس کی متوقع مجموعی وصولیوں میں سے تقریباً 5,610 ارب روپے درحقیقت سیلز ٹیکس کی نوعیت کے حامل ہیں، جو ایک رجعت پسند (Regressive) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس میں سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی شامل کر لیا جائے تو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار 10.4 کھرب روپے تک جا پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.6 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1.073 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دونوں بھی بالواسطہ ٹیکس ہیں، اس لیے مجموعی طور پر 15.264 کھرب روپے کی متوقع ٹیکس وصولیوں میں سے تقریباً 13 کھرب روپے، یعنی 83 فیصد، بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں غربت میں اضافے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر غربت کی پیمائش غذائی ضروریات (کیلوریفک ویلیو) کی بنیاد پر کی جائے تو اس کی شرح ایک نہایت تشویشناک 44 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے اس دعوے کے مطابق کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تعمیل کی شرح 27 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، حکومت نے فنانس بل 2026 میں مزید 21 اشیا پر ان کی پرنٹ شدہ خوردہ قیمت (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان اشیا میں خوردنی تیل، گھی، چینی سے تیار کردہ مٹھائیاں،کیڑے مار اور دیگر زرعی ادویات، دودھ، فیٹ فلڈ دودھ اور شیر خوار بچوں کی غذائیں بھی شامل ہیں۔ ان اشیا پر ٹیکس کا بوجھ ہر شہری کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید کو مزید کم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 میں نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ میژرز) کے ذریعے 400 ارب روپے اضافی وصول کرے گا۔ یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ رواں مالی سال انہی اقدامات سے 389 ارب روپے حاصل کیے گئے، اگرچہ مالی سال 2024-25 میں یہی اقدامات قومی خزانے کے لیے 874 ارب روپے لے کر آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ چینی سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دونوں بالواسطہ ٹیکس ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 255 ارب روپے متنازع ٹیکس معاملات کے تصفیے سے اور 218 ارب روپے ٹیکس واجبات کی مد میں حاصل کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ اقدامات غریب عوام کے حق میں نہیں تھے تو دوسری جانب حکومت نے 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی کیا، جس کا بڑا حصہ نسبتاً خوشحال طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان مراعات میں 115 ارب روپے جائیداد کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، جہاں خریداروں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد اور فروخت کنندگان کے لیے 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا گیا، حالانکہ یہی شعبہ کالے دھن کو سفید کرنے کے حوالے سے بدنام سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 52 ارب روپے کی انکم ٹیکس رعایت کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے افراد کے لیے بھی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی۔ مزید برآں، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کر دیا گیا، جبکہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس فضائی ٹکٹوں پر بھی ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غریب طبقے کے لیے حکومتی اقدامات بنیادی طور پر سبسڈیوں تک محدود ہیں، جن میں زیادہ تر بجلی کے نرخوں میں فرق پورا کرنے کے لیے دی جانے والی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی شامل ہے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جو ایک طرف غیر مؤثر نظام کو سہارا دیتی ہے اور دوسری جانب اس کا ہدف بھی واضح نہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، مگر اس کے لیے مختص وسائل ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ فنانس بل میں غریب دوست پالیسیوں کے فقدان پر پارلیمان میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، اور بل نسبتاً آسانی کے ساتھ منظور بھی کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 06 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں پر غیر معمولی انحصار، جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر زیادہ پڑتا ہے، دو اہم پہلوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اس پروگرام کی مجموعی ساخت پر سوالیہ نشان ہے، جس کے تحت بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا گیا، اور دوسری جانب یہ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی پر بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.264 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے بجٹ میں 14.131 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا، جسے بعد ازاں کم کرکے 12.983 کھرب روپے کر دیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے دو اہم نکات قابلِ توجہ ہیں۔</p>
<p>اول، بجٹ دستاویزات میں درج نظرثانی شدہ تخمینے اب قابلِ اعتبار نہیں رہے۔ ایف بی آر کے باخبر ذرائع نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں بھی تقریباً ایک کھرب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، رواں مالی سال میں مجموعی ٹیکس وصولیاں غالب امکان ہے کہ 12 کھرب روپے کے لگ بھگ رہیں گی۔</p>
<p>دوم، معیشت کی شرح نمو جتنی زیادہ ہوگی، ٹیکس وصولیاں بھی اسی قدر بڑھیں گی۔ تاہم حکومت نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا، جبکہ بجٹ میں اسے 4.2 فیصد ظاہر کیا گیا تھا۔ آزاد ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ شرح نمو بھی حقیقت سے زیادہ ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پُرزور انداز میں مؤقف اختیار کیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا تعین بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر کو جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ان تفصیلی دستاویزات کا شاید مطالعہ نہیں کیا، جن میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>ان دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ: ”قومی حسابات ( نیشنل اکاؤنٹس) اور سرکاری مالیاتی اعدادوشمار میں موجود کمزوریاں معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں اہم خامیاں موجود ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔“</p>
<p>دستاویز کے مطابق حکومت ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت سے گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف شماریات مالی سال 2026 کو بنیاد بنا کر قومی حسابات کی نئی بنیاد کے لیے جلد ہی چار بڑے سرویز کا فیلڈ ورک بھی شروع کرے گا۔</p>
<p>اس تکنیکی معاونت (ٹی اے) کی تکمیل 30 جون 2026 تک ہونا تھی، تاہم آئی ایم ایف مشن کی سفارشات کی روشنی میں اس کی مدت بڑھا کر اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے لیے حکومت کی متوقع شرح نمو حقیقت سے زیادہ ہے، کیونکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عمل درآمد کے بعد جی ڈی پی کے اعدادوشمار میں نیچے کی جانب نظرثانی متوقع ہے۔ یہ امکان اس لیے بھی زیادہ ہے کہ معیشت اس وقت سخت مالیاتی اور مالیاتی نظم و ضبط (مالیاتی اور مالی سال کی پالیسی) کے تحت چل رہی ہے۔</p>
<p>بجٹ دستاویزات کے مطابق، ادائیگی کی صلاحیت کے اصول پر مبنی براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مالی سال 2026-27 کے لیے 7.613 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے ان کی وصولی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 6.431 کھرب روپے ہے، حالانکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6.9 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ گزشتہ سال براہِ راست ٹیکسوں کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے انکم ٹیکس کی مد میں، جو ایف بی آر کی وصولیوں کا سب سے بڑا حصہ ہے، 7,480.5 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2025-26 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 6,331.4 ارب روپے ہے، جبکہ گزشتہ بجٹ میں اس مد میں 6,811.2 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں، انکم ٹیکس کی متوقع مجموعی وصولیوں میں سے تقریباً 5,610 ارب روپے درحقیقت سیلز ٹیکس کی نوعیت کے حامل ہیں، جو ایک رجعت پسند (Regressive) ٹیکس ہے اور جس کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے سیلز ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4.8 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اگر اس میں سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیے جانے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو بھی شامل کر لیا جائے تو بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار 10.4 کھرب روپے تک جا پہنچتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1.6 کھرب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1.073 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ دونوں بھی بالواسطہ ٹیکس ہیں، اس لیے مجموعی طور پر 15.264 کھرب روپے کی متوقع ٹیکس وصولیوں میں سے تقریباً 13 کھرب روپے، یعنی 83 فیصد، بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>ایسے حالات میں غربت میں اضافے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر غربت کی پیمائش غذائی ضروریات (کیلوریفک ویلیو) کی بنیاد پر کی جائے تو اس کی شرح ایک نہایت تشویشناک 44 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے اس دعوے کے مطابق کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تعمیل کی شرح 27 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، حکومت نے فنانس بل 2026 میں مزید 21 اشیا پر ان کی پرنٹ شدہ خوردہ قیمت (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان اشیا میں خوردنی تیل، گھی، چینی سے تیار کردہ مٹھائیاں،کیڑے مار اور دیگر زرعی ادویات، دودھ، فیٹ فلڈ دودھ اور شیر خوار بچوں کی غذائیں بھی شامل ہیں۔ ان اشیا پر ٹیکس کا بوجھ ہر شہری کی آمدنی کی حقیقی قوتِ خرید کو مزید کم کرے گا۔</p>
<p>ایف بی آر کا دعویٰ ہے کہ وہ مالی سال 2026-27 میں نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ میژرز) کے ذریعے 400 ارب روپے اضافی وصول کرے گا۔ یہ ہدف قابلِ حصول دکھائی دیتا ہے، کیونکہ رواں مالی سال انہی اقدامات سے 389 ارب روپے حاصل کیے گئے، اگرچہ مالی سال 2024-25 میں یہی اقدامات قومی خزانے کے لیے 874 ارب روپے لے کر آئے تھے۔</p>
<p>تاہم ان نفاذی اقدامات سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ چینی سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ دونوں بالواسطہ ٹیکس ہیں، جن کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہوتا ہے اور ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ 255 ارب روپے متنازع ٹیکس معاملات کے تصفیے سے اور 218 ارب روپے ٹیکس واجبات کی مد میں حاصل کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p>اگر یہ اقدامات غریب عوام کے حق میں نہیں تھے تو دوسری جانب حکومت نے 360 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا اعلان بھی کیا، جس کا بڑا حصہ نسبتاً خوشحال طبقات کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان مراعات میں 115 ارب روپے جائیداد کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے، جہاں خریداروں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد اور فروخت کنندگان کے لیے 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.7 فیصد کر دیا گیا، حالانکہ یہی شعبہ کالے دھن کو سفید کرنے کے حوالے سے بدنام سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح 52 ارب روپے کی انکم ٹیکس رعایت کے تحت 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے افراد کے لیے بھی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی۔ مزید برآں، بیرون ملک اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) ختم کر دیا گیا، جبکہ بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس فضائی ٹکٹوں پر بھی ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی۔</p>
<p>غریب طبقے کے لیے حکومتی اقدامات بنیادی طور پر سبسڈیوں تک محدود ہیں، جن میں زیادہ تر بجلی کے نرخوں میں فرق پورا کرنے کے لیے دی جانے والی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی شامل ہے۔ یہ ایسی پالیسی ہے جو ایک طرف غیر مؤثر نظام کو سہارا دیتی ہے اور دوسری جانب اس کا ہدف بھی واضح نہیں۔ اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے، مگر اس کے لیے مختص وسائل ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ فنانس بل میں غریب دوست پالیسیوں کے فقدان پر پارلیمان میں کوئی سنجیدہ بحث نہیں ہوئی، اور بل نسبتاً آسانی کے ساتھ منظور بھی کر لیا گیا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 06 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507811</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 15:07:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/07145018ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/07145018ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں بیان کرتا ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507449/finance-bill-2026-fbr-ministry-of-finance-national-assembly-pakistans-economy-federal-budget-fy2026-27-federal-budget-fy27-finance-act</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں سناتا ہے۔ ایک کہانی قانونی زبان میں لکھی جاتی ہے، جس میں نئے سیکشنز، متبادل شقیں اور ترمیم شدہ شیڈول شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کہانی خاموشی میں رقم ہوتی ہے، ان مباحث کے ذریعے جو کبھی ہوئے ہی نہیں، ان سوالات کے ذریعے جو کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے، اور ان آئینی ذمہ داریوں کے ذریعے جو کبھی ادا ہی نہیں کی گئیں۔ فنانس ایکٹ 2026 کا تعلق غالباً اسی دوسری قسم سے ہے۔ یہ محض ٹیکس عائد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ پارلیمان کی جانب سے اپنی بنیادی ترین آئینی ذمہ داریوں میں سے ایک سے مسلسل پسپائی کی داستان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14برس قبل، جب ہم نے انہی صفحات میں فنانس ایکٹ 2012 کا جائزہ لیتے ہوئے ”فنانس ایکٹ 2012: پارلیمان کہاں ہے؟“ (بزنس ریکارڈر، 29 جون 2012) کے عنوان سے لکھا تھا، تو یہ نشاندہی کی تھی کہ قومی اسمبلی عملاً محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ فنانس بل عجلت میں منظور کیا گیا، اہم ترامیم آخری لمحوں میں شامل کی گئیں، ٹیکسوں سے متعلق تقریباً کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اور آئین کے آرٹیکل 73 اور 82 کے تحت پارلیمان کے لیے وضع کردہ آئینی طریقۂ کار محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید کی جا رہی تھی کہ کئی برس کی آمرانہ مداخلت کے بعد بحال ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگی۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ اگر فنانس ایکٹ 2026 کسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اس کے کنٹرول کے مسلسل زوال کی ہے، جو اب پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ فنانس بل کوئی معمولی قانون سازی نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ دولت کس طرح جمع کی جائے گی، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، اور آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں پر کس نوعیت اور کس حد تک مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ ہر آئینی جمہوریت میں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نمائندہ حکومت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ان لوگوں کی رضامندی سے ناگزیر طور پر وابستہ ہے جن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصول صدیوں قبل من مانی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور بعد ازاں پوری جمہوری دنیا میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی آئینی بنیاد بن گیا۔ پاکستان کا آئین بھی اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مالیاتی اقدامات کو قانون کی شکل دینے سے قبل ان کا جائزہ لینے، ان پر بحث کرنے اور انہیں منظور کرنے کی ذمہ داری پارلیمان کو سونپی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کا عمل بالکل الٹی سمت اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ تقاریر محض سیاسی تماشہ بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ اصل فنانس بل کو ایک انتظامی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے تقریباً مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام تیار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کے قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمان کے ارکان شاذ و نادر ہی بل کی انفرادی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ عوام کو عموماً یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جن قانون سازوں نے آخرکار اس قانون کے حق میں ووٹ دیا، ان میں سے کتنے نے واقعی اس مسودۂ قانون کا مطالعہ بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2026 کے گرد رونما ہونے والے واقعات اس ادارہ جاتی ناکامی کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا، مختلف متعلقہ فریقوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور سرکاری حکام کا مؤقف سنا، اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم ترامیم اس وقت قانون کا حصہ بن گئیں جب سینیٹ اپنا آئینی مشاورتی کردار مکمل کر چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دفعات سینیٹ کے جائزے سے باہر رہیں، کیونکہ جب بل اس کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھیں۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی نے نظرثانی شدہ بل کو جلد بازی میں منظور کر لیا، بغیر اس پر کوئی بامعنی نئی بحث کیے۔ اس سے ایک اہم آئینی سوال جنم لیتا ہے، جس پر حیران کن طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اگر سینیٹ کے جائزے کی تکمیل کے بعد بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم شامل کی جا سکتی ہیں تو پھر آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ کے مشاورتی اختیار کی عملی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟ آئینی طریقۂ کار محض رسمی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وضع نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ ان قانونی دفعات پر مؤثر مشورہ نہیں دے سکتی جو کبھی اس کے سامنے پیش ہی نہ کی گئی ہوں۔ سینیٹ کے جائزے کے بعد بل میں نمایاں تبدیلیوں کی اجازت دے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے آئین کی ایک اہم حفاظتی ضمانت کو محض ایک رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ صرف قانون سازی کے طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس، بینکوں، کاروباری اداروں اور دیگر ثالثی اداروں پر عائد ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعمیل کے اضافی تقاضے، رپورٹنگ کی وسیع تر ذمہ داریاں، ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مزید گہرا ڈیجیٹل انضمام، خودکار نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار اور نفاذ کے اختیارات میں توسیع، یہ سب شہریوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمان نے ایک دوسرے، اتنے ہی اہم سوال پر غیر معمولی حد تک کم توجہ دی، اور وہ ہے ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں کا توازن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئینی نظام میں ٹیکس عائد کرنے کا تصور کبھی بھی صرف شہریوں کی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری پر مبنی نہیں رہا۔ اس کی بنیاد ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں پر استوار ہے۔ شہری اپنے وسائل کا ایک حصہ ریاستی اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بدلے ریاست قانونی یقین دہانی، قانون کے مطابق کارروائی (ڈیو پروسیس)، خفیہ معلومات کے تحفظ، تنازعات کے مؤثر اور بروقت تصفیے، بروقت ریفنڈز اور غیر جانبدارانہ انتظامی نظام کی ضمانت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ٹیکس وصولی باہمی ذمہ داریوں سے عاری ہو جائے تو وہ بتدریج آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے محض انتظامی استحصال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام اسی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری اداروں کو ٹیکس حکام کے ساتھ اپنے نظام الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، مگر پاکستان آج بھی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی سے محروم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی اور مالیاتی معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ سرکاری ڈیٹا بیسز میں منتقل کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارلیمان نے ان معلومات کے غلط استعمال، سائبر حملوں یا غیر مجاز افشا کے خلاف مؤثر قانونی تحفظات پہلے سے فراہم نہیں کیے۔ ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کریں جو خود ایک نامکمل قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پارلیمان نے اس تضاد پر بھی بمشکل کوئی بحث کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر روبرو کارروائی (فیس لیس اسیسمنٹ) کو جدید ٹیکس انتظامیہ کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی صوابدیدی اختیارات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن الگورتھمز ایسی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کا ازالہ نہیں کر سکتے جو اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ یہ صرف ٹیکس حکام کو پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی ٹیکس دہندگان کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کا موقع دیتے ہیں، جبکہ نقد معیشت، غیر رسمی لین دین اور پوشیدہ دولت بڑی حد تک ان کی دسترس سے باہر رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ٹیکنالوجی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکمت عملی بننے کے بجائے، قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی زیادہ مؤثر نگرانی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پارلیمان نے اس تبدیلی کو یہ مطالبہ کیے بغیر قبول کر لیا کہ پہلے ان بنیادی ساختی کمزوریوں کے حل کے شواہد پیش کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ کے تقریباً ہر حصے میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ ودہولڈنگ ایجنٹس پر نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کاروباری اداروں پر تعمیل کے مزید اخراجات کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، مالیاتی اداروں کو پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ دستاویزی ٹیکس دہندگان پر ضابطہ جاتی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس پارلیمان نے نہ تو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے قانونی تحفظ پر اصرار کیا، نہ خودکار فیصلوں کی آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا، نہ غلط ٹیکس تخمینوں پر جوابدہی کا مؤثر بندوبست کیا، نہ ریفنڈز کی قانونی طور پر قابلِ نفاذ مدت مقرر کی، اور نہ ہی خود ٹیکس انتظامیہ میں بامعنی اصلاحات پر زور دیا۔ ذمہ داریاں تو بڑھتی چلی گئیں، مگر ان کے متناسب حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سب سے بڑا تضاد کہیں اور ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 میں ایسی متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد پہلے سے ٹیکس حکام کی نظر میں موجود افراد کے خلاف نفاذ کے اختیارات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان ایک بار پھر ان کہیں بڑے سوالات سے نظریں چراتی دکھائی دی جو آج بھی پاکستان کے مالیاتی بحران کی اصل وجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھربوں روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ (ٹیکس اخراجات) اب بھی بڑی حد تک پارلیمانی نگرانی سے باہر ہیں۔ دولت کے وسیع حصے آج بھی مؤثر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ مالیاتی وفاقیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آئینی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کو اکثریتی حصہ حاصل ہونے کے باوجود ٹیکس پالیسی بتدریج زیادہ مرکزیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیادی اور ساختی مسئلے پر پارلیمان نے وہ مسلسل اور سنجیدہ توجہ نہیں دی جس کی وہ حق دار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال نہ اتفاقی ہے اور نہ نئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے لیے یہ سیاسی طور پر زیادہ آسان رہا ہے کہ وہ پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد پر مزید ذمہ داریاں عائد کریں، بجائے اس کے کہ معاشی مراعات یافتہ طبقوں کے مضبوط مراکز کو چیلنج کریں۔ ہر فنانس ایکٹ اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر فنانس ایکٹ تعمیل کے تقاضوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی اصلاحات ہمیشہ مؤخر ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ طاقت، اثرورسوخ اور انتظامی سہولت کے موجودہ مراکز کو چیلنج کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ المیہ صرف ناقص ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ خود پارلیمان کے بتدریج کمزور ہوتے جانے کا ہے۔ جب عوام کے منتخب نمائندے ٹیکسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نمائندہ حکومت کے قدیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں پارلیمان ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو مالیاتی معاملات میں حکومتِ وقت کے فیصلوں کی تشکیل کے بجائے محض ان کی رسمی توثیق کرتی ہے۔ یوں آئینی توازن خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں انتظامیہ کے حق میں منتقل ہوتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ایکٹ 2026 کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے کہ اس نے کون سے نئے ٹیکس عائد کیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے ایک ایسے آئینی رجحان کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت سالانہ بجٹ کا عمل بامعنی پارلیمانی غور و خوض سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کا مشاورتی کردار اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل میں اہم ترامیم شامل کر دی جائیں۔ قومی اسمبلی بھی اکثر انتہائی تکنیکی نوعیت کی قانون سازی کو ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر منظور کر دیتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق، مالیاتی وفاقیت، انتظامی جوابدہی اور ریاست و شہری کے درمیان آئینی باہمی ذمہ داری جیسے بنیادی موضوعات پارلیمانی مباحث میں بڑی حد تک غیر موجود رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کون سا ٹیکس اچھا ہے اور کون سا برا۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان اب بھی ٹیکس عائد کرنے کے عمل پر کوئی حقیقی اور مؤثر اختیار رکھتی ہے؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے سامنا نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس ایکٹ ریاست کے اختیارات میں اضافہ کرتا رہے گا اور ساتھ ہی اس ادارے کے آئینی کردار کو کمزور کرتا رہے گا جسے جمہوری طور پر ان اختیارات کی منظوری دینے کا واحد حق حاصل ہے۔ یہ محض مالیاتی پالیسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مسلسل آئینی ناکامی ہے، جس کے اثرات ٹیکس نظام سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 03 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر فنانس ایکٹ دو کہانیاں سناتا ہے۔ ایک کہانی قانونی زبان میں لکھی جاتی ہے، جس میں نئے سیکشنز، متبادل شقیں اور ترمیم شدہ شیڈول شامل ہوتے ہیں۔ دوسری کہانی خاموشی میں رقم ہوتی ہے، ان مباحث کے ذریعے جو کبھی ہوئے ہی نہیں، ان سوالات کے ذریعے جو کبھی اٹھائے ہی نہیں گئے، اور ان آئینی ذمہ داریوں کے ذریعے جو کبھی ادا ہی نہیں کی گئیں۔ فنانس ایکٹ 2026 کا تعلق غالباً اسی دوسری قسم سے ہے۔ یہ محض ٹیکس عائد کرنے کی کہانی نہیں، بلکہ پارلیمان کی جانب سے اپنی بنیادی ترین آئینی ذمہ داریوں میں سے ایک سے مسلسل پسپائی کی داستان ہے۔</strong></p>
<p>14برس قبل، جب ہم نے انہی صفحات میں فنانس ایکٹ 2012 کا جائزہ لیتے ہوئے ”فنانس ایکٹ 2012: پارلیمان کہاں ہے؟“ (بزنس ریکارڈر، 29 جون 2012) کے عنوان سے لکھا تھا، تو یہ نشاندہی کی تھی کہ قومی اسمبلی عملاً محض ایک ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ فنانس بل عجلت میں منظور کیا گیا، اہم ترامیم آخری لمحوں میں شامل کی گئیں، ٹیکسوں سے متعلق تقریباً کوئی بامعنی بحث نہیں ہوئی، اور آئین کے آرٹیکل 73 اور 82 کے تحت پارلیمان کے لیے وضع کردہ آئینی طریقۂ کار محض ایک رسمی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا۔</p>
<p>امید کی جا رہی تھی کہ کئی برس کی آمرانہ مداخلت کے بعد بحال ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوگی۔ تاہم تجربہ اس کے برعکس ثابت ہوا ہے۔ اگر فنانس ایکٹ 2026 کسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے تو وہ پارلیمان کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار پر اس کے کنٹرول کے مسلسل زوال کی ہے، جو اب پہلے سے بھی زیادہ نمایاں ہو چکا ہے۔</p>
<p>سالانہ فنانس بل کوئی معمولی قانون سازی نہیں ہوتی۔ اسی کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ دولت کس طرح جمع کی جائے گی، وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی، اور آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں پر کس نوعیت اور کس حد تک مالی بوجھ ڈالا جائے گا۔ ہر آئینی جمہوریت میں ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نمائندہ حکومت کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار ان لوگوں کی رضامندی سے ناگزیر طور پر وابستہ ہے جن پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ اصول صدیوں قبل من مانی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا اور بعد ازاں پوری جمہوری دنیا میں پارلیمانی نظامِ حکومت کی آئینی بنیاد بن گیا۔ پاکستان کا آئین بھی اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے اس نے مالیاتی اقدامات کو قانون کی شکل دینے سے قبل ان کا جائزہ لینے، ان پر بحث کرنے اور انہیں منظور کرنے کی ذمہ داری پارلیمان کو سونپی ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سالانہ بجٹ کا عمل بالکل الٹی سمت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>بجٹ تقاریر محض سیاسی تماشہ بن کر رہ گئی ہیں، جبکہ اصل فنانس بل کو ایک انتظامی دستاویز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے تقریباً مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام تیار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں کے قائمہ کمیٹیوں کا کردار بھی محدود رہ جاتا ہے۔</p>
<p>پارلیمان کے ارکان شاذ و نادر ہی بل کی انفرادی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ عوام کو عموماً یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جن قانون سازوں نے آخرکار اس قانون کے حق میں ووٹ دیا، ان میں سے کتنے نے واقعی اس مسودۂ قانون کا مطالعہ بھی کیا تھا۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2026 کے گرد رونما ہونے والے واقعات اس ادارہ جاتی ناکامی کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ بے نقاب کرتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل کا جائزہ لیا، مختلف متعلقہ فریقوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور سرکاری حکام کا مؤقف سنا، اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کیں۔</p>
<p>اہم ترامیم اس وقت قانون کا حصہ بن گئیں جب سینیٹ اپنا آئینی مشاورتی کردار مکمل کر چکی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ دفعات سینیٹ کے جائزے سے باہر رہیں، کیونکہ جب بل اس کے سامنے پیش کیا گیا تھا، اس وقت یہ موجود ہی نہیں تھیں۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی نے نظرثانی شدہ بل کو جلد بازی میں منظور کر لیا، بغیر اس پر کوئی بامعنی نئی بحث کیے۔ اس سے ایک اہم آئینی سوال جنم لیتا ہے، جس پر حیران کن طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اگر سینیٹ کے جائزے کی تکمیل کے بعد بل میں بنیادی نوعیت کی ترامیم شامل کی جا سکتی ہیں تو پھر آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ کے مشاورتی اختیار کی عملی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟ آئینی طریقۂ کار محض رسمی کارروائیاں انجام دینے کے لیے وضع نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>سینیٹ ان قانونی دفعات پر مؤثر مشورہ نہیں دے سکتی جو کبھی اس کے سامنے پیش ہی نہ کی گئی ہوں۔ سینیٹ کے جائزے کے بعد بل میں نمایاں تبدیلیوں کی اجازت دے کر یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے آئین کی ایک اہم حفاظتی ضمانت کو محض ایک رسمی کارروائی میں تبدیل کر دیا ہے۔</p>
<p>تاہم مسئلہ صرف قانون سازی کے طریقۂ کار تک محدود نہیں۔ فنانس ایکٹ 2026 ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹس، بینکوں، کاروباری اداروں اور دیگر ثالثی اداروں پر عائد ذمہ داریوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>تعمیل کے اضافی تقاضے، رپورٹنگ کی وسیع تر ذمہ داریاں، ایف بی آر کے ڈیٹا بیس کے ساتھ مزید گہرا ڈیجیٹل انضمام، خودکار نظاموں پر بڑھتا ہوا انحصار اور نفاذ کے اختیارات میں توسیع، یہ سب شہریوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمان نے ایک دوسرے، اتنے ہی اہم سوال پر غیر معمولی حد تک کم توجہ دی، اور وہ ہے ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں کا توازن۔</p>
<p>آئینی نظام میں ٹیکس عائد کرنے کا تصور کبھی بھی صرف شہریوں کی ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری پر مبنی نہیں رہا۔ اس کی بنیاد ریاست اور ٹیکس دہندگان کے درمیان باہمی ذمہ داریوں پر استوار ہے۔ شہری اپنے وسائل کا ایک حصہ ریاستی اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بدلے ریاست قانونی یقین دہانی، قانون کے مطابق کارروائی (ڈیو پروسیس)، خفیہ معلومات کے تحفظ، تنازعات کے مؤثر اور بروقت تصفیے، بروقت ریفنڈز اور غیر جانبدارانہ انتظامی نظام کی ضمانت دیتی ہے۔</p>
<p>جب ٹیکس وصولی باہمی ذمہ داریوں سے عاری ہو جائے تو وہ بتدریج آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے محض انتظامی استحصال کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا مالیاتی نظام اسی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>کاروباری اداروں کو ٹیکس حکام کے ساتھ اپنے نظام الیکٹرانک طور پر مربوط کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، مگر پاکستان آج بھی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق جامع قانون سازی سے محروم ہے۔</p>
<p>تجارتی اور مالیاتی معلومات کا ایک وسیع ذخیرہ سرکاری ڈیٹا بیسز میں منتقل کیا جا رہا ہے، حالانکہ پارلیمان نے ان معلومات کے غلط استعمال، سائبر حملوں یا غیر مجاز افشا کے خلاف مؤثر قانونی تحفظات پہلے سے فراہم نہیں کیے۔ ٹیکس دہندگان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایسے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کریں جو خود ایک نامکمل قانونی فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پارلیمان نے اس تضاد پر بھی بمشکل کوئی بحث کی۔</p>
<p>اسی طرح مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر روبرو کارروائی (فیس لیس اسیسمنٹ) کو جدید ٹیکس انتظامیہ کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی صوابدیدی اختیارات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن الگورتھمز ایسی معیشت کی بنیادی کمزوریوں کا ازالہ نہیں کر سکتے جو اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ یہ صرف ٹیکس حکام کو پہلے سے رجسٹرڈ اور دستاویزی ٹیکس دہندگان کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کا موقع دیتے ہیں، جبکہ نقد معیشت، غیر رسمی لین دین اور پوشیدہ دولت بڑی حد تک ان کی دسترس سے باہر رہتی ہے۔</p>
<p>یوں ٹیکنالوجی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکمت عملی بننے کے بجائے، قانون کی پابندی کرنے والے ٹیکس دہندگان کی زیادہ مؤثر نگرانی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ پارلیمان نے اس تبدیلی کو یہ مطالبہ کیے بغیر قبول کر لیا کہ پہلے ان بنیادی ساختی کمزوریوں کے حل کے شواہد پیش کیے جائیں۔</p>
<p>فنانس ایکٹ کے تقریباً ہر حصے میں یہی رجحان دکھائی دیتا ہے۔ ودہولڈنگ ایجنٹس پر نئی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں، کاروباری اداروں پر تعمیل کے مزید اخراجات کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، مالیاتی اداروں کو پہلے سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ دستاویزی ٹیکس دہندگان پر ضابطہ جاتی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس پارلیمان نے نہ تو ٹیکس دہندگان کے حقوق کے قانونی تحفظ پر اصرار کیا، نہ خودکار فیصلوں کی آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام وضع کیا، نہ غلط ٹیکس تخمینوں پر جوابدہی کا مؤثر بندوبست کیا، نہ ریفنڈز کی قانونی طور پر قابلِ نفاذ مدت مقرر کی، اور نہ ہی خود ٹیکس انتظامیہ میں بامعنی اصلاحات پر زور دیا۔ ذمہ داریاں تو بڑھتی چلی گئیں، مگر ان کے متناسب حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔</p>
<p>تاہم سب سے بڑا تضاد کہیں اور ہے۔ فنانس ایکٹ 2026 میں ایسی متعدد دفعات شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد پہلے سے ٹیکس حکام کی نظر میں موجود افراد کے خلاف نفاذ کے اختیارات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب پارلیمان ایک بار پھر ان کہیں بڑے سوالات سے نظریں چراتی دکھائی دی جو آج بھی پاکستان کے مالیاتی بحران کی اصل وجہ ہیں۔</p>
<p>کھربوں روپے مالیت کی ٹیکس چھوٹ (ٹیکس اخراجات) اب بھی بڑی حد تک پارلیمانی نگرانی سے باہر ہیں۔ دولت کے وسیع حصے آج بھی مؤثر ٹیکس نظام سے بچ نکلتے ہیں۔</p>
<p>غیر رسمی معیشت اب بھی بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے۔ مالیاتی وفاقیت مسلسل کمزور ہو رہی ہے کیونکہ آئینی طور پر قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کو اکثریتی حصہ حاصل ہونے کے باوجود ٹیکس پالیسی بتدریج زیادہ مرکزیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ان میں سے کسی بھی بنیادی اور ساختی مسئلے پر پارلیمان نے وہ مسلسل اور سنجیدہ توجہ نہیں دی جس کی وہ حق دار تھے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال نہ اتفاقی ہے اور نہ نئی۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے لیے یہ سیاسی طور پر زیادہ آسان رہا ہے کہ وہ پہلے سے ٹیکس نظام میں شامل افراد پر مزید ذمہ داریاں عائد کریں، بجائے اس کے کہ معاشی مراعات یافتہ طبقوں کے مضبوط مراکز کو چیلنج کریں۔ ہر فنانس ایکٹ اصلاحات کا وعدہ کرتا ہے۔ ہر فنانس ایکٹ تعمیل کے تقاضوں میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر حقیقی اور بنیادی اصلاحات ہمیشہ مؤخر ہوتی رہتی ہیں، کیونکہ وہ طاقت، اثرورسوخ اور انتظامی سہولت کے موجودہ مراکز کو چیلنج کرتی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ المیہ صرف ناقص ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ خود پارلیمان کے بتدریج کمزور ہوتے جانے کا ہے۔ جب عوام کے منتخب نمائندے ٹیکسوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نمائندہ حکومت کے قدیم ترین اور اہم ترین فرائض میں سے ایک سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں پارلیمان ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو جاتی ہے جو مالیاتی معاملات میں حکومتِ وقت کے فیصلوں کی تشکیل کے بجائے محض ان کی رسمی توثیق کرتی ہے۔ یوں آئینی توازن خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں انتظامیہ کے حق میں منتقل ہوتا جاتا ہے۔</p>
<p>فنانس ایکٹ 2026 کو صرف اس لیے یاد نہیں رکھا جانا چاہیے کہ اس نے کون سے نئے ٹیکس عائد کیے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے ایک ایسے آئینی رجحان کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت سالانہ بجٹ کا عمل بامعنی پارلیمانی غور و خوض سے بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>سینیٹ کا مشاورتی کردار اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد بل میں اہم ترامیم شامل کر دی جائیں۔ قومی اسمبلی بھی اکثر انتہائی تکنیکی نوعیت کی قانون سازی کو ہر شق کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر منظور کر دیتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق، مالیاتی وفاقیت، انتظامی جوابدہی اور ریاست و شہری کے درمیان آئینی باہمی ذمہ داری جیسے بنیادی موضوعات پارلیمانی مباحث میں بڑی حد تک غیر موجود رہتے ہیں۔</p>
<p>14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔</p>
<p>اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کون سا ٹیکس اچھا ہے اور کون سا برا۔ اس سے کہیں زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمان اب بھی ٹیکس عائد کرنے کے عمل پر کوئی حقیقی اور مؤثر اختیار رکھتی ہے؟ جب تک اس سوال کا دیانت داری سے سامنا نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس ایکٹ ریاست کے اختیارات میں اضافہ کرتا رہے گا اور ساتھ ہی اس ادارے کے آئینی کردار کو کمزور کرتا رہے گا جسے جمہوری طور پر ان اختیارات کی منظوری دینے کا واحد حق حاصل ہے۔ یہ محض مالیاتی پالیسی کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مسلسل آئینی ناکامی ہے، جس کے اثرات ٹیکس نظام سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 03 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507449</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 16:20:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/041617106d246a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/041617106d246a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا ابھی سے امن پر بھروسا کر لیا گیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507326/oil-prices-strait-of-hormuz-gasoline-prices-oil-markets-petrol-prices-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 02 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر جاری کشیدگی میں عارضی کمی کے ساتھ ہی تیل کی منڈیوں نے گزشتہ ہفتہ کچھ اس انداز میں گزارا ہے جیسے بدترین وقت گزر چکا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں سے جنگی اثرات کے باعث بڑھنے والا غیر معمولی پریمیم اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے، تیل بردار بحری جہاز ایک بار پھر آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں اور سرمایہ کار تیزی سے نقصان کے خطرے والے اثاثوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کا یہ سکون عالمی جغرافیائی استحکام سے زیادہ سیاسی ضرورتوں کا مرہونِ منت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ پیغام بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اب محاذ آرائی کی جگہ سفارت کاری نے لے لی ہے لیکن کیا بنیادی طور پر کوئی چیز واقعی بدلی ہے یا منڈیاں محض اگلے پانچ برس کے بجائے صرف آئندہ ساٹھ دنوں کے منظر نامے کو سامنے رکھ کر قیمتوں کا تعین کر رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں ہونے والی تازہ ترین ہلچل سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔</p>
<p>واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی تاحال نازک موڑ پر ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں کی رپورٹس نے پہلے ہی موجودہ معاہدے کے پائیدار ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ خود مذاکرات کا دائرہ بھی محدود، عارضی اور ان سیاسی مفادات پر منحصر ہے جو نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم (مڈ مڈٹرم) انتخابات کے بعد بالکل مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر آج کا یہ سکون بڑی حد تک انتخابی گنتی کا مرہونِ منت ہے تو پھر اس وقت کیا ہوگا جب یہ انتخابی مساوات بدل جائے گی؟</p>
<p>منڈیاں پہلے بھی اس صورتحال سے گزر چکی ہیں۔ پیش رفت کی ہر ہلکی سی جھلک تیل کی قیمتوں کو نیچے لے آتی ہے اور تناؤ کی ہر نئی علامت خریداروں کو واپس کھینچ لاتی ہے۔ یہ صورتحال مستقل امن پر اعتماد سے زیادہ اس یقین کو ظاہر کرتی ہے کہ کوئی بھی فریق فی الوقت فوری طور پر معاملات کو طول دینا نہیں چاہتا لیکن ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔شاید اس سے زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ کیا حکومتوں کو بھی وہی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے جو تاجروں کا ہے؟ مالیاتی منڈیاں امکانات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام نتائج اور اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرنا ہوتا ہے۔ تاجر تو چند ہفتوں کے لیے غلط اندازے کا نقصان برداشت کر سکتے ہیں لیکن توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کو ایسا عیاشی کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔</p>
<p>اس تنازع کے پہلے مرحلے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایران ایک بھی میزائل داغے بغیر کتنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد عارضی تعطل ہی تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جانے، بانڈ مارکیٹوں کو ہلانے اور دنیا کے بڑے حصے میں مہنگائی کی تشویش کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال ہونے کے بعد بھی ایک سبق کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ تہران کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرے، اسے منڈیوں کو صرف اس بات کا یقین دلانا ہے کہ وہ سپلائی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ رسک پریمیم صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں بالآخر مال برداری، کھاد، ہوا بازی، مینوفیکچرنگ اور اشیائے خورونوش پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مرکزی بینک مہنگائی کے خطرات کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کرتے ہیں، بانڈ ییلڈز اس کا جواب دیتی ہیں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جو معاملہ جیو پولیٹیکل تصادم سے شروع ہوا تھا، وہ معاشی تصادم میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>کیا نومبر کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ خود کو دہرا سکتا ہے؟ اس کا یقین کے ساتھ جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ تاہم اس حقیقت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی اندرونی سیاسی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی اونچی قیمتیں اقتدار میں موجود انتظامیہ کے لیے کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور کانگریس کے انتخابات سے چند ماہ قبل تو یہ بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ اگر مڈٹرم انتخابات کے بعد ایندھن کی قیمتوں کو کم رکھنا سیاسی طور پر اتنا اہم نہ رہا تو کیا واشنگٹن کے اسٹریٹجک حساب کتاب بالکل یہی رہیں گے؟ اور اگر مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں جیسے گہرے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہے تو تصادم کے ایک اور سلسلے کو روکنے کا کیا راستہ ہے؟</p>
<p>یہ سوالات کوئی پیش گوئیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ یاد دہانیاں ہیں کہ عارضی جنگ بندی اور مستقل تصفیے دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔</p>
<p>سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مالیاتی منڈیاں کسی مستقل حل کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کے مطابق قیمتیں طے کرنے میں سکون محسوس کر رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ اپنی جنگی بلندیوں سے تیزی سے نیچے آ گیا ہے کیونکہ تاجروں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل محفوظ رہے گی۔ ایکویٹی مارکیٹوں نے تیل کی کم قیمتوں کی واپسی اور مہنگائی کے خطرات میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کیا طویل مدتی توانائی کی حفاظت کی ذمہ دار حکومتوں کو بھی یہی مفروضہ قائم کر لینا چاہیے؟</p>
<p>یورپ اس وقت ایک مختلف سوال پوچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پانچ سالوں میں توانائی کے دو بڑے جھٹکے برداشت کرنے کے بعد اب پورے براعظم کے پالیسی ساز قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی اور کچھ ممالک میں مقامی سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جیو پولیٹیکل خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا لیکن یہ دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے درآمدی فوسل فیول پر انحصار کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔حتیٰ کہ قابلِ تجدید ٹیکنالوجی پر انحصار کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز شاید چینی مینوفیکچرنگ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہوں لیکن ایک بار نصب ہونے کے بعد وہ بجلی پیدا کرتے رہتے ہیں، قطع نظر اس کے کہ اگلے ہفتے خلیج سے کوئی آئل ٹینکر پہنچتا ہے یا نہیں۔ تیل اور گیس کی صورت میں ایسی کوئی رعایت حاصل نہیں ہوتی، وہاں سپلائی میں ہر رکاوٹ کا اثر فوری طور پر شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فرق پورے ایشیا میں زیادہ توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر شدید انحصار کرتا ہے۔ ان کی معیشتیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن بیرونی توانائی کے جھٹکوں کے سامنے ان کی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل کو بڑھاتا ہے، مہنگائی کے انتظام کو پیچیدہ کرتا اور کرنسیوں سمیت سرکاری خزانے پر نیا دباؤ ڈالتا ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر کو باقی ممالک سے بہتر سمجھتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پائیدار اضافہ بالآخر ملک کے بیرونی کھاتوں، مہنگائی کے منظر نامے اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پالیسی ساز ہر دھچکے کے بعد اس کے نتائج کو سنبھالنے میں اپنی کافی توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن کیا اتنی ہی توجہ اگلا بحران آنے سے پہلے ملک کو ان بیرونی خطرات سے محفوظ بنانے پر نہیں دی جانی چاہیے؟</p>
<p>موجودہ جنگ بندی سے ابھرنے والا یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ مارکیٹیں اس بحث کو جاری رکھ سکتی ہیں کہ آیا امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک اور تصادم جنم لے گا یا نہیں، مگر حکومتوں کو بالکل مختلف چیلنج کا سامنا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی موجودہ کم قیمتیں سکون سے بیٹھنے کا موقع ہیں یا اگلے بحران کی تیاری کا۔</p>
<p>تاریخ شاذ و نادر ہی اگلے توانائی کے بحران کے وقت کا اعلان کرکے آتی ہے لیکن یہ بعد میں ہمیشہ یہ ضرور واضح کر دیتی ہے کہ کن ممالک نے عارضی سکون کو مستقل استحکام سمجھنے کی غلطی کی تھی۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 02 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507326</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Jul 2026 16:02:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/031600272dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/031600272dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دانستہ چشم پوشی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507024/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک یونانی المیہ ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی، اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر یکم جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔</strong></p>
<p>ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔</p>
<p>اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک یونانی المیہ ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔</p>
<p>رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔</p>
<p>ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔</p>
<p>ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔</p>
<p>مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔</p>
<p>لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔</p>
<p>تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔</p>
<p>یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔</p>
<p>دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی، اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر یکم جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507024</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 15:52:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/0115465742fcb69.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/0115465742fcb69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صوبوں کے بجٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506948/ishaq-dar-balochistan-khyber-pakhtunkhwa-punjab-fbr-imf-sindh-federal-board-of-revenue-international-monetary-fund-imf-nfc-imf-and-pakistan-province-of-pakistan-budget-2026-27</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی اور صوبائی بجٹوں کے درمیان تعلق جیسا کہ مئی 2026 میں جاری پروگرام کے تیسرے جائزے سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی دستاویزات میں طے کیا گیا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی ٹیکس محصولات کے اہداف ایسے مقرر کیے جائیں کہ ٹیکس محصولات اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب میں 0.3 فیصد پوائنٹس کا اضافی حصہ شامل ہو، اور اسی کے مطابق پرائمری سرپلس کے اہداف بھی حاصل کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے برائے نام مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 452 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس بنیاد پر صوبوں کا متوقع حصہ 1.356 ارب ڈالر، یا اگلے مالی سال کے لیے ایک ڈالر کے 290 روپے کے متوقع زرِ مبادلہ کی شرح کے حساب سے تقریباً 398 ارب روپے بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ”صوبے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مؤثر نفاذ کا دائرہ مسلسل اور ثابت قدمی سے وسیع کرتے ہوئے اسے بتدریج معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلائیں گے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔ زرعی آمدنی پر نئے ٹیکس کی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدنی پر لاگو ہوں گی، تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اثر مالی سال 2027 میں ظاہر ہوگا۔ صوبوں نے ملکی محصولات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ خدمات پر جی ایس ٹی کے دائرۂ کار میں توسیع اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نفاذ کے باعث صوبائی ٹیکس محصولات میں اضافہ برائے نام جی ڈی پی کی شرح نمو سے خاصا زیادہ رہا ہے۔ تاہم زرعی آمدنی پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی نظرثانی شدہ شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور عملدرآمد سے متعلق دیگر مشکلات کے باعث توقعات سے کم رہی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ضمن میں دو نکات نہایت اہم ہیں۔ اول، 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے صوبے آج تک مطلوبہ انتظامی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے، حالانکہ ان شعبوں پر وفاقی بجٹ کے اخراجات ختم ہونا تھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر 2010 کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل اس ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں ہر سال ایک فیصد اضافہ کیا جائے، جس سے وفاق اپنی اخراجاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ محصولات حاصل کر سکتا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2009-10 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.9 فیصد تھا، جو 2025 تک معمولی اضافے کے ساتھ 11.2 فیصد تک پہنچا، جبکہ 2025-26 کے لیے اس کا تخمینہ 11.1 فیصد لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2010 کے بعد سے اقتدار میں آنے والی تینوں بڑی قومی جماعتوں کی حکومتوں نے، اندرونِ ملک بھاری قرض لینے اور جب بھی جاری کھاتوں کا خسارہ ناقابلِ برداشت سطح پر پہنچا تو 2008، 2013، 2019، 2023 اور 2024 میں آئی ایم ایف کے پروگراموں سے رجوع کرنے کے علاوہ، اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو اہم ذرائع آمدن پر انحصار کیا۔ ان میں پہلا صوبائی سرپلس ہے، جو 2010-11 میں 150 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 کے بجٹ میں 1.79 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا ذریعہ پیٹرولیم لیوی ہے، جسے دیگر ٹیکسز کے خانے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ درحقیقت سیلز ٹیکس ہے اور اسے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس کے ذیلی خانے میں شامل ہونا چاہیے تھا، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل میں بھی اس کا حصہ نہیں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2010-11 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے 135 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم حقیقی وصولی 82.75 ارب روپے رہی۔ اس کے برعکس 2026-27 کے بجٹ میں اس مد سے 1.67 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ”پیٹرولیم مصنوعات پر مؤثر ٹیکس کی شرح 166 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث حکومتی محصولات کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر عائد ٹیکسوں پر ہے اور یہ کسی بھی بیرونی جھٹکے سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے والی سیاسی جماعتیں، عمران خان کے دورِ حکومت کے ساڑھے تین برسوں کو چھوڑ کر، 2010 سے مسلسل اقتدار میں رہی ہیں۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تقریباً ہر مذاکرات میں ان کا مؤقف یہی رہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی تاکہ صوبوں کے حصے میں کمی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض مبصرین اس طرزِ فکر کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ایسے ٹیکنوکریٹس کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا جنہیں اٹھارویں ترمیم کے پس منظر یا اس سے وابستگی حاصل نہیں تھی۔ تاہم اسحاق ڈار، جنہوں نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل پنجاب کی نمائندگی کی اور اپنی جماعت کی قیادت کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے، وہ بھی نجی اور عوامی سطح پر متعدد بار ایف بی آر کے محصولات کی زیادہ منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بھی وقفے وقفے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ محصولات کی تقسیم میں توازن پیدا کیا جائے، خواہ اس کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے، جس کا فیصلہ، وزیرِ خزانہ کے مطابق آئندہ سال تک مؤخر کر دیا گیا ہے، یا پھر صوبوں کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2026 میں وزیرِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ میں کہا گیا ہے کہ ”تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا اقدام اختیار نہیں کریں گے جسے اس خط یا اس کے ساتھ منسلک معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشتوں میں درج وعدوں اور پالیسیوں کے منافی یا انہیں کمزور کرنے والا سمجھا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی صوبائی سرپلس 1.79 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ پنجاب نے 910 ارب روپے سرپلس کا تخمینہ لگایا ہے، جو اس کی مجموعی صوبائی وصولیوں 749 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے اور قابلِ تقسیم محاصل میں اس کے 51.74 فیصد حصے سے بھی تجاوز کرتا ہے۔ پنجاب نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف بھی نظرثانی شدہ 363 ارب روپے سے بڑھا کر 521 ارب روپے مقرر کیا ہے، جو 44 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس سندھ نے 36.9 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، تاہم خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 2025-26 کے نظرثانی شدہ 362 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 456 ارب روپے رکھا ہے، جو 26 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ نسبتاً حقیقت پسندانہ سمجھے جانے والے اس ہدف کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پنجاب کا 44 فیصد اضافہ حاصل کرنا واقعی ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح خیبر پختونخوا نے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 57 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال میں 80 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو 40 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کا بجٹ تاحال متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا، اس لیے خدمات پر ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاروں صوبوں کی ایک مشترکہ کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) ایسی سطح پر نافذ نہیں کیا جو تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے کسی حد تک بھی مساوی ہو۔ پنجاب نے آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں محض 12.5 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا ہے، جبکہ رواں مالی سال میں 3.99 ارب روپے وصول ہوئے، حالانکہ بجٹ میں 10.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 8 ارب روپے کا ہدف رکھا تھا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے وصولیوں کا ہدف 6 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی صرف 13 کروڑ روپے رہی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 16 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے حوالے سے اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی بجٹ کی طرح صوبوں کا انحصار بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ ان ٹیکسوں کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ دوسری جانب، اپنی اپنی انتخابی حلقوں میں سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے مخصوص شعبوں کو سبسڈیز بھی دی جا رہی ہیں، جبکہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے گریز کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا اطلاق صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے 80 فیصد سے زائد ارکان پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر وفاق کی توجہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہو، تو پے در پے آنے والی حکومتوں کو درپیش شدید مالی وسائل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 29 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی اور صوبائی بجٹوں کے درمیان تعلق جیسا کہ مئی 2026 میں جاری پروگرام کے تیسرے جائزے سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی دستاویزات میں طے کیا گیا ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صوبائی ٹیکس محصولات کے اہداف ایسے مقرر کیے جائیں کہ ٹیکس محصولات اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب میں 0.3 فیصد پوائنٹس کا اضافی حصہ شامل ہو، اور اسی کے مطابق پرائمری سرپلس کے اہداف بھی حاصل کیے جائیں۔</strong></p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے برائے نام مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 452 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس بنیاد پر صوبوں کا متوقع حصہ 1.356 ارب ڈالر، یا اگلے مالی سال کے لیے ایک ڈالر کے 290 روپے کے متوقع زرِ مبادلہ کی شرح کے حساب سے تقریباً 398 ارب روپے بنتا ہے۔</p>
<p>دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ ”صوبے خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے مؤثر نفاذ کا دائرہ مسلسل اور ثابت قدمی سے وسیع کرتے ہوئے اسے بتدریج معیشت کے تمام شعبوں تک پھیلائیں گے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔ زرعی آمدنی پر نئے ٹیکس کی شرحیں مالی سال 2026 کی زرعی آمدنی پر لاگو ہوں گی، تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا اثر مالی سال 2027 میں ظاہر ہوگا۔ صوبوں نے ملکی محصولات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ خدمات پر جی ایس ٹی کے دائرۂ کار میں توسیع اور ٹیکس وصولی کے مؤثر نفاذ کے باعث صوبائی ٹیکس محصولات میں اضافہ برائے نام جی ڈی پی کی شرح نمو سے خاصا زیادہ رہا ہے۔ تاہم زرعی آمدنی پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی نظرثانی شدہ شرحوں کے نفاذ میں تاخیر اور عملدرآمد سے متعلق دیگر مشکلات کے باعث توقعات سے کم رہی۔“</p>
<p>اس ضمن میں دو نکات نہایت اہم ہیں۔ اول، 2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے شعبوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے صوبے آج تک مطلوبہ انتظامی صلاحیت پیدا نہیں کر سکے، حالانکہ ان شعبوں پر وفاقی بجٹ کے اخراجات ختم ہونا تھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر 2010 کے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کیا گیا تھا۔</p>
<p>دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مسلسل اس ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں ہر سال ایک فیصد اضافہ کیا جائے، جس سے وفاق اپنی اخراجاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ محصولات حاصل کر سکتا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2009-10 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.9 فیصد تھا، جو 2025 تک معمولی اضافے کے ساتھ 11.2 فیصد تک پہنچا، جبکہ 2025-26 کے لیے اس کا تخمینہ 11.1 فیصد لگایا گیا ہے۔</p>
<p>2010 کے بعد سے اقتدار میں آنے والی تینوں بڑی قومی جماعتوں کی حکومتوں نے، اندرونِ ملک بھاری قرض لینے اور جب بھی جاری کھاتوں کا خسارہ ناقابلِ برداشت سطح پر پہنچا تو 2008، 2013، 2019، 2023 اور 2024 میں آئی ایم ایف کے پروگراموں سے رجوع کرنے کے علاوہ، اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو اہم ذرائع آمدن پر انحصار کیا۔ ان میں پہلا صوبائی سرپلس ہے، جو 2010-11 میں 150 ارب روپے سے بڑھ کر 2026-27 کے بجٹ میں 1.79 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا ذریعہ پیٹرولیم لیوی ہے، جسے دیگر ٹیکسز کے خانے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ یہ درحقیقت سیلز ٹیکس ہے اور اسے ایف بی آر کے سیلز ٹیکس کے ذیلی خانے میں شامل ہونا چاہیے تھا، جبکہ قابلِ تقسیم محاصل میں بھی اس کا حصہ نہیں رکھا گیا۔</p>
<p>2010-11 کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی سے 135 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا، تاہم حقیقی وصولی 82.75 ارب روپے رہی۔ اس کے برعکس 2026-27 کے بجٹ میں اس مد سے 1.67 کھرب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ”پیٹرولیم مصنوعات پر مؤثر ٹیکس کی شرح 166 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث حکومتی محصولات کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر عائد ٹیکسوں پر ہے اور یہ کسی بھی بیرونی جھٹکے سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔“</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ تشکیل دینے والی سیاسی جماعتیں، عمران خان کے دورِ حکومت کے ساڑھے تین برسوں کو چھوڑ کر، 2010 سے مسلسل اقتدار میں رہی ہیں۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تقریباً ہر مذاکرات میں ان کا مؤقف یہی رہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی تاکہ صوبوں کے حصے میں کمی کی جا سکے۔</p>
<p>بعض مبصرین اس طرزِ فکر کی وجہ یہ قرار دیتے ہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ایسے ٹیکنوکریٹس کو وزیرِ خزانہ مقرر کیا جنہیں اٹھارویں ترمیم کے پس منظر یا اس سے وابستگی حاصل نہیں تھی۔ تاہم اسحاق ڈار، جنہوں نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل پنجاب کی نمائندگی کی اور اپنی جماعت کی قیادت کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے، وہ بھی نجی اور عوامی سطح پر متعدد بار ایف بی آر کے محصولات کی زیادہ منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔</p>
<p>شاید یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد بھی وقفے وقفے سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ محصولات کی تقسیم میں توازن پیدا کیا جائے، خواہ اس کے لیے آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے، جس کا فیصلہ، وزیرِ خزانہ کے مطابق آئندہ سال تک مؤخر کر دیا گیا ہے، یا پھر صوبوں کے اپنے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>اپریل 2026 میں وزیرِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی جانب سے دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ میں کہا گیا ہے کہ ”تمام صوبوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی پالیسی یا اقدام اختیار نہیں کریں گے جسے اس خط یا اس کے ساتھ منسلک معاشی و مالیاتی پالیسیوں کی یادداشتوں میں درج وعدوں اور پالیسیوں کے منافی یا انہیں کمزور کرنے والا سمجھا جائے۔“</p>
<p>وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی صوبائی سرپلس 1.79 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ پنجاب نے 910 ارب روپے سرپلس کا تخمینہ لگایا ہے، جو اس کی مجموعی صوبائی وصولیوں 749 ارب روپے سے بھی زیادہ ہے اور قابلِ تقسیم محاصل میں اس کے 51.74 فیصد حصے سے بھی تجاوز کرتا ہے۔ پنجاب نے خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف بھی نظرثانی شدہ 363 ارب روپے سے بڑھا کر 521 ارب روپے مقرر کیا ہے، جو 44 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس سندھ نے 36.9 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، تاہم خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 2025-26 کے نظرثانی شدہ 362 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 456 ارب روپے رکھا ہے، جو 26 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ نسبتاً حقیقت پسندانہ سمجھے جانے والے اس ہدف کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پنجاب کا 44 فیصد اضافہ حاصل کرنا واقعی ممکن ہوگا۔</p>
<p>اسی طرح خیبر پختونخوا نے 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے، جبکہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ 57 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال میں 80 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو 40 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔</p>
<p>بلوچستان کا بجٹ تاحال متعلقہ محکمے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا، اس لیے خدمات پر ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>چاروں صوبوں کی ایک مشترکہ کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) ایسی سطح پر نافذ نہیں کیا جو تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کے کسی حد تک بھی مساوی ہو۔ پنجاب نے آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں محض 12.5 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا ہے، جبکہ رواں مالی سال میں 3.99 ارب روپے وصول ہوئے، حالانکہ بجٹ میں 10.5 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>سندھ نے رواں مالی سال کے بجٹ میں 8 ارب روپے کا ہدف رکھا تھا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے وصولیوں کا ہدف 6 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی صرف 13 کروڑ روپے رہی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 16 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے حوالے سے اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔</p>
<p>مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی بجٹ کی طرح صوبوں کا انحصار بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر بڑھتا جا رہا ہے، حالانکہ ان ٹیکسوں کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب عوام پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ دوسری جانب، اپنی اپنی انتخابی حلقوں میں سیاسی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے مخصوص شعبوں کو سبسڈیز بھی دی جا رہی ہیں، جبکہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے سے گریز کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کا اطلاق صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے 80 فیصد سے زائد ارکان پر بھی ہوگا۔</p>
<p>آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر وفاق کی توجہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہو، تو پے در پے آنے والی حکومتوں کو درپیش شدید مالی وسائل کی کمی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 29 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506948</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 12:32:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30115513ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30115513ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شمسی انقلاب اور اس کا تضاد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506914/electricity-energy-sector-solar-energy-electricity-generation-solar-pv-european-union-european-union-solar-power-power-sector-power-sector-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیس برس میں اگر کسی ایک ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی امید دی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ کا پانسہ پلٹا ہے تو وہ شمسی توانائی (سولر انرجی) ہے۔ جو سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز کبھی عام آدمی کی پہنچ سے دور اور انتہائی مہنگے ہوا کرتے تھے وہ آج کرۂ ارض پر بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین ذریعہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ انقلابی ٹیکنالوجی موجودہ دہائی کے اختتام تک دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط ستون بننے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر نصب شدہ صلاحیت 2010 میں بمشکل 40 گیگا واٹ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1.6 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ شمسی توانائی کاربن کے اخراج کو کم کرتی ہے، غیر مستحکم فوسل فیول (معدنی ایندھن) کی مارکیٹوں پر انحصار گھٹاتی، گھروں کے بجلی کے بل کم کرتی اور شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں میں بھی توانائی کی رسائی کو وسعت دیتی ہے۔ یہ ایک صاف ستھرے اور زیادہ غیر مرکزی توانائی کے مستقبل کی علامت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے وہ یہ کہ ہر سولر پینل کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ زیادہ تر فوٹو وولٹک پینل 25 سے 30 سال تک چلنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور جاپان سے لے کر چین، امریکہ اور دیگر ممالک تک میں بڑے پیمانے پر لگائی گئی پہلی نسل کے پینلز اب اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہیں۔ اس کے نتیجے میں کچرے کی ایک ایسی بڑی لہر ابھر رہی ہے جس کا متبادل توانائی کے شعبے کو اب تک کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں 78 سے 80 ملین میٹرک ٹن سولر پینل کا کچرا پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ وزن ایفل ٹاور کے مجموعی وزن سے 8,000 گنا زیادہ یا سینکڑوں ہزاروں مکمل طور پر لوڈڈ ہوائی جہازوں کے برابر بنتا ہے۔ خطرہ خود سولر ٹیکنالوجی سے نہیں ہے بلکہ خطرہ اس بات سے ہے کہ جب ہم ان پینلز کی عمر ختم ہونے پر ان کے ٹھکانے کا کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر عمر پوری کر چکے ان پینلز کو عام کچرے کی طرح سمجھا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اگرچہ پینل زیادہ تر شیشے اور ایلومینیم سے بنتے ہیں لیکن ان میں سیسہ، کیڈمیئم اور دیگر دھاتوں سمیت معمولی مقدار میں زہریلے مادے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا خاص طور پر کھلے ڈھیروں یا غیر منظم لینڈ فلز میں جو کہ ترقی پذیر دنیا کے کئی حصوں میں عام ہیں، ان مواد کو مٹی اور زیرِ زمین پانی میں شامل کر سکتا ہے، جس سے مقامی ماحول اور عوامی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی پینلز کو کچرے میں پھینکنے کا مطلب انتہائی قیمتی وسائل کو ضائع کرنا بھی ہے۔ ایک عام سولر ماڈیول میں اعلیٰ معیار کا شیشہ، ایلومینیم، تانبا، چاندی اور سلیکان شامل ہوتے ہیں، یہ وہ مواد ہیں جنہیں نکالنے اور صاف کرنے کے لیے بھاری مقدار میں توانائی، پانی اور مائننگ (کان کنی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ضائع کرنا نہ صرف ماحولیاتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشی طور پر بھی غیر منطقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ ناکارہ سولر پینلز سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے مواد کی مالیت 2050 تک 15 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ خام مال کی یہ مقدار اسی سطح پر دوبارہ نئی کانیں کھودے بغیر تقریباً 2 ارب نئے سولر پینل بنانے کے لیے کافی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں کل کا سولر کچرا کل کی کلین انرجی کی سپلائی چین بن سکتا ہے۔ اصل موقع یہیں پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر تضاد (سولر پیراڈوکس) ناگزیر نہیں ہے۔ یہ پالیسی سازی کا ایک چیلنج ہے اور ایک ایسا چیلنج ہے جسے حل کرنا ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز سولر پینل کے 90 سے 95 فیصد مادی وزن کو دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ جدید ترین پلانٹس فریموں اور وائرنگ کو الگ کرنے کے لیے مکینیکل علیحدگی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک پولیمر کو ہٹانے کے لیے تھرمل ٹریٹمنٹ اور چاندی و سیمی کنڈکٹر گریڈ سلیکان نکالنے کے لیے کیمیکل ریفائننگ کا استعمال کرتے ہیں۔ شیشے کو دوبارہ مینوفیکچرنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ایلومینیم کو لامتناہی طور پر پگھلایا جا سکتا ہے، تانبا دوبارہ الیکٹریکل سپلائی چین کا حصہ بن سکتا ہے اور سلیکان کو صاف کرکے دوبارہ فوٹو وولٹک کی تیاری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف ممالک اب درست سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں لیکن یہ پیش رفت اب بھی ناہموار ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی سولر پینلز کو الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کے فضلے کے ڈائریکٹو کے تحت درجہ بندی کر چکی ہے، جس کے تحت رکن ممالک میں اس کچرے کو جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کی قانونی پابندی ہے۔ فرانس پی وی سائیکل کے ذریعے سولر پینلز کو واپس لینے کا ایک جدید ترین نظام چلا رہا ہے۔ جاپان نے ابتدائی تنصیبات کے ناکارہ ہونے پر پینل ری سائیکلنگ کے لیے قومی روڈ میپ متعارف کرائے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بہت سے ترقی پذیر ممالک میں اب بھی جامع قومی فریم ورک کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کو ٹھکانے لگانے کا عمل بکھرا ہوا، رضاکارانہ یا معاشی طور پر غیر پرکشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کا یہ خلا بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک توانائی کی عدم سیکیورٹی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے کے لیے بے مثال رفتار سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں گرڈ کے عدم استحکام اور بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اپنی مدت پوری کرنے والے سولر ماڈیولز کے لیے ری سائیکلنگ کا بنیادی ڈھانچہ یہاں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مناسب پالیسی مداخلت کے بغیر متعدد ممالک ایک ماحولیاتی چیلنج، فوسل فیول پر انحصار کو دوسرے چیلنج یعنی کلین ٹیکنالوجی کے غیر منظم کچرے سے بدلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا حل پینلز کے لینڈ فل تک پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو فوری طور پر ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلیٹی، (ای پی آر) قانون نافذ کرنا چاہیے، جس کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے اپنی مدت پوری کرنے والے پینلز کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور ری سائیکل کرنے کے اخراجات خود اٹھانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ طریقہ کار پینلز کو ٹھکانے لگانے کے اخراجات بلدیاتی اداروں اور صارفین سے ہٹا کر کمپنیوں پر ڈالے گا، جس سے کمپنیاں ایسے ماڈیولز ڈیزائن کرنے کی طرف مائل ہوں گی جنہیں الگ کرنا اور ان سے مواد دوبارہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ پبلک انویسٹمنٹ (سرکاری سرمایہ کاری) کو علاقائی سطح پرری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت کرنی چاہیے۔ یورپ اور مشرقی ایشیا سے باہر ری سائیکلنگ کے پلانٹس بہت کم اور مہنگے ہیں۔ اکثر پینل کو ری سائیکل کرنے کے بجائے لینڈ فل میں پھینکنا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ سبسڈی، ٹیکس مراعات اور لینڈ فل پر پابندیوں کے ذریعے اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا یہ کہ ہمیں مینوفیکچرنگ کے عمل میں ہی ڈیزائن فارسرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا ڈیزائن) کو شامل کرنا ہوگا۔ اگلی نسل کے سولر پینلز کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ انہیں آسانی سے کھولا جا سکے، ان میں کم زہریلے گوند استعمال ہوں، فریم ماڈیولر ہوں، معیاری مواد استعمال کیا جائے اور اجزاء کی علیحدگی آسان ہو ، تاکہ مستقبل میں ری سائیکلنگ کے اخراجات کم ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خریداری کی پالیسی بھی اس مانگ کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے حکومتوں، افادیت کے اداروں (یوٹیلیٹیز) اور بڑے خریداروں کو ان پینلز کو ترجیح دینی چاہیے جن میں تصدیق شدہ ری سائیکل شدہ مواد استعمال ہوا ہو اور جن کا لائف اینڈ ریکوری پلان شفاف ہو۔ کلین انرجی کی خریداری میں صرف کاربن اکاونٹنگ ہی نہیں بلکہ سرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کی صلاحیت) کے پیمانے بھی شامل ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ تجدید توانائی کی طرف عالمی منتقلی کا مطلب صرف صاف بجلی پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صنعتی نظاموں کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہے کہ ترقی کا انحصار وسائل نکالنے، انہیں ختم کرنے یا کچرے میں پھینکنے پر نہ رہے۔ شمسی توانائی اب بھی انسانیت کی سب سے بڑی ماحولیاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے لیکن اگر ہم پینلز کی عمر ختم ہونے کے بعد کے اثرات کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم اس ماحولیاتی وعدے کو ہی نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لیں گے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صاف توانائی کی منتقلی کا عمل یکطرفہ یا لکیری نہیں ہو سکتا، یعنی کان کنی کرو، بناؤ، لگاؤ اور پھینک دو۔ اسے لازمی طور پر سرکلر (دائرہ نما) ہونا چاہیے، یعنی ڈیزائن کرو، پیدا کرو، دوبارہ حاصل کرو اور پھر سے بناؤ۔ صرف اس دائرے کو مکمل کر کے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ سورج کی طرف ہماری یہ دوڑ زمین پر کوئی مستقل داغ نہ چھوڑ جائے۔ شمسی توانائی اب بھی ماحولیات کے لیے ہمارا سب سے روشن حل ہو سکتی ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم اس کے پیچھے چھوڑے جانے والے مواد کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم نظام تیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 28 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیس برس میں اگر کسی ایک ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک نئی امید دی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جنگ کا پانسہ پلٹا ہے تو وہ شمسی توانائی (سولر انرجی) ہے۔ جو سولر فوٹو وولٹک (پی وی) پینلز کبھی عام آدمی کی پہنچ سے دور اور انتہائی مہنگے ہوا کرتے تھے وہ آج کرۂ ارض پر بجلی پیدا کرنے کا سستا ترین ذریعہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ انقلابی ٹیکنالوجی موجودہ دہائی کے اختتام تک دنیا بھر میں بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا اور سب سے مضبوط ستون بننے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>عالمی سطح پر نصب شدہ صلاحیت 2010 میں بمشکل 40 گیگا واٹ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1.6 ٹیرا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔ شمسی توانائی کاربن کے اخراج کو کم کرتی ہے، غیر مستحکم فوسل فیول (معدنی ایندھن) کی مارکیٹوں پر انحصار گھٹاتی، گھروں کے بجلی کے بل کم کرتی اور شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں میں بھی توانائی کی رسائی کو وسعت دیتی ہے۔ یہ ایک صاف ستھرے اور زیادہ غیر مرکزی توانائی کے مستقبل کی علامت بن چکی ہے۔</p>
<p>لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہے وہ یہ کہ ہر سولر پینل کی ایک ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے۔ زیادہ تر فوٹو وولٹک پینل 25 سے 30 سال تک چلنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی اور جاپان سے لے کر چین، امریکہ اور دیگر ممالک تک میں بڑے پیمانے پر لگائی گئی پہلی نسل کے پینلز اب اپنی عمر پوری کرنے کے قریب ہیں۔ اس کے نتیجے میں کچرے کی ایک ایسی بڑی لہر ابھر رہی ہے جس کا متبادل توانائی کے شعبے کو اب تک کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p>انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ 2050 تک دنیا میں 78 سے 80 ملین میٹرک ٹن سولر پینل کا کچرا پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ وزن ایفل ٹاور کے مجموعی وزن سے 8,000 گنا زیادہ یا سینکڑوں ہزاروں مکمل طور پر لوڈڈ ہوائی جہازوں کے برابر بنتا ہے۔ خطرہ خود سولر ٹیکنالوجی سے نہیں ہے بلکہ خطرہ اس بات سے ہے کہ جب ہم ان پینلز کی عمر ختم ہونے پر ان کے ٹھکانے کا کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔</p>
<p>اگر عمر پوری کر چکے ان پینلز کو عام کچرے کی طرح سمجھا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ اگرچہ پینل زیادہ تر شیشے اور ایلومینیم سے بنتے ہیں لیکن ان میں سیسہ، کیڈمیئم اور دیگر دھاتوں سمیت معمولی مقدار میں زہریلے مادے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا خاص طور پر کھلے ڈھیروں یا غیر منظم لینڈ فلز میں جو کہ ترقی پذیر دنیا کے کئی حصوں میں عام ہیں، ان مواد کو مٹی اور زیرِ زمین پانی میں شامل کر سکتا ہے، جس سے مقامی ماحول اور عوامی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی پینلز کو کچرے میں پھینکنے کا مطلب انتہائی قیمتی وسائل کو ضائع کرنا بھی ہے۔ ایک عام سولر ماڈیول میں اعلیٰ معیار کا شیشہ، ایلومینیم، تانبا، چاندی اور سلیکان شامل ہوتے ہیں، یہ وہ مواد ہیں جنہیں نکالنے اور صاف کرنے کے لیے بھاری مقدار میں توانائی، پانی اور مائننگ (کان کنی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ضائع کرنا نہ صرف ماحولیاتی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ معاشی طور پر بھی غیر منطقی ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی کا تخمینہ ہے کہ ناکارہ سولر پینلز سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے مواد کی مالیت 2050 تک 15 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہو سکتی ہے۔ خام مال کی یہ مقدار اسی سطح پر دوبارہ نئی کانیں کھودے بغیر تقریباً 2 ارب نئے سولر پینل بنانے کے لیے کافی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں کل کا سولر کچرا کل کی کلین انرجی کی سپلائی چین بن سکتا ہے۔ اصل موقع یہیں پر موجود ہے۔</p>
<p>سولر تضاد (سولر پیراڈوکس) ناگزیر نہیں ہے۔ یہ پالیسی سازی کا ایک چیلنج ہے اور ایک ایسا چیلنج ہے جسے حل کرنا ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز سولر پینل کے 90 سے 95 فیصد مادی وزن کو دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ جدید ترین پلانٹس فریموں اور وائرنگ کو الگ کرنے کے لیے مکینیکل علیحدگی کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، پلاسٹک پولیمر کو ہٹانے کے لیے تھرمل ٹریٹمنٹ اور چاندی و سیمی کنڈکٹر گریڈ سلیکان نکالنے کے لیے کیمیکل ریفائننگ کا استعمال کرتے ہیں۔ شیشے کو دوبارہ مینوفیکچرنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے، ایلومینیم کو لامتناہی طور پر پگھلایا جا سکتا ہے، تانبا دوبارہ الیکٹریکل سپلائی چین کا حصہ بن سکتا ہے اور سلیکان کو صاف کرکے دوبارہ فوٹو وولٹک کی تیاری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مختلف ممالک اب درست سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں لیکن یہ پیش رفت اب بھی ناہموار ہے۔ یورپی یونین پہلے ہی سولر پینلز کو الیکٹریکل اور الیکٹرانک آلات کے فضلے کے ڈائریکٹو کے تحت درجہ بندی کر چکی ہے، جس کے تحت رکن ممالک میں اس کچرے کو جمع کرنے اور ری سائیکل کرنے کی قانونی پابندی ہے۔ فرانس پی وی سائیکل کے ذریعے سولر پینلز کو واپس لینے کا ایک جدید ترین نظام چلا رہا ہے۔ جاپان نے ابتدائی تنصیبات کے ناکارہ ہونے پر پینل ری سائیکلنگ کے لیے قومی روڈ میپ متعارف کرائے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور بہت سے ترقی پذیر ممالک میں اب بھی جامع قومی فریم ورک کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کو ٹھکانے لگانے کا عمل بکھرا ہوا، رضاکارانہ یا معاشی طور پر غیر پرکشش ہے۔</p>
<p>پالیسی کا یہ خلا بہت اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک توانائی کی عدم سیکیورٹی اور بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے نمٹنے کے لیے بے مثال رفتار سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں گرڈ کے عدم استحکام اور بجلی کے بڑھتے ہوئے ٹیرف کی وجہ سے چھتوں پر سولر پینلز کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اپنی مدت پوری کرنے والے سولر ماڈیولز کے لیے ری سائیکلنگ کا بنیادی ڈھانچہ یہاں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مناسب پالیسی مداخلت کے بغیر متعدد ممالک ایک ماحولیاتی چیلنج، فوسل فیول پر انحصار کو دوسرے چیلنج یعنی کلین ٹیکنالوجی کے غیر منظم کچرے سے بدلنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔</p>
<p>اس کا حل پینلز کے لینڈ فل تک پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہونا چاہیے۔ حکومتوں کو فوری طور پر ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلیٹی، (ای پی آر) قانون نافذ کرنا چاہیے، جس کے تحت مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کے لیے اپنی مدت پوری کرنے والے پینلز کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور ری سائیکل کرنے کے اخراجات خود اٹھانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ طریقہ کار پینلز کو ٹھکانے لگانے کے اخراجات بلدیاتی اداروں اور صارفین سے ہٹا کر کمپنیوں پر ڈالے گا، جس سے کمپنیاں ایسے ماڈیولز ڈیزائن کرنے کی طرف مائل ہوں گی جنہیں الگ کرنا اور ان سے مواد دوبارہ حاصل کرنا زیادہ آسان ہو۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ پبلک انویسٹمنٹ (سرکاری سرمایہ کاری) کو علاقائی سطح پرری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت کرنی چاہیے۔ یورپ اور مشرقی ایشیا سے باہر ری سائیکلنگ کے پلانٹس بہت کم اور مہنگے ہیں۔ اکثر پینل کو ری سائیکل کرنے کے بجائے لینڈ فل میں پھینکنا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ سبسڈی، ٹیکس مراعات اور لینڈ فل پر پابندیوں کے ذریعے اس صورتحال کو بدلنا ہوگا۔</p>
<p>تیسرا یہ کہ ہمیں مینوفیکچرنگ کے عمل میں ہی ڈیزائن فارسرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا ڈیزائن) کو شامل کرنا ہوگا۔ اگلی نسل کے سولر پینلز کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ انہیں آسانی سے کھولا جا سکے، ان میں کم زہریلے گوند استعمال ہوں، فریم ماڈیولر ہوں، معیاری مواد استعمال کیا جائے اور اجزاء کی علیحدگی آسان ہو ، تاکہ مستقبل میں ری سائیکلنگ کے اخراجات کم ہو سکیں۔</p>
<p>خریداری کی پالیسی بھی اس مانگ کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے حکومتوں، افادیت کے اداروں (یوٹیلیٹیز) اور بڑے خریداروں کو ان پینلز کو ترجیح دینی چاہیے جن میں تصدیق شدہ ری سائیکل شدہ مواد استعمال ہوا ہو اور جن کا لائف اینڈ ریکوری پلان شفاف ہو۔ کلین انرجی کی خریداری میں صرف کاربن اکاونٹنگ ہی نہیں بلکہ سرکولیرٹی (دوبارہ استعمال کی صلاحیت) کے پیمانے بھی شامل ہونے چاہئیں۔</p>
<p>قابلِ تجدید توانائی کی طرف عالمی منتقلی کا مطلب صرف صاف بجلی پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صنعتی نظاموں کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہے کہ ترقی کا انحصار وسائل نکالنے، انہیں ختم کرنے یا کچرے میں پھینکنے پر نہ رہے۔ شمسی توانائی اب بھی انسانیت کی سب سے بڑی ماحولیاتی کامیابیوں میں سے ایک ہے لیکن اگر ہم پینلز کی عمر ختم ہونے کے بعد کے اثرات کو نظر انداز کر دیں گے تو ہم اس ماحولیاتی وعدے کو ہی نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لیں گے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>صاف توانائی کی منتقلی کا عمل یکطرفہ یا لکیری نہیں ہو سکتا، یعنی کان کنی کرو، بناؤ، لگاؤ اور پھینک دو۔ اسے لازمی طور پر سرکلر (دائرہ نما) ہونا چاہیے، یعنی ڈیزائن کرو، پیدا کرو، دوبارہ حاصل کرو اور پھر سے بناؤ۔ صرف اس دائرے کو مکمل کر کے ہی ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ سورج کی طرف ہماری یہ دوڑ زمین پر کوئی مستقل داغ نہ چھوڑ جائے۔ شمسی توانائی اب بھی ماحولیات کے لیے ہمارا سب سے روشن حل ہو سکتی ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب ہم اس کے پیچھے چھوڑے جانے والے مواد کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے لیے بھی اتنا ہی پرعزم نظام تیار کریں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 28 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506914</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 15:47:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر مدیحہ ریاض)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/29153826c2123f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/29153826c2123f6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نارکو دہشت گردی کے مہلک پنجے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506912/drug-abuse-internationaltea-day-against-drug-abuse-illicit-trafficking-narcoterrorism-drugs-and-crime</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1987 میں اس عالمی دن کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عالمی برادری میں منشیات کے استعمال کے خطرات سے آگاہی بڑھانا، اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم ( یواین اوڈی سی) اس دن کے لیے ایک موضوع مقرر کرتا ہے۔ رواں سال کا موضوع ہے: ”منشیات کا مسئلہ برقرار، نئے چیلنجز اور جدت پر مبنی حل“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شدت پسندانہ تشدد میں اضافہ، ہمسایہ افغانستان میں عدم استحکام، اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کا مسلسل پھیلتا ہوا جال شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں تیار ہونے والی بیشتر منشیات (خصوصاً ہیروئن اور افیون) پاکستان کے راستے منتقل کی جاتی ہیں۔ اگرچہ زمینی راہداریاں پاکستان، افغانستان، ایران اور بھارت کو آپس میں ملاتی ہیں، تاہم حکام کے مطابق بڑی مقدار میں منشیات پاکستان کی بحری حدود سے بھی نسبتاً آزادانہ طور پر اسمگل کی جاتی ہیں“۔(انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ مارچ 2025)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گردی، منشیات کے بدلے اسلحے کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور یہ نہ صرف عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ کئی ممالک کے سیاسی اور مالیاتی استحکام کو بھی متزلزل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس سے گہرے روابط ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان سے لے کر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور القاعدہ سے داعش تک، اصل مسئلہ قانونی اور غیر قانونی رقوم کی بلا روک ٹوک آمدورفت ہے۔ آج تک عالمی برادری ان گروہوں کی مالی شہ رگ کاٹنے میں ناکام رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک کھلا راز ہے کہ طالبان کے بعد کے افغانستان میں منشیات کی تجارت کو کس طرح ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اس میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور افغانستان کے متعدد صوبوں میں جنگجو سرداروں کی سرپرستی نے کلیدی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب افغانستان کے اندر بڑے پیمانے پر افیون کو مارفین اور ہیروئن میں تبدیل کیا جانے لگا تو اس سے زمینی کمانڈروں کے لیے بے پناہ مالی وسائل پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2004 سے 2021 تک افغانستان میں قائم محدود یا کنٹرولڈ جمہوریت نے، جو زیادہ منظم اور منشیات سے مالا مال جنگجو کمانڈروں کے مفادات کے تابع رہی، نہایت تباہ کن نتائج پیدا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان، جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی 2004 سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے، بخوبی جانتے تھے کہ ہر انتخاب میں ووٹ کیسے خریدا یا طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے تاکہ افیون سے وابستہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اس غیر قانونی تجارت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وسطی ایشیا کے مجرمانہ گروہوں نے 2015 میں افیونی منشیات کی اسمگلنگ سے 15.2 ارب ڈالر کمائے، جو صرف دو برس میں بڑھ کر 22.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے (&lt;em&gt;ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2017&lt;/em&gt;)۔ 2026 میں یہ حجم 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق تاریخ، غربت اور جغرافیائی عوامل کے امتزاج کے باعث تاجکستان منشیات کی لعنت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ منشیات کی تجارت اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) نامی دہشت گرد تنظیم کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ تھی، جس کے اڈے افغانستان اور تاجکستان میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی جنگ کے بعد اگرچہ آئی ایم یو اپنی زیادہ تر قوت کھو بیٹھی، تاہم منشیات کی تجارت بدستور جاری رہی اور سیاسی یا مذہبی شدت پسندوں کی جگہ منظم جرائم پیشہ گروہوں نے لے لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے میں ہر دس میں سے آٹھ افراد نے، جو کسی حیرت کی بات نہیں، یہ کہا کہ ”منشیات کی اسمگلنگ کی طرف جانے کی بنیادی وجہ بہت زیادہ دولت کمانا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیہ نے بھی تاجکستان کے منشیات کے مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ افغانستان کے ساتھ اس کی 1,400 کلومیٹر طویل سرحد وسطی ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ طویل ہے، جس کی مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی دشوار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں، جہاں پوست کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے، تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے زیادہ تر منشیات ازبکستان اور کرغزستان منتقل کی جاتی ہیں، جہاں سے وہ آگے قازقستان اور پھر روس پہنچتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" href="#گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;’گولڈن ٹرائی اینگل‘ مہلک ترین منشیات کا بڑا مرکز&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یواین اوڈی سی) کی ’ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025‘ کے مطابق میانمار (برما) میں 2025 کے دوران افیون کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھ کر 53 ہزار 100 ہیکٹر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دس برس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی میانمار نے افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’2024 یو این او ڈی سی میانمار افیون سروے: کاشت، پیداوار اور مضمرات‘ کے مطابق میانمار نے 2024 میں 995 میٹرک ٹن افیون پیدا کی، جو 2023 میں پیدا ہونے والی 1,080 میٹرک ٹن کے مقابلے میں 8 فیصد کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ (آئی این سی ایس آر)، مارچ 2025 کے مطابق 2023 میں خطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 190 میٹرک ٹن میتھ ایمفیٹامین ضبط کی، جو اب تک کی ریکارڈ مقدار ہے۔ اس میں سے 73 فیصد برما، تھائی لینڈ اور لاؤس پر مشتمل ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے علاقے سے برآمد ہوئی، جبکہ اس منشیات کی زیادہ تر پیداوار بھی میانمار میں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران افغانستان کے منشیات پیدا کرنے والے پانچ بڑے صوبوں میں سے ہلمند، ارزگان اور قندھار ایک نئے ’کولمبیا‘ کی شکل اختیار کر گئے، جہاں منشیات کے سرغناؤں نے نہ صرف حکومتوں بلکہ معیشت کو بھی اپنے شکنجے میں لے کر تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی مسلسل آنے والی حکومتیں پوست کی کاشت کو غیر قانونی قرار دینے کے سوا اس کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”امریکی صدر کی مالی سال 2025 کے لیے جاری کردہ فہرست کے مطابق افغانستان اب بھی منشیات کی پیداوار اور ترسیل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ افیون، ہیروئن، میتھ ایمفیٹامین اور مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری اصلاحات اور اقدامات کو اس حد تک مؤثر سمجھا گیا کہ افغانستان کو بین الاقوامی انسدادِ منشیات معاہدوں پر عمل درآمد میں واضح ناکامی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔“(آئی این سی ایس آر &lt;em&gt;2025)&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی این سی ایس آر 2025 نے، سابقہ رپورٹس کی طرح، طالبان کے خطرے پر تو زور دیا، لیکن افغانستان میں وسیع پیمانے پر پھیلی غربت اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے مقامی سیاست دانوں کے نزدیک یہ معاشی عوامل، قدرتی آفات اور سرحدی مسائل طالبان سے کہیں زیادہ سنگین چیلنج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ماضی اور حال دونوں میں ’طالبان کے خطرے‘ کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ہر قسم کی مذہبی یا غیر مذہبی اختلافی آواز کو دبایا جا سکے۔ تاہم وہ حلقے بھی، جو اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کو حقیقی خطرہ سمجھتے تھے، امریکی حمایت یافتہ حکومتوں پر یہ تنقید کرتے رہے کہ انہوں نے طالبان کا مقابلہ معاشی ترقی اور روزگار کے ذریعے کرنے کے بجائے محض عسکری حکمت عملی اپنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد دوسری مرتبہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے آئی این سی ایس آر 2025 کے مطابق پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت میں کمی لانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ”اگرچہ افغانستان کئی دہائیوں سے دنیا میں پوست کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور دیگر ذرائع کی حالیہ رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ طالبان کی 2022 کی انسدادِ منشیات پابندی کے بعد مسلسل دوسرے سال بھی پوست کی کاشت میں نمایاں کمی برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2024 میں یو این او ڈی سی نے پوست کی کاشت کا تخمینہ 12 ہزار 800 ہیکٹر لگایا، جو 2023 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ رقبہ 2022 کے 2 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال افغانستان میں، خصوصاً خواتین میں، منشیات کے استعمال میں اضافہ ہے۔ آئی این سی ایس آر 2025 میں اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ”افغانستان اس وقت منشیات کے استعمال کے شدید بحران سے دوچار ہے اور فی کس منشیات کے عادی افراد کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین میں منشیات کے استعمال میں اضافہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد بڑھتی ہوئی پابندیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے باوجود طالبان کے زیر انتظام منشیات کے علاج کے مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد نہایت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ ایران کی ان کوششوں کو تسلیم اور ان کی حمایت کر کے مثبت کردار ادا کر سکتا تھا، جن کے تحت منشیات کی تجارت میں ملوث جنگجو سرداروں اور کمانڈروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا، مگر مصنف کے مطابق امریکی پالیسی ان عناصر کی پشت پناہی کرتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے آزاد خیال مبصرین افغانستان اور دیگر خطوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق چین بھی اسی تناظر میں اسے امریکہ کا ایک خفیہ ایجنڈا قرار دیتا ہے، جس کا مقصد سی آئی اے کی مبینہ سرپرستی میں عسکریت پسندی کو فروغ دے کر، سابق سوویت یونین کے خلاف زبگنیو برژنسکی کی حکمت عملی کو چین کے خلاف جاری رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف مزید دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں چینی شہریوں، کارکنوں، تاجروں اور اساتذہ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کے حملے، جنہیں وہ را، سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 کی مبینہ سرپرستی اور مالی معاونت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، چین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے منصوبوں کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کے مطابق ان تمام کوششوں کا مقصد چین کے اہم منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو عالمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہے، کو ناکام بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1987 میں اس عالمی دن کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عالمی برادری میں منشیات کے استعمال کے خطرات سے آگاہی بڑھانا، اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔</strong></p>
<p>ہر سال اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم ( یواین اوڈی سی) اس دن کے لیے ایک موضوع مقرر کرتا ہے۔ رواں سال کا موضوع ہے: ”منشیات کا مسئلہ برقرار، نئے چیلنجز اور جدت پر مبنی حل“۔</p>
<p>”منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شدت پسندانہ تشدد میں اضافہ، ہمسایہ افغانستان میں عدم استحکام، اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کا مسلسل پھیلتا ہوا جال شامل ہے۔</p>
<p>افغانستان میں تیار ہونے والی بیشتر منشیات (خصوصاً ہیروئن اور افیون) پاکستان کے راستے منتقل کی جاتی ہیں۔ اگرچہ زمینی راہداریاں پاکستان، افغانستان، ایران اور بھارت کو آپس میں ملاتی ہیں، تاہم حکام کے مطابق بڑی مقدار میں منشیات پاکستان کی بحری حدود سے بھی نسبتاً آزادانہ طور پر اسمگل کی جاتی ہیں“۔(انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ مارچ 2025)</p>
<p>دہشت گردی، منشیات کے بدلے اسلحے کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور یہ نہ صرف عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ کئی ممالک کے سیاسی اور مالیاتی استحکام کو بھی متزلزل کر رہے ہیں۔</p>
<p>شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس سے گہرے روابط ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان سے لے کر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور القاعدہ سے داعش تک، اصل مسئلہ قانونی اور غیر قانونی رقوم کی بلا روک ٹوک آمدورفت ہے۔ آج تک عالمی برادری ان گروہوں کی مالی شہ رگ کاٹنے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p>یہ ایک کھلا راز ہے کہ طالبان کے بعد کے افغانستان میں منشیات کی تجارت کو کس طرح ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اس میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور افغانستان کے متعدد صوبوں میں جنگجو سرداروں کی سرپرستی نے کلیدی کردار ادا کیا۔</p>
<p>جب افغانستان کے اندر بڑے پیمانے پر افیون کو مارفین اور ہیروئن میں تبدیل کیا جانے لگا تو اس سے زمینی کمانڈروں کے لیے بے پناہ مالی وسائل پیدا ہوئے۔</p>
<p>2004 سے 2021 تک افغانستان میں قائم محدود یا کنٹرولڈ جمہوریت نے، جو زیادہ منظم اور منشیات سے مالا مال جنگجو کمانڈروں کے مفادات کے تابع رہی، نہایت تباہ کن نتائج پیدا کیے۔</p>
<p>اب یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان، جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی 2004 سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے، بخوبی جانتے تھے کہ ہر انتخاب میں ووٹ کیسے خریدا یا طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے تاکہ افیون سے وابستہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔</p>
<p>افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اس غیر قانونی تجارت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وسطی ایشیا کے مجرمانہ گروہوں نے 2015 میں افیونی منشیات کی اسمگلنگ سے 15.2 ارب ڈالر کمائے، جو صرف دو برس میں بڑھ کر 22.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے (<em>ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2017</em>)۔ 2026 میں یہ حجم 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔</p>
<p>تازہ ترین ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق تاریخ، غربت اور جغرافیائی عوامل کے امتزاج کے باعث تاجکستان منشیات کی لعنت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔</p>
<p>1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ منشیات کی تجارت اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) نامی دہشت گرد تنظیم کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ تھی، جس کے اڈے افغانستان اور تاجکستان میں موجود تھے۔</p>
<p>افغانستان کی جنگ کے بعد اگرچہ آئی ایم یو اپنی زیادہ تر قوت کھو بیٹھی، تاہم منشیات کی تجارت بدستور جاری رہی اور سیاسی یا مذہبی شدت پسندوں کی جگہ منظم جرائم پیشہ گروہوں نے لے لی۔</p>
<p>اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے میں ہر دس میں سے آٹھ افراد نے، جو کسی حیرت کی بات نہیں، یہ کہا کہ ”منشیات کی اسمگلنگ کی طرف جانے کی بنیادی وجہ بہت زیادہ دولت کمانا ہے۔“</p>
<p>جغرافیہ نے بھی تاجکستان کے منشیات کے مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ افغانستان کے ساتھ اس کی 1,400 کلومیٹر طویل سرحد وسطی ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ طویل ہے، جس کی مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی دشوار ہے۔</p>
<p>افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں، جہاں پوست کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے، تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے زیادہ تر منشیات ازبکستان اور کرغزستان منتقل کی جاتی ہیں، جہاں سے وہ آگے قازقستان اور پھر روس پہنچتی ہیں۔</p>
<h3><a id="گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" href="#گولڈن-ٹرائی-اینگل-مہلک-ترین-منشیات-کا-بڑا-مرکز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>’گولڈن ٹرائی اینگل‘ مہلک ترین منشیات کا بڑا مرکز</strong></h3>
<p>اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یواین اوڈی سی) کی ’ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025‘ کے مطابق میانمار (برما) میں 2025 کے دوران افیون کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھ کر 53 ہزار 100 ہیکٹر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دس برس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی میانمار نے افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔</p>
<p>’2024 یو این او ڈی سی میانمار افیون سروے: کاشت، پیداوار اور مضمرات‘ کے مطابق میانمار نے 2024 میں 995 میٹرک ٹن افیون پیدا کی، جو 2023 میں پیدا ہونے والی 1,080 میٹرک ٹن کے مقابلے میں 8 فیصد کم تھی۔</p>
<p>انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ (آئی این سی ایس آر)، مارچ 2025 کے مطابق 2023 میں خطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 190 میٹرک ٹن میتھ ایمفیٹامین ضبط کی، جو اب تک کی ریکارڈ مقدار ہے۔ اس میں سے 73 فیصد برما، تھائی لینڈ اور لاؤس پر مشتمل ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے علاقے سے برآمد ہوئی، جبکہ اس منشیات کی زیادہ تر پیداوار بھی میانمار میں ہوئی۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران افغانستان کے منشیات پیدا کرنے والے پانچ بڑے صوبوں میں سے ہلمند، ارزگان اور قندھار ایک نئے ’کولمبیا‘ کی شکل اختیار کر گئے، جہاں منشیات کے سرغناؤں نے نہ صرف حکومتوں بلکہ معیشت کو بھی اپنے شکنجے میں لے کر تباہ کر دیا۔</p>
<p>افغانستان کی مسلسل آنے والی حکومتیں پوست کی کاشت کو غیر قانونی قرار دینے کے سوا اس کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہ کر سکیں۔</p>
<p>”امریکی صدر کی مالی سال 2025 کے لیے جاری کردہ فہرست کے مطابق افغانستان اب بھی منشیات کی پیداوار اور ترسیل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ افیون، ہیروئن، میتھ ایمفیٹامین اور مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری اصلاحات اور اقدامات کو اس حد تک مؤثر سمجھا گیا کہ افغانستان کو بین الاقوامی انسدادِ منشیات معاہدوں پر عمل درآمد میں واضح ناکامی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔“(آئی این سی ایس آر <em>2025)</em></p>
<p>آئی این سی ایس آر 2025 نے، سابقہ رپورٹس کی طرح، طالبان کے خطرے پر تو زور دیا، لیکن افغانستان میں وسیع پیمانے پر پھیلی غربت اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>بہت سے مقامی سیاست دانوں کے نزدیک یہ معاشی عوامل، قدرتی آفات اور سرحدی مسائل طالبان سے کہیں زیادہ سنگین چیلنج تھے۔</p>
<p>انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ماضی اور حال دونوں میں ’طالبان کے خطرے‘ کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ہر قسم کی مذہبی یا غیر مذہبی اختلافی آواز کو دبایا جا سکے۔ تاہم وہ حلقے بھی، جو اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کو حقیقی خطرہ سمجھتے تھے، امریکی حمایت یافتہ حکومتوں پر یہ تنقید کرتے رہے کہ انہوں نے طالبان کا مقابلہ معاشی ترقی اور روزگار کے ذریعے کرنے کے بجائے محض عسکری حکمت عملی اپنائی۔</p>
<p>2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد دوسری مرتبہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے آئی این سی ایس آر 2025 کے مطابق پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت میں کمی لانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ”اگرچہ افغانستان کئی دہائیوں سے دنیا میں پوست کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور دیگر ذرائع کی حالیہ رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ طالبان کی 2022 کی انسدادِ منشیات پابندی کے بعد مسلسل دوسرے سال بھی پوست کی کاشت میں نمایاں کمی برقرار رہی۔</p>
<p>اگرچہ 2024 میں یو این او ڈی سی نے پوست کی کاشت کا تخمینہ 12 ہزار 800 ہیکٹر لگایا، جو 2023 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ رقبہ 2022 کے 2 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔“</p>
<p>تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال افغانستان میں، خصوصاً خواتین میں، منشیات کے استعمال میں اضافہ ہے۔ آئی این سی ایس آر 2025 میں اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ”افغانستان اس وقت منشیات کے استعمال کے شدید بحران سے دوچار ہے اور فی کس منشیات کے عادی افراد کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین میں منشیات کے استعمال میں اضافہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد بڑھتی ہوئی پابندیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے باوجود طالبان کے زیر انتظام منشیات کے علاج کے مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد نہایت کم ہے۔</p>
<p>امریکہ ایران کی ان کوششوں کو تسلیم اور ان کی حمایت کر کے مثبت کردار ادا کر سکتا تھا، جن کے تحت منشیات کی تجارت میں ملوث جنگجو سرداروں اور کمانڈروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا، مگر مصنف کے مطابق امریکی پالیسی ان عناصر کی پشت پناہی کرتی رہی۔</p>
<p>اسی لیے آزاد خیال مبصرین افغانستان اور دیگر خطوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>مصنف کے مطابق چین بھی اسی تناظر میں اسے امریکہ کا ایک خفیہ ایجنڈا قرار دیتا ہے، جس کا مقصد سی آئی اے کی مبینہ سرپرستی میں عسکریت پسندی کو فروغ دے کر، سابق سوویت یونین کے خلاف زبگنیو برژنسکی کی حکمت عملی کو چین کے خلاف جاری رکھنا ہے۔</p>
<p>مصنف مزید دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں چینی شہریوں، کارکنوں، تاجروں اور اساتذہ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کے حملے، جنہیں وہ را، سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 کی مبینہ سرپرستی اور مالی معاونت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، چین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے منصوبوں کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>مصنف کے مطابق ان تمام کوششوں کا مقصد چین کے اہم منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو عالمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہے، کو ناکام بنانا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506912</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 15:27:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/29152655b1ff435.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/29152655b1ff435.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اب ’’گرین اسپین پُٹ‘‘ کو خیرباد کہنے کا وقت آ گیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506847/us-federal-reserve-kevin-warsh-ben-bernanke-greenspan-bernanke-put-us-chip-stocks-technological-investment-fed-chairman</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟</strong></p>
<p>اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔</p>
<p>امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔</p>
<p>گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔</p>
<p>گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔</p>
<p>یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔</p>
<p>گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔</p>
<p>بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔</p>
<p>منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔</p>
<p>گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔</p>
<p>یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔</p>
<p>یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔</p>
<p>یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔</p>
<p>اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔</p>
<p>ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔</p>
<p>یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔</p>
<p>کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔</p>
<p>شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔</p>
<p>لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔</p>
<p>اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟</p>
<p>یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔</p>
<p>ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p>لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 25 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506847</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 14:18:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/271416372dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/271416372dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ 2026-27 کی خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506722/fbr-psdp-taxes-bisp-super-tax-budget-2026-27-federal-budget-2026-2027</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پچھلے ہفتے 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی خصوصیات پر پہلا مضمون شائع ہوا تھا، جس میں مجموعی رجحانات اور تخمینوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ مضمون وفاقی بجٹ کا زیادہ تفصیلی انداز میں جائزہ لیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے ہم مختلف ذرائع آمدن میں رجحانات اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی آمدن میں اضافہ 2025-26 کے 9.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب ذاتی انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس بہتری کی توقع آڈٹ کے عمل میں بہتری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم، آڈٹ کے بعد ڈیمانڈ کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اب تک انکم ٹیکس کی مجموعی آمدن کے 5 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا پرامید تخمینہ کسٹمز ڈیوٹی کی آمدن سے متعلق ہے۔ یہ 2025-26 میں صرف 6.4 فیصد بڑھی تھی، لیکن 2026-27 میں اس کے 20.9 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران شرح مبادلہ میں 4.3 فیصد کمی (ڈیپریسی ایشن) متوقع ہے۔ اس طرح درآمدی اشیا کی ڈالر مالیت میں 16.3 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرکاری طور پر 2026-27 کی درآمدات کے تخمینے سے بھی کافی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا زیادہ پرجوش تخمینہ ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ہے، جس میں مختلف ٹیکسوں میں سب سے زیادہ یعنی 26 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ یہاں ٹیکس کی شرحوں میں کوئی واضح اضافہ نظر نہیں آتا۔ اس جگہ توقع یہ ہے کہ سگریٹ کی تیاری میں ٹیکس چوری میں بڑی کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ایف بی آر کی آمدنی کے تخمینے واضح طور پر پرامید ہیں اور ایک بار پھر تقریباً 1,000 ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے، جیسا کہ 2025-26 میں بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اپنی نان ٹیکس آمدن میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 2025-26 کے دوران 7.3 فیصد کمی ہے۔ اب توقع ہے کہ یہ 2026-27 میں مزید 41 فیصد تک گر جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022-23 کی بلند ترین سطح سے شرح سود میں نمایاں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر وفاقی حکومت کی اپنی نان ٹیکس آمدن 2026-27 میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو پہلی بار وفاقی حکومت کے لیے مجموعی طور پر 1,035 ارب روپے کی بڑی گرانٹ دینا پڑی ہے۔ اگر یہ گرانٹس 2026-27 میں اسلام آباد کو موصول ہو جاتی ہیں تو مجموعی نان ٹیکس آمدن، ان گرانٹس سمیت، صرف 4.8 فیصد کی مثبت شرح نمو دکھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم لیوی نے 2025-26 میں بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود 22.7 فیصد اضافی آمدن دی۔ 2026-27 میں اس سے مزید 11.9 فیصد آمدن کی توقع ہے۔ عالمی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اس لیوی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ 2026-27 میں ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ حال ہی میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بڑی کمی عوام کے لیے نمایاں ریلیف کا باعث بنی ہے اور اسے سراہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم وفاقی اخراجات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2026-27 میں مجموعی اخراجات (جاری + ترقیاتی) میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیوں ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری اخراجات کے بجٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2026-27 میں 16.1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ یہ اگلے سال شرح سود میں اضافے کے تخمینے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے شرح سود میں استحکام، اگر کمی نہیں بھی تو ضرور ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی اخراجات کی مختص رقم تقریباً 16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ غالباً ضروری ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدہ صورتحال اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈیز میں 2026-27 کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس میں پاور ڈیفرینشل سبسڈی میں کچھ کمی بھی شامل ہے۔ غالب امکان ہے کہ چھوٹے صارفین کے لیے کم ٹیرف کی یکساں پالیسی نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے اہلیت کا تعین ایک سروے کے ذریعے کیا جائے گا، جو پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں غیر معمولی طور پر 36 فیصد اضافے کے ساتھ گرانٹس میں بڑا اضافہ شامل کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 2025-26 میں پہلے ہی نسبتاً بڑے 20.8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان گرانٹس میں سے ایک بڑا حصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص ہے۔ اس پروگرام کو ایک مؤثر اسکیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام نے بھی اس کی مالیاتی تخمینوں میں اضافے کی اجازت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی ایس پی کے لیے گرانٹ 2025-26 کے 729 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 857 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 17.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف پروگرام کی کوریج میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ فی خاندان نقد امداد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی رجحانات کے مطابق مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث غربت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک بہت غیر معمولی آئٹم ہے جسے بڑی گرانٹس لینے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز کے نام پر 2026-27 کے بجٹ میں 365 ارب روپے کی یکمشت گرانٹ ہے۔ وزیر خزانہ کو چاہیے تھا کہ وہ 2026-27 کے لیے منتخب کردہ مخصوص اقدامات اور ان کی وجوہات واضح طور پر بیان کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات کی سطح میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ 2025-26 میں اسے تقریباً 54.5 فیصد تک کم کیا گیا تھا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سال کے بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑے پیمانے پر بڑھا کر 1275 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 275 ارب روپے کی قرضہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات میں آبی وسائل کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر بھارت کے پاکستان کے پانی تک رسائی کم کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر۔ بدقسمتی سے یہ بات شعبہ وار ترقیاتی مختص رقوم میں نظر نہیں آتی، اور اس شعبے کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو ترقیاتی اخراجات میں بدستور سب سے بڑا حصہ یعنی 25 فیصد مل رہا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم بھی کم ہے، جو صرف 105 ارب روپے ہے، حالانکہ اس شعبے میں نقصانات کی شرح بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ہم متوقع بجٹ خسارے کی مالی معاونت کا جائزہ لیتے ہیں جو 2026-27 میں 5,226 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ 2.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر بنیادی سرپلس بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ذرائع میں سب سے اہم بیرونی مالی معاونت ہے۔ یہاں بھی 2026-27 کے لیے بیرونی مالیاتی آمد میں بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی مجموعی آمدن 29 فیصد سے زائد بڑھ کر 18.1 ارب ڈالر سے 23.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل تشویشناک بات بیرونی قرضوں کی واپسی میں 59.5 فیصد کا بڑا اضافہ ہے، جو 12.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں خالص آمدن صرف 3.3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ 5.5 ارب ڈالر تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 2026-27 کا بجٹ ایک زیادہ رسک والا بجٹ ہے، جس میں ایف بی آر کی آمدن میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، پہلی بار صوبائی گرانٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور ان گرانٹس کے باوجود صوبائی حکومتوں سے بڑے نقد سرپلسز کی توقع برقرار ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شعبہ جاتی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے وسائل کے جاری منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شفاف اخراجات جیسے نامعلوم نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز سے بچنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ ہفتے کے مضمون میں حال ہی میں اعلان کردہ 2026-27 کے صوبائی بجٹوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان بجٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو دی جانے والی بڑی گرانٹس کے باعث صوبائی نقد سرپلس کے ہدف میں تقریباً 1,000 ارب روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ نتیجتاً مجموعی بجٹ خسارہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح کے مقابلے میں 2026-27 میں تقریباً 1,000 ارب روپے زیادہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 23 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پچھلے ہفتے 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی خصوصیات پر پہلا مضمون شائع ہوا تھا، جس میں مجموعی رجحانات اور تخمینوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ مضمون وفاقی بجٹ کا زیادہ تفصیلی انداز میں جائزہ لیتا ہے۔</strong></p>
<p>سب سے پہلے ہم مختلف ذرائع آمدن میں رجحانات اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی آمدن میں اضافہ 2025-26 کے 9.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب ذاتی انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس بہتری کی توقع آڈٹ کے عمل میں بہتری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم، آڈٹ کے بعد ڈیمانڈ کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اب تک انکم ٹیکس کی مجموعی آمدن کے 5 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔</p>
<p>دوسرا پرامید تخمینہ کسٹمز ڈیوٹی کی آمدن سے متعلق ہے۔ یہ 2025-26 میں صرف 6.4 فیصد بڑھی تھی، لیکن 2026-27 میں اس کے 20.9 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران شرح مبادلہ میں 4.3 فیصد کمی (ڈیپریسی ایشن) متوقع ہے۔ اس طرح درآمدی اشیا کی ڈالر مالیت میں 16.3 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرکاری طور پر 2026-27 کی درآمدات کے تخمینے سے بھی کافی زیادہ ہے۔</p>
<p>تیسرا زیادہ پرجوش تخمینہ ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ہے، جس میں مختلف ٹیکسوں میں سب سے زیادہ یعنی 26 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ یہاں ٹیکس کی شرحوں میں کوئی واضح اضافہ نظر نہیں آتا۔ اس جگہ توقع یہ ہے کہ سگریٹ کی تیاری میں ٹیکس چوری میں بڑی کمی آئے گی۔</p>
<p>مجموعی طور پر ایف بی آر کی آمدنی کے تخمینے واضح طور پر پرامید ہیں اور ایک بار پھر تقریباً 1,000 ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے، جیسا کہ 2025-26 میں بھی ہوگا۔</p>
<p>تاہم، اپنی نان ٹیکس آمدن میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 2025-26 کے دوران 7.3 فیصد کمی ہے۔ اب توقع ہے کہ یہ 2026-27 میں مزید 41 فیصد تک گر جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022-23 کی بلند ترین سطح سے شرح سود میں نمایاں کمی ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر وفاقی حکومت کی اپنی نان ٹیکس آمدن 2026-27 میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو پہلی بار وفاقی حکومت کے لیے مجموعی طور پر 1,035 ارب روپے کی بڑی گرانٹ دینا پڑی ہے۔ اگر یہ گرانٹس 2026-27 میں اسلام آباد کو موصول ہو جاتی ہیں تو مجموعی نان ٹیکس آمدن، ان گرانٹس سمیت، صرف 4.8 فیصد کی مثبت شرح نمو دکھائے گی۔</p>
<p>پیٹرولیم لیوی نے 2025-26 میں بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود 22.7 فیصد اضافی آمدن دی۔ 2026-27 میں اس سے مزید 11.9 فیصد آمدن کی توقع ہے۔ عالمی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اس لیوی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ 2026-27 میں ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ حال ہی میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بڑی کمی عوام کے لیے نمایاں ریلیف کا باعث بنی ہے اور اسے سراہا گیا ہے۔</p>
<p>اب ہم وفاقی اخراجات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2026-27 میں مجموعی اخراجات (جاری + ترقیاتی) میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیوں ہوگا؟</p>
<p>جاری اخراجات کے بجٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2026-27 میں 16.1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ یہ اگلے سال شرح سود میں اضافے کے تخمینے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے شرح سود میں استحکام، اگر کمی نہیں بھی تو ضرور ممکن ہوگا۔</p>
<p>دفاعی اخراجات کی مختص رقم تقریباً 16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ غالباً ضروری ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدہ صورتحال اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>سبسڈیز میں 2026-27 کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس میں پاور ڈیفرینشل سبسڈی میں کچھ کمی بھی شامل ہے۔ غالب امکان ہے کہ چھوٹے صارفین کے لیے کم ٹیرف کی یکساں پالیسی نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے اہلیت کا تعین ایک سروے کے ذریعے کیا جائے گا، جو پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کیا گیا تھا۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں غیر معمولی طور پر 36 فیصد اضافے کے ساتھ گرانٹس میں بڑا اضافہ شامل کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 2025-26 میں پہلے ہی نسبتاً بڑے 20.8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان گرانٹس میں سے ایک بڑا حصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص ہے۔ اس پروگرام کو ایک مؤثر اسکیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام نے بھی اس کی مالیاتی تخمینوں میں اضافے کی اجازت دی ہے۔</p>
<p>بی آئی ایس پی کے لیے گرانٹ 2025-26 کے 729 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 857 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 17.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف پروگرام کی کوریج میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ فی خاندان نقد امداد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی رجحانات کے مطابق مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث غربت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ایک بہت غیر معمولی آئٹم ہے جسے بڑی گرانٹس لینے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز کے نام پر 2026-27 کے بجٹ میں 365 ارب روپے کی یکمشت گرانٹ ہے۔ وزیر خزانہ کو چاہیے تھا کہ وہ 2026-27 کے لیے منتخب کردہ مخصوص اقدامات اور ان کی وجوہات واضح طور پر بیان کرتے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات کی سطح میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ 2025-26 میں اسے تقریباً 54.5 فیصد تک کم کیا گیا تھا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سال کے بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑے پیمانے پر بڑھا کر 1275 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 275 ارب روپے کی قرضہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات میں آبی وسائل کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر بھارت کے پاکستان کے پانی تک رسائی کم کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر۔ بدقسمتی سے یہ بات شعبہ وار ترقیاتی مختص رقوم میں نظر نہیں آتی، اور اس شعبے کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو ترقیاتی اخراجات میں بدستور سب سے بڑا حصہ یعنی 25 فیصد مل رہا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم بھی کم ہے، جو صرف 105 ارب روپے ہے، حالانکہ اس شعبے میں نقصانات کی شرح بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>آخر میں ہم متوقع بجٹ خسارے کی مالی معاونت کا جائزہ لیتے ہیں جو 2026-27 میں 5,226 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ 2.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر بنیادی سرپلس بھی متوقع ہے۔</p>
<p>مالیاتی ذرائع میں سب سے اہم بیرونی مالی معاونت ہے۔ یہاں بھی 2026-27 کے لیے بیرونی مالیاتی آمد میں بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی مجموعی آمدن 29 فیصد سے زائد بڑھ کر 18.1 ارب ڈالر سے 23.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم اصل تشویشناک بات بیرونی قرضوں کی واپسی میں 59.5 فیصد کا بڑا اضافہ ہے، جو 12.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں خالص آمدن صرف 3.3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ 5.5 ارب ڈالر تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔</p>
<p>مجموعی طور پر 2026-27 کا بجٹ ایک زیادہ رسک والا بجٹ ہے، جس میں ایف بی آر کی آمدن میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، پہلی بار صوبائی گرانٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور ان گرانٹس کے باوجود صوبائی حکومتوں سے بڑے نقد سرپلسز کی توقع برقرار ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شعبہ جاتی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے وسائل کے جاری منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شفاف اخراجات جیسے نامعلوم نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز سے بچنا ضروری ہے۔</p>
<p>آئندہ ہفتے کے مضمون میں حال ہی میں اعلان کردہ 2026-27 کے صوبائی بجٹوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان بجٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو دی جانے والی بڑی گرانٹس کے باعث صوبائی نقد سرپلس کے ہدف میں تقریباً 1,000 ارب روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ نتیجتاً مجموعی بجٹ خسارہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح کے مقابلے میں 2026-27 میں تقریباً 1,000 ارب روپے زیادہ ہو سکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 23 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506722</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:26:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/231323014b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/231323014b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چارٹر آف اکانومی: ایک غیر ضروری تصور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506720/nawaz-sharif-ishaq-dar-benazir-bhutto-political-parties-federal-board-of-revenue-ataullah-tarar-budget-2026-27-current-expenditure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔</strong></p>
<p>ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔</p>
<p>مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔</p>
<p>لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔</p>
<p>آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔</p>
<p>بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔</p>
<p>پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔</p>
<p>دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔</p>
<p>رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘</p>
<p>پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔</p>
<p>پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔</p>
<p>آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔</p>
<p>چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔</p>
<p>تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟</p>
<p>تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟</p>
<p>ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506720</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:18:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23131143ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23131143ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزگار کا خاموش بحران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا معاشی استحکام زیادہ تر سخت گیر پالیسی کے ذریعے حاصل ہوا ہے، اخراجات میں سختی، شرحِ سود میں اضافہ، درآمدات میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی۔ روایتی پیمانوں کے مطابق اسے پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس نے ایک گہرے اور زیادہ خطرناک مسئلے کو بھی چھپا دیا ہے: لیبر مارکیٹ کا بحران جو اب افرادی قوت کے ہر درجے میں پھیل چکا ہے، تازہ گریجویٹس سے لے کر درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد تک اور سینئر ایگزیکٹوز تک پھیل چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ زیادہ تر ماہرینِ معاشیات سمجھتے ہیں کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن یہ بحث بھی مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان صرف یہ نہیں کہ بہت کم نوکریاں پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے غلط کارکن پیدا کر رہا ہے جو موجود ہیں، اور ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو پیدا ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم سے آغاز کریں۔ سرکاری اخراجات اب بھی اس سطح سے بہت کم ہیں جو پاکستان جیسے آبادیاتی ڈھانچے والے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ معیاری نجی تعلیم موجود ہے، لیکن صرف ایک محدود اشرافیہ کے لیے۔ اکثریت کے لیے نظام ایسا نہیں جو کسی بھی قابلِ ذکر پیمانے پر خواندگی، حسابی مہارت، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیتیں یا تکنیکی مہارت پیدا کر سکے۔ یونیورسٹیاں مسلسل گریجویٹس کو مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں، لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آجروں کی بنیادی ضرورت کی مہارتوں کے بغیر آتے ہیں۔ نتیجہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ ناقابلِ روزگار ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ طلب کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر تربیت یافتہ بھی ہو، تب بھی وہ ایسی معیشت میں مشکلات کا شکار ہوگی جہاں نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، نئی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہو رہیں، اور موجودہ کاروبار محتاط انداز میں توسیع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسانی سرمائے کا مسئلہ ہے، لیکن ساتھ ہی روزگار پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اب اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے پہلے کرتی تھی، اور کئی شعبے 2022 کے بعد کی معاشی سختیوں سے پہلے والی رفتار حاصل نہیں کر سکے۔ صنعت روایتی طور پر نوجوانوں کو جذب کرنے کا بڑا ذریعہ رہی ہے؛ اب یہ کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مالیاتی شعبہ، جو 2008 کے بحران سے پہلے زیادہ متحرک تھا، جمود کا شکار ہے اور اس نے بہت کم نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ٹیلی کام، جو کبھی پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں شامل تھا، اب بالغ ہو چکا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہیں۔ مختلف صنعتوں میں انضمام اور سائز میں کمی نے درمیانی اور سینئر مینجمنٹ کی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آجر شکایت کرتے ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال گریجویٹس پیدا نہیں کر رہیں۔ کئی صورتوں میں وہ درست ہیں۔ ابتدائی سطح کی ملازمتیں موجود ہیں، خاص طور پر آئی ٹی جیسے برآمدی خدمات کے شعبوں میں، لیکن کمپنیاں عالمی مقابلے کے لیے کم تیار امیدواروں کو تربیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری طرف نوجوان گریجویٹس یہ بھی درست کہتے ہیں کہ اچھے کام بہت کم ہیں جو انہیں جذب کر سکیں۔ مارکیٹ ایک خراب توازن میں پھنس چکی ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں ٹیلنٹ نہیں ملتا، کارکن کہتے ہیں کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اور دونوں کسی حد تک سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت غالباً اسے بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب کرے گی۔ سب سے پہلے جن ملازمتوں پر دباؤ پڑے گا وہ سب سے پیچیدہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ معمولی اور کم مہارت والی ابتدائی سطح کی نوکریاں ہوں گی جن کے ذریعے نوجوان کارکن عام طور پر نظم، کام کی انجام دہی اور فیصلہ سازی سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی سیڑھیاں ختم ہو گئیں تو پاکستان کا پہلے ہی کمزور اسکول سے کام تک کا عبوری نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد ایک مختلف مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رسمی ملکی آجر دو دباؤ کے مقابلے میں ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں: بیرون ملک ملازمت، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ریموٹ ورک۔ خلیجی آپشن اب محدود ہو رہا ہے، لیکن ریموٹ ورک نے ایک طاقتور آربٹریج پیدا کر دیا ہے۔ ایک پاکستانی پیشہ ور جو کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے ریموٹ کام کرتا ہے، اکثر ملکی رسمی شعبے کے ایک برابر ملازم کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ لچک، غیر ملکی کرنسی میں آمدن، سفر کی عدم ضرورت، اور دفتری سیاست سے آزادی شامل ہو جائے تو انتخاب مشکل نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کا ایک بگاڑ ہے۔ پاکستان مؤثر طور پر رسمی ملکی ملازمت کو سزا دیتا ہے جبکہ لیبر سروسز کی برآمد پر نسبتاً کم ٹیکس لگاتا ہے۔ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ ملکی کارپوریٹ ٹیلنٹ پول کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ریاست اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی کہ وہ رسمی تنخواہ دار ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے اور ساتھ ہی یہ دکھاوا کرے کہ اسی معیار کے کارکن کم ٹیکس والے آف شور انتظامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپری سطح پر صورتحال مختلف مگر اتنی ہی ساختی ہے۔ سینئر ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ سرپلس بنتا جا رہا ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، ایف ایم سی جی اور ملٹی نیشنل ترقی کے توسیعی سالوں نے ایسے قابل مینیجرز کی ایک نسل پیدا کی ہے جن کے پاس مزید دس یا پندرہ سال کی کام کرنے کی عمر باقی ہے۔ لیکن نئے ادارے اتنی تیزی سے نہیں بن رہے کہ انہیں جذب کر سکیں، اور موجودہ ادارے انہی سطحوں کو کم کر رہے ہیں جن میں یہ افراد بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈز اور ایگزیکٹو سطحیں اب بھی زیادہ تر پرانی نسل کے زیرِ اثر ہیں جو شاذ و نادر ہی بروقت ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کمپنیاں تنظیمی ڈھانچے کو فلیٹ کر رہی ہیں، فنکشنز کو ضم کر رہی ہیں، لاگت کم کر رہی ہیں، اور سینئر پیشہ ور افراد کو سستے جونیئر متبادل سے تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مضبوط اسناد رکھنے والے تجربہ کار افراد کو ملازمت ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے کار بیٹھے ہیں، غیر رسمی مشاورت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار کر رہے ہیں، یا اپنی اہلیت سے بہت کم درجے کے کام قبول کر رہے ہیں۔ یہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے اور یہ ایک سنگین معاشی نقصان بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے امکانات کمزور پڑتے ہیں اور کچھ کارکن واپس آتے ہیں، پاکستان میں بے روزگار اور کم روزگار درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہ وہ بے روزگاری نہیں ہے جس پر پالیسی ساز عموماً بات کرتے ہیں۔ یہ صرف نوجوانوں کا پہلا کام انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ تجربہ کار کارکنوں کا رسمی پیداواری نظام سے باہر دھکیلا جانا ہے، جبکہ ان کے پاس ابھی بھی کارآمد کام کرنے کے سال موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناقابلِ حل نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیبر مارکیٹ کی ناکامی کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے جتنی پاکستان اب مالیاتی ناکامی کو لیتا ہے۔ ملکی رسمی ملازمت اور ریموٹ آف شور کام کے درمیان ٹیکس کا عدم توازن درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو داخلہ سے زیادہ قابلِ استعمال مہارتوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری کی پالیسی کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں، کتنی کمپنیاں بنی ہیں، اور کتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، نہ کہ صرف ظاہری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر۔ اور پاکستان کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی اضافی تعداد کو بیکار سمجھنے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں تربیت، رہنمائی، گورننس اور کاروباری ترقی کے کرداروں میں مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو وہ انسانی سرمائے میں برسوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام ضروری تھا۔ لیکن استحکام کوئی ترقیاتی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی معیشت صرف استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب اسے کمپنیاں بنانا، کارکنوں کو جذب کرنا، مہارتوں کو انعام دینا، اور لوگوں کو پیداواری کام تک ایک قابلِ اعتماد راستہ دینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی میکرو معاشی بحالی وہی رہے گی جو اکثر رہی ہے: بحرانوں کے درمیان ایک وقفہ، نہ کہ ان سے مکمل نجات۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا معاشی استحکام زیادہ تر سخت گیر پالیسی کے ذریعے حاصل ہوا ہے، اخراجات میں سختی، شرحِ سود میں اضافہ، درآمدات میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی۔ روایتی پیمانوں کے مطابق اسے پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس نے ایک گہرے اور زیادہ خطرناک مسئلے کو بھی چھپا دیا ہے: لیبر مارکیٹ کا بحران جو اب افرادی قوت کے ہر درجے میں پھیل چکا ہے، تازہ گریجویٹس سے لے کر درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد تک اور سینئر ایگزیکٹوز تک پھیل چکا ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ زیادہ تر ماہرینِ معاشیات سمجھتے ہیں کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن یہ بحث بھی مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان صرف یہ نہیں کہ بہت کم نوکریاں پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے غلط کارکن پیدا کر رہا ہے جو موجود ہیں، اور ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو پیدا ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکیں۔</p>
<p>تعلیم سے آغاز کریں۔ سرکاری اخراجات اب بھی اس سطح سے بہت کم ہیں جو پاکستان جیسے آبادیاتی ڈھانچے والے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ معیاری نجی تعلیم موجود ہے، لیکن صرف ایک محدود اشرافیہ کے لیے۔ اکثریت کے لیے نظام ایسا نہیں جو کسی بھی قابلِ ذکر پیمانے پر خواندگی، حسابی مہارت، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیتیں یا تکنیکی مہارت پیدا کر سکے۔ یونیورسٹیاں مسلسل گریجویٹس کو مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں، لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آجروں کی بنیادی ضرورت کی مہارتوں کے بغیر آتے ہیں۔ نتیجہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ ناقابلِ روزگار ہونا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ طلب کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر تربیت یافتہ بھی ہو، تب بھی وہ ایسی معیشت میں مشکلات کا شکار ہوگی جہاں نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، نئی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہو رہیں، اور موجودہ کاروبار محتاط انداز میں توسیع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسانی سرمائے کا مسئلہ ہے، لیکن ساتھ ہی روزگار پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اب اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے پہلے کرتی تھی، اور کئی شعبے 2022 کے بعد کی معاشی سختیوں سے پہلے والی رفتار حاصل نہیں کر سکے۔ صنعت روایتی طور پر نوجوانوں کو جذب کرنے کا بڑا ذریعہ رہی ہے؛ اب یہ کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مالیاتی شعبہ، جو 2008 کے بحران سے پہلے زیادہ متحرک تھا، جمود کا شکار ہے اور اس نے بہت کم نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ٹیلی کام، جو کبھی پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں شامل تھا، اب بالغ ہو چکا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہیں۔ مختلف صنعتوں میں انضمام اور سائز میں کمی نے درمیانی اور سینئر مینجمنٹ کی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>آجر شکایت کرتے ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال گریجویٹس پیدا نہیں کر رہیں۔ کئی صورتوں میں وہ درست ہیں۔ ابتدائی سطح کی ملازمتیں موجود ہیں، خاص طور پر آئی ٹی جیسے برآمدی خدمات کے شعبوں میں، لیکن کمپنیاں عالمی مقابلے کے لیے کم تیار امیدواروں کو تربیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری طرف نوجوان گریجویٹس یہ بھی درست کہتے ہیں کہ اچھے کام بہت کم ہیں جو انہیں جذب کر سکیں۔ مارکیٹ ایک خراب توازن میں پھنس چکی ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں ٹیلنٹ نہیں ملتا، کارکن کہتے ہیں کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اور دونوں کسی حد تک سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت غالباً اسے بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب کرے گی۔ سب سے پہلے جن ملازمتوں پر دباؤ پڑے گا وہ سب سے پیچیدہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ معمولی اور کم مہارت والی ابتدائی سطح کی نوکریاں ہوں گی جن کے ذریعے نوجوان کارکن عام طور پر نظم، کام کی انجام دہی اور فیصلہ سازی سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی سیڑھیاں ختم ہو گئیں تو پاکستان کا پہلے ہی کمزور اسکول سے کام تک کا عبوری نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔</p>
<p>درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد ایک مختلف مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رسمی ملکی آجر دو دباؤ کے مقابلے میں ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں: بیرون ملک ملازمت، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ریموٹ ورک۔ خلیجی آپشن اب محدود ہو رہا ہے، لیکن ریموٹ ورک نے ایک طاقتور آربٹریج پیدا کر دیا ہے۔ ایک پاکستانی پیشہ ور جو کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے ریموٹ کام کرتا ہے، اکثر ملکی رسمی شعبے کے ایک برابر ملازم کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ لچک، غیر ملکی کرنسی میں آمدن، سفر کی عدم ضرورت، اور دفتری سیاست سے آزادی شامل ہو جائے تو انتخاب مشکل نہیں رہتا۔</p>
<p>یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کا ایک بگاڑ ہے۔ پاکستان مؤثر طور پر رسمی ملکی ملازمت کو سزا دیتا ہے جبکہ لیبر سروسز کی برآمد پر نسبتاً کم ٹیکس لگاتا ہے۔ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ ملکی کارپوریٹ ٹیلنٹ پول کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ریاست اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی کہ وہ رسمی تنخواہ دار ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے اور ساتھ ہی یہ دکھاوا کرے کہ اسی معیار کے کارکن کم ٹیکس والے آف شور انتظامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اوپری سطح پر صورتحال مختلف مگر اتنی ہی ساختی ہے۔ سینئر ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ سرپلس بنتا جا رہا ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، ایف ایم سی جی اور ملٹی نیشنل ترقی کے توسیعی سالوں نے ایسے قابل مینیجرز کی ایک نسل پیدا کی ہے جن کے پاس مزید دس یا پندرہ سال کی کام کرنے کی عمر باقی ہے۔ لیکن نئے ادارے اتنی تیزی سے نہیں بن رہے کہ انہیں جذب کر سکیں، اور موجودہ ادارے انہی سطحوں کو کم کر رہے ہیں جن میں یہ افراد بیٹھے ہیں۔</p>
<p>بورڈز اور ایگزیکٹو سطحیں اب بھی زیادہ تر پرانی نسل کے زیرِ اثر ہیں جو شاذ و نادر ہی بروقت ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کمپنیاں تنظیمی ڈھانچے کو فلیٹ کر رہی ہیں، فنکشنز کو ضم کر رہی ہیں، لاگت کم کر رہی ہیں، اور سینئر پیشہ ور افراد کو سستے جونیئر متبادل سے تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مضبوط اسناد رکھنے والے تجربہ کار افراد کو ملازمت ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے کار بیٹھے ہیں، غیر رسمی مشاورت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار کر رہے ہیں، یا اپنی اہلیت سے بہت کم درجے کے کام قبول کر رہے ہیں۔ یہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے اور یہ ایک سنگین معاشی نقصان بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے امکانات کمزور پڑتے ہیں اور کچھ کارکن واپس آتے ہیں، پاکستان میں بے روزگار اور کم روزگار درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہ وہ بے روزگاری نہیں ہے جس پر پالیسی ساز عموماً بات کرتے ہیں۔ یہ صرف نوجوانوں کا پہلا کام انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ تجربہ کار کارکنوں کا رسمی پیداواری نظام سے باہر دھکیلا جانا ہے، جبکہ ان کے پاس ابھی بھی کارآمد کام کرنے کے سال موجود ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناقابلِ حل نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیبر مارکیٹ کی ناکامی کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے جتنی پاکستان اب مالیاتی ناکامی کو لیتا ہے۔ ملکی رسمی ملازمت اور ریموٹ آف شور کام کے درمیان ٹیکس کا عدم توازن درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو داخلہ سے زیادہ قابلِ استعمال مہارتوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری کی پالیسی کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں، کتنی کمپنیاں بنی ہیں، اور کتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، نہ کہ صرف ظاہری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر۔ اور پاکستان کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی اضافی تعداد کو بیکار سمجھنے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں تربیت، رہنمائی، گورننس اور کاروباری ترقی کے کرداروں میں مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو وہ انسانی سرمائے میں برسوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>استحکام ضروری تھا۔ لیکن استحکام کوئی ترقیاتی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی معیشت صرف استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب اسے کمپنیاں بنانا، کارکنوں کو جذب کرنا، مہارتوں کو انعام دینا، اور لوگوں کو پیداواری کام تک ایک قابلِ اعتماد راستہ دینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی میکرو معاشی بحالی وہی رہے گی جو اکثر رہی ہے: بحرانوں کے درمیان ایک وقفہ، نہ کہ ان سے مکمل نجات۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506690</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:47:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/221244507e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/221244507e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنانس بل 2026: ٹیکس بٹورنے سے کام نہیں چل سکتا!</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔</strong></p>
<p>اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟</p>
<p>فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔</p>
<p>اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔</p>
<p>تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔</p>
<p>بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔</p>
<p>فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔</p>
<p>پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔</p>
<p>ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p>اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔</p>
<p>شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔</p>
<p>یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔</p>
<p>پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔</p>
<p>قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔</p>
<p>ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔</p>
<p>اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔</p>
<p>مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔</p>
<p>شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔</p>
<p>یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔</p>
<p>دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔</p>
<p>تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔</p>
<p>پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟</p>
<p>فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
<p>جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506631</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 12:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122706c81d4b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/20122706c81d4b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمین میں احساسِ ملکیت پیدا کرنا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506577/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احساسِ ملکیت کا فقدان ہے۔ یہ جملہ میں بارہا سنتی ہوں۔ جب بھی میں رہنماؤں کو درپیش بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتا ہوں، ملازمین میں احساسِ ملکیت کی کمی اُن کے سرفہرست مسائل میں شامل ہوتی ہے۔ ”انہیں کوئی پروا نہیں۔“ ”وہ کام کو بوجھ سمجھتے ہیں۔“ ”ان لوگوں کی بے حسی کا کیا کیا جائے جن کی دلچسپی صرف تنخواہ لینے تک محدود ہے؟“ ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی سہولتوں کو کس قدر معمولی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔“ یہ محض چند شکایات نہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تنظیمی خرابی اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیزی سے کسی بھی ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آئی این ایم جے وائرس کہا جا سکتا ہے، یعنی ”یہ میرا کام نہیں“۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے کیڑے کی مانند ہے جو ملازمین کی پیداواری صلاحیت اور کام سے وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ”یہ میرا کام نہیں“ والا کیڑا کھٹمل کی طرح ہوتا ہے۔ کھٹمل عموماً بے خبری میں جلد کے کھلے حصوں کو کاٹتے ہیں اور ان کے نشانات اکثر قطاروں یا جھرمٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاٹتے وقت ہلکی سی بے حسی پیدا کرنے والا مادہ جسم میں داخل کر دیتے ہیں، اس لیے اکثر انسان کو فوراً احساس بھی نہیں ہوتا، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے لے کر چودہ دن تک بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکل اسی طرح آئی این ایم جے کیڑا محض ایک پریشان کن عادت نہیں، بلکہ ادارے کی رگوں سے خون نچوڑ لینے والی بیماری ہے۔ یہ رویہ تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی کو ختم کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ”کام ٹالو اور جان چھڑاؤ“ کی ثقافت غالب آنے لگتی ہے۔ لوگ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ”ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے“ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپرد کیے گئے کام تاخیر کا شکار ہونے لگتے ہیں، تاخیر کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر وہی دوسرے لوگ کسی تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسا غیر ذمہ دارانہ اور زہریلا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ صرف سکون کا سانس لینے کے لیے دفتر اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا تصور کیجیے کہ ملازمین ادارے کو محض ایک عارضی پڑاؤ سمجھنے لگیں۔ وہ صرف اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی کم سے کم ضروریات پوری کریں اور بس۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں جو رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: ”ملازمین کی وفاداری اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنریشن زیڈ (جن زی) کے لوگ بہتر پیش کش ملتے ہی اگلی نوکری کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔“ تاہم، اس رائے سے مکمل اتفاق ضروری نہیں؛ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے جواب میں عموماً تنخواہوں، کاروبار کی کمزور کارکردگی کے باوجود اضافوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، لیکن یہ صرف مسابقتی معیار قائم کرتے ہیں۔ ان مالی مراعات کے ذریعے ملازمین کا ادارے میں حصہ یا مفاد محض بنیادی سطح تک محدود رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی مراعات کی نقل کرنا یا ان سے بہتر پیش کش دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم متبادل تقرری نامہ لے کر آتا ہے اور کمپنی اس کے ساتھ تنخواہ اور مراعات پر سودے بازی کرتی ہے، تو یہ دراصل اسی کمزور احساسِ ملکیت کی واضح مثال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالکان کا کمپنی میں مالی مفاد اور حصہ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین کے پاس عموماً ایسا مالی حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم، ان کے اندر ایک نفسیاتی وابستگی پیدا کی جا سکتی ہے جو انہیں ادارے کے ساتھ مخلص، پُرجوش اور وفادار بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کے انداز اور رویّے کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملازمین کے مالی مفاد میں اضافے کے اختیارات ان کے پاس محدود ہیں، لیکن ادارے سے وابستگی کے دیگر پہلوؤں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔ ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلا حصہ: نفسیاتی تحفظ اور آسودگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ اگر وہ وہاں خود کو غیر محفوظ، خوف زدہ یا دباؤ کا شکار محسوس کریں تو زیادہ عرصہ تک اس ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں ملازمین خود کو نفسیاتی طور پر محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، انہیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ادارے کو ان کے لیے گھر جیسا بناتے ہیں۔ یہی عوامل احساسِ ملکیت پیدا کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تنظیمی ثقافت فروغ دی جائے جس میں سینئرز جونیئرز کی بات سنیں۔ رہنما اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔ ایسے نظام موجود ہوں جو یہ جانچ سکیں کہ کام کی جگہ اعتماد کو فروغ دے رہی ہے یا اسے مجروح کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رہنما صرف رائے دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں سے رائے بھی طلب کریں؛ اور انہیں دی جانے والی آرا کو سنجیدگی اور منظم انداز میں زیرِ غور لائیں۔ اس سے بڑھ کر، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان کی ذمہ داری قبول کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام اقدامات میں شفافیت اور کشادگی ناگزیر ہے، تاکہ رائے دینے اور وصول کرنے والے دونوں خود کو محفوظ، خوش آمدید اور قابلِ قدر محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسرا حصہ: جذباتی وابستگی اور تعلق&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازم کا دوسرا بڑا حصہ یا مفاد وہ مثبت جذبات ہیں جو وہ کام کے دوران محسوس کرتا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے پر فخر ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہے کہ اس کی فکر کی جاتی ہے؟ کیا وہ کمپنی کے اخراجات بچانے کے لیے دل سے کوشش کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سوالات کا جواب سادہ ہے: ملازم اسی وقت ادارے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جب ادارہ بھی اس کے مسائل کو سنجیدگی سے اپنا مسئلہ سمجھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ رہنما جو ہمدردی رکھتے ہیں اور ملازمین کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا طرزِ عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ملازمین سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انسانی اور ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک نئی کاروباری کمپنی میں، جہاں ملازمین اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈی) سے بڑھ کر کام انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی وجہ خاصی معنی خیز تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ”وہ میرے خاندانی مسائل کے بارے میں پوچھتے ہیں، میری والدہ کی بیماری کی خبر رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈاکٹروں سے وقت لینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ملازم نے کہا کہ ”انہوں نے مجھ سے میری سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ میں اپنے پسندیدہ پیشہ ور رہنما کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا، تو انہوں نے میری اس شخصیت سے ملاقات ہی کروا دی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ جذباتی وابستگی ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ذاتی اور مخلصانہ رویے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں اور ادارے کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو دیرپا ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیسرا حصہ: فکری نمو اور بااختیار بنانا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازم اور ادارے کے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ قیادت ملازمین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملازم نے کہا کہ ”وہ مجھے اہم اجلاسوں میں ساتھ لے جاتے تھے اور یہ دیکھنے کا موقع دیتے تھے کہ اعلیٰ انتظامیہ کس انداز سے سوچتی اور فیصلے کرتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکری وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ملازمین کو تخلیقی سوچ پر مبنی مشاورتی نشستوں میں شریک کیا جائے۔ ان سے ان کے شعبۂ مہارت کے مطابق تجاویز اور آرا طلب کی جائیں اور انہیں محض احکامات پر عمل کرنے والا نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنے والا شریکِ کار سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ذمہ داریاں تفویض کرنا اور ان کی کامیاب تکمیل پر کھلے دل سے اعتراف اور تحسین کرنا بھی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملازم نے مجھ سے کہا کہ ”مجھے اس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا جب میرے رہنما نے میری کامیابی کا ذکر ہر متعلقہ گروپ اور ہر مناسب ای میل میں کیا۔ وہ مسلسل یہ بتاتے رہے کہ میں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لمحات انسانی یادداشت میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور ادارے کے ساتھ وابستگی کو گہرا کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر حصے داری سے مراد مالی مفاد لیا جاتا ہے اور شیئرز کا تصور حصص کی ملکیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ملازمین کو حصص کی ملکیت دینے والی اسکیمیں اگرچہ موجود ہیں، لیکن بہت کم اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض تنظیمیں ملازمین سے قانونی معاہدے بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ملازمت نہ چھوڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایک چیز جو مکمل طور پر رہنماؤں کے اختیار میں ہوتی ہے، وہ ہے فکری، جذباتی اور نفسیاتی وابستگی پیدا کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ غیر مرئی مگر نہایت مؤثر رشتے ہیں جو ملازمین کو ادارے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر یہ تعلقات قانونی پابندیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ملازم کی وفاداری تک رسائی کا راستہ اس کے دل اور ذہن سے ہو کر گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 17 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>احساسِ ملکیت کا فقدان ہے۔ یہ جملہ میں بارہا سنتی ہوں۔ جب بھی میں رہنماؤں کو درپیش بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتا ہوں، ملازمین میں احساسِ ملکیت کی کمی اُن کے سرفہرست مسائل میں شامل ہوتی ہے۔ ”انہیں کوئی پروا نہیں۔“ ”وہ کام کو بوجھ سمجھتے ہیں۔“ ”ان لوگوں کی بے حسی کا کیا کیا جائے جن کی دلچسپی صرف تنخواہ لینے تک محدود ہے؟“ ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی سہولتوں کو کس قدر معمولی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔“ یہ محض چند شکایات نہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تنظیمی خرابی اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیزی سے کسی بھی ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آئی این ایم جے وائرس کہا جا سکتا ہے، یعنی ”یہ میرا کام نہیں“۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے کیڑے کی مانند ہے جو ملازمین کی پیداواری صلاحیت اور کام سے وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔</p>
<p>یہ ”یہ میرا کام نہیں“ والا کیڑا کھٹمل کی طرح ہوتا ہے۔ کھٹمل عموماً بے خبری میں جلد کے کھلے حصوں کو کاٹتے ہیں اور ان کے نشانات اکثر قطاروں یا جھرمٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاٹتے وقت ہلکی سی بے حسی پیدا کرنے والا مادہ جسم میں داخل کر دیتے ہیں، اس لیے اکثر انسان کو فوراً احساس بھی نہیں ہوتا، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے لے کر چودہ دن تک بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>بالکل اسی طرح آئی این ایم جے کیڑا محض ایک پریشان کن عادت نہیں، بلکہ ادارے کی رگوں سے خون نچوڑ لینے والی بیماری ہے۔ یہ رویہ تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی کو ختم کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ”کام ٹالو اور جان چھڑاؤ“ کی ثقافت غالب آنے لگتی ہے۔ لوگ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ”ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے“ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>سپرد کیے گئے کام تاخیر کا شکار ہونے لگتے ہیں، تاخیر کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر وہی دوسرے لوگ کسی تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسا غیر ذمہ دارانہ اور زہریلا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ صرف سکون کا سانس لینے کے لیے دفتر اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔</p>
<p>ذرا تصور کیجیے کہ ملازمین ادارے کو محض ایک عارضی پڑاؤ سمجھنے لگیں۔ وہ صرف اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی کم سے کم ضروریات پوری کریں اور بس۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں جو رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: ”ملازمین کی وفاداری اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنریشن زیڈ (جن زی) کے لوگ بہتر پیش کش ملتے ہی اگلی نوکری کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔“ تاہم، اس رائے سے مکمل اتفاق ضروری نہیں؛ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“</p>
<p>اس سوال کے جواب میں عموماً تنخواہوں، کاروبار کی کمزور کارکردگی کے باوجود اضافوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، لیکن یہ صرف مسابقتی معیار قائم کرتے ہیں۔ ان مالی مراعات کے ذریعے ملازمین کا ادارے میں حصہ یا مفاد محض بنیادی سطح تک محدود رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی مراعات کی نقل کرنا یا ان سے بہتر پیش کش دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم متبادل تقرری نامہ لے کر آتا ہے اور کمپنی اس کے ساتھ تنخواہ اور مراعات پر سودے بازی کرتی ہے، تو یہ دراصل اسی کمزور احساسِ ملکیت کی واضح مثال ہوتی ہے۔</p>
<p>مالکان کا کمپنی میں مالی مفاد اور حصہ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین کے پاس عموماً ایسا مالی حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم، ان کے اندر ایک نفسیاتی وابستگی پیدا کی جا سکتی ہے جو انہیں ادارے کے ساتھ مخلص، پُرجوش اور وفادار بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کے انداز اور رویّے کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔</p>
<p>رہنما یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملازمین کے مالی مفاد میں اضافے کے اختیارات ان کے پاس محدود ہیں، لیکن ادارے سے وابستگی کے دیگر پہلوؤں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔ ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے:</p>
<p><strong>پہلا حصہ: نفسیاتی تحفظ اور آسودگی</strong></p>
<p>لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ اگر وہ وہاں خود کو غیر محفوظ، خوف زدہ یا دباؤ کا شکار محسوس کریں تو زیادہ عرصہ تک اس ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں ملازمین خود کو نفسیاتی طور پر محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔</p>
<p>انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، انہیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ادارے کو ان کے لیے گھر جیسا بناتے ہیں۔ یہی عوامل احساسِ ملکیت پیدا کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تنظیمی ثقافت فروغ دی جائے جس میں سینئرز جونیئرز کی بات سنیں۔ رہنما اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔ ایسے نظام موجود ہوں جو یہ جانچ سکیں کہ کام کی جگہ اعتماد کو فروغ دے رہی ہے یا اسے مجروح کر رہی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رہنما صرف رائے دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں سے رائے بھی طلب کریں؛ اور انہیں دی جانے والی آرا کو سنجیدگی اور منظم انداز میں زیرِ غور لائیں۔ اس سے بڑھ کر، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان کی ذمہ داری قبول کریں۔</p>
<p>ان تمام اقدامات میں شفافیت اور کشادگی ناگزیر ہے، تاکہ رائے دینے اور وصول کرنے والے دونوں خود کو محفوظ، خوش آمدید اور قابلِ قدر محسوس کریں۔</p>
<p><strong>دوسرا حصہ: جذباتی وابستگی اور تعلق</strong></p>
<p>ملازم کا دوسرا بڑا حصہ یا مفاد وہ مثبت جذبات ہیں جو وہ کام کے دوران محسوس کرتا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے پر فخر ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہے کہ اس کی فکر کی جاتی ہے؟ کیا وہ کمپنی کے اخراجات بچانے کے لیے دل سے کوشش کرتا ہے؟</p>
<p>ان سوالات کا جواب سادہ ہے: ملازم اسی وقت ادارے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جب ادارہ بھی اس کے مسائل کو سنجیدگی سے اپنا مسئلہ سمجھے۔</p>
<p>وہ رہنما جو ہمدردی رکھتے ہیں اور ملازمین کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا طرزِ عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ملازمین سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انسانی اور ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کرتے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ایک نئی کاروباری کمپنی میں، جہاں ملازمین اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈی) سے بڑھ کر کام انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی وجہ خاصی معنی خیز تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ”وہ میرے خاندانی مسائل کے بارے میں پوچھتے ہیں، میری والدہ کی بیماری کی خبر رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈاکٹروں سے وقت لینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟“</p>
<p>ایک اور ملازم نے کہا کہ ”انہوں نے مجھ سے میری سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ میں اپنے پسندیدہ پیشہ ور رہنما کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا، تو انہوں نے میری اس شخصیت سے ملاقات ہی کروا دی۔“</p>
<p>یہی وہ جذباتی وابستگی ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ذاتی اور مخلصانہ رویے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں اور ادارے کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو دیرپا ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>تیسرا حصہ: فکری نمو اور بااختیار بنانا</strong></p>
<p>ملازم اور ادارے کے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ قیادت ملازمین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے۔</p>
<p>ایک ملازم نے کہا کہ ”وہ مجھے اہم اجلاسوں میں ساتھ لے جاتے تھے اور یہ دیکھنے کا موقع دیتے تھے کہ اعلیٰ انتظامیہ کس انداز سے سوچتی اور فیصلے کرتی ہے۔“</p>
<p>فکری وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ملازمین کو تخلیقی سوچ پر مبنی مشاورتی نشستوں میں شریک کیا جائے۔ ان سے ان کے شعبۂ مہارت کے مطابق تجاویز اور آرا طلب کی جائیں اور انہیں محض احکامات پر عمل کرنے والا نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنے والا شریکِ کار سمجھا جائے۔</p>
<p>اسی طرح ذمہ داریاں تفویض کرنا اور ان کی کامیاب تکمیل پر کھلے دل سے اعتراف اور تحسین کرنا بھی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>ایک ملازم نے مجھ سے کہا کہ ”مجھے اس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا جب میرے رہنما نے میری کامیابی کا ذکر ہر متعلقہ گروپ اور ہر مناسب ای میل میں کیا۔ وہ مسلسل یہ بتاتے رہے کہ میں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا ہے۔“</p>
<p>ایسے لمحات انسانی یادداشت میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور ادارے کے ساتھ وابستگی کو گہرا کر دیتے ہیں۔</p>
<p>عام طور پر حصے داری سے مراد مالی مفاد لیا جاتا ہے اور شیئرز کا تصور حصص کی ملکیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ملازمین کو حصص کی ملکیت دینے والی اسکیمیں اگرچہ موجود ہیں، لیکن بہت کم اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض تنظیمیں ملازمین سے قانونی معاہدے بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ملازمت نہ چھوڑیں۔</p>
<p>تاہم، ایک چیز جو مکمل طور پر رہنماؤں کے اختیار میں ہوتی ہے، وہ ہے فکری، جذباتی اور نفسیاتی وابستگی پیدا کرنا۔</p>
<p>یہ وہ غیر مرئی مگر نہایت مؤثر رشتے ہیں جو ملازمین کو ادارے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر یہ تعلقات قانونی پابندیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ملازم کی وفاداری تک رسائی کا راستہ اس کے دل اور ذہن سے ہو کر گزرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 17 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506577</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 14:50:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181446132f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181446132f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی اہم خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506580/imf-imf-and-pakistan-budget-2026-27-federal-budget-fy2026-27-budget-fy27-fy2026-27-budget-federal-budget-2026-2027-federal-budget-fy2026-27-key-features-of-budget</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں مثبت اور منفی، دونوں طرح کی اہم خصوصیات موجود ہیں، جن کی نشاندہی ذیل میں کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی استحکام میں کامیابی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے عوامی مالیات کے استحکام میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کے حجم کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس خسارے میں بڑی حد تک کمی لائی گئی ہے۔ مالی سال 2021-22 میں یہ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم و بیش اسی سطح پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں بڑی کمی مالی سال 2024-25 میں سامنے آئی، جب یہ تیزی سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک آگیا، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں مزید گھٹ کر صرف 3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ بجٹ خسارے کی تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں اس کمی کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں نمایاں بہتری تھی۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی جی ڈی پی کے تناسب سے شرح میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی مجموعی کمی مکمل طور پر محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کا نتیجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو نکال کر خالص بجٹ خسارہ مالی سال 2023-24 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2024-25 میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس میں بدل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے خسارے سے رواں مالی سال 2025-26 میں ممکنہ طور پر صرف 3 فیصد تک مزید بڑی کمی بظاہر قرضوں کی خدمت (ڈیٹ سروسنگ) کے اخراجات میں متوقع کمی کے باعث ہوئی ہے، جو جی ڈی پی کے 7.6 فیصد سے گھٹ کر 5.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیونکہ مالی سال 2025-26 کے دوران شرح سود میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر مالی سال 2026-27 کے اہداف کی جانب دیکھا جائے تو توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مجموعی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں کچھ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ تخمینہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تیسرے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے عوامی مالیات سے متعلق پیش گوئی کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے اندازہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن جی ڈی پی کے 8.2 فیصد پر برقرار رہے گی، جبکہ وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے مساوی اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کا جزوی ازالہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی اضافے سے ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کو صوبائی گرانٹس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 164 کے تحت حاصل ہونے والی گرانٹس اور وصولیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ الٹی منتقلی (ریورس ٹرانسفر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں ہونے والی منتقلی میں 993 ارب روپے کی متوقع کمی کے ازالے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مجوزہ گرانٹس کا حجم خاصا بڑا ہے، جو 1,035 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق، کوئی صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹ دے سکتا ہے، خواہ وہ مقصد ایسا نہ ہو جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبائی حکومتوں پر دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاق کو ریورس گرانٹس کے اس نئے نظام کے ساتھ وفاقی بجٹ میں یہ مفروضہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں مجموعی بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے بدستور بڑے پیمانے پر نقد سرپلس پیدا کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع کی جا رہی ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں مل کر مالی سال 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا بڑا نقد سرپلس پیدا کریں گی، جو رواں مالی سال کی متوقع سطح کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ بڑے نقد سرپلس اور وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 600 ارب روپے سے زائد کی نمایاں کٹوتی ہو سکتی ہے، جو 22.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹوں کے اعلانات کا انتظار کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا صوبے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، وفاق کو بھاری ریورس گرانٹس کی موجودگی میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس وفاقی تخمینوں سے کم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ صورتِ حال صوبائی حکومتوں کو اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ درحقیقت، آئی ایم ایف پروگرام میں مالی سال 2026-27 کے دوران صوبوں کے اپنے ذرائع سے 400 ارب روپے کی اضافی وسائل جمع کرنے کا ہدف شامل ہے، جس میں بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی آمدن پر پڑنے والے اس ”دباؤ“ سے نکلنا چاہتی ہیں تو انہیں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ اضافی محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کو اپنی بجٹ تقریر میں آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت بین الحکومتی مالیاتی تعلقات میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی واضح وضاحت کرنی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایف بی آر کے محصولات کا نہایت بلند ہدف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وفاقی سطح پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی شرح غالباً صرف 10.5 فیصد رہے گی، جس کے نتیجے میں سالانہ ہدف کے مقابلے میں 1,148 ارب روپے کی نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کی محصولات کا ایک نہایت بلند ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی سطح کے مقابلے میں 2,281 ارب روپے کا اضافہ ہے، جو 17.6 فیصد شرح نمو کے مساوی بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے حجم میں برائے نام بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد 4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور تقریباً 8 فیصد افراطِ زر پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایف بی آر کو اپنی محصولات میں مزید 5.5 فیصد اضافی نمو حاصل کرنا ہوگی۔ انفرادی محصولات کے اہداف کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، دونوں کی متوقع شرح نمو تقریباً یکساں رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، نسبتاً چھوٹی نوعیت کی متعدد ٹیکس رعایتیں تجویز کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر محصولات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کئی حیران کن پہلوؤں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اول، صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس کی منتقلی کا نیا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ دوم، اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس تجویز کے بغیر، اور ٹیکس انتظامیہ میں غیر یقینی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے، ایف بی آر کے لیے 17.6 فیصد محصولات کی نمو کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبائی حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی خدمات میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی ترقی کے عمل کی رفتار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مضمون میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے مختلف حصوں کا مزید تفصیلی اور جزوی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 16 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں مثبت اور منفی، دونوں طرح کی اہم خصوصیات موجود ہیں، جن کی نشاندہی ذیل میں کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p><strong>مالیاتی استحکام میں کامیابی</strong></p>
<p>ملک کے عوامی مالیات کے استحکام میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کے حجم کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس خسارے میں بڑی حد تک کمی لائی گئی ہے۔ مالی سال 2021-22 میں یہ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم و بیش اسی سطح پر برقرار رہا۔</p>
<p>خسارے میں بڑی کمی مالی سال 2024-25 میں سامنے آئی، جب یہ تیزی سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک آگیا، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں مزید گھٹ کر صرف 3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ بجٹ خسارے کی تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>خسارے میں اس کمی کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں نمایاں بہتری تھی۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی جی ڈی پی کے تناسب سے شرح میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی مجموعی کمی مکمل طور پر محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کا نتیجہ تھی۔</p>
<p>اسی دوران، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو نکال کر خالص بجٹ خسارہ مالی سال 2023-24 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2024-25 میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس میں بدل گیا۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے خسارے سے رواں مالی سال 2025-26 میں ممکنہ طور پر صرف 3 فیصد تک مزید بڑی کمی بظاہر قرضوں کی خدمت (ڈیٹ سروسنگ) کے اخراجات میں متوقع کمی کے باعث ہوئی ہے، جو جی ڈی پی کے 7.6 فیصد سے گھٹ کر 5.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیونکہ مالی سال 2025-26 کے دوران شرح سود میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔</p>
<p>اب اگر مالی سال 2026-27 کے اہداف کی جانب دیکھا جائے تو توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مجموعی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں کچھ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ تخمینہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تیسرے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے عوامی مالیات سے متعلق پیش گوئی کے قریب ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے اندازہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن جی ڈی پی کے 8.2 فیصد پر برقرار رہے گی، جبکہ وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے مساوی اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کا جزوی ازالہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی اضافے سے ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:</p>
<p><strong>وفاقی حکومت کو صوبائی گرانٹس</strong></p>
<p>وفاقی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 164 کے تحت حاصل ہونے والی گرانٹس اور وصولیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ الٹی منتقلی (ریورس ٹرانسفر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں ہونے والی منتقلی میں 993 ارب روپے کی متوقع کمی کے ازالے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مجوزہ گرانٹس کا حجم خاصا بڑا ہے، جو 1,035 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق، کوئی صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹ دے سکتا ہے، خواہ وہ مقصد ایسا نہ ہو جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔</p>
<p><strong>صوبائی حکومتوں پر دباؤ</strong></p>
<p>صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاق کو ریورس گرانٹس کے اس نئے نظام کے ساتھ وفاقی بجٹ میں یہ مفروضہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں مجموعی بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے بدستور بڑے پیمانے پر نقد سرپلس پیدا کرتی رہیں گی۔</p>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں مل کر مالی سال 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا بڑا نقد سرپلس پیدا کریں گی، جو رواں مالی سال کی متوقع سطح کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ بڑے نقد سرپلس اور وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 600 ارب روپے سے زائد کی نمایاں کٹوتی ہو سکتی ہے، جو 22.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹوں کے اعلانات کا انتظار کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا صوبے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، وفاق کو بھاری ریورس گرانٹس کی موجودگی میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس وفاقی تخمینوں سے کم رہیں۔</p>
<p>تاہم، یہ صورتِ حال صوبائی حکومتوں کو اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ درحقیقت، آئی ایم ایف پروگرام میں مالی سال 2026-27 کے دوران صوبوں کے اپنے ذرائع سے 400 ارب روپے کی اضافی وسائل جمع کرنے کا ہدف شامل ہے، جس میں بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی آمدن پر پڑنے والے اس ”دباؤ“ سے نکلنا چاہتی ہیں تو انہیں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ اضافی محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ کو اپنی بجٹ تقریر میں آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت بین الحکومتی مالیاتی تعلقات میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی واضح وضاحت کرنی چاہیے تھی۔</p>
<p><strong>ایف بی آر کے محصولات کا نہایت بلند ہدف</strong></p>
<p>مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وفاقی سطح پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی شرح غالباً صرف 10.5 فیصد رہے گی، جس کے نتیجے میں سالانہ ہدف کے مقابلے میں 1,148 ارب روپے کی نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کی محصولات کا ایک نہایت بلند ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی سطح کے مقابلے میں 2,281 ارب روپے کا اضافہ ہے، جو 17.6 فیصد شرح نمو کے مساوی بنتا ہے۔</p>
<p>قومی ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے حجم میں برائے نام بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد 4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور تقریباً 8 فیصد افراطِ زر پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایف بی آر کو اپنی محصولات میں مزید 5.5 فیصد اضافی نمو حاصل کرنا ہوگی۔ انفرادی محصولات کے اہداف کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، دونوں کی متوقع شرح نمو تقریباً یکساں رکھی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، نسبتاً چھوٹی نوعیت کی متعدد ٹیکس رعایتیں تجویز کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر محصولات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کئی حیران کن پہلوؤں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اول، صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس کی منتقلی کا نیا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ دوم، اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس تجویز کے بغیر، اور ٹیکس انتظامیہ میں غیر یقینی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے، ایف بی آر کے لیے 17.6 فیصد محصولات کی نمو کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>سوم، وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبائی حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی خدمات میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی ترقی کے عمل کی رفتار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p>اگلے مضمون میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے مختلف حصوں کا مزید تفصیلی اور جزوی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 16 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506580</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 15:06:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181501374b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181501374b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
