<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 12:42:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 12:42:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد مذاکرات کامیاب بنانے کی کوششیں، محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503852/islamabad-talks-20-mohsin-naqvi-natalie-baker-us-ambassador-pakistan-iran-israel-war</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے صدر ٹرمپ کے اقدام کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے سفارتی ذرائع کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2047184997665411146'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2047184997665411146"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور امریکہ اپنی شرائط میں کسی قسم کی نرمی نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے لچک دکھائی ہے لیکن ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کسی بھی مختصر ڈیڈ لائن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا تعین خود صدر کریں گے اور جب تک ایران کی قیادت امریکی تجاویز کا متفقہ جواب نہیں دیتی، عارضی جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ معاشی دباؤ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لا رہا ہے اور ان کا فوجی آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تہران میں ایرانی قیادت نے امریکی موقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ سیز فائر کا کوئی فائدہ نہیں اگر ناکہ بندی کے ذریعے معیشت کو یرغمال بنایا جاتا رہے، ان کے بقول اس پامالی کے ہوتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ دھونس دھمکیوں سے امریکا اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا اور ایرانیوں کے حقوق تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مذاکرات کے لیے محاصرے اور دھمکیوں کو اصل رکاوٹ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے عمل اور دعووں میں تضاد کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام تلخیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی کے باعث جمعہ کو مذاکرات کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اگلے 36 سے 72 گھنٹے کسی بڑے بریک تھرو کے لیے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فریقین کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنا دفاع کرنے کے عزم کو دہرایا ہے، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی ان ملاقاتوں نے دونوں ممالک کو ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</strong></p>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے صدر ٹرمپ کے اقدام کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ دیرپا حل تک پہنچنے کے لیے سفارتی ذرائع کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2047184997665411146'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2047184997665411146"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب واشنگٹن سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور امریکہ اپنی شرائط میں کسی قسم کی نرمی نہیں کرے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے لچک دکھائی ہے لیکن ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنی ہوگی۔</p>
<p>ترجمان نے کسی بھی مختصر ڈیڈ لائن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا تعین خود صدر کریں گے اور جب تک ایران کی قیادت امریکی تجاویز کا متفقہ جواب نہیں دیتی، عارضی جنگ بندی برقرار رہ سکتی ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ معاشی دباؤ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لا رہا ہے اور ان کا فوجی آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔</p>
<p>ادھر تہران میں ایرانی قیادت نے امریکی موقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ سیز فائر کا کوئی فائدہ نہیں اگر ناکہ بندی کے ذریعے معیشت کو یرغمال بنایا جاتا رہے، ان کے بقول اس پامالی کے ہوتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ دھونس دھمکیوں سے امریکا اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا اور ایرانیوں کے حقوق تسلیم کرنا ہی واحد راستہ ہے۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مذاکرات کے لیے محاصرے اور دھمکیوں کو اصل رکاوٹ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے عمل اور دعووں میں تضاد کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>ان تمام تلخیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی کے باعث جمعہ کو مذاکرات کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اگلے 36 سے 72 گھنٹے کسی بڑے بریک تھرو کے لیے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ فریقین کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنا دفاع کرنے کے عزم کو دہرایا ہے، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی ان ملاقاتوں نے دونوں ممالک کو ایک بار پھر بات چیت کی میز پر لانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503852</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 12:33:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/231232088c15d28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/231232088c15d28.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی بڑے تنازع کی راہ روکنے اور سیز فائر کے دوران مستقل معاہدے کی کوشش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503808/us-iran-talks-in-islamabad-pakistan-islamabad-talks-20-iranian-ambassador-reza-amiri-moghadam-pm-shehbaz-sharif</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے امریکی صدر کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جو بھی معاہدہ طے پائے وہ دیرپا اور مستحکم ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی اسلام آباد میں نمائندہ کمبرلی ہیلکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی درخواست پر ہی امریکی صدر نے نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا بلکہ اسے کسی حتمی تاریخ کے بغیر کھلا چھوڑ دیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کے لیے بھرپور وقت مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، یہ سفارتی کوششیں صرف جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے آخری لمحات تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی قیادت مسلسل دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں رہی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی پوری قوت سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت وزیراعظم پاکستان اور ایرانی سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2046877698132427226?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2046877698132427226?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو امریکا کی جانب سے دیے گئے امن کے ڈھانچے کو ایرانی حکام تک پہنچا رہا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمبرلی کے مطابق، پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ اس وقت فریقین کے درمیان براہِ راست رابطوں کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کا محور یہ ہے کہ ایران اور امریکا ایک ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیں جو نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بڑے تنازع کی راہ روک سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے صدر ٹرمپ کو قائل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے جس سے جنگ کے بادل فی الحال چھٹ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والی ایک اہم بیٹھک میں صدر ٹرمپ نے اپنی دفاعی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی، کیونکہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی تھی اور نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی انتظامیہ کو اس وقت شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کی جانب سے خاموشی برقرار رہی اور مذاکرات کے لیے بھیجے گئے بنیادی نکات پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے پاکستان کے اعلیٰ ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی رابطہ کیا تاکہ نائب صدر کی روانگی سے قبل ایرانیوں کا کوئی ردعمل حاصل کیا جا سکے، لیکن کافی انتظار کے بعد بھی کوئی جواب نہ آیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503802/president-donald-trump-iran-us-ceasefire-us-iran-ceasefire-ceasefire-talks-us-iran-negociations-iran-us-peace-talks-iran-israel-war-islamabad-islamabad-talks-20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا ماننا ہے کہ ایران میں اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا کہ یورینیم کی افزودگی اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503760/benjamin-netanyahu-israel-islamabad-talks-hope-fails-lebanon-hezbollah-iran-war'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503760"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پیچیدہ صورتحال میں صدر ٹرمپ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کے بجائے جنگ بندی میں توسیع کر دی تاکہ سفارتی راستہ کھلا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی حکام کے بیانات میں سختی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503790/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی بڑھا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایک بہترین معاہدہ طے پا جائے گا، کیونکہ ان کے بقول ایران کی فوجی طاقت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے امریکی صدر کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جو بھی معاہدہ طے پائے وہ دیرپا اور مستحکم ہو۔</strong></p>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی اسلام آباد میں نمائندہ کمبرلی ہیلکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی درخواست پر ہی امریکی صدر نے نہ صرف جنگ بندی میں توسیع کا فیصلہ کیا بلکہ اسے کسی حتمی تاریخ کے بغیر کھلا چھوڑ دیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب ہونے کے لیے بھرپور وقت مل سکے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، یہ سفارتی کوششیں صرف جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے آخری لمحات تک محدود نہیں تھیں بلکہ پاکستانی قیادت مسلسل دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں رہی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی پوری قوت سے جاری ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت وزیراعظم پاکستان اور ایرانی سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2046877698132427226?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2046877698132427226?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان اس وقت ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو امریکا کی جانب سے دیے گئے امن کے ڈھانچے کو ایرانی حکام تک پہنچا رہا ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔</p>
<p>کمبرلی کے مطابق، پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ اس وقت فریقین کے درمیان براہِ راست رابطوں کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں کا محور یہ ہے کہ ایران اور امریکا ایک ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیں جو نہ صرف جنگ کا خاتمہ کرے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بڑے تنازع کی راہ روک سکے۔</p>
<p>انہوں نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے صدر ٹرمپ کو قائل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے جس سے جنگ کے بادل فی الحال چھٹ گئے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والی ایک اہم بیٹھک میں صدر ٹرمپ نے اپنی دفاعی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی، کیونکہ جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی تھی اور نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان روانگی کے لیے تیار کھڑا تھا۔</p>
<p>امریکی انتظامیہ کو اس وقت شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کی جانب سے خاموشی برقرار رہی اور مذاکرات کے لیے بھیجے گئے بنیادی نکات پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
<p>امریکی حکام نے پاکستان کے اعلیٰ ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی رابطہ کیا تاکہ نائب صدر کی روانگی سے قبل ایرانیوں کا کوئی ردعمل حاصل کیا جا سکے، لیکن کافی انتظار کے بعد بھی کوئی جواب نہ آیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503802/president-donald-trump-iran-us-ceasefire-us-iran-ceasefire-ceasefire-talks-us-iran-negociations-iran-us-peace-talks-iran-israel-war-islamabad-islamabad-talks-20'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503802"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی مشیروں کا خیال ہے کہ اس خاموشی کی بڑی وجہ ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات ہیں۔</p>
<p>ان کا ماننا ہے کہ ایران میں اس بات پر اتفاق نہیں ہو پا رہا کہ یورینیم کی افزودگی اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات کاروں کو کتنے اختیارات دیے جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503760/benjamin-netanyahu-israel-islamabad-talks-hope-fails-lebanon-hezbollah-iran-war'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503760"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس پیچیدہ صورتحال میں صدر ٹرمپ نے حملے دوبارہ شروع کرنے کے بجائے جنگ بندی میں توسیع کر دی تاکہ سفارتی راستہ کھلا رہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی حکام کے بیانات میں سختی نظر آتی ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا کہ ٹرمپ کی جنگ بندی کی توسیع کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ناکہ بندی کا جاری رہنا بمباری سے مختلف نہیں ہے، جس کا جواب فوجی کارروائی سے دیا جانا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503790/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی بڑھا رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ ایک بہترین معاہدہ طے پا جائے گا، کیونکہ ان کے بقول ایران کی فوجی طاقت کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>اب تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں کہ کیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503808</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 15:59:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2215560634f8328.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2215560634f8328.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد میں آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل، اٹک ریفائنری کا اہم یونٹ بند</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503809/islamabad-oil-tanker-movement-suspended-attock-refinery-unit-closed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں تیل ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری کو اپنا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ بند کرنا پڑ گیا، جس سے خام تیل کی فراہمی اور تیار مصنوعات کی ترسیل شدید متاثر ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹک ریفائنری لمیٹیڈ نے اعلان کیا ہے کہ ٹینکرز کی بندش کے باعث اس نے اپنا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ بند کر دیا ہے، جس کی یومیہ گنجائش 32 ہزار 400 بیرل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریفائنری نے صورتحال سے متعلق  پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ کمپنی کے نوٹس کے مطابق ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہونے سے خام تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں بتایا گیا کہ سڑکوں کی بندش کے باعث خام تیل کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ریفائنری آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق تیار مصنوعات، خصوصاً موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل میں بھی شدید رکاوٹ کا سامنا ہے، جبکہ ترسیلی مسائل کے باعث ان مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹک ریفائنری کا کہنا ہے کہ لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث آئل سپلائی چین دباؤ کا شکار ہو رہی ہے، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹک ریفائنری کی بنیاد 8 نومبر 1978 کو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی، جسے 26 جون 1979 کو پبلک کمپنی میں تبدیل کیا گیا۔ یہ کمپنی بنیادی طور پر خام تیل کی ریفائننگ کے شعبے میں کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادارہ اٹک آئل کمپنی لمیٹڈ (انگلینڈ) کی ذیلی کمپنی ہے، جبکہ اس کی حتمی پیرنٹ کمپنی کورل ہولڈنگ لمیٹڈ ہے، جو مالٹا میں رجسٹرڈ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں تیل ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری کو اپنا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ بند کرنا پڑ گیا، جس سے خام تیل کی فراہمی اور تیار مصنوعات کی ترسیل شدید متاثر ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>اٹک ریفائنری لمیٹیڈ نے اعلان کیا ہے کہ ٹینکرز کی بندش کے باعث اس نے اپنا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ بند کر دیا ہے، جس کی یومیہ گنجائش 32 ہزار 400 بیرل ہے۔</p>
<p>ریفائنری نے صورتحال سے متعلق  پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ کمپنی کے نوٹس کے مطابق ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہونے سے خام تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>نوٹس میں بتایا گیا کہ سڑکوں کی بندش کے باعث خام تیل کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ریفائنری آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق تیار مصنوعات، خصوصاً موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل میں بھی شدید رکاوٹ کا سامنا ہے، جبکہ ترسیلی مسائل کے باعث ان مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>اٹک ریفائنری کا کہنا ہے کہ لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث آئل سپلائی چین دباؤ کا شکار ہو رہی ہے، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p>اٹک ریفائنری کی بنیاد 8 نومبر 1978 کو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی، جسے 26 جون 1979 کو پبلک کمپنی میں تبدیل کیا گیا۔ یہ کمپنی بنیادی طور پر خام تیل کی ریفائننگ کے شعبے میں کام کرتی ہے۔</p>
<p>یہ ادارہ اٹک آئل کمپنی لمیٹڈ (انگلینڈ) کی ذیلی کمپنی ہے، جبکہ اس کی حتمی پیرنٹ کمپنی کورل ہولڈنگ لمیٹڈ ہے، جو مالٹا میں رجسٹرڈ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503809</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:50:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/221429016a35fd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/221429016a35fd5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فالس فلیگ پہلگام حملے کو ایک سال مکمل، بھارت آج تک کوئی ثبوت نہ دے سکا: عطا تارڑ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503800/indias-hollow-thinking-and-deceit-have-been-exposed-atta-tarar</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن کے مشن پر آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، اور کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ آج پہلگام فلیگ آپریشن کو 1 سال پورا ہو چکا ہے، آج تک بھارت اپنے موقف کے حق میں شواہد پیش نہیں کر سکا، پہلگام واقعہ کھوکھلے پن، غیر منطقی، جھوٹی انا، تکبر و حرص پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو کھوکھلے پن، غیر منطقی رویے، جھوٹی انا، تکبر اور مفاد پرستی پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطاء تارڑ کے مطابق بھارت پہلگام واقعے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دینے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا ہے، جبکہ اس واقعے کی ایف آئی آر محض 10 منٹ میں درج کی گئی، جو پہلے سے تیار شدہ متن کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460372/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460372"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جسے وہ بیرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی کھوکھلی سوچ اور مبینہ مکاری اب واضح ہو چکی ہے، اور عالمی میڈیا، بھارتی سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور تھنک ٹینکس نے بھی اس واقعے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس معاملے پر بھونڈے طریقے اختیار کیے اور فالس فلیگ آپریشنز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطاء تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے پہلگام واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460421'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460421"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے اور وہ صرف من گھڑت بیانیے کو فروغ دیتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیاں دنیا کے سامنے ہیں، اور ملک اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کوئی بھی مہم جوئی کی تو پاکستان اس کا فیصلہ کن جواب دے گا، جبکہ پوری قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم پر متفق ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن کے مشن پر آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، اور کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان بھرپور جواب دے گا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ آج پہلگام فلیگ آپریشن کو 1 سال پورا ہو چکا ہے، آج تک بھارت اپنے موقف کے حق میں شواہد پیش نہیں کر سکا، پہلگام واقعہ کھوکھلے پن، غیر منطقی، جھوٹی انا، تکبر و حرص پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو کھوکھلے پن، غیر منطقی رویے، جھوٹی انا، تکبر اور مفاد پرستی پر مبنی ہے۔</p>
<p>عطاء تارڑ کے مطابق بھارت پہلگام واقعے کو فالس فلیگ آپریشن قرار دینے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہا ہے، جبکہ اس واقعے کی ایف آئی آر محض 10 منٹ میں درج کی گئی، جو پہلے سے تیار شدہ متن کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460372/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460372"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جسے وہ بیرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی کھوکھلی سوچ اور مبینہ مکاری اب واضح ہو چکی ہے، اور عالمی میڈیا، بھارتی سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور تھنک ٹینکس نے بھی اس واقعے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اس معاملے پر بھونڈے طریقے اختیار کیے اور فالس فلیگ آپریشنز اس کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔</p>
<p>عطاء تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے پہلگام واقعے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460421'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460421"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا کے پاس کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے اور وہ صرف من گھڑت بیانیے کو فروغ دیتا رہا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیاں دنیا کے سامنے ہیں، اور ملک اپنی خودمختاری، وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کوئی بھی مہم جوئی کی تو پاکستان اس کا فیصلہ کن جواب دے گا، جبکہ پوری قوم دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم پر متفق ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503800</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 12:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/221156409e6ecfd.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/221156409e6ecfd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود کی پاکستان آمد ابہام کا شکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503776/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/0v16yj?update=4509978"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان اس بات پر غیر یقینی صورت حال برقرار ہے کہ کون سا فریق پہلے پاکستان پہنچے گا جب کہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور حکام کے مطابق یہ مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہونے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی روانگی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503761/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503761"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا ممکنہ طور پر کسی سفارتی سبکی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے کیوں کہ اگر امریکی وفد اسلام آباد پہنچ جائے اور ایرانی وفد شریک نہ ہو تو یہ صورت حال واشنگٹن کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ غیر اعلانیہ مقابلہ جاری ہے کہ کون پہلے اپنے وفد کو پاکستان روانہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی ملک کا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد نہیں پہنچا تاہم گزشتہ چند روز کے دوران معاون عملے کی آمد جاری رہی ہے۔ تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط ہے، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/us-positive-iran-deal-talks-still-uncertain-ceasefire-end-nears-2026-04-21/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503723/iranian-delegation-us-talks-islamabad-no-show'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503723"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جب کہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی متعد دبار خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/211704344f1f17e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/211704344f1f17e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایک ریڈیو انٹرویو اور سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے اور ہر ایک خوش ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503713/iranian-delegation-pakistan-talks-islamabad'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔</strong></p>
<p>قطری نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/0v16yj?update=4509978">الجزیرہ</a> کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان اس بات پر غیر یقینی صورت حال برقرار ہے کہ کون سا فریق پہلے پاکستان پہنچے گا جب کہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔</p>
<p>پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور حکام کے مطابق یہ مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہونے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی روانگی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503761/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503761"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا ممکنہ طور پر کسی سفارتی سبکی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے کیوں کہ اگر امریکی وفد اسلام آباد پہنچ جائے اور ایرانی وفد شریک نہ ہو تو یہ صورت حال واشنگٹن کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ غیر اعلانیہ مقابلہ جاری ہے کہ کون پہلے اپنے وفد کو پاکستان روانہ کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی ملک کا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد نہیں پہنچا تاہم گزشتہ چند روز کے دوران معاون عملے کی آمد جاری رہی ہے۔ تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط ہے، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/us-positive-iran-deal-talks-still-uncertain-ceasefire-end-nears-2026-04-21/">رائٹرز</a> کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503723/iranian-delegation-us-talks-islamabad-no-show'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503723"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس حوالے سے اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جب کہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی متعد دبار خلاف ورزی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/211704344f1f17e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/211704344f1f17e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل ایک ریڈیو انٹرویو اور سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔</p>
<p>الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے اور ہر ایک خوش ہوجائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503713/iranian-delegation-pakistan-talks-islamabad'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503776</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 17:32:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/21173356edde45e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/21173356edde45e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کی تصدیق کا انتظار ہے: پاکستان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503779/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جب کہ پاکستان امن مذاکرات کیلئے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے بطور ثالث ایران سے رابطے میں ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے پیش نظر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران کو امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/2046599763328725053'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/2046599763328725053"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نیتالی بیکر نے منگل کے روز وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2046581156775076160'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2046581156775076160"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503776/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/0v16yj?update=4509978"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt; کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان تاحال غیر یقینی صورت حال برقرار ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/us-positive-iran-deal-talks-still-uncertain-ceasefire-end-nears-2026-04-21/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کو قائل کر لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کا امکان نظر آیا تو مذاکراتی عمل میں امریکی صدر کی شرکت بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جب کہ پاکستان امن مذاکرات کیلئے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے بطور ثالث ایران سے رابطے میں ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا وقت 22 اپریل کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گا، جس کے پیش نظر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔</p>
<p>عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ایران کو امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/2046599763328725053'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/2046599763328725053"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے عارضی جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں۔</p>
<p>پاکستان میں امریکا کی ناظم الامور نیتالی بیکر نے منگل کے روز وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت بن سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2046581156775076160'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2046581156775076160"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق جنگ بندی میں توسیع پر غور کریں اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں۔</p>
<p>ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن کے فروغ اور مذاکرات میں سہولت کاری پر پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503776/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/0v16yj?update=4509978">الجزیرہ</a> کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان تاحال غیر یقینی صورت حال برقرار ہے جب کہ پاکستان کی جانب سے انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔</p>
<p>العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/us-positive-iran-deal-talks-still-uncertain-ceasefire-end-nears-2026-04-21/">رائٹرز</a> کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کو قائل کر لیا جائے گا۔</p>
<p>رائٹرز نے بھی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کا امکان نظر آیا تو مذاکراتی عمل میں امریکی صدر کی شرکت بھی متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503779</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 20:33:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/212025115de83c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/212025115de83c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بحریہ کا دشمن جہازوں کو ڈبونے والے ’تیمور‘ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503770/pakistan-navy-taimoor-cruise-missile-air-launched-anti-ship</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع میں ایک اور بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس جدید اینٹی شپ ویپن سسٹم کا لائیو فائرنگ کے ذریعے کامیاب مظاہرہ کیا گیا، اس دوران میزائل نے اپنے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجربے کا بنیادی مقصد طویل فاصلے تک سمندری اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت کی تصدیق کرنا تھا، جس میں یہ میزائل تمام معیاروں پر پورا اترا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/dgprPaknavy/status/2046534496074543500?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/dgprPaknavy/status/2046534496074543500?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس سے دشمن کے سمندری خطرات کو بروقت ناکام بنانے کی صلاحیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میزائل کی کامیابی سے پاکستان کی دفاعی قوت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور مسلح افواج کی ہر سمت سے وار کرنے کی طاقت یعنی ملٹی ڈائمینشنل اسٹرائیک کی صلاحیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ملکی دفاع کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی جانب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عظیم کامیابی پر صدر مملکت، وزیر اعظم اور سروسز چیفس نے قوم کو مبارکباد پیش کی ہے اور خاص طور پر ان سائنسدانوں اور انجینئرز کی تعریف کی ہے جن کی محنت سے یہ میزائل تیار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قومی سلامتی اور سمندری سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاک بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ہماری فورس ہر قسم کے چیلنجز اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع میں ایک اور بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں پاک بحریہ نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس جدید اینٹی شپ ویپن سسٹم کا لائیو فائرنگ کے ذریعے کامیاب مظاہرہ کیا گیا، اس دوران میزائل نے اپنے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔</p>
<p>اس تجربے کا بنیادی مقصد طویل فاصلے تک سمندری اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت کی تصدیق کرنا تھا، جس میں یہ میزائل تمام معیاروں پر پورا اترا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/dgprPaknavy/status/2046534496074543500?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/dgprPaknavy/status/2046534496074543500?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور جنگی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس سے دشمن کے سمندری خطرات کو بروقت ناکام بنانے کی صلاحیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔</p>
<p>اس میزائل کی کامیابی سے پاکستان کی دفاعی قوت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور مسلح افواج کی ہر سمت سے وار کرنے کی طاقت یعنی ملٹی ڈائمینشنل اسٹرائیک کی صلاحیت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ملکی دفاع کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی جانب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اس عظیم کامیابی پر صدر مملکت، وزیر اعظم اور سروسز چیفس نے قوم کو مبارکباد پیش کی ہے اور خاص طور پر ان سائنسدانوں اور انجینئرز کی تعریف کی ہے جن کی محنت سے یہ میزائل تیار ہوا۔</p>
<p>اعلیٰ قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قومی سلامتی اور سمندری سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاک بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ہماری فورس ہر قسم کے چیلنجز اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503770</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 16:00:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/211504018cf6f16.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/211504018cf6f16.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بھارت فضائی حدود کی بندش کا ایک سال، زیادہ نقصان کسے ہوا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503774/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کو ایک بار پھر بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ پاکستان اور بھارت نے اپریل 2025 سے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کو بند کر رکھا ہے۔ جس کے اثرات دونوں ملکوں کی ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کی بندش کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے نوٹم کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے تحت بھارتی طیارے 24 مئی تک پاکستانی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی بندش کا معاملہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سامنے آیا تھا۔ متعدد مرتبہ توسیع ہونے کے بعد اس پابندی کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل یہ پابندی 24 اپریل تک تھی تاہم پاکستان کی جانب سے دوبارہ توسیع کے بعد دونوں ممالک کی ایک دوسرے پر فضائی پابندی 13ویں ماہ میں داخل ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/zarrar_11PK/status/2046490622094196945'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/zarrar_11PK/status/2046490622094196945"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/business/pakistan-continues-to-hit-indian-airlines-with-airspace-closure-extends-ban-on-indian-aircraft-by-another-month-10647999/"&gt;انڈین ایکسپریس&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود بندش کے باعث بھارتی پروازوں کا دورانیہ طویل، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ اور فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30480981/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30480981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا دورانیہ کئی گھنٹوں تک بڑھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ اضافی ایندھن کے استعمال اور آپریشنل نئی لاگت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض پروازوں کو بیرونِ ملک ری فیولنگ اسٹاپس بھی کرنا پڑتے ہیں جب کہ کچھ روٹس پر سروس معطل کر دی گئی ہے، جس سے ایئرلائنز کے اخراجات اور ٹکٹوں میں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سارا بوجھ عام مسافروں پر پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ نے تخمینہ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے اسے سالانہ تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائی حدود کی پابندی کا پاکستان کی قومی ایئرلائن ’پی آئی اے‘ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کا بین الاقوامی فلائٹ نیٹ ورک اس روٹ پر محدود ہے اور پابندی سے قبل بھی پی آئی اے کی ہفتہ وار بمشکل چند پروازیں ہی بھارتی حدود سے گزرا کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464027/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بھارتی ایئرلائنز کی بڑی تعداد مغربی ممالک، یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا کے لیے پروازیں چلاتی ہے، جنہیں اب پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث مسلسل طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور فضائی حدود پر عائد پابندیوں نے بھی بھارتی ایئرلائنز کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی حدود دستیاب ہوتی تو ’انڈیگو‘ اور ’ایئر انڈیا‘ ایران کے شمال سے ہوتے ہوئے یورپ اور مغربی ممالک کے لیے مختصر راستے اختیار کر سکتی تھیں، تاہم اب انہیں طویل اور پیچیدہ روٹس اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کو ایک بار پھر بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ پاکستان اور بھارت نے اپریل 2025 سے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کو بند کر رکھا ہے۔ جس کے اثرات دونوں ملکوں کی ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان اور بھارت کی جانب سے ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود کی بندش کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے نوٹم کے مطابق بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے تحت بھارتی طیارے 24 مئی تک پاکستانی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی بندش کا معاملہ اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سامنے آیا تھا۔ متعدد مرتبہ توسیع ہونے کے بعد اس پابندی کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل یہ پابندی 24 اپریل تک تھی تاہم پاکستان کی جانب سے دوبارہ توسیع کے بعد دونوں ممالک کی ایک دوسرے پر فضائی پابندی 13ویں ماہ میں داخل ہو جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/zarrar_11PK/status/2046490622094196945'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/zarrar_11PK/status/2046490622094196945"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/business/pakistan-continues-to-hit-indian-airlines-with-airspace-closure-extends-ban-on-indian-aircraft-by-another-month-10647999/">انڈین ایکسپریس</a> کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود بندش کے باعث بھارتی پروازوں کا دورانیہ طویل، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ اور فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30480981/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30480981"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا دورانیہ کئی گھنٹوں تک بڑھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ اضافی ایندھن کے استعمال اور آپریشنل نئی لاگت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض پروازوں کو بیرونِ ملک ری فیولنگ اسٹاپس بھی کرنا پڑتے ہیں جب کہ کچھ روٹس پر سروس معطل کر دی گئی ہے، جس سے ایئرلائنز کے اخراجات اور ٹکٹوں میں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سارا بوجھ عام مسافروں پر پڑ رہا ہے۔</p>
<p>بھارتی ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ نے تخمینہ جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے اسے سالانہ تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائی حدود کی پابندی کا پاکستان کی قومی ایئرلائن ’پی آئی اے‘ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔</p>
<p>پی آئی اے کا بین الاقوامی فلائٹ نیٹ ورک اس روٹ پر محدود ہے اور پابندی سے قبل بھی پی آئی اے کی ہفتہ وار بمشکل چند پروازیں ہی بھارتی حدود سے گزرا کرتی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464027/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے برعکس بھارتی ایئرلائنز کی بڑی تعداد مغربی ممالک، یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا کے لیے پروازیں چلاتی ہے، جنہیں اب پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث مسلسل طویل اور مہنگے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور فضائی حدود پر عائد پابندیوں نے بھی بھارتی ایئرلائنز کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی حدود دستیاب ہوتی تو ’انڈیگو‘ اور ’ایئر انڈیا‘ ایران کے شمال سے ہوتے ہوئے یورپ اور مغربی ممالک کے لیے مختصر راستے اختیار کر سکتی تھیں، تاہم اب انہیں طویل اور پیچیدہ روٹس اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503774</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 17:10:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2116004791a17ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2116004791a17ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی وفد کا آج اور جے ڈی وینس کا کل اسلام آباد پہنچنے کا امکان: مغربی میڈیا کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503761/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ عرب اور مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد کا آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے، تاہم نہ تو پاکستانی حکام اور نہ ہی ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/us-positive-iran-deal-talks-still-uncertain-ceasefire-end-nears-2026-04-21/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503733/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503733"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو اور سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں۔ تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک خوش ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503732/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔ عرب اور مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وفد کا آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے، تاہم نہ تو پاکستانی حکام اور نہ ہی ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/us-positive-iran-deal-talks-still-uncertain-ceasefire-end-nears-2026-04-21/">رائٹرز</a> کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے، جبکہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503733/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503733"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریڈیو انٹرویو اور سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔</p>
<p>ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں۔ تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔</p>
<p>الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک خوش ہوجائے گا۔</p>
<p>امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503732/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503761</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 13:31:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/21133151296ef32.webp" type="image/webp" medium="image" height="972" width="1618">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/21133151296ef32.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسکردو میں ایک ہوٹل کے کمرے سے غیرملکی خاتون سیاح کی لاش برآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503757/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسکردو میں ایک ہوٹل کے کمرے سے غیرملکی خاتون سیاح کی لاش برآمد ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو ذرائع کے مطابق خاتون سیاح کو ہوٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کے بعد فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچنے پر خاتون کی موت کی تصدیق کر دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=l7gnmCWvk8c'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/l7gnmCWvk8c?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ خاتون سیاح کا تعلق ملائیشیا سے بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، مگر وہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503584'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503584"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر خاتون سیاح کی موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے قانونی کارروائی اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ موت کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسکردو میں ایک ہوٹل کے کمرے سے غیرملکی خاتون سیاح کی لاش برآمد ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>ریسکیو ذرائع کے مطابق خاتون سیاح کو ہوٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا جس کے بعد فوری طور پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچنے پر خاتون کی موت کی تصدیق کر دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=l7gnmCWvk8c'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/l7gnmCWvk8c?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ خاتون سیاح کا تعلق ملائیشیا سے بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، مگر وہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503584'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503584"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر خاتون سیاح کی موت کی وجہ دل کا دورہ قرار دی گئی ہے۔</p>
<p>واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے قانونی کارروائی اور مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ موت کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503757</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 12:51:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قاسم بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/211215010332238.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/211215010332238.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کامیاب سفارت کاری کا راز: پاکستان ٹرمپ کی زبان سیکھ کر عالمی ثالث کیسے بنا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503752/pakistan-mediator-donald-trump-asim-munir-shehbaz-sharif-us-iran-war-israel</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، جو کہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسرائیل کو تسلیم بھی نہیں کرتا، ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسے اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس کی توقع شاید کسی کو نہ تھی۔ یہ وہی ملک ہے جس کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے اور انہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں پاکستان پر ’جھوٹ اور فریب‘ کے الزامات لگائے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/world/2026/04/20/pakistan-iran-war-peacemaker"&gt;’واشنگٹن پوسٹ‘&lt;/a&gt; کے مطابق، پاکستان کے لیے ثالث کا یہ کردار حاصل کرنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کے تنازع کا ایک اہم فریق اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود پاکستان نے صدر ٹرمپ کے مزاج اور ان کی ’لین دین‘ پر مبنی سفارت کاری کو وقت پر بھانپ لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503737/trump-softens-iran-uranium-enrichment'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ہم نے ٹرمپ کا بالکل درست انداز میں مشاہدہ کیا، ہم نے انہیں وہ تین چیزیں دیں جن کی انہیں ضرورت تھی: کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات اور دہشت گردی کے خلاف تعاون۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی سے منسلک فرم کے ساتھ معاہدہ کیا، امریکا کو اہم معدنیات تک رسائی دی اور کابل سے انخلا کے وقت امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے ٹرمپ کا اعتماد جیت لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ اکتوبر تک صدر ٹرمپ نے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشاہد حسین سید کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا پاکستان کے ثالثی کے عمل میں رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ ایران اور پاکستان دونوں کو یقین ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ٹرمپ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503676/iran-talks-denial-washington-meeting'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503676"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل تو محض امریکا کا ایک نمائندہ ہے، ہم اصل فریق سے براہِ راست بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کا جوہری طاقت ہونا بھی اس کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی میڈیا میں ان مذاکرات کو ایک عظیم تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے خیالات اس سے مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممتاز سفارت کار ملیحہ لودھی، جنہوں نے امریکا اور برطانیہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، کہتی ہیں کہ یہ یقیناً ملک کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے جو پاکستان کے عالمی امیج کو بلند کرتا ہے، لیکن عام پاکستانی کے لیے یہ صرف ٹی وی کی ایک خبر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی تباہی ہے، امن مذاکرات کی میزبانی سے عام آدمی کی جیب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ اثر صفر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ایک ریستوران کے ویٹر، 51 سالہ لیاقت خان نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ہمیں خوشی ہے پاکستان کو ثالثی یہ اعزاز ملا، لیکن جب مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوا تو سب پریشان ہو گئے کہ اب پیٹرول اور گیس مزید مہنگی ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503724/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503724"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریستوران کے مینیجر سجاد عباسی کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ہماری مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ وفود کی آمد پر شہر بند کر دیا جاتا ہے اور دکانیں بند رہنے سے ہمارا نقصان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ نے پاکستان کے معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ پاکستان کی نوے فیصد ایندھن کی درآمدات آبنائے ہرمز سے آتی ہیں، جس کی بندش نے حکومت کو ایندھن کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، جو کہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اسرائیل کو تسلیم بھی نہیں کرتا، ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسے اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس کی توقع شاید کسی کو نہ تھی۔ یہ وہی ملک ہے جس کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے اور انہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں پاکستان پر ’جھوٹ اور فریب‘ کے الزامات لگائے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل بدل چکے ہیں۔</strong></p>
<p>اسلام آباد اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔</p>
<p>امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/world/2026/04/20/pakistan-iran-war-peacemaker">’واشنگٹن پوسٹ‘</a> کے مطابق، پاکستان کے لیے ثالث کا یہ کردار حاصل کرنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کے تنازع کا ایک اہم فریق اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہیں ہیں۔</p>
<p>اس کے باوجود پاکستان نے صدر ٹرمپ کے مزاج اور ان کی ’لین دین‘ پر مبنی سفارت کاری کو وقت پر بھانپ لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503737/trump-softens-iran-uranium-enrichment'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503737"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان کے سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ہم نے ٹرمپ کا بالکل درست انداز میں مشاہدہ کیا، ہم نے انہیں وہ تین چیزیں دیں جن کی انہیں ضرورت تھی: کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات اور دہشت گردی کے خلاف تعاون۔</p>
<p>امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی سے منسلک فرم کے ساتھ معاہدہ کیا، امریکا کو اہم معدنیات تک رسائی دی اور کابل سے انخلا کے وقت امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے والے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے ٹرمپ کا اعتماد جیت لیا۔</p>
<p>پاکستان کی ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ اکتوبر تک صدر ٹرمپ نے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ قرار دے دیا۔</p>
<p>مشاہد حسین سید کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا پاکستان کے ثالثی کے عمل میں رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ ایران اور پاکستان دونوں کو یقین ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ٹرمپ اسرائیل کو اس پر عمل درآمد کے لیے مجبور کر دیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503676/iran-talks-denial-washington-meeting'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503676"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل تو محض امریکا کا ایک نمائندہ ہے، ہم اصل فریق سے براہِ راست بات کر رہے ہیں۔</p>
<p>مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان کا جوہری طاقت ہونا بھی اس کے عالمی وقار میں اضافے کا باعث بنا ہے۔</p>
<p>پاکستانی میڈیا میں ان مذاکرات کو ایک عظیم تاریخی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے خیالات اس سے مختلف ہیں۔</p>
<p>ممتاز سفارت کار ملیحہ لودھی، جنہوں نے امریکا اور برطانیہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، کہتی ہیں کہ یہ یقیناً ملک کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے جو پاکستان کے عالمی امیج کو بلند کرتا ہے، لیکن عام پاکستانی کے لیے یہ صرف ٹی وی کی ایک خبر ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی تباہی ہے، امن مذاکرات کی میزبانی سے عام آدمی کی جیب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ اثر صفر ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں ایک ریستوران کے ویٹر، 51 سالہ لیاقت خان نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ہمیں خوشی ہے پاکستان کو ثالثی یہ اعزاز ملا، لیکن جب مذاکرات کا پہلا دور ناکام ہوا تو سب پریشان ہو گئے کہ اب پیٹرول اور گیس مزید مہنگی ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503724/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503724"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریستوران کے مینیجر سجاد عباسی کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ہماری مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ وفود کی آمد پر شہر بند کر دیا جاتا ہے اور دکانیں بند رہنے سے ہمارا نقصان ہوتا ہے۔</p>
<p>ایران جنگ نے پاکستان کے معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ پاکستان کی نوے فیصد ایندھن کی درآمدات آبنائے ہرمز سے آتی ہیں، جس کی بندش نے حکومت کو ایندھن کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503752</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:08:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/21110231c39e783.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/21110231c39e783.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی طیاروں کی نور خان ایئر بیس پر لینڈنگ، جے ڈی وینس کی چند گھنٹوں میں آمد متوقع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503733/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے کم از کم 6 فوجی طیاروں نے پاکستان کے نور خان ایئر بیس راولپنڈی میں لینڈنگ کی، جس کے بعد روانہ ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ساتھ چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطرکے نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/3i78ht?update=4507900"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt;‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی وفد، جس میں جے ڈی وینس سمیت دیگر اراکین شامل ہیں، چند گھنٹوں میں روانہ ہو کر آج رات اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی بھی فریق کھیل تماشا نہیں کر رہا، بل کہ سنجیدہ مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AJENews/status/2046222553572626928?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJENews/status/2046222553572626928?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وفد پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم درست اور ذمہ دار افراد سے بات چیت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایک مطالبے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ایرانی ایٹمی بم نہیں بنائے گا، سیدھا سا معاملہ ہے، ایران اپنے نیوکلیئر ہتھیار سے جان چھڑائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بات مانی تو ایران میں ترقی کرنے کی صلاحیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی جریدے ڈیلی میل نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ایران کو یورینیم افزودگی کی مشروط اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں، ایران کو 10 سال تک یورنیم افزودگی روکنا ہوگی، 10 سال کے بعد کم تعداد میں یورینیم افزودگی کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی میں واقع پاکستان ایئر فورس کا نور خان ایئر بیس جو اسلام آباد کے لیے اہم وی آئی پی انٹری پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، وہاں امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے کم از کم 6 طیارے پہنچے اور بعد ازاں واپس روانہ بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503732/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں مواصلاتی آلات، موٹرکیڈ سپورٹ اور اضافی سامان منتقل کرنے والے جہاز شامل تھے۔ ان طیاروں میں سے 2 طیارے آج لینڈ ہوئے جب کہ باقی 4 طیارے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران نور خان ایئر بیس پہنچے اور واپس روانہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں امریکی وفد کی آمد سے قبل ریکارڈ کی گئی ہیں تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ 20 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503734/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503734"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے 2 بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی ختم ہونے میں 2 دن باقی ہیں تاہم امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بھی بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا، جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔ صدرٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503713/iranian-delegation-pakistan-talks-islamabad'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، پیر کو ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے کم از کم 6 فوجی طیاروں نے پاکستان کے نور خان ایئر بیس راولپنڈی میں لینڈنگ کی، جس کے بعد روانہ ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ساتھ چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔</strong></p>
<p>قطرکے نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/3i78ht?update=4507900">الجزیرہ</a>‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی وفد، جس میں جے ڈی وینس سمیت دیگر اراکین شامل ہیں، چند گھنٹوں میں روانہ ہو کر آج رات اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی بھی فریق کھیل تماشا نہیں کر رہا، بل کہ سنجیدہ مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AJENews/status/2046222553572626928?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJENews/status/2046222553572626928?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر ٹرمپ نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہوتا ہے تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وفد پہلے ہی روانہ ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم درست اور ذمہ دار افراد سے بات چیت کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایک مطالبے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، ایرانی ایٹمی بم نہیں بنائے گا، سیدھا سا معاملہ ہے، ایران اپنے نیوکلیئر ہتھیار سے جان چھڑائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بات مانی تو ایران میں ترقی کرنے کی صلاحیت ہے۔</p>
<p>برطانوی جریدے ڈیلی میل نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ایران کو یورینیم افزودگی کی مشروط اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں، ایران کو 10 سال تک یورنیم افزودگی روکنا ہوگی، 10 سال کے بعد کم تعداد میں یورینیم افزودگی کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>دوسری طرف فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی میں واقع پاکستان ایئر فورس کا نور خان ایئر بیس جو اسلام آباد کے لیے اہم وی آئی پی انٹری پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، وہاں امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے کم از کم 6 طیارے پہنچے اور بعد ازاں واپس روانہ بھی ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503732/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں مواصلاتی آلات، موٹرکیڈ سپورٹ اور اضافی سامان منتقل کرنے والے جہاز شامل تھے۔ ان طیاروں میں سے 2 طیارے آج لینڈ ہوئے جب کہ باقی 4 طیارے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران نور خان ایئر بیس پہنچے اور واپس روانہ ہو گئے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں امریکی وفد کی آمد سے قبل ریکارڈ کی گئی ہیں تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ 20 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503734/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503734"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے 2 بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی ختم ہونے میں 2 دن باقی ہیں تاہم امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بھی بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا، جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔ صدرٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503713/iranian-delegation-pakistan-talks-islamabad'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس صورتِ حال کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، پیر کو ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503733</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 23:58:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/201854339ed26c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/201854339ed26c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے مذاکرات سے انکار کے بعد پاکستان کی کوششیں تیز، وزیرِ داخلہ کی اہم امور پر بریفنگ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503732/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام شریک تھے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اور امریکی سفیروں سے الگ الگ ملاقاتوں سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو کیسے آگے بڑھایا جائے اور مذاکراتی عمل کو کس طرح کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیرِ داخلہ نے اجلاس کے شرکا کو امریکی اور ایرانی سفیروں سے ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق آگاہ کیا، اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی شرکت یقینی بنانے کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2046179107550200041'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2046179107550200041"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مجوزہ مذاکراتی وفود کی سیکیورٹی کے انتظامات پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی سفیر نے کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، جبکہ امریکی سفیر نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503713/iranian-delegation-pakistan-talks-islamabad'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ تنازع کا دیرپا حل ہی خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہے، اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی وفود کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطے کی خبر دی۔ رائٹرزکے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503705/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی سی -17 گلوب ماسٹر طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا ہے، جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ امریکی وفد کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ٹیم لے کر پہنچا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی ختم ہونے میں دو دن باقی ہیں، تاہم امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بھی بتائیں، کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔ صدرٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، پیر کو ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام شریک تھے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اور امریکی سفیروں سے الگ الگ ملاقاتوں سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تفصیلی غور کیا گیا، اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو کیسے آگے بڑھایا جائے اور مذاکراتی عمل کو کس طرح کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیرِ داخلہ نے اجلاس کے شرکا کو امریکی اور ایرانی سفیروں سے ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق آگاہ کیا، اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی شرکت یقینی بنانے کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2046179107550200041'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2046179107550200041"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مجوزہ مذاکراتی وفود کی سیکیورٹی کے انتظامات پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی سفیر نے کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، جبکہ امریکی سفیر نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503713/iranian-delegation-pakistan-talks-islamabad'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503713"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ تنازع کا دیرپا حل ہی خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہے، اور اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی وفود کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان رابطے کی خبر دی۔ رائٹرزکے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ جس پر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں اور شہر بھر میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے بڑے حصوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جب کہ بیس ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے دو بڑے ہوٹلوں سرینا اور میریٹ کو خالی کروا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جہاں غیر ملکی وفود کی آمد متوقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503705/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی سی -17 گلوب ماسٹر طیارہ نور خان ایئر بیس پر اترا ہے، جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ امریکی وفد کی حفاظت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور سیکیورٹی ٹیم لے کر پہنچا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی اپنے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد پیر کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا ایران جنگ بندی ختم ہونے میں دو دن باقی ہیں، تاہم امریکی نیوی نے خلیج عمان میں ایرانی پرچم تلے رجسٹرڈ ایک بڑے تجارتی جہاز ’ایم وی توسکا‘ پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا، جس پر سوالات کھڑے ہو گئے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی تفصیلات بھی بتائیں، کہا کہ امریکی نیوی نے ایرانی جہاز پر گائیڈڈ میزائل فائر کیا جس سے جہاز کے انجن روم میں سوراخ ہو گیا۔ صدرٹرمپ کے مطابق توسکا نامی اس جہاز نے امریکی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، اسی لیے اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت یہ جہاز امریکی نیوی کے قبضے میں ہے۔</p>
<p>اس صورتِ حال کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجنے سے انکار کردیا، پیر کو ایران کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے تہران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب امریکا پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مسلسل غیر یقینی رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503732</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 19:39:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2019032467951a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2019032467951a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی فورسز کا بنوں میں آپریشن، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503715/bannu-security-forces-operation-terrorists-killed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا، جن میں رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختیار بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن میں ایک خودکش بمبار بھی مارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ ہلاک دہشتگرد وحید اللہ سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں مطلوب ترین تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مذکورہ دہشتگرد 21 فروری 2026 کے حملے کا مرکزی سہولت کار بھی تھا، جس میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30424383'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30424383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ایک بڑے سانحے کو ناکام بنا دیا گیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس (سینیٹائزیشن) آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا عزم برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے خاتمے پر بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں پر فخر ہے اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا، جن میں رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختیار بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن میں ایک خودکش بمبار بھی مارا گیا۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ ہلاک دہشتگرد وحید اللہ سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں مطلوب ترین تھا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مذکورہ دہشتگرد 21 فروری 2026 کے حملے کا مرکزی سہولت کار بھی تھا، جس میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید ہوئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30424383'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30424383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ایک بڑے سانحے کو ناکام بنا دیا گیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس (سینیٹائزیشن) آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا عزم برقرار ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے خاتمے پر بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں</p>
<p>محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں پر فخر ہے اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503715</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 11:49:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/201141584a546e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/201141584a546e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتِ حال پر گفتگو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503697/pm-shehbaz-sharif-iranian-president-talks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتِ حال اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے سے قبل دونوں رہنماؤں نے تقریباً 45 منٹ طویل گفتگو کی، جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے جاری مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں نہایت معاون ثابت ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہبازشریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کے حالیہ دورہ تہران کے دوران ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہا اور ان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتِ حال اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔</strong></p>
<p>ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے ممکنہ دوسرے مرحلے سے قبل دونوں رہنماؤں نے تقریباً 45 منٹ طویل گفتگو کی، جس میں خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے جاری مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں نہایت معاون ثابت ہوئی ہیں۔</p>
<p>شہبازشریف نے ایرانی صدر کو سعودی عرب، قطر اور ترکیہ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کے حالیہ دورہ تہران کے دوران ہونے والی تعمیری بات چیت پر بھی ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہا اور ان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503697</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 23:20:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طارق چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/19231652f568ae4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/19231652f568ae4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طورخم بارڈر: جعلی دستاویزت پر افغانستان جانے کی کوشش ناکام، 5 افراد گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503709/torkham-border-fake-documents-arrests</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور میں طورخم بارڈر پر جعلی دستاویزات کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں طورخم بارڈر پر امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی منی فیسٹ کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی اور 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد نادرا سسٹم کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جعلی منی فیسٹ حاصل کرنے کے لیے فی کس 50 ہزار روپے ادا کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30329938'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30329938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تفتیش کے دوران ’فہد‘ نامی ایجنٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر اس غیر قانونی عمل میں سہولت کاری کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور میں طورخم بارڈر پر جعلی دستاویزات کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔</strong></p>
<p>پشاور میں طورخم بارڈر پر امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی منی فیسٹ کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی اور 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔</p>
<p>ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد نادرا سسٹم کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جعلی منی فیسٹ حاصل کرنے کے لیے فی کس 50 ہزار روپے ادا کیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30329938'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30329938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی تفتیش کے دوران ’فہد‘ نامی ایجنٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر اس غیر قانونی عمل میں سہولت کاری کر رہا تھا۔</p>
<p>ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503709</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 10:36:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرزانہ علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/2010342398a484b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/2010342398a484b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’امریکا تیار، ایران کا انکار‘: اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503693/us-iran-talks-islamabad-preparations</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے متوقع دوسرے مرحلے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی نمائندوں کی پیر کے روز پاکستان روانگی کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے حوالے سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران نے امریکا کے غیر حقیقی مطالبات، مؤقف میں مسلسل تبدیلی کو مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسی ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/04/19/3569756/no-decision-yet-on-sending-negotiators-to-pakistan-as-iran-urges-end-of-naval-blockade"&gt;تسنیم&lt;/a&gt;‘ کے مطابق ایران نے ابھی تک مذاکراتی وفد کو اسلام آباد روانہ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی نافذ رہے گی، کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IrnaEnglish/status/2045909321607675911'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IrnaEnglish/status/2045909321607675911"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ اعلان کرچکے ہیں ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے پیر کی شام اسلام آباد روانہ ہوں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وفد میں کون کون شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جائیں گے کیونکہ سیکرٹ سروس کو انتظامات کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم اسی دوران امریکی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ نائب صدر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/04/19/world/live-news/iran-war-us-trump-hormuz?post-id=cmo5uqeps000f3b6sczimg2d4"&gt;سی این این &lt;/a&gt;کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے، یہ تینوں شخصیات اس سے قبل مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شریک تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/alaynatreene/status/2045864737083171016'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/alaynatreene/status/2045864737083171016"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سفارتی حلقوں نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کے لیے وفد کی روانگی کے اعلان کے باوجود دوسرے فریق کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو غیر معمولی واقعہ قرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عندیہ دیا تھا کہ یہ تنازع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایران نے امریکا کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جب کہ ایران کو اپنی شرائط منوانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، تاہم ایرانی اعلیٰ قیادت نے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کی جانب سے متضاد بیانات اور ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ نے اپنی بھی ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/w7b54q?update=4504199"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کو امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیاروں نے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کیا جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نظر آئے، جس کے تحت شہر کے اہم ہوٹلوں میں جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503695/us-envoy-islamabad-iran-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503695"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503671/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے متوقع دوسرے مرحلے کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی نمائندوں کی پیر کے روز پاکستان روانگی کے بیان کے بعد وائٹ ہاؤس نے امریکی میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے، تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شرکت کے حوالے سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق ایران نے امریکا کے غیر حقیقی مطالبات، مؤقف میں مسلسل تبدیلی کو مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسی ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/04/19/3569756/no-decision-yet-on-sending-negotiators-to-pakistan-as-iran-urges-end-of-naval-blockade">تسنیم</a>‘ کے مطابق ایران نے ابھی تک مذاکراتی وفد کو اسلام آباد روانہ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی نافذ رہے گی، کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IrnaEnglish/status/2045909321607675911'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IrnaEnglish/status/2045909321607675911"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ اعلان کرچکے ہیں ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے پیر کی شام اسلام آباد روانہ ہوں گے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس وفد میں کون کون شامل ہوگا۔</p>
<p>ابتدائی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر جے ڈی وینس اسلام آباد نہیں جائیں گے کیونکہ سیکرٹ سروس کو انتظامات کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم اسی دوران امریکی انتظامیہ کے دیگر عہدیدار مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ نائب صدر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/04/19/world/live-news/iran-war-us-trump-hormuz?post-id=cmo5uqeps000f3b6sczimg2d4">سی این این </a>کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد کا حصہ ہوں گے، یہ تینوں شخصیات اس سے قبل مذاکرات کے پہلے دور میں بھی شریک تھیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تو اس صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کو امریکا واپس جانا پڑے گا۔ جس کی وجہ امریکی سیکرٹ سروس کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت صدر اور نائب صدر کو بیک وقت ایک ہی مقام پر رکھنے سے گریز کیا جاتا ہے، یہی اصول اندرونِ ملک سفر کے دوران بھی لاگو ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/alaynatreene/status/2045864737083171016'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/alaynatreene/status/2045864737083171016"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سفارتی حلقوں نے امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کے لیے وفد کی روانگی کے اعلان کے باوجود دوسرے فریق کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو غیر معمولی واقعہ قرار ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں عندیہ دیا تھا کہ یہ تنازع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایران نے امریکا کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جب کہ ایران کو اپنی شرائط منوانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے، تاہم ایرانی اعلیٰ قیادت نے اس بیان کو جھوٹ قرار دیا تھا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کی جانب سے متضاد بیانات اور ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باوجود اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔</p>
<p>الجزیرہ نے اپنی بھی ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/w7b54q?update=4504199">رپورٹ</a> میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کو امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیاروں نے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کیا جب کہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اتوار کے روز اسلام آباد اور اطراف میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نظر آئے، جس کے تحت شہر کے اہم ہوٹلوں میں جمعہ تک بکنگ بند کردی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503695/us-envoy-islamabad-iran-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503695"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک بسوں کی آمدورفت محدود کردی گئی ہے، جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔</p>
<p>راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو بھی پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ 11 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں ہوا تھا، جس کے بعد اب ان غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کو ممکنہ دوسرے دور کی تیاریاں قرار دیا جارہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503671/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ اہم شاہراہوں کے اطراف پرچم آویزاں کیے جا رہے ہیں اور گرین بیلٹس کو بھی رنگ برنگے پھولوں سے سجایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے لیے شہر میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن میں پنجاب پولیس، رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پاک فوج کے دستے شامل ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503693</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Apr 2026 00:49:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/192026493cd8313.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="720">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/192026493cd8313.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، شدت کتنی ریکارڈ کی گئی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503639/earthquake-hits-pakistan-intensity</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ پیما مرکز نے خیبرپختونخوا میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں آنے والے زلزلے کی شدت 5.5 بتائی گئی۔ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن تھا اور اس کی زیر زمین گہرائی 199 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور کے علاوہ مردان، دیر اپر، دیر لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، کاغان اور ہری پور میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسی طرح صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، شانگلہ، چترال، باجوڑ، کرم، پاراچنار، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی زمین لرز اٹھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30426671/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملاکنڈ، سوات، سیدو شریف، بریکوٹ، کالام، سخاکوٹ اور درگئی سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف کی فضا قائم ہوگئی تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بلوچستان کے علاقے پسنی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں ریکٹر اسکیل پر شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 13 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز پسنی سے 48 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر کراچی کے علاقے ملیر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503062/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ پیما مرکز کا بتانا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جب کہ اس کا وقت دوپہر 1 بج کر 13 منٹ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیر کے مختلف علاقوں میں جب زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے تو لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔</strong></p>
<p>زلزلہ پیما مرکز نے خیبرپختونخوا میں آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی جب کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں آنے والے زلزلے کی شدت 5.5 بتائی گئی۔ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن تھا اور اس کی زیر زمین گہرائی 199 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>پشاور کے علاوہ مردان، دیر اپر، دیر لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، کاغان اور ہری پور میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسی طرح صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، شانگلہ، چترال، باجوڑ، کرم، پاراچنار، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی زمین لرز اٹھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30426671/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30426671"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملاکنڈ، سوات، سیدو شریف، بریکوٹ، کالام، سخاکوٹ اور درگئی سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف کی فضا قائم ہوگئی تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔</p>
<p>دوسری جانب بلوچستان کے علاقے پسنی میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں ریکٹر اسکیل پر شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 13 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز پسنی سے 48 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔</p>
<p>ادھر کراچی کے علاقے ملیر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 3.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503062/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>زلزلہ پیما مرکز کا بتانا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جب کہ اس کا وقت دوپہر 1 بج کر 13 منٹ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ملیر کے مختلف علاقوں میں جب زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے تو لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503639</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 18:25:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اقتدار انورسہیل احمدفرزانہ علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/180841194b626ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/180841194b626ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور: اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی تاحکمِ ثانی بند</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503681/islamabad-security-high-alert-rawalpindi-closed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ غیرملکی وفود کی آمد کے باعث غیرمعمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک طرف اسلام آباد میں سخت حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تو دوسری جانب راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع  کے اسلام آباد میں آنے والے معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار نفری پنجاب سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ اسلام آباد کے ساتھ  پاکستان رینجرز اور فرنٹئیر فورس  بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جبکہ پاکستان آرمی اسلام آباد پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر تعینات ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ سے سرینا ہوٹل تک اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے اور روٹ کے اطراف گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔ سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ روٹ پر بغیر سروس کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرینا ہوٹل کے اطراف پولیس اور آرمی کی مشترکہ 24 چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسپیشل برانچ کی جانب سے بھی انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور شہر بھر خصوصاً روٹ ایریا میں سڑکوں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب راولپنڈی میں بھی غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تمام بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز، کاروباری مراکز اور پارکس آج رات 12 بجے سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی سمیت تمام بوائز اور گرلز ہاسٹلز بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سٹی پولیس آفیسر خالد حمدانی کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ غیرملکی وفود کی آمد کے باعث غیرمعمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک طرف اسلام آباد میں سخت حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تو دوسری جانب راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع  کے اسلام آباد میں آنے والے معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار نفری پنجاب سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ اسلام آباد کے ساتھ  پاکستان رینجرز اور فرنٹئیر فورس  بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جبکہ پاکستان آرمی اسلام آباد پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر تعینات ہوگی۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ سے سرینا ہوٹل تک اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے اور روٹ کے اطراف گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔ سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ روٹ پر بغیر سروس کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p>سرینا ہوٹل کے اطراف پولیس اور آرمی کی مشترکہ 24 چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسپیشل برانچ کی جانب سے بھی انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور شہر بھر خصوصاً روٹ ایریا میں سڑکوں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب راولپنڈی میں بھی غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تمام بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز، کاروباری مراکز اور پارکس آج رات 12 بجے سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی سمیت تمام بوائز اور گرلز ہاسٹلز بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل سٹی پولیس آفیسر خالد حمدانی کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی جاری ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503681</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 10:50:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/190942235da87fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/190942235da87fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503674/government-employees-blogging-permission</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے سول سرونٹس کنڈ کٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو وفاقی حکومت کی جانب سے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق نئے قواعد فوری طور پر ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیے ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور بیرونی مصروفیات سے متعلق سخت ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446975'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446975"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ قواعد کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کو ڈیجیٹل پورٹل پر اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی جب کہ اثاثوں کی جانچ پڑتال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ افسر فیصلہ سازی کے عمل سے الگ ہوگا۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے تحائف لینے پر سخت پابندی ہوگی جب کہ بیرونی اعزازات حاصل کرنے کے لیے پیشگی حکومتی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار ہوگی، سرکاری معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو الگ رکھنا لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/256908'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/256908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق حکام کسی بھی وقت سوشل میڈیا تفصیلات طلب کرسکتے ہیں، سرکاری ملازمین پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہوگی اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت یا ان کی پالیسیوں پر کھلی تنقید ممنوع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح نجی اداروں یا این جی اوز میں ملازمت کرنے پر بھی پابندی ہوگی جب کہ بغیر اجازت پارٹ ٹائم یا فل ٹائم ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دستاویز کے مطابق قواعد میں دیانتداری، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے سول سرونٹس کنڈ کٹ رولز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جب کہ سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار ہوگی۔</strong></p>
<p>جمعے کو وفاقی حکومت کی جانب سے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق نئے قواعد فوری طور پر ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین پر لاگو ہوں گے۔</p>
<p>قواعد وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیے ہیں، جن میں سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور بیرونی مصروفیات سے متعلق سخت ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446975'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446975"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جاری کردہ قواعد کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کے لیے سالانہ اثاثہ جات ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کو ڈیجیٹل پورٹل پر اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا ہوں گی جب کہ اثاثوں کی جانچ پڑتال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کرے گا۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مفادات کے ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ افسر فیصلہ سازی کے عمل سے الگ ہوگا۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے تحائف لینے پر سخت پابندی ہوگی جب کہ بیرونی اعزازات حاصل کرنے کے لیے پیشگی حکومتی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p>نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو بلاگ، ولاگ اور میڈیا پلیٹ فارم چلانے کے لیے اجازت درکار ہوگی، سرکاری معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو الگ رکھنا لازمی شرط قرار دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/256908'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/256908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستاویز کے مطابق حکام کسی بھی وقت سوشل میڈیا تفصیلات طلب کرسکتے ہیں، سرکاری ملازمین پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہوگی اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت یا ان کی پالیسیوں پر کھلی تنقید ممنوع ہوگی۔</p>
<p>اسی طرح نجی اداروں یا این جی اوز میں ملازمت کرنے پر بھی پابندی ہوگی جب کہ بغیر اجازت پارٹ ٹائم یا فل ٹائم ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دستاویز کے مطابق قواعد میں دیانتداری، نظم و ضبط اور وقت کی پابندی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503674</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 20:17:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/182012021eaef98.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/182012021eaef98.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا مذاکرات پر ہم آہنگی کا مشن: فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کے دورے مکمل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503656/field-marshal-iran-visit-regional-peace</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا سفارتی مشن اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے مکمل کر لیے ہیں جن کا بنیادی مقصد علاقائی امن، سفارتی ہم آہنگی اور ایران امریکا تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قیام کے دوران وہاں کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں نیشنل اسمبلی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عسکری حکام شامل تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakistanFauj/status/2045400104635355491?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanFauj/status/2045400104635355491?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان ملاقاتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے، سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کو صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات پہنچائے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایرانی قیادت کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف وزیرِاعظم شہباز شریف  سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اپنا اہم سفارتی دورہ مکمل کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503558/field-marshal-asim-munir-tehran-visit'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے سعودی اور قطری حکام سے ملاقاتوں کے بعد ترکیہ میں انطالیہ سفارتی فورم میں شرکت کی جہاں انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا محور بھی خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اس کے ممکنہ حل تلاش کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان خطے میں تنازعات کے حل کے لیے اپنا مصالحانہ کردار جاری رکھے گا اور ہم سمجھتے ہیں کہ امن کا راستہ صرف میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں بھی امن مذاکرات کی میزبانی کی ہے تاکہ مختلف فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے قائم کرائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503610/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان سفارتی کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور ایک ایسے جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام آ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کے یہ دورے ایک ایسے نازک وقت پر ہوئے ہیں جب دنیا کسی بڑے معاہدے کی منتظر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے شروع کیا گیا سفارتی مشن اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے مکمل کر لیے ہیں جن کا بنیادی مقصد علاقائی امن، سفارتی ہم آہنگی اور ایران امریکا تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا تھا۔</p>
<p>فیلڈ مارشل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قیام کے دوران وہاں کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں نیشنل اسمبلی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عسکری حکام شامل تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakistanFauj/status/2045400104635355491?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanFauj/status/2045400104635355491?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ان ملاقاتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے، سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کو صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات پہنچائے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایرانی قیادت کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔</p>
<p>دوسری طرف وزیرِاعظم شہباز شریف  سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اپنا اہم سفارتی دورہ مکمل کرچکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503558/field-marshal-asim-munir-tehran-visit'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِاعظم نے سعودی اور قطری حکام سے ملاقاتوں کے بعد ترکیہ میں انطالیہ سفارتی فورم میں شرکت کی جہاں انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا محور بھی خطے میں جاری جنگی صورتحال اور اس کے ممکنہ حل تلاش کرنا تھا۔</p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان خطے میں تنازعات کے حل کے لیے اپنا مصالحانہ کردار جاری رکھے گا اور ہم سمجھتے ہیں کہ امن کا راستہ صرف میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے سے ہی نکل سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں بھی امن مذاکرات کی میزبانی کی ہے تاکہ مختلف فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے قائم کرائے جا سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503610/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان سفارتی کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور ایک ایسے جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام آ سکے۔</p>
<p>پاکستان کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کے یہ دورے ایک ایسے نازک وقت پر ہوئے ہیں جب دنیا کسی بڑے معاہدے کی منتظر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503656</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 13:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شوکت پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1812310535b5eeb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1812310535b5eeb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حجاز مقدس کی جانب سفرکا آغاز، پاکستان سےحج فلائٹ آپریشن آج شروع ہوگا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503638/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں سرکاری حج اسکیم کے تحت حج فلائٹ آپریشن کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور ملتان سے پروازیں عازمینِ حج کو لے کر روانہ ہوں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجاز مقدس کی جانب مقدس سفر کا آغاز ہو رہا ہے اور پاکستان سے حج فلائٹ آپریشن آج سے باضابطہ طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور ملتان سے عازمینِ حج کی پروازیں روانہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری حج اسکیم کے تحت اس سال مجموعی طور پر 468 پروازوں کے ذریعے ایک لاکھ 19 ہزار عازمینِ حج کو سعودی عرب پہنچایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں 67 ہزار 230 مرد اور 51 ہزار 846 خواتین عازمین شامل ہیں، جو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مقدس سرزمین کا رخ کریں گے۔ حج آپریشن کے پہلے روز عازمین کو چار پروازوں کے ذریعے مدینہ منورہ منتقل کیا جائے گا، جہاں وہ اپنے روحانی سفر کا آغاز کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدہ کے لیے حج پروازوں کا آغاز 4 مئی سے کیا جائے گا، جب کہ مدینہ منورہ کے لیے پہلی لانگ ہول حج پرواز 7 مئی کو روانہ ہوگی۔ حکام کے مطابق پاکستان سے آخری حج پرواز 21 مئی کو روانہ ہوگی، جس کے ساتھ حج آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی امیگریشن اور حج حکام روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت لاہور پہنچ چکے ہیں تاکہ عازمینِ حج کے امیگریشن اور سفری عمل کو مزید سہل اور تیز بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں سرکاری حج اسکیم کے تحت حج فلائٹ آپریشن کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور ملتان سے پروازیں عازمینِ حج کو لے کر روانہ ہوں گی۔</strong></p>
<p>حجاز مقدس کی جانب مقدس سفر کا آغاز ہو رہا ہے اور پاکستان سے حج فلائٹ آپریشن آج سے باضابطہ طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور ملتان سے عازمینِ حج کی پروازیں روانہ ہوں گی۔</p>
<p>سرکاری حج اسکیم کے تحت اس سال مجموعی طور پر 468 پروازوں کے ذریعے ایک لاکھ 19 ہزار عازمینِ حج کو سعودی عرب پہنچایا جائے گا۔</p>
<p>ان میں 67 ہزار 230 مرد اور 51 ہزار 846 خواتین عازمین شامل ہیں، جو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مقدس سرزمین کا رخ کریں گے۔ حج آپریشن کے پہلے روز عازمین کو چار پروازوں کے ذریعے مدینہ منورہ منتقل کیا جائے گا، جہاں وہ اپنے روحانی سفر کا آغاز کریں گے۔</p>
<p>جدہ کے لیے حج پروازوں کا آغاز 4 مئی سے کیا جائے گا، جب کہ مدینہ منورہ کے لیے پہلی لانگ ہول حج پرواز 7 مئی کو روانہ ہوگی۔ حکام کے مطابق پاکستان سے آخری حج پرواز 21 مئی کو روانہ ہوگی، جس کے ساتھ حج آپریشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی امیگریشن اور حج حکام روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت لاہور پہنچ چکے ہیں تاکہ عازمینِ حج کے امیگریشن اور سفری عمل کو مزید سہل اور تیز بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503638</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Apr 2026 00:05:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/18000141f3f5350.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/18000141f3f5350.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر ملازمین کے لیے بجلی کے مفت یونٹس کی سہولت ختم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503625/power-sector-employees-free-electricity-units-end</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے پاور سیکٹر کے ملازمین کے لیے بجلی کے مفت یونٹس کی سہولت ختم کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے پاور سیکٹر کے ملازمین کے لیے فری یونٹس کی سہولت کے خاتمے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس  (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاور سیکٹر کے اہلکاروں کے فری یونٹس ختم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499640/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499640"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے کہا کہ معزز عدالت نے پاور ڈویژن کی عرضی کو قبول فرمایا۔ فری یونٹس کا خاتمہ عوام کا سب سے پرانا اور دیرینہ مطالبہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مطالبے کو پورا کرنے کا اعزاز انہیں عطا فرمایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ان شا اللہ ہر وہ اقدام ضرور کیا جائے گا جو ملک اور قوم کی اجتماعی بہتری کے لیے ہو، حکومت عوامی مفاد میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے پاور سیکٹر کے ملازمین کے لیے بجلی کے مفت یونٹس کی سہولت ختم کر دی ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے پاور سیکٹر کے ملازمین کے لیے فری یونٹس کی سہولت کے خاتمے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔</p>
<p>وزیر توانائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس  (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاور سیکٹر کے اہلکاروں کے فری یونٹس ختم کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499640/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499640"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اویس لغاری نے کہا کہ معزز عدالت نے پاور ڈویژن کی عرضی کو قبول فرمایا۔ فری یونٹس کا خاتمہ عوام کا سب سے پرانا اور دیرینہ مطالبہ تھا۔</p>
<p>انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مطالبے کو پورا کرنے کا اعزاز انہیں عطا فرمایا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ان شا اللہ ہر وہ اقدام ضرور کیا جائے گا جو ملک اور قوم کی اجتماعی بہتری کے لیے ہو، حکومت عوامی مفاد میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503625</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 16:39:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/171638044f88e9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/171638044f88e9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف کا لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503628/pm-shehbaz-sharif-lebanon-ceasefire</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے سینئر مشیر سے ملاقات کی اور امن کوششوں پر بات چیت کی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور جنگ بندی اقدامات کو سراہا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی امن کوششوں اور مجوزہ تاریخی اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاک بھارت جنگ بندی میں ان کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے جرات مندانہ فیصلے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انھوں نے لبنان میں جنگ بندی معاہدے پر بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی اور اسے خطے میں امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2045029468595433644'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2045029468595433644"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کی گئی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ جنگ بندی ممکن ہوئی جو امن کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امید ہے یہ جنگ بندی خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503609/israel-lebanon-occupation-ceasefire'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں مستقل امن کے لیے تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30503603/donald-trump-israel-lebanon-ceasefire"&gt;جنگ بندی کا اعلان&lt;/a&gt; کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر تفصیلی بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس پیش رفت کے باوجود اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود وہ جنوبی لبنان میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2045109864091803993'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2045109864091803993"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام علاقوں پر بدستور موجود رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ایک ”سیکیورٹی زون“ قائم کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے سینئر مشیر سے ملاقات کی اور امن کوششوں پر بات چیت کی۔ وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور جنگ بندی اقدامات کو سراہا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی امن کوششوں اور مجوزہ تاریخی اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور پاک بھارت جنگ بندی میں ان کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے جرات مندانہ فیصلے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی۔ انھوں نے لبنان میں جنگ بندی معاہدے پر بھی صدر ٹرمپ کی قیادت کی تعریف کی اور اسے خطے میں امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔</p>
<p>اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CMShehbaz/status/2045029468595433644'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CMShehbaz/status/2045029468595433644"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کی گئی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ جنگ بندی ممکن ہوئی جو امن کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امید ہے یہ جنگ بندی خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503609/israel-lebanon-occupation-ceasefire'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں مستقل امن کے لیے تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔</p>
<p>خیال رہے کہ جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30503603/donald-trump-israel-lebanon-ceasefire">جنگ بندی کا اعلان</a> کیا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر تفصیلی بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی ہے۔ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔</p>
<p>تاہم اس پیش رفت کے باوجود اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود وہ جنوبی لبنان میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AlArabiya_Eng/status/2045109864091803993'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AlArabiya_Eng/status/2045109864091803993"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کے دوران حاصل کیے گئے تمام علاقوں پر بدستور موجود رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ایک ”سیکیورٹی زون“ قائم کر لیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503628</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 18:17:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/171758044391a81.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/171758044391a81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، فتنہ الہندوستان کے 3 دہشت گرد گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503626/karachi-terrorism-plot-foiled-indian-terrorists-arrested</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام ہوگئی، حساس ادارے اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کراچی کے علاقے لیاری میں کی گئی، جہاں خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر کالعدم تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 3 دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا جب کہ گرفتار ملزمان میں عمران ولد علی محمد اور اس کے دیگر ساتھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499755'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ شہر میں کسی بڑی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ملزمان کے قبضے سے 30 بور پستول اور 18 گولیاں برآمد ہوئی ہیں، جو حکام کے مطابق شہر میں ٹارگٹ کلنگ یا تخریب کاری کے لیے استعمال ہونی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے نیٹ ورک اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ دہشت گردوں کے پورے گروہ کا قلع قمع کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی میں دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام ہوگئی، حساس ادارے اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے 3 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔</strong></p>
<p>سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کراچی کے علاقے لیاری میں کی گئی، جہاں خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر کالعدم تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 3 دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا جب کہ گرفتار ملزمان میں عمران ولد علی محمد اور اس کے دیگر ساتھی شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499755'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ شہر میں کسی بڑی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ملزمان کے قبضے سے 30 بور پستول اور 18 گولیاں برآمد ہوئی ہیں، جو حکام کے مطابق شہر میں ٹارگٹ کلنگ یا تخریب کاری کے لیے استعمال ہونی تھیں۔</p>
<p>سی ٹی ڈی نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔</p>
<p>سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے نیٹ ورک اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ دہشت گردوں کے پورے گروہ کا قلع قمع کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503626</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 17:21:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صولت جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1717212217c7eef.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1717212217c7eef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فتنہ الخوارج کے گرفتار سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر کے ہوشربا انکشافات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503619/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فتنہ الخوارج کے گرفتار سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر کا اعترافی بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار دہشت گرد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر فتنہ الخوارج میں شامل ہوا۔ اس نے بتایا کہ اسے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم مرکز میں دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خارجی عامر سہیل نے انکشاف کیا کہ فتنہ الخوارج کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی، جبکہ افغانستان میں موجود دیگر شدت پسند تنظیموں، بشمول داعش اور القاعدہ، کے ساتھ بھی قریبی روابط تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=qH0572NoIGw'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/qH0572NoIGw?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فتنہ الخوارج کے گرفتار سرغنہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں، خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503614/former-afghan-taliban-official-arrest-claim'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گرفتار دہشت گرد نے مزید بتایا کہ اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد افغان شہری شامل تھے اور وہ بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گرد عامر سہیل نے بتایا کہ اُسے پشاور میں علاج کی غرض سے داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورانِ تفتیش خارجی عامر سہیل نے یہ بھی اعتراف کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فتنہ الخوارج کے گرفتار سرغنہ عامر سہیل عرف مولوی حیدر کا اعترافی بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ افغانستان میں فتنہ الخوارج کے مراکز کو افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔</strong></p>
<p>گرفتار دہشت گرد نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر فتنہ الخوارج میں شامل ہوا۔ اس نے بتایا کہ اسے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں قائم مرکز میں دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دی گئی۔</p>
<p>خارجی عامر سہیل نے انکشاف کیا کہ فتنہ الخوارج کو افغان طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی، جبکہ افغانستان میں موجود دیگر شدت پسند تنظیموں، بشمول داعش اور القاعدہ، کے ساتھ بھی قریبی روابط تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=qH0572NoIGw'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/qH0572NoIGw?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فتنہ الخوارج کے گرفتار سرغنہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں، خصوصاً بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی جانب سے مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی رہی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503614/former-afghan-taliban-official-arrest-claim'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گرفتار دہشت گرد نے مزید بتایا کہ اس کے نیٹ ورک میں 20 سے زائد افغان شہری شامل تھے اور وہ بنوں، لکی مروت اور میانوالی میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔</p>
<p>دہشت گرد عامر سہیل نے بتایا کہ اُسے پشاور میں علاج کی غرض سے داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>دورانِ تفتیش خارجی عامر سہیل نے یہ بھی اعتراف کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام یا جہاد سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گروہ محض مالی مفادات کے لیے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503619</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 12:55:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/171252202530002.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/171252202530002.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی آئینی عدالت: بھارتی اور اسرائیلی کتب و اشیاء کی درآمد پر پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503621/federal-court-bans-indian-israeli-books-goods</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں بھارت اور اسرائیل سے کتب و دیگر اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی کو درست قرار دیتے ہوئے متعلقہ نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر برقرار رکھا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کا فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے اکثریتی رائے سے جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات مکمل طور پر حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور عدلیہ ان معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھے اور کن پر پابندیاں عائد کرے، عدالت نے واضح کیا کہ اگر عدلیہ تجارتی پالیسیوں میں مداخلت کرے تو یہ آئینی حدود سے تجاوز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قرار دیا کہ نجی درخواست گزار اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی آئینی عدالت کے مطابق خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلے ایگزیکٹو کا خصوصی اختیار ہیں اور عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومت کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرے یا نہ کرے، اور اگر عدلیہ اس حوالے سے احکامات جاری کرے تو یہ اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پڑھنے کا حق بنیادی حق ضرور ہے، تاہم یہ ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت عائد پابندیوں کے تابع رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آئین پاکستان کو ایک ’ارتقاء پذیر دستاویز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ اس کی تشریحات میں تبدیلی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 25-A کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مفت تعلیم کا حق صرف اسکول اور کالج کی حد تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سے قانون کی کتابیں سستی ہونے کے باوجود خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ان پر پابندی برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت پڑھنے کے حق کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حق زندگی کے حق سے جڑا ہوا ہے اور انسانی ذہن کو حقیقت اور تاریخ سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پس منظر کے مطابق لاہور کے ایک نجی بک ہاؤس نے بھارت سے قانون کی کتابیں منگوانے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ کتابیں سستی اور قانونی نظام سے مماثلت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت سے ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائیکورٹ نے اس درخواست پر حکومت کو ہدایت دی تھی کہ معاملے پر نظرثانی کی جائے اور کہا تھا کہ علم پر مکمل پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزارتِ تجارت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر اب عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں بھارت اور اسرائیل سے کتب و دیگر اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی کو درست قرار دیتے ہوئے متعلقہ نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر برقرار رکھا ہے۔</strong></p>
<p>عدالت کا فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے اکثریتی رائے سے جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات مکمل طور پر حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور عدلیہ ان معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھے اور کن پر پابندیاں عائد کرے، عدالت نے واضح کیا کہ اگر عدلیہ تجارتی پالیسیوں میں مداخلت کرے تو یہ آئینی حدود سے تجاوز ہوگا۔</p>
<br>
<p>عدالت نے قرار دیا کہ نجی درخواست گزار اپنی شکایات کے ازالے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کے لیے آزاد ہیں۔</p>
<p>وفاقی آئینی عدالت کے مطابق خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلے ایگزیکٹو کا خصوصی اختیار ہیں اور عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔</p>
<p>عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومت کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرے یا نہ کرے، اور اگر عدلیہ اس حوالے سے احکامات جاری کرے تو یہ اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہوگا۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پڑھنے کا حق بنیادی حق ضرور ہے، تاہم یہ ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت عائد پابندیوں کے تابع رہتا ہے۔</p>
<p>عدالت نے آئین پاکستان کو ایک ’ارتقاء پذیر دستاویز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ اس کی تشریحات میں تبدیلی ممکن ہے۔</p>
<p>آرٹیکل 25-A کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مفت تعلیم کا حق صرف اسکول اور کالج کی حد تک محدود ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھارت سے قانون کی کتابیں سستی ہونے کے باوجود خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ان پر پابندی برقرار رہے گی۔</p>
<p>فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت پڑھنے کے حق کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حق زندگی کے حق سے جڑا ہوا ہے اور انسانی ذہن کو حقیقت اور تاریخ سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔</p>
<p>پس منظر کے مطابق لاہور کے ایک نجی بک ہاؤس نے بھارت سے قانون کی کتابیں منگوانے کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ کتابیں سستی اور قانونی نظام سے مماثلت رکھتی ہیں۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت سے ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی تھی۔</p>
<p>لاہور ہائیکورٹ نے اس درخواست پر حکومت کو ہدایت دی تھی کہ معاملے پر نظرثانی کی جائے اور کہا تھا کہ علم پر مکمل پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔</p>
<p>تاہم وزارتِ تجارت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر اب عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503621</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 14:19:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فہد بشیر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1714014871d8582.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1714014871d8582.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503607/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی ہے، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر پیش رفت اور باہمی رضا مندی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TehranTimes79/status/2044855602204049706'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TehranTimes79/status/2044855602204049706"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو تہران میں مصروف ترین دن گزارا، جہاں انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف سے بھی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں جنگ بندی، جاری کشیدگی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503606/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دورۂ ایران کے دوران فیلڈ مارشل نے کمانڈر خاتم الانبیا کے دفتر کا بھی دورہ کیا اور اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقات کی، جس میں سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503566/pakistan-peace-efforts-jeddah-tehran-field-marshal-asim-munir-pm-shehbaz-sharif-us-iran-war'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر عباس عراقچی نے مذاکراتی عمل کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس اہم دورے میں فیلڈ مارشل کے ہمراہ ہیں، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات کی ہے، جسے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر پیش رفت اور باہمی رضا مندی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TehranTimes79/status/2044855602204049706'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TehranTimes79/status/2044855602204049706"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو تہران میں مصروف ترین دن گزارا، جہاں انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف سے بھی ملاقات کی۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں جنگ بندی، جاری کشیدگی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503606/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دورۂ ایران کے دوران فیلڈ مارشل نے کمانڈر خاتم الانبیا کے دفتر کا بھی دورہ کیا اور اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقات کی، جس میں سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>بدھ کے روز انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503566/pakistan-peace-efforts-jeddah-tehran-field-marshal-asim-munir-pm-shehbaz-sharif-us-iran-war'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس موقع پر عباس عراقچی نے مذاکراتی عمل کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس اہم دورے میں فیلڈ مارشل کے ہمراہ ہیں، جہاں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503607</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 08:58:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/17084749435cfba.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/17084749435cfba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: سینیٹر سرمد علی سے اردو یونیورسٹی وفد کی ملاقات، بحران کے حل کی یقین دہانی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503636/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹر سرمد علی نے کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات کو وزارتِ تعلیم کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کو سینیٹ آف پاکستان میں مؤثر انداز میں اٹھاتے رہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر سرمد علی نے اپنے دفتر میں یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی ایک قومی درسگاہ ہے اور اس کے اساتذہ و ملازمین ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، لہٰذا ان کے مسائل کا فوری اور پائیدار حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وفد نے یونیورسٹی کو درپیش شدید مالی بحران پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ اس وقت سنگین مشکلات کا شکار ہے۔ اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی میں تاخیر معمول بن چکی ہے، جب کہ پنشنرز بھی شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مالی بحران کے باعث تدریسی، تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے صدر روشن علی سومرو نے کہا کہ یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین انتظامی فورم، سینیٹ، طویل عرصے سے غیر فعال ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس میں صرف ایک اجلاس کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ انتظامی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث اہم پالیسی فیصلے تعطل کا شکار ہیں اور گورننس کمزور ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ یا وہ خود اجلاس کی صدارت کریں یا فوری طور پر ڈپٹی چیئرپرسن مقرر کریں تاکہ آئینی و قانونی معاملات کو فعال بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر افتخار احمد طاہری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ تاحال کسی بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث اساتذہ، ملازمین اور طلبہ شدید بے یقینی کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر سرمد علی نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے یونیورسٹی کے مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے اختتام پر وفد نے سینیٹر سرمد علی کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہیں ایک کتاب بطور تحفہ بھی پیش کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹر سرمد علی نے کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات کو وزارتِ تعلیم کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کو سینیٹ آف پاکستان میں مؤثر انداز میں اٹھاتے رہیں گے۔</strong></p>
<p>سینیٹر سرمد علی نے اپنے دفتر میں یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی ایک قومی درسگاہ ہے اور اس کے اساتذہ و ملازمین ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، لہٰذا ان کے مسائل کا فوری اور پائیدار حل حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>اس موقع پر وفد نے یونیورسٹی کو درپیش شدید مالی بحران پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ اس وقت سنگین مشکلات کا شکار ہے۔ اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی میں تاخیر معمول بن چکی ہے، جب کہ پنشنرز بھی شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مالی بحران کے باعث تدریسی، تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔</p>
<p>انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے صدر روشن علی سومرو نے کہا کہ یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین انتظامی فورم، سینیٹ، طویل عرصے سے غیر فعال ہے۔ گزشتہ ڈھائی برس میں صرف ایک اجلاس کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ انتظامی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث اہم پالیسی فیصلے تعطل کا شکار ہیں اور گورننس کمزور ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ یا وہ خود اجلاس کی صدارت کریں یا فوری طور پر ڈپٹی چیئرپرسن مقرر کریں تاکہ آئینی و قانونی معاملات کو فعال بنایا جا سکے۔</p>
<p>ڈاکٹر افتخار احمد طاہری نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ تاحال کسی بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث اساتذہ، ملازمین اور طلبہ شدید بے یقینی کا شکار ہیں۔</p>
<p>سینیٹر سرمد علی نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے یونیورسٹی کے مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔</p>
<p>ملاقات کے اختتام پر وفد نے سینیٹر سرمد علی کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انہیں ایک کتاب بطور تحفہ بھی پیش کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503636</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 22:23:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/172219230762ea4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/172219230762ea4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نقل کرنے والا طالب علم کبھی بورڈ امتحان نہیں دے سکے گا: سندھ حکومت کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503617/cheating-student-cant-take-board-exam</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ حکومت نے میٹرک و انٹر امتحانات میں نقل کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ حکومت کا نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف بڑا فیصلہ ،نقل کرنے والا طالب علم کبھی بھی بورڈ کے امتحانات نہیں دے سکے گا ،اور ملوث عملے کو نوکری سے فارغ کیا جائے گا، وزیرجامعات و بورڈزسندھ محمداسماعیل راہو اور وزیر تعلیم سردار شاہ کا مشترکہ بیان سامنے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر جامعات اسماعیل راہو اور وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے مشترکہ بیان کے مطابق نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، بورڈ امتحانات میں نقل پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کردی گئی ہے، امتحانی عمل کے دوران انویجیلیٹر، انٹرنل، ایکسٹرنل یا کوئی بھی انتظامی افسر کے ملوث ہونے کی صورت میں محکمہ جاتی کارروائی ہوگی، عملے کے ملوث ہونے کی صورت میں نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزرا کاکہناہےکہ موبائل یا نقل کرنے کا مواد رکھنے والے طالب علم کو فوری طور پر امتحانی عمل سے خارج کیا جائے گا ،نقل میں ملوث طالب علم کے تمام پرچے منسوخ کر دیے جائیں گے، ایسے طلباء کو جاری امتحانات اور آئندہ آنے والے بورڈ کے کسی بھی امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا جائیگا، امتحانی مراکز پر نگرانی کا نظام سخت کیا جائے گا، کسی بھی مداخلت کی صورت میں سخت ایکشن ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ حکومت نے میٹرک و انٹر امتحانات میں نقل کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔</strong></p>
<p>سندھ حکومت کا نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف بڑا فیصلہ ،نقل کرنے والا طالب علم کبھی بھی بورڈ کے امتحانات نہیں دے سکے گا ،اور ملوث عملے کو نوکری سے فارغ کیا جائے گا، وزیرجامعات و بورڈزسندھ محمداسماعیل راہو اور وزیر تعلیم سردار شاہ کا مشترکہ بیان سامنے آگیا۔</p>
<p>وزیر جامعات اسماعیل راہو اور وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے مشترکہ بیان کے مطابق نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، بورڈ امتحانات میں نقل پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کردی گئی ہے، امتحانی عمل کے دوران انویجیلیٹر، انٹرنل، ایکسٹرنل یا کوئی بھی انتظامی افسر کے ملوث ہونے کی صورت میں محکمہ جاتی کارروائی ہوگی، عملے کے ملوث ہونے کی صورت میں نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔</p>
<p>صوبائی وزرا کاکہناہےکہ موبائل یا نقل کرنے کا مواد رکھنے والے طالب علم کو فوری طور پر امتحانی عمل سے خارج کیا جائے گا ،نقل میں ملوث طالب علم کے تمام پرچے منسوخ کر دیے جائیں گے، ایسے طلباء کو جاری امتحانات اور آئندہ آنے والے بورڈ کے کسی بھی امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا جائیگا، امتحانی مراکز پر نگرانی کا نظام سخت کیا جائے گا، کسی بھی مداخلت کی صورت میں سخت ایکشن ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503617</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 12:29:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قیصر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/17122416a515b7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/17122416a515b7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
