<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Opinion</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:30:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:30:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بے سمت معیشت؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505147/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔</strong></p>
<p>وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p>قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔</p>
<p>رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘</p>
<p>بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔</p>
<p>جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔</p>
<p>پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘</p>
<p>اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔</p>
<p>اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔</p>
<p>پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔</p>
<p>اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔</p>
<p>جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔</p>
<p>اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔</p>
<p>اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔</p>
<p>مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘</p>
<p>تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔</p>
<p>ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505147</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:00:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/091557345439a1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/091557345439a1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیمتوں کی جھلکیاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505146/uae-pricing-trump-oilprices-opel-gulf-straitof-hormuz</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کے تاجر ایک بار پھر یوں ردِعمل دکھا رہے ہیں گویا وائٹ ہاؤس کی بریفنگ اور فیوچر مارکیٹ کی اسکرینوں کے بیچ کہیں اچانک امن قائم ہو گیا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی نہ کسی مفاہمت کی جانب پیش رفت کی خبروں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی ہے۔ تازہ سرخیوں میں ”پیش رفت“، ”فریم ورک“ اور ”کشیدگی میں کمی“ جیسے الفاظ گونج رہے ہیں۔ اور منڈیوں نے، حسبِ معمول، سب سے پہلے وہی ایک لفظ سنا جس پر ان کی نظریں ہمیشہ جمی رہتی ہیں: ریلیف یعنی راحت۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ردِعمل بالکل متوقع رہا۔ حصصِ بازار بڑھے، ڈالر نرم ہوا اور خطرہ مول لینے کا رجحان تقریباً وقت پر واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ قبل یہی منڈی میزائل حملوں، بند شدہ شپنگ لائنز اور طویل مدتی سپلائی بحران کے خدشات کو مدِ نظر رکھ کر قیمتیں طے کر رہی تھی۔ اب یہ دوبارہ سفارت کاری کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا توانائی کی بنیادی صورتِ حال میں واقعی کچھ بدل گیا ہے، یا تاجر بس اپنی پسندیدہ جدید سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر واپس آگئے ہیں: ٹرمپ کے ہر اشارے پر خریداری کرنا، جیسے یہ طے شدہ حکمت عملی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیونکہ اصل مارکیٹ ابھی بھی کاغذی مارکیٹ جتنا پرسکون نہیں لگتی۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی مرحلے کے بعد پیدا شدہ ہنگامی قیمتوں سے تیل واپس آ گیا ہے، قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر اوپر ہیں اور ہر نئی خبر کے ساتھ اتار چڑھاؤ تیز ہے۔ حقیقی کروڈ کیریجز ابھی بھی بعض علاقوں میں بلند پریمیم پر تجارت کر رہی ہیں، ہرمز کے راستے شپنگ کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اور بیمہ کمپنیاں خلیج میں خطرے کے بارے میں محتاط ہیں۔ اگر واقعی خلل ختم ہو گیا ہے تو پھر مارکیٹ کے ڈھانچے کا رویہ ابھی بھی ایسا کیوں ہے جیسے یہ پوری طرح مطمئن نہ ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تیل کوئی عام خام مال نہیں ہے۔ یہ براہِ راست مال برداری، ڈیزل، ہوائی جہاز، کھاد اور صنعتی پیداوار میں دخل اندازی کرتا ہے۔ حتیٰ کہ جب خام تیل کی قیمتیں واپس آ جاتی ہیں، تو اس کے مہنگائی پر اثرات نقل و حمل اور سپلائی چین کے اخراجات کے ذریعے کافی دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ بانڈ مارکیٹیں حصصِ بازار کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ محتاط دکھائی دیتی ہیں۔ منافع کی شرحیں جنگ سے پہلے کے سطح کے مقابلے میں بلند ہیں اور جارحانہ شرح سود میں کمی کی توقعات تنازع کے آغاز کے بعد واضح طور پر سرد پڑ گئی ہیں۔ اگر توانائی کے خطرات واقعی اتنی تیزی سے کم ہو رہے ہیں جتنا حصصِ بازار کے تاجر اب سمجھ رہے ہیں، تو پھر مالیاتی پالیسی کی توقعات اب بھی اتنی محتاط رویے سے کیوں برتاؤ کر رہی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب عارضی سکون اور حقیقی حل کے فرق میں پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ منڈیوں کو لگتا ہے کہ فوری کشیدگی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، مگر کشیدگی کے کئی بنیادی نکات ابھی حل طلب ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے جادوئی طور پر غیر اہم نہیں بن گئی، اور ایران نے کبھی بھی ایسے ریاستی مذاکرات کا مظاہرہ نہیں کیا جس میں وہ مکمل تباہی کے نقطۂ نظر سے بات کر رہا ہو۔ حکومت برقرار ہے، کچھ اندازوں کے مطابق حتیٰ کہ مضبوط بھی ہوئی ہے، اور یہ اب بھی دنیا کے سب سے حساس توانائی راستے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ یہ مفروضہ مشکل ہو جاتا ہے کہ اس واقعے کو محض ایک مختصر مدتی جغرافیائی سیاسی خطرہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع اس کے پیچھے چھپی پیچیدہ حکمتِ عملی کی حساب کتاب کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ واشنگٹن ایسا ظاہر ہوا جیسے فوجی دباؤ جلد ہی توازن کو اپنے حق میں بدل دے گا اور ساتھ ہی اتحادیوں کو یقین دلائے گا کہ توانائی کی منڈیاں قابو میں رہیں گی۔ لیکن دنیا نے کئی ہفتے یہ جاننے میں گزار دی کہ تیل کے ارد گرد مکمل قیمتوں کا ڈھانچہ ابھی بھی کس حد تک نازک ہے۔ تاریخ میں سب سے بڑی مربوط ریلیز بھی اسٹریٹجک اسٹاک سے مارکیٹ کو زیادہ دیر تک پرسکون نہیں رکھ سکی۔ اسٹریٹجک ذخائر وقتی طور پر اتار چڑھاؤ کو کم کر سکتے ہیں، مگر یہ مستقل شپنگ لائنز پیدا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، سیاسی پیغامات تقریباً اتنے ہی غیر مستحکم ہو گئے ہیں جتنی کہ خود تیل کی منڈی۔ ایک ہفتے زبان سے شدید کشیدگی ظاہر ہوتی ہے، اگلے ہفتے اچانک سفارت کاری دوبارہ مقبول ہو جاتی ہے۔ منڈیاں اسی کے مطابق جھولتی ہیں: خوشگوار توقعات پر تیل گر جاتا ہے، ناکامیوں پر دوبارہ بڑھتا ہے، پھر مذاکرات کی افواہوں پر دوبارہ گرتا ہے۔ بعض اوقات کروڈ مارکیٹ قیمتوں کے تعین کے بجائے صدر کے موڈ کے بارے میں حقیقی وقت میں رائے شماری کا منظر دیتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے فیوچرز میں پرامیدی اور حقیقی مارکیٹ کی محتاط رویے کے درمیان فرق زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ فیوچرز کے تاجر امن کی خبریں فوراً قیمتوں میں شامل کر سکتے ہیں کیونکہ کاغذی بیرل لمحوں میں حرکت کرتے ہیں، مگر حقیقی بیرل نہیں۔ ٹینکرز اب بھی سیکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں، ریفائنریز سپلائی کے تسلسل کے بارے میں فکر مند ہیں اور بیمہ کمپنیاں جغرافیائی سیاسی خطرات کو پرانے انداز سے حساب لگاتی ہیں، یعنی ہر نئی خلل کی توقع کرتے ہوئے کہ پچھلا بحران مکمل ختم بھی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک وسیع تر ساختی سوال بھی خاموشی سے نمودار ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ طویل مدتی سپلائی کے منظرنامے میں ایک اور غیر یقینی تہہ ڈال دیتا ہے، چاہے جنگ مختصر مدتی قیمتوں پر حاوی ہو۔ خلیج میں میزائلوں کے اڑنے سے پہلے بھی کارٹل کی پابندی کمزور ہو رہی تھی۔ یہ تنازع بس یہ ظاہر کر گیا کہ عالمی منڈیاں کس حد تک اس خطے پر انحصار کرتی ہیں، جو بیک وقت دنیا کی معیشت کو طاقت دیتا ہے اور کبھی کبھار اسے خوفزدہ بھی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اس کے اثرات بدقسمتی سے کافی جانے پہچانے ہیں۔ تیل کی ہر باربڑھتی ہوئی قیمت آخر کار ملکی مہنگائی، کرنسی پر دباؤ اور پہلے سے کمزور بیرونی کھاتوں پر نئے دباؤ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ پالیسی ساز شاید اس ہفتے کم قیمتوں کا خیرمقدم کریں، لیکن صرف بدلتی ہوئی خبروں پر مبنی راحت کوئی حقیقی توانائی کی حکمت عملی نہیں ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ سیکھا ہے کہ درآمد شدہ توانائی کے جھٹکے اکثر اسی وقت واپس آ جاتے ہیں جب حکومتیں یقین کرنے لگتی ہیں کہ بدترین صورتحال گزر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں منڈی ایک بار پھر اسی سوال کا سامنا کر رہی ہے: کیا تیل واقعی حقیقی کشیدگی میں کمی کی قیمت لگا رہا ہے، یا محض موجودہ سفارتی منظرنامے پر ردعمل دے رہا ہے، اس سے پہلے کہ اگلی خلل انگیزی واقع ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 7 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کے تاجر ایک بار پھر یوں ردِعمل دکھا رہے ہیں گویا وائٹ ہاؤس کی بریفنگ اور فیوچر مارکیٹ کی اسکرینوں کے بیچ کہیں اچانک امن قائم ہو گیا ہو۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی نہ کسی مفاہمت کی جانب پیش رفت کی خبروں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی ہے۔ تازہ سرخیوں میں ”پیش رفت“، ”فریم ورک“ اور ”کشیدگی میں کمی“ جیسے الفاظ گونج رہے ہیں۔ اور منڈیوں نے، حسبِ معمول، سب سے پہلے وہی ایک لفظ سنا جس پر ان کی نظریں ہمیشہ جمی رہتی ہیں: ریلیف یعنی راحت۔</strong></p>
<p>ردِعمل بالکل متوقع رہا۔ حصصِ بازار بڑھے، ڈالر نرم ہوا اور خطرہ مول لینے کا رجحان تقریباً وقت پر واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ قبل یہی منڈی میزائل حملوں، بند شدہ شپنگ لائنز اور طویل مدتی سپلائی بحران کے خدشات کو مدِ نظر رکھ کر قیمتیں طے کر رہی تھی۔ اب یہ دوبارہ سفارت کاری کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا توانائی کی بنیادی صورتِ حال میں واقعی کچھ بدل گیا ہے، یا تاجر بس اپنی پسندیدہ جدید سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر واپس آگئے ہیں: ٹرمپ کے ہر اشارے پر خریداری کرنا، جیسے یہ طے شدہ حکمت عملی ہو۔</p>
<p>کیونکہ اصل مارکیٹ ابھی بھی کاغذی مارکیٹ جتنا پرسکون نہیں لگتی۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی مرحلے کے بعد پیدا شدہ ہنگامی قیمتوں سے تیل واپس آ گیا ہے، قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر اوپر ہیں اور ہر نئی خبر کے ساتھ اتار چڑھاؤ تیز ہے۔ حقیقی کروڈ کیریجز ابھی بھی بعض علاقوں میں بلند پریمیم پر تجارت کر رہی ہیں، ہرمز کے راستے شپنگ کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اور بیمہ کمپنیاں خلیج میں خطرے کے بارے میں محتاط ہیں۔ اگر واقعی خلل ختم ہو گیا ہے تو پھر مارکیٹ کے ڈھانچے کا رویہ ابھی بھی ایسا کیوں ہے جیسے یہ پوری طرح مطمئن نہ ہو؟</p>
<p>یہ تضاد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تیل کوئی عام خام مال نہیں ہے۔ یہ براہِ راست مال برداری، ڈیزل، ہوائی جہاز، کھاد اور صنعتی پیداوار میں دخل اندازی کرتا ہے۔ حتیٰ کہ جب خام تیل کی قیمتیں واپس آ جاتی ہیں، تو اس کے مہنگائی پر اثرات نقل و حمل اور سپلائی چین کے اخراجات کے ذریعے کافی دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ بانڈ مارکیٹیں حصصِ بازار کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ محتاط دکھائی دیتی ہیں۔ منافع کی شرحیں جنگ سے پہلے کے سطح کے مقابلے میں بلند ہیں اور جارحانہ شرح سود میں کمی کی توقعات تنازع کے آغاز کے بعد واضح طور پر سرد پڑ گئی ہیں۔ اگر توانائی کے خطرات واقعی اتنی تیزی سے کم ہو رہے ہیں جتنا حصصِ بازار کے تاجر اب سمجھ رہے ہیں، تو پھر مالیاتی پالیسی کی توقعات اب بھی اتنی محتاط رویے سے کیوں برتاؤ کر رہی ہیں؟</p>
<p>اس کا جواب عارضی سکون اور حقیقی حل کے فرق میں پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ منڈیوں کو لگتا ہے کہ فوری کشیدگی کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے، مگر کشیدگی کے کئی بنیادی نکات ابھی حل طلب ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے جادوئی طور پر غیر اہم نہیں بن گئی، اور ایران نے کبھی بھی ایسے ریاستی مذاکرات کا مظاہرہ نہیں کیا جس میں وہ مکمل تباہی کے نقطۂ نظر سے بات کر رہا ہو۔ حکومت برقرار ہے، کچھ اندازوں کے مطابق حتیٰ کہ مضبوط بھی ہوئی ہے، اور یہ اب بھی دنیا کے سب سے حساس توانائی راستے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ یہ مفروضہ مشکل ہو جاتا ہے کہ اس واقعے کو محض ایک مختصر مدتی جغرافیائی سیاسی خطرہ سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ تنازع اس کے پیچھے چھپی پیچیدہ حکمتِ عملی کی حساب کتاب کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ واشنگٹن ایسا ظاہر ہوا جیسے فوجی دباؤ جلد ہی توازن کو اپنے حق میں بدل دے گا اور ساتھ ہی اتحادیوں کو یقین دلائے گا کہ توانائی کی منڈیاں قابو میں رہیں گی۔ لیکن دنیا نے کئی ہفتے یہ جاننے میں گزار دی کہ تیل کے ارد گرد مکمل قیمتوں کا ڈھانچہ ابھی بھی کس حد تک نازک ہے۔ تاریخ میں سب سے بڑی مربوط ریلیز بھی اسٹریٹجک اسٹاک سے مارکیٹ کو زیادہ دیر تک پرسکون نہیں رکھ سکی۔ اسٹریٹجک ذخائر وقتی طور پر اتار چڑھاؤ کو کم کر سکتے ہیں، مگر یہ مستقل شپنگ لائنز پیدا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>دریں اثنا، سیاسی پیغامات تقریباً اتنے ہی غیر مستحکم ہو گئے ہیں جتنی کہ خود تیل کی منڈی۔ ایک ہفتے زبان سے شدید کشیدگی ظاہر ہوتی ہے، اگلے ہفتے اچانک سفارت کاری دوبارہ مقبول ہو جاتی ہے۔ منڈیاں اسی کے مطابق جھولتی ہیں: خوشگوار توقعات پر تیل گر جاتا ہے، ناکامیوں پر دوبارہ بڑھتا ہے، پھر مذاکرات کی افواہوں پر دوبارہ گرتا ہے۔ بعض اوقات کروڈ مارکیٹ قیمتوں کے تعین کے بجائے صدر کے موڈ کے بارے میں حقیقی وقت میں رائے شماری کا منظر دیتی رہی ہے۔</p>
<p>اسی لیے فیوچرز میں پرامیدی اور حقیقی مارکیٹ کی محتاط رویے کے درمیان فرق زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ فیوچرز کے تاجر امن کی خبریں فوراً قیمتوں میں شامل کر سکتے ہیں کیونکہ کاغذی بیرل لمحوں میں حرکت کرتے ہیں، مگر حقیقی بیرل نہیں۔ ٹینکرز اب بھی سیکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں، ریفائنریز سپلائی کے تسلسل کے بارے میں فکر مند ہیں اور بیمہ کمپنیاں جغرافیائی سیاسی خطرات کو پرانے انداز سے حساب لگاتی ہیں، یعنی ہر نئی خلل کی توقع کرتے ہوئے کہ پچھلا بحران مکمل ختم بھی نہیں ہوا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک وسیع تر ساختی سوال بھی خاموشی سے نمودار ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ طویل مدتی سپلائی کے منظرنامے میں ایک اور غیر یقینی تہہ ڈال دیتا ہے، چاہے جنگ مختصر مدتی قیمتوں پر حاوی ہو۔ خلیج میں میزائلوں کے اڑنے سے پہلے بھی کارٹل کی پابندی کمزور ہو رہی تھی۔ یہ تنازع بس یہ ظاہر کر گیا کہ عالمی منڈیاں کس حد تک اس خطے پر انحصار کرتی ہیں، جو بیک وقت دنیا کی معیشت کو طاقت دیتا ہے اور کبھی کبھار اسے خوفزدہ بھی کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اس کے اثرات بدقسمتی سے کافی جانے پہچانے ہیں۔ تیل کی ہر باربڑھتی ہوئی قیمت آخر کار ملکی مہنگائی، کرنسی پر دباؤ اور پہلے سے کمزور بیرونی کھاتوں پر نئے دباؤ کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ پالیسی ساز شاید اس ہفتے کم قیمتوں کا خیرمقدم کریں، لیکن صرف بدلتی ہوئی خبروں پر مبنی راحت کوئی حقیقی توانائی کی حکمت عملی نہیں ہے۔ پاکستان نے بارہا یہ سیکھا ہے کہ درآمد شدہ توانائی کے جھٹکے اکثر اسی وقت واپس آ جاتے ہیں جب حکومتیں یقین کرنے لگتی ہیں کہ بدترین صورتحال گزر چکی ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں منڈی ایک بار پھر اسی سوال کا سامنا کر رہی ہے: کیا تیل واقعی حقیقی کشیدگی میں کمی کی قیمت لگا رہا ہے، یا محض موجودہ سفارتی منظرنامے پر ردعمل دے رہا ہے، اس سے پہلے کہ اگلی خلل انگیزی واقع ہو؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 7 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505146</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 15:50:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/100832146bee4e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/100832146bee4e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعت کے لیے مراعات انتہائی منتخب ہونی چاہئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504706/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی بڑی برآمدی صنعتیں پالیسی میں نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ چین اور بھارت جیسے علاقائی بڑے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔ ماضی میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں جن کے تحت منتخب صنعتوں کو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالیاتی اور مالی مراعات دی گئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مراعات سابقہ ادوارِ حکومت، خواہ سول ہوں یا عسکری، میں ان صنعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کے تناسب سے دی جاتی رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مراعات کے بارے میں آئی ایم ایف کا جائزہ سخت تنقیدی تھا، جسے اکتوبر 2024 میں جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) قرض پروگرام کے اسٹاف لیول معاہدے میں بیان کیا گیا:“ ”سبسڈیز عموماً کم لاگت فنانسنگ اور دیگر رعایتوں کی صورت میں دی جاتی رہی ہیں، جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف تھیں، تاہم ان کے نتیجے میں سبسڈی کے بعد فنانسنگ اور ٹیکسز کی مجموعی صورتِ حال ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار رہی، جبکہ کم ترجیحی شعبے نسبتاً کم فائدہ اٹھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس نظام کو وسیع پیمانے پر غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کے لیے چھوٹ شامل رہی، نیز اسپیشل اکنامک زونز کے پھیلاؤ کے ذریعے بھی یہ سہولت فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، بشمول زرعی اجناس، فیول مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیادوں پر)—کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ نے مسابقتی میدان کو منتخب گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام تر معاونت کے باوجود کاروباری شعبہ معیشت کی نمو کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرنے کے ساتھ وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر (بشمول مسلسل ”نوزائیدہ“ کہلانے والی) صنعتوں میں پھنسا دیتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے مراعات کے خاتمے (اور بعض صورتوں میں بتدریج کمی) کی شرائط عائد کیں، جبکہ صنعت کی جانب سے متعدد پالیسی اصلاحات کی سفارش کی گئی، جن میں شامل ہیں: (الف) بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا خاتمہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے حال ہی میں ضدی سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے 1.25 کھرب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا، جسے فنڈ نے صارفین پر منتقل کرنے کی منظوری دی، یہ منظوری اس شرط سے مشروط تھی کہ اس وقت پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تھا اور توقع تھی کہ گزشتہ سال دسمبر تک اس میں مزید کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فنڈ نے یہ شرط بھی عائد کی کہ اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ ہو تو حکومت ٹیرف میں ڈیٹ سروس سرچارج کو ایڈجسٹ کرے گی تاکہ ٹیرف قرض کی ادائیگی کو پورا کر سکے؛ (ب) مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 اپریل کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا، جس سے ٹیرف میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؛ اور (ج) پیٹرولیم لیوی کو قابو میں رکھا جائے کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے (مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد 2 کھرب روپے سے زائد کے سرکلر گیس ڈیٹ کے خاتمے کے لیے اس لیوی میں اضافے کی تجویز مؤخر کر دی گئی)، جس کے مہنگائی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 کے پروگرام (جو وبا کے باعث 2020 اور 2021 میں مؤخر کیا گیا)، جولائی 2023 کے پروگرام، اور اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والے جاری پروگرام، ان تینوں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے: حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک مسلسل پروگرام درکار ہے، جس میں نہ تاخیر ہو اور نہ ہی معطلی، کیونکہ دو دوست ممالک نے واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ فعال پروگرام کے بغیر سالانہ 9 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز واپس لے لیے جائیں گے، جو ڈیفالٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک زیادہ مرحلہ وار حکمتِ عملی پر مذاکرات کر رہی ہے، یعنی مخصوص صنعتوں کے لیے نسبتاً زیادہ مراعات، تاہم اب تک اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ صنعت کی چار اقسام میں سے کن کو مراعات دی جانی چاہئیں۔ پہلی قسم بنیادی صنعت (پرائمری انڈسٹری) ہے، جس میں زراعت، جنگلات، ماہی گیری، کان کنی، کھدائی اور معدنیات کا استخراج شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی پیداوار اب بھی موسمی حالات کی مرہونِ منت ہے اور حکومتی معاونت کے باوجود فی ہیکٹر اوسط پیداوار علاقائی اوسط سے کم ہے۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی جاری ہے اور پاکستان کو جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی کا سامنا ہے؛ رپورٹس کے مطابق 1992 میں 3.78 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر یہ تقریباً 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے، یعنی 33 برس میں 18 فیصد کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر ان کے استخراج کے لیے مہارت اور سرمایہ دونوں کی کمی ہے۔ موجودہ سمیت تمام حکومتوں نے اس دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاقِ رائے کی کمی اور معاہدوں کی جانچ پڑتال میں قانونی مہارت کے فقدان کے باعث غیر ملکی دلچسپی متاثر ہوئی۔ اسی وجہ سے کچھ معاہدے اندرونِ ملک عدالتی تنازعات (جیسے پاکستان اسٹیل) کا شکار ہوئے، جبکہ بین الاقوامی ثالثی میں بھی اکثر فیصلے پاکستان کے خلاف آئے، جس کے نتیجے میں ملک کو کروڑوں ڈالر جرمانوں کی ادائیگی کرنا پڑی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سکیورٹی خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانوی صنعت (سیکنڈری انڈسٹری) سے مراد وہ مینوفیکچرنگ ہے جو خام مال پر منحصر ہو، چاہے مقامی ہو (جیسے کپاس اور چینی) یا کم پیداوار کی صورت میں درآمد کیا جائے، یا نیم تیار اشیا یا کیپیٹل گڈز کی پروسیسنگ، جن سے صارف اشیا (مثلاً پیک شدہ دودھ اور چینی) تیار کی جاتی ہیں۔ غیر صارف اشیا میں ہائیڈرو پاور پلانٹس اور گاڑیاں شامل ہیں، تاہم پاکستان میں گاڑیاں زیادہ تر اسمبل کی جاتی ہیں اور مقامی پیداوار (انڈیجینائزیشن) محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو چاہیے کہ وہ مراعات کو زیادہ ویلیو ایڈیشن والی مصنوعات پر مرکوز کرے، مثلاً مولاسس اور بیگاس (جو توانائی/ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانوی صنعت کو تیسری صنعت (سروسز سیکٹر) کہا جاتا ہے، جس میں سیاحت، بینکنگ، مالیات، انشورنس، سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت نے سیاحت کو فعال طور پر فروغ دیا، تاہم یہ زیادہ تر اندرونی سیاحت تک محدود رہی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ” تین فریقین، خود مختار (حکومت)، کمرشل بینکس اور مرکزی بینک، کے بیلنس شیٹس ایک دوسرے سے انتہائی مربوط طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیچیدہ سہ فریقی تعلق اس بات کا باعث بنتا ہے کہ ایک شعبے (مثلاً مالیاتی یا مانیٹری پالیسی اور بینکاری نظام) میں ہونے والی تبدیلیاں معیشت کے دیگر حصوں پر وسیع اثرات ڈال سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال مانیٹری پالیسی کی ترسیل کی طاقت کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ یہ پالیسی ریٹس، نجی قرضے، اور نجی سرمایہ کاری و کھپت کے فیصلوں کے درمیان تعلق کو متاثر کرتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ فنڈ نے حکومت پر زور دیا کہ ” درمیانی مدت میں مالیاتی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں حائل ساختی رکاوٹوں کو دور کیا جائے، جن میں غیر رسمی معیشت کا حجم بھی شامل ہے۔“ پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر بڑی حد تک منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں پالیسی تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کافی حد تک محدود کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں چوتھی صنعت ( کوارٹرنری انڈسٹری) ہے، جو تیسری صنعت کا توسیعی حصہ ہے اور معلوماتی یا علم پر مبنی مصنوعات اور خدمات پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں حکومت اور نجی شعبے دونوں کی کوششیں شامل ہیں۔ امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی میں مسابقت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی اے آئی پالیسی گزشتہ سال منظور کی گئی تھی جو ہر سال صرف 2000 طلبہ کی تدریس اور تعلیمی ٹیکنالوجیز تک محدود ہے، جو ایک نہایت کم تعداد ہے۔ تاہم امید کی جانی چاہیے کہ حکومت کی مالی اور مانیٹری مراعات (بشمول چین اور امریکہ کے اسکالرشپس) چوتھے درجے کی صنعتوں کی ترقی پر مرکوز ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ حکومت کو ان صنعتوں کو مراعات دینے پر توجہ نہیں دینی چاہیے جو محض ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالی اور مالیاتی مراعات کے سہارے زندہ ہیں، بلکہ ان شعبوں پر توجہ دینی چاہیے جو عالمی سطح پر مستقبل کا راستہ ہیں اور جن میں زیادہ ویلیو ایڈیشن موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی بڑی برآمدی صنعتیں پالیسی میں نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ چین اور بھارت جیسے علاقائی بڑے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔ ماضی میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں جن کے تحت منتخب صنعتوں کو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالیاتی اور مالی مراعات دی گئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مراعات سابقہ ادوارِ حکومت، خواہ سول ہوں یا عسکری، میں ان صنعتوں کے سیاسی اثر و رسوخ کے تناسب سے دی جاتی رہی ہیں۔</strong></p>
<p>ان مراعات کے بارے میں آئی ایم ایف کا جائزہ سخت تنقیدی تھا، جسے اکتوبر 2024 میں جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) قرض پروگرام کے اسٹاف لیول معاہدے میں بیان کیا گیا:“ ”سبسڈیز عموماً کم لاگت فنانسنگ اور دیگر رعایتوں کی صورت میں دی جاتی رہی ہیں، جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف تھیں، تاہم ان کے نتیجے میں سبسڈی کے بعد فنانسنگ اور ٹیکسز کی مجموعی صورتِ حال ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار رہی، جبکہ کم ترجیحی شعبے نسبتاً کم فائدہ اٹھا سکے۔</p>
<p>ٹیکس نظام کو وسیع پیمانے پر غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کے لیے چھوٹ شامل رہی، نیز اسپیشل اکنامک زونز کے پھیلاؤ کے ذریعے بھی یہ سہولت فراہم کی گئی۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، بشمول زرعی اجناس، فیول مصنوعات، بجلی اور گیس (ششماہی بنیادوں پر)—کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور غیر ٹیرف تحفظ نے مسابقتی میدان کو منتخب گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔“</p>
<p>تمام تر معاونت کے باوجود کاروباری شعبہ معیشت کی نمو کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرنے کے ساتھ وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر (بشمول مسلسل ”نوزائیدہ“ کہلانے والی) صنعتوں میں پھنسا دیتی رہیں۔</p>
<p>اس جائزے کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے مراعات کے خاتمے (اور بعض صورتوں میں بتدریج کمی) کی شرائط عائد کیں، جبکہ صنعت کی جانب سے متعدد پالیسی اصلاحات کی سفارش کی گئی، جن میں شامل ہیں: (الف) بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کا خاتمہ۔</p>
<p>حکومت نے حال ہی میں ضدی سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے 1.25 کھرب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا، جسے فنڈ نے صارفین پر منتقل کرنے کی منظوری دی، یہ منظوری اس شرط سے مشروط تھی کہ اس وقت پالیسی ریٹ 10.5 فیصد تھا اور توقع تھی کہ گزشتہ سال دسمبر تک اس میں مزید کمی آئے گی۔</p>
<p>تاہم فنڈ نے یہ شرط بھی عائد کی کہ اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ ہو تو حکومت ٹیرف میں ڈیٹ سروس سرچارج کو ایڈجسٹ کرے گی تاکہ ٹیرف قرض کی ادائیگی کو پورا کر سکے؛ (ب) مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 اپریل کو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا، جس سے ٹیرف میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؛ اور (ج) پیٹرولیم لیوی کو قابو میں رکھا جائے کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ لاگت بڑھتی ہے (مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد 2 کھرب روپے سے زائد کے سرکلر گیس ڈیٹ کے خاتمے کے لیے اس لیوی میں اضافے کی تجویز مؤخر کر دی گئی)، جس کے مہنگائی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>2019 کے پروگرام (جو وبا کے باعث 2020 اور 2021 میں مؤخر کیا گیا)، جولائی 2023 کے پروگرام، اور اکتوبر 2024 میں منظور ہونے والے جاری پروگرام، ان تینوں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد میں ناکامی ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے: حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک مسلسل پروگرام درکار ہے، جس میں نہ تاخیر ہو اور نہ ہی معطلی، کیونکہ دو دوست ممالک نے واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ فعال پروگرام کے بغیر سالانہ 9 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز واپس لے لیے جائیں گے، جو ڈیفالٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p>حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک زیادہ مرحلہ وار حکمتِ عملی پر مذاکرات کر رہی ہے، یعنی مخصوص صنعتوں کے لیے نسبتاً زیادہ مراعات، تاہم اب تک اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ صنعت کی چار اقسام میں سے کن کو مراعات دی جانی چاہئیں۔ پہلی قسم بنیادی صنعت (پرائمری انڈسٹری) ہے، جس میں زراعت، جنگلات، ماہی گیری، کان کنی، کھدائی اور معدنیات کا استخراج شامل ہے۔</p>
<p>زرعی پیداوار اب بھی موسمی حالات کی مرہونِ منت ہے اور حکومتی معاونت کے باوجود فی ہیکٹر اوسط پیداوار علاقائی اوسط سے کم ہے۔ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی جاری ہے اور پاکستان کو جنگلات کے رقبے میں مسلسل کمی کا سامنا ہے؛ رپورٹس کے مطابق 1992 میں 3.78 ملین ہیکٹر سے کم ہو کر یہ تقریباً 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا ہے، یعنی 33 برس میں 18 فیصد کمی۔</p>
<p>پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر ان کے استخراج کے لیے مہارت اور سرمایہ دونوں کی کمی ہے۔ موجودہ سمیت تمام حکومتوں نے اس دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>بدقسمتی سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاقِ رائے کی کمی اور معاہدوں کی جانچ پڑتال میں قانونی مہارت کے فقدان کے باعث غیر ملکی دلچسپی متاثر ہوئی۔ اسی وجہ سے کچھ معاہدے اندرونِ ملک عدالتی تنازعات (جیسے پاکستان اسٹیل) کا شکار ہوئے، جبکہ بین الاقوامی ثالثی میں بھی اکثر فیصلے پاکستان کے خلاف آئے، جس کے نتیجے میں ملک کو کروڑوں ڈالر جرمانوں کی ادائیگی کرنا پڑی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سکیورٹی خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>ثانوی صنعت (سیکنڈری انڈسٹری) سے مراد وہ مینوفیکچرنگ ہے جو خام مال پر منحصر ہو، چاہے مقامی ہو (جیسے کپاس اور چینی) یا کم پیداوار کی صورت میں درآمد کیا جائے، یا نیم تیار اشیا یا کیپیٹل گڈز کی پروسیسنگ، جن سے صارف اشیا (مثلاً پیک شدہ دودھ اور چینی) تیار کی جاتی ہیں۔ غیر صارف اشیا میں ہائیڈرو پاور پلانٹس اور گاڑیاں شامل ہیں، تاہم پاکستان میں گاڑیاں زیادہ تر اسمبل کی جاتی ہیں اور مقامی پیداوار (انڈیجینائزیشن) محدود ہے۔</p>
<p>حکومت کو چاہیے کہ وہ مراعات کو زیادہ ویلیو ایڈیشن والی مصنوعات پر مرکوز کرے، مثلاً مولاسس اور بیگاس (جو توانائی/ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)۔</p>
<p>ثانوی صنعت کو تیسری صنعت (سروسز سیکٹر) کہا جاتا ہے، جس میں سیاحت، بینکنگ، مالیات، انشورنس، سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں۔ اگرچہ عمران خان کی حکومت نے سیاحت کو فعال طور پر فروغ دیا، تاہم یہ زیادہ تر اندرونی سیاحت تک محدود رہی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جو سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ” تین فریقین، خود مختار (حکومت)، کمرشل بینکس اور مرکزی بینک، کے بیلنس شیٹس ایک دوسرے سے انتہائی مربوط طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیچیدہ سہ فریقی تعلق اس بات کا باعث بنتا ہے کہ ایک شعبے (مثلاً مالیاتی یا مانیٹری پالیسی اور بینکاری نظام) میں ہونے والی تبدیلیاں معیشت کے دیگر حصوں پر وسیع اثرات ڈال سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ صورتحال مانیٹری پالیسی کی ترسیل کی طاقت کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ یہ پالیسی ریٹس، نجی قرضے، اور نجی سرمایہ کاری و کھپت کے فیصلوں کے درمیان تعلق کو متاثر کرتی ہے۔“</p>
<p>مزید یہ کہ فنڈ نے حکومت پر زور دیا کہ ” درمیانی مدت میں مالیاتی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی میں حائل ساختی رکاوٹوں کو دور کیا جائے، جن میں غیر رسمی معیشت کا حجم بھی شامل ہے۔“ پاکستان کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر بڑی حد تک منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں پالیسی تبدیلیوں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کافی حد تک محدود کیا گیا ہے۔</p>
<p>اور آخر میں چوتھی صنعت ( کوارٹرنری انڈسٹری) ہے، جو تیسری صنعت کا توسیعی حصہ ہے اور معلوماتی یا علم پر مبنی مصنوعات اور خدمات پر مشتمل ہوتی ہے، جس میں حکومت اور نجی شعبے دونوں کی کوششیں شامل ہیں۔ امریکہ اور چین مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی میں مسابقت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی اے آئی پالیسی گزشتہ سال منظور کی گئی تھی جو ہر سال صرف 2000 طلبہ کی تدریس اور تعلیمی ٹیکنالوجیز تک محدود ہے، جو ایک نہایت کم تعداد ہے۔ تاہم امید کی جانی چاہیے کہ حکومت کی مالی اور مانیٹری مراعات (بشمول چین اور امریکہ کے اسکالرشپس) چوتھے درجے کی صنعتوں کی ترقی پر مرکوز ہوں گی۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ حکومت کو ان صنعتوں کو مراعات دینے پر توجہ نہیں دینی چاہیے جو محض ٹیکس دہندگان کے خرچ پر مالی اور مالیاتی مراعات کے سہارے زندہ ہیں، بلکہ ان شعبوں پر توجہ دینی چاہیے جو عالمی سطح پر مستقبل کا راستہ ہیں اور جن میں زیادہ ویلیو ایڈیشن موجود ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504706</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 13:24:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07132606a7cf52a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07132606a7cf52a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دستاویزی شعبے پر بوجھ، غیر دستاویزی شعبے کو انعام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاریخی طور پر پاکستان نے بالواسطہ ٹیکسوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے، جو نہ صرف مہنگائی کے اثرات پیدا کرتے ہیں بلکہ درمیانی اور کم آمدنی والے گھرانوں پر غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ جتنی کم آمدنی ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ ٹیکس کا اثر ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس ٹی (جی ایس ٹی) ابتدائی 2000 کی دہائی میں 15 فیصد تھا، اور اگرچہ اسے کم کرنے کے اعلانات کیے گئے، لیکن یہ مرحلہ وار بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران ویلیو چین کو دستاویزی بنانے کے لیے جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ فارم میں نافذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ اور نان فائلرز پر مختلف اقسام کے اضافی ٹیکس بھی لگائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور رسمی معیشت کا دائرہ بڑھانا تھا۔ بظاہر یہ کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں، کیونکہ ٹیکس نیٹ بڑھنے کے بجائے غیر دستاویزی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرنسی ان سرکولیشن (سی آئی سی) کا مانیٹری ایگریگیٹ (ایم ٹو) کے ساتھ تناسب مالی سال 2015 میں 22 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 30 فیصد تک پہنچا، جس کے بعد اس میں معمولی کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسمی کارپوریٹ سیکٹر، جو مکمل طور پر ٹیکس قوانین کی پابندی کرتا ہے، نقصان میں ہے۔ یہ کمپنیاں غیر رسمی شعبے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں جو ٹیکس سے بچ کر مارکیٹ شیئر حاصل کرتا ہے۔ نتیجتاً نہ ٹیکس نیٹ وسیع ہوا اور نہ ہی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے مقابلے کے لیے حکومت نے بڑے کاروباروں پر سپر ٹیکس اور غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز و تاجروں پر اضافی جرمانہ ٹیکس متعارف کرایا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں معمولی اضافہ ضرور ہوا لیکن یہ محدود بنیاد پر بوجھ ڈالنے سے ہوا، جبکہ دستاویزی معیشت نہیں بڑھ رہی اور ریٹیلرز رجسٹر نہیں ہو رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مہنگائی پر اثرات بھی ہیں۔ مزید یہ کہ رسمی کمپنیوں کے مارجنز کم ہو جاتے ہیں، جس سے وہ مارکیٹ شیئر کھو دیتی ہیں۔ آج غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز پر 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بالواسطہ شکل میں مزید ڈائریکٹ ٹیکس بھی لاگو ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک ٹیکس گورننس کا نظام بہتر نہیں ہوتا اور ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کا خلا ختم نہیں ہوتا، شرحیں بڑھانے سے صرف غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے جبکہ بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی ٹیکس ڈھانچہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ویلیو چین میں ٹیکس وصولی کی ذمہ داری بنیادی طور پر رسمی اداروں پر آ جاتی ہے۔ اس سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھتی ہے اور ٹیکس معاملات میں غیر ضروری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے نکل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ ٹیکس ڈھانچے کو سادہ بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان اشیا میں زیادہ ہے جو سیلز ٹیکس کے اسٹینڈرڈ سسٹم میں آتی ہیں، جہاں ویلیو چین کے مختلف مراحل پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس سے پیچیدگی بڑھتی ہے، خاص طور پر جب غیر رسمی کاروبار دستاویزات سے گریز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں تھرڈ شیڈول کا نظام بہتر ہے، جہاں مکمل سیلز ٹیکس ابتدائی مرحلے میں ہی مینوفیکچررز ادا کرتے ہیں۔ ریٹیل قیمتیں پرنٹ ہوتی ہیں اور جی ایس ٹی ویلیو چین کی طرف سے مینوفیکچرر ادا کرتا ہے۔ اسٹینڈرڈ نظام میں ہر مرحلہ حصہ ڈالتا ہے، اور یہاں ڈسٹری بیوٹر یا مینوفیکچرر بعض اوقات 6.5 فیصد اضافی ٹیکس، 4 فیصد مزید ٹیکس اور 2.5 فیصد انکم ٹیکس غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی طرف سے ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر مصنوعات پہلے ہی تھرڈ شیڈول میں شامل ہیں، جبکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات، انفینٹ فارمولا اور چند دیگر اشیا کو بھی اسی شیڈول میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس نظام آسان ہو اور مینوفیکچررز اور صارفین پر بوجھ کم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ڈیری اور دیگر شعبوں میں مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ ٹیکس اور پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ برآمدات کی صلاحیت اور بعض کیٹیگریز میں لوکلائزیشن کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے، خاص طور پر انفینٹ فارمولا کے معاملے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اصلاحات سے نئی مارکیٹس پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال کافی کو تھرڈ شیڈول میں منتقل کیا گیا، جس سے نہ صرف زیادہ ریونیو حاصل ہوا بلکہ کمپنیوں نے کافی ویلیو چین کے کچھ حصے کو مقامی سطح پر بھی منتقل کرنا شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس پالیسی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بگاڑ درست کرے اور سادہ قواعد و ضوابط کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دے۔ اس حوالے سے تھرڈ شیڈول کی طرف منتقلی کچھ شعبوں میں موجود بگاڑ ختم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تاریخی طور پر پاکستان نے بالواسطہ ٹیکسوں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے، جو نہ صرف مہنگائی کے اثرات پیدا کرتے ہیں بلکہ درمیانی اور کم آمدنی والے گھرانوں پر غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ جتنی کم آمدنی ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ ٹیکس کا اثر ہوتا ہے۔</strong></p>
<p>جی ایس ٹی (جی ایس ٹی) ابتدائی 2000 کی دہائی میں 15 فیصد تھا، اور اگرچہ اسے کم کرنے کے اعلانات کیے گئے، لیکن یہ مرحلہ وار بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران ویلیو چین کو دستاویزی بنانے کے لیے جی ایس ٹی کو ویلیو ایڈڈ فارم میں نافذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ اور نان فائلرز پر مختلف اقسام کے اضافی ٹیکس بھی لگائے گئے۔</p>
<p>مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور رسمی معیشت کا دائرہ بڑھانا تھا۔ بظاہر یہ کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں، کیونکہ ٹیکس نیٹ بڑھنے کے بجائے غیر دستاویزی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرنسی ان سرکولیشن (سی آئی سی) کا مانیٹری ایگریگیٹ (ایم ٹو) کے ساتھ تناسب مالی سال 2015 میں 22 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 30 فیصد تک پہنچا، جس کے بعد اس میں معمولی کمی آئی۔</p>
<p>رسمی کارپوریٹ سیکٹر، جو مکمل طور پر ٹیکس قوانین کی پابندی کرتا ہے، نقصان میں ہے۔ یہ کمپنیاں غیر رسمی شعبے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں جو ٹیکس سے بچ کر مارکیٹ شیئر حاصل کرتا ہے۔ نتیجتاً نہ ٹیکس نیٹ وسیع ہوا اور نہ ہی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس صورتحال کے مقابلے کے لیے حکومت نے بڑے کاروباروں پر سپر ٹیکس اور غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز و تاجروں پر اضافی جرمانہ ٹیکس متعارف کرایا۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں معمولی اضافہ ضرور ہوا لیکن یہ محدود بنیاد پر بوجھ ڈالنے سے ہوا، جبکہ دستاویزی معیشت نہیں بڑھ رہی اور ریٹیلرز رجسٹر نہیں ہو رہے۔</p>
<p>اس کے مہنگائی پر اثرات بھی ہیں۔ مزید یہ کہ رسمی کمپنیوں کے مارجنز کم ہو جاتے ہیں، جس سے وہ مارکیٹ شیئر کھو دیتی ہیں۔ آج غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز پر 4 فیصد اضافی سیلز ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بالواسطہ شکل میں مزید ڈائریکٹ ٹیکس بھی لاگو ہوتے ہیں۔</p>
<p>حکومت کو اپنی ٹیکس پالیسی پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک ٹیکس گورننس کا نظام بہتر نہیں ہوتا اور ٹیکس اتھارٹی اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کا خلا ختم نہیں ہوتا، شرحیں بڑھانے سے صرف غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملتا ہے جبکہ بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔</p>
<p>مجموعی ٹیکس ڈھانچہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ ویلیو چین میں ٹیکس وصولی کی ذمہ داری بنیادی طور پر رسمی اداروں پر آ جاتی ہے۔ اس سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھتی ہے اور ٹیکس معاملات میں غیر ضروری وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اسی لیے سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے نکل رہی ہیں۔</p>
<p>پالیسی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ ٹیکس ڈھانچے کو سادہ بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر ان اشیا میں زیادہ ہے جو سیلز ٹیکس کے اسٹینڈرڈ سسٹم میں آتی ہیں، جہاں ویلیو چین کے مختلف مراحل پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس سے پیچیدگی بڑھتی ہے، خاص طور پر جب غیر رسمی کاروبار دستاویزات سے گریز کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے مقابلے میں تھرڈ شیڈول کا نظام بہتر ہے، جہاں مکمل سیلز ٹیکس ابتدائی مرحلے میں ہی مینوفیکچررز ادا کرتے ہیں۔ ریٹیل قیمتیں پرنٹ ہوتی ہیں اور جی ایس ٹی ویلیو چین کی طرف سے مینوفیکچرر ادا کرتا ہے۔ اسٹینڈرڈ نظام میں ہر مرحلہ حصہ ڈالتا ہے، اور یہاں ڈسٹری بیوٹر یا مینوفیکچرر بعض اوقات 6.5 فیصد اضافی ٹیکس، 4 فیصد مزید ٹیکس اور 2.5 فیصد انکم ٹیکس غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز کی طرف سے ادا کرتا ہے۔</p>
<p>زیادہ تر مصنوعات پہلے ہی تھرڈ شیڈول میں شامل ہیں، جبکہ دودھ اور ڈیری مصنوعات، انفینٹ فارمولا اور چند دیگر اشیا کو بھی اسی شیڈول میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس نظام آسان ہو اور مینوفیکچررز اور صارفین پر بوجھ کم ہو۔</p>
<p>پاکستان کو ڈیری اور دیگر شعبوں میں مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے، لیکن زیادہ ٹیکس اور پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ برآمدات کی صلاحیت اور بعض کیٹیگریز میں لوکلائزیشن کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے، خاص طور پر انفینٹ فارمولا کے معاملے میں۔</p>
<p>ان اصلاحات سے نئی مارکیٹس پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال کافی کو تھرڈ شیڈول میں منتقل کیا گیا، جس سے نہ صرف زیادہ ریونیو حاصل ہوا بلکہ کمپنیوں نے کافی ویلیو چین کے کچھ حصے کو مقامی سطح پر بھی منتقل کرنا شروع کیا۔</p>
<p>آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس پالیسی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بگاڑ درست کرے اور سادہ قواعد و ضوابط کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر توجہ دے۔ اس حوالے سے تھرڈ شیڈول کی طرف منتقلی کچھ شعبوں میں موجود بگاڑ ختم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504703</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 13:19:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/05131845152e2dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/05131845152e2dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیادت کا زوال اور مودی امیت شاہ گٹھ جوڑ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504200/the-abominable-modi-shah-duo</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں کی نبض پڑھ سکیں جن کی وہ قیادت کر رہے ہیں، یعنی عوام۔ جو لیڈر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ بالآخر عوام کی طاقت کے ہاتھوں اپنے عہدوں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بات کارپوریٹ قیادت کے مقابلے میں سیاسی قیادت کے تناظر میں زیادہ سچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک بااختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز موجود ہوتا ہے جو اپنے مقاصد میں ناکام رہنے والے سی ای او سے نمٹ لیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نو آموز جمہوریتوں میں ضدی اور غیر مقبول قیادت کو عموماً فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے، جس کی آئینی گنجائش ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ ایسی ریاستوں میں ہمیشہ ایک تابعدار عدلیہ میسر ہوتی ہے جو بعد میں اس بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت قانونی جواز فراہم کر دیتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں یہ عوام کی گلی کوچوں کی طاقت ہی ہے جو ایک غیر مقبول لیڈر کا تختہ الٹنا ممکن بناتی ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں حکمرانوں کو ان کے اپنے ہی لوگوں نے سڑکوں پر گھسیٹا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو جانتا ہو کہ اسے کب قیادت کرنی ہے اور کب پیچھے ہٹنا ہے۔ پیانگ یانگ کے کم خاندان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک بے شرمی اور مسلسل خاندانی سیاسی حکمرانی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ لوگ عموماً ایک ہی جیسے چہروں کو دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں جو پرانی شراب کو نئی پیکنگ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ہمالیہ جیسے بلند و بانگ وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیتے جو شاذ و نادر ہی پورے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دور میں ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر ایک قابل ذکر استثنیٰ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی قیادت نے اپنے لوگوں کے لیے اچھا کام کیا ہے لیکن وہ بالکل مختلف سیاسی نظام کے تحت کام کرتے ہیں جو نہ تو مکمل طور پر سوشلسٹ ہے اور نہ ہی بے لگام سرمایہ دارانہ ہے، یہ ایک منفرد سیاسی اور معاشی نظام ہے جسے اپنانے کا حوصلہ بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود چین میں بھی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں لیکن زیادہ تر طویل اور مستحکم ادوار کے بعد۔ اس کا بنیادی اصول مسلسل معاشی اور سیاسی فوائد کا حصول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نظریاتی اصولوں کے برعکس نریندر مودی مجھے فرینکلن ڈی روزویلٹ کے ان الفاظ کی یاد دلاتے ہیں کہ مجھے چار تعریفیں یاد آتی ہیں، ایک بنیاد پرست وہ شخص ہے جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہوتے ہیں۔ ایک قدامت پسند وہ ہے جس کی ٹانگیں تو ٹھیک ہیں لیکن اس نے کبھی آگے بڑھنا نہیں سیکھا۔ ایک رجعت پسند وہ ہے جو نیند میں پیچھے کی طرف چلتا ہے۔ اور ایک لبرل وہ ہے جو اپنے دماغ کے حکم پر اپنے ہاتھ پاؤں استعمال کرتا ہے۔مودی کے اکھنڈ بھارت کی عظمت کے سراب میں یہ تمام اوصاف نظر آتے ہیں۔ وہ روزویلٹ کی ان تمام تعریفوں کا مجموعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نئی دہلی میں گجرات کی معاشی کامیابی کی کہانی کے ساتھ وارد ہوئے، اگرچہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے احمد آباد اور دیگر شہروں میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کا حکم دیا تھا۔ معصوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے اس مظلم نے امریکہ کو ان کا ویزا مسترد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے اس توہین کو پی لیا، کیونکہ ان کی شخصیت پر وہ مگر مچھ کی کھال چڑھی ہے جسے وہ زعفرانی لباس کے پیچھے چھپانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کی جڑیں بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس میں پیوست ہیں۔ بی جے پی کی یہ سیاسی شہ رگ 1920 کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے مسلمانوں کے قتل عام اور باقاعدہ فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار رہی ہے۔ ان کی اسی زعفرانی اپیل نے انہیں گجرات کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ تیزی سے پارٹی کی صفوں میں اوپر چڑھے اور بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ایک کٹر فرقہ پرست اور مسلم دشمن کا سیکولر انڈیا کا پی ایم بننا ایک مذاق ہے۔ بھارتی سیاست میں ان کی شمولیت شاید اس کی تاریخ کا سب سے طویل خودکشی کا نوٹ ہے۔ وہ بھارت کو دنیا کا عقل مند ترین بیوقوف ملک بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پربھارت شروع میں کوئی ایک ملک یا قوم نہیں تھا اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی ہندو انڈیا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس کے بجائے تمام تاریخ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ انڈیا ہمیشہ سیکولر رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے انڈیا مختلف مہاراجاؤں، شہزادوں اور بادشاہوں کی چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ حیدرآباد دکن، جو فرانس جتنا بڑا تھا، انڈین یونین کا حصہ نہیں تھا، اس کا حکمران مسلمان تھا جبکہ رعایا کی اکثریت ہندو تھی۔ جوناگڑھ، کشمیر اور پٹیالہ وغیرہ سب آزاد ریاستیں تھیں۔ پٹیل نے انہیں طاقت کے زور پر ہڑپ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل از مسیح کے دور میں بھی انڈیا کوئی ہندو ملک نہیں تھا۔ موریا سلطنت زیادہ تر بدھ مت پر مبنی تھی، وہاں جین مت کا بھی غلبہ تھا۔ برہمن ازم (ہندو مت) تیسرے نمبر پر تھا۔ اشوک نے انڈیا میں بدھ مت کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اشوک کے اخلاقی ضابطے کا سنگ بنیاد تمام مذاہب کے پرامن بقائے باہمی پر تھا۔ مودی انڈیا کی امن و رواداری پر مبنی بہترین تاریخی روایات کو مٹا رہے ہیں۔ آج معاشرہ تقسیم ہو چکا ہے اور اسے نفرت کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہرو، گاندھی اور آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے والے ان کے تمام ساتھی (بجز مسلم دشمن ہوم منسٹر ولبھ بھائی پٹیل کے) سیکولر تھے۔ انہوں نے کبھی ہندو انڈیا کے تصور کی حمایت نہیں کی۔ پٹیل کا تعلق بھی گجرات سے تھا اور وہ آر ایس ایس کے فعال حامی تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے گاندھی اور نہرو کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ آر ایس ایس کا ہی ایک فعال رکن نتھورام گوڈسے تھا، جس نے چند گولیوں سے گاندھی کا قصہ تمام کر دیا۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرا گمان ہے کہ اگر ولبھ بھائی پٹیل مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو نہرو کو بھی پٹیل کی رہنمائی میں آر ایس ایس کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی اور ان کے داغدار کابینہ ساتھی (اور گہرے دوست) امیت شاہ آر ایس ایس کی حقیقی اولاد اور مسلم دشمنوں کے سرپرست ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں، بدھ متوں، جینیوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کے بڑے پیمانے پرقتل عام کی صدارت کی ہے۔ انڈیا کا سیکولر ڈھانچہ، جس پر ملک کو چند دہائیاں پہلے تک فخر تھا اب بھارتی معاشرے کا سب سے زیادہ مذہبی طور پر متعصب حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش ان پر اس طرح الٹ گئی ہے کہ اب ان کی اپنی ناک لہولہان ہے۔ پہلگام کے ڈرامے اور اس کے بعد فضائی جھڑپ، جس میں پاکستان نے 5 بھارتی طیارے (بشمول رافیل جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا) مار گرائے، اس کے بعد سے مودی کی مقبولیت گر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی فیاضی میں گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے۔ پاکستان کے لیے اپنی نئی محبت میں انہوں نے براہِ راست اور بالواسطہ مودی کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا آج مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے اور ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مودی کے تباہ کن فیصلوں کے بعد عالمی برادری انہیں ایک قابلِ بھروسہ فریق کے طور پر نہیں دیکھتی۔ پائیدار امن کے حصول کے لیے مودی کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود پاکستان خطے میں ایک وفادار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہمارے سپاہی اور ساز و سامان پہلے ہی سعودی سر زمین پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کی تو انڈین ٹی وی چینلز کے اینکرز آپے سے باہر ہو گئے، ان میں سے ہر ایک سامعین کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ واقعی چارلس ڈاروین کے نظریہ ارتقاء کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ وہ اسٹوڈیو میں بے شرمی سے پاکستان کی مخالفت میں اچھل کود کر رہے تھے لیکن اب تمام توپوں کا رخ مودی اور ان کی نااہلیوں کی طرف ہے، جس کی وجہ سے انڈیا بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی سفارت کاری آج اپنے عروج پر ہے، جیسا کہ 1974 میں لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت تھی۔ انڈین میڈیا اب پاکستان کی تعریف کر رہا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں بلکہ نریندر مودی پر تنقید اور ملامت کرنے کے لیے۔ مودی بہت زیادہ غیر مقبول ہو چکے ہیں، جس کا اعتراف کرنے سے وہ انکاری ہیں۔ وہ انتقام پسند ہیں اور پچھلے اپریل میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت کے زخم چاٹ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آج اچانک انتخابات کرائے جائیں تو مودی یقینی طور پر ہار جائیں گے۔ لہذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ عہدے سے الگ ہو جائیں اور امیت شاہ کو بھی اپنے ساتھ سیاسی گمنامی کے اندھیروں میں لے جائیں۔ اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جو مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے اکھنڈ بھارت کے سراب یا ہندو برتری کے زہر سے متاثر نہیں ہے تو اسے آگے آنا چاہیے، تاکہ انڈیا کو دوبارہ پنچ شیل اور سیکولرزم کے نظریات کی طرف لے جایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کے بارے میں مودی کا نظریہ اتنا متعصب ہے کہ وہ مسلمانوں کو حملہ آوروں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنے ہی ہم وطن ششی تھرور کی وہ تقریر سننی چاہیے کہ اسلام کیرالہ میں کیسے آیا، تاکہ ان کی تاریخی حس درست ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہین لیڈر جانتے ہیں کہ اسٹیج کی روشنیاں کب مدھم ہونے والی ہیں۔ جدید سنگاپور کے معمار لی کوان یو نے نوجوانوں کو جگہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کے شہنشاہ رضا پہلوی، فلپائن کے فرڈینینڈ مارکوس اور حال ہی میں حسینہ واجد نے ضد دکھائی اور اقتدار سے چمٹے رہے، پھر وقت کے پہیے نے انہیں ذلت کے ساتھ ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی کے دور میں انڈیا اپنا کردار اور شناخت کھو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی عوام اس طویل مدتی نقصان کا ادراک کریں جو ان کا وزیر اعظم سماجی ڈھانچے کو پہنچا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا معاشرہ جو نفرت پر پلتا ہو کبھی ترقی یا استحکام حاصل نہیں کر سکا ہے۔ فطری انصاف غلطیوں کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ انڈیا کی بربادی کو اب انڈیا کے لوگوں کو خود روکنا ہوگا، جو کہ اکثریت میں امن پسند ہندو ہیں اور ہندو مت کا بنیادی اصول اہنسا یعنی عدم تشدد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی اور امیت شاہ کو تمام ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر دیوار پر لکھا پڑھ لینا چاہیے۔ اگر انہوں نے نئی اور روشن خیال قیادت کے لیے راستہ صاف نہ کیا تو تباہی سامنے کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لیڈروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم اتنی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں کی نبض پڑھ سکیں جن کی وہ قیادت کر رہے ہیں، یعنی عوام۔ جو لیڈر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ بالآخر عوام کی طاقت کے ہاتھوں اپنے عہدوں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ بات کارپوریٹ قیادت کے مقابلے میں سیاسی قیادت کے تناظر میں زیادہ سچی ہے، کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر میں ایک بااختیار بورڈ آف ڈائریکٹرز موجود ہوتا ہے جو اپنے مقاصد میں ناکام رہنے والے سی ای او سے نمٹ لیتا ہے۔</strong></p>
<p>نو آموز جمہوریتوں میں ضدی اور غیر مقبول قیادت کو عموماً فوج کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا جاتا ہے، جس کی آئینی گنجائش ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ ایسی ریاستوں میں ہمیشہ ایک تابعدار عدلیہ میسر ہوتی ہے جو بعد میں اس بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت قانونی جواز فراہم کر دیتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں یہ عوام کی گلی کوچوں کی طاقت ہی ہے جو ایک غیر مقبول لیڈر کا تختہ الٹنا ممکن بناتی ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں حکمرانوں کو ان کے اپنے ہی لوگوں نے سڑکوں پر گھسیٹا۔</p>
<p>ایک عظیم لیڈر وہ ہوتا ہے جو جانتا ہو کہ اسے کب قیادت کرنی ہے اور کب پیچھے ہٹنا ہے۔ پیانگ یانگ کے کم خاندان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک بے شرمی اور مسلسل خاندانی سیاسی حکمرانی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ لوگ عموماً ایک ہی جیسے چہروں کو دیکھ دیکھ کر تھک جاتے ہیں جو پرانی شراب کو نئی پیکنگ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ ہمالیہ جیسے بلند و بانگ وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیتے جو شاذ و نادر ہی پورے ہوتے ہیں۔</p>
<p>حالیہ دور میں ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر ایک قابل ذکر استثنیٰ رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی قیادت نے اپنے لوگوں کے لیے اچھا کام کیا ہے لیکن وہ بالکل مختلف سیاسی نظام کے تحت کام کرتے ہیں جو نہ تو مکمل طور پر سوشلسٹ ہے اور نہ ہی بے لگام سرمایہ دارانہ ہے، یہ ایک منفرد سیاسی اور معاشی نظام ہے جسے اپنانے کا حوصلہ بہت کم ممالک کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود چین میں بھی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں لیکن زیادہ تر طویل اور مستحکم ادوار کے بعد۔ اس کا بنیادی اصول مسلسل معاشی اور سیاسی فوائد کا حصول ہے۔</p>
<p>ان نظریاتی اصولوں کے برعکس نریندر مودی مجھے فرینکلن ڈی روزویلٹ کے ان الفاظ کی یاد دلاتے ہیں کہ مجھے چار تعریفیں یاد آتی ہیں، ایک بنیاد پرست وہ شخص ہے جس کے دونوں پاؤں ہوا میں ہوتے ہیں۔ ایک قدامت پسند وہ ہے جس کی ٹانگیں تو ٹھیک ہیں لیکن اس نے کبھی آگے بڑھنا نہیں سیکھا۔ ایک رجعت پسند وہ ہے جو نیند میں پیچھے کی طرف چلتا ہے۔ اور ایک لبرل وہ ہے جو اپنے دماغ کے حکم پر اپنے ہاتھ پاؤں استعمال کرتا ہے۔مودی کے اکھنڈ بھارت کی عظمت کے سراب میں یہ تمام اوصاف نظر آتے ہیں۔ وہ روزویلٹ کی ان تمام تعریفوں کا مجموعہ ہیں۔</p>
<p>مودی نئی دہلی میں گجرات کی معاشی کامیابی کی کہانی کے ساتھ وارد ہوئے، اگرچہ بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے احمد آباد اور دیگر شہروں میں مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کا حکم دیا تھا۔ معصوم مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے اس مظلم نے امریکہ کو ان کا ویزا مسترد کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے اس توہین کو پی لیا، کیونکہ ان کی شخصیت پر وہ مگر مچھ کی کھال چڑھی ہے جسے وہ زعفرانی لباس کے پیچھے چھپانے میں بری طرح ناکام رہتے ہیں۔</p>
<p>مودی کی جڑیں بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس میں پیوست ہیں۔ بی جے پی کی یہ سیاسی شہ رگ 1920 کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے مسلمانوں کے قتل عام اور باقاعدہ فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار رہی ہے۔ ان کی اسی زعفرانی اپیل نے انہیں گجرات کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ تیزی سے پارٹی کی صفوں میں اوپر چڑھے اور بھارت کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ایک کٹر فرقہ پرست اور مسلم دشمن کا سیکولر انڈیا کا پی ایم بننا ایک مذاق ہے۔ بھارتی سیاست میں ان کی شمولیت شاید اس کی تاریخ کا سب سے طویل خودکشی کا نوٹ ہے۔ وہ بھارت کو دنیا کا عقل مند ترین بیوقوف ملک بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>تاریخی طور پربھارت شروع میں کوئی ایک ملک یا قوم نہیں تھا اور اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی ہندو انڈیا کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس کے بجائے تمام تاریخ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ انڈیا ہمیشہ سیکولر رہا ہے۔ تقسیم سے پہلے انڈیا مختلف مہاراجاؤں، شہزادوں اور بادشاہوں کی چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ حیدرآباد دکن، جو فرانس جتنا بڑا تھا، انڈین یونین کا حصہ نہیں تھا، اس کا حکمران مسلمان تھا جبکہ رعایا کی اکثریت ہندو تھی۔ جوناگڑھ، کشمیر اور پٹیالہ وغیرہ سب آزاد ریاستیں تھیں۔ پٹیل نے انہیں طاقت کے زور پر ہڑپ کیا۔</p>
<p>قبل از مسیح کے دور میں بھی انڈیا کوئی ہندو ملک نہیں تھا۔ موریا سلطنت زیادہ تر بدھ مت پر مبنی تھی، وہاں جین مت کا بھی غلبہ تھا۔ برہمن ازم (ہندو مت) تیسرے نمبر پر تھا۔ اشوک نے انڈیا میں بدھ مت کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ اشوک کے اخلاقی ضابطے کا سنگ بنیاد تمام مذاہب کے پرامن بقائے باہمی پر تھا۔ مودی انڈیا کی امن و رواداری پر مبنی بہترین تاریخی روایات کو مٹا رہے ہیں۔ آج معاشرہ تقسیم ہو چکا ہے اور اسے نفرت کی بنیاد پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>نہرو، گاندھی اور آزادی کی تحریک کی قیادت کرنے والے ان کے تمام ساتھی (بجز مسلم دشمن ہوم منسٹر ولبھ بھائی پٹیل کے) سیکولر تھے۔ انہوں نے کبھی ہندو انڈیا کے تصور کی حمایت نہیں کی۔ پٹیل کا تعلق بھی گجرات سے تھا اور وہ آر ایس ایس کے فعال حامی تھے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے گاندھی اور نہرو کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ آر ایس ایس کا ہی ایک فعال رکن نتھورام گوڈسے تھا، جس نے چند گولیوں سے گاندھی کا قصہ تمام کر دیا۔ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرا گمان ہے کہ اگر ولبھ بھائی پٹیل مزید کچھ عرصہ زندہ رہتے تو نہرو کو بھی پٹیل کی رہنمائی میں آر ایس ایس کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا۔</p>
<p>مودی اور ان کے داغدار کابینہ ساتھی (اور گہرے دوست) امیت شاہ آر ایس ایس کی حقیقی اولاد اور مسلم دشمنوں کے سرپرست ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں، بدھ متوں، جینیوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کے بڑے پیمانے پرقتل عام کی صدارت کی ہے۔ انڈیا کا سیکولر ڈھانچہ، جس پر ملک کو چند دہائیاں پہلے تک فخر تھا اب بھارتی معاشرے کا سب سے زیادہ مذہبی طور پر متعصب حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم کے پرخچے اڑ چکے ہیں۔</p>
<p>مودی کی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش ان پر اس طرح الٹ گئی ہے کہ اب ان کی اپنی ناک لہولہان ہے۔ پہلگام کے ڈرامے اور اس کے بعد فضائی جھڑپ، جس میں پاکستان نے 5 بھارتی طیارے (بشمول رافیل جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا) مار گرائے، اس کے بعد سے مودی کی مقبولیت گر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی فیاضی میں گرائے گئے رافیل طیاروں کی تعداد 11 تک پہنچا دی ہے۔ پاکستان کے لیے اپنی نئی محبت میں انہوں نے براہِ راست اور بالواسطہ مودی کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔</p>
<p>انڈیا آج مکمل تنہائی کا شکار ہے۔ نیتن یاہو سے ہاتھ ملانے اور ایران کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مودی کے تباہ کن فیصلوں کے بعد عالمی برادری انہیں ایک قابلِ بھروسہ فریق کے طور پر نہیں دیکھتی۔ پائیدار امن کے حصول کے لیے مودی کی شدید ناپسندیدگی کے باوجود پاکستان خطے میں ایک وفادار اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ہمارے سپاہی اور ساز و سامان پہلے ہی سعودی سر زمین پر موجود ہیں۔</p>
<p>جب پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کی تو انڈین ٹی وی چینلز کے اینکرز آپے سے باہر ہو گئے، ان میں سے ہر ایک سامعین کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ واقعی چارلس ڈاروین کے نظریہ ارتقاء کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ وہ اسٹوڈیو میں بے شرمی سے پاکستان کی مخالفت میں اچھل کود کر رہے تھے لیکن اب تمام توپوں کا رخ مودی اور ان کی نااہلیوں کی طرف ہے، جس کی وجہ سے انڈیا بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی سفارت کاری آج اپنے عروج پر ہے، جیسا کہ 1974 میں لاہور اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت تھی۔ انڈین میڈیا اب پاکستان کی تعریف کر رہا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں بلکہ نریندر مودی پر تنقید اور ملامت کرنے کے لیے۔ مودی بہت زیادہ غیر مقبول ہو چکے ہیں، جس کا اعتراف کرنے سے وہ انکاری ہیں۔ وہ انتقام پسند ہیں اور پچھلے اپریل میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت کے زخم چاٹ رہے ہیں۔</p>
<p>اگر آج اچانک انتخابات کرائے جائیں تو مودی یقینی طور پر ہار جائیں گے۔ لہذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ عہدے سے الگ ہو جائیں اور امیت شاہ کو بھی اپنے ساتھ سیاسی گمنامی کے اندھیروں میں لے جائیں۔ اگر کوئی ایسا نوجوان ہے جو مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے اکھنڈ بھارت کے سراب یا ہندو برتری کے زہر سے متاثر نہیں ہے تو اسے آگے آنا چاہیے، تاکہ انڈیا کو دوبارہ پنچ شیل اور سیکولرزم کے نظریات کی طرف لے جایا جا سکے۔</p>
<p>تاریخ کے بارے میں مودی کا نظریہ اتنا متعصب ہے کہ وہ مسلمانوں کو حملہ آوروں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ انہیں اپنے ہی ہم وطن ششی تھرور کی وہ تقریر سننی چاہیے کہ اسلام کیرالہ میں کیسے آیا، تاکہ ان کی تاریخی حس درست ہو سکے۔</p>
<p>ذہین لیڈر جانتے ہیں کہ اسٹیج کی روشنیاں کب مدھم ہونے والی ہیں۔ جدید سنگاپور کے معمار لی کوان یو نے نوجوانوں کو جگہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔ ڈینگ ژیاؤ پنگ پیچھے ہٹ گئے۔ ایران کے شہنشاہ رضا پہلوی، فلپائن کے فرڈینینڈ مارکوس اور حال ہی میں حسینہ واجد نے ضد دکھائی اور اقتدار سے چمٹے رہے، پھر وقت کے پہیے نے انہیں ذلت کے ساتھ ہٹا دیا۔</p>
<p>نریندر مودی کے دور میں انڈیا اپنا کردار اور شناخت کھو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارتی عوام اس طویل مدتی نقصان کا ادراک کریں جو ان کا وزیر اعظم سماجی ڈھانچے کو پہنچا رہا ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسا معاشرہ جو نفرت پر پلتا ہو کبھی ترقی یا استحکام حاصل نہیں کر سکا ہے۔ فطری انصاف غلطیوں کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ انڈیا کی بربادی کو اب انڈیا کے لوگوں کو خود روکنا ہوگا، جو کہ اکثریت میں امن پسند ہندو ہیں اور ہندو مت کا بنیادی اصول اہنسا یعنی عدم تشدد ہے۔</p>
<p>نریندر مودی اور امیت شاہ کو تمام ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر دیوار پر لکھا پڑھ لینا چاہیے۔ اگر انہوں نے نئی اور روشن خیال قیادت کے لیے راستہ صاف نہ کیا تو تباہی سامنے کھڑی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504200</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:52:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/071330499bddc5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/071330499bddc5c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیادت کی ٹیم میں اختلافات کا مؤثر حل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504166/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وہ غیر حقیقی سوچ کا حامل ہے۔ وہ بہت خوش مزاج ہے۔ وہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا پسند کرتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی کا بہتر استعمال جانتی ہے۔ یہ کچھ تاثرات ہیں جو میں نے اعلیٰ سطح کی ٹیم کے ارکان کے بارے میں سنے ہیں۔ ایک حالیہ کوچنگ سیشن میں کمپنی کے سی ای او شدت جذبات سے پریشان ہو کر واقعی پاگل ہو رہے تھے۔ وہ بار بار ”بگاڑنے والوں“ کا ذکر کر کے اپنی بے چینی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک خاص سینئر رکن ایسے تھے جو انہیں پاگل کئے جارہے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;” وہ اپنے کام میں ماہر ہے۔ اپنی ٹیم کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔ بات کرتا ہے، کبھی کبھار بے ترتیبی سے بھی۔ اچھا ہے مگر برا بھی۔ برا ہے مگر پیشہ ورانہ ہے۔ قابو سے باہر ہے مگر بہت ایماندار ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت سے بہت مطمئن ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے پوچھا، ”اس میں آپ کو سب سے زیادہ کیا چیز تکلیف دے رہی ہے؟” جواب آیا، ”زیادہ کچھ نہیں، بس اس کا زیادہ محنتی اور بلند حوصلہ نہ ہونا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک عام صورتحال ہے، سی ای او اور سینئر قیادت کے درمیان تصادم۔ سی ای او کی آواز میں جو بے چینی تھی، وہ تجربہ کار افراد کے ساتھ نمٹنے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی مہارت اور ذاتی وقار کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر قیادت کی دنیا کچھ اور ہے۔ وہ درمیانی سطح کے مینیجر نہیں جو نسبتاً نئے ہوں اور اوپر والوں کے احکامات پر چلنے کی توقع کی جاتی ہو۔ سینئر رہنما ایسے لوگ ہیں جن کے اپنے مضبوط انا ہیں اور جو تقریباً عروج پر پہنچ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کئی کے پاس سی اوی او سے زیادہ تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ بعض اوقات وہ اندرونی طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اصل کمپنی کے سربراہ وہی ہیں۔ کچھ، جو پرانے اور اندرونی رکن ہیں، کسی چھوٹی عمر کے یا باہر سے آئے سی ای او پر ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے، جو کسی اور کمپنی سے آئے ہیں، اس کشمکش کو دیکھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ سی ای او یا کمپنی کے سربراہ پہلے بھی مشکل لوگوں سے نمٹ چکے ہوتے ہیں، وہ عام طور پر اس سطح کی قیادت میں ہونے والے اندرونی تنازعات کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ ڈویلپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل (ڈی ڈی آئی ) کے عالمی قیادت کے جائزوں میں 70,000 سے زائد مینیجر امیدواروں کا مطالعہ کیا گیا، جس میں تقریباً نصف (49 فیصد) موثر تنازع مینجمنٹ کی مہارت دکھانے میں ناکام رہے اور صرف 12 فیصد نے اس شعبے میں اعلیٰ مہارت دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک باعث تشویش امر ہے۔ جو اوپر ہوتا ہے، بالآخر نیچے بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اوپر تنازع نہ صرف اہم شعبوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ نیچے تک اثر انداز ہوتا ہے۔ سی ای او کے لیے یہ صلاحیت کہ مختلف رائے کو پروان چڑھنے دے لیکن ٹیم کی سمت نہ بگڑنے دے، ایک اعلیٰ کارکردگی والی قیادت ٹیم بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ توازن قائم کرنے کے لیے، قیادت کے سربراہ کو درج ذیل &lt;strong&gt;تنازع کے محرکات&lt;/strong&gt; سمجھنے ہوں گے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 1 – سب سے ہوشیار شخص&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ لوگ توجہ اپنی طرف مرکوز کرتے ہیں۔ زیادہ بولتے ہیں اور کم سنتے ہیں۔ وہ مسلسل اپنی شاندار تجربات کے بارے میں بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ تقریباً ہر موضوع کے ماہر ہیں۔ ایک اجلاس میں جس میں سینئر ٹیم کے اراکین کی تجاویز پر بات ہونی تھی، یہ شخص بولے،&lt;br&gt;”مجھے معلوم ہے کہ میرے ساتھیوں کے پاس شاندار آئیڈیاز ہیں، لیکن میری رائے میں…“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنی تجویز پیش کرتے رہے۔ جب انہوں نے آخرکار بات ختم کی اور دیگر لوگ بولنے لگے، تو وہ مسلسل اپنی تجویز کا دفاع کرتے رہے، یہ بتاتے ہوئے کہ دیگر تجاویز اتنی موثر کیوں نہیں ہیں۔ کچھ ارکان نے اسے اچھا نہیں سمجھا اور کہا کہ یہ اجلاس آئیڈیاز جمع کرنے کے لیے تھا، کسی کو صحیح اور کسی کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تنازع واضح تھا اور اجلاس بے نتیجہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 2 – فیڈبیک سے بچنے والا/جوابی مزاحمت کرنے والا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;ایک اور مسئلہ سینئر رکن ہے، جو فیڈبیک کو مثبت طور پر نہیں لیتا۔ اگر اس کی ٹیم کی ترقی کی ضرورت ہو، تو وہ موضوع کو نظر انداز کر دیتا ہے اور صرف بتاتا ہے کہ اہداف کیسے پورے ہو رہے ہیں۔ اگر اس کا رویہ بدلنے کی ضرورت ہو، تو وہ بار بار کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر فیڈبیک دہرانا پڑے، تو وہ جوابی کارروائی میں چلا جاتا ہے اور الزام تراشی شروع کر دیتا ہے۔ سینئر سطح پر یہ ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ تجربہ اور انا کی وجہ سے ایسے لوگ رویے میں تبدیلی پر کم آمادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 3 – ’میں‘ اول، ’ہم‘ بعد میں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پھر وہ سینئر رکن ہے جو ٹیم کے ساتھ میل جول کم رکھتا ہے۔ ایک سینئر ٹیم کے منصوبہ بندی کے ریٹریٹ میں، میں نے دیکھا کہ یہ لوگ تنہا چہل قدمی کر رہے تھے جبکہ باقی ٹیم ایک ساتھ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ یہ افراد انٹروورٹ ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ٹیم میں غلط پیغامات دیتے ہیں۔ دیگر اراکین انہیں ” میں، خود اور صرف میں“ والا شخص سمجھنے لگے، جو ٹیم میں ذاتی تعلقات بنانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تنازع محرک نمبر 4 – ’ہاں‘ بولنے والا مگر ’نہیں‘ کرنے والا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پھر وہ کلاسیکی ”زبان سے ہاں، عمل سے نہیں“ کرنے والا رکن ہے۔ وہ اجلاسوں اور بات چیت میں سب کو خوش کرنے والا دکھائی دیتا ہے، لیکن پیچھے اپنا ایجنڈا چلا رہا ہوتا ہے۔ اس کے کچھ قریبی تعلقات بورڈ کے کچھ ڈائریکٹرز کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ سینئر ٹیم کے لیے یہ احساس کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، انتظامی عہدوں میں اختلافات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ سینئر ٹیم کی متضاد شخصیات اور انداز کو کس طرح سنبھالا جائے۔ اگرچہ تنوع مختلف انداز کی ضرورت رکھتا ہے، لیکن یہ ٹیم میں تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ سی ای او کو حکمت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ٹیم کو سنبھالیں، انہیں مصروف رکھیں اور ٹیم کو متحد رکھیں۔ اس کے لیے چند طریقے یہ ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1. ٹیم کے ارکان کو سمجھیں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;متنوع ٹیم جس میں مختلف انداز موجود ہوں، یقیناً طاقت ہے۔ لیکن اگر ان اختلافات کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالا جائے، تو ٹیم غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سی ای او کو ٹیم کے پس منظر اور مہارت کو سمجھ کر کردار تفویض کرنے چاہئیں۔ غالب شخصیات کو قابو میں رکھنے کے لیے، کرداروں کی تقسیم اسٹریٹجک ہونی چاہیے۔ انہیں ایسے کردار دیں جہاں وہ محسوس کریں کہ وہ قیادت کر رہے ہیں۔ کچھ ذیلی کمیٹیاں بنائیں اور انہیں ان کمیٹیوں کی سربراہی کرنے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2. رویے اور جوابدہی کا مظاہرہ کریں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;اجلاسوں میں مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کے اصول مقرر کریں اور ایک غیر جانبدار شخص کو اجلاس چلانے کے لیے تعینات کریں۔ آئیڈیاز پیش کرنے کے وقت کے لیے سخت قواعد ہوں اور ہر کسی کو بات سننے کا موقع ملے۔ مثال قائم کرنے کے لیے، سی ای او خود شروع کریں، وقت سے زیادہ بولیں اور پھر اجلاس کے کنٹرولر سے چیک کرائیں تاکہ یہ پیغام جائے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3. کوچنگ کے اقدامات تیار کریں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;رویے میں تبدیلی کے لیے، سینئر ارکان کے لیے ایک سے ایک بیرونی کوچنگ کا اہتمام کیا جائے تاکہ پیشہ ورانہ مدد حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کرنے کے لیے، سی ای او یا قیادت ٹیم کے سربراہ کو یہ ذہن سازی کرنی ہوگی کہ اگرچہ تنوع ایک بہت بڑی خوبی ہے، اتنی ہی اہم وضاحت اور جوابدہی بھی ہے۔ تنازعات سے بچنا، انہیں نظر انداز کرنا یا فرار اختیار کرنا حل نہیں ہے، بلکہ ان سے موثر انداز میں نمٹنا ضروری ہے۔ جیسا کہ تھامس کرم نے کہا ہے کہ: ”ہماری زندگی کا معیار اس بات پر نہیں کہ ہمارے درمیان تنازعات ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم ان سے کس طرح نمٹتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وہ غیر حقیقی سوچ کا حامل ہے۔ وہ بہت خوش مزاج ہے۔ وہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا پسند کرتا ہے۔ وہ اپنی حکمت عملی کا بہتر استعمال جانتی ہے۔ یہ کچھ تاثرات ہیں جو میں نے اعلیٰ سطح کی ٹیم کے ارکان کے بارے میں سنے ہیں۔ ایک حالیہ کوچنگ سیشن میں کمپنی کے سی ای او شدت جذبات سے پریشان ہو کر واقعی پاگل ہو رہے تھے۔ وہ بار بار ”بگاڑنے والوں“ کا ذکر کر کے اپنی بے چینی کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک خاص سینئر رکن ایسے تھے جو انہیں پاگل کئے جارہے تھے۔</strong></p>
<p>” وہ اپنے کام میں ماہر ہے۔ اپنی ٹیم کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔ بات کرتا ہے، کبھی کبھار بے ترتیبی سے بھی۔ اچھا ہے مگر برا بھی۔ برا ہے مگر پیشہ ورانہ ہے۔ قابو سے باہر ہے مگر بہت ایماندار ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت سے بہت مطمئن ہیں۔“</p>
<p>میں نے پوچھا، ”اس میں آپ کو سب سے زیادہ کیا چیز تکلیف دے رہی ہے؟” جواب آیا، ”زیادہ کچھ نہیں، بس اس کا زیادہ محنتی اور بلند حوصلہ نہ ہونا۔“</p>
<p>یہ ایک عام صورتحال ہے، سی ای او اور سینئر قیادت کے درمیان تصادم۔ سی ای او کی آواز میں جو بے چینی تھی، وہ تجربہ کار افراد کے ساتھ نمٹنے کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی مہارت اور ذاتی وقار کے حامل ہیں۔</p>
<p>سینئر قیادت کی دنیا کچھ اور ہے۔ وہ درمیانی سطح کے مینیجر نہیں جو نسبتاً نئے ہوں اور اوپر والوں کے احکامات پر چلنے کی توقع کی جاتی ہو۔ سینئر رہنما ایسے لوگ ہیں جن کے اپنے مضبوط انا ہیں اور جو تقریباً عروج پر پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کئی کے پاس سی اوی او سے زیادہ تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ بعض اوقات وہ اندرونی طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اصل کمپنی کے سربراہ وہی ہیں۔ کچھ، جو پرانے اور اندرونی رکن ہیں، کسی چھوٹی عمر کے یا باہر سے آئے سی ای او پر ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرے، جو کسی اور کمپنی سے آئے ہیں، اس کشمکش کو دیکھ کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ سی ای او یا کمپنی کے سربراہ پہلے بھی مشکل لوگوں سے نمٹ چکے ہوتے ہیں، وہ عام طور پر اس سطح کی قیادت میں ہونے والے اندرونی تنازعات کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہوتے۔ ڈویلپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل (ڈی ڈی آئی ) کے عالمی قیادت کے جائزوں میں 70,000 سے زائد مینیجر امیدواروں کا مطالعہ کیا گیا، جس میں تقریباً نصف (49 فیصد) موثر تنازع مینجمنٹ کی مہارت دکھانے میں ناکام رہے اور صرف 12 فیصد نے اس شعبے میں اعلیٰ مہارت دکھائی۔</p>
<p>یہ ایک باعث تشویش امر ہے۔ جو اوپر ہوتا ہے، بالآخر نیچے بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اوپر تنازع نہ صرف اہم شعبوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ نیچے تک اثر انداز ہوتا ہے۔ سی ای او کے لیے یہ صلاحیت کہ مختلف رائے کو پروان چڑھنے دے لیکن ٹیم کی سمت نہ بگڑنے دے، ایک اعلیٰ کارکردگی والی قیادت ٹیم بنانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ توازن قائم کرنے کے لیے، قیادت کے سربراہ کو درج ذیل <strong>تنازع کے محرکات</strong> سمجھنے ہوں گے:</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 1 – سب سے ہوشیار شخص</strong><br>یہ لوگ توجہ اپنی طرف مرکوز کرتے ہیں۔ زیادہ بولتے ہیں اور کم سنتے ہیں۔ وہ مسلسل اپنی شاندار تجربات کے بارے میں بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ تقریباً ہر موضوع کے ماہر ہیں۔ ایک اجلاس میں جس میں سینئر ٹیم کے اراکین کی تجاویز پر بات ہونی تھی، یہ شخص بولے،<br>”مجھے معلوم ہے کہ میرے ساتھیوں کے پاس شاندار آئیڈیاز ہیں، لیکن میری رائے میں…“</p>
<p>وہ اپنی تجویز پیش کرتے رہے۔ جب انہوں نے آخرکار بات ختم کی اور دیگر لوگ بولنے لگے، تو وہ مسلسل اپنی تجویز کا دفاع کرتے رہے، یہ بتاتے ہوئے کہ دیگر تجاویز اتنی موثر کیوں نہیں ہیں۔ کچھ ارکان نے اسے اچھا نہیں سمجھا اور کہا کہ یہ اجلاس آئیڈیاز جمع کرنے کے لیے تھا، کسی کو صحیح اور کسی کو غلط ثابت کرنے کے لیے نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تنازع واضح تھا اور اجلاس بے نتیجہ رہا۔</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 2 – فیڈبیک سے بچنے والا/جوابی مزاحمت کرنے والا</strong><br>ایک اور مسئلہ سینئر رکن ہے، جو فیڈبیک کو مثبت طور پر نہیں لیتا۔ اگر اس کی ٹیم کی ترقی کی ضرورت ہو، تو وہ موضوع کو نظر انداز کر دیتا ہے اور صرف بتاتا ہے کہ اہداف کیسے پورے ہو رہے ہیں۔ اگر اس کا رویہ بدلنے کی ضرورت ہو، تو وہ بار بار کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر فیڈبیک دہرانا پڑے، تو وہ جوابی کارروائی میں چلا جاتا ہے اور الزام تراشی شروع کر دیتا ہے۔ سینئر سطح پر یہ ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے کیونکہ تجربہ اور انا کی وجہ سے ایسے لوگ رویے میں تبدیلی پر کم آمادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 3 – ’میں‘ اول، ’ہم‘ بعد میں</strong><br>پھر وہ سینئر رکن ہے جو ٹیم کے ساتھ میل جول کم رکھتا ہے۔ ایک سینئر ٹیم کے منصوبہ بندی کے ریٹریٹ میں، میں نے دیکھا کہ یہ لوگ تنہا چہل قدمی کر رہے تھے جبکہ باقی ٹیم ایک ساتھ سرگرمیوں میں مصروف تھی۔ یہ افراد انٹروورٹ ہو سکتے ہیں، لیکن یہ ٹیم میں غلط پیغامات دیتے ہیں۔ دیگر اراکین انہیں ” میں، خود اور صرف میں“ والا شخص سمجھنے لگے، جو ٹیم میں ذاتی تعلقات بنانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔</p>
<p><strong>تنازع محرک نمبر 4 – ’ہاں‘ بولنے والا مگر ’نہیں‘ کرنے والا</strong><br>پھر وہ کلاسیکی ”زبان سے ہاں، عمل سے نہیں“ کرنے والا رکن ہے۔ وہ اجلاسوں اور بات چیت میں سب کو خوش کرنے والا دکھائی دیتا ہے، لیکن پیچھے اپنا ایجنڈا چلا رہا ہوتا ہے۔ اس کے کچھ قریبی تعلقات بورڈ کے کچھ ڈائریکٹرز کے ساتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ سینئر ٹیم کے لیے یہ احساس کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، انتظامی عہدوں میں اختلافات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ سینئر ٹیم کی متضاد شخصیات اور انداز کو کس طرح سنبھالا جائے۔ اگرچہ تنوع مختلف انداز کی ضرورت رکھتا ہے، لیکن یہ ٹیم میں تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ سی ای او کو حکمت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ٹیم کو سنبھالیں، انہیں مصروف رکھیں اور ٹیم کو متحد رکھیں۔ اس کے لیے چند طریقے یہ ہیں:</p>
<p><strong>1. ٹیم کے ارکان کو سمجھیں</strong><br>متنوع ٹیم جس میں مختلف انداز موجود ہوں، یقیناً طاقت ہے۔ لیکن اگر ان اختلافات کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالا جائے، تو ٹیم غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ لہٰذا سی ای او کو ٹیم کے پس منظر اور مہارت کو سمجھ کر کردار تفویض کرنے چاہئیں۔ غالب شخصیات کو قابو میں رکھنے کے لیے، کرداروں کی تقسیم اسٹریٹجک ہونی چاہیے۔ انہیں ایسے کردار دیں جہاں وہ محسوس کریں کہ وہ قیادت کر رہے ہیں۔ کچھ ذیلی کمیٹیاں بنائیں اور انہیں ان کمیٹیوں کی سربراہی کرنے دیں۔</p>
<p><strong>2. رویے اور جوابدہی کا مظاہرہ کریں</strong><br>اجلاسوں میں مساوی مواقع کو یقینی بنانے کے لیے اجلاس کے اصول مقرر کریں اور ایک غیر جانبدار شخص کو اجلاس چلانے کے لیے تعینات کریں۔ آئیڈیاز پیش کرنے کے وقت کے لیے سخت قواعد ہوں اور ہر کسی کو بات سننے کا موقع ملے۔ مثال قائم کرنے کے لیے، سی ای او خود شروع کریں، وقت سے زیادہ بولیں اور پھر اجلاس کے کنٹرولر سے چیک کرائیں تاکہ یہ پیغام جائے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔</p>
<p><strong>3. کوچنگ کے اقدامات تیار کریں</strong><br>رویے میں تبدیلی کے لیے، سینئر ارکان کے لیے ایک سے ایک بیرونی کوچنگ کا اہتمام کیا جائے تاکہ پیشہ ورانہ مدد حاصل ہو۔</p>
<p>یہ سب کرنے کے لیے، سی ای او یا قیادت ٹیم کے سربراہ کو یہ ذہن سازی کرنی ہوگی کہ اگرچہ تنوع ایک بہت بڑی خوبی ہے، اتنی ہی اہم وضاحت اور جوابدہی بھی ہے۔ تنازعات سے بچنا، انہیں نظر انداز کرنا یا فرار اختیار کرنا حل نہیں ہے، بلکہ ان سے موثر انداز میں نمٹنا ضروری ہے۔ جیسا کہ تھامس کرم نے کہا ہے کہ: ”ہماری زندگی کا معیار اس بات پر نہیں کہ ہمارے درمیان تنازعات ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ہم ان سے کس طرح نمٹتے ہیں۔“</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 29 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504166</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:29:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07132920691607e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07132920691607e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لچکدار معیشت یا پھر کشکول اٹھانا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504087/flexible-economy-or-austerity</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے مالیات خرم شہزاد نے گزشتہ پیر کو ٹویٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اضافی 250 ملین ڈالر جمع کیے ہیں، گرین شو آپشن کے ذریعے (جس کے تحت بانڈ جاری کرنے والا سرمایہ کاروں کی زیادہ طلب کو پورا کرنے اور ثانوی منڈی میں بانڈ کی قیمت کو مستحکم کرنے کے لیے بانڈ کے سائز میں اضافہ کرتا ہے، جس سے بانڈ کی اصل قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے)، جس کے نتیجے میں یوروبانڈ کے اجراء کا مجموعی حجم 750 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یوروبانڈ اپریل 2029 میں میچور ہوگا، اور پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ ( جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت واحد بک میکر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ تھا۔ اس اجراء کا مقصد جزوی طور پر متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی ادائیگیوں (اس ماہ کے آخر تک 4.5 بلین ڈالر) کو اسی شرحِ سود، 6.975 فیصد، پر تبدیل کرنا تھا۔ اس شرح پر تین سالانہ ادائیگیاں ہر سال 52.31 ملین ڈالر ہوں گی، جس کا کل حجم اپریل 2029 تک 156.9 ملین ڈالر بنتا ہے اور اس کے بعد حکومت کو اصل رقم 750 ملین ڈالر واپس کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کبھی اپنے بیرونی قرضوں میں ڈیفالٹ نہیں کیا، اور مشیر نے فوری طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان نے 8 اپریل کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر یوروبانڈ کی ادائیگی کی اور دیگر یوروبانڈ اجراء پر 126.125 ملین ڈالر کے کوپن واجبات بھی ادا کیے، ساتھ ہی کہا کہ ” قرض کی ادائیگی“ اب بھی بغیر کسی رکاوٹ یا افراتفری کے جاری ہے، جو استحکام، نظم و ضبط اور مضبوط صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔“ تاہم، انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ قرض کی یہ ادائیگی 8,206,667 ملین روپے پر مشتمل ہے، جو 2025-26 کے کل بجٹ کا 47 فیصد بنتا ہے، اور یہ امکان ہے کہ یہ رقم مزید بڑھے کیونکہ دسمبر 2025 تک متوقع پالیسی ریٹ میں کمی عمل میں نہیں آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، مشیر کے دعوے میں وزن ہے کیونکہ اس سے پہلے، ایکوئٹی مارکیٹ سے قرضہ حاصل کرنا موخر کرنا پڑا تھا، اس وجہ سے کہ متوقع سرمایہ کاروں کے لیے قابل قبول شرح سود بہت زیادہ تھی: دسمبر 2023 میں پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند سطح پر تھا، جس پر اس وقت کی نگراں وزیرِ خزانہ شمشاد اختر نے کہا تھا کہ ملک اس پیش کردہ شرح پر قرضہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس حقیقت کے باوجود تھا کہ ملک نو ماہ کے سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تھا (جولائی 2023 سے مارچ 2024 میں شیڈول انتخابات کے بعد تک)۔ صورتحال اب کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر آ گیا ہے اور مہنگائی، جو 2023 میں 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، گزشتہ ماہ سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد تک گر گئی ہے۔&lt;br&gt;تاہم، حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) تیل کی رسد میں خلل کے سبب بڑھ رہا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیر نے مزید کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ”تین مختلف مالیاتی ڈھانچوں کے تحت انڈر رائٹرز اور مشیروں کا انتخاب کیا جائے“، جو درج ذیل ہیں:(1) کنسورشیم 1 میں زیادہ سے زیادہ پانچ روایتی بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے جو یوروبانڈز کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر مقرر ہوں گے۔ یہ کنسورشیم مشترکہ طور پر ڈھانچہ سازی، قیمت طے کرنا، انڈر رائٹنگ، سنڈیکیٹ مینجمنٹ، سرمایہ کاروں سے رابطہ، روڈ شوز، بک بلڈنگ اور الاٹمنٹ کی ذمہ داری اٹھائے گا، تاکہ وسیع بین الاقوامی تقسیم اور اعلیٰ معیار کی آرڈر بک کو یقینی بنایا جا سکے۔(2) کنسورشیم 2 میں زیادہ سے زیادہ پانچ بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جن میں کم از کم ایک بین الاقوامی اسلامی مالیاتی ادارہ بھی ہوگا، جو بین الاقوامی سکوک کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر کام کرے گا۔(3) کنسورشیم 3 میں زیادہ سے زیادہ تین بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جو جی ایم ٹی این پروگرام کے تحت پاکستانی روپے میں نامزد، مگر امریکی ڈالر میں طے شدہ بین الاقوامی بانڈ کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز کے طور پر مقرر کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے قرض مینجمنٹ دفتر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات نے مشیر کے بیان کو مضبوط کیا، خاص طور پر اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ”وزارتِ خزانہ یہ فیصلہ کرے گی کہ اگلے تین سال میں بیرونی مالی ضروریات کی بنیاد پر مارکیٹ کو کب فعال کیا جائے؛“ دستاویزات میں مزید تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، خاص طور پر یہ کہ ”آلات کے اجراء کا وقت موجودہ مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا، جیسا کہ منتخب شدہ ٹرانزیکشن مشیروں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، اور پاکستان کی مالی ضروریات کے تابع ہوگا۔ ہر اجراء کا حجم اس وقت کے مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا۔ منتخب کنسورشیمز کو ان پروگراموں سے متعلق تمام سرگرمیوں کی تشکیل، مشاورت، انتظام، ہم آہنگی اور نفاذ کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام پر آئی ایم ایف کے دوسرے جائزے کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ سال کے لیے بیرونی مالی ضروریات 19.398 ارب ڈالر ہیں، جو اگلے مالی سال میں معمولی کمی کے ساتھ 19.123 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے اور 2027-28 میں بڑھ کر 29.914 ارب ڈالر ہو جائیں گی۔ وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر جولائی تا فروری 2026 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کل قرض کے بہاؤ (کثیر الجہتی/دو طرفہ امداد، آئی ایم ایف، تجارتی بینک) 5,862.05 ملین ڈالر رہا، اور اگر اس میں چین اور سعودی عرب سے 9 ارب ڈالر کے رول اوورز شامل کیے جائیں تو بھی کل مطلوبہ رقم پورے نہیں ہوتے، جو ممکنہ طور پر ایکوئٹی مارکیٹ سے قرض لینے کی کوشش کی وجہ کی وضاحت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تخمینے اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کے مطابق موجودہ پروگرام، جو 2027 میں ختم ہونے والا ہے، ملک کا آخری وہ پروگرام ہوگا جس کے لیے بیرونی مالی وسائل حاصل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ ادائیگیوں اور اصل رقم کی آخری ادائیگی کی آسانی متعدد عوامل پر منحصر ہوگی، جن میں شامل ہیں: بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کا ماخذ (جو فی الحال زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں)، یہ کہ کیا برآمدات، موجودہ حالات کے برخلاف، درآمدات سے تیز رفتار سے بڑھیں گی، ریمیٹنس کی آمد جاری رہے گی (اگرچہ توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی وجہ سے یہ متاثر ہوں گے)، اور آیا حکومت اپنے موجودہ اخراجات (خاص طور پر غیر عملیاتی اخراجات) میں کمی کرے گی، جس سے قرض لینے کی ضرورت کم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے سوال یہ ہے: کیا وہ سرمایہ کاری اعتماد جو حکومت کو ایکوئٹی مارکیٹ میں جانے کی اجازت دیتا ہے، معیشت کی لچک کا پیمانہ ہے یا محض ”کشکول“ یعنی ”بھیک کے کٹورے“ کے دور کا تسلسل ہے، جو متواتر پاکستانی حکومتوں، سویلین اورعسکری، کی ترجیحی پالیسی رہی ہے۔ اکثر سیاسی جوابات تعصبی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن غیر جانبدارانہ نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ حکومت سب سے پہلے موجودہ اخراجات میں بڑی کمی کرے، جس میں شامل ہیں:(1) ملک میں ملازمت یافتہ کل افراد کے 7 فیصد پر تنخواہوں کا منجمد کرنا، جو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہیں؛(2) پنشن اصلاحات (ملازمین کی شراکت کے ساتھ)؛(3) سبسڈی کو صرف غریب اور کمزور طبقوں تک محدود کرنا (جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شناخت شدہ ہیں)؛(4) بجلی کے شعبے کی ناقص کارکردگی کو کم کرنے کے لیے صرف تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر توجہ دینے کے بجائے، 2005 میں نجکاری شدہ کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کو آج تک 125 ارب روپے سالانہ سبسڈی ملنے کی اجازت دینے والی غلط ٹیرف پالیسی کا خاتمہ کرنا، جسے سرمایہ کاروں کی دلچسپی نہ ہونے اور ملازمین کی احتجاج کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں،آئندہ سال کے بجٹ میں موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کمی سے ان سخت، غیر لچکدار اور معاشی ترقی مخالف اورمالیاتی پالیسیوں کی ضرورت کم ہوگی جو آئی ایم ایف کے اصرار کی وجہ سے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم کے مشیر برائے مالیات خرم شہزاد نے گزشتہ پیر کو ٹویٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اضافی 250 ملین ڈالر جمع کیے ہیں، گرین شو آپشن کے ذریعے (جس کے تحت بانڈ جاری کرنے والا سرمایہ کاروں کی زیادہ طلب کو پورا کرنے اور ثانوی منڈی میں بانڈ کی قیمت کو مستحکم کرنے کے لیے بانڈ کے سائز میں اضافہ کرتا ہے، جس سے بانڈ کی اصل قیمت اور مارکیٹ قیمت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے)، جس کے نتیجے میں یوروبانڈ کے اجراء کا مجموعی حجم 750 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ یوروبانڈ اپریل 2029 میں میچور ہوگا، اور پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ ( جی ایم ٹی این) پروگرام کے تحت واحد بک میکر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ تھا۔ اس اجراء کا مقصد جزوی طور پر متحدہ عرب امارات کو کی جانے والی ادائیگیوں (اس ماہ کے آخر تک 4.5 بلین ڈالر) کو اسی شرحِ سود، 6.975 فیصد، پر تبدیل کرنا تھا۔ اس شرح پر تین سالانہ ادائیگیاں ہر سال 52.31 ملین ڈالر ہوں گی، جس کا کل حجم اپریل 2029 تک 156.9 ملین ڈالر بنتا ہے اور اس کے بعد حکومت کو اصل رقم 750 ملین ڈالر واپس کرنی ہوگی۔</p>
<p>پاکستان نے کبھی اپنے بیرونی قرضوں میں ڈیفالٹ نہیں کیا، اور مشیر نے فوری طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان نے 8 اپریل کو میچور ہونے والے 1.3 ارب ڈالر یوروبانڈ کی ادائیگی کی اور دیگر یوروبانڈ اجراء پر 126.125 ملین ڈالر کے کوپن واجبات بھی ادا کیے، ساتھ ہی کہا کہ ” قرض کی ادائیگی“ اب بھی بغیر کسی رکاوٹ یا افراتفری کے جاری ہے، جو استحکام، نظم و ضبط اور مضبوط صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔“ تاہم، انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ قرض کی یہ ادائیگی 8,206,667 ملین روپے پر مشتمل ہے، جو 2025-26 کے کل بجٹ کا 47 فیصد بنتا ہے، اور یہ امکان ہے کہ یہ رقم مزید بڑھے کیونکہ دسمبر 2025 تک متوقع پالیسی ریٹ میں کمی عمل میں نہیں آئی تھی۔</p>
<p>اس کے باوجود، مشیر کے دعوے میں وزن ہے کیونکہ اس سے پہلے، ایکوئٹی مارکیٹ سے قرضہ حاصل کرنا موخر کرنا پڑا تھا، اس وجہ سے کہ متوقع سرمایہ کاروں کے لیے قابل قبول شرح سود بہت زیادہ تھی: دسمبر 2023 میں پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند سطح پر تھا، جس پر اس وقت کی نگراں وزیرِ خزانہ شمشاد اختر نے کہا تھا کہ ملک اس پیش کردہ شرح پر قرضہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتا۔</p>
<p>یہ اس حقیقت کے باوجود تھا کہ ملک نو ماہ کے سخت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تھا (جولائی 2023 سے مارچ 2024 میں شیڈول انتخابات کے بعد تک)۔ صورتحال اب کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر آ گیا ہے اور مہنگائی، جو 2023 میں 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، گزشتہ ماہ سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد تک گر گئی ہے۔<br>تاہم، حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) تیل کی رسد میں خلل کے سبب بڑھ رہا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے جاری بحران کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>مشیر نے مزید کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ”تین مختلف مالیاتی ڈھانچوں کے تحت انڈر رائٹرز اور مشیروں کا انتخاب کیا جائے“، جو درج ذیل ہیں:(1) کنسورشیم 1 میں زیادہ سے زیادہ پانچ روایتی بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے جو یوروبانڈز کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر مقرر ہوں گے۔ یہ کنسورشیم مشترکہ طور پر ڈھانچہ سازی، قیمت طے کرنا، انڈر رائٹنگ، سنڈیکیٹ مینجمنٹ، سرمایہ کاروں سے رابطہ، روڈ شوز، بک بلڈنگ اور الاٹمنٹ کی ذمہ داری اٹھائے گا، تاکہ وسیع بین الاقوامی تقسیم اور اعلیٰ معیار کی آرڈر بک کو یقینی بنایا جا سکے۔(2) کنسورشیم 2 میں زیادہ سے زیادہ پانچ بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جن میں کم از کم ایک بین الاقوامی اسلامی مالیاتی ادارہ بھی ہوگا، جو بین الاقوامی سکوک کے اجراء کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز، انڈر رائٹرز اور بک رنرز کے طور پر کام کرے گا۔(3) کنسورشیم 3 میں زیادہ سے زیادہ تین بین الاقوامی مالیاتی ادارے شامل ہوں گے، جو جی ایم ٹی این پروگرام کے تحت پاکستانی روپے میں نامزد، مگر امریکی ڈالر میں طے شدہ بین الاقوامی بانڈ کے لیے مشترکہ لیڈ مینیجرز کے طور پر مقرر کیے جائیں گے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے قرض مینجمنٹ دفتر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات نے مشیر کے بیان کو مضبوط کیا، خاص طور پر اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ ”وزارتِ خزانہ یہ فیصلہ کرے گی کہ اگلے تین سال میں بیرونی مالی ضروریات کی بنیاد پر مارکیٹ کو کب فعال کیا جائے؛“ دستاویزات میں مزید تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں، خاص طور پر یہ کہ ”آلات کے اجراء کا وقت موجودہ مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا، جیسا کہ منتخب شدہ ٹرانزیکشن مشیروں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، اور پاکستان کی مالی ضروریات کے تابع ہوگا۔ ہر اجراء کا حجم اس وقت کے مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگا۔ منتخب کنسورشیمز کو ان پروگراموں سے متعلق تمام سرگرمیوں کی تشکیل، مشاورت، انتظام، ہم آہنگی اور نفاذ کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔“</p>
<p>دسمبر 2025 میں جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام پر آئی ایم ایف کے دوسرے جائزے کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ سال کے لیے بیرونی مالی ضروریات 19.398 ارب ڈالر ہیں، جو اگلے مالی سال میں معمولی کمی کے ساتھ 19.123 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے اور 2027-28 میں بڑھ کر 29.914 ارب ڈالر ہو جائیں گی۔ وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر جولائی تا فروری 2026 کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کل قرض کے بہاؤ (کثیر الجہتی/دو طرفہ امداد، آئی ایم ایف، تجارتی بینک) 5,862.05 ملین ڈالر رہا، اور اگر اس میں چین اور سعودی عرب سے 9 ارب ڈالر کے رول اوورز شامل کیے جائیں تو بھی کل مطلوبہ رقم پورے نہیں ہوتے، جو ممکنہ طور پر ایکوئٹی مارکیٹ سے قرض لینے کی کوشش کی وجہ کی وضاحت کرتا ہے۔</p>
<p>یہ تخمینے اس دعوے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں کہ وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کے مطابق موجودہ پروگرام، جو 2027 میں ختم ہونے والا ہے، ملک کا آخری وہ پروگرام ہوگا جس کے لیے بیرونی مالی وسائل حاصل کیے جائیں گے۔</p>
<p>سالانہ ادائیگیوں اور اصل رقم کی آخری ادائیگی کی آسانی متعدد عوامل پر منحصر ہوگی، جن میں شامل ہیں: بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر کا ماخذ (جو فی الحال زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں)، یہ کہ کیا برآمدات، موجودہ حالات کے برخلاف، درآمدات سے تیز رفتار سے بڑھیں گی، ریمیٹنس کی آمد جاری رہے گی (اگرچہ توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کی وجہ سے یہ متاثر ہوں گے)، اور آیا حکومت اپنے موجودہ اخراجات (خاص طور پر غیر عملیاتی اخراجات) میں کمی کرے گی، جس سے قرض لینے کی ضرورت کم ہوگی۔</p>
<p>اس لیے سوال یہ ہے: کیا وہ سرمایہ کاری اعتماد جو حکومت کو ایکوئٹی مارکیٹ میں جانے کی اجازت دیتا ہے، معیشت کی لچک کا پیمانہ ہے یا محض ”کشکول“ یعنی ”بھیک کے کٹورے“ کے دور کا تسلسل ہے، جو متواتر پاکستانی حکومتوں، سویلین اورعسکری، کی ترجیحی پالیسی رہی ہے۔ اکثر سیاسی جوابات تعصبی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن غیر جانبدارانہ نقطہ نظر یہ کہتا ہے کہ حکومت سب سے پہلے موجودہ اخراجات میں بڑی کمی کرے، جس میں شامل ہیں:(1) ملک میں ملازمت یافتہ کل افراد کے 7 فیصد پر تنخواہوں کا منجمد کرنا، جو ٹیکس دہندگان کے خرچ پر ہیں؛(2) پنشن اصلاحات (ملازمین کی شراکت کے ساتھ)؛(3) سبسڈی کو صرف غریب اور کمزور طبقوں تک محدود کرنا (جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شناخت شدہ ہیں)؛(4) بجلی کے شعبے کی ناقص کارکردگی کو کم کرنے کے لیے صرف تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری پر توجہ دینے کے بجائے، 2005 میں نجکاری شدہ کمپنی ’کے الیکٹرک‘ کو آج تک 125 ارب روپے سالانہ سبسڈی ملنے کی اجازت دینے والی غلط ٹیرف پالیسی کا خاتمہ کرنا، جسے سرمایہ کاروں کی دلچسپی نہ ہونے اور ملازمین کی احتجاج کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا۔</p>
<p>آخر میں،آئندہ سال کے بجٹ میں موجودہ اخراجات میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کمی سے ان سخت، غیر لچکدار اور معاشی ترقی مخالف اورمالیاتی پالیسیوں کی ضرورت کم ہوگی جو آئی ایم ایف کے اصرار کی وجہ سے موجود ہیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504087</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 15:49:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/281547575738652.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/281547575738652.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عبوری معیشت میں پاکستان کا نیا مقام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30504022/pakistan-economy-new-position</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کے مرکز (ٹرانزٹ ہب) کے طور پر پاکستان کا ابتدائی فائدہ جغرافیہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے میں کم سرمایہ کاری اور آپریشنل مسابقت کے نقصان کی وجہ سے ختم ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں اور لاگت کے دباؤ ہوا بازی اور بحری نیٹ ورکس کی شکل بدل رہے ہیں، ایک محدود مگر عملی موقع دوبارہ کھل گیا ہے، یہ موقع جو بلند پروازی موازنوں یا خلیجی میگا ہبز کے ساتھ مقابلے کرنے کی بجائے حکمت عملی کے مطابق دوبارہ مقام حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کبھی قدرتی فائدے کا حامل تھا، مغرب اور مشرق کے درمیان ایک کلیدی نقطہ کے طور پر، جہاں ہوا بازی کے لیے ایندھن بھرنے، بحری رابطے اور تجارتی راستے موجود تھے۔ خاص طور پر کراچی، یورپ اور شمالی امریکہ کو جنوب اور مشرقی ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ مقام حادثاتی طور پر نہیں کھویا، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے کی رکاؤٹ اور مسابقتی خلیجی ہبز کی وجہ سے جس نے جغرافیہ کو درست سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا، کمزور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج سوال یہ نہیں کہ کیا پاکستان خلیجی ہبز کی جگہ لے سکتا ہے، یہ نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ضروری، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان عبوری، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈیڈ ٹریفک میں معنی خیز حصہ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ جواب مثبت ہے، اور یہ ایک مربوط حکمت عملی میں چھپا ہے جو ہوا بازی، بحری لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کو قومی سطح کے ایک ہم آہنگ منصوبے میں ضم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی خواہش کو ”ہب“ سے بدل کر ”اہمیت کے نقطے“ کے طور پر دوبارہ متعین کرنا ہوگا۔ موجودہ میگا ہبز سے براہِ راست مقابلہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ حکمت عملی کے لحاظ سے بھی درست نہیں۔ اس کے بجائے، کراچی اور گوادر کو مہارت یافتہ عبوری اور دوبارہ تقسیم کے مراکز کے طور پر پیش کرنا چاہیے، جن کا مرکزیت جنوبی ایشیا، مغربی چین، وسطی ایشیا اور مشرقی افریقہ کے کچھ حصے ہوں۔ یہ محدود اور گہری توجہ وسائل پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر پاکستان کو اپنے جغرافیے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، لاگت میں مسابقت کو ساختی طور پر مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ تاریخی طور پر، خلیجی ہبز کم ٹرن اراؤنڈ لاگت، مؤثر زمینی خدمات اور قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری ماحول فراہم کرکے کامیاب ہوئے۔ پاکستان ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے چارجز کو مناسب بنانے، ایئر لائنز اور شپنگ لائنز کے لیے حجم پر مبنی مراعات متعارف کرانے، اور ضمنی خدمات،ایندھن، دیکھ بھال، کیٹرنگ، کی مسابقتی قیمت یقینی بنانے کے ذریعے دوبارہ جگہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ریگولیٹری وضاحت اور عارضی پالیسیوں سے تحفظ ضروری ہے، جو تاریخی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری ضروری ہے مگر عملی مہارت کے بغیر ناکافی۔ پاکستان کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں صرف توسیع نہیں چاہتے؛ انہیں ڈیجیٹلائزیشن، خودکاری اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ اسمارٹ کارگو ہینڈلنگ سسٹمز، حقیقی وقت میں ٹریکنگ اور بلا رکاوٹ کسٹم کلیئرنس ڈویل ٹائم کم کر سکتے ہیں، جو ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں دونوں کے لیے ایک اہم پیمانہ (میٹرک) ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کراچی کارگو کلیئرنس کے لحاظ سے خطے کے سب سے تیز بندرگاہوں میں شامل ہو، چاہے حجم میں سب سے بڑا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، ہوابازی کی پالیسی کو تحفظ پسندی سے شراکت داری کی جانب موڑنا ہوگا۔ قومی کیریئر اکیلا ہب حکمت عملی کا مرکز نہیں بن سکتا۔ پاکستان کو بین الاقوامی ایئر لائنز کو کھلے فضائی معاہدے، پانچویں آزادی کے حقوق، اور دیکھ بھال، مرمت، اور اوورہال (ایم آر او) سروسز میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے متوجہ کرنا چاہیے۔ ایک مضبوط ایم آر او ماحولیاتی نظام ایئر لائنز کو پاکستان میں تکنیکی آپریشنز قائم کرنے کی طرف راغب کر سکتا ہے، جس سے صرف عبوری نقل و حرکت سے آگے مستقل تعلق قائم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچواں، گوادر ایک اسٹریٹجک وائلڈ کارڈ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ترقی سست رہی ہے، لیکن بڑے شپنگ راستوں کے قریب اس کا مقام طویل مدتی ممکنہ فوائد فراہم کرتا ہے۔ کراچی کی نقل کی کوشش کرنے کے بجائے، گوادر کو ٹرانس شپمنٹ اور توانائی لاجسٹکس ہب کے طور پر ترقی دی جانی چاہیے، جو مغربی چین اور وسطی ایشیا کے اندرونی رابطے کے ساتھ مربوط ہو۔ اس کے لیے صرف بندرگاہی بنیادی ڈھانچہ نہیں بلکہ قابلِ اعتماد سڑک اور ریلوے ٹریک بھی ضروری ہیں، بغیر ان کے گوادر زیرِ استعمال رہنے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھٹا، ریگولیٹری اصلاح کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ سرمایہ کار اور آپریٹر مراعات کی بجائے پیش گوئی کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان کو کسٹم کے طریقہ کار کو ہموار کرنا، بیوروکریٹک اوورلیپ کم کرنا، اور لاجسٹکس اور ہوابازی کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ون ونڈو آپریشن قائم کرنا ہوگا۔ عبوری معیشتوں میں وقت کرنسی ہے؛ کلیئرنس میں ہر بچایا گیا گھنٹہ مسابقتی فائدے میں بدلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتواں، سیکیورٹی کے تاثر کو فعال طور پر منظم کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان نے داخلی سیکیورٹی میں اہم پیش رفت کی ہے، عالمی تاثر اکثر حقیقت سے پیچھے رہتا ہے۔ ایک ہدف شدہ بین الاقوامی آگہی مہم، قابلِ تصدیق کارکردگی معیارات کے ساتھ،پاکستان کو محفوظ اور قابلِ اعتماد عبوری ماحول کے طور پر دوبارہ پیش کر سکتی ہے۔ یہ خاص طور پر اعلیٰ قیمت والے کارگو اور پریمیم مسافر ٹریفک کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹھواں، انسانی وسائل کی ترقی اکثر نظر انداز کی جاتی ہے مگر لازمی ہے۔ مؤثر ہبز کو ماہر لاجسٹکس مینیجرز، ایئر ٹریفک کنٹرولرز، بندرگاہ آپریٹرز، اور کسٹم کے پیشہ ور افراد سے طاقت ملتی ہے۔ پاکستان کو خصوصی تربیتی اداروں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنی چاہیے تاکہ ایسی ورک فورس تیار کی جا سکے جو بین الاقوامی معیار پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواں، علاقائی جیوپولیٹکس کو خوفزدہ ہونے کی بجائے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز متنوع ہو رہی ہیں اور جیوپولیٹیکل کشیدگیاں تجارتی راستوں کی شکل بدل رہی ہیں، پاکستان کا مقام زیادہ—not less—مفید ہو جاتا ہے۔ ابھرتے ہوئے راہوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اور عبوری سہولت کار کے طور پر غیر جانبداری پیش کر کے، پاکستان خود کو ایک پُل کے طور پر پیش کر سکتا ہے نہ کہ کسی محاذ جنگ کے طور پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، کامیابی کا دارومدار حکمرانی کی نظم و ضبط پر ہوگا۔ تاریخی طور پر بڑے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک مخصوص، بااختیار اتھارٹی—جو ہوابازی اور بحری یکجہتی کے لیے ذمہ دار ہو—سیاسی دورانیوں کے دوران تسلسل یقینی بنا سکتی ہے اور وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی کھوئی ہوئی پوزیشن ناگزیر نہیں تھی، اور اس کی جزوی بحالی ناممکن نہیں۔ واحد عالمی ہبز کا دور اب تقسیم شدہ نیٹ ورکس کے دور میں بدل رہا ہے۔ ایسے منظرنامے میں، پاکستان کو اپنے حریفوں سے زیادہ تعمیر یا زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں؛ اسے صرف ایک واضح طور پر متعین شعبے میں بہتر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پالیسی میں ہم آہنگی، عملی مہارت اور حکمت عملی پر مرکوز توجہ یکجا ہو جائیں، تو کراچی کی رن ویز اور بندرگاہیں دوبارہ علاقائی اور بین البراعظمی نقل و حمل کی شریانیں بن سکتی ہیں، نہ کہ ماضی کے دور کی یادگار کے طور پر، بلکہ ایک نئے اقتصادی مستقبل کے عملی ذرائع کے طور پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کے مرکز (ٹرانزٹ ہب) کے طور پر پاکستان کا ابتدائی فائدہ جغرافیہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے میں کم سرمایہ کاری اور آپریشنل مسابقت کے نقصان کی وجہ سے ختم ہوا۔</strong></p>
<p>جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہیں اور لاگت کے دباؤ ہوا بازی اور بحری نیٹ ورکس کی شکل بدل رہے ہیں، ایک محدود مگر عملی موقع دوبارہ کھل گیا ہے، یہ موقع جو بلند پروازی موازنوں یا خلیجی میگا ہبز کے ساتھ مقابلے کرنے کی بجائے حکمت عملی کے مطابق دوبارہ مقام حاصل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کبھی قدرتی فائدے کا حامل تھا، مغرب اور مشرق کے درمیان ایک کلیدی نقطہ کے طور پر، جہاں ہوا بازی کے لیے ایندھن بھرنے، بحری رابطے اور تجارتی راستے موجود تھے۔ خاص طور پر کراچی، یورپ اور شمالی امریکہ کو جنوب اور مشرقی ایشیا سے جوڑنے والا ایک اہم عبوری مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ یہ مقام حادثاتی طور پر نہیں کھویا، بلکہ غیر مستقل پالیسی، بنیادی ڈھانچے کی رکاؤٹ اور مسابقتی خلیجی ہبز کی وجہ سے جس نے جغرافیہ کو درست سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا، کمزور ہوا۔</p>
<p>آج سوال یہ نہیں کہ کیا پاکستان خلیجی ہبز کی جگہ لے سکتا ہے، یہ نہ حقیقت پسندانہ ہے اور نہ ضروری، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان عبوری، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈیڈ ٹریفک میں معنی خیز حصہ دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ جواب مثبت ہے، اور یہ ایک مربوط حکمت عملی میں چھپا ہے جو ہوا بازی، بحری لاجسٹکس اور تجارتی سہولت کاری کو قومی سطح کے ایک ہم آہنگ منصوبے میں ضم کرتی ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی خواہش کو ”ہب“ سے بدل کر ”اہمیت کے نقطے“ کے طور پر دوبارہ متعین کرنا ہوگا۔ موجودہ میگا ہبز سے براہِ راست مقابلہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ حکمت عملی کے لحاظ سے بھی درست نہیں۔ اس کے بجائے، کراچی اور گوادر کو مہارت یافتہ عبوری اور دوبارہ تقسیم کے مراکز کے طور پر پیش کرنا چاہیے، جن کا مرکزیت جنوبی ایشیا، مغربی چین، وسطی ایشیا اور مشرقی افریقہ کے کچھ حصے ہوں۔ یہ محدود اور گہری توجہ وسائل پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر پاکستان کو اپنے جغرافیے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>دوسرا، لاگت میں مسابقت کو ساختی طور پر مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ تاریخی طور پر، خلیجی ہبز کم ٹرن اراؤنڈ لاگت، مؤثر زمینی خدمات اور قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری ماحول فراہم کرکے کامیاب ہوئے۔ پاکستان ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے چارجز کو مناسب بنانے، ایئر لائنز اور شپنگ لائنز کے لیے حجم پر مبنی مراعات متعارف کرانے، اور ضمنی خدمات،ایندھن، دیکھ بھال، کیٹرنگ، کی مسابقتی قیمت یقینی بنانے کے ذریعے دوبارہ جگہ حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ریگولیٹری وضاحت اور عارضی پالیسیوں سے تحفظ ضروری ہے، جو تاریخی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر چکی ہیں۔</p>
<p>تیسرا، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری ضروری ہے مگر عملی مہارت کے بغیر ناکافی۔ پاکستان کے ہوائی اڈے اور بندرگاہیں صرف توسیع نہیں چاہتے؛ انہیں ڈیجیٹلائزیشن، خودکاری اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ اسمارٹ کارگو ہینڈلنگ سسٹمز، حقیقی وقت میں ٹریکنگ اور بلا رکاوٹ کسٹم کلیئرنس ڈویل ٹائم کم کر سکتے ہیں، جو ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں دونوں کے لیے ایک اہم پیمانہ (میٹرک) ہے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کراچی کارگو کلیئرنس کے لحاظ سے خطے کے سب سے تیز بندرگاہوں میں شامل ہو، چاہے حجم میں سب سے بڑا نہ ہو۔</p>
<p>چوتھا، ہوابازی کی پالیسی کو تحفظ پسندی سے شراکت داری کی جانب موڑنا ہوگا۔ قومی کیریئر اکیلا ہب حکمت عملی کا مرکز نہیں بن سکتا۔ پاکستان کو بین الاقوامی ایئر لائنز کو کھلے فضائی معاہدے، پانچویں آزادی کے حقوق، اور دیکھ بھال، مرمت، اور اوورہال (ایم آر او) سروسز میں مشترکہ منصوبوں کے ذریعے متوجہ کرنا چاہیے۔ ایک مضبوط ایم آر او ماحولیاتی نظام ایئر لائنز کو پاکستان میں تکنیکی آپریشنز قائم کرنے کی طرف راغب کر سکتا ہے، جس سے صرف عبوری نقل و حرکت سے آگے مستقل تعلق قائم ہوتا ہے۔</p>
<p>پانچواں، گوادر ایک اسٹریٹجک وائلڈ کارڈ پیش کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی ترقی سست رہی ہے، لیکن بڑے شپنگ راستوں کے قریب اس کا مقام طویل مدتی ممکنہ فوائد فراہم کرتا ہے۔ کراچی کی نقل کی کوشش کرنے کے بجائے، گوادر کو ٹرانس شپمنٹ اور توانائی لاجسٹکس ہب کے طور پر ترقی دی جانی چاہیے، جو مغربی چین اور وسطی ایشیا کے اندرونی رابطے کے ساتھ مربوط ہو۔ اس کے لیے صرف بندرگاہی بنیادی ڈھانچہ نہیں بلکہ قابلِ اعتماد سڑک اور ریلوے ٹریک بھی ضروری ہیں، بغیر ان کے گوادر زیرِ استعمال رہنے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>چھٹا، ریگولیٹری اصلاح کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ سرمایہ کار اور آپریٹر مراعات کی بجائے پیش گوئی کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستان کو کسٹم کے طریقہ کار کو ہموار کرنا، بیوروکریٹک اوورلیپ کم کرنا، اور لاجسٹکس اور ہوابازی کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ون ونڈو آپریشن قائم کرنا ہوگا۔ عبوری معیشتوں میں وقت کرنسی ہے؛ کلیئرنس میں ہر بچایا گیا گھنٹہ مسابقتی فائدے میں بدلتا ہے۔</p>
<p>ساتواں، سیکیورٹی کے تاثر کو فعال طور پر منظم کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ پاکستان نے داخلی سیکیورٹی میں اہم پیش رفت کی ہے، عالمی تاثر اکثر حقیقت سے پیچھے رہتا ہے۔ ایک ہدف شدہ بین الاقوامی آگہی مہم، قابلِ تصدیق کارکردگی معیارات کے ساتھ،پاکستان کو محفوظ اور قابلِ اعتماد عبوری ماحول کے طور پر دوبارہ پیش کر سکتی ہے۔ یہ خاص طور پر اعلیٰ قیمت والے کارگو اور پریمیم مسافر ٹریفک کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>آٹھواں، انسانی وسائل کی ترقی اکثر نظر انداز کی جاتی ہے مگر لازمی ہے۔ مؤثر ہبز کو ماہر لاجسٹکس مینیجرز، ایئر ٹریفک کنٹرولرز، بندرگاہ آپریٹرز، اور کسٹم کے پیشہ ور افراد سے طاقت ملتی ہے۔ پاکستان کو خصوصی تربیتی اداروں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنی چاہیے تاکہ ایسی ورک فورس تیار کی جا سکے جو بین الاقوامی معیار پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔</p>
<p>نواں، علاقائی جیوپولیٹکس کو خوفزدہ ہونے کی بجائے فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے عالمی سپلائی چینز متنوع ہو رہی ہیں اور جیوپولیٹیکل کشیدگیاں تجارتی راستوں کی شکل بدل رہی ہیں، پاکستان کا مقام زیادہ—not less—مفید ہو جاتا ہے۔ ابھرتے ہوئے راہوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اور عبوری سہولت کار کے طور پر غیر جانبداری پیش کر کے، پاکستان خود کو ایک پُل کے طور پر پیش کر سکتا ہے نہ کہ کسی محاذ جنگ کے طور پر۔</p>
<p>آخرکار، کامیابی کا دارومدار حکمرانی کی نظم و ضبط پر ہوگا۔ تاریخی طور پر بڑے منصوبے عمل درآمد کے مرحلے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک مخصوص، بااختیار اتھارٹی—جو ہوابازی اور بحری یکجہتی کے لیے ذمہ دار ہو—سیاسی دورانیوں کے دوران تسلسل یقینی بنا سکتی ہے اور وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگ کر سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی کھوئی ہوئی پوزیشن ناگزیر نہیں تھی، اور اس کی جزوی بحالی ناممکن نہیں۔ واحد عالمی ہبز کا دور اب تقسیم شدہ نیٹ ورکس کے دور میں بدل رہا ہے۔ ایسے منظرنامے میں، پاکستان کو اپنے حریفوں سے زیادہ تعمیر یا زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں؛ اسے صرف ایک واضح طور پر متعین شعبے میں بہتر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اگر پالیسی میں ہم آہنگی، عملی مہارت اور حکمت عملی پر مرکوز توجہ یکجا ہو جائیں، تو کراچی کی رن ویز اور بندرگاہیں دوبارہ علاقائی اور بین البراعظمی نقل و حمل کی شریانیں بن سکتی ہیں، نہ کہ ماضی کے دور کی یادگار کے طور پر، بلکہ ایک نئے اقتصادی مستقبل کے عملی ذرائع کے طور پر۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 25 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30504022</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 11:08:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/27110735cbc9965.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/27110735cbc9965.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انتہائی عجلت میں امن کی قیمت کا تعین؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503928/urgent-peace-price</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایسا لگتا ہے کہ بازاروں نے جنگ سے بھی زیادہ تیزی سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹاک کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، تیل تین ہندسوں کے کھیل کے بعد 100 ڈالر کی حد سے نیچے آ گیا ہے، اور سرمایہ کار محتاط انداز میں خطرہ مول لینا دوبارہ شروع کر چکے ہیں، جس سے ڈالر میں نرمی دیکھنے کو ملی ہے۔ عام طور پر یہ تمام اشارے ایک واضح پیغام دیتے ہیں: سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال پیچھے رہ گئی، بدترین خدشات مارکیٹ میں شامل ہو چکے، اور بتدریج معمول کی زندگی کی طرف واپسی ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا یہ وہی منظر نامہ ہے جو اصل اعداد و شمار بتاتے ہیں، یا وہی جو سرمایہ کار دیکھنا چاہتے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اشارے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ برینٹ کروڈ تیل، حالیہ کمی کے باوجود، اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر بلند ہے۔ ابتدائی حملوں کے بعد جو اضافہ ہوا تھا، اور ہرمز کے راستے میں خلل کے خدشات نے اسے مزید بڑھا دیا تھا، وہ مکمل طور پر واپس نہیں آیا۔ قیمتوں کی حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ دو متضاد کہانیوں کو سمجھننے کی کوشش کر رہی ہے: ایک پھیلاؤ میں کمی کی، اور دوسری حل نہ ہونے والے ساختی خطرے کی۔ اصل کنٹرول کس کے پاس ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود جنگ بندی کی توسیع نے بھی اس سوال کو واضح نہیں کیا۔ یہ یکطرفہ اعلان کیا گیا، نہ تہران کی فوری تصدیق ہوئی اور نہ ہی اسرائیل کی واضح حمایت سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ نے اپنا بحری محاصرہ برقرار رکھا، جسے ایران اب بھی جنگ کا عمل سمجھتا ہے۔ اگر واقعی تنازعہ ختم ہو رہا ہے، تو بنیادی اختلافات اب بھی کیوں برقرار ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی مارکیٹ، جیسا کہ ہمیشہ، اس تضاد کی سب سے واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ قیمتیں کچھ نرم ہوئی ہیں، لیکن پہلے کے بڑے جھٹکے کے مقابلے میں صرف معمولی حد تک۔ برینٹ اب بھی اپنی جنگ سے پہلے کی حد سے تقریباً 10–15 فیصد اوپر ہے، جس میں اب بھی خطرے کا خاص عنصر شامل ہے۔ ہرمز کے ذریعے حقیقی تیل کی ترسیل کسی بھی قابلِ بھروسہ انداز میں معمول پر نہیں آئی، اور تجارتی جہازوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر دنیا کی سب سے اہم توانائی کی شریان اب بھی محدود ہے، تو پھر یہ مفروضہ کس بنیاد پر بنایا جا رہا ہے کہ صدمہ ختم ہو چکا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، اسٹاک مارکیٹس ایسا لگتا ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے میں مطمئن ہیں۔ ریکوری تیز اور وسیع البنیاد رہی ہے، اور امریکہ کے فیوچرز اور عالمی سطح پر اہم انڈیکسز نے اپنی زیادہ تر کمی واپس کر لی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے، اور معمولی کمی کو پھر سے خریداری کا موقع سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ رویہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ سرمایہ کار کسی ممکنہ حل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد کیا بنیادی حقائق پر مبنی ہے، یا محض ہفتوں کی ہیڈ لائنز پر مبنی تجارت کے بعد تھکن کا نتیجہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ مارکیٹس اس خوش دلی کو بڑھانے کے معاملے میں اتنی پرجوش نہیں دکھائی دیتیں۔ پیداوار (ییلڈز) جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی بلند ہے، جو توانائی کی قیمتوں سے جڑی مستقل مہنگائی کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ شرح سود میں کمی کی توقعات کم کی گئی ہیں، نہ کہ مضبوط کی گئی ہیں۔ اگر تیل بلند سطح پر قائم رہتا ہے، تو مرکزی بینک اتنی جلدی پالیسی میں تبدیلی کرنے کے امکانات نہیں رکھیں گے جتنا مارکیٹس نے اس سال کے آغاز میں امید کی تھی۔ اگر ایسا ہے، تو اسٹاک مارکیٹس کیوں اس طرح حرکت کر رہی ہیں کہ جیسے مالی حالات آسان ہو جائیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹس صورتحال میں ایک اور مبہم پہلو ڈالتی ہیں۔ ڈالر، جو تنازع کے عروج پر محفوظ پناہ (محفوظ سرمایہ کاری کا وسیلہ) کی طلب سے مستفید ہوا، حالیہ سیشنز میں کچھ کمزور ہوا ہے، لیکن ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔ بڑی کرنسی جوڑیوں میں حرکات نسبتاً محدود رہی ہیں۔ یورو اور پاؤنڈ زیادہ تر ایک محدود دائرے میں ہیں، جبکہ ین اپنی روایتی محفوظ پناہ کی حیثیت کے باوجود کمزور رہتا ہے۔ حتیٰ کہ آسٹریلین ڈالر، جو عام طور پر عالمی خطرے کی بھوک میں تبدیلیوں کے حساس ہوتا ہے، صرف معمولی اضافہ کر سکا ہے۔ کیا یہ واقعی خطرے کی طرف فیصلہ کن منتقل ہونے کی علامت ہے، یا مارکیٹ دونوں سمتوں میں یقین کے بغیر ہچکچاہٹ میں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعتماد کی کمی شاید سب سے زیادہ اہم اشارہ ہے۔ تاجر بظاہر کسی معمولی مثبت نتیجے کی قیمت لگانے کے لیے تیار ہیں، لیکن اتنی پرعزم نہیں کہ مکمل یقین کے ساتھ اس پر سرمایہ کاری کریں۔ یہ ہچکچاہٹ بنیادی غیر یقینی صورتحال کی عکاس ہے: جنگ بندی کی مدت اور اس کی ساکھ۔ اگر یہ برقرار رہتی ہے، تو حالیہ اضطراب واقعی وقتی صدمے کی طرح ختم ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو مارکیٹس کو دوبارہ وہی خطرات دوبارہ قیمت میں شامل کرنے پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی حقیقت تنازع کے پس منظر میں موجود مفروضات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کی حکمت عملی واضح طور پر ایک فوری اور فیصلہ کن نتیجے پر مبنی تھی، جو میدان میں طاقت کا توازن بدل دے۔ لیکن ایران نے ابتدائی مرحلے کو اندرونی تقسیم کے بغیر برداشت کیا، اگرچہ اس کی اعلیٰ کمانڈ کو منظم طور پر ختم کیا گیا، اور مارکیٹس کے لیے سب سے اہم جگہوں پر دباؤ ڈالنا جاری رکھا، خاص طور پر توانائی کے بہاؤ کے ذریعے۔ کسی قسم کی واضح ہتھیار ڈالنے کی نشانی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت یہ بتاتی ہے کہ اثر و رسوخ کی تقسیم ابھی تک اصل منصوبے کے مطابق نہیں ہو رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا یہ حقیقت موجودہ مارکیٹ کہانی کے مطابق ہے؟ جنگ بندی کی توسیع ممکنہ کمی کی خواہش ظاہر کر سکتی ہے، لیکن یہ بنیادی کشیدگی کو خود بخود حل نہیں کرتی۔ آبنائے ہرمزاب بھی ایک غیر یقینی عنصر ہے۔ شپنگ کے خطرات برقرار ہیں۔ توانائی کی قیمتیں، اگرچہ اپنے عروج سے نیچے آئی ہیں، پھر بھی اتنی بلند ہیں کہ مہنگائی کے رجحانات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ حالات جاری رہیں، تو مارکیٹس اتنی تیزی سے جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر واپس آنے کا جواز کیسے پیش کر سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ مستقبل کی توقعات میں اصل میں کس چیز کو شامل کیا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں کا نقشہ (آئل کروَ) اب ہموار ہونا شروع ہو گیا ہے، جو اس مفروضے کی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ رسد میں خلل کم ہو جائے گا۔ لیکن ماضی میں ایسے مفروضے اکثر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اسٹریٹیجک ریزروز عارضی جھٹکوں کو تو کم کر سکتے ہیں، لیکن اگر خلل دیرپا ہو تو مستقل رسد کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اگر مارکیٹ اس خطرے کو کم سمجھ رہی ہے، تو بعد میں ایڈجسٹمنٹ زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر سطح پر یہ واقعہ ایک پرانے سوال کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے: مالیاتی مارکیٹس جھٹکے سے معمول کی حالت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتی ہیں۔ وہی نظام جس نے ابتدائی شدت پر شدید ردعمل دکھایا، اب اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے خلل پہلے ہی قابو میں ہے۔ کیا یہ لچک ہے، یا اطمینانِ ناقص؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید سب سے متعلقہ سوال آسان ہے: کیا مارکیٹس واقعات کے راستے کو درست پڑھ رہی ہیں، یا ایک وقفے کو پھر سے نتیجہ سمجھ بیٹھی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 23 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایسا لگتا ہے کہ بازاروں نے جنگ سے بھی زیادہ تیزی سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹاک کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں، تیل تین ہندسوں کے کھیل کے بعد 100 ڈالر کی حد سے نیچے آ گیا ہے، اور سرمایہ کار محتاط انداز میں خطرہ مول لینا دوبارہ شروع کر چکے ہیں، جس سے ڈالر میں نرمی دیکھنے کو ملی ہے۔ عام طور پر یہ تمام اشارے ایک واضح پیغام دیتے ہیں: سب سے زیادہ غیر یقینی صورتحال پیچھے رہ گئی، بدترین خدشات مارکیٹ میں شامل ہو چکے، اور بتدریج معمول کی زندگی کی طرف واپسی ہو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا یہ وہی منظر نامہ ہے جو اصل اعداد و شمار بتاتے ہیں، یا وہی جو سرمایہ کار دیکھنا چاہتے ہیں؟</strong></p>
<p>اصل اشارے ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ برینٹ کروڈ تیل، حالیہ کمی کے باوجود، اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر بلند ہے۔ ابتدائی حملوں کے بعد جو اضافہ ہوا تھا، اور ہرمز کے راستے میں خلل کے خدشات نے اسے مزید بڑھا دیا تھا، وہ مکمل طور پر واپس نہیں آیا۔ قیمتوں کی حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ دو متضاد کہانیوں کو سمجھننے کی کوشش کر رہی ہے: ایک پھیلاؤ میں کمی کی، اور دوسری حل نہ ہونے والے ساختی خطرے کی۔ اصل کنٹرول کس کے پاس ہے؟</p>
<p>خود جنگ بندی کی توسیع نے بھی اس سوال کو واضح نہیں کیا۔ یہ یکطرفہ اعلان کیا گیا، نہ تہران کی فوری تصدیق ہوئی اور نہ ہی اسرائیل کی واضح حمایت سامنے آئی۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ نے اپنا بحری محاصرہ برقرار رکھا، جسے ایران اب بھی جنگ کا عمل سمجھتا ہے۔ اگر واقعی تنازعہ ختم ہو رہا ہے، تو بنیادی اختلافات اب بھی کیوں برقرار ہیں؟</p>
<p>تیل کی مارکیٹ، جیسا کہ ہمیشہ، اس تضاد کی سب سے واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ قیمتیں کچھ نرم ہوئی ہیں، لیکن پہلے کے بڑے جھٹکے کے مقابلے میں صرف معمولی حد تک۔ برینٹ اب بھی اپنی جنگ سے پہلے کی حد سے تقریباً 10–15 فیصد اوپر ہے، جس میں اب بھی خطرے کا خاص عنصر شامل ہے۔ ہرمز کے ذریعے حقیقی تیل کی ترسیل کسی بھی قابلِ بھروسہ انداز میں معمول پر نہیں آئی، اور تجارتی جہازوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر دنیا کی سب سے اہم توانائی کی شریان اب بھی محدود ہے، تو پھر یہ مفروضہ کس بنیاد پر بنایا جا رہا ہے کہ صدمہ ختم ہو چکا ہے؟</p>
<p>اس کے باوجود، اسٹاک مارکیٹس ایسا لگتا ہے کہ اتنا بڑا قدم اٹھانے میں مطمئن ہیں۔ ریکوری تیز اور وسیع البنیاد رہی ہے، اور امریکہ کے فیوچرز اور عالمی سطح پر اہم انڈیکسز نے اپنی زیادہ تر کمی واپس کر لی ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم ہوا ہے، اور معمولی کمی کو پھر سے خریداری کا موقع سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ رویہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ سرمایہ کار کسی ممکنہ حل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ لیکن یہ اعتماد کیا بنیادی حقائق پر مبنی ہے، یا محض ہفتوں کی ہیڈ لائنز پر مبنی تجارت کے بعد تھکن کا نتیجہ ہے؟</p>
<p>بانڈ مارکیٹس اس خوش دلی کو بڑھانے کے معاملے میں اتنی پرجوش نہیں دکھائی دیتیں۔ پیداوار (ییلڈز) جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی بلند ہے، جو توانائی کی قیمتوں سے جڑی مستقل مہنگائی کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ شرح سود میں کمی کی توقعات کم کی گئی ہیں، نہ کہ مضبوط کی گئی ہیں۔ اگر تیل بلند سطح پر قائم رہتا ہے، تو مرکزی بینک اتنی جلدی پالیسی میں تبدیلی کرنے کے امکانات نہیں رکھیں گے جتنا مارکیٹس نے اس سال کے آغاز میں امید کی تھی۔ اگر ایسا ہے، تو اسٹاک مارکیٹس کیوں اس طرح حرکت کر رہی ہیں کہ جیسے مالی حالات آسان ہو جائیں گے؟</p>
<p>کرنسی مارکیٹس صورتحال میں ایک اور مبہم پہلو ڈالتی ہیں۔ ڈالر، جو تنازع کے عروج پر محفوظ پناہ (محفوظ سرمایہ کاری کا وسیلہ) کی طلب سے مستفید ہوا، حالیہ سیشنز میں کچھ کمزور ہوا ہے، لیکن ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہے۔ بڑی کرنسی جوڑیوں میں حرکات نسبتاً محدود رہی ہیں۔ یورو اور پاؤنڈ زیادہ تر ایک محدود دائرے میں ہیں، جبکہ ین اپنی روایتی محفوظ پناہ کی حیثیت کے باوجود کمزور رہتا ہے۔ حتیٰ کہ آسٹریلین ڈالر، جو عام طور پر عالمی خطرے کی بھوک میں تبدیلیوں کے حساس ہوتا ہے، صرف معمولی اضافہ کر سکا ہے۔ کیا یہ واقعی خطرے کی طرف فیصلہ کن منتقل ہونے کی علامت ہے، یا مارکیٹ دونوں سمتوں میں یقین کے بغیر ہچکچاہٹ میں ہے؟</p>
<p>اعتماد کی کمی شاید سب سے زیادہ اہم اشارہ ہے۔ تاجر بظاہر کسی معمولی مثبت نتیجے کی قیمت لگانے کے لیے تیار ہیں، لیکن اتنی پرعزم نہیں کہ مکمل یقین کے ساتھ اس پر سرمایہ کاری کریں۔ یہ ہچکچاہٹ بنیادی غیر یقینی صورتحال کی عکاس ہے: جنگ بندی کی مدت اور اس کی ساکھ۔ اگر یہ برقرار رہتی ہے، تو حالیہ اضطراب واقعی وقتی صدمے کی طرح ختم ہو سکتا ہے۔ اگر نہیں، تو مارکیٹس کو دوبارہ وہی خطرات دوبارہ قیمت میں شامل کرنے پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>یہی حقیقت تنازع کے پس منظر میں موجود مفروضات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کی حکمت عملی واضح طور پر ایک فوری اور فیصلہ کن نتیجے پر مبنی تھی، جو میدان میں طاقت کا توازن بدل دے۔ لیکن ایران نے ابتدائی مرحلے کو اندرونی تقسیم کے بغیر برداشت کیا، اگرچہ اس کی اعلیٰ کمانڈ کو منظم طور پر ختم کیا گیا، اور مارکیٹس کے لیے سب سے اہم جگہوں پر دباؤ ڈالنا جاری رکھا، خاص طور پر توانائی کے بہاؤ کے ذریعے۔ کسی قسم کی واضح ہتھیار ڈالنے کی نشانی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے، تو مارکیٹ کو غیر مستحکم رکھتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت یہ بتاتی ہے کہ اثر و رسوخ کی تقسیم ابھی تک اصل منصوبے کے مطابق نہیں ہو رہی۔</p>
<p>کیا یہ حقیقت موجودہ مارکیٹ کہانی کے مطابق ہے؟ جنگ بندی کی توسیع ممکنہ کمی کی خواہش ظاہر کر سکتی ہے، لیکن یہ بنیادی کشیدگی کو خود بخود حل نہیں کرتی۔ آبنائے ہرمزاب بھی ایک غیر یقینی عنصر ہے۔ شپنگ کے خطرات برقرار ہیں۔ توانائی کی قیمتیں، اگرچہ اپنے عروج سے نیچے آئی ہیں، پھر بھی اتنی بلند ہیں کہ مہنگائی کے رجحانات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر یہ حالات جاری رہیں، تو مارکیٹس اتنی تیزی سے جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر واپس آنے کا جواز کیسے پیش کر سکتی ہیں؟</p>
<p>ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ مستقبل کی توقعات میں اصل میں کس چیز کو شامل کیا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں کا نقشہ (آئل کروَ) اب ہموار ہونا شروع ہو گیا ہے، جو اس مفروضے کی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت کے ساتھ رسد میں خلل کم ہو جائے گا۔ لیکن ماضی میں ایسے مفروضے اکثر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اسٹریٹیجک ریزروز عارضی جھٹکوں کو تو کم کر سکتے ہیں، لیکن اگر خلل دیرپا ہو تو مستقل رسد کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔ اگر مارکیٹ اس خطرے کو کم سمجھ رہی ہے، تو بعد میں ایڈجسٹمنٹ زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔</p>
<p>وسیع تر سطح پر یہ واقعہ ایک پرانے سوال کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے: مالیاتی مارکیٹس جھٹکے سے معمول کی حالت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتی ہیں۔ وہی نظام جس نے ابتدائی شدت پر شدید ردعمل دکھایا، اب اس طرح حرکت کر رہا ہے جیسے خلل پہلے ہی قابو میں ہے۔ کیا یہ لچک ہے، یا اطمینانِ ناقص؟</p>
<p>شاید سب سے متعلقہ سوال آسان ہے: کیا مارکیٹس واقعات کے راستے کو درست پڑھ رہی ہیں، یا ایک وقفے کو پھر سے نتیجہ سمجھ بیٹھی ہیں؟</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 23 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503928</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 12:12:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07133241baaf478.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07133241baaf478.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس کیسز کا بڑھتا انبار، حل کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503926/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ٹیکس لٹیگیشن(قانونی چارہ جوئی) بحران کو عموماً صلاحیتوں کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے—یعنی بہت زیادہ کیسز، کم ججز اور ناکافی انفراسٹرکچر۔ یہ وضاحت اگرچہ آسان اور قابلِ قبول لگتی ہے، لیکن بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ مسئلہ نظام کے ڈیزائن اور اس کے اندر موجود ترغیبات میں ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے، جو ادارہ جاتی بہتری اور ہائی کورٹ ججز کے برابر تنخواہوں کے باوجود مسلسل بڑھتے ہوئے زیرِ التوا کیسز کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیرِاعظم کو دیے گئے اعداد و شمار، جو پریس میں رپورٹ ہوئے، کے مطابق عدالتوں اور اپیلیٹ ٹربیونلز میں زیرِ التوا متنازع کیسز کا مجموعی حجم 2024 میں 3.76 کھرب روپے سے بڑھ کر 5.457 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے—یعنی 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ایک بڑا حصہ—3.3 کھرب روپے سے زائد—صرف اے ٹی آئی آر میں زیرِ التوا ہے، جہاں بیس ہزار سے زیادہ کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ بہتر تنخواہوں اور وقفے وقفے سے تقرریوں کے باوجود کیسز کا فیصلہ کرنے کی رفتار ہمیشہ نئے کیسز کے آنے کی رفتار سے کم رہتی ہے۔ &lt;strong&gt;ٹیبل I&lt;/strong&gt; ٹیکس لٹیگیشن کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے بیک لاگ اور اس میں شامل بھاری رقوم کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;pre&gt;&lt;code&gt;=================================================================
     Table I: Tax Litigation Backlog in Pakistan (April 2026)    
=================================================================
Forum                              Number of Cases               
                                 Amount Involved (Rs)            
=================================================================
Supreme Court of Pakistan           3,277             169 billion
Islamabad High Court                1,979             482 billion
Lahore High Court                   7,490             963 billion
Sindh High Court                    2,081             480 billion
Peshawar High Court                   241              27 billion
Balochistan High Court                 37               6 billion
Total (Superior Courts)            11,938          ~1.96 trillion
Appellate Tribunal Inland 
Revenue (ATIR)                    21,767+          3.33 trillion+
=================================================================
&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;
&lt;p&gt;کیسز کے آنے اور نمٹائے جانے کے درمیان خلا مسلسل بڑھ رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عدالتی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام میں داخل ہونے والے کیسز کی تعداد اور نوعیت کا بھی ہے۔ یہ عدم توازن نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی ناقابلِ اجتناب—یہ براہِ راست ایک ایسے ٹیکس انتظامی ماڈل کا نتیجہ ہے جو تصفیہ کے بجائے لٹیگیشن کو فروغ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ شدت والے اسیسمنٹس، جو اکثر طے شدہ قانون کو نظرانداز کر کے بنائے جاتے ہیں، ابتدائی مرحلے پر ہی تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اپیلیٹ مراحل میں ان میں سے بہت سے کیسز ناکام ہو جاتے ہیں۔ اپنے رویے کو درست کرنے کے بجائے ایف بی آر معمول کے مطابق اور اکثر غیر ضروری اپیلیں دائر کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں کیسز اس رفتار سے داخل ہوتے ہیں جس رفتار سے وہ کبھی نمٹائے نہیں جا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ جاتی ردعمل متوقع لیکن غیر مؤثر رہا ہے: مزید ججز تعینات کیے جائیں، مزید فنڈز مختص کیے جائیں اور انفرااسٹرکچر کو وسعت دی جائے۔ یہ طریقہ کار صرف علامات کا علاج کرتا ہے جبکہ اصل وجوہات کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایسے نظام میں جہاں غیر ضروری لٹیگیشن مسلسل پیدا ہو رہی ہو، وہاں عدالتی صلاحیت بڑھانا ایسے ہی ہے جیسے نالی کو چوڑا کرنا مگر پانی کے بہاؤ کے اصل منبع کو نہ روکنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ٹی آئی آر کے اندر موجود عملی کمزوریاں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہیں (ٹیبل II)۔ کیسز کے بہاؤ، زیرِ التواء صورتحال اور فیصلوں کی رفتار کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے کوئی مربوط ڈیش بورڈ موجود نہیں۔ ورچوئل سماعتیں تقریباً موجود نہیں۔ کیس مینجمنٹ بکھرا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس قانون میں خصوصی مہارت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں، جو فیصلوں کے معیار اور تسلسل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;pre&gt;&lt;code&gt;==========================================================
              Table II: Trend in ATIR Backlog             
==========================================================
Year             Number of Cases      Amount Involved (Rs)
==========================================================
2022                63,655                   1.46 trillion
2024              Not disclosed             2.235 trillion
Latest (2026)   21,767+ (active)            3.33 trillion+
==========================================================
&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ عدلیہ کی صورتحال بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کی ہائی کورٹس میں ٹیکس قانون میں گہری مہارت رکھنے والے خصوصی بینچز شاذ و نادر ہی ٹیکس کیسز سنتے ہیں۔ مخصوص ٹیکس بینچز کی عدم موجودگی سے عدالتی نظائر میں عدم تسلسل، طویل سماعتیں اور اپیلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ ماڈل کیوں ناکام ہوتا ہے، تقابلی نظاموں (ٹیبل III) کا جائزہ لینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس صورتحال واضح طور پر مختلف ہے۔ برطانیہ میں، اگرچہ بعض اوقات کیسز کے بیک لاگ کا دباؤ پیدا ہوتا ہے، لیکن متبادل تنازعہ حل(اے ڈی آر) جیسے نظام کے ذریعے زیادہ تر تنازعات چند ماہ میں حل کر لیے جاتے ہیں، اور اگر کوئی فریق تصفیہ سے انکار کرے تو اس کا اثر اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا میں تنازعات کو ابتدائی مرحلے پر ہی انتظامی نظرثانی اور منظم قانونی کارروائی کے ذریعے فلٹر کیا جاتا ہے، جبکہ کاسٹ ریکوری میکنزم نظام میں نظم و ضبط قائم رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں رسمی تنازعہ حل کرنے کے فریم ورک کا مقصد ہی یہ ہے کہ تنازعات پیدا ہی نہ ہوں، اور اس کے لیے یقین دہانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ان تمام نظاموں میں ایک اصول مشترک ہے: قانونی چارہ جوئی (لیٹگیشن) کے نتائج اور اثرات ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا نظام اس کے برعکس اصول پر کام کرتا ہے۔ یہاں قانونی چارہ جوئی عملی طور پر ریاست کے لیے بغیر کسی مالی ذمہ داری کے ہے۔ ٹیکس حکام بغیر کسی مالی جوابدہی کے اپیلیں دائر کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ ان معاملات پر بھی جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں طے ہو چکے ہوں۔ یہی نتائج کے عدم موجودگی بیک لاگ کی بنیادی وجہ ہے۔ نتیجہ قابلِ پیش گوئی ہے۔ معاملات سالہا سال مختلف فورمز سے گزرتے رہتے ہیں اور عدالتی وقت اور عوامی وسائل ضائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان نظاموں میں جہاں مؤثر کاسٹ ریجیم موجود ہیں، فریقین کو کمزور کیسز دائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی ٹربیونل بیک لاگز اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب مقدمات کی آمد فیصلوں سے بڑھ جائے—اور اس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور پالیسی و طریقہ کار میں اصلاحات کے ذریعے اسے درست کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصلاحی نظام موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر نظام بھی اسی غیر مؤثر کارکردگی کو مضبوط کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی پورے قانونی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ سرگرمی کو برقرار رکھتی ہے۔ زیادہ کیسز کا مطلب وکلا کے لیے زیادہ کام، عدالتی صلاحیت بڑھانے کا زیادہ جواز، اور ادارہ جاتی جمود میں اضافہ ہے۔ یوں یہ نظام اپنے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی ترغیبات رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے معاشی اثرات سنگین ہیں۔ ایک ایسا ٹیکس نظام جو غیر یقینی صورتحال اور طویل تنازعہ جاتی عمل سے عبارت ہو، سرمایہ کاری کو روکتا ہے، تعمیل کو کم کرتا ہے اور محصولات کی وصولی کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کا کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اس وقت تک مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ٹیکس انصاف کی غیر مؤثر فراہمی کے کردار کو تسلیم نہ کیا جائے۔ حل صلاحیت بڑھانے میں نہیں بلکہ ترغیبات درست کرنے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں اصلاح ضروری ہے۔ جارحانہ تشریحات کی بنیاد پر کیے جانے والے اضافوں کی حوصلہ شکنی داخلی احتساب کے ذریعے ہونی چاہیے، اور کارکردگی کے پیمانے کو غیر حقیقی ٹیکس مطالبات کے بجائے پائیدار آمدنی کی طرف منتقل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مؤثر لاگت اور مالی جرمانوں کا نظام متعارف کرانا ضروری ہے۔ عدالتوں اور ٹربیونلز کو غیر ضروری یا فضول مقدمہ بازی پر حقیقت پسندانہ اخراجات عائد کرنے چاہئیں، بشمول سرکاری محکموں کے۔ جب تک مالی نتائج موجود نہیں ہوں گے، رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ جاتی تنظیم نو بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک نیشنل ٹیکس کورٹ کا قیام تقسیم کو کم کر سکتا ہے اور یکسانیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اپیلوں کو صرف قانون کے اہم نکات تک محدود کیا جانا چاہیے، جن کی منظوری نیشنل ٹیکس کورٹ دے، اور انٹرا کورٹ اپیل کی گنجائش موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی مہارت کو بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ ہائی کورٹس میں مخصوص ٹیکس بینچز اور تکنیکی طور پر ماہر ٹربیونل اراکین مؤثر اور معیاری فیصلوں کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹمز، ورچوئل سماعتیں اور ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کوئی لگژری نہیں بلکہ کارکردگی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، نظام کو یقینی نتائج اور انصاف کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کا حل؛ جہاں ٹیکس دہندگان انصاف کو محسوس کرتے ہیں، وہاں قانونی چارہ جوئی کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا موجودہ طریقہ کار—زیادہ فنڈز مختص کرنا اور زیادہ ججز تعینات کرنا—اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ بیک لاگ کو صلاحیت کا مسئلہ سمجھتا ہے، نہ کہ ترغیبات کا مسئلہ۔ اربوں روپے کی زیر التوا قانونی چارہ جوئی کا تسلسل اتفاقی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو مناسب احتساب کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اصلاح کا مطلب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخاب واضح ہے۔ پاکستان یا تو ایسا نظام چلاتا رہے جو تنازعات پیدا کرتا ہے، یا ایسا نظام دوبارہ ڈیزائن کرے جو انہیں روکتا ہے۔ صرف دوسرا راستہ ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 24 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ٹیکس لٹیگیشن(قانونی چارہ جوئی) بحران کو عموماً صلاحیتوں کی کمی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے—یعنی بہت زیادہ کیسز، کم ججز اور ناکافی انفراسٹرکچر۔ یہ وضاحت اگرچہ آسان اور قابلِ قبول لگتی ہے، لیکن بنیادی طور پر گمراہ کن ہے۔</strong></p>
<p>اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ مسئلہ نظام کے ڈیزائن اور اس کے اندر موجود ترغیبات میں ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) کی کارکردگی میں دیکھی جا سکتی ہے، جو ادارہ جاتی بہتری اور ہائی کورٹ ججز کے برابر تنخواہوں کے باوجود مسلسل بڑھتے ہوئے زیرِ التوا کیسز کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔</p>
<p>چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وزیرِاعظم کو دیے گئے اعداد و شمار، جو پریس میں رپورٹ ہوئے، کے مطابق عدالتوں اور اپیلیٹ ٹربیونلز میں زیرِ التوا متنازع کیسز کا مجموعی حجم 2024 میں 3.76 کھرب روپے سے بڑھ کر 5.457 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے—یعنی 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>اس کا ایک بڑا حصہ—3.3 کھرب روپے سے زائد—صرف اے ٹی آئی آر میں زیرِ التوا ہے، جہاں بیس ہزار سے زیادہ کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ بہتر تنخواہوں اور وقفے وقفے سے تقرریوں کے باوجود کیسز کا فیصلہ کرنے کی رفتار ہمیشہ نئے کیسز کے آنے کی رفتار سے کم رہتی ہے۔ <strong>ٹیبل I</strong> ٹیکس لٹیگیشن کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے بیک لاگ اور اس میں شامل بھاری رقوم کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<pre><code>=================================================================
     Table I: Tax Litigation Backlog in Pakistan (April 2026)    
=================================================================
Forum                              Number of Cases               
                                 Amount Involved (Rs)            
=================================================================
Supreme Court of Pakistan           3,277             169 billion
Islamabad High Court                1,979             482 billion
Lahore High Court                   7,490             963 billion
Sindh High Court                    2,081             480 billion
Peshawar High Court                   241              27 billion
Balochistan High Court                 37               6 billion
Total (Superior Courts)            11,938          ~1.96 trillion
Appellate Tribunal Inland 
Revenue (ATIR)                    21,767+          3.33 trillion+
=================================================================
</code></pre>
<p>کیسز کے آنے اور نمٹائے جانے کے درمیان خلا مسلسل بڑھ رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عدالتی صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام میں داخل ہونے والے کیسز کی تعداد اور نوعیت کا بھی ہے۔ یہ عدم توازن نہ تو اتفاقی ہے اور نہ ہی ناقابلِ اجتناب—یہ براہِ راست ایک ایسے ٹیکس انتظامی ماڈل کا نتیجہ ہے جو تصفیہ کے بجائے لٹیگیشن کو فروغ دیتا ہے۔</p>
<p>زیادہ شدت والے اسیسمنٹس، جو اکثر طے شدہ قانون کو نظرانداز کر کے بنائے جاتے ہیں، ابتدائی مرحلے پر ہی تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ جب ان کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اپیلیٹ مراحل میں ان میں سے بہت سے کیسز ناکام ہو جاتے ہیں۔ اپنے رویے کو درست کرنے کے بجائے ایف بی آر معمول کے مطابق اور اکثر غیر ضروری اپیلیں دائر کرتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں کیسز اس رفتار سے داخل ہوتے ہیں جس رفتار سے وہ کبھی نمٹائے نہیں جا سکتے۔</p>
<p>ادارہ جاتی ردعمل متوقع لیکن غیر مؤثر رہا ہے: مزید ججز تعینات کیے جائیں، مزید فنڈز مختص کیے جائیں اور انفرااسٹرکچر کو وسعت دی جائے۔ یہ طریقہ کار صرف علامات کا علاج کرتا ہے جبکہ اصل وجوہات کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایسے نظام میں جہاں غیر ضروری لٹیگیشن مسلسل پیدا ہو رہی ہو، وہاں عدالتی صلاحیت بڑھانا ایسے ہی ہے جیسے نالی کو چوڑا کرنا مگر پانی کے بہاؤ کے اصل منبع کو نہ روکنا۔</p>
<p>اے ٹی آئی آر کے اندر موجود عملی کمزوریاں اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہیں (ٹیبل II)۔ کیسز کے بہاؤ، زیرِ التواء صورتحال اور فیصلوں کی رفتار کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے کوئی مربوط ڈیش بورڈ موجود نہیں۔ ورچوئل سماعتیں تقریباً موجود نہیں۔ کیس مینجمنٹ بکھرا ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس قانون میں خصوصی مہارت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں، جو فیصلوں کے معیار اور تسلسل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔</p>
<pre><code>==========================================================
              Table II: Trend in ATIR Backlog             
==========================================================
Year             Number of Cases      Amount Involved (Rs)
==========================================================
2022                63,655                   1.46 trillion
2024              Not disclosed             2.235 trillion
Latest (2026)   21,767+ (active)            3.33 trillion+
==========================================================
</code></pre>
<p>اعلیٰ عدلیہ کی صورتحال بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان کی ہائی کورٹس میں ٹیکس قانون میں گہری مہارت رکھنے والے خصوصی بینچز شاذ و نادر ہی ٹیکس کیسز سنتے ہیں۔ مخصوص ٹیکس بینچز کی عدم موجودگی سے عدالتی نظائر میں عدم تسلسل، طویل سماعتیں اور اپیلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ ماڈل کیوں ناکام ہوتا ہے، تقابلی نظاموں (ٹیبل III) کا جائزہ لینا ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/25113050f46f72e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس صورتحال واضح طور پر مختلف ہے۔ برطانیہ میں، اگرچہ بعض اوقات کیسز کے بیک لاگ کا دباؤ پیدا ہوتا ہے، لیکن متبادل تنازعہ حل(اے ڈی آر) جیسے نظام کے ذریعے زیادہ تر تنازعات چند ماہ میں حل کر لیے جاتے ہیں، اور اگر کوئی فریق تصفیہ سے انکار کرے تو اس کا اثر اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>کینیڈا میں تنازعات کو ابتدائی مرحلے پر ہی انتظامی نظرثانی اور منظم قانونی کارروائی کے ذریعے فلٹر کیا جاتا ہے، جبکہ کاسٹ ریکوری میکنزم نظام میں نظم و ضبط قائم رکھتے ہیں۔ یورپی یونین میں رسمی تنازعہ حل کرنے کے فریم ورک کا مقصد ہی یہ ہے کہ تنازعات پیدا ہی نہ ہوں، اور اس کے لیے یقین دہانی اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ان تمام نظاموں میں ایک اصول مشترک ہے: قانونی چارہ جوئی (لیٹگیشن) کے نتائج اور اثرات ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا نظام اس کے برعکس اصول پر کام کرتا ہے۔ یہاں قانونی چارہ جوئی عملی طور پر ریاست کے لیے بغیر کسی مالی ذمہ داری کے ہے۔ ٹیکس حکام بغیر کسی مالی جوابدہی کے اپیلیں دائر کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ ان معاملات پر بھی جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں میں طے ہو چکے ہوں۔ یہی نتائج کے عدم موجودگی بیک لاگ کی بنیادی وجہ ہے۔ نتیجہ قابلِ پیش گوئی ہے۔ معاملات سالہا سال مختلف فورمز سے گزرتے رہتے ہیں اور عدالتی وقت اور عوامی وسائل ضائع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان نظاموں میں جہاں مؤثر کاسٹ ریجیم موجود ہیں، فریقین کو کمزور کیسز دائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ برطانیہ میں بھی ٹربیونل بیک لاگز اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب مقدمات کی آمد فیصلوں سے بڑھ جائے—اور اس کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور پالیسی و طریقہ کار میں اصلاحات کے ذریعے اسے درست کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصلاحی نظام موجود نہیں۔</p>
<p>وسیع تر نظام بھی اسی غیر مؤثر کارکردگی کو مضبوط کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قانونی چارہ جوئی پورے قانونی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ سرگرمی کو برقرار رکھتی ہے۔ زیادہ کیسز کا مطلب وکلا کے لیے زیادہ کام، عدالتی صلاحیت بڑھانے کا زیادہ جواز، اور ادارہ جاتی جمود میں اضافہ ہے۔ یوں یہ نظام اپنے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اندرونی ترغیبات رکھتا ہے۔</p>
<p>اس کے معاشی اثرات سنگین ہیں۔ ایک ایسا ٹیکس نظام جو غیر یقینی صورتحال اور طویل تنازعہ جاتی عمل سے عبارت ہو، سرمایہ کاری کو روکتا ہے، تعمیل کو کم کرتا ہے اور محصولات کی وصولی کو کمزور کرتا ہے۔ پاکستان کا کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب اس وقت تک مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ٹیکس انصاف کی غیر مؤثر فراہمی کے کردار کو تسلیم نہ کیا جائے۔ حل صلاحیت بڑھانے میں نہیں بلکہ ترغیبات درست کرنے میں ہے۔</p>
<p>اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں اصلاح ضروری ہے۔ جارحانہ تشریحات کی بنیاد پر کیے جانے والے اضافوں کی حوصلہ شکنی داخلی احتساب کے ذریعے ہونی چاہیے، اور کارکردگی کے پیمانے کو غیر حقیقی ٹیکس مطالبات کے بجائے پائیدار آمدنی کی طرف منتقل کرنا چاہیے۔</p>
<p>ایک مؤثر لاگت اور مالی جرمانوں کا نظام متعارف کرانا ضروری ہے۔ عدالتوں اور ٹربیونلز کو غیر ضروری یا فضول مقدمہ بازی پر حقیقت پسندانہ اخراجات عائد کرنے چاہئیں، بشمول سرکاری محکموں کے۔ جب تک مالی نتائج موجود نہیں ہوں گے، رویے میں تبدیلی نہیں آئے گی۔</p>
<p>ادارہ جاتی تنظیم نو بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک نیشنل ٹیکس کورٹ کا قیام تقسیم کو کم کر سکتا ہے اور یکسانیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اپیلوں کو صرف قانون کے اہم نکات تک محدود کیا جانا چاہیے، جن کی منظوری نیشنل ٹیکس کورٹ دے، اور انٹرا کورٹ اپیل کی گنجائش موجود ہو۔</p>
<p>خصوصی مہارت کو بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ ہائی کورٹس میں مخصوص ٹیکس بینچز اور تکنیکی طور پر ماہر ٹربیونل اراکین مؤثر اور معیاری فیصلوں کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹمز، ورچوئل سماعتیں اور ریئل ٹائم ڈیش بورڈز کوئی لگژری نہیں بلکہ کارکردگی کے لیے بنیادی ضرورت ہیں۔</p>
<p>آخر میں، نظام کو یقینی نتائج اور انصاف کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ تنازعات کی روک تھام اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کا حل؛ جہاں ٹیکس دہندگان انصاف کو محسوس کرتے ہیں، وہاں قانونی چارہ جوئی کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا موجودہ طریقہ کار—زیادہ فنڈز مختص کرنا اور زیادہ ججز تعینات کرنا—اصل مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ بیک لاگ کو صلاحیت کا مسئلہ سمجھتا ہے، نہ کہ ترغیبات کا مسئلہ۔ اربوں روپے کی زیر التوا قانونی چارہ جوئی کا تسلسل اتفاقی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو مناسب احتساب کے بغیر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اصلاح کا مطلب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہے۔</p>
<p>انتخاب واضح ہے۔ پاکستان یا تو ایسا نظام چلاتا رہے جو تنازعات پیدا کرتا ہے، یا ایسا نظام دوبارہ ڈیزائن کرے جو انہیں روکتا ہے۔ صرف دوسرا راستہ ہی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 24 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503926</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 11:52:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/25115038996f344.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/25115038996f344.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میدانِ کارزار سے آگے کی جنگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503844/war-beyond-battlefield</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھماکوں کے ذریعے جنگ کو دیکھنے میں ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ ایک حملہ ہوتا ہے۔ ہدف نشانہ بنتا ہے۔ نقشے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ٹھوس، تقریباً قابلِ پیمائش محسوس ہوتا ہے۔ آپ اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں، ”یہی وہ جگہ ہے جہاں جنگ کا فیصلہ ہو رہا ہے“۔ مگر ذرا پیچھے ہٹ کر ایک مشکل سوال پوچھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر میدانِ جنگ اب وہ جگہ ہی نہ رہا ہو جہاں جنگیں جیتی جاتی ہیں؟ اگر یہ محض وہ مقام ہو جہاں وہ ٹکراتی ہیں… جبکہ اصل مقابلہ کہیں اور، زیادہ خاموش، کہیں کم دکھائی دینے والا اور کہیں زیادہ فیصلہ کن انداز میں جاری ہو؟ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ لمحہ کچھ ایسا ہی ظاہر کرنا شروع کر رہا ہے۔ اصل کہانی آسمانوں یا صحراؤں میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منڈیوں میں ہے۔ اور منڈیاں، میزائلوں کے برعکس، ایک بار نہیں پھٹتیں—وہ بتدریج اثر جمع کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آغاز کریں آبنائے ہرمز سے، پانی کی ایک تنگ پٹی جو بطور جغرافیائی خصوصیت شاید عالمی نقشے پر خاص توجہ حاصل نہ کرے، مگر تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل اسی سے گزرتی ہے۔ یہ بات جتنی سادہ لگتی ہے، اتنی ہی اہم ہے۔ کیونکہ دنیا کو جھٹکا محسوس کرنے کے لیے تیل کی کمی ضروری نہیں۔ صرف اس کی ترسیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کافی ہوتی ہے۔ اور آج کی مالیاتی نوعیت اختیار کر چکی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی اس گزرگاہ میں کشیدگی بڑھتی ہے، ردِعمل تقریباً فوری ہوتا ہے۔ ٹینکروں کی انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں۔ فریٹ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ شپنگ روٹس پر نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔ تاجر ایک بیرل بھی ضائع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ خلل کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں حقیقت کا انتظار نہیں کرتیں، وہ توقعات پر حرکت کرتی ہیں۔ چنانچہ ہرمز کی بندش نہیں بلکہ اس کا محض خطرہ بھی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس لہر کو آگے بڑھتے دیکھیں۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست مہنگائی کی توقعات کو تقویت دیتی ہیں۔ توانائی کوئی عام جنس نہیں؛ یہ نقل و حمل، مینوفیکچرنگ، زراعت اور بجلی کی پیداوار کی بنیاد ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اخراجات پورے نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اور جب مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں تو ایک اور چیز حرکت میں آتی ہے، ایسی چیز جو خود تیل سے کہیں زیادہ فیصلہ کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ ییلڈز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ مقام ہے جہاں جنگ خاموشی سے اپنا میدان بدلتی ہے۔ کیونکہ اصل دباؤ کا مرکز محض خام تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ قیمتیں امریکی ٹریژری مارکیٹ پر کیا اثر ڈالتی ہیں، وہ بنیاد جس پر عالمی مالیاتی نظام کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ٹریژریز صرف حکومتی قرض نہیں۔ یہ وہ معیار ہیں جن کے مقابلے میں دنیا کے تقریباً ہر اثاثے کی قیمت لگتی ہے۔ مورگیجز، کارپوریٹ قرضے، ایکویٹی ویلیوایشن، سب بالآخر اسی مارکیٹ میں متعین ہونے والی ”رسک فری ریٹ“ سے جڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا جب ییلڈز بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات محدود نہیں رہتے بلکہ پھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورگیج ریٹس بڑھتے ہیں، جس سے ہاؤسنگ ڈیمانڈ سست پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارپوریٹ قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، سرمایہ کاری موخر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکویٹی مارکیٹس میں ڈسکاؤنٹ ریٹس بڑھنے کے باعث ازسرِنو قیمتیں متعین ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی دہائیوں تک عالمی توانائی کی تجارت امریکی ڈالر کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ڈالر میں تیل کی قیمت مقرر ہونے سے اس کرنسی کی مستقل طلب پیدا ہوتی رہی، جس نے امریکی مالیاتی برتری کو مضبوط کیا، جسے ماہرینِ معاشیات طویل عرصے سے ” ایگزوربیٹنٹ پریولیج“ کہتے آئے ہیں۔ مگر خلل کے ایسے لمحات، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم گزرگاہی مقامات کے گرد، ان سوالات کو تیز کر دیتے ہیں جو کبھی محض نظریاتی تھے۔ اگر توانائی کی تجارت ڈالر سے ہٹ کر متنوع ہونا شروع ہو جائے تو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں چینی یوآن سامنے آتا ہے۔ چین گزشتہ ایک دہائی میں خاموشی سے اس تبدیلی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا رہا ہے—دو طرفہ کرنسی معاہدوں، متبادل ادائیگی نظاموں، اور توانائی کی ایسی تجارت کے ذریعے جو مکمل طور پر مغربی مالیاتی نظام پر انحصار نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی پیش رفت الگ الگ دیکھنے میں ڈرامائی نہیں لگتی۔ مگر مجموعی طور پر یہ کسی زیادہ سوچے سمجھے عمل، ایک متبادل مالیاتی ڈھانچے—کی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سپلائی روٹس متاثر ہو سکتے ہیں، ادائیگی کے نظام خود ایک طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور چین نے حسبِ روایت شور کے بجائے صبر کے ساتھ اس سمت میں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہمیں جغرافیہ اور حکمتِ عملی کی طرف لے آتا ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر بندرگاہ کی ترقی کو اکثر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اسے بہتر طور پر ”ردِعملی متبادل“ ( ریڈنڈنسی) کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، ایک ایسے خطرے کے مقابلے میں حفاظتی انتظام کے طور پر جو کسی گزرگاہ کے بند ہونے سے پیدا ہو۔ یہ روایتی بحری راستوں کا جزوی متبادل ہے اور اس حقیقت کا اعتراف بھی کہ ہرمز جیسے ایک اہم راستے پر انحصار ایک ساختی کمزوری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہیں، گوادر ہرمز کی جگہ نہیں لیتا، اور اسے لینے کی ضرورت بھی نہیں۔ یہ محض انحصار کو کم کرتا ہے، اور جغرافیائی سیاست میں انحصار کم کرنا خود ایک طاقت ہے۔ چنانچہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی نظام کا ایک امتحان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ سپلائی چینز واقعی کتنی مضبوط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ مہنگائی کی توقعات کس حد تک جمی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ ڈالر کی بالادستی بار بار کے جھٹکوں کو کس حد تک برداشت کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امتحان ہے کہ متبادل نظام، مالیاتی اور لاجسٹک، کس حد تک خاموشی سے ترقی کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید سب سے اہم، یہ سیاسی برداشت کا امتحان ہے۔ کیونکہ جدید جنگیں اب صرف عسکری برتری سے طے نہیں ہوتیں۔ وہ اس صلاحیت سے طے ہوتی ہیں کہ کون مسلسل معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے اور کون اسے برداشت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا معیشتیں طویل عرصے تک زیادہ توانائی قیمتوں کو برداشت کر سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا مالیاتی نظام طویل غیر یقینی صورتحال کو جھیل سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا حکومتیں عالمی جھٹکوں کے داخلی اثرات سے بچ سکتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہی سوالات اہم ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کون علاقہ کنٹرول کرتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اگرچہ فیصلہ کن لمحات تلاش کرنا پرکشش لگتا ہے، میدانِ جنگ میں کوئی بڑا موڑ، اچانک زوال، واضح فاتح،مگر اب نتائج عموماً اس طرح طے نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بتدریج سامنے آتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں روزانہ خطرات کی قیمت لگاتی ہیں، بانڈ مارکیٹس ہر گھنٹے توقعات کو ایڈجسٹ کرتی ہیں، مرکزی بینک دباؤ میں پالیسی ترتیب دیتے ہیں، اور گھرانے بڑھتی لاگت کے ساتھ خاموشی سے اپنی خرچ کرنے کی عادات بدلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید تنازعات اسی طرح آگے بڑھتے ہیں۔ کسی ایک فیصلہ کن حملے سے نہیں، بلکہ ہزاروں مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے جو وقت کے ساتھ نظام کو نئی شکل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو ہاں، میدانِ جنگ اب بھی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر جتنا ہم سمجھتے ہیں، اس سے کم۔ کیونکہ اصل مقابلہ اب صرف عسکری طاقت کا نہیں بلکہ مالیاتی کشش (فنانشل گریویٹی) کا ہے، کون نظام کو اپنے حق میں کھینچ سکتا ہے؟ اور جب حالات اس کے خلاف ہوں تو کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں میزائل تماشہ پیدا کرتے ہیں، وہیں منڈیاں نتائج پیدا کرتی ہیں۔ اور جس دنیا میں ہم داخل ہو رہے ہیں، وہاں فیصلہ کن عنصر تیزی سے یہی دوسرا پہلو بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دھماکوں کے ذریعے جنگ کو دیکھنے میں ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ ایک حملہ ہوتا ہے۔ ہدف نشانہ بنتا ہے۔ نقشے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ٹھوس، تقریباً قابلِ پیمائش محسوس ہوتا ہے۔ آپ اس کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں، ”یہی وہ جگہ ہے جہاں جنگ کا فیصلہ ہو رہا ہے“۔ مگر ذرا پیچھے ہٹ کر ایک مشکل سوال پوچھیں۔</strong></p>
<p>اگر میدانِ جنگ اب وہ جگہ ہی نہ رہا ہو جہاں جنگیں جیتی جاتی ہیں؟ اگر یہ محض وہ مقام ہو جہاں وہ ٹکراتی ہیں… جبکہ اصل مقابلہ کہیں اور، زیادہ خاموش، کہیں کم دکھائی دینے والا اور کہیں زیادہ فیصلہ کن انداز میں جاری ہو؟ کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ لمحہ کچھ ایسا ہی ظاہر کرنا شروع کر رہا ہے۔ اصل کہانی آسمانوں یا صحراؤں میں نہیں ہے۔</p>
<p>یہ منڈیوں میں ہے۔ اور منڈیاں، میزائلوں کے برعکس، ایک بار نہیں پھٹتیں—وہ بتدریج اثر جمع کرتی ہیں۔</p>
<p>آغاز کریں آبنائے ہرمز سے، پانی کی ایک تنگ پٹی جو بطور جغرافیائی خصوصیت شاید عالمی نقشے پر خاص توجہ حاصل نہ کرے، مگر تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل اسی سے گزرتی ہے۔ یہ بات جتنی سادہ لگتی ہے، اتنی ہی اہم ہے۔ کیونکہ دنیا کو جھٹکا محسوس کرنے کے لیے تیل کی کمی ضروری نہیں۔ صرف اس کی ترسیل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کافی ہوتی ہے۔ اور آج کی مالیاتی نوعیت اختیار کر چکی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔</p>
<p>جیسے ہی اس گزرگاہ میں کشیدگی بڑھتی ہے، ردِعمل تقریباً فوری ہوتا ہے۔ ٹینکروں کی انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں۔ فریٹ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ شپنگ روٹس پر نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔ تاجر ایک بیرل بھی ضائع ہونے سے پہلے ہی ممکنہ خلل کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں حقیقت کا انتظار نہیں کرتیں، وہ توقعات پر حرکت کرتی ہیں۔ چنانچہ ہرمز کی بندش نہیں بلکہ اس کا محض خطرہ بھی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتا ہے۔</p>
<p>اب اس لہر کو آگے بڑھتے دیکھیں۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں براہِ راست مہنگائی کی توقعات کو تقویت دیتی ہیں۔ توانائی کوئی عام جنس نہیں؛ یہ نقل و حمل، مینوفیکچرنگ، زراعت اور بجلی کی پیداوار کی بنیاد ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اخراجات پورے نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ اور جب مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں تو ایک اور چیز حرکت میں آتی ہے، ایسی چیز جو خود تیل سے کہیں زیادہ فیصلہ کن ہے۔</p>
<p>بانڈ ییلڈز۔</p>
<p>یہ وہ مقام ہے جہاں جنگ خاموشی سے اپنا میدان بدلتی ہے۔ کیونکہ اصل دباؤ کا مرکز محض خام تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ قیمتیں امریکی ٹریژری مارکیٹ پر کیا اثر ڈالتی ہیں، وہ بنیاد جس پر عالمی مالیاتی نظام کھڑا ہے۔</p>
<p>امریکی ٹریژریز صرف حکومتی قرض نہیں۔ یہ وہ معیار ہیں جن کے مقابلے میں دنیا کے تقریباً ہر اثاثے کی قیمت لگتی ہے۔ مورگیجز، کارپوریٹ قرضے، ایکویٹی ویلیوایشن، سب بالآخر اسی مارکیٹ میں متعین ہونے والی ”رسک فری ریٹ“ سے جڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p>لہٰذا جب ییلڈز بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات محدود نہیں رہتے بلکہ پھیلتے ہیں۔</p>
<p>مورگیج ریٹس بڑھتے ہیں، جس سے ہاؤسنگ ڈیمانڈ سست پڑتی ہے۔</p>
<p>کارپوریٹ قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، سرمایہ کاری موخر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ایکویٹی مارکیٹس میں ڈسکاؤنٹ ریٹس بڑھنے کے باعث ازسرِنو قیمتیں متعین ہوتی ہیں۔</p>
<p>کئی دہائیوں تک عالمی توانائی کی تجارت امریکی ڈالر کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ڈالر میں تیل کی قیمت مقرر ہونے سے اس کرنسی کی مستقل طلب پیدا ہوتی رہی، جس نے امریکی مالیاتی برتری کو مضبوط کیا، جسے ماہرینِ معاشیات طویل عرصے سے ” ایگزوربیٹنٹ پریولیج“ کہتے آئے ہیں۔ مگر خلل کے ایسے لمحات، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم گزرگاہی مقامات کے گرد، ان سوالات کو تیز کر دیتے ہیں جو کبھی محض نظریاتی تھے۔ اگر توانائی کی تجارت ڈالر سے ہٹ کر متنوع ہونا شروع ہو جائے تو؟</p>
<p>یہاں چینی یوآن سامنے آتا ہے۔ چین گزشتہ ایک دہائی میں خاموشی سے اس تبدیلی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرتا رہا ہے—دو طرفہ کرنسی معاہدوں، متبادل ادائیگی نظاموں، اور توانائی کی ایسی تجارت کے ذریعے جو مکمل طور پر مغربی مالیاتی نظام پر انحصار نہیں کرتی۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی پیش رفت الگ الگ دیکھنے میں ڈرامائی نہیں لگتی۔ مگر مجموعی طور پر یہ کسی زیادہ سوچے سمجھے عمل، ایک متبادل مالیاتی ڈھانچے—کی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سپلائی روٹس متاثر ہو سکتے ہیں، ادائیگی کے نظام خود ایک طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں، اور چین نے حسبِ روایت شور کے بجائے صبر کے ساتھ اس سمت میں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>یہ ہمیں جغرافیہ اور حکمتِ عملی کی طرف لے آتا ہے۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر بندرگاہ کی ترقی کو اکثر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اسے بہتر طور پر ”ردِعملی متبادل“ ( ریڈنڈنسی) کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، ایک ایسے خطرے کے مقابلے میں حفاظتی انتظام کے طور پر جو کسی گزرگاہ کے بند ہونے سے پیدا ہو۔ یہ روایتی بحری راستوں کا جزوی متبادل ہے اور اس حقیقت کا اعتراف بھی کہ ہرمز جیسے ایک اہم راستے پر انحصار ایک ساختی کمزوری ہے۔</p>
<p>نہیں، گوادر ہرمز کی جگہ نہیں لیتا، اور اسے لینے کی ضرورت بھی نہیں۔ یہ محض انحصار کو کم کرتا ہے، اور جغرافیائی سیاست میں انحصار کم کرنا خود ایک طاقت ہے۔ چنانچہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی نظام کا ایک امتحان ہے۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ سپلائی چینز واقعی کتنی مضبوط ہیں۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ مہنگائی کی توقعات کس حد تک جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ ڈالر کی بالادستی بار بار کے جھٹکوں کو کس حد تک برداشت کر سکتی ہے۔</p>
<p>یہ امتحان ہے کہ متبادل نظام، مالیاتی اور لاجسٹک، کس حد تک خاموشی سے ترقی کر چکے ہیں۔</p>
<p>اور شاید سب سے اہم، یہ سیاسی برداشت کا امتحان ہے۔ کیونکہ جدید جنگیں اب صرف عسکری برتری سے طے نہیں ہوتیں۔ وہ اس صلاحیت سے طے ہوتی ہیں کہ کون مسلسل معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے اور کون اسے برداشت کر سکتا ہے۔</p>
<p>کیا معیشتیں طویل عرصے تک زیادہ توانائی قیمتوں کو برداشت کر سکتی ہیں؟</p>
<p>کیا مالیاتی نظام طویل غیر یقینی صورتحال کو جھیل سکتے ہیں؟</p>
<p>کیا حکومتیں عالمی جھٹکوں کے داخلی اثرات سے بچ سکتی ہیں؟</p>
<p>اب یہی سوالات اہم ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ کون علاقہ کنٹرول کرتا ہے، بلکہ یہ بھی کہ کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ اگرچہ فیصلہ کن لمحات تلاش کرنا پرکشش لگتا ہے، میدانِ جنگ میں کوئی بڑا موڑ، اچانک زوال، واضح فاتح،مگر اب نتائج عموماً اس طرح طے نہیں ہوتے۔</p>
<p>وہ بتدریج سامنے آتے ہیں۔ تیل کی منڈیاں روزانہ خطرات کی قیمت لگاتی ہیں، بانڈ مارکیٹس ہر گھنٹے توقعات کو ایڈجسٹ کرتی ہیں، مرکزی بینک دباؤ میں پالیسی ترتیب دیتے ہیں، اور گھرانے بڑھتی لاگت کے ساتھ خاموشی سے اپنی خرچ کرنے کی عادات بدلتے ہیں۔</p>
<p>جدید تنازعات اسی طرح آگے بڑھتے ہیں۔ کسی ایک فیصلہ کن حملے سے نہیں، بلکہ ہزاروں مالیاتی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے جو وقت کے ساتھ نظام کو نئی شکل دیتے ہیں۔</p>
<p>تو ہاں، میدانِ جنگ اب بھی اہم ہے۔</p>
<p>مگر جتنا ہم سمجھتے ہیں، اس سے کم۔ کیونکہ اصل مقابلہ اب صرف عسکری طاقت کا نہیں بلکہ مالیاتی کشش (فنانشل گریویٹی) کا ہے، کون نظام کو اپنے حق میں کھینچ سکتا ہے؟ اور جب حالات اس کے خلاف ہوں تو کون دباؤ برداشت کر سکتا ہے؟</p>
<p>جہاں میزائل تماشہ پیدا کرتے ہیں، وہیں منڈیاں نتائج پیدا کرتی ہیں۔ اور جس دنیا میں ہم داخل ہو رہے ہیں، وہاں فیصلہ کن عنصر تیزی سے یہی دوسرا پہلو بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 22 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503844</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 10:45:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/23104537d1d03f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/23104537d1d03f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے ابتدائی اثرات کے آثار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503807/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو سات ہفتے بیت چکے ہیں، تاہم پاکستان میں مذاکرات کے آغاز کے بعد فی الحال دو ہفتوں کی جنگ بندی برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے عالمی معیشت پر دو بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اول یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک عالمی سطح پر خام تیل، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کا تقریباً 36 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ دوم، اگر ان ممالک میں کساد بازاری جنم لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف دیگر ممالک سے درآمدات کم ہو سکتی ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی پیداوار اور برآمدات پہلے ہی متعدد حوالوں سے متاثر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف پیداوار سے جڑے انفرااسٹرکچر اور ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر پابندی اور حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر عائد قدغنوں نے ترسیلی نظام کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دیگر اثرات میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کساد بازاری کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی شامل ہے، جبکہ ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات کا اندازہ لگانا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس) نے مارچ 2026 کے لیے قیمتوں کے اشاریے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار ( ایل ایس ایم) اور اشیا کی درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار بروقت جاری کیے ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے بھی مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں، سرکاری مالیات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی محصولات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار بھی مارچ 2026 کے لیے دستیاب ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدتی تبدیلی کا پہلا نمایاں اشارہ حساس قیمتوں کے اشاریے ( ایس پی آئی ) میں دیکھا جا سکتا ہے، جسے پی بی ایس ہفتہ وار بنیاد پر مانیٹر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اشاریے کے مطابق 16 اپریل تک سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر دو ہندسوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ جدول 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سات ہفتوں کے دوران مہنگائی کی رفتار میں تیزی غیر معمولی رہی ہے، اور یہ وہی عرصہ ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد کا بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی سوال یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اس اچانک اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو جدول 2 میں ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تخمینہ ہے کہ مجموعی مہنگائی میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد حصہ ایندھن کی اشیا کے باعث ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے بھی مہنگائی میں ہمہ گیر اضافے کو ہوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساس قیمتوں کا اشاریہ ( ایس پی آئی ) اپنے نام کے مطابق قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی) میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً معتدل رہی، جو فروری 2026 میں 7 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 7.3 فیصد تک پہنچی۔ اس کی ایک بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کم اضافہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی درآمدات میں رکاوٹ کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں نمایاں لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار میں تھرمل پاور کا حصہ 61 فیصد سے زائد ہے۔ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ پاور جنریشن کے لیے گیس کی دستیابی میں شدید کمی ہے، جبکہ بظاہر ہائیڈل پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوڈشیڈنگ کی واپسی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں۔ ملک میں تقریباً 35 فیصد بجلی صنعت اور تجارت کے شعبے استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور یہ اثرات آگے بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے تجارتی اور بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار بھی اہم رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) اور مائع پٹرولیم گیس ( ایل پی جی ) کی درآمدات میں مارچ کے دوران 48.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کھاد کی درآمدات بھی 33 فیصد تک گر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم امکان ہے کہ گیس کی قلت کے باعث خاص طور پر کھاد کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2026 کے بیلنس آف پیمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ ترسیلاتِ زر میں کمی آئی۔ یہ مارچ 2025 کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست دبئی سے ترسیلات میں 11 فیصد تک زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا تھا۔ واضح ہے کہ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی معاشی صورتحال اب ترسیلاتِ زر پر اثرانداز ہو رہی ہے، جو پاکستان کو آنے والی مجموعی ترسیلات کا 55 فیصد حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں معاشی سست روی کا ایک اور اشارہ مارچ میں ایف بی آر محصولات کی شرح نمو میں نمایاں کمی ہے، جو گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گئی، جبکہ اس سے قبل دو ہندسوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں تیزی آئی ہے، کچھ صنعتوں کی پیداوار لوڈشیڈنگ اور خام مال کی کمی کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتائج انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حالیہ تخمینوں سے مختلف ہیں، جس کے مطابق 2025-26 میں جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات محدود رہیں گے، جبکہ 2026-27 کے لیے اثرات کا انحصار تنازع کے دورانیے پر مبنی مختلف منظرناموں سے جوڑا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی غیر معمولی کوششیں جلد کامیاب ہوں گی اور ان منفی اثرات کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 21 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو سات ہفتے بیت چکے ہیں، تاہم پاکستان میں مذاکرات کے آغاز کے بعد فی الحال دو ہفتوں کی جنگ بندی برقرار ہے۔</strong></p>
<p>اس تنازع کے عالمی معیشت پر دو بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اول یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک عالمی سطح پر خام تیل، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار کا تقریباً 36 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ دوم، اگر ان ممالک میں کساد بازاری جنم لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف دیگر ممالک سے درآمدات کم ہو سکتی ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی پیداوار اور برآمدات پہلے ہی متعدد حوالوں سے متاثر ہو چکی ہیں۔ ایک طرف پیداوار سے جڑے انفرااسٹرکچر اور ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت پر پابندی اور حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر عائد قدغنوں نے ترسیلی نظام کو محدود کر کے رکھ دیا ہے۔</p>
<p>ایندھن کی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دیگر اثرات میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں کساد بازاری کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی شامل ہے، جبکہ ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات کا اندازہ لگانا اس لیے ممکن ہوا ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس) نے مارچ 2026 کے لیے قیمتوں کے اشاریے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار ( ایل ایس ایم) اور اشیا کی درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار بروقت جاری کیے ہیں۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے بھی مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے تخمینے فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں، سرکاری مالیات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی محصولات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار بھی مارچ 2026 کے لیے دستیاب ہو چکے ہیں۔</p>
<p>قلیل مدتی تبدیلی کا پہلا نمایاں اشارہ حساس قیمتوں کے اشاریے ( ایس پی آئی ) میں دیکھا جا سکتا ہے، جسے پی بی ایس ہفتہ وار بنیاد پر مانیٹر کرتا ہے۔</p>
<p>اس اشاریے کے مطابق 16 اپریل تک سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر دو ہندسوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ جدول 1 میں ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/22135803b7a7868.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ سات ہفتوں کے دوران مہنگائی کی رفتار میں تیزی غیر معمولی رہی ہے، اور یہ وہی عرصہ ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد کا بنتا ہے۔</p>
<p>بنیادی سوال یہ ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اس اچانک اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو جدول 2 میں ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/221408477efbfc2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تخمینہ ہے کہ مجموعی مہنگائی میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد حصہ ایندھن کی اشیا کے باعث ہے۔ مزید یہ کہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافے نے بھی مہنگائی میں ہمہ گیر اضافے کو ہوا دی ہے۔</p>
<p>حساس قیمتوں کا اشاریہ ( ایس پی آئی ) اپنے نام کے مطابق قلیل مدتی بنیادوں پر مہنگائی میں ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے، جبکہ کنزیومر پرائس انڈیکس ( سی پی آئی) میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً معتدل رہی، جو فروری 2026 میں 7 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 7.3 فیصد تک پہنچی۔ اس کی ایک بڑی وجہ خوراک کی قیمتوں میں کم اضافہ رہا۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی درآمدات میں رکاوٹ کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں نمایاں لوڈشیڈنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار میں تھرمل پاور کا حصہ 61 فیصد سے زائد ہے۔ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ پاور جنریشن کے لیے گیس کی دستیابی میں شدید کمی ہے، جبکہ بظاہر ہائیڈل پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔</p>
<p>لوڈشیڈنگ کی واپسی معیشت کے لیے نیک شگون نہیں۔ ملک میں تقریباً 35 فیصد بجلی صنعت اور تجارت کے شعبے استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور یہ اثرات آگے بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>مارچ کے تجارتی اور بیلنس آف پیمنٹس کے اعداد و شمار بھی اہم رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) اور مائع پٹرولیم گیس ( ایل پی جی ) کی درآمدات میں مارچ کے دوران 48.2 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کھاد کی درآمدات بھی 33 فیصد تک گر گئیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( پی بی ایس ) کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے، تاہم امکان ہے کہ گیس کی قلت کے باعث خاص طور پر کھاد کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہو۔</p>
<p>مارچ 2026 کے بیلنس آف پیمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ماہ ترسیلاتِ زر میں کمی آئی۔ یہ مارچ 2025 کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم رہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست دبئی سے ترسیلات میں 11 فیصد تک زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس سے قبل جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ترسیلاتِ زر میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ہو رہا تھا۔ واضح ہے کہ جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی معاشی صورتحال اب ترسیلاتِ زر پر اثرانداز ہو رہی ہے، جو پاکستان کو آنے والی مجموعی ترسیلات کا 55 فیصد حصہ ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں معاشی سست روی کا ایک اور اشارہ مارچ میں ایف بی آر محصولات کی شرح نمو میں نمایاں کمی ہے، جو گھٹ کر صرف 6 فیصد رہ گئی، جبکہ اس سے قبل دو ہندسوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا۔</p>
<p>ان تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں تیزی آئی ہے، کچھ صنعتوں کی پیداوار لوڈشیڈنگ اور خام مال کی کمی کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں بھی کمی کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>یہ نتائج انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حالیہ تخمینوں سے مختلف ہیں، جس کے مطابق 2025-26 میں جنگ کے پاکستان پر قلیل مدتی اثرات محدود رہیں گے، جبکہ 2026-27 کے لیے اثرات کا انحصار تنازع کے دورانیے پر مبنی مختلف منظرناموں سے جوڑا گیا ہے۔</p>
<p>امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی غیر معمولی کوششیں جلد کامیاب ہوں گی اور ان منفی اثرات کا خاتمہ جلد ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 21 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503807</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:09:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/07133403b853644.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/07133403b853644.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر جغرافیائی بحران کا شکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں شمالی علاقوں میں حالیہ بجلی کی کمی دراصل پیداواری صلاحیت کی کمی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پالیسی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ سستی بجلی موجود ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ غلط جگہ پر موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے میں شامل کی گئی، جن میں جوہری توانائی، درآمدی کوئلہ اور تھر کے منصوبے شامل ہیں، لیکن اس کے ساتھ شمالی علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن نظام کو اسی رفتار سے نہیں بڑھایا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ صارفین ایسی اضافی پیداواری صلاحیت کی قیمت ادا کر رہے ہیں جسے ہر وقت اور ہر جگہ مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تضاد گزشتہ ہفتے واضح طور پر سامنے آیا۔ حتیٰ کہ پیک اوقات میں بھی جنوبی علاقوں کے کئی کم لاگت والے پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم پر چل رہے تھے، باوجود اس کے کہ ان کے ٹیرف تقریباً 14 روپے فی یونٹ یا اس سے کم تھے۔ اسی وقت شمالی علاقوں میں مہنگے فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کو زیادہ استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ آر ایل این جی کی کمی پوری کی جا سکے، جبکہ عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے ہائیڈل پیداوار پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس طرح ایک ایسا نظام جو اضافی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، وہی نظام کمی کا شکار نظر آیا۔ یہ پیداواری مسئلہ نہیں، یہ منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ ماننے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اسے جلدی سے ٹرانسمیشن کے بڑے منصوبوں کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر چشمہ-فائیو جیسے بڑے منصوبے 2030 تک مکمل ہو جاتے ہیں تو آج کے کچھ گرڈ اسٹیبلٹی اور لوڈ بیلنسنگ مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں اربوں ڈالر ایسے ٹرانسمیشن منصوبوں پر خرچ کرنا جو اسی وقت فعال ہوں گے، سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے، نہ کہ پرانی منصوبہ بندی کی عادت کا تسلسل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال کو قبول کر لیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی کا رخ بدلنا ہوگا۔ پاکستان کو صرف بجلی کو طلب تک پہنچانے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ طلب کو بجلی کے قریب کیسے لایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی پاکستان پہلے ہی کم لاگت بجلی کے ایک بڑے مگر کم استعمال ہونے والے حصے کا حامل ہے۔ اگر یہ بجلی شمال تک مؤثر طریقے سے منتقل نہیں ہو سکتی تو پھر توانائی سے بھرپور صنعتوں کو اسی علاقے کے قریب منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ زیادہ منطقی طویل المدتی حل ہے۔ صارفین پہلے ہی غیر فعال جنوبی پلانٹس کی کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں، اس لیے کم از کم یہ تو یقینی بنایا جائے کہ اس ضائع شدہ صلاحیت کو معاشی پیداوار میں بدلا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو انتظامی عادت کے بجائے مسابقتی برتری پر مبنی ہو۔ کراچی اور جنوبی کوریڈور، بندرگاہوں اور نسبتاً سستی بجلی کی دستیابی کے ساتھ، توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے قدرتی مقام ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان واقعی ایسے شعبے چلانا چاہتا ہے جنہیں مستحکم اور زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی جگہ یہی ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ محنت طلب صنعتوں کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہیے جہاں مزدور وافر ہوں اور زمین سستی ہو، جیسے جنوبی پنجاب کے کچھ حصے۔ وہاں گارمنٹس کا کلسٹر بنانا زیادہ منطقی ہے بجائے اس کے کہ ایک ہی جگہ پر صنعتوں کا دباؤ بڑھایا جاتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اب صنعتی ترقی کے بارے میں مبہم باتوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک مختلف نقشے کی ضرورت ہے۔ ایک کلسٹر توانائی کی منطق پر ہونا چاہیے، اور دوسرا مزدور کی منطق پر۔ ملک بہت عرصے سے یہ فرض کرتا آیا ہے کہ ترقی صرف اسلام آباد سے منظم کی جا سکتی ہے، جبکہ مقام، ایندھن، لاجسٹکس اور گرڈ کی حقیقتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمال میں حالیہ بجلی کی کمی کو اسی لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب پیداواری منصوبہ بندی، ٹرانسمیشن، ایندھن اور صنعتی پالیسی الگ الگ چلائی جائیں تو کیا ہوتا ہے۔ ریاست نے اضافی صلاحیت تو پیدا کی لیکن اس کے استعمال کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ اس نے طلب کو مرکوز کیا لیکن سپلائی کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ اب صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اضافی اور غیر مؤثر نظام دونوں کی قیمت ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے یہ بحران بنیادی طور پر صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسی کا ہے۔ پاکستان پہلے ہی اس بجلی کی ادائیگی کر چکا ہے جسے وہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہا۔ اگلا قدم صرف زیادہ بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس معیشت کو اس نظام کے مطابق ڈھالنا ہے جو حقیقت میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں شمالی علاقوں میں حالیہ بجلی کی کمی دراصل پیداواری صلاحیت کی کمی کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ پالیسی کی ناکامی کی کہانی ہے۔ سستی بجلی موجود ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ غلط جگہ پر موجود ہے۔</strong></p>
<p>اصل مسئلہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی نوعیت کا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت خاص طور پر ملک کے جنوبی حصے میں شامل کی گئی، جن میں جوہری توانائی، درآمدی کوئلہ اور تھر کے منصوبے شامل ہیں، لیکن اس کے ساتھ شمالی علاقوں تک بجلی پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن نظام کو اسی رفتار سے نہیں بڑھایا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ صارفین ایسی اضافی پیداواری صلاحیت کی قیمت ادا کر رہے ہیں جسے ہر وقت اور ہر جگہ مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>یہ تضاد گزشتہ ہفتے واضح طور پر سامنے آیا۔ حتیٰ کہ پیک اوقات میں بھی جنوبی علاقوں کے کئی کم لاگت والے پاور پلانٹس اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم پر چل رہے تھے، باوجود اس کے کہ ان کے ٹیرف تقریباً 14 روپے فی یونٹ یا اس سے کم تھے۔ اسی وقت شمالی علاقوں میں مہنگے فرنس آئل پر چلنے والے پلانٹس کو زیادہ استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ آر ایل این جی کی کمی پوری کی جا سکے، جبکہ عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے ہائیڈل پیداوار پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس طرح ایک ایسا نظام جو اضافی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے، وہی نظام کمی کا شکار نظر آیا۔ یہ پیداواری مسئلہ نہیں، یہ منصوبہ بندی کا مسئلہ ہے۔</p>
<p>اب یہ ماننے کا کوئی فائدہ نہیں کہ اسے جلدی سے ٹرانسمیشن کے بڑے منصوبوں کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر چشمہ-فائیو جیسے بڑے منصوبے 2030 تک مکمل ہو جاتے ہیں تو آج کے کچھ گرڈ اسٹیبلٹی اور لوڈ بیلنسنگ مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں اربوں ڈالر ایسے ٹرانسمیشن منصوبوں پر خرچ کرنا جو اسی وقت فعال ہوں گے، سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے، نہ کہ پرانی منصوبہ بندی کی عادت کا تسلسل۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال کو قبول کر لیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پالیسی کا رخ بدلنا ہوگا۔ پاکستان کو صرف بجلی کو طلب تک پہنچانے کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ طلب کو بجلی کے قریب کیسے لایا جائے۔</p>
<p>جنوبی پاکستان پہلے ہی کم لاگت بجلی کے ایک بڑے مگر کم استعمال ہونے والے حصے کا حامل ہے۔ اگر یہ بجلی شمال تک مؤثر طریقے سے منتقل نہیں ہو سکتی تو پھر توانائی سے بھرپور صنعتوں کو اسی علاقے کے قریب منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ یہ زیادہ منطقی طویل المدتی حل ہے۔ صارفین پہلے ہی غیر فعال جنوبی پلانٹس کی کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں، اس لیے کم از کم یہ تو یقینی بنایا جائے کہ اس ضائع شدہ صلاحیت کو معاشی پیداوار میں بدلا جائے۔</p>
<p>اس کے لیے ایسی صنعتی پالیسی کی ضرورت ہے جو انتظامی عادت کے بجائے مسابقتی برتری پر مبنی ہو۔ کراچی اور جنوبی کوریڈور، بندرگاہوں اور نسبتاً سستی بجلی کی دستیابی کے ساتھ، توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے قدرتی مقام ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان واقعی ایسے شعبے چلانا چاہتا ہے جنہیں مستحکم اور زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو ان کی جگہ یہی ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ محنت طلب صنعتوں کو ان علاقوں میں منتقل کرنا چاہیے جہاں مزدور وافر ہوں اور زمین سستی ہو، جیسے جنوبی پنجاب کے کچھ حصے۔ وہاں گارمنٹس کا کلسٹر بنانا زیادہ منطقی ہے بجائے اس کے کہ ایک ہی جگہ پر صنعتوں کا دباؤ بڑھایا جاتا رہے۔</p>
<p>پاکستان کو اب صنعتی ترقی کے بارے میں مبہم باتوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک مختلف نقشے کی ضرورت ہے۔ ایک کلسٹر توانائی کی منطق پر ہونا چاہیے، اور دوسرا مزدور کی منطق پر۔ ملک بہت عرصے سے یہ فرض کرتا آیا ہے کہ ترقی صرف اسلام آباد سے منظم کی جا سکتی ہے، جبکہ مقام، ایندھن، لاجسٹکس اور گرڈ کی حقیقتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔</p>
<p>شمال میں حالیہ بجلی کی کمی کو اسی لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب پیداواری منصوبہ بندی، ٹرانسمیشن، ایندھن اور صنعتی پالیسی الگ الگ چلائی جائیں تو کیا ہوتا ہے۔ ریاست نے اضافی صلاحیت تو پیدا کی لیکن اس کے استعمال کا مسئلہ حل نہیں کیا۔ اس نے طلب کو مرکوز کیا لیکن سپلائی کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ اب صارفین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس اضافی اور غیر مؤثر نظام دونوں کی قیمت ادا کریں۔</p>
<p>اسی لیے یہ بحران بنیادی طور پر صلاحیت کا نہیں بلکہ پالیسی کا ہے۔ پاکستان پہلے ہی اس بجلی کی ادائیگی کر چکا ہے جسے وہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہا۔ اگلا قدم صرف زیادہ بجلی پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس معیشت کو اس نظام کے مطابق ڈھالنا ہے جو حقیقت میں موجود ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503765</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:18:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/211416500ed858b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/211416500ed858b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرمبادلہ ذخائر سنبھالنے کو مملکت میدان میں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503764/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رواں ماہ 3.45 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس کی وجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے قرض کی واپسی ہے، 11 اپریل کو 45 کروڑ ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر کے رول اوورز (جو 2019 سے ہر سال تجدید ہوتے رہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی مدت نسبتاً کم بتائی جاتی ہے)، اور 23 اپریل کو ایک ارب ڈالر۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ بدھ کو یہ اعلان کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران مملکت نے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہے، یقیناً معاشی منتظمین، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد (جو اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے)، کے لیے خوش آئند ریلیف ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز (2031 اور 2036 میں میچور ہونے والے) کی قیمت میں 0.8 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، ادائیگی کی مدت اور عائد کردہ شرحِ سود کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں (13 سے 18 اپریل) کے دوران اورنگزیب نے عندیہ دیا کہ حکومت تقریباً 5 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز/یورو بانڈز یا ممکنہ طور پر سکوک جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان بانڈز (کمرشل قرض) پر منافع کا انحصار (الف) تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی درجہ بندی پر ہے، جو حالیہ بہتری کے باوجود اب بھی نان-انویسٹمنٹ کیٹیگری میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس پر عموماً دوطرفہ یا کثیرالجہتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ منافع دینا ہوگا؛ اور (ب) معیشت کی مجموعی صورتحال پر بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ زرمبادلہ ذخائر تقریباً مکمل طور پر بیرونی قرض پر مشتمل ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی سخت پیشگی شرائط پر بدستور سختی سے عمل کرنا ہوگا، جو معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں اور غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ معاشی ٹیم کے یہ دونوں قائدین مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات کو بنیاد بنا کر ان شرائط میں نرمی یا ان کی مرحلہ وار ترتیبِ نو (ری فیزنگ) پر کامیاب مذاکرات کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق 27 مارچ 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 38 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تھے، جن میں سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مجموعی واپسی تقریباً 21 فیصد بنتی ہے—یہ ایک بڑی رقم ہے، جس کی واپسی اگر سعودی عرب کی یقین دہانی کے بغیر ہوتی تو نہ صرف ضروری درآمدات (ایندھن اور خوراک، جن کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں) کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوتی بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے نسبتاً مستحکم روپے، ڈالر برابری بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں بجٹ میں مختص مارک اپ اخراجات میں اضافہ ہوتا، جو پہلے ہی اوپر کی جانب نظرثانی کے مراحل میں ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے (آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے)، اور یوں 27 اپریل 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر شدید دباؤ پڑتا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے مزید بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کو پاکستان کی نازک معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں سابقہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تعلقات کی خرابی سے جوڑ رہا ہے، تاہم ایک نامعلوم سینئر پاکستانی عہدیدار، جس کے عہدے اور متعلقہ وزارت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ یہ واپسی قومی وقار کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزارتِ خارجہ کی جانب سے 4 اپریل کو یو اے ای کے اخبار خلیج ٹائمز کو جاری کردہ بیان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ ”گمراہ کن اور بے بنیاد تبصروں“ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈپازٹس دوطرفہ کمرشل معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مضبوط حمایت کا مظہر ہیں۔ چنانچہ باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے مطابق حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے، اب میچور ہونے والے یہ ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہی ہے۔ یہ ایک معمول کی مالیاتی لین دین ہے اور اسے کسی اور زاویے سے پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط اور گمراہ کن ہے۔ یہ تعلق وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے عوام مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس کلیدی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے اس دیرپا دوستی کی بنیاد رکھنے میں ادا کیا، نیز پاکستان کے لیے ان کی خصوصی محبت کو بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اس پائیدار تعلق کو مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ نے بجا طور پر ’وقار‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ واضح کیا کہ ”میڈیا کے بعض حلقوں میں حکومتِ پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ سے متعلق قیاس آرائیوں اور تبصروں کے جواب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ وزارتِ خزانہ مسلسل پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کی نگرانی اور انتظام کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتِ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات پورے کرنے کے عزم پر قائم ہے۔“ یہ ایک مناسب ردِعمل تھا، کیونکہ معیاری معاہداتی شق کے تحت قرض دہندہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت میعاد پوری ہونے سے پہلے اصل زر، اس پر واجب الادا سود یا کسی بھی فیس کی واپسی کا تقاضا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ قرض کی واپسی کی معاشی وجوہات میں میکرو اکنامک دباؤ (ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، بلند مہنگائی، علاقائی تنازعات یا دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی جو جاری تنازع کا نتیجہ ہو سکتی ہے) شامل ہیں،اور یہ تمام عوامل موجودہ صورتحال میں لاگو بھی ہوتے ہیں،تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ اس قرض کی واپسی میں جیو پولیٹکس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بہرحال، وزارتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موقف میں ہم آہنگی رکھیں اور جو افراد کسی معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں، وہ عوامی بیانات دینے سے گریز کریں اور ایسے سوالات متعلقہ وزارت کی جانب بھیجیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس بھی تین ایسے پہلو ہیں جنہیں اب تک کابینہ کے کسی رکن نے اجاگر نہیں کیا۔ اول، اتصالات اب بھی 2005 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کے سلسلے میں 80 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الادا ہے، جس پر جمع ہونے والا سود بھی تاحال شمار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والی متعدد حکومتوں نے یو اے ای سے اس معاملے پر مفاہمت کی کوشش کی مگر تاحال کامیابی نہیں ملی۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ حکومت قرض کی واپسی کے تناظر میں اس رقم کے ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، یو اے ای میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی، جو وہاں دوسری بڑی قومی برادری ہیں، ملازمت کرتے ہیں (غیر ہنر مند/نیم ہنر مند اور بڑھتی تعداد میں ہنر مند افراد بھی شامل ہیں)۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خود یو اے ای کو بھی فائدہ ہوتا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں ان پاکستانیوں نے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 10 فیصد بھیجا، 3 ارب 71 کروڑ 18 لاکھ ڈالر، جو کل 38 ارب 29 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ہے۔ مارچ 2026 میں یو اے ای سے ترسیلاتِ زر 82 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں، جو اس ماہ کی مجموعی وصولیوں (3 ارب 83 کروڑ 14 لاکھ ڈالر) کا تقریباً 21.4 فیصد بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں کا تخمینہ، جب اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ تھے، تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا تھا (جس میں بینک ڈپازٹس اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں)۔ اگرچہ تنازع کے باعث رئیل اسٹیٹ کی قدر میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستانی اب بھی یو اے ای میں قابلِ ذکر اثاثے رکھتے ہیں، جن میں سیاستدانوں، نجی شعبے اور دیگر افراد کی ملکیت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، پاکستان بدستور اپنے زرمبادلہ ذخائر مضبوط بنانے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور بطور ثالث ملک کا کردار اس کی قرض لینے کی صلاحیت کو تقویت دے رہا ہے، تاہم امید یہی ہے کہ شرحِ سود اور ادائیگی کی مدت پر پیشگی اور مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور ملک کے اندر غیر روایتی مگر مؤثر پالیسی اقدامات (خصوصاً جاری اخراجات میں کمی) وضع اور نافذ کیے جائیں تاکہ بیرونی و داخلی قرضوں پر انحصار کم ہو، جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں رواں ماہ 3.45 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے، جس کی وجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے قرض کی واپسی ہے، 11 اپریل کو 45 کروڑ ڈالر، 17 اپریل کو 2 ارب ڈالر کے رول اوورز (جو 2019 سے ہر سال تجدید ہوتے رہے، تاہم حالیہ عرصے میں ان کی مدت نسبتاً کم بتائی جاتی ہے)، اور 23 اپریل کو ایک ارب ڈالر۔</strong></p>
<p>گزشتہ بدھ کو یہ اعلان کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران مملکت نے 3 ارب ڈالر کے رول اوور کی یقین دہانی کرائی ہے، یقیناً معاشی منتظمین، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد (جو اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے)، کے لیے خوش آئند ریلیف ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز (2031 اور 2036 میں میچور ہونے والے) کی قیمت میں 0.8 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، ادائیگی کی مدت اور عائد کردہ شرحِ سود کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاسوں (13 سے 18 اپریل) کے دوران اورنگزیب نے عندیہ دیا کہ حکومت تقریباً 5 ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز/یورو بانڈز یا ممکنہ طور پر سکوک جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان بانڈز (کمرشل قرض) پر منافع کا انحصار (الف) تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی درجہ بندی پر ہے، جو حالیہ بہتری کے باوجود اب بھی نان-انویسٹمنٹ کیٹیگری میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس پر عموماً دوطرفہ یا کثیرالجہتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ منافع دینا ہوگا؛ اور (ب) معیشت کی مجموعی صورتحال پر بھی ہے۔</p>
<p>اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ زرمبادلہ ذخائر تقریباً مکمل طور پر بیرونی قرض پر مشتمل ہیں، حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی سخت پیشگی شرائط پر بدستور سختی سے عمل کرنا ہوگا، جو معاشی نمو کو متاثر کر رہی ہیں اور غربت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ معاشی ٹیم کے یہ دونوں قائدین مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات کو بنیاد بنا کر ان شرائط میں نرمی یا ان کی مرحلہ وار ترتیبِ نو (ری فیزنگ) پر کامیاب مذاکرات کر سکیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق 27 مارچ 2026 تک زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 38 کروڑ 17 لاکھ ڈالر تھے، جن میں سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی مجموعی واپسی تقریباً 21 فیصد بنتی ہے—یہ ایک بڑی رقم ہے، جس کی واپسی اگر سعودی عرب کی یقین دہانی کے بغیر ہوتی تو نہ صرف ضروری درآمدات (ایندھن اور خوراک، جن کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے بعد نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں) کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوتی بلکہ گزشتہ کئی ماہ سے نسبتاً مستحکم روپے، ڈالر برابری بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں بجٹ میں مختص مارک اپ اخراجات میں اضافہ ہوتا، جو پہلے ہی اوپر کی جانب نظرثانی کے مراحل میں ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ میں واضح اضافہ ہو رہا ہے (آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 8.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے)، اور یوں 27 اپریل 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر شدید دباؤ پڑتا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ 10.5 فیصد سے مزید بڑھایا جائے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کو پاکستان کی نازک معیشت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے دونوں سابقہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے درمیان تعلقات کی خرابی سے جوڑ رہا ہے، تاہم ایک نامعلوم سینئر پاکستانی عہدیدار، جس کے عہدے اور متعلقہ وزارت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ یہ واپسی قومی وقار کے تحفظ کے لیے ضروری تھی۔</p>
<p>دوسری جانب وزارتِ خارجہ کی جانب سے 4 اپریل کو یو اے ای کے اخبار خلیج ٹائمز کو جاری کردہ بیان میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ ”گمراہ کن اور بے بنیاد تبصروں“ کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ ڈپازٹس دوطرفہ کمرشل معاہدوں کے تحت رکھے گئے تھے، جو پاکستان کی معاشی استحکام اور خوشحالی کے لیے متحدہ عرب امارات کی مضبوط حمایت کا مظہر ہیں۔ چنانچہ باہمی طور پر طے شدہ شرائط کے مطابق حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے، اب میچور ہونے والے یہ ڈپازٹس یو اے ای کو واپس کر رہی ہے۔ یہ ایک معمول کی مالیاتی لین دین ہے اور اسے کسی اور زاویے سے پیش کرنے کی کوئی بھی کوشش غلط اور گمراہ کن ہے۔ یہ تعلق وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے عوام مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس کلیدی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو انہوں نے اس دیرپا دوستی کی بنیاد رکھنے میں ادا کیا، نیز پاکستان کے لیے ان کی خصوصی محبت کو بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اس پائیدار تعلق کو مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ نے بجا طور پر ’وقار‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ واضح کیا کہ ”میڈیا کے بعض حلقوں میں حکومتِ پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ سے متعلق قیاس آرائیوں اور تبصروں کے جواب میں یہ بتایا جاتا ہے کہ وزارتِ خزانہ مسلسل پاکستان کے بیرونی مالی بہاؤ کی نگرانی اور انتظام کر رہی ہے تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p>حکومتِ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی واجبات پورے کرنے کے عزم پر قائم ہے۔“ یہ ایک مناسب ردِعمل تھا، کیونکہ معیاری معاہداتی شق کے تحت قرض دہندہ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت میعاد پوری ہونے سے پہلے اصل زر، اس پر واجب الادا سود یا کسی بھی فیس کی واپسی کا تقاضا کر سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ قرض کی واپسی کی معاشی وجوہات میں میکرو اکنامک دباؤ (ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، بلند مہنگائی، علاقائی تنازعات یا دوطرفہ تعلقات میں تبدیلی جو جاری تنازع کا نتیجہ ہو سکتی ہے) شامل ہیں،اور یہ تمام عوامل موجودہ صورتحال میں لاگو بھی ہوتے ہیں،تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ اس قرض کی واپسی میں جیو پولیٹکس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بہرحال، وزارتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موقف میں ہم آہنگی رکھیں اور جو افراد کسی معاملے سے براہِ راست متعلق نہیں، وہ عوامی بیانات دینے سے گریز کریں اور ایسے سوالات متعلقہ وزارت کی جانب بھیجیں۔</p>
<p>پاکستان کے پاس بھی تین ایسے پہلو ہیں جنہیں اب تک کابینہ کے کسی رکن نے اجاگر نہیں کیا۔ اول، اتصالات اب بھی 2005 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کے سلسلے میں 80 کروڑ ڈالر کی رقم واجب الادا ہے، جس پر جمع ہونے والا سود بھی تاحال شمار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد آنے والی متعدد حکومتوں نے یو اے ای سے اس معاملے پر مفاہمت کی کوشش کی مگر تاحال کامیابی نہیں ملی۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ حکومت قرض کی واپسی کے تناظر میں اس رقم کے ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>دوم، یو اے ای میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی، جو وہاں دوسری بڑی قومی برادری ہیں، ملازمت کرتے ہیں (غیر ہنر مند/نیم ہنر مند اور بڑھتی تعداد میں ہنر مند افراد بھی شامل ہیں)۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خود یو اے ای کو بھی فائدہ ہوتا ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں ان پاکستانیوں نے مجموعی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 10 فیصد بھیجا، 3 ارب 71 کروڑ 18 لاکھ ڈالر، جو کل 38 ارب 29 کروڑ 92 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ہے۔ مارچ 2026 میں یو اے ای سے ترسیلاتِ زر 82 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہیں، جو اس ماہ کی مجموعی وصولیوں (3 ارب 83 کروڑ 14 لاکھ ڈالر) کا تقریباً 21.4 فیصد بنتی ہیں۔</p>
<p>سوم، یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں کا تخمینہ، جب اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ تھے، تقریباً 200 ارب ڈالر لگایا گیا تھا (جس میں بینک ڈپازٹس اور رئیل اسٹیٹ شامل ہیں)۔ اگرچہ تنازع کے باعث رئیل اسٹیٹ کی قدر میں کمی آئی ہے، تاہم پاکستانی اب بھی یو اے ای میں قابلِ ذکر اثاثے رکھتے ہیں، جن میں سیاستدانوں، نجی شعبے اور دیگر افراد کی ملکیت شامل ہے۔</p>
<p>آخر میں، پاکستان بدستور اپنے زرمبادلہ ذخائر مضبوط بنانے کے لیے بیرونی اور داخلی قرضوں پر انحصار کر رہا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور بطور ثالث ملک کا کردار اس کی قرض لینے کی صلاحیت کو تقویت دے رہا ہے، تاہم امید یہی ہے کہ شرحِ سود اور ادائیگی کی مدت پر پیشگی اور مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور ملک کے اندر غیر روایتی مگر مؤثر پالیسی اقدامات (خصوصاً جاری اخراجات میں کمی) وضع اور نافذ کیے جائیں تاکہ بیرونی و داخلی قرضوں پر انحصار کم ہو، جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 20 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503764</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:17:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2114061001d3c05.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2114061001d3c05.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اور عالمِ اسلام میں مزاحمت کی لہر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503704/greater-israel-plan-islamic-resistance</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیسویں صدی میں تین بڑے انقلابات آئے۔ 1917 کے بالشویک انقلاب نے سوویت یونین (یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس) کی بنیاد رکھی جو 1991 میں اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ 1949 کا چینی انقلاب اب بھی اپنی راہ پر گامزن ہے اور عوامی جمہوریہ چین اب امریکہ کی جگہ دنیا کی غالب سپر پاور بننے کے لیے تیار ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب نے امام روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوویت سوشلسٹ سلطنت کے ٹوٹنے کے بعد مغرب نے چین کی سوشلزم کی جانب پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ 1989 میں بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مدد سے ڈینگ شیاؤ پنگ نے اسے کچل دیا اور انقلاب اپنی راہ پر قائم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج تہران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج ) کے ذریعے ایرانی انقلاب کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت گریٹر اسرائیل کے قیام اور ایران کی قیادت میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لیے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی کو دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا صیہونی ریاست کی مکمل زمینی مدد حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے بعد ایران مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت ہے۔ امریکہ، جو دنیا کی قدیم ترین آئینی جمہوریت ہے، کئی مسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے غیر مقبول اور آمرانہ بادشاہتوں کو اقتدار میں رکھنے کا ذمہ دار ہے، جبکہ دوسری طرف صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ شکاری کے ساتھ شکار اور خرگوش کے ساتھ بھاگنے (دوغلی پالیسی) کی بہترین مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ابہام اور دوغلے پن کا خاتمہ ضروری ہے۔ 1980 میں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عراق نے صدام حسین کی قیادت میں عرب بادشاہتوں کی درپردہ حمایت سے ایران پر حملہ کیا۔ اس کا مقصد امام خمینی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کو روکنا تھا، جس نے قبائلی اور خاندانی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ صدام حسین کو استعمال کر کے کمزور کیا گیا اور بالآخر 2003 کے حملے میں اسے ختم کر دیا گیا۔ ایران نے 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد بھی اپنا راستہ برقرار رکھا اور 28 فروری 2026 کو ان کے جانشین علی خامنہ ای کی شہادت بھی اسلامی بیداری کو روکنے میں ناکام رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب ایران میں اسلام لائے جو زمین کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایرانیوں نے نظریے کو اپنایا لیکن عرب طور طریقوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف پیغام کو سمجھا بلکہ تصوف کے ذریعے اس کی روحانی گہرائیوں میں اتر گئے۔ تیرہویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی اور بیسویں صدی میں ڈاکٹر محمد اقبال نے اس پیغام کی نئی تفہیم پیش کی۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبال کے خیالات کو ایران منتقل کیا اور اس بیداری کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اقبال لاہوری کو ایران میں ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج گریٹر اسرائیل اور اسلامی بیداری کے درمیان جنگ کی لکیریں واضح ہیں۔ مغرب کی بنیادی دلچسپی اس خطے کے تیل میں ہے، جس کے لیے عوام کو آمریتوں اور قبائلی حکمرانی کے ذریعے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ مغربی طاقتوں اور محصور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پرامن علیحدگی ہونی چاہیے۔ تیل کی فراہمی کے معاہدے کے بعد تمام امریکی اڈے بند کیے جانے چاہئیں۔ تب ہی اسرائیل اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنے اور توسیع پسندانہ عزائم چھوڑنے پر مجبور ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی پیش قدمی اور اسلامی بیداری اب ناقابلِ تسخیر ہے۔ خفیہ کارروائیوں اور قتل و غارت گری کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے صرف بادشاہت سے نجات حاصل نہیں کی بلکہ اس کے تمام نشانات بھی مٹا دیے ہیں۔ اب محمد رضا پہلوی کے بیٹے کے پاس اقتدار میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔ سی آئی اے 1953 میں محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شاہ کو واپس لائی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بدل چکی ہے۔ 21 ویں صدی کو چین کی صدی اور اسلامی بیداری کا دور قرار دیا گیا ہے، جبکہ مغرب زوال پذیر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جنگی جنون کی منتر سے دنیا کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ امن کو دوستانہ طریقوں سے غالب آنے دیں۔ صیہونی ریاست کو امن سے رہنے کے لیے دو ریاستی فارمولا تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے 1930 کی دہائی میں ہی سرمایہ داری کے خاتمے اور چینی سوشلزم کے عروج کی پیش گوئی کر دی تھی ” &lt;em&gt;گیا دورِ سرمایہ داری گیا، تماشا دکھا کر مداری گیا&lt;/em&gt; ”رومی اور اقبال کا اسلام آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کو نئی زندگی عطا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیسویں صدی میں تین بڑے انقلابات آئے۔ 1917 کے بالشویک انقلاب نے سوویت یونین (یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس) کی بنیاد رکھی جو 1991 میں اس کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ 1949 کا چینی انقلاب اب بھی اپنی راہ پر گامزن ہے اور عوامی جمہوریہ چین اب امریکہ کی جگہ دنیا کی غالب سپر پاور بننے کے لیے تیار ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب نے امام روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا۔</strong></p>
<p>سوویت سوشلسٹ سلطنت کے ٹوٹنے کے بعد مغرب نے چین کی سوشلزم کی جانب پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کی۔ 1989 میں بیجنگ کے تیانمن اسکوائر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا لیکن کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی مدد سے ڈینگ شیاؤ پنگ نے اسے کچل دیا اور انقلاب اپنی راہ پر قائم رہا۔</p>
<p>آج تہران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج ) کے ذریعے ایرانی انقلاب کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت گریٹر اسرائیل کے قیام اور ایران کی قیادت میں اسلامی بیداری کو روکنے کے لیے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اسرائیل کی توسیع پسندی کو دنیا کی واحد سپر پاور کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی قیادت میں ہندوتوا صیہونی ریاست کی مکمل زمینی مدد حاصل ہے۔</p>
<p>اسرائیل کے بعد ایران مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوریت ہے۔ امریکہ، جو دنیا کی قدیم ترین آئینی جمہوریت ہے، کئی مسلم ممالک میں اپنے فوجی اڈوں کے ذریعے غیر مقبول اور آمرانہ بادشاہتوں کو اقتدار میں رکھنے کا ذمہ دار ہے، جبکہ دوسری طرف صیہونیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ شکاری کے ساتھ شکار اور خرگوش کے ساتھ بھاگنے (دوغلی پالیسی) کی بہترین مثال ہے۔</p>
<p>اس ابہام اور دوغلے پن کا خاتمہ ضروری ہے۔ 1980 میں اسلامی انقلاب کے فوراً بعد عراق نے صدام حسین کی قیادت میں عرب بادشاہتوں کی درپردہ حمایت سے ایران پر حملہ کیا۔ اس کا مقصد امام خمینی کی قیادت میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کو روکنا تھا، جس نے قبائلی اور خاندانی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی۔ صدام حسین کو استعمال کر کے کمزور کیا گیا اور بالآخر 2003 کے حملے میں اسے ختم کر دیا گیا۔ ایران نے 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد بھی اپنا راستہ برقرار رکھا اور 28 فروری 2026 کو ان کے جانشین علی خامنہ ای کی شہادت بھی اسلامی بیداری کو روکنے میں ناکام رہے گی۔</p>
<p>عرب ایران میں اسلام لائے جو زمین کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایرانیوں نے نظریے کو اپنایا لیکن عرب طور طریقوں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف پیغام کو سمجھا بلکہ تصوف کے ذریعے اس کی روحانی گہرائیوں میں اتر گئے۔ تیرہویں صدی میں مولانا جلال الدین رومی اور بیسویں صدی میں ڈاکٹر محمد اقبال نے اس پیغام کی نئی تفہیم پیش کی۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اقبال کے خیالات کو ایران منتقل کیا اور اس بیداری کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر اقبال لاہوری کو ایران میں ایک ولی کے طور پر مانا جاتا ہے۔</p>
<p>آج گریٹر اسرائیل اور اسلامی بیداری کے درمیان جنگ کی لکیریں واضح ہیں۔ مغرب کی بنیادی دلچسپی اس خطے کے تیل میں ہے، جس کے لیے عوام کو آمریتوں اور قبائلی حکمرانی کے ذریعے یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ مغربی طاقتوں اور محصور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان پرامن علیحدگی ہونی چاہیے۔ تیل کی فراہمی کے معاہدے کے بعد تمام امریکی اڈے بند کیے جانے چاہئیں۔ تب ہی اسرائیل اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنے اور توسیع پسندانہ عزائم چھوڑنے پر مجبور ہوگا۔</p>
<p>چین کی پیش قدمی اور اسلامی بیداری اب ناقابلِ تسخیر ہے۔ خفیہ کارروائیوں اور قتل و غارت گری کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران نے صرف بادشاہت سے نجات حاصل نہیں کی بلکہ اس کے تمام نشانات بھی مٹا دیے ہیں۔ اب محمد رضا پہلوی کے بیٹے کے پاس اقتدار میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔ سی آئی اے 1953 میں محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر شاہ کو واپس لائی تھی لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔</p>
<p>دنیا بدل چکی ہے۔ 21 ویں صدی کو چین کی صدی اور اسلامی بیداری کا دور قرار دیا گیا ہے، جبکہ مغرب زوال پذیر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو جنگی جنون کی منتر سے دنیا کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ امن کو دوستانہ طریقوں سے غالب آنے دیں۔ صیہونی ریاست کو امن سے رہنے کے لیے دو ریاستی فارمولا تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے 1930 کی دہائی میں ہی سرمایہ داری کے خاتمے اور چینی سوشلزم کے عروج کی پیش گوئی کر دی تھی ” <em>گیا دورِ سرمایہ داری گیا، تماشا دکھا کر مداری گیا</em> ”رومی اور اقبال کا اسلام آنے والے وقتوں میں مسلم دنیا کو نئی زندگی عطا کرے گا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 19 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503704</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 09:34:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر فرید اے ملک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/200929438e99378.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/200929438e99378.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مڈل ایسٹ پاکستان ٹریٹی آرگنائزیشن، نئے عالمی نظام کا حل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503707/middle-east-pakistan-treaty-organization-new-world-order-solution</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کچھ بھی ہوں، اصل فاتح پہلے ہی سامنے آ چکا ہے اور یہی عالمی امن کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس عمل میں پاکستان ایک قابلِ اعتماد واسطہ بن کر ابھرا ہے جس نے متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت بلاشبہ تاریخ کے صفحات میں پاکستان کی آزادی کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر درج ہوگی۔ دراصل یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر اسے اپنے مخالفین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971 میں پاکستان وہ پل تھا جس کے ذریعے امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان پہلی بار رابطہ قائم ہوا، جب 1949 میں کمیونسٹ چین کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح اس بار بھی تقریباً 50 سال کے وقفے کے بعد پاکستان کی سرزمین نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی ملاقات کی راہ ہموار کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر اس منفرد مقام کے حصول نے اب بھارت کے دارالحکومت میں 7 سے 8 شدت کے سیاسی جھٹکے پیدا کر دیے ہیں۔ بھارتی ٹی وی اینکرز اور نام نہاد دفاعی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا بے قابو ردِعمل ناقابلِ یقین ہے۔ درحقیقت یہ عالمی سطح پر جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود ایک طرح کی مزاحیہ تفریح بن گیا ہے۔ وہ مسخروں اور جوکروں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں، پہلے تو وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں (جو کسی حد تک درست ہے) اور دوسرے نمبر پر پاکستان کے امن قائم کرنے والے کردار کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی (اپنے چند نفرت انگیز وزرا کے ساتھ) بھارت کی تنہائی کا بنیادی ذمہ دار ہے۔ اس نے اسرائیل اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف صف بندی کو دانشمندی سمجھا۔ بھارت اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں، حالانکہ ایران پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلق رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے اس دوستی سے بھرپور معاشی فائدہ اٹھایا، تاہم بچھو کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈنک مارتا ہے، اور بالکل یہی بھارت نے ایران کے ساتھ کیا۔ مودی نے 22 سے 25 فروری کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا اور انہیں سرخ قالین استقبال اور اعزاز سے نوازا گیا۔ 28 فروری کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ بھارت نے ایران کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی کی، اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اس سے سفارتی دوغلے پن اور دوہرے معیار کا ایک بہت تکلیف دہ سبق سیکھا ہے۔ جے شنکر دی پرنس (میکیاولی) کا ایک اچھا شاگرد بن کر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے خود کو ایسی آگ پر کھڑا کر لیا ہے جس میں وہ اپنے سفارتی وجود کی چتا کے نیچے صندل کی لکڑیاں خود ہی جلا رہا ہے۔ ردعمل کی یہ دیوانگی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ ایک سابق امریکی سفارتکار نے ایک معتبر بھارتی ٹی وی چینل پر اینکرز، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو اسکول کے بچے قرار دے دیا۔ اس نے انہیں ایک بہترین خاموش رہنے کا مشورہ دیا، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، کیونکہ بھارت میں فضا صرف اس بات کی گونج سے بھری ہوئی ہے کہ پاکستان نے یہ مقام اور اعتماد کیسے حاصل کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاگل پن میں بھی کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے، مگر یہاں ایسا کچھ نہیں—یہ ایک مکمل افراتفری ہے۔ ایک اینکر نے تو حد سے بڑھ کر تصوراتی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس کو لے جانے والا طیارہ پرواز کے دوران واپس مڑ گیا۔ آخرکار اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہوگا کہ نائب صدر کے طیارے کے پہیے اسلام آباد کی زمین (ٹارمک) کو چھو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی خاموش مگر مسلسل سفارتی کوششیں، جو ریاض، ابوظہبی، دوحہ، تہران، استنبول، قاہرہ اور خاص طور پر ماسکو اور بیجنگ کے ذریعے کی گئیں، قابلِ ستائش ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے انتھک محنت کی۔ دنیا کے تمام رہنماؤں نے، سوائے ناراض مشرقی ہمسایہ کے، پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور مسلح افواج کے غیر معروف ہیروز کو قوم کا سلام پیش کرنا چاہیے۔ وہ واقعی بہترین قیادت میں کام کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سفارتی کامیابی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد، بااعتماد اور قابلِ بھروسہ کردار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ طویل عرصے بعد پاکستان درست وجوہات کی بنا پر آکلینڈ سے اینکریج تک، ٹوکیو سے مونٹیویڈیو تک ٹی وی اسکرینوں پر نمایاں نظر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج فارس کا بحران بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسے فریقین کی جانب سے دی جانے والی سلامتی کی ضمانتیں جو خود خطے کا حصہ نہیں ہوتے، زیادہ قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ نیٹو اس کی ایک مثال ہے۔ 1949 میں قائم ہونے والا یہ اتحاد ایک سیاسی و عسکری اتحاد تھا جو امن اور استحکام کے لیے ایک ٹرانس اٹلانٹک پل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس کے اجتماعی دفاع کے اصول (آرٹیکل 5) کے مطابق ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اس کے 32 اراکین ہیں (جس میں سویڈن تازہ ترین رکن ہے)۔ درحقیقت یہ اتحاد اب بکھر چکا ہے۔ یوکرین اس کی ایک اور مثال ہے۔ صدر ٹرمپ کی نیٹو سے متعلق ناراضگی اس وقت ظاہر ہوئی جب انہوں نے 32 ممالک کے رہنماؤں کو بزدل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹو (1955) سوویت یونین (کمیونسٹ) کی مشرقِ وسطیٰ میں توسیع پسندی کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا؛ اس میں ترکی، عراق، ایران اور پاکستان شامل تھے۔ سینٹو کی قیادت امریکہ نے ایک مستحکم ضامن کے طور پر کی۔ 1965 اور 1971 میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سینٹو تماشائیوں کے بکس میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے 1972 میں پاکستان کو سینٹو سے نکال لیا۔ سینٹو 1979 میں نظراندازی کی موت مر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیٹو(1954) کمیونزم کے پھیلاؤ کو ایشیا میں روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ 1953 کی کوریا جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا؛ اس کے اراکین میں وہ ممالک بھی شامل تھے جو ایشیا کا حصہ نہیں تھے (ضامن قوتیں) — امریکہ، فرانس، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا۔ ایک بار پھر، ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں سیٹو کو چھوڑنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ ویتنام جنگ کے دوران بھی سیٹو منظر سے غائب رہا۔ یہ اتحاد بھی اپنی انجامِ کار کو پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بات یہ ہے کہ کوئی بھی بیرونی فریق، جو خود خطے کا حصہ نہ ہو، سیکیورٹی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ حالیہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ، اس کے باوجود کہ خطے میں متعدد امریکی اڈے موجود ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خطے کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک زیادہ قابلِ اعتماد اتحادی ہے۔ آج (12 اپریل 2026) خبروں میں تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستانی فوجی اور طیارے سعودی سرزمین پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دے کر ترکی، عراق، شام، لبنان، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، یمن، عمان اور قطر کو بھی شامل کیا جانا چاہیے؛ اس سے مڈل ایسٹ-پاکستان ٹریٹی آرگنائزیشن (میپٹو) کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ اس نظام میں پاکستان، جو واحد ایٹمی طاقت ہوگا، اس تنظیم کی قیادت کرے، جس کا واحد مقصد خطے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہو؛ اور تمام باہمی اختلافات جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیے جائیں۔ امریکہ کا اعتماد حاصل ہونے کے بعد پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ بن سکتا ہے۔ کسی بھی معاشی اتحاد، خواہ کثیرالملکی ہو یا دو طرفہ، اس تعاون کے ضمنی فوائد ہو سکتے ہیں۔ میپٹو کا ہیڈکوارٹر استنبول میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل اور خطے کے اندر یا باہر کسی بھی عسکری مہم جو ملک کو قابو میں رکھا جا سکے؛ میپٹو کا ادارہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین، جس نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، کو اس طرح کے کسی بھی پاکستانی عسکری اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چونکہ خطے کے تقریباً تمام ممالک کے امریکہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں، اس لیے ان کی رضامندی اور منظوری حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار، بالغ اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے۔ صرف اسلام آباد مذاکرات کا انعقاد ہی میپٹو کی ضرورت اور جواز کو ثابت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صیہونی اور ہندوتوا سے متاثر میڈیا یہ ثابت کرنے کے لیے اضافی وقت کام کرے گا کہ اسلام آباد مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ مخالفین کے لیے 50 سال کے وقفے کے بعد ملاقات خود ایک کامیابی ہے۔ اس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ مذاکرات میں جو بھی خامیاں تھیں وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھیں، انہوں نے ایک شاندار کام کیا اور واقعی امریکہ اور ایرانیوں کے درمیان خلا کو پُر کرنے اور معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیحہ لودھی ایک صحافی اور بہترین سفارتکار، نے ایک ٹویٹ میں نہایت درست بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں کسی بھی فوری فیصلے سے گریز کرنا چاہیے جو ابھی بمشکل شروع ہوئے ہیں۔ سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی واقعہ نہیں۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ عمل جلد کوئی نتیجہ دے گا وہ غلط ہے۔ اسے نہ تو بڑی کامیابی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ناکامی کے طور پر۔ یہ واضح ہے کہ لبنان پر حملہ اسرائیل کی جانب سے اس لیے کیا گیا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اس کی منصوبہ بندی، نیت اور ڈیزائن کا مقصد مذاکرات کو کمزور کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے دنوں میں ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے اتحاد اور انضمام کے رجحان کے بارے میں پڑھا تھا جیسے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (یو اے آر) جو مصر اور شام کے درمیان تھا اور صرف چند سال ہی چل سکا۔ اسی طرح لیبیا کا مصر اور شام کے ساتھ اتحاد بھی فائل میں ہی ختم ہو گیا۔ یہ کلاسیکی مثالیں ہیں، اور ایسے اتحادوں پر طلبہ مزاحاً کہا کرتے تھے کہ دو برادر ممالک نے بہنوں جیسے تعلقات قائم کر لیے یا دو بہن ریاستوں نے برادرانہ تعلقات قائم کر لیے! یہ تمام اتحاد ہوا میں تحلیل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل جیسے ادارے طویل عرصے سے آئی سی یو میں ہیں — بہتر ہوگا کہ ان کے وینٹی لیٹرز ہٹا دیے جائیں اور انہیں ایک پرامن موت/اختتام دیا جائے۔ میپٹو نئی عالمی ترتیب میں حل ہے۔ پاکستان اس کی قیادت کر سکتا ہے، کیونکہ اب اسے مغرب اور بحرِ اوقیانوس کے ممالک میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کچھ بھی ہوں، اصل فاتح پہلے ہی سامنے آ چکا ہے اور یہی عالمی امن کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اس عمل میں پاکستان ایک قابلِ اعتماد واسطہ بن کر ابھرا ہے جس نے متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔ یہ حقیقت بلاشبہ تاریخ کے صفحات میں پاکستان کی آزادی کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر درج ہوگی۔ دراصل یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر اسے اپنے مخالفین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔</strong></p>
<p>1971 میں پاکستان وہ پل تھا جس کے ذریعے امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان پہلی بار رابطہ قائم ہوا، جب 1949 میں کمیونسٹ چین کے قیام کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح اس بار بھی تقریباً 50 سال کے وقفے کے بعد پاکستان کی سرزمین نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پہلی ملاقات کی راہ ہموار کی۔</p>
<p>عالمی سطح پر اس منفرد مقام کے حصول نے اب بھارت کے دارالحکومت میں 7 سے 8 شدت کے سیاسی جھٹکے پیدا کر دیے ہیں۔ بھارتی ٹی وی اینکرز اور نام نہاد دفاعی و بین الاقوامی امور کے ماہرین کا بے قابو ردِعمل ناقابلِ یقین ہے۔ درحقیقت یہ عالمی سطح پر جاری کشیدہ صورتحال کے باوجود ایک طرح کی مزاحیہ تفریح بن گیا ہے۔ وہ مسخروں اور جوکروں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں، پہلے تو وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں (جو کسی حد تک درست ہے) اور دوسرے نمبر پر پاکستان کے امن قائم کرنے والے کردار کو ناکام بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>مودی (اپنے چند نفرت انگیز وزرا کے ساتھ) بھارت کی تنہائی کا بنیادی ذمہ دار ہے۔ اس نے اسرائیل اور بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف صف بندی کو دانشمندی سمجھا۔ بھارت اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں، حالانکہ ایران پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلق رکھتا ہے۔</p>
<p>بھارت نے اس دوستی سے بھرپور معاشی فائدہ اٹھایا، تاہم بچھو کی فطرت یہ ہوتی ہے کہ وہ ڈنک مارتا ہے، اور بالکل یہی بھارت نے ایران کے ساتھ کیا۔ مودی نے 22 سے 25 فروری کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا اور انہیں سرخ قالین استقبال اور اعزاز سے نوازا گیا۔ 28 فروری کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ بھارت نے ایران کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی کی، اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اس سے سفارتی دوغلے پن اور دوہرے معیار کا ایک بہت تکلیف دہ سبق سیکھا ہے۔ جے شنکر دی پرنس (میکیاولی) کا ایک اچھا شاگرد بن کر سامنے آیا ہے۔</p>
<p>بھارت نے خود کو ایسی آگ پر کھڑا کر لیا ہے جس میں وہ اپنے سفارتی وجود کی چتا کے نیچے صندل کی لکڑیاں خود ہی جلا رہا ہے۔ ردعمل کی یہ دیوانگی اتنی مضحکہ خیز تھی کہ ایک سابق امریکی سفارتکار نے ایک معتبر بھارتی ٹی وی چینل پر اینکرز، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو اسکول کے بچے قرار دے دیا۔ اس نے انہیں ایک بہترین خاموش رہنے کا مشورہ دیا، تاہم اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، کیونکہ بھارت میں فضا صرف اس بات کی گونج سے بھری ہوئی ہے کہ پاکستان نے یہ مقام اور اعتماد کیسے حاصل کیا؟</p>
<p>عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاگل پن میں بھی کوئی نہ کوئی طریقہ ہوتا ہے، مگر یہاں ایسا کچھ نہیں—یہ ایک مکمل افراتفری ہے۔ ایک اینکر نے تو حد سے بڑھ کر تصوراتی رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس کو لے جانے والا طیارہ پرواز کے دوران واپس مڑ گیا۔ آخرکار اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا ہوگا کہ نائب صدر کے طیارے کے پہیے اسلام آباد کی زمین (ٹارمک) کو چھو رہے تھے۔</p>
<p>پاکستان کی خاموش مگر مسلسل سفارتی کوششیں، جو ریاض، ابوظہبی، دوحہ، تہران، استنبول، قاہرہ اور خاص طور پر ماسکو اور بیجنگ کے ذریعے کی گئیں، قابلِ ستائش ہیں۔ نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے انتھک محنت کی۔ دنیا کے تمام رہنماؤں نے، سوائے ناراض مشرقی ہمسایہ کے، پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ اور مسلح افواج کے غیر معروف ہیروز کو قوم کا سلام پیش کرنا چاہیے۔ وہ واقعی بہترین قیادت میں کام کر رہے تھے۔</p>
<p>اس سفارتی کامیابی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد، بااعتماد اور قابلِ بھروسہ کردار کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ طویل عرصے بعد پاکستان درست وجوہات کی بنا پر آکلینڈ سے اینکریج تک، ٹوکیو سے مونٹیویڈیو تک ٹی وی اسکرینوں پر نمایاں نظر آیا۔</p>
<p>خلیج فارس کا بحران بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسے فریقین کی جانب سے دی جانے والی سلامتی کی ضمانتیں جو خود خطے کا حصہ نہیں ہوتے، زیادہ قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ نیٹو اس کی ایک مثال ہے۔ 1949 میں قائم ہونے والا یہ اتحاد ایک سیاسی و عسکری اتحاد تھا جو امن اور استحکام کے لیے ایک ٹرانس اٹلانٹک پل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس کے اجتماعی دفاع کے اصول (آرٹیکل 5) کے مطابق ایک رکن پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اس کے 32 اراکین ہیں (جس میں سویڈن تازہ ترین رکن ہے)۔ درحقیقت یہ اتحاد اب بکھر چکا ہے۔ یوکرین اس کی ایک اور مثال ہے۔ صدر ٹرمپ کی نیٹو سے متعلق ناراضگی اس وقت ظاہر ہوئی جب انہوں نے 32 ممالک کے رہنماؤں کو بزدل قرار دیا۔</p>
<p>سینٹو (1955) سوویت یونین (کمیونسٹ) کی مشرقِ وسطیٰ میں توسیع پسندی کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا؛ اس میں ترکی، عراق، ایران اور پاکستان شامل تھے۔ سینٹو کی قیادت امریکہ نے ایک مستحکم ضامن کے طور پر کی۔ 1965 اور 1971 میں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سینٹو تماشائیوں کے بکس میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے 1972 میں پاکستان کو سینٹو سے نکال لیا۔ سینٹو 1979 میں نظراندازی کی موت مر گیا۔</p>
<p>سیٹو(1954) کمیونزم کے پھیلاؤ کو ایشیا میں روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ 1953 کی کوریا جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا؛ اس کے اراکین میں وہ ممالک بھی شامل تھے جو ایشیا کا حصہ نہیں تھے (ضامن قوتیں) — امریکہ، فرانس، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا۔ ایک بار پھر، ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں سیٹو کو چھوڑنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔ ویتنام جنگ کے دوران بھی سیٹو منظر سے غائب رہا۔ یہ اتحاد بھی اپنی انجامِ کار کو پہنچ گیا۔</p>
<p>یہاں بات یہ ہے کہ کوئی بھی بیرونی فریق، جو خود خطے کا حصہ نہ ہو، سیکیورٹی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ حالیہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ، اس کے باوجود کہ خطے میں متعدد امریکی اڈے موجود ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خطے کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ایک زیادہ قابلِ اعتماد اتحادی ہے۔ آج (12 اپریل 2026) خبروں میں تصدیق ہوئی ہے کہ پاکستانی فوجی اور طیارے سعودی سرزمین پر موجود ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کو مزید وسعت دے کر ترکی، عراق، شام، لبنان، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، یمن، عمان اور قطر کو بھی شامل کیا جانا چاہیے؛ اس سے مڈل ایسٹ-پاکستان ٹریٹی آرگنائزیشن (میپٹو) کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے۔ اس نظام میں پاکستان، جو واحد ایٹمی طاقت ہوگا، اس تنظیم کی قیادت کرے، جس کا واحد مقصد خطے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہو؛ اور تمام باہمی اختلافات جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیے جائیں۔ امریکہ کا اعتماد حاصل ہونے کے بعد پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں نیٹ سیکیورٹی فراہم کنندہ بن سکتا ہے۔ کسی بھی معاشی اتحاد، خواہ کثیرالملکی ہو یا دو طرفہ، اس تعاون کے ضمنی فوائد ہو سکتے ہیں۔ میپٹو کا ہیڈکوارٹر استنبول میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل اور خطے کے اندر یا باہر کسی بھی عسکری مہم جو ملک کو قابو میں رکھا جا سکے؛ میپٹو کا ادارہ ضروری ہے۔</p>
<p>چین، جس نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، کو اس طرح کے کسی بھی پاکستانی عسکری اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چونکہ خطے کے تقریباً تمام ممالک کے امریکہ کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں، اس لیے ان کی رضامندی اور منظوری حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔</p>
<p>پاکستان نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار، بالغ اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے۔ صرف اسلام آباد مذاکرات کا انعقاد ہی میپٹو کی ضرورت اور جواز کو ثابت کرتا ہے۔</p>
<p>صیہونی اور ہندوتوا سے متاثر میڈیا یہ ثابت کرنے کے لیے اضافی وقت کام کرے گا کہ اسلام آباد مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ مخالفین کے لیے 50 سال کے وقفے کے بعد ملاقات خود ایک کامیابی ہے۔ اس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ مذاکرات میں جو بھی خامیاں تھیں وہ پاکستان کی وجہ سے نہیں تھیں، انہوں نے ایک شاندار کام کیا اور واقعی امریکہ اور ایرانیوں کے درمیان خلا کو پُر کرنے اور معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ملیحہ لودھی ایک صحافی اور بہترین سفارتکار، نے ایک ٹویٹ میں نہایت درست بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں کسی بھی فوری فیصلے سے گریز کرنا چاہیے جو ابھی بمشکل شروع ہوئے ہیں۔ سفارت کاری ایک عمل ہے، کوئی واقعہ نہیں۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ عمل جلد کوئی نتیجہ دے گا وہ غلط ہے۔ اسے نہ تو بڑی کامیابی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ناکامی کے طور پر۔ یہ واضح ہے کہ لبنان پر حملہ اسرائیل کی جانب سے اس لیے کیا گیا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اس کی منصوبہ بندی، نیت اور ڈیزائن کا مقصد مذاکرات کو کمزور کرنا تھا۔</p>
<p>یونیورسٹی کے دنوں میں ہم نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے اتحاد اور انضمام کے رجحان کے بارے میں پڑھا تھا جیسے یونائیٹڈ عرب ریپبلک (یو اے آر) جو مصر اور شام کے درمیان تھا اور صرف چند سال ہی چل سکا۔ اسی طرح لیبیا کا مصر اور شام کے ساتھ اتحاد بھی فائل میں ہی ختم ہو گیا۔ یہ کلاسیکی مثالیں ہیں، اور ایسے اتحادوں پر طلبہ مزاحاً کہا کرتے تھے کہ دو برادر ممالک نے بہنوں جیسے تعلقات قائم کر لیے یا دو بہن ریاستوں نے برادرانہ تعلقات قائم کر لیے! یہ تمام اتحاد ہوا میں تحلیل ہو گئے۔</p>
<p>عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل جیسے ادارے طویل عرصے سے آئی سی یو میں ہیں — بہتر ہوگا کہ ان کے وینٹی لیٹرز ہٹا دیے جائیں اور انہیں ایک پرامن موت/اختتام دیا جائے۔ میپٹو نئی عالمی ترتیب میں حل ہے۔ پاکستان اس کی قیادت کر سکتا ہے، کیونکہ اب اسے مغرب اور بحرِ اوقیانوس کے ممالک میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503707</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 09:44:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/20094406542a6d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/20094406542a6d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فتح کے بغیر جنگ بندی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503490/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی 40 روزہ محاذ آرائی کی مدھم پڑتی بازگشت کے درمیان، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو نظامی ٹوٹ پھوٹ کے دہانے تک پہنچا دیا، ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: یہ ایسی جنگ تھی جس نے امن نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو ازسرِنو مرتب کیا، اور جو فتح کے بجائے دونوں جانب کی تھکن پر ختم ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ ایسے مرحلے تک جا پہنچی تھی جہاں اس کا تسلسل نہ صرف علاقائی فریقین بلکہ خود عالمی نظام کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک ایسے فریق کے طور پر ابھرتا ہے جو نہ صرف اس بحران سے بچ نکلا بلکہ اس کی سودے بازی کی پوزیشن بھی مزید مضبوط ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت طویل عرصے سے جاری ’ایران نیوکلیئر اسٹینڈ آف‘ ( ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر پیدا ہونے والا طویل تعطل یا کشیدگی، جہاں ایران اور مغربی طاقتوں (خصوصاً امریکہ) کے درمیان اعتماد کا فقدان، پابندیاں، اور مذاکرات ایک پیچیدہ تنازع کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔) سے ہٹ کر ایک جیوپولیٹیکل و معاشی مقابلے کی جانب ڈرامائی تبدیلی کی عکاس ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسائل مذاکراتی میز پر آئیں گے۔ آئندہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے اور ان میں بارہا اتار چڑھاؤ اور نازک چیلنجز درپیش رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب قائم ہونے والی جنگ بندی مفاہمت یا کسی حتمی حل کا نتیجہ نہیں، بلکہ حریف قوتوں کے اس مشترکہ ادراک کی پیداوار ہے کہ مزید کشیدگی نہ صرف تزویراتی طور پر بے سود بلکہ معاشی طور پر خود تباہ کن ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس اچانک جنگ بندی کی کوئی ایک بنیادی وجہ بیان کی جائے تو وہ بڑھتے ہوئے معاشی خطرات کے دباؤ میں باہمی حدود کا ادراک ہے۔ ایران نے اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً عالمی توانائی کی شہ رگ،( آبنائے ہرمز) کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت ظاہر کی، جبکہ اس کے مخالفین نے مسلسل مگر غیر فیصلہ کن نقصان پہنچانے کی اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوں جوں تیل کی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوئیں، بحری راستے غیر یقینی بنتے گئے اور عالمی معیشت اس جھٹکے کو جذب کرنے لگی، لاگت اور فائدے کا توازن واضح طور پر تبدیل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ یہ تنازع وہ نتائج حاصل نہ کر سکا جن کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، یعنی نہ تو حکومت کا عدم استحکام پیدا ہوا اور نہ ہی اسٹریٹجک سطح پر جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیلا جا سکا۔ مزید برآں، جنگ کے بعد مذاکرات کا ایجنڈا اب محض جوہری معاملے تک محدود نہیں رہا، جو جنگ سے قبل سفارت کاری کا مرکزی محور تھا۔ اب یہ کہیں زیادہ پیچیدہ دائرے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت کے نظم و نسق میں باضابطہ کردار، حتیٰ کہ اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کے مطالبات کے ساتھ ساتھ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے یا تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کا تقاضا بھی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال عدم پھیلاؤ کے ایک محدود تنازع سے نکل کر خودمختاری، عالمی توانائی راہداریوں پر کنٹرول اور جنگی اخراجات کی نئی تقسیم پر مبنی ایک وسیع تر جیو اکنامک مقابلے میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس جنگ بندی کو امن کی تمہید قرار دینا تجزیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک وقفہ ہے، نازک، مشروط اور کسی بھی وقت پلٹ جانے کے امکان سے دوچار۔ تنازع کے بنیادی اسباب بدستور حل طلب ہیں: جوہری معاملہ، پابندیوں کا نظام، خطے میں پراکسی کشمکش اور گہری جڑیں رکھنے والا عدم اعتماد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی منظم سیاسی فریم ورک یا قابلِ عمل ضمانتوں کی عدم موجودگی اس بندوبست کی پائیداری کو مزید کمزور کرتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسی جنگ بندیاں اکثر مستقل امن میں ڈھلنے کے بجائے طویل سرد کشیدگی میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جہاں وقفے وقفے سے تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ کے اثرات فوری میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے سب سے بڑا نتیجہ اس کے روایتی سکیورٹی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔ بیرونی سکیورٹی ضمانتوں کی وہ قابلِ بھروسا حیثیت، جسے طویل عرصے سے مسلمہ سمجھا جاتا تھا، اب سوالیہ نشان بن چکی ہے، جس کے باعث علاقائی ریاستیں اپنی تزویراتی وابستگیوں پر ازسرِنو غور کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ خودمختار دفاعی حکمتِ عملیوں اور متنوع اتحادوں کی جانب جھکاؤ تیز ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی غیر مستحکم خطے میں پیچیدگی کی ایک نئی سطح کا اضافہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی اعتبار سے بھی یہ جنگ ایسے نقصانات چھوڑ گئی ہے جو جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں خلل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مجموعی کمی نے مل کر ایک ساختی لاگت مسلط کر دی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں استحکام واپس آ بھی جائے، مگر نفسیاتی اثرات، خصوصاً بڑھتے ہوئے خطرات کے تاثر، طویل عرصے تک برقرار رہیں گے، جو اقتصادی منصوبہ بندی اور علاقائی انضمام کو متاثر کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا، اور بالخصوص پاکستان کے لیے یہ تنازع ایک طرف موقع اور دوسری طرف خطرات کا پیچیدہ امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک جانب پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں اور مصالحتی کوششوں میں کردار نے اسے ایک پولرائزڈ ماحول میں قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ یہ ایک وسیع تر تزویراتی امکان کی عکاسی بھی کرتا ہے: یعنی خود کو ایک حاشیائی فریق سے نکال کر ایک ایسے رابطہ کار مرکز ( کنیکٹیو پی وٹ) کے طور پر ازسرِنو متعین کرنا جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں کو جوڑ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس کے فوری معاشی اثرات سنگین چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مالی دباؤ کو بڑھاتا ہے، بیرونی کھاتوں میں عدم توازن کو وسیع کرتا ہے، اور مہنگائی کے رجحانات کو تیز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، جیوپولیٹیکل اثرات کے پھیلاؤ کا خطرہ، خواہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت میں ہو یا علاقائی پراکسی وابستگیوں کے ذریعے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی تنازعات اکثر اندرونی سطح پر بھی جھلک دکھاتے ہیں، خصوصاً ایسے معاشروں میں جو سیاسی اور معاشی دباؤ کا شکار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع سے حاصل ہونے والا بنیادی اسٹریٹجک سبق کسی نئے عالمی نظام کا ظہور نہیں بلکہ پہلے سے جاری اس تبدیلی کے عمل میں تیزی ہے جو کثیر القطبی (ملٹی پولر) عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کسی ایک فریق نے فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کی، بلکہ اس جنگ نے پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے عالمی نظام میں طاقت کے محدود دائرۂ کار کو بے نقاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازعات کے نتائج کی تشکیل میں غیر روایتی عوامل، معاشی باہمی انحصار، عالمی منڈیوں کی حساسیت، اور تیسرے فریق کی ثالثی، کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہ ایک ایسی جنگ تھی جس نے طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دیا مگر تنازعات کو حل نہیں کیا۔ اس نے ڈیٹرنس کو تو مضبوط کیا لیکن اعتماد کی بنیاد استوار نہیں کی۔ اس نے تشدد کو وقتی طور پر روک تو دیا، مگر اس کے بنیادی اسباب کو چھوا تک نہیں۔ نتیجتاً یہ خطہ ایک ایسے نازک توازن میں معلق ہو گیا ہے جو فوری طور پر کسی بڑے انہدام کو تو روکتا ہے، لیکن حقیقی امن کی راہ بھی مسدود رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں اس نوعیت کے کئی مواقع پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں جو اسٹریٹجک تبدیلی کا راستہ کھول سکتے تھے، مگر اکثر ضائع کر دیے گئے۔ یہ جنگ بندی، اپنی کمزوریوں کے باوجود، بھی ایک ایسا ہی فیصلہ کن موڑ ( انفلیکشن پوائنٹ ) ہے۔ اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ استحکام کی بنیاد میں ڈھلتی ہے یا ایک اور تصادم کے سلسلے میں تحلیل ہو جاتی ہے، اور اس کا انحصار کشیدگی کے خاتمے پر نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی فریقین کی حقیقت پسندی اور سنجیدہ عزم کے ساتھ ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال بندوقیں خاموش ضرور ہو گئی ہیں، مگر ایجنڈا وسیع ہو چکا ہے، اور یہ کشمکش محض اپنی شکل و صورت بدلتی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 11 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی 40 روزہ محاذ آرائی کی مدھم پڑتی بازگشت کے درمیان، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو نظامی ٹوٹ پھوٹ کے دہانے تک پہنچا دیا، ایک تلخ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: یہ ایسی جنگ تھی جس نے امن نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو ازسرِنو مرتب کیا، اور جو فتح کے بجائے دونوں جانب کی تھکن پر ختم ہوئی۔</strong></p>
<p>یہ جنگ ایسے مرحلے تک جا پہنچی تھی جہاں اس کا تسلسل نہ صرف علاقائی فریقین بلکہ خود عالمی نظام کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک ایسے فریق کے طور پر ابھرتا ہے جو نہ صرف اس بحران سے بچ نکلا بلکہ اس کی سودے بازی کی پوزیشن بھی مزید مضبوط ہو گئی۔</p>
<p>یہ پیش رفت طویل عرصے سے جاری ’ایران نیوکلیئر اسٹینڈ آف‘ ( ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر پیدا ہونے والا طویل تعطل یا کشیدگی، جہاں ایران اور مغربی طاقتوں (خصوصاً امریکہ) کے درمیان اعتماد کا فقدان، پابندیاں، اور مذاکرات ایک پیچیدہ تنازع کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔) سے ہٹ کر ایک جیوپولیٹیکل و معاشی مقابلے کی جانب ڈرامائی تبدیلی کی عکاس ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسائل مذاکراتی میز پر آئیں گے۔ آئندہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے اور ان میں بارہا اتار چڑھاؤ اور نازک چیلنجز درپیش رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اب قائم ہونے والی جنگ بندی مفاہمت یا کسی حتمی حل کا نتیجہ نہیں، بلکہ حریف قوتوں کے اس مشترکہ ادراک کی پیداوار ہے کہ مزید کشیدگی نہ صرف تزویراتی طور پر بے سود بلکہ معاشی طور پر خود تباہ کن ہو چکی تھی۔</p>
<p>اگر اس اچانک جنگ بندی کی کوئی ایک بنیادی وجہ بیان کی جائے تو وہ بڑھتے ہوئے معاشی خطرات کے دباؤ میں باہمی حدود کا ادراک ہے۔ ایران نے اہم بحری گزرگاہوں، خصوصاً عالمی توانائی کی شہ رگ،( آبنائے ہرمز) کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت ظاہر کی، جبکہ اس کے مخالفین نے مسلسل مگر غیر فیصلہ کن نقصان پہنچانے کی اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p>جوں جوں تیل کی منڈیاں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوئیں، بحری راستے غیر یقینی بنتے گئے اور عالمی معیشت اس جھٹکے کو جذب کرنے لگی، لاگت اور فائدے کا توازن واضح طور پر تبدیل ہو گیا۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ یہ تنازع وہ نتائج حاصل نہ کر سکا جن کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، یعنی نہ تو حکومت کا عدم استحکام پیدا ہوا اور نہ ہی اسٹریٹجک سطح پر جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیلا جا سکا۔ مزید برآں، جنگ کے بعد مذاکرات کا ایجنڈا اب محض جوہری معاملے تک محدود نہیں رہا، جو جنگ سے قبل سفارت کاری کا مرکزی محور تھا۔ اب یہ کہیں زیادہ پیچیدہ دائرے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت کے نظم و نسق میں باضابطہ کردار، حتیٰ کہ اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کے مطالبات کے ساتھ ساتھ جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے یا تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کا تقاضا بھی کرے گا۔</p>
<p>یہ صورتِ حال عدم پھیلاؤ کے ایک محدود تنازع سے نکل کر خودمختاری، عالمی توانائی راہداریوں پر کنٹرول اور جنگی اخراجات کی نئی تقسیم پر مبنی ایک وسیع تر جیو اکنامک مقابلے میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس جنگ بندی کو امن کی تمہید قرار دینا تجزیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک وقفہ ہے، نازک، مشروط اور کسی بھی وقت پلٹ جانے کے امکان سے دوچار۔ تنازع کے بنیادی اسباب بدستور حل طلب ہیں: جوہری معاملہ، پابندیوں کا نظام، خطے میں پراکسی کشمکش اور گہری جڑیں رکھنے والا عدم اعتماد۔</p>
<p>کسی منظم سیاسی فریم ورک یا قابلِ عمل ضمانتوں کی عدم موجودگی اس بندوبست کی پائیداری کو مزید کمزور کرتی ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسی جنگ بندیاں اکثر مستقل امن میں ڈھلنے کے بجائے طویل سرد کشیدگی میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جہاں وقفے وقفے سے تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔</p>
<p>اس جنگ کے اثرات فوری میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے سب سے بڑا نتیجہ اس کے روایتی سکیورٹی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔ بیرونی سکیورٹی ضمانتوں کی وہ قابلِ بھروسا حیثیت، جسے طویل عرصے سے مسلمہ سمجھا جاتا تھا، اب سوالیہ نشان بن چکی ہے، جس کے باعث علاقائی ریاستیں اپنی تزویراتی وابستگیوں پر ازسرِنو غور کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ خودمختار دفاعی حکمتِ عملیوں اور متنوع اتحادوں کی جانب جھکاؤ تیز ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی غیر مستحکم خطے میں پیچیدگی کی ایک نئی سطح کا اضافہ کرے گا۔</p>
<p>معاشی اعتبار سے بھی یہ جنگ ایسے نقصانات چھوڑ گئی ہے جو جنگ بندی کے بعد بھی برقرار رہیں گے۔ توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں خلل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مجموعی کمی نے مل کر ایک ساختی لاگت مسلط کر دی ہے۔ اگرچہ قلیل مدت میں استحکام واپس آ بھی جائے، مگر نفسیاتی اثرات، خصوصاً بڑھتے ہوئے خطرات کے تاثر، طویل عرصے تک برقرار رہیں گے، جو اقتصادی منصوبہ بندی اور علاقائی انضمام کو متاثر کرتے رہیں گے۔</p>
<p>جنوبی ایشیا، اور بالخصوص پاکستان کے لیے یہ تنازع ایک طرف موقع اور دوسری طرف خطرات کا پیچیدہ امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک جانب پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں اور مصالحتی کوششوں میں کردار نے اسے ایک پولرائزڈ ماحول میں قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ یہ ایک وسیع تر تزویراتی امکان کی عکاسی بھی کرتا ہے: یعنی خود کو ایک حاشیائی فریق سے نکال کر ایک ایسے رابطہ کار مرکز ( کنیکٹیو پی وٹ) کے طور پر ازسرِنو متعین کرنا جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور اس سے آگے کے خطوں کو جوڑ سکے۔</p>
<p>دوسری جانب اس کے فوری معاشی اثرات سنگین چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مالی دباؤ کو بڑھاتا ہے، بیرونی کھاتوں میں عدم توازن کو وسیع کرتا ہے، اور مہنگائی کے رجحانات کو تیز کرتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، جیوپولیٹیکل اثرات کے پھیلاؤ کا خطرہ، خواہ وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت میں ہو یا علاقائی پراکسی وابستگیوں کے ذریعے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی تنازعات اکثر اندرونی سطح پر بھی جھلک دکھاتے ہیں، خصوصاً ایسے معاشروں میں جو سیاسی اور معاشی دباؤ کا شکار ہوں۔</p>
<p>اس تنازع سے حاصل ہونے والا بنیادی اسٹریٹجک سبق کسی نئے عالمی نظام کا ظہور نہیں بلکہ پہلے سے جاری اس تبدیلی کے عمل میں تیزی ہے جو کثیر القطبی (ملٹی پولر) عالمی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کسی ایک فریق نے فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کی، بلکہ اس جنگ نے پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے عالمی نظام میں طاقت کے محدود دائرۂ کار کو بے نقاب کیا۔</p>
<p>اس نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازعات کے نتائج کی تشکیل میں غیر روایتی عوامل، معاشی باہمی انحصار، عالمی منڈیوں کی حساسیت، اور تیسرے فریق کی ثالثی، کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>بالآخر یہ ایک ایسی جنگ تھی جس نے طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دیا مگر تنازعات کو حل نہیں کیا۔ اس نے ڈیٹرنس کو تو مضبوط کیا لیکن اعتماد کی بنیاد استوار نہیں کی۔ اس نے تشدد کو وقتی طور پر روک تو دیا، مگر اس کے بنیادی اسباب کو چھوا تک نہیں۔ نتیجتاً یہ خطہ ایک ایسے نازک توازن میں معلق ہو گیا ہے جو فوری طور پر کسی بڑے انہدام کو تو روکتا ہے، لیکن حقیقی امن کی راہ بھی مسدود رکھتا ہے۔</p>
<p>تاریخ میں اس نوعیت کے کئی مواقع پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں جو اسٹریٹجک تبدیلی کا راستہ کھول سکتے تھے، مگر اکثر ضائع کر دیے گئے۔ یہ جنگ بندی، اپنی کمزوریوں کے باوجود، بھی ایک ایسا ہی فیصلہ کن موڑ ( انفلیکشن پوائنٹ ) ہے۔ اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یہ استحکام کی بنیاد میں ڈھلتی ہے یا ایک اور تصادم کے سلسلے میں تحلیل ہو جاتی ہے، اور اس کا انحصار کشیدگی کے خاتمے پر نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی فریقین کی حقیقت پسندی اور سنجیدہ عزم کے ساتھ ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت پر ہے۔</p>
<p>فی الحال بندوقیں خاموش ضرور ہو گئی ہیں، مگر ایجنڈا وسیع ہو چکا ہے، اور یہ کشمکش محض اپنی شکل و صورت بدلتی جاری ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 11 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503490</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:35:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/141135130b6385b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/141135130b6385b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کا تنازع، پاکستان پر اثرات مرتب ہونا شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503489/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر ماہ کے آخری دن باقاعدگی سے جاری کی جانے والی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آؤٹ لک کا ڈیٹا عموماً گزشتہ ماہ تک محدود ہوتا ہے، اسی بنا پر توقع کے مطابق مارچ 2026 کی رپورٹ میں 28 فروری 2026 سے چھڑنے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کم ہی اعداد و شمار سامنے آ سکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موڑ پر ایک انتباہ ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی شفافیت کو نہ صرف آزاد ماہرینِ معاشیات بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں نوٹ کیا تھا کہ پاکستان کے ان شعبوں کے ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیلات اور قابل اطمینان ہونے میں بھی مسائل ہیں۔پی بی ایس کے ایک ذریعے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کام کی تکمیل جون کے بجائے اکتوبر تک موخر ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے آؤٹ لک میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈیاں تذبذب کا شکار ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جیو پولیٹیکل تناؤ میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔گزشتہ ہفتے جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط پر فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات مختلف خطوں پر مختلف ہیں اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی ذخائر کم ہیں، ایندھن، کھاد اور خوراک کے درآمدی بلوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھا رہا ہے اور کرنسیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 19 مارچ 2026 تک ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے تو بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں تین دوست ممالک کے 12 ارب ڈالر کے سالانہ رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) شامل ہیں۔ اسی ماہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور گزشتہ ہفتے میچور ہونے والے یورو بانڈز کی مد میں مزید 1.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی غیر ملکی تجارتی منڈیوں تک رسائی پچھلے تین چار برس سے کمزور معیشت کی وجہ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسے نان انویسٹمنٹ گریڈ میں رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انتہائی پرخطر زمرے میں ہے، جہاں مالی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کاروباری اور معاشی ماحول میں بگاڑ کے باعث کمزور ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے یقینی طور پر پاکستان کے کاروباری ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے مارچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی شروع ہونے سے پہلے ہی برآمدات میں 1,987 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی، جبکہ درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3,148 ملین ڈالر بڑھ گئیں، جو بگڑتے ہوئے تجارتی توازن کی علامت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ میں ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 3.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد لگایا گیا تھا لیکن پی بی ایس نے اسے 7.3 فیصد بتایا۔ تاہم ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 2.44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی افراطِ زر میں اضافے نے 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں جولائی تا مارچ کے دوران 610 ارب روپے کی کمی رہی۔ پیٹرولیم لیوی، جو آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اسے عوامی ردِعمل کے بعد 160 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کیا گیا۔ وسائل کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی صرف غریب طبقے تک محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو فیول کارڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن یہ کارڈز ابھی تک پرنٹ بھی نہیں ہوئے تقسیم تو دور کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم ترقیاتی اخراجات کے بجائے کرنٹ اخراجات میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی بڑی کٹوتی پر غور کرے گی اور صرف شرحِ سود میں کمی پر انحصار نہیں کرے گی۔ تمام غیر آپریشنل اخراجات کو دو سال کے لیے منجمد کر کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی اور حکومت کو قرض لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ غیر یقینی دنیا میں ممالک کو ہماری مدد کی زیادہ ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے موجود ہیں۔اب صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ فنڈ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا لیکن اس کے لیے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ہماری معاشی ٹیم کی مہارت کا بھی امتحان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 13 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ کی جانب سے ہر ماہ کے آخری دن باقاعدگی سے جاری کی جانے والی ماہانہ معاشی رپورٹ اور آؤٹ لک کا ڈیٹا عموماً گزشتہ ماہ تک محدود ہوتا ہے، اسی بنا پر توقع کے مطابق مارچ 2026 کی رپورٹ میں 28 فروری 2026 سے چھڑنے والے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے اثرات کے حوالے سے کم ہی اعداد و شمار سامنے آ سکے ہیں۔</strong></p>
<p>اس موڑ پر ایک انتباہ ضروری ہے کہ اعداد و شمار کی شفافیت کو نہ صرف آزاد ماہرینِ معاشیات بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی چیلنج کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی رپورٹ میں نوٹ کیا تھا کہ پاکستان کے ان شعبوں کے ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیلات اور قابل اطمینان ہونے میں بھی مسائل ہیں۔پی بی ایس کے ایک ذریعے نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کام کی تکمیل جون کے بجائے اکتوبر تک موخر ہو گئی ہے۔</p>
<p>مارچ کے آؤٹ لک میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈیاں تذبذب کا شکار ہیں، سپلائی میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جب کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جیو پولیٹیکل تناؤ میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔گزشتہ ہفتے جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، وہ 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی شرائط پر فریقین کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ایک مضمون میں نشاندہی کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات مختلف خطوں پر مختلف ہیں اور جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی ذخائر کم ہیں، ایندھن، کھاد اور خوراک کے درآمدی بلوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھا رہا ہے اور کرنسیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ مشاہدہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ 19 مارچ 2026 تک ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے، جو فروری 2023 کے 3 ارب ڈالر سے تو بہت بہتر ہیں، لیکن ان میں تین دوست ممالک کے 12 ارب ڈالر کے سالانہ رول اوورز (قرض کی واپسی کی مدت میں توسیع) شامل ہیں۔ اسی ماہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 3.45 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور گزشتہ ہفتے میچور ہونے والے یورو بانڈز کی مد میں مزید 1.4 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔</p>
<p>پاکستان کی غیر ملکی تجارتی منڈیوں تک رسائی پچھلے تین چار برس سے کمزور معیشت کی وجہ سے متاثر ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اسے نان انویسٹمنٹ گریڈ میں رکھا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انتہائی پرخطر زمرے میں ہے، جہاں مالی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کاروباری اور معاشی ماحول میں بگاڑ کے باعث کمزور ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے یقینی طور پر پاکستان کے کاروباری ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔</p>
<p>پی بی ایس کے مارچ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں دشمنی شروع ہونے سے پہلے ہی برآمدات میں 1,987 ملین ڈالر کی کمی واقع ہو چکی تھی، جبکہ درآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3,148 ملین ڈالر بڑھ گئیں، جو بگڑتے ہوئے تجارتی توازن کی علامت ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ میں ترسیلاتِ زر میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) میں ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کے 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 3.8 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔</p>
<p>مارچ کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کا تخمینہ 7.5 سے 8.5 فیصد لگایا گیا تھا لیکن پی بی ایس نے اسے 7.3 فیصد بتایا۔ تاہم ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 2.44 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بنیادی افراطِ زر میں اضافے نے 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافے کی راہ ہموار کر دی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں جولائی تا مارچ کے دوران 610 ارب روپے کی کمی رہی۔ پیٹرولیم لیوی، جو آمدن کا بڑا ذریعہ ہے اسے عوامی ردِعمل کے بعد 160 روپے سے کم کر کے 80 روپے فی لیٹر کیا گیا۔ وسائل کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر سبسڈی صرف غریب طبقے تک محدود کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت اس کے لیے موٹر سائیکل مالکان کو فیول کارڈز جاری کرنے پر غور کر رہی ہے لیکن یہ کارڈز ابھی تک پرنٹ بھی نہیں ہوئے تقسیم تو دور کی بات ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی تیاری کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم ترقیاتی اخراجات کے بجائے کرنٹ اخراجات میں کم از کم 2 ٹریلین روپے کی بڑی کٹوتی پر غور کرے گی اور صرف شرحِ سود میں کمی پر انحصار نہیں کرے گی۔ تمام غیر آپریشنل اخراجات کو دو سال کے لیے منجمد کر کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی اور حکومت کو قرض لینے کی ضرورت کم پڑے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا ہے کہ غیر یقینی دنیا میں ممالک کو ہماری مدد کی زیادہ ضرورت ہے اور ہم ان کے لیے موجود ہیں۔اب صرف یہ امید کی جا سکتی ہے کہ فنڈ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا لیکن اس کے لیے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ہماری معاشی ٹیم کی مہارت کا بھی امتحان ہوگا۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 13 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503489</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 11:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1411300415e0161.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1411300415e0161.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی، کریڈٹ اور سراب کی قیمت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503332/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹیں تقریباً میکانکی درستگی کے ساتھ دوبارہ ریلیف کی جانب پلٹ آئی ہیں، مگر ریلیف ایک ٹریڈ ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، ایکویٹیز میں تیزی دیکھی گئی ہے، اور ڈالر کمزور ہوا ہے کیونکہ فوری جنگی رسک پریمیم ختم ہو گیا ہے۔ تاہم اس تیز رفتار واپسی نے ایک زیادہ غیر آرام دہ سوال کو جنم دیا ہے: آخر قیمتوں میں کن عوامل کو شامل کیا جا رہا ہے، اور ان میں سے کتنا حصہ ایسے مفروضے پر مبنی ہے جو اگلے خبروں کے چکر سے آگے برقرار نہ رہ سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس بار خود کو اس سوال کا مرکز بن گیا ہے۔ مذاکرات کی میزبانی اور دو ہفتوں کی جنگ بندی پر زور دینے کے فیصلے نے اسلام آباد کو ایک غیر معمولی سفارتی اہمیت دے دی ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ اس سے یہ تاثر بنتا ہے کہ جب کشیدگی حکمتِ عملی سے آگے نکل جائے تو نتائج تک پہنچانے کی صلاحیت کس کے پاس اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں ایک نسبتاً خاموش پہلو بھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے ایسے وقت میں وقفہ یقینی بنایا جب تنازع کی سمت تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ یہ وقفہ امریکہ کو ناکامی تسلیم کیے بغیر صورتِ حال کو مستحکم کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ وہ اب بھی یہ دعویٰ برقرار رکھ سکتا ہے کہ دباؤ نے نتائج دیے۔ تاہم یہ دعویٰ کس حد تک جانچ پڑتال پر پورا اترتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ خود مذاکراتی فریم ورک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران نے وہ اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے جس کی اس سے اس تنازع میں داخل ہوتے وقت توقع نہیں کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حسبِ معمول، مارکیٹیں سیاست سے زیادہ تیزی سے حرکت میں آئی ہیں۔ برینٹ کروڈ میں نمایاں کمی دیکھی گئی کیونکہ جنگ بندی نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور سپلائی کی رکاوٹوں میں جزوی نرمی کا اشارہ دیا۔ ایکویٹی مارکیٹس میں مختلف خطوں میں تیزی آئی، جو مجموعی طور پر رسک لینے کے رجحان کی واپسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بانڈ مارکیٹس نے شرحِ سود کی توقعات کی نئی قیمت بندی کی صورت میں ردِعمل دیا، جہاں توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے فوری افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کے باعث ییلڈز نیچے آئیں۔ کرنسی مارکیٹس نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، ڈالر کمزور ہوا کیونکہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب گھٹ گئی اور ہائی بیٹا کرنسیاں اپنی حالیہ نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ وہ مقام ہے جہاں بیانیہ اتنا سیدھا نہیں رہتا۔ تیل کی فروخت میں کمی اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل بحال ہو جائے گی، مگر حقیقی مارکیٹ ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ شپنگ، انشورنس اور ریفائننگ صلاحیت میں خلل پہلے ہی سپلائی چینز کا حصہ بن چکا ہے۔ ٹینکرز اب بھی رکے ہوئے ہیں، انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، اور پیداوار بڑھانے والے ممالک اس وقت تک تیزی سے پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ سامان کی ترسیل میں جمع شدہ بیک لاگ وقتی قلت کو کم تو کر سکتا ہے، مگر معمولات کو راتوں رات بحال نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدت کا سوال بھی اہم ہے۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی اس تناظر میں وقت کا عنصر شامل کرتی ہے، مگر وقت دونوں طرف اثر ڈالتا ہے۔ یہ مذاکرات شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک ایسی متعین مدت بھی پیدا کرتا ہے جس میں توقعات مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ مارکیٹیں اب کسی خلل کی قیمت نہیں لگا رہیں بلکہ ایک ممکنہ حل کے امکانات کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگ سکتی ہے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اگر ان امکانات پر نظرثانی ہو تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ سود کی مارکیٹس کا رویہ اسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں توانائی سے جڑی افراطِ زر کی خدشات بڑھنے کے باعث ییلڈز میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اب یہ دباؤ کم ہوا ہے، اور ییلڈ کروز زیادہ تعمیری انداز میں اسٹیپن ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ قلیل مدتی شرحِ سود کی توقعات ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کسی اطمینان کا اشارہ نہیں دے رہے۔ توانائی کے ذریعے افراطِ زر پہلے ہی معیشت میں منتقل ہو چکا ہے، اور اس کے ثانوی اثرات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ فوری دباؤ میں کمی اس بنیادی رجحان کی پائیداری کو ختم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹس ایک اور ابہام کی تہہ پیش کرتی ہیں۔ جنگ بندی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی فوری طلب میں کمی آئی ہے جس سے ڈالر کمزور ہوا، مگر یہ حرکت زیادہ تر پوزیشننگ سے متاثر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ کسی مضبوط یقین سے۔ تنازع کے عروج پر بھی ڈالر کی تیزی اتنی فیصلہ کن نہیں تھی جتنی ماضی کے رجحانات کی روشنی میں متوقع تھی، اور یہی ہچکچاہٹ اب منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور رسک سینٹیمنٹ مستحکم ہوتا ہے تو ڈالر دباؤ میں رہ سکتا ہے، لیکن اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو لیکویڈیٹی کی بنیادی طلب تیزی سے واپس آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایکویٹی مارکیٹس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ریلیف ٹریڈ کو اپنایا ہے۔ سائیکلیکل سیکٹرز نے بحالی کی قیادت کی ہے، جسے توانائی کی کم قیمتوں اور سپلائی چین دباؤ میں ممکنہ کمی نے سہارا دیا۔ تاہم یہ ردِعمل زیادہ تر ایکسٹریم پوزیشننگ کے کھلنے ( ڈی کمپریشن) کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی نئی گروتھ ٹریجیکٹری کی واضح توثیق۔ یہی مارکیٹس چند روز قبل تک غیر معمولی پیمانے کے خلل کی قیمت لگا رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی آئندہ ہفتوں کا بنیادی سوال ہے: یہ ری سیٹ کتنی پائیدار ہے؟ اگر مذاکرات کشیدگی میں کمی کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کرتے ہیں تو موجودہ مارکیٹ ٹریجیکٹری کو سہارا مل سکتا ہے۔ اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو حالیہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پوزیشننگ اتنی ہی تیزی سے الٹی سمت میں بھی کھل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ایک وسیع تر پہلو بھی جڑا ہے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے جو براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں مگر اس کے اثرات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے 110 ڈالر اور 90 ڈالر فی بیرل تیل کے درمیان فرق معمولی نہیں؛ یہ قابلِ برداشت مہنگائی اور پالیسی پر دباؤ کے درمیان فرق ہے۔ جنگ بندی وقتی ریلیف ضرور دیتی ہے، مگر ساختی کمزوری کو ختم نہیں کرتی۔ سپلائی چینز بدستور نازک ہیں، اور کسی بھی نئی رکاوٹ کا اثر براہِ راست مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں پاکستان کا کردار بیک وقت موقع بھی ہے اور پابندی بھی۔ سفارتی اہمیت اسٹریٹجک نمایاں حیثیت میں بدل سکتی ہے، مگر یہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ نہیں بناتی۔ بلکہ یہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ اندرونی استحکام اب بھی ان عوامل سے جڑا ہوا ہے جو اس کے اپنے کنٹرول سے کہیں باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی پر مارکیٹ کا ردِعمل تیز، مربوط اور کئی حوالوں سے معقول رہا ہے، تاہم یہ ایسے مفروضوں پر قائم ہے جن کی ابھی آزمائش باقی ہے۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، ترسیل کی بحالی، مذاکرات کی پائیداری، اور تمام فریقوں کی حکمتِ عملی سے آگے بڑھنے کی آمادگی، یہ سب ابھی کھلے سوالات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں نے پہلے ہی دکھا دیا ہے کہ جب ان مفروضوں کو چیلنج کیا جائے تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اگلا مرحلہ یہ طے کرے گا کہ آیا موجودہ خوش فہمی ایک زیادہ مستحکم توازن کی شروعات ہے یا محض ایک ایسے چکر کا نیا موڑ جو ابھی اپنی نچلی سطح تک نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 9 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارکیٹیں تقریباً میکانکی درستگی کے ساتھ دوبارہ ریلیف کی جانب پلٹ آئی ہیں، مگر ریلیف ایک ٹریڈ ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، ایکویٹیز میں تیزی دیکھی گئی ہے، اور ڈالر کمزور ہوا ہے کیونکہ فوری جنگی رسک پریمیم ختم ہو گیا ہے۔ تاہم اس تیز رفتار واپسی نے ایک زیادہ غیر آرام دہ سوال کو جنم دیا ہے: آخر قیمتوں میں کن عوامل کو شامل کیا جا رہا ہے، اور ان میں سے کتنا حصہ ایسے مفروضے پر مبنی ہے جو اگلے خبروں کے چکر سے آگے برقرار نہ رہ سکے۔</strong></p>
<p>پاکستان اس بار خود کو اس سوال کا مرکز بن گیا ہے۔ مذاکرات کی میزبانی اور دو ہفتوں کی جنگ بندی پر زور دینے کے فیصلے نے اسلام آباد کو ایک غیر معمولی سفارتی اہمیت دے دی ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ اس سے یہ تاثر بنتا ہے کہ جب کشیدگی حکمتِ عملی سے آگے نکل جائے تو نتائج تک پہنچانے کی صلاحیت کس کے پاس اب بھی موجود ہے۔</p>
<p>اس میں ایک نسبتاً خاموش پہلو بھی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن نے پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت کے ساتھ اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے ایسے وقت میں وقفہ یقینی بنایا جب تنازع کی سمت تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ یہ وقفہ امریکہ کو ناکامی تسلیم کیے بغیر صورتِ حال کو مستحکم کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ وہ اب بھی یہ دعویٰ برقرار رکھ سکتا ہے کہ دباؤ نے نتائج دیے۔ تاہم یہ دعویٰ کس حد تک جانچ پڑتال پر پورا اترتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ خود مذاکراتی فریم ورک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران نے وہ اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے جس کی اس سے اس تنازع میں داخل ہوتے وقت توقع نہیں کی جا رہی تھی۔</p>
<p>حسبِ معمول، مارکیٹیں سیاست سے زیادہ تیزی سے حرکت میں آئی ہیں۔ برینٹ کروڈ میں نمایاں کمی دیکھی گئی کیونکہ جنگ بندی نے آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور سپلائی کی رکاوٹوں میں جزوی نرمی کا اشارہ دیا۔ ایکویٹی مارکیٹس میں مختلف خطوں میں تیزی آئی، جو مجموعی طور پر رسک لینے کے رجحان کی واپسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بانڈ مارکیٹس نے شرحِ سود کی توقعات کی نئی قیمت بندی کی صورت میں ردِعمل دیا، جہاں توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے فوری افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کے باعث ییلڈز نیچے آئیں۔ کرنسی مارکیٹس نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، ڈالر کمزور ہوا کیونکہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب گھٹ گئی اور ہائی بیٹا کرنسیاں اپنی حالیہ نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔</p>
<p>لیکن یہ وہ مقام ہے جہاں بیانیہ اتنا سیدھا نہیں رہتا۔ تیل کی فروخت میں کمی اس توقع کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ترسیل بحال ہو جائے گی، مگر حقیقی مارکیٹ ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ شپنگ، انشورنس اور ریفائننگ صلاحیت میں خلل پہلے ہی سپلائی چینز کا حصہ بن چکا ہے۔ ٹینکرز اب بھی رکے ہوئے ہیں، انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، اور پیداوار بڑھانے والے ممالک اس وقت تک تیزی سے پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ سامان کی ترسیل میں جمع شدہ بیک لاگ وقتی قلت کو کم تو کر سکتا ہے، مگر معمولات کو راتوں رات بحال نہیں کرتا۔</p>
<p>مدت کا سوال بھی اہم ہے۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی اس تناظر میں وقت کا عنصر شامل کرتی ہے، مگر وقت دونوں طرف اثر ڈالتا ہے۔ یہ مذاکرات شروع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک ایسی متعین مدت بھی پیدا کرتا ہے جس میں توقعات مایوسی میں بدل سکتی ہیں۔ مارکیٹیں اب کسی خلل کی قیمت نہیں لگا رہیں بلکہ ایک ممکنہ حل کے امکانات کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگ سکتی ہے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ اگر ان امکانات پر نظرثانی ہو تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔</p>
<p>شرحِ سود کی مارکیٹس کا رویہ اسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ تنازع کے ابتدائی مرحلے میں توانائی سے جڑی افراطِ زر کی خدشات بڑھنے کے باعث ییلڈز میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اب یہ دباؤ کم ہوا ہے، اور ییلڈ کروز زیادہ تعمیری انداز میں اسٹیپن ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ قلیل مدتی شرحِ سود کی توقعات ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم مرکزی بینک کسی اطمینان کا اشارہ نہیں دے رہے۔ توانائی کے ذریعے افراطِ زر پہلے ہی معیشت میں منتقل ہو چکا ہے، اور اس کے ثانوی اثرات بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ فوری دباؤ میں کمی اس بنیادی رجحان کی پائیداری کو ختم نہیں کرتی۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹس ایک اور ابہام کی تہہ پیش کرتی ہیں۔ جنگ بندی کے باعث محفوظ سرمایہ کاری (سیف ہیون) کی فوری طلب میں کمی آئی ہے جس سے ڈالر کمزور ہوا، مگر یہ حرکت زیادہ تر پوزیشننگ سے متاثر دکھائی دیتی ہے، نہ کہ کسی مضبوط یقین سے۔ تنازع کے عروج پر بھی ڈالر کی تیزی اتنی فیصلہ کن نہیں تھی جتنی ماضی کے رجحانات کی روشنی میں متوقع تھی، اور یہی ہچکچاہٹ اب منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور رسک سینٹیمنٹ مستحکم ہوتا ہے تو ڈالر دباؤ میں رہ سکتا ہے، لیکن اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو لیکویڈیٹی کی بنیادی طلب تیزی سے واپس آ سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، ایکویٹی مارکیٹس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ریلیف ٹریڈ کو اپنایا ہے۔ سائیکلیکل سیکٹرز نے بحالی کی قیادت کی ہے، جسے توانائی کی کم قیمتوں اور سپلائی چین دباؤ میں ممکنہ کمی نے سہارا دیا۔ تاہم یہ ردِعمل زیادہ تر ایکسٹریم پوزیشننگ کے کھلنے ( ڈی کمپریشن) کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی نئی گروتھ ٹریجیکٹری کی واضح توثیق۔ یہی مارکیٹس چند روز قبل تک غیر معمولی پیمانے کے خلل کی قیمت لگا رہی تھیں۔</p>
<p>یہی آئندہ ہفتوں کا بنیادی سوال ہے: یہ ری سیٹ کتنی پائیدار ہے؟ اگر مذاکرات کشیدگی میں کمی کے لیے ایک قابلِ اعتماد فریم ورک فراہم کرتے ہیں تو موجودہ مارکیٹ ٹریجیکٹری کو سہارا مل سکتا ہے۔ اگر یہ عمل ناکام ہوتا ہے تو حالیہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پوزیشننگ اتنی ہی تیزی سے الٹی سمت میں بھی کھل سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ایک وسیع تر پہلو بھی جڑا ہے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے جو براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں مگر اس کے اثرات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے 110 ڈالر اور 90 ڈالر فی بیرل تیل کے درمیان فرق معمولی نہیں؛ یہ قابلِ برداشت مہنگائی اور پالیسی پر دباؤ کے درمیان فرق ہے۔ جنگ بندی وقتی ریلیف ضرور دیتی ہے، مگر ساختی کمزوری کو ختم نہیں کرتی۔ سپلائی چینز بدستور نازک ہیں، اور کسی بھی نئی رکاوٹ کا اثر براہِ راست مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔</p>
<p>اس تناظر میں پاکستان کا کردار بیک وقت موقع بھی ہے اور پابندی بھی۔ سفارتی اہمیت اسٹریٹجک نمایاں حیثیت میں بدل سکتی ہے، مگر یہ معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ نہیں بناتی۔ بلکہ یہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ اندرونی استحکام اب بھی ان عوامل سے جڑا ہوا ہے جو اس کے اپنے کنٹرول سے کہیں باہر ہیں۔</p>
<p>جنگ بندی پر مارکیٹ کا ردِعمل تیز، مربوط اور کئی حوالوں سے معقول رہا ہے، تاہم یہ ایسے مفروضوں پر قائم ہے جن کی ابھی آزمائش باقی ہے۔ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا، ترسیل کی بحالی، مذاکرات کی پائیداری، اور تمام فریقوں کی حکمتِ عملی سے آگے بڑھنے کی آمادگی، یہ سب ابھی کھلے سوالات ہیں۔</p>
<p>گزشتہ چند ہفتوں نے پہلے ہی دکھا دیا ہے کہ جب ان مفروضوں کو چیلنج کیا جائے تو جذبات کتنی تیزی سے بدل سکتے ہیں۔ اگلا مرحلہ یہ طے کرے گا کہ آیا موجودہ خوش فہمی ایک زیادہ مستحکم توازن کی شروعات ہے یا محض ایک ایسے چکر کا نیا موڑ جو ابھی اپنی نچلی سطح تک نہیں پہنچا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 9 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503332</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 15:20:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/10151337041d84c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/10151337041d84c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگی حالات میں فری مارکیٹ پالیسی کا محدود فائدہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503298/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق تنازعہ ایک متوقع نتیجے پر ختم ہوا: مکمل لاگت صارفین پر منتقل کر دی گئی، ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی، اور کسٹمز ڈیوٹیز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ عالمی سطح پر قیمتیں کئی ہفتوں سے بڑھ رہی تھیں جبکہ حکومت نے مصنوعی طور پر قیمتیں برقرار رکھیں، حالانکہ سبسڈیز کو سہارا دینے کے لیے مالی گنجائش موجود نہیں تھی۔ لیکن پالیسی کا امتزاج غلط ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی جھٹکے کے دوران پٹرولیم لیویز، کلائمٹ لیویز اور کسٹمز ڈیوٹیز کو کم از کم منجمد ہونا چاہیے۔ حکومت کی یہ ناکامی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ایک گہری ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کے صارفین پر مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی اتنا ہی ناقص ہے۔ چونکہ تقریباً 75 فیصد ڈیزل ملکی سطح پر تیار ہوتا ہے، اس لیے امپورٹڈ ڈیزل (ایف او بی پلاٹس) کو معیار بنانا قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھاتا ہے اور ریفائنریوں کو غیر معمولی منافع دیتا ہے۔ خام تیل پر مبنی معیار زیادہ مناسب ہوتا، لیکن حکومت نے یہ قدم نہیں اٹھایا۔ پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ ڈیزل 86 فیصد۔ دونوں اب ڈالر کے لحاظ سے خطے میں سب سے مہنگے ہیں۔ اپریل تا جون افراطِ زر 12 سے 14 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساب کتاب واضح ہے۔ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی لینڈڈ قیمت 140 ڈالر فی بیرل (246 روپے فی لیٹر) اور ایچ ایس ڈی 262 ڈالر فی بیرل (460 روپے فی لیٹر) تھی، جبکہ خام تیل کی لینڈڈ قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تھی۔ ایچ ایس ڈی پر پریمیم غیر معمولی طور پر زیادہ یعنی تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تھا۔ اگر پاکستان تمام ڈیزل درآمد کرتا تو مکمل لاگت صارفین پر منتقل کرنا ناگزیر ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ 75 فیصد ڈیزل مقامی طور پر ریفائن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تقریباً 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے اور اسے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل میں ریفائن کرتا ہے۔ موجودہ مارجنز پر ریفائنریاں ڈیزل پر تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کما رہی ہیں، جبکہ معمول کا مارجن تقریباً 10 ڈالر فی بیرل ہوتا ہے۔ یہ غیر معمولی منافع مکمل طور پر صارفین کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنریاں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ ایچ ایس ڈی کے منافع سے پیٹرول پر تقریباً 20 ڈالر فی بیرل اور فرنس آئل پر 50 ڈالر فی بیرل کے نقصانات پورے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایل پی جی میں بھی نقصان ہے۔ لیکن مجموعی تناسب بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ ایک بیرل سے پاکستان کی ریفائنریاں عام طور پر ڈیزل کی دو یونٹس اور پیٹرول اور فرنس آئل کی ایک ایک یونٹ پیدا کرتی ہیں۔ مجموعی غیر معمولی منافع تقریباً 35 ڈالر فی بیرل ہے، یعنی 62 روپے فی لیٹر۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرول اور فرنس آئل کے نقصانات کا ازالہ کرے، لیکن ڈیزل کے غیر معمولی منافع کو بلاحد و حساب منتقل نہ ہونے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال سادہ ہے: کیا ریفائنریوں کو ایک نایاب موقع کے منافع کی اجازت دی جانی چاہیے، جبکہ اس کی قیمت ہر پاکستانی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں ادا کرنا پڑے؟ جب یہ سوال حکام سے پوچھا گیا تو جواب تھا کہ ہم ریفائنریوں کو قومی تحویل میں نہیں لینا چاہتے۔ یہ نیشنلائزیشن نہیں بلکہ جنگی حالات میں ریگولیشن ہے۔ مزید یہ کہ ملک کی سب سے بڑی ریفائنری پارکو 60 فیصد حکومتی ملکیت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پہلے ہی اپنی توانائی کے بیشتر شعبے کو سختی سے ریگولیٹ کرتا ہے۔ ای اینڈ پی کمپنیاں، آئی پی پیز اور او ایم سیز سب ریگولیٹڈ مارجنز کے تحت کام کرتے ہیں۔ اسی منطق کو موجودہ بحران میں ریفائنریوں پر بھی لاگو کرنا نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی نئی بات۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو خدشہ ہے کہ قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ قابلِ انتظام ہے: ریفائنریوں کو ان کے معمول کے مارجنز کی ضمانت دی جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ سپلائی چین برقرار رہے گی اور مہنگائی کا جھٹکا جہاں ہونا چاہیے وہاں جذب ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساب کتاب واضح ہے۔ دیگر مصنوعات کی قیمتیں اور لیویز برقرار رکھتے ہوئے اور مقامی ایچ ایس ڈی پر ریفائنری مارجن کو ریگولیٹ کرتے ہوئے، ڈیزل کی اوسط قیمت جو 75 فیصد مقامی اور 25 فیصد درآمدی قیمت پر مبنی ہے، 460 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 380 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کسٹمز ڈیوٹی میں 35 روپے فی لیٹر کمی کر سکتی ہے، جس کا زیادہ حصہ ریفائنریوں کو منتقل ہوتا ہے۔ یہ اقدامات مالی طور پر غیر جانبدار ہوں گے اور اس مہنگائی کے طوفان کو روک سکتے ہیں جو ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور کھاد کی لاگت پر پڑنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونڈ فال ٹیکس، جس پر حکومت اب غور کر رہی ہے، درست حل نہیں ہے۔ یہ پہلے سے پیدا شدہ مہنگائی کے اثرات کو ختم نہیں کر سکے گا، اور اس آمدن کا 60 فیصد صوبوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس پالیسی سے اس کا موازنہ اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقامی گیس کی قیمت 3 سے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رکھتا ہے، جو درآمدی آر ایل این جی سے بہت کم ہے، اور اس میں سے کچھ کھاد کی پیداوار کے لیے مختص کرتا ہے۔ یہ دانستہ پالیسی غذائی تحفظ کو برقرار رکھتی ہے۔ یہی منطق ڈیزل پر بھی لاگو ہوتی ہے جو بڑی حد تک مقامی طور پر تیار ہوتا ہے۔ درآمدی خام تیل کی مارکیٹ قیمت ادا کی جائے اور صارفین سے وصول کی جائے، لیکن ریفائنریوں کو ایسے غیر معمولی منافع نہ لینے دیا جائے جو اصل لاگت سے مطابقت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فری مارکیٹ قیمتیں امن کے حالات میں ایک سہولت ہیں۔ جب تنازع ختم ہو جائے تو حکومت دوبارہ موجودہ فارمولے پر واپس جا سکتی ہے اور ڈی ریگولیشن کی طرف بڑھ سکتی ہے، جیسا کہ پیٹرولیم وزیر نے اشارہ دیا ہے۔ لیکن اس وقت ترجیح توانائی اور خوراک کی سلامتی ہونی چاہیے، نہ کہ ریفائنریوں کی بیلنس شیٹس۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6  اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق تنازعہ ایک متوقع نتیجے پر ختم ہوا: مکمل لاگت صارفین پر منتقل کر دی گئی، ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی، اور کسٹمز ڈیوٹیز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ عالمی سطح پر قیمتیں کئی ہفتوں سے بڑھ رہی تھیں جبکہ حکومت نے مصنوعی طور پر قیمتیں برقرار رکھیں، حالانکہ سبسڈیز کو سہارا دینے کے لیے مالی گنجائش موجود نہیں تھی۔ لیکن پالیسی کا امتزاج غلط ہے۔</strong></p>
<p>بیرونی جھٹکے کے دوران پٹرولیم لیویز، کلائمٹ لیویز اور کسٹمز ڈیوٹیز کو کم از کم منجمد ہونا چاہیے۔ حکومت کی یہ ناکامی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے میں ایک گہری ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کے صارفین پر مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بھی اتنا ہی ناقص ہے۔ چونکہ تقریباً 75 فیصد ڈیزل ملکی سطح پر تیار ہوتا ہے، اس لیے امپورٹڈ ڈیزل (ایف او بی پلاٹس) کو معیار بنانا قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھاتا ہے اور ریفائنریوں کو غیر معمولی منافع دیتا ہے۔ خام تیل پر مبنی معیار زیادہ مناسب ہوتا، لیکن حکومت نے یہ قدم نہیں اٹھایا۔ پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھ چکی ہے جبکہ ڈیزل 86 فیصد۔ دونوں اب ڈالر کے لحاظ سے خطے میں سب سے مہنگے ہیں۔ اپریل تا جون افراطِ زر 12 سے 14 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>حساب کتاب واضح ہے۔ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی لینڈڈ قیمت 140 ڈالر فی بیرل (246 روپے فی لیٹر) اور ایچ ایس ڈی 262 ڈالر فی بیرل (460 روپے فی لیٹر) تھی، جبکہ خام تیل کی لینڈڈ قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تھی۔ ایچ ایس ڈی پر پریمیم غیر معمولی طور پر زیادہ یعنی تقریباً 110 ڈالر فی بیرل تھا۔ اگر پاکستان تمام ڈیزل درآمد کرتا تو مکمل لاگت صارفین پر منتقل کرنا ناگزیر ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ 75 فیصد ڈیزل مقامی طور پر ریفائن ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان تقریباً 85 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے اور اسے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل میں ریفائن کرتا ہے۔ موجودہ مارجنز پر ریفائنریاں ڈیزل پر تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کما رہی ہیں، جبکہ معمول کا مارجن تقریباً 10 ڈالر فی بیرل ہوتا ہے۔ یہ غیر معمولی منافع مکمل طور پر صارفین کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>ریفائنریاں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ ایچ ایس ڈی کے منافع سے پیٹرول پر تقریباً 20 ڈالر فی بیرل اور فرنس آئل پر 50 ڈالر فی بیرل کے نقصانات پورے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایل پی جی میں بھی نقصان ہے۔ لیکن مجموعی تناسب بہت زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ ایک بیرل سے پاکستان کی ریفائنریاں عام طور پر ڈیزل کی دو یونٹس اور پیٹرول اور فرنس آئل کی ایک ایک یونٹ پیدا کرتی ہیں۔ مجموعی غیر معمولی منافع تقریباً 35 ڈالر فی بیرل ہے، یعنی 62 روپے فی لیٹر۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرول اور فرنس آئل کے نقصانات کا ازالہ کرے، لیکن ڈیزل کے غیر معمولی منافع کو بلاحد و حساب منتقل نہ ہونے دے۔</p>
<p>سوال سادہ ہے: کیا ریفائنریوں کو ایک نایاب موقع کے منافع کی اجازت دی جانی چاہیے، جبکہ اس کی قیمت ہر پاکستانی کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں ادا کرنا پڑے؟ جب یہ سوال حکام سے پوچھا گیا تو جواب تھا کہ ہم ریفائنریوں کو قومی تحویل میں نہیں لینا چاہتے۔ یہ نیشنلائزیشن نہیں بلکہ جنگی حالات میں ریگولیشن ہے۔ مزید یہ کہ ملک کی سب سے بڑی ریفائنری پارکو 60 فیصد حکومتی ملکیت میں ہے۔</p>
<p>پاکستان پہلے ہی اپنی توانائی کے بیشتر شعبے کو سختی سے ریگولیٹ کرتا ہے۔ ای اینڈ پی کمپنیاں، آئی پی پیز اور او ایم سیز سب ریگولیٹڈ مارجنز کے تحت کام کرتے ہیں۔ اسی منطق کو موجودہ بحران میں ریفائنریوں پر بھی لاگو کرنا نہ تو غیر معمولی ہے اور نہ ہی نئی بات۔</p>
<p>حکومت کو خدشہ ہے کہ قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ قابلِ انتظام ہے: ریفائنریوں کو ان کے معمول کے مارجنز کی ضمانت دی جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ سپلائی چین برقرار رہے گی اور مہنگائی کا جھٹکا جہاں ہونا چاہیے وہاں جذب ہو جائے گا۔</p>
<p>حساب کتاب واضح ہے۔ دیگر مصنوعات کی قیمتیں اور لیویز برقرار رکھتے ہوئے اور مقامی ایچ ایس ڈی پر ریفائنری مارجن کو ریگولیٹ کرتے ہوئے، ڈیزل کی اوسط قیمت جو 75 فیصد مقامی اور 25 فیصد درآمدی قیمت پر مبنی ہے، 460 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر تقریباً 380 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کسٹمز ڈیوٹی میں 35 روپے فی لیٹر کمی کر سکتی ہے، جس کا زیادہ حصہ ریفائنریوں کو منتقل ہوتا ہے۔ یہ اقدامات مالی طور پر غیر جانبدار ہوں گے اور اس مہنگائی کے طوفان کو روک سکتے ہیں جو ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور کھاد کی لاگت پر پڑنے والا ہے۔</p>
<p>ونڈ فال ٹیکس، جس پر حکومت اب غور کر رہی ہے، درست حل نہیں ہے۔ یہ پہلے سے پیدا شدہ مہنگائی کے اثرات کو ختم نہیں کر سکے گا، اور اس آمدن کا 60 فیصد صوبوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑے گا۔</p>
<p>گیس پالیسی سے اس کا موازنہ اہم ہے۔ پاکستان اپنی مقامی گیس کی قیمت 3 سے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رکھتا ہے، جو درآمدی آر ایل این جی سے بہت کم ہے، اور اس میں سے کچھ کھاد کی پیداوار کے لیے مختص کرتا ہے۔ یہ دانستہ پالیسی غذائی تحفظ کو برقرار رکھتی ہے۔ یہی منطق ڈیزل پر بھی لاگو ہوتی ہے جو بڑی حد تک مقامی طور پر تیار ہوتا ہے۔ درآمدی خام تیل کی مارکیٹ قیمت ادا کی جائے اور صارفین سے وصول کی جائے، لیکن ریفائنریوں کو ایسے غیر معمولی منافع نہ لینے دیا جائے جو اصل لاگت سے مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p>فری مارکیٹ قیمتیں امن کے حالات میں ایک سہولت ہیں۔ جب تنازع ختم ہو جائے تو حکومت دوبارہ موجودہ فارمولے پر واپس جا سکتی ہے اور ڈی ریگولیشن کی طرف بڑھ سکتی ہے، جیسا کہ پیٹرولیم وزیر نے اشارہ دیا ہے۔ لیکن اس وقت ترجیح توانائی اور خوراک کی سلامتی ہونی چاہیے، نہ کہ ریفائنریوں کی بیلنس شیٹس۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 6  اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503298</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 14:35:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09151622ad673b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09151622ad673b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دولت مند خلیجی ممالک کی مغرب میں سرمایہ کاری، غیر ملکی اثاثوں کی قدر (دوسرا حصہ)</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503150/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئیے دیکھتے ہیں کہ قطر اور قطری عوام حقیقت میں کیا چیزیں رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اثاثہ ہمیشہ لندن میں موجود رہے گا، جو برطانیہ کے لوگوں اور عوام کے لیے معاشی فائدہ اور طاقت کا ذریعہ فراہم کرتا رہے گا، اور ساتھ ہی مالکان سے ٹیکس بھی وصول کرتا رہے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگر کبھی ایسا ممکن بھی ہو تو نقد رقم کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم قطر میں کسی مفید استعمال کے قابل نہیں ہوگی، کیونکہ قطری عوام کے پاس نہ تو ایسی بڑی آبادی ہے اور نہ ہی ایسا موسم کہ وہ اس دولت سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ قطریوں نے یہی تجربہ فیفا ورلڈ کپ کے ذریعے بھی کیا تھا، تاہم اب ان کے 90 فیصد اسٹیڈیم ضائع ہو رہے ہیں۔ اگرچہ پیسہ موجود ہے، مگر لوگ موجود نہیں جو اس پیسے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس صورت میں یہ دولت غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ یہ سرمایہ کاری فنڈز بوئنگ کا ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ یہ کمپنی ہوائی جہاز بناتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی اصل قیمت کیا ہے؟ کیا یہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر موجود مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہے؟ دیکھنے میں تو ایسا ہی ہے، لیکن عملی طور پر یہ صرف ایک کاغذی حصہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیئرمین کی ایک نشست ہے۔ کمپنی کے اصل اثاثے جیسے (الف) ٹیکنالوجی، (ب) افرادی قوت، (ج) روزگار اور سماجی فوائد، (د) دانشورانہ ملکیت وغیرہ، ہمیشہ ان سرمایہ کاری فنڈز کے کنٹرول سے باہر رہیں گے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو بوئنگ جیسی کمپنی کے مالک ہونے سے اصل میں کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور مغرب کے درمیان سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا، بوئنگ وہاں موجود نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایمریٹس کے 100 فیصد پائلٹس اماراتی ہو جائیں گے، تب بھی اصل سوال یہ ہے کہ ایئرلائن کی فراہم کردہ سہولیات سے حتمی طور پر فائدہ کون اٹھا رہا ہے۔ یہ ایک عالمی حقیقت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ پیسہ، لوگ اور تہذیب جغرافیہ اور آبادی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کسی اثاثے کی اصل قدر صرف اس حد تک ہے جس حد تک اس سے معاشی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان اثاثوں کی حقیقی افادیت صرف ان ممالک میں ہے جو قطر سے جغرافیائی اور موسمی لحاظ سے دور ہیں، مثلاً یورپ، امریکہ، چین یا بھارت۔ قطر اور قطری عوام کے لیے فائدہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ اثاثہ ان کے ملک سے باہر موجود ہو اور وہ وہاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کے لیے تقریباً غیر مؤثر ہے جنہوں نے یہ دولت پیدا کی ہے یا جہاں یہ پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہ دولت بینک لاکرز میں جمع ہو جائے گی اور اس سے مغربی معیشتوں اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس صورتحال میں مصنف اس اثاثے کی قدر ایک مختلف انداز میں کرے گا۔ ایک اکاؤنٹنٹ کے طور پر اس ویلیو ایشن طریقے کو اصل ملک میں افادیت کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے۔ مصنف کے مطابق اس پیمانے پر یہ 10 فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ باقی 90 فیصد فائدہ ان لوگوں اور مقامات کو حاصل ہوتا ہے جو اس دولت کے اصل پیدا ہونے کی جگہ سے مختلف ہیں۔ اسے ورچولی فیروزن ایسٹ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سوالات جو مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو، اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز اور روایتی ویلیو ایشن طریقوں کی الجھن کو نظر انداز کرتے ہوئے، خود سے پوچھنے چاہئیں وہ یہ ہیں کہ کیا یہ دولت ان کے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ان کے اپنے ملک میں رہتے ہوئے کبھی غیر مؤثر ہو جائے گی۔ حال ہی میں مصنف نے دوحہ کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ٹیکسی ڈرائیور جو خود قطری تھا نے بتایا کہ تقریباً 90 فیصد قطری اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ مغربی ممالک میں گزارتے ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ باقی وقت میں وہ مغرب کی ہائی اسٹریٹس کے لیے بڑے خرچ کرنے والے اور معاشی معاون بن جاتے ہیں، جو ان معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خالص سرمایہ داری کا ایک جال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی شخص محدود حد تک پیٹیک فلپ یا ہرمیس جیسی لگژری اشیاء خرید سکتا ہے، لیکن یہ اشیاء وہ عزت اور وقار فراہم نہیں کرتیں جو کسی بھی مغربی معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ اور مہذب شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ ہریڈزکے مالک محمد الفايد اس کی ایک مثال ہیں۔ اس طرح آخر میں یہ پورا معاملہ ایک تماشا بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی صورتحال یورپ اور ایشیا کی سابقہ شاہی خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آ چکی ہے۔ ہمیں تین امیر بادشاہوں کو نہیں بھولنا چاہیے: حیدرآباد کے نظام (1940 میں 2 ارب ڈالر)، مصر کے شاہ فاروق (2.3 ارب ڈالر)، اور ایران کے رضا شاہ (1 ارب ڈالر)۔ موجودہ دور کی طرح مشرقِ وسطیٰ کی دولت اگرچہ ان شاہی خاندانوں کی ذاتی دولت نہیں، بلکہ ریاستی سرمایہ کاری فنڈز وغیرہ کی دولت ہے، لیکن جب اس کی اصل افادیت اور حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہی نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مذکورہ بادشاہوں نے اس وقت کی سب سے بڑی دولت چھوڑی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے بادشاہوں کی طرح یہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی ایک جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 2026 کے آغاز تک رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے اپنے فلیگ شپ 170 کلومیٹر طویل دی لائن کو، جو نیوم منصوبے کا حصہ ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی سرپرستی میں ہے، کافی حد تک محدود کر دیا ہے—اور بعض پہلوؤں میں اسے عملی طور پر سست یا منجمد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ صرف مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اس کی حتمی افادیت کا سوال بھی ہے۔ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ان لوگوں کے لیے ہوگی جو سہولت چاہتے ہیں۔ سعودی پہلے ہی سہولت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ عیش و آرام چاہتے ہیں، جو اے آئی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ عیش و آرام صرف قدرتی ماحول سے حاصل ہوتا ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقوں میں، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، یا یورپ میں سوئٹزرلینڈ میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ فطرت کو سائنس کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ سے سیکھتے ہوئے، جو کہ ناقابلِ تردید ہے، بہتر ہوگا کہ یہ فنڈز اپنی اصل بیلنس شیٹ کو مکمل طور پر دوبارہ دیکھیں۔ حل سرمایہ کاری کی ایسی جگہوں میں تنوع ہے جیسے پاکستان، ایران، وسطی ایشیا، چین، بھارت اور دیگر ممالک۔ اس کے علاوہ کمزور ممالک کے عوام میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی سیاسی یا سماجی بحران کی صورت میں مثبت سیاسی تصویر برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت اور سیاست کبھی بھی اس انداز میں تبدیل نہیں ہوئے جیسے پیش گوئی کی گئی تھی۔ لہٰذا جو کچھ ہارورڈ اور کیمبرج میں پڑھایا گیا تھا، اسے ایک پانچ فٹ قد والے شخص ڈینگ ژیاو پنگ نے غیر مؤثر بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس 200 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا موقع ہے اور یہ دنیا میں کہیں بھی حاصل ہونے والے نتائج سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف مستقبل کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اثاثوں کی درست ویلیوایشن کا طریقہ اپنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئیے دیکھتے ہیں کہ قطر اور قطری عوام حقیقت میں کیا چیزیں رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اثاثہ ہمیشہ لندن میں موجود رہے گا، جو برطانیہ کے لوگوں اور عوام کے لیے معاشی فائدہ اور طاقت کا ذریعہ فراہم کرتا رہے گا، اور ساتھ ہی مالکان سے ٹیکس بھی وصول کرتا رہے گا۔</strong></p>
<p>اور اگر کبھی ایسا ممکن بھی ہو تو نقد رقم کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم قطر میں کسی مفید استعمال کے قابل نہیں ہوگی، کیونکہ قطری عوام کے پاس نہ تو ایسی بڑی آبادی ہے اور نہ ہی ایسا موسم کہ وہ اس دولت سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ قطریوں نے یہی تجربہ فیفا ورلڈ کپ کے ذریعے بھی کیا تھا، تاہم اب ان کے 90 فیصد اسٹیڈیم ضائع ہو رہے ہیں۔ اگرچہ پیسہ موجود ہے، مگر لوگ موجود نہیں جو اس پیسے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس صورت میں یہ دولت غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔</p>
<p>دوسری مثال اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ یہ سرمایہ کاری فنڈز بوئنگ کا ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ یہ کمپنی ہوائی جہاز بناتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی اصل قیمت کیا ہے؟ کیا یہ نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر موجود مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہے؟ دیکھنے میں تو ایسا ہی ہے، لیکن عملی طور پر یہ صرف ایک کاغذی حصہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں چیئرمین کی ایک نشست ہے۔ کمپنی کے اصل اثاثے جیسے (الف) ٹیکنالوجی، (ب) افرادی قوت، (ج) روزگار اور سماجی فوائد، (د) دانشورانہ ملکیت وغیرہ، ہمیشہ ان سرمایہ کاری فنڈز کے کنٹرول سے باہر رہیں گے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو بوئنگ جیسی کمپنی کے مالک ہونے سے اصل میں کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ جب بھی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور مغرب کے درمیان سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہوگا، بوئنگ وہاں موجود نہیں ہوگا۔</p>
<p>یہاں تک کہ اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایمریٹس کے 100 فیصد پائلٹس اماراتی ہو جائیں گے، تب بھی اصل سوال یہ ہے کہ ایئرلائن کی فراہم کردہ سہولیات سے حتمی طور پر فائدہ کون اٹھا رہا ہے۔ یہ ایک عالمی حقیقت ہے جو ثابت کرتی ہے کہ پیسہ، لوگ اور تہذیب جغرافیہ اور آبادی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ کسی اثاثے کی اصل قدر صرف اس حد تک ہے جس حد تک اس سے معاشی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p>لہٰذا ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان اثاثوں کی حقیقی افادیت صرف ان ممالک میں ہے جو قطر سے جغرافیائی اور موسمی لحاظ سے دور ہیں، مثلاً یورپ، امریکہ، چین یا بھارت۔ قطر اور قطری عوام کے لیے فائدہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ اثاثہ ان کے ملک سے باہر موجود ہو اور وہ وہاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کے لیے تقریباً غیر مؤثر ہے جنہوں نے یہ دولت پیدا کی ہے یا جہاں یہ پیدا ہوئی ہے۔</p>
<p>بالآخر یہ دولت بینک لاکرز میں جمع ہو جائے گی اور اس سے مغربی معیشتوں اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس صورتحال میں مصنف اس اثاثے کی قدر ایک مختلف انداز میں کرے گا۔ ایک اکاؤنٹنٹ کے طور پر اس ویلیو ایشن طریقے کو اصل ملک میں افادیت کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے۔ مصنف کے مطابق اس پیمانے پر یہ 10 فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ باقی 90 فیصد فائدہ ان لوگوں اور مقامات کو حاصل ہوتا ہے جو اس دولت کے اصل پیدا ہونے کی جگہ سے مختلف ہیں۔ اسے ورچولی فیروزن ایسٹ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>وہ سوالات جو مشرقِ وسطیٰ کے سرمایہ کاری فنڈز کو، اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز اور روایتی ویلیو ایشن طریقوں کی الجھن کو نظر انداز کرتے ہوئے، خود سے پوچھنے چاہئیں وہ یہ ہیں کہ کیا یہ دولت ان کے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ان کے اپنے ملک میں رہتے ہوئے کبھی غیر مؤثر ہو جائے گی۔ حال ہی میں مصنف نے دوحہ کا دورہ کیا۔</p>
<p>وہ ٹیکسی ڈرائیور جو خود قطری تھا نے بتایا کہ تقریباً 90 فیصد قطری اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ مغربی ممالک میں گزارتے ہیں۔ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ باقی وقت میں وہ مغرب کی ہائی اسٹریٹس کے لیے بڑے خرچ کرنے والے اور معاشی معاون بن جاتے ہیں، جو ان معیشتوں کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ خالص سرمایہ داری کا ایک جال ہے۔</p>
<p>کوئی بھی شخص محدود حد تک پیٹیک فلپ یا ہرمیس جیسی لگژری اشیاء خرید سکتا ہے، لیکن یہ اشیاء وہ عزت اور وقار فراہم نہیں کرتیں جو کسی بھی مغربی معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ اور مہذب شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ ہریڈزکے مالک محمد الفايد اس کی ایک مثال ہیں۔ اس طرح آخر میں یہ پورا معاملہ ایک تماشا بن جاتا ہے۔</p>
<p>یہی صورتحال یورپ اور ایشیا کی سابقہ شاہی خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آ چکی ہے۔ ہمیں تین امیر بادشاہوں کو نہیں بھولنا چاہیے: حیدرآباد کے نظام (1940 میں 2 ارب ڈالر)، مصر کے شاہ فاروق (2.3 ارب ڈالر)، اور ایران کے رضا شاہ (1 ارب ڈالر)۔ موجودہ دور کی طرح مشرقِ وسطیٰ کی دولت اگرچہ ان شاہی خاندانوں کی ذاتی دولت نہیں، بلکہ ریاستی سرمایہ کاری فنڈز وغیرہ کی دولت ہے، لیکن جب اس کی اصل افادیت اور حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہی نکلتا ہے۔</p>
<p>ان مذکورہ بادشاہوں نے اس وقت کی سب سے بڑی دولت چھوڑی تھی۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے بادشاہوں کی طرح یہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی ایک جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 2026 کے آغاز تک رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے اپنے فلیگ شپ 170 کلومیٹر طویل دی لائن کو، جو نیوم منصوبے کا حصہ ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان کی سرپرستی میں ہے، کافی حد تک محدود کر دیا ہے—اور بعض پہلوؤں میں اسے عملی طور پر سست یا منجمد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کی وجہ صرف مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ اس کی حتمی افادیت کا سوال بھی ہے۔ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ان لوگوں کے لیے ہوگی جو سہولت چاہتے ہیں۔ سعودی پہلے ہی سہولت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ عیش و آرام چاہتے ہیں، جو اے آئی کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ عیش و آرام صرف قدرتی ماحول سے حاصل ہوتا ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقوں میں، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف، یا یورپ میں سوئٹزرلینڈ میں وافر مقدار میں موجود ہے۔ فطرت کو سائنس کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>تاریخ سے سیکھتے ہوئے، جو کہ ناقابلِ تردید ہے، بہتر ہوگا کہ یہ فنڈز اپنی اصل بیلنس شیٹ کو مکمل طور پر دوبارہ دیکھیں۔ حل سرمایہ کاری کی ایسی جگہوں میں تنوع ہے جیسے پاکستان، ایران، وسطی ایشیا، چین، بھارت اور دیگر ممالک۔ اس کے علاوہ کمزور ممالک کے عوام میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی سیاسی یا سماجی بحران کی صورت میں مثبت سیاسی تصویر برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>معیشت اور سیاست کبھی بھی اس انداز میں تبدیل نہیں ہوئے جیسے پیش گوئی کی گئی تھی۔ لہٰذا جو کچھ ہارورڈ اور کیمبرج میں پڑھایا گیا تھا، اسے ایک پانچ فٹ قد والے شخص ڈینگ ژیاو پنگ نے غیر مؤثر بنا دیا۔</p>
<p>پاکستان کے پاس 200 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا موقع ہے اور یہ دنیا میں کہیں بھی حاصل ہونے والے نتائج سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف مستقبل کو دیکھنے کا زاویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور اثاثوں کی درست ویلیوایشن کا طریقہ اپنانا ہوگا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 6 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503150</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 13:45:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید شبر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/091510543575214.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/091510543575214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دولت مند خلیجی ممالک کی مغرب میں سرمایہ کاری، غیر ملکی اثاثوں کی قدر (حصہ اول)</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503148/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیرِ نظر تحریر کے مصنف پیشہ ور اور تربیت یافتہ اکاؤنٹنٹ ہیں، جو اثاثوں کی قدر کے تعین کے لیے ہمیشہ کاروبار کے تسلسل کے مسلمہ مفروضے کو بنیاد بناتے رہے ہیں۔ اس تیکنیکی مفروضے کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی کاروبار مستقبل قریب میں اپنی موجودہ حالت میں برقرار رہے گا۔ تاہم درج ذیل سطور میں حقائق اور حالات کی روشنی میں ایک مختلف نقطہ نظر اور متبادل مفروضے پر بحث کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ دولت مند مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے مغرب میں جو اثاثے بنا رکھے ہیں وہ اتنے سود مند اور نقد آور نہیں ہیں جتنا کہ روایتی اکاؤنٹنگ فریم ورک کے تحت عمومی طور پر تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرمز، مالیاتی تجزیہ کار اور میڈیا کبھی بھی تصویر کے اس رخ کو نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہ ان کے اپنے معاشی مفادات سے متصادم ہے۔ تاہم مالیات اور سیاست کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے بعد مصنف کو تقریباً یقین ہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتائج جو بھی ہوں مستقبل میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے وہ اٹل ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایران کی مکمل تباہی یا وہاں حکومت کی تبدیلی کا دور دراز امکان بھی حقیقت بن جائے، تب بھی واقعات کا رخ تبدیل نہیں ہوگا۔ درج ذیل چار دلائل اس نتیجے کے لیے اہم ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(1) مشرق وسطیٰ کے تیل بردار ممالک بنیادی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت نے اپنے خودمختار دولت فنڈز کے ذریعے غیر ملکی اثاثوں میں تقریباً 3.7 ٹریلین سے 5 ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ فنڈز تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی، کھیلوں، بینکاری اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک کے یہ فنڈز عالمی ریاستی فنڈز کے تقریباً ایک تہائی اثاثوں کا انتظام سنبھالتے ہیں اور اکثر مغربی کمپنیوں کے لیے نجات دہندہ کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کی سرمایہ کاری زیادہ تر مغربی کمپنیوں (مثلاً اوبر، بوئنگ، نینٹینڈو) اور بڑے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ اہم کھلاڑیوں میں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیوآئی اے) اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) شامل ہیں جو اپنے عالمی پورٹ فولیو کو تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(2) قطر لندن کے لگژری ہوٹلوں کی وسیع ملکیت رکھتا ہے، جو بنیادی طور پر قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیوآئی اے) اور کٹارا ہاسپیٹلٹی جیسے ریاستی اداروں کے ذریعے ہے، جن کے پاس 100 بلین پاؤنڈ سے زائد کے برطانوی اثاثے ہیں۔ ان میں دی رٹز (800 ملین پاؤنڈ)، ’سیوائے ، کوناٹ ، گرووینر ہاؤس اور چانسری روز ووڈ کے علاوہ ہیرودز جیسے مشہور اثاثے شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دی رٹز لندن 2020 میں تقریباً 800 ملین پاؤنڈ میں قطری سرمایہ کار کو فروخت کیا گیا، جبکہ میفیئر میں سابق امریکی سفارت خانے کی جگہ بننے والا چانسری روز ووڈ قطری دیار نے 2009 میں تقریباً 500 ملین پاؤنڈ میں حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(3) 28 فروری 2026 کو تنازع شروع ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں کو پہلے ہی مہینے میں مجموعی طور پر 120 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اگرچہ دولت کی سوئٹزرلینڈ منتقلی کی اطلاعات تھیں جہاں سوئس بینکوں میں یو اے ای کے افراد کی نقد رقم میں 40 فیصد اضافہ ہو اور کچھ سرمایہ کاروں نے اثاثے سنگاپور یا ہانگ کانگ منتقل کیے لیکن دبئی سے لندن منتقل ہونے والے سرمائے کے درست اعداد و شمار واضح نہیں ہیں۔ 28 فروری 2026 کے بعد کے اہم مالیاتی اثرات یہ ہیں 1۔ جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر دبئی فنانشل مارکیٹ انڈیکس میں تقریباً 16 فیصد کمی آئی۔ 2۔ صاحب ثروت افراد نے خلیج میں اپنی پوزیشنز کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا اور محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کیا، جس سے سوئس بینکوں میں یو اے ای سے منسلک فنڈز میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ 3۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فوری فرار کے بجائے خطرات کا ازسرنو جائزہ تھا۔ (4)۔ ایس اینڈ پی کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق تنازع طول پکڑنے کی صورت میں خلیجی بینکوں کو 307 بلین ڈالر کے ڈپازٹس نکل جانے کا خطرہ تھا۔ (5)۔ معاشی خلل کے جواب میں دبئی نے 30 مارچ 2026 کو کاروباروں اور شہریوں کی مدد کے لیے 270 ملین ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(6) بلیک راک نے 6 مارچ 2026 کو اپنے 26 بلین ڈالر کے فلیگ شپ ایچ پی ایس کارپوریٹ لینڈنگ فنڈ(ایچ ایل ای این ڈی) سے رقم نکالنے پر پابندی لگا دی۔ سرمایہ کاروں نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اپنے حصص کا 9.3 فیصد (تقریباً 1.2 بلین ڈالر) نکالنا چاہا، جو فنڈ کی 5 فیصد کی سہ ماہی حد سے تجاوز کر گیا۔ بلیک راک نے 5 فیصد کی حد برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 620 ملین ڈالر ادا کیے لیکن باقی درخواستیں روک دیں۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران طویل مدتی نجی قرضوں کو نقصان پر فروخت کرنے سے بچنے کے لیے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف جس تصور کو پیش کرنا چاہتا ہے، اسے اوپر دیے گئے کیس (1) اور (2) کے حوالے سے بیان کرنا آسان ہوگا۔ قطر لندن میں دی رٹز کے نام سے 1 بلین ڈالر کا ہوٹل رکھتا ہے۔ (جاری ہے)&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 5 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زیرِ نظر تحریر کے مصنف پیشہ ور اور تربیت یافتہ اکاؤنٹنٹ ہیں، جو اثاثوں کی قدر کے تعین کے لیے ہمیشہ کاروبار کے تسلسل کے مسلمہ مفروضے کو بنیاد بناتے رہے ہیں۔ اس تیکنیکی مفروضے کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی کاروبار مستقبل قریب میں اپنی موجودہ حالت میں برقرار رہے گا۔ تاہم درج ذیل سطور میں حقائق اور حالات کی روشنی میں ایک مختلف نقطہ نظر اور متبادل مفروضے پر بحث کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>اس تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ دولت مند مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے مغرب میں جو اثاثے بنا رکھے ہیں وہ اتنے سود مند اور نقد آور نہیں ہیں جتنا کہ روایتی اکاؤنٹنگ فریم ورک کے تحت عمومی طور پر تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرمز، مالیاتی تجزیہ کار اور میڈیا کبھی بھی تصویر کے اس رخ کو نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہ ان کے اپنے معاشی مفادات سے متصادم ہے۔ تاہم مالیات اور سیاست کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے بعد مصنف کو تقریباً یقین ہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتائج جو بھی ہوں مستقبل میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے وہ اٹل ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایران کی مکمل تباہی یا وہاں حکومت کی تبدیلی کا دور دراز امکان بھی حقیقت بن جائے، تب بھی واقعات کا رخ تبدیل نہیں ہوگا۔ درج ذیل چار دلائل اس نتیجے کے لیے اہم ہیں</p>
<p>(1) مشرق وسطیٰ کے تیل بردار ممالک بنیادی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت نے اپنے خودمختار دولت فنڈز کے ذریعے غیر ملکی اثاثوں میں تقریباً 3.7 ٹریلین سے 5 ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ فنڈز تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی، کھیلوں، بینکاری اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔</p>
<p>خلیجی ممالک کے یہ فنڈز عالمی ریاستی فنڈز کے تقریباً ایک تہائی اثاثوں کا انتظام سنبھالتے ہیں اور اکثر مغربی کمپنیوں کے لیے نجات دہندہ کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کی سرمایہ کاری زیادہ تر مغربی کمپنیوں (مثلاً اوبر، بوئنگ، نینٹینڈو) اور بڑے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ اہم کھلاڑیوں میں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیوآئی اے) اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) شامل ہیں جو اپنے عالمی پورٹ فولیو کو تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔</p>
<p>(2) قطر لندن کے لگژری ہوٹلوں کی وسیع ملکیت رکھتا ہے، جو بنیادی طور پر قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیوآئی اے) اور کٹارا ہاسپیٹلٹی جیسے ریاستی اداروں کے ذریعے ہے، جن کے پاس 100 بلین پاؤنڈ سے زائد کے برطانوی اثاثے ہیں۔ ان میں دی رٹز (800 ملین پاؤنڈ)، ’سیوائے ، کوناٹ ، گرووینر ہاؤس اور چانسری روز ووڈ کے علاوہ ہیرودز جیسے مشہور اثاثے شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دی رٹز لندن 2020 میں تقریباً 800 ملین پاؤنڈ میں قطری سرمایہ کار کو فروخت کیا گیا، جبکہ میفیئر میں سابق امریکی سفارت خانے کی جگہ بننے والا چانسری روز ووڈ قطری دیار نے 2009 میں تقریباً 500 ملین پاؤنڈ میں حاصل کیا تھا۔</p>
<p>(3) 28 فروری 2026 کو تنازع شروع ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں کو پہلے ہی مہینے میں مجموعی طور پر 120 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اگرچہ دولت کی سوئٹزرلینڈ منتقلی کی اطلاعات تھیں جہاں سوئس بینکوں میں یو اے ای کے افراد کی نقد رقم میں 40 فیصد اضافہ ہو اور کچھ سرمایہ کاروں نے اثاثے سنگاپور یا ہانگ کانگ منتقل کیے لیکن دبئی سے لندن منتقل ہونے والے سرمائے کے درست اعداد و شمار واضح نہیں ہیں۔ 28 فروری 2026 کے بعد کے اہم مالیاتی اثرات یہ ہیں 1۔ جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر دبئی فنانشل مارکیٹ انڈیکس میں تقریباً 16 فیصد کمی آئی۔ 2۔ صاحب ثروت افراد نے خلیج میں اپنی پوزیشنز کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا اور محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کیا، جس سے سوئس بینکوں میں یو اے ای سے منسلک فنڈز میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ 3۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فوری فرار کے بجائے خطرات کا ازسرنو جائزہ تھا۔ (4)۔ ایس اینڈ پی کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق تنازع طول پکڑنے کی صورت میں خلیجی بینکوں کو 307 بلین ڈالر کے ڈپازٹس نکل جانے کا خطرہ تھا۔ (5)۔ معاشی خلل کے جواب میں دبئی نے 30 مارچ 2026 کو کاروباروں اور شہریوں کی مدد کے لیے 270 ملین ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔</p>
<p>(6) بلیک راک نے 6 مارچ 2026 کو اپنے 26 بلین ڈالر کے فلیگ شپ ایچ پی ایس کارپوریٹ لینڈنگ فنڈ(ایچ ایل ای این ڈی) سے رقم نکالنے پر پابندی لگا دی۔ سرمایہ کاروں نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اپنے حصص کا 9.3 فیصد (تقریباً 1.2 بلین ڈالر) نکالنا چاہا، جو فنڈ کی 5 فیصد کی سہ ماہی حد سے تجاوز کر گیا۔ بلیک راک نے 5 فیصد کی حد برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 620 ملین ڈالر ادا کیے لیکن باقی درخواستیں روک دیں۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران طویل مدتی نجی قرضوں کو نقصان پر فروخت کرنے سے بچنے کے لیے کیا گیا۔</p>
<p>مصنف جس تصور کو پیش کرنا چاہتا ہے، اسے اوپر دیے گئے کیس (1) اور (2) کے حوالے سے بیان کرنا آسان ہوگا۔ قطر لندن میں دی رٹز کے نام سے 1 بلین ڈالر کا ہوٹل رکھتا ہے۔ (جاری ہے)</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 5 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503148</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 13:21:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید شبر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/091511123575214.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/091511123575214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معیشت کا منظرنامہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502954/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سال 2025-26 میں اب تک معیشت نے 2024-25 کے مقابلے میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلا اشاریہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو ہے، جو 2024-25 میں 3.1 فیصد تھی، جبکہ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلاننگ کمیشن اور بین الاقوامی اداروں کی پیش گوئی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی شرحِ نمو تقریباً 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اندازہ خاص طور پر صنعتی شعبے کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی شعبے کی شرحِ نمو 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 9.4 فیصد تک رہی۔ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق اس شعبے نے مالی سال کے پہلے سات ماہ میں تقریباً 6 فیصد نمو حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت میں مجموعی شرحِ نمو کا ایک نمائندہ اشاریہ پی او ایل مصنوعات کی وسیع بنیادوں پر کھپت میں اضافہ ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی ( او سی اے سی ) کے مطابق 2025-26 کے پہلے سات ماہ میں اس میں 7.6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی سرمایہ کاری کی سطح بھی گزشتہ تین برسوں کی سست روی کے بعد بحالی کے آثار دکھا رہی ہے۔ اس کی نشاندہی تین اشاریے کرتے ہیں۔ اول، 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں نجی شعبے کو بینکوں کے قرضوں میں 85 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دوم، پہلے سات ماہ میں مشینری کی درآمدات میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سوم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات 2025-26 کے پہلے نصف میں تقریباً 25 فیصد بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کی شرح 2024-25 میں کم ہو کر 4.5 فیصد رہ گئی تھی۔ خوش آئند طور پر 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں بھی یہ سنگل ڈیجٹ سطح پر برقرار رہی ہے۔ تاہم مہنگائی میں کچھ تیزی کے آثار بھی ہیں، جو جولائی 2025 میں 4.1 فیصد سے بڑھ کر فروری 2026 میں 7 فیصد تک پہنچ گئی، اگرچہ یہ اب بھی سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح اب تک 2025-26 میں 7.1 فیصد رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 کے پہلے نصف میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ میں 541 ارب روپے کا سرپلس رہا ہے۔ یہ بڑی حد تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2428 ارب روپے منافع کی خطیر منتقلی کے باعث ممکن ہوا۔ تاہم تشویش کا پہلو ایف بی آر کی آمدنی میں سست رفتار اضافہ ہے، جو 9.5 فیصد رہا، جبکہ ہدف 18.7 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ادائیگیوں کا توازن قابلِ انتظام رہا ہے۔ جاری کھاتے میں صرف 70 کروڑ ڈالر کا معمولی خسارہ رہا، جبکہ پورے مالی سال 2025-26 کے لیے 2 ارب ڈالر کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ فروری میں تو سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی کھاتے میں سرپلس تقریباً دوگنا ہو کر 1,220 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی خالص آمد کے ساتھ مل کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16,438 ملین ڈالر کی نسبتاً بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں، جو 2.8 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث کسی منفی جھٹکے سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ مزید یہ کہ ملک کے پاس 2027 کے اختتام تک 7.2 ارب ڈالر کے قرض پر مشتمل جاری آئی ایم ایف پروگرام کی سہولت بھی موجود ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس پروگرام کا تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات کے باعث اوپر بیان کردہ مثبت رجحانات میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے مختلف منظرنامے ہیں۔ سب سے منفی منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ یوکرین-روس جنگ کی طرح جاری رہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت محدود رہے۔ ایک نسبتاً مثبت منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہوں، جو بالآخر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے جزوی کھلنے کا باعث بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منفی منظرنامے میں 2025-26 کی آخری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں معاشی اشاریوں کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑے گا۔ وہ شعبے زیادہ متاثر ہوں گے جہاں ایندھن کا استعمال زیادہ ہے۔ ان شعبوں کی نشاندہی پاکستان بیورو آف شماریات کی تیار کردہ سیکٹر ان پٹ-آؤٹ پٹ ٹیبل سے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ کا استعمال فصلوں کی پیداوار، خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعت، ہول سیل و ریٹیل تجارت، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن و دفاع جیسے شعبوں میں نسبتاً زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ انحصار تعلیم کے شعبے میں ہے، جہاں یہ مجموعی قومی ان پٹ کا 36 فیصد ہے۔ دیگر شعبوں میں خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں بالترتیب 14 اور 10 فیصد کے ساتھ نمایاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی ایل این جی تک محدود رسائی سے کھاد، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور توانائی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ٹیکسٹائل صنعت میں یونٹس اپنی بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح خام تیل کی محدود دستیابی ملک میں پی او ایل پلانٹس کی پیداوار کو بھی کم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شعبوں کی نشاندہی کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ اگر ایندھن کی دستیابی میں 10 فیصد کمی ہو تو جی ڈی پی کو تقریباً 2 فیصد نقصان ہو سکتا ہے۔ اس منظرنامے میں 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی اور اس کے بعد کے ادوار میں شرحِ نمو میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔ جنگ کے آغاز کے بعد پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کے ساتھ تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا، جو برینٹ کروڈ کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل ہونے سے منسلک تھا، جبکہ اس سے قبل یہ 64 ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خام تیل کی قیمت مزید بڑھ کر اس وقت 112 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، اور اندازہ ہے کہ اگر عالمی قلت برقرار رہی تو یہ 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس سے فی لیٹر قیمت میں مزید 100 روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی او ایل قیمتوں میں اضافے کے دہرے اثرات ہیں۔ ایک براہِ راست گھریلو اخراجات پر اور دوسرا اشیا، خصوصاً خوراک، کی ترسیل کے اخراجات میں اضافے کے ذریعے۔ سی پی آئی میں ٹرانسپورٹ کا وزن 5.9 فیصد ہے، اس لیے 55 روپے فی لیٹر اضافے نے براہِ راست مہنگائی میں تقریباً 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر اثر اس سے بھی زیادہ ہے۔ ان پٹ-آؤٹ پٹ ٹیبل کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ سی پی آئی میں تقریباً 4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پرمہنگائی میں تقریباً 5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنگ سے قبل یہ شرح 7 فیصد تھی، لہٰذا پاکستان کو دوبارہ دہرے ہندسے کی مہنگائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادائیگیوں کے توازن پر اثرات میں درآمدی بل میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ سے ترسیلات زر میں کمی اور برآمدات میں ممکنہ کمی شامل ہیں، جو مسابقت میں کمی پر منحصر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی موجودہ قیمت 112 ڈالر فی بیرل کے حساب سے اندازہ ہے کہ ماہانہ ایندھن کی درآمدی لاگت میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل اور ایل این جی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی محنت کشوں کی عالمی ترسیلات زر کا تقریباً 55 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، جس میں سعودی عرب سب سے بڑا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کی معیشتیں اب بھی بڑی حد تک ایک ہی مصنوعات، یعنی تیل، پر انحصار کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کی برآمدات کا 80 فیصد تیل پر مشتمل ہے اور برآمدات جی ڈی پی کا 20 فیصد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی برآمدات میں 10 فیصد کمی ہو تو سعودی عرب کی جی ڈی پی میں تقریباً 2 فیصد، یعنی 25 ارب ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی سست روی روزگار کے مواقع کو متاثر کر سکتی ہے اور پاکستان کو ترسیلات زر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی صورتحال دیگر ممالک میں بھی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک کم زیرِ بحث آنے والا منفی اثر برآمدات پر بھی ہے۔ ممالک کو یہ دیکھنا ہوگا کہ پی او ایل قیمتوں میں اضافے سے، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث، ان کی برآمدی مسابقت پر کیا اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے ضروری ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ان ممالک میں پی او ایل کی موجودہ قیمتوں کا جائزہ لیا جائے جو پاکستان کے ساتھ بالخصوص ٹیکسٹائل برآمدات میں مسابقت رکھتے ہیں۔ منتخب ممالک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمتیں جدول نمبر 1 میں دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 31 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سال 2025-26 میں اب تک معیشت نے 2024-25 کے مقابلے میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلا اشاریہ جی ڈی پی کی شرحِ نمو ہے، جو 2024-25 میں 3.1 فیصد تھی، جبکہ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>پلاننگ کمیشن اور بین الاقوامی اداروں کی پیش گوئی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی شرحِ نمو تقریباً 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اندازہ خاص طور پر صنعتی شعبے کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔</p>
<p>صنعتی شعبے کی شرحِ نمو 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 9.4 فیصد تک رہی۔ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے مطابق اس شعبے نے مالی سال کے پہلے سات ماہ میں تقریباً 6 فیصد نمو حاصل کی ہے۔</p>
<p>معیشت میں مجموعی شرحِ نمو کا ایک نمائندہ اشاریہ پی او ایل مصنوعات کی وسیع بنیادوں پر کھپت میں اضافہ ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی ( او سی اے سی ) کے مطابق 2025-26 کے پہلے سات ماہ میں اس میں 7.6 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>مجموعی سرمایہ کاری کی سطح بھی گزشتہ تین برسوں کی سست روی کے بعد بحالی کے آثار دکھا رہی ہے۔ اس کی نشاندہی تین اشاریے کرتے ہیں۔ اول، 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں نجی شعبے کو بینکوں کے قرضوں میں 85 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ دوم، پہلے سات ماہ میں مشینری کی درآمدات میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سوم، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات 2025-26 کے پہلے نصف میں تقریباً 25 فیصد بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>مہنگائی کی شرح 2024-25 میں کم ہو کر 4.5 فیصد رہ گئی تھی۔ خوش آئند طور پر 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں بھی یہ سنگل ڈیجٹ سطح پر برقرار رہی ہے۔ تاہم مہنگائی میں کچھ تیزی کے آثار بھی ہیں، جو جولائی 2025 میں 4.1 فیصد سے بڑھ کر فروری 2026 میں 7 فیصد تک پہنچ گئی، اگرچہ یہ اب بھی سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح اب تک 2025-26 میں 7.1 فیصد رہی ہے۔</p>
<p>2025-26 کے پہلے نصف میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ میں 541 ارب روپے کا سرپلس رہا ہے۔ یہ بڑی حد تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2428 ارب روپے منافع کی خطیر منتقلی کے باعث ممکن ہوا۔ تاہم تشویش کا پہلو ایف بی آر کی آمدنی میں سست رفتار اضافہ ہے، جو 9.5 فیصد رہا، جبکہ ہدف 18.7 فیصد تھا۔</p>
<p>جولائی 2025 سے فروری 2026 تک ادائیگیوں کا توازن قابلِ انتظام رہا ہے۔ جاری کھاتے میں صرف 70 کروڑ ڈالر کا معمولی خسارہ رہا، جبکہ پورے مالی سال 2025-26 کے لیے 2 ارب ڈالر کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ فروری میں تو سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>مالی کھاتے میں سرپلس تقریباً دوگنا ہو کر 1,220 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی خالص آمد کے ساتھ مل کر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16,438 ملین ڈالر کی نسبتاً بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں، جو 2.8 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p>اس طرح پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث کسی منفی جھٹکے سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ مزید یہ کہ ملک کے پاس 2027 کے اختتام تک 7.2 ارب ڈالر کے قرض پر مشتمل جاری آئی ایم ایف پروگرام کی سہولت بھی موجود ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس پروگرام کا تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔</p>
<p>اب ہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات کے باعث اوپر بیان کردہ مثبت رجحانات میں ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے مختلف منظرنامے ہیں۔ سب سے منفی منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ یوکرین-روس جنگ کی طرح جاری رہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت محدود رہے۔ ایک نسبتاً مثبت منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہوں، جو بالآخر جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کے جزوی کھلنے کا باعث بنیں۔</p>
<p>منفی منظرنامے میں 2025-26 کی آخری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں معاشی اشاریوں کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا اثر جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر پڑے گا۔ وہ شعبے زیادہ متاثر ہوں گے جہاں ایندھن کا استعمال زیادہ ہے۔ ان شعبوں کی نشاندہی پاکستان بیورو آف شماریات کی تیار کردہ سیکٹر ان پٹ-آؤٹ پٹ ٹیبل سے کی گئی ہے۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ کا استعمال فصلوں کی پیداوار، خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعت، ہول سیل و ریٹیل تجارت، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن و دفاع جیسے شعبوں میں نسبتاً زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ انحصار تعلیم کے شعبے میں ہے، جہاں یہ مجموعی قومی ان پٹ کا 36 فیصد ہے۔ دیگر شعبوں میں خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں بالترتیب 14 اور 10 فیصد کے ساتھ نمایاں ہیں۔</p>
<p>درآمدی ایل این جی تک محدود رسائی سے کھاد، سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور توانائی کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ٹیکسٹائل صنعت میں یونٹس اپنی بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح خام تیل کی محدود دستیابی ملک میں پی او ایل پلانٹس کی پیداوار کو بھی کم کرے گی۔</p>
<p>ان شعبوں کی نشاندہی کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ اگر ایندھن کی دستیابی میں 10 فیصد کمی ہو تو جی ڈی پی کو تقریباً 2 فیصد نقصان ہو سکتا ہے۔ اس منظرنامے میں 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی اور اس کے بعد کے ادوار میں شرحِ نمو میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔</p>
<p>مہنگائی پر بھی نمایاں اثر پڑے گا۔ جنگ کے آغاز کے بعد پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کے ساتھ تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا، جو برینٹ کروڈ کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل ہونے سے منسلک تھا، جبکہ اس سے قبل یہ 64 ڈالر تھی۔</p>
<p>خام تیل کی قیمت مزید بڑھ کر اس وقت 112 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، اور اندازہ ہے کہ اگر عالمی قلت برقرار رہی تو یہ 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس سے فی لیٹر قیمت میں مزید 100 روپے سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پی او ایل قیمتوں میں اضافے کے دہرے اثرات ہیں۔ ایک براہِ راست گھریلو اخراجات پر اور دوسرا اشیا، خصوصاً خوراک، کی ترسیل کے اخراجات میں اضافے کے ذریعے۔ سی پی آئی میں ٹرانسپورٹ کا وزن 5.9 فیصد ہے، اس لیے 55 روپے فی لیٹر اضافے نے براہِ راست مہنگائی میں تقریباً 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>وسیع تر اثر اس سے بھی زیادہ ہے۔ ان پٹ-آؤٹ پٹ ٹیبل کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ سی پی آئی میں تقریباً 4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پرمہنگائی میں تقریباً 5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنگ سے قبل یہ شرح 7 فیصد تھی، لہٰذا پاکستان کو دوبارہ دہرے ہندسے کی مہنگائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ادائیگیوں کے توازن پر اثرات میں درآمدی بل میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ سے ترسیلات زر میں کمی اور برآمدات میں ممکنہ کمی شامل ہیں، جو مسابقت میں کمی پر منحصر ہوگی۔</p>
<p>برینٹ کروڈ کی موجودہ قیمت 112 ڈالر فی بیرل کے حساب سے اندازہ ہے کہ ماہانہ ایندھن کی درآمدی لاگت میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافہ ہو سکتا ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل اور ایل این جی شامل ہیں۔</p>
<p>ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی محنت کشوں کی عالمی ترسیلات زر کا تقریباً 55 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے، جس میں سعودی عرب سب سے بڑا ذریعہ ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کی معیشتیں اب بھی بڑی حد تک ایک ہی مصنوعات، یعنی تیل، پر انحصار کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کی برآمدات کا 80 فیصد تیل پر مشتمل ہے اور برآمدات جی ڈی پی کا 20 فیصد ہیں۔</p>
<p>لہٰذا اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی برآمدات میں 10 فیصد کمی ہو تو سعودی عرب کی جی ڈی پی میں تقریباً 2 فیصد، یعنی 25 ارب ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشی سست روی روزگار کے مواقع کو متاثر کر سکتی ہے اور پاکستان کو ترسیلات زر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی صورتحال دیگر ممالک میں بھی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایک کم زیرِ بحث آنے والا منفی اثر برآمدات پر بھی ہے۔ ممالک کو یہ دیکھنا ہوگا کہ پی او ایل قیمتوں میں اضافے سے، خصوصاً ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث، ان کی برآمدی مسابقت پر کیا اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>اس لیے ضروری ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ان ممالک میں پی او ایل کی موجودہ قیمتوں کا جائزہ لیا جائے جو پاکستان کے ساتھ بالخصوص ٹیکسٹائل برآمدات میں مسابقت رکھتے ہیں۔ منتخب ممالک میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمتیں جدول نمبر 1 میں دی گئی ہیں۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 31 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502954</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 13:23:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0915131763e7eb1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0915131763e7eb1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دکھائی دیتی جنگ، نظروں سے اوجھل بحران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502919/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب دنیا کی تزویراتی توجہ ایران میں جاری جنگ پر مرکوز ہے، ایک کہیں زیادہ یقینی اور بتدریج بڑھتا ہوا سانحہ خاموشی سے اُن ممالک کی جانب بڑھ رہا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ حساس یا خطرات کی زد میں ہیں۔ اس کے پاس نہ میزائل ہیں، نہ یہ سرخیوں پر چھاتا ہے، نہ ہنگامی سفارت کاری کو متوجہ کرتا ہے، مگر یہ روایتی تنازعات کے مجموعے سے بھی زیادہ جانوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جو ایران جنگ کے براہِ راست اثرات سے کسی حد تک فاصلے پر ہے، ایک ابھرتی ہوئی ماحولیاتی تباہی کے مرکز میں کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تبدیلی، جسے طویل عرصے سے تسلیم تو کیا جاتا رہا مگر مسلسل نظر انداز کیا گیا، اب پاکستان کے سامنے سب سے مہلک خطرات میں سے ایک بننے کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ تحقیق، جو یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب سے سامنے آئی ہے، اس خطرے کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف درجہ حرارت میں اضافہ آئندہ دہائیوں میں پاکستان میں ہر سال دسیوں ہزار اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے، اور اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو یہ تعداد ایک لاکھ سے کہیں تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ عالمی اموات کے وسیع ریکارڈ اور موسمیاتی ماڈلنگ پر مبنی ڈیٹا سے اخذ کردہ پیش گوئیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سانحہ صرف متوقع نقصان کے حجم تک محدود نہیں، بلکہ اس کے وقوع پزیر ہونے کے سیاق و سباق میں بھی مضمر ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی نظام جیوپولیٹیکل حریفوں، جنگوں اور بدلتی ہوئی اتحادیوں کے سبب نئے سرے سے تشکیل پا رہا ہے، پاکستان جیسے ممالک میں ماحولیاتی خطرات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ابھرتا ہوا عالمی نظام زیادہ تر سوداگرانہ، حفاظتی اور وقتی ترجیحات پر مبنی ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں بتدریج بڑھنے والے بحران، چاہے کتنے ہی مہلک کیوں نہ ہوں، مستقل توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس بحران کو زیادہ نظرانداز کرنے والے ملکوں کے مرکزی مقام پر کھڑا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو شدید گرمی، غیر یقینی مون سون اور سیلاب کے سب سے زیادہ خطرات کے سامنے ہیں، مگر اس کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ غریب اور گرم ممالک میں بڑھتی ہوئی درجہ حرارت صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی صحت کا ہنگامی معاملہ ہے۔ گرمی کا دباؤ، پانی کی کمی، قلبی دباؤ، اور کیڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں کا سلسلہ ایک مہلک ردعمل پیدا کرتا ہے، خاص طور پر سب سے زیادہ خطرے میں موجود آبادی کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سنجیدہ ہیں۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ صدی کے وسط تک، ماحولیاتی گرمی جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ پاکستان میں، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے متوقع اموات کی شرح کئی متعدی بیماریوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ یہ صورتحال ساختی کمزوریوں سے مزید پیچیدہ ہے ، صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، کم ایئر کنڈیشننگ، اور وسیع غیر رسمی مزدوری، جو لاکھوں لوگوں کو شدید گرمی میں کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ماحولیاتی اموات صرف گرمی تک محدود نہیں۔ سیلاب، جو روز بروز شدید ہوتے جا رہے ہیں، خاموش ہلاکتوں کی دوسری لہر لاتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ مون سون کے موسم میں بارش اور سیلاب نہ صرف فوری آفات بلکہ ثانوی اثرات، جیسے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور بنیادی ڈھانچے کے گرنے، کے ذریعے بھی اموات میں اہم حصہ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں، جہاں نکاسی آب، صفائی ستھرائی اور شہری منصوبہ بندی آبادی کے تیز رفتار اضافے کے مطابق نہیں، یہ خطرات اور بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ بہت سی اموات نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی اموات کا بڑا حصہ، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں،ریکارڈ نہیں ہوتا، جس سے بحران کے حقیقی حجم کو چھپا دیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار میں اس کی غیر موجودگی کا نتیجہ پالیسی میں غفلت کی صورت میں نکلتا ہے۔ جو شمار نہیں ہوتا، اس پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظراندازی کا عالمی پہلو بھی کم نہیں ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اپنے اثرات میں بنیادی طور پر غیر مساوی ہے۔ جہاں امیر ممالک موسمیاتی لحاظ سے تیار بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، کولنگ سسٹمز، مضبوط شہری ڈیزائن، ابتدائی انتباہ کے نظام، وہیں غریب ممالک نقصان کا زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف شکاگو کی تحقیق خود ایک اہم پہلو اجاگر کرتی ہے: ماحولیاتی خطرات سے اموات کا تعلق صرف خطرات سے نہیں بلکہ تیاری اور حکمرانی سے بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک نہایت ناآسودہ سوال پیدا کرتا ہے: کیا دنیا صرف ماحولیاتی بحران ہی دیکھ رہی ہے، یا یہ عالمی ترجیحات کے بحران کی بھی عکاسی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب اثبات میں نظر آتا ہے۔ عالمی طاقت کی تشکیل نو تیزی سے فوجی قوت، اقتصادی بلاکس اور اسٹریٹجک مسابقت پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تعاون، جو کبھی بین الاقوامی شراکت داری کا مرکزی موضوع تھا، اب ایجنڈے سے پھسل رہا ہے۔ حتیٰ کہ ماحولیاتی مالیاتی وعدے بھی ناکافی اور غیر مستقل ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان جیسے کمزور ممالک محدود وسائل کے ساتھ بقاء خطرے کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظرانداز کرنے کا یہ طرز عمل محض ایک نگرانی نہیں بلکہ ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی ساختی ناکامی ہے۔ جنگیں فوری طور پر متحرک ہوتی ہیں کیونکہ وہ ریاست کی خودمختاری اور جیوپولیٹیکل توازن کو خطرے میں ڈالتی ہیں، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی انسانی تحفظ کو بتدریج کمزور کرتی ہے اور سب سے کم آواز والے افراد کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے مضمرات نہایت سنگین ہیں۔ ملک محض ماحولیاتی چیلنج کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ گھمبیر مسائل سے جڑے بحران کا شکار ہے، جہاں ماحولیاتی دباؤ، اقتصادی نازک صورتحال اور حکمرانی کی کمزوریوں سے جڑتا ہے۔ شہری کولنگ، پانی کے انتظام، صحت کے نظام کی مضبوطی اور آفات سے نمٹنے میں فوری سرمایہ کاری کے بغیر، متوقع ہلاکتوں کی تعداد ایک تلخ حقیقت بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، کہانی کو مکمل طور پر مایوس کن نہیں سمجھنا چاہیے۔ دیگر خطوں کے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص اقدامات،ابتدائی انتباہ کے نظام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور ہنگامی ردعمل کی بہتری، شدید ماحولیاتی خطرات کے باوجود اموات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ فرق صرف سیاسی عزم اور ترجیح میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج دنیا نظر آنے والے تنازعات میں مشغول ہے، لیکن تاریخ اسے اس بات سے یاد رکھے گی کہ اس نے نظر نہ آنے والے بحرانوں پر کس طرح ردعمل دیا۔ ایران کی جنگ سرخیوں میں چھا سکتی ہے، لیکن ماحولیاتی بحران صدی کی شکل متعین کرے گا۔ پاکستان کے لیے انتباہ پہلے ہی واضح ہے، اعداد و شمار بے تشریح، اور وقت کی حد سخت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ نہیں کہ یہ بحران رونما ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے اس وقت تک نظر انداز کیا جاتا رہے گا جب تک بہت دیر نہ ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 28 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب دنیا کی تزویراتی توجہ ایران میں جاری جنگ پر مرکوز ہے، ایک کہیں زیادہ یقینی اور بتدریج بڑھتا ہوا سانحہ خاموشی سے اُن ممالک کی جانب بڑھ رہا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے لیے سب سے زیادہ حساس یا خطرات کی زد میں ہیں۔ اس کے پاس نہ میزائل ہیں، نہ یہ سرخیوں پر چھاتا ہے، نہ ہنگامی سفارت کاری کو متوجہ کرتا ہے، مگر یہ روایتی تنازعات کے مجموعے سے بھی زیادہ جانوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان، جو ایران جنگ کے براہِ راست اثرات سے کسی حد تک فاصلے پر ہے، ایک ابھرتی ہوئی ماحولیاتی تباہی کے مرکز میں کھڑا ہے۔</p>
<p>ماحولیاتی تبدیلی، جسے طویل عرصے سے تسلیم تو کیا جاتا رہا مگر مسلسل نظر انداز کیا گیا، اب پاکستان کے سامنے سب سے مہلک خطرات میں سے ایک بننے کے قریب ہے۔</p>
<p>حالیہ تحقیق، جو یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب سے سامنے آئی ہے، اس خطرے کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف درجہ حرارت میں اضافہ آئندہ دہائیوں میں پاکستان میں ہر سال دسیوں ہزار اضافی اموات کا سبب بن سکتا ہے، اور اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو یہ تعداد ایک لاکھ سے کہیں تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ عالمی اموات کے وسیع ریکارڈ اور موسمیاتی ماڈلنگ پر مبنی ڈیٹا سے اخذ کردہ پیش گوئیاں ہیں۔</p>
<p>سانحہ صرف متوقع نقصان کے حجم تک محدود نہیں، بلکہ اس کے وقوع پزیر ہونے کے سیاق و سباق میں بھی مضمر ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی نظام جیوپولیٹیکل حریفوں، جنگوں اور بدلتی ہوئی اتحادیوں کے سبب نئے سرے سے تشکیل پا رہا ہے، پاکستان جیسے ممالک میں ماحولیاتی خطرات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ ابھرتا ہوا عالمی نظام زیادہ تر سوداگرانہ، حفاظتی اور وقتی ترجیحات پر مبنی ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایسے ماحول میں بتدریج بڑھنے والے بحران، چاہے کتنے ہی مہلک کیوں نہ ہوں، مستقل توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان اس بحران کو زیادہ نظرانداز کرنے والے ملکوں کے مرکزی مقام پر کھڑا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو شدید گرمی، غیر یقینی مون سون اور سیلاب کے سب سے زیادہ خطرات کے سامنے ہیں، مگر اس کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت محدود ہے۔</p>
<p>سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ غریب اور گرم ممالک میں بڑھتی ہوئی درجہ حرارت صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی صحت کا ہنگامی معاملہ ہے۔ گرمی کا دباؤ، پانی کی کمی، قلبی دباؤ، اور کیڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں کا سلسلہ ایک مہلک ردعمل پیدا کرتا ہے، خاص طور پر سب سے زیادہ خطرے میں موجود آبادی کے لیے۔</p>
<p>اعداد و شمار سنجیدہ ہیں۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ صدی کے وسط تک، ماحولیاتی گرمی جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ پاکستان میں، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے متوقع اموات کی شرح کئی متعدی بیماریوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ یہ صورتحال ساختی کمزوریوں سے مزید پیچیدہ ہے ، صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، کم ایئر کنڈیشننگ، اور وسیع غیر رسمی مزدوری، جو لاکھوں لوگوں کو شدید گرمی میں کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔</p>
<p>مگر ماحولیاتی اموات صرف گرمی تک محدود نہیں۔ سیلاب، جو روز بروز شدید ہوتے جا رہے ہیں، خاموش ہلاکتوں کی دوسری لہر لاتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ مون سون کے موسم میں بارش اور سیلاب نہ صرف فوری آفات بلکہ ثانوی اثرات، جیسے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور بنیادی ڈھانچے کے گرنے، کے ذریعے بھی اموات میں اہم حصہ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں، جہاں نکاسی آب، صفائی ستھرائی اور شہری منصوبہ بندی آبادی کے تیز رفتار اضافے کے مطابق نہیں، یہ خطرات اور بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ بہت سی اموات نظروں سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی اموات کا بڑا حصہ، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں،ریکارڈ نہیں ہوتا، جس سے بحران کے حقیقی حجم کو چھپا دیا جاتا ہے۔ اعداد و شمار میں اس کی غیر موجودگی کا نتیجہ پالیسی میں غفلت کی صورت میں نکلتا ہے۔ جو شمار نہیں ہوتا، اس پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی۔</p>
<p>اس نظراندازی کا عالمی پہلو بھی کم نہیں ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اپنے اثرات میں بنیادی طور پر غیر مساوی ہے۔ جہاں امیر ممالک موسمیاتی لحاظ سے تیار بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، کولنگ سسٹمز، مضبوط شہری ڈیزائن، ابتدائی انتباہ کے نظام، وہیں غریب ممالک نقصان کا زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔</p>
<p>یونیورسٹی آف شکاگو کی تحقیق خود ایک اہم پہلو اجاگر کرتی ہے: ماحولیاتی خطرات سے اموات کا تعلق صرف خطرات سے نہیں بلکہ تیاری اور حکمرانی سے بھی ہے۔</p>
<p>یہ ایک نہایت ناآسودہ سوال پیدا کرتا ہے: کیا دنیا صرف ماحولیاتی بحران ہی دیکھ رہی ہے، یا یہ عالمی ترجیحات کے بحران کی بھی عکاسی ہے؟</p>
<p>جواب اثبات میں نظر آتا ہے۔ عالمی طاقت کی تشکیل نو تیزی سے فوجی قوت، اقتصادی بلاکس اور اسٹریٹجک مسابقت پر مرکوز ہے۔</p>
<p>ماحولیاتی تعاون، جو کبھی بین الاقوامی شراکت داری کا مرکزی موضوع تھا، اب ایجنڈے سے پھسل رہا ہے۔ حتیٰ کہ ماحولیاتی مالیاتی وعدے بھی ناکافی اور غیر مستقل ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان جیسے کمزور ممالک محدود وسائل کے ساتھ بقاء خطرے کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>نظرانداز کرنے کا یہ طرز عمل محض ایک نگرانی نہیں بلکہ ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی ساختی ناکامی ہے۔ جنگیں فوری طور پر متحرک ہوتی ہیں کیونکہ وہ ریاست کی خودمختاری اور جیوپولیٹیکل توازن کو خطرے میں ڈالتی ہیں، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی انسانی تحفظ کو بتدریج کمزور کرتی ہے اور سب سے کم آواز والے افراد کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے مضمرات نہایت سنگین ہیں۔ ملک محض ماحولیاتی چیلنج کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ گھمبیر مسائل سے جڑے بحران کا شکار ہے، جہاں ماحولیاتی دباؤ، اقتصادی نازک صورتحال اور حکمرانی کی کمزوریوں سے جڑتا ہے۔ شہری کولنگ، پانی کے انتظام، صحت کے نظام کی مضبوطی اور آفات سے نمٹنے میں فوری سرمایہ کاری کے بغیر، متوقع ہلاکتوں کی تعداد ایک تلخ حقیقت بن سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم، کہانی کو مکمل طور پر مایوس کن نہیں سمجھنا چاہیے۔ دیگر خطوں کے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخصوص اقدامات،ابتدائی انتباہ کے نظام، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور ہنگامی ردعمل کی بہتری، شدید ماحولیاتی خطرات کے باوجود اموات کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔ فرق صرف سیاسی عزم اور ترجیح میں ہے۔</p>
<p>آج دنیا نظر آنے والے تنازعات میں مشغول ہے، لیکن تاریخ اسے اس بات سے یاد رکھے گی کہ اس نے نظر نہ آنے والے بحرانوں پر کس طرح ردعمل دیا۔ ایران کی جنگ سرخیوں میں چھا سکتی ہے، لیکن ماحولیاتی بحران صدی کی شکل متعین کرے گا۔ پاکستان کے لیے انتباہ پہلے ہی واضح ہے، اعداد و شمار بے تشریح، اور وقت کی حد سخت ہے۔</p>
<p>سوال یہ نہیں کہ یہ بحران رونما ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے اس وقت تک نظر انداز کیا جاتا رہے گا جب تک بہت دیر نہ ہو جائے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 28 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502919</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 12:56:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/091515443b9de26.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/091515443b9de26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ کے بعد کراچی کیلئے نئے امکانات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502916/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی 1729 میں اپنے قیام سے لے کر 1980 کی دہائی تک ایک نہایت خوش قسمت شہر رہا ہے۔ اسے ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔ 1980 کے بعد یہ شہر خطے میں ہونے والی بعض پیش رفتوں، اقتدار میں موجود افراد کی غفلت اور اس کے رہائشیوں کے درمیان اندرونی کشمکش کے باعث تباہی کا شکار ہوا۔ جنگ کے بعد کی صورتحال میں توقع ہے کہ حالات میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 1924 تک کراچی میں ایک ہوائی اڈہ تعمیر کیا جا چکا تھا، جس نے اسے ایک اہم فضائی ٹرانسپورٹ حب کے طور پر قائم کیا جو ہندوستان کو دنیا کے باقی حصوں سے جوڑتا تھا۔ لندن سے آسٹریلیا (ڈارون) تک پہلی پرواز 12 نومبر سے 10 دسمبر 1919 کے دوران ہوئی، جس میں اہم پڑاؤ لیون، روم، قاہرہ، دمشق، بصرہ، کراچی، دہلی، کلکتہ، رنگون، سنگاپور اور سورابایا شامل تھے۔ 1839 میں برطانوی حکام نے اسے خلیج فارس اور وسطی ایشیا تک راستوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر تسلیم کیا۔ انہوں نے بندرگاہ کو مضبوط کیا اور بڑھتی ہوئی تجارت کو سنبھالنے کے لیے چینل کی ڈریجنگ کی، جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ 1887 میں قائم کیا گیا۔ کراچی لینڈنگ کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہے جہاں 24 گھنٹے اور 365 دن آپریشنز دستیاب ہیں۔ یہ ایک محفوظ ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے جس کی تاریخ میں کسی بڑے سمندری طوفان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ یہ شہر خطے کا تجارتی، مالیاتی، سفری اور صنعتی مرکز نہ بن سکے۔ بھارت کے ممبئی یا کلکتہ کسی بھی لحاظ سے کراچی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے اسے بجا طور پر مشرق کا دروازہ کہا جاتا تھا۔ اس کی ترقی کا عمل جو 18ویں صدی میں شروع ہوا تھا 1980 کی دہائی تک جاری رہا۔ 1980 سے 2026 تک کا دور اس کی تاریخ کا بدترین حصہ ہے۔ معاشی مسائل کے باوجود کراچی اب بھی واحد شہر ہے جو اندرون سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے آنے والے 200,000 سے زائد مہاجرین کو روزگار فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید دور میں کسی شہر کو تباہ کرنے کا بہترین طریقہ اس کی رابطہ کاری کو، خاص طور پر فضائی سفر جیسے جدید ترین ذرائع کے ذریعے، متاثر کرنا ہے۔ یہ کام اس طرح منظم انداز میں کیا گیا ہے کہ یہ سازشی نظریات کی حدوں کو چھوتا ہے۔ 1985 میں، جب امارات ایئرلائن قائم ہوئی، اس وقت پی آئی اے پہلی ایشیائی ایئرلائن تھی جس نے بوئنگ 737-300 آپریٹ کیا اور چھ نئے طیارے (اے پی-بی سی اے سے اے پی-بی سی ایف) حاصل کیے تاکہ ملکی اور علاقائی روٹس کو کور کیا جا سکے۔ اس دور میں ایئرلائن نے ایئربس اے300 بی 4-200 اور بوئنگ 747-200 بھی چلائے، اور امارات کے آغاز میں مدد کے لیے بوئنگ 737-300 اور ایئربس اے300 لیز پر بھی دیے۔ 2026 میں دونوں ایئرلائنز کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ شمالی امریکہ سے پاکستان آنے والے تقریباً 15 لاکھ مسافر سالانہ بنیادوں پر سفر کرتے ہیں اور انہیں دبئی یا دوحہ وغیرہ میں ٹرانزٹ کے دوران دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مشکل وقت ختم ہو چکے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو چکی ہے اور ایک نہایت ترقی پسند کاروباری گروپ اس کا نیا مالک ہے۔ فضائی سفر جلد ہی نان اسٹاپ، سستا، تیز اور زیادہ سہل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی مشرق سے خلیج فارس کے دروازے پر واقع ہے۔ کراچی–بصرہ اور وہاں سے یورپ تک کا راستہ قدیم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ اسے برطانوی دور میں بہت ترقی دی گئی تھی۔ یہ راستہ سویز کینال کے مقابلے میں تقریباً 2500 کلومیٹر کم ہے۔ عراق کے فاو میں ایک بندرگاہ تعمیر کی جا رہی ہے جو مکمل ہونے پر خطے کی سب سے بڑی کنٹینر بندرگاہ ہوگی۔ اس کا گیٹ وے کراچی ہوگا۔ اس کا پہلا مرحلہ 2027 میں شروع ہونے والا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اندر خلیج فارس میں موجود کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں، جن میں دبئی، راس تنورہ اور بندر عباس شامل ہیں۔ اسی وجہ سے کاروبار ان بندرگاہوں کو ٹرانس شپمنٹ کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ چین اور دیگر ممالک سے خلیج فارس کے علاقوں تک بڑے پیمانے پر درآمدات ہو رہی ہیں۔ اگر اس کا معمولی حصہ بھی کراچی اور پاکستان کی دیگر بندرگاہوں پر منتقل ہو جائے تو یہ خطے کے بحری نقشے کو بدل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں موجود بحریہ کا سکیورٹی نظام اس تجارت کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کردار جو انیسویں صدی کے آخر میں برطانویوں نے تصور کیا تھا، اب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے خاتمے کے نتائج میں سے ایک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں اور عراق کو تجارت کے لیے کھول دیا جائے۔ جو لوگ کراچی کے کاروباری ماحول سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ کراچی–بصرہ ہمیشہ سے ایک نہایت اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ 1914 میں بصرہ میں ایک جدید بندرگاہ کی تعمیر شروع کی گئی تھی، جہاں اس سے پہلے کوئی باقاعدہ جیٹی یا گودی موجود نہیں تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانوی افواج نے بصرہ پر قبضہ کیا اور اسے اس بندرگاہ کے طور پر استعمال کیا جس کے ذریعے میسوپوٹیمیا اور ہندوستان کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جاتا تھا۔ عراق اور ایران جنگ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ عراق اور ایران کی آبادی بالترتیب 47 ملین اور 95 ملین ہے۔ ان کی فی کس آمدنی کم ہے لیکن یہ پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو 500 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔ عراق اور ایران کی فی کس آمدنی بالترتیب 5800 اور 4800 امریکی ڈالر ہے۔ عراق اور ایران کے ساتھ پاکستانی تجارت اور ٹرانس شپمنٹ کے لیے بہت بڑی گنجائش موجود ہے۔ یہ تقریباً 50 فیصد سستا ہوگا کیونکہ متحدہ عرب امارات میں جبل علی کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ عراقی اور ایرانی پاکستان کے ساتھ زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ٹیکس کی شرح زیادہ ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کا نظام نسبتاً سخت ہے، جبکہ دبئی ان دونوں حوالوں سے زیادہ آسانی فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک ٹیکس معاہدہ بھی کیا گیا ہے جو پاکستان کے مالی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں کراچی اور پاکستان سے بڑی مقدار میں سرمایہ اور کاروبار دبئی منتقل ہو گیا۔ دنیا 28 فروری 2026 کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد بدل چکی ہے۔ ایران اب براہ راست متحدہ عرب امارات پر حملہ کر رہا ہے کیونکہ وہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے پاس تین متبادل ہیں: (1) اڈے ختم کیے جائیں؛ (2) ایران کو اس حد تک تباہ کیا جائے کہ اس کی متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی کی صلاحیت ختم ہو جائے؛ اور (3) پابندیاں ختم کر کے ایران کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ عملی طور پر پہلے دو آپشن ممکن نظر نہیں آتے۔ نتیجتاً، جنگ کے بعد ایران ایک نئے عالمی نظام کے ساتھ کھل جائے گا جو دبئی کے لیے مکمل طور پر نیا منظرنامہ ہوگا۔ ایران پر پابندیوں کا براہ راست فائدہ دبئی کو حاصل ہوتا رہا ہے۔ اس بات کو اس وقت بہتر سمجھا جا سکتا ہے جب متحدہ عرب امارات میں پابندیوں کی خلاف ورزی کے مقدمات کے حجم کا جائزہ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر جنگ کے بعد ایران موجودہ نظام کے ساتھ ہی برقرار رہتا ہے تو بھی یہ اعتماد کو براہ راست متاثر کرے گا جو دبئی میں کسی بھی بڑے طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دبئی میں سرمایہ اور اعتماد ایک موثر امریکی ضمانت پر قائم ہے۔ اس ضمانت کی نوعیت جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ایسی ریاست میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے جو خطے میں ایک طاقتور دشمن کے ساتھ تنازع میں ہو۔ دبئی ایک ایسا امارت ہے جس پر ایک خاندان کی حکومت ہے، جہاں غیر ملکی آبادی مقامی آبادی سے زیادہ ہے اور کوئی آئین موجود نہیں، اس لیے یہ سرمایہ کاروں کے لیے مکمل استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ یہ توقع نہیں کی جاتی کہ سرمایہ دوبارہ دبئی سے کراچی منتقل ہوگا، تاہم یہ تقریباً یقینی ہے کہ پاکستانی اپنے مستقبل کو ایک غیر مستحکم معیشت میں خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ اس کی بہترین مثال ہانگ کانگ ہے۔ چین کے قبضے سے پہلے یہ سرمایہ کاری کا مرکز تھا، لیکن اب اس چھوٹے ریاستی ضمانت کی خودمختاری موجود نہیں رہی۔ اعتماد اب چینی معیشت کے استحکام پر منحصر ہے، جس کے لیے شینزن بھی ایک متبادل موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے ٹیکس معاہدے میں مناسب تبدیلیاں کی ہیں تاکہ پاکستان کے ساتھ ٹیکس بچانے کے لیے اس معاہدے کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ مصنف اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان معاہدے کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی مفاد کو دیگر تمام امور پر فوقیت دی جائے۔ کسی ایسے ملک کے ساتھ کیپیٹل گینز میں استثنیٰ دینے والا معاہدہ نہیں ہو سکتا جس کی مؤثر ٹیکس شرح 9 فیصد ہو جبکہ پاکستان کی شرح 40 فیصد سے زائد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی شہر کے لیے ابھرنے والے مواقع اس کے انفرااسٹرکچر میں بہتری کے متقاضی ہیں۔ ہم کراچی میں سڑکوں اور شاہراہوں کی اہم پیش رفت دیکھ رہے ہیں، جن میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع اور سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن کے پاس ایک اور ہوائی اڈے کا قیام شامل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں ایک برآمدات پر مبنی خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے، جو مؤثر طور پر وہ تمام ریگولیٹری، زرمبادلہ اور مالیاتی سہولیات فراہم کرے جو دبئی میں دستیاب تھیں۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ مکمل ٹیکس فری نظام قائم کیا جائے۔ ہماری ضرورت یہ ہے کہ قواعد و ضوابط کو سرمایہ کار کی برآمدات اور روزگار پیدا کرنے کی شرائط سے منسلک کیا جائے۔ کچھ مجوزہ اقدامات درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے. پورٹ قاسم، پاکستان اسٹیل اور دھابےجی ایس ای زی کو ایک نئے شہر کے تحت ایک ہی انتظامیہ میں یکجا کیا جائے، بالکل اسی طرز پر جیسے چین اور ویتنام میں کیا گیا ہے؛ اور اسے سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامی حدود سے باہر رکھا جائے۔ یہ تصور 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ذوالفقارآباد کے نام سے پیش کیا تھا۔ موجودہ ذوالفقارآباد کے ڈھانچے کو ختم کر کے اس تجویز کے مطابق ایک بڑے شہر کا جامع منصوبہ بنایا جائے۔ یہی مستقبل کا پاکستانی دبئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی. پہلا قدم یہ ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کو مزید بہتر اور ترقی یافتہ بنایا جائے۔ آر ڈی اے کے تحت پاکستانی شہری غیر ملکی کرنسی میں ایسے اثاثے رکھ سکتے ہیں جو بغیر کسی اجازت کے واپس ملک میں لائے جا سکیں۔ اس وقت آر ڈی اے کے تحت رکھی جانے والی رقوم پر کچھ پابندیاں موجود ہیں۔ اس میں نرمی کرتے ہوئے یہ اجازت دی جائے کہ تمام برآمدات کی آمدنی کا 25 فیصد ہر صورت میں ایسے اکاؤنٹس میں رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی. دبئی کے نظام نے پاکستان میں سونے کی تجارت اور مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں اسمگلنگ اور دیگر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ سونے کی درآمد کو مناسب مقدار میں دوبارہ شروع کیا جائے اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں سونے کی پروسیسنگ کی اجازت دی جائے۔ اس حوالے سے بھارت کا تجربہ کافی حوصلہ افزا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی. فوری طور پر پاکستان اسٹیل کی نجکاری کی جائے یا کم از کم پاکستان اسٹیل کے گرد موجود زمین کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں تبدیل کیا جائے، اور ان لوگوں کو زمین کے پلاٹ مفت فراہم کیے جائیں جو اگلے دو سے تین سال میں زمین کی قیمت کے برابر برآمدی آمدنی لاتے ہیں۔ اصل منصوبے میں ایک شہر بنانے کی تجویز تھی جسے ذوالفقارآباد کہا جاتا تھا۔ اس تجویز کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای. دھابےجی ایس ای زی کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں تبدیل کیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ای پی زیڈ میں زرمبادلہ کے حوالے سے ڈی ریگولیشن ہوتی ہے جو پاکستان میں برآمدی صنعتوں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس برآمدی شہر کا انتظام نجی شعبے کی ایک کمپنی کے پاس ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف. لانڈھی اور دھابےجی کے درمیان تقریباً 10,000 ایکڑ زمین کو ایک نئے شہر کے لیے مختص کیا جائے جو اس علاقے کے مزدوروں کے لیے تیار کیا جائے، بالکل چین میں کیے گئے اقدامات کی طرز پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی. ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پاکستان میں صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے بغیر کسی ٹیکس کے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف کو تقریباً یقین ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کو، خصوصاً اس خطے کو، تبدیل کر دیا ہے۔ کراچی کی افادیت دوبارہ ابھری ہے کیونکہ کراچی کی بحالی کے لیے ایک قدرتی بنیاد موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: یہ تحریر 31 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی 1729 میں اپنے قیام سے لے کر 1980 کی دہائی تک ایک نہایت خوش قسمت شہر رہا ہے۔ اسے ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔ 1980 کے بعد یہ شہر خطے میں ہونے والی بعض پیش رفتوں، اقتدار میں موجود افراد کی غفلت اور اس کے رہائشیوں کے درمیان اندرونی کشمکش کے باعث تباہی کا شکار ہوا۔ جنگ کے بعد کی صورتحال میں توقع ہے کہ حالات میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔</strong></p>
<p>آئیے تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 1924 تک کراچی میں ایک ہوائی اڈہ تعمیر کیا جا چکا تھا، جس نے اسے ایک اہم فضائی ٹرانسپورٹ حب کے طور پر قائم کیا جو ہندوستان کو دنیا کے باقی حصوں سے جوڑتا تھا۔ لندن سے آسٹریلیا (ڈارون) تک پہلی پرواز 12 نومبر سے 10 دسمبر 1919 کے دوران ہوئی، جس میں اہم پڑاؤ لیون، روم، قاہرہ، دمشق، بصرہ، کراچی، دہلی، کلکتہ، رنگون، سنگاپور اور سورابایا شامل تھے۔ 1839 میں برطانوی حکام نے اسے خلیج فارس اور وسطی ایشیا تک راستوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم مقام کے طور پر تسلیم کیا۔ انہوں نے بندرگاہ کو مضبوط کیا اور بڑھتی ہوئی تجارت کو سنبھالنے کے لیے چینل کی ڈریجنگ کی، جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ 1887 میں قائم کیا گیا۔ کراچی لینڈنگ کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہے جہاں 24 گھنٹے اور 365 دن آپریشنز دستیاب ہیں۔ یہ ایک محفوظ ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے جس کی تاریخ میں کسی بڑے سمندری طوفان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ کوئی وجہ نہیں کہ یہ شہر خطے کا تجارتی، مالیاتی، سفری اور صنعتی مرکز نہ بن سکے۔ بھارت کے ممبئی یا کلکتہ کسی بھی لحاظ سے کراچی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے اسے بجا طور پر مشرق کا دروازہ کہا جاتا تھا۔ اس کی ترقی کا عمل جو 18ویں صدی میں شروع ہوا تھا 1980 کی دہائی تک جاری رہا۔ 1980 سے 2026 تک کا دور اس کی تاریخ کا بدترین حصہ ہے۔ معاشی مسائل کے باوجود کراچی اب بھی واحد شہر ہے جو اندرون سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے آنے والے 200,000 سے زائد مہاجرین کو روزگار فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>جدید دور میں کسی شہر کو تباہ کرنے کا بہترین طریقہ اس کی رابطہ کاری کو، خاص طور پر فضائی سفر جیسے جدید ترین ذرائع کے ذریعے، متاثر کرنا ہے۔ یہ کام اس طرح منظم انداز میں کیا گیا ہے کہ یہ سازشی نظریات کی حدوں کو چھوتا ہے۔ 1985 میں، جب امارات ایئرلائن قائم ہوئی، اس وقت پی آئی اے پہلی ایشیائی ایئرلائن تھی جس نے بوئنگ 737-300 آپریٹ کیا اور چھ نئے طیارے (اے پی-بی سی اے سے اے پی-بی سی ایف) حاصل کیے تاکہ ملکی اور علاقائی روٹس کو کور کیا جا سکے۔ اس دور میں ایئرلائن نے ایئربس اے300 بی 4-200 اور بوئنگ 747-200 بھی چلائے، اور امارات کے آغاز میں مدد کے لیے بوئنگ 737-300 اور ایئربس اے300 لیز پر بھی دیے۔ 2026 میں دونوں ایئرلائنز کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ شمالی امریکہ سے پاکستان آنے والے تقریباً 15 لاکھ مسافر سالانہ بنیادوں پر سفر کرتے ہیں اور انہیں دبئی یا دوحہ وغیرہ میں ٹرانزٹ کے دوران دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مشکل وقت ختم ہو چکے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو چکی ہے اور ایک نہایت ترقی پسند کاروباری گروپ اس کا نیا مالک ہے۔ فضائی سفر جلد ہی نان اسٹاپ، سستا، تیز اور زیادہ سہل ہو جائے گا۔</p>
<p>کراچی مشرق سے خلیج فارس کے دروازے پر واقع ہے۔ کراچی–بصرہ اور وہاں سے یورپ تک کا راستہ قدیم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ اسے برطانوی دور میں بہت ترقی دی گئی تھی۔ یہ راستہ سویز کینال کے مقابلے میں تقریباً 2500 کلومیٹر کم ہے۔ عراق کے فاو میں ایک بندرگاہ تعمیر کی جا رہی ہے جو مکمل ہونے پر خطے کی سب سے بڑی کنٹینر بندرگاہ ہوگی۔ اس کا گیٹ وے کراچی ہوگا۔ اس کا پہلا مرحلہ 2027 میں شروع ہونے والا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اندر خلیج فارس میں موجود کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں، جن میں دبئی، راس تنورہ اور بندر عباس شامل ہیں۔ اسی وجہ سے کاروبار ان بندرگاہوں کو ٹرانس شپمنٹ کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ چین اور دیگر ممالک سے خلیج فارس کے علاقوں تک بڑے پیمانے پر درآمدات ہو رہی ہیں۔ اگر اس کا معمولی حصہ بھی کراچی اور پاکستان کی دیگر بندرگاہوں پر منتقل ہو جائے تو یہ خطے کے بحری نقشے کو بدل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں موجود بحریہ کا سکیورٹی نظام اس تجارت کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کردار جو انیسویں صدی کے آخر میں برطانویوں نے تصور کیا تھا، اب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے۔</p>
<p>جنگ کے خاتمے کے نتائج میں سے ایک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو جائیں اور عراق کو تجارت کے لیے کھول دیا جائے۔ جو لوگ کراچی کے کاروباری ماحول سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ کراچی–بصرہ ہمیشہ سے ایک نہایت اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ 1914 میں بصرہ میں ایک جدید بندرگاہ کی تعمیر شروع کی گئی تھی، جہاں اس سے پہلے کوئی باقاعدہ جیٹی یا گودی موجود نہیں تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانوی افواج نے بصرہ پر قبضہ کیا اور اسے اس بندرگاہ کے طور پر استعمال کیا جس کے ذریعے میسوپوٹیمیا اور ہندوستان کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جاتا تھا۔ عراق اور ایران جنگ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ عراق اور ایران کی آبادی بالترتیب 47 ملین اور 95 ملین ہے۔ ان کی فی کس آمدنی کم ہے لیکن یہ پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو 500 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔ عراق اور ایران کی فی کس آمدنی بالترتیب 5800 اور 4800 امریکی ڈالر ہے۔ عراق اور ایران کے ساتھ پاکستانی تجارت اور ٹرانس شپمنٹ کے لیے بہت بڑی گنجائش موجود ہے۔ یہ تقریباً 50 فیصد سستا ہوگا کیونکہ متحدہ عرب امارات میں جبل علی کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ عراقی اور ایرانی پاکستان کے ساتھ زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں ٹیکس کی شرح زیادہ ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کا نظام نسبتاً سخت ہے، جبکہ دبئی ان دونوں حوالوں سے زیادہ آسانی فراہم کرتا ہے۔ مزید برآں، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک ٹیکس معاہدہ بھی کیا گیا ہے جو پاکستان کے مالی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان عوامل کے نتیجے میں کراچی اور پاکستان سے بڑی مقدار میں سرمایہ اور کاروبار دبئی منتقل ہو گیا۔ دنیا 28 فروری 2026 کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے بعد بدل چکی ہے۔ ایران اب براہ راست متحدہ عرب امارات پر حملہ کر رہا ہے کیونکہ وہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ اس صورتحال میں امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے پاس تین متبادل ہیں: (1) اڈے ختم کیے جائیں؛ (2) ایران کو اس حد تک تباہ کیا جائے کہ اس کی متحدہ عرب امارات کے خلاف کارروائی کی صلاحیت ختم ہو جائے؛ اور (3) پابندیاں ختم کر کے ایران کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے۔ عملی طور پر پہلے دو آپشن ممکن نظر نہیں آتے۔ نتیجتاً، جنگ کے بعد ایران ایک نئے عالمی نظام کے ساتھ کھل جائے گا جو دبئی کے لیے مکمل طور پر نیا منظرنامہ ہوگا۔ ایران پر پابندیوں کا براہ راست فائدہ دبئی کو حاصل ہوتا رہا ہے۔ اس بات کو اس وقت بہتر سمجھا جا سکتا ہے جب متحدہ عرب امارات میں پابندیوں کی خلاف ورزی کے مقدمات کے حجم کا جائزہ لیا جائے۔</p>
<p>اگر جنگ کے بعد ایران موجودہ نظام کے ساتھ ہی برقرار رہتا ہے تو بھی یہ اعتماد کو براہ راست متاثر کرے گا جو دبئی میں کسی بھی بڑے طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دبئی میں سرمایہ اور اعتماد ایک موثر امریکی ضمانت پر قائم ہے۔ اس ضمانت کی نوعیت جنگ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ایسی ریاست میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی جائے جو خطے میں ایک طاقتور دشمن کے ساتھ تنازع میں ہو۔ دبئی ایک ایسا امارت ہے جس پر ایک خاندان کی حکومت ہے، جہاں غیر ملکی آبادی مقامی آبادی سے زیادہ ہے اور کوئی آئین موجود نہیں، اس لیے یہ سرمایہ کاروں کے لیے مکمل استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ یہ توقع نہیں کی جاتی کہ سرمایہ دوبارہ دبئی سے کراچی منتقل ہوگا، تاہم یہ تقریباً یقینی ہے کہ پاکستانی اپنے مستقبل کو ایک غیر مستحکم معیشت میں خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ اس کی بہترین مثال ہانگ کانگ ہے۔ چین کے قبضے سے پہلے یہ سرمایہ کاری کا مرکز تھا، لیکن اب اس چھوٹے ریاستی ضمانت کی خودمختاری موجود نہیں رہی۔ اعتماد اب چینی معیشت کے استحکام پر منحصر ہے، جس کے لیے شینزن بھی ایک متبادل موقع ہے۔</p>
<p>بھارت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے ٹیکس معاہدے میں مناسب تبدیلیاں کی ہیں تاکہ پاکستان کے ساتھ ٹیکس بچانے کے لیے اس معاہدے کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ مصنف اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان معاہدے کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قومی مفاد کو دیگر تمام امور پر فوقیت دی جائے۔ کسی ایسے ملک کے ساتھ کیپیٹل گینز میں استثنیٰ دینے والا معاہدہ نہیں ہو سکتا جس کی مؤثر ٹیکس شرح 9 فیصد ہو جبکہ پاکستان کی شرح 40 فیصد سے زائد ہو۔</p>
<p>کراچی شہر کے لیے ابھرنے والے مواقع اس کے انفرااسٹرکچر میں بہتری کے متقاضی ہیں۔ ہم کراچی میں سڑکوں اور شاہراہوں کی اہم پیش رفت دیکھ رہے ہیں، جن میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع اور سپر ہائی وے کے قریب بحریہ ٹاؤن کے پاس ایک اور ہوائی اڈے کا قیام شامل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں ایک برآمدات پر مبنی خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے، جو مؤثر طور پر وہ تمام ریگولیٹری، زرمبادلہ اور مالیاتی سہولیات فراہم کرے جو دبئی میں دستیاب تھیں۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ مکمل ٹیکس فری نظام قائم کیا جائے۔ ہماری ضرورت یہ ہے کہ قواعد و ضوابط کو سرمایہ کار کی برآمدات اور روزگار پیدا کرنے کی شرائط سے منسلک کیا جائے۔ کچھ مجوزہ اقدامات درج ذیل ہیں:</p>
<p>اے. پورٹ قاسم، پاکستان اسٹیل اور دھابےجی ایس ای زی کو ایک نئے شہر کے تحت ایک ہی انتظامیہ میں یکجا کیا جائے، بالکل اسی طرز پر جیسے چین اور ویتنام میں کیا گیا ہے؛ اور اسے سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامی حدود سے باہر رکھا جائے۔ یہ تصور 1970 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ذوالفقارآباد کے نام سے پیش کیا تھا۔ موجودہ ذوالفقارآباد کے ڈھانچے کو ختم کر کے اس تجویز کے مطابق ایک بڑے شہر کا جامع منصوبہ بنایا جائے۔ یہی مستقبل کا پاکستانی دبئی ہے۔</p>
<p>بی. پہلا قدم یہ ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کو مزید بہتر اور ترقی یافتہ بنایا جائے۔ آر ڈی اے کے تحت پاکستانی شہری غیر ملکی کرنسی میں ایسے اثاثے رکھ سکتے ہیں جو بغیر کسی اجازت کے واپس ملک میں لائے جا سکیں۔ اس وقت آر ڈی اے کے تحت رکھی جانے والی رقوم پر کچھ پابندیاں موجود ہیں۔ اس میں نرمی کرتے ہوئے یہ اجازت دی جائے کہ تمام برآمدات کی آمدنی کا 25 فیصد ہر صورت میں ایسے اکاؤنٹس میں رکھا جا سکے۔</p>
<p>سی. دبئی کے نظام نے پاکستان میں سونے کی تجارت اور مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں اسمگلنگ اور دیگر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ سونے کی درآمد کو مناسب مقدار میں دوبارہ شروع کیا جائے اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں سونے کی پروسیسنگ کی اجازت دی جائے۔ اس حوالے سے بھارت کا تجربہ کافی حوصلہ افزا ہے۔</p>
<p>ڈی. فوری طور پر پاکستان اسٹیل کی نجکاری کی جائے یا کم از کم پاکستان اسٹیل کے گرد موجود زمین کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں تبدیل کیا جائے، اور ان لوگوں کو زمین کے پلاٹ مفت فراہم کیے جائیں جو اگلے دو سے تین سال میں زمین کی قیمت کے برابر برآمدی آمدنی لاتے ہیں۔ اصل منصوبے میں ایک شہر بنانے کی تجویز تھی جسے ذوالفقارآباد کہا جاتا تھا۔ اس تجویز کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔</p>
<p>ای. دھابےجی ایس ای زی کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں تبدیل کیا جائے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ای پی زیڈ میں زرمبادلہ کے حوالے سے ڈی ریگولیشن ہوتی ہے جو پاکستان میں برآمدی صنعتوں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اس برآمدی شہر کا انتظام نجی شعبے کی ایک کمپنی کے پاس ہونا چاہیے۔</p>
<p>ایف. لانڈھی اور دھابےجی کے درمیان تقریباً 10,000 ایکڑ زمین کو ایک نئے شہر کے لیے مختص کیا جائے جو اس علاقے کے مزدوروں کے لیے تیار کیا جائے، بالکل چین میں کیے گئے اقدامات کی طرز پر۔</p>
<p>جی. ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پاکستان میں صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے بغیر کسی ٹیکس کے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔</p>
<p>مصنف کو تقریباً یقین ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے دنیا کو، خصوصاً اس خطے کو، تبدیل کر دیا ہے۔ کراچی کی افادیت دوبارہ ابھری ہے کیونکہ کراچی کی بحالی کے لیے ایک قدرتی بنیاد موجود ہے۔</p>
<p><strong>نوٹ: یہ تحریر 31 مارچ 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502916</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 12:56:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید شبر زیدی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/091511333575214.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/091511333575214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا سمری آئے بغیر اہم تعیناتی کا اعلان وزیراعظم کیلئے ممکن ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30306164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں اس وقت اگلے آرمی چیف کا نام سامنے آمنے کا تمام سیاسی جماعتیں، ان کے کارکن، کاروباری حضرات اور صحافی انتظار کر رہے ہیں۔ کار مملکت اگر رکا نہیں تو سلو موشن میں ضرور آچکا ہے اور خود حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اگلے آرمی چیف کے تقرر کے بعد ہی استحکام آئے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظار اس بات کا ہو رہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کب اپنے جانشین کے تقرر کے لیے سمری وزرت دفاع کو بھیجتے ہیں۔ یہ سمری پیر کو بھیجے جانے کی توقع تھی لیکن اب منگل کو بھی اسے ارسال کیے جانے کا کوئی واضح نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے اپنے اپنے مفادات کے سبب نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مختلف-فریقین-کی-پوزیشن" href="#مختلف-فریقین-کی-پوزیشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مختلف فریقین کی پوزیشن&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اسے امید ہے کہ اگلے آرمی چیف سے وہ الیکشن مانگ لے گی جو موجودہ آرمی چیف سے نہیں ملے۔ لیکن ساتھ ہی سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ”میرٹ“ کی تکرار سے اشارہ ملتا ہے کہ بعض یا کسی ایک جرنیل کے آرمی چیف بننے کے خیال سے وہ مطمئن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صدر آصف زرداری نے حالیہ دنوں &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30305771"&gt;ایک اہم بیان دیا&lt;/a&gt; جس میں انہوں نے کہاکہ “ تمام تھری اسٹار جنرلز برابر ہیں اور آرمی کی سربراہی کے مکمل اہل ہیں۔ لیکن اس بیان سے قبل آصف زرداری کے بارے میں بھی خبریں گرم رہیں کہ وہ ایک خاص جنرل کو آرمی چیف بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ نواز کے شاہد خاقان عباسی کی رائے مختلف ہے۔ پیر کی شب آج نیوز پر عاصمہ شیرازی کے پروگرام ”فیصلہ آپ کا“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کسی اہل افسر کا نام سمری میں نہ ہوا تو یہ غیرقانونی ہوگا اور اگر نااہل افسر کا نام شامل ہوا تو یہ بھی غیرقانونی ہوگا۔ ’اہل نام شامل ہونے یا نہیں ہونے کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30306113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعاعت ہیں کہ نواز لیگ کے سربراہ نواز شریف ایک نام پر ڈٹے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سمری-بھیجنے-کا-طریقہ-اور-تاخیر" href="#سمری-بھیجنے-کا-طریقہ-اور-تاخیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سمری بھیجنے کا طریقہ اور تاخیر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;وزیردفاع خواجہ آصف اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سب سے موزوں عہدیدار ہیں کیونکہ فوج سے سمری انہی کی وزارت کے پاس آنی ہے اور انہوں نے ہی سمری وزیراعظم ہاؤس بھیجنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کی روایات کے مطابق آرمی چیف کی جانب سے جو سمری بھیجی جاتی ہے اس میں تین یا پانچ سینئر ترین جرنیلوں کے نام ہوتے ہیں۔ اگر صرف آرمی چیف کا تقرر ہو رہا ہو تو تین نام بھیجے جاتے ہیں اور اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا بھی تقرر ہو رہا ہو تو پانچ نام بھیجے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ناموں کے ساتھ تمام افسران کے حوالے سے ڈوزیئرز بھی بھیجے جائیں گے جس میں ان کی سروس کا تمام ریکارڈ اور متعلقہ رپورٹیں موجود ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف چند ہفتے قبل تک کہہ رہے تھے کہ اکتوبر کی 18 یا 19 تاریخ کو سمری آ جائے گی۔ یہ تاریخ اس لیے اہم تھی کہ ایک سینئر جنرل ریٹائر ہو رہے تھے اور ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سمری بھیجی جاتی تو ان کا نام بھی شامل ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن 21 نومبر گزرنے کے بعد بھی سمری نہیں بھیجی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا اصرار ہے کہ سمری کے حوالے سے تاخیر نہیں ہوئی۔ رانا ثنا اللہ نے پیر کی شب نجی ٹی وی پر انٹرویو میں کہا کہ 18 کے بعد ویک اینڈ شروع ہوگیا اور اب نئے ہفتے میں سمری آجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بھی پیر کو بتایا کہ وزیراعظم آفس نے سمری بھیجنے کے لیے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا ہے اور معاملات ایک دو دن میں طے پا جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیر داخلہ کسی حد تک مضطرب بھی دکھائی دیئے اور جب پوچھا گیا کہ اگر سمری موصول نہ ہوئی تو کیا ہوگا تو انہوں نے کہاکہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30306132/"&gt;ہر دو صورتوں میں تعیناتی ہو جائے گی&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج ٹی وی پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سمری کا نہ آنا بہت بڑی ناکامی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگی رہنماؤں کی اس گفتگو سے تاخیر کا تاثر پختہ ہوتاہے گوکہ حکومت کا بیانہ یہی ہے کہ تاخیر نہیں ہورہی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="کیا-وزیراعظم-سمری-کے-بغیر-آرمی-چیف-کا-اعلان-کرسکتے" href="#کیا-وزیراعظم-سمری-کے-بغیر-آرمی-چیف-کا-اعلان-کرسکتے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کیا وزیراعظم سمری کے بغیر آرمی چیف کا اعلان کرسکتے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;نومبر کی 27 تاریخ کو موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ندیم رضا کی تین سالہ مدت  پوری ہو رہی ہے اور یہ ان کی ریٹائرمنٹ کا دن بنتا ہے۔ یہی دن لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ کا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بنا پر سمری 27 تاریخ سے پہلے وزیراعظم آفس کو موصول ہونا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30306126/"&gt;25 اور 26 نومبر کو ترکیہ کے دورے&lt;/a&gt; پر ہوں گے لہذا سمری بھیجنے کیلئے آج، کل اور پرسوں کا دن باقی بچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کی جانب سے وزارت دفاع کو سمری موصول ہونے اور پھر اسے وزیراعظم آفس تک پہنچانے کیلئے یہ خاطرخواہ وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن رانا ثنااللہ کی جانب سے ”ہر دو صورتوں میں“ میں تعیناتی کی بیان نے کھلبلی مچا دی ہے۔ شیخ رشید نے اس بیان کو &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30306140/"&gt;خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے&lt;/a&gt; اور کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب ایک پیج پر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سنسنی خیزی کا کچھ سبب لاعلمی بھی ہے۔ مثال کے طور پر پیر کے روز وزیر دفاع نے بیان دیا کہ وزیراعظم آفس نے سمری کے لیے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا ہے تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر پیش کیا گیا کہ وزیراعظم کو خط لکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے وزارت دفاع کو خط لکھ کر سمری طلب کر نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ اس خط کے ساتھ ’پراسس‘ کا آغاز ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس کے باوجود بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم شہباز شریف  آرمی چیف کی جانب سے سمری موصول ہوئے بغیر نئے چیف کا اعلان کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کا جواب آئین کے آرٹیکل 243، رولز آف بزنس 1973 اور پاکستان کی روایات میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 234 کی ذیلی شق 3 کے مطابق صدر وزیراعظم کے ”مشورے“  (Advice)پر چیئرمین جوائنٹ چیفس اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو تعینات کرتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم سے پہلے یہ لفظ  consultation تھا جس کا مطلب مشاورت بنتا ہے۔ تاہم ایڈوائس کے معنی یہ ہے کہ وزیراعظم جو بھی نام پیش کریں گے صدر آئینی طور پر اسے منظور کرنے کے پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رولز آف بزنس 1973کے رول V-A میں درج ہے کہ فوج میں لیفٹننٹ جنرل اور اس سے اوپر کے عہدوں پر تقرر وزیراعظم صدر کی consultation  سے کریں گے۔ اگرچہ رولز میں لیفٹننٹ جنرلز کی تقرری میں بھی وزیراعظم کا کردار بیان کیا گیا ہے لیکن عملی طور پر یہ ترقی مکمل طور پر آرمی چیف کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی معاملہ سمری کا بھی ہے جو صرف سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کی رائے ہی نہیں ہوتی بلکہ فوجی قیادت کی مجموعی رائے سمجھی جاتی ہے۔ ایسی سمری کی غیرموجودگی کو نظرانداز کرنا وزیراعظم کے لیے آسان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ قانون کے تحت صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری نظرثانی کے لیے واپس بھیج دیں۔ اس طرح وہ وزیراعظم کی جانب سے بھیجے گئے نام کی منظوری 25 دن تک التوا میں رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر سے آنے والی ہر سمری پر دستخط کرنے کے لیے صدر کے پاس دس دن ہوتے ہیں جب کہ دس دن بعد وہ سمری واپس بھیج دیں تو مزید 15 دن وہ سمری وزیراعظم آفس میں رہتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ 25 دن کا وقت بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صدر عارف علوی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ اگر شہباز شریف فوج کی متفقہ رائے کا انتطار نہیں کرتے اور موقع سے فائدہ اٹھا کر عمران خان صدر عارف علوی کو سمری روکنے کا کہہ دیتے ہیں تو ایک بحران پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف فوج کی حمایت کے بغیر ایسی کسی مہم جوئی میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں موجودہ آرمی چیف کی سمری کے بغیر ان کے جانشین کو تعینات کرنے کی کوشش کی ایک ہی مثال ملتی ہے۔ اکتوبر 1999 میں شہباز شریف کے بڑے بھائی نے جنرل مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاالدین بٹ کو آرمی چیف لگانے کی کوشش کی تھی۔ فوج نے اس عمل کی حمایت نہیں کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں اس وقت اگلے آرمی چیف کا نام سامنے آمنے کا تمام سیاسی جماعتیں، ان کے کارکن، کاروباری حضرات اور صحافی انتظار کر رہے ہیں۔ کار مملکت اگر رکا نہیں تو سلو موشن میں ضرور آچکا ہے اور خود حکومتی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اگلے آرمی چیف کے تقرر کے بعد ہی استحکام آئے گا۔</strong></p>
<p>انتظار اس بات کا ہو رہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کب اپنے جانشین کے تقرر کے لیے سمری وزرت دفاع کو بھیجتے ہیں۔ یہ سمری پیر کو بھیجے جانے کی توقع تھی لیکن اب منگل کو بھی اسے ارسال کیے جانے کا کوئی واضح نہیں۔</p>
<p>معاملے کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے اپنے اپنے مفادات کے سبب نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<h2><a id="مختلف-فریقین-کی-پوزیشن" href="#مختلف-فریقین-کی-پوزیشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مختلف فریقین کی پوزیشن</h2>
<p>پی ٹی آئی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اسے امید ہے کہ اگلے آرمی چیف سے وہ الیکشن مانگ لے گی جو موجودہ آرمی چیف سے نہیں ملے۔ لیکن ساتھ ہی سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ”میرٹ“ کی تکرار سے اشارہ ملتا ہے کہ بعض یا کسی ایک جرنیل کے آرمی چیف بننے کے خیال سے وہ مطمئن نہیں۔</p>
<p>پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صدر آصف زرداری نے حالیہ دنوں <a href="https://www.aaj.tv/news/30305771">ایک اہم بیان دیا</a> جس میں انہوں نے کہاکہ “ تمام تھری اسٹار جنرلز برابر ہیں اور آرمی کی سربراہی کے مکمل اہل ہیں۔ لیکن اس بیان سے قبل آصف زرداری کے بارے میں بھی خبریں گرم رہیں کہ وہ ایک خاص جنرل کو آرمی چیف بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔</p>
<p>مسلم لیگ نواز کے شاہد خاقان عباسی کی رائے مختلف ہے۔ پیر کی شب آج نیوز پر عاصمہ شیرازی کے پروگرام ”فیصلہ آپ کا“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کسی اہل افسر کا نام سمری میں نہ ہوا تو یہ غیرقانونی ہوگا اور اگر نااہل افسر کا نام شامل ہوا تو یہ بھی غیرقانونی ہوگا۔ ’اہل نام شامل ہونے یا نہیں ہونے کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30306113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اطلاعاعت ہیں کہ نواز لیگ کے سربراہ نواز شریف ایک نام پر ڈٹے ہوئے ہیں۔</p>
<h2><a id="سمری-بھیجنے-کا-طریقہ-اور-تاخیر" href="#سمری-بھیجنے-کا-طریقہ-اور-تاخیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سمری بھیجنے کا طریقہ اور تاخیر</h2>
<p>وزیردفاع خواجہ آصف اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سب سے موزوں عہدیدار ہیں کیونکہ فوج سے سمری انہی کی وزارت کے پاس آنی ہے اور انہوں نے ہی سمری وزیراعظم ہاؤس بھیجنی ہے۔</p>
<p>فوج کی روایات کے مطابق آرمی چیف کی جانب سے جو سمری بھیجی جاتی ہے اس میں تین یا پانچ سینئر ترین جرنیلوں کے نام ہوتے ہیں۔ اگر صرف آرمی چیف کا تقرر ہو رہا ہو تو تین نام بھیجے جاتے ہیں اور اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا بھی تقرر ہو رہا ہو تو پانچ نام بھیجے جاتے ہیں۔</p>
<p>ان ناموں کے ساتھ تمام افسران کے حوالے سے ڈوزیئرز بھی بھیجے جائیں گے جس میں ان کی سروس کا تمام ریکارڈ اور متعلقہ رپورٹیں موجود ہوں گی۔</p>
<p>خواجہ آصف چند ہفتے قبل تک کہہ رہے تھے کہ اکتوبر کی 18 یا 19 تاریخ کو سمری آ جائے گی۔ یہ تاریخ اس لیے اہم تھی کہ ایک سینئر جنرل ریٹائر ہو رہے تھے اور ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے سمری بھیجی جاتی تو ان کا نام بھی شامل ہوتا۔</p>
<p>لیکن 21 نومبر گزرنے کے بعد بھی سمری نہیں بھیجی گئی۔</p>
<p>خواجہ آصف اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا اصرار ہے کہ سمری کے حوالے سے تاخیر نہیں ہوئی۔ رانا ثنا اللہ نے پیر کی شب نجی ٹی وی پر انٹرویو میں کہا کہ 18 کے بعد ویک اینڈ شروع ہوگیا اور اب نئے ہفتے میں سمری آجائے گی۔</p>
<p>قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بھی پیر کو بتایا کہ وزیراعظم آفس نے سمری بھیجنے کے لیے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا ہے اور معاملات ایک دو دن میں طے پا جائیں گے۔</p>
<p>لیکن نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیر داخلہ کسی حد تک مضطرب بھی دکھائی دیئے اور جب پوچھا گیا کہ اگر سمری موصول نہ ہوئی تو کیا ہوگا تو انہوں نے کہاکہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30306132/">ہر دو صورتوں میں تعیناتی ہو جائے گی</a>۔</p>
<p>آج ٹی وی پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سمری کا نہ آنا بہت بڑی ناکامی ہے۔</p>
<p>لیگی رہنماؤں کی اس گفتگو سے تاخیر کا تاثر پختہ ہوتاہے گوکہ حکومت کا بیانہ یہی ہے کہ تاخیر نہیں ہورہی۔</p>
<h2><a id="کیا-وزیراعظم-سمری-کے-بغیر-آرمی-چیف-کا-اعلان-کرسکتے" href="#کیا-وزیراعظم-سمری-کے-بغیر-آرمی-چیف-کا-اعلان-کرسکتے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کیا وزیراعظم سمری کے بغیر آرمی چیف کا اعلان کرسکتے</h2>
<p>نومبر کی 27 تاریخ کو موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس جنرل ندیم رضا کی تین سالہ مدت  پوری ہو رہی ہے اور یہ ان کی ریٹائرمنٹ کا دن بنتا ہے۔ یہی دن لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کی ریٹائرمنٹ کا بھی ہے۔</p>
<p>اس بنا پر سمری 27 تاریخ سے پہلے وزیراعظم آفس کو موصول ہونا لازم ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف <a href="https://www.aaj.tv/news/30306126/">25 اور 26 نومبر کو ترکیہ کے دورے</a> پر ہوں گے لہذا سمری بھیجنے کیلئے آج، کل اور پرسوں کا دن باقی بچتا ہے۔</p>
<p>فوج کی جانب سے وزارت دفاع کو سمری موصول ہونے اور پھر اسے وزیراعظم آفس تک پہنچانے کیلئے یہ خاطرخواہ وقت ہے۔</p>
<p>لیکن رانا ثنااللہ کی جانب سے ”ہر دو صورتوں میں“ میں تعیناتی کی بیان نے کھلبلی مچا دی ہے۔ شیخ رشید نے اس بیان کو <a href="https://www.aaj.tv/news/30306140/">خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے</a> اور کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب ایک پیج پر نہیں۔</p>
<p>اس سنسنی خیزی کا کچھ سبب لاعلمی بھی ہے۔ مثال کے طور پر پیر کے روز وزیر دفاع نے بیان دیا کہ وزیراعظم آفس نے سمری کے لیے وزارت دفاع کو خط لکھ دیا ہے تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر پیش کیا گیا کہ وزیراعظم کو خط لکھنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے وزارت دفاع کو خط لکھ کر سمری طلب کر نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا پہلا قدم ہوتا ہے۔ اس خط کے ساتھ ’پراسس‘ کا آغاز ہو چکا ہے۔</p>
<p>لیکن اس کے باوجود بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم شہباز شریف  آرمی چیف کی جانب سے سمری موصول ہوئے بغیر نئے چیف کا اعلان کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اس سوال کا جواب آئین کے آرٹیکل 243، رولز آف بزنس 1973 اور پاکستان کی روایات میں موجود ہے۔</p>
<p>آرٹیکل 234 کی ذیلی شق 3 کے مطابق صدر وزیراعظم کے ”مشورے“  (Advice)پر چیئرمین جوائنٹ چیفس اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کو تعینات کرتے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم سے پہلے یہ لفظ  consultation تھا جس کا مطلب مشاورت بنتا ہے۔ تاہم ایڈوائس کے معنی یہ ہے کہ وزیراعظم جو بھی نام پیش کریں گے صدر آئینی طور پر اسے منظور کرنے کے پابند ہیں۔</p>
<p>رولز آف بزنس 1973کے رول V-A میں درج ہے کہ فوج میں لیفٹننٹ جنرل اور اس سے اوپر کے عہدوں پر تقرر وزیراعظم صدر کی consultation  سے کریں گے۔ اگرچہ رولز میں لیفٹننٹ جنرلز کی تقرری میں بھی وزیراعظم کا کردار بیان کیا گیا ہے لیکن عملی طور پر یہ ترقی مکمل طور پر آرمی چیف کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔</p>
<p>یہی معاملہ سمری کا بھی ہے جو صرف سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کی رائے ہی نہیں ہوتی بلکہ فوجی قیادت کی مجموعی رائے سمجھی جاتی ہے۔ ایسی سمری کی غیرموجودگی کو نظرانداز کرنا وزیراعظم کے لیے آسان نہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ قانون کے تحت صدر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری نظرثانی کے لیے واپس بھیج دیں۔ اس طرح وہ وزیراعظم کی جانب سے بھیجے گئے نام کی منظوری 25 دن تک التوا میں رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر سے آنے والی ہر سمری پر دستخط کرنے کے لیے صدر کے پاس دس دن ہوتے ہیں جب کہ دس دن بعد وہ سمری واپس بھیج دیں تو مزید 15 دن وہ سمری وزیراعظم آفس میں رہتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ 25 دن کا وقت بنتا ہے۔</p>
<p>موجودہ صدر عارف علوی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ اگر شہباز شریف فوج کی متفقہ رائے کا انتطار نہیں کرتے اور موقع سے فائدہ اٹھا کر عمران خان صدر عارف علوی کو سمری روکنے کا کہہ دیتے ہیں تو ایک بحران پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>شہباز شریف فوج کی حمایت کے بغیر ایسی کسی مہم جوئی میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔</p>
<p>ماضی میں موجودہ آرمی چیف کی سمری کے بغیر ان کے جانشین کو تعینات کرنے کی کوشش کی ایک ہی مثال ملتی ہے۔ اکتوبر 1999 میں شہباز شریف کے بڑے بھائی نے جنرل مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاالدین بٹ کو آرمی چیف لگانے کی کوشش کی تھی۔ فوج نے اس عمل کی حمایت نہیں کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30306164</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Nov 2022 15:03:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارف انجم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/11/22131312819fdab.jpg?r=131406" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/11/22131312819fdab.jpg?r=131406"/>
        <media:title>صدر عارف علوی سروسزچیفس کے ساتھ۔۔۔ فوٹو اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا پاکستانی نادانستگی میں سوشل میڈیا پر فین فکشن لکھ رہے ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30306072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پچھلے کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا پر دو تھپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ دو سیاسی جماعتوں کے حامی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی مخالف جماعت کے وزیراعظم کو تھپڑ مارا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دعوؤں کو سچ ثابت کرنے کے لیے پوری کہانی کئی طرح کی جزئیات کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ خود کو سمجھدار سمجھنے والے کچھ لوگ ان دعوؤں کو جھوٹ اور الزام تراشی کہتے ہوئے اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے وہ عین انسانی رویے کے مطابق ہے اور پہلی بار نہیں ہورہا۔ ہم انسان ایسی کہانیاں گھڑنے کے عادی یا یوں کہہ لیں پرانے مجرم ہیں جن میں جھوٹ میں سچ یا سچ میں جھوٹ کا تڑکا لگا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادب بالخصوص انگریزی ادب میں ایک صنف ریئل پرسن فکشن (Real Person Fiction)کی ہے جسے فین فکشن بھی کہتے ہیں۔ (اگرچہ فین فکشن کی ایک اور تعریف بھی ہے) اس میں کسی حقیقی شخصیت کا نام اور کوائف استعمال کرتے ہوئے کہانی گھڑی جاتی ہے۔ کہانی فرضی ہوتی ہے اور شخصیت اصلی، لیکن بہت سے قارئین کہانی کو اصل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسا فکشن حقیقت اور افسانے کو گڈمڈ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایسا ایک مشہور واقعہ اکتوبر 2013 میں پیش آ چکا ہے جب معروف سماجی نقاد ندیم ایف پراچہ نے ملالہ یوسفزئی کے حوالے سے ایک فرضی کہانی لکھی۔ ”ملالہ اصل کہانی (شواہد کے ساتھ)“ کے عنوان سے تحریر میں انہوں نے لکھا کہ ملالہ یوسفزئی نہ تو پاکستانی ہے اور نہ پشتون بلکہ وہ بڈاپسٹ میں پیدا ہوئی اور اسے مغرب نے سوات میں تعینات کیا تھا۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والی اس کہانی میں بھی کہا گیا کہ ملالہ پرحملہ ڈرامہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ریئل پرسن فکشن ان لوگوں پر طنز تھا جو ملالہ کو گولی لگنے کی کہانی کو جھوٹ کہہ رہے تھے۔ مضمون کے آخر میں واضح بھی کیا گیا کہ تھا کہ یہ طنز اور فکشن ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ ندیم پراچہ کی اس کہانی پر بڑی تعداد میں لوگوں نے یقین کر لیا۔ نتیجتاً ڈان کی ویب سائٹ کو &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1048776"&gt;مضمون کے شروع میں بھی وضاحت&lt;/a&gt; لگانا پڑی۔ یہ وضاحت اب تک موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل پرسن فکشن یا فین فکشن کی بعض کہانیاں اتنی تفصیلی اور دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان پر یقین کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ساحر لدھیانوی اور پلے بیک سنگر سدھا ملہوترا کی کہانی کو ہی لے لیں۔ ساحر لدھیانوی کی نظم ”چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔۔۔“ سے سبھی واقف ہیں۔ کہانی یہ گھڑی گئی کہ ساحر اور سدھا ایک اور دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن خاندانوں کی مخالفت کے سبب ایک نہ ہوسکے اور ساحر نے یہ نظم اس وقت لکھی جب سدھا کی شادی ہونے والی تھی۔ اس کہانی کے ایک ورژن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ساحر نے یہ نظم سدھا کی شادی میں گا کر سنائی اور دلہن بنی سدھا ملہوترہ سن کر روتی رہیں۔ ایک اور ورژن میں جو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medium.com/@manishgaekwad/sudha-malhotra-a-love-song-denied-5b68280fe36b"&gt;یہاں موجود ہے&lt;/a&gt;  ساحر اور سدھا کی آخری ملاقات کا تفصیلی احوال دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ پلے بیک سنگر اپنی شادی کا دعوت نامہ دینے گئی تھیں جب ساحر کو انہوں نے یہ نظم گاتے سنا۔ وہ دعوت دے کر آگئیں ساحر نے نظم تحفے میں بھجوا دی۔ یہ ان کا الوداعی تحفہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2022/11/21163338bfcd7bc.jpg'  alt=' سدھا مہلوتر اور ساحر لودھی سے متعلق جھوٹی کہانی شائع کرنے پر میگزین کو معافی مانگنا پڑی۔' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سدھا مہلوتر اور ساحر لودھی سے متعلق جھوٹی کہانی شائع کرنے پر میگزین کو معافی مانگنا پڑی۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کے ریئل پرسن فکشن نے سدھا ملہوترا کے لیے اس وقت پریشانی پیدا کی جب معروف بلٹس (Blitz) میگزین نے بھی یہ کہانی شائع کردی۔ سدھا کے خاندان اور سسرال نے میگزین پر مقدمہ کر دیا جسےاپنے اس اقدام پر معافی مانگنا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہالی ووڈ میں تو 1940 میں وٹمین پبلشنگ کمپنی نے اجازت کے ساتھ اداکارون کے بارے میں ریئل فکشن شائع کیا تاکہ ان فنکاروں کی مقبولیت بڑھ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھوٹ میں سچ ملا کر یہ فکشن محض تعریف میں ہی نہیں لکھا جاتا بلکہ اکثر ہجو کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض اوقات تو لکھنے والے اپنے حقیقی دنیا کے فرضی کردار کو دردناک موت تک  سے ہم کنار کردیتے ہیں یا ان کے بارے میں شرمناک باتیں لکھ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل پرسن فکشن یا فین فکشن کوئی نئی صنف نہیں۔ ویلیم شیکسپئر نے تاریخی کرداروں پر مبنی جو ڈرامے لکھے انہیں ریئل پرسن فکشن کی اولین نظیر قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اوقات ریئل پرسن فکشن اتنا طاقت ورثابت ہوتا ہے کہ یہ ’سچائی‘ کو تخلیق کردیتا ہے۔ ہمارے ادب میں انار کلی کا کردار اس کی ایک مثال ہے۔ فین فکشن پر جائیں تو انار کلی بادشاہ اکبر کی ایک کنیز تھی جسے اکبر کے حکم پر دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا تھا۔  لیکن مؤرخین باوجود کوشش کے اس بات کا ثبوت نہیں ڈھونڈ سکے کہ ایسی کوئی کنیز حقیقت میں وجود رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قصہ  یورپی سیاح ولیم فنچ نے گھڑا جو 1618ء میں لاہور پہنچا، فنچ کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس من گھڑت واقعے کے ذریعے مغل شہنشاہ اکبر کو بد نام کیا جائے۔ اس نے اکبر کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مشرقی مصنفین کی تحاریر میں اس کردار کا پہلا ذکر 1864 میں ملتا ہے۔ یعنی 200 برس کے وقفے سے اور اس وقت تک برصغیر پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل پرسن فکشن سے دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ پریشان ہیں۔ کچھ کے خیال میں اس کی کوئی حدود و قیود ہونی چاہیں۔  لیکن اس کے باوجود ریئل پرسن فکشن یا فین فکشن لکھنے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فین فکشن کی اصطلاح ان تحاریر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جن میں پہلے سے موجود کسی کہانی کے کرداروں کو لے کر پرستار نئی کہانی گھڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ جے کے رولنگ کے ناول ہیری پوٹر کے کردار کو لے کوکوئی اور کہانی لکھ ڈالیں تو یہ بھی فین فکشن کے ذمرے میں شمار ہوگی۔ مغرب میں اس طرح کا فین فکشن پہلے ہی تخلیق ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر دو طرح کے فین فکشن کی مارکیٹ میں بہت طلب ہے۔ پبلشر مصنفین کو فین فکشن یا ریئل پرسن فکشن لکھنے کے لیے کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان کہانیوں کو سننا پسند کرتے ہیں جن سے وہ کوئی تعلق محسوس کر سکیں۔  اس طرح کے فکشن کو پسند کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں آپ غلط کو درست کرسکتے ہیں۔ کسی کے ساتھ ہوئے ظلم کا انتقام لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2022/11/21164736ceffa87.jpg'  alt='سروانتے کے ناول میں سے ایک واقعے کی منظر کشی جس میں خدائی فوجدار پن چکی کو عفریت سمجھ کر اس سے تلوار بازی کر رہا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سروانتے کے ناول میں سے ایک واقعے کی منظر کشی جس میں خدائی فوجدار پن چکی کو عفریت سمجھ کر اس سے تلوار بازی کر رہا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس فین فکشن کو پسند کرنے میں اعتدال بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر وہی انجام ہو گا جو ہسپانوی ناول نگار سروانتے کے ناول کے مرکزی کردار ”ڈان کہوٹے“ کا ہوا تھا، جو ناول پڑھ پڑھ کے خود کو ہیرو سمجھ لیتا ہے اور ذلت اٹھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان کہوٹے کا ترجمہ اردو میں ”خدائی فوجدار“ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل پرسن فکشن کی انتہا بس خدائی فوجداروں کو ہی جنم دے سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے جوش جنوں میں بہہ جانے والوں کو اور کیا کہا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پچھلے کئی ہفتوں سے سوشل میڈیا پر دو تھپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ دو سیاسی جماعتوں کے حامی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی مخالف جماعت کے وزیراعظم کو تھپڑ مارا گیا۔</strong></p>
<p>اپنے دعوؤں کو سچ ثابت کرنے کے لیے پوری کہانی کئی طرح کی جزئیات کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔ خود کو سمجھدار سمجھنے والے کچھ لوگ ان دعوؤں کو جھوٹ اور الزام تراشی کہتے ہوئے اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے وہ عین انسانی رویے کے مطابق ہے اور پہلی بار نہیں ہورہا۔ ہم انسان ایسی کہانیاں گھڑنے کے عادی یا یوں کہہ لیں پرانے مجرم ہیں جن میں جھوٹ میں سچ یا سچ میں جھوٹ کا تڑکا لگا ہو۔</p>
<p>ادب بالخصوص انگریزی ادب میں ایک صنف ریئل پرسن فکشن (Real Person Fiction)کی ہے جسے فین فکشن بھی کہتے ہیں۔ (اگرچہ فین فکشن کی ایک اور تعریف بھی ہے) اس میں کسی حقیقی شخصیت کا نام اور کوائف استعمال کرتے ہوئے کہانی گھڑی جاتی ہے۔ کہانی فرضی ہوتی ہے اور شخصیت اصلی، لیکن بہت سے قارئین کہانی کو اصل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسا فکشن حقیقت اور افسانے کو گڈمڈ کر دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایسا ایک مشہور واقعہ اکتوبر 2013 میں پیش آ چکا ہے جب معروف سماجی نقاد ندیم ایف پراچہ نے ملالہ یوسفزئی کے حوالے سے ایک فرضی کہانی لکھی۔ ”ملالہ اصل کہانی (شواہد کے ساتھ)“ کے عنوان سے تحریر میں انہوں نے لکھا کہ ملالہ یوسفزئی نہ تو پاکستانی ہے اور نہ پشتون بلکہ وہ بڈاپسٹ میں پیدا ہوئی اور اسے مغرب نے سوات میں تعینات کیا تھا۔ ڈان اخبار میں شائع ہونے والی اس کہانی میں بھی کہا گیا کہ ملالہ پرحملہ ڈرامہ تھا۔</p>
<p>یہ ریئل پرسن فکشن ان لوگوں پر طنز تھا جو ملالہ کو گولی لگنے کی کہانی کو جھوٹ کہہ رہے تھے۔ مضمون کے آخر میں واضح بھی کیا گیا کہ تھا کہ یہ طنز اور فکشن ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ ندیم پراچہ کی اس کہانی پر بڑی تعداد میں لوگوں نے یقین کر لیا۔ نتیجتاً ڈان کی ویب سائٹ کو <a href="https://www.dawn.com/news/1048776">مضمون کے شروع میں بھی وضاحت</a> لگانا پڑی۔ یہ وضاحت اب تک موجود ہے۔</p>
<p>ریئل پرسن فکشن یا فین فکشن کی بعض کہانیاں اتنی تفصیلی اور دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان پر یقین کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ساحر لدھیانوی اور پلے بیک سنگر سدھا ملہوترا کی کہانی کو ہی لے لیں۔ ساحر لدھیانوی کی نظم ”چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔۔۔“ سے سبھی واقف ہیں۔ کہانی یہ گھڑی گئی کہ ساحر اور سدھا ایک اور دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن خاندانوں کی مخالفت کے سبب ایک نہ ہوسکے اور ساحر نے یہ نظم اس وقت لکھی جب سدھا کی شادی ہونے والی تھی۔ اس کہانی کے ایک ورژن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ساحر نے یہ نظم سدھا کی شادی میں گا کر سنائی اور دلہن بنی سدھا ملہوترہ سن کر روتی رہیں۔ ایک اور ورژن میں جو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medium.com/@manishgaekwad/sudha-malhotra-a-love-song-denied-5b68280fe36b">یہاں موجود ہے</a>  ساحر اور سدھا کی آخری ملاقات کا تفصیلی احوال دیا گیا ہے اور کہا گیا کہ پلے بیک سنگر اپنی شادی کا دعوت نامہ دینے گئی تھیں جب ساحر کو انہوں نے یہ نظم گاتے سنا۔ وہ دعوت دے کر آگئیں ساحر نے نظم تحفے میں بھجوا دی۔ یہ ان کا الوداعی تحفہ تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2022/11/21163338bfcd7bc.jpg'  alt=' سدھا مہلوتر اور ساحر لودھی سے متعلق جھوٹی کہانی شائع کرنے پر میگزین کو معافی مانگنا پڑی۔' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سدھا مہلوتر اور ساحر لودھی سے متعلق جھوٹی کہانی شائع کرنے پر میگزین کو معافی مانگنا پڑی۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس طرح کے ریئل پرسن فکشن نے سدھا ملہوترا کے لیے اس وقت پریشانی پیدا کی جب معروف بلٹس (Blitz) میگزین نے بھی یہ کہانی شائع کردی۔ سدھا کے خاندان اور سسرال نے میگزین پر مقدمہ کر دیا جسےاپنے اس اقدام پر معافی مانگنا پڑی۔</p>
<p>ہالی ووڈ میں تو 1940 میں وٹمین پبلشنگ کمپنی نے اجازت کے ساتھ اداکارون کے بارے میں ریئل فکشن شائع کیا تاکہ ان فنکاروں کی مقبولیت بڑھ سکے۔</p>
<p>جھوٹ میں سچ ملا کر یہ فکشن محض تعریف میں ہی نہیں لکھا جاتا بلکہ اکثر ہجو کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض اوقات تو لکھنے والے اپنے حقیقی دنیا کے فرضی کردار کو دردناک موت تک  سے ہم کنار کردیتے ہیں یا ان کے بارے میں شرمناک باتیں لکھ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>ریئل پرسن فکشن یا فین فکشن کوئی نئی صنف نہیں۔ ویلیم شیکسپئر نے تاریخی کرداروں پر مبنی جو ڈرامے لکھے انہیں ریئل پرسن فکشن کی اولین نظیر قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p>بعض اوقات ریئل پرسن فکشن اتنا طاقت ورثابت ہوتا ہے کہ یہ ’سچائی‘ کو تخلیق کردیتا ہے۔ ہمارے ادب میں انار کلی کا کردار اس کی ایک مثال ہے۔ فین فکشن پر جائیں تو انار کلی بادشاہ اکبر کی ایک کنیز تھی جسے اکبر کے حکم پر دیوار میں زندہ چنوا دیا گیا تھا۔  لیکن مؤرخین باوجود کوشش کے اس بات کا ثبوت نہیں ڈھونڈ سکے کہ ایسی کوئی کنیز حقیقت میں وجود رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قصہ  یورپی سیاح ولیم فنچ نے گھڑا جو 1618ء میں لاہور پہنچا، فنچ کی کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس من گھڑت واقعے کے ذریعے مغل شہنشاہ اکبر کو بد نام کیا جائے۔ اس نے اکبر کی توہین، تذلیل، تضحیک اور بے توقیری میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مشرقی مصنفین کی تحاریر میں اس کردار کا پہلا ذکر 1864 میں ملتا ہے۔ یعنی 200 برس کے وقفے سے اور اس وقت تک برصغیر پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔</p>
<p>ریئل پرسن فکشن سے دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ پریشان ہیں۔ کچھ کے خیال میں اس کی کوئی حدود و قیود ہونی چاہیں۔  لیکن اس کے باوجود ریئل پرسن فکشن یا فین فکشن لکھنے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
<p>فین فکشن کی اصطلاح ان تحاریر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جن میں پہلے سے موجود کسی کہانی کے کرداروں کو لے کر پرستار نئی کہانی گھڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ جے کے رولنگ کے ناول ہیری پوٹر کے کردار کو لے کوکوئی اور کہانی لکھ ڈالیں تو یہ بھی فین فکشن کے ذمرے میں شمار ہوگی۔ مغرب میں اس طرح کا فین فکشن پہلے ہی تخلیق ہو چکا ہے۔</p>
<p>ہر دو طرح کے فین فکشن کی مارکیٹ میں بہت طلب ہے۔ پبلشر مصنفین کو فین فکشن یا ریئل پرسن فکشن لکھنے کے لیے کہتے ہیں۔</p>
<p>اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان کہانیوں کو سننا پسند کرتے ہیں جن سے وہ کوئی تعلق محسوس کر سکیں۔  اس طرح کے فکشن کو پسند کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں آپ غلط کو درست کرسکتے ہیں۔ کسی کے ساتھ ہوئے ظلم کا انتقام لے سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2022/11/21164736ceffa87.jpg'  alt='سروانتے کے ناول میں سے ایک واقعے کی منظر کشی جس میں خدائی فوجدار پن چکی کو عفریت سمجھ کر اس سے تلوار بازی کر رہا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سروانتے کے ناول میں سے ایک واقعے کی منظر کشی جس میں خدائی فوجدار پن چکی کو عفریت سمجھ کر اس سے تلوار بازی کر رہا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>لیکن اس فین فکشن کو پسند کرنے میں اعتدال بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر وہی انجام ہو گا جو ہسپانوی ناول نگار سروانتے کے ناول کے مرکزی کردار ”ڈان کہوٹے“ کا ہوا تھا، جو ناول پڑھ پڑھ کے خود کو ہیرو سمجھ لیتا ہے اور ذلت اٹھاتا ہے۔</p>
<p>ڈان کہوٹے کا ترجمہ اردو میں ”خدائی فوجدار“ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ریئل پرسن فکشن کی انتہا بس خدائی فوجداروں کو ہی جنم دے سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے جوش جنوں میں بہہ جانے والوں کو اور کیا کہا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30306072</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Nov 2022 19:02:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عارف انجم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/11/21171747710d73c.gif?r=171849" type="image/gif" medium="image" height="669" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/11/21171747710d73c.gif?r=171849"/>
        <media:title>Artwork: Obair Khan/Aaj Digital
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کے دورہ چین کے پس پردہ عوامل کیا ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30304581/</link>
      <description>&lt;h2&gt;&lt;a id="ڈاکٹر-عمار-ملک-امریکہ-میں-مقیم-ایک-سینیئر-محقق-ہیں-اور-سی-پیک-پر-بہت-کام-کر-چکے-ہیں-وہ-اس-وقت-بین-الاقوامی-ترقی-پر-تحقیق-کرنے-والی-تنظیم-aiddata-سے-وابستہ-ہیں-وزیراعظم-شہباز-شریف-کے-دورہ-امریکہ-پر-آج-ڈیجیٹل-کے-لیے-انہوں-نے-یہ-تجزیہ-پیش-کیا" href="#ڈاکٹر-عمار-ملک-امریکہ-میں-مقیم-ایک-سینیئر-محقق-ہیں-اور-سی-پیک-پر-بہت-کام-کر-چکے-ہیں-وہ-اس-وقت-بین-الاقوامی-ترقی-پر-تحقیق-کرنے-والی-تنظیم-aiddata-سے-وابستہ-ہیں-وزیراعظم-شہباز-شریف-کے-دورہ-امریکہ-پر-آج-ڈیجیٹل-کے-لیے-انہوں-نے-یہ-تجزیہ-پیش-کیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈاکٹر عمار ملک امریکہ میں مقیم ایک سینیئر محقق ہیں اور سی پیک پر بہت کام کر چکے ہیں۔ وہ اس وقت بین الاقوامی ترقی پر تحقیق کرنے والی تنظیم  AidData سے وابستہ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ امریکہ پر آج ڈیجیٹل کے لیے انہوں نے یہ تجزیہ پیش کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ چین سی پیک کے حوالے سے بہت اہم تھا تاہم ان کے اس دورے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کو تین تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="چین-کی-پوزیشن" href="#چین-کی-پوزیشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چین کی پوزیشن&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں صدرشی جنگ پنگ نے تیسری مرتبہ اپنے آپ کو صدر منتخب کرالیا ہے اور وہ اب چین کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم لیڈر بنتے نظر آرہے ہیں چئیرمین ماؤ اور باقی اہم لیڈران کی طرح۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے شہباز شریف کے علاوہ تنزانیہ، ویتنام اور جرمنی کے  لیڈران بھی بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ چین کیلئے یہ بڑا اہم وقت ہے دوست ممالک کو اکٹھا کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ نئے دور میں چین دنیا کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پاکستان-کا-نقطہ-نظر" href="#پاکستان-کا-نقطہ-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان کا نقطہ نظر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کیلئے ظاہر ہے یہ وقت بہت اہم ہے کیونکہ پی ڈی ایم حکومت بہت سخت کوشش کر رہی ہے کہ سی پیک کو دوبارہ سے فعال بنایا جائے۔ بہت سارے قرضے ہیں جن کو رول اوور کرنے کی ضرورت ہے، جو قرضے چین سے پاکستان نے لئے ہوئے ہیں جو ڈیپازٹ لئے ہوئے ہیں ان کی مدت بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے پاکستان کی حکومت اس وقت لانگ مارچ کی طرف سے بھی بہت پریشر میں ہے اور اقتصادی طور پر بھی اور اگلے سال جون جولائی کے مہینے میں اس حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان نے الیکشن کی طرف جانا ہے۔ تو یہ بہت ہی اہم وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="عالمی-تناظر" href="#عالمی-تناظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عالمی تناظر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اور اس کے علاوہ دورے کے تیسری جہت دنیا کی طرف سے ہے۔ پاکستان اور امریکا اپنے تعلقات کو دوبارہ سے ری انگیجمنٹ کی طرف لے کر جارہے ہیں، جیسے کہ ہم نے ابھی پچھلے کچھ ہفتوں میں دیکھا اور اس تناظر میں بہت سے لوگ واشنگٹن میں جہاں میں رہتا ہوں یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر چین کو پاکستان میں ایسا کیا نظر آرہا ہے کہ چین بہت سارے مسائل کے باوجود، سی پیک کے سلو ہونے کے باوجود، چینی لوگوں پر حملے ہونے کے باوجود، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھاتا ہوا چلا جارہا ہے اور سی پیک کو ”ٹو بِگ ٹو فیل“ کہا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو اس لحاظ سے بھی دنیا اس دورے کا بہت انتظار کر رہی تھی اور یہ دیکھنا چاہ رہی تھی خاص طور پر جو قرضوں کا اور اقتصادی شراکت داری ہے اس کے اوپر کیا ڈیولپمنٹ ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ چین نے پچھلے کچھ مہینے میں سری لنکا اور زیمبیا میں اپنے قرضوں کو ری شیڈول کرنے اور ان ممالک کو ریلیف دینے کے لیے مذاکرات میں مغربی طاقتوں امریکا ، فرانس وغیرہ  اور قرض دینے والوں کو شریک کیا لہذا دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کہ کیا وہ پاکستان کے ساتھ بھی اس قسم کی پارٹنر شپ کریں گے قرضوں کے اوپر یا نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="دورے-کا-ایجنڈا" href="#دورے-کا-ایجنڈا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دورے کا ایجنڈا&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دوسری چیز جو میں سمجھتا ہوں بہت اہم ہے وہ اس دورے کا ایجنڈا ہے۔ پاکستان کی طرف سے سب سے اہم شارٹ ٹرم آئٹم جو ہے وہ بیلنس آف پیمنٹس کے ڈیپازٹس سینٹرل بینک نے لئے ہیں اس میں سیف ڈیپازٹس بھی شامل ہیں اور چینی بینکوں کی طرف سے بھی  اس سال بھی ہمیں کچھ ڈیپازٹس موصول ہوئے ہیں ان کی ایکسٹینشن (توسیع) کے بارے میں بات چیت  ہوگی اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا چینی حکام ان قرضوں کو اپروو کر دیتے ہیں، یا وہ یہ ڈیمانڈ کرتے ہیں پاکستان ان قرضوں کو واپس کرے ۔ کیونکہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ ہم اتنے بڑے بڑے قرضوں کو واپس کرسکیں، جو کہ ایک سال یا دوسال کی مدت کیلئے دئے جاتے ہیں، اور ان کا واپس کرنے کا وقت قریب آتا جارہا ہے۔ تو یہ سب سے بڑا آئٹم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=793639138393881" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ظاہر ہے 11.3 ارب ڈالرز کے نئے منصوبوں کے اوپر بات چیت ہو رہی ہے۔ مین لائن ون جو پشاور سے کراچی تک جانے والیے ریل نظام کی اپ گریڈنگ کا معاملہ ہے وہ ایک بہٹ بڑا پروجیکٹ ہے، کراچی سرکولر ریل ہے، پھر کچھ انرجی کے شعبے میں بھی پراجیکٹس ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ شاید بات آگے بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ابھی تک بیجنگ سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق کوئی بڑی اناؤنسمنٹ یا بڑی کمٹمنٹ یا بڑے معاہدوں پر دستخط ان پروجیکٹس پر ہمیں نظر نہیں آرہے۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ چونکہ پاکستان میں سیاسی طور پر عدم استحکام ہے اور پاکستان میں اگلے سال الیکشن کا بھی وقت آنا ہے۔ یہ بہت ہی بڑے منصوبے ہیں ، یہ دس دس بلین ڈالرز کے منصوبے ہیں اور چینی حکام کافی محتاط طریقے سے اس وقت آگے بڑھیں گے اور پاکستانی سائیڈ پر بھی کافی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کے اپروولز وغیرہ حکومتی سطح پر لے لئے جائیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس آئٹم پر کوئی پیش رفت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سی-پیک-کا-اگلا-مرحلہ" href="#سی-پیک-کا-اگلا-مرحلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سی پیک کا اگلا مرحلہ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;تیسرا جو لانگ ٹرم آئٹم جو بہت اہم ہے جس کا ذکر اب کیا جارہا ہے پاکستان میں اس نئی حکومت کے اندر وہ سی پیک کا سیکنڈ فیز ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو ارلی ہارویسٹ (early harvest) کے انفرا اسٹرکچر کے پروجیکٹس وہاں لگوانے تھے، پاکستان میں سڑکوں کا نظام بہتر کرنا تھا، پاکستان میں بجلی کا نظام بہتر کرنا تھا وہ پروجیکٹس اب کافی حد تک پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں اور مزید بھی آتے جارہے ہیں۔ لیکن اصل جو اس کا فائدہ ہونا تھا ہماری معیشت کو وہ فیز ٹو میں ہونا تھا اور فیز تو میں ہماری امید تھی کہ چین کی طرف سے ہمیں پرائیویٹ سیکٹر سے فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ موصول ہوگی، پاکستان میں چینی کمپنیاں کارخانے لگائیں گی، یہاں پر ینگ پاکستانی لوگوں کیلئے نوکریوں کا انتظام ہوگا۔ یہ سارا کچھ ہمیں ابھی تک ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ عمران خان کے دور میں بھی ہم نے دیکھا کہ سی پیک اتھارٹی نے ایک پچ بک تیار کی ، فروری میں جب عمران خان صاحب چین میں گئے تو وہاں پر انہوں نے ملاقاتیں بھی کیں چینی کمپنیوں کے ساتھ، آج بھی شہباز شریف صاحب نے ایسی ملاقاتیں کی ہیں تو اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی یا نہیں کریں گی؟
اس کا دارومدار میرے خیال میں چین کی حکومت پر کم اور پاکستانی سائیڈ پر زیادہ ہے۔ کیا ہم ان کو وہ سہولیات میسر کر سکتے ہیں، کیا ورک فورس مہیا کر سکتے ہیں یا ہم ان لوگوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کچھ مراعات دے سکتے ہیں، جیسے ٹیکس ریلیف دے سکتے ہیں، سڑکیں بہتر کرستے ہیں، سستی بجلی دے سکتے ہیں، کیا ایسی چیزیں ہیں جو پاکستان ان کو مہیا کرسکتا ہے جس کے بعد وہ وہاں آئیں دبئی، کمبوڈیا یا بنگلا دیش جانے کے بجائے پاکستان میں سرمایہ کریں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو میرے خیال میں اس دورے میں ہمیں اس حوالے سے کوئی خاص ڈیولپمنٹ نظر نہیں آئے گی۔ یہ ایک لانگ ٹرم چیز ہے جس کیلئے ہمیں انتظار کرنا ہوگا غالباً اگلی حکومت کیلئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان اور چین کے تعلقات کو اور سی پیک کو ایک بڑے تناظر میں دیکھیں تو مجھے دو تین بڑے بڑے چینجز نظر آتے ہیں، سب سے پہلا چیلنج یہ ہے کہ کیا پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں میں بھی ہمیں کچھ ٹینشن نظر آرہی ہے اور موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی بے انتہا کشیدگی نظر آرہی ہے اور کچھ عدم استحکام بھی نظر آرہا ہے الیکشن کے حوالے سے کہ آیا الیکشن ٹائم پر ہوں گے جلدی ہوں گے کیسے ہوگا۔ اس موقع پر کیا چینی حکام کوئی بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا میرے خیال میں صوت حال ایسی ہی چلتی رہے گی۔ لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ کیا ایسا ہوگا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ کہ پاکستان کیلئے جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ یہ کہ سی پیک کے فیز ٹو کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہماری حکومت ایسے اقدامات کر سکتی ہے، کیا اصلاحات کر سکتی ہے، ون ونڈو آپریشن وغیرہ کا نظام کر سکتی ہے، ایسی ورک فورس دے سکتی ہے، ہماری ڈالر کی قیمت میں استحکام پیدا کر سکتی ہے، سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرسکتی ہے، کیا ایسے اقدامات پاکستانی حکومت کرسکتی ہے کہ چین کی طرف سے فیز ٹو میں زیادہ سے زیادہ تیزی آئے۔ میرے خیال میں یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ہماری سائیڈ سے کس قسم کے اقدامات لئے جاتے ہیں اور پھر چین اس پر کیسے رسپانڈ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں شرح سود کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے اور آج سے پانچ سے دس سال پہلے کے مقابلے میں آج کوئی بھی قرضہ لینا پاکستان جیسے ملک کیلئے کہیں زیادہ مہنگا ہے اس شرح سود سے جو ہمیں آج سے پانچ سات سال پہلے ملا کرتی تھی۔ اور اس کا اثر آپ ابھی سے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں جہاں چینی سرمایہ کاروں نے اور باقی سرمایہ کاروں نے پیسہ لگایا ہے وہاں پر چونکہ ہمارے روپے کی قدر بہت گرگئی ہے ، ہم بجلی کے بل روپوں میں وصول کرتے ہیں اور بجلی کی رسد کا نظام بھی اتنا اچھا نہیں ہے تو حکومت کے پاس اب ڈالروں میں سرمایہ کاروں کو ریٹرن دینا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔ تو پاکستان کو بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں مہنگے قرضے لینے پر بہت دھیان کرنا ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ جہاں بھی مہنگا قرضہ لیا جائے اس کو چکانے  کرنے کا جو فارمولہ اور تیاری ہے وہ بہت اچھا ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h2><a id="ڈاکٹر-عمار-ملک-امریکہ-میں-مقیم-ایک-سینیئر-محقق-ہیں-اور-سی-پیک-پر-بہت-کام-کر-چکے-ہیں-وہ-اس-وقت-بین-الاقوامی-ترقی-پر-تحقیق-کرنے-والی-تنظیم-aiddata-سے-وابستہ-ہیں-وزیراعظم-شہباز-شریف-کے-دورہ-امریکہ-پر-آج-ڈیجیٹل-کے-لیے-انہوں-نے-یہ-تجزیہ-پیش-کیا" href="#ڈاکٹر-عمار-ملک-امریکہ-میں-مقیم-ایک-سینیئر-محقق-ہیں-اور-سی-پیک-پر-بہت-کام-کر-چکے-ہیں-وہ-اس-وقت-بین-الاقوامی-ترقی-پر-تحقیق-کرنے-والی-تنظیم-aiddata-سے-وابستہ-ہیں-وزیراعظم-شہباز-شریف-کے-دورہ-امریکہ-پر-آج-ڈیجیٹل-کے-لیے-انہوں-نے-یہ-تجزیہ-پیش-کیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈاکٹر عمار ملک امریکہ میں مقیم ایک سینیئر محقق ہیں اور سی پیک پر بہت کام کر چکے ہیں۔ وہ اس وقت بین الاقوامی ترقی پر تحقیق کرنے والی تنظیم  AidData سے وابستہ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ امریکہ پر آج ڈیجیٹل کے لیے انہوں نے یہ تجزیہ پیش کیا۔</strong></h2>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ چین سی پیک کے حوالے سے بہت اہم تھا تاہم ان کے اس دورے اور صدر شی جن پنگ سے ملاقات کو تین تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<h2><a id="چین-کی-پوزیشن" href="#چین-کی-پوزیشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چین کی پوزیشن</h2>
<p>چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں صدرشی جنگ پنگ نے تیسری مرتبہ اپنے آپ کو صدر منتخب کرالیا ہے اور وہ اب چین کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم لیڈر بنتے نظر آرہے ہیں چئیرمین ماؤ اور باقی اہم لیڈران کی طرح۔</p>
<p>اس ہفتے شہباز شریف کے علاوہ تنزانیہ، ویتنام اور جرمنی کے  لیڈران بھی بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ چین کیلئے یہ بڑا اہم وقت ہے دوست ممالک کو اکٹھا کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ نئے دور میں چین دنیا کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط کرے گا۔</p>
<h2><a id="پاکستان-کا-نقطہ-نظر" href="#پاکستان-کا-نقطہ-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان کا نقطہ نظر</h2>
<p>پاکستان کیلئے ظاہر ہے یہ وقت بہت اہم ہے کیونکہ پی ڈی ایم حکومت بہت سخت کوشش کر رہی ہے کہ سی پیک کو دوبارہ سے فعال بنایا جائے۔ بہت سارے قرضے ہیں جن کو رول اوور کرنے کی ضرورت ہے، جو قرضے چین سے پاکستان نے لئے ہوئے ہیں جو ڈیپازٹ لئے ہوئے ہیں ان کی مدت بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے پاکستان کی حکومت اس وقت لانگ مارچ کی طرف سے بھی بہت پریشر میں ہے اور اقتصادی طور پر بھی اور اگلے سال جون جولائی کے مہینے میں اس حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان نے الیکشن کی طرف جانا ہے۔ تو یہ بہت ہی اہم وقت ہے۔</p>
<h2><a id="عالمی-تناظر" href="#عالمی-تناظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عالمی تناظر</h2>
<p>اور اس کے علاوہ دورے کے تیسری جہت دنیا کی طرف سے ہے۔ پاکستان اور امریکا اپنے تعلقات کو دوبارہ سے ری انگیجمنٹ کی طرف لے کر جارہے ہیں، جیسے کہ ہم نے ابھی پچھلے کچھ ہفتوں میں دیکھا اور اس تناظر میں بہت سے لوگ واشنگٹن میں جہاں میں رہتا ہوں یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر چین کو پاکستان میں ایسا کیا نظر آرہا ہے کہ چین بہت سارے مسائل کے باوجود، سی پیک کے سلو ہونے کے باوجود، چینی لوگوں پر حملے ہونے کے باوجود، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بڑھاتا ہوا چلا جارہا ہے اور سی پیک کو ”ٹو بِگ ٹو فیل“ کہا جارہا ہے۔</p>
<p>تو اس لحاظ سے بھی دنیا اس دورے کا بہت انتظار کر رہی تھی اور یہ دیکھنا چاہ رہی تھی خاص طور پر جو قرضوں کا اور اقتصادی شراکت داری ہے اس کے اوپر کیا ڈیولپمنٹ ہوتی ہیں۔</p>
<p>چونکہ چین نے پچھلے کچھ مہینے میں سری لنکا اور زیمبیا میں اپنے قرضوں کو ری شیڈول کرنے اور ان ممالک کو ریلیف دینے کے لیے مذاکرات میں مغربی طاقتوں امریکا ، فرانس وغیرہ  اور قرض دینے والوں کو شریک کیا لہذا دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کہ کیا وہ پاکستان کے ساتھ بھی اس قسم کی پارٹنر شپ کریں گے قرضوں کے اوپر یا نہیں کریں گے۔</p>
<h2><a id="دورے-کا-ایجنڈا" href="#دورے-کا-ایجنڈا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دورے کا ایجنڈا</h2>
<p>دوسری چیز جو میں سمجھتا ہوں بہت اہم ہے وہ اس دورے کا ایجنڈا ہے۔ پاکستان کی طرف سے سب سے اہم شارٹ ٹرم آئٹم جو ہے وہ بیلنس آف پیمنٹس کے ڈیپازٹس سینٹرل بینک نے لئے ہیں اس میں سیف ڈیپازٹس بھی شامل ہیں اور چینی بینکوں کی طرف سے بھی  اس سال بھی ہمیں کچھ ڈیپازٹس موصول ہوئے ہیں ان کی ایکسٹینشن (توسیع) کے بارے میں بات چیت  ہوگی اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا چینی حکام ان قرضوں کو اپروو کر دیتے ہیں، یا وہ یہ ڈیمانڈ کرتے ہیں پاکستان ان قرضوں کو واپس کرے ۔ کیونکہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ ہم اتنے بڑے بڑے قرضوں کو واپس کرسکیں، جو کہ ایک سال یا دوسال کی مدت کیلئے دئے جاتے ہیں، اور ان کا واپس کرنے کا وقت قریب آتا جارہا ہے۔ تو یہ سب سے بڑا آئٹم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=793639138393881" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ ظاہر ہے 11.3 ارب ڈالرز کے نئے منصوبوں کے اوپر بات چیت ہو رہی ہے۔ مین لائن ون جو پشاور سے کراچی تک جانے والیے ریل نظام کی اپ گریڈنگ کا معاملہ ہے وہ ایک بہٹ بڑا پروجیکٹ ہے، کراچی سرکولر ریل ہے، پھر کچھ انرجی کے شعبے میں بھی پراجیکٹس ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ شاید بات آگے بڑھے گی۔</p>
<p>لیکن ابھی تک بیجنگ سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق کوئی بڑی اناؤنسمنٹ یا بڑی کمٹمنٹ یا بڑے معاہدوں پر دستخط ان پروجیکٹس پر ہمیں نظر نہیں آرہے۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ چونکہ پاکستان میں سیاسی طور پر عدم استحکام ہے اور پاکستان میں اگلے سال الیکشن کا بھی وقت آنا ہے۔ یہ بہت ہی بڑے منصوبے ہیں ، یہ دس دس بلین ڈالرز کے منصوبے ہیں اور چینی حکام کافی محتاط طریقے سے اس وقت آگے بڑھیں گے اور پاکستانی سائیڈ پر بھی کافی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کے اپروولز وغیرہ حکومتی سطح پر لے لئے جائیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس آئٹم پر کوئی پیش رفت ہوگی۔</p>
<h2><a id="سی-پیک-کا-اگلا-مرحلہ" href="#سی-پیک-کا-اگلا-مرحلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سی پیک کا اگلا مرحلہ</h2>
<p>تیسرا جو لانگ ٹرم آئٹم جو بہت اہم ہے جس کا ذکر اب کیا جارہا ہے پاکستان میں اس نئی حکومت کے اندر وہ سی پیک کا سیکنڈ فیز ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو ارلی ہارویسٹ (early harvest) کے انفرا اسٹرکچر کے پروجیکٹس وہاں لگوانے تھے، پاکستان میں سڑکوں کا نظام بہتر کرنا تھا، پاکستان میں بجلی کا نظام بہتر کرنا تھا وہ پروجیکٹس اب کافی حد تک پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں اور مزید بھی آتے جارہے ہیں۔ لیکن اصل جو اس کا فائدہ ہونا تھا ہماری معیشت کو وہ فیز ٹو میں ہونا تھا اور فیز تو میں ہماری امید تھی کہ چین کی طرف سے ہمیں پرائیویٹ سیکٹر سے فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ موصول ہوگی، پاکستان میں چینی کمپنیاں کارخانے لگائیں گی، یہاں پر ینگ پاکستانی لوگوں کیلئے نوکریوں کا انتظام ہوگا۔ یہ سارا کچھ ہمیں ابھی تک ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ عمران خان کے دور میں بھی ہم نے دیکھا کہ سی پیک اتھارٹی نے ایک پچ بک تیار کی ، فروری میں جب عمران خان صاحب چین میں گئے تو وہاں پر انہوں نے ملاقاتیں بھی کیں چینی کمپنیوں کے ساتھ، آج بھی شہباز شریف صاحب نے ایسی ملاقاتیں کی ہیں تو اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گی یا نہیں کریں گی؟
اس کا دارومدار میرے خیال میں چین کی حکومت پر کم اور پاکستانی سائیڈ پر زیادہ ہے۔ کیا ہم ان کو وہ سہولیات میسر کر سکتے ہیں، کیا ورک فورس مہیا کر سکتے ہیں یا ہم ان لوگوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کچھ مراعات دے سکتے ہیں، جیسے ٹیکس ریلیف دے سکتے ہیں، سڑکیں بہتر کرستے ہیں، سستی بجلی دے سکتے ہیں، کیا ایسی چیزیں ہیں جو پاکستان ان کو مہیا کرسکتا ہے جس کے بعد وہ وہاں آئیں دبئی، کمبوڈیا یا بنگلا دیش جانے کے بجائے پاکستان میں سرمایہ کریں ۔</p>
<p>تو میرے خیال میں اس دورے میں ہمیں اس حوالے سے کوئی خاص ڈیولپمنٹ نظر نہیں آئے گی۔ یہ ایک لانگ ٹرم چیز ہے جس کیلئے ہمیں انتظار کرنا ہوگا غالباً اگلی حکومت کیلئے۔</p>
<p>اگر پاکستان اور چین کے تعلقات کو اور سی پیک کو ایک بڑے تناظر میں دیکھیں تو مجھے دو تین بڑے بڑے چینجز نظر آتے ہیں، سب سے پہلا چیلنج یہ ہے کہ کیا پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں میں بھی ہمیں کچھ ٹینشن نظر آرہی ہے اور موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھی بے انتہا کشیدگی نظر آرہی ہے اور کچھ عدم استحکام بھی نظر آرہا ہے الیکشن کے حوالے سے کہ آیا الیکشن ٹائم پر ہوں گے جلدی ہوں گے کیسے ہوگا۔ اس موقع پر کیا چینی حکام کوئی بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا میرے خیال میں صوت حال ایسی ہی چلتی رہے گی۔ لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ کیا ایسا ہوگا یا نہیں۔</p>
<p>دوسری بات یہ کہ پاکستان کیلئے جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ یہ کہ سی پیک کے فیز ٹو کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہماری حکومت ایسے اقدامات کر سکتی ہے، کیا اصلاحات کر سکتی ہے، ون ونڈو آپریشن وغیرہ کا نظام کر سکتی ہے، ایسی ورک فورس دے سکتی ہے، ہماری ڈالر کی قیمت میں استحکام پیدا کر سکتی ہے، سیکیورٹی کی صورتحال بہتر کرسکتی ہے، کیا ایسے اقدامات پاکستانی حکومت کرسکتی ہے کہ چین کی طرف سے فیز ٹو میں زیادہ سے زیادہ تیزی آئے۔ میرے خیال میں یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ہماری سائیڈ سے کس قسم کے اقدامات لئے جاتے ہیں اور پھر چین اس پر کیسے رسپانڈ کرتا ہے۔</p>
<p>جیسے آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں شرح سود کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے اور آج سے پانچ سے دس سال پہلے کے مقابلے میں آج کوئی بھی قرضہ لینا پاکستان جیسے ملک کیلئے کہیں زیادہ مہنگا ہے اس شرح سود سے جو ہمیں آج سے پانچ سات سال پہلے ملا کرتی تھی۔ اور اس کا اثر آپ ابھی سے دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں جہاں چینی سرمایہ کاروں نے اور باقی سرمایہ کاروں نے پیسہ لگایا ہے وہاں پر چونکہ ہمارے روپے کی قدر بہت گرگئی ہے ، ہم بجلی کے بل روپوں میں وصول کرتے ہیں اور بجلی کی رسد کا نظام بھی اتنا اچھا نہیں ہے تو حکومت کے پاس اب ڈالروں میں سرمایہ کاروں کو ریٹرن دینا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔ تو پاکستان کو بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں مہنگے قرضے لینے پر بہت دھیان کرنا ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ جہاں بھی مہنگا قرضہ لیا جائے اس کو چکانے  کرنے کا جو فارمولہ اور تیاری ہے وہ بہت اچھا ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30304581</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Nov 2022 17:27:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمار ملک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/11/041247366c30acb.jpg?r=172751" type="image/jpeg" medium="image" height="1113" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/11/041247366c30acb.jpg?r=172751"/>
        <media:title>وزاعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی تعمیری قرار دیا۔ فوٹو ٹوئیٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاست کے “بدلتے بیانیے”</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30295009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتدار کے ایوانوں میں تبدیلی ’‘بیانیوں’’میں بھی تبدیلی لے آتی ہے۔ 2017ء میں جب نوازشریف کو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے اتارا گیا تو انہوں نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ شروع کردیا۔ پھر ن لیگ اور پی ڈی ایم کے رہنما جلسوں اورریلیو ں میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گرجتے برستے رہے اور یہی بیانیہ عوام میں بے پناہ مقبول ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی دورِ حکومت میں ہونے والے 12 ضمنی انتخابات میں سے11 نشستیں اپوزیشن کی جھولی میں آگرنا اسی بات کی دلیل تھی کہ اس کا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ن لیگ نے ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا،جہاں اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید نہ بنایا ہو۔ کچھ عرصے قبل نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے قوم پر عمران خان کو مسلط کیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ گوجرانوالہ جلسے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حاضر سروس آرمی چیف اورحاضر سروس ایجنسی سربراہ کا نام بھی لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح راتوں رات صورتحال بدلنے سے وہ عمران خان، جوایک لمبے عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کے قصیدے پڑھتے اور ان کے فیصلوں کی بھرپورتائید و حمایت کرتے تھے آج انہی پرتنقید شروع کردی اور نوازشریف کا مزاحمتی بیانیہ عمران خان نے اپنالیا۔ نوازشریف نے ‘‘خلائی مخلوق’’ کا نام دیا تھا، عمران خان نے بطورِطنز ان کے لیے ‘‘نیوٹرل’’ لفظ متعارف کرادیا۔ جلد ہی محسوس ہوا کہ مصلحت اورمفاد پرستی کی سیاست سیاسی جماعتوں کے اصول اورنظریات پر حاوی ہو جاتی ہے اور دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوستی کی صف میں آتے وقت نہیں لگتا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی سیاست میں کسی کی ‘‘کرسی’’ خطرے میں آتی ہے تو وہ ‘‘سیاست نہیں ریاست بچائیے’’ کا راگ الاپنے لگ جاتا ہے۔ اور جیسے ہی معاملات ٹھیک ہوتے ہیں تو اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہوجاتے ہیں ۔ یعنی ‘‘وصولی’’ کے بعد اصول غائب ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل سابق وزیراعظم عمران خان اصول پسند سیاست بنے ہوئے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے چند ماہ پہلے نوازشریف تھے۔ ایک طرف عمران خان کے بدلتے بیانیے، قول و فعل کے تضاد اوردہرے سیاسی معیارات ہیں۔ جن بنیادوں پر عمران خان اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہیں خود اپنے لیے انہی کاموں کو درست سمجھتے ہیں۔ جیسے سیاسی جوڑ توڑ،موروثی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کی سپورٹ کی وجہ سے چار سال فوج کو دیگر جماعتوں کی مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اب ایک تاثریہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف سے ناراض ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی ان پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب اتحادی حکومت نے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے میدان سے باہر نکالا اور حالات قابو سے باہر ہوئے تو کہا جا رہا تھا کہ اتحادی ‘‘ٹریپ’’ ہوگئے ہیں۔ ایک دلیلیہ بھی دی جاتی ہے کہ ٹریپ اتحادی جماعتیں نہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے ہوئی ہے۔ لیکن اب بظاہرلگتا ہے کہ اتحادی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ مل رہی ہے۔ دیکھنایہ ہے کہ یہ سپورٹ حکومت کو کب تک اور کتنا فائدہ دے گی؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس طرح کسی کی خواہش پرنواز شریف کو نا اہل کرایا گیا، اسی طرح اب عمران خان پر بھی نا اہلی کی تلوارلٹک رہی ہے اورکہا جا رہا ہے کل تک جو این آر او لینے کا الزام لگاتے تھے آج وہ این آر او کے لیے ‘‘کسی کے در’’ کے چکر لگا رہے ہیں۔ بلاک نمبرز شاید اسی وجہ سے ‘‘ان بلاک’’ ہوگئے ہیں۔
عمران خان کے دورِ اقتدارمیں پی ڈی ایم ’’سلیکٹڈ ’بیانیے کا سہارا لے کر سڑکوں پر تھی اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرتی تھی لیکن ان کا یہ مطالبہ نہیں مانا گیا جس کے بعد مخصوص منصوبہ بندی کے تحت عمران خان کو اقتدار کے ایوان سے باہر کیا گیا۔ وزیراعظم کی کرسی سے اترتے ہی عمران خان ’‘امپورٹڈ حکومت’’کے بیانیے کے ساتھ عوام میں آئے اورنئے انتخابات کا مطالبہ کرنے لگے ، جس کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد وہ دستبردار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ اتحادی حکومت کواب بظاہر ایک ‘‘سہارا’’ ملتا نظر آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بعید نہیں خان صاحب کسی بھی وقت ایک ’‘نیا بیانیہ’’سامنے لے آئیں کیونکہ انہوں نے14اگست کو ایک جلسے کی کال دی ہے۔ دیکھنا ہے کہ وہ اب کس بیانیے کا سہارا لیں گے۔ یاکیا وہ حکومت کو ‘‘نیا الٹی میٹم’’ دینے آرہے ہیں؟ کیونکہ بہر حال وہ ایک مقبول عوامی لیڈر ہیں اور ان کے سیاسی پیروکاران کی ہر بات پر یقین رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتدار کے ایوانوں میں تبدیلی ’‘بیانیوں’’میں بھی تبدیلی لے آتی ہے۔ 2017ء میں جب نوازشریف کو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے اتارا گیا تو انہوں نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ شروع کردیا۔ پھر ن لیگ اور پی ڈی ایم کے رہنما جلسوں اورریلیو ں میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گرجتے برستے رہے اور یہی بیانیہ عوام میں بے پناہ مقبول ہوا۔</strong></p>
<p>پی ٹی آئی دورِ حکومت میں ہونے والے 12 ضمنی انتخابات میں سے11 نشستیں اپوزیشن کی جھولی میں آگرنا اسی بات کی دلیل تھی کہ اس کا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ن لیگ نے ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا،جہاں اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید نہ بنایا ہو۔ کچھ عرصے قبل نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے قوم پر عمران خان کو مسلط کیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ گوجرانوالہ جلسے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حاضر سروس آرمی چیف اورحاضر سروس ایجنسی سربراہ کا نام بھی لے لیا۔</p>
<p>اسی طرح راتوں رات صورتحال بدلنے سے وہ عمران خان، جوایک لمبے عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کے قصیدے پڑھتے اور ان کے فیصلوں کی بھرپورتائید و حمایت کرتے تھے آج انہی پرتنقید شروع کردی اور نوازشریف کا مزاحمتی بیانیہ عمران خان نے اپنالیا۔ نوازشریف نے ‘‘خلائی مخلوق’’ کا نام دیا تھا، عمران خان نے بطورِطنز ان کے لیے ‘‘نیوٹرل’’ لفظ متعارف کرادیا۔ جلد ہی محسوس ہوا کہ مصلحت اورمفاد پرستی کی سیاست سیاسی جماعتوں کے اصول اورنظریات پر حاوی ہو جاتی ہے اور دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو دوستی کی صف میں آتے وقت نہیں لگتا ۔</p>
<p>جب بھی سیاست میں کسی کی ‘‘کرسی’’ خطرے میں آتی ہے تو وہ ‘‘سیاست نہیں ریاست بچائیے’’ کا راگ الاپنے لگ جاتا ہے۔ اور جیسے ہی معاملات ٹھیک ہوتے ہیں تو اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم ہوجاتے ہیں ۔ یعنی ‘‘وصولی’’ کے بعد اصول غائب ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>آج کل سابق وزیراعظم عمران خان اصول پسند سیاست بنے ہوئے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے چند ماہ پہلے نوازشریف تھے۔ ایک طرف عمران خان کے بدلتے بیانیے، قول و فعل کے تضاد اوردہرے سیاسی معیارات ہیں۔ جن بنیادوں پر عمران خان اپنے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہیں خود اپنے لیے انہی کاموں کو درست سمجھتے ہیں۔ جیسے سیاسی جوڑ توڑ،موروثی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت وغیرہ۔</p>
<p>عمران خان کی سپورٹ کی وجہ سے چار سال فوج کو دیگر جماعتوں کی مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اب ایک تاثریہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف سے ناراض ہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی ان پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب اتحادی حکومت نے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے میدان سے باہر نکالا اور حالات قابو سے باہر ہوئے تو کہا جا رہا تھا کہ اتحادی ‘‘ٹریپ’’ ہوگئے ہیں۔ ایک دلیلیہ بھی دی جاتی ہے کہ ٹریپ اتحادی جماعتیں نہیں، بلکہ اسٹیبلشمنٹ اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے ہوئی ہے۔ لیکن اب بظاہرلگتا ہے کہ اتحادی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ مل رہی ہے۔ دیکھنایہ ہے کہ یہ سپورٹ حکومت کو کب تک اور کتنا فائدہ دے گی؟۔</p>
<p>جس طرح کسی کی خواہش پرنواز شریف کو نا اہل کرایا گیا، اسی طرح اب عمران خان پر بھی نا اہلی کی تلوارلٹک رہی ہے اورکہا جا رہا ہے کل تک جو این آر او لینے کا الزام لگاتے تھے آج وہ این آر او کے لیے ‘‘کسی کے در’’ کے چکر لگا رہے ہیں۔ بلاک نمبرز شاید اسی وجہ سے ‘‘ان بلاک’’ ہوگئے ہیں۔
عمران خان کے دورِ اقتدارمیں پی ڈی ایم ’’سلیکٹڈ ’بیانیے کا سہارا لے کر سڑکوں پر تھی اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرتی تھی لیکن ان کا یہ مطالبہ نہیں مانا گیا جس کے بعد مخصوص منصوبہ بندی کے تحت عمران خان کو اقتدار کے ایوان سے باہر کیا گیا۔ وزیراعظم کی کرسی سے اترتے ہی عمران خان ’‘امپورٹڈ حکومت’’کے بیانیے کے ساتھ عوام میں آئے اورنئے انتخابات کا مطالبہ کرنے لگے ، جس کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت ہاتھ میں آنے کے بعد وہ دستبردار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ کیونکہ اتحادی حکومت کواب بظاہر ایک ‘‘سہارا’’ ملتا نظر آرہا ہے۔</p>
<p>کوئی بعید نہیں خان صاحب کسی بھی وقت ایک ’‘نیا بیانیہ’’سامنے لے آئیں کیونکہ انہوں نے14اگست کو ایک جلسے کی کال دی ہے۔ دیکھنا ہے کہ وہ اب کس بیانیے کا سہارا لیں گے۔ یاکیا وہ حکومت کو ‘‘نیا الٹی میٹم’’ دینے آرہے ہیں؟ کیونکہ بہر حال وہ ایک مقبول عوامی لیڈر ہیں اور ان کے سیاسی پیروکاران کی ہر بات پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30295009</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Aug 2022 14:49:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ثنا ارشد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2022/08/111447241cc2d42.jpg?r=144901" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2022/08/111447241cc2d42.jpg?r=144901"/>
        <media:title>تصویر/فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آغا سراج درانی نے نیب کو ناکوں چنے چبوا دیئے
</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30270594/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) سندھ اسمبلی کے مفرور اسپیکر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کے 21 روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں لگا سکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ 13 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے 1.6 ارب روپے کرپشن کیس میں آغا سراج درانی اور 10 دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد نیب کی ٹیم نے فوراً آغا سراج درانی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں پیپلز پارٹی کے کارکنان اور اسپیکر سندھ اسمبلی کے ملازمین نے مزاحمت کی اور انہیں گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چھاپہ مار ٹیم اگلی صبح اسپیکر کے گھر سے انہیں گرفتار کیے بغیر واپس لوٹ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج بروز جمعرات بتاریخ 4 نومبر اکیس روز گزرنے کے باوجود نیب کی ٹیم اور سندھ پولیس آغا سراج درانی کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جبکہ آغا سراج گرفتاری سے بچ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظام انصاف کا مذاق اڑا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر منتخب قانون ساز ملک کے قانون پر عمل نہیں کریں گے تو پھر عام آدمی سے ہمیں کیا امید رکھنی چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسپیکر سندھ اسمبلی کو نیب کے سامنے پیش ہو کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہئیے اور اور ٹرائل کا سامنا کرنا چاہئیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طرح سے آغا سراج درانی کا فرار ہونا نیب اور پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے جو 21 دن گزر جانے کے باوجود ان کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ رہنما پیپلز پارٹی آغا سراج درانی کو مبینہ طور پر بدعنوانی کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی احتساب بیورو (نیب) نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی 1985 سے 2018 تک اپنی ظاہر کردہ کل آمدن اور اثاثوں کے درمیان 1.6 ارب روپے سے زیادہ کے فرق کا حساب نہیں دے سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی اہلیہ ناہید سراج درانی اور تین بیٹیوں سونیا، سارہ اور شاہانہ کو عدالت پہلے ہی ذاتی حاضری سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا تحریر کے متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی احتساب بیورو (نیب) سندھ اسمبلی کے مفرور اسپیکر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کے 21 روز گزرنے کے باوجود تاحال کوئی سراغ نہیں لگا سکا ہے۔</strong></p>

<p>گزشتہ ماہ 13 اکتوبر کو سندھ ہائی کورٹ نے 1.6 ارب روپے کرپشن کیس میں آغا سراج درانی اور 10 دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی۔ جس کے بعد نیب کی ٹیم نے فوراً آغا سراج درانی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں پیپلز پارٹی کے کارکنان اور اسپیکر سندھ اسمبلی کے ملازمین نے مزاحمت کی اور انہیں گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔</p>

<p>چھاپہ مار ٹیم اگلی صبح اسپیکر کے گھر سے انہیں گرفتار کیے بغیر واپس لوٹ گئی۔</p>

<p>آج بروز جمعرات بتاریخ 4 نومبر اکیس روز گزرنے کے باوجود نیب کی ٹیم اور سندھ پولیس آغا سراج درانی کا سراغ لگانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔</p>

<p>جبکہ آغا سراج گرفتاری سے بچ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نظام انصاف کا مذاق اڑا رہے ہیں۔</p>

<p>سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر منتخب قانون ساز ملک کے قانون پر عمل نہیں کریں گے تو پھر عام آدمی سے ہمیں کیا امید رکھنی چاہیے۔ </p>

<p>اسپیکر سندھ اسمبلی کو نیب کے سامنے پیش ہو کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہئیے اور اور ٹرائل کا سامنا کرنا چاہئیے۔ </p>

<p>اس طرح سے آغا سراج درانی کا فرار ہونا نیب اور پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے جو 21 دن گزر جانے کے باوجود ان کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ رہنما پیپلز پارٹی آغا سراج درانی کو مبینہ طور پر بدعنوانی کے ذریعے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کا سامنا ہے۔</p>

<p>قومی احتساب بیورو (نیب) نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی 1985 سے 2018 تک اپنی ظاہر کردہ کل آمدن اور اثاثوں کے درمیان 1.6 ارب روپے سے زیادہ کے فرق کا حساب نہیں دے سکے۔</p>

<p>ان کی اہلیہ ناہید سراج درانی اور تین بیٹیوں سونیا، سارہ اور شاہانہ کو عدالت پہلے ہی ذاتی حاضری سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے۔</p>

<p><strong><em>درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا تحریر کے متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</em></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30270594</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Nov 2021 11:45:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سفیر الہٰی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2021/11/618380f090dac.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2021/11/618380f090dac.png"/>
        <media:title>-فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
