<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Opinion</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 08:38:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 08:38:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ 2026-27 کی خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506722/fbr-psdp-taxes-bisp-super-tax-budget-2026-27-federal-budget-2026-2027</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پچھلے ہفتے 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی خصوصیات پر پہلا مضمون شائع ہوا تھا، جس میں مجموعی رجحانات اور تخمینوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ مضمون وفاقی بجٹ کا زیادہ تفصیلی انداز میں جائزہ لیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے ہم مختلف ذرائع آمدن میں رجحانات اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی آمدن میں اضافہ 2025-26 کے 9.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب ذاتی انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس بہتری کی توقع آڈٹ کے عمل میں بہتری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم، آڈٹ کے بعد ڈیمانڈ کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اب تک انکم ٹیکس کی مجموعی آمدن کے 5 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا پرامید تخمینہ کسٹمز ڈیوٹی کی آمدن سے متعلق ہے۔ یہ 2025-26 میں صرف 6.4 فیصد بڑھی تھی، لیکن 2026-27 میں اس کے 20.9 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران شرح مبادلہ میں 4.3 فیصد کمی (ڈیپریسی ایشن) متوقع ہے۔ اس طرح درآمدی اشیا کی ڈالر مالیت میں 16.3 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرکاری طور پر 2026-27 کی درآمدات کے تخمینے سے بھی کافی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا زیادہ پرجوش تخمینہ ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ہے، جس میں مختلف ٹیکسوں میں سب سے زیادہ یعنی 26 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ یہاں ٹیکس کی شرحوں میں کوئی واضح اضافہ نظر نہیں آتا۔ اس جگہ توقع یہ ہے کہ سگریٹ کی تیاری میں ٹیکس چوری میں بڑی کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ایف بی آر کی آمدنی کے تخمینے واضح طور پر پرامید ہیں اور ایک بار پھر تقریباً 1,000 ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے، جیسا کہ 2025-26 میں بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اپنی نان ٹیکس آمدن میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 2025-26 کے دوران 7.3 فیصد کمی ہے۔ اب توقع ہے کہ یہ 2026-27 میں مزید 41 فیصد تک گر جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022-23 کی بلند ترین سطح سے شرح سود میں نمایاں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر وفاقی حکومت کی اپنی نان ٹیکس آمدن 2026-27 میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو پہلی بار وفاقی حکومت کے لیے مجموعی طور پر 1,035 ارب روپے کی بڑی گرانٹ دینا پڑی ہے۔ اگر یہ گرانٹس 2026-27 میں اسلام آباد کو موصول ہو جاتی ہیں تو مجموعی نان ٹیکس آمدن، ان گرانٹس سمیت، صرف 4.8 فیصد کی مثبت شرح نمو دکھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم لیوی نے 2025-26 میں بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود 22.7 فیصد اضافی آمدن دی۔ 2026-27 میں اس سے مزید 11.9 فیصد آمدن کی توقع ہے۔ عالمی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اس لیوی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ 2026-27 میں ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ حال ہی میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بڑی کمی عوام کے لیے نمایاں ریلیف کا باعث بنی ہے اور اسے سراہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم وفاقی اخراجات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2026-27 میں مجموعی اخراجات (جاری + ترقیاتی) میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیوں ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری اخراجات کے بجٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2026-27 میں 16.1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ یہ اگلے سال شرح سود میں اضافے کے تخمینے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے شرح سود میں استحکام، اگر کمی نہیں بھی تو ضرور ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی اخراجات کی مختص رقم تقریباً 16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ غالباً ضروری ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدہ صورتحال اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبسڈیز میں 2026-27 کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس میں پاور ڈیفرینشل سبسڈی میں کچھ کمی بھی شامل ہے۔ غالب امکان ہے کہ چھوٹے صارفین کے لیے کم ٹیرف کی یکساں پالیسی نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے اہلیت کا تعین ایک سروے کے ذریعے کیا جائے گا، جو پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں غیر معمولی طور پر 36 فیصد اضافے کے ساتھ گرانٹس میں بڑا اضافہ شامل کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 2025-26 میں پہلے ہی نسبتاً بڑے 20.8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان گرانٹس میں سے ایک بڑا حصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص ہے۔ اس پروگرام کو ایک مؤثر اسکیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام نے بھی اس کی مالیاتی تخمینوں میں اضافے کی اجازت دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی آئی ایس پی کے لیے گرانٹ 2025-26 کے 729 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 857 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 17.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف پروگرام کی کوریج میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ فی خاندان نقد امداد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی رجحانات کے مطابق مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث غربت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک بہت غیر معمولی آئٹم ہے جسے بڑی گرانٹس لینے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز کے نام پر 2026-27 کے بجٹ میں 365 ارب روپے کی یکمشت گرانٹ ہے۔ وزیر خزانہ کو چاہیے تھا کہ وہ 2026-27 کے لیے منتخب کردہ مخصوص اقدامات اور ان کی وجوہات واضح طور پر بیان کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات کی سطح میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ 2025-26 میں اسے تقریباً 54.5 فیصد تک کم کیا گیا تھا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سال کے بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑے پیمانے پر بڑھا کر 1275 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 275 ارب روپے کی قرضہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی اخراجات میں آبی وسائل کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر بھارت کے پاکستان کے پانی تک رسائی کم کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر۔ بدقسمتی سے یہ بات شعبہ وار ترقیاتی مختص رقوم میں نظر نہیں آتی، اور اس شعبے کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو ترقیاتی اخراجات میں بدستور سب سے بڑا حصہ یعنی 25 فیصد مل رہا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم بھی کم ہے، جو صرف 105 ارب روپے ہے، حالانکہ اس شعبے میں نقصانات کی شرح بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں ہم متوقع بجٹ خسارے کی مالی معاونت کا جائزہ لیتے ہیں جو 2026-27 میں 5,226 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ 2.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر بنیادی سرپلس بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ذرائع میں سب سے اہم بیرونی مالی معاونت ہے۔ یہاں بھی 2026-27 کے لیے بیرونی مالیاتی آمد میں بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی مجموعی آمدن 29 فیصد سے زائد بڑھ کر 18.1 ارب ڈالر سے 23.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل تشویشناک بات بیرونی قرضوں کی واپسی میں 59.5 فیصد کا بڑا اضافہ ہے، جو 12.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں خالص آمدن صرف 3.3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ 5.5 ارب ڈالر تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 2026-27 کا بجٹ ایک زیادہ رسک والا بجٹ ہے، جس میں ایف بی آر کی آمدن میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، پہلی بار صوبائی گرانٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور ان گرانٹس کے باوجود صوبائی حکومتوں سے بڑے نقد سرپلسز کی توقع برقرار ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شعبہ جاتی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے وسائل کے جاری منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شفاف اخراجات جیسے نامعلوم نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز سے بچنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ ہفتے کے مضمون میں حال ہی میں اعلان کردہ 2026-27 کے صوبائی بجٹوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان بجٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو دی جانے والی بڑی گرانٹس کے باعث صوبائی نقد سرپلس کے ہدف میں تقریباً 1,000 ارب روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ نتیجتاً مجموعی بجٹ خسارہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح کے مقابلے میں 2026-27 میں تقریباً 1,000 ارب روپے زیادہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 23 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پچھلے ہفتے 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی خصوصیات پر پہلا مضمون شائع ہوا تھا، جس میں مجموعی رجحانات اور تخمینوں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ مضمون وفاقی بجٹ کا زیادہ تفصیلی انداز میں جائزہ لیتا ہے۔</strong></p>
<p>سب سے پہلے ہم مختلف ذرائع آمدن میں رجحانات اور تخمینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ 2026-27 میں انکم ٹیکس کی آمدن میں اضافہ 2025-26 کے 9.3 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18.1 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب ذاتی انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اس بہتری کی توقع آڈٹ کے عمل میں بہتری کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ تاہم، آڈٹ کے بعد ڈیمانڈ کی صورت میں حاصل ہونے والی رقم اب تک انکم ٹیکس کی مجموعی آمدن کے 5 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔</p>
<p>دوسرا پرامید تخمینہ کسٹمز ڈیوٹی کی آمدن سے متعلق ہے۔ یہ 2025-26 میں صرف 6.4 فیصد بڑھی تھی، لیکن 2026-27 میں اس کے 20.9 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران شرح مبادلہ میں 4.3 فیصد کمی (ڈیپریسی ایشن) متوقع ہے۔ اس طرح درآمدی اشیا کی ڈالر مالیت میں 16.3 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ یہ سرکاری طور پر 2026-27 کی درآمدات کے تخمینے سے بھی کافی زیادہ ہے۔</p>
<p>تیسرا زیادہ پرجوش تخمینہ ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق ہے، جس میں مختلف ٹیکسوں میں سب سے زیادہ یعنی 26 فیصد شرح نمو متوقع ہے۔ یہاں ٹیکس کی شرحوں میں کوئی واضح اضافہ نظر نہیں آتا۔ اس جگہ توقع یہ ہے کہ سگریٹ کی تیاری میں ٹیکس چوری میں بڑی کمی آئے گی۔</p>
<p>مجموعی طور پر ایف بی آر کی آمدنی کے تخمینے واضح طور پر پرامید ہیں اور ایک بار پھر تقریباً 1,000 ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے، جیسا کہ 2025-26 میں بھی ہوگا۔</p>
<p>تاہم، اپنی نان ٹیکس آمدن میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں 2025-26 کے دوران 7.3 فیصد کمی ہے۔ اب توقع ہے کہ یہ 2026-27 میں مزید 41 فیصد تک گر جائے گا۔ اس کی بنیادی وجہ 2022-23 کی بلند ترین سطح سے شرح سود میں نمایاں کمی ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر وفاقی حکومت کی اپنی نان ٹیکس آمدن 2026-27 میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتوں کو پہلی بار وفاقی حکومت کے لیے مجموعی طور پر 1,035 ارب روپے کی بڑی گرانٹ دینا پڑی ہے۔ اگر یہ گرانٹس 2026-27 میں اسلام آباد کو موصول ہو جاتی ہیں تو مجموعی نان ٹیکس آمدن، ان گرانٹس سمیت، صرف 4.8 فیصد کی مثبت شرح نمو دکھائے گی۔</p>
<p>پیٹرولیم لیوی نے 2025-26 میں بین الاقوامی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود 22.7 فیصد اضافی آمدن دی۔ 2026-27 میں اس سے مزید 11.9 فیصد آمدن کی توقع ہے۔ عالمی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اس لیوی میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا فائدہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کیا جانا چاہیے۔ یہ 2026-27 میں ریلیف کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ حال ہی میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بڑی کمی عوام کے لیے نمایاں ریلیف کا باعث بنی ہے اور اسے سراہا گیا ہے۔</p>
<p>اب ہم وفاقی اخراجات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ 2026-27 میں مجموعی اخراجات (جاری + ترقیاتی) میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیوں ہوگا؟</p>
<p>جاری اخراجات کے بجٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 2026-27 میں 16.1 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ یہ اگلے سال شرح سود میں اضافے کے تخمینے کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے شرح سود میں استحکام، اگر کمی نہیں بھی تو ضرور ممکن ہوگا۔</p>
<p>دفاعی اخراجات کی مختص رقم تقریباً 16 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ غالباً ضروری ہے، کیونکہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدہ صورتحال اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>سبسڈیز میں 2026-27 کے دوران تقریباً 6 فیصد کمی متوقع ہے۔ اس میں پاور ڈیفرینشل سبسڈی میں کچھ کمی بھی شامل ہے۔ غالب امکان ہے کہ چھوٹے صارفین کے لیے کم ٹیرف کی یکساں پالیسی نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے اہلیت کا تعین ایک سروے کے ذریعے کیا جائے گا، جو پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت کیا گیا تھا۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں غیر معمولی طور پر 36 فیصد اضافے کے ساتھ گرانٹس میں بڑا اضافہ شامل کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ 2025-26 میں پہلے ہی نسبتاً بڑے 20.8 فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان گرانٹس میں سے ایک بڑا حصہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے مختص ہے۔ اس پروگرام کو ایک مؤثر اسکیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام نے بھی اس کی مالیاتی تخمینوں میں اضافے کی اجازت دی ہے۔</p>
<p>بی آئی ایس پی کے لیے گرانٹ 2025-26 کے 729 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 857 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جو 17.5 فیصد اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف پروگرام کی کوریج میں اضافہ ممکن ہوگا بلکہ فی خاندان نقد امداد کی مقدار میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ بنیادی رجحانات کے مطابق مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث غربت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>تاہم ایک بہت غیر معمولی آئٹم ہے جسے بڑی گرانٹس لینے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز کے نام پر 2026-27 کے بجٹ میں 365 ارب روپے کی یکمشت گرانٹ ہے۔ وزیر خزانہ کو چاہیے تھا کہ وہ 2026-27 کے لیے منتخب کردہ مخصوص اقدامات اور ان کی وجوہات واضح طور پر بیان کرتے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات کی سطح میں بڑا اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ 2025-26 میں اسے تقریباً 54.5 فیصد تک کم کیا گیا تھا تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سال کے بجٹ خسارے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑے پیمانے پر بڑھا کر 1275 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کو 275 ارب روپے کی قرضہ جاتی معاونت بھی شامل ہے۔</p>
<p>ترقیاتی اخراجات میں آبی وسائل کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی، خاص طور پر بھارت کے پاکستان کے پانی تک رسائی کم کرنے کے منصوبوں کے پیش نظر۔ بدقسمتی سے یہ بات شعبہ وار ترقیاتی مختص رقوم میں نظر نہیں آتی، اور اس شعبے کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو ترقیاتی اخراجات میں بدستور سب سے بڑا حصہ یعنی 25 فیصد مل رہا ہے۔ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے لیے مختص رقم بھی کم ہے، جو صرف 105 ارب روپے ہے، حالانکہ اس شعبے میں نقصانات کی شرح بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>آخر میں ہم متوقع بجٹ خسارے کی مالی معاونت کا جائزہ لیتے ہیں جو 2026-27 میں 5,226 ارب روپے ہے، جو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے ساتھ 2.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر بنیادی سرپلس بھی متوقع ہے۔</p>
<p>مالیاتی ذرائع میں سب سے اہم بیرونی مالی معاونت ہے۔ یہاں بھی 2026-27 کے لیے بیرونی مالیاتی آمد میں بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی مجموعی آمدن 29 فیصد سے زائد بڑھ کر 18.1 ارب ڈالر سے 23.4 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>تاہم اصل تشویشناک بات بیرونی قرضوں کی واپسی میں 59.5 فیصد کا بڑا اضافہ ہے، جو 12.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.1 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس کے نتیجے میں خالص آمدن صرف 3.3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ 5.5 ارب ڈالر تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026-27 میں زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا۔</p>
<p>مجموعی طور پر 2026-27 کا بجٹ ایک زیادہ رسک والا بجٹ ہے، جس میں ایف بی آر کی آمدن میں زیادہ اضافہ متوقع ہے، پہلی بار صوبائی گرانٹس پر انحصار کیا جا رہا ہے، اور ان گرانٹس کے باوجود صوبائی حکومتوں سے بڑے نقد سرپلسز کی توقع برقرار ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں شعبہ جاتی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کے وسائل کے جاری منصوبوں پر زیادہ خرچ کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ غیر شفاف اخراجات جیسے نامعلوم نیشنل اکنامک انیشی ایٹوز سے بچنا ضروری ہے۔</p>
<p>آئندہ ہفتے کے مضمون میں حال ہی میں اعلان کردہ 2026-27 کے صوبائی بجٹوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان بجٹوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو دی جانے والی بڑی گرانٹس کے باعث صوبائی نقد سرپلس کے ہدف میں تقریباً 1,000 ارب روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے، حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ نتیجتاً مجموعی بجٹ خسارہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ سطح کے مقابلے میں 2026-27 میں تقریباً 1,000 ارب روپے زیادہ ہو سکتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 23 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506722</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:26:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/231323014b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/231323014b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چارٹر آف اکانومی: ایک غیر ضروری تصور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506720/nawaz-sharif-ishaq-dar-benazir-bhutto-political-parties-federal-board-of-revenue-ataullah-tarar-budget-2026-27-current-expenditure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ”دانش مندانہ“ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کو چارٹر آف اکانومی پر دستخط کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ تجویز سب سے پہلے سابق وزیرِ خزانہ اور موجودہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پیش کی تھی، جنہوں نے اس عنوان کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی سے تحریک حاصل کی تھی۔ چارٹر آف ڈیموکریسی 14 مئی 2006 کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔</strong></p>
<p>ملک کے مجموعی بجٹ کا تقریباً 93 فیصد حصہ جاری اخراجات پر مشتمل ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ 83 کھرب 28 ارب 50 کروڑ روپے (298 ارب ڈالر) کے داخلی قرضے اور مزید 137.5 ارب ڈالر کے بیرونی واجبات پر بڑھتے ہوئے سودی بوجھ کی ادائیگی کا ہے۔ اس کے بعد بااثر شعبوں کے لیے مختص رقوم آتی ہیں، جن میں ٹیکس دہندگان کے خرچ پر سول اور دفاعی ملازمین کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اسی طرح، ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں بعض ایسے اخراجات بھی برقرار ہیں جن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً آئندہ مالی سال کے لیے پنشن کی مد میں ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، حالانکہ 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے پنشن فنڈ میں شراکت کو لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم، اس مد میں جمع ہونے والی رقم کی تفصیلات معلوم نہیں اور اس نظام کے ثمرات سامنے آنے میں ابھی کئی دہائیاں لگیں گی۔</p>
<p>مزید برآں، نافذ العمل قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے وصول کیے جانے والے مجموعی ٹیکسوں کا صرف 42.5 فیصد حصہ وفاق کے استعمال کے لیے دستیاب رہ جاتا ہے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے جاری اخراجات کے مجموعی حجم کے پانچ فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات وہ شعبہ ہیں جہاں سنگین اختلافات جنم لیتے ہیں۔ اگر وفاقی حکومت سیاسی طور پر کمزور ہو تو ان اخراجات میں مسلسل ردوبدل کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر حکومت مضبوط ہو تو ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہی اصول اس معاشی طور پر تباہ کن پالیسی پر بھی صادق آتا ہے جس کے تحت ارکانِ پارلیمان کو اپنے اپنے حلقوں سے متعلق منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم، غالب امکان یہی ہے کہ آمدنی کے ذرائع وہ شعبہ ہیں جہاں چارٹر آف اکانومی کا اطلاق سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر حکومت کے اپنے ’’من پسند حلقے‘‘ ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مخصوص شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مسلم لیگ (ن) عموماً اپنے حمایتی طبقے، یعنی تاجروں، کو ترجیح دیتی رہی ہے؛ عمران خان کی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی سرپرستی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی روایتی طور پر اپنے نچلی سطح کے کارکنوں کو فوقیت دیتی رہی ہے اور سرکاری اداروں کو بھرتیوں کے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ اگرچہ جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ان تمام پالیسیوں کو بتدریج ختم کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کی رفتار اب بھی خاصی سست ہے۔</p>
<p>لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جاننے کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی مطالعات کیے جائیں کہ آیا وہ پالیسی عوامل، جنہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت کو جنم دیا تھا، آج بھی اسی طرح قابلِ اطلاق ہیں یا نہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان پر کبھی عمل درآمد بھی ہوا تھا۔ اس آخری سوال کا جواب غالباً ایک دوٹوک ’’نہیں‘‘ میں دیا جا سکتا ہے، حالانکہ بعد ازاں یہ دونوں جماعتیں وفاق میں شراکت دار بھی رہ چکی ہیں۔</p>
<p>آج تمام قومی جماعتوں، بشمول موجودہ فیصلہ سازوں، کا مشترکہ ہدف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا ہے، جو تاحال مطلوبہ سطح پر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب ضرورت اس بات کی نہیں رہی کہ بیس برس پرانے چارٹر آف اکانومی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی جائے، بلکہ تقاضا یہ ہے کہ اس عرصے میں عالمی نظام میں رونما ہونے والی گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کو سمجھا جائے اور قومی معاشی حکمتِ عملی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے۔</p>
<p>بین الاقوامی نظام میں رونما ہونے والی تین بیرونی نوعیت کی تبدیلیاں پاکستان سمیت پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کر رہی ہیں۔</p>
<p>پہلی تبدیلی 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد یک قطبی عالمی نظام کا ظہور تھی، جس کے نتیجے میں مغربی جمہوری ممالک کی عسکری اور مالی برتری برقرار رہی۔ یہ تمام ممالک مضبوط معیشتوں کے حامل تھے اور ان کے پاس ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ اپنے احکامات کی پیروی نہ کرنے والے ممالک پر بلا روک ٹوک پابندیاں عائد کر سکتے تھے۔ تاہم، 2017 تک ایک کثیر قطبی عالمی نظام ابھرنے لگا، جب روس نے ایک بار پھر اپنی سپر پاور حیثیت کا اظہار کیا اور چین بھی ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے باوجود مغربی ممالک اب بھی رہنمائی کے لیے امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں، حالانکہ اس کی قیمت انہیں بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔</p>
<p>دوسری بڑی تبدیلی شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کی مشرق کی جانب توسیع تھی، حالانکہ روس مسلسل خبردار کرتا رہا تھا کہ یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ قبول حد (ریڈ لائن) ہوگی۔ چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کو اس دفاعی اتحاد میں جلد شامل کرنے کے ارادے کا اعلان کیا تو روس کے ساتھ وہ تنازع بھڑک اٹھا جو آج تک جاری ہے۔</p>
<p>بعد ازاں روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی ممالک، بالخصوص جرمنی، میں صنعتی زوال (ڈی انڈسٹریلائزیشن) کا عمل شروع ہوا۔ مزید برآں، امریکی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین نے روسی گیس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ قیمت پر ایندھن خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی میں اس کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوئی، خصوصاً چین کے مقابلے میں۔</p>
<p>رواں ہفتے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) جنگ کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی روایتی یا براہِ راست عسکری جنگ (کائنیٹک وارفیئر) سے ہٹ کر غیر متناسب جنگ (اسیمیٹرک وارفیئر) کی جانب منتقلی کی عکاس ہے، جہاں عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور ملک بھی واضح فتح کا اعلان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ یہی صورتِ حال بالآخر زیادہ طاقتور فریق کو چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نافذ پابندیوں میں نرمی یا ان سے دستبرداری جیسے اقدامات پر آمادہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس تناظر میں، ولادیمیر پوتن کا 29 مئی 2017 کو فرانسیسی اخبار لی فگارو کو دیا گیا اور دو روز بعد شائع ہونے والا انٹرویو مزید معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ پوتن نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے ہی تین امریکی صدور کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ وہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں؟ اس کی وجہ طاقتور بیوروکریسی ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر آتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ خیالات ہوتے ہیں، لیکن پھر بریف کیس اٹھائے، نفیس لباس میں ملبوس لوگ آتے ہیں، جنہوں نے میرے جیسے سوٹ پہن رکھے ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سرخ ٹائی کے بجائے سیاہ یا گہری نیلی ٹائی لگاتے ہیں۔ یہ لوگ اسے سمجھانا شروع کرتے ہیں کہ معاملات کیسے چلتے ہیں، اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہر انتظامیہ کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔‘‘</p>
<p>پوتن کا اشارہ دراصل ”ڈیپ اسٹیٹ“ کی جانب تھا، جس سے مراد ایسے غیر منتخب بااثر عناصر ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دولت مند نجی شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں، جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عملاً ایسا کرتی بھی ہیں۔</p>
<p>اس تناظر میں، اسرائیل کی غیر متزلزل امریکی حمایت اور روس مخالف امریکی موقف کو امریکی پالیسی پر ڈیپ اسٹیٹ کے اثر و رسوخ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پوتن کا یہ مشاہدہ خاصا معنی خیز قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے باوجود امریکی خارجہ پالیسی مطلوبہ حد تک خود کو نئے حالات سے ہم آہنگ کیوں نہیں کر سکی۔</p>
<p>پاکستان میں ڈیپ اسٹیٹ کے وجود کو طویل عرصے سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے، اگرچہ بہت حالیہ عرصے تک اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا تھا۔ تاہم ”ہائبرڈ نظام“ کی اصطلاح کے رواج کے بعد اس حوالے سے زیادہ واضح انداز میں گفتگو ہونے لگی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کوئی استثنا نہیں، بلکہ ایک عمومی عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>تیسری بڑی تبدیلی عالمگیریت (گلوبلائزیشن) تھی۔ سرمائے کی نسبتاً آزادانہ نقل و حرکت نے امریکی سرمایہ دار اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا سرمایہ ایسے ممالک میں منتقل کریں جہاں کم لاگت پر پیداوار ممکن ہو، تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسی دوران، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر ان کے اثر و رسوخ نے عالمی اقتصادی قواعد و ضوابط کو باضابطہ شکل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>1944 کے بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد قائم ہونے والی ڈالر کی بالادستی اس نظام کی بنیاد تھی، جس کے تحت امریکی ڈالر دنیا کی بنیادی زرِ مبادلہ کے ذخیرے، لین دین کے وسیلے اور حساب کی اکائی کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بعد ازاں 1973 میں سوسائٹی فار ورلڈ وائیڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کمیونیکیشن (سوئفٹ) کے قیام کے بعد کسی بھی فرد یا ملک کی مالیاتی منتقلی کو روکنا اور اس کے کھاتے منجمد کرنا ممکن ہو گیا۔ ایران کے ساتھ 1979 کے بعد اور روس کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اسی نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے، جبکہ اس نظام نے امریکہ کو کم لاگت پر قرض حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی۔</p>
<p>آج کثیر قطبی عالمی نظام کے ابھرنے پر بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چینی کرنسی یوآن کا متبادل بین الاقوامی کرنسی کے طور پر بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی طرح چینی کراس بارڈر انٹربینک پیمنٹ سسٹم (سی آئی پی ایس) کے ذریعے حقیقی وقت میں رقوم کی منتقلی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت رکھتا ہے بلکہ لاگت کے اعتبار سے بھی سوئفٹ سے سستا متبادل سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ بدلتے ہوئے عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لے، کیونکہ پرانے تصورات اور ماضی کے معاشی نسخے موجودہ عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں رہے۔</p>
<p>چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دیرینہ تعلقات کے باوجود، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی تقریباً مکمل طور پر امریکی ڈالر میں رکھے جاتے ہیں، اگرچہ ان ذخائر کی بنیاد بھی بڑی حد تک قرضوں پر استوار ہے۔ ان میں سعودی عرب اور چین کی جانب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کی رول اوور سہولیات شامل ہیں۔ اسی طرح ملک کی زیادہ تر بیرونی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے، سوائے محدود پیمانے پر ہونے والی بعض بارٹر تجارت کے۔ ترسیلاتِ زر کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک سے آتا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑا حصہ بھی مغربی دنیا سے وابستہ ہے۔ اگرچہ چین سے درآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ چکی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان کی چین کو برآمدات 3 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔</p>
<p>تو پھر چارٹر آف اکانومی کن نکات پر مشتمل ہو سکتا ہے؟</p>
<p>تمام سیاسی جماعتوں کے بنیادی اہداف کم و بیش ایک جیسے ہیں، یعنی معاشی ترقی، کم مہنگائی اور روزگار کے زیادہ مواقع۔ البتہ ان اہداف کے حصول کا طریقۂ کار اس معاشی نظریے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے جس کی متعلقہ حکومت حمایت کرتی ہو۔ لیکن پاکستان جیسے ملک کا کیا کیا جائے، جو اندرونی اور بیرونی قرضوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو، جہاں وسائل کی تقسیم اور پالیسی سازی میں اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ کیپچر) بدستور قائم ہو، اور جہاں دیوالیہ ہونے کے خدشات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہوں، جس کے نتیجے میں ہر آنے والی حکومت کو بالآخر آئی ایم ایف پروگرام اور اس سے منسلک شرائط کا سہارا لینا پڑتا ہو؟</p>
<p>ایسی صورتِ حال میں بہتر راستہ یہ ہوگا کہ خارجہ پالیسی کے ان اہداف پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے جو معیشت سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں، ٹیکس دہندگان کے وسائل پر اشرافیہ کی گرفت کو محدود کیا جائے، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی برقرار دکھائی دیتی ہے، اور غربت کے خاتمے اور عام آدمی کی فلاح پر مبنی ترقیاتی پالیسیوں کو صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کے تمام شعبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506720</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 13:18:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/23131143ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/23131143ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزگار کا خاموش بحران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506690/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا معاشی استحکام زیادہ تر سخت گیر پالیسی کے ذریعے حاصل ہوا ہے، اخراجات میں سختی، شرحِ سود میں اضافہ، درآمدات میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی۔ روایتی پیمانوں کے مطابق اسے پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس نے ایک گہرے اور زیادہ خطرناک مسئلے کو بھی چھپا دیا ہے: لیبر مارکیٹ کا بحران جو اب افرادی قوت کے ہر درجے میں پھیل چکا ہے، تازہ گریجویٹس سے لے کر درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد تک اور سینئر ایگزیکٹوز تک پھیل چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ زیادہ تر ماہرینِ معاشیات سمجھتے ہیں کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن یہ بحث بھی مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان صرف یہ نہیں کہ بہت کم نوکریاں پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے غلط کارکن پیدا کر رہا ہے جو موجود ہیں، اور ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو پیدا ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم سے آغاز کریں۔ سرکاری اخراجات اب بھی اس سطح سے بہت کم ہیں جو پاکستان جیسے آبادیاتی ڈھانچے والے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ معیاری نجی تعلیم موجود ہے، لیکن صرف ایک محدود اشرافیہ کے لیے۔ اکثریت کے لیے نظام ایسا نہیں جو کسی بھی قابلِ ذکر پیمانے پر خواندگی، حسابی مہارت، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیتیں یا تکنیکی مہارت پیدا کر سکے۔ یونیورسٹیاں مسلسل گریجویٹس کو مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں، لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آجروں کی بنیادی ضرورت کی مہارتوں کے بغیر آتے ہیں۔ نتیجہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ ناقابلِ روزگار ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ طلب کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر تربیت یافتہ بھی ہو، تب بھی وہ ایسی معیشت میں مشکلات کا شکار ہوگی جہاں نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، نئی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہو رہیں، اور موجودہ کاروبار محتاط انداز میں توسیع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسانی سرمائے کا مسئلہ ہے، لیکن ساتھ ہی روزگار پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اب اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے پہلے کرتی تھی، اور کئی شعبے 2022 کے بعد کی معاشی سختیوں سے پہلے والی رفتار حاصل نہیں کر سکے۔ صنعت روایتی طور پر نوجوانوں کو جذب کرنے کا بڑا ذریعہ رہی ہے؛ اب یہ کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مالیاتی شعبہ، جو 2008 کے بحران سے پہلے زیادہ متحرک تھا، جمود کا شکار ہے اور اس نے بہت کم نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ٹیلی کام، جو کبھی پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں شامل تھا، اب بالغ ہو چکا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہیں۔ مختلف صنعتوں میں انضمام اور سائز میں کمی نے درمیانی اور سینئر مینجمنٹ کی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آجر شکایت کرتے ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال گریجویٹس پیدا نہیں کر رہیں۔ کئی صورتوں میں وہ درست ہیں۔ ابتدائی سطح کی ملازمتیں موجود ہیں، خاص طور پر آئی ٹی جیسے برآمدی خدمات کے شعبوں میں، لیکن کمپنیاں عالمی مقابلے کے لیے کم تیار امیدواروں کو تربیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری طرف نوجوان گریجویٹس یہ بھی درست کہتے ہیں کہ اچھے کام بہت کم ہیں جو انہیں جذب کر سکیں۔ مارکیٹ ایک خراب توازن میں پھنس چکی ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں ٹیلنٹ نہیں ملتا، کارکن کہتے ہیں کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اور دونوں کسی حد تک سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت غالباً اسے بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب کرے گی۔ سب سے پہلے جن ملازمتوں پر دباؤ پڑے گا وہ سب سے پیچیدہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ معمولی اور کم مہارت والی ابتدائی سطح کی نوکریاں ہوں گی جن کے ذریعے نوجوان کارکن عام طور پر نظم، کام کی انجام دہی اور فیصلہ سازی سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی سیڑھیاں ختم ہو گئیں تو پاکستان کا پہلے ہی کمزور اسکول سے کام تک کا عبوری نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد ایک مختلف مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رسمی ملکی آجر دو دباؤ کے مقابلے میں ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں: بیرون ملک ملازمت، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ریموٹ ورک۔ خلیجی آپشن اب محدود ہو رہا ہے، لیکن ریموٹ ورک نے ایک طاقتور آربٹریج پیدا کر دیا ہے۔ ایک پاکستانی پیشہ ور جو کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے ریموٹ کام کرتا ہے، اکثر ملکی رسمی شعبے کے ایک برابر ملازم کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ لچک، غیر ملکی کرنسی میں آمدن، سفر کی عدم ضرورت، اور دفتری سیاست سے آزادی شامل ہو جائے تو انتخاب مشکل نہیں رہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کا ایک بگاڑ ہے۔ پاکستان مؤثر طور پر رسمی ملکی ملازمت کو سزا دیتا ہے جبکہ لیبر سروسز کی برآمد پر نسبتاً کم ٹیکس لگاتا ہے۔ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ ملکی کارپوریٹ ٹیلنٹ پول کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ریاست اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی کہ وہ رسمی تنخواہ دار ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے اور ساتھ ہی یہ دکھاوا کرے کہ اسی معیار کے کارکن کم ٹیکس والے آف شور انتظامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپری سطح پر صورتحال مختلف مگر اتنی ہی ساختی ہے۔ سینئر ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ سرپلس بنتا جا رہا ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، ایف ایم سی جی اور ملٹی نیشنل ترقی کے توسیعی سالوں نے ایسے قابل مینیجرز کی ایک نسل پیدا کی ہے جن کے پاس مزید دس یا پندرہ سال کی کام کرنے کی عمر باقی ہے۔ لیکن نئے ادارے اتنی تیزی سے نہیں بن رہے کہ انہیں جذب کر سکیں، اور موجودہ ادارے انہی سطحوں کو کم کر رہے ہیں جن میں یہ افراد بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈز اور ایگزیکٹو سطحیں اب بھی زیادہ تر پرانی نسل کے زیرِ اثر ہیں جو شاذ و نادر ہی بروقت ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کمپنیاں تنظیمی ڈھانچے کو فلیٹ کر رہی ہیں، فنکشنز کو ضم کر رہی ہیں، لاگت کم کر رہی ہیں، اور سینئر پیشہ ور افراد کو سستے جونیئر متبادل سے تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مضبوط اسناد رکھنے والے تجربہ کار افراد کو ملازمت ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے کار بیٹھے ہیں، غیر رسمی مشاورت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار کر رہے ہیں، یا اپنی اہلیت سے بہت کم درجے کے کام قبول کر رہے ہیں۔ یہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے اور یہ ایک سنگین معاشی نقصان بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے امکانات کمزور پڑتے ہیں اور کچھ کارکن واپس آتے ہیں، پاکستان میں بے روزگار اور کم روزگار درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہ وہ بے روزگاری نہیں ہے جس پر پالیسی ساز عموماً بات کرتے ہیں۔ یہ صرف نوجوانوں کا پہلا کام انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ تجربہ کار کارکنوں کا رسمی پیداواری نظام سے باہر دھکیلا جانا ہے، جبکہ ان کے پاس ابھی بھی کارآمد کام کرنے کے سال موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناقابلِ حل نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیبر مارکیٹ کی ناکامی کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے جتنی پاکستان اب مالیاتی ناکامی کو لیتا ہے۔ ملکی رسمی ملازمت اور ریموٹ آف شور کام کے درمیان ٹیکس کا عدم توازن درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو داخلہ سے زیادہ قابلِ استعمال مہارتوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری کی پالیسی کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں، کتنی کمپنیاں بنی ہیں، اور کتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، نہ کہ صرف ظاہری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر۔ اور پاکستان کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی اضافی تعداد کو بیکار سمجھنے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں تربیت، رہنمائی، گورننس اور کاروباری ترقی کے کرداروں میں مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو وہ انسانی سرمائے میں برسوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام ضروری تھا۔ لیکن استحکام کوئی ترقیاتی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی معیشت صرف استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب اسے کمپنیاں بنانا، کارکنوں کو جذب کرنا، مہارتوں کو انعام دینا، اور لوگوں کو پیداواری کام تک ایک قابلِ اعتماد راستہ دینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی میکرو معاشی بحالی وہی رہے گی جو اکثر رہی ہے: بحرانوں کے درمیان ایک وقفہ، نہ کہ ان سے مکمل نجات۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا معاشی استحکام زیادہ تر سخت گیر پالیسی کے ذریعے حاصل ہوا ہے، اخراجات میں سختی، شرحِ سود میں اضافہ، درآمدات میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی۔ روایتی پیمانوں کے مطابق اسے پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس نے ایک گہرے اور زیادہ خطرناک مسئلے کو بھی چھپا دیا ہے: لیبر مارکیٹ کا بحران جو اب افرادی قوت کے ہر درجے میں پھیل چکا ہے، تازہ گریجویٹس سے لے کر درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد تک اور سینئر ایگزیکٹوز تک پھیل چکا ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری طور پر بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جو ایک سال پہلے 6.3 فیصد تھی۔ زیادہ تر ماہرینِ معاشیات سمجھتے ہیں کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن یہ بحث بھی مسئلے کی شدت کو کم ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان صرف یہ نہیں کہ بہت کم نوکریاں پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہ وہ ان ملازمتوں کے لیے غلط کارکن پیدا کر رہا ہے جو موجود ہیں، اور ایسی کمپنیاں بہت کم ہیں جو پیدا ہونے والی افرادی قوت کو جذب کر سکیں۔</p>
<p>تعلیم سے آغاز کریں۔ سرکاری اخراجات اب بھی اس سطح سے بہت کم ہیں جو پاکستان جیسے آبادیاتی ڈھانچے والے ملک کے لیے ضروری ہیں۔ معیاری نجی تعلیم موجود ہے، لیکن صرف ایک محدود اشرافیہ کے لیے۔ اکثریت کے لیے نظام ایسا نہیں جو کسی بھی قابلِ ذکر پیمانے پر خواندگی، حسابی مہارت، نظم و ضبط، ابلاغی صلاحیتیں یا تکنیکی مہارت پیدا کر سکے۔ یونیورسٹیاں مسلسل گریجویٹس کو مارکیٹ میں بھیج رہی ہیں، لیکن بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آجروں کی بنیادی ضرورت کی مہارتوں کے بغیر آتے ہیں۔ نتیجہ صرف بے روزگاری نہیں بلکہ ناقابلِ روزگار ہونا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ صرف کہانی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ طلب کا ہے۔ اگرچہ افرادی قوت بہتر تربیت یافتہ بھی ہو، تب بھی وہ ایسی معیشت میں مشکلات کا شکار ہوگی جہاں نجی سرمایہ کاری کمزور ہے، نئی کمپنیاں بڑے پیمانے پر قائم نہیں ہو رہیں، اور موجودہ کاروبار محتاط انداز میں توسیع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسانی سرمائے کا مسئلہ ہے، لیکن ساتھ ہی روزگار پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا صنعتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مینوفیکچرنگ اب اس رفتار سے روزگار پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے پہلے کرتی تھی، اور کئی شعبے 2022 کے بعد کی معاشی سختیوں سے پہلے والی رفتار حاصل نہیں کر سکے۔ صنعت روایتی طور پر نوجوانوں کو جذب کرنے کا بڑا ذریعہ رہی ہے؛ اب یہ کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مالیاتی شعبہ، جو 2008 کے بحران سے پہلے زیادہ متحرک تھا، جمود کا شکار ہے اور اس نے بہت کم نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ ٹیلی کام، جو کبھی پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں شامل تھا، اب بالغ ہو چکا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں زیادہ چھوٹی ہو گئی ہیں۔ مختلف صنعتوں میں انضمام اور سائز میں کمی نے درمیانی اور سینئر مینجمنٹ کی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>آجر شکایت کرتے ہیں کہ یونیورسٹیاں قابلِ استعمال گریجویٹس پیدا نہیں کر رہیں۔ کئی صورتوں میں وہ درست ہیں۔ ابتدائی سطح کی ملازمتیں موجود ہیں، خاص طور پر آئی ٹی جیسے برآمدی خدمات کے شعبوں میں، لیکن کمپنیاں عالمی مقابلے کے لیے کم تیار امیدواروں کو تربیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ دوسری طرف نوجوان گریجویٹس یہ بھی درست کہتے ہیں کہ اچھے کام بہت کم ہیں جو انہیں جذب کر سکیں۔ مارکیٹ ایک خراب توازن میں پھنس چکی ہے: کمپنیاں کہتی ہیں کہ انہیں ٹیلنٹ نہیں ملتا، کارکن کہتے ہیں کہ انہیں نوکریاں نہیں ملتیں، اور دونوں کسی حد تک سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت غالباً اسے بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب کرے گی۔ سب سے پہلے جن ملازمتوں پر دباؤ پڑے گا وہ سب سے پیچیدہ نہیں ہوں گی بلکہ وہ معمولی اور کم مہارت والی ابتدائی سطح کی نوکریاں ہوں گی جن کے ذریعے نوجوان کارکن عام طور پر نظم، کام کی انجام دہی اور فیصلہ سازی سیکھتے ہیں۔ اگر یہ ابتدائی سیڑھیاں ختم ہو گئیں تو پاکستان کا پہلے ہی کمزور اسکول سے کام تک کا عبوری نظام مزید کمزور ہو جائے گا۔</p>
<p>درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد ایک مختلف مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ رسمی ملکی آجر دو دباؤ کے مقابلے میں ٹیلنٹ برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں: بیرون ملک ملازمت، خاص طور پر خلیجی ممالک میں، اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ریموٹ ورک۔ خلیجی آپشن اب محدود ہو رہا ہے، لیکن ریموٹ ورک نے ایک طاقتور آربٹریج پیدا کر دیا ہے۔ ایک پاکستانی پیشہ ور جو کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے ریموٹ کام کرتا ہے، اکثر ملکی رسمی شعبے کے ایک برابر ملازم کے مقابلے میں بہت کم ٹیکس بوجھ برداشت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ لچک، غیر ملکی کرنسی میں آمدن، سفر کی عدم ضرورت، اور دفتری سیاست سے آزادی شامل ہو جائے تو انتخاب مشکل نہیں رہتا۔</p>
<p>یہ محض طرزِ زندگی کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ لیبر مارکیٹ کا ایک بگاڑ ہے۔ پاکستان مؤثر طور پر رسمی ملکی ملازمت کو سزا دیتا ہے جبکہ لیبر سروسز کی برآمد پر نسبتاً کم ٹیکس لگاتا ہے۔ یہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں مدد دے سکتا ہے، لیکن یہ ملکی کارپوریٹ ٹیلنٹ پول کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ریاست اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتی کہ وہ رسمی تنخواہ دار ملازمین پر بھاری ٹیکس لگائے اور ساتھ ہی یہ دکھاوا کرے کہ اسی معیار کے کارکن کم ٹیکس والے آف شور انتظامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اوپری سطح پر صورتحال مختلف مگر اتنی ہی ساختی ہے۔ سینئر ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ سرپلس بنتا جا رہا ہے۔ بینکنگ، ٹیلی کام، ایف ایم سی جی اور ملٹی نیشنل ترقی کے توسیعی سالوں نے ایسے قابل مینیجرز کی ایک نسل پیدا کی ہے جن کے پاس مزید دس یا پندرہ سال کی کام کرنے کی عمر باقی ہے۔ لیکن نئے ادارے اتنی تیزی سے نہیں بن رہے کہ انہیں جذب کر سکیں، اور موجودہ ادارے انہی سطحوں کو کم کر رہے ہیں جن میں یہ افراد بیٹھے ہیں۔</p>
<p>بورڈز اور ایگزیکٹو سطحیں اب بھی زیادہ تر پرانی نسل کے زیرِ اثر ہیں جو شاذ و نادر ہی بروقت ریٹائر ہوتے ہیں۔ ان کے نیچے کمپنیاں تنظیمی ڈھانچے کو فلیٹ کر رہی ہیں، فنکشنز کو ضم کر رہی ہیں، لاگت کم کر رہی ہیں، اور سینئر پیشہ ور افراد کو سستے جونیئر متبادل سے تبدیل کر رہی ہیں۔ کچھ سال پہلے تک مضبوط اسناد رکھنے والے تجربہ کار افراد کو ملازمت ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے کار بیٹھے ہیں، غیر رسمی مشاورت کر رہے ہیں، ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار کر رہے ہیں، یا اپنی اہلیت سے بہت کم درجے کے کام قبول کر رہے ہیں۔ یہ انسانی سرمائے کا ضیاع ہے اور یہ ایک سنگین معاشی نقصان بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک میں ملازمتوں کے امکانات کمزور پڑتے ہیں اور کچھ کارکن واپس آتے ہیں، پاکستان میں بے روزگار اور کم روزگار درمیانی عمر کے پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے گی۔ یہ وہ بے روزگاری نہیں ہے جس پر پالیسی ساز عموماً بات کرتے ہیں۔ یہ صرف نوجوانوں کا پہلا کام انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ تجربہ کار کارکنوں کا رسمی پیداواری نظام سے باہر دھکیلا جانا ہے، جبکہ ان کے پاس ابھی بھی کارآمد کام کرنے کے سال موجود ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناقابلِ حل نہیں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لیبر مارکیٹ کی ناکامی کو اتنی ہی سنجیدگی سے لیا جائے جتنی پاکستان اب مالیاتی ناکامی کو لیتا ہے۔ ملکی رسمی ملازمت اور ریموٹ آف شور کام کے درمیان ٹیکس کا عدم توازن درست کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اصلاحات کو داخلہ سے زیادہ قابلِ استعمال مہارتوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ سرمایہ کاری کی پالیسی کا اندازہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے کتنی نوکریاں پیدا ہوئیں، کتنی کمپنیاں بنی ہیں، اور کتنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، نہ کہ صرف ظاہری سرمایہ کاری کے اعداد و شمار پر۔ اور پاکستان کے تجربہ کار پیشہ ور افراد کی اضافی تعداد کو بیکار سمجھنے کے بجائے ایک اثاثہ سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں تربیت، رہنمائی، گورننس اور کاروباری ترقی کے کرداروں میں مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو وہ انسانی سرمائے میں برسوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>استحکام ضروری تھا۔ لیکن استحکام کوئی ترقیاتی ماڈل نہیں ہے۔ کوئی معیشت صرف استحکام کے ذریعے خوشحالی حاصل نہیں کر سکتی۔ ایک وقت آتا ہے جب اسے کمپنیاں بنانا، کارکنوں کو جذب کرنا، مہارتوں کو انعام دینا، اور لوگوں کو پیداواری کام تک ایک قابلِ اعتماد راستہ دینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر پاکستان کی میکرو معاشی بحالی وہی رہے گی جو اکثر رہی ہے: بحرانوں کے درمیان ایک وقفہ، نہ کہ ان سے مکمل نجات۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 22 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506690</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:47:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/221244507e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/221244507e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنانس بل 2026: ٹیکس بٹورنے سے کام نہیں چل سکتا!</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506631/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر فنانس بل کو اصلاحات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حکومتیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس نظام میں انصاف لانے کے دعوے کرتی ہیں۔ تاہم، کسی بھی فنانس بل کی اصل کسوٹی اس میں شامل ترامیم کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی پیداواری معیشت کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو پائیدار اور مستقل محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔</strong></p>
<p>اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو فنانس بل 2026 ایک زیادہ بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا پاکستان ریاستی اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور معیشت کے محدود اور دستاویزی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتا رہے گا، جبکہ اس کی بنیادی سیاسی و معاشی ساخت (پولیٹیکل اکانومی) تقریباً جوں کی توں برقرار رہے؟</p>
<p>فنانس بل 2026 پر ہونے والی بحث زیادہ تر ٹیکس کی شرحوں، تنخواہ دار طبقے کو دی جانے والی رعایتوں، بعض شقوں کے خاتمے، ٹیرف کی معقول تشکیل ( ٹیرف ریشنالائزیشن) اور نئے نفاذی و نگرانی کے آلات کے تعارف تک محدود رہی ہے۔ یہ تمام امور یقیناً اہم ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کے اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتے۔ کیا صرف یہی اقدامات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2026-27 کے لیے مقرر کردہ 15.264 کھرب روپے کے پُرامید محصولات کے ہدف کے حصول کے قابل بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ایک وسیع تر تاریخی تناظر اختیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ٹیکس مسئلہ کبھی محض انتظامی نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور ساختی مسئلہ ہے۔ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں معاشی طاقت کی غیر مساوی تقسیم کو چیلنج کیے بغیر محصولات بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ٹیکس کا ایسا نظام وجود میں آیا ہے جس میں معیشت کے دستاویزی شعبے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں، جبکہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبے یا تو کم ٹیکس دیتے ہیں یا مؤثر نگرانی سے تقریباً مکمل طور پر بچ نکلتے ہیں۔</p>
<p>اس کا نتیجہ ایک ایسے ٹیکس نظام کی صورت میں نکلا ہے جو ہمہ گیری کے بجائے چند شعبوں پر ارتکاز کا شکار ہے۔ بینک، کارپوریشنز، تنخواہ دار افراد، برآمد کنندگان، صنعت کار، درآمد کنندگان اور رسمی خدمات فراہم کرنے والے ادارے آج بھی ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ برداشت کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب خردہ و تھوک تجارت کے وسیع شعبے، جائیداد کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والے قیاسی منافع (رئیل اسٹیٹ اسپیکیولیشن)، زرعی رینٹ اور غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی بنیاد بننے والے مفروضات کا جائزہ لیتے وقت یہ عدم توازن خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔</p>
<p>تاریخی طور پر پاکستان میں محصولات میں اضافے کے چار بڑے عوامل رہے ہیں: معاشی نمو، افراطِ زر، درآمدات میں توسیع اور نئے ٹیکس اقدامات۔ 2002 سے 2007 کے درمیان تیز رفتار معاشی نمو کے دور میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوا کہ معاشی سرگرمیاں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ بینکاری، ٹیلی کمیونی کیشن، تعمیرات اور صارفین کی منڈیوں نے قابلِ ٹیکس آمدنی اور لین دین پیدا کیا۔ اس طرح محصولات میں اضافہ معاشی توسیع کا فطری نتیجہ تھا۔</p>
<p>بعد کے برسوں میں یہ رجحان تبدیل ہوگیا۔ رفتہ رفتہ محصولات میں اضافہ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی (پریزیمپٹیو) ٹیکسیشن، پٹرولیم لیویز، کم از کم ٹیکس اور انتظامی نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جانے لگا۔ نئی معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ریاست نے پہلے سے موجود معاشی سرگرمیوں سے مزید وصولیاں کرنا شروع کر دیں۔ فنانس بل 2026 بھی اسی رجحان کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>اس بل کی کئی اہم شقیں دراصل ٹیکس پالیسی کے بجائے محصولات کے انتظام اور نفاذ سے متعلق ہیں۔ بغیر براہِ راست انسانی مداخلت کے آڈٹ ( فیس لیس آڈٹس)، خودکار اسیسمنٹ، الگورتھم کی بنیاد پر خطرات کی درجہ بندی (الگورتھمک رسک پروفائلنگ)، الیکٹرانک انوائسنگ، ڈیجیٹل نگرانی، بینکنگ ڈیٹا کا انضمام، تیسرے فریق کی معلوماتی نظام اور خودکار جانچ پڑتال (آٹومیٹڈ اسکروٹنی) جیسے اقدامات کا مقصد نفاذی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ اقدامات مختصر مدت میں محصولات بڑھا سکتے ہیں اور حکومت کو بعض سہ ماہی اہداف حاصل کرنے میں مدد بھی دے سکتے ہیں، لیکن نفاذ (انفورسمنٹ) کو اصلاحات (ریفارمز) کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔</p>
<p>دنیا کا کوئی بھی ملک صرف نفاذی اقدامات (انفورسمنٹ) کے ذریعے طویل المدتی اور پائیدار محصولات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ٹیکس وصولیوں میں مستقل اضافہ سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، منافع بخشی اور ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے پھیلاؤ سے جنم لیتا ہے۔ ٹیکس حکام معاشی سرگرمیوں پر ٹیکس تو عائد کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود معاشی سرگرمیاں پیدا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ فرق خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت ایف بی آر سے 15.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کی توقع رکھتی ہے، جبکہ معاشی نمو محدود ہے، نجی سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے، صنعتیں توانائی کے بلند اخراجات سے نبرد آزما ہیں اور کاروباری طبقہ غیر معمولی ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ تضاد بالکل واضح ہے: ریاست ایک ایسی معیشت سے تاریخی سطح کی ٹیکس وصولیوں کی امید رکھتی ہے جو خود مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں میں جکڑی ہوئی ہے۔</p>
<p>فنانس بل 2026 اس تضاد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اصلاحات کی زبان اب قانون سازی سے نکل کر الگورتھمز تک پہنچ چکی ہے۔ بغیر براہِ راست رابطے کے فیصلے ( فیس لیس ایڈجوڈیکیشن)، خودکار خطرہ تجزیہ (آٹومیٹڈ رسک اسیسمنٹ) اور ڈیجیٹل تعمیل (ڈیجیٹل کمپلائنس) محصولات کے انتظام کے پسندیدہ ذرائع بن چکے ہیں۔ بلاشبہ جدید ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے، لیکن یہ قانونی جواز (لیجیٹی میسی) اور اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتی۔</p>
<p>پاکستان بظاہر بھارت کے فیس لیس اسیسمنٹ اور ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے ماڈل سے متاثر نظر آتا ہے۔ تاہم بھارت نے ایسے اصلاحی اقدامات اس وقت متعارف کرائے جب معاشی سرگرمیوں کی وسیع ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس دہندگان کی شناختی نظاموں کا انضمام، بینکاری خدمات کی وسیع رسائی اور مضبوط معلوماتی نیٹ ورکس پہلے سے موجود تھے۔ اس کے باوجود بھارتی تجربے پر طریقۂ کار کی انصاف پسندی، الگورتھمز کی غیر شفافیت اور مؤثر سماعت کے حق سے محرومی کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ پاکستان ان بنیادی ڈھانچوں کی تکمیل سے پہلے ہی اس ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>فیس لیس نظام یقیناً ٹیکس دہندگان اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم کر سکتا ہے، لیکن یہ خود بخود من مانی فیصلوں کا خاتمہ نہیں کرتا۔</p>
<p>ایک غیر شفاف الگورتھم بھی اتنا ہی خوفزدہ کرنے والا ہو سکتا ہے جتنا کہ صوابدیدی اختیارات رکھنے والا کوئی افسر۔ اگر بنیادی ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہو تو ڈیجیٹل نوٹس ہراسانی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی طرح خودکار ڈیٹا عدم مطابقت (مس میچ) کی نشاندہی، مؤثر اپیل کے حقوق اور شفاف طریقۂ کار کے بغیر، خودکار جبر ( آٹومیٹڈ کوآرشن) کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p>اصل اور زیادہ گہرا مسئلہ کہیں اور ہے۔ فنانس بل 2026 بدستور اس مفروضے پر قائم ہے کہ نگرانی (سرویلنس) کے ذریعے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی معیشت صرف ایک تکنیکی یا ڈیجیٹل عمل نہیں، بلکہ شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک مالیاتی و سماجی تعلق کا نام ہے۔</p>
<p>شہری اس وقت رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام کا حصہ بنتے ہیں جب انہیں ٹیکس نظام منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور عوامی خدمات سے جڑا ہوا محسوس ہو۔ اس کے برعکس، جب ریاست ضرورت سے زیادہ جابرانہ اور نگرانی پر مبنی اقدامات پر انحصار کرتی ہے تو عدم اعتماد بڑھتا ہے اور معیشت مزید غیر رسمی (انفارمل) شکل اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کا گزشتہ دو دہائیوں کا تجربہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ ودہولڈنگ ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، قیاسی ٹیکسوں (مفروضے یا تخمینے کی بنیاد پرٹیکس) اور معلوماتی رپورٹنگ کی مسلسل توسیع کے باوجود ٹیکس نیٹ متناسب انداز میں وسیع نہیں ہو سکا۔</p>
<p>یوں نظام پہلے سے زیادہ مداخلت پسند (انٹروسیو) تو ہو گیا ہے، مگر نمایاں طور پر زیادہ شمولیتی (انکلوسیو) نہیں بن سکا۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں فنانس بل ایک بڑے سیاسی و معاشی مسئلے سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان بتدریج اس مالیاتی ڈھانچے سے مشابہت اختیار کرتا جا رہا ہے جسے ماہرینِ معاشیات ”رینٹیئر مالیاتی نظام“ (رینٹیئر فسکل اسٹرکچر) قرار دیتے ہیں۔ ایسے نظام میں محصولات کا انحصار پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے معیشت کے مخصوص اور محدود شعبوں سے زیادہ سے زیادہ وسائل نکالنے پر ہوتا ہے۔</p>
<p>پٹرولیم لیوی، ودہولڈنگ ٹیکسیشن اور انتظامی نفاذی اقدامات پر بڑھتا ہوا انحصار اسی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس صورتحال میں مالیاتی پالیسی پیداوار اور معاشی توسیع سے کٹ جاتی ہے اور اس کا انحصار ایسے طریقہ کار پر بڑھ جاتا ہے جو نئے ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید وسائل منتقل کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔</p>
<p>قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس رجحان کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ وفاقی محصولات کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی ترجیحات پر غور کرنے سے پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں کے لیے مختص ہو چکا ہوتا ہے۔ نتیجتاً محصولات جمع کرنے والے اداروں پر ہر صورت زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا دباؤ برقرار رہتا ہے، خواہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات کچھ بھی ہوں۔</p>
<p>ایسے ماحول میں ٹیکس انتظامیہ بتدریج معاشی ترقی کے فروغ کے بجائے ریاست کی مالی بقا (فسکل سروائیو) کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور جب صورتحال یہ ہو تو ہر فنانس بل ترقی اور معاشی نمو کا خاکہ بننے کے بجائے محض زیادہ سے زیادہ محصولات بٹورنے کی مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتا ہے۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقے کو دی گئی ٹیکس رعایت بھی اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ اگرچہ ٹیکس کی شرحوں میں کمی خوش آئند اقدام ہے، لیکن تنخواہ دار افراد کبھی بھی پاکستان کے مالیاتی عدم توازن کی بنیادی وجہ نہیں رہے۔ درحقیقت وہ ٹیکس دہندگان کا شاید سب سے زیادہ قانون پر عمل کرنے والا اور دستاویزی طبقہ ہیں۔ یہ رعایت وقتی طور پر ان کی ناراضی کم کر سکتی ہے، مگر ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم سے جڑی بنیادی ساختی ناانصافیوں کا حل پیش نہیں کرتی۔</p>
<p>اسی طرح سیکشن 7E کے مجوزہ خاتمے نے ایک ایسی متنازع شق کو ختم کیا ہے جس کی آئینی حیثیت ابتدا ہی سے مشکوک سمجھی جاتی رہی تھی۔ تاہم اس شق کی واپسی ٹیکس پالیسی سازی کی ایک مستقل کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔</p>
<p>مختلف حکومتیں قلیل مدتی محصولات کے حصول کی خاطر قانونی طور پر متنازع اور کمزور بنیادوں والے اقدامات متعارف کراتی ہیں، پھر برسوں کی عدالتی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں واپس لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کسی بھی معمولی ٹیکس شرح سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔</p>
<p>شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا، اور نہ ہی ایک مستحکم، قابلِ پیش گوئی اور کئی برسوں پر محیط ٹیکس پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ان وسیع تر طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں سے بھی صرفِ نظر کرتا ہے جو سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔</p>
<p>یہ تمام کوتاہیاں اس لیے اہم ہیں کہ محصولات کے اہداف کو معیشت کی مجموعی حالت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ٹیکس انتظامیہ صرف اسی دولت پر ٹیکس وصول کر سکتی ہے جو معیشت پیدا کرتی ہے۔ اگر معاشی نمو کمزور رہے، سرمایہ کاری سست روی کا شکار رہے، اور کاروباری ادارے بلند توانائی لاگت اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں، تو محض انتظامی اور نفاذی اقدامات بالآخر اپنی حدوں تک پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>پہلا منظرنامہ یہ ہے کہ ایف بی آر سخت نفاذی اقدامات، افراطِ زر کے اثرات اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کے مزید پھیلاؤ کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کر لے۔ اس صورت میں محصولات کا ہدف تو پورا ہو سکتا ہے، لیکن معیشت کی بنیادی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہیں گی۔</p>
<p>دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں اس حد تک سست پڑ جائیں کہ محصولات سے متعلق تمام مفروضے غیر حقیقی ثابت ہوں۔ ایسی صورت میں منی بجٹس، اضافی ٹیکسوں اور مزید سخت نفاذی اقدامات کا وہی پرانا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس کا پاکستان ماضی میں بارہا تجربہ کر چکا ہے۔</p>
<p>تیسرا اور اس وقت سب سے کم زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ حقیقی ساختی اصلاحات ( اسٹرکچرل ریفارم) کا ہے۔ اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل مگر ناگزیر اقدامات درکار ہوں گے، جن میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تعمیل کے اخراجات کم کرنا، ٹیکس دہندگان کے حقوق کو مضبوط بنانا، ٹیکس قوانین کو سادہ اور قابلِ فہم بنانا اور ٹیکسوں کو عوامی خدمات کی فراہمی سے زیادہ واضح طور پر منسلک کرنا شامل ہے۔</p>
<p>پائیدار مالیاتی استحکام صرف تیسرے راستے سے حاصل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ فنانس بل 2026 میں اتنی ترامیم موجود ہیں یا نہیں جو ایف بی آر کو 15 کھرب روپے سے زائد محصولات جمع کرنے میں مدد دے سکیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک نسبتاً چھوٹے دستاویزی شعبے سے مسلسل زیادہ سے زیادہ وسائل حاصل کرنے کی پالیسی جاری رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ ان بنیادی اصلاحات کو مؤخر کرتا رہے جو پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں اور نئے ٹیکس دہندگان پیدا کریں؟</p>
<p>فنانس بل 2026 ایک ایسے محصولات کے انتظامی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہو چکا ہے۔ لیکن یہ ابھی تک معاشی نمو اور ترقی کے تقاضوں کے بارے میں اسی درجے کی فہم و بصیرت کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
<p>جب تک اس عدم توازن کو دور نہیں کیا جاتا، ہر نیا فنانس بل شاید زیادہ محصولات اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو جائے، مگر وہ اس بنیادی مالیاتی بحران کا حل فراہم نہیں کر سکے گا جو ریاست کو بار بار ایسی غیر معمولی وصولیوں پر مجبور کرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 19 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506631</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 12:28:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحقعبدالرؤف شکوری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122706c81d4b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/20122706c81d4b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمین میں احساسِ ملکیت پیدا کرنا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506577/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احساسِ ملکیت کا فقدان ہے۔ یہ جملہ میں بارہا سنتی ہوں۔ جب بھی میں رہنماؤں کو درپیش بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتا ہوں، ملازمین میں احساسِ ملکیت کی کمی اُن کے سرفہرست مسائل میں شامل ہوتی ہے۔ ”انہیں کوئی پروا نہیں۔“ ”وہ کام کو بوجھ سمجھتے ہیں۔“ ”ان لوگوں کی بے حسی کا کیا کیا جائے جن کی دلچسپی صرف تنخواہ لینے تک محدود ہے؟“ ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی سہولتوں کو کس قدر معمولی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔“ یہ محض چند شکایات نہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تنظیمی خرابی اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیزی سے کسی بھی ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آئی این ایم جے وائرس کہا جا سکتا ہے، یعنی ”یہ میرا کام نہیں“۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے کیڑے کی مانند ہے جو ملازمین کی پیداواری صلاحیت اور کام سے وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ”یہ میرا کام نہیں“ والا کیڑا کھٹمل کی طرح ہوتا ہے۔ کھٹمل عموماً بے خبری میں جلد کے کھلے حصوں کو کاٹتے ہیں اور ان کے نشانات اکثر قطاروں یا جھرمٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاٹتے وقت ہلکی سی بے حسی پیدا کرنے والا مادہ جسم میں داخل کر دیتے ہیں، اس لیے اکثر انسان کو فوراً احساس بھی نہیں ہوتا، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے لے کر چودہ دن تک بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالکل اسی طرح آئی این ایم جے کیڑا محض ایک پریشان کن عادت نہیں، بلکہ ادارے کی رگوں سے خون نچوڑ لینے والی بیماری ہے۔ یہ رویہ تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی کو ختم کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ”کام ٹالو اور جان چھڑاؤ“ کی ثقافت غالب آنے لگتی ہے۔ لوگ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ”ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے“ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپرد کیے گئے کام تاخیر کا شکار ہونے لگتے ہیں، تاخیر کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر وہی دوسرے لوگ کسی تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسا غیر ذمہ دارانہ اور زہریلا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ صرف سکون کا سانس لینے کے لیے دفتر اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا تصور کیجیے کہ ملازمین ادارے کو محض ایک عارضی پڑاؤ سمجھنے لگیں۔ وہ صرف اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی کم سے کم ضروریات پوری کریں اور بس۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں جو رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: ”ملازمین کی وفاداری اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنریشن زیڈ (جن زی) کے لوگ بہتر پیش کش ملتے ہی اگلی نوکری کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔“ تاہم، اس رائے سے مکمل اتفاق ضروری نہیں؛ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے جواب میں عموماً تنخواہوں، کاروبار کی کمزور کارکردگی کے باوجود اضافوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، لیکن یہ صرف مسابقتی معیار قائم کرتے ہیں۔ ان مالی مراعات کے ذریعے ملازمین کا ادارے میں حصہ یا مفاد محض بنیادی سطح تک محدود رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی مراعات کی نقل کرنا یا ان سے بہتر پیش کش دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم متبادل تقرری نامہ لے کر آتا ہے اور کمپنی اس کے ساتھ تنخواہ اور مراعات پر سودے بازی کرتی ہے، تو یہ دراصل اسی کمزور احساسِ ملکیت کی واضح مثال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالکان کا کمپنی میں مالی مفاد اور حصہ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین کے پاس عموماً ایسا مالی حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم، ان کے اندر ایک نفسیاتی وابستگی پیدا کی جا سکتی ہے جو انہیں ادارے کے ساتھ مخلص، پُرجوش اور وفادار بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کے انداز اور رویّے کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملازمین کے مالی مفاد میں اضافے کے اختیارات ان کے پاس محدود ہیں، لیکن ادارے سے وابستگی کے دیگر پہلوؤں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔ ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پہلا حصہ: نفسیاتی تحفظ اور آسودگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ اگر وہ وہاں خود کو غیر محفوظ، خوف زدہ یا دباؤ کا شکار محسوس کریں تو زیادہ عرصہ تک اس ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں ملازمین خود کو نفسیاتی طور پر محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، انہیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ادارے کو ان کے لیے گھر جیسا بناتے ہیں۔ یہی عوامل احساسِ ملکیت پیدا کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تنظیمی ثقافت فروغ دی جائے جس میں سینئرز جونیئرز کی بات سنیں۔ رہنما اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔ ایسے نظام موجود ہوں جو یہ جانچ سکیں کہ کام کی جگہ اعتماد کو فروغ دے رہی ہے یا اسے مجروح کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رہنما صرف رائے دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں سے رائے بھی طلب کریں؛ اور انہیں دی جانے والی آرا کو سنجیدگی اور منظم انداز میں زیرِ غور لائیں۔ اس سے بڑھ کر، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان کی ذمہ داری قبول کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام اقدامات میں شفافیت اور کشادگی ناگزیر ہے، تاکہ رائے دینے اور وصول کرنے والے دونوں خود کو محفوظ، خوش آمدید اور قابلِ قدر محسوس کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دوسرا حصہ: جذباتی وابستگی اور تعلق&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازم کا دوسرا بڑا حصہ یا مفاد وہ مثبت جذبات ہیں جو وہ کام کے دوران محسوس کرتا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے پر فخر ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہے کہ اس کی فکر کی جاتی ہے؟ کیا وہ کمپنی کے اخراجات بچانے کے لیے دل سے کوشش کرتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سوالات کا جواب سادہ ہے: ملازم اسی وقت ادارے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جب ادارہ بھی اس کے مسائل کو سنجیدگی سے اپنا مسئلہ سمجھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ رہنما جو ہمدردی رکھتے ہیں اور ملازمین کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا طرزِ عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ملازمین سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انسانی اور ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک نئی کاروباری کمپنی میں، جہاں ملازمین اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈی) سے بڑھ کر کام انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی وجہ خاصی معنی خیز تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ”وہ میرے خاندانی مسائل کے بارے میں پوچھتے ہیں، میری والدہ کی بیماری کی خبر رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈاکٹروں سے وقت لینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ملازم نے کہا کہ ”انہوں نے مجھ سے میری سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ میں اپنے پسندیدہ پیشہ ور رہنما کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا، تو انہوں نے میری اس شخصیت سے ملاقات ہی کروا دی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ جذباتی وابستگی ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ذاتی اور مخلصانہ رویے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں اور ادارے کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو دیرپا ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیسرا حصہ: فکری نمو اور بااختیار بنانا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازم اور ادارے کے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ قیادت ملازمین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملازم نے کہا کہ ”وہ مجھے اہم اجلاسوں میں ساتھ لے جاتے تھے اور یہ دیکھنے کا موقع دیتے تھے کہ اعلیٰ انتظامیہ کس انداز سے سوچتی اور فیصلے کرتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکری وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ملازمین کو تخلیقی سوچ پر مبنی مشاورتی نشستوں میں شریک کیا جائے۔ ان سے ان کے شعبۂ مہارت کے مطابق تجاویز اور آرا طلب کی جائیں اور انہیں محض احکامات پر عمل کرنے والا نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنے والا شریکِ کار سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ذمہ داریاں تفویض کرنا اور ان کی کامیاب تکمیل پر کھلے دل سے اعتراف اور تحسین کرنا بھی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ملازم نے مجھ سے کہا کہ ”مجھے اس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا جب میرے رہنما نے میری کامیابی کا ذکر ہر متعلقہ گروپ اور ہر مناسب ای میل میں کیا۔ وہ مسلسل یہ بتاتے رہے کہ میں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے لمحات انسانی یادداشت میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور ادارے کے ساتھ وابستگی کو گہرا کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر حصے داری سے مراد مالی مفاد لیا جاتا ہے اور شیئرز کا تصور حصص کی ملکیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ملازمین کو حصص کی ملکیت دینے والی اسکیمیں اگرچہ موجود ہیں، لیکن بہت کم اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض تنظیمیں ملازمین سے قانونی معاہدے بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ملازمت نہ چھوڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایک چیز جو مکمل طور پر رہنماؤں کے اختیار میں ہوتی ہے، وہ ہے فکری، جذباتی اور نفسیاتی وابستگی پیدا کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ غیر مرئی مگر نہایت مؤثر رشتے ہیں جو ملازمین کو ادارے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر یہ تعلقات قانونی پابندیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ملازم کی وفاداری تک رسائی کا راستہ اس کے دل اور ذہن سے ہو کر گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 17 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>احساسِ ملکیت کا فقدان ہے۔ یہ جملہ میں بارہا سنتی ہوں۔ جب بھی میں رہنماؤں کو درپیش بڑے چیلنجز کا جائزہ لیتا ہوں، ملازمین میں احساسِ ملکیت کی کمی اُن کے سرفہرست مسائل میں شامل ہوتی ہے۔ ”انہیں کوئی پروا نہیں۔“ ”وہ کام کو بوجھ سمجھتے ہیں۔“ ”ان لوگوں کی بے حسی کا کیا کیا جائے جن کی دلچسپی صرف تنخواہ لینے تک محدود ہے؟“ ”یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ دفتر کی سہولتوں کو کس قدر معمولی سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔“ یہ محض چند شکایات نہیں، بلکہ ایک وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تنظیمی خرابی اور تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔</strong></p>
<p>یہ ایک ایسا وائرس ہے جو تیزی سے کسی بھی ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسے آئی این ایم جے وائرس کہا جا سکتا ہے، یعنی ”یہ میرا کام نہیں“۔ یہ طرزِ فکر ایک ایسے کیڑے کی مانند ہے جو ملازمین کی پیداواری صلاحیت اور کام سے وابستگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔</p>
<p>یہ ”یہ میرا کام نہیں“ والا کیڑا کھٹمل کی طرح ہوتا ہے۔ کھٹمل عموماً بے خبری میں جلد کے کھلے حصوں کو کاٹتے ہیں اور ان کے نشانات اکثر قطاروں یا جھرمٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ کاٹتے وقت ہلکی سی بے حسی پیدا کرنے والا مادہ جسم میں داخل کر دیتے ہیں، اس لیے اکثر انسان کو فوراً احساس بھی نہیں ہوتا، اور اس کی علامات چند گھنٹوں سے لے کر چودہ دن تک بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>بالکل اسی طرح آئی این ایم جے کیڑا محض ایک پریشان کن عادت نہیں، بلکہ ادارے کی رگوں سے خون نچوڑ لینے والی بیماری ہے۔ یہ رویہ تخلیقی صلاحیت اور جدت پسندی کو ختم کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ ”کام ٹالو اور جان چھڑاؤ“ کی ثقافت غالب آنے لگتی ہے۔ لوگ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ”ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے“ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔</p>
<p>سپرد کیے گئے کام تاخیر کا شکار ہونے لگتے ہیں، تاخیر کا الزام دوسروں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر وہی دوسرے لوگ کسی تیسرے کو موردِ الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسا غیر ذمہ دارانہ اور زہریلا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لوگ صرف سکون کا سانس لینے کے لیے دفتر اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نکلنے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔</p>
<p>ذرا تصور کیجیے کہ ملازمین ادارے کو محض ایک عارضی پڑاؤ سمجھنے لگیں۔ وہ صرف اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈیز) کی کم سے کم ضروریات پوری کریں اور بس۔ یہی وہ تلخ حقائق ہیں جو رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: ”ملازمین کی وفاداری اب قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر جنریشن زیڈ (جن زی) کے لوگ بہتر پیش کش ملتے ہی اگلی نوکری کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔“ تاہم، اس رائے سے مکمل اتفاق ضروری نہیں؛ اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“</p>
<p>اس سوال کے جواب میں عموماً تنخواہوں، کاروبار کی کمزور کارکردگی کے باوجود اضافوں، مراعات اور دیگر سہولتوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، لیکن یہ صرف مسابقتی معیار قائم کرتے ہیں۔ ان مالی مراعات کے ذریعے ملازمین کا ادارے میں حصہ یا مفاد محض بنیادی سطح تک محدود رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی مراعات کی نقل کرنا یا ان سے بہتر پیش کش دینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم متبادل تقرری نامہ لے کر آتا ہے اور کمپنی اس کے ساتھ تنخواہ اور مراعات پر سودے بازی کرتی ہے، تو یہ دراصل اسی کمزور احساسِ ملکیت کی واضح مثال ہوتی ہے۔</p>
<p>مالکان کا کمپنی میں مالی مفاد اور حصہ ہوتا ہے، جبکہ ملازمین کے پاس عموماً ایسا مالی حصہ نہیں ہوتا۔ تاہم، ان کے اندر ایک نفسیاتی وابستگی پیدا کی جا سکتی ہے جو انہیں ادارے کے ساتھ مخلص، پُرجوش اور وفادار بناتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کے انداز اور رویّے کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔</p>
<p>رہنما یہ کہہ سکتے ہیں کہ ملازمین کے مالی مفاد میں اضافے کے اختیارات ان کے پاس محدود ہیں، لیکن ادارے سے وابستگی کے دیگر پہلوؤں کو مضبوط بنانا مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہے۔ ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے:</p>
<p><strong>پہلا حصہ: نفسیاتی تحفظ اور آسودگی</strong></p>
<p>لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ اگر وہ وہاں خود کو غیر محفوظ، خوف زدہ یا دباؤ کا شکار محسوس کریں تو زیادہ عرصہ تک اس ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے۔ رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول یقینی بنائے جہاں ملازمین خود کو نفسیاتی طور پر محفوظ اور پُرسکون محسوس کریں۔</p>
<p>انہیں محسوس ہو کہ ان کی آواز سنی جاتی ہے، انہیں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی قدر کی جاتی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ادارے کو ان کے لیے گھر جیسا بناتے ہیں۔ یہی عوامل احساسِ ملکیت پیدا کرتے ہیں اور ادارے کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تنظیمی ثقافت فروغ دی جائے جس میں سینئرز جونیئرز کی بات سنیں۔ رہنما اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کریں۔ ایسے نظام موجود ہوں جو یہ جانچ سکیں کہ کام کی جگہ اعتماد کو فروغ دے رہی ہے یا اسے مجروح کر رہی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ رہنما صرف رائے دینے تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسروں سے رائے بھی طلب کریں؛ اور انہیں دی جانے والی آرا کو سنجیدگی اور منظم انداز میں زیرِ غور لائیں۔ اس سے بڑھ کر، وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور ان کی ذمہ داری قبول کریں۔</p>
<p>ان تمام اقدامات میں شفافیت اور کشادگی ناگزیر ہے، تاکہ رائے دینے اور وصول کرنے والے دونوں خود کو محفوظ، خوش آمدید اور قابلِ قدر محسوس کریں۔</p>
<p><strong>دوسرا حصہ: جذباتی وابستگی اور تعلق</strong></p>
<p>ملازم کا دوسرا بڑا حصہ یا مفاد وہ مثبت جذبات ہیں جو وہ کام کے دوران محسوس کرتا ہے۔ کیا اسے اپنے ادارے پر فخر ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہے کہ اس کی فکر کی جاتی ہے؟ کیا وہ کمپنی کے اخراجات بچانے کے لیے دل سے کوشش کرتا ہے؟</p>
<p>ان سوالات کا جواب سادہ ہے: ملازم اسی وقت ادارے کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جب ادارہ بھی اس کے مسائل کو سنجیدگی سے اپنا مسئلہ سمجھے۔</p>
<p>وہ رہنما جو ہمدردی رکھتے ہیں اور ملازمین کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کا طرزِ عمل دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ملازمین سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ انسانی اور ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کرتے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ایک نئی کاروباری کمپنی میں، جہاں ملازمین اپنی جاب ڈسکرپشن (جے ڈی) سے بڑھ کر کام انجام دینے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی وجہ خاصی معنی خیز تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ”وہ میرے خاندانی مسائل کے بارے میں پوچھتے ہیں، میری والدہ کی بیماری کی خبر رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈاکٹروں سے وقت لینے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟“</p>
<p>ایک اور ملازم نے کہا کہ ”انہوں نے مجھ سے میری سب سے بڑی خواہش پوچھی۔ میں اپنے پسندیدہ پیشہ ور رہنما کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا، تو انہوں نے میری اس شخصیت سے ملاقات ہی کروا دی۔“</p>
<p>یہی وہ جذباتی وابستگی ہے جسے توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے ذاتی اور مخلصانہ رویے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں اور ادارے کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرتے ہیں جو دیرپا ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>تیسرا حصہ: فکری نمو اور بااختیار بنانا</strong></p>
<p>ملازم اور ادارے کے تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ قیادت ملازمین کو سیکھنے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع فراہم کرے۔</p>
<p>ایک ملازم نے کہا کہ ”وہ مجھے اہم اجلاسوں میں ساتھ لے جاتے تھے اور یہ دیکھنے کا موقع دیتے تھے کہ اعلیٰ انتظامیہ کس انداز سے سوچتی اور فیصلے کرتی ہے۔“</p>
<p>فکری وابستگی پیدا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ یہ بھی ہے کہ ملازمین کو تخلیقی سوچ پر مبنی مشاورتی نشستوں میں شریک کیا جائے۔ ان سے ان کے شعبۂ مہارت کے مطابق تجاویز اور آرا طلب کی جائیں اور انہیں محض احکامات پر عمل کرنے والا نہیں، بلکہ مسئلہ حل کرنے والا شریکِ کار سمجھا جائے۔</p>
<p>اسی طرح ذمہ داریاں تفویض کرنا اور ان کی کامیاب تکمیل پر کھلے دل سے اعتراف اور تحسین کرنا بھی تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔</p>
<p>ایک ملازم نے مجھ سے کہا کہ ”مجھے اس وقت بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا جب میرے رہنما نے میری کامیابی کا ذکر ہر متعلقہ گروپ اور ہر مناسب ای میل میں کیا۔ وہ مسلسل یہ بتاتے رہے کہ میں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا ہے۔“</p>
<p>ایسے لمحات انسانی یادداشت میں دیر تک زندہ رہتے ہیں اور ادارے کے ساتھ وابستگی کو گہرا کر دیتے ہیں۔</p>
<p>عام طور پر حصے داری سے مراد مالی مفاد لیا جاتا ہے اور شیئرز کا تصور حصص کی ملکیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ملازمین کو حصص کی ملکیت دینے والی اسکیمیں اگرچہ موجود ہیں، لیکن بہت کم اداروں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض تنظیمیں ملازمین سے قانونی معاہدے بھی کرتی ہیں تاکہ وہ ملازمت نہ چھوڑیں۔</p>
<p>تاہم، ایک چیز جو مکمل طور پر رہنماؤں کے اختیار میں ہوتی ہے، وہ ہے فکری، جذباتی اور نفسیاتی وابستگی پیدا کرنا۔</p>
<p>یہ وہ غیر مرئی مگر نہایت مؤثر رشتے ہیں جو ملازمین کو ادارے کے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں۔ بہت سے مواقع پر یہ تعلقات قانونی پابندیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہوتے ہیں۔ آخرکار، جیسا کہ کہا جاتا ہے، ملازم کی وفاداری تک رسائی کا راستہ اس کے دل اور ذہن سے ہو کر گزرتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 17 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506577</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 14:50:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181446132f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181446132f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی اہم خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506580/imf-imf-and-pakistan-budget-2026-27-federal-budget-fy2026-27-budget-fy27-fy2026-27-budget-federal-budget-2026-2027-federal-budget-fy2026-27-key-features-of-budget</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں مثبت اور منفی، دونوں طرح کی اہم خصوصیات موجود ہیں، جن کی نشاندہی ذیل میں کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مالیاتی استحکام میں کامیابی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے عوامی مالیات کے استحکام میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کے حجم کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس خسارے میں بڑی حد تک کمی لائی گئی ہے۔ مالی سال 2021-22 میں یہ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم و بیش اسی سطح پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں بڑی کمی مالی سال 2024-25 میں سامنے آئی، جب یہ تیزی سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک آگیا، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں مزید گھٹ کر صرف 3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ بجٹ خسارے کی تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے میں اس کمی کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں نمایاں بہتری تھی۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی جی ڈی پی کے تناسب سے شرح میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی مجموعی کمی مکمل طور پر محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کا نتیجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو نکال کر خالص بجٹ خسارہ مالی سال 2023-24 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2024-25 میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس میں بدل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے خسارے سے رواں مالی سال 2025-26 میں ممکنہ طور پر صرف 3 فیصد تک مزید بڑی کمی بظاہر قرضوں کی خدمت (ڈیٹ سروسنگ) کے اخراجات میں متوقع کمی کے باعث ہوئی ہے، جو جی ڈی پی کے 7.6 فیصد سے گھٹ کر 5.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیونکہ مالی سال 2025-26 کے دوران شرح سود میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر مالی سال 2026-27 کے اہداف کی جانب دیکھا جائے تو توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مجموعی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں کچھ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ تخمینہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تیسرے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے عوامی مالیات سے متعلق پیش گوئی کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے اندازہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن جی ڈی پی کے 8.2 فیصد پر برقرار رہے گی، جبکہ وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے مساوی اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کا جزوی ازالہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی اضافے سے ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کو صوبائی گرانٹس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 164 کے تحت حاصل ہونے والی گرانٹس اور وصولیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ الٹی منتقلی (ریورس ٹرانسفر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں ہونے والی منتقلی میں 993 ارب روپے کی متوقع کمی کے ازالے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مجوزہ گرانٹس کا حجم خاصا بڑا ہے، جو 1,035 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق، کوئی صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹ دے سکتا ہے، خواہ وہ مقصد ایسا نہ ہو جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبائی حکومتوں پر دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاق کو ریورس گرانٹس کے اس نئے نظام کے ساتھ وفاقی بجٹ میں یہ مفروضہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں مجموعی بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے بدستور بڑے پیمانے پر نقد سرپلس پیدا کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع کی جا رہی ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں مل کر مالی سال 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا بڑا نقد سرپلس پیدا کریں گی، جو رواں مالی سال کی متوقع سطح کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ بڑے نقد سرپلس اور وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 600 ارب روپے سے زائد کی نمایاں کٹوتی ہو سکتی ہے، جو 22.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹوں کے اعلانات کا انتظار کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا صوبے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، وفاق کو بھاری ریورس گرانٹس کی موجودگی میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس وفاقی تخمینوں سے کم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، یہ صورتِ حال صوبائی حکومتوں کو اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ درحقیقت، آئی ایم ایف پروگرام میں مالی سال 2026-27 کے دوران صوبوں کے اپنے ذرائع سے 400 ارب روپے کی اضافی وسائل جمع کرنے کا ہدف شامل ہے، جس میں بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی آمدن پر پڑنے والے اس ”دباؤ“ سے نکلنا چاہتی ہیں تو انہیں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ اضافی محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کو اپنی بجٹ تقریر میں آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت بین الحکومتی مالیاتی تعلقات میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی واضح وضاحت کرنی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایف بی آر کے محصولات کا نہایت بلند ہدف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وفاقی سطح پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی شرح غالباً صرف 10.5 فیصد رہے گی، جس کے نتیجے میں سالانہ ہدف کے مقابلے میں 1,148 ارب روپے کی نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کی محصولات کا ایک نہایت بلند ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی سطح کے مقابلے میں 2,281 ارب روپے کا اضافہ ہے، جو 17.6 فیصد شرح نمو کے مساوی بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے حجم میں برائے نام بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد 4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور تقریباً 8 فیصد افراطِ زر پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایف بی آر کو اپنی محصولات میں مزید 5.5 فیصد اضافی نمو حاصل کرنا ہوگی۔ انفرادی محصولات کے اہداف کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، دونوں کی متوقع شرح نمو تقریباً یکساں رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، نسبتاً چھوٹی نوعیت کی متعدد ٹیکس رعایتیں تجویز کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر محصولات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کئی حیران کن پہلوؤں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اول، صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس کی منتقلی کا نیا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ دوم، اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس تجویز کے بغیر، اور ٹیکس انتظامیہ میں غیر یقینی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے، ایف بی آر کے لیے 17.6 فیصد محصولات کی نمو کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبائی حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی خدمات میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی ترقی کے عمل کی رفتار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مضمون میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے مختلف حصوں کا مزید تفصیلی اور جزوی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 16 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں مثبت اور منفی، دونوں طرح کی اہم خصوصیات موجود ہیں، جن کی نشاندہی ذیل میں کی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p><strong>مالیاتی استحکام میں کامیابی</strong></p>
<p>ملک کے عوامی مالیات کے استحکام میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی بجٹ خسارے کے حجم کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ اس خسارے میں بڑی حد تک کمی لائی گئی ہے۔ مالی سال 2021-22 میں یہ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 7.7 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ مالی سال 2022-23 میں یہ کم و بیش اسی سطح پر برقرار رہا۔</p>
<p>خسارے میں بڑی کمی مالی سال 2024-25 میں سامنے آئی، جب یہ تیزی سے کم ہو کر جی ڈی پی کے 5.4 فیصد تک آگیا، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں مزید گھٹ کر صرف 3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ یہ بجٹ خسارے کی تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>خسارے میں اس کمی کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر محصولات کی وصولی میں نمایاں بہتری تھی۔ مالی سال 2024-25 میں ٹیکس بمقابلہ جی ڈی پی شرح میں 1.2 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ غیر ٹیکس محصولات کی جی ڈی پی کے تناسب سے شرح میں 1.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے مساوی مجموعی کمی مکمل طور پر محصولات میں اس غیر معمولی اضافے کا نتیجہ تھی۔</p>
<p>اسی دوران، قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو نکال کر خالص بجٹ خسارہ مالی سال 2023-24 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد کے برابر تھا، جو مالی سال 2024-25 میں تبدیل ہو کر جی ڈی پی کے 2.2 فیصد کے بڑے پرائمری سرپلس میں بدل گیا۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 میں جی ڈی پی کے 5.4 فیصد کے خسارے سے رواں مالی سال 2025-26 میں ممکنہ طور پر صرف 3 فیصد تک مزید بڑی کمی بظاہر قرضوں کی خدمت (ڈیٹ سروسنگ) کے اخراجات میں متوقع کمی کے باعث ہوئی ہے، جو جی ڈی پی کے 7.6 فیصد سے گھٹ کر 5.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہوا، کیونکہ مالی سال 2025-26 کے دوران شرح سود میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔</p>
<p>اب اگر مالی سال 2026-27 کے اہداف کی جانب دیکھا جائے تو توقع ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا مجموعی بجٹ خسارہ رواں مالی سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں کچھ بڑھ کر جی ڈی پی کے 3.6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ تخمینہ جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے تیسرے جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے عوامی مالیات سے متعلق پیش گوئی کے قریب ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے اندازہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن جی ڈی پی کے 8.2 فیصد پر برقرار رہے گی، جبکہ وفاقی اخراجات میں جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کے مساوی اضافہ متوقع ہے۔ اس اضافے کا جزوی ازالہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے مساوی اضافے سے ہوگا، جس کے نتیجے میں مجموعی بجٹ خسارے میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے برابر اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت کی جانب لے جاتی ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:</p>
<p><strong>وفاقی حکومت کو صوبائی گرانٹس</strong></p>
<p>وفاقی بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 164 کے تحت حاصل ہونے والی گرانٹس اور وصولیوں کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ الٹی منتقلی (ریورس ٹرانسفر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی مد میں ہونے والی منتقلی میں 993 ارب روپے کی متوقع کمی کے ازالے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے دی جانے والی مجوزہ گرانٹس کا حجم خاصا بڑا ہے، جو 1,035 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق، کوئی صوبہ کسی بھی مقصد کے لیے گرانٹ دے سکتا ہے، خواہ وہ مقصد ایسا نہ ہو جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔</p>
<p><strong>صوبائی حکومتوں پر دباؤ</strong></p>
<p>صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاق کو ریورس گرانٹس کے اس نئے نظام کے ساتھ وفاقی بجٹ میں یہ مفروضہ بھی اختیار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں مجموعی بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کے لیے بدستور بڑے پیمانے پر نقد سرپلس پیدا کرتی رہیں گی۔</p>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں مل کر مالی سال 2026-27 میں 1,794 ارب روپے کا بڑا نقد سرپلس پیدا کریں گی، جو رواں مالی سال کی متوقع سطح کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ بڑے نقد سرپلس اور وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے نتیجے میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 600 ارب روپے سے زائد کی نمایاں کٹوتی ہو سکتی ہے، جو 22.5 فیصد کمی کے برابر ہے۔</p>
<p>اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹوں کے اعلانات کا انتظار کیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا صوبے وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔ تاہم، وفاق کو بھاری ریورس گرانٹس کی موجودگی میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ صوبائی حکومتوں کے نقد سرپلس وفاقی تخمینوں سے کم رہیں۔</p>
<p>تاہم، یہ صورتِ حال صوبائی حکومتوں کو اپنی آمدن کے ذرائع بڑھانے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ درحقیقت، آئی ایم ایف پروگرام میں مالی سال 2026-27 کے دوران صوبوں کے اپنے ذرائع سے 400 ارب روپے کی اضافی وسائل جمع کرنے کا ہدف شامل ہے، جس میں بالخصوص زرعی آمدنی پر ٹیکس کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی آمدن پر پڑنے والے اس ”دباؤ“ سے نکلنا چاہتی ہیں تو انہیں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ اضافی محصولات اکٹھے کرنا ہوں گے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ کو اپنی بجٹ تقریر میں آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت بین الحکومتی مالیاتی تعلقات میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی واضح وضاحت کرنی چاہیے تھی۔</p>
<p><strong>ایف بی آر کے محصولات کا نہایت بلند ہدف</strong></p>
<p>مالی سال 2025-26 میں ایف بی آر کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وفاقی سطح پر ٹیکس محصولات میں اضافے کی شرح غالباً صرف 10.5 فیصد رہے گی، جس کے نتیجے میں سالانہ ہدف کے مقابلے میں 1,148 ارب روپے کی نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کی محصولات کا ایک نہایت بلند ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ گزشتہ مالی سال کی سطح کے مقابلے میں 2,281 ارب روپے کا اضافہ ہے، جو 17.6 فیصد شرح نمو کے مساوی بنتا ہے۔</p>
<p>قومی ٹیکس بنیاد (ٹیکس بیس) کے حجم میں برائے نام بنیادوں پر 12 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کی بنیاد 4 فیصد حقیقی جی ڈی پی نمو اور تقریباً 8 فیصد افراطِ زر پر رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایف بی آر کو اپنی محصولات میں مزید 5.5 فیصد اضافی نمو حاصل کرنا ہوگی۔ انفرادی محصولات کے اہداف کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، دونوں کی متوقع شرح نمو تقریباً یکساں رکھی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، نسبتاً چھوٹی نوعیت کی متعدد ٹیکس رعایتیں تجویز کی گئی ہیں، جو مجموعی طور پر محصولات میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر، مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کئی حیران کن پہلوؤں کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ اول، صوبائی حکومتوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو ایک کھرب روپے سے زائد کی گرانٹس کی منتقلی کا نیا طریقۂ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ دوم، اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس تجویز کے بغیر، اور ٹیکس انتظامیہ میں غیر یقینی بہتری پر انحصار کرتے ہوئے، ایف بی آر کے لیے 17.6 فیصد محصولات کی نمو کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>سوم، وفاق کو گرانٹس کی فراہمی کے باعث صوبائی حکومتوں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات میں 22 فیصد سے زائد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوگا جب تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی خدمات میں بڑے پیمانے پر توسیع کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی ترقی کے عمل کی رفتار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p>اگلے مضمون میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے مختلف حصوں کا مزید تفصیلی اور جزوی تجزیہ پیش کیا جائے گا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 16 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506580</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 15:06:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/181501374b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/181501374b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی بجٹ، ایک ہاتھ سے دیکر دوسرے ہاتھ سے لے لینا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506511/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2027 کو بعض حلقوں میں جشن کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔ تاہم یہ جشن قبل از وقت ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نہ تو پرو گروتھ (ترقی پر مبنی) بجٹ ہے اور نہ ہی توسیعی نوعیت کا۔ مجموعی ترقیاتی اخراجات، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر کم ہونے جا رہے ہیں۔ جو مالی گنجائش پیدا کی گئی ہے، وہ زیادہ تر ایک محدود اشرافیہ کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، جن کے اخراجاتی انداز معیشت کی شرحِ نمو میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کریں گے۔ وفاقی سطح پر یہ ایک ریلیف بجٹ ہے، اور کاغذی طور پر اسے صوبائی ترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے فنانس کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت مالیاتی وفاقیت (فنانشل فیڈرلزم) کے ایک بنیادی ساختی نقص کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر غیر روایتی طریقوں سے۔ آئی ایم ایف نے 2017 کی اپنی خصوصی رپورٹ میں پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان کا مالیاتی نظام دوسرے ممالک کے مقابلے میں کچھ حد تک منفرد ہے، اور یہ انفرادیت 7ویں این ایف سی ایوارڈ سے پیدا ہونے والے بڑے عدم توازن کی وجہ سے ہے، جہاں صوبوں کا آمدن میں حصہ ان کی ریسورس موبلائزیشن کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالہا سال تک وفاقی حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے کا زیادہ بوجھ اٹھایا جبکہ صوبوں نے نسبتاً زیادہ اخراجات کیے۔ حالیہ برسوں میں صوبائی سرپلسز بڑی حد تک صوبوں کے پاس ہی جمع رہے، اور بعد ازاں یہ بالآخر ٹی بلز میں سرمایہ کاری کے ذریعے وفاقی مالی خسارے کو فنانس کرتے رہے۔ یہ جمع شدہ سرپلسز ایک طرح کا ڈرائی پاؤڈر ہیں، جو آئی ایم ایف پروگرام کے ختم ہونے کے بعد استعمال کے لیے محفوظ رکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 کا بجٹ، کاغذی طور پر، اس صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے تحت ایک ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ رقم وفاقی حکومت کو منتقل کی جا رہی ہے۔ اس سے اسلام آباد کو یہ گنجائش ملتی ہے کہ وہ اخراجات میں کمی کیے بغیر ٹیکس کم کر سکے، اور ہدف شدہ مالی توازن بھی برقرار رہے۔ تاہم اس میں تکنیکی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ صوبے اپنی مکمل آمدنی کا حصہ اس وقت تک حاصل کرتے ہیں جب تک ایف بی آر کی وصولیاں 13.35 ٹریلین روپے تک نہ پہنچ جائیں؛ اس کے بعد اضافی حصہ وفاقی حکومت کو گرانٹ کی صورت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر ایف بی آر ہدف حاصل نہ کرے تو صوبے مکمل آمدنی کے رسک سے محفوظ رہتے ہیں، بجائے روایتی 43 فیصد شیئر کے۔ یہ انتظام صوبوں کے رضاکارانہ تعاون پر بھی منحصر ہے، اس لیے یہ کوئی مستقل ساختی حل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے اس مالی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے رسمی، امیر اور درمیانی آمدنی والے طبقات کو ریلیف دیا ہے، جن میں تنخواہ دار طبقہ بھی شامل ہے جن پر گزشتہ برسوں میں ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر اور غیر متناسب طور پر بڑھایا گیا تھا۔ اب ان کا ٹیکس کم ہے، تاہم وہ اب بھی 2022 کے مقابلے میں زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ برآمد کنندگان کو کاغذی طور پر بہتر آمدنی نظر آئے گی، لیکن اس بجٹ میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بہت کم اقدامات ہیں۔ کوئی بھی فریق نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیر طبقہ زیادہ خرچ کرے گا، غالباً درآمدی اشیا اور خدمات پر۔ تنخواہ دار گھرانوں کے پاس قابلِ خرچ آمدن میں معمولی اضافہ ہوگا، مگر یہ کسی بڑے ڈیمانڈ ملٹی پلائر کا سبب نہیں بنتا جو ترقی کی سمت بدل سکے۔ اور غریب و غیر رسمی نچلے اور درمیانی طبقے کے لیے عملاً کچھ بھی نہیں ہے۔ جو معمولی فائدہ ہوگا وہ پہلے سے موجود پٹرولیم لیویز کے باعث ہونے والے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات کا بمشکل ازالہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے اہداف حقیقت سے دور حد تک پرامید ہیں۔ براہِ راست ٹیکس وصولی میں 18.3 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں 13.2 فیصد اضافہ متوقع ہے، اور یہ سب ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود۔ کسٹمز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافے کی توقع ہے، حالانکہ اسٹیٹ بینک غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور تجارتی ٹیرف کم ہو رہے ہیں۔ یہ حساب کتاب ہم آہنگ نہیں بیٹھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ خلا ظاہر ہوں گے اور غالب امکان یہی ہے کہ ہوں گے—تو دباؤ دوبارہ ایف بی آر پر آئے گا کہ وہ کارکردگی دکھائے۔ اس کا مطلب ہے کہ رسمی شعبے پر مزید دباؤ: ایڈوانس ادائیگیوں کا مطالبہ، سخت وصولی اقدامات کا اطلاق، اور انہی ٹیکس دہندگان کی طرف دوبارہ رجوع جو ابھی ریلیف کا جشن منا رہے ہیں۔ امیر طبقے کی خوشی مختصر ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران حکومت کے پاس پٹرولیم لیویز بڑھانے کی کافی گنجائش موجود ہے، اور وہ بھی صارفین پر مکمل اثر ڈالے بغیر، خاص طور پر اگر ایران-امریکا ممکنہ معاہدہ تیل کی قیمتوں کو محدود رکھتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی دیگر اقسام بھی دستیاب ہیں۔ یہ آلات جب استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بجٹ ایک چھوٹے طبقے کی طرف سے، جو صرف ریلیف والی سمت دیکھ رہا ہے، ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر لیا گیا ہے۔ وہ دوسری سمت کا حساب نہیں لگا رہے۔ ریلیف حقیقی ہے، لیکن یہ کاغذی اہداف پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ اہداف پورے نہیں ہوتے—جیسا کہ پہلے ادوار میں بھی ہوا ہے—تو آئی ایم ایف سخت اقدامات پر زور دے گا، اور حکومت دوبارہ انہی جیبوں کی طرف جائے گی جنہیں وہ ابھی جزوی طور پر خالی کر چکی ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرے گی جو عام پاکستانیوں کے معیارِ زندگی کو مزید دباؤ میں لاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتیاط ضروری ہے۔ کچھ افراطِ زر کے اثرات کا امکان موجود ہے۔ مرکزی بینک کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2027 کو بعض حلقوں میں جشن کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا ہے۔ تاہم یہ جشن قبل از وقت ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ نہ تو پرو گروتھ (ترقی پر مبنی) بجٹ ہے اور نہ ہی توسیعی نوعیت کا۔ مجموعی ترقیاتی اخراجات، وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر کم ہونے جا رہے ہیں۔ جو مالی گنجائش پیدا کی گئی ہے، وہ زیادہ تر ایک محدود اشرافیہ کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، جن کے اخراجاتی انداز معیشت کی شرحِ نمو میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کریں گے۔ وفاقی سطح پر یہ ایک ریلیف بجٹ ہے، اور کاغذی طور پر اسے صوبائی ترقیاتی اخراجات میں کمی کر کے فنانس کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>حکومت مالیاتی وفاقیت (فنانشل فیڈرلزم) کے ایک بنیادی ساختی نقص کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر غیر روایتی طریقوں سے۔ آئی ایم ایف نے 2017 کی اپنی خصوصی رپورٹ میں پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان کا مالیاتی نظام دوسرے ممالک کے مقابلے میں کچھ حد تک منفرد ہے، اور یہ انفرادیت 7ویں این ایف سی ایوارڈ سے پیدا ہونے والے بڑے عدم توازن کی وجہ سے ہے، جہاں صوبوں کا آمدن میں حصہ ان کی ریسورس موبلائزیشن کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔</p>
<p>سالہا سال تک وفاقی حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے کا زیادہ بوجھ اٹھایا جبکہ صوبوں نے نسبتاً زیادہ اخراجات کیے۔ حالیہ برسوں میں صوبائی سرپلسز بڑی حد تک صوبوں کے پاس ہی جمع رہے، اور بعد ازاں یہ بالآخر ٹی بلز میں سرمایہ کاری کے ذریعے وفاقی مالی خسارے کو فنانس کرتے رہے۔ یہ جمع شدہ سرپلسز ایک طرح کا ڈرائی پاؤڈر ہیں، جو آئی ایم ایف پروگرام کے ختم ہونے کے بعد استعمال کے لیے محفوظ رکھے گئے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2027 کا بجٹ، کاغذی طور پر، اس صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے تحت ایک ٹریلین روپے سے کچھ زیادہ رقم وفاقی حکومت کو منتقل کی جا رہی ہے۔ اس سے اسلام آباد کو یہ گنجائش ملتی ہے کہ وہ اخراجات میں کمی کیے بغیر ٹیکس کم کر سکے، اور ہدف شدہ مالی توازن بھی برقرار رہے۔ تاہم اس میں تکنیکی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ صوبے اپنی مکمل آمدنی کا حصہ اس وقت تک حاصل کرتے ہیں جب تک ایف بی آر کی وصولیاں 13.35 ٹریلین روپے تک نہ پہنچ جائیں؛ اس کے بعد اضافی حصہ وفاقی حکومت کو گرانٹ کی صورت میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اگر ایف بی آر ہدف حاصل نہ کرے تو صوبے مکمل آمدنی کے رسک سے محفوظ رہتے ہیں، بجائے روایتی 43 فیصد شیئر کے۔ یہ انتظام صوبوں کے رضاکارانہ تعاون پر بھی منحصر ہے، اس لیے یہ کوئی مستقل ساختی حل نہیں۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے اس مالی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے رسمی، امیر اور درمیانی آمدنی والے طبقات کو ریلیف دیا ہے، جن میں تنخواہ دار طبقہ بھی شامل ہے جن پر گزشتہ برسوں میں ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر اور غیر متناسب طور پر بڑھایا گیا تھا۔ اب ان کا ٹیکس کم ہے، تاہم وہ اب بھی 2022 کے مقابلے میں زیادہ ادا کر رہے ہیں۔ برآمد کنندگان کو کاغذی طور پر بہتر آمدنی نظر آئے گی، لیکن اس بجٹ میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بہت کم اقدامات ہیں۔ کوئی بھی فریق نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ نظر نہیں آتا۔</p>
<p>امیر طبقہ زیادہ خرچ کرے گا، غالباً درآمدی اشیا اور خدمات پر۔ تنخواہ دار گھرانوں کے پاس قابلِ خرچ آمدن میں معمولی اضافہ ہوگا، مگر یہ کسی بڑے ڈیمانڈ ملٹی پلائر کا سبب نہیں بنتا جو ترقی کی سمت بدل سکے۔ اور غریب و غیر رسمی نچلے اور درمیانی طبقے کے لیے عملاً کچھ بھی نہیں ہے۔ جو معمولی فائدہ ہوگا وہ پہلے سے موجود پٹرولیم لیویز کے باعث ہونے والے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات کا بمشکل ازالہ کرے گا۔</p>
<p>ایف بی آر کے اہداف حقیقت سے دور حد تک پرامید ہیں۔ براہِ راست ٹیکس وصولی میں 18.3 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں 13.2 فیصد اضافہ متوقع ہے، اور یہ سب ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود۔ کسٹمز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافے کی توقع ہے، حالانکہ اسٹیٹ بینک غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور تجارتی ٹیرف کم ہو رہے ہیں۔ یہ حساب کتاب ہم آہنگ نہیں بیٹھتا۔</p>
<p>جب یہ خلا ظاہر ہوں گے اور غالب امکان یہی ہے کہ ہوں گے—تو دباؤ دوبارہ ایف بی آر پر آئے گا کہ وہ کارکردگی دکھائے۔ اس کا مطلب ہے کہ رسمی شعبے پر مزید دباؤ: ایڈوانس ادائیگیوں کا مطالبہ، سخت وصولی اقدامات کا اطلاق، اور انہی ٹیکس دہندگان کی طرف دوبارہ رجوع جو ابھی ریلیف کا جشن منا رہے ہیں۔ امیر طبقے کی خوشی مختصر ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران حکومت کے پاس پٹرولیم لیویز بڑھانے کی کافی گنجائش موجود ہے، اور وہ بھی صارفین پر مکمل اثر ڈالے بغیر، خاص طور پر اگر ایران-امریکا ممکنہ معاہدہ تیل کی قیمتوں کو محدود رکھتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی دیگر اقسام بھی دستیاب ہیں۔ یہ آلات جب استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑتا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>یہ بجٹ ایک چھوٹے طبقے کی طرف سے، جو صرف ریلیف والی سمت دیکھ رہا ہے، ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر لیا گیا ہے۔ وہ دوسری سمت کا حساب نہیں لگا رہے۔ ریلیف حقیقی ہے، لیکن یہ کاغذی اہداف پر مبنی ہے۔</p>
<p>جب یہ اہداف پورے نہیں ہوتے—جیسا کہ پہلے ادوار میں بھی ہوا ہے—تو آئی ایم ایف سخت اقدامات پر زور دے گا، اور حکومت دوبارہ انہی جیبوں کی طرف جائے گی جنہیں وہ ابھی جزوی طور پر خالی کر چکی ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرے گی جو عام پاکستانیوں کے معیارِ زندگی کو مزید دباؤ میں لاتے ہیں۔</p>
<p>احتیاط ضروری ہے۔ کچھ افراطِ زر کے اثرات کا امکان موجود ہے۔ مرکزی بینک کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506511</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 15:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/161541237e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/161541237e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آج ریلیف، کل کا کیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجٹ تقریر نے کسی حد تک امید کی کرن دکھائی ہے۔ ابتدائی تاثر یہ ہے کہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ کارپوریٹ شعبے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، خاص طور پر برآمدی صنعتوں، رئیل اسٹیٹ کے شعبے، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں یا پنشنرز کی پنشن میں کوئی غیرمعمولی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اب معیشت کو استحکام کے مرحلے سے نکال کر نمو کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں، خصوصاً ایف بی آر کے پرعزم ٹیکس ہدف کا حصول اور اس صورت میں درآمدات پر قابو رکھنا، اگر معیشت واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا، معیشت ابھی بھی گویا کوما میں ہے، البتہ چند ’’لالی پاپ‘‘ بانٹ دیے گئے ہیں، اور ان کا بڑا حصہ خوش حال طبقے کے حصے میں آیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے ریلیف اقدامات اور آمدنی بڑھانے کے کسی بڑے نئے اقدام کے بغیر حکومت یہ توقع کیسے کر رہی ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 17.6 فیصد بڑھ جائیں گی، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں صرف 13.2 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے؟ اضافی 4.4 فیصد کہاں سے آئے گا، اور ٹیکس ریلیف کی لاگت کس طرح پوری کی جائے گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت پہلے ہی یہ فرض کر چکی ہے کہ ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا، اور مالیاتی فریم ورک میں پیدا ہونے والا خلا آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں کی جانب سے ایک مرتبہ ملنے والی 1.1 کھرب روپے کی گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔ اس سے بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری فسکل بیلنس) کا ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت محصولات کے معاملے میں آئی ایم ایف سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جیسا کہ 2013 سے 2016 کے پروگرام کے دوران اُس وقت کی مسلم لیگ (ن) حکومت نے متعدد بار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر اس میں ایک اہم پیچیدگی بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق صوبوں کو ایف بی آر کی 13.35 کھرب روپے تک کی وصولیوں پر این ایف سی کے تحت اپنا مکمل حصہ ملے گا۔ تاہم 13.35 کھرب روپے سے 15.3 کھرب روپے تک کی اضافی وصولیوں پر صوبوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حصے کا 57.5 فیصد وفاق کو بطور گرانٹ واپس کریں گے۔ اگر ایف بی آر کی وصولیاں ہدف سے کم رہتی ہیں، جس کا امکان بہت سے مبصرین ظاہر کر رہے ہیں، تو صوبائی گرانٹ بھی اسی تناسب سے کم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال تاہم حکومت داد و تحسین سمیٹ رہی ہے۔ خوش حال طبقے کے پاس خوشی منانے کی کئی وجوہات ہیں۔ سپر ٹیکس سے استثنا کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، بیرون ملک اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، بزنس کلاس سفر پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے، غیرملکی کریڈٹ کارڈ لین دین پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ٹیکسوں میں نرمی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنخواہ دار طبقے کی جانب سے بھی مثبت ردعمل متوقع ہے۔ سولر انڈسٹری اس بات پر مطمئن ہے کہ مجوزہ ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی درآمدات پر دی گئی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے، اگرچہ وسیع تر آٹو پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔ اس کے علاوہ چند رعایتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان بھی مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکسٹائل صنعت سپر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے نقد رقوم کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، اگرچہ برآمد کنندگان کی خواہش تھی کہ کم از کم ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی برآمدات پر انکم ٹیکس استثنا میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے، رعایتی مالیاتی سہولتوں پر شرحیں کم کی گئی ہیں اور دیگر مراعات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ اقدامات برآمدات میں نمایاں اضافہ کر پاتے ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ برآمد کنندگان کی آمدنی میں بہتری یقینی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجر برادری بھی خوش ہے کیونکہ یہ اقدامات عملی طور پر ایک طرح کی ایمنسٹی اسکیم کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض ایف ایم سی جی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ کچھ مصنوعات کو تھرڈ شیڈول سے نکال کر عمومی جی ایس ٹی نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے اضافی 4 فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ میں بھی زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کم ٹیکسوں کے باعث مختلف شعبوں کی منافع آوری بڑھے گی اور اسی کے نتیجے میں کمپنیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ریفائنری اور آٹو سیکٹر کی آئندہ پالیسیوں میں مزید مراعات دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقے بھی خاصے پُرجوش ہیں۔ ٹیکسوں میں نرمی اور بعض معروف وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کی متوقع آمد، جائیداد اور حصص بازار دونوں میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بجٹ میں سب سے نمایاں کمی یہ ہے کہ غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے کوئی بامعنی ریلیف نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں خوش حال طبقے، کاروباری حلقوں، سرمایہ کاروں اور متوسط طبقے کے بڑے حصے کو ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں، وہیں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات سے نبرد آزما کم آمدن والے افراد کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ سہارا دکھائی نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم از کم اجرت میں محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو ایسے وقت میں ایک معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے جب مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور ایندھن کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے لگی ہیں۔ کم آمدن والے گھرانوں کے لیے، جن کے اخراجات پر ٹرانسپورٹ، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نسبتاً زیادہ اثر پڑتا ہے، یہ اضافہ کسی نمایاں ریلیف کا باعث بنتا نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بجٹ سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان میں تو امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن آمدنی کے نچلے درجوں پر موجود طبقات کے لیے اس کے فوائد بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری طور پر اقتصادی نمو کا ہدف صرف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ یہ صورت حال اگرچہ تباہ کن نہیں، لیکن اسے مضبوط اقتصادی بحالی کی علامت بھی نہیں کہا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال سبھی اس ’’لالی پاپ‘‘ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مگر جلد یا بدیر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اگر ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ممکن ہے صوبائی گرانٹس مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں۔ اگر آئی ایم ایف نے چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تو منی بجٹ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اور اگر چھوٹ مل بھی جاتی ہے تو تیز تر اقتصادی نمو درآمدات اور بیرونی شعبے کے عدم توازن کے ذریعے ایک بار پھر معیشت کو ضرورت سے زیادہ گرم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بنیادی اور ساختی اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہیں صرف کچھ عرصے کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن فی الحال تو جشن کا سماں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 13 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجٹ تقریر نے کسی حد تک امید کی کرن دکھائی ہے۔ ابتدائی تاثر یہ ہے کہ کوئی بڑا نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، جبکہ کارپوریٹ شعبے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، خاص طور پر برآمدی صنعتوں، رئیل اسٹیٹ کے شعبے، زیادہ آمدن رکھنے والے افراد اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں یا پنشنرز کی پنشن میں کوئی غیرمعمولی اضافہ نہیں کیا گیا۔ مجموعی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اب معیشت کو استحکام کے مرحلے سے نکال کر نمو کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>تاہم سنگین چیلنجز بدستور موجود ہیں، خصوصاً ایف بی آر کے پرعزم ٹیکس ہدف کا حصول اور اس صورت میں درآمدات پر قابو رکھنا، اگر معیشت واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔</p>
<p>جیسا کہ کسی نے بجا طور پر کہا، معیشت ابھی بھی گویا کوما میں ہے، البتہ چند ’’لالی پاپ‘‘ بانٹ دیے گئے ہیں، اور ان کا بڑا حصہ خوش حال طبقے کے حصے میں آیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے ریلیف اقدامات اور آمدنی بڑھانے کے کسی بڑے نئے اقدام کے بغیر حکومت یہ توقع کیسے کر رہی ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 17.6 فیصد بڑھ جائیں گی، جبکہ برائے نام جی ڈی پی میں صرف 13.2 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے؟ اضافی 4.4 فیصد کہاں سے آئے گا، اور ٹیکس ریلیف کی لاگت کس طرح پوری کی جائے گی؟</p>
<p>بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت پہلے ہی یہ فرض کر چکی ہے کہ ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکے گا، اور مالیاتی فریم ورک میں پیدا ہونے والا خلا آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں کی جانب سے ایک مرتبہ ملنے والی 1.1 کھرب روپے کی گرانٹ سے پورا کیا جائے گا۔ اس سے بنیادی مالیاتی توازن (پرائمری فسکل بیلنس) کا ہدف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت محصولات کے معاملے میں آئی ایم ایف سے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جیسا کہ 2013 سے 2016 کے پروگرام کے دوران اُس وقت کی مسلم لیگ (ن) حکومت نے متعدد بار کیا تھا۔</p>
<p>مگر اس میں ایک اہم پیچیدگی بھی موجود ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے مطابق صوبوں کو ایف بی آر کی 13.35 کھرب روپے تک کی وصولیوں پر این ایف سی کے تحت اپنا مکمل حصہ ملے گا۔ تاہم 13.35 کھرب روپے سے 15.3 کھرب روپے تک کی اضافی وصولیوں پر صوبوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے حصے کا 57.5 فیصد وفاق کو بطور گرانٹ واپس کریں گے۔ اگر ایف بی آر کی وصولیاں ہدف سے کم رہتی ہیں، جس کا امکان بہت سے مبصرین ظاہر کر رہے ہیں، تو صوبائی گرانٹ بھی اسی تناسب سے کم ہو جائے گی۔</p>
<p>فی الحال تاہم حکومت داد و تحسین سمیٹ رہی ہے۔ خوش حال طبقے کے پاس خوشی منانے کی کئی وجوہات ہیں۔ سپر ٹیکس سے استثنا کی حد بڑھا کر 50 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، بیرون ملک اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، بزنس کلاس سفر پر ٹیکس کم کر دیا گیا ہے، غیرملکی کریڈٹ کارڈ لین دین پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی ٹیکسوں میں نرمی کی گئی ہے۔</p>
<p>تنخواہ دار طبقے کی جانب سے بھی مثبت ردعمل متوقع ہے۔ سولر انڈسٹری اس بات پر مطمئن ہے کہ مجوزہ ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سی کے ڈی درآمدات پر دی گئی چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے، اگرچہ وسیع تر آٹو پالیسی کا ابھی انتظار ہے۔ اس کے علاوہ چند رعایتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان بھی مجموعی طور پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ٹیکسٹائل صنعت سپر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سے نقد رقوم کے بہاؤ میں بہتری آئے گی، اگرچہ برآمد کنندگان کی خواہش تھی کہ کم از کم ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔</p>
<p>آئی ٹی برآمدات پر انکم ٹیکس استثنا میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے، رعایتی مالیاتی سہولتوں پر شرحیں کم کی گئی ہیں اور دیگر مراعات بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ اقدامات برآمدات میں نمایاں اضافہ کر پاتے ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ برآمد کنندگان کی آمدنی میں بہتری یقینی نظر آتی ہے۔</p>
<p>تاجر برادری بھی خوش ہے کیونکہ یہ اقدامات عملی طور پر ایک طرح کی ایمنسٹی اسکیم کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض ایف ایم سی جی کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ کچھ مصنوعات کو تھرڈ شیڈول سے نکال کر عمومی جی ایس ٹی نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے اضافی 4 فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ میں بھی زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ کم ٹیکسوں کے باعث مختلف شعبوں کی منافع آوری بڑھے گی اور اسی کے نتیجے میں کمپنیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ریفائنری اور آٹو سیکٹر کی آئندہ پالیسیوں میں مزید مراعات دی جائیں گی۔</p>
<p>رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقے بھی خاصے پُرجوش ہیں۔ ٹیکسوں میں نرمی اور بعض معروف وجوہات کی بنا پر متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کی متوقع آمد، جائیداد اور حصص بازار دونوں میں نئی جان ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس بجٹ میں سب سے نمایاں کمی یہ ہے کہ غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے کوئی بامعنی ریلیف نظر نہیں آتا۔</p>
<p>جہاں خوش حال طبقے، کاروباری حلقوں، سرمایہ کاروں اور متوسط طبقے کے بڑے حصے کو ٹیکس رعایتیں اور مراعات دی گئی ہیں، وہیں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کے اخراجات سے نبرد آزما کم آمدن والے افراد کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ سہارا دکھائی نہیں دیتا۔</p>
<p>کم از کم اجرت میں محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو ایسے وقت میں ایک معمولی ایڈجسٹمنٹ ہے جب مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور ایندھن کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے لگی ہیں۔ کم آمدن والے گھرانوں کے لیے، جن کے اخراجات پر ٹرانسپورٹ، بجلی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نسبتاً زیادہ اثر پڑتا ہے، یہ اضافہ کسی نمایاں ریلیف کا باعث بنتا نظر نہیں آتا۔</p>
<p>یہ بجٹ سرمایہ کاروں اور ٹیکس دہندگان میں تو امید پیدا کر سکتا ہے، لیکن آمدنی کے نچلے درجوں پر موجود طبقات کے لیے اس کے فوائد بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری طور پر اقتصادی نمو کا ہدف صرف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی 8.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ یہ صورت حال اگرچہ تباہ کن نہیں، لیکن اسے مضبوط اقتصادی بحالی کی علامت بھی نہیں کہا جا سکتا۔</p>
<p>فی الحال سبھی اس ’’لالی پاپ‘‘ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مگر جلد یا بدیر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ اگر ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ممکن ہے صوبائی گرانٹس مکمل طور پر دستیاب نہ ہوں۔ اگر آئی ایم ایف نے چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تو منی بجٹ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ اور اگر چھوٹ مل بھی جاتی ہے تو تیز تر اقتصادی نمو درآمدات اور بیرونی شعبے کے عدم توازن کے ذریعے ایک بار پھر معیشت کو ضرورت سے زیادہ گرم کر سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بنیادی اور ساختی اقتصادی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہیں صرف کچھ عرصے کے لیے آگے دھکیل دیا گیا ہے۔ لیکن فی الحال تو جشن کا سماں ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 13 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506484</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 16:12:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/151610387e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/151610387e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ برائے مالی سال 2026-27</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506483/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری گرما گرم بحث نے ان توقعات کو آسمان پر پہنچا دیا تھا کہ صوبے قومی وسائل کے قابلِ تقسیم پول (ڈیوزبل پول) میں اپنے سالانہ حصے کے اضافے سے وفاق کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے لیکن مالی سال 27-2026 کے بجٹ نے ان تمام امیدوں پر ایسا پانی پھیرا کہ ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم دی ہالو مین کا وہ مصرعہ یاد آ گیا کہ یہ سفر کسی دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دھیمی سسکی کے ساتھ تمام ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان توقعات کی توثیق بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے اس وقت کے ٹیلی ویژن خطاب سے بھی ہوئی تھی جو انہوں نے کابینہ کی رسمی منظوری کے بعد کیا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے بجٹ کی کلیدی تجاویز پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے اور اتفاق کرنے پر اپنے بھائی (پارٹی قائد)، اپنی بھتیجی (وزیراعلیٰ پنجاب)، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی تعریف کی تھی۔ تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے یہ اعلان کہ اس اقدام کو اگلے سال تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، یہ سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا وہ آئندہ سال اس وعدے کو پورا کر پائیں گے جبکہ وہ موجودہ بجٹ کے دیگر امور پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے، جس کے لیے ہائبرڈ حکومت کی مداخلت اور وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ 30 سے 40 منٹ طویل گفتگو کی ضرورت پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود بجٹ میں موجودہ سال کے دوران صوبوں سے تقریباً ایک ٹریلین روپے اضافی حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ایسا اضافہ جس کی معاشی نقطہ نظر سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔ صوبائی سرپلس کو 1379 ارب روپے (2025-26 کے ترمیمی تخمینے) سے بڑھا کر 2026-27 میں 1794 ارب روپے کرنا شامل ہے، جس سے وفاق کے لیے 415 ارب روپے کا اضافی ریونیو پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی رقم کو گزشتہ سال کے 2.869 ٹریلین روپے سے کم کرکے اگلے سال کے لیے 2.224 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس سے مزید 649 ارب روپے وفاق کے کھاتے میں چلے جائیں گے۔یہاں دو مشاہدات اہم ہیں۔اول یہ کہ وفاق اس رقم کو اپنے جاری غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کرے گا، جو گزشتہ سال کی طرح بجٹ 2026-27 کا 93 فیصد بنتے ہیں اور یہ عمل ترقی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ دوم یہ اقدام اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈیولوشن) کی جانب پیش رفت کو مزید سست کر دے گا، جو کہ مقامی برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس کے بجائے وفاق حکومت کے اگلے درجے یعنی صوبوں سے منصوبوں کے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لے گا، اگرچہ یہ مانا جا سکتا ہے کہ جو پارٹی سیاسی طور پر جتنی مضبوط ہوگی وفاق اس کے مخصوص منصوبوں کے مطالبات پر اتنی ہی زیادہ توجہ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ پچھلے بجٹوں سے کچھ مختلف ہے؟ یہاں پانچ ایسے اہم نکات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بجٹ میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ پہلا یہ کہ بیرونی قرضوں پر انحصار اگلے سال بڑھ کر 23.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا (290 روپے فی ڈالر کے حساب سے)، جبکہ رخصت ہونے والے سال کے لیے یہ ہدف 19.9 ارب ڈالر تھا، لیکن آخری گنتی تک 2025-26 میں صرف 11.068 ارب ڈالر ہی حاصل ہو سکے، یہ ایک ایسی آمد ہے جو یقیناً حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے سے ایک دن قبل اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کمرشل قرضوں تک رسائی بڑھانے، پانڈا بانڈز (جس میں سے صرف 250 ملین ڈالر کے مساوی بانڈز جاری کیے گئے ہیں) اور دیگر ڈیٹ ایکویٹی آلات جیسے سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء پر بہت زیادہ زور دیا۔ مقامی قرضوں اور مارک اپ سمیت کل قرضہ اگلے سال 16 فیصد بڑھنے کا تخمینہ ہے، جو کہ ترمیمی تخمینوں کے 6.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کراگلے سال 8.05 ٹریلین روپے ہو جائے گا۔ مذکورہ بالا قرضوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں لیکن بہرحال ایک قرض ہی ہے، وہ متوقع گارنٹی شدہ قرضہ ہے جو 30 جون 2025 کو عارضی واجبات کے اجراء کے لیے گزشتہ سال کے بجٹ میں 3.950 ٹریلین روپے تخمینہ لگایا گیا تھا جو بجٹ 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق 372 ارب روپے کم دکھایا گیا تھا۔ 30 جون 2027 تک اس میں متوقع اضافہ 5.005 ٹریلین روپے یا 16 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ جاری اخراجات کے تمام اجزاء میں اضافہ کیا گیا جو اشرافیہ کی اس نااہلی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی۔ پنشن کے لیے اگلے سال 1.16 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رخصت ہونے والے سال میں یہ رقم 1.05 ٹریلین روپے تھی، اگرچہ دستاویزات میں ظاہری طور پر 10 ارب روپے کے پنشن فنڈ کا ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فنڈ ٹیکس دہندگان کے خرچے پر قائم کیا گیا ہے یا یہ گزشتہ سال اعلانیہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت صرف نئے ملازمین کے لیے حصہ داری لازمی قرار دی گئی تھی۔ دفاعی بجٹ میں بھی 412 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، حالانکہ اس کا بڑا حصہ دہشت گردانہ حملوں میں تیزی کے باعث آپریشنل اخراجات کے لیے ہے (اور یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی اس میں شامل ہے)۔تیسرا یہ کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 2026-27 میں ایک ٹریلین روپے پر برقرار رکھا گیا ہے، جو کہ 2025-26 میں مختص کردہ رقم کے برابر ہی ہے۔ تاہم رخصت ہونے والے سال میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے اصل ادائیگی اب تک 50 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ یہ الاٹمنٹس مسلم لیگ (ن) کے اس پرانے فلسفے کی عکاس ہیں کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے ترقی کے ساتھ ساتھ پارٹی کی مقبولیت کو بھی بڑھائیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بار بھی توجہ پانی کے ذخائر کے بجائے سڑکوں پر ہی رہی، حالانکہ ملک اب پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 17.5 فیصد اضافے کے ساتھ 15.26 ٹریلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14 ٹریلین روپے تھا جسے بعد میں کم کرکے 12.9 ٹریلین روپے کیا گیا (اگرچہ ایف بی آر کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شارٹ فال اب بھی 800 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے)۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک اور بجٹ میں ٹیکس کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ مزید برآں سرکاری ریونیو کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس سے حاصل ہونا ہے جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ اس میں 4.9 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس کی مد میں شامل ہیں اور مزید 5.3 ٹریلین روپے ودہولڈنگ ٹیکسز سے آئیں گے جو سیلز ٹیکس کے موڈ میں لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں انکم ٹیکس کے کھاتے میں کریڈٹ کیا جاتا ہے (یہ ایک ایسی پریکٹس ہے جس سے ایف بی آر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتا) اور پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہ بنے اور صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنا پڑے، جس سے اگلے مالی سال میں 1.67 ٹریلین روپے پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ نتیجے کے طور پر سیلز ٹیکس کے ان تین ذرائع سے عوام پر بوجھ اگلے سال 11.8 ٹریلین روپے ہوگا، ایک ایسا حقیقت پسندانہ منظرنامہ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 838 ارب روپے کی رقم کی افادیت کو کمزور کرتا ہے، خاص طور پر جب کیلوریز کی مقدار کے حساب سے ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں آئی ایم ایف کی سخت اور پیشگی شرائط کی وجہ سے نافذ العمل شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے پیشِ نظر اگلے سال کی 4 فیصد معاشی ترقی (گروتھ) کے ہدف پر نظرثانی کر کے اسے کم کرنا پڑ سکتا ہے اور سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ 2026-27 کے الفاظ میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ میں ایک فیصد کی کمی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے ذریعے سرکاری ریونیو کو کم کر سکتی ہے، جبکہ اخراجات کے دباؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر سوشل سیفٹی نیٹ ورک پر۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری گرما گرم بحث نے ان توقعات کو آسمان پر پہنچا دیا تھا کہ صوبے قومی وسائل کے قابلِ تقسیم پول (ڈیوزبل پول) میں اپنے سالانہ حصے کے اضافے سے وفاق کے حق میں دستبردار ہو جائیں گے لیکن مالی سال 27-2026 کے بجٹ نے ان تمام امیدوں پر ایسا پانی پھیرا کہ ٹی ایس ایلیٹ کی شہرہ آفاق نظم دی ہالو مین کا وہ مصرعہ یاد آ گیا کہ یہ سفر کسی دھماکے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دھیمی سسکی کے ساتھ تمام ہوا۔</strong></p>
<p>ان توقعات کی توثیق بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے چند گھنٹے قبل وزیراعظم شہباز شریف کے اس وقت کے ٹیلی ویژن خطاب سے بھی ہوئی تھی جو انہوں نے کابینہ کی رسمی منظوری کے بعد کیا تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے بجٹ کی کلیدی تجاویز پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے اور اتفاق کرنے پر اپنے بھائی (پارٹی قائد)، اپنی بھتیجی (وزیراعلیٰ پنجاب)، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی تعریف کی تھی۔ تاہم وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے یہ اعلان کہ اس اقدام کو اگلے سال تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، یہ سوالات اٹھاتا ہے کہ کیا وہ آئندہ سال اس وعدے کو پورا کر پائیں گے جبکہ وہ موجودہ بجٹ کے دیگر امور پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں واضح طور پر ناکام رہے، جس کے لیے ہائبرڈ حکومت کی مداخلت اور وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ 30 سے 40 منٹ طویل گفتگو کی ضرورت پڑی۔</p>
<p>اس کے باوجود بجٹ میں موجودہ سال کے دوران صوبوں سے تقریباً ایک ٹریلین روپے اضافی حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، ایسا اضافہ جس کی معاشی نقطہ نظر سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔ صوبائی سرپلس کو 1379 ارب روپے (2025-26 کے ترمیمی تخمینے) سے بڑھا کر 2026-27 میں 1794 ارب روپے کرنا شامل ہے، جس سے وفاق کے لیے 415 ارب روپے کا اضافی ریونیو پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کی رقم کو گزشتہ سال کے 2.869 ٹریلین روپے سے کم کرکے اگلے سال کے لیے 2.224 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس سے مزید 649 ارب روپے وفاق کے کھاتے میں چلے جائیں گے۔یہاں دو مشاہدات اہم ہیں۔اول یہ کہ وفاق اس رقم کو اپنے جاری غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کرے گا، جو گزشتہ سال کی طرح بجٹ 2026-27 کا 93 فیصد بنتے ہیں اور یہ عمل ترقی مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ دوم یہ اقدام اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈیولوشن) کی جانب پیش رفت کو مزید سست کر دے گا، جو کہ مقامی برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے والی پالیسی ہے۔ اس کے بجائے وفاق حکومت کے اگلے درجے یعنی صوبوں سے منصوبوں کے فیصلے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لے گا، اگرچہ یہ مانا جا سکتا ہے کہ جو پارٹی سیاسی طور پر جتنی مضبوط ہوگی وفاق اس کے مخصوص منصوبوں کے مطالبات پر اتنی ہی زیادہ توجہ دے گا۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ پچھلے بجٹوں سے کچھ مختلف ہے؟ یہاں پانچ ایسے اہم نکات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بجٹ میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔ پہلا یہ کہ بیرونی قرضوں پر انحصار اگلے سال بڑھ کر 23.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا (290 روپے فی ڈالر کے حساب سے)، جبکہ رخصت ہونے والے سال کے لیے یہ ہدف 19.9 ارب ڈالر تھا، لیکن آخری گنتی تک 2025-26 میں صرف 11.068 ارب ڈالر ہی حاصل ہو سکے، یہ ایک ایسی آمد ہے جو یقیناً حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے سے ایک دن قبل اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کمرشل قرضوں تک رسائی بڑھانے، پانڈا بانڈز (جس میں سے صرف 250 ملین ڈالر کے مساوی بانڈز جاری کیے گئے ہیں) اور دیگر ڈیٹ ایکویٹی آلات جیسے سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء پر بہت زیادہ زور دیا۔ مقامی قرضوں اور مارک اپ سمیت کل قرضہ اگلے سال 16 فیصد بڑھنے کا تخمینہ ہے، جو کہ ترمیمی تخمینوں کے 6.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کراگلے سال 8.05 ٹریلین روپے ہو جائے گا۔ مذکورہ بالا قرضوں کے اعداد و شمار میں شامل نہیں لیکن بہرحال ایک قرض ہی ہے، وہ متوقع گارنٹی شدہ قرضہ ہے جو 30 جون 2025 کو عارضی واجبات کے اجراء کے لیے گزشتہ سال کے بجٹ میں 3.950 ٹریلین روپے تخمینہ لگایا گیا تھا جو بجٹ 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق 372 ارب روپے کم دکھایا گیا تھا۔ 30 جون 2027 تک اس میں متوقع اضافہ 5.005 ٹریلین روپے یا 16 فیصد ہے۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ جاری اخراجات کے تمام اجزاء میں اضافہ کیا گیا جو اشرافیہ کی اس نااہلی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اصلاحات کے ذریعے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی۔ پنشن کے لیے اگلے سال 1.16 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رخصت ہونے والے سال میں یہ رقم 1.05 ٹریلین روپے تھی، اگرچہ دستاویزات میں ظاہری طور پر 10 ارب روپے کے پنشن فنڈ کا ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا یہ فنڈ ٹیکس دہندگان کے خرچے پر قائم کیا گیا ہے یا یہ گزشتہ سال اعلانیہ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت صرف نئے ملازمین کے لیے حصہ داری لازمی قرار دی گئی تھی۔ دفاعی بجٹ میں بھی 412 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، حالانکہ اس کا بڑا حصہ دہشت گردانہ حملوں میں تیزی کے باعث آپریشنل اخراجات کے لیے ہے (اور یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بھی اس میں شامل ہے)۔تیسرا یہ کہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 2026-27 میں ایک ٹریلین روپے پر برقرار رکھا گیا ہے، جو کہ 2025-26 میں مختص کردہ رقم کے برابر ہی ہے۔ تاہم رخصت ہونے والے سال میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے اصل ادائیگی اب تک 50 فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ یہ الاٹمنٹس مسلم لیگ (ن) کے اس پرانے فلسفے کی عکاس ہیں کہ بڑے انفرااسٹرکچر منصوبے ترقی کے ساتھ ساتھ پارٹی کی مقبولیت کو بھی بڑھائیں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بار بھی توجہ پانی کے ذخائر کے بجائے سڑکوں پر ہی رہی، حالانکہ ملک اب پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔</p>
<p>چوتھا یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں 17.5 فیصد اضافے کے ساتھ 15.26 ٹریلین روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مالی سال 2025-26 کے لیے ایف بی آر کا ہدف 14 ٹریلین روپے تھا جسے بعد میں کم کرکے 12.9 ٹریلین روپے کیا گیا (اگرچہ ایف بی آر کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شارٹ فال اب بھی 800 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے)۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک اور بجٹ میں ٹیکس کا ہدف غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ مزید برآں سرکاری ریونیو کا بڑا حصہ سیلز ٹیکس سے حاصل ہونا ہے جس کا بوجھ امیروں کے مقابلے غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ اس میں 4.9 ٹریلین روپے سیلز ٹیکس کی مد میں شامل ہیں اور مزید 5.3 ٹریلین روپے ودہولڈنگ ٹیکسز سے آئیں گے جو سیلز ٹیکس کے موڈ میں لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں انکم ٹیکس کے کھاتے میں کریڈٹ کیا جاتا ہے (یہ ایک ایسی پریکٹس ہے جس سے ایف بی آر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تنبیہ کے باوجود باز نہیں آتا) اور پیٹرولیم لیوی کو ایف بی آر کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم پول کا حصہ نہ بنے اور صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنا پڑے، جس سے اگلے مالی سال میں 1.67 ٹریلین روپے پیدا کرنے کا ہدف ہے۔ نتیجے کے طور پر سیلز ٹیکس کے ان تین ذرائع سے عوام پر بوجھ اگلے سال 11.8 ٹریلین روپے ہوگا، ایک ایسا حقیقت پسندانہ منظرنامہ جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص 838 ارب روپے کی رقم کی افادیت کو کمزور کرتا ہے، خاص طور پر جب کیلوریز کی مقدار کے حساب سے ملک میں غربت کی شرح 44 فیصد ہو۔</p>
<p>اور آخر میں آئی ایم ایف کی سخت اور پیشگی شرائط کی وجہ سے نافذ العمل شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے پیشِ نظر اگلے سال کی 4 فیصد معاشی ترقی (گروتھ) کے ہدف پر نظرثانی کر کے اسے کم کرنا پڑ سکتا ہے اور سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ 2026-27 کے الفاظ میں حقیقی جی ڈی پی گروتھ میں ایک فیصد کی کمی ٹیکس وصولیوں میں کمی کے ذریعے سرکاری ریونیو کو کم کر سکتی ہے، جبکہ اخراجات کے دباؤ کو بھی بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر سوشل سیفٹی نیٹ ورک پر۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 15 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506483</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jun 2026 16:16:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/15160511ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/15160511ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کے بغیر استحکام پر مبنی ایک اور بجٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506263/pakistan-karachi-fbr-imf-inflation-budget-2026-27-punjab-budget-2026-2027-federal-budget-fy2026-27-sindh-budget-2026-27</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتکاروں، بینکوں، تنخواہ دار طبقے اور وسیع تر عوام میں اس بات کی بہت کم امید ہے کہ آئندہ بجٹ کوئی مثبت سرپرائز دے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہی پرانی صورتحال برقرار رہے گی، اور ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے مزید دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منصوبہ بندی اس وقت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حصار میں ہے، تاہم آئی ایم ایف اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان اس نام نہاد رضاکارانہ طور پر 1.7 کھرب روپے کی حوالگی کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ کوئی بھی آئندہ بجٹ کے لیے خوشی کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ عملاً انہی پالیسی سازوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا پانچواں بجٹ ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے حیرت ہوئی یا مزید وقت درکار ہے۔ سوچ میں تسلسل ضرور ہے، لیکن یہ سوچ محض استحکام سے آگے نہیں بڑھی۔ توجہ اب بھی آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ملکی رپورٹ خود بجٹ تقریر سے بہتر پیشگی خاکہ فراہم کر سکتی ہے۔ مجموعی مالیاتی فریم ورک پہلے ہی لکھا جا چکا ہے؛ اسلام آباد کا کام زیادہ تر خالی جگہیں پر کرنا رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بڑا چیلنج مالی سال 2027 کے لیے 15.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف ہے، جو آئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026 کی ممکنہ وصولیوں سے تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس، آئندہ سال کے ایف بی آر اہداف محض اشارتی نہیں بلکہ مقداری کارکردگی کے اہداف ہیں۔ اگر یہ پورے نہ ہوئے تو حکومت کو چھوٹ لینا پڑے گی۔ وہ صرف ترقیاتی اخراجات کم کر کے یا پیٹرولیم لیوی بڑھا کر خلا پورا نہیں کر سکے گی۔ اور اگر فرق پیدا ہوا تو منی بجٹ کا امکان موجود رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹیل ٹیکس اسکیم اصلاح سے زیادہ ایک ڈھونگ ہے۔ آئی ایم ایف اس سے ناخوش ہے کیونکہ یہ کم رقم کی ادائیگی کے ذریعے ریٹیلرز کو عملاً بری الذمہ کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی منظوری غیر یقینی ہے۔ بہرحال، اس اسکیم سے کسی بڑی آمدنی کی توقع نہیں کی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کوئی بھی قابلِ ذکر ریلیف کی توقع نہیں کر رہا۔ پورے سال حکومت اور آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کو یہ اشارہ دیا کہ بہتر دن آنے والے ہیں اور ٹیکس کی شرحیں کم ہوں گی۔ لیکن آج زیادہ تر کاروبار ایک اور مشکل سال کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کے لیے سخت پالیسیوں کے بار بار اعلان کے باوجود آئی ایم ایف کا عملہ مطمئن نہیں ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی گئی۔ کفایت شعاری کے لیے بھی کم عزم ہے اور ساختی اصلاحات میں بھی محدود پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم لیوی بلند سطح پر برقرار ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ موجودہ عالمی قیمتوں کے باوجود حکومت پیٹرول کی قیمت کا تقریباً نصف لیوی کی صورت میں وصول کر رہی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر شرح 14 فیصد ہے۔ اگر لیوی جی ایس ٹی کی جگہ لینے کے لیے تھی تاکہ آمدنی صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنی پڑے، تو یہ 18 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر عملی طور پر یہ بحث ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام کے لیے بہترین ممکنہ نتیجہ یہی ہے کہ لیوی میں مزید اضافہ نہ ہو، جی ایس ٹی 19 فیصد تک نہ جائے، اور کوئی بڑا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں، اگرچہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں معمولی کمی دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشیا برآمد کرنے والوں کو محدود ریلیف مل سکتا ہے، جس میں آمدنی پر اضافی 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے جو پہلے ہی موجود 1 فیصد ٹیکس کے اوپر لگتا ہے۔ اس سے کیش فلو بہتر ہوگا۔ دوسری جانب خدمات برآمد کرنے والا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیاں، فری لانس آمدنی پر زیادہ ٹیکس کے لیے لابنگ کر رہا ہے۔ اگر یہ مطالبہ منظور ہوتا ہے تو پالیسی سازوں کو آئی ٹی ایکسپورٹس کو دی جانے والی مراعات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صوبے اخراجات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ خیبر سے کراچی تک ایک عوامی تعلقات کی مشق بن چکی ہے۔ پنجاب اکیلا نہیں، ہر صوبہ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ زور اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور نمائش پر ہے۔ پلاننگ کمیشن اب بھی روایتی پی ایس ڈی پی ماڈل کو وسعت دینے کی بات کر رہا ہے۔ مگر مالی گنجائش محدود ہے۔ اسی لیے اصل تنازع وفاق کی جانب سے صوبوں کے 1.7 کھرب روپے کے مجوزہ بچت کے استعمال پر ہے جس سے وہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ بندوبست ایک مرتبہ کا ہے یا مستقل۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اتحادی شراکت دار اس سے خوش نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس حقیقی ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اس لیے سرمایہ کاری کا ماحول بھی بدستور جمود کا شکار رہے گا۔ ایف بی آر کی بنیادی توجہ نفاذ پر رہے گی۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ سیاسی عزم موجود نہیں، حالانکہ متعلقہ ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے۔ نتیجتاً وہی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان محض ٹیکس بڑھا کر خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک ریاست ٹیکس کا بوجھ اسی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر ڈالتی رہے گی، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بنیادی اصلاحاتی اقدامات سے گریز کرے گی، تب تک استحکام خود ایک مقصد رہے گا، ترقی کی طرف پل نہیں بن سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صنعتکاروں، بینکوں، تنخواہ دار طبقے اور وسیع تر عوام میں اس بات کی بہت کم امید ہے کہ آئندہ بجٹ کوئی مثبت سرپرائز دے گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہی پرانی صورتحال برقرار رہے گی، اور ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے مزید دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔</strong></p>
<p>مالیاتی منصوبہ بندی اس وقت آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حصار میں ہے، تاہم آئی ایم ایف اب بھی مطمئن نہیں ہے۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان اس نام نہاد رضاکارانہ طور پر 1.7 کھرب روپے کی حوالگی کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ کوئی بھی آئندہ بجٹ کے لیے خوشی کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔</p>
<p>یہ عملاً انہی پالیسی سازوں کی جانب سے پیش کیا جانے والا پانچواں بجٹ ہے۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے حیرت ہوئی یا مزید وقت درکار ہے۔ سوچ میں تسلسل ضرور ہے، لیکن یہ سوچ محض استحکام سے آگے نہیں بڑھی۔ توجہ اب بھی آئی ایم ایف کے اہداف کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ملکی رپورٹ خود بجٹ تقریر سے بہتر پیشگی خاکہ فراہم کر سکتی ہے۔ مجموعی مالیاتی فریم ورک پہلے ہی لکھا جا چکا ہے؛ اسلام آباد کا کام زیادہ تر خالی جگہیں پر کرنا رہ گیا ہے۔</p>
<p>اصل بڑا چیلنج مالی سال 2027 کے لیے 15.3 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف ہے، جو آئی ایم ایف دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026 کی ممکنہ وصولیوں سے تقریباً 18 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے برعکس، آئندہ سال کے ایف بی آر اہداف محض اشارتی نہیں بلکہ مقداری کارکردگی کے اہداف ہیں۔ اگر یہ پورے نہ ہوئے تو حکومت کو چھوٹ لینا پڑے گی۔ وہ صرف ترقیاتی اخراجات کم کر کے یا پیٹرولیم لیوی بڑھا کر خلا پورا نہیں کر سکے گی۔ اور اگر فرق پیدا ہوا تو منی بجٹ کا امکان موجود رہے گا۔</p>
<p>ریٹیل ٹیکس اسکیم اصلاح سے زیادہ ایک ڈھونگ ہے۔ آئی ایم ایف اس سے ناخوش ہے کیونکہ یہ کم رقم کی ادائیگی کے ذریعے ریٹیلرز کو عملاً بری الذمہ کر دیتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی منظوری غیر یقینی ہے۔ بہرحال، اس اسکیم سے کسی بڑی آمدنی کی توقع نہیں کی جا رہی۔</p>
<p>اس طرح کوئی بھی قابلِ ذکر ریلیف کی توقع نہیں کر رہا۔ پورے سال حکومت اور آئی ایم ایف نے کارپوریٹ سیکٹر کو یہ اشارہ دیا کہ بہتر دن آنے والے ہیں اور ٹیکس کی شرحیں کم ہوں گی۔ لیکن آج زیادہ تر کاروبار ایک اور مشکل سال کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کے لیے سخت پالیسیوں کے بار بار اعلان کے باوجود آئی ایم ایف کا عملہ مطمئن نہیں ہے کیونکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی کوئی نمایاں کوشش نہیں کی گئی۔ کفایت شعاری کے لیے بھی کم عزم ہے اور ساختی اصلاحات میں بھی محدود پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم لیوی بلند سطح پر برقرار ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ موجودہ عالمی قیمتوں کے باوجود حکومت پیٹرول کی قیمت کا تقریباً نصف لیوی کی صورت میں وصول کر رہی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر شرح 14 فیصد ہے۔ اگر لیوی جی ایس ٹی کی جگہ لینے کے لیے تھی تاکہ آمدنی صوبوں کے ساتھ شیئر نہ کرنی پڑے، تو یہ 18 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ مگر عملی طور پر یہ بحث ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>عوام کے لیے بہترین ممکنہ نتیجہ یہی ہے کہ لیوی میں مزید اضافہ نہ ہو، جی ایس ٹی 19 فیصد تک نہ جائے، اور کوئی بڑا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔ کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں، اگرچہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں معمولی کمی دے سکتی ہے۔</p>
<p>اشیا برآمد کرنے والوں کو محدود ریلیف مل سکتا ہے، جس میں آمدنی پر اضافی 1 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے جو پہلے ہی موجود 1 فیصد ٹیکس کے اوپر لگتا ہے۔ اس سے کیش فلو بہتر ہوگا۔ دوسری جانب خدمات برآمد کرنے والا شعبہ، خاص طور پر آئی ٹی کمپنیاں، فری لانس آمدنی پر زیادہ ٹیکس کے لیے لابنگ کر رہا ہے۔ اگر یہ مطالبہ منظور ہوتا ہے تو پالیسی سازوں کو آئی ٹی ایکسپورٹس کو دی جانے والی مراعات پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔</p>
<p>دوسری جانب صوبے اخراجات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ یہ خیبر سے کراچی تک ایک عوامی تعلقات کی مشق بن چکی ہے۔ پنجاب اکیلا نہیں، ہر صوبہ اسی راستے پر چل رہا ہے۔ زور اب بڑھتے ہوئے اخراجات اور نمائش پر ہے۔ پلاننگ کمیشن اب بھی روایتی پی ایس ڈی پی ماڈل کو وسعت دینے کی بات کر رہا ہے۔ مگر مالی گنجائش محدود ہے۔ اسی لیے اصل تنازع وفاق کی جانب سے صوبوں کے 1.7 کھرب روپے کے مجوزہ بچت کے استعمال پر ہے جس سے وہ اپنی مالی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ بندوبست ایک مرتبہ کا ہے یا مستقل۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اتحادی شراکت دار اس سے خوش نہیں ہیں۔</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس حقیقی ریلیف دینے کی بہت کم گنجائش ہے۔ اس لیے سرمایہ کاری کا ماحول بھی بدستور جمود کا شکار رہے گا۔ ایف بی آر کی بنیادی توجہ نفاذ پر رہے گی۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ سیاسی عزم موجود نہیں، حالانکہ متعلقہ ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے۔ نتیجتاً وہی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دینے والے طبقے پر مزید دباؤ بڑھے گا۔</p>
<p>پاکستان محض ٹیکس بڑھا کر خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔ جب تک ریاست ٹیکس کا بوجھ اسی محدود اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر ڈالتی رہے گی، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بنیادی اصلاحاتی اقدامات سے گریز کرے گی، تب تک استحکام خود ایک مقصد رہے گا، ترقی کی طرف پل نہیں بن سکے گا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506263</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:00:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/091201537e77909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/091201537e77909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی بحران میں گھرا پاکستان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506264/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی معیشت میں کسی بھی بنیادی شے (پروڈکٹ) کی سپلائی میں تعطل صرف کاروباری نقصان نہیں لاتا بلکہ ایک نئی عالمی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جنگوں، آفات یا تجارتی پابندیوں کے فوری بعد دنیا بھر کی حکومتیں دفاعی پوزیشن میں آکر اپنے محفوظ ذخائر جاری کرتی ہیں اور مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم طویل مدتی معاشی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ متبادل ذرائع پر منتقلی اس قدر مہنگی اور پیچیدہ ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سپلائی کی بحالی کے ساتھ ہی طلب کا پہیہ دوبارہ اپنے پرانے مرکز پر گھومنے لگتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک مثال اکتوبر 1973 میں عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے یوم کپور جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف لگائی جانے والی تیل کی پابندی ہے۔ تاہم جب مارچ 1974 میں یہ پابندی اٹھائی گئی تو تیل کی عالمی طلب تیزی سے بحال ہو گئی کیونکہ اقتصادی طور پر یہ اب بھی سب سے زیادہ قابلِ عمل پروڈکٹ تھا۔ آج تکنیکی ترقی کے ساتھ جوہری اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مزید متبادل موجود ہیں اور اس کے باوجود عالمی سطح پر یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ سپلائی بحال ہوتے ہی طلب بھی بحال ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک واضح حقیقت بیان کرنے پر مجبور کیا کہ اس نے دنیا بھر میں کافی مشکلات پیدا کی ہیں، پھر انہوں نے علامتی طور پر سوال کیا کہ ہمیں کس چیز نے متاثر کیا اور خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک سپلائی شاک جو بڑا، عالمی اور غیر متناسب ہے، یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کا روزانہ کا بہاؤ لگ بھگ 13 فیصد اور ایل این جی کا بہاؤ تقریباً 20 فیصد کم ہوا ہے۔ یہ عالمی اس لیے ہے کیونکہ اب ہم سب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز درہم برہم ہو چکی ہیں اور یہ غیر متناسب اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت پر منحصر ہے، اس بات پر کہ آیا آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی کی گنجائش کتنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی درآمد پر شدید انحصار نے پاکستان کو توانائی کے عالمی بحرانوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رکھا ہے۔ آئی ای اے کی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جس کے مطابق پاکستان کا پورا انرجی مکس روایتی تیل اور گیس کے گرد گھوم رہا ہے اور پن بجلی کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ سے زائد پاکستانی سرے سے بجلی کی نعمت ہی سے محروم ہیں، جبکہ آدھی آبادی کے پاس صاف ستھرے چولہے تک میسر نہیں، جو کہ ملک میں توانائی کی شدید عدم مساوات اور غربت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے نے مزید نوٹ کیا کہ توانائی کی کل کھپت کا 48 فیصد استعمال رہائشی شعبے میں، 23 فیصد صنعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں صنعت کی کل کھپت کا 30 فیصد قدرتی گیس اور 27 فیصد کوئلہ اور اس کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ جو بجلی چھ سال پہلے 16 روپے کی تھی، آج وہ 33 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے؟ یہ ہے وہ مہنگائی کا بم جو پاکستان کے پاور سیکٹر کی نااہلی نے عوام پر گرایا ہے۔ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز کے پیچھے چھپی شرائط کا لب لباب صرف ایک ہی ہے کہ غریب صارفین سے پائی پائی وصول کی جائے۔ ہماری حکومتوں نے گرڈ اسٹیشنز کی خرابیوں کو دور کرنے اور سسٹم کو جدید بنانے کے بجائے فی یونٹ قیمتیں بڑھا کر اپنی جان چھڑائی اور ظلم کی انتہا دیکھیے چوری روکنے کے لیے لاء انفورسمنٹ کا سہارا لینے کے بجائے پورے کے پورے محلوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ مجرمانہ پالیسی اس ملک کے شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے مقامی تجارتی بینکوں سے اندھا دھند قرضے لیے گئے‘ وہ بینک جو پہلے ہی پاور سیکٹر کو ادھار دے دے کر تھک چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بھاری بھرکم قرضے پر لگنے والے سود کا ایک ایک پیسہ غریب عوام کی جیبوں سے نچوڑا جا رہا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس دلدل سے نکلنے کے لیے بینکوں سے تقریباً 500 ارب روپے ادھار لیے تھے، مگر یہ مرض بڑھتا ہی گیا اور 2024 تک یہ گردشی قرضہ ہولناک حد تک بڑھ کر 2.5 ٹریلین (2500 ارب) روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی پچھلے سال اسی ناکام نسخے کو دہراتے ہوئے 1.25 ٹریلین روپے کا نیا قرضہ اٹھا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرض کی اس مے سے ابھرنے والا یہ گردشی قرضے کا سائے دار جن کب دوبارہ عوام پر حملہ آور ہوتا ہے!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے کے ماہرین پاکستان کے موجودہ بحران کے پیچھے چار بنیادی ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم چیلنج روایتی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی راہ میں حائل شدید معاشی رکاوٹیں ہیں۔ اس مسئلے کا آغاز 2002 اور 2012 کی پاور پالیسیز سے ہوا، جہاں خودمختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کی رو سے طلب میں کمی کے باوجود حکومت کو ان نجی کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی چارجز ادا کرنے ہی تھے۔ یہ شرط اب گرین انرجی یا متبادل ذرائع کو اپنانے کی تمام کوششوں کو معاشی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پالیسی سازی کی اس سنگین خامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دستخط کیے جانے والے توانائی کے نئے منصوبوں میں بھی انہی شرائط کا تسلسل برقرار رکھا گیا جس نے اس دلدل کو مزید گہرا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا بنیادی نکتہ ہمارے پالیسی سازوں کی وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ہے جو بہترین الفاظ میں ناقص تشخیص اور بدترین صورت میں گیس اور بجلی کی طلب کا تخمینہ لگانے کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرنے پر مبنی تھی۔ اس کی واضح مثال 2016 کا قطر ایل این جی معاہدہ ہے، جہاں معاشی ترقی کے ایسے اہداف طے کیے گئے جو کبھی حاصل ہی نہ ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ جب قطر کی جانب سے فورس میجر کے تحت عارضی معطلی کا اعلان سامنے آیا تو معاشی ٹیم کے رہنماؤں نے اسے ایک بڑا ریلیف سمجھا۔ تاہم اس کے منفی اثرات سے انکار ممکن نہیں کیونکہ معاہدے کے تحت آنے والے چھ آر ایل این جی کارگوز میں سے دو کی ماہانہ فراہمی معطل ہونے سے ملکی ضروریات کو شدید دھچکا لگا ہے اور اب مارکیٹ میں گیس کا بحران سر اٹھا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سنگین المیہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے دکھائی جانے والی مجرمانہ جلد بازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے الٹے سیدھے فیصلے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے ہمارے حکمران کوئی ایسا شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جو آگے چل کر گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔ اس کی ایک مضحکہ خیز مثال کوئلے کی کانوں سے سینکڑوں میل دور کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا ہے، جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات آسمان پر پہنچ گئے اور قریبی آبادیوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں رینٹل پاور پراجیکٹس کا تماشہ لگایا گیا، جس پر اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے خود تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اصرار کیا اور جب آڈٹ ہوا تو اس نے ان معاہدوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی دھجیاں اڑا دیں۔ اب تازہ ترین حماقت دیکھیے حکومت نے خود گھروں کے لیے سولر پینلز کی حوصلہ افزائی کی اور جب لوگوں نے سولر لگوا لیے تو نیشنل گریڈ سے بجلی کی طلب کم ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب خالی پڑے بجلی گھروں کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو گھوم پھر کر غریب صارفین پر ہی گر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی بحران کی چوتھی اورآخری اہم وجہ ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر کا مسلسل کم ہونا ہے، جس نے پاکستان کو درآمدی ایندھن کا محتاج بنا دیا ہے۔ اس ایندھن کی خریداری کے لیے بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے۔ مئی 2026 کے اختتام پر اگرچہ ملکی ذخائر ساڑھے سترہ ارب ڈالر کے قریب ہونے کی وجہ سے مستحکم نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیاد قرضوں پر کھڑی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب روایتی پالیسیوں کو بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ حکومت کو ٹیرف کی برابری کی حکمتِ عملی ختم کرنی چاہیے جس کے ذریعے نااہل ڈسکوز کو عوامی ٹیکسوں سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجکاری کو واحد حل سمجھنے کے تصور پر بھی دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔ کے الیکٹرک کی 2005 میں ہونے والی نجکاری اس کی واضح مثال ہے، جو اب بھی نیشنل گریڈ کی سپلائی پر انحصار کرتی ہے اور اپنے صارفین کو موثر طریقے سے بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں رخصت ہونے والے مالی سال میں اسے 135 ارب روپے کی خطیر سرکاری سبسڈی دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ محض نجکاری سے مسائل حل نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی معیشت میں کسی بھی بنیادی شے (پروڈکٹ) کی سپلائی میں تعطل صرف کاروباری نقصان نہیں لاتا بلکہ ایک نئی عالمی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جنگوں، آفات یا تجارتی پابندیوں کے فوری بعد دنیا بھر کی حکومتیں دفاعی پوزیشن میں آکر اپنے محفوظ ذخائر جاری کرتی ہیں اور مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم طویل مدتی معاشی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ متبادل ذرائع پر منتقلی اس قدر مہنگی اور پیچیدہ ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر کے سامنے ٹک نہیں پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ سپلائی کی بحالی کے ساتھ ہی طلب کا پہیہ دوبارہ اپنے پرانے مرکز پر گھومنے لگتا ہے۔</strong></p>
<p>اس کی ایک مثال اکتوبر 1973 میں عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے یوم کپور جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف لگائی جانے والی تیل کی پابندی ہے۔ تاہم جب مارچ 1974 میں یہ پابندی اٹھائی گئی تو تیل کی عالمی طلب تیزی سے بحال ہو گئی کیونکہ اقتصادی طور پر یہ اب بھی سب سے زیادہ قابلِ عمل پروڈکٹ تھا۔ آج تکنیکی ترقی کے ساتھ جوہری اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مزید متبادل موجود ہیں اور اس کے باوجود عالمی سطح پر یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ سپلائی بحال ہوتے ہی طلب بھی بحال ہو جائے گی۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے خلل نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک واضح حقیقت بیان کرنے پر مجبور کیا کہ اس نے دنیا بھر میں کافی مشکلات پیدا کی ہیں، پھر انہوں نے علامتی طور پر سوال کیا کہ ہمیں کس چیز نے متاثر کیا اور خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک سپلائی شاک جو بڑا، عالمی اور غیر متناسب ہے، یہ بڑا اس لیے ہے کیونکہ دنیا میں تیل کا روزانہ کا بہاؤ لگ بھگ 13 فیصد اور ایل این جی کا بہاؤ تقریباً 20 فیصد کم ہوا ہے۔ یہ عالمی اس لیے ہے کیونکہ اب ہم سب توانائی کے لیے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں سپلائی چینز درہم برہم ہو چکی ہیں اور یہ غیر متناسب اس لیے ہے کیونکہ اس کا اثر تنازع سے قربت پر منحصر ہے، اس بات پر کہ آیا آپ توانائی برآمد کرنے والے ملک ہیں یا درآمد کرنے والے اور آپ کی پالیسی کی گنجائش کتنی ہے۔</p>
<p>تیل کی درآمد پر شدید انحصار نے پاکستان کو توانائی کے عالمی بحرانوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رکھا ہے۔ آئی ای اے کی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جس کے مطابق پاکستان کا پورا انرجی مکس روایتی تیل اور گیس کے گرد گھوم رہا ہے اور پن بجلی کے علاوہ قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 4 کروڑ سے زائد پاکستانی سرے سے بجلی کی نعمت ہی سے محروم ہیں، جبکہ آدھی آبادی کے پاس صاف ستھرے چولہے تک میسر نہیں، جو کہ ملک میں توانائی کی شدید عدم مساوات اور غربت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p>آئی ای اے نے مزید نوٹ کیا کہ توانائی کی کل کھپت کا 48 فیصد استعمال رہائشی شعبے میں، 23 فیصد صنعت میں استعمال ہوتا ہے جس میں صنعت کی کل کھپت کا 30 فیصد قدرتی گیس اور 27 فیصد کوئلہ اور اس کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔</p>
<p>کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ جو بجلی چھ سال پہلے 16 روپے کی تھی، آج وہ 33 روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے؟ یہ ہے وہ مہنگائی کا بم جو پاکستان کے پاور سیکٹر کی نااہلی نے عوام پر گرایا ہے۔ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکجز کے پیچھے چھپی شرائط کا لب لباب صرف ایک ہی ہے کہ غریب صارفین سے پائی پائی وصول کی جائے۔ ہماری حکومتوں نے گرڈ اسٹیشنز کی خرابیوں کو دور کرنے اور سسٹم کو جدید بنانے کے بجائے فی یونٹ قیمتیں بڑھا کر اپنی جان چھڑائی اور ظلم کی انتہا دیکھیے چوری روکنے کے لیے لاء انفورسمنٹ کا سہارا لینے کے بجائے پورے کے پورے محلوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ مجرمانہ پالیسی اس ملک کے شہریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔</p>
<p>دوسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ گردشی قرضے (سرکولر ڈیٹ) کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے مقامی تجارتی بینکوں سے اندھا دھند قرضے لیے گئے‘ وہ بینک جو پہلے ہی پاور سیکٹر کو ادھار دے دے کر تھک چکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس بھاری بھرکم قرضے پر لگنے والے سود کا ایک ایک پیسہ غریب عوام کی جیبوں سے نچوڑا جا رہا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس دلدل سے نکلنے کے لیے بینکوں سے تقریباً 500 ارب روپے ادھار لیے تھے، مگر یہ مرض بڑھتا ہی گیا اور 2024 تک یہ گردشی قرضہ ہولناک حد تک بڑھ کر 2.5 ٹریلین (2500 ارب) روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی پچھلے سال اسی ناکام نسخے کو دہراتے ہوئے 1.25 ٹریلین روپے کا نیا قرضہ اٹھا لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرض کی اس مے سے ابھرنے والا یہ گردشی قرضے کا سائے دار جن کب دوبارہ عوام پر حملہ آور ہوتا ہے!</p>
<p>توانائی کے شعبے کے ماہرین پاکستان کے موجودہ بحران کے پیچھے چار بنیادی ڈھانچہ جاتی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم چیلنج روایتی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی راہ میں حائل شدید معاشی رکاوٹیں ہیں۔ اس مسئلے کا آغاز 2002 اور 2012 کی پاور پالیسیز سے ہوا، جہاں خودمختار پاور پروڈیوسرز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کی رو سے طلب میں کمی کے باوجود حکومت کو ان نجی کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی چارجز ادا کرنے ہی تھے۔ یہ شرط اب گرین انرجی یا متبادل ذرائع کو اپنانے کی تمام کوششوں کو معاشی طور پر ناقابلِ عمل بنا دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پالیسی سازی کی اس سنگین خامی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور 2015 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دستخط کیے جانے والے توانائی کے نئے منصوبوں میں بھی انہی شرائط کا تسلسل برقرار رکھا گیا جس نے اس دلدل کو مزید گہرا کر دیا۔</p>
<p>دوسرا بنیادی نکتہ ہمارے پالیسی سازوں کی وہ غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ہے جو بہترین الفاظ میں ناقص تشخیص اور بدترین صورت میں گیس اور بجلی کی طلب کا تخمینہ لگانے کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کرنے پر مبنی تھی۔ اس کی واضح مثال 2016 کا قطر ایل این جی معاہدہ ہے، جہاں معاشی ترقی کے ایسے اہداف طے کیے گئے جو کبھی حاصل ہی نہ ہو سکے۔ یہی وجہ تھی کہ جب قطر کی جانب سے فورس میجر کے تحت عارضی معطلی کا اعلان سامنے آیا تو معاشی ٹیم کے رہنماؤں نے اسے ایک بڑا ریلیف سمجھا۔ تاہم اس کے منفی اثرات سے انکار ممکن نہیں کیونکہ معاہدے کے تحت آنے والے چھ آر ایل این جی کارگوز میں سے دو کی ماہانہ فراہمی معطل ہونے سے ملکی ضروریات کو شدید دھچکا لگا ہے اور اب مارکیٹ میں گیس کا بحران سر اٹھا چکا ہے۔</p>
<p>تیسرا سنگین المیہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے دکھائی جانے والی مجرمانہ جلد بازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے الٹے سیدھے فیصلے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے ہمارے حکمران کوئی ایسا شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں جو آگے چل کر گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔ اس کی ایک مضحکہ خیز مثال کوئلے کی کانوں سے سینکڑوں میل دور کوئلے کا پاور پلانٹ لگانا ہے، جس کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات آسمان پر پہنچ گئے اور قریبی آبادیوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے دور میں رینٹل پاور پراجیکٹس کا تماشہ لگایا گیا، جس پر اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے خود تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اصرار کیا اور جب آڈٹ ہوا تو اس نے ان معاہدوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی دھجیاں اڑا دیں۔ اب تازہ ترین حماقت دیکھیے حکومت نے خود گھروں کے لیے سولر پینلز کی حوصلہ افزائی کی اور جب لوگوں نے سولر لگوا لیے تو نیشنل گریڈ سے بجلی کی طلب کم ہو گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب خالی پڑے بجلی گھروں کے کیپیسٹی چارجز کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے جو گھوم پھر کر غریب صارفین پر ہی گر رہا ہے۔</p>
<p>توانائی بحران کی چوتھی اورآخری اہم وجہ ملک میں گیس اور تیل کے ذخائر کا مسلسل کم ہونا ہے، جس نے پاکستان کو درآمدی ایندھن کا محتاج بنا دیا ہے۔ اس ایندھن کی خریداری کے لیے بھاری غیر ملکی زرِ مبادلہ درکار ہوتا ہے۔ مئی 2026 کے اختتام پر اگرچہ ملکی ذخائر ساڑھے سترہ ارب ڈالر کے قریب ہونے کی وجہ سے مستحکم نظر آتے ہیں، مگر ان کی بنیاد قرضوں پر کھڑی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب روایتی پالیسیوں کو بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ حکومت کو ٹیرف کی برابری کی حکمتِ عملی ختم کرنی چاہیے جس کے ذریعے نااہل ڈسکوز کو عوامی ٹیکسوں سے اربوں روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجکاری کو واحد حل سمجھنے کے تصور پر بھی دوبارہ غور کی ضرورت ہے۔ کے الیکٹرک کی 2005 میں ہونے والی نجکاری اس کی واضح مثال ہے، جو اب بھی نیشنل گریڈ کی سپلائی پر انحصار کرتی ہے اور اپنے صارفین کو موثر طریقے سے بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں رخصت ہونے والے مالی سال میں اسے 135 ارب روپے کی خطیر سرکاری سبسڈی دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ محض نجکاری سے مسائل حل نہیں ہوتے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 8 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506264</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Jun 2026 12:16:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/09120729ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/09120729ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی ین سے متعلق خطرے کی گھنٹی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506139/tokyo-oil-prices-japan-asia-us-dollars-iran-israel-war-yen-yen-warning</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 4 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر کا دوبارہ 160 کی سطح تک گر جانا بظاہر جاپان کا اندرونی مسئلہ دکھائی دے سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ٹوکیو یقیناً اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔ حکام ایک بار پھر مارکیٹ میں مداخلت کی وارننگ دے رہے ہیں، تاجر بینک آف جاپان کے ہر بیان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور منڈیاں یہ سوال کر رہی ہیں کہ پالیسی ساز کرنسی کی مزید کمزوری کو آخر کس حد تک برداشت کرنے پر آمادہ ہیں۔ تاہم زیادہ دلچسپ سوال یہ ہے کہ آیا ین کی گراوٹ محض ایشیا میں ابھرنے والی ایک بہت بڑی کہانی کی پہلی نمایاں دراڑ ہے۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں اور سرمایہ کار اب بھی تیل کی قیمتوں، جنگ بندی کی افواہوں اور سفارتی سرخیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ تیل اب بھی اثرات کی منتقلی کا سب سے فوری ذریعہ ہے۔ لیکن کیا اب اصل خطرے کی لکیر اجناس کی منڈی سے نکل کر کرنسی مارکیٹ میں منتقل ہو چکی ہے؟</p>
<p>اس تعلق کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ تیل کی بلند قیمتیں توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے تجارتی توازن کی شرائط کو مزید خراب کر دیتی ہیں۔</p>
<p>ڈالر کی مضبوطی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ اس سے درآمدات کی مقامی کرنسی میں لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً افراطِ زر کا دباؤ بڑھتا ہے، جاری کھاتوں کے توازن بگڑتے ہیں اور مرکزی بینک ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ان کے لیے بتدریج زیادہ مشکل اور غیر آرام دہ ہوتے جاتے ہیں۔ جاپان شاید اس کی سب سے واضح مثال ہے کیونکہ یہ پورا عمل اس وقت حقیقی وقت میں رونما ہو رہا ہے۔</p>
<p>جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کی فضا میں عموماً ڈالر مضبوط ہوتا ہے اور جاری جنگ نے بارہا اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ دوسری جانب جاپان اب بھی درآمدی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں، جبکہ حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>تاہم جاپان اس صورتحال کا اکیلا شکار نہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، فلپائن اور جنوبی کوریا بھی درآمدی توانائی پر بھاری انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کے حالات مختلف ہیں، لیکن بنیادی کمزوری ایک جیسی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر اضافہ درحقیقت اقتصادی سرگرمیوں پر بیرونی ٹیکس کی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح ڈالر میں ہر نئی تیزی اس بوجھ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پالیسی ساز اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں خود تیل نے کسی حد تک اطمینان کا احساس پیدا کیا ہے۔ جب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی خبریں سامنے آتی ہیں، تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ جاتی ہیں۔ منڈیاں اب بھی ہر اس اشارے پر مثبت ردِعمل دیتی ہیں کہ شاید کسی معاہدے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تاجر درحقیقت کس چیز کی قیمت لگانے کی کوشش کر رہے ہیں؟</p>
<p>حقیقی یا فزیکل مارکیٹ فیوچر مارکیٹ جتنی پُرامید دکھائی نہیں دیتی۔ ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ تزویراتی ذخائر بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومتوں اور پیداوار کنندگان نے کئی ماہ سے ہنگامی ذخائر، عملی لچک اور صنعتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اس جھٹکے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدامات غیرمعمولی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہی حفاظتی ذخائر کو بھی استعمال کر چکے ہیں جو دراصل بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے تھے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایک تشویشناک سوال کو جنم دیتی ہے: کیا منڈیاں ذخائر پر اسی حد تک ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں جس طرح وہ سفارتی سرخیوں پر انحصار کرنے کی عادی ہو چکی ہیں؟</p>
<p>اجناس کی منڈیوں میں اب تک کہیں زیادہ شدید قیمتوں کے ردوبدل سے بڑی حد تک اس لیے بچاؤ ہوا ہے کیونکہ ذخائر نے متاثرہ رسد اور مسلسل طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا ہے۔ مگر ذخائر پیداوار نہیں بلکہ وقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
<p>آج مارکیٹ میں لایا جانے والا ہر اضافی بیرل وہ بیرل ہے جو کل دستیاب نہیں ہوگا۔ ذخائر میں ہر کمی مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی نظام کی صلاحیت کو کم کرتی ہے۔ تو پھر وہ مرحلہ کب آئے گا جب منڈیاں جنگ بندی کی افواہوں سے زیادہ توجہ کم ہوتے ہوئے حفاظتی ذخائر کے سادہ حساب کتاب پر دینا شروع کریں گی؟</p>
<p>یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عالمی معیشت کے مختلف حصوں میں طلب میں کمی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ صارفین نے گاڑیوں کا استعمال کم کرنا شروع کر دیا ہے، ایئر لائنز اپنے روٹس میں تبدیلیاں کر رہی ہیں اور کاروباری ادارے اخراجات کم کرنے اور زیادہ مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p>چین میں تیل کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ بجلی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صارفین ایندھن کی بلند قیمتوں کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رجحانات دیگر ممالک میں بھی ابھر رہے ہیں۔ طلب میں یہ کمی قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے اپنے معاشی اثرات بھی ہیں۔</p>
<p>اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگر ذخائر مسلسل کم ہوتے رہیں اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا بنیادی ذریعہ طلب میں کمی ہی بن جائے تو پھر کیا ہوگا جب اسی دوران اقتصادی نمو بھی سست پڑنے لگے؟ ایسی صورت میں پالیسی ساز ایک بار پھر اس مانوس چیلنج کا سامنا کریں گے جس میں کمزور اقتصادی نمو کے ساتھ افراطِ زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>منڈیوں نے 2025 کا بیشتر حصہ یہ فرض کرتے ہوئے گزارا کہ افراطِ زر پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ لیکن کیا اس جنگ نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے؟</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں کرنسی مارکیٹ خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ شرح مبادلہ بیک وقت متعدد خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔ اقتصادی نمو کی توقعات، افراطِ زر کا دباؤ، شرح سود میں فرق اور سرمایہ کی نقل و حرکت، سب ایک ہی قیمت میں سمٹ آتے ہیں۔ چنانچہ ین کی کمزوری صرف تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان خدشات کی بھی عکاس ہے کہ معیشتیں مسلسل بیرونی جھٹکوں کو کس طرح برداشت کر رہی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے اس کے مضمرات کچھ زیادہ اجنبی نہیں ہونے چاہئیں۔ ملک اب بھی بلند تیل قیمتوں اور مضبوط ڈالر، دونوں کے اثرات کا شکار ہو سکتا ہے۔ توانائی کی درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، بیرونی مالی وسائل کے حصول کے حالات سخت ہو جاتے ہیں اور افراطِ زر کا دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔</p>
<p>اس حوالے سے پاکستان کوئی منفرد مثال نہیں۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کے بیشتر ممالک اسی نوعیت کے چیلنجوں کا مختلف شکلوں میں سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بعض معیشتوں کے پاس زیادہ زرمبادلہ ذخائر، بہتر مالیاتی پوزیشن یا زیادہ لچکدار پالیسی فریم ورک موجود ہیں۔</p>
<p>ممکن ہے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی واقعی درست ثابت ہو۔ ممکن ہے مذاکرات بالآخر کسی پائیدار تصفیے پر منتج ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ذخائر خطرناک حد تک کم ہونے سے پہلے مستحکم ہو جائیں۔ بظاہر منڈیاں اس امکان کو خاصی اہمیت دے رہی ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر وہ غلط ثابت ہوں تو کیا ہوگا؟ اگر خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں تازہ ترین اتار چڑھاؤ کے بجائے اصل اہم اشارہ توانائی درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہو تو؟ اور اگر جاپان پہلے ہی 160 ین فی ڈالر کی سطح پر مداخلت پر غور کر رہا ہے تو دیگر ممالک کے پالیسی ساز خاموشی سے کن خدشات میں مبتلا ہوں گے؟</p>
<p>ابتدائی جھٹکا تیل کی منڈی نے پیدا کیا تھا، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایشیا اس کی اصل قیمت کرنسی مارکیٹ میں چکا رہا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 4 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506139</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 15:17:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/051513502dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/051513502dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عوامی بیانیے اور بند کمرہ بریفنگز کا دلچسپ کھیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506099/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید کسی بھی ملاقات کا اصل جوہر اور مقصد اس وقت ماند پڑ جاتا ہے جب اس سے جڑے ظاہری تاثر کو ملاقات کی اصل کارروائی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ رکھا جائے۔ ظاہری تاثر کے ہدف کو پانے کے لیے خصوصی اور بھرپور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو افراد یا فریقین کے مابین بات چیت کے دوران اگر ظاہری تاثر میں کوئی بھی منفی پہلو ابھر کر سامنے آ جائے تو وہ پورے عمل کی ساکھ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے یہ مقولہ صرف اسی صورت میں سچ ہو سکتا ہے جب وہ تصویر حقیقی ہو یعنی وہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہو۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر صدر شی جن پنگ سے کسی حقیقی ”بیئر ہگ“ (گرمجوشی سے گلے ملنے) کی نہیں تو کم از کم ایک ’’پانڈا ہگ ’’ (دوستانہ جھکاؤ) کی بڑی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مصافحہ ملا، جیسا کہ عام طور پر چینی کرتے ہیں۔ قارئین نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی، ذوالفقار علی بھٹو سے ایسا مصافحہ کرتے تھے جو کم از کم دو منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک برقرار رہتا تھا۔ اس مصافحے میں ہمیشہ ایک گہرا پیغام چھپا ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی جن پنگ کا یہ سنجیدہ اور بے تاثر رویہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی بلکہ یہ متوقع تھا۔ چینی گزشتہ دو سالوں سے اپنے خلاف اچھالے جانے والے اس بہت سے گند کو برداشت کر رہے تھے جو ان کے منہ پر مارا جا رہا تھا، جس کا آغاز غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ سے ہوا اور بات انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاست کے باب میں چینی تہذیب کے بنیادی اصول ’’صبر اور استقامت ’’پر استوار ہیں۔ چینی لالچِ خام میں مبتلا ہو کر قلیل مدتی فوائد کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ وہ طویل مدتی کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ان کا بے پناہ صبر ہی ہے جو بدترین دشمنوں کو مایوس اور تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ دشمن کو ’حیران و ششدر‘ کر دینے کا صدیوں پرانا سن تزو کا اصول آج بھی ان کے عمل سے جھلکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاموشی کی اسی ڈھال اور کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کے باعث حریف کے عزائم اور مقاصد خاک میں مل جاتے ہیں، امریکہ اس کا عینی شاہد اور خود اس تجربے سے گزر چکا ہے مگر اب وقت بدل گیا ہے، دہائیوں تک امریکی غلبے کے زیرِ اثر رہنے والے یک قطبی (یونی پولر) نظامِ عالم کے برعکس آج کی دنیا ایک نئے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے تابع ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور دوبارہ اپنے پاؤں جمانے کی عجلت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1971ء میں پاکستان کی وساطت سے ہونے والے اولین رابطے کے دوران امریکی صدر نکسن نے چیئرمین ماؤ اور وزیر اعظم چو این لائی سے ایک برتر اور حاوی پوزیشن کے ساتھ ملاقات کی تھی، کیونکہ اس وقت امریکہ بلا شرکتِ غیرے ایک عالمی معاشی قوت تھا۔ چین نے تب تک اپنی معیشت کے بند دروازے دنیا کے لیے نہیں کھولے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں سے ’نوری سال‘ پیچھے تھا۔ مگر آج معاملات طے کرنے کے لیے سامنے کھڑا عوامی جمہوریہ چین بالکل مختلف ہے۔ اب دوستی ہو یا دشمنی وہ اس اسٹریٹیجک مساوات میں کسی بھی طور کمزور فریق نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین ایک ایسا معاشی پاور ہاؤس ہے جو کھربوں امریکی ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کی بیرونی تجارت کا حجم دیدنی ہے۔ وہاں کے کسی ایک کامیاب سرکاری ادارے کا بجٹ دو سے تین ترقی پذیر ممالک کے مجموعی سالانہ بجٹ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ چین اب ایک ایسی طاقتور قوم بن چکا ہے جسے مغرب اپنے تکبر یا کھوکھلی لفاظی کے بل بوتے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون پر سوار 12 سے 16 نامور سی ای اوز کو بیجنگ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جایا گیا تھا -ان کا مقصد ’میگا‘ کے نعرے کی تکمیل میں معاشی سودے بازی کرنا تھا۔ بظاہر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے۔ چینی اپنے رکھ رکھاؤ میں نرم ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر انتہائی سخت ثابت ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ نظام کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے مخصوص سرمایہ دارانہ رویے کے ذریعے مذاکرات کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے کے دوران تائیوان جیسے کانٹے دار اور حساس معاملے کا زیرِ بحث نہ آنا ہی چینی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چین کے پالیسی ساز اپنے جائزوں، دور اندیشی اور نقطہ نظر میں غیر معمولی طور پر ذہین، سنجیدہ اور پختہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے دورے میں تائیوان کے حساس موضوع پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس راقم کا یہ پختہ یقین ہے کہ عوامی جمہوریہ چین تائیوان کو کسی جنگ میں الجھے بغیر واپس لے لے گا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو واپس لیا تھا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ وہ خود اس واقعے کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ اس دوران وہ تائیوان کے ساتھ تجارت اور روابط جاری رکھیں گے۔ حال ہی میں بیجنگ نے تائیوان کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر کی میزبانی کی۔ یہ اتحاد ہو کر رہے گا۔ یہ ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم بولیں۔ انہیں نپا تلا ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بولنے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں مصلحت پسندانہ منافقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد باقاعدہ جانچ پڑتال اور کنٹرول کے تحت جاری کی جانے والی تصاویر اور بیانات دراصل ’دھوکے‘ یا شاید ’نظری دھوکے‘ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک گرمجوش مصافحہ یا گلے ملنا لازمی طور پر گہری دوستی یا ہم آہنگی کا عکاس نہیں ہوتا۔ سیاست دان اور میڈیا ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ فوٹو سیشن کے موقع کا غلط استعمال دماغ کو غلط تشریحات کی طرف لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے، اصل تصویر (حقیقت) کو دیکھنے کے بجائے دماغ اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے شارٹ کٹس یا ماضی کے مفروضوں پر انحصار کرتا ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تصاویر ایک مکمل سراب ہیں، ایک ایسا وہم، جو سچائی سے بالکل عاری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کھلے عام اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کی ثقافت میں یہ مانا جاتا ہے کہ اظہار سے کبھی دوسروں کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے اور دوسری طرف چینی عوامی تعریف کے بارے میں بھی انتہائی حساس ہیں، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرنا (عاجزی) پورے شمال مشرقی ایشیا بشمول کوریا، جاپان، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وہ اپنے پیغامات سنجیدہ ردعمل کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اول تو وہ وقت کی نزاکت کے تحت فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ردعمل کے تمام اثرات پر غور کیے بغیر جواب دینے میں ہماری طرح جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ دھیمے انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت لیتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں اضطراری یا اچانک ردعمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چمچماتے میڈیا کی موجودگی میں ’فائر سائیڈ چیٹ‘ (غیر رسمی گفتگو) بھی ایک قسم کا اسٹنٹ ہے، یہ سب ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ سوالات پوچھنے کی اجازت پانے والے زیادہ تر میڈیا اہلکار پہلے سے کلیئرڈ اور مطلع شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ’اسکرپٹ‘ پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے حال ہی میں طیارے سے سیدھے پل پر قدم رکھا، وہ اپنے میزبان کو طویل ترین وقت تک گلے لگانے کے لیے بانہیں پھیلائے آگے بڑھے۔ انہوں نے ڈھٹائی سے میزبان کا بازو تھام لیا۔ یہ سارا ڈرامہ واضح طور پر ظاہری تاثر کے ذریعے اس چیز کو پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ تھا جو بنیادی طور پر جھوٹ ہے لیکن اسے سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کو اپنی واضح بین الاقوامی تنہائی کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے یہ تصویر ایک مفید ہتھیار سمجھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے اپنایا گیا چیتھم ہاؤس رول جسے 1927 میں وضع کیا گیا تھا بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے کھیل کے قواعد کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں اس قانون کے تحت کوئی اجلاس یا اس کا کوئی حصہ منعقد ہوتا ہے وہاں شرکاء بولنے والے کی شناخت یا وابستگی کو ظاہر کیے بغیر معلومات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دل کی بات کہنا ایک مقولہ ہے، لیکن یہ کسی کو اپنے ذہن میں آنے والی ہر بات بولنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ایک بار برطانیہ میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر فل جاف نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں چرچل کا مجسمہ بحال کر دیا ہے لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واقعی تاریخ کو سمجھتے ہیں؟ مزید آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے چرچل کے 1939 کے اس جملے کا حوالہ دیا جو اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم چیمبرلین کے لیے تھا کہ آپ کے پاس جنگ اور بدنامی میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا، آپ نے بدنامی کو چنا، پھر بھی آپ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ اگر کسی سیاست دان نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوئی خاص توجہ نہ دیتا لیکن سفارت کاروں کا ایسی بات کہنا سفارتی دنیا میں سنگین گناہ کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے بھی اعداد و شمار کی طرح ہوتے ہیں، جو ظاہر کو عیاں کرتے ہیں اور اہم ترین کو چھپا لیتے ہیں۔ جب ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’گرم جوش اور دوستانہ ماحول‘ میں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ کچھ تعاون ہوا، کچھ معاہدہ ہوا لیکن ملاقات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھی اور اگر یہ آزادانہ اور واضح ہو تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ ملاقات دوٹوک، سخت اور شدید بحث و تکرار سے بھرپور تھی۔ اختلافات کو نرمی سے سنبھالا گیا لیکن مسائل پر تصادم برقرار ہے اور اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دونوں فریقین نے اپنے موجودہ موقف کا اعادہ کیا۔ اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’مفید‘ تھی تو اس کا مطلب صرف یہ پڑھا جانا چاہیے کہ گلے شکوے اور الزامات کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ان سب میں سب سے زیادہ مہلک جملہ ’آف دی ریکارڈ‘ ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک دھوکہ ہے۔ آف دی ریکارڈ کی اصطلاح دراصل ہر چیز کو آن ریکارڈ لانے کا اعتراف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سیاست کا تقاضا ہے کہ جتنا کم کہا جائے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ جذبات اور احساسات کا مکمل ضبط ایک بنیادی شرط ہے۔ فارن آفس، وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کی پریس بریفنگز میں ہمیں یہ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی پوچھے گئے سوال کا جواب دیے بغیر یا سوال کے جواب کے قریب پہنچے بغیر بھی کیسے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ان کا وہ مطلب نہیں ہوتا وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کا اصل میں ان کا مطلب ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اسکول میں کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا بہترین فن ہی پہلا سبق ہے جو پڑھایا اور ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس پر میڈیا کا غلبہ ہے جو ہر ایک دن رہنماؤں پر جارحانہ کیمروں کے ساتھ نظریں جمائے رکھتا ہے۔ آج ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسکرینوں پر قید نہ ہو رہی ہو۔حال ہی میں ایک یورپی دارالحکومت کے زیرِ زمین اسٹیشن پر میں نے آڈیو ریکارڈنگ کی خصوصیات کے حامل کیمروں کی تعداد گنی جو 50 سے تجاوز کر رہی تھی۔یہ ویڈیوز نقصان دہ اور مفید دونوں ہو سکتی ہیں،اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا مالک اسے کیسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’ظاہری تاثر کے کھیل‘ کا یہ معمہ اے آئی ٹولز کے غلط استعمال کے ساتھ مزید بدتر ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بطور قوم ہمیں اپنی ہی باتوں سے خود کو شرمندہ کرنے کے عمل کو روکنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کام رہنماؤں اور پیروکاروں دونوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید کسی بھی ملاقات کا اصل جوہر اور مقصد اس وقت ماند پڑ جاتا ہے جب اس سے جڑے ظاہری تاثر کو ملاقات کی اصل کارروائی کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہ رکھا جائے۔ ظاہری تاثر کے ہدف کو پانے کے لیے خصوصی اور بھرپور کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو افراد یا فریقین کے مابین بات چیت کے دوران اگر ظاہری تاثر میں کوئی بھی منفی پہلو ابھر کر سامنے آ جائے تو وہ پورے عمل کی ساکھ کو خاک میں ملا دیتا ہے۔</strong></p>
<p>ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے یہ مقولہ صرف اسی صورت میں سچ ہو سکتا ہے جب وہ تصویر حقیقی ہو یعنی وہ حقیقت کی عکاسی کرتی ہو۔حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کے اپنے پہلے دورے پر صدر شی جن پنگ سے کسی حقیقی ”بیئر ہگ“ (گرمجوشی سے گلے ملنے) کی نہیں تو کم از کم ایک ’’پانڈا ہگ ’’ (دوستانہ جھکاؤ) کی بڑی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم انہیں ایک مضبوط اور سنجیدہ مصافحہ ملا، جیسا کہ عام طور پر چینی کرتے ہیں۔ قارئین نے دیکھا یا پڑھا ہوگا کہ چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی، ذوالفقار علی بھٹو سے ایسا مصافحہ کرتے تھے جو کم از کم دو منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر تک برقرار رہتا تھا۔ اس مصافحے میں ہمیشہ ایک گہرا پیغام چھپا ہوتا تھا۔</p>
<p>شی جن پنگ کا یہ سنجیدہ اور بے تاثر رویہ کوئی حیران کن بات نہیں تھی بلکہ یہ متوقع تھا۔ چینی گزشتہ دو سالوں سے اپنے خلاف اچھالے جانے والے اس بہت سے گند کو برداشت کر رہے تھے جو ان کے منہ پر مارا جا رہا تھا، جس کا آغاز غیر حقیقت پسندانہ ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کے نفاذ سے ہوا اور بات انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی دھمکیوں تک جا پہنچی۔</p>
<p>سیاست کے باب میں چینی تہذیب کے بنیادی اصول ’’صبر اور استقامت ’’پر استوار ہیں۔ چینی لالچِ خام میں مبتلا ہو کر قلیل مدتی فوائد کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ وہ طویل مدتی کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ یہ ان کا بے پناہ صبر ہی ہے جو بدترین دشمنوں کو مایوس اور تھکا کر رکھ دیتا ہے۔ دشمن کو ’حیران و ششدر‘ کر دینے کا صدیوں پرانا سن تزو کا اصول آج بھی ان کے عمل سے جھلکتا ہے۔</p>
<p>خاموشی کی اسی ڈھال اور کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کے باعث حریف کے عزائم اور مقاصد خاک میں مل جاتے ہیں، امریکہ اس کا عینی شاہد اور خود اس تجربے سے گزر چکا ہے مگر اب وقت بدل گیا ہے، دہائیوں تک امریکی غلبے کے زیرِ اثر رہنے والے یک قطبی (یونی پولر) نظامِ عالم کے برعکس آج کی دنیا ایک نئے کثیر قطبی (ملٹی پولر) نظام کے تابع ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب کھویا ہوا وقار بحال کرنے اور دوبارہ اپنے پاؤں جمانے کی عجلت میں ہے۔</p>
<p>1971ء میں پاکستان کی وساطت سے ہونے والے اولین رابطے کے دوران امریکی صدر نکسن نے چیئرمین ماؤ اور وزیر اعظم چو این لائی سے ایک برتر اور حاوی پوزیشن کے ساتھ ملاقات کی تھی، کیونکہ اس وقت امریکہ بلا شرکتِ غیرے ایک عالمی معاشی قوت تھا۔ چین نے تب تک اپنی معیشت کے بند دروازے دنیا کے لیے نہیں کھولے تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بڑی معیشتوں سے ’نوری سال‘ پیچھے تھا۔ مگر آج معاملات طے کرنے کے لیے سامنے کھڑا عوامی جمہوریہ چین بالکل مختلف ہے۔ اب دوستی ہو یا دشمنی وہ اس اسٹریٹیجک مساوات میں کسی بھی طور کمزور فریق نظر نہیں آتا۔</p>
<p>چین ایک ایسا معاشی پاور ہاؤس ہے جو کھربوں امریکی ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر سے مالا مال ہے۔ اس کی بیرونی تجارت کا حجم دیدنی ہے۔ وہاں کے کسی ایک کامیاب سرکاری ادارے کا بجٹ دو سے تین ترقی پذیر ممالک کے مجموعی سالانہ بجٹ پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ چین اب ایک ایسی طاقتور قوم بن چکا ہے جسے مغرب اپنے تکبر یا کھوکھلی لفاظی کے بل بوتے پر پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔</p>
<p>ایئر فورس ون پر سوار 12 سے 16 نامور سی ای اوز کو بیجنگ صرف سیر و تفریح کے لیے نہیں لے جایا گیا تھا -ان کا مقصد ’میگا‘ کے نعرے کی تکمیل میں معاشی سودے بازی کرنا تھا۔ بظاہر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے۔ چینی اپنے رکھ رکھاؤ میں نرم ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر انتہائی سخت ثابت ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ نظام کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے مخصوص سرمایہ دارانہ رویے کے ذریعے مذاکرات کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔</p>
<p>اس دورے کے دوران تائیوان جیسے کانٹے دار اور حساس معاملے کا زیرِ بحث نہ آنا ہی چینی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ چین کے پالیسی ساز اپنے جائزوں، دور اندیشی اور نقطہ نظر میں غیر معمولی طور پر ذہین، سنجیدہ اور پختہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے دورے میں تائیوان کے حساس موضوع پر نہ تو کوئی سوال اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی جواب دیا گیا۔</p>
<p>اس راقم کا یہ پختہ یقین ہے کہ عوامی جمہوریہ چین تائیوان کو کسی جنگ میں الجھے بغیر واپس لے لے گا، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ کو واپس لیا تھا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔ وہ خود اس واقعے کی تاریخ کا فیصلہ کریں گے۔ اس دوران وہ تائیوان کے ساتھ تجارت اور روابط جاری رکھیں گے۔ حال ہی میں بیجنگ نے تائیوان کی پارلیمنٹ کے اپوزیشن لیڈر کی میزبانی کی۔ یہ اتحاد ہو کر رہے گا۔ یہ ناگزیر ہے۔</p>
<p>رہنماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم سے کم بولیں۔ انہیں نپا تلا ہونا چاہیے۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح بولنے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے میدان میں مصلحت پسندانہ منافقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد باقاعدہ جانچ پڑتال اور کنٹرول کے تحت جاری کی جانے والی تصاویر اور بیانات دراصل ’دھوکے‘ یا شاید ’نظری دھوکے‘ ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایک گرمجوش مصافحہ یا گلے ملنا لازمی طور پر گہری دوستی یا ہم آہنگی کا عکاس نہیں ہوتا۔ سیاست دان اور میڈیا ایک ایسا تاثر قائم کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ فوٹو سیشن کے موقع کا غلط استعمال دماغ کو غلط تشریحات کی طرف لے جانے کے لیے کیا جاتا ہے، اصل تصویر (حقیقت) کو دیکھنے کے بجائے دماغ اپنے نتائج اخذ کرنے کے لیے شارٹ کٹس یا ماضی کے مفروضوں پر انحصار کرتا ہے، جو حقیقت کے بالکل برعکس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تصاویر ایک مکمل سراب ہیں، ایک ایسا وہم، جو سچائی سے بالکل عاری ہوتا ہے۔</p>
<p>چینی کھلے عام اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار نہیں کرتے۔ ان کی ثقافت میں یہ مانا جاتا ہے کہ اظہار سے کبھی دوسروں کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے اور دوسری طرف چینی عوامی تعریف کے بارے میں بھی انتہائی حساس ہیں، وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرنا (عاجزی) پورے شمال مشرقی ایشیا بشمول کوریا، جاپان، چین، تائیوان اور ہانگ کانگ کی ثقافت کا حصہ ہے۔ وہ اپنے پیغامات سنجیدہ ردعمل کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اول تو وہ وقت کی نزاکت کے تحت فوری ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ وہ ردعمل کے تمام اثرات پر غور کیے بغیر جواب دینے میں ہماری طرح جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ دھیمے انداز میں ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت لیتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں اضطراری یا اچانک ردعمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p>چمچماتے میڈیا کی موجودگی میں ’فائر سائیڈ چیٹ‘ (غیر رسمی گفتگو) بھی ایک قسم کا اسٹنٹ ہے، یہ سب ممکنہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ سوالات پوچھنے کی اجازت پانے والے زیادہ تر میڈیا اہلکار پہلے سے کلیئرڈ اور مطلع شدہ ہوتے ہیں۔ انہیں ’اسکرپٹ‘ پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مودی نے حال ہی میں طیارے سے سیدھے پل پر قدم رکھا، وہ اپنے میزبان کو طویل ترین وقت تک گلے لگانے کے لیے بانہیں پھیلائے آگے بڑھے۔ انہوں نے ڈھٹائی سے میزبان کا بازو تھام لیا۔ یہ سارا ڈرامہ واضح طور پر ظاہری تاثر کے ذریعے اس چیز کو پہنچانے کے لیے پہلے سے طے شدہ تھا جو بنیادی طور پر جھوٹ ہے لیکن اسے سچ کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھارت کو اپنی واضح بین الاقوامی تنہائی کو پسِ پشت ڈالنے کے لیے اس کی سخت ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے یہ تصویر ایک مفید ہتھیار سمجھی گئی۔</p>
<p>رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے اپنایا گیا چیتھم ہاؤس رول جسے 1927 میں وضع کیا گیا تھا بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے کھیل کے قواعد کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جہاں اس قانون کے تحت کوئی اجلاس یا اس کا کوئی حصہ منعقد ہوتا ہے وہاں شرکاء بولنے والے کی شناخت یا وابستگی کو ظاہر کیے بغیر معلومات استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔</p>
<p>اپنے دل کی بات کہنا ایک مقولہ ہے، لیکن یہ کسی کو اپنے ذہن میں آنے والی ہر بات بولنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر ایک بار برطانیہ میں نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر فل جاف نے لندن میں ایک عوامی تقریب میں بات کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں چرچل کا مجسمہ بحال کر دیا ہے لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ واقعی تاریخ کو سمجھتے ہیں؟ مزید آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے چرچل کے 1939 کے اس جملے کا حوالہ دیا جو اس وقت کے موجودہ وزیر اعظم چیمبرلین کے لیے تھا کہ آپ کے پاس جنگ اور بدنامی میں سے کسی ایک کا انتخاب تھا، آپ نے بدنامی کو چنا، پھر بھی آپ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا’۔ انہیں فوراً برطرف کر دیا گیا۔ اگر کسی سیاست دان نے ایسا کچھ کہا ہوتا تو اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ کوئی خاص توجہ نہ دیتا لیکن سفارت کاروں کا ایسی بات کہنا سفارتی دنیا میں سنگین گناہ کے مترادف ہے۔</p>
<p>کسی بھی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے والے مشترکہ اعلامیے بھی اعداد و شمار کی طرح ہوتے ہیں، جو ظاہر کو عیاں کرتے ہیں اور اہم ترین کو چھپا لیتے ہیں۔ جب ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’گرم جوش اور دوستانہ ماحول‘ میں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ کچھ تعاون ہوا، کچھ معاہدہ ہوا لیکن ملاقات مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں تھی اور اگر یہ آزادانہ اور واضح ہو تو اس کا مطلب یہ نکالا جانا چاہیے کہ ملاقات دوٹوک، سخت اور شدید بحث و تکرار سے بھرپور تھی۔ اختلافات کو نرمی سے سنبھالا گیا لیکن مسائل پر تصادم برقرار ہے اور اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’تعمیری‘ تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ دونوں فریقین نے اپنے موجودہ موقف کا اعادہ کیا۔ اگر ترجمان کہتا ہے کہ ملاقات ’مفید‘ تھی تو اس کا مطلب صرف یہ پڑھا جانا چاہیے کہ گلے شکوے اور الزامات کا تبادلہ ہوا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ان سب میں سب سے زیادہ مہلک جملہ ’آف دی ریکارڈ‘ ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک دھوکہ ہے۔ آف دی ریکارڈ کی اصطلاح دراصل ہر چیز کو آن ریکارڈ لانے کا اعتراف ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سیاست کا تقاضا ہے کہ جتنا کم کہا جائے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ جذبات اور احساسات کا مکمل ضبط ایک بنیادی شرط ہے۔ فارن آفس، وائٹ ہاؤس، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کی پریس بریفنگز میں ہمیں یہ دیکھنے اور سیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی پوچھے گئے سوال کا جواب دیے بغیر یا سوال کے جواب کے قریب پہنچے بغیر بھی کیسے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں ان کا وہ مطلب نہیں ہوتا وہ اس بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کا اصل میں ان کا مطلب ہوتا ہے۔ سفارت کاری کے اسکول میں کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا بہترین فن ہی پہلا سبق ہے جو پڑھایا اور ذہن نشین کرایا جاتا ہے۔</p>
<p>ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس پر میڈیا کا غلبہ ہے جو ہر ایک دن رہنماؤں پر جارحانہ کیمروں کے ساتھ نظریں جمائے رکھتا ہے۔ آج ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اسکرینوں پر قید نہ ہو رہی ہو۔حال ہی میں ایک یورپی دارالحکومت کے زیرِ زمین اسٹیشن پر میں نے آڈیو ریکارڈنگ کی خصوصیات کے حامل کیمروں کی تعداد گنی جو 50 سے تجاوز کر رہی تھی۔یہ ویڈیوز نقصان دہ اور مفید دونوں ہو سکتی ہیں،اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا مالک اسے کیسے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’ظاہری تاثر کے کھیل‘ کا یہ معمہ اے آئی ٹولز کے غلط استعمال کے ساتھ مزید بدتر ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>بطور قوم ہمیں اپنی ہی باتوں سے خود کو شرمندہ کرنے کے عمل کو روکنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کام رہنماؤں اور پیروکاروں دونوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506099</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:59:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0413541442fcb69.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0413541442fcb69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈی فیکٹر ۔ خوابوں سے تقدیر تک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506098/abraham-lincoln-michael-phelps-university-of-scranton-mandelas</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کچھ لوگ کامیابی کی منزل کیوں پا لیتے ہیں جبکہ دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ وہ کون سا ’’ایکس فیکٹر‘‘ ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے؟ کیا وہ پیدائشی فاتح ہوتے ہیں؟ ان کی کامیابی کی کہانیوں میں قسمت کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کو متجسس رکھا ہے۔ متعدد اہلِ علم نے ان موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے اور بے شمار نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان سب نے کامیابی کے عوامل کو سمجھنے میں کسی نہ کسی حد تک بصیرت فراہم کی ہے۔تحقیقات سے بھری پڑی ہیں جو بتاتی ہیں کہ کامیاب افراد کے پاس ایک واضح وژن ہوتا ہے۔ ایسی بے شمار کتابیں موجود ہیں جو ان کی خواب دیکھنے اور دوسروں کو خواب دکھانے کی صلاحیت کا ذکر کرتی ہیں۔ ایک اور مقبول موضوع ’’تقدیر‘‘ بھی اپنی مدد آپ ( سیلف ہیلپ ) کی ادبیات کا پسندیدہ محور رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ان لوگوں کے ذہن میں ایک واضح اور حتمی مقصد موجود ہوتا ہے، کامیابی کے حصول میں ایک اہم محرک ثابت ہوتی ہے۔ تقدیر یا منزل کے تصور کے بغیر خواب بیچنے والے بھی محض راہگیر بن کر رہ جاتے ہیں۔ سرنگ کے اختتام پر دکھائی دینے والی روشنی مسافر کو مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، اور مطلوبہ منزل ہی وہ مقصد ہوتی ہے جو ہر قدم کی سمت متعین کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ تمام باتیں درست ہیں۔ یہ سب کامیابی کی عمارت کی اینٹیں ہیں۔ یہ سب حوصلہ افزا اور تحریک دینے والی ہیں۔ تاہم کامیابی کے لیے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کافی نہیں۔ بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں، بہت سے مستقبل کا تصور کرتے ہیں، کچھ اپنی تقدیر پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور کچھ کے ذہن میں اپنی آخری منزل کا واضح خاکہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر وہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ امریکی یونیورسٹی آف اسکرینٹن کی ایک معروف تحقیق کے مطابق نئے سال کے لیے اہداف مقرر کرنے والے 92 فیصد افراد پہلے ہی مہینے میں انہیں ترک کر دیتے ہیں۔ یعنی صرف 8 فیصد لوگ اپنے اہداف کے تعاقب میں ثابت قدم رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے کتنے لوگ واقعی اپنے مقاصد حاصل کر پاتے ہیں، یہ شرح یقیناً اس سے بھی کم ہوگی۔ عام طور پر پیش کی جانے والی وجوہات یہ ہوتی ہیں: ’’میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘، ’’قسمت میرا ساتھ نہیں دے رہی‘‘، ’’میرے حالات ایسے ہیں کہ…‘‘، ’’یہ عملی نہیں ہے‘‘ وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور تقدیر کے درمیان موجود گمشدہ کڑی سامنے آتی ہے۔ یہ کڑی بھی حرف D سے شروع ہوتی ہے، اور وہ ہے ڈسپلن (نظم و ضبط)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظم و ضبط کے بغیر خواب دراصل ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔ بظاہر نظم و ضبط ایک منظم اور بار بار دہرایا جانے والا عمل محسوس ہوتا ہے، اور یقیناً یہ ہے بھی، مگر اس سے کہیں بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ دراصل اس بات کا حقیقی امتحان ہے کہ آپ اپنے خوابوں اور اپنے جذبے کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کس طرح حقیقی معنوں میں کھیل کا رخ بدل دینے والا عنصر ثابت ہوتا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈی فیکٹر نمبر 1: اپنے اصولوں اور اقدار سے وابستگی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نظم و ضبط محض قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی منزل سے آگاہ ہونے اور اس تک درست طریقے سے پہنچنے کے عزم کا نام ہے۔ ایک رہنما کی شخصیت ان اقدار اور اصولوں پر استوار ہوتی ہے جنہیں وہ اختیار کرتا اور برقرار رکھتا ہے۔ نظم و ضبط کا پہلا امتحان اس وقت سامنے آتا ہے جب ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی کے حالات آپ پر ان اصولوں کے خلاف جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ میں اتنا نظم و ضبط موجود ہے کہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکیں اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے نتائج قبول کر سکیں؟ اس وابستگی کے لیے اس وقت ’’نہیں‘‘ کہنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے جب ’’ہاں‘‘ کہنا کہیں زیادہ آسان ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیانت داری ایک ایسی قدر ہے جس کا ذکر لوگ، خصوصاً قائدین، سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے کتنی ہی بار دیکھا ہے کہ کاروباری دنیا کے انتہائی معروف اور قابلِ تعریف رہنما بھی دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں کمپنیوں کی مالیت بڑھانے کے لیے مالی اعداد و شمار میں رد و بدل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، ہم دنیا کے ان عظیم رہنماؤں کے نظم و ضبط اور ثابت قدمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جیسے نیلسن منڈیلا، جنہوں نے شدید مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں کا دامن نہیں چھوڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری دنیا میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کی ایک معروف کمپنی کے سربراہ نے کووڈ-19 کے دوران، مختلف فریقوں کے دباؤ کے باوجود، نچلے درجے کے ملازمین کو برقرار رکھنے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس نظم و ضبط کی مثال ہے جو انسان کو اپنے نظریات اور اقدار پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنا ہی ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا پہلا اور بنیادی مظہر ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو خوابوں کو محض خواہشات سے نکال کر تقدیر میں بدلنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈی فیکٹر نمبر 2: جذبے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر 92 فیصد لوگ اپنے عزم اور ارادوں پر قائم نہیں رہ پاتے تو یہ ایک واضح کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کا جذبہ مشکلات کے سامنے کتنا گہرا، پائیدار اور ثابت قدم ہے۔ جب ہر چیز آپ کو ہار مان لینے پر آمادہ کر رہی ہو، تب بھی آگے بڑھتے رہنے کا نظم و ضبط ہی وہ نمایاں خصوصیت ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے الگ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی سب سے عام مثال وزن کم کرنے کی کوشش ہے۔ بیشتر غذائی منصوبے (ڈائٹس) ناکام ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر ورزش کے پروگرام ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر جلنے والی آگ کتنی شدید اور کتنی مستقل ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیلوں کی دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد جلد ہی منظر سے غائب ہو گئے۔ اس کے برعکس، نسبتاً کم صلاحیت رکھنے والے بہت سے لوگوں نے محض اپنے مستقل جذبے اور ثابت قدمی کی بدولت سفر کی تمام نشیب و فراز عبور کیے اور کامیابی حاصل کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں کون ایسا ہے جو صبح چار بجے خوش دلی اور تازگی کے ساتھ بیدار ہوتا ہو؟ ہر شخص نیند، بوجھل سر، سست قدموں اور اس ذہن سے نبرد آزما ہوتا ہے جو ایک اضافی گھنٹے کی نیند کے لیے سیکڑوں بہانے تراش رہا ہوتا ہے۔ نرم اور گرم بستر اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن چیمپئن وہ ہوتے ہیں جو الارم کی آواز، اپنی سستی اور جسمانی بوجھل پن پر قابو پانے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں۔ دوسری جانب صرف صلاحیت کے بل پر آگے بڑھنے والے بہت سے لوگ روزانہ اسی الارم کے ہاتھوں شکست کھاتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ کسی طرح اٹھ بھی جائیں تو کبھی موسم، کبھی گاڑی اور کبھی دروازے کی چابی ان کے لیے نئے بہانے بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت کامیابی کا راز صرف جذبہ رکھنے میں نہیں بلکہ اس جذبے کو ہر مشکل، ہر رکاوٹ اور ہر مایوسی کے باوجود زندہ رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ یہی پائیدار جذبہ اور اس کے ساتھ جڑا نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اور نہایت اہم ستون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل فلپس، جنہوں نے تیراکی میں آٹھ اولمپک طلائی تمغے جیتے، مسلسل 700 دن سے زائد عرصے تک بغیر ناغہ تربیت کرتے رہے۔ گرمی ہو یا برف باری، بارش ہو یا سالگرہ، حتیٰ کہ کرسمس کا دن بھی ہو، وہ ہر روز حاضر ہوتے، مشق کرتے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ڈی فیکٹر نمبر 3: ناکامی پر ردِعمل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;مزاج پر قابو رکھنے کا نظم و ضبط کامیابی کا ایک اہم تعین کنندہ ہے۔ جب حالات سازگار ہوں تو آپ کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے، لیکن جب معاملات بگڑ جائیں تو کیا آپ کا موڈ بھی گر جاتا ہے اور آپ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے جذبات اور موڈ کو قابو میں رکھنے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں، یا پھر آپ کے موڈ ہی آپ کو کنٹرول کرتے ہیں؟ یہی ایک بڑا ’’ڈی فیکٹر‘‘ ہے۔ جب مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہو، لیکن اس کے باوجود آپ اپنی ماند پڑتی ہوئی ہمت کو سنبھال کر ایک اور کوشش کرنے کے لیے تیار رہیں، تو دراصل یہی وہ امتحان ہے جس میں کامیابی حاصل کرنا اصل فتح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہم لنکن نے کامیابی حاصل کرنے سے قبل آٹھ مرتبہ مختلف نامزدگیوں اور انتخابات میں شکست کا سامنا کیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں راجر فیڈرر نے ڈرٹ ماؤتھ کالج کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناکامی کے بعد آگے بڑھنے کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:’’جب آپ اوسطاً ہر دوسرا پوائنٹ ہار رہے ہوتے ہیں تو آپ سیکھ جاتے ہیں کہ ہر شاٹ پر پچھتاوے میں نہ الجھیں۔ آپ خود کو یہ سوچنے کی تربیت دیتے ہیں: ’ٹھیک ہے، مجھ سے ڈبل فالٹ ہوا، لیکن یہ صرف ایک پوائنٹ تھا۔‘‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی شناخت نہیں بناتے۔ وہ اسے ایک واقعہ سمجھتے ہیں، اپنی تقدیر نہیں۔ ان کے لیے ہر شکست محض ایک سبق ہوتی ہے، آخری فیصلہ نہیں۔ یہی ذہنی استقامت اور جذباتی نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا تیسرا اور نہایت طاقتور پہلو ہے، جو انسان کو بار بار گرنے کے باوجود دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی قوت عطا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ’’جب آپ ایک پوائنٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو وہ دنیا کی سب سے اہم چیز ہوتا ہے، اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن جب وہ پوائنٹ گزر جائے تو اسے گزر جانے دینا چاہیے۔ یہ طرزِ فکر انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ آپ کو آزادی دیتا ہے کہ آپ پوری شدت، واضح سوچ اور مکمل توجہ کے ساتھ اگلے پوائنٹ اور پھر اس کے بعد آنے والے پوائنٹ پر اپنی تمام توانائیاں مرکوز کر سکیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناکامی کامیابی کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ دراصل یہی نظم و ضبط کہ آپ ناکامی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں، عام اور غیرمعمولی افراد کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظم و ضبط قائدانہ صلاحیت کی پہچان ہے۔ یہ عزم کا نام ہے۔ یہ اپنے خوابوں سے وفاداری کا نام ہے۔ یہ حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود ثابت قدمی سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ یہ رکاوٹوں کو اپنی راہ کا اختتام نہ بننے دینے کا نام ہے۔ یہ اس وقت بھی کام کرتے رہنے کا نام ہے جب آپ کا دل بالکل نہ چاہ رہا ہو۔ یہ اس وقت سنبھل کر کھڑے ہونے کا نام ہے جب سب کچھ بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہار نہ ماننے کا نام ہے۔ یہ دباؤ کے آگے سر نہ جھکانے کا نام ہے۔ یہ اعتبار اور ساکھ کا نام ہے۔ یہ لچک، استقامت اور ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہ خود احتسابی کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام اقدار وہ بنیاد فراہم کرتی ہیں جن پر افراد، اداروں اور قوموں کے کردار کی مضبوطی قائم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ لو ہولٹز نے کہا تھا:’’ذاتی نظم و ضبط کے بغیر کامیابی ناممکن ہے،بس، بات ختم یا اس میں کوئی دو رائے نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کچھ لوگ کامیابی کی منزل کیوں پا لیتے ہیں جبکہ دوسرے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ وہ کون سا ’’ایکس فیکٹر‘‘ ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے؟ کیا وہ پیدائشی فاتح ہوتے ہیں؟ ان کی کامیابی کی کہانیوں میں قسمت کا کتنا عمل دخل ہوتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کو متجسس رکھا ہے۔ متعدد اہلِ علم نے ان موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے اور بے شمار نظریات پیش کیے گئے ہیں۔ ان سب نے کامیابی کے عوامل کو سمجھنے میں کسی نہ کسی حد تک بصیرت فراہم کی ہے۔تحقیقات سے بھری پڑی ہیں جو بتاتی ہیں کہ کامیاب افراد کے پاس ایک واضح وژن ہوتا ہے۔ ایسی بے شمار کتابیں موجود ہیں جو ان کی خواب دیکھنے اور دوسروں کو خواب دکھانے کی صلاحیت کا ذکر کرتی ہیں۔ ایک اور مقبول موضوع ’’تقدیر‘‘ بھی اپنی مدد آپ ( سیلف ہیلپ ) کی ادبیات کا پسندیدہ محور رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ان لوگوں کے ذہن میں ایک واضح اور حتمی مقصد موجود ہوتا ہے، کامیابی کے حصول میں ایک اہم محرک ثابت ہوتی ہے۔ تقدیر یا منزل کے تصور کے بغیر خواب بیچنے والے بھی محض راہگیر بن کر رہ جاتے ہیں۔ سرنگ کے اختتام پر دکھائی دینے والی روشنی مسافر کو مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے، اور مطلوبہ منزل ہی وہ مقصد ہوتی ہے جو ہر قدم کی سمت متعین کرتی ہے۔</strong></p>
<p>مذکورہ تمام باتیں درست ہیں۔ یہ سب کامیابی کی عمارت کی اینٹیں ہیں۔ یہ سب حوصلہ افزا اور تحریک دینے والی ہیں۔ تاہم کامیابی کے لیے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کافی نہیں۔ بہت سے لوگ خواب دیکھتے ہیں، بہت سے مستقبل کا تصور کرتے ہیں، کچھ اپنی تقدیر پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور کچھ کے ذہن میں اپنی آخری منزل کا واضح خاکہ موجود ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر وہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ امریکی یونیورسٹی آف اسکرینٹن کی ایک معروف تحقیق کے مطابق نئے سال کے لیے اہداف مقرر کرنے والے 92 فیصد افراد پہلے ہی مہینے میں انہیں ترک کر دیتے ہیں۔ یعنی صرف 8 فیصد لوگ اپنے اہداف کے تعاقب میں ثابت قدم رہتے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے کتنے لوگ واقعی اپنے مقاصد حاصل کر پاتے ہیں، یہ شرح یقیناً اس سے بھی کم ہوگی۔ عام طور پر پیش کی جانے والی وجوہات یہ ہوتی ہیں: ’’میرے پاس وقت نہیں ہے‘‘، ’’قسمت میرا ساتھ نہیں دے رہی‘‘، ’’میرے حالات ایسے ہیں کہ…‘‘، ’’یہ عملی نہیں ہے‘‘ وغیرہ۔</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں خواب اور تقدیر کے درمیان موجود گمشدہ کڑی سامنے آتی ہے۔ یہ کڑی بھی حرف D سے شروع ہوتی ہے، اور وہ ہے ڈسپلن (نظم و ضبط)۔</p>
<p>نظم و ضبط کے بغیر خواب دراصل ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے۔ بظاہر نظم و ضبط ایک منظم اور بار بار دہرایا جانے والا عمل محسوس ہوتا ہے، اور یقیناً یہ ہے بھی، مگر اس سے کہیں بڑھ کر بھی بہت کچھ ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ دراصل اس بات کا حقیقی امتحان ہے کہ آپ اپنے خوابوں اور اپنے جذبے کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کس طرح حقیقی معنوں میں کھیل کا رخ بدل دینے والا عنصر ثابت ہوتا ہے:</p>
<h3><a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-1-اپنے-اصولوں-اور-اقدار-سے-وابستگی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈی فیکٹر نمبر 1: اپنے اصولوں اور اقدار سے وابستگی</h3>
<p>نظم و ضبط محض قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی منزل سے آگاہ ہونے اور اس تک درست طریقے سے پہنچنے کے عزم کا نام ہے۔ ایک رہنما کی شخصیت ان اقدار اور اصولوں پر استوار ہوتی ہے جنہیں وہ اختیار کرتا اور برقرار رکھتا ہے۔ نظم و ضبط کا پہلا امتحان اس وقت سامنے آتا ہے جب ذاتی یا پیشہ ورانہ زندگی کے حالات آپ پر ان اصولوں کے خلاف جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہوں۔</p>
<p>کیا آپ میں اتنا نظم و ضبط موجود ہے کہ اس دباؤ کا مقابلہ کر سکیں اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے کے نتائج قبول کر سکیں؟ اس وابستگی کے لیے اس وقت ’’نہیں‘‘ کہنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے جب ’’ہاں‘‘ کہنا کہیں زیادہ آسان ہو۔</p>
<p>دیانت داری ایک ایسی قدر ہے جس کا ذکر لوگ، خصوصاً قائدین، سب سے زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے کتنی ہی بار دیکھا ہے کہ کاروباری دنیا کے انتہائی معروف اور قابلِ تعریف رہنما بھی دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں کمپنیوں کی مالیت بڑھانے کے لیے مالی اعداد و شمار میں رد و بدل کیا گیا۔</p>
<p>اس کے برعکس، ہم دنیا کے ان عظیم رہنماؤں کے نظم و ضبط اور ثابت قدمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جیسے نیلسن منڈیلا، جنہوں نے شدید مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں کا دامن نہیں چھوڑا۔</p>
<p>کاروباری دنیا میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان کی ایک معروف کمپنی کے سربراہ نے کووڈ-19 کے دوران، مختلف فریقوں کے دباؤ کے باوجود، نچلے درجے کے ملازمین کو برقرار رکھنے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اس نظم و ضبط کی مثال ہے جو انسان کو اپنے نظریات اور اقدار پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔</p>
<p>درحقیقت، اپنے اصولوں اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنا ہی ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا پہلا اور بنیادی مظہر ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو خوابوں کو محض خواہشات سے نکال کر تقدیر میں بدلنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔</p>
<h3><a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-2-جذبے-کو-برقرار-رکھنے-کی-صلاحیت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈی فیکٹر نمبر 2: جذبے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت</h3>
<p>اگر 92 فیصد لوگ اپنے عزم اور ارادوں پر قائم نہیں رہ پاتے تو یہ ایک واضح کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کا جذبہ مشکلات کے سامنے کتنا گہرا، پائیدار اور ثابت قدم ہے۔ جب ہر چیز آپ کو ہار مان لینے پر آمادہ کر رہی ہو، تب بھی آگے بڑھتے رہنے کا نظم و ضبط ہی وہ نمایاں خصوصیت ہے جو کامیاب لوگوں کو دوسروں سے الگ کرتی ہے۔</p>
<p>اس کی سب سے عام مثال وزن کم کرنے کی کوشش ہے۔ بیشتر غذائی منصوبے (ڈائٹس) ناکام ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر ورزش کے پروگرام ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر جلنے والی آگ کتنی شدید اور کتنی مستقل ہے؟</p>
<p>کھیلوں کی دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد جلد ہی منظر سے غائب ہو گئے۔ اس کے برعکس، نسبتاً کم صلاحیت رکھنے والے بہت سے لوگوں نے محض اپنے مستقل جذبے اور ثابت قدمی کی بدولت سفر کی تمام نشیب و فراز عبور کیے اور کامیابی حاصل کر لی۔</p>
<p>دنیا میں کون ایسا ہے جو صبح چار بجے خوش دلی اور تازگی کے ساتھ بیدار ہوتا ہو؟ ہر شخص نیند، بوجھل سر، سست قدموں اور اس ذہن سے نبرد آزما ہوتا ہے جو ایک اضافی گھنٹے کی نیند کے لیے سیکڑوں بہانے تراش رہا ہوتا ہے۔ نرم اور گرم بستر اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسے چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p>لیکن چیمپئن وہ ہوتے ہیں جو الارم کی آواز، اپنی سستی اور جسمانی بوجھل پن پر قابو پانے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں۔ دوسری جانب صرف صلاحیت کے بل پر آگے بڑھنے والے بہت سے لوگ روزانہ اسی الارم کے ہاتھوں شکست کھاتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ کسی طرح اٹھ بھی جائیں تو کبھی موسم، کبھی گاڑی اور کبھی دروازے کی چابی ان کے لیے نئے بہانے بن جاتے ہیں۔</p>
<p>درحقیقت کامیابی کا راز صرف جذبہ رکھنے میں نہیں بلکہ اس جذبے کو ہر مشکل، ہر رکاوٹ اور ہر مایوسی کے باوجود زندہ رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ یہی پائیدار جذبہ اور اس کے ساتھ جڑا نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا دوسرا اور نہایت اہم ستون ہے۔</p>
<p>مائیکل فلپس، جنہوں نے تیراکی میں آٹھ اولمپک طلائی تمغے جیتے، مسلسل 700 دن سے زائد عرصے تک بغیر ناغہ تربیت کرتے رہے۔ گرمی ہو یا برف باری، بارش ہو یا سالگرہ، حتیٰ کہ کرسمس کا دن بھی ہو، وہ ہر روز حاضر ہوتے، مشق کرتے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہے۔</p>
<h3><a id="ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" href="#ڈی-فیکٹر-نمبر-3-ناکامی-پر-ردِعمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ڈی فیکٹر نمبر 3: ناکامی پر ردِعمل</h3>
<p>مزاج پر قابو رکھنے کا نظم و ضبط کامیابی کا ایک اہم تعین کنندہ ہے۔ جب حالات سازگار ہوں تو آپ کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے، لیکن جب معاملات بگڑ جائیں تو کیا آپ کا موڈ بھی گر جاتا ہے اور آپ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں؟</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے جذبات اور موڈ کو قابو میں رکھنے کا نظم و ضبط رکھتے ہیں، یا پھر آپ کے موڈ ہی آپ کو کنٹرول کرتے ہیں؟ یہی ایک بڑا ’’ڈی فیکٹر‘‘ ہے۔ جب مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہو، لیکن اس کے باوجود آپ اپنی ماند پڑتی ہوئی ہمت کو سنبھال کر ایک اور کوشش کرنے کے لیے تیار رہیں، تو دراصل یہی وہ امتحان ہے جس میں کامیابی حاصل کرنا اصل فتح ہے۔</p>
<p>ابراہم لنکن نے کامیابی حاصل کرنے سے قبل آٹھ مرتبہ مختلف نامزدگیوں اور انتخابات میں شکست کا سامنا کیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر کامیاب ہوئے۔</p>
<p>حال ہی میں راجر فیڈرر نے ڈرٹ ماؤتھ کالج کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناکامی کے بعد آگے بڑھنے کے تصور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:’’جب آپ اوسطاً ہر دوسرا پوائنٹ ہار رہے ہوتے ہیں تو آپ سیکھ جاتے ہیں کہ ہر شاٹ پر پچھتاوے میں نہ الجھیں۔ آپ خود کو یہ سوچنے کی تربیت دیتے ہیں: ’ٹھیک ہے، مجھ سے ڈبل فالٹ ہوا، لیکن یہ صرف ایک پوائنٹ تھا۔‘‘‘</p>
<p>کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی شناخت نہیں بناتے۔ وہ اسے ایک واقعہ سمجھتے ہیں، اپنی تقدیر نہیں۔ ان کے لیے ہر شکست محض ایک سبق ہوتی ہے، آخری فیصلہ نہیں۔ یہی ذہنی استقامت اور جذباتی نظم و ضبط ’’ڈی فیکٹر‘‘ کا تیسرا اور نہایت طاقتور پہلو ہے، جو انسان کو بار بار گرنے کے باوجود دوبارہ اٹھ کھڑا ہونے کی قوت عطا کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ’’جب آپ ایک پوائنٹ کھیل رہے ہوتے ہیں تو وہ دنیا کی سب سے اہم چیز ہوتا ہے، اور واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن جب وہ پوائنٹ گزر جائے تو اسے گزر جانے دینا چاہیے۔ یہ طرزِ فکر انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ آپ کو آزادی دیتا ہے کہ آپ پوری شدت، واضح سوچ اور مکمل توجہ کے ساتھ اگلے پوائنٹ اور پھر اس کے بعد آنے والے پوائنٹ پر اپنی تمام توانائیاں مرکوز کر سکیں۔‘‘</p>
<p>ناکامی کامیابی کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔ دراصل یہی نظم و ضبط کہ آپ ناکامی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں، عام اور غیرمعمولی افراد کے درمیان فرق پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>نظم و ضبط قائدانہ صلاحیت کی پہچان ہے۔ یہ عزم کا نام ہے۔ یہ اپنے خوابوں سے وفاداری کا نام ہے۔ یہ حالات کے ناموافق ہونے کے باوجود ثابت قدمی سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ یہ رکاوٹوں کو اپنی راہ کا اختتام نہ بننے دینے کا نام ہے۔ یہ اس وقت بھی کام کرتے رہنے کا نام ہے جب آپ کا دل بالکل نہ چاہ رہا ہو۔ یہ اس وقت سنبھل کر کھڑے ہونے کا نام ہے جب سب کچھ بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا ہو۔</p>
<p>یہ ہار نہ ماننے کا نام ہے۔ یہ دباؤ کے آگے سر نہ جھکانے کا نام ہے۔ یہ اعتبار اور ساکھ کا نام ہے۔ یہ لچک، استقامت اور ثابت قدمی کا نام ہے۔ یہ خود احتسابی کا نام ہے۔</p>
<p>یہ تمام اقدار وہ بنیاد فراہم کرتی ہیں جن پر افراد، اداروں اور قوموں کے کردار کی مضبوطی قائم ہوتی ہے۔</p>
<p>جیسا کہ لو ہولٹز نے کہا تھا:’’ذاتی نظم و ضبط کے بغیر کامیابی ناممکن ہے،بس، بات ختم یا اس میں کوئی دو رائے نہیں۔“</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 3 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506098</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:49:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041345072f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041345072f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے ٹیکسیشن سسٹم کی خصوصیات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506069/pakistan-fbr-imf-income-tax-agricultural-tax-reforms-banking-sector-acconomy-lsm-sector</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس مضمون کا مقصد پاکستان کے ٹیکسیشن نظام کی اہم خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے تاکہ اس کی مضبوطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس سے ایسے ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے کی تشکیل کی بنیاد فراہم ہوگی جو محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے فروغ، اور ٹیکس وصولی کے عمل میں کارکردگی بہتر بنانے کے نقطۂ نظر سے مرتب کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی ٹیکس محصولات کا طویل مدتی رجحان یو( U ) شکل کا رہا ہے۔ ٹیکس محصولات میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن بھی شامل ہے، جو 2022-23 میں سیلز ٹیکس کے خاتمے کے بعد سامنے آئی۔ وفاقی حکومت اسے غیر ٹیکس آمدن قرار دیتی ہے، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی اسے ٹیکس کے زمرے میں شمار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025-26 میں مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا تخمینہ 12.6 فیصد ہے۔ یہ شرح 2024-25 میں نمایاں اضافے کے ساتھ جی ڈی پی کے 12.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2003-04 میں ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح صرف 7.1 فیصد کی کم ترین سطح پر تھی۔ اس کے بعد سے اس شعبے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکس نظام وفاقی اور صوبائی سطحوں کے درمیان غیر متوازن ہے۔ قومی سطح پر مجموعی ٹیکس محصولات میں وفاقی ٹیکس محصولات کا حصہ 92 فیصد سے زیادہ ہے۔ صوبائی ٹیکس محصولات کا محض 8 فیصد حصہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ 2015-16 سے خدمات پر سیلز ٹیکس کی صورت میں ایک بڑی اور ممکنہ طور پر زیادہ آمدن دینے والا ٹیکس موجود ہے۔ بھارت بھی ایک وفاقی ریاست ہے، جہاں قومی ٹیکس محصولات کا تقریباً 30 فیصد ریاستی حکومتیں جمع کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک اور بڑی مثبت پیش رفت براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ مجموعی ٹیکس محصولات میں صرف 20 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس تبدیلی نے ملک کے ٹیکس نظام کو نسبتاً زیادہ منصفانہ اور ترقی پسند بنایا ہے۔ اس وقت ودہولڈنگ ٹیکسوں سے انکم ٹیکس کی مجموعی وصولیوں کا تقریباً 60 فیصد حاصل ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی سطح پر بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کی مشترکہ وصولیوں کا ہے، جو 71 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کی اہمیت اور ان کا مالیاتی کردار گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ اس وقت ان دونوں محصولات کی مشترکہ وصولی جی ڈی پی کے صرف 1.7 فیصد کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا ایشیا کے بعض ممالک سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ 2024-25 میں یہ شرح جی ڈی پی کے 12.2 فیصد کے برابر تھی، جو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم یہ بھارت، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح سے کم ہے، جہاں یہ شرح جی ڈی پی کے 14 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو اب بھی خاطر خواہ پیش رفت اور دیگر ممالک کے برابر آنے کے لیے کافی سفر طے کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وفاقی سطح پر سیلز ٹیکس کی شرح نسبتاً بلند، یعنی 18 فیصد ہے، جبکہ درآمدی محصولات (امپورٹ ٹیرف) کے لحاظ سے پاکستان درمیانی درجے میں آتا ہے، جہاں اوسط شرح 9.9 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم تقابل انکم ٹیکس کی شرحوں کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، جو دیگر ایشیائی ممالک میں 20 سے 35 فیصد کے درمیان پائی جانے والی شرحوں کے وسط میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم ذاتی آمدن پر عائد زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد نسبتاً بلند ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں یہ شرح 25 فیصد جبکہ بھارت میں 30 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ممکنہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کے تعین کے لیے مختلف طریقۂ کار اختیار کیے گئے ہیں۔ ایشیائی ممالک کے ایک نمونے میں ممکنہ ٹیکس محصولات سے متعلق معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ’’نمائندہ ٹیکس نظام‘‘ (رپریزنٹیٹیو ٹیکس سسٹم) کے طریقۂ کار سے حاصل ہونے والے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 2024-25 میں اضافے کے باوجود پاکستان کی حقیقی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح اپنی ممکنہ سطح سے تقریباً 3 فیصد جی ڈی پی کم ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کم از کم 15 فیصد تک پہنچائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ’’ٹیکس گیپ‘‘ (ٹیکس کا خلا) کے تخمینے کے لیے ’’باٹم اپ‘‘ طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے مختلف ٹیکسوں میں موجود ممکنہ اضافی محصولات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ذاتی آمدن پر عائد انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن موجودہ سطح سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ سیلز ٹیکس کی وصولیاں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ صوبائی ٹیکسوں میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ انتہائی وسیع ہے۔ 2023-24 میں زرعی آمدن پر عائد ٹیکس کا ’’ٹیکس گیپ‘‘ 880 ارب روپے لگایا گیا، جبکہ اس مد میں حقیقی وصولیاں صرف 10 ارب روپے تھیں۔ اسی طرح خدمات پر سیلز ٹیکس میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ تقریباً 650 ارب روپے کے برابر ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صوبائی ٹیکس نظام کو مؤثر، جامع اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائیداد سے متعلق ٹیکس محصولات میں بھی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جائیداد سے متعلق پانچ مختلف ٹیکس عائد ہیں، تاہم ان سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدن جی ڈی پی کے 0.3 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ اس شعبے کی ممکنہ آمدن جی ڈی پی کے 0.8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ٹیکسوں کا بوجھ کس طبقے پر پڑتا ہے، اس اہم سوال کی طرف آئیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کے باعث ٹیکس نظام میں نسبتاً زیادہ ترقی پسندانہ ( پروگریسیو) رجحان پیدا ہوا ہے۔ تاہم پیٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے نے ٹیکس نظام کی رجعتی ( ری گریسیو) نوعیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر پاکستان میں مختلف آمدنی والے طبقات پر ٹیکسوں کے اثرات سے متعلق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا ٹیکس نظام اب بھی ’’ہلکا رجعتی‘‘ ( مائلڈلی ری گریسیو) ہے۔ بین الاقوامی تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ ترقی پسند ہے، لیکن انڈونیشیا، بھارت اور ملائیشیا کے ٹیکس نظاموں کے مقابلے میں زیادہ رجعتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت کے مختلف شعبوں کے درمیان بھی ٹیکسوں کے بوجھ میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے، جس کا اندازہ مختلف ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی مجموعی وصولیوں کو شعبہ جاتی ویلیو ایڈڈ کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔ مختلف شعبوں پر ٹیکسوں کے بوجھ کی تفصیل جدول نمبر 1 میں دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مختلف ممالک میں مالیاتی مراعات ( فسکل انسنٹیوز) کے نظام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب مراعات میں درج ذیل اقدامات شامل رہے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• کئی ممالک میں سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ ( ٹیکس ہالیڈے) دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• بنگلہ دیش میں برآمدات کے لیے زیادہ موافق شرحِ مبادلہ اور ٹیکس استثنا فراہم کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• تھائی لینڈ میں منافع کے تعین کے وقت توانائی کے اخراجات کو حقیقی لاگت سے زیادہ شمار کرنے کی اجازت دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• بھارت میں مخصوص سرمایہ جاتی سرمایہ کاری پر سرمایہ کاری الاؤنس یا ٹیکس استثنا دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر پاکستان اور دیگر ممالک کے ٹیکس نظام کے اس جائزے سے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ترقی کے لیے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• خدمات پر سیلز ٹیکس، زرعی آمدن پر ٹیکس اور جائیداد سے متعلق ٹیکسوں جیسے صوبائی محصولات کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• 2026-27 سے 2027-28 تک ہر سال ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح میں جی ڈی پی کے ایک فیصد کے مساوی اضافہ کیا جائے، تاکہ یہ شرح 15 فیصد سے تجاوز کر جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• ذاتی آمدن پر ٹیکس کے ڈھانچے کو زیادہ معقول بنایا جائے اور پیٹرولیم لیوی کی شرحوں میں کمی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• بڑے پیمانے کی صنعت ( لارج اسکیل مینوفیکچرنگ)، بینکاری، انشورنس اور تعمیرات جیسے شعبوں پر مجموعی ٹیکس بوجھ میں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا جائے، جبکہ زراعت، تھوک و خوردہ تجارت اور رئیل اسٹیٹ سے محصولات میں اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;• سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے مالیاتی مراعات کا ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اس مضمون کا مقصد پاکستان کے ٹیکسیشن نظام کی اہم خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے تاکہ اس کی مضبوطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس سے ایسے ٹیکس اصلاحاتی ایجنڈے کی تشکیل کی بنیاد فراہم ہوگی جو محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام میں انصاف اور مساوات کے فروغ، اور ٹیکس وصولی کے عمل میں کارکردگی بہتر بنانے کے نقطۂ نظر سے مرتب کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی ٹیکس محصولات کا طویل مدتی رجحان یو( U ) شکل کا رہا ہے۔ ٹیکس محصولات میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن بھی شامل ہے، جو 2022-23 میں سیلز ٹیکس کے خاتمے کے بعد سامنے آئی۔ وفاقی حکومت اسے غیر ٹیکس آمدن قرار دیتی ہے، تاہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی اسے ٹیکس کے زمرے میں شمار کرتا ہے۔</p>
<p>2025-26 میں مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا تخمینہ 12.6 فیصد ہے۔ یہ شرح 2024-25 میں نمایاں اضافے کے ساتھ جی ڈی پی کے 12.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2003-04 میں ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح صرف 7.1 فیصد کی کم ترین سطح پر تھی۔ اس کے بعد سے اس شعبے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا ٹیکس نظام وفاقی اور صوبائی سطحوں کے درمیان غیر متوازن ہے۔ قومی سطح پر مجموعی ٹیکس محصولات میں وفاقی ٹیکس محصولات کا حصہ 92 فیصد سے زیادہ ہے۔ صوبائی ٹیکس محصولات کا محض 8 فیصد حصہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ 2015-16 سے خدمات پر سیلز ٹیکس کی صورت میں ایک بڑی اور ممکنہ طور پر زیادہ آمدن دینے والا ٹیکس موجود ہے۔ بھارت بھی ایک وفاقی ریاست ہے، جہاں قومی ٹیکس محصولات کا تقریباً 30 فیصد ریاستی حکومتیں جمع کرتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک اور بڑی مثبت پیش رفت براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں براہِ راست ٹیکسوں کا حصہ مجموعی ٹیکس محصولات میں صرف 20 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس تبدیلی نے ملک کے ٹیکس نظام کو نسبتاً زیادہ منصفانہ اور ترقی پسند بنایا ہے۔ اس وقت ودہولڈنگ ٹیکسوں سے انکم ٹیکس کی مجموعی وصولیوں کا تقریباً 60 فیصد حاصل ہو رہا ہے۔</p>
<p>وفاقی سطح پر بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کی مشترکہ وصولیوں کا ہے، جو 71 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ اس کے برعکس کسٹمز ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کی اہمیت اور ان کا مالیاتی کردار گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ اس وقت ان دونوں محصولات کی مشترکہ وصولی جی ڈی پی کے صرف 1.7 فیصد کے برابر ہے۔</p>
<p>پاکستان کی مجموعی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کا ایشیا کے بعض ممالک سے تقابل کیا جا سکتا ہے۔ 2024-25 میں یہ شرح جی ڈی پی کے 12.2 فیصد کے برابر تھی، جو بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تاہم یہ بھارت، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح سے کم ہے، جہاں یہ شرح جی ڈی پی کے 14 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو اب بھی خاطر خواہ پیش رفت اور دیگر ممالک کے برابر آنے کے لیے کافی سفر طے کرنا ہے۔</p>
<p>ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں وفاقی سطح پر سیلز ٹیکس کی شرح نسبتاً بلند، یعنی 18 فیصد ہے، جبکہ درآمدی محصولات (امپورٹ ٹیرف) کے لحاظ سے پاکستان درمیانی درجے میں آتا ہے، جہاں اوسط شرح 9.9 فیصد ہے۔</p>
<p>اہم تقابل انکم ٹیکس کی شرحوں کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے، جو دیگر ایشیائی ممالک میں 20 سے 35 فیصد کے درمیان پائی جانے والی شرحوں کے وسط میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم ذاتی آمدن پر عائد زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد نسبتاً بلند ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں یہ شرح 25 فیصد جبکہ بھارت میں 30 فیصد ہے۔</p>
<p>پاکستان کی ممکنہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کے تعین کے لیے مختلف طریقۂ کار اختیار کیے گئے ہیں۔ ایشیائی ممالک کے ایک نمونے میں ممکنہ ٹیکس محصولات سے متعلق معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ’’نمائندہ ٹیکس نظام‘‘ (رپریزنٹیٹیو ٹیکس سسٹم) کے طریقۂ کار سے حاصل ہونے والے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 2024-25 میں اضافے کے باوجود پاکستان کی حقیقی ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح اپنی ممکنہ سطح سے تقریباً 3 فیصد جی ڈی پی کم ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ہدف یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح کم از کم 15 فیصد تک پہنچائی جائے۔</p>
<p>اس کے بعد ’’ٹیکس گیپ‘‘ (ٹیکس کا خلا) کے تخمینے کے لیے ’’باٹم اپ‘‘ طریقۂ کار اختیار کرتے ہوئے مختلف ٹیکسوں میں موجود ممکنہ اضافی محصولات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ذاتی آمدن پر عائد انکم ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن موجودہ سطح سے دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ سیلز ٹیکس کی وصولیاں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ صوبائی ٹیکسوں میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ انتہائی وسیع ہے۔ 2023-24 میں زرعی آمدن پر عائد ٹیکس کا ’’ٹیکس گیپ‘‘ 880 ارب روپے لگایا گیا، جبکہ اس مد میں حقیقی وصولیاں صرف 10 ارب روپے تھیں۔ اسی طرح خدمات پر سیلز ٹیکس میں ’’ٹیکس گیپ‘‘ تقریباً 650 ارب روپے کے برابر ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صوبائی ٹیکس نظام کو مؤثر، جامع اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔</p>
<p>جائیداد سے متعلق ٹیکس محصولات میں بھی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جائیداد سے متعلق پانچ مختلف ٹیکس عائد ہیں، تاہم ان سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدن جی ڈی پی کے 0.3 فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ اس شعبے کی ممکنہ آمدن جی ڈی پی کے 0.8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ٹیکسوں کا بوجھ کس طبقے پر پڑتا ہے، اس اہم سوال کی طرف آئیں تو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں کے حصے میں نمایاں اضافے کے باعث ٹیکس نظام میں نسبتاً زیادہ ترقی پسندانہ ( پروگریسیو) رجحان پیدا ہوا ہے۔ تاہم پیٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے نے ٹیکس نظام کی رجعتی ( ری گریسیو) نوعیت میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر پاکستان میں مختلف آمدنی والے طبقات پر ٹیکسوں کے اثرات سے متعلق تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا ٹیکس نظام اب بھی ’’ہلکا رجعتی‘‘ ( مائلڈلی ری گریسیو) ہے۔ بین الاقوامی تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ ترقی پسند ہے، لیکن انڈونیشیا، بھارت اور ملائیشیا کے ٹیکس نظاموں کے مقابلے میں زیادہ رجعتی ہے۔</p>
<p>معیشت کے مختلف شعبوں کے درمیان بھی ٹیکسوں کے بوجھ میں نمایاں تفاوت پایا جاتا ہے، جس کا اندازہ مختلف ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی مجموعی وصولیوں کو شعبہ جاتی ویلیو ایڈڈ کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔ مختلف شعبوں پر ٹیکسوں کے بوجھ کی تفصیل جدول نمبر 1 میں دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0314493509d4ff0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>مختلف ممالک میں مالیاتی مراعات ( فسکل انسنٹیوز) کے نظام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب مراعات میں درج ذیل اقدامات شامل رہے ہیں:</p>
<p>• کئی ممالک میں سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ ( ٹیکس ہالیڈے) دینا۔</p>
<p>• بنگلہ دیش میں برآمدات کے لیے زیادہ موافق شرحِ مبادلہ اور ٹیکس استثنا فراہم کرنا۔</p>
<p>• تھائی لینڈ میں منافع کے تعین کے وقت توانائی کے اخراجات کو حقیقی لاگت سے زیادہ شمار کرنے کی اجازت دینا۔</p>
<p>• بھارت میں مخصوص سرمایہ جاتی سرمایہ کاری پر سرمایہ کاری الاؤنس یا ٹیکس استثنا دینا۔</p>
<p>مجموعی طور پر پاکستان اور دیگر ممالک کے ٹیکس نظام کے اس جائزے سے پاکستان میں ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نظام کی ترقی کے لیے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:</p>
<p>• خدمات پر سیلز ٹیکس، زرعی آمدن پر ٹیکس اور جائیداد سے متعلق ٹیکسوں جیسے صوبائی محصولات کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے۔</p>
<p>• 2026-27 سے 2027-28 تک ہر سال ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح میں جی ڈی پی کے ایک فیصد کے مساوی اضافہ کیا جائے، تاکہ یہ شرح 15 فیصد سے تجاوز کر جائے۔</p>
<p>• ذاتی آمدن پر ٹیکس کے ڈھانچے کو زیادہ معقول بنایا جائے اور پیٹرولیم لیوی کی شرحوں میں کمی کی جائے۔</p>
<p>• بڑے پیمانے کی صنعت ( لارج اسکیل مینوفیکچرنگ)، بینکاری، انشورنس اور تعمیرات جیسے شعبوں پر مجموعی ٹیکس بوجھ میں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا جائے، جبکہ زراعت، تھوک و خوردہ تجارت اور رئیل اسٹیٹ سے محصولات میں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>• سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے مالیاتی مراعات کا ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے۔</p>
<hr />
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506069</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03145228c288e3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03145228c288e3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 27-2026 کا بجٹ : توقعات اور اُمیدیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506037/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے رواں جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی چکر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ سال سے ملازمین کا کنٹری بیوشن (حصہ داری) لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم کسی ایسکرو اکاؤنٹ یا پنشن فنڈ میں رکھی جا رہی ہے یا فنڈز کی منتقلی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اسے اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے مستقبل میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریریکم جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔</strong></p>
<p>دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔</p>
<p>اس لیے رواں جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔</p>
<p>چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔</p>
<p>ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔</p>
<p>حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔</p>
<p>رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔</p>
<p>اسی چکر میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔</p>
<p>مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔</p>
<p>دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔</p>
<p>ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔ اگرچہ حکومت نے گزشتہ سال سے ملازمین کا کنٹری بیوشن (حصہ داری) لازمی قرار دیا ہے، لیکن اس بات پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم کسی ایسکرو اکاؤنٹ یا پنشن فنڈ میں رکھی جا رہی ہے یا فنڈز کی منتقلی کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اسے اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جس کے مستقبل میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔</p>
<p>اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔</p>
<p>دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔</p>
<p>تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریریکم جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506037</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:51:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02154713ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02154713ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے مسلسل بدلتے پینترے، اپنے ہی بیانات سے مکرنے کا رجحان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506036/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن سے ایران جنگ کے بارے میں آنے والی خبریں روزانہ اکتا دینے کی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل طے شدہ معیارات (اہداف) کو بھی تبدیل کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور نئے الفاظ کے گورکھ دھندے کے ساتھ ان مطالبات کو بار بار دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ چکے تھے اور اس تمام لیت و لعل کے ساتھ مزید فوجی جارحیت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی منطقی انجام کے بغیر ٹرمپ کے نئے اور پرانے مطالبات کے روزمرہ کے مینو پر بھروسہ کرنے میں حق بجانب طور پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بنیادی وجہ صرف ٹرمپ کی ذاتی انفرادی خصلتیں ہی نہیں ہو سکتیں بلکہ درحقیقت جنگ کے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقاصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی ناکامی ہے، جن میں سب سے اہم مقصد وہاں کی حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) تھا۔قدرتی طور پر یہ بات ایرانی عوام کو اس فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت (امریکہ) اور سب سے زیادہ جارح مزاج طاقت (اسرائیل) کا مقابلہ کیا اور دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 مئی 2026ء کو ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بڑے پیمانے پر طے شدہ معاہدہ قرار دیا تھا، یہ اقدام بظاہر اس ڈیل کو ”مزید سخت“ بنانے کے لیے تھا، اس کے جواب میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک بیان دیا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور الفاظ اور وعدوں کے بجائے ٹھوس نتائج کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہمارا واحد معیار یہ ہے کہ ہم بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے پہلے ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ انہوں نے مزید اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این نے رپورٹ کیا کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں کے گرد مزید سخت زبان استعمال کرنے پر اصرار کیا (جبکہ ایران کئی دہائیوں سے مسلسل اس بات کی توثیق کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا) اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اس کے عزم پر بھی زور دیا (ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگی ہرجانے کے اپنے مطالبے کی تکمیل تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر عارضی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ ایران پر ٹرمپ کی یہ مسخرہ بازی جاری ہے، لگتا ہے کہ اسرائیل کو اس کی حزب اللہ مخالف مہم کے حصے کے طور پر جنوبی لبنانی علاقے میں اپنی جارحیت جاری رکھنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات یاد دلانے کے قابل ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جنگ کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور الاقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیزیاں، یہ سب اب اسرائیل کی جانی پہچانی توسیع پسندانہ عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا کر 70 فیصد تک کر دے۔ غزہ جنگ بندی کا تو بس یہ حال ہے۔ دوسری طرف غزہ کے لیے ٹرمپ کا بہت زیادہ چرچا ہونے والا بورڈ آف پیس جسے غزہ کو میڈیٹیرین ریویرا (بحیرہ روم کا تفریحی ساحل) میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اس کا فنڈز کا برتن بالکل خالی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی عجیب و غریب اسکیمیں جو بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ان کی اس دیوانی صدارت کا خاصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی اس افراتفری کے نتیجے میں دنیا تیل کی سپلائی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت میں عدم استحکام کی وجہ سے لرز رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی اس دیوانہ وار مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی لبنان میں ایک تاریخی قلعے بیوفورٹ یا قلعت الشقیف پر اسرائیل کا قبضہ سنہ 2000ء میں اس ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا اعادہ ہے۔ فرانس اب یہ محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی اس پیش قدمی اور قلعے پر قبضے کی مذمت محض زبانی جمع خرچ ہی رہی، جس کا کوئی ٹھوس اثر نہیں ہوا۔ اس میں سے کوئی بھی چیز اسرائیل کے خونی ہاتھ روکنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کے خلاف ماضی میں احتجاج کی جو لہریں اٹھی تھیں اب ایسا لگتا ہے کہ وہ سب سسکیاں بھرتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج دنیا کو مظلوم فلسطینیوں اور ان کے لبنانی مجاہد بھائیوں کی بقا کی خاطر اسرائیلی توسیع پسندی اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے آگے ایک ایسی مضبوط دیوار بننے کی ضرورت ہے جیسی یکجہتی ماضی میں ویتنام جنگ اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف دیکھی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اب بھی بیدار ہوگی یا پھر بین الاقوامی یکجہتی کا سنہری دور ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن سے ایران جنگ کے بارے میں آنے والی خبریں روزانہ اکتا دینے کی حد تک ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل طے شدہ معیارات (اہداف) کو بھی تبدیل کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اور نئے الفاظ کے گورکھ دھندے کے ساتھ ان مطالبات کو بار بار دہرا رہے ہیں جو پہلے ہی حتمی انجام کو پہنچ چکے تھے اور اس تمام لیت و لعل کے ساتھ مزید فوجی جارحیت کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کسی منطقی انجام کے بغیر ٹرمپ کے نئے اور پرانے مطالبات کے روزمرہ کے مینو پر بھروسہ کرنے میں حق بجانب طور پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>اس کی بنیادی وجہ صرف ٹرمپ کی ذاتی انفرادی خصلتیں ہی نہیں ہو سکتیں بلکہ درحقیقت جنگ کے کسی بھی اعلانیہ یا غیر اعلانیہ مقاصد کو حاصل کرنے میں امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ کی ناکامی ہے، جن میں سب سے اہم مقصد وہاں کی حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) تھا۔قدرتی طور پر یہ بات ایرانی عوام کو اس فخر سے بھر دیتی ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت (امریکہ) اور سب سے زیادہ جارح مزاج طاقت (اسرائیل) کا مقابلہ کیا اور دنیا کی نظروں میں اپنی عزت اور وقار کو برقرار رکھا۔</p>
<p>31 مئی 2026ء کو ٹرمپ نے ایک بار پھر اس معاہدے میں مزید تبدیلیوں کی تجویز پیش کی جسے انہوں نے بڑے پیمانے پر طے شدہ معاہدہ قرار دیا تھا، یہ اقدام بظاہر اس ڈیل کو ”مزید سخت“ بنانے کے لیے تھا، اس کے جواب میں ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے ایک بیان دیا کہ تہران واشنگٹن پر بھروسہ نہیں کرتا اور الفاظ اور وعدوں کے بجائے ٹھوس نتائج کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ایک ورچوئل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے الفاظ اور وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ہمارا واحد معیار یہ ہے کہ ہم بدلے میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے پہلے ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ انہوں نے مزید اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس بات کا یقین نہ کر لے کہ یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔</p>
<p>سی این این نے رپورٹ کیا کہ صدر نے ایران کے جوہری وعدوں کے گرد مزید سخت زبان استعمال کرنے پر اصرار کیا (جبکہ ایران کئی دہائیوں سے مسلسل اس بات کی توثیق کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا) اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اس کے عزم پر بھی زور دیا (ایران اپنی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ہٹانے اور جنگی ہرجانے کے اپنے مطالبے کی تکمیل تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی پر عارضی ٹول ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے)۔</p>
<p>جبکہ ایران پر ٹرمپ کی یہ مسخرہ بازی جاری ہے، لگتا ہے کہ اسرائیل کو اس کی حزب اللہ مخالف مہم کے حصے کے طور پر جنوبی لبنانی علاقے میں اپنی جارحیت جاری رکھنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات یاد دلانے کے قابل ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران جنگ کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ لازمی ہے۔</p>
<p>مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور الاقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کی اشتعال انگیزیاں، یہ سب اب اسرائیل کی جانی پہچانی توسیع پسندانہ عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غزہ کے 60 فیصد حصے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا کر 70 فیصد تک کر دے۔ غزہ جنگ بندی کا تو بس یہ حال ہے۔ دوسری طرف غزہ کے لیے ٹرمپ کا بہت زیادہ چرچا ہونے والا بورڈ آف پیس جسے غزہ کو میڈیٹیرین ریویرا (بحیرہ روم کا تفریحی ساحل) میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، اس کا فنڈز کا برتن بالکل خالی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی عجیب و غریب اسکیمیں جو بعد میں بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتی ہیں ان کی اس دیوانی صدارت کا خاصہ ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کی طرف سے مسلسل پیدا کی جانے والی اس افراتفری کے نتیجے میں دنیا تیل کی سپلائی اور مجموعی طور پر عالمی معیشت میں عدم استحکام کی وجہ سے لرز رہی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی اس دیوانہ وار مہم جوئی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے اثرات بھگت رہے ہیں۔</p>
<p>جنوبی لبنان میں ایک تاریخی قلعے بیوفورٹ یا قلعت الشقیف پر اسرائیل کا قبضہ سنہ 2000ء میں اس ملک کے خلاف کی جانے والی جارحیت کا اعادہ ہے۔ فرانس اب یہ محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کی اس پیش قدمی اور قلعے پر قبضے کی مذمت محض زبانی جمع خرچ ہی رہی، جس کا کوئی ٹھوس اثر نہیں ہوا۔ اس میں سے کوئی بھی چیز اسرائیل کے خونی ہاتھ روکنے کے قابل نظر نہیں آتی۔ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کے خلاف ماضی میں احتجاج کی جو لہریں اٹھی تھیں اب ایسا لگتا ہے کہ وہ سب سسکیاں بھرتے ہوئے دم توڑ چکی ہیں۔</p>
<p>آج دنیا کو مظلوم فلسطینیوں اور ان کے لبنانی مجاہد بھائیوں کی بقا کی خاطر اسرائیلی توسیع پسندی اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے آگے ایک ایسی مضبوط دیوار بننے کی ضرورت ہے جیسی یکجہتی ماضی میں ویتنام جنگ اور جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف دیکھی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اب بھی بیدار ہوگی یا پھر بین الاقوامی یکجہتی کا سنہری دور ہمیشہ کے لیے دم توڑ چکا ہے؟</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 2 جون 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506036</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:44:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02154259a60c106.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02154259a60c106.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قائد کی آواز کی گونج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505925/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بولنے اور مؤثر آواز رکھنے میں فرق ہوتا ہے۔ بیشتر رہنما بہت زیادہ بولتے ہیں، بلکہ کئی مواقع پر ضرورت سے بھی زیادہ، مگر اس کے باوجود اُن کی آواز اثر نہیں چھوڑ پاتی۔ قیادت کی تربیتی نشستوں میں رہنماؤں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ’’ملازمین سنتے ہی نہیں‘‘۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر رہنما اس مسلسل ذہنی بوجھ سے نڈھال دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں ایک ہی بات بار بار دہرانا پڑتی ہے۔ بعض اوقات وہ کارکنوں کی بے حسی اور عدم توجہی پر سخت جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں، ’’یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں دیوار سے بات کر رہا ہوں، سب سر تو ہلا دیتے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ بات اُن کے ذہن میں اترتی ہی نہیں۔‘‘ ایک اور پریشان رہنما کا کہنا تھا، ’’سب لوگ کام پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں، لیکن بعد میں مجھے ہی بار بار یاددہانی کرانا پڑتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے احساسات رفتہ رفتہ رہنما کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مزید دہرانے، مزید دباؤ ڈالنے اور زیادہ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ابلاغ کا ایک ایسا منفی دائرہ جنم لیتا ہے جو نتیجہ خیز ہونے کے بجائے اشتعال انگیز اور غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کا اسلوبِ گفتگو دراصل وہ محرک ہے جو ادارے کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ رہنما کی آواز میں ایسی قوت اور بازگشت ہوتی ہے جو ادارے کے گوشے گوشے تک سنائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے عموماً اپنی ’’اسٹریٹجک بیانیے‘‘ کی بات کرتے ہیں، مگر ایسا بیانیہ نہایت بصیرت اور مہارت سے ترتیب دینا اور دانشمندی سے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مطلوبہ اثر پیدا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیادت کی آواز وہ پکار ہوتی ہے جسے لوگ سنتے بھی ہیں اور جس کی پیروی بھی کرتے ہیں۔ اگر یہ آواز بے ربط اور غیر واضح ہو تو ممکن ہے اثر دکھائے، اور ممکن ہے بالکل بے اثر رہے۔ حقیقی تحریک اور ادارہ جاتی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ رہنما کی آواز اپنے مخاطبین کے دل و دماغ میں اترے اور اُن کے احساسات سے ہم آہنگ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کی آواز صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ کہانیوں، گفتگوؤں، طرزِ بیان، رویّوں اور عملی کردار کے ذریعے اظہار پاتی ہے۔ بہت سے رہنما نہایت شستہ اور مؤثر انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر توجہ کو تحریک میں بدلنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ رہنما کی آواز محض نعرہ نہ ہو بلکہ اُس کے ساتھ جوابدہی اور عملی کردار بھی موجود ہو۔ یہی چیز اعتماد پیدا کرتی ہے، یہی وابستگی کو جنم دیتی ہے اور یہی کردار سازی کی بنیاد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کو سنجیدگی سے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس نوع کی گفتگو چاہتا ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو، یاد رکھی جائے اور آگے بیان کی جائے۔ وہ کون سی کہانیاں ہیں جنہیں لوگ دہرانا چاہیں، اور وہ کون سی گفتگو ہے جسے لوگ بار بار زندہ رکھیں۔ انسان دراصل چار عناصر، دل، دماغ، جسم اور روح، کا مجموعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو آواز ان چاروں سطحوں کو مخاطب کرتی ہے، وہی دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ وہی دلوں میں گونجتی ہے اور وہی حقیقی معنوں میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اُن چار آوازوں کا جائزہ ضروری ہے جنہیں ہر رہنما کو اپنے اندر پروان چڑھانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ اوّل: دل سے دل تک&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ قیادت کی وہ آواز ہے جو خلوص، توجہ اور احساسِ تعلق کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ہماری گفتگو لوگوں کے اندر جذبات اور احساسات پیدا کرتی ہے، اور یہی احساسات اُن کے ردِعمل کی بنیاد بنتے ہیں۔ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے مکالمے اور طرزِ عمل اختیار کریں جن سے لوگوں کو محسوس ہو کہ وہ واقعی اہم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کارکنوں سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک ادارے میں قیادت کے بارے میں رائے جاننے کے لیے ہونے والے اجلاس میں ملازمین نے کہا، ’’ہماری بہت سی گفتگو ہوتی ہے، مگر وہ زیادہ تر صرف کام تک محدود رہتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمین کی ذاتی زندگی، اُن کی خوشیوں، مسائل اور پیش رفت میں بھی دلچسپی لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ادارے میں سربراہ کا معمول تھا کہ وہ صبح دفتر پہنچ کر راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتا، اُس کے بچوں اور گھر والوں کے بارے میں دریافت کرتا۔ اُس کا یہ طرزِ عمل لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔ ملازمین آج بھی اُس واقعے کو محبت سے یاد کرتے اور دوسروں کو سناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دل سے دل تک پہنچنے والی گفتگو کی مثال قائم کرے۔ ایسی گفتگو میں اُن کے اہلِ خانہ، ذاتی دلچسپیوں، شوق اور اُن معاملات پر بات ہونی چاہیے جہاں رہنما اُن کی مدد کر سکتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن رہنماؤں کے بارے میں میں نے سب سے زیادہ مثبت بازگشت سنی، وہ دراصل اُن کے چھوٹے مگر خلوص بھرے رویّوں کی وجہ سے تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ اُس کا مینیجر ہر ملازم کی سالگرہ یاد رکھتا ہے اور اُس کے شوق کے مطابق کیک تیار کرواتا ہے۔ اُس نے حیرت سے بتایا کہ اُس کے کیک پر اُس کی پسندیدہ گاڑی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ایک اور ملازم نے کہا کہ وہ اُس وقت جذبات پر قابو نہ رکھ سکا جب اُس کے سربراہ اُس کی دادی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُس کی پرورش دادی ہی نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفاظ کم بھی ہوں اور عمل بظاہر معمولی بھی، مگر اگر اُن میں خلوص ہو تو اُن کا اثر دلوں پر گہرا ثبت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ دوم: مقصد سے ہم آہنگی&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;رہنما کی پکار ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ دے اور انہیں وہ زاویے دکھائے جو وہ خود نہیں دیکھ پاتے۔ انسانی ذہن محض مشینی انداز میں کام کرنے کے لیے نہیں بنا؛ وہ تجزیہ، وسعتِ فکر اور فکری تحریک چاہتا ہے۔ آج بیشتر کارکن جس بڑے مسئلے سے دوچار ہیں، وہ کام سے جذباتی لاتعلقی ہے۔ وہ صبح سے شام تک کے معمول میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ زندگی ایک بے روح مشق محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ دفتر آتے ہیں، کام کرتے ہیں، خود کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں اور تھکے ماندے و بے دِل واپس لوٹ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں رہنما کی پکار کو ذہنوں میں حرکت پیدا کرنا ہوتی ہے۔ افسوس کہ قیادت کے جس پہلو کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، وہ مقصد کی وضاحت پر مبنی گفتگو ہے۔ اجلاسوں میں مقصد کی بات نہایت اہم ہوتی ہے، جبکہ تقریبات اور روزمرہ سرگرمیوں میں معمولات کو کسی بڑے مقصد سے جوڑنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب رہنما اپنے لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ اُن کا ہر عمل محض ایک کام نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے، لوگوں کو سیکھنے کے مواقع دینے یا معاشرے میں بہتری لانے کی ایک کوشش ہے، تو وہ اُنہیں ایک بلند تر مقصد سے وابستہ کر دیتا ہے۔ یوں ذہن میں معنی اور مقصد کا ایسا رشتہ قائم ہوتا ہے جو انسان کو اپنے کام پر فخر محسوس کراتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار اجلاس اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ رہنما کو چاہیے کہ وہ ہر ملاقات میں ادارے کے وژن اور مقصد کو واضح انداز میں دہرائے۔ اس مقصد کو ادارے کی نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مینیجرز کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ وہ ہر میٹنگ اور انفرادی نشست میں اپنے ساتھیوں سے ادارے کے مقصد اور اس کی اہمیت پر گفتگو کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ سوم: توانائی کو مہمیز دینا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;انسانی جسم حرکت اور تازگی کا تقاضا کرتا ہے، اور توانائی دراصل کارکردگی میں اضافے کی بنیادی قوت ہے۔ رہنما کو اپنی ٹیم میں جس توانائی کی خواہش ہو، اُسے پہلے خود اپنے طرزِ عمل میں ظاہر کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما کی توانائی اُس کے مزاج، اندازِ گفتگو، نظم و ضبط اور جسمانی فعالیت سے جھلکتی ہے۔ طویل اجلاسوں میں اُس کی مسلسل توجہ، چستی اور مثبت انداز دوسروں کو بھی متحرک کرتا ہے۔ اسی طرح اگر رہنما اپنے لوگوں کی صحت اور فٹنس کے بارے میں سنجیدہ ہو، اُن کے لیے واک، یوگا، جم یا فلاحی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرے، صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائے اور ہر چھ ماہ بعد طبی معائنوں کا اہتمام کرے، تو یہ تمام اقدامات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ادارے کے لیے لوگ محض منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بازگشتِ چہارم: روح کو بیدار کرنا&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ قیادت کی سب سے اہم پکار ہے، کیونکہ یہی ملازمت سے آگے بڑھ کر وابستگی اور تعلق پیدا کرتی ہے۔ رہنما کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمیاں ادارے کی شناخت کا حصہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیراتی کام، رضاکارانہ منصوبے اور محروم طبقات کی رہنمائی و سرپرستی جیسے اقدامات لوگوں کو یہ احساس دیتے ہیں کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی احساس انسان کی روحانی تسکین اور معنویت کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنما دراصل اُس بنیادی فکر اور نظریے کے ترجمان ہوتے ہیں جس پر ادارہ قائم ہوتا ہے۔ اُن کی باتیں پورے ماحول میں گونجتی ہیں۔ جب اُن کے الفاظ، گفتگو، طرزِ عمل اور رویّے متاثر کن اور ولولہ انگیز بن جاتے ہیں تو لوگوں کے دل، دماغ، جسم اور روح، سب ادارے کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’قیادت عہدے کا نام نہیں، بلکہ اُن گفتگو اور اثرات کا نام ہے جو آپ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 27 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بولنے اور مؤثر آواز رکھنے میں فرق ہوتا ہے۔ بیشتر رہنما بہت زیادہ بولتے ہیں، بلکہ کئی مواقع پر ضرورت سے بھی زیادہ، مگر اس کے باوجود اُن کی آواز اثر نہیں چھوڑ پاتی۔ قیادت کی تربیتی نشستوں میں رہنماؤں کی سب سے بڑی شکایت یہی ہوتی ہے کہ ’’ملازمین سنتے ہی نہیں‘‘۔</strong></p>
<p>اکثر رہنما اس مسلسل ذہنی بوجھ سے نڈھال دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں ایک ہی بات بار بار دہرانا پڑتی ہے۔ بعض اوقات وہ کارکنوں کی بے حسی اور عدم توجہی پر سخت جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ’’یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں دیوار سے بات کر رہا ہوں، سب سر تو ہلا دیتے ہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ بات اُن کے ذہن میں اترتی ہی نہیں۔‘‘ ایک اور پریشان رہنما کا کہنا تھا، ’’سب لوگ کام پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں، لیکن بعد میں مجھے ہی بار بار یاددہانی کرانا پڑتی ہے۔‘‘</p>
<p>ایسے احساسات رفتہ رفتہ رہنما کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ مزید دہرانے، مزید دباؤ ڈالنے اور زیادہ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یوں ابلاغ کا ایک ایسا منفی دائرہ جنم لیتا ہے جو نتیجہ خیز ہونے کے بجائے اشتعال انگیز اور غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p>قیادت کا اسلوبِ گفتگو دراصل وہ محرک ہے جو ادارے کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ رہنما کی آواز میں ایسی قوت اور بازگشت ہوتی ہے جو ادارے کے گوشے گوشے تک سنائی دیتی ہے۔</p>
<p>ادارے عموماً اپنی ’’اسٹریٹجک بیانیے‘‘ کی بات کرتے ہیں، مگر ایسا بیانیہ نہایت بصیرت اور مہارت سے ترتیب دینا اور دانشمندی سے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مطلوبہ اثر پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p>قیادت کی آواز وہ پکار ہوتی ہے جسے لوگ سنتے بھی ہیں اور جس کی پیروی بھی کرتے ہیں۔ اگر یہ آواز بے ربط اور غیر واضح ہو تو ممکن ہے اثر دکھائے، اور ممکن ہے بالکل بے اثر رہے۔ حقیقی تحریک اور ادارہ جاتی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ رہنما کی آواز اپنے مخاطبین کے دل و دماغ میں اترے اور اُن کے احساسات سے ہم آہنگ ہو۔</p>
<p>رہنما کی آواز صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ کہانیوں، گفتگوؤں، طرزِ بیان، رویّوں اور عملی کردار کے ذریعے اظہار پاتی ہے۔ بہت سے رہنما نہایت شستہ اور مؤثر انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، مگر توجہ کو تحریک میں بدلنا اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ رہنما کی آواز محض نعرہ نہ ہو بلکہ اُس کے ساتھ جوابدہی اور عملی کردار بھی موجود ہو۔ یہی چیز اعتماد پیدا کرتی ہے، یہی وابستگی کو جنم دیتی ہے اور یہی کردار سازی کی بنیاد بنتی ہے۔</p>
<p>رہنما کو سنجیدگی سے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ کس نوع کی گفتگو چاہتا ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو، یاد رکھی جائے اور آگے بیان کی جائے۔ وہ کون سی کہانیاں ہیں جنہیں لوگ دہرانا چاہیں، اور وہ کون سی گفتگو ہے جسے لوگ بار بار زندہ رکھیں۔ انسان دراصل چار عناصر، دل، دماغ، جسم اور روح، کا مجموعہ ہے۔</p>
<p>جو آواز ان چاروں سطحوں کو مخاطب کرتی ہے، وہی دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ وہی دلوں میں گونجتی ہے اور وہی حقیقی معنوں میں تحریک پیدا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں اُن چار آوازوں کا جائزہ ضروری ہے جنہیں ہر رہنما کو اپنے اندر پروان چڑھانا چاہیے۔</p>
<p><strong>بازگشتِ اوّل: دل سے دل تک</strong><br>یہ قیادت کی وہ آواز ہے جو خلوص، توجہ اور احساسِ تعلق کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ہماری گفتگو لوگوں کے اندر جذبات اور احساسات پیدا کرتی ہے، اور یہی احساسات اُن کے ردِعمل کی بنیاد بنتے ہیں۔ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے مکالمے اور طرزِ عمل اختیار کریں جن سے لوگوں کو محسوس ہو کہ وہ واقعی اہم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کارکنوں سے صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی تعلق قائم کیا جائے۔</p>
<p>حال ہی میں ایک ادارے میں قیادت کے بارے میں رائے جاننے کے لیے ہونے والے اجلاس میں ملازمین نے کہا، ’’ہماری بہت سی گفتگو ہوتی ہے، مگر وہ زیادہ تر صرف کام تک محدود رہتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملازمین کی ذاتی زندگی، اُن کی خوشیوں، مسائل اور پیش رفت میں بھی دلچسپی لیں۔</p>
<p>ایک ادارے میں سربراہ کا معمول تھا کہ وہ صبح دفتر پہنچ کر راستے میں ملنے والے ہر شخص کو سلام کرتا، اُس کے بچوں اور گھر والوں کے بارے میں دریافت کرتا۔ اُس کا یہ طرزِ عمل لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گیا۔ ملازمین آج بھی اُس واقعے کو محبت سے یاد کرتے اور دوسروں کو سناتے ہیں۔</p>
<p>رہنما کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دل سے دل تک پہنچنے والی گفتگو کی مثال قائم کرے۔ ایسی گفتگو میں اُن کے اہلِ خانہ، ذاتی دلچسپیوں، شوق اور اُن معاملات پر بات ہونی چاہیے جہاں رہنما اُن کی مدد کر سکتا ہو۔</p>
<p>جن رہنماؤں کے بارے میں میں نے سب سے زیادہ مثبت بازگشت سنی، وہ دراصل اُن کے چھوٹے مگر خلوص بھرے رویّوں کی وجہ سے تھی۔ ایک ملازم نے بتایا کہ اُس کا مینیجر ہر ملازم کی سالگرہ یاد رکھتا ہے اور اُس کے شوق کے مطابق کیک تیار کرواتا ہے۔ اُس نے حیرت سے بتایا کہ اُس کے کیک پر اُس کی پسندیدہ گاڑی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ایک اور ملازم نے کہا کہ وہ اُس وقت جذبات پر قابو نہ رکھ سکا جب اُس کے سربراہ اُس کی دادی کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُس کی پرورش دادی ہی نے کی تھی۔</p>
<p>الفاظ کم بھی ہوں اور عمل بظاہر معمولی بھی، مگر اگر اُن میں خلوص ہو تو اُن کا اثر دلوں پر گہرا ثبت ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>بازگشتِ دوم: مقصد سے ہم آہنگی</strong><br>رہنما کی پکار ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ دے اور انہیں وہ زاویے دکھائے جو وہ خود نہیں دیکھ پاتے۔ انسانی ذہن محض مشینی انداز میں کام کرنے کے لیے نہیں بنا؛ وہ تجزیہ، وسعتِ فکر اور فکری تحریک چاہتا ہے۔ آج بیشتر کارکن جس بڑے مسئلے سے دوچار ہیں، وہ کام سے جذباتی لاتعلقی ہے۔ وہ صبح سے شام تک کے معمول میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ زندگی ایک بے روح مشق محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ دفتر آتے ہیں، کام کرتے ہیں، خود کو کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں اور تھکے ماندے و بے دِل واپس لوٹ جاتے ہیں۔</p>
<p>ایسے ماحول میں رہنما کی پکار کو ذہنوں میں حرکت پیدا کرنا ہوتی ہے۔ افسوس کہ قیادت کے جس پہلو کو سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے، وہ مقصد کی وضاحت پر مبنی گفتگو ہے۔ اجلاسوں میں مقصد کی بات نہایت اہم ہوتی ہے، جبکہ تقریبات اور روزمرہ سرگرمیوں میں معمولات کو کسی بڑے مقصد سے جوڑنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>جب رہنما اپنے لوگوں سے یہ کہتا ہے کہ اُن کا ہر عمل محض ایک کام نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے، لوگوں کو سیکھنے کے مواقع دینے یا معاشرے میں بہتری لانے کی ایک کوشش ہے، تو وہ اُنہیں ایک بلند تر مقصد سے وابستہ کر دیتا ہے۔ یوں ذہن میں معنی اور مقصد کا ایسا رشتہ قائم ہوتا ہے جو انسان کو اپنے کام پر فخر محسوس کراتا ہے۔</p>
<p>ہفتہ وار اجلاس اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ رہنما کو چاہیے کہ وہ ہر ملاقات میں ادارے کے وژن اور مقصد کو واضح انداز میں دہرائے۔ اس مقصد کو ادارے کی نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مینیجرز کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار وضع کیا جائے تاکہ وہ ہر میٹنگ اور انفرادی نشست میں اپنے ساتھیوں سے ادارے کے مقصد اور اس کی اہمیت پر گفتگو کریں۔</p>
<p><strong>بازگشتِ سوم: توانائی کو مہمیز دینا</strong><br>انسانی جسم حرکت اور تازگی کا تقاضا کرتا ہے، اور توانائی دراصل کارکردگی میں اضافے کی بنیادی قوت ہے۔ رہنما کو اپنی ٹیم میں جس توانائی کی خواہش ہو، اُسے پہلے خود اپنے طرزِ عمل میں ظاہر کرنا چاہیے۔</p>
<p>رہنما کی توانائی اُس کے مزاج، اندازِ گفتگو، نظم و ضبط اور جسمانی فعالیت سے جھلکتی ہے۔ طویل اجلاسوں میں اُس کی مسلسل توجہ، چستی اور مثبت انداز دوسروں کو بھی متحرک کرتا ہے۔ اسی طرح اگر رہنما اپنے لوگوں کی صحت اور فٹنس کے بارے میں سنجیدہ ہو، اُن کے لیے واک، یوگا، جم یا فلاحی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرے، صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائے اور ہر چھ ماہ بعد طبی معائنوں کا اہتمام کرے، تو یہ تمام اقدامات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ ادارے کے لیے لوگ محض منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ حقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
<p><strong>بازگشتِ چہارم: روح کو بیدار کرنا</strong><br>یہ قیادت کی سب سے اہم پکار ہے، کیونکہ یہی ملازمت سے آگے بڑھ کر وابستگی اور تعلق پیدا کرتی ہے۔ رہنما کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمیاں ادارے کی شناخت کا حصہ ہوں۔</p>
<p>خیراتی کام، رضاکارانہ منصوبے اور محروم طبقات کی رہنمائی و سرپرستی جیسے اقدامات لوگوں کو یہ احساس دیتے ہیں کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی احساس انسان کی روحانی تسکین اور معنویت کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔</p>
<p>رہنما دراصل اُس بنیادی فکر اور نظریے کے ترجمان ہوتے ہیں جس پر ادارہ قائم ہوتا ہے۔ اُن کی باتیں پورے ماحول میں گونجتی ہیں۔ جب اُن کے الفاظ، گفتگو، طرزِ عمل اور رویّے متاثر کن اور ولولہ انگیز بن جاتے ہیں تو لوگوں کے دل، دماغ، جسم اور روح، سب ادارے کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑنے لگتے ہیں۔</p>
<p>اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’قیادت عہدے کا نام نہیں، بلکہ اُن گفتگو اور اثرات کا نام ہے جو آپ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 27 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505925</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 14:11:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/301410072f675ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/301410072f675ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آٹو پالیسی، بغیر خرابی اصلاح کی ضرورت نہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505802/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک نئی آٹوموبائلز اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026–31 کی تیاری جاری ہے۔ پچھلی تین مسلسل پانچ سالہ پالیسیوں میں ایک ہی بنیادی ہدف مشترک رہا ہے: سالانہ 500 ہزار کاروں کی پیداوار حاصل کرنا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی ہدف اس بار بھی دوبارہ مقرر کیا گیا ہے کہ 2031 تک 5 لاکھ گاڑیوں کی پیداوار حاصل کی جائے۔ تاہم اب تک زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ملک نے اس ہدف کے تقریباً دو تہائی حصے تک پیداوار حاصل کی، لیکن بعد میں میکرو اکنامک عوامل کی وجہ سے دوبارہ کمی واقع ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ملک اس حد کو عبور نہیں کر پا رہا تو اس کی ضرور کوئی مضبوط وجوہات ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، یعنی آٹوموبائل اسمبلرز، پارٹس بنانے والے اور حکومت، ایک ساتھ بیٹھ کر ایک غیر جانبدار فریم ورک تیار کریں تاکہ مارکیٹ کو وسعت دی جا سکے۔ یہ سب کے لیے ایک فائدہ مند صورتحال ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی اختلافات اور اندرونی کشمکش جاری ہے۔ مارکیٹ کا حجم کم ہو گیا ہے جبکہ زیادہ کھلاڑی اس میں حصہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے اپنے ایجنڈے کے لیے لابنگ کر رہا ہے جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ہر فریق مارکیٹ کو بڑھانے کے بجائے اس میں سے بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک گروپ پرانے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو اپنے موجودہ مصنوعات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ نئی گاڑیاں، خاص طور پر نئی انرجی وہیکلز (این ای ویز)، بڑے پیمانے پر ترقی کریں کیونکہ اس سے ان کے اپنے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ یہ مارکیٹ طویل عرصے تک تین بڑے اسمبلرز کے کنٹرول میں رہی، اور اب وہ کچھ نئے آنے والوں کے ہاتھوں اپنا حصہ کھو رہے ہیں۔ وہ اپنی پرانی پوزیشن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا گروپ آٹو پارٹس بنانے والوں پر مشتمل ہے جن کا بنیادی مطالبہ لوکلائزیشن کو بڑھانا ہے، اور یہ ہونا بھی چاہیے۔ تاریخی طور پر وہ پرانے کھلاڑیوں پر انحصار کرتے رہے اور انہی کے ماڈلز کے لیے پارٹس بنا کر ترقی کرتے رہے۔ اب نئے کھلاڑیوں کے آنے سے ان کا حصہ کم ہو رہا ہے کیونکہ نئے داخل ہونے والوں میں لوکلائزیشن کی سطح کم ہے۔ اس کے بجائے کہ وہ اس بات پر توجہ دیں کہ وہ نئے کھلاڑیوں کی ویلیو چینز کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں، وہ پرانے کھلاڑیوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بہتر اور طویل المدتی حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ وہ اپنی صلاحیت بہتر کریں اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں تاکہ نئی انرجی وہیکلز (این ای ویز) کے لیے پرزے تیار کرنا شروع کر سکیں۔ مثال کے طور پر جو کمپنی اندرونی دہن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کے لیے شیشہ بناتی ہے وہ لازمی نہیں کہ اے ڈی اے ایز فیچرز والی گاڑیوں کے لیے بھی شیشہ بنا سکے۔ یہی صورتحال ٹائروں، وائر ہارنس اور دیگر کئی پرزہ جات کے ساتھ بھی ہے کیونکہ ای وی ٹیکنالوجی زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہیں اس کے بجائے این ای ویز کے پارٹس کی لوکلائزیشن کے لیے ڈیوٹی اسٹرکچر پر بات کرنی چاہیے۔ مگر اس کے بجائے وہ این ای وی کی تعریفوں اور متعلقہ معاملات پر بحث کر رہے ہیں۔ وہ کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور اپنے ہی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا گروپ نئے آنے والوں پر مشتمل ہے، جن میں زیادہ تر چینی برانڈز شامل ہیں۔ اس گروپ کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک میں کوریائی برانڈز بھی شامل ہیں، جبکہ دوسرا صرف چینی برانڈز کو اسمبل کرتا ہے۔ کوریائی برانڈز نے 2016–21 کی پالیسی کے تحت ترقی کی اور صارفین کو کمپیکٹ ایس یو وی میں انتخاب فراہم کیا اور زیادہ تر جاپانی پرانے آئی سی ای مارکیٹ کا حصہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب کوریائی برانڈز کو چینی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ان کے نئے ماڈلز مشکلات کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑے مقامی کھلاڑیوں نے اپنی اسمبلنگ پلانٹس کے بہتر استعمال کے لیے چینی برانڈز کے ساتھ شراکت داری کر لی ہے۔ تاہم وہ اب بھی ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (ایچ ای ویز) کے لیے حمایت چاہتے ہیں تاکہ اپنی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر دیکھا جائے تو زیادہ تر کھلاڑی، سوائے پرانے جاپانی اسمبلرز کے، چینی برانڈز پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ برانڈز عالمی آٹوموبائل انڈسٹری میں انقلاب لا رہے ہیں۔ وہ نئی انرجی ٹیکنالوجی (این ای وی) میں برتر ہیں جبکہ قیمت میں بھی نسبتاً سستے ہیں۔ کوریائی برانڈز مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ چینی کمپنیاں دنیا بھر کی منڈیوں میں حصہ لے رہی ہیں اور پاکستان میں بھی مارکیٹ کے رجحانات کو تبدیل کر رہی ہیں۔ ایک ایسی مارکیٹ جو پہلے ان ماڈلز پر انحصار کرتی تھی جو دوسرے ممالک میں ختم کر دیے گئے تھے، اب جدید ترین ماڈلز تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ اسمبلرز بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث قیمتیں کم کر رہے ہیں اور گاڑیوں کی اقساط پر فروخت بھی پیش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال میں رفتار مثبت ہے۔ تقریباً تمام بڑے چینی برانڈز اب پاکستان میں موجود ہیں، اور وہ اپنی مارکیٹ شیئر میں اضافہ کرتے رہیں گے کیونکہ وہ آئی سی ایز،ایچ ای ویز،پی ایچ ای ویز،آر ای ای ویز اور ای ویز میں مختلف آپشنز فراہم کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کس سیگمنٹ کو فروغ دیا جائے، اور یہ بات پالیسی پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای ویز آج کے دور میں مہنگی ہیں اور صرف اسی صورت میں مارکیٹ میں زیادہ جگہ حاصل کر سکتی ہیں جب ان پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کم کیے جائیں۔ اس وقت بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز) اور آر ای ای ویز پر ٹیکس سب سے کم ہے، جبکہ پی ایچ ای ویز، ایچ ای ویز اور آئی سی ای گاڑیوں پر بتدریج زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ یہ بظاہر ایک معقول پالیسی لگتی ہے کیونکہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز بڑی حد تک ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن (ڈبلیو سی او) کی ایچ ایس کوڈ درجہ بندیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل کے تجربہ کار اسٹریٹیجسٹ آصف رضوی کے مطابق تمام این ای ویز ایک جیسی سطح پر اخراجات میں کمی یا فیول سیونگ فراہم نہیں کرتیں، اس لیے مراعات کو اسی حساب سے ترتیب دینا چاہیے، اور ساتھ ہی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے تقابلی رعایتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈرز کے درمیان این ای ویز کی تعریف اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی سپورٹ کی سطح کے حوالے سے متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ ان کے دلائل زیادہ تر اس بات سے متاثر ہوتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس اپنے پروڈکٹ پورٹ فولیو میں کیا موجود ہے۔ تاہم حکومت کو وہ فیصلہ کرنا چاہیے جو ملک کے بہترین مفاد میں ہو۔ این ای ویز درآمدی ایندھن کے بل کو کم کرتی ہیں اور کاربن اخراج میں کمی لاتی ہیں، اس لیے ان کی حمایت ضروری ہے۔ اخراجات پر مبنی مراعات کا فیصلہ ماحولیاتی ماہرین کے سپرد ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام فریقین کو مل کر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ گاڑیاں سستی ہوں اور 2031 تک 500 ہزار کاروں کے ہدف کے قریب پہنچا جا سکے۔ 2022 میں جب پیداوار 300 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی تھی تو روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں میں نمایاں اضافے کے باعث گاڑیوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فنانسنگ کی حدیں مقرر کیں اور گاڑیوں کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی، جس سے آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو نقصان پہنچا۔ کیونکہ مارکیٹ میں دو درجن سے زیادہ ماڈلز موجود ہیں، اس لیے اسکیل حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک مارکیٹ کو وسعت نہ دی جائے، اور لوکلائزیشن بھی محدود رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈرز کو دوسری بڑی جنگ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے خلاف لڑنی چاہیے، کیونکہ ایک سرگرم لابی ان کی حمایت کر رہی ہے اور تمام ابہام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان گاڑیوں کی مناسب کوالٹی چیک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ استعمال شدہ گاڑیاں بیچنے والے زیادہ تر بعد از فروخت سروس نیٹ ورک قائم نہیں کرتے اور مصنوعات کو مارکیٹ میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع کم پیدا ہوتے ہیں جبکہ صارفین کو کمزور آفٹر سیلز سروس اور ناکافی سیفٹی چیکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتمی مقصد مقامی صنعت کی ترقی ہونا چاہیے، جس کے لیے این ای ویز، آئی سی ای گاڑیوں اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ آصف رضوی نے بخوبی بیان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 25 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک نئی آٹوموبائلز اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026–31 کی تیاری جاری ہے۔ پچھلی تین مسلسل پانچ سالہ پالیسیوں میں ایک ہی بنیادی ہدف مشترک رہا ہے: سالانہ 500 ہزار کاروں کی پیداوار حاصل کرنا۔</strong></p>
<p>یہی ہدف اس بار بھی دوبارہ مقرر کیا گیا ہے کہ 2031 تک 5 لاکھ گاڑیوں کی پیداوار حاصل کی جائے۔ تاہم اب تک زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ملک نے اس ہدف کے تقریباً دو تہائی حصے تک پیداوار حاصل کی، لیکن بعد میں میکرو اکنامک عوامل کی وجہ سے دوبارہ کمی واقع ہو گئی۔</p>
<p>اگر ملک اس حد کو عبور نہیں کر پا رہا تو اس کی ضرور کوئی مضبوط وجوہات ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، یعنی آٹوموبائل اسمبلرز، پارٹس بنانے والے اور حکومت، ایک ساتھ بیٹھ کر ایک غیر جانبدار فریم ورک تیار کریں تاکہ مارکیٹ کو وسعت دی جا سکے۔ یہ سب کے لیے ایک فائدہ مند صورتحال ہو گی۔</p>
<p>تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی اختلافات اور اندرونی کشمکش جاری ہے۔ مارکیٹ کا حجم کم ہو گیا ہے جبکہ زیادہ کھلاڑی اس میں حصہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے اپنے ایجنڈے کے لیے لابنگ کر رہا ہے جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ ہر فریق مارکیٹ کو بڑھانے کے بجائے اس میں سے بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>ایک گروپ پرانے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو اپنے موجودہ مصنوعات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ نئی گاڑیاں، خاص طور پر نئی انرجی وہیکلز (این ای ویز)، بڑے پیمانے پر ترقی کریں کیونکہ اس سے ان کے اپنے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ یہ مارکیٹ طویل عرصے تک تین بڑے اسمبلرز کے کنٹرول میں رہی، اور اب وہ کچھ نئے آنے والوں کے ہاتھوں اپنا حصہ کھو رہے ہیں۔ وہ اپنی پرانی پوزیشن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>دوسرا گروپ آٹو پارٹس بنانے والوں پر مشتمل ہے جن کا بنیادی مطالبہ لوکلائزیشن کو بڑھانا ہے، اور یہ ہونا بھی چاہیے۔ تاریخی طور پر وہ پرانے کھلاڑیوں پر انحصار کرتے رہے اور انہی کے ماڈلز کے لیے پارٹس بنا کر ترقی کرتے رہے۔ اب نئے کھلاڑیوں کے آنے سے ان کا حصہ کم ہو رہا ہے کیونکہ نئے داخل ہونے والوں میں لوکلائزیشن کی سطح کم ہے۔ اس کے بجائے کہ وہ اس بات پر توجہ دیں کہ وہ نئے کھلاڑیوں کی ویلیو چینز کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں، وہ پرانے کھلاڑیوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔</p>
<p>ایک بہتر اور طویل المدتی حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ وہ اپنی صلاحیت بہتر کریں اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں تاکہ نئی انرجی وہیکلز (این ای ویز) کے لیے پرزے تیار کرنا شروع کر سکیں۔ مثال کے طور پر جو کمپنی اندرونی دہن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کے لیے شیشہ بناتی ہے وہ لازمی نہیں کہ اے ڈی اے ایز فیچرز والی گاڑیوں کے لیے بھی شیشہ بنا سکے۔ یہی صورتحال ٹائروں، وائر ہارنس اور دیگر کئی پرزہ جات کے ساتھ بھی ہے کیونکہ ای وی ٹیکنالوجی زیادہ پیچیدہ ہے۔ انہیں اس کے بجائے این ای ویز کے پارٹس کی لوکلائزیشن کے لیے ڈیوٹی اسٹرکچر پر بات کرنی چاہیے۔ مگر اس کے بجائے وہ این ای وی کی تعریفوں اور متعلقہ معاملات پر بحث کر رہے ہیں۔ وہ کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتے ہیں اور اپنے ہی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>تیسرا گروپ نئے آنے والوں پر مشتمل ہے، جن میں زیادہ تر چینی برانڈز شامل ہیں۔ اس گروپ کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ایک میں کوریائی برانڈز بھی شامل ہیں، جبکہ دوسرا صرف چینی برانڈز کو اسمبل کرتا ہے۔ کوریائی برانڈز نے 2016–21 کی پالیسی کے تحت ترقی کی اور صارفین کو کمپیکٹ ایس یو وی میں انتخاب فراہم کیا اور زیادہ تر جاپانی پرانے آئی سی ای مارکیٹ کا حصہ حاصل کیا۔</p>
<p>تاہم اب کوریائی برانڈز کو چینی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ان کے نئے ماڈلز مشکلات کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں بڑے مقامی کھلاڑیوں نے اپنی اسمبلنگ پلانٹس کے بہتر استعمال کے لیے چینی برانڈز کے ساتھ شراکت داری کر لی ہے۔ تاہم وہ اب بھی ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (ایچ ای ویز) کے لیے حمایت چاہتے ہیں تاکہ اپنی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر دیکھا جائے تو زیادہ تر کھلاڑی، سوائے پرانے جاپانی اسمبلرز کے، چینی برانڈز پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ برانڈز عالمی آٹوموبائل انڈسٹری میں انقلاب لا رہے ہیں۔ وہ نئی انرجی ٹیکنالوجی (این ای وی) میں برتر ہیں جبکہ قیمت میں بھی نسبتاً سستے ہیں۔ کوریائی برانڈز مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ چینی کمپنیاں دنیا بھر کی منڈیوں میں حصہ لے رہی ہیں اور پاکستان میں بھی مارکیٹ کے رجحانات کو تبدیل کر رہی ہیں۔ ایک ایسی مارکیٹ جو پہلے ان ماڈلز پر انحصار کرتی تھی جو دوسرے ممالک میں ختم کر دیے گئے تھے، اب جدید ترین ماڈلز تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ اسمبلرز بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث قیمتیں کم کر رہے ہیں اور گاڑیوں کی اقساط پر فروخت بھی پیش کر رہے ہیں۔</p>
<p>موجودہ صورتحال میں رفتار مثبت ہے۔ تقریباً تمام بڑے چینی برانڈز اب پاکستان میں موجود ہیں، اور وہ اپنی مارکیٹ شیئر میں اضافہ کرتے رہیں گے کیونکہ وہ آئی سی ایز،ایچ ای ویز،پی ایچ ای ویز،آر ای ای ویز اور ای ویز میں مختلف آپشنز فراہم کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کس سیگمنٹ کو فروغ دیا جائے، اور یہ بات پالیسی پر منحصر ہے۔</p>
<p>این ای ویز آج کے دور میں مہنگی ہیں اور صرف اسی صورت میں مارکیٹ میں زیادہ جگہ حاصل کر سکتی ہیں جب ان پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز کم کیے جائیں۔ اس وقت بیٹری الیکٹرک وہیکلز (بی ای ویز) اور آر ای ای ویز پر ٹیکس سب سے کم ہے، جبکہ پی ایچ ای ویز، ایچ ای ویز اور آئی سی ای گاڑیوں پر بتدریج زیادہ ٹیکس عائد ہے۔ یہ بظاہر ایک معقول پالیسی لگتی ہے کیونکہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز بڑی حد تک ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن (ڈبلیو سی او) کی ایچ ایس کوڈ درجہ بندیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔</p>
<p>آٹوموبائل کے تجربہ کار اسٹریٹیجسٹ آصف رضوی کے مطابق تمام این ای ویز ایک جیسی سطح پر اخراجات میں کمی یا فیول سیونگ فراہم نہیں کرتیں، اس لیے مراعات کو اسی حساب سے ترتیب دینا چاہیے، اور ساتھ ہی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے لیے تقابلی رعایتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈرز کے درمیان این ای ویز کی تعریف اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی سپورٹ کی سطح کے حوالے سے متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ ان کے دلائل زیادہ تر اس بات سے متاثر ہوتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس اپنے پروڈکٹ پورٹ فولیو میں کیا موجود ہے۔ تاہم حکومت کو وہ فیصلہ کرنا چاہیے جو ملک کے بہترین مفاد میں ہو۔ این ای ویز درآمدی ایندھن کے بل کو کم کرتی ہیں اور کاربن اخراج میں کمی لاتی ہیں، اس لیے ان کی حمایت ضروری ہے۔ اخراجات پر مبنی مراعات کا فیصلہ ماحولیاتی ماہرین کے سپرد ہونا چاہیے۔</p>
<p>تمام فریقین کو مل کر ڈیوٹیز اور ٹیکسز میں کمی کے لیے کام کرنا چاہیے تاکہ گاڑیاں سستی ہوں اور 2031 تک 500 ہزار کاروں کے ہدف کے قریب پہنچا جا سکے۔ 2022 میں جب پیداوار 300 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئی تھی تو روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں میں نمایاں اضافے کے باعث گاڑیوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فنانسنگ کی حدیں مقرر کیں اور گاڑیوں کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی، جس سے آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو نقصان پہنچا۔ کیونکہ مارکیٹ میں دو درجن سے زیادہ ماڈلز موجود ہیں، اس لیے اسکیل حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک مارکیٹ کو وسعت نہ دی جائے، اور لوکلائزیشن بھی محدود رہے گی۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈرز کو دوسری بڑی جنگ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے خلاف لڑنی چاہیے، کیونکہ ایک سرگرم لابی ان کی حمایت کر رہی ہے اور تمام ابہام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان گاڑیوں کی مناسب کوالٹی چیک کرنا مشکل ہوتا ہے۔ استعمال شدہ گاڑیاں بیچنے والے زیادہ تر بعد از فروخت سروس نیٹ ورک قائم نہیں کرتے اور مصنوعات کو مارکیٹ میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع کم پیدا ہوتے ہیں جبکہ صارفین کو کمزور آفٹر سیلز سروس اور ناکافی سیفٹی چیکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>حتمی مقصد مقامی صنعت کی ترقی ہونا چاہیے، جس کے لیے این ای ویز، آئی سی ای گاڑیوں اور آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ آصف رضوی نے بخوبی بیان کیا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 25 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505802</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 15:03:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/251503312a529b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/251503312a529b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھوک برآمد، مہنگائی درآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505801/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اب اربوں ڈالر ایسے غذائی اجناس درآمد کرنے پر خرچ کر رہا ہے جنہیں ایک فعال زرعی معیشت یا تو خود مؤثر انداز میں پیدا کر سکتی تھی یا کم از کم ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے ذریعے سنبھال سکتی تھی۔ یہی وہ خطرناک معاشی حقیقت ہے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے غذائی درآمدی بل کے پس منظر میں کارفرما ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے ابتدائی دس ماہ کے تازہ تجارتی اعداد و شمار پاکستان کی معیشت میں موجود ایک تشویشناک ساختی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس عرصے میں خوراک کی درآمدات کا بل 13.81 فیصد اضافے کے ساتھ 7.848 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ خام غذائی مصنوعات کی برآمدات 32 فیصد سے زائد کمی کے بعد محض 4.19 ارب ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تفاوت محض زرعی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کے مالیاتی خسارے، جاری کھاتوں کے استحکام، مہنگائی کی رفتار، زرِ مبادلہ کی شرح کے عدم تحفظ اور طویل المدتی معاشی خودمختاری پر مرتب ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسے وقت میں جب ملک اب بھی آئی ایم ایف کی نگرانی، بیرونی مالی معاونت کے توسیعی انتظامات اور مسلسل مالیاتی سختیوں پر انحصار کر رہا ہے، خوراک کی بڑھتی ہوئی درآمدات قیمتی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک خطرناک رِساؤ ثابت ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازی کی ناکامی کی سب سے واضح مثال چینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک پہلے “فاضل پیداوار” اور وافر ذخائر کے روایتی جواز کے تحت چینی کی برآمد کی اجازت دیتا ہے، لیکن چند ہی ماہ بعد یہی ملک اندرونی قلت اور بے قابو خوردہ قیمتوں پر قابو پانے کے لیے عالمی منڈی سے مہنگے داموں چینی درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بار بار دہرایا جانے والا چکر اب محض اتفاق نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزور طرزِ حکمرانی، ضابطہ جاتی گرفت کے فقدان اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے گروہوں کی لابنگ سے جنم لینے والا ایک متوقع اور منظم رجحان بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر کرشنگ سیزن کے آغاز پر شوگر مل مالکان اور شعبے کے نمائندے ریکارڈ پیداوار اور وافر ذخائر کی خوشخبری سناتے ہیں، جس کے نتیجے میں برآمدات کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ جیسے ہی برآمدات شروع ہوتی ہیں اور مقامی ذخائر سکڑنے لگتے ہیں، مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے اوپر جانا شروع ہو جاتی ہیں۔ عوامی دباؤ بڑھتا ہے، ذخیرہ اندوزی کے الزامات سامنے آتے ہیں، اور بالآخر حکومت قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کر کے ہنگامی بنیادوں پر چینی درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پالیسی کے معاشی نتائج نہایت سنگین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبہ عالمی منڈی میں بہتر نرخوں سے برآمدی منافع سمیٹ لیتا ہے، جبکہ بعد میں مقامی مارکیٹ کو سنبھالنے کی مالی قیمت ریاست کو درآمدات کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ عملی طور پر منافع نجی ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جبکہ نقصان عوام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق مالی سال 26 کے جولائی تا اپریل کے دوران پاکستان نے تین لاکھ نو ہزار ٹن سے زائد چینی درآمد کی، جبکہ ایک سال قبل درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ برآمدات اور رسد میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی قلت کے باعث چینی کی درآمدی لاگت تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پورے معاملے کو مزید غیر منطقی بنانے والی بات یہ ہے کہ چینی کوئی ناگزیر تزویراتی درآمد نہیں۔ پاکستان خطے کے بڑے گنا پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مسئلہ پیداوار کی صلاحیت کا نہیں بلکہ شفاف ذخیرہ نگرانی، قابلِ اعتماد فصل تخمینوں، نظم و ضبط پر مبنی برآمدی پالیسی اور حکومتی فیصلوں کو شعبہ جاتی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے فقدان کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی پاکستان کی زرعی معیشت کے ایک اور گہرے تضاد کی بھی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوراک کے درآمدی بل میں دوسرا بڑا حصہ خوردنی تیل کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہر سال پام آئل اور سویا بین آئل کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے کیونکہ ملک میں تیل دار اجناس کی مقامی کاشت اب بھی انتہائی پسماندہ ہے۔ جائزہ مدت کے دوران صرف پام آئل کی درآمدات 3.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو اسے پاکستان کی سب سے بڑی غذائی درآمدی مد بنا دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی اصلاحات اور درآمدی متبادل کی دہائیوں پر محیط بحث کے باوجود پاکستان آج تک تیل دار فصلوں کی ترقی کے لیے کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی تشکیل نہیں دے سکا۔ سورج مکھی، کینولا اور سویا بین جیسی فصلوں کو کبھی بھی وہ پالیسی ترجیح نہیں ملی جو سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبوں کو حاصل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، ملک اب بھی عالمی خوردنی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی کے اثرات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اور خوردنی تیل کے علاوہ بھی متعدد غذائی درآمدات پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دالیں بدستور بڑی درآمدی غذائی اشیا میں شامل ہیں کیونکہ مقامی پیداوار مسلسل ملکی طلب سے کم رہتی ہے۔ اسی طرح چائے کی درآمدات بھی کثیر زرِ مبادلہ ہڑپ کر رہی ہیں، حالانکہ غیر ضروری درآمدات میں کمی کے حکومتی دعوے بارہا دہرائے جاتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویا بین مصنوعات، خشک میوہ جات، دودھ سے بنی اشیا، اور بعض اوقات گندم کی درآمدات بھی، مقامی فصلوں کی کارکردگی اور موسمی قلت کے مطابق، اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی منظرنامہ نہایت تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع زرعی رقبے، دنیا کے بڑے نہری نظاموں میں سے ایک، اور زراعت سے وابستہ بھاری افرادی قوت رکھنے والا ملک بتدریج خوراک کے معاملے میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غذائی برآمدات کی کارکردگی بھی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاول، جو روایتی طور پر زرِ مبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، اب واضح دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اپریل میں باسمتی چاول کی برآمدات مقدار اور مالیت دونوں لحاظ سے نمایاں اضافے کے ساتھ بہتر رہیں، تاہم غیر باسمتی چاول کی برآمدات میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ غیر باسمتی چاول برآمدی حجم اور عالمی منڈی میں رسائی کے اعتبار سے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ گراوٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو علاقائی مسابقت، قیمتوں کے عدم توازن، غیر مستقل معیار، بڑھتی پیداواری لاگت، پانی کی قلت اور عالمی منڈی میں کم ہوتی مسابقت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر غذائی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور زرعی برآمدات جمود یا تنزلی کا شکار رہیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو بیرونی مالیاتی دباؤ کا مزید سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مالیاتی اثرات بھی کم سنگین نہیں۔ بڑھتی درآمدات جاری کھاتوں کے خسارے پر دباؤ بڑھاتی ہیں، جو بالآخر مزید قرض گیری پر مجبور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں غذائی عدم تحفظ بتدریج مالیاتی عدم تحفظ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان کو وقتی کریک ڈاؤنز یا ردِعمل پر مبنی درآمدی فیصلوں سے بڑھ کر جامع زرعی اصلاحات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اور گندم جیسی بنیادی اجناس کی برآمدی اجازت کو صنعتکاروں کے دعووں کے بجائے آزادانہ اور قابلِ تصدیق ذخیرہ آڈٹس سے مشروط کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح زرعی مراعات کا رخ ان تزویراتی فصلوں کی جانب موڑا جانا ضروری ہے جو درآمدی انحصار کم کر سکیں، خصوصاً تیل دار اجناس اور دالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو فوری طور پر ذخیرہ گاہوں کے بنیادی ڈھانچے، جدید بیج ٹیکنالوجی، زرعی مشینی نظام، پانی کے مؤثر استعمال، فصلوں کی پیش گوئی کے نظام اور سپلائی چین مینجمنٹ میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑھ کر یہ کہ زرعی پالیسی سازی کو مفاداتی گروہوں کے اثر و رسوخ سے محفوظ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی معیشت اس وقت تک پائیدار مالیاتی استحکام حاصل نہیں کر سکتی جب تک قومی وسائل کی قیمت پر اجناس کے چکر کو قیاس آرائی پر مبنی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بڑھتا ہوا غذائی درآمدی بل محض تجارتی عدم توازن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے کہ حکمرانی، منصوبہ بندی اور معاشی نظم و نسق کی کمزوریاں اب براہِ راست ملک کی مالیاتی سکت اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کسی عارضی مارکیٹ بگاڑ کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ معاشی ساکھ کے ایک گہرے بحران سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 23 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اب اربوں ڈالر ایسے غذائی اجناس درآمد کرنے پر خرچ کر رہا ہے جنہیں ایک فعال زرعی معیشت یا تو خود مؤثر انداز میں پیدا کر سکتی تھی یا کم از کم ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے ذریعے سنبھال سکتی تھی۔ یہی وہ خطرناک معاشی حقیقت ہے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے غذائی درآمدی بل کے پس منظر میں کارفرما ہے۔</strong></p>
<p>مالی سال 2025-26 کے ابتدائی دس ماہ کے تازہ تجارتی اعداد و شمار پاکستان کی معیشت میں موجود ایک تشویشناک ساختی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس عرصے میں خوراک کی درآمدات کا بل 13.81 فیصد اضافے کے ساتھ 7.848 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ خام غذائی مصنوعات کی برآمدات 32 فیصد سے زائد کمی کے بعد محض 4.19 ارب ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>خوراک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تفاوت محض زرعی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کے مالیاتی خسارے، جاری کھاتوں کے استحکام، مہنگائی کی رفتار، زرِ مبادلہ کی شرح کے عدم تحفظ اور طویل المدتی معاشی خودمختاری پر مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ایک ایسے وقت میں جب ملک اب بھی آئی ایم ایف کی نگرانی، بیرونی مالی معاونت کے توسیعی انتظامات اور مسلسل مالیاتی سختیوں پر انحصار کر رہا ہے، خوراک کی بڑھتی ہوئی درآمدات قیمتی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک خطرناک رِساؤ ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
<p>پالیسی سازی کی ناکامی کی سب سے واضح مثال چینی ہے۔</p>
<p>ملک پہلے “فاضل پیداوار” اور وافر ذخائر کے روایتی جواز کے تحت چینی کی برآمد کی اجازت دیتا ہے، لیکن چند ہی ماہ بعد یہی ملک اندرونی قلت اور بے قابو خوردہ قیمتوں پر قابو پانے کے لیے عالمی منڈی سے مہنگے داموں چینی درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ بار بار دہرایا جانے والا چکر اب محض اتفاق نہیں رہا۔</p>
<p>یہ کمزور طرزِ حکمرانی، ضابطہ جاتی گرفت کے فقدان اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے گروہوں کی لابنگ سے جنم لینے والا ایک متوقع اور منظم رجحان بن چکا ہے۔</p>
<p>ہر کرشنگ سیزن کے آغاز پر شوگر مل مالکان اور شعبے کے نمائندے ریکارڈ پیداوار اور وافر ذخائر کی خوشخبری سناتے ہیں، جس کے نتیجے میں برآمدات کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ جیسے ہی برآمدات شروع ہوتی ہیں اور مقامی ذخائر سکڑنے لگتے ہیں، مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے اوپر جانا شروع ہو جاتی ہیں۔ عوامی دباؤ بڑھتا ہے، ذخیرہ اندوزی کے الزامات سامنے آتے ہیں، اور بالآخر حکومت قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کر کے ہنگامی بنیادوں پر چینی درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔</p>
<p>اس پالیسی کے معاشی نتائج نہایت سنگین ہیں۔</p>
<p>نجی شعبہ عالمی منڈی میں بہتر نرخوں سے برآمدی منافع سمیٹ لیتا ہے، جبکہ بعد میں مقامی مارکیٹ کو سنبھالنے کی مالی قیمت ریاست کو درآمدات کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ عملی طور پر منافع نجی ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جبکہ نقصان عوام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق مالی سال 26 کے جولائی تا اپریل کے دوران پاکستان نے تین لاکھ نو ہزار ٹن سے زائد چینی درآمد کی، جبکہ ایک سال قبل درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ برآمدات اور رسد میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی قلت کے باعث چینی کی درآمدی لاگت تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اس پورے معاملے کو مزید غیر منطقی بنانے والی بات یہ ہے کہ چینی کوئی ناگزیر تزویراتی درآمد نہیں۔ پاکستان خطے کے بڑے گنا پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مسئلہ پیداوار کی صلاحیت کا نہیں بلکہ شفاف ذخیرہ نگرانی، قابلِ اعتماد فصل تخمینوں، نظم و ضبط پر مبنی برآمدی پالیسی اور حکومتی فیصلوں کو شعبہ جاتی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے فقدان کا ہے۔</p>
<p>چینی پاکستان کی زرعی معیشت کے ایک اور گہرے تضاد کی بھی علامت ہے۔</p>
<p>خوراک کے درآمدی بل میں دوسرا بڑا حصہ خوردنی تیل کا ہے۔</p>
<p>پاکستان ہر سال پام آئل اور سویا بین آئل کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے کیونکہ ملک میں تیل دار اجناس کی مقامی کاشت اب بھی انتہائی پسماندہ ہے۔ جائزہ مدت کے دوران صرف پام آئل کی درآمدات 3.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو اسے پاکستان کی سب سے بڑی غذائی درآمدی مد بنا دیتی ہیں۔</p>
<p>زرعی اصلاحات اور درآمدی متبادل کی دہائیوں پر محیط بحث کے باوجود پاکستان آج تک تیل دار فصلوں کی ترقی کے لیے کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی تشکیل نہیں دے سکا۔ سورج مکھی، کینولا اور سویا بین جیسی فصلوں کو کبھی بھی وہ پالیسی ترجیح نہیں ملی جو سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبوں کو حاصل رہی۔</p>
<p>نتیجتاً، ملک اب بھی عالمی خوردنی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی کے اثرات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>چینی اور خوردنی تیل کے علاوہ بھی متعدد غذائی درآمدات پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔</p>
<p>دالیں بدستور بڑی درآمدی غذائی اشیا میں شامل ہیں کیونکہ مقامی پیداوار مسلسل ملکی طلب سے کم رہتی ہے۔ اسی طرح چائے کی درآمدات بھی کثیر زرِ مبادلہ ہڑپ کر رہی ہیں، حالانکہ غیر ضروری درآمدات میں کمی کے حکومتی دعوے بارہا دہرائے جاتے رہے ہیں۔</p>
<p>سویا بین مصنوعات، خشک میوہ جات، دودھ سے بنی اشیا، اور بعض اوقات گندم کی درآمدات بھی، مقامی فصلوں کی کارکردگی اور موسمی قلت کے مطابق، اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتی رہتی ہیں۔</p>
<p>مجموعی منظرنامہ نہایت تشویشناک ہے۔</p>
<p>وسیع زرعی رقبے، دنیا کے بڑے نہری نظاموں میں سے ایک، اور زراعت سے وابستہ بھاری افرادی قوت رکھنے والا ملک بتدریج خوراک کے معاملے میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب غذائی برآمدات کی کارکردگی بھی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔</p>
<p>چاول، جو روایتی طور پر زرِ مبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، اب واضح دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اپریل میں باسمتی چاول کی برآمدات مقدار اور مالیت دونوں لحاظ سے نمایاں اضافے کے ساتھ بہتر رہیں، تاہم غیر باسمتی چاول کی برآمدات میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>یہ کمی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ غیر باسمتی چاول برآمدی حجم اور عالمی منڈی میں رسائی کے اعتبار سے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ گراوٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو علاقائی مسابقت، قیمتوں کے عدم توازن، غیر مستقل معیار، بڑھتی پیداواری لاگت، پانی کی قلت اور عالمی منڈی میں کم ہوتی مسابقت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>اگر غذائی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور زرعی برآمدات جمود یا تنزلی کا شکار رہیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو بیرونی مالیاتی دباؤ کا مزید سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>اس کے مالیاتی اثرات بھی کم سنگین نہیں۔ بڑھتی درآمدات جاری کھاتوں کے خسارے پر دباؤ بڑھاتی ہیں، جو بالآخر مزید قرض گیری پر مجبور کرتا ہے۔</p>
<p>یوں غذائی عدم تحفظ بتدریج مالیاتی عدم تحفظ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان کو وقتی کریک ڈاؤنز یا ردِعمل پر مبنی درآمدی فیصلوں سے بڑھ کر جامع زرعی اصلاحات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>چینی اور گندم جیسی بنیادی اجناس کی برآمدی اجازت کو صنعتکاروں کے دعووں کے بجائے آزادانہ اور قابلِ تصدیق ذخیرہ آڈٹس سے مشروط کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اسی طرح زرعی مراعات کا رخ ان تزویراتی فصلوں کی جانب موڑا جانا ضروری ہے جو درآمدی انحصار کم کر سکیں، خصوصاً تیل دار اجناس اور دالیں۔</p>
<p>پاکستان کو فوری طور پر ذخیرہ گاہوں کے بنیادی ڈھانچے، جدید بیج ٹیکنالوجی، زرعی مشینی نظام، پانی کے مؤثر استعمال، فصلوں کی پیش گوئی کے نظام اور سپلائی چین مینجمنٹ میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔</p>
<p>سب سے بڑھ کر یہ کہ زرعی پالیسی سازی کو مفاداتی گروہوں کے اثر و رسوخ سے محفوظ بنانا ہوگا۔</p>
<p>کوئی بھی معیشت اس وقت تک پائیدار مالیاتی استحکام حاصل نہیں کر سکتی جب تک قومی وسائل کی قیمت پر اجناس کے چکر کو قیاس آرائی پر مبنی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہے۔</p>
<p>پاکستان کا بڑھتا ہوا غذائی درآمدی بل محض تجارتی عدم توازن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے کہ حکمرانی، منصوبہ بندی اور معاشی نظم و نسق کی کمزوریاں اب براہِ راست ملک کی مالیاتی سکت اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔</p>
<p>ملک کسی عارضی مارکیٹ بگاڑ کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ معاشی ساکھ کے ایک گہرے بحران سے دوچار ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 23 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505801</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 14:57:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/251455385439a1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/251455385439a1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب بانڈ مارکیٹیں اعتبار کھو بیٹھتی ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505685/united-states-iran-israel-war-inflation-donald-trump-kevin-warsh-iran-us-israel-war-bond-markets-kevin-warsh-global-bond-markets</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بانڈ مارکیٹیں اب ایک ایسا دھماکہ خیز سوال اٹھا رہی ہیں جسے شیئر بازار کے سرمایہ کار فی الحال نظرانداز کرنا ہی بہتر سمجھ رہے ہیں، تب کیا ہوگا جب مہنگائی کا جن، ابلتا ہوا مالیاتی دباؤ اور گہری سیاسی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے ہولناک وقت پر یکجا ہو جائیں جب دنیا کے مرکزی بینک مارکیٹوں کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے نہ تو آمادہ نظر آئیں اور نہ ہی ان میں اتنی سکت باقی رہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی 30 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع 5.1 فیصد سے اوپر چلا گیا ہے، جو 2007 کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری طرف 10 سالہ بانڈز کا منافع بھی 4.7 فیصد کے آس پاس موجود ’خطرناک زون‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی بڑی بانڈ مارکیٹوں میں قرض لینے کی لاگت (سود) ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب حکومتیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑی مقدار میں قرضے (بانڈز) جاری کر رہی ہیں اور سرمایہ کار مہنگائی اور مالیاتی خطرات کے بدلے زیادہ معاوضے (منافع) کا مطالبہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کی فوری وجہ بالکل واضح ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں کو اونچی سطح پر برقرار رکھا ہے، جس سے مہنگائی کی تشویش دوبارہ زندہ ہو گئی ہے اور مارکیٹیں عالمی شرحِ سود کے مستقبل پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں لیکن کیا کہانی صرف اتنی ہی ہے یا ٹرمپ کی اس جنگ نے ایک ایسے مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے جو پہلے ہی بجٹ خساروں، قرضوں کی ادائیگی کی لاگت اور مرکزی بینکوں کی روایتی لائف لائن کے بتدریج ختم ہونے کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً دو دہائیوں سے بانڈ سرمایہ کاروں نے ایک پختہ مفروضے کے تحت کام کیا، اگر مارکیٹ بری طرح ڈوبنے لگی تو مرکزی بینک بچانے کے لیے میدان میں آ جائیں گے۔ مالیاتی بحران کے بعد اور پھر کووڈ کے دوران ’کوانٹیٹیٹو ایزنگ‘ (یعنی مرکزی بینکوں کی طرف سے مارکیٹ سے بانڈز خرید کر پیسہ ڈالنا) نے سرمایہ کاروں کو اس یقین کا خوگر بنا دیا تھا کہ طویل المیعاد سرکاری قرضوں کے ساتھ ایک غیبی پیراشوٹ (حفاظتی چھتری) ہمیشہ موجود رہے گا لیکن کیا ہوگا اگر وہ پیراشوٹ اب غائب ہو جائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اس نازک وقت میں کیون وارش کی فیڈرل ریزرو میں آمد بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وہ طویل عرصے سے مرکزی بینک کی طرف سے بانڈز خریدنے کی پالیسی کے نقاد رہے ہیں اور فیڈرل ریزرو کی بیلنس شیٹ کو سیکیڑنے (کم کرنے) کے حق میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عملی حدود ان کی رفتار کو دھیما کر دیں یا خود مارکیٹیں انہیں محتاط ہونے پر مجبور کر دیں لیکن اگر سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہو جائے کہ اگلا کوئی بحران آنے پر فیڈرل ریزرو طویل المیعاد بانڈز خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوگا تو کیا یہ بات فوری طور پر زیادہ رسک پریمیم (منافع کے مطالبے) کو جواز فراہم نہیں کرتی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ مقام ہے جہاں طویل المیعاد بانڈز کا یہ رخ خطرناک ہو جاتا ہے۔ جب 30 سالہ ٹریژری بانڈ کا منافع 5 فیصد سے اوپر جاتا ہے تو یہ صرف بانڈ مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے مالیاتی حالات کو سخت کر دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوم لون کی شرحوں، کارپوریٹ قرضوں کی لاگت اور شیئر بازار کی ویلیوشنز پر پڑتا ہے۔ اگر 10 سالہ بانڈز کا منافع 4.75 فیصد اور 30 سالہ بانڈز کا منافع 5.5 فیصد کی طرف بڑھتا رہا تو شیئر بازار کے سرمایہ کار کب تک یہ فرض کر سکیں گے کہ بانڈز کی اس مندی کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال کمپنیوں کے اچھے منافع اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی لہر کی بدولت اسٹاک مارکیٹ نے مضبوطی دکھائی ہے لیکن کیا دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین سمجھے جانے والے امریکی بانڈز کی شرحِ سود مسلسل بڑھتی رہی تو تیز رفتار ترقی کرنے والے شیئرز پرسکون رہ پائیں گے؟ اگر سرمایہ کار مہنگائی، مالیاتی خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے بدلے زیادہ منافع مانگنے لگیں تو کیا کارپوریٹ ادارے اتنی ہی آسانی سے اپنے پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ (نئے قرض میں تبدیلی) کر سکیں گے؟ اور کیا حکومتیں یہ دکھاوا جاری رکھ سکیں گی کہ قرضوں پر بڑھتا ہوا سود محض بجٹ کی ایک تکنیکی سی شق ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا جواب سیاسی بحثوں میں آنے سے پہلے خود بانڈ مارکیٹ میں واضح ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینک کے سربراہان کی تقریروں پر ردعمل نہیں دے رہے۔ وہ اب یہ جانچ رہے ہیں کہ بڑھتے ہوئے بجٹ خساروں، بھاری دفاعی اخراجات، بوڑھی ہوتی آبادی اور توانائی کے نئے بحرانوں کی دنیا میں کیا حکومتیں اب بھی سستے قرضوں کی حقدار ہیں یا نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اس سلسلے میں سب سے واضح مثال اور وارننگ پیش کرتا ہے۔ وہاں طویل المیعاد سرکاری بانڈز (گلٹز) پر منافع حال ہی میں ان سطحوں کو چھو گیا ہے جو 1998 کے بعد نہیں دیکھی گئیں، کیونکہ وہاں سیاسی غیر یقینی صورتحال مالیاتی تشویش سے ٹکرا رہی ہے۔ لز ٹراس کے دور کا واقعہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کس طرح تیزی سے اس حکومت کو لگام ڈال دیتی ہے جو ان کے صبر کا غلط اندازہ لگاتی ہے۔ اب سرمایہ کار ایک بار پھر سیاسی جانشینی، اخراجات کے وعدوں اور نئے بانڈز کے اجرا کا وزن کر رہے ہیں۔ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا اب بانڈ مارکیٹ کی منظوری خاموشی سے اتنی ہی اہم ہوتی جا رہی ہے جتنا کہ خود عوامی ووٹ؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کو اسی مسئلے کا اپنا ایک الگ رخ درپیش ہے۔ بھاری قرضے، کمزور ین، توانائی کی درآمد کا دباؤ اور مالیاتی پھیلاؤ پر اٹھنے والے سوالات نے وہاں کی بانڈ مارکیٹ کو ہر پالیسی سگنل پر انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ فرانس بھی سیاسی عدم استحکام اور خسارے کے خدشات کے باعث دباؤ میں ہے۔ امریکہ میں ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی کی حیثیت واشنگٹن کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ گنجائش (رعایت) دیتی ہے لیکن یہ استحقاق بھی بڑھتے ہوئے سودی اخراجات کو غائب نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بانڈز خریدنے والوں کی بنیاد بھی بدل چکی ہے۔ یہ پرانے مفروضے اب اتنے قابلِ بھروسا نہیں رہے کہ غیر ملکی مرکزی بینکوں کے ریزرو مینیجرز امریکی ٹریژری بانڈز کی سپلائی کو جذب کرتے رہیں گے۔ اب مارکیٹ میں آخری لمحات میں خریدنے والے خریدار زیادہ تر وہ ہیج فنڈز، لیوریجڈ سرمایہ کار اور فنانشل سینٹرز کے ذریعے آنے والا سرمایہ ہیں جو قیمتوں کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ اگر سود کی بلند شرحیں اب خود بخود مستحکم مانگ پیدا نہیں کر پا رہیں تو پھر اس گراوٹ کی آخری حد (فلور ) کہاں ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ مالیاتی خطرہ اب اپنی جگہ بدل چکا ہے۔ 2008 کے بعد کی سخت ریگولیشنز نے بینکوں کو تو محفوظ بنا دیا، لیکن خطرہ مول لینے کا رجحان ختم نہیں ہوا۔ یہ بینکوں سے نکل کر پرائیویٹ کریڈٹ، ہیج فنڈز اور سرکاری بانڈز کے گرد گھومنے والے لیوریجڈ اسٹرکچر میں منتقل ہو گیا۔ بانڈز کے منافع میں اچانک ہونے والا تیز اضافہ اب مارکیٹوں میں ایسے طریقوں سے سرایت کر سکتا ہے جن کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔ کیا ہوگا اگر بانڈ مارکیٹ کی اگلی مندی بیک وقت شیئر بازار، کریڈٹ مارکیٹ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے فنڈنگ کے حالات کو ایک ساتھ نشانہ بنا دے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ وال اسٹریٹ کی کوئی فرضی یا نظریاتی بحث نہیں ہے۔ امریکہ میں بانڈز پر منافع بڑھنے سے عالمی سطح پر نقد بہاؤ سکڑ جاتی ہے، ڈالر کو مضبوطی ملتی اور بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ تیل کے بحران امپورٹ بل کو تباہ کر دیتے ہیں اور کرنسی پر آنے والا دباؤ ملک کے اندر مہنگائی کو ہوا دیتا ہے۔ جو ممالک پہلے ہی نازک بیرونی اکاؤنٹس کو سنبھال رہے ہوں، انہیں بہت جلد اندازہ ہو جاتا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کے شکاریوں کو مقامی سطح پر تباہی مچانے کے لیے کسی مقامی پتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتوں نے سالہا سال یہ سوچنے میں گزار دیے کہ کم شرحِ سود نے معیشت کے اصول ہی بدل دیے ہیں۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ قرضے جتنے چاہیں بڑھ سکتے ہیں، مالیاتی ذخائر جتنے چاہیں سکڑ سکتے ہیں اور مرکزی بینک باقی سب کچھ سنبھال لیں گے۔ اب بانڈ مارکیٹیں یہ سوال پوچھ رہی ہیں کہ کیا یہ پورا نظام ایک ایسی دنیا پر منحصر تھا جو اب وجود ہی نہیں رکھتی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی خوف ہو۔ ہو سکتا ہے مہنگائی ٹھنڈی ہو جائے، تیل کی قیمتیں مستحکم ہو جائیں اور کیون وارش اپنے ماضی کے ریکارڈ کے برعکس زیادہ حقیقت پسند ثابت ہوں لیکن اگر حفاظتی نیٹ ورک اب پتلا ہو چکا ہے، بجٹ خسارے بڑے ہیں اور بحران بار بار آ رہے ہیں تو کیا مارکیٹوں کی قیمتیں اب بھی پرانے دور کے حساب سے ہونی چاہئیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ ناگوار اور تلخ سوال ہے جسے طویل المیعاد بانڈز اب سامنے لانے پر مجبور کر رہے ہیں اور جب بانڈ مارکیٹیں ایسے سوالات اٹھانا شروع کر دیں جن کے جوابات حکومتیں دینا نہیں چاہتیں تو پھر یہ گفتگو زیادہ دیر تک صرف بانڈ مارکیٹوں تک محدود نہیں رہا کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 21 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بانڈ مارکیٹیں اب ایک ایسا دھماکہ خیز سوال اٹھا رہی ہیں جسے شیئر بازار کے سرمایہ کار فی الحال نظرانداز کرنا ہی بہتر سمجھ رہے ہیں، تب کیا ہوگا جب مہنگائی کا جن، ابلتا ہوا مالیاتی دباؤ اور گہری سیاسی غیر یقینی صورتحال ایک ایسے ہولناک وقت پر یکجا ہو جائیں جب دنیا کے مرکزی بینک مارکیٹوں کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے نہ تو آمادہ نظر آئیں اور نہ ہی ان میں اتنی سکت باقی رہے؟</strong></p>
<p>امریکی 30 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع 5.1 فیصد سے اوپر چلا گیا ہے، جو 2007 کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری طرف 10 سالہ بانڈز کا منافع بھی 4.7 فیصد کے آس پاس موجود ’خطرناک زون‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا کی بڑی بانڈ مارکیٹوں میں قرض لینے کی لاگت (سود) ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب حکومتیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑی مقدار میں قرضے (بانڈز) جاری کر رہی ہیں اور سرمایہ کار مہنگائی اور مالیاتی خطرات کے بدلے زیادہ معاوضے (منافع) کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کی فوری وجہ بالکل واضح ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں کو اونچی سطح پر برقرار رکھا ہے، جس سے مہنگائی کی تشویش دوبارہ زندہ ہو گئی ہے اور مارکیٹیں عالمی شرحِ سود کے مستقبل پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں لیکن کیا کہانی صرف اتنی ہی ہے یا ٹرمپ کی اس جنگ نے ایک ایسے مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے جو پہلے ہی بجٹ خساروں، قرضوں کی ادائیگی کی لاگت اور مرکزی بینکوں کی روایتی لائف لائن کے بتدریج ختم ہونے کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار تھا؟</p>
<p>تقریباً دو دہائیوں سے بانڈ سرمایہ کاروں نے ایک پختہ مفروضے کے تحت کام کیا، اگر مارکیٹ بری طرح ڈوبنے لگی تو مرکزی بینک بچانے کے لیے میدان میں آ جائیں گے۔ مالیاتی بحران کے بعد اور پھر کووڈ کے دوران ’کوانٹیٹیٹو ایزنگ‘ (یعنی مرکزی بینکوں کی طرف سے مارکیٹ سے بانڈز خرید کر پیسہ ڈالنا) نے سرمایہ کاروں کو اس یقین کا خوگر بنا دیا تھا کہ طویل المیعاد سرکاری قرضوں کے ساتھ ایک غیبی پیراشوٹ (حفاظتی چھتری) ہمیشہ موجود رہے گا لیکن کیا ہوگا اگر وہ پیراشوٹ اب غائب ہو جائے؟</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اس نازک وقت میں کیون وارش کی فیڈرل ریزرو میں آمد بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وہ طویل عرصے سے مرکزی بینک کی طرف سے بانڈز خریدنے کی پالیسی کے نقاد رہے ہیں اور فیڈرل ریزرو کی بیلنس شیٹ کو سیکیڑنے (کم کرنے) کے حق میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عملی حدود ان کی رفتار کو دھیما کر دیں یا خود مارکیٹیں انہیں محتاط ہونے پر مجبور کر دیں لیکن اگر سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہو جائے کہ اگلا کوئی بحران آنے پر فیڈرل ریزرو طویل المیعاد بانڈز خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوگا تو کیا یہ بات فوری طور پر زیادہ رسک پریمیم (منافع کے مطالبے) کو جواز فراہم نہیں کرتی؟</p>
<p>یہی وہ مقام ہے جہاں طویل المیعاد بانڈز کا یہ رخ خطرناک ہو جاتا ہے۔ جب 30 سالہ ٹریژری بانڈ کا منافع 5 فیصد سے اوپر جاتا ہے تو یہ صرف بانڈ مارکیٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے مالیاتی حالات کو سخت کر دیتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوم لون کی شرحوں، کارپوریٹ قرضوں کی لاگت اور شیئر بازار کی ویلیوشنز پر پڑتا ہے۔ اگر 10 سالہ بانڈز کا منافع 4.75 فیصد اور 30 سالہ بانڈز کا منافع 5.5 فیصد کی طرف بڑھتا رہا تو شیئر بازار کے سرمایہ کار کب تک یہ فرض کر سکیں گے کہ بانڈز کی اس مندی کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے؟</p>
<p>فی الحال کمپنیوں کے اچھے منافع اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی لہر کی بدولت اسٹاک مارکیٹ نے مضبوطی دکھائی ہے لیکن کیا دنیا میں سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین سمجھے جانے والے امریکی بانڈز کی شرحِ سود مسلسل بڑھتی رہی تو تیز رفتار ترقی کرنے والے شیئرز پرسکون رہ پائیں گے؟ اگر سرمایہ کار مہنگائی، مالیاتی خطرات اور غیر یقینی صورتحال کے بدلے زیادہ منافع مانگنے لگیں تو کیا کارپوریٹ ادارے اتنی ہی آسانی سے اپنے پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ (نئے قرض میں تبدیلی) کر سکیں گے؟ اور کیا حکومتیں یہ دکھاوا جاری رکھ سکیں گی کہ قرضوں پر بڑھتا ہوا سود محض بجٹ کی ایک تکنیکی سی شق ہے؟</p>
<p>اس کا جواب سیاسی بحثوں میں آنے سے پہلے خود بانڈ مارکیٹ میں واضح ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینک کے سربراہان کی تقریروں پر ردعمل نہیں دے رہے۔ وہ اب یہ جانچ رہے ہیں کہ بڑھتے ہوئے بجٹ خساروں، بھاری دفاعی اخراجات، بوڑھی ہوتی آبادی اور توانائی کے نئے بحرانوں کی دنیا میں کیا حکومتیں اب بھی سستے قرضوں کی حقدار ہیں یا نہیں؟</p>
<p>برطانیہ اس سلسلے میں سب سے واضح مثال اور وارننگ پیش کرتا ہے۔ وہاں طویل المیعاد سرکاری بانڈز (گلٹز) پر منافع حال ہی میں ان سطحوں کو چھو گیا ہے جو 1998 کے بعد نہیں دیکھی گئیں، کیونکہ وہاں سیاسی غیر یقینی صورتحال مالیاتی تشویش سے ٹکرا رہی ہے۔ لز ٹراس کے دور کا واقعہ پہلے ہی دکھا چکا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کس طرح تیزی سے اس حکومت کو لگام ڈال دیتی ہے جو ان کے صبر کا غلط اندازہ لگاتی ہے۔ اب سرمایہ کار ایک بار پھر سیاسی جانشینی، اخراجات کے وعدوں اور نئے بانڈز کے اجرا کا وزن کر رہے ہیں۔ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا اب بانڈ مارکیٹ کی منظوری خاموشی سے اتنی ہی اہم ہوتی جا رہی ہے جتنا کہ خود عوامی ووٹ؟</p>
<p>جاپان کو اسی مسئلے کا اپنا ایک الگ رخ درپیش ہے۔ بھاری قرضے، کمزور ین، توانائی کی درآمد کا دباؤ اور مالیاتی پھیلاؤ پر اٹھنے والے سوالات نے وہاں کی بانڈ مارکیٹ کو ہر پالیسی سگنل پر انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ فرانس بھی سیاسی عدم استحکام اور خسارے کے خدشات کے باعث دباؤ میں ہے۔ امریکہ میں ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی کی حیثیت واشنگٹن کو دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ گنجائش (رعایت) دیتی ہے لیکن یہ استحقاق بھی بڑھتے ہوئے سودی اخراجات کو غائب نہیں کر سکتا۔</p>
<p>اب بانڈز خریدنے والوں کی بنیاد بھی بدل چکی ہے۔ یہ پرانے مفروضے اب اتنے قابلِ بھروسا نہیں رہے کہ غیر ملکی مرکزی بینکوں کے ریزرو مینیجرز امریکی ٹریژری بانڈز کی سپلائی کو جذب کرتے رہیں گے۔ اب مارکیٹ میں آخری لمحات میں خریدنے والے خریدار زیادہ تر وہ ہیج فنڈز، لیوریجڈ سرمایہ کار اور فنانشل سینٹرز کے ذریعے آنے والا سرمایہ ہیں جو قیمتوں کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ اگر سود کی بلند شرحیں اب خود بخود مستحکم مانگ پیدا نہیں کر پا رہیں تو پھر اس گراوٹ کی آخری حد (فلور ) کہاں ہے؟</p>
<p>یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ مالیاتی خطرہ اب اپنی جگہ بدل چکا ہے۔ 2008 کے بعد کی سخت ریگولیشنز نے بینکوں کو تو محفوظ بنا دیا، لیکن خطرہ مول لینے کا رجحان ختم نہیں ہوا۔ یہ بینکوں سے نکل کر پرائیویٹ کریڈٹ، ہیج فنڈز اور سرکاری بانڈز کے گرد گھومنے والے لیوریجڈ اسٹرکچر میں منتقل ہو گیا۔ بانڈز کے منافع میں اچانک ہونے والا تیز اضافہ اب مارکیٹوں میں ایسے طریقوں سے سرایت کر سکتا ہے جن کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔ کیا ہوگا اگر بانڈ مارکیٹ کی اگلی مندی بیک وقت شیئر بازار، کریڈٹ مارکیٹ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے فنڈنگ کے حالات کو ایک ساتھ نشانہ بنا دے؟</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ وال اسٹریٹ کی کوئی فرضی یا نظریاتی بحث نہیں ہے۔ امریکہ میں بانڈز پر منافع بڑھنے سے عالمی سطح پر نقد بہاؤ سکڑ جاتی ہے، ڈالر کو مضبوطی ملتی اور بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ تیل کے بحران امپورٹ بل کو تباہ کر دیتے ہیں اور کرنسی پر آنے والا دباؤ ملک کے اندر مہنگائی کو ہوا دیتا ہے۔ جو ممالک پہلے ہی نازک بیرونی اکاؤنٹس کو سنبھال رہے ہوں، انہیں بہت جلد اندازہ ہو جاتا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کے شکاریوں کو مقامی سطح پر تباہی مچانے کے لیے کسی مقامی پتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔</p>
<p>ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتوں نے سالہا سال یہ سوچنے میں گزار دیے کہ کم شرحِ سود نے معیشت کے اصول ہی بدل دیے ہیں۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ قرضے جتنے چاہیں بڑھ سکتے ہیں، مالیاتی ذخائر جتنے چاہیں سکڑ سکتے ہیں اور مرکزی بینک باقی سب کچھ سنبھال لیں گے۔ اب بانڈ مارکیٹیں یہ سوال پوچھ رہی ہیں کہ کیا یہ پورا نظام ایک ایسی دنیا پر منحصر تھا جو اب وجود ہی نہیں رکھتی؟</p>
<p>ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی خوف ہو۔ ہو سکتا ہے مہنگائی ٹھنڈی ہو جائے، تیل کی قیمتیں مستحکم ہو جائیں اور کیون وارش اپنے ماضی کے ریکارڈ کے برعکس زیادہ حقیقت پسند ثابت ہوں لیکن اگر حفاظتی نیٹ ورک اب پتلا ہو چکا ہے، بجٹ خسارے بڑے ہیں اور بحران بار بار آ رہے ہیں تو کیا مارکیٹوں کی قیمتیں اب بھی پرانے دور کے حساب سے ہونی چاہئیں؟</p>
<p>یہ وہ ناگوار اور تلخ سوال ہے جسے طویل المیعاد بانڈز اب سامنے لانے پر مجبور کر رہے ہیں اور جب بانڈ مارکیٹیں ایسے سوالات اٹھانا شروع کر دیں جن کے جوابات حکومتیں دینا نہیں چاہتیں تو پھر یہ گفتگو زیادہ دیر تک صرف بانڈ مارکیٹوں تک محدود نہیں رہا کرتی۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 21 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505685</guid>
      <pubDate>Fri, 22 May 2026 13:12:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/221308552dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/221308552dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اب کیوبا کی باری ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505562/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیوبا کے خلاف امریکی عداوت کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ دور میں اس اجتماعی سزا کی لہر نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ جب سے فیدل کاسترو نے 1959 میں امریکی تسلط کو للکارا، واشنگٹن اس سرکشی کو کچلنے کے لیے بضد ہے۔ آج، معاشی پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کیوبا کی تاریخی ناکہ بندی کو مزید جابرانہ بنا دیا گیا ہے، جس کا براہِ راست نشانہ وہاں کے عام شہری بن رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے برسرِاقتدار آتے ہی روس اور ایران سمیت وینزویلا میں مدورو کے خلاف امریکی شب خون کے بعد وہاں سے بھی کیوبا کو ہونے والی تیل کی درآمدات زبردستی بند کر دی گئیں۔ اس دانستہ معاشی گھیراؤ نے کیوبا میں توانائی کے بحران کو ایک ہولناک المیے میں بدل دیا ہے، جہاں اب بجلی، خوراک، پانی، ایندھن اور صحت جیسی بنیادی انسانی ضرورتیں سسک رہی ہیں۔ یہ بے رحمانہ ستم گری دراصل کیوبا کی قومی خودمختاری کو کچلنے اور اس کے سوشلسٹ ترقی کے خواب کو ملیا میٹ کرنے کے ایک وسیع تر اور منظم حملے کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ 2017 (اپنے پہلے دورِ صدارت) سے ہی اوباما انتظامیہ کے ساتھ طے پانے والے امریکہ کیوبا تعلقات میں محدود معمول پر لانے کے اقدامات کو جان بوجھ کر ختم کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں کیوبا کو ایک بار پھر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی معاشی جنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اس دباؤ نے پورے کیوبا میں مادی ضروریات کی سپلائی کو تباہ کر دیا ہے، دس لاکھ کیوبن شہریوں کے امریکہ فرار ہونے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور ملک کی پہلے سے کمزور آبادی پر شدید مشکلات مسلط کر دی ہیں۔ اس معاشی جنگ نے کیوبا میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ کیا ہے، صرف ایک اعداد و شمار کو لیں تو یہ شرح 2018 میں 4.0 اموات فی زندہ پیدائش سے بڑھ کر 2025 میں 9.9 ہو گئی ہے، جس کی بڑی وجہ طبی سامان کی قلت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوبا واشنگٹن کی دشمنی کا شکار صرف اس لیے بنتا ہے کیونکہ وہ اپنے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے اور مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے اپنے حق پر اصرار جاری رکھے ہوئے ہے، جو کہ ناانصافی سے پاک ایک سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کی خواہش پر مبنی ہے۔ دوسری طرف پورے لاطینی امریکہ، کیریبین اور وسیع تر دنیا پر اپنا غلبہ مسلط کرنے کا امریکہ کا خود ساختہ حق ایسے مصائب کا باعث بنتا ہے جو اس کے منصوبے کا مرکزی حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1959 سے اب تک واشنگٹن کے سر پر صرف ایک ہی خبط اور جنون سوار رہا ہے کہ کیوبا کے انقلاب کو جڑ سے اکھاڑنا اور ان نوآبادیاتی زنجیروں کو دوبارہ بحال کرنا جو کبھی امریکہ کیوبا تعلقات کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ آج واشنگٹن کو یہ خوف نہیں کہ کیوبا لاطینی امریکہ یا ترقی پذیر دنیا میں انقلابی لہروں کی پشت پناہی کرے گا بلکہ اب تو خود اس انقلاب کا زندہ وجود ہی ان کے لیے سب سے بڑا ڈراؤنا خواب ہے۔ امریکی بالادستی اور سرمایہ دارانہ پسماندگی کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی یہ متبادل مثال امریکی قیادت کو غیظ و غضب میں دانت پیسنے پر مجبور کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے کیوبا کو قبضے میں لینے کی حالیہ دھمکیوں (جو کہ ایک بڑھتی ہوئی فہرست کا حصہ ہے جس میں گرین لینڈ، کینیڈا اور دیگر شامل ہیں) کو الگ تھلگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک بنیادی حقیقت کو بے نقاب کرنے میں مدد کرتی ہیں، ایک امریکی حملہ کسی نئے تنازع کا آغاز نہیں ہوگا بلکہ کیوبا کے خلاف ایک طویل جنگ کے خونریز ترین مرحلے کی علامت ہوگا،سامراج کی نظر میں کیوبا کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی تسلط کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے اپنی آزادی اور قومی خودمختاری کا علم بلند کیا۔ اس نے اس پرانے نوآبادیاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جو نہ صرف امریکی کارپوریٹ اداروں کی تجوریاں بھرتا تھا، بلکہ کیوبا کے جوئے خانوں، بدکاری کے اڈوں اور بڑے پیمانے پر جسم فروشی کے دھندے کو کنٹرول کرنے والے مافیا کی پشت پناہی کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوبا کو اس کی سرکشی اور امریکی سلطنت کے احکامات کے سامنے عاجزی سے جھکنے سے انکار پر سخت سزا دی جا رہی ہے۔ واشنگٹن جس بات کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے وہ کیوبا کا یہ عقیدہ ہے کہ آزادی اور خودمختاری سے بڑھ کر کچھ بھی قیمتی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوبا کی آزادی طویل عرصے سے فلوریڈا سے محض 90 میل دور امریکہ سے اس کی قربت کی وجہ سے خطرے میں رہی ہے۔ 19ویں صدی کے آغاز سے ہی کیوبا امریکی سامراجی خواہشات کا مرکزی محور رہا ہے۔ واشنگٹن نے کیوبا کو اس وقت ایک خودمختار قوم کے طور پر نہیں دیکھا تھا جب وہ اپنی آزادی کے لیے ہسپانوی نوآبادیات کے خلاف لڑ رہا تھا۔ اس نے میڈرڈ کے ساتھ تنازع کو کیوبا کی جنگِ آزادی پر قبضہ کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا، تاکہ 1898 میں نوآبادیاتی آقا کی جگہ خود لے سکے۔ اس کے بعد کیوبا کو اخلاقی کرپشن اور بدکاری کے ایک ایسے جزیرے کی سطح تک گرا دیا گیا، جسے ہوانا میں کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے برقرار رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بپتسٹا کی قیادت میں قائم ایک ایسی ہی فوجی حکومت تھی جسے کاسترو اور ان کے سرشار، بہادر گوریلاؤں نے 1959 میں جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیدل کاسترو کے انتقال کے بعد واشنگٹن اب کیوبا میں بھی وینزویلا آپریشن کا اسکرپٹ دہرانے کے چکر میں ہے۔ اس نئی سازش کا آغاز راؤل کاسترو پر عائد اس وفاقی فردِ جرم سے کیا گیا ہے جس کے مطابق 1996 میں بطور وزیرِ دفاع انہوں نے فلوریڈا سے اڑنے والے ان دو طیاروں کو مار گرانے کا حکم دیا تھا جو کیوبا کے جلاوطنوں کی انقلاب مخالف مہم کے تحت ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن کیوبا کا انقلاب ایک ایسا سخت اخروٹ ثابت ہوگا جسے توڑنا ٹرمپ کے خوابوں سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ کیوبا کا ہر مرد، عورت اور بچہ راستے کی دیوار بن جائے گا اور مدورو کے اغوا جیسی کسی بھی دہرائی جانے والی کوشش کو ناکام بنا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوبا کے خلاف واشنگٹن کے جارحانہ عزائم کو جواز فراہم کرنے کے لیے فی الحال ایک اور جھوٹ یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ کیوبا امریکہ پر حملہ کرنے کے لیے ڈرون جمع کر رہا ہے! اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات کا تصور کرنا بھی مشکل ہوگا۔ کیوبا بھلا کیوں ایسی فوجی کارروائی کو دعوت دے گا، جس کا مقابلہ کرنا اگرچہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے لیکن پھر اسے اس سے بچنا پڑے گا؟ یہ انتہائی درجے کی مضحکہ خیزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیوبا کے خلاف امریکی عداوت کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ دور میں اس اجتماعی سزا کی لہر نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ جب سے فیدل کاسترو نے 1959 میں امریکی تسلط کو للکارا، واشنگٹن اس سرکشی کو کچلنے کے لیے بضد ہے۔ آج، معاشی پابندیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کیوبا کی تاریخی ناکہ بندی کو مزید جابرانہ بنا دیا گیا ہے، جس کا براہِ راست نشانہ وہاں کے عام شہری بن رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے برسرِاقتدار آتے ہی روس اور ایران سمیت وینزویلا میں مدورو کے خلاف امریکی شب خون کے بعد وہاں سے بھی کیوبا کو ہونے والی تیل کی درآمدات زبردستی بند کر دی گئیں۔ اس دانستہ معاشی گھیراؤ نے کیوبا میں توانائی کے بحران کو ایک ہولناک المیے میں بدل دیا ہے، جہاں اب بجلی، خوراک، پانی، ایندھن اور صحت جیسی بنیادی انسانی ضرورتیں سسک رہی ہیں۔ یہ بے رحمانہ ستم گری دراصل کیوبا کی قومی خودمختاری کو کچلنے اور اس کے سوشلسٹ ترقی کے خواب کو ملیا میٹ کرنے کے ایک وسیع تر اور منظم حملے کا حصہ ہے۔</p>
<p>ٹرمپ 2017 (اپنے پہلے دورِ صدارت) سے ہی اوباما انتظامیہ کے ساتھ طے پانے والے امریکہ کیوبا تعلقات میں محدود معمول پر لانے کے اقدامات کو جان بوجھ کر ختم کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں کیوبا کو ایک بار پھر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی معاشی جنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اس دباؤ نے پورے کیوبا میں مادی ضروریات کی سپلائی کو تباہ کر دیا ہے، دس لاکھ کیوبن شہریوں کے امریکہ فرار ہونے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور ملک کی پہلے سے کمزور آبادی پر شدید مشکلات مسلط کر دی ہیں۔ اس معاشی جنگ نے کیوبا میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ کیا ہے، صرف ایک اعداد و شمار کو لیں تو یہ شرح 2018 میں 4.0 اموات فی زندہ پیدائش سے بڑھ کر 2025 میں 9.9 ہو گئی ہے، جس کی بڑی وجہ طبی سامان کی قلت ہے۔</p>
<p>کیوبا واشنگٹن کی دشمنی کا شکار صرف اس لیے بنتا ہے کیونکہ وہ اپنے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے اور مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے اپنے حق پر اصرار جاری رکھے ہوئے ہے، جو کہ ناانصافی سے پاک ایک سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کی خواہش پر مبنی ہے۔ دوسری طرف پورے لاطینی امریکہ، کیریبین اور وسیع تر دنیا پر اپنا غلبہ مسلط کرنے کا امریکہ کا خود ساختہ حق ایسے مصائب کا باعث بنتا ہے جو اس کے منصوبے کا مرکزی حصہ ہیں۔</p>
<p>1959 سے اب تک واشنگٹن کے سر پر صرف ایک ہی خبط اور جنون سوار رہا ہے کہ کیوبا کے انقلاب کو جڑ سے اکھاڑنا اور ان نوآبادیاتی زنجیروں کو دوبارہ بحال کرنا جو کبھی امریکہ کیوبا تعلقات کی پہچان ہوا کرتی تھیں۔ آج واشنگٹن کو یہ خوف نہیں کہ کیوبا لاطینی امریکہ یا ترقی پذیر دنیا میں انقلابی لہروں کی پشت پناہی کرے گا بلکہ اب تو خود اس انقلاب کا زندہ وجود ہی ان کے لیے سب سے بڑا ڈراؤنا خواب ہے۔ امریکی بالادستی اور سرمایہ دارانہ پسماندگی کے سامنے سر اٹھا کر کھڑی یہ متبادل مثال امریکی قیادت کو غیظ و غضب میں دانت پیسنے پر مجبور کر دیتی ہے۔</p>
<p>اس لیے کیوبا کو قبضے میں لینے کی حالیہ دھمکیوں (جو کہ ایک بڑھتی ہوئی فہرست کا حصہ ہے جس میں گرین لینڈ، کینیڈا اور دیگر شامل ہیں) کو الگ تھلگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک بنیادی حقیقت کو بے نقاب کرنے میں مدد کرتی ہیں، ایک امریکی حملہ کسی نئے تنازع کا آغاز نہیں ہوگا بلکہ کیوبا کے خلاف ایک طویل جنگ کے خونریز ترین مرحلے کی علامت ہوگا،سامراج کی نظر میں کیوبا کا اصل جرم یہ ہے کہ اس نے امریکی تسلط کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے اپنی آزادی اور قومی خودمختاری کا علم بلند کیا۔ اس نے اس پرانے نوآبادیاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جو نہ صرف امریکی کارپوریٹ اداروں کی تجوریاں بھرتا تھا، بلکہ کیوبا کے جوئے خانوں، بدکاری کے اڈوں اور بڑے پیمانے پر جسم فروشی کے دھندے کو کنٹرول کرنے والے مافیا کی پشت پناہی کرتا تھا۔</p>
<p>کیوبا کو اس کی سرکشی اور امریکی سلطنت کے احکامات کے سامنے عاجزی سے جھکنے سے انکار پر سخت سزا دی جا رہی ہے۔ واشنگٹن جس بات کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے وہ کیوبا کا یہ عقیدہ ہے کہ آزادی اور خودمختاری سے بڑھ کر کچھ بھی قیمتی نہیں ہے۔</p>
<p>کیوبا کی آزادی طویل عرصے سے فلوریڈا سے محض 90 میل دور امریکہ سے اس کی قربت کی وجہ سے خطرے میں رہی ہے۔ 19ویں صدی کے آغاز سے ہی کیوبا امریکی سامراجی خواہشات کا مرکزی محور رہا ہے۔ واشنگٹن نے کیوبا کو اس وقت ایک خودمختار قوم کے طور پر نہیں دیکھا تھا جب وہ اپنی آزادی کے لیے ہسپانوی نوآبادیات کے خلاف لڑ رہا تھا۔ اس نے میڈرڈ کے ساتھ تنازع کو کیوبا کی جنگِ آزادی پر قبضہ کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا، تاکہ 1898 میں نوآبادیاتی آقا کی جگہ خود لے سکے۔ اس کے بعد کیوبا کو اخلاقی کرپشن اور بدکاری کے ایک ایسے جزیرے کی سطح تک گرا دیا گیا، جسے ہوانا میں کٹھ پتلی حکومتوں کے ذریعے برقرار رکھا گیا تھا۔</p>
<p>یہ بپتسٹا کی قیادت میں قائم ایک ایسی ہی فوجی حکومت تھی جسے کاسترو اور ان کے سرشار، بہادر گوریلاؤں نے 1959 میں جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔</p>
<p>فیدل کاسترو کے انتقال کے بعد واشنگٹن اب کیوبا میں بھی وینزویلا آپریشن کا اسکرپٹ دہرانے کے چکر میں ہے۔ اس نئی سازش کا آغاز راؤل کاسترو پر عائد اس وفاقی فردِ جرم سے کیا گیا ہے جس کے مطابق 1996 میں بطور وزیرِ دفاع انہوں نے فلوریڈا سے اڑنے والے ان دو طیاروں کو مار گرانے کا حکم دیا تھا جو کیوبا کے جلاوطنوں کی انقلاب مخالف مہم کے تحت ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔</p>
<p>لیکن کیوبا کا انقلاب ایک ایسا سخت اخروٹ ثابت ہوگا جسے توڑنا ٹرمپ کے خوابوں سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ کیوبا کا ہر مرد، عورت اور بچہ راستے کی دیوار بن جائے گا اور مدورو کے اغوا جیسی کسی بھی دہرائی جانے والی کوشش کو ناکام بنا دے گا۔</p>
<p>کیوبا کے خلاف واشنگٹن کے جارحانہ عزائم کو جواز فراہم کرنے کے لیے فی الحال ایک اور جھوٹ یہ پھیلایا جا رہا ہے کہ کیوبا امریکہ پر حملہ کرنے کے لیے ڈرون جمع کر رہا ہے! اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات کا تصور کرنا بھی مشکل ہوگا۔ کیوبا بھلا کیوں ایسی فوجی کارروائی کو دعوت دے گا، جس کا مقابلہ کرنا اگرچہ مشکل ثابت ہو سکتا ہے لیکن پھر اسے اس سے بچنا پڑے گا؟ یہ انتہائی درجے کی مضحکہ خیزی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 19 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505562</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 16:11:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/19161052c3150bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/19161052c3150bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی میکرو اکنامک پیش گوئیاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505561/imf-iran-israel-war-imf-and-pakistan-inflation-gdp-middle-east-war-cpi-eff-gcc-macroeconomics-gdp-growth-rate</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کا تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 1.2 ارب امریکی ڈالر کی قسط بھی موصول ہو چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کی آئی ایم ایف اسٹاف رپورٹ بھی حال ہی میں جاری کی گئی ہے۔ اس میں 2025-26 سے لے کر 2030-31 تک کے میکرو اکنامک تخمینے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں حکومت کے ساتھ توسیعی فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) سے متعلق پالیسی مباحث، پروگرام کی تفصیلات اور اسٹاف کا جائزہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں تین خصوصی باکس شامل ہیں۔ پہلا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے بارے میں ہے۔ دوسرا مزید ریونیو اکٹھا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے اور تیسرا پاکستان میں توانائی کی قیمتوں سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خصوصی باکسز کے مواد پر توجہ دی جائے اور 2026-27 میں میکرو اکنامک ترقیات پر ان کے مضمرات اخذ کیے جائیں۔ اس کے بعد آئی ایم ایف کے 2025-26 اور 2026-27 کے تخمینے اس مضمون اور اگلے مضمون میں پیش کیے گئے ہیں۔ ان تخمینوں کی درستگی کا ایک جائزہ بھی لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی زیادہ متاثر ہے، سب سے پہلے توانائی کی درآمدات کی بلند لاگت کی صورت میں، اور دوسرا اگر ایندھن کی درآمدات کی دستیابی میں مسلسل رکاوٹیں رہیں تو اس کا معاشی سرگرمیوں پر نمایاں اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اثر غالباً کھاد کی درآمدات میں رکاوٹوں کی صورت میں ہوگا، خاص طور پر ڈی اے پی کی۔ اگلا اثر ترسیلات زر میں کمی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ ان میں سے 55 فیصد جی سی سی معیشتوں سے آتی ہیں اور ان میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے نمایاں کمی کا امکان ہے، جو ادائیگیوں کے توازن پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ تیسرا ممکنہ اثر جی سی سی بینکوں کی طرف سے قلیل مدتی کمرشل فنانسنگ میں کمی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریونیو بڑھانے کی ممکنہ صلاحیت سے متعلق دوسرے باکس میں ٹیکس بیس کی چند شعبوں میں حد سے زیادہ مرکزیت کو نمایاں کیا گیا ہے اور زرعی آمدنی، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات تک ٹیکس بیس کو بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ سیلز ٹیکس میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے، تعمیل بہتر بنانے اور صوبائی آمدنیوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی گنجائش بھی بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں توانائی کی قیمتوں سے متعلق تیسرے باکس میں ایندھن کی قیمتوں، بجلی کی قیمتوں اور گیس کی قیمتوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ملک میں توانائی کی قیمتوں کی پالیسیوں کا ایک تجزیہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تینوں باکسز بیرونی واقعات جیسے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور ٹیکسیشن اور توانائی قیمتوں کی پالیسیوں کے اثرات کو واضح کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اثرات 2025-26 اور 2026-27 کے میکرو اکنامک تخمینوں میں مناسب طور پر شامل کیے گئے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی پہلی اہم پیش گوئی 2025-26 اور 2026-27 میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ سے متعلق ہے۔ توقع ہے کہ یہ 2025-26 میں 3.6 فیصد رہے گا۔ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے حال ہی میں 2025-26 کے لیے جی ڈی پی گروتھ ریٹ کا تخمینہ 3.7 فیصد منظور کیا ہے۔ یہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں گروتھ ریٹ میں صرف معمولی کمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ آئی ایم ایف کی اس پیش گوئی کے ساتھ ہے جس میں 2026-27 کے لیے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 3.5 فیصد رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معیشت کی رفتار پر صرف معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اندازہ آنے والے خریف سیزن میں کھاد کے استعمال میں بڑے شارٹ فال اور ایندھن کی کمی کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسلسل جاری رہنے کو ظاہر نہیں کرتا۔ یقیناً اس اثر کا حجم جنگ کی مدت اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے وقت پر منحصر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تخمینہ یہ ہے کہ 2026-27 میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ کم ہو کر 2.5 فیصد تک آ جائے گا، جبکہ 2025-26 میں متوقع نتیجہ 3.6 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اگلے سال حقیقی فی کس آمدنی میں کوئی اضافہ ہوگا، اور بے روزگاری کی شرح جو 2024-25 میں تقریباً 7 فیصد کے قریب ہے، وہ 2026-27 میں بڑھ کر 9 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم تخمینہ افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق 2025-26 میں اوسط مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد اور 2026-27 میں 8.4 فیصد رہے گی۔ جبکہ اختتامی مدت مہنگائی کی شرح 2025-26 میں 11.5 فیصد اور 2026-27 میں 7 فیصد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں جنگ کے آغاز کے بعد نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے باعث۔ فروری 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 7.0 فیصد تھی جو اپریل 2026 تک بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ 2025-26 کے پہلے دس ماہ میں اوسط مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق 2026-27 کے آخری دو مہینوں میں مہنگائی کی شرح 12.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ اپریل 2026 تک کے رجحان سے مطابقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ 2026-27 کی مہنگائی کی شرح کی پیش گوئی میں ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مہنگائی اگلے سال اوسطاً 8.4 فیصد رہے گی۔ لیکن امکان ہے کہ 2025-26 کے آخر میں یہ تقریباً 12 فیصد کے قریب ہوگی۔ اگلے سال 8.4 فیصد کی اوسط تک کمی کے لیے ضروری ہوگا کہ 2026-27 کے دوران مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر تیزی سے کم ہو۔ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تخمینہ یہ ہے کہ 2026-27 میں مہنگائی کی اوسط شرح 12 فیصد کے قریب رہے گی۔ یہ بات آئی ایم ایف کی اس پیش گوئی سے بھی تقویت پاتی ہے جس میں 2026-27 کے دوران روپے کی قدر میں 15 فیصد سے زائد کمی (ڈیپریسی ایشن) کا اندازہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے آئی ایم ایف کی دو اہم میکرو اکنامک متغیرات یعنی جی ڈی پی گروتھ ریٹ اور مہنگائی کی شرح کے تخمینے بظاہر حد سے زیادہ پرامید نظر آتے ہیں، جیسا کہ ذیل میں ٹیبل ون میں واضح کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191548019fcac89.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191548019fcac89.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی دیگر پیش گوئیوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جو 2025-26 اور 2026-27 کے لیے پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور سرکاری مالیات سے متعلق ہیں۔ اس کا جائزہ آئندہ ہفتے کے مضمون میں لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 19 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کا تیسرا جائزہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 1.2 ارب امریکی ڈالر کی قسط بھی موصول ہو چکی ہے۔</strong></p>
<p>اس جائزے کی آئی ایم ایف اسٹاف رپورٹ بھی حال ہی میں جاری کی گئی ہے۔ اس میں 2025-26 سے لے کر 2030-31 تک کے میکرو اکنامک تخمینے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں حکومت کے ساتھ توسیعی فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) سے متعلق پالیسی مباحث، پروگرام کی تفصیلات اور اسٹاف کا جائزہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں تین خصوصی باکس شامل ہیں۔ پہلا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے بارے میں ہے۔ دوسرا مزید ریونیو اکٹھا کرنے کی صلاحیت کے بارے میں ہے اور تیسرا پاکستان میں توانائی کی قیمتوں سے متعلق ہے۔</p>
<p>ضرورت اس بات کی ہے کہ ان خصوصی باکسز کے مواد پر توجہ دی جائے اور 2026-27 میں میکرو اکنامک ترقیات پر ان کے مضمرات اخذ کیے جائیں۔ اس کے بعد آئی ایم ایف کے 2025-26 اور 2026-27 کے تخمینے اس مضمون اور اگلے مضمون میں پیش کیے گئے ہیں۔ ان تخمینوں کی درستگی کا ایک جائزہ بھی لیا گیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی زیادہ متاثر ہے، سب سے پہلے توانائی کی درآمدات کی بلند لاگت کی صورت میں، اور دوسرا اگر ایندھن کی درآمدات کی دستیابی میں مسلسل رکاوٹیں رہیں تو اس کا معاشی سرگرمیوں پر نمایاں اثر پڑے گا۔</p>
<p>دوسرا اثر غالباً کھاد کی درآمدات میں رکاوٹوں کی صورت میں ہوگا، خاص طور پر ڈی اے پی کی۔ اگلا اثر ترسیلات زر میں کمی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ ان میں سے 55 فیصد جی سی سی معیشتوں سے آتی ہیں اور ان میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے نمایاں کمی کا امکان ہے، جو ادائیگیوں کے توازن پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ تیسرا ممکنہ اثر جی سی سی بینکوں کی طرف سے قلیل مدتی کمرشل فنانسنگ میں کمی کی صورت میں ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ریونیو بڑھانے کی ممکنہ صلاحیت سے متعلق دوسرے باکس میں ٹیکس بیس کی چند شعبوں میں حد سے زیادہ مرکزیت کو نمایاں کیا گیا ہے اور زرعی آمدنی، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات تک ٹیکس بیس کو بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ سیلز ٹیکس میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے، تعمیل بہتر بنانے اور صوبائی آمدنیوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی گنجائش بھی بتائی گئی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں توانائی کی قیمتوں سے متعلق تیسرے باکس میں ایندھن کی قیمتوں، بجلی کی قیمتوں اور گیس کی قیمتوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ملک میں توانائی کی قیمتوں کی پالیسیوں کا ایک تجزیہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ تینوں باکسز بیرونی واقعات جیسے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور ٹیکسیشن اور توانائی قیمتوں کی پالیسیوں کے اثرات کو واضح کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اثرات 2025-26 اور 2026-27 کے میکرو اکنامک تخمینوں میں مناسب طور پر شامل کیے گئے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی پہلی اہم پیش گوئی 2025-26 اور 2026-27 میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ سے متعلق ہے۔ توقع ہے کہ یہ 2025-26 میں 3.6 فیصد رہے گا۔ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے حال ہی میں 2025-26 کے لیے جی ڈی پی گروتھ ریٹ کا تخمینہ 3.7 فیصد منظور کیا ہے۔ یہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے باعث 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی میں گروتھ ریٹ میں صرف معمولی کمی ہوگی۔</p>
<p>اصل مسئلہ آئی ایم ایف کی اس پیش گوئی کے ساتھ ہے جس میں 2026-27 کے لیے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 3.5 فیصد رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معیشت کی رفتار پر صرف معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اندازہ آنے والے خریف سیزن میں کھاد کے استعمال میں بڑے شارٹ فال اور ایندھن کی کمی کے باعث بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسلسل جاری رہنے کو ظاہر نہیں کرتا۔ یقیناً اس اثر کا حجم جنگ کی مدت اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے وقت پر منحصر ہوگا۔</p>
<p>ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تخمینہ یہ ہے کہ 2026-27 میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ کم ہو کر 2.5 فیصد تک آ جائے گا، جبکہ 2025-26 میں متوقع نتیجہ 3.6 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ اگلے سال حقیقی فی کس آمدنی میں کوئی اضافہ ہوگا، اور بے روزگاری کی شرح جو 2024-25 میں تقریباً 7 فیصد کے قریب ہے، وہ 2026-27 میں بڑھ کر 9 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے۔</p>
<p>دوسرا اہم تخمینہ افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح سے متعلق ہے۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق 2025-26 میں اوسط مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد اور 2026-27 میں 8.4 فیصد رہے گی۔ جبکہ اختتامی مدت مہنگائی کی شرح 2025-26 میں 11.5 فیصد اور 2026-27 میں 7 فیصد متوقع ہے۔</p>
<p>کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں جنگ کے آغاز کے بعد نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے باعث۔ فروری 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 7.0 فیصد تھی جو اپریل 2026 تک بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ 2025-26 کے پہلے دس ماہ میں اوسط مہنگائی کی شرح 6.2 فیصد رہی۔ آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق 2026-27 کے آخری دو مہینوں میں مہنگائی کی شرح 12.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ اپریل 2026 تک کے رجحان سے مطابقت رکھتا ہے۔</p>
<p>تاہم مسئلہ 2026-27 کی مہنگائی کی شرح کی پیش گوئی میں ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مہنگائی اگلے سال اوسطاً 8.4 فیصد رہے گی۔ لیکن امکان ہے کہ 2025-26 کے آخر میں یہ تقریباً 12 فیصد کے قریب ہوگی۔ اگلے سال 8.4 فیصد کی اوسط تک کمی کے لیے ضروری ہوگا کہ 2026-27 کے دوران مہنگائی کی شرح ماہانہ بنیاد پر تیزی سے کم ہو۔ ایک زیادہ حقیقت پسندانہ تخمینہ یہ ہے کہ 2026-27 میں مہنگائی کی اوسط شرح 12 فیصد کے قریب رہے گی۔ یہ بات آئی ایم ایف کی اس پیش گوئی سے بھی تقویت پاتی ہے جس میں 2026-27 کے دوران روپے کی قدر میں 15 فیصد سے زائد کمی (ڈیپریسی ایشن) کا اندازہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>اس لیے آئی ایم ایف کی دو اہم میکرو اکنامک متغیرات یعنی جی ڈی پی گروتھ ریٹ اور مہنگائی کی شرح کے تخمینے بظاہر حد سے زیادہ پرامید نظر آتے ہیں، جیسا کہ ذیل میں ٹیبل ون میں واضح کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191548019fcac89.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191548019fcac89.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی دیگر پیش گوئیوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جو 2025-26 اور 2026-27 کے لیے پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے توازن اور سرکاری مالیات سے متعلق ہیں۔ اس کا جائزہ آئندہ ہفتے کے مضمون میں لیا جائے گا۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 19 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505561</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 15:56:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/191554394b1c4b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/191554394b1c4b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرمایہ کاری کیلئے ادارے نہیں اصلاحات ضروری ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505496/sbp-pakistan-gdp-imf-inflation-fdi-tax-revenues-sifc-investments-imf-and-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے جو خبر نسبتاً کم توجہ حاصل کر سکی وہ حکومت کی جانب سے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے انضمام کو تیز کرنے سے متعلق تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادارہ 2023 میں سرمایہ کاری، خاص طور پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)، کو تیز کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا کیونکہ بی او آئی اور دیگر حکومتی ادارے سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ تاہم ایس آئی ایف سی کے قیام کے باوجود گزشتہ تین برسوں میں بیرونی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے تقریباً 0.5 سے 0.6 فیصد کے درمیان ہی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کا تناسب 13 سے 14 فیصد کے درمیان برقرار رہا ہے، جو 1970 کی دہائی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ انضمام آئی ایم ایف کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت کو بھی شاید یہ احساس ہو رہا ہے کہ نئے ادارے قائم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ضرورت موجودہ اداروں کو مؤثر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کا مسئلہ کسی ایک اور بیوروکریٹک پرت کے اضافے سے حل نہیں ہوتا بلکہ اس کی کمی سے حل ہوتا ہے۔ معاشی نظریہ بھی یہ بتاتا ہے کہ سرمایہ کاری زیادہ تر پالیسی کے استحکام، ادارہ جاتی معیار اور کاروبار کرنے میں آسانی پر ردعمل دیتی ہے، نہ کہ محض رابطہ کار اداروں کے قیام پر۔ ایس آئی ایف سی نے شاید کچھ موجودہ سرمایہ کاروں کو صوبائی یا دیگر ریگولیٹری اداروں سے متعلق معمولی مسائل حل کرنے میں مدد دی ہو، لیکن اس سے آگے نئی سرمایہ کاری کے لیے مجموعی معاشی ماحول کا مؤثر ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور وہ معاشی ماحول موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کئی اجزا شامل ہیں، قانونی اور ریگولیٹری ڈھانچے سے لے کر توانائی اور انسانی وسائل کی دستیابی تک۔ اسے میکرو اکنامک چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے مالیاتی اور شرح مبادلہ کی پالیسیاں۔ اس میں سیاسی فیصلے بھی شامل ہیں جو مسلسل حکومتیں کرتی آ رہی ہیں، اور جب تک ان کو حل نہیں کیا جاتا سرمایہ کاری کم ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کار، خواہ ملکی ہوں یا غیر ملکی، پیش بینی اور طویل المدتی پالیسی کے تسلسل کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جہاں غیر یقینی صورتحال غالب ہو وہاں سرمایہ عام طور پر کنارے پر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو مالیاتی مسئلہ درپیش ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کم ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے غیر رسمی شعبوں جیسے ریئل اسٹیٹ، زراعت اور ہول سیل و ریٹیل آمدن پر مناسب ٹیکس لگانے کے بجائے زیادہ تر بوجھ رسمی شعبے کی آمدن پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکومت کا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ اس سے وسائل کی تقسیم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے کیونکہ زیادہ ٹیکس رسمی اور دستاویزی شعبوں کو پیداوار اور رسمی معیشت میں آنے سے روکتا ہے جبکہ کم ٹیکس والے شعبے غیر مؤثر طریقے سے سرمایہ جذب کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی پالیسی کے اندر بنیادی مقصد مالی خسارے کو کم کرنا ہے۔ اس کے لیے صوبوں کی مکمل حمایت ضروری ہے کیونکہ 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد زیادہ تر ٹیکس آمدن انہی کے پاس جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وہ نہ تو اپنے اخراجات کم کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی حدود میں آنے والی آمدن پر مناسب ٹیکس عائد کرتے ہیں۔ نام نہاد ون پیج نظام دراصل صوبائی مالی خودمختاری کو دو بڑی سیاسی جماعتوں کو دینے پر مبنی ہے تاکہ وہ ایک دیوالیہ وفاقی حکومت کو چلانے کے قابل رہیں۔ یہ بھی ایک سیاسی فیصلہ ہے جو فیصلہ سازوں نے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر پنجاب مرکوز ترقی کا رجحان بھی موجود ہے۔ اگرچہ اس صوبے میں نسبتاً بہتر گورننس اور سڑکوں کا ڈھانچہ موجود ہے، لیکن اس سے قومی سطح پر ترقی نہیں ہوئی۔ معاشی ترقی جنوب سے آنی چاہیے جہاں بندرگاہ کی قربت موجود ہے۔ کراچی کو ترقی کا انجن ہونا چاہیے تاکہ پورا پاکستان، بشمول پنجاب، اس سے فائدہ اٹھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی جغرافیہ بھی یہ بتاتا ہے کہ بندرگاہی شہر قدرتی طور پر صنعتی اور برآمدی ترقی کے مراکز بن جاتے ہیں کیونکہ وہاں لاجسٹکس کے اخراجات کم اور عالمی منڈیوں سے رابطہ بہتر ہوتا ہے۔ لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے دائرہ اختیار میں ایک اہم ذمہ داری مانیٹری اور شرح مبادلہ کی پالیسیوں کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود (ریئل انٹرسٹ ریٹس) کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کا انتخاب کیا ہے تاکہ مستحکم مگر جامد ایکسچینج ریٹ کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ایسے وقت میں جب تقریباً تمام تیل درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیاں دباؤ کا شکار ہیں، پاکستان بنیادی طور پر شرح سود میں سختی (ٹائٹننگ) پر انحصار کر رہا ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلند حقیقی شرح سود مختصر مدت میں کرنسی کو مستحکم رکھ سکتی ہے، لیکن یہ سرمائے کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے اور نجی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کو محدود کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، بہت سے تیل درآمد کرنے والے ممالک مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کر رہے ہیں اور مالی گنجائش پیدا کرنے کے لیے دیگر شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ ڈیزل پر لیوی نہ ہونے کے خلا کو پورا کیا جا سکے، کیونکہ دیگر ٹیکسوں کے برعکس ٹیکس آمدن کا 60 فیصد صوبوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے جبکہ لیوی کا 100 فیصد وفاقی حکومت کے پاس رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں سے بوجھ بانٹنے کے لیے کہنے کے بجائے حکومت یہ بوجھ مکمل طور پر صارفین پر ڈال رہی ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے میں بھی اسی طرح کے غیر متوازن فیصلے موجود ہیں۔ تقسیم اور ترسیل کے زیادہ نقصانات اور پیداواری طرف پر فرنٹ لوڈڈ کپیسٹی پیمنٹس کی وجہ سے گرڈ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ان ساختی کمزوریوں کو حل کرنے کے بجائے حکومت صنعتوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ گرڈ کی طرف آئیں، کیونکہ گیس اور فرنس آئل جیسے متبادل ایندھن کو انتہائی مہنگا بنا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کی آر ایس ایف فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے فرنس آئل پر بھاری لیوی عائد کی، بغیر اس کے کہ مقامی ریفائنریوں کی حدود اور مقامی کاروباری اداروں کی پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری کو مدنظر رکھا جاتا۔ یہ ایک انتخاب ہے: ملکی معیشت کو فروغ دینا یا ایک اور قرض کی قسط حاصل کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کی بہت سی دیگر بے ربط اور غیر متوازن پالیسی فیصلے سرمایہ کاری کو دور رکھ رہے ہیں۔ کوئی بھی بالاتر ادارہ (سپر باڈی) ان مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی جادو کی چھڑی موجود نہیں ہے۔ پائیدار سرمایہ کاری انتظامی شارٹ کٹس سے پیدا نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کا حجم کم کیا جائے تاکہ اخراجات محدود ہوں اور ریڈ ٹیپ ختم ہو۔ ایک اور پرت کا اضافہ دراصل اس کے الٹ ہے جو درکار ہے۔ مجموعی معاشی ڈھانچہ ابھی سرمایہ کاری کو جذب کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کی کمی ایس آئی ایف سی کی غلطی نہیں ہے؛ اصل مسئلہ خود وہ معاشی نظام ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ جب تک پالیسی ساز مشکل ساختی اور سیاسی فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، سرمایہ کاری کمزور ہی رہے گی چاہے کتنے بھی نئے ادارے کیوں نہ بنا لیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو بنیادی ڈھانچے کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر باقی سب کچھ بے معنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 18 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے جو خبر نسبتاً کم توجہ حاصل کر سکی وہ حکومت کی جانب سے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے انضمام کو تیز کرنے سے متعلق تھی۔</strong></p>
<p>یہ ادارہ 2023 میں سرمایہ کاری، خاص طور پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)، کو تیز کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا کیونکہ بی او آئی اور دیگر حکومتی ادارے سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ تاہم ایس آئی ایف سی کے قیام کے باوجود گزشتہ تین برسوں میں بیرونی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے تقریباً 0.5 سے 0.6 فیصد کے درمیان ہی رہی ہے۔</p>
<p>مجموعی سرمایہ کاری سے جی ڈی پی کا تناسب 13 سے 14 فیصد کے درمیان برقرار رہا ہے، جو 1970 کی دہائی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ انضمام آئی ایم ایف کی ہدایت پر کیا جا رہا ہے، لیکن حکومت کو بھی شاید یہ احساس ہو رہا ہے کہ نئے ادارے قائم کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل ضرورت موجودہ اداروں کو مؤثر بنانا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاری کا مسئلہ کسی ایک اور بیوروکریٹک پرت کے اضافے سے حل نہیں ہوتا بلکہ اس کی کمی سے حل ہوتا ہے۔ معاشی نظریہ بھی یہ بتاتا ہے کہ سرمایہ کاری زیادہ تر پالیسی کے استحکام، ادارہ جاتی معیار اور کاروبار کرنے میں آسانی پر ردعمل دیتی ہے، نہ کہ محض رابطہ کار اداروں کے قیام پر۔ ایس آئی ایف سی نے شاید کچھ موجودہ سرمایہ کاروں کو صوبائی یا دیگر ریگولیٹری اداروں سے متعلق معمولی مسائل حل کرنے میں مدد دی ہو، لیکن اس سے آگے نئی سرمایہ کاری کے لیے مجموعی معاشی ماحول کا مؤثر ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>اور وہ معاشی ماحول موجود نہیں ہے۔</p>
<p>اس میں کئی اجزا شامل ہیں، قانونی اور ریگولیٹری ڈھانچے سے لے کر توانائی اور انسانی وسائل کی دستیابی تک۔ اسے میکرو اکنامک چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے مالیاتی اور شرح مبادلہ کی پالیسیاں۔ اس میں سیاسی فیصلے بھی شامل ہیں جو مسلسل حکومتیں کرتی آ رہی ہیں، اور جب تک ان کو حل نہیں کیا جاتا سرمایہ کاری کم ہی رہے گی۔</p>
<p>سرمایہ کار، خواہ ملکی ہوں یا غیر ملکی، پیش بینی اور طویل المدتی پالیسی کے تسلسل کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جہاں غیر یقینی صورتحال غالب ہو وہاں سرمایہ عام طور پر کنارے پر رہتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو مالیاتی مسئلہ درپیش ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کم ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے غیر رسمی شعبوں جیسے ریئل اسٹیٹ، زراعت اور ہول سیل و ریٹیل آمدن پر مناسب ٹیکس لگانے کے بجائے زیادہ تر بوجھ رسمی شعبے کی آمدن پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ حکومت کا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ اس سے وسائل کی تقسیم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے کیونکہ زیادہ ٹیکس رسمی اور دستاویزی شعبوں کو پیداوار اور رسمی معیشت میں آنے سے روکتا ہے جبکہ کم ٹیکس والے شعبے غیر مؤثر طریقے سے سرمایہ جذب کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>مالیاتی پالیسی کے اندر بنیادی مقصد مالی خسارے کو کم کرنا ہے۔ اس کے لیے صوبوں کی مکمل حمایت ضروری ہے کیونکہ 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد زیادہ تر ٹیکس آمدن انہی کے پاس جاتی ہے۔</p>
<p>تاہم وہ نہ تو اپنے اخراجات کم کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی حدود میں آنے والی آمدن پر مناسب ٹیکس عائد کرتے ہیں۔ نام نہاد ون پیج نظام دراصل صوبائی مالی خودمختاری کو دو بڑی سیاسی جماعتوں کو دینے پر مبنی ہے تاکہ وہ ایک دیوالیہ وفاقی حکومت کو چلانے کے قابل رہیں۔ یہ بھی ایک سیاسی فیصلہ ہے جو فیصلہ سازوں نے کیا ہے۔</p>
<p>پھر پنجاب مرکوز ترقی کا رجحان بھی موجود ہے۔ اگرچہ اس صوبے میں نسبتاً بہتر گورننس اور سڑکوں کا ڈھانچہ موجود ہے، لیکن اس سے قومی سطح پر ترقی نہیں ہوئی۔ معاشی ترقی جنوب سے آنی چاہیے جہاں بندرگاہ کی قربت موجود ہے۔ کراچی کو ترقی کا انجن ہونا چاہیے تاکہ پورا پاکستان، بشمول پنجاب، اس سے فائدہ اٹھا سکے۔</p>
<p>معاشی جغرافیہ بھی یہ بتاتا ہے کہ بندرگاہی شہر قدرتی طور پر صنعتی اور برآمدی ترقی کے مراکز بن جاتے ہیں کیونکہ وہاں لاجسٹکس کے اخراجات کم اور عالمی منڈیوں سے رابطہ بہتر ہوتا ہے۔ لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔</p>
<p>مرکزی بینک کے دائرہ اختیار میں ایک اہم ذمہ داری مانیٹری اور شرح مبادلہ کی پالیسیوں کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود (ریئل انٹرسٹ ریٹس) کو بلند سطح پر برقرار رکھنے کا انتخاب کیا ہے تاکہ مستحکم مگر جامد ایکسچینج ریٹ کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ایسے وقت میں جب تقریباً تمام تیل درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیاں دباؤ کا شکار ہیں، پاکستان بنیادی طور پر شرح سود میں سختی (ٹائٹننگ) پر انحصار کر رہا ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔</p>
<p>بلند حقیقی شرح سود مختصر مدت میں کرنسی کو مستحکم رکھ سکتی ہے، لیکن یہ سرمائے کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے اور نجی سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کو محدود کر دیتی ہے۔</p>
<p>اسی دوران، بہت سے تیل درآمد کرنے والے ممالک مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کر رہے ہیں اور مالی گنجائش پیدا کرنے کے لیے دیگر شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ ڈیزل پر لیوی نہ ہونے کے خلا کو پورا کیا جا سکے، کیونکہ دیگر ٹیکسوں کے برعکس ٹیکس آمدن کا 60 فیصد صوبوں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے جبکہ لیوی کا 100 فیصد وفاقی حکومت کے پاس رہتا ہے۔</p>
<p>صوبوں سے بوجھ بانٹنے کے لیے کہنے کے بجائے حکومت یہ بوجھ مکمل طور پر صارفین پر ڈال رہی ہے۔ یہ ایک انتخاب ہے۔</p>
<p>بجلی کے شعبے میں بھی اسی طرح کے غیر متوازن فیصلے موجود ہیں۔ تقسیم اور ترسیل کے زیادہ نقصانات اور پیداواری طرف پر فرنٹ لوڈڈ کپیسٹی پیمنٹس کی وجہ سے گرڈ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ان ساختی کمزوریوں کو حل کرنے کے بجائے حکومت صنعتوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ گرڈ کی طرف آئیں، کیونکہ گیس اور فرنس آئل جیسے متبادل ایندھن کو انتہائی مہنگا بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کی آر ایس ایف فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے فرنس آئل پر بھاری لیوی عائد کی، بغیر اس کے کہ مقامی ریفائنریوں کی حدود اور مقامی کاروباری اداروں کی پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری کو مدنظر رکھا جاتا۔ یہ ایک انتخاب ہے: ملکی معیشت کو فروغ دینا یا ایک اور قرض کی قسط حاصل کرنا۔</p>
<p>اس طرح کی بہت سی دیگر بے ربط اور غیر متوازن پالیسی فیصلے سرمایہ کاری کو دور رکھ رہے ہیں۔ کوئی بھی بالاتر ادارہ (سپر باڈی) ان مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔</p>
<p>کوئی جادو کی چھڑی موجود نہیں ہے۔ پائیدار سرمایہ کاری انتظامی شارٹ کٹس سے پیدا نہیں ہوتی۔</p>
<p>ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کا حجم کم کیا جائے تاکہ اخراجات محدود ہوں اور ریڈ ٹیپ ختم ہو۔ ایک اور پرت کا اضافہ دراصل اس کے الٹ ہے جو درکار ہے۔ مجموعی معاشی ڈھانچہ ابھی سرمایہ کاری کو جذب کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاری کی کمی ایس آئی ایف سی کی غلطی نہیں ہے؛ اصل مسئلہ خود وہ معاشی نظام ہے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ جب تک پالیسی ساز مشکل ساختی اور سیاسی فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، سرمایہ کاری کمزور ہی رہے گی چاہے کتنے بھی نئے ادارے کیوں نہ بنا لیے جائیں۔</p>
<p>حکومت کو بنیادی ڈھانچے کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر باقی سب کچھ بے معنی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 18 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505496</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 11:57:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/181157142a529b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/181157142a529b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505375/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بانڈ مارکیٹیں اب یوں محسوس ہونے لگی ہیں جیسے ان کا صبر آخرکار جواب دے گیا ہو۔ برطانیہ میں طویل مدتی حکومتی بانڈز کی ییلڈز حال ہی میں 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز بار بار مانیٹری نرمی کی توقعات کے باوجود بلند ہیں۔ سرمایہ کار اب کھل کر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی مہنگائی کے مسئلے کا حصہ تو نہیں بن چکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک مالیاتی منڈیوں نے بھاری خساروں، انتہائی سستی رقوم اور اس مسلسل دعوے کو برداشت کیے رکھا کہ قرض اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مگر اب مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے والی پرانی قوتیں دوبارہ متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ ویجلانٹیز ایک بار پھر میدان میں آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصطلاح 1980 کی دہائی میں اُس وقت سامنے آئی تھی جب ایسے سرمایہ کاروں کو بیان کرنا مقصود تھا جو مالیاتی بے احتیاطی کی مرتکب سمجھی جانے والی حکومتوں کو سزا دینے کے لیے حکومتی بانڈز خریدنے پر بہت زیادہ منافع طلب کرتے تھے۔ یہ اصطلاح کسی پرانی مالیاتی مغربی فلم کے مکالمے جیسی ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا طریقۂ کار نہایت سخت اور سادہ ہے۔ اگر سرمایہ کار کسی حکومت کی اخراجات یا مہنگائی پر قابو پانے کی صلاحیت پر اعتماد کھو بیٹھیں تو قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اور جب یہ لاگت طویل عرصے تک بلند رہے تو بالآخر سیاسی مسائل بھی جنم لینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ اس عمل کی تلخی پہلے ہی دیکھ چکا ہے۔ 2022 میں غیر مالی معاونت والے ٹیکس کٹوتیوں کے خلاف بانڈ مارکیٹ کے ردعمل کے بعد لز ٹرس (Liz Truss) صرف چند ہفتے ہی اقتدار میں رہ سکیں۔ اب ایک بار پھر گِلٹ سرمایہ کار اپنی طاقت دکھا رہے ہیں، کیونکہ کیر اسٹارمر( Keir Starmer) سے متعلق سیاسی بے یقینی، اور ایران پر امریکا اور اسرائیل جنگ کے باعث ابھرنے والے مہنگائی کے نئے خدشات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ بانڈ ٹریڈرز اب صرف معاشی اعداد و شمار پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ کھل کر یہ جانچ رہے ہیں کہ کون سے سیاستدان ”مارکیٹ دوست“ دکھائی دیتے ہیں اور کون مزید بڑے خساروں کا خطرہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے انتخابات کی اہمیت آہستہ آہستہ بانڈ مارکیٹ کی منظوری کے مقابلے میں ثانوی بنتی جا رہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وقت ہرگز اتفاقی نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی حکومتیں ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجاتی تقاضوں اور دوسری جانب مالیاتی گنجائش میں کمی کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں، عمر رسیدہ آبادی کی کفالت مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جبکہ وبا کے بعد کے برسوں میں قرضوں کا بوجھ پہلے ہی تاریخی سطحوں پر موجود ہے۔ پھر ایک اور توانائی بحران نے جنم لیا۔ ایران کے گرد تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے وہی مہنگائی کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے جنہیں مرکزی بینک 2022 میں پیچھے چھوڑ دینے کی امید کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہیں سے صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ سے پہلے ہی بانڈ مارکیٹیں بے چینی کا شکار تھیں، جبکہ تیل کے جھٹکے نے صرف پہلے سے موجود دراڑوں کو گہرا کر دیا۔ توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کی توقعات میں اضافہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار طویل مدتی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یوں ان حکومتوں کے لیے ایک خطرناک چکر جنم لیتا ہے جو پہلے ہی قرض لینے کی بڑھتی ضرورتوں تلے دبی ہوئی ہیں۔ قرض کی ادائیگی کی لاگت بڑھتی جاتی ہے، جبکہ پالیسی سازوں پر مزید اخراجات کرنے کا دباؤ بھی برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور شاید یہیں وہ زیادہ بے آرام کرنے والا سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی بلند شرح سود اور بڑھتے خساروں کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار تھا؟ ممکن ہے توانائی کا یہ جھٹکا وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائے، مگر بانڈ مارکیٹیں اب زیادہ تر اُس طویل المدتی حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں قرض پر چلنے والی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت مستقل طور پر بلند رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار بانڈ مارکیٹوں کی ایک عادت یہ بھی رہی ہے کہ وہ حد سے زیادہ پُرامید اندازوں پر کھڑے نظاموں کو دوبارہ حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومتیں صرف منڈیوں کی عارضی بے چینی کا سامنا کر رہی ہیں، یا پھر یہ اُس کہیں زیادہ سخت مرحلے کی ابتدا ہے جہاں جنگ، قرضوں اور مہنگائی کی تھکن سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دنیا میں مالیاتی خطرات کی نئی اور کڑی قیمت لگنا شروع ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 14 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بانڈ مارکیٹیں اب یوں محسوس ہونے لگی ہیں جیسے ان کا صبر آخرکار جواب دے گیا ہو۔ برطانیہ میں طویل مدتی حکومتی بانڈز کی ییلڈز حال ہی میں 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز بار بار مانیٹری نرمی کی توقعات کے باوجود بلند ہیں۔ سرمایہ کار اب کھل کر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی مہنگائی کے مسئلے کا حصہ تو نہیں بن چکیں۔</strong></p>
<p>برسوں تک مالیاتی منڈیوں نے بھاری خساروں، انتہائی سستی رقوم اور اس مسلسل دعوے کو برداشت کیے رکھا کہ قرض اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مگر اب مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے والی پرانی قوتیں دوبارہ متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔</p>
<p>بانڈ ویجلانٹیز ایک بار پھر میدان میں آ گئے ہیں۔</p>
<p>یہ اصطلاح 1980 کی دہائی میں اُس وقت سامنے آئی تھی جب ایسے سرمایہ کاروں کو بیان کرنا مقصود تھا جو مالیاتی بے احتیاطی کی مرتکب سمجھی جانے والی حکومتوں کو سزا دینے کے لیے حکومتی بانڈز خریدنے پر بہت زیادہ منافع طلب کرتے تھے۔ یہ اصطلاح کسی پرانی مالیاتی مغربی فلم کے مکالمے جیسی ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا طریقۂ کار نہایت سخت اور سادہ ہے۔ اگر سرمایہ کار کسی حکومت کی اخراجات یا مہنگائی پر قابو پانے کی صلاحیت پر اعتماد کھو بیٹھیں تو قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اور جب یہ لاگت طویل عرصے تک بلند رہے تو بالآخر سیاسی مسائل بھی جنم لینے لگتے ہیں۔</p>
<p>برطانیہ اس عمل کی تلخی پہلے ہی دیکھ چکا ہے۔ 2022 میں غیر مالی معاونت والے ٹیکس کٹوتیوں کے خلاف بانڈ مارکیٹ کے ردعمل کے بعد لز ٹرس (Liz Truss) صرف چند ہفتے ہی اقتدار میں رہ سکیں۔ اب ایک بار پھر گِلٹ سرمایہ کار اپنی طاقت دکھا رہے ہیں، کیونکہ کیر اسٹارمر( Keir Starmer) سے متعلق سیاسی بے یقینی، اور ایران پر امریکا اور اسرائیل جنگ کے باعث ابھرنے والے مہنگائی کے نئے خدشات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ بانڈ ٹریڈرز اب صرف معاشی اعداد و شمار پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ کھل کر یہ جانچ رہے ہیں کہ کون سے سیاستدان ”مارکیٹ دوست“ دکھائی دیتے ہیں اور کون مزید بڑے خساروں کا خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے انتخابات کی اہمیت آہستہ آہستہ بانڈ مارکیٹ کی منظوری کے مقابلے میں ثانوی بنتی جا رہی ہو۔</p>
<p>یہ وقت ہرگز اتفاقی نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی حکومتیں ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجاتی تقاضوں اور دوسری جانب مالیاتی گنجائش میں کمی کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں، عمر رسیدہ آبادی کی کفالت مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جبکہ وبا کے بعد کے برسوں میں قرضوں کا بوجھ پہلے ہی تاریخی سطحوں پر موجود ہے۔ پھر ایک اور توانائی بحران نے جنم لیا۔ ایران کے گرد تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے وہی مہنگائی کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے جنہیں مرکزی بینک 2022 میں پیچھے چھوڑ دینے کی امید کر رہے تھے۔</p>
<p>یہیں سے صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ سے پہلے ہی بانڈ مارکیٹیں بے چینی کا شکار تھیں، جبکہ تیل کے جھٹکے نے صرف پہلے سے موجود دراڑوں کو گہرا کر دیا۔ توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کی توقعات میں اضافہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار طویل مدتی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یوں ان حکومتوں کے لیے ایک خطرناک چکر جنم لیتا ہے جو پہلے ہی قرض لینے کی بڑھتی ضرورتوں تلے دبی ہوئی ہیں۔ قرض کی ادائیگی کی لاگت بڑھتی جاتی ہے، جبکہ پالیسی سازوں پر مزید اخراجات کرنے کا دباؤ بھی برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔</p>
<p>برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔</p>
<p>اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔</p>
<p>شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔</p>
<p>اور شاید یہیں وہ زیادہ بے آرام کرنے والا سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی بلند شرح سود اور بڑھتے خساروں کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار تھا؟ ممکن ہے توانائی کا یہ جھٹکا وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائے، مگر بانڈ مارکیٹیں اب زیادہ تر اُس طویل المدتی حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں قرض پر چلنے والی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت مستقل طور پر بلند رہ سکتی ہے۔</p>
<p>اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔</p>
<p>برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔</p>
<p>اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p>منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟</p>
<p>پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔</p>
<p>شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔</p>
<p>آخرکار بانڈ مارکیٹوں کی ایک عادت یہ بھی رہی ہے کہ وہ حد سے زیادہ پُرامید اندازوں پر کھڑے نظاموں کو دوبارہ حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومتیں صرف منڈیوں کی عارضی بے چینی کا سامنا کر رہی ہیں، یا پھر یہ اُس کہیں زیادہ سخت مرحلے کی ابتدا ہے جہاں جنگ، قرضوں اور مہنگائی کی تھکن سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دنیا میں مالیاتی خطرات کی نئی اور کڑی قیمت لگنا شروع ہو چکی ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 14 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505375</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:07:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/151511192dc402e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/151511192dc402e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یونیورسٹی روڈ، نئی شناخت کے ساتھ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505271/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ان دنوں کراچی کی یونیورسٹی روڈ کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور اس کی موجودہ حالت کے حوالے سے یہ کئی لطیفوں کا موضوع بھی بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تاریخ اور اس اہم کردار کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں جو اس نے اپنے وجود کے دوران، خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ کی زندگی میں ادا کیا، بالخصوص 1959 میں جامعہ کراچی کی اس علاقے میں منتقلی کے بعد سے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سڑک کے اردگرد ماحول میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک مقامی اردو اخبار میں ایک ہفتہ وار کالم ”کراچی سے 12 میل دور“ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ یہ جامعہ کراچی کی سرگرمیوں پر مبنی مستقل کالم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت یونیورسٹی واقعی شہر سے کافی فاصلے پر تھی، اور اگرچہ کچھ طلبہ کے پاس اپنی سواری موجود تھی، لیکن اکثریت بسوں کے ذریعے سفر کرتی تھی۔ ابتدا میں اس سڑک کو کنٹری کلب روڈ کہا جاتا تھا، اور یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس کا نام یونیورسٹی روڈ رکھ دیا گیا۔ اس سڑک کی خاموش گزرگاہ سے ایک مصروف شہری شاہراہ میں تبدیلی 1960 سے 1990 کے دوران گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر جیسے اطرافی علاقوں کی ترقی کے بعد آئی۔ رہائشی علاقوں نے تجارتی سرگرمیوں کو جنم دیا، جن سے مزید عمارتیں تعمیر ہوئیں اور نتیجتاً ٹریفک میں اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کاروباری مراکز کے باعث اب اس سڑک پر شدید ٹریفک جام رہتا ہے، جبکہ ایک زمانے میں یہ زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ اور عملے کے استعمال میں رہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گویا یہ کافی نہیں تھا کہ اس سڑک پر ٹریفک کئی گنا بڑھ گئی، بلکہ اسے ٹریفک بہتری کے ایک منصوبے میں بھی شامل کر لیا گیا اور تیزی سے کام مکمل کرنے کے وعدوں کے ساتھ اسے کھود دیا گیا تاکہ اس سڑک کی قسمت بدل دی جائے۔ لیکن جیسا کہ اکثر منصوبوں میں ہوتا ہے، عملدرآمد کے دوران کئی تبدیلیاں شامل کی گئیں، جس سے یہ منصوبہ ایک دن سے دوسرے دن اور پھر ایک سال سے دوسرے سال تک تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سڑک پر بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ٹریفک کے باوجود منصوبے پر کام جاری ہے کیونکہ ظاہر ہے اسے درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا، ورنہ اس اہم شاہراہ پر مزید رکاوٹیں اور بدترین ٹریفک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اگرچہ کام کی رفتار کافی سست ہو گئی ہے، لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ جلد ہی اس پر دوبارہ بھرپور انداز میں کام شروع ہو گا، اور سب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو صرف اس اہم شاہراہ پر جاری ترقیاتی کام کے بارے میں مختصر ذکر تھا، لیکن اصل کہانی اس سڑک کی ہے جو جامعہ کراچی کی طرف جاتی ہے، اور یہ کہ خود یونیورسٹی میں حالات کیسے بدل چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے تعلیمی ماحول میں طلبہ یونین انتخابات پر پابندی کے بعد بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ طلبہ یونینز، یا بعض تعلیمی اداروں میں جنہیں اسٹوڈنٹ کونسلز کہا جاتا تھا، کے انتخابات پورے شہر میں ایک ہی دن منعقد ہوتے تھے۔ اس دن پورا شہر ایک تہوار کا منظر پیش کرتا تھا، جہاں تمام تعلیمی ادارے مختلف امیدواروں کے بینرز اور پوسٹروں سے سجے ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولنگ سے پہلے کے دنوں میں تمام ادارے، خاص طور پر جامعہ کراچی، سرگرمیوں سے بھرے رہتے تھے۔ مختلف امیدواروں کی کارنر میٹنگز پورے کیمپس میں منعقد ہوتی تھیں، جو امیدواروں کے منشور اور خیالات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ بنتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹس فیکلٹی کا لان یونیورسٹی کے تمام امیدواروں کے لیے گویا نشتر پارک کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں وہ باری باری نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔ منشوروں اور پمفلٹس کی نقول تقسیم کی جاتیں اور سامعین انہیں سنجیدگی سے پڑھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کوئی تشدد نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی روڈ بھی سرگرمیوں سے بھری رہتی تھی، جہاں مختلف امیدواروں کے حامی جلوسوں کی صورت میں آتے جاتے اور اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی روڈ کوئی عام سڑک نہیں بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کئی مشہور شخصیات نے اسی سڑک پر سفر کر کے اپنی تعلیمی اسناد حاصل کیں، جن کی بنیاد پر وہ چیئرمین سینیٹ، صوبائی محتسب، گورنر اور اس سے بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سڑک ہمیشہ خبروں میں رہتی ہے۔ امید قائم رکھیے، اس بار حکومت واقعی اس سڑک کو مکمل کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی ہم تمام مشکلات اور پریشانیوں کو بھول کر ایک نئی یونیورسٹی روڈ کے فوائد سے لطف اندوز ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ان دنوں کراچی کی یونیورسٹی روڈ کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور اس کی موجودہ حالت کے حوالے سے یہ کئی لطیفوں کا موضوع بھی بنی ہوئی ہے، لیکن اس کی تاریخ اور اس اہم کردار کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں جو اس نے اپنے وجود کے دوران، خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ کی زندگی میں ادا کیا، بالخصوص 1959 میں جامعہ کراچی کی اس علاقے میں منتقلی کے بعد سے۔</strong></p>
<p>اس سڑک کے اردگرد ماحول میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ایک مقامی اردو اخبار میں ایک ہفتہ وار کالم ”کراچی سے 12 میل دور“ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا۔ یہ جامعہ کراچی کی سرگرمیوں پر مبنی مستقل کالم تھا۔</p>
<p>اس وقت یونیورسٹی واقعی شہر سے کافی فاصلے پر تھی، اور اگرچہ کچھ طلبہ کے پاس اپنی سواری موجود تھی، لیکن اکثریت بسوں کے ذریعے سفر کرتی تھی۔ ابتدا میں اس سڑک کو کنٹری کلب روڈ کہا جاتا تھا، اور یونیورسٹی کے قیام کے بعد اس کا نام یونیورسٹی روڈ رکھ دیا گیا۔ اس سڑک کی خاموش گزرگاہ سے ایک مصروف شہری شاہراہ میں تبدیلی 1960 سے 1990 کے دوران گلشنِ اقبال اور گلستانِ جوہر جیسے اطرافی علاقوں کی ترقی کے بعد آئی۔ رہائشی علاقوں نے تجارتی سرگرمیوں کو جنم دیا، جن سے مزید عمارتیں تعمیر ہوئیں اور نتیجتاً ٹریفک میں اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کاروباری مراکز کے باعث اب اس سڑک پر شدید ٹریفک جام رہتا ہے، جبکہ ایک زمانے میں یہ زیادہ تر یونیورسٹی کے طلبہ اور عملے کے استعمال میں رہتی تھی۔</p>
<p>گویا یہ کافی نہیں تھا کہ اس سڑک پر ٹریفک کئی گنا بڑھ گئی، بلکہ اسے ٹریفک بہتری کے ایک منصوبے میں بھی شامل کر لیا گیا اور تیزی سے کام مکمل کرنے کے وعدوں کے ساتھ اسے کھود دیا گیا تاکہ اس سڑک کی قسمت بدل دی جائے۔ لیکن جیسا کہ اکثر منصوبوں میں ہوتا ہے، عملدرآمد کے دوران کئی تبدیلیاں شامل کی گئیں، جس سے یہ منصوبہ ایک دن سے دوسرے دن اور پھر ایک سال سے دوسرے سال تک تاخیر کا شکار ہوتا گیا۔</p>
<p>اس سڑک پر بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ٹریفک کے باوجود منصوبے پر کام جاری ہے کیونکہ ظاہر ہے اسے درمیان میں چھوڑا نہیں جا سکتا، ورنہ اس اہم شاہراہ پر مزید رکاوٹیں اور بدترین ٹریفک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اگرچہ کام کی رفتار کافی سست ہو گئی ہے، لیکن اب خبریں آ رہی ہیں کہ جلد ہی اس پر دوبارہ بھرپور انداز میں کام شروع ہو گا، اور سب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں۔</p>
<p>یہ تو صرف اس اہم شاہراہ پر جاری ترقیاتی کام کے بارے میں مختصر ذکر تھا، لیکن اصل کہانی اس سڑک کی ہے جو جامعہ کراچی کی طرف جاتی ہے، اور یہ کہ خود یونیورسٹی میں حالات کیسے بدل چکے ہیں۔</p>
<p>درحقیقت، پورے ملک اور خاص طور پر کراچی کے تعلیمی ماحول میں طلبہ یونین انتخابات پر پابندی کے بعد بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ طلبہ یونینز، یا بعض تعلیمی اداروں میں جنہیں اسٹوڈنٹ کونسلز کہا جاتا تھا، کے انتخابات پورے شہر میں ایک ہی دن منعقد ہوتے تھے۔ اس دن پورا شہر ایک تہوار کا منظر پیش کرتا تھا، جہاں تمام تعلیمی ادارے مختلف امیدواروں کے بینرز اور پوسٹروں سے سجے ہوتے تھے۔</p>
<p>پولنگ سے پہلے کے دنوں میں تمام ادارے، خاص طور پر جامعہ کراچی، سرگرمیوں سے بھرے رہتے تھے۔ مختلف امیدواروں کی کارنر میٹنگز پورے کیمپس میں منعقد ہوتی تھیں، جو امیدواروں کے منشور اور خیالات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ بنتی تھیں۔</p>
<p>آرٹس فیکلٹی کا لان یونیورسٹی کے تمام امیدواروں کے لیے گویا نشتر پارک کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں وہ باری باری نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔ منشوروں اور پمفلٹس کی نقول تقسیم کی جاتیں اور سامعین انہیں سنجیدگی سے پڑھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ کوئی تشدد نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں یونیورسٹی روڈ بھی سرگرمیوں سے بھری رہتی تھی، جہاں مختلف امیدواروں کے حامی جلوسوں کی صورت میں آتے جاتے اور اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے لگاتے تھے۔</p>
<p>یونیورسٹی روڈ کوئی عام سڑک نہیں بلکہ اس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ کئی مشہور شخصیات نے اسی سڑک پر سفر کر کے اپنی تعلیمی اسناد حاصل کیں، جن کی بنیاد پر وہ چیئرمین سینیٹ، صوبائی محتسب، گورنر اور اس سے بھی اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سڑک ہمیشہ خبروں میں رہتی ہے۔ امید قائم رکھیے، اس بار حکومت واقعی اس سڑک کو مکمل کرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی ہم تمام مشکلات اور پریشانیوں کو بھول کر ایک نئی یونیورسٹی روڈ کے فوائد سے لطف اندوز ہوں گے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505271</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:42:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13113950820a947.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13113950820a947.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خراب معاشی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505379/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فنانس ڈویژن کی ماہانہ اشاعت ’’اپریل اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک‘‘ میں کچھ تشویشناک معاشی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، یا ماضی کی ناقص معاشی پالیسیوں کو، یا پھر اُن سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو جن پر پاکستانی حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اتفاق کیا؟ یا پھر یہ تینوں عوامل کا مجموعہ ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا ایک بہتر پیمانہ گزشتہ چار برس کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایران پر امریکا/اسرائیل حملے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جولائی تا مارچ 2026 کے لیے سی پی آئی کی شرح 5.9 فیصد اندازہ کی گئی، مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد رہی، جب کہ جولائی تا مارچ 2025 میں یہ 5.3 فیصد اور مارچ 2025 میں 0.7 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق اپریل 2026 میں سی پی آئی کی شرح 10.8 فیصد رہی، جبکہ جولائی تا اپریل قومی اوسط شرح 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.73 فیصد تھی، تاہم جولائی تا اپریل 2023-24 کے دوران یہ شرح کہیں زیادہ یعنی 25.97 فیصد رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023-24 میں ’’شدید مہنگائی‘‘ کی بنیادی وجہ اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار (28 ستمبر 2022 تا 10 اگست 2023) کی انتہائی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اُن اصلاحاتی اقدامات کو قرار دیا جا سکتا ہے جن پر جون 2023 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے نو ماہہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اتفاق کیا گیا تھا۔ ان اقدامات میں شامل تھے: (الف) جون/جولائی 2023 میں روپے کی قدر میں بڑا انحطاط، جس کی ضرورت اُس وقت موجود متعدد شرح مبادلہ نظام کے باعث پیش آئی تھی — اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو برقرار رکھنے کی اُس پالیسی کا براہِ راست نتیجہ تھی جو آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اور یہ پالیسی اُس وقت بھی جاری رکھی گئی جب فروری/مارچ 2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر مداخلت کرکے ایس بی اے کو یقینی بنانا پڑا۔ (ب) اسحاق ڈار نے اکتوبر 2022 میں امیر برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر 110 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کا اعلان کیا، جبکہ اُس وقت 3 کروڑ سے زائد پاکستانی سیلاب کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فیصلہ بھی آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تھا۔ (ج) 2023-24 کے بجٹ میں مجموعی محصولات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس اضافوں پر اتفاق کیا گیا؛ (د) پالیسی ریٹ کو 22 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھا گیا؛ اور (ہ) مکمل لاگت وصولی یقینی بنانے کے لیے یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کیا گیا، جو کم از کم ایک بڑا چیلنج تھا، خاص طور پر اُس حکومتی پالیسی کے تناظر میں جس کے تحت قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً گھریلو سولر پینلز، کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوئی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو کیپسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا، جن پر 2014 میں نواز شریف کی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اگرچہ ناقص پالیسیوں نے عوام کے معیارِ زندگی پر انتہائی منفی اثرات ڈالے، تاہم آئی ایم ایف کی روایتی شرائط ، جو بنیادی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں پر زور دیتی ہیں، نے معاشی ترقی کی اُس شرح کے حصول کو متاثر کیا جو لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والوں کو کھپا سکتی، اور یہی ملک میں بڑھتی غربت کی ایک اہم وجہ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت سمیت پے در پے آنے والی حکومتوں نے اُن ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، حالانکہ یہ افراد پاکستان کی مجموعی افرادی قوت کا صرف 7 فیصد ہیں، جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بڑی حد تک جمود کا شکار رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت کی شرح 2023-24 میں بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی، جو 2022-23 میں 24.8 فیصد اور 2021-22 میں 18.31 فیصد تھی، جبکہ 2024-25 میں یہ مزید بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح یومیہ 3.20 ڈالر آمدن کی بنیاد پر نکالی گئی؛ تاہم اگر اسے غذائی توانائی کی ضروریات (کیلوریز) کے پیمانے پر جانچا جائے تو ورلڈ بینک نے پاکستان میں غربت کی شرح 44 فیصد تک بتائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک امر یہ ہے کہ ناقص پالیسیاں آج بھی جاری ہیں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، جہاں حکومت پرانے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرض لے رہی ہے۔ رواں سال 1.25 کھرب روپے ایسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے گئے جو زیادہ شرح منافع پر حاصل کیے گئے تھے، اور ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی توجہ اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بلند پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس بلند شرح سود کی ادائیگی بنیادی طور پر حکومت کو اپنی بھاری سالانہ خسارے کی مالی ضروریات کے باعث کرنا پڑتی ہے، جس سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے، جبکہ نجی شعبے کا قرض لینا نسبتاً بہت کم ہے۔ اس وقت پاکستان کی شرح سود علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو پاکستانی صنعت کی علاقائی مسابقت میں مسلسل گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا مارچ 2026 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر صرف 410.7 ملین ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.5 ارب ڈالر تھی۔ اگرچہ یہ کمی تشویشناک ہے، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی انتہائی کم سطح پر تھی — بھارت میں اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) تقریباً 48 ارب ڈالر رہی۔ یہ صورتِ حال حکومت کی اُن کوششوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جن کے تحت خصوصی مراعات (مالیاتی اور مانیٹری) اور سرمایہ کاروں کو سکیورٹی کی ضمانتیں دے کر سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کی نمائندگی پر مشتمل اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی تھی تاکہ تمام شعبوں میں سرمایہ کاروں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ دو وجوہات کی بنا پر ایف ڈی آئی تاحال خاطر خواہ انداز میں نہیں آ سکی: (i) معیشت کی کمزوری بدستور برقرار ہے، جس کا اندازہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ یہ مصنوعات ہماری مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ 24 اپریل 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر قرضوں پر مبنی 15.1 ارب ڈالر تھے۔ اسی روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.45 ارب ڈالر قرض کی مکمل واپسی کا اعلان کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ ذخائر کے اعداد میں اس ادائیگی کو شامل کیا گیا تھا یا سعودی عرب سے حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر قرض کو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن طور پر حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط، خصوصاً ترقی مخالف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں، کو مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور کسی غیر روایتی یا ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ حل پر غور نہیں کیا جا رہا، جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس نے پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کو بھی ایل ایس ایم پیداوار میں شامل کیا ہے، حالانکہ یہ اشیا زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، اور جولائی تا مارچ ایل ایس ایم نمو سالانہ بنیاد پر 6.48 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایل ایس ایم میں اضافہ دراصل پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار کے بجائے ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر ایسے غیر روایتی حل مرتب اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے جن کے تحت جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی جائے — خواہ یہ تنخواہوں میں جمود، خریداریوں پر پابندی (آپریشنل اخراجات کے سوا)، پنشن نظام میں وسیع اصلاحات (آج ریاست کے تحت ملازم 7 فیصد افراد سے پنشن میں شراکت شروع کرنا) یا اندرونی قرض گیری پر پابندی کی صورت میں ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فنانس ڈویژن کی ماہانہ اشاعت ’’اپریل اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک‘‘ میں کچھ تشویشناک معاشی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، یا ماضی کی ناقص معاشی پالیسیوں کو، یا پھر اُن سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو جن پر پاکستانی حکام نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت اتفاق کیا؟ یا پھر یہ تینوں عوامل کا مجموعہ ہیں؟</strong></p>
<p>اس کا ایک بہتر پیمانہ گزشتہ چار برس کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کا جائزہ لینا ہوگا۔ ایران پر امریکا/اسرائیل حملے کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جولائی تا مارچ 2026 کے لیے سی پی آئی کی شرح 5.9 فیصد اندازہ کی گئی، مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد رہی، جب کہ جولائی تا مارچ 2025 میں یہ 5.3 فیصد اور مارچ 2025 میں 0.7 فیصد تھی۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق اپریل 2026 میں سی پی آئی کی شرح 10.8 فیصد رہی، جبکہ جولائی تا اپریل قومی اوسط شرح 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.73 فیصد تھی، تاہم جولائی تا اپریل 2023-24 کے دوران یہ شرح کہیں زیادہ یعنی 25.97 فیصد رہی تھی۔</p>
<p>2023-24 میں ’’شدید مہنگائی‘‘ کی بنیادی وجہ اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار (28 ستمبر 2022 تا 10 اگست 2023) کی انتہائی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اُن اصلاحاتی اقدامات کو قرار دیا جا سکتا ہے جن پر جون 2023 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے نو ماہہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت اتفاق کیا گیا تھا۔ ان اقدامات میں شامل تھے: (الف) جون/جولائی 2023 میں روپے کی قدر میں بڑا انحطاط، جس کی ضرورت اُس وقت موجود متعدد شرح مبادلہ نظام کے باعث پیش آئی تھی — اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری ذرائع سے ترسیلاتِ زر میں 4 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈالر کے مقابلے میں سرکاری شرحِ مبادلہ کو برقرار رکھنے کی اُس پالیسی کا براہِ راست نتیجہ تھی جو آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اور یہ پالیسی اُس وقت بھی جاری رکھی گئی جب فروری/مارچ 2023 میں زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔</p>
<p>اُس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر مداخلت کرکے ایس بی اے کو یقینی بنانا پڑا۔ (ب) اسحاق ڈار نے اکتوبر 2022 میں امیر برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر 110 ارب روپے کی بجلی سبسڈی کا اعلان کیا، جبکہ اُس وقت 3 کروڑ سے زائد پاکستانی سیلاب کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ یہ فیصلہ بھی آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تھا۔ (ج) 2023-24 کے بجٹ میں مجموعی محصولات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیکس اضافوں پر اتفاق کیا گیا؛ (د) پالیسی ریٹ کو 22 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رکھا گیا؛ اور (ہ) مکمل لاگت وصولی یقینی بنانے کے لیے یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کیا گیا، جو کم از کم ایک بڑا چیلنج تھا، خاص طور پر اُس حکومتی پالیسی کے تناظر میں جس کے تحت قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً گھریلو سولر پینلز، کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔ اس کے نتیجے میں قومی گرڈ سے بجلی کی طلب کم ہوئی اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو کیپسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا، جن پر 2014 میں نواز شریف کی حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>چنانچہ اگرچہ ناقص پالیسیوں نے عوام کے معیارِ زندگی پر انتہائی منفی اثرات ڈالے، تاہم آئی ایم ایف کی روایتی شرائط ، جو بنیادی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں پر زور دیتی ہیں، نے معاشی ترقی کی اُس شرح کے حصول کو متاثر کیا جو لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والوں کو کھپا سکتی، اور یہی ملک میں بڑھتی غربت کی ایک اہم وجہ بنی۔</p>
<p>موجودہ حکومت سمیت پے در پے آنے والی حکومتوں نے اُن ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے جنہیں ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں، حالانکہ یہ افراد پاکستان کی مجموعی افرادی قوت کا صرف 7 فیصد ہیں، جبکہ نجی شعبے کی تنخواہیں بڑی حد تک جمود کا شکار رہی ہیں۔</p>
<p>غربت کی شرح 2023-24 میں بڑھ کر 25.3 فیصد ہو گئی، جو 2022-23 میں 24.8 فیصد اور 2021-22 میں 18.31 فیصد تھی، جبکہ 2024-25 میں یہ مزید بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ شرح یومیہ 3.20 ڈالر آمدن کی بنیاد پر نکالی گئی؛ تاہم اگر اسے غذائی توانائی کی ضروریات (کیلوریز) کے پیمانے پر جانچا جائے تو ورلڈ بینک نے پاکستان میں غربت کی شرح 44 فیصد تک بتائی ہے۔</p>
<p>افسوسناک امر یہ ہے کہ ناقص پالیسیاں آج بھی جاری ہیں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، جہاں حکومت پرانے قرضے اتارنے کے لیے مزید قرض لے رہی ہے۔ رواں سال 1.25 کھرب روپے ایسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے لیے گئے جو زیادہ شرح منافع پر حاصل کیے گئے تھے، اور ان قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی توجہ اخراجات میں کمی کے بجائے محصولات بڑھانے پر مرکوز ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بلند پالیسی ریٹ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس بلند شرح سود کی ادائیگی بنیادی طور پر حکومت کو اپنی بھاری سالانہ خسارے کی مالی ضروریات کے باعث کرنا پڑتی ہے، جس سے بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے، جبکہ نجی شعبے کا قرض لینا نسبتاً بہت کم ہے۔ اس وقت پاکستان کی شرح سود علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو پاکستانی صنعت کی علاقائی مسابقت میں مسلسل گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔</p>
<p>جولائی تا مارچ 2026 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر صرف 410.7 ملین ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.5 ارب ڈالر تھی۔ اگرچہ یہ کمی تشویشناک ہے، تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی انتہائی کم سطح پر تھی — بھارت میں اپریل تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) تقریباً 48 ارب ڈالر رہی۔ یہ صورتِ حال حکومت کی اُن کوششوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے جن کے تحت خصوصی مراعات (مالیاتی اور مانیٹری) اور سرمایہ کاروں کو سکیورٹی کی ضمانتیں دے کر سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس مقصد کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور مسلح افواج کی نمائندگی پر مشتمل اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی تھی تاکہ تمام شعبوں میں سرمایہ کاروں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ دو وجوہات کی بنا پر ایف ڈی آئی تاحال خاطر خواہ انداز میں نہیں آ سکی: (i) معیشت کی کمزوری بدستور برقرار ہے، جس کا اندازہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ یہ مصنوعات ہماری مجموعی درآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ 24 اپریل 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر قرضوں پر مبنی 15.1 ارب ڈالر تھے۔ اسی روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے 3.45 ارب ڈالر قرض کی مکمل واپسی کا اعلان کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ ذخائر کے اعداد میں اس ادائیگی کو شامل کیا گیا تھا یا سعودی عرب سے حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر قرض کو۔</p>
<p>حیران کن طور پر حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط، خصوصاً ترقی مخالف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں، کو مکمل طور پر قبول کر لیا گیا ہے اور کسی غیر روایتی یا ’’آؤٹ آف دی باکس‘‘ حل پر غور نہیں کیا جا رہا، جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>پی بی ایس نے پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کو بھی ایل ایس ایم پیداوار میں شامل کیا ہے، حالانکہ یہ اشیا زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، اور جولائی تا مارچ ایل ایس ایم نمو سالانہ بنیاد پر 6.48 فیصد ظاہر کی گئی، جبکہ مارچ 2026 میں یہ شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے پیشِ نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایل ایس ایم میں اضافہ دراصل پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار کے بجائے ان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہوا۔</p>
<p>آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ فوری طور پر ایسے غیر روایتی حل مرتب اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے جن کے تحت جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی کی جائے — خواہ یہ تنخواہوں میں جمود، خریداریوں پر پابندی (آپریشنل اخراجات کے سوا)، پنشن نظام میں وسیع اصلاحات (آج ریاست کے تحت ملازم 7 فیصد افراد سے پنشن میں شراکت شروع کرنا) یا اندرونی قرض گیری پر پابندی کی صورت میں ہو۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505379</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:36:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/15152923ef95bd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/15152923ef95bd7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حالیہ معاشی نتائج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505270/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے منفی اثرات ظاہر ہو چکے ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جنگ سے پہلے فروری میں 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر اپریل کے آخر تک 108 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور اب یہ 101 امریکی ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔ ایل این جی، ایل پی جی، اور کھاد جیسی اہم اشیاء کی برآمدات کے ذریعے سپلائی میں زبردست کمی کی گئی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے درآمدات اور مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء دونوں کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون کا مقصد مارچ اور اپریل میں خاص طور پر پچھلے مہینوں کے سلسلے میں اہم اقتصادی تغیرات جیسے مہنگائی کی شرح، درآمدات اور برآمدات کی سطح، ترسیلات زر، ٹیکس محصولات وغیرہ کی شدت میں تبدیلی کی حد کا تعین کرنا ہے۔ تاہم، پی بی ایس (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس) اور ایس بی پی (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) نے ابھی تک اپریل 2026 کے متعدد متغیرات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا متغیر جس کا تجزیہ فروری، مارچ اور اپریل 2026 کے مہینوں کے رجحانات کے تناظر میں کیا گیا ہے، وہ مہنگائی کی شرح ہے۔ واضح طور پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سالانہ بنیاد پر، یہ فروری میں 7 فیصد تھی، مارچ میں معمولی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی اور اب اپریل میں بڑی حد تک بڑھ کر دو ہندسوں کی شرح یعنی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں موٹر فیول کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 40 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ تقریباً 38 فیصد کے اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ سروسز کے چارجز کا ملاپ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہِ راست اثر اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کے اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، غیر خوراکی اشیاء کی قیمتیں اپریل میں تقریباً 14 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ خوش قسمتی سے، خوراک کی قیمتوں میں معتدل اضافہ ہوا ہے، جو 7 فیصد تک ہے۔ غیر خوراکی اشیاء کے گروپ میں، بجلی کے چارجز میں 34 فیصد، گیس کے چارجز میں 23 فیصد اور مائع ہائیڈروکاربنز میں 63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار سپلائی پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے مطابق جو ہفتہ 7 مئی 2026 کو ختم ہوا، مہنگائی کی شرح مزید بڑھ کر 15.2 فیصد ہو گئی ہے۔ جبکہ 28 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح صرف 4 فیصد تھی۔ لہٰذا مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ہم پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے موجودہ کھاتے میں حالیہ رجحانات کی طرف آتے ہیں۔ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے نے بھی تجارتی توازن پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں درآمدات میں 29 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، اپریل میں تجارتی توازن کا خسارہ 4.1 ارب امریکی ڈالر ہے، جو فروری کے خسارے سے 40 فیصد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ممکنہ طور پر بہت تشویشناک ہے۔ اگر پہلے ہدف شدہ سالانہ خسارہ موجودہ کھاتے میں 2.4 ارب امریکی ڈالر کا متوقع تھا، تو خطرہ ہے کہ یہ 2025-26 کے آخر تک تقریباً 7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ کھاتے کے خسارے میں اضافہ ہوم ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق، فروری 2026 کے مقابلے میں ریمیٹنسیز میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کا آدھا سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں، خاص طور پر یو اے ای سے، ہوم ریمیٹنسیز کے بہاؤ میں مزید بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زر مبادلہ کے ذخائر میں مارچ کے 16.4 ارب امریکی ڈالر سے 24 اپریل 2026 تک 15.8 ارب امریکی ڈالر تک 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے، یو اے ای میں ٹائم ڈپازٹس کے واپسی کے ساتھ سعودی عرب سے ڈپازٹس کی آمد بھی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم ) میں قلیل مدتی رجحانات کچھ حد تک متضاد ہیں۔ سالانہ بنیاد پر، مارچ میں پیداوار 11 فیصد سے زائد بڑھ گئی، مگر ماہانہ بنیاد پر یہ 5 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ صنعتیں جو جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں براہِ راست متاثر ہوں گی، اس وقت متضاد رجحانات دکھا رہی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات (پی او ایل) کی صنعت نے مارچ میں سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد کی ترقی حاصل کی، جو جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے دوران حاصل ہونے والی تقریباً 11 فیصد کی شرح نمو سے کہیں کم ہے۔ خوش قسمتی سے، اس بڑے اضافے نے قلت کو محدود رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، دیگر صنعتیں، خاص طور پر درآمد شدہ ان پٹس کی کمی کی وجہ سے، زوال دکھانے لگیں ہیں۔ فرٹیلائزر کی پیداوار مارچ میں 8 فیصد کم ہوئی، جبکہ پہلے یہ صنعت صرف 1 فیصد کمی دکھا رہی تھی۔ اسی طرح، سیمنٹ کی پیداوار مارچ میں تقریباً 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ پچھلے مہینوں میں اس میں 9 فیصد مثبت نمو دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل کی صنعت مسلسل مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہے۔ جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے عرصے میں اس صنعت کی پیداوار میں تقریباً صفر نمو رہی۔ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برآمدات بڑھانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جو 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقریباً 13.5 ارب امریکی ڈالر پر جامد رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی محصولات کی سطح آئی ایم ایف پروگرام میں ایک اہم ہدف ہے۔ 2025-26 کے لیے ہدف شدہ سالانہ نمو کی شرح 19 فیصد ہے۔ پہلے نو ماہ میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب تقریباً 700 ارب روپے کا خلا ہے۔ خوش قسمتی سے، اپریل میں نمو کی شرح بظاہر زیادہ رہی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر درآمدات کی سی آئی ایف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے، جس سے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی محصولات بڑھیں۔ مارچ اور اپریل میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی محصولات کے اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے معیشت پر پہلے ہی کچھ منفی اثرات واضح ہو چکے ہیں۔ 2025-26 کے اختتام تک بیلنس آف پیمنٹس میں موجودہ کھاتے کا خسارہ اصل پیش گوئی سے کافی زیادہ ہوگا۔ یہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالے گا، یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے آنے والے 1.2 ملین امریکی ڈالر کی ریلیز کے بعد بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والا بجٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے اقدامات 2026-27 میں معیشت کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں سال کے لیے مقرر کردہ اصل اہداف اب بڑھتی ہوئی حد تک قابل اطلاق نہیں رہے۔ ہم پروگرام کے تیسرے جائزے کی اسٹاف رپورٹ کی پیشکش کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ 2026-27 کے لیے معیشت کے تخمینے دیکھے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 12 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔</strong></p>
<p>بہت سے منفی اثرات ظاہر ہو چکے ہیں۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جنگ سے پہلے فروری میں 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر اپریل کے آخر تک 108 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور اب یہ 101 امریکی ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہے۔ ایل این جی، ایل پی جی، اور کھاد جیسی اہم اشیاء کی برآمدات کے ذریعے سپلائی میں زبردست کمی کی گئی ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے درآمدات اور مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء دونوں کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>اس مضمون کا مقصد مارچ اور اپریل میں خاص طور پر پچھلے مہینوں کے سلسلے میں اہم اقتصادی تغیرات جیسے مہنگائی کی شرح، درآمدات اور برآمدات کی سطح، ترسیلات زر، ٹیکس محصولات وغیرہ کی شدت میں تبدیلی کی حد کا تعین کرنا ہے۔ تاہم، پی بی ایس (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس) اور ایس بی پی (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) نے ابھی تک اپریل 2026 کے متعدد متغیرات کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔</p>
<p>سب سے پہلا متغیر جس کا تجزیہ فروری، مارچ اور اپریل 2026 کے مہینوں کے رجحانات کے تناظر میں کیا گیا ہے، وہ مہنگائی کی شرح ہے۔ واضح طور پر مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سالانہ بنیاد پر، یہ فروری میں 7 فیصد تھی، مارچ میں معمولی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی اور اب اپریل میں بڑی حد تک بڑھ کر دو ہندسوں کی شرح یعنی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>اپریل میں موٹر فیول کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 40 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ تقریباً 38 فیصد کے اضافے کے ساتھ ٹرانسپورٹ سروسز کے چارجز کا ملاپ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہِ راست اثر اپریل 2026 میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کے اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر، غیر خوراکی اشیاء کی قیمتیں اپریل میں تقریباً 14 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ خوش قسمتی سے، خوراک کی قیمتوں میں معتدل اضافہ ہوا ہے، جو 7 فیصد تک ہے۔ غیر خوراکی اشیاء کے گروپ میں، بجلی کے چارجز میں 34 فیصد، گیس کے چارجز میں 23 فیصد اور مائع ہائیڈروکاربنز میں 63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>ہفتہ وار سپلائی پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے مطابق جو ہفتہ 7 مئی 2026 کو ختم ہوا، مہنگائی کی شرح مزید بڑھ کر 15.2 فیصد ہو گئی ہے۔ جبکہ 28 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح صرف 4 فیصد تھی۔ لہٰذا مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>اب ہم پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کے موجودہ کھاتے میں حالیہ رجحانات کی طرف آتے ہیں۔ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے نے بھی تجارتی توازن پر منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں درآمدات میں 29 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جو تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، اپریل میں تجارتی توازن کا خسارہ 4.1 ارب امریکی ڈالر ہے، جو فروری کے خسارے سے 40 فیصد سے زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ممکنہ طور پر بہت تشویشناک ہے۔ اگر پہلے ہدف شدہ سالانہ خسارہ موجودہ کھاتے میں 2.4 ارب امریکی ڈالر کا متوقع تھا، تو خطرہ ہے کہ یہ 2025-26 کے آخر تک تقریباً 7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>موجودہ کھاتے کے خسارے میں اضافہ ہوم ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مارچ 2026 تک کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق، فروری 2026 کے مقابلے میں ریمیٹنسیز میں 5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کا آدھا سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آنے والی ریمیٹنسیز میں کمی کی وجہ سے ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں، خاص طور پر یو اے ای سے، ہوم ریمیٹنسیز کے بہاؤ میں مزید بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>زر مبادلہ کے ذخائر میں مارچ کے 16.4 ارب امریکی ڈالر سے 24 اپریل 2026 تک 15.8 ارب امریکی ڈالر تک 3 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ خوش قسمتی سے، یو اے ای میں ٹائم ڈپازٹس کے واپسی کے ساتھ سعودی عرب سے ڈپازٹس کی آمد بھی ہوئی ہے۔</p>
<p>کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ (کیو آئی ایم ) میں قلیل مدتی رجحانات کچھ حد تک متضاد ہیں۔ سالانہ بنیاد پر، مارچ میں پیداوار 11 فیصد سے زائد بڑھ گئی، مگر ماہانہ بنیاد پر یہ 5 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے۔</p>
<p>وہ صنعتیں جو جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں براہِ راست متاثر ہوں گی، اس وقت متضاد رجحانات دکھا رہی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات (پی او ایل) کی صنعت نے مارچ میں سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد کی ترقی حاصل کی، جو جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے دوران حاصل ہونے والی تقریباً 11 فیصد کی شرح نمو سے کہیں کم ہے۔ خوش قسمتی سے، اس بڑے اضافے نے قلت کو محدود رکھا۔</p>
<p>تاہم، دیگر صنعتیں، خاص طور پر درآمد شدہ ان پٹس کی کمی کی وجہ سے، زوال دکھانے لگیں ہیں۔ فرٹیلائزر کی پیداوار مارچ میں 8 فیصد کم ہوئی، جبکہ پہلے یہ صنعت صرف 1 فیصد کمی دکھا رہی تھی۔ اسی طرح، سیمنٹ کی پیداوار مارچ میں تقریباً 7 فیصد کم ہوئی، جبکہ پچھلے مہینوں میں اس میں 9 فیصد مثبت نمو دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>ٹیکسٹائل کی صنعت مسلسل مایوس کن کارکردگی دکھا رہی ہے۔ جولائی تا مارچ کے نو ماہ کے عرصے میں اس صنعت کی پیداوار میں تقریباً صفر نمو رہی۔ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برآمدات بڑھانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جو 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں تقریباً 13.5 ارب امریکی ڈالر پر جامد رہیں۔</p>
<p>ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی محصولات کی سطح آئی ایم ایف پروگرام میں ایک اہم ہدف ہے۔ 2025-26 کے لیے ہدف شدہ سالانہ نمو کی شرح 19 فیصد ہے۔ پہلے نو ماہ میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب تقریباً 700 ارب روپے کا خلا ہے۔ خوش قسمتی سے، اپریل میں نمو کی شرح بظاہر زیادہ رہی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر درآمدات کی سی آئی ایف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہے، جس سے سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی محصولات بڑھیں۔ مارچ اور اپریل میں پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی محصولات کے اعداد و شمار ابھی جاری نہیں کیے گئے ہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے معیشت پر پہلے ہی کچھ منفی اثرات واضح ہو چکے ہیں۔ 2025-26 کے اختتام تک بیلنس آف پیمنٹس میں موجودہ کھاتے کا خسارہ اصل پیش گوئی سے کافی زیادہ ہوگا۔ یہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالے گا، یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے آنے والے 1.2 ملین امریکی ڈالر کی ریلیز کے بعد بھی۔</p>
<p>آنے والا بجٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے اقدامات 2026-27 میں معیشت کے لیے راہ ہموار کریں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں سال کے لیے مقرر کردہ اصل اہداف اب بڑھتی ہوئی حد تک قابل اطلاق نہیں رہے۔ ہم پروگرام کے تیسرے جائزے کی اسٹاف رپورٹ کی پیشکش کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ 2026-27 کے لیے معیشت کے تخمینے دیکھے جا سکیں۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 12 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505270</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:29:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/13112603c288e3d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/13112603c288e3d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روپے کی قدر میں مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505377/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی سطح پر خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں کہ پاکستان اپنی عالمی مسابقت کھو رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی شعبوں میں، جس کی بڑی وجہ ایک اسٹکی یعنی غیر لچکدار ایکسچینج ریٹ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشکلات موجودہ کموڈیٹی پرائس شاک کے باعث مزید بڑھ رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی کرنسیاں، بشمول بھارت کی کرنسی، بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام ہمیشہ کی طرح ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حساس رویہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی روپے نے گزشتہ تین سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چند فیصد اضافہ دکھایا ہے۔ اس سے پہلے والے سال میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی، اور یہ ایڈجسٹمنٹ افراط زر اور شرح سود کے فرق کے مطابق نہیں تھی، جس کا اندازہ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ یعنی آر ای ای آر کی ویلیو 85 سے 87 سے ہوتا ہے، جو 2023 کے پہلے نصف میں دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے دو سال ایک کیچ اپ پیریڈ رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا، اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی کے بعد افراط زر بھی کم ہوا۔ تاہم حالیہ عرصے میں، عالمی تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایکسچینج ریٹ دوبارہ اوور ویلیوڈ دکھائی دے رہا ہے۔ آر ای ای آر مارچ 2026 میں بڑھ کر 105.2 تک پہنچ گیا، جو ستمبر 2018 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس کا تدریجی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، ورنہ چند مہینوں یا سہ ماہیوں میں کرنسی اچانک اور شدید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے، جو صحت مند عمل نہیں ہوگا اور خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بروقت ایڈجسٹمنٹ کی جائے، جس سے مسابقت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ برآمدات صرف کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بڑھتیں، جو جزوی طور پر درست ہے، لیکن اوور ویلیوڈ کرنسی موجودہ ایکسپورٹ بیس کو کمزور کرتی ہے اور درآمدات کو سستا کر کے تجارتی خسارے پر دباؤ ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سالوں میں، 12 ماہ کے رولنگ بیس پر، اندرونی ترسیلات زر میں 13 ارب ڈالر یعنی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے، اگرچہ اسی مدت میں تجارتی توازن 12 ارب ڈالر تک خراب ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب خلیجی ممالک کی معیشتوں میں سست روی اور ایران امریکہ جنگ کے بعد ممکنہ اثرات کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان کی تقریباً 50 فیصد ترسیلات انہی ممالک سے آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات میں قیمتوں کے بڑھنے سے دباؤ مزید بڑھے گا، جو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالے گا اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی طلب کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کیا ہے اور امکان ہے کہ جون میں مزید اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ مہنگائی مئی اور جون میں 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ ایکسچینج ریٹ کو بھی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کیا جائے، جس سے برآمدات کو استحکام ملے گا۔ ترسیلات زر شرح مبادلہ سے زیادہ حساس نہیں ہوتیں، لیکن برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ ایک کم ویلیو ایڈڈ یارن اور فیبرک ہے، جس کا حصہ کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ زیادہ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس اور اپیرل لے رہا ہے۔ یہ مثبت بات ہے، لیکن بڑھتا ہوا شعبہ اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ معروف ٹیکسٹائل ایکسپورٹر مصدق ذوالقرنین کے مطابق مزدوری لاگت کل اخراجات کا 20 سے 25 فیصد ہے، جو ڈالر میں گزشتہ تین سالوں میں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ کم از کم اجرت میں دو سال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے انڈسٹری کے مارجنز میں 5 سے 6 فیصد کمی آئی ہے، جہاں پہلے ہی مارجنز بہت کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجرتوں میں اضافہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن ساتھ ہی روپے کی قدر کو بھی اس طرح ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا کہ برآمد کنندگان کے مارجنز برقرار رہیں۔ یہی صورتحال آئی ٹی برآمدات میں بھی ہے، جہاں لیبر لاگت 70 سے 80 فیصد ہے اور وہ بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص آر ای ای آر لیول کے ساتھ ایک واضح ایکسچینج ریٹ پالیسی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے بینکوں کے ٹریژری افسران بھی سمجھتے ہیں کہ روپے میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، تاہم ایک بینکر کے مطابق اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک یا پالیسی ساز اداروں کو کسی مخصوص سطح کے ساتھ شادی نہیں کرلینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے حال ہی میں کہا کہ مرکزی بینک نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔ ان کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈالر نہ خریدے ہوتے تو کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی تھی اور روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2023 کے بعد سے مجموعی طور پر صرف 0.3 ارب ڈالر سرپلس میں رہا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر، جو بیرونی قرضوں اور واجبات کو منہا کرنے کے بعد دیکھے جائیں، صرف 3.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ (اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 13.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 10 ارب ڈالر بڑھ گئے۔) اگر ہم فارورڈ واجبات میں 3 ارب ڈالر کی کمی کو بھی شامل کریں تو مجموعی طور پر نیٹ ذخائر، جو فارورڈ واجبات کے مطابق ایڈجسٹ کیے گئے ہوں، 6.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خریدے گئے 27 ارب ڈالر میں سے تقریباً 20 ارب ڈالر دراصل کرنٹ اکاؤنٹ کو فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوئے، کیونکہ اسٹیٹ بینک حکومتی قرض پر سود ادا کرتا ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ بنتا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کا ایک غیر اعلانیہ اصول یہ بھی ہے کہ بینک ایک دوسرے سے ڈالر نہ خریدیں بلکہ اپنی آؤٹ فلو ضروریات اپنی ان فلو سے پوری کریں۔ اس کے بعد جو اضافی ڈالر بچیں وہ اسٹیٹ بینک جذب کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حکمت عملی آئندہ ممکنہ طور پر کارآمد نہیں رہے گی، کیونکہ امکان ہے کہ مالی سال 27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا، جس سے ذخائر میں اضافہ رک سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی اقدامات کیے جائیں، ورنہ آنے والے مہینوں یا سہ ماہیوں میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کا نسخہ یہ ہے کہ کرنسی میں 3 سے 5 فیصد تک تدریجی کمی کی جائے، اور اسے واضح اور منظم انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ گھبراہٹ پیدا نہ ہو، مسابقت بحال ہو، اور بعد میں زیادہ شدید اور نقصان دہ ایڈجسٹمنٹ سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی سطح پر خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں کہ پاکستان اپنی عالمی مسابقت کھو رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی شعبوں میں، جس کی بڑی وجہ ایک اسٹکی یعنی غیر لچکدار ایکسچینج ریٹ ہے۔</strong></p>
<p>یہ مشکلات موجودہ کموڈیٹی پرائس شاک کے باعث مزید بڑھ رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔</p>
<p>علاقائی کرنسیاں، بشمول بھارت کی کرنسی، بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام ہمیشہ کی طرح ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حساس رویہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔</p>
<p>پاکستانی روپے نے گزشتہ تین سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چند فیصد اضافہ دکھایا ہے۔ اس سے پہلے والے سال میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی، اور یہ ایڈجسٹمنٹ افراط زر اور شرح سود کے فرق کے مطابق نہیں تھی، جس کا اندازہ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ یعنی آر ای ای آر کی ویلیو 85 سے 87 سے ہوتا ہے، جو 2023 کے پہلے نصف میں دیکھا گیا۔</p>
<p>اگلے دو سال ایک کیچ اپ پیریڈ رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا، اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی کے بعد افراط زر بھی کم ہوا۔ تاہم حالیہ عرصے میں، عالمی تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایکسچینج ریٹ دوبارہ اوور ویلیوڈ دکھائی دے رہا ہے۔ آر ای ای آر مارچ 2026 میں بڑھ کر 105.2 تک پہنچ گیا، جو ستمبر 2018 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس کا تدریجی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، ورنہ چند مہینوں یا سہ ماہیوں میں کرنسی اچانک اور شدید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے، جو صحت مند عمل نہیں ہوگا اور خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بروقت ایڈجسٹمنٹ کی جائے، جس سے مسابقت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ برآمدات صرف کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بڑھتیں، جو جزوی طور پر درست ہے، لیکن اوور ویلیوڈ کرنسی موجودہ ایکسپورٹ بیس کو کمزور کرتی ہے اور درآمدات کو سستا کر کے تجارتی خسارے پر دباؤ ڈالتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ تین سالوں میں، 12 ماہ کے رولنگ بیس پر، اندرونی ترسیلات زر میں 13 ارب ڈالر یعنی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے، اگرچہ اسی مدت میں تجارتی توازن 12 ارب ڈالر تک خراب ہوا ہے۔</p>
<p>اب خلیجی ممالک کی معیشتوں میں سست روی اور ایران امریکہ جنگ کے بعد ممکنہ اثرات کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان کی تقریباً 50 فیصد ترسیلات انہی ممالک سے آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات میں قیمتوں کے بڑھنے سے دباؤ مزید بڑھے گا، جو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالے گا اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کرے گا۔</p>
<p>درآمدی طلب کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کیا ہے اور امکان ہے کہ جون میں مزید اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ مہنگائی مئی اور جون میں 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ ایکسچینج ریٹ کو بھی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کیا جائے، جس سے برآمدات کو استحکام ملے گا۔ ترسیلات زر شرح مبادلہ سے زیادہ حساس نہیں ہوتیں، لیکن برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ ایک کم ویلیو ایڈڈ یارن اور فیبرک ہے، جس کا حصہ کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ زیادہ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس اور اپیرل لے رہا ہے۔ یہ مثبت بات ہے، لیکن بڑھتا ہوا شعبہ اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ معروف ٹیکسٹائل ایکسپورٹر مصدق ذوالقرنین کے مطابق مزدوری لاگت کل اخراجات کا 20 سے 25 فیصد ہے، جو ڈالر میں گزشتہ تین سالوں میں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ کم از کم اجرت میں دو سال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے انڈسٹری کے مارجنز میں 5 سے 6 فیصد کمی آئی ہے، جہاں پہلے ہی مارجنز بہت کم ہیں۔</p>
<p>اجرتوں میں اضافہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن ساتھ ہی روپے کی قدر کو بھی اس طرح ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا کہ برآمد کنندگان کے مارجنز برقرار رہیں۔ یہی صورتحال آئی ٹی برآمدات میں بھی ہے، جہاں لیبر لاگت 70 سے 80 فیصد ہے اور وہ بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص آر ای ای آر لیول کے ساتھ ایک واضح ایکسچینج ریٹ پالیسی ہونی چاہیے۔</p>
<p>بڑے بینکوں کے ٹریژری افسران بھی سمجھتے ہیں کہ روپے میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، تاہم ایک بینکر کے مطابق اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک یا پالیسی ساز اداروں کو کسی مخصوص سطح کے ساتھ شادی نہیں کرلینی چاہیے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے حال ہی میں کہا کہ مرکزی بینک نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔ ان کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈالر نہ خریدے ہوتے تو کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی تھی اور روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2023 کے بعد سے مجموعی طور پر صرف 0.3 ارب ڈالر سرپلس میں رہا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر، جو بیرونی قرضوں اور واجبات کو منہا کرنے کے بعد دیکھے جائیں، صرف 3.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ (اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 13.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 10 ارب ڈالر بڑھ گئے۔) اگر ہم فارورڈ واجبات میں 3 ارب ڈالر کی کمی کو بھی شامل کریں تو مجموعی طور پر نیٹ ذخائر، جو فارورڈ واجبات کے مطابق ایڈجسٹ کیے گئے ہوں، 6.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خریدے گئے 27 ارب ڈالر میں سے تقریباً 20 ارب ڈالر دراصل کرنٹ اکاؤنٹ کو فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوئے، کیونکہ اسٹیٹ بینک حکومتی قرض پر سود ادا کرتا ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ بنتا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کا ایک غیر اعلانیہ اصول یہ بھی ہے کہ بینک ایک دوسرے سے ڈالر نہ خریدیں بلکہ اپنی آؤٹ فلو ضروریات اپنی ان فلو سے پوری کریں۔ اس کے بعد جو اضافی ڈالر بچیں وہ اسٹیٹ بینک جذب کر لیتا ہے۔</p>
<p>یہ حکمت عملی آئندہ ممکنہ طور پر کارآمد نہیں رہے گی، کیونکہ امکان ہے کہ مالی سال 27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا، جس سے ذخائر میں اضافہ رک سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی اقدامات کیے جائیں، ورنہ آنے والے مہینوں یا سہ ماہیوں میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کا نسخہ یہ ہے کہ کرنسی میں 3 سے 5 فیصد تک تدریجی کمی کی جائے، اور اسے واضح اور منظم انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ گھبراہٹ پیدا نہ ہو، مسابقت بحال ہو، اور بعد میں زیادہ شدید اور نقصان دہ ایڈجسٹمنٹ سے بچا جا سکے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505377</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 15:23:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/151513532a529b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/151513532a529b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بے سمت معیشت؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505147/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہر سال قومی بجٹ سے قبل کاروباری تنظیموں اور صنعتی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی کئی ٹھوس اصلاحی تجاویز یا تو کمزور کر دی جاتی ہیں یا پھر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، کیونکہ اکثر سیاسی مصلحت معاشی دانش پر غالب آ جاتی ہے۔</strong></p>
<p>وزرائے خزانہ، اگرچہ ساختی اصلاحات کی ضرورت سے آگاہ ہوتے ہیں، تاہم وہ عموماً قلیل مدتی سیاسی دباؤ، اتحادی تقاضوں، عوامی مقبولیت کی سیاست اور فوری محصولات کے اہداف کے باعث محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً، یکے بعد دیگرے آنے والے بجٹ طویل مدتی ٹیکس اصلاحات کے بجائے عارضی مالی نظم و نسق کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ معیشت کی گہری ساختی کمزوریاں جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔</p>
<p>قومی بجٹ 27-2026 بھی غالب امکان ہے کہ ماضی کے تسلسل ہی کا عکس ہو۔ تاہم اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار شدید مالی دباؤ کے باعث سیاسی مصلحت پر معاشی دانش غالب آ جائے، کاروباری تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اپنی تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔</p>
<p>رواں مالی سال ملک کو ایک ایسے فیصلہ کن معاشی سوال کا سامنا ہے جسے اب نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے: ’’کیا پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر سرمایہ کاری، دستاویزی معیشت اور مسابقتی صلاحیت بحال کر سکتا ہے؟‘‘</p>
<p>بڑے کاروباری حلقوں، خصوصاً اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ ٹیکس تجاویز نے ایک بار پھر اس بڑھتے ہوئے ادراک کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان اب معاشی بحالی کے لیے قلیل مدتی ٹیکس اقدامات اور ہر سال کے عبوری مالی بندوبست پر مزید انحصار نہیں کر سکتا۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کی تجاویز اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی نمائندگی اور اس کے فروغ سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے محصولات کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ او آئی سی سی آئی سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔ ملک کا یہ قدیم ترین کاروباری ایوان 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی 196 سے زائد کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم 209 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں او آئی سی سی آئی کی تجاویز سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہیں۔</p>
<p>جیسے ہی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کے لیے اپنی ٹیکس تجاویز پیش کی ہیں، اسلام آباد ایک اہم پالیسی انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے: آیا بحرانوں سے نمٹنے کے لیے عارضی اور وقتی ٹیکس اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر بالآخر ایک ایسا مستحکم، سرمایہ کاری دوست مالیاتی نظام تشکیل دیا جائے جو معاشی نمو، اعتماد اور مسابقتی صلاحیت کی بحالی ممکن بنا سکے۔</p>
<p>پاکستان کی معاشی بحث طویل عرصے سے ایک مستقل تضاد کے گرد گھومتی رہی ہے: ریاست کو محصولات کی شدید ضرورت ہے، مگر ٹیکس وصولی کے لیے اختیار کیے جانے والے یہی طریقے سرمایہ کاری کو دباتے، معیشت کی دستاویزی شکل کی حوصلہ شکنی کرتے اور طویل مدتی پیداواری صلاحیت کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں او آئی سی سی آئی کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے پیش کی گئی تازہ ٹیکس تجاویز ملک کے معاشی مستقبل کے لیے ایک نہایت اہم موڑ پر سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>یہ تجاویز محض بجٹ سے متعلق معمول کی سفارشات نہیں بلکہ مالیاتی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا ایک جامع مطالبہ ہیں۔ ان کا بنیادی مؤقف واضح ہے: ’’پاکستان اب معیشت کے پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بار بار زیادہ ٹیکس عائد کر کے معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ پائیدار محصولات میں اضافہ صرف ٹیکس نیٹ کی توسیع، ڈیجیٹلائزیشن، قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔‘‘</p>
<p>اس تشخیص سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ آج پاکستان کو مالی دباؤ، کمزور پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت میں کمی، سرمائے کے انخلا کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد جیسے سنگین مسائل کا بیک وقت سامنا ہے۔</p>
<p>اگرچہ معاشی استحکام کے لیے کیے گئے بعض اقدامات نے وقتی طور پر بیرونی قرضوں کے بحران کے خطرات کم کیے ہیں، تاہم معیشت کا بنیادی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ خطے میں پاکستان کا ٹیکس نیٹ بدستور محدود ترین شمار ہوتا ہے، جبکہ رسمی یا دستاویزی شعبہ غیر متناسب حد تک ٹیکس بوجھ اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>اس کے نتائج بھی متوقع ہی رہے ہیں۔ دستاویزی کاروبار بڑھتے ہوئے ضابطہ جاتی اخراجات اور پیچیدہ قواعد کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ یا تو معمولی ٹیکس دے رہا ہے یا مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ اس عدم توازن نے بتدریج ایک ایسا بگڑا ہوا معاشی ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ٹیکس کی پابندی قومی ذمہ داری کے بجائے کاروباری نقصان بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز بجا طور پر دستاویزی معیشت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات کا مرکزی ستون قرار دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں جدید ٹیکس نظام اب تیزی سے ڈیجیٹل انضمام، لین دین کی قابلِ سراغ نگرانی، ڈیٹا اینالیٹکس اور خودکار نظاموں پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ محصولات میں ہونے والے ضیاع کو کم اور وصولیوں کی استعداد بہتر بنائی جا سکے۔</p>
<p>پاکستان نے بھی ڈیجیٹل انوائسنگ، آن لائن فائلنگ نظام اور بینکاری دستاویزات کی شرائط کے ذریعے جزوی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس کا نفاذ اب بھی غیر مربوط اور غیر مستقل ہے۔</p>
<p>اصل موقع ٹیکس نظام کو وسیع تر ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ منسلک کرنے میں پوشیدہ ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں، ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ اور ڈیٹا سے منسلک تعمیلی نظام غیر دستاویزی سرگرمیوں میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں، وہ بھی ضرورت سے زیادہ سخت ٹیکس اقدامات کے بغیر۔</p>
<p>جن ممالک نے محصولات میں کامیاب اضافہ کیا، خواہ ترکیہ ہو، انڈونیشیا یا ویت نام ، انہوں نے یہ ہدف محض ٹیکس شرحیں بڑھا کر حاصل نہیں کیا بلکہ معیشت کو زیادہ رسمی اور دستاویزی بنا کر حاصل کیا۔</p>
<p>اسی طرح او آئی سی سی آئی کی جانب سے پالیسی میں تسلسل اور پیش گوئی کی صلاحیت پر زور بھی نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ماحول کا ایک بڑا مسئلہ اچانک پالیسی تبدیلیاں، ماضی سے لاگو کیے گئے اقدامات، ودہولڈنگ ٹیکس کی پیچیدگیاں اور مسلسل بدلتے تعمیلی تقاضے رہے ہیں۔ چاہے سرمایہ کار مقامی ہوں یا غیر ملکی، وہ ایسے ماحول میں طویل مدتی فیصلے نہیں کرتے جہاں چند ماہ کے اندر ٹیکس ذمہ داریاں غیر متوقع انداز میں تبدیل ہو سکتی ہوں۔</p>
<p>اس غیر یقینی صورتحال کی معیشت کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم، بلکہ شرمناک حد تک محدود ہے، حالانکہ ملک کی جغرافیائی اہمیت، آبادی کی صلاحیت اور منڈی کا حجم نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی صنعتی توسیع کے بجائے سرمائے کے تحفظ، جائیداد میں قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری یا بیرونِ ملک سرمایہ منتقل کرنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔</p>
<p>مسئلہ صرف ٹیکس کی بلند شرحیں نہیں بلکہ ضابطہ جاتی تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پاکستان خود کو ایک قابلِ اعتماد سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے تو ٹیکس پالیسی کو قلیل مدتی محصولات اکٹھا کرنے کے آلے سے نکال کر معاشی ترقی کے ایک اسٹریٹجک ذریعہ بنانا ہوگا۔ اس کے لیے کئی بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں، جن سے پالیسی ساز بخوبی واقف ہیں۔ یہ تجاویز ہر سال دہرائی جاتی ہیں مگر تاحال بے نتیجہ رہی ہیں۔ ایک بار پھر یہی نکات دہرائے جا رہے ہیں: ’’ٹیکس نیٹ کو عمودی کے بجائے افقی بنیادوں پر وسیع کیا جائے، تعمیلی نظام کو آسان اور کم تصادم پر مبنی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس پالیسی کو صنعتی مسابقت اور برآمدات پر مبنی شعبوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کی صنعتوں، مینوفیکچرنگ کی جدید کاری، لاجسٹکس انفرااسٹرکچر اور ویلیو ایڈڈ پیداوار کے لیے مستحکم مراعات اور طویل مدتی پالیسی وضاحت ناگزیر ہے۔‘‘</p>
<p>تاہم اصلاحات کا انحصار بالآخر سیاسی عزم پر ہی ہوگا۔</p>
<p>ہر حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، معیشت کو دستاویزی بنانے اور نظام کو آسان بنانے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے، مگر بہت کم حکومتیں ان اصلاحات کو اتنے تسلسل سے آگے بڑھاتی ہیں کہ غیر رسمی معیشت اور استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے والے طاقتور مفادات کا سامنا کر سکیں۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آبادی کے دباؤ، تکنیکی تبدیلی، علاقائی روابط کے مواقع اور عالمی سپلائی چین میں ردوبدل کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر بامعنی مالیاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مواقع ایک بار پھر ان علاقائی معیشتوں کے حصے میں جا سکتے ہیں جو زیادہ پیش گوئی، استحکام اور مؤثر نظام فراہم کر رہی ہیں۔</p>
<p>لہٰذا او آئی سی سی آئی کی تجاویز کو محض کاروباری آسانیوں کے خواہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سفارشات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ درحقیقت اس وسیع تر معاشی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں جسے پاکستان کی کاروباری برادری اب تیزی سے تسلیم کر رہی ہے کہ ایک مستحکم، شفاف اور ترقی دوست ٹیکس نظام اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<hr />
<p>نوٹ: یہ تحریر 9 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Blog</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505147</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 16:00:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/091557345439a1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/091557345439a1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
