<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 15:17:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 07 Jun 2026 15:17:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر: سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506212/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔ یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ان نشستوں کی حیثیت سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنی ہوئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت مکمل آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی اقدام یا حکومتی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید واضح کیا کہ آئینی ترمیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ رائے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق 4 کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریفرنس کی سماعت ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن جاری رہی۔ سماعت کے دوران راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی سربمہر آئینی رائے ایوانِ صدر ارسال کی، جسے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے صدر کے دفتر تک پہنچایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 12 نشستیں جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں مقیم کشمیری ووٹ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان 12 مہاجر نشستوں کی آئینی اور قانونی حیثیت پر کچھ عرصہ قبل تنازع پیدا ہوا تھا جس کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی تنظیم نے ان نشستوں کو ختم کرنے کے لیے ہڑتالوں کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان اس معاملے پر 9 گھنٹے طویل مذاکرات بھی ناکام ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے فوراً بعد آزاد کشمیر اسمبلی نے ان نشستوں کے حق میں ایک قرارداد منظور کی تھی اور ایک آل پارٹیز کانفرنس نے بھی ان نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو مسترد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر حکومت نے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہونے سے محض چند روز قبل 5 جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر حکومت نے اس قانونی تنازع پر سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کرتے ہوئے صدر کے توسط سے ایک ریفرنس ارسال کیا تھا جس میں عدالت سے رائے مانگی گئی تھی کہ آیا ان نشستوں کو ختم کیا جا سکتا ہے یا انہیں محض علامتی نمائندگی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں ان کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شامل ہیں، ان نشستوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کے نتائج اکثر حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی حالیہ رائے کے بعد مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے اور حکومت کا مؤقف قانونی طور پر درست قرار پانے کے ساتھ ساتھ ان نشستوں سے متعلق جاری سیاسی تنازع کو بھی ایک اہم آئینی سمت مل گئی ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف کی توثیق کر دی ہے۔ یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ان نشستوں کی حیثیت سیاسی اور قانونی بحث کا مرکز بنی ہوئی تھی۔</strong></p>
<p>صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل اے 46 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کی آئینی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ سے رائے طلب کی گئی تھی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ مہاجر نشستیں آئین کے آرٹیکل 22 کے تحت مکمل آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی اقدام یا حکومتی فیصلے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ان نشستوں کے ڈھانچے یا حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آئین کے آرٹیکل 33 کے تحت باقاعدہ آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔</p>
<p>عدالت نے مزید واضح کیا کہ آئینی ترمیم صرف عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور مقررہ آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ رائے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 22 کی شق 4 کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے اور کسی بھی سیاسی تنازع یا احتجاج کو انتخابی عمل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جا سکتا۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے قیام کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کے حقوق کا استعمال دوسرے شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتا، جبکہ انتظامیہ عوامی امن، آئینی نظم اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔</p>
<p>اس ریفرنس کی سماعت ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن جاری رہی۔ سماعت کے دوران راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ، وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے۔</p>
<p>سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنی سربمہر آئینی رائے ایوانِ صدر ارسال کی، جسے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے صدر کے دفتر تک پہنچایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 53 نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر مقیم ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ 12 نشستیں جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں، جن پر پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں مقیم کشمیری ووٹ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>ان 12 مہاجر نشستوں کی آئینی اور قانونی حیثیت پر کچھ عرصہ قبل تنازع پیدا ہوا تھا جس کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی تنظیم نے ان نشستوں کو ختم کرنے کے لیے ہڑتالوں کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>رواں ماہ کے آغاز میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان اس معاملے پر 9 گھنٹے طویل مذاکرات بھی ناکام ہو گئے تھے۔</p>
<p>اس کے فوراً بعد آزاد کشمیر اسمبلی نے ان نشستوں کے حق میں ایک قرارداد منظور کی تھی اور ایک آل پارٹیز کانفرنس نے بھی ان نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو مسترد کیا تھا۔</p>
<p>آزاد کشمیر حکومت نے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہونے سے محض چند روز قبل 5 جون کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>آزاد کشمیر حکومت نے اس قانونی تنازع پر سپریم کورٹ سے رہنمائی طلب کرتے ہوئے صدر کے توسط سے ایک ریفرنس ارسال کیا تھا جس میں عدالت سے رائے مانگی گئی تھی کہ آیا ان نشستوں کو ختم کیا جا سکتا ہے یا انہیں محض علامتی نمائندگی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، جس کے باعث آزاد کشمیر کی حکومت سازی میں ان کی اہمیت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف شامل ہیں، ان نشستوں پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہاجر نشستوں کے نتائج اکثر حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ کی حالیہ رائے کے بعد مہاجر نشستوں کی آئینی حیثیت مزید واضح ہو گئی ہے اور حکومت کا مؤقف قانونی طور پر درست قرار پانے کے ساتھ ساتھ ان نشستوں سے متعلق جاری سیاسی تنازع کو بھی ایک اہم آئینی سمت مل گئی ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506212</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 13:55:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/07134708ccb2ddd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/07134708ccb2ddd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان انتخابات: کہاں کون کس پر بھاری، 24 حلقوں کی مکمل گائیڈ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506200/gilgit-baltistan-elections-who-holds-the-edge-a-complete-guide-to-24-constituencies</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پر سیاسی میدان سج چکا ہے اور پولنگ کا عمل جاری ہے جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک چلے گا۔ اس بار کے انتخابات میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ پورے خطے میں ووٹنگ کے لیے 1 ہزار 368 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جہاں 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، جن میں 8 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ 23 حلقوں میں اپنے نمائندے اتارے ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے 22 حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور پاکستانی نظریاتی پارٹی کے 10 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے 19 امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن کا حصہ ہیں جبکہ مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیے اب تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ کس حلقے میں کیا صورتحال ہے اور کون کس کے مدمقابل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506198/gilgit-baltistans-election-battle-today'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506198"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 1 میں کل 23 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں اصل جنگ ن لیگ کے شفیق الدین اور پیپلز پارٹی کے امجد حسین کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔ اس حلقے میں 80 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں اور یہاں کل 47 ہزار 373 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 2 میں سب سے زیادہ یعنی 40 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے درمیان سخت مقابلہ ہے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عتیق پیرزادہ بھی ان کے مدمقابل ہیں۔ یہاں 73 پولنگ اسٹیشنز پر 55 ہزار 849 ووٹرز اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 3 میں 22 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد اقبال، پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سہیل عباس آمنے سامنے ہیں۔ اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری تین حلقوں کی بات کریں تو حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں حلقہ جی بی 24 ہے جہاں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح تمام 24 حلقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش عروج پر ہے اور شام کو پولنگ ختم ہوتے ہی نتائج کا انتظار شروع ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پر سیاسی میدان سج چکا ہے اور پولنگ کا عمل جاری ہے جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک چلے گا۔ اس بار کے انتخابات میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ پورے خطے میں ووٹنگ کے لیے 1 ہزار 368 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جہاں 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، جن میں 8 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ 23 حلقوں میں اپنے نمائندے اتارے ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن نے 22 حلقوں سے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور پاکستانی نظریاتی پارٹی کے 10 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے 19 امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن کا حصہ ہیں جبکہ مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔</p>
<p>آئیے اب تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ کس حلقے میں کیا صورتحال ہے اور کون کس کے مدمقابل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506198/gilgit-baltistans-election-battle-today'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506198"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حلقہ جی بی 1 میں کل 23 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں اصل جنگ ن لیگ کے شفیق الدین اور پیپلز پارٹی کے امجد حسین کے درمیان دیکھی جا رہی ہے۔ اس حلقے میں 80 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں اور یہاں کل 47 ہزار 373 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 2 میں سب سے زیادہ یعنی 40 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن اور پیپلز پارٹی کے جمیل احمد کے درمیان سخت مقابلہ ہے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عتیق پیرزادہ بھی ان کے مدمقابل ہیں۔ یہاں 73 پولنگ اسٹیشنز پر 55 ہزار 849 ووٹرز اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 3 میں 22 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد اقبال، پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سہیل عباس آمنے سامنے ہیں۔ اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔</p>
<p>حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔</p>
<p>حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔</p>
<p>حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔</p>
<p>حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔</p>
<p>حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔</p>
<p>آخری تین حلقوں کی بات کریں تو حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔</p>
<p>آخر میں حلقہ جی بی 24 ہے جہاں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔</p>
<p>اس طرح تمام 24 حلقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش عروج پر ہے اور شام کو پولنگ ختم ہوتے ہی نتائج کا انتظار شروع ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506200</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:47:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0708441629a02d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0708441629a02d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب آج کے دن پاک فضائیہ نے لاہور کے آسمان پر اسرائیلی ساختہ بھارتی طیارہ مار گرایا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506204/when-the-pakistan-air-force-shot-down-an-israeli-made-indian-drone-over-the-skies-of-lahore-on-7th-june-2001</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سال 2002 کا موسمِ بہار جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک دور تھا۔ اس سال لاہور کے آسمان پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ رقم کر کردی۔ سات جولائی کو پاک فضائیہ نے اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرون کو ایسے طریقے سے مار گرایا جو کبھی کسی نے نہیں اپنایا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے ایک حملے کے بعد دونوں جوہری طاقتوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ دونوں ملکوں نے لاکھوں فوج سرحدوں پر آمنے سامنے کھڑی کر دی تھی، جسے بھارت کی طرف سے آپریشن پراکرم کا نام دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال اتنی سنگین تھی کہ واشنگٹن، لندن اور بیجنگ میں بیٹھے ماہرین ایٹمی جنگ کے خطرات پر غور کر رہے تھے اور امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اس بحران کو اپنے کیریئر کا سب سے خوفناک ترین دور قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماحول میں دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی مشنز چلا رہی تھیں، اور اسی مقصد کے لیے بھارتی فضائیہ نے اس وقت نئے اسرائیلی ساختہ ’سرچر مارک ٹو‘ نامی جاسوس ڈرون حاصل کیے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709420363e474d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709420363e474d.webp'  alt='نئی دہلی میں 26 جنوری 2007 کو 58 ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے دوران سرچر مارک ٹو (بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارہ) راج پتھ سے گزر رہا ہے۔ (تصویر وکی میڈیا)' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نئی دہلی میں 26 جنوری 2007 کو 58 ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے دوران سرچر مارک ٹو (بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارہ) راج پتھ سے گزر رہا ہے۔ (تصویر وکی میڈیا)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سات جون 2002 کی رات کو بھارت کا ایک ایسا ہی ڈرون لاہور کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈرون وزن میں ہلکا، سائز میں چھوٹا اور رفتار میں دھیما تھا، اور اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ روایتی ریڈارز کی نظروں سے بچ کر خاموشی سے ویڈیو اور تصاویر بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے چھوٹے اور دھیمے طیاروں کو رات کے اندھیرے میں ریڈار پر پکڑنا اور پھر انہیں نشانہ بنانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فضائیہ کا ریڈار سسٹم اس رات پوری طرح الرٹ تھا اور آپریٹرز نے اس چھوٹے سے سگنل کو نہ صرف وقت پر پہچانا بلکہ اس کا تعاقب بھی شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فضائیہ کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق، ہمیشہ چوکنا رہنے والے پی اے ایف کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے درانداز کی صحیح شناخت کی، اور اس کے چھوٹے، سست رفتار اور کم بلندی والے پروفائل کی نگرانی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DGPR_PAF/status/2063343385122103543?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DGPR_PAF/status/2063343385122103543?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی سرحد کی خلاف ورزی کی تصدیق ہوئی، پاک فضائیہ کے کمانڈ سینٹر نے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ جس کے بعد نمبر 9 اسکواڈرن کا ایک ایف 16 طیارہ رات کے اندھیرے میں فضا میں بلند ہوا جس میں دو پائلٹ سوار تھے۔ اگلی نشست پر پائلٹ اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب اور پچھلی نشست پر نیویگیٹر اسکواڈرن لیڈر افضل اعوان موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمینی ریڈار آپریٹرز کی درست رہنمائی کی مدد سے یہ طیارہ رات کے گھنے اندھیرے میں اس چھوٹے سے ڈرون کے بالکل قریب پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائلٹس نے ہدف کی تصدیق کی اور اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب نے گائیڈڈ سائیڈ وائنڈر ’اے آئی ایم-9 ایل‘ میزائل فائر کر دیا۔ یہ ایک ہیٹ سیکنگ یعنی گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والا میزائل تھا، جس نے ڈرون کے چھوٹے سے انجن کی گرمی کو لاک کیا اور اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709442031ac1e9.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709442031ac1e9.webp'  alt='چولستان کے صحرا پر فضا میں پرواز کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ایف 16 اے (نمبر 85726) اور ایف 16 بی (نمبر 84608) طیارے، جو پاک فضائیہ کے بنیادی فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار &amp;rsquo;سائیڈ وائنڈر میزائلوں&amp;lsquo; سے لیس ہیں- تصویر بشکریہ پاک فضائیہ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چولستان کے صحرا پر فضا میں پرواز کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ایف 16 اے (نمبر 85726) اور ایف 16 بی (نمبر 84608) طیارے، جو پاک فضائیہ کے بنیادی فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار ’سائیڈ وائنڈر میزائلوں‘ سے لیس ہیں- تصویر بشکریہ پاک فضائیہ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس طیارے کا ملبہ پاکستانی حدود میں گرا جسے بعد میں ثبوت کے طور پر اکٹھا کر لیا گیا۔ پاک فضائیہ نے اس کارروائی کو ایک ایسے شکار سے تعبیر کیا جسے اب تک ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/07121120a82d7a6.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/07121120a82d7a6.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کو عالمی ہوا بازی کی تاریخ میں اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا میں پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑاکا طیارے نے رات کے وقت گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والے میزائل سے کسی ڈرون کو مار گرایا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاسوسی مشنز اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت فضائی حدود کی خلاف ورزی ہیں، لیکن جنگی حالات میں یہ تمام بڑی افواج کا ایک معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور بھارت نے اس مشن کی تفصیلات کی کبھی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ کارروائی اپنی فضائی سرحدوں کے کامیاب دفاع کی ایک بڑی علامت بن گئی، جبکہ عالمی عسکری اداروں کے لیے اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید ترین ڈرون بھی ناقابلِ شکست نہیں ہوتے۔ اور اس کی تازہ مثال ایران کے ہاتھوں امریکی ایم کیو نائن ڈرونز کی پے در پے تباہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فضائیہ کے بیان کے مطابق، فضائی دفاع کے آپریٹرز اور شاہینوں نے اس کارروائی میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا، جو پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ قائم رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں بین الاقوامی سفارتی کوششوں سے یہ کشیدگی تو ختم ہو گئی، لیکن یہ واقعہ جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سال 2002 کا موسمِ بہار جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک دور تھا۔ اس سال لاہور کے آسمان پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ رقم کر کردی۔ سات جولائی کو پاک فضائیہ نے اسرائیلی ساختہ بھارتی ڈرون کو ایسے طریقے سے مار گرایا جو کبھی کسی نے نہیں اپنایا تھا۔</strong></p>
<p>دسمبر 2001 میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے ایک حملے کے بعد دونوں جوہری طاقتوں، پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ دونوں ملکوں نے لاکھوں فوج سرحدوں پر آمنے سامنے کھڑی کر دی تھی، جسے بھارت کی طرف سے آپریشن پراکرم کا نام دیا گیا تھا۔</p>
<p>صورتحال اتنی سنگین تھی کہ واشنگٹن، لندن اور بیجنگ میں بیٹھے ماہرین ایٹمی جنگ کے خطرات پر غور کر رہے تھے اور امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول نے اس بحران کو اپنے کیریئر کا سب سے خوفناک ترین دور قرار دیا تھا۔</p>
<p>اس ماحول میں دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی مشنز چلا رہی تھیں، اور اسی مقصد کے لیے بھارتی فضائیہ نے اس وقت نئے اسرائیلی ساختہ ’سرچر مارک ٹو‘ نامی جاسوس ڈرون حاصل کیے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709420363e474d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709420363e474d.webp'  alt='نئی دہلی میں 26 جنوری 2007 کو 58 ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے دوران سرچر مارک ٹو (بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارہ) راج پتھ سے گزر رہا ہے۔ (تصویر وکی میڈیا)' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نئی دہلی میں 26 جنوری 2007 کو 58 ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کے دوران سرچر مارک ٹو (بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارہ) راج پتھ سے گزر رہا ہے۔ (تصویر وکی میڈیا)</figcaption>
    </figure>
<p>سات جون 2002 کی رات کو بھارت کا ایک ایسا ہی ڈرون لاہور کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔</p>
<p>یہ ڈرون وزن میں ہلکا، سائز میں چھوٹا اور رفتار میں دھیما تھا، اور اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ روایتی ریڈارز کی نظروں سے بچ کر خاموشی سے ویڈیو اور تصاویر بنا سکے۔</p>
<p>دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے چھوٹے اور دھیمے طیاروں کو رات کے اندھیرے میں ریڈار پر پکڑنا اور پھر انہیں نشانہ بنانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔</p>
<p>پاک فضائیہ کا ریڈار سسٹم اس رات پوری طرح الرٹ تھا اور آپریٹرز نے اس چھوٹے سے سگنل کو نہ صرف وقت پر پہچانا بلکہ اس کا تعاقب بھی شروع کر دیا۔</p>
<p>پاک فضائیہ کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق، ہمیشہ چوکنا رہنے والے پی اے ایف کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے درانداز کی صحیح شناخت کی، اور اس کے چھوٹے، سست رفتار اور کم بلندی والے پروفائل کی نگرانی کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DGPR_PAF/status/2063343385122103543?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DGPR_PAF/status/2063343385122103543?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جیسے ہی سرحد کی خلاف ورزی کی تصدیق ہوئی، پاک فضائیہ کے کمانڈ سینٹر نے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ جس کے بعد نمبر 9 اسکواڈرن کا ایک ایف 16 طیارہ رات کے اندھیرے میں فضا میں بلند ہوا جس میں دو پائلٹ سوار تھے۔ اگلی نشست پر پائلٹ اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب اور پچھلی نشست پر نیویگیٹر اسکواڈرن لیڈر افضل اعوان موجود تھے۔</p>
<p>زمینی ریڈار آپریٹرز کی درست رہنمائی کی مدد سے یہ طیارہ رات کے گھنے اندھیرے میں اس چھوٹے سے ڈرون کے بالکل قریب پہنچ گیا۔</p>
<p>پائلٹس نے ہدف کی تصدیق کی اور اسکواڈرن لیڈر ذوالفقار ایوب نے گائیڈڈ سائیڈ وائنڈر ’اے آئی ایم-9 ایل‘ میزائل فائر کر دیا۔ یہ ایک ہیٹ سیکنگ یعنی گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والا میزائل تھا، جس نے ڈرون کے چھوٹے سے انجن کی گرمی کو لاک کیا اور اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709442031ac1e9.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0709442031ac1e9.webp'  alt='چولستان کے صحرا پر فضا میں پرواز کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ایف 16 اے (نمبر 85726) اور ایف 16 بی (نمبر 84608) طیارے، جو پاک فضائیہ کے بنیادی فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار &rsquo;سائیڈ وائنڈر میزائلوں&lsquo; سے لیس ہیں- تصویر بشکریہ پاک فضائیہ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چولستان کے صحرا پر فضا میں پرواز کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ایف 16 اے (نمبر 85726) اور ایف 16 بی (نمبر 84608) طیارے، جو پاک فضائیہ کے بنیادی فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار ’سائیڈ وائنڈر میزائلوں‘ سے لیس ہیں- تصویر بشکریہ پاک فضائیہ</figcaption>
    </figure>
<p>اس طیارے کا ملبہ پاکستانی حدود میں گرا جسے بعد میں ثبوت کے طور پر اکٹھا کر لیا گیا۔ پاک فضائیہ نے اس کارروائی کو ایک ایسے شکار سے تعبیر کیا جسے اب تک ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/07121120a82d7a6.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/07121120a82d7a6.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے کو عالمی ہوا بازی کی تاریخ میں اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا میں پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑاکا طیارے نے رات کے وقت گرمی کی لہر کا پیچھا کرنے والے میزائل سے کسی ڈرون کو مار گرایا ہو۔</p>
<p>جاسوسی مشنز اگرچہ بین الاقوامی قوانین کے تحت فضائی حدود کی خلاف ورزی ہیں، لیکن جنگی حالات میں یہ تمام بڑی افواج کا ایک معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور بھارت نے اس مشن کی تفصیلات کی کبھی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ کارروائی اپنی فضائی سرحدوں کے کامیاب دفاع کی ایک بڑی علامت بن گئی، جبکہ عالمی عسکری اداروں کے لیے اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید ترین ڈرون بھی ناقابلِ شکست نہیں ہوتے۔ اور اس کی تازہ مثال ایران کے ہاتھوں امریکی ایم کیو نائن ڈرونز کی پے در پے تباہی ہے۔</p>
<p>پاک فضائیہ کے بیان کے مطابق، فضائی دفاع کے آپریٹرز اور شاہینوں نے اس کارروائی میں غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا، جو پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ قائم رہے گا۔</p>
<p>بعد میں بین الاقوامی سفارتی کوششوں سے یہ کشیدگی تو ختم ہو گئی، لیکن یہ واقعہ جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506204</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 12:12:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/07094725c29a7ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/07094725c29a7ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان انتخابات: اقتدار کا تاج کس کے سر سجے گا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506198/gilgit-baltistans-election-battle-today</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلگت بلتستان میں آج عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ جس کے لیے صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ گلگت بلتستان کے 24 حلقوں میں 396 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ ساڑھے نو لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 23 حلقوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 22، استحکام پاکستان پارٹی نے 15 اور پاکستانی نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے 11 امیدوار بھی مختلف حلقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کے 19 امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں، جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلگت بلتستان میں آج عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ جس کے لیے صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ گلگت بلتستان کے 24 حلقوں میں 396 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ ساڑھے نو لاکھ سے زائد ووٹرز کے لیے 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 23 حلقوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 22، استحکام پاکستان پارٹی نے 15 اور پاکستانی نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے 11 امیدوار بھی مختلف حلقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>تحریک انصاف کے 19 امیدوار آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506185"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں، جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506198</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 08:26:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/071324445af3738.webp" type="image/webp" medium="image" height="972" width="1618">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/071324445af3738.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لبنان کے آرمی چیف سرکاری دورے پر پاکستان کے لیے روانہ: لبنانی فوج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506197/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان کے آرمی چیف&lt;/strong&gt;  &lt;strong&gt;لیفٹیننٹ جنرل روڈولف ہائیکل پاکستان کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اہم دورے کا براہِ راست تعلق مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے جاری اُن مذاکرات سے ہے جس میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل روڈولف ہائیکل ہفتے کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوئے، جہاں وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، تاہم اس ملاقات کے ایجنڈے کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/LebarmyOfficial/status/2063276225401884766?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2063276225401884766%7Ctwgr%5E9512cd53c6691f22d907d8d430ea06da34de534d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40424281'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/LebarmyOfficial/status/2063276225401884766?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2063276225401884766%7Ctwgr%5E9512cd53c6691f22d907d8d430ea06da34de534d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40424281"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے مطابق لبنانی آرمی چیف کا دورہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں اہم ہے کیوں کہ لبنان اِن مذاکرات میں ایک اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور ایران بھی لبنان سے متعلق معاملات کو ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ہفتے واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کی جانب سے ایک نئی مشروط جنگ بندی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنا ہوں گے اور سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا، جب کہ لبنانی فوج کو مخصوص علاقوں کا کنٹرول دینے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی معاہدے سے قبل اسرائیل کا لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کی شب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی پیغام لے کر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں رپورٹس کے مطابق ان کی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن نقوی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لبنان کے آرمی چیف</strong>  <strong>لیفٹیننٹ جنرل روڈولف ہائیکل پاکستان کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اہم دورے کا براہِ راست تعلق مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے جاری اُن مذاکرات سے ہے جس میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>لبنانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل روڈولف ہائیکل ہفتے کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوئے، جہاں وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، تاہم اس ملاقات کے ایجنڈے کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/LebarmyOfficial/status/2063276225401884766?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2063276225401884766%7Ctwgr%5E9512cd53c6691f22d907d8d430ea06da34de534d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40424281'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/LebarmyOfficial/status/2063276225401884766?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2063276225401884766%7Ctwgr%5E9512cd53c6691f22d907d8d430ea06da34de534d%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40424281"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اے ایف پی کے مطابق لبنانی آرمی چیف کا دورہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں اہم ہے کیوں کہ لبنان اِن مذاکرات میں ایک اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور ایران بھی لبنان سے متعلق معاملات کو ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔</p>
<p>اسی ہفتے واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی نمائندوں کی جانب سے ایک نئی مشروط جنگ بندی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے روکنا ہوں گے اور سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا، جب کہ لبنانی فوج کو مخصوص علاقوں کا کنٹرول دینے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی معاہدے سے قبل اسرائیل کا لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ہفتے کی شب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی پیغام لے کر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں رپورٹس کے مطابق ان کی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات متوقع ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن نقوی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506197</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 23:43:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/062338061c314a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/062338061c314a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، فیلڈ مارشل کا خصوصی خط پہنچا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506192/mohsin-naqvi-tehran-diplomatic-visit</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے ملاقات کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کے نام ایک خصوصی خط بھی عباس عراقچی کے حوالے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے ملاقات کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کے نام ایک خصوصی خط بھی حوالے کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خط پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اہم سفارتی پیغام پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2026/6/6/iran-war-live-us-says-iranian-drones-shot-down-radar-sites-attacked?update=4631865"&gt; الجزیرہ&lt;/a&gt; کے مطابق محسن نقوی اپنے دورے کے دوران ایران کی دیگر اعلیٰ شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جبکہ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ روانگی سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے مشاورت کر چکے تھے۔ وزیراعظم نے انہیں دورے کے حوالے سے اہم ہدایات بھی جاری کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روانگی سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے مشاورت کی، وزیراعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کو اہم ہدایات جاری کیں۔ تہران دورے کے دوران وزیر داخلہ ایرانی قیادت سے مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور پاکستان کا مؤقف اعلیٰ سطح پر پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی ایرانی حکام تک فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی پیغام بھی پہنچائیں گے۔ ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دل چسپی کے دیگر معاملات زیر غور آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2063251608503296268'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2063251608503296268"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.irna.ir/news/86174668/Exclusive-Pakistan-s-interior-minister-set-to-visit-Iran"&gt;ارنا&lt;/a&gt;‘ کے مطابق محسن نقوی نے حال ہی میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے دو ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اجلاس کے بعد محسن نقوی لاہور واپس آئے اور اب وہ پاکستان سے تہران کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ رواں سال کے دوران کئی مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل اور مئی 2026 میں اپنے سابقہ دوروں کے دوران محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MohsinnaqviC42/status/2062975241874514155'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MohsinnaqviC42/status/2062975241874514155"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارنا کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں اپریل 2026 میں شروع ہونے والے اس عمل کا حصہ ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی اور پاکستان نے ثالثی کے کردار کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، تاہم فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد سے پاکستانی اعلیٰ حکام، جن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل ہیں، تہران کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے حال ہی میں کہا تھا کہ فریقین تنازع کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے آخری مراحل میں ہیں۔ مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا موجودہ دورہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے ملاقات کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کے نام ایک خصوصی خط بھی عباس عراقچی کے حوالے کیا۔</strong></p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی نے ملاقات کے دوران ایرانی سپریم لیڈر کے نام ایک خصوصی خط بھی حوالے کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خط پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے اہم سفارتی پیغام پر مشتمل ہے۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/liveblog/2026/6/6/iran-war-live-us-says-iranian-drones-shot-down-radar-sites-attacked?update=4631865"> الجزیرہ</a> کے مطابق محسن نقوی اپنے دورے کے دوران ایران کی دیگر اعلیٰ شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جبکہ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات متوقع ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ روانگی سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے مشاورت کر چکے تھے۔ وزیراعظم نے انہیں دورے کے حوالے سے اہم ہدایات بھی جاری کی تھیں۔</p>
<p>روانگی سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے مشاورت کی، وزیراعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کو اہم ہدایات جاری کیں۔ تہران دورے کے دوران وزیر داخلہ ایرانی قیادت سے مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے اور پاکستان کا مؤقف اعلیٰ سطح پر پیش کریں گے۔</p>
<p>محسن نقوی ایرانی حکام تک فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی پیغام بھی پہنچائیں گے۔ ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دل چسپی کے دیگر معاملات زیر غور آنے کا امکان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2063251608503296268'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2063251608503296268"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.irna.ir/news/86174668/Exclusive-Pakistan-s-interior-minister-set-to-visit-Iran">ارنا</a>‘ کے مطابق محسن نقوی نے حال ہی میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے دو ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اجلاس کے بعد محسن نقوی لاہور واپس آئے اور اب وہ پاکستان سے تہران کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ رواں سال کے دوران کئی مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔</p>
<p>اپریل اور مئی 2026 میں اپنے سابقہ دوروں کے دوران محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MohsinnaqviC42/status/2062975241874514155'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MohsinnaqviC42/status/2062975241874514155"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ارنا کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں اپریل 2026 میں شروع ہونے والے اس عمل کا حصہ ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی اور پاکستان نے ثالثی کے کردار کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان 21 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، تاہم فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد سے پاکستانی اعلیٰ حکام، جن میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل ہیں، تہران کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔</p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے حال ہی میں کہا تھا کہ فریقین تنازع کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے آخری مراحل میں ہیں۔ مبصرین کے مطابق محسن نقوی کا موجودہ دورہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506192</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Jun 2026 14:11:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/071412406a368d7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/071412406a368d7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر میں 'ہیٹ ویو' الرٹ جاری، درجہ حرارت 51 ڈگری تک جانے کا امکان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506194/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (محکمہ موسمیات) نے ملک کے مختلف حصوں میں 7 سے 12 جون کے دوران شدید گرمی کی لہر کی وارننگ جاری کی ہے جس کے مطابق کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے جب کہ بعض اضلاع میں پارہ 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا بھی امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، بنوں، کرک، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 8 سے 11 جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو معمول سے 4 سے 6 ڈگری زیادہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے کے شمالی علاقوں چترال، دیر اور سوات کے علاوہ گلگت بلتستان میں 8 سے 10 جون کے دوران درجہ حرارت 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ اور مظفرآباد سے متعلق بتایا ہے کہ ان علاقوں میں 8 سے 10 جون کے دوران درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے جب کہ لاہور، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، پاکپتن، رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر، بھکر، لیہ اور کوٹ ادو سمیت مختلف اضلاع میں 8 سے 11 جون کے دوران درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/2063233107562737692'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmdgov/status/2063233107562737692"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;موسم کی پیشگوئی کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکھر، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، موئن جو دڑو، دادو، شہید بینظیر آباد، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، سبی، تربت اور پنجگور میں 7 سے 12 جون کے دوران درجہ حرارت 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں بھی 8 سے 12 جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور مٹی کے طوفان بھی آ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے عوامکو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے۔ کسانوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی ضروری اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق شدید گرمی کے باعث ملک میں بجلی کی طلب اور استعمال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے رواں ہفتے جاری کیے گئے موسمی جائزے میں جون سے اگست کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے کم بارشوں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمی عوامل کے باعث جون، جولائی اور اگست کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق یا اس سے کم بارش کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جب کہ پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں بارشوں میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/2062475014071583132'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/pmdgov/status/2062475014071583132"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے جائزے کے مطابق پنجاب، سندھ، جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے امکانات زیادہ ہیں، جب کہ پورے ملک میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ملک کے شمال مشرقی حصوں، خصوصاً مشرقی گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی پنجاب سے ملحقہ علاقوں میں ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (محکمہ موسمیات) نے ملک کے مختلف حصوں میں 7 سے 12 جون کے دوران شدید گرمی کی لہر کی وارننگ جاری کی ہے جس کے مطابق کئی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے جب کہ بعض اضلاع میں پارہ 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا بھی امکان ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، مردان، بنوں، کرک، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 8 سے 11 جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو معمول سے 4 سے 6 ڈگری زیادہ ہوگا۔</p>
<p>صوبے کے شمالی علاقوں چترال، دیر اور سوات کے علاوہ گلگت بلتستان میں 8 سے 10 جون کے دوران درجہ حرارت 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ اور مظفرآباد سے متعلق بتایا ہے کہ ان علاقوں میں 8 سے 10 جون کے دوران درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے جب کہ لاہور، اوکاڑہ، قصور، فیصل آباد، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، پاکپتن، رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر، بھکر، لیہ اور کوٹ ادو سمیت مختلف اضلاع میں 8 سے 11 جون کے دوران درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/2063233107562737692'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmdgov/status/2063233107562737692"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>موسم کی پیشگوئی کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>سکھر، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، موئن جو دڑو، دادو، شہید بینظیر آباد، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، سبی، تربت اور پنجگور میں 7 سے 12 جون کے دوران درجہ حرارت 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>کراچی میں بھی 8 سے 12 جون کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ گرمی کی شدت کے باعث رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں گرد آلود ہوائیں اور مٹی کے طوفان بھی آ سکتے ہیں۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے عوامکو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے۔ کسانوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی ضروری اقدامات کریں۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق شدید گرمی کے باعث ملک میں بجلی کی طلب اور استعمال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے رواں ہفتے جاری کیے گئے موسمی جائزے میں جون سے اگست کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے کم بارشوں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی کی تھی۔</p>
<p>موسمی عوامل کے باعث جون، جولائی اور اگست کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول کے مطابق یا اس سے کم بارش کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جب کہ پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں بارشوں میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/pmdgov/status/2062475014071583132'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/pmdgov/status/2062475014071583132"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ موسمیات کے جائزے کے مطابق پنجاب، سندھ، جنوبی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے امکانات زیادہ ہیں، جب کہ پورے ملک میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ملک کے شمال مشرقی حصوں، خصوصاً مشرقی گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی پنجاب سے ملحقہ علاقوں میں ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506194</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 19:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/061955134bb9c0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/061955134bb9c0c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر میں انتخابات، پاکستان میں مقیم مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506185/azad-kashmir-elections-understanding-the-controversy-over-12-seats-reserved-for-refugees-in-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، لیکن اس انتخابی مہم میں سب سے بڑا بحث کا موضوع وہ 12 نشستیں بن چکی ہیں جو پاکستان میں رہنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد کشمیر اسمبلی میں کُل 53 نشستیں ہیں، جن میں سے 33 پر آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے تقریباً ساڑھے 44 لاکھ مقامی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں، جبکہ 12 وہ نشستیں ہیں جو کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیلی ہوئی ہیں اور یہاں مقیم آزاد کشمیر کے لوگ ان پر ووٹ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسے یوں سمجھیں کہ ایک شخص جو کراچی میں پیدا ہوا اور اس نے کبھی کشمیر کی زمین پر قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے پاس ایک ایسا شناختی کارڈ موجود ہے جس کے ذریعے وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ کشمیر کی حکومت کون چلائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے 1947 کی تاریخ میں جانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506155/pakistan-strongly-rejects-indian-objections-to-elections-in-gilgit-baltistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506155"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور 1947 کی جنگ کے بعد آزاد جموں و کشمیر وجود میں آیا، جس کا ایک نیم خودمختار نظام اور اسمبلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب 1947 اور 1965 کی جنگوں میں لاکھوں کشمیری ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے، تو اس وقت ان مہاجرین کو بھی آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقصد یہ تھا کہ مظفرآباد کی حکومت صرف اس آزاد پٹی کی نہیں، بلکہ پورے جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کہلائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کے دور میں یہ مہاجرین کوئی کیمپوں میں رہنے والے بے وطن لوگ نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے وہ باقاعدہ شہری ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں، جو یہیں ٹیکس دیتے ہیں اور ان کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان رجسٹرڈ مہاجر ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بڑا مسئلہ ان حلقوں کا جغرافیہ ہے۔ یہ ووٹرز کسی ایک جگہ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر جموں ون نامی ایک ہی انتخابی حلقہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے 48 اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کوئی بھی امیدوار 48 اضلاع میں انتخابی مہم کیسے چلا سکتا ہے، اور مظفرآباد میں بیٹھا الیکشن کمیشن کراچی یا ملتان میں ہونے والے الیکشن کی نگرانی کیسے کرے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ کمزوری ہے جہاں سے دھاندلی کے الزامات جنم لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحران کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اسلام آباد میں جو بھی پارٹی برسرِاقتدار ہوتی ہے، وہ ان 12 نشستوں کو آزاد کشمیر میں اپنی من پسند حکومت بنانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے خود آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ نشستیں ہیر پھیر کے لیے بنائی گئی ہیں کیونکہ ان کے انتخابات صوبائی حکومتوں کے اثر و رسوخ کے تحت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی بڑھ کر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر کھلے عام یہ مانا تھا کہ ان کی پارٹی انتظامی اقدامات کے ذریعے پنجاب کی دس مہاجر نشستیں حاصل کر کے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحریک کو اس وقت بہت زیادہ طاقت ملی جب گزشتہ سال جولائی میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے اگلے ہی دن ایک بڑا بیان دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے کہا کہ یہ نشستیں سو فیصد غیر قانونی ہیں اور انہیں اسلام آباد سے اس لیے تیار کیا گیا تھا تاکہ آزاد کشمیر میں رہنے والے 45 لاکھ لوگوں کے ووٹ کی طاقت کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اس بیان کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی عوامی تنظیم نے ان نشستوں کو ختم کرنے کے لیے ہڑتالوں کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان انتخابی حلقوں کا استعمال ایسے افراد کر رہے ہیں جن کا ہجرت کرنے والے خاندانوں سے کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تنظیم کے ایک اور رہنما ایڈووکیٹ راجہ امجد علی خان نے کہا کہ یہ نشستیں بدعنوانی اور سیاسی موقع پرستی کا گڑھ بن چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/JAAC__Official/status/2062751318465191937?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/JAAC__Official/status/2062751318465191937?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پھر رواں ماہ کے آغاز میں یہ تنازع اس وقت ایک خطرناک موڑ اختیار کر گیا جب حکومت اور سول سوسائٹی کے اتحاد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان نو گھنٹے طویل مذاکرات ناکام ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے فوراً بعد آزاد کشمیر اسمبلی نے ان نشستوں کے حق میں ایک قرارداد منظور کی، اور ایک آل پارٹیز کانفرنس نے بھی اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد پانچ جون کو آزاد کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا کیونکہ اس تنظیم نے نو جون کو کاغذاتِ نامزدگی جمع ہونے کے دن ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/061428285b47c6f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/061428285b47c6f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس مطالبے کو 27 جولائی کو ووٹرز کے سامنے پیش کرنا چاہیے، یہی جمہوری طریقہ ہے، ورنہ اسے سیاسی بلیک میلنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے 1947 کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اکتوبر 1947 میں یہ مہاجرین دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دے کر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آباد ہوئے تھے، لاکھوں خواتین کی عفت کو نقصان پہنچایا گیا اور ہزاروں بیٹیاں اغوا ہوئیں، ہم ان مہاجرین کو ان کے جائز نمائندگی کے حق سے کیسے محروم کر سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ اب 27 جولائی کے انتخابات ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ 12 نشستیں کشمیر کا سیاسی مستقبل کس رخ پر موڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KhawajaMAsif/status/2062840284300574791?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/2062840284300574791?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اس قانونی الجھن کو سلجھانے کے لیے اب سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں ایک ریفرنس دائر کیا تھا تاکہ عدالت سے یہ رائے لی جا سکے کہ ان نشستوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے یا پھر انہیں صرف ایک علامتی نمائندگی کی حد تک برقرار رکھا جائے جہاں انہیں ووٹ کا حق نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن اس ریفرنس کی سماعت ہوئی، جہاں راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ اور وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلاء نے دلائل دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد ہفتے کی سب آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے سربمہر ایڈوائس ایوانِ صدر بھجوا دی۔ یہ آئینی تجویز ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے ایوانِ صدر پہنچائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، اس لیے جو بھی پارٹی پاکستان میں ان مہاجرین کی نشستوں پر جیت حاصل کرتی ہے، وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جیسے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ان نشستوں پر زیادہ اثر رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کے اس فیصلے اور 27 جولائی کو ہونے والے الیکشنز پر ہیں کہ کیا یہ مہاجرین ایک بار پھر کشمیر کی نئی حکومت کا فیصلہ کریں گے یا نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، لیکن اس انتخابی مہم میں سب سے بڑا بحث کا موضوع وہ 12 نشستیں بن چکی ہیں جو پاکستان میں رہنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔</strong></p>
<p>آزاد کشمیر اسمبلی میں کُل 53 نشستیں ہیں، جن میں سے 33 پر آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے تقریباً ساڑھے 44 لاکھ مقامی لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، آٹھ نشستیں خواتین، ٹیکنوکریٹس اور سمندر پار کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں، جبکہ 12 وہ نشستیں ہیں جو کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیلی ہوئی ہیں اور یہاں مقیم آزاد کشمیر کے لوگ ان پر ووٹ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>اسے یوں سمجھیں کہ ایک شخص جو کراچی میں پیدا ہوا اور اس نے کبھی کشمیر کی زمین پر قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے پاس ایک ایسا شناختی کارڈ موجود ہے جس کے ذریعے وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ کشمیر کی حکومت کون چلائے گا۔</p>
<p>اس معاملے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے 1947 کی تاریخ میں جانا پڑے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506155/pakistan-strongly-rejects-indian-objections-to-elections-in-gilgit-baltistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506155"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور 1947 کی جنگ کے بعد آزاد جموں و کشمیر وجود میں آیا، جس کا ایک نیم خودمختار نظام اور اسمبلی ہے۔</p>
<p>جب 1947 اور 1965 کی جنگوں میں لاکھوں کشمیری ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے، تو اس وقت ان مہاجرین کو بھی آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی دی گئی۔</p>
<p>مقصد یہ تھا کہ مظفرآباد کی حکومت صرف اس آزاد پٹی کی نہیں، بلکہ پورے جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کہلائے۔</p>
<p>آج کے دور میں یہ مہاجرین کوئی کیمپوں میں رہنے والے بے وطن لوگ نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے وہ باقاعدہ شہری ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں، جو یہیں ٹیکس دیتے ہیں اور ان کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ رہی ہے۔ ان رجسٹرڈ مہاجر ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے۔</p>
<p>اب بڑا مسئلہ ان حلقوں کا جغرافیہ ہے۔ یہ ووٹرز کسی ایک جگہ نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر جموں ون نامی ایک ہی انتخابی حلقہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے 48 اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ ناقدین کا سوال ہے کہ کوئی بھی امیدوار 48 اضلاع میں انتخابی مہم کیسے چلا سکتا ہے، اور مظفرآباد میں بیٹھا الیکشن کمیشن کراچی یا ملتان میں ہونے والے الیکشن کی نگرانی کیسے کرے گا؟</p>
<p>یہی وہ کمزوری ہے جہاں سے دھاندلی کے الزامات جنم لیتے ہیں۔</p>
<p>اس بحران کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اسلام آباد میں جو بھی پارٹی برسرِاقتدار ہوتی ہے، وہ ان 12 نشستوں کو آزاد کشمیر میں اپنی من پسند حکومت بنانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس حوالے سے خود آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ نشستیں ہیر پھیر کے لیے بنائی گئی ہیں کیونکہ ان کے انتخابات صوبائی حکومتوں کے اثر و رسوخ کے تحت ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس سے بھی بڑھ کر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں مبینہ طور پر کھلے عام یہ مانا تھا کہ ان کی پارٹی انتظامی اقدامات کے ذریعے پنجاب کی دس مہاجر نشستیں حاصل کر کے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>اس تحریک کو اس وقت بہت زیادہ طاقت ملی جب گزشتہ سال جولائی میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے اگلے ہی دن ایک بڑا بیان دیا۔</p>
<p>سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے کہا کہ یہ نشستیں سو فیصد غیر قانونی ہیں اور انہیں اسلام آباد سے اس لیے تیار کیا گیا تھا تاکہ آزاد کشمیر میں رہنے والے 45 لاکھ لوگوں کے ووٹ کی طاقت کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>ان کے اس بیان کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی عوامی تنظیم نے ان نشستوں کو ختم کرنے کے لیے ہڑتالوں کا اعلان کر دیا۔</p>
<p>عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان انتخابی حلقوں کا استعمال ایسے افراد کر رہے ہیں جن کا ہجرت کرنے والے خاندانوں سے کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔</p>
<p>اسی تنظیم کے ایک اور رہنما ایڈووکیٹ راجہ امجد علی خان نے کہا کہ یہ نشستیں بدعنوانی اور سیاسی موقع پرستی کا گڑھ بن چکی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/JAAC__Official/status/2062751318465191937?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/JAAC__Official/status/2062751318465191937?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پھر رواں ماہ کے آغاز میں یہ تنازع اس وقت ایک خطرناک موڑ اختیار کر گیا جب حکومت اور سول سوسائٹی کے اتحاد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان نو گھنٹے طویل مذاکرات ناکام ہو گئے۔</p>
<p>اس کے فوراً بعد آزاد کشمیر اسمبلی نے ان نشستوں کے حق میں ایک قرارداد منظور کی، اور ایک آل پارٹیز کانفرنس نے بھی اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔</p>
<p>اس کے بعد پانچ جون کو آزاد کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک کالعدم تنظیم قرار دے دیا کیونکہ اس تنظیم نے نو جون کو کاغذاتِ نامزدگی جمع ہونے کے دن ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/061428285b47c6f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/061428285b47c6f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری طرف، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس مطالبے کو 27 جولائی کو ووٹرز کے سامنے پیش کرنا چاہیے، یہی جمہوری طریقہ ہے، ورنہ اسے سیاسی بلیک میلنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے 1947 کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اکتوبر 1947 میں یہ مہاجرین دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دے کر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آباد ہوئے تھے، لاکھوں خواتین کی عفت کو نقصان پہنچایا گیا اور ہزاروں بیٹیاں اغوا ہوئیں، ہم ان مہاجرین کو ان کے جائز نمائندگی کے حق سے کیسے محروم کر سکتے ہیں؟</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ اب 27 جولائی کے انتخابات ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ 12 نشستیں کشمیر کا سیاسی مستقبل کس رخ پر موڑتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KhawajaMAsif/status/2062840284300574791?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KhawajaMAsif/status/2062840284300574791?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>حکومت نے اس قانونی الجھن کو سلجھانے کے لیے اب سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں ایک ریفرنس دائر کیا تھا تاکہ عدالت سے یہ رائے لی جا سکے کہ ان نشستوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے یا پھر انہیں صرف ایک علامتی نمائندگی کی حد تک برقرار رکھا جائے جہاں انہیں ووٹ کا حق نہ ہو۔</p>
<p>ہفتے کے روز سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں پورا دن اس ریفرنس کی سماعت ہوئی، جہاں راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں نواز ایڈووکیٹ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ایڈووکیٹ اور وائس چیئرمین بار کونسل ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلاء نے دلائل دیے۔</p>
<p>جس کے بعد ہفتے کی سب آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے سربمہر ایڈوائس ایوانِ صدر بھجوا دی۔ یہ آئینی تجویز ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ ملک احتشام نے ایوانِ صدر پہنچائی۔</p>
<p>واضح رہے یہ 12 نشستیں اسمبلی کا تقریباً 23 فیصد بنتی ہیں، اس لیے جو بھی پارٹی پاکستان میں ان مہاجرین کی نشستوں پر جیت حاصل کرتی ہے، وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جیسے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ان نشستوں پر زیادہ اثر رکھتی ہیں۔</p>
<p>اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کے اس فیصلے اور 27 جولائی کو ہونے والے الیکشنز پر ہیں کہ کیا یہ مہاجرین ایک بار پھر کشمیر کی نئی حکومت کا فیصلہ کریں گے یا نظام میں کوئی تبدیلی آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506185</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 23:09:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/061441582944223.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/061441582944223.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوکین کوئین پنکی کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت، پولیس تفتیش کے لیے کراچی جائے گی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506148/permission-granted-to-move-cocaine-queen-pinky-to-lahore-police-to-go-to-karachi-for-investigation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوکین کوئین کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور میں درج مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، لاہور پولیس نے سیشن کورٹ سے ملزمہ کی تفتیش کے لیے لاہور منتقلی کی اجازت حاصل کرلی ہے جب کہ مختلف پولیس ٹیموں کی کراچی روانگی بھی متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے انمول عرف پنکی کو لاہور منتقل کرکے تفتیش کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ اور متعلقہ عدالت سے چند روز قبل رجوع کیا تھا، جس کے بعد سیشن کورٹ سے مطلوبہ اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور میں مجموعی طور پر 5 مقدمات درج ہیں، جن کی پولیس کو مزید تفتیش درکار ہے۔ اس سلسلے میں اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز ڈویژن کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505856/pinky-medical-examination'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کراچی کی متعلقہ عدالت سے قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد ملزمہ کو لاہور منتقل کرے گی۔ اس کے علاوہ عدالت سے مقدمات کی تفتیش اور مزید قانونی کارروائی کے لیے بھی باقاعدہ اجازت طلب کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پنکی-کے-اہم-سہولت-کاروں-کی-درخواست-ضمانت-پر-فیصلہ-مؤخر" href="#پنکی-کے-اہم-سہولت-کاروں-کی-درخواست-ضمانت-پر-فیصلہ-مؤخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پنکی کے اہم سہولت کاروں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ مؤخر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سیشن عدالت جنوبی کراچی میں انمول عرف پنکی کے خلاف گارڈن تھانے میں درج منشیات کے مقدمے کے حوالے سے مبینہ سہولت کاروں کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مقدمے کا چالان پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ہفتے لازمی طور پر چالان پیش کرنے کا حکم دیا اور درخواست ضمانت پر فیصلہ آئندہ ہفتے تک مؤخر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث چالان پیش نہیں کیا جا سکا۔ مقدمے میں ملزمان سہیل الرحمان اور ذیشان کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں انمول عرف پنکی کے خلاف قتل اور منشیات کے سات مقدمات کی سماعت بھی ہوئی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسران پیش ہوئے جب کہ پولیس نے چالان جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505798/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کا چالان اب تک کیوں پیش نہیں کیا گیا، جس پر پولیس نے تحقیقات مکمل نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ عدالت نے پولیس کو پیر تک تمام مقدمات کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قتل کے ایک مقدمے میں مدعی کے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مدعی شیروز کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف گزری اور بغدادی تھانوں میں قتل اور منشیات سمیت مجموعی طور پر سات مقدمات درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو اس کے شاہانہ انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505642/anmol-pinky-casel-accused-had-given-the-names-of-the-drug-suppliers'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505642"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ملزمہ کی چند آڈیوز بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ گاہکوں سے ڈیل کرتی سنائی دیں۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اربوں روپے کی منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کی سرغنہ ہے جس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے، اس دھندے میں اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور ڈلیوری کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری میں بھی ماہر ہے، جس نے اپنا برانڈ لانچ کر رکھا ہے اور اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ پنکی کے مطابق اس کا سابق شوہر منشیات کے عالمی گینگ کا حصہ تھا اور اسی کے ذریعے وہ اس دھندے میں آئی اور اپنا علیحدہ نیٹ ورک بنا کر یہ مذموم دھندا شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا تھا کہ ملزمہ مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد اور مفرور ہے، جسے پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد لاہور اور اے این ایف میں درج کیسز بھی سامنے آگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوکین کوئین کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور میں درج مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، لاہور پولیس نے سیشن کورٹ سے ملزمہ کی تفتیش کے لیے لاہور منتقلی کی اجازت حاصل کرلی ہے جب کہ مختلف پولیس ٹیموں کی کراچی روانگی بھی متوقع ہے۔</strong></p>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس نے انمول عرف پنکی کو لاہور منتقل کرکے تفتیش کرنے کے لیے وزارتِ داخلہ اور متعلقہ عدالت سے چند روز قبل رجوع کیا تھا، جس کے بعد سیشن کورٹ سے مطلوبہ اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔</p>
<p>انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور میں مجموعی طور پر 5 مقدمات درج ہیں، جن کی پولیس کو مزید تفتیش درکار ہے۔ اس سلسلے میں اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز ڈویژن کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505856/pinky-medical-examination'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کراچی کی متعلقہ عدالت سے قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد ملزمہ کو لاہور منتقل کرے گی۔ اس کے علاوہ عدالت سے مقدمات کی تفتیش اور مزید قانونی کارروائی کے لیے بھی باقاعدہ اجازت طلب کی جائے گی۔</p>
<h1><a id="پنکی-کے-اہم-سہولت-کاروں-کی-درخواست-ضمانت-پر-فیصلہ-مؤخر" href="#پنکی-کے-اہم-سہولت-کاروں-کی-درخواست-ضمانت-پر-فیصلہ-مؤخر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پنکی کے اہم سہولت کاروں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ مؤخر</strong></h1>
<p>دوسری جانب سیشن عدالت جنوبی کراچی میں انمول عرف پنکی کے خلاف گارڈن تھانے میں درج منشیات کے مقدمے کے حوالے سے مبینہ سہولت کاروں کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔</p>
<p>عدالت نے مقدمے کا چالان پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ہفتے لازمی طور پر چالان پیش کرنے کا حکم دیا اور درخواست ضمانت پر فیصلہ آئندہ ہفتے تک مؤخر کر دیا۔</p>
<p>عدالت میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث چالان پیش نہیں کیا جا سکا۔ مقدمے میں ملزمان سہیل الرحمان اور ذیشان کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔</p>
<p>ادھر جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی میں انمول عرف پنکی کے خلاف قتل اور منشیات کے سات مقدمات کی سماعت بھی ہوئی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسران پیش ہوئے جب کہ پولیس نے چالان جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505798/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505798"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کا چالان اب تک کیوں پیش نہیں کیا گیا، جس پر پولیس نے تحقیقات مکمل نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ عدالت نے پولیس کو پیر تک تمام مقدمات کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>عدالت نے قتل کے ایک مقدمے میں مدعی کے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مدعی شیروز کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف گزری اور بغدادی تھانوں میں قتل اور منشیات سمیت مجموعی طور پر سات مقدمات درج ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ’کوکین کوئین‘ کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو پولیس اور وفاقی ادارے کی مشترکہ کارروائی میں کراچی کے علاقے گارڈن سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے ملزمہ کو پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تو اس کے شاہانہ انداز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505642/anmol-pinky-casel-accused-had-given-the-names-of-the-drug-suppliers'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505642"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی دوران ملزمہ کی چند آڈیوز بھی وائرل ہوئیں جس میں وہ گاہکوں سے ڈیل کرتی سنائی دیں۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ اربوں روپے کی منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کی سرغنہ ہے جس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے، اس دھندے میں اس کے بھائی بھی شریک ہیں اور ڈلیوری کے لیے خواتین بائیک رائیڈرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق ملزمہ کوکین کی تیاری میں بھی ماہر ہے، جس نے اپنا برانڈ لانچ کر رکھا ہے اور اس کے گاہکوں میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ پنکی کے مطابق اس کا سابق شوہر منشیات کے عالمی گینگ کا حصہ تھا اور اسی کے ذریعے وہ اس دھندے میں آئی اور اپنا علیحدہ نیٹ ورک بنا کر یہ مذموم دھندا شروع کردیا۔</p>
<p>کراچی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بتایا تھا کہ ملزمہ مختلف تھانوں میں درج 10 مقدمات میں نامزد اور مفرور ہے، جسے پہلی بار 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم اثر و رسوخ کے باعث وہ جلد ہی ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ اس کے بعد لاہور اور اے این ایف میں درج کیسز بھی سامنے آگئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506148</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 19:34:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شمیل احمدریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0518062084da6c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0518062084da6c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرفتار دہشتگرد خارجی عمر دین عرف جذبہ کے اعترافی بیان میں ہوشربا انکشافات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506182/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے ڈھانچے، مالی معاونت، تربیتی مراکز اور دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ گرفتار دہشتگرد کے مطابق خوارجی نیٹ ورک کو افغانستان سے تربیت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے جبکہ تنظیم کے ارکان بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے 12 جنوری 2025 کو اپنے والد کے ساتھ جھگڑے کے بعد ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) میں شمولیت اختیار کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30494887/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30494887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمر دین کے مطابق تنظیم کے تمام اہم کمانڈروں کے ساتھ 60 سے 70 افغان جنگجو موجود ہیں جنہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ خوارجی نیٹ ورک مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں شادی خیل بیس پر حملہ اور کوٹہ خواہ روڈ پر دھماکا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار دہشتگرد نے بتایا کہ کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ماہ رمضان کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر دین عرف جذبہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور اپنے مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں۔ اس کے مطابق بعض خوارجی کمانڈر لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں بھی ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495015'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495015"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعترافی بیان میں اس نے کہا کہ فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے اور تنظیم مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرفتار دہشتگرد کے مطابق خوارجی گروہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں میں بھی ملوث ہے، جبکہ تنظیمی کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر دین عرف جذبہ نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوارج کے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے ڈھانچے، مالی معاونت، تربیتی مراکز اور دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ گرفتار دہشتگرد کے مطابق خوارجی نیٹ ورک کو افغانستان سے تربیت اور مالی مدد حاصل ہوتی ہے جبکہ تنظیم کے ارکان بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں۔</strong></p>
<p>سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ اس نے 12 جنوری 2025 کو اپنے والد کے ساتھ جھگڑے کے بعد ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) میں شمولیت اختیار کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30494887/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30494887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عمر دین کے مطابق تنظیم کے تمام اہم کمانڈروں کے ساتھ 60 سے 70 افغان جنگجو موجود ہیں جنہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ خوارجی نیٹ ورک مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، جن میں شادی خیل بیس پر حملہ اور کوٹہ خواہ روڈ پر دھماکا بھی شامل ہے۔</p>
<p>گرفتار دہشتگرد نے بتایا کہ کوٹہ خواہ روڈ پر ہونے والے دھماکے میں ماہ رمضان کے دوران 7 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔</p>
<p>عمر دین عرف جذبہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان منشیات کے عادی ہیں اور اپنے مراکز کے اندر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہتے ہیں۔ اس کے مطابق بعض خوارجی کمانڈر لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں بھی ملوث ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495015'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495015"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اعترافی بیان میں اس نے کہا کہ فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں سے مالی معاونت حاصل ہوتی ہے اور تنظیم مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔</p>
<p>گرفتار دہشتگرد کے مطابق خوارجی گروہ بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں میں بھی ملوث ہے، جبکہ تنظیمی کمانڈر شریعت کے نفاذ اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔</p>
<p>عمر دین عرف جذبہ نے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوارج کے جھوٹے دعوؤں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506182</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 13:35:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/061328089ee6aac.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/061328089ee6aac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506156/ajk-joint-awami-action-committee-banned</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو امن و امان اور ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں عوامی نظم و ضبط اور ریاستی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں تنظیم پر خوف و ہراس، انتشار اور نفرت انگیزی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق متعلقہ قوانین کے تحت جائزہ لینے کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی دستاویز کے مطابق صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باضابطہ طور پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف عوامی اور سیاسی مطالبات کے حوالے سے سرگرم رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تنظیم کے خلاف یہ اقدام ریاستی سلامتی اور امن و امان کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو امن و امان اور ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں عوامی نظم و ضبط اور ریاستی استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں تنظیم پر خوف و ہراس، انتشار اور نفرت انگیزی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے مطابق متعلقہ قوانین کے تحت جائزہ لینے کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>حکومتی دستاویز کے مطابق صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو باضابطہ طور پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف عوامی اور سیاسی مطالبات کے حوالے سے سرگرم رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تنظیم کے خلاف یہ اقدام ریاستی سلامتی اور امن و امان کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506156</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 23:47:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0523454258e7257.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0523454258e7257.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے گلگت بلتستان میں انتخابات پر بھارتی اعتراضات سختی سے مسترد کردیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506155/pakistan-strongly-rejects-indian-objections-to-elections-in-gilgit-baltistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ مؤقف گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو اسلام آباد سے جاری بیان ہونے والے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے بیان کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے، بھارت جھوٹی کہانیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2062931145587929428?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2062931145587929428?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن کے تحت کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق گلگت بلتستان سے متعلق بھارت کے بیانات کا مقصد بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو سخت قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور کشمیری عوام مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہو، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جمعے کو ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومتِ انڈیا نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے سات جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے پاکستانی منصوبے پر پاکستان کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MEAIndia/status/2062884552448909525?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/2062884552448909525?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہاں انتخابات کے انعقاد کو قبول نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں کوئی انتظامی یا سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ مؤقف گمراہ کن پروپیگنڈے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا ہے۔</strong></p>
<p>جمعے کو اسلام آباد سے جاری بیان ہونے والے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے بیان کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے، بھارت جھوٹی کہانیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2062931145587929428?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2062931145587929428?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ بھارت جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>ترجمان نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن کے تحت کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق گلگت بلتستان سے متعلق بھارت کے بیانات کا مقصد بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کو سخت قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اور کشمیری عوام مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505992/who-will-win-the-gilgit-baltistan-elections-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہو، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرے۔</p>
<p>ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔</p>
<p>اس سے قبل جمعے کو ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی جانب ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومتِ انڈیا نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے سات جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد کے پاکستانی منصوبے پر پاکستان کے سامنے باضابطہ احتجاج درج کرایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MEAIndia/status/2062884552448909525?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/2062884552448909525?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق انڈیا گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہاں انتخابات کے انعقاد کو قبول نہیں کرتا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا ان تمام کوششوں کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں کوئی انتظامی یا سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506155</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 22:15:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شوکت پراچہ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/052218134a73def.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/052218134a73def.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی اجلاس: اسلام آباد مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کیلئے 69 کروڑ روپے منظور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506153/ecc-meeting-rs690-million-approved-for-security-arrangements-for-islamabad-talks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دے دی، اجلاس میں اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ سے چند روز قبل &lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس  ہوا، جس میں&lt;/strong&gt; اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس، ترقیاتی فنڈز اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی جب کہ اجلاس میں دفاع، سیکیورٹی، انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے مالی فیصلے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Financegovpk/status/2062915923804328217?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Financegovpk/status/2062915923804328217?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی  اجلاس میں پائیدار ترقی کے اہداف  کے پروگرام کے لیے 7 ارب 26 لاکھ روپے سے زائد جب کہ پاکستان نیوی کے ہنگور منصوبے کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پی ایس او کے لیے 100 ارب روپے کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولیات جاری رکھنے اور  گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں موبائل ٹاورز کی تنصیب کے لیے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے منظورکیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503776/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان حکومت  کے لیے 4 ارب 37 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سمیت کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر پیکیج کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے سے زائد فنڈز منظور کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے لیے سیپ کے تحت 2 ارب 84 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے، پاکستان منٹ فیز ٹو اے کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے وزارتِ داخلہ کی پیش کردہ 7 سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے اسلام آباد خودکش دھماکے کے شہدا اور متاثرین کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے معاوضہ منظور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی توسیع کے لیے 1 ارب 88 کروڑ، ریکوڈک پراجیکٹ کی سیکیورٹی چارجز کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے کے لیے 80 کروڑ جب کہ نیکٹا کے لیے 15 کروڑ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503808/us-iran-talks-in-islamabad-pakistan-islamabad-talks-20-iranian-ambassador-reza-amiri-moghadam-pm-shehbaz-sharif'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503808"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی اجلاس میں  آئی پی او پاکستان کے مالی سال 26-2025 کے لیے 91 کروڑ 47 لاکھ روپے کے بجٹ تخمینے منظور کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں اور الائونسز کے لیے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے کی گرانٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے بھی  3 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بجٹ سازی کے عمل میں کردار ادا کرنے والی بعض سرکاری اداروں کو بجٹ اعزازیہ پالیسی میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں کے لیے اربوں روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دے دی، اجلاس میں اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی بجٹ سے چند روز قبل <strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس  ہوا، جس میں</strong> اربوں روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس، ترقیاتی فنڈز اور اہم پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی جب کہ اجلاس میں دفاع، سیکیورٹی، انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے مالی فیصلے کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Financegovpk/status/2062915923804328217?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Financegovpk/status/2062915923804328217?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ای سی سی  اجلاس میں پائیدار ترقی کے اہداف  کے پروگرام کے لیے 7 ارب 26 لاکھ روپے سے زائد جب کہ پاکستان نیوی کے ہنگور منصوبے کے لیے 10 ارب 15 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں پی ایس او کے لیے 100 ارب روپے کی سنڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولیات جاری رکھنے اور  گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں موبائل ٹاورز کی تنصیب کے لیے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے منظورکیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503776/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503776"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گلگت بلتستان حکومت  کے لیے 4 ارب 37 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سمیت کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر پیکیج کے لیے 8 ارب 75 کروڑ روپے سے زائد فنڈز منظور کیے گئے۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے لیے سیپ کے تحت 2 ارب 84 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے، پاکستان منٹ فیز ٹو اے کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔</p>
<p>ای سی سی نے وزارتِ داخلہ کی پیش کردہ 7 سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے اسلام آباد خودکش دھماکے کے شہدا اور متاثرین کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے معاوضہ منظور کیا۔</p>
<p>اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کی توسیع کے لیے 1 ارب 88 کروڑ، ریکوڈک پراجیکٹ کی سیکیورٹی چارجز کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ، پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے کے لیے 80 کروڑ جب کہ نیکٹا کے لیے 15 کروڑ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503808/us-iran-talks-in-islamabad-pakistan-islamabad-talks-20-iranian-ambassador-reza-amiri-moghadam-pm-shehbaz-sharif'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503808"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ای سی سی اجلاس میں  آئی پی او پاکستان کے مالی سال 26-2025 کے لیے 91 کروڑ 47 لاکھ روپے کے بجٹ تخمینے منظور کیے گئے۔</p>
<p>پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہوں اور الائونسز کے لیے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے کی گرانٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے لیے بھی  3 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔</p>
<p>اجلاس میں بجٹ سازی کے عمل میں کردار ادا کرنے والی بعض سرکاری اداروں کو بجٹ اعزازیہ پالیسی میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506153</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 21:10:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05210544bb461e9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05210544bb461e9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506144/federal-government-announces-fixed-tax-scheme-for-small-shopkeepers</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس کا اطلاق 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے اس نئی اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506077/government-and-ppp-hold-important-consultative-meeting-agreed-to-present-budget-on-june-10'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لارہی ہے، فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی، اس آسان اسکیم کا اطلاق ان دکانداروں پر ہوگا، جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہوگا، ایک فیصد اس میں فکس ٹیکس ہوگا، 4 زبانوں میں ایک صفحہ کا سادہ فارم موجود ہے، یہ سادہ الفاظ میں اسکیم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فارم جمع کرانے سے پہلے اگر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے تووہ بھی اس میں ایڈجسٹ ہوگا مگر ایک شرط ہے کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت دکاندار کو کم ازکم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانا ہوگا، اسکیم میں جو بھی دکاندار آئے گا، یہ ایک اختیاری سکیم ہے یعنی فارم جمع کراکر سکیم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، اگر نارمل آپشن میں رہنا چاہتے ہیں تو بھی رہ سکتے ہیں، ایف بی آر کی طرف سے ایک پلیٹ ملے گی جس پر اس دکاندار کی تفصیلات درج ہوں گی اور ساتھ ہی کیوآر کوڈ ہوگا، اس اسکیم میں نان فائلر اور فائلر دکاندار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کم از کم پچھلے سال جتنی ہونی چاہیے، جو بھی دکاندار اس اسکیم میں آئیں گے انہیں پی او ایس سے استثنیٰ مل جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505890/federal-budget-2026-27-proposals'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ محمد اونگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی ہے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اسکیم کو حتمی شکل دینے سے پہلے چھوٹے دکانداروں سے باقاعدہ مشاورت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تمام معاشی چیلنجز کا مقابلہ اپنے ہی وسائل سے کیا ہے اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال آنے والے بدترین سیلاب کے باوجود ملک میں معاشی استحکام برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور عالمی دباؤ کے باوجود ہماری معیشت مستحکم رہی، حکومت کا اب پورا زور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر ہے تاکہ ٹیکس نظام میں وسعت لائی جا سکے اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30394685/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30394685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کا قائم رہنا بہت ضروری ہے، اپنے ملک کی آمدنی کو ایک خاص شرح پر لے کر جانا بہت اہم ہے،  ٹیکس اصلاحات بے تحاشہ ہوئی ہیں، ہم جو قدم اٹھانے جارہے ہیں وہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ہے، 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار اس زمرے میں آتے ہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملکی وسائل میں اپنا حصہ ملائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ چھوٹے دکانداروں کی مشاورت اور مطالبے کے ساتھ اسکیم لائی جا رہی ہے، ٹیکس دہندگان ٹیکس میں آسانی چاہتے ہیں، جو طبقات اب تک کنٹریبیوشن نہیں کررہے تھے وہ اب خود کو پیش کررہے ہیں تو ہم ان کے شکر گزار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس کا اطلاق 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا۔</strong></p>
<p>جمعے کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے اس نئی اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506077/government-and-ppp-hold-important-consultative-meeting-agreed-to-present-budget-on-june-10'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506077"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لارہی ہے، فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی، اس آسان اسکیم کا اطلاق ان دکانداروں پر ہوگا، جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہوگا، ایک فیصد اس میں فکس ٹیکس ہوگا، 4 زبانوں میں ایک صفحہ کا سادہ فارم موجود ہے، یہ سادہ الفاظ میں اسکیم ہے۔</p>
<p>بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فارم جمع کرانے سے پہلے اگر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے تووہ بھی اس میں ایڈجسٹ ہوگا مگر ایک شرط ہے کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت دکاندار کو کم ازکم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانا ہوگا، اسکیم میں جو بھی دکاندار آئے گا، یہ ایک اختیاری سکیم ہے یعنی فارم جمع کراکر سکیم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، اگر نارمل آپشن میں رہنا چاہتے ہیں تو بھی رہ سکتے ہیں، ایف بی آر کی طرف سے ایک پلیٹ ملے گی جس پر اس دکاندار کی تفصیلات درج ہوں گی اور ساتھ ہی کیوآر کوڈ ہوگا، اس اسکیم میں نان فائلر اور فائلر دکاندار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کم از کم پچھلے سال جتنی ہونی چاہیے، جو بھی دکاندار اس اسکیم میں آئیں گے انہیں پی او ایس سے استثنیٰ مل جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505890/federal-budget-2026-27-proposals'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِ خزانہ محمد اونگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی ہے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اسکیم کو حتمی شکل دینے سے پہلے چھوٹے دکانداروں سے باقاعدہ مشاورت کی گئی ہے۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تمام معاشی چیلنجز کا مقابلہ اپنے ہی وسائل سے کیا ہے اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال آنے والے بدترین سیلاب کے باوجود ملک میں معاشی استحکام برقرار رہا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور عالمی دباؤ کے باوجود ہماری معیشت مستحکم رہی، حکومت کا اب پورا زور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر ہے تاکہ ٹیکس نظام میں وسعت لائی جا سکے اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30394685/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30394685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کا قائم رہنا بہت ضروری ہے، اپنے ملک کی آمدنی کو ایک خاص شرح پر لے کر جانا بہت اہم ہے،  ٹیکس اصلاحات بے تحاشہ ہوئی ہیں، ہم جو قدم اٹھانے جارہے ہیں وہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ہے، 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار اس زمرے میں آتے ہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملکی وسائل میں اپنا حصہ ملائیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ چھوٹے دکانداروں کی مشاورت اور مطالبے کے ساتھ اسکیم لائی جا رہی ہے، ٹیکس دہندگان ٹیکس میں آسانی چاہتے ہیں، جو طبقات اب تک کنٹریبیوشن نہیں کررہے تھے وہ اب خود کو پیش کررہے ہیں تو ہم ان کے شکر گزار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506144</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 17:01:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05165652b618882.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05165652b618882.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد کو اسمارٹ سٹی بنانے کے لیے پانچ سالہ اصلاحاتی منصوبہ تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506154/islamabad-smart-city-governance-reform-plan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد کو جدید اسمارٹ سٹی بنانے اور نظامِ حکمرانی میں بڑی تبدیلیوں کے لیے پانچ سالہ مرحلہ وار اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈا ”اڑان پاکستان“ اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم تجویز کے تحت اسلام آباد کے لیے منتخب علاقائی حکومت قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسمبلی اپنا سربراہ منتخب کرے گی، جس کا عہدہ وزیراعلیٰ یا میئر جیسا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ نظام کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے سوا بیشتر اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین کو ایک مشترکہ فریم ورک میں ضم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر وفاقی اداروں کے متعدد اختیارات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) حکومت کو منتقل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ مقامی ٹیکس، وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی منتقلی کیلئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے صحت، تعلیم، سیاحت اور ای گورننس کے شعبوں میں 6 خصوصی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح زمین، ٹیکس، لائسنسنگ اور شکایات کے ازالے کیلئے ایک یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کی سفارش بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد کو جدید اسمارٹ سٹی بنانے اور نظامِ حکمرانی میں بڑی تبدیلیوں کے لیے پانچ سالہ مرحلہ وار اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے 138 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق اصلاحاتی ایجنڈا ”اڑان پاکستان“ اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ منصوبے کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہے۔</p>
<p>اہم تجویز کے تحت اسلام آباد کے لیے منتخب علاقائی حکومت قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسمبلی اپنا سربراہ منتخب کرے گی، جس کا عہدہ وزیراعلیٰ یا میئر جیسا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مجوزہ نظام کے مطابق امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے سوا بیشتر اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ بلدیاتی اور ترقیاتی قوانین کو ایک مشترکہ فریم ورک میں ضم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر وفاقی اداروں کے متعدد اختیارات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) حکومت کو منتقل کیے جائیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ مقامی ٹیکس، وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی منتقلی کیلئے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے صحت، تعلیم، سیاحت اور ای گورننس کے شعبوں میں 6 خصوصی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح زمین، ٹیکس، لائسنسنگ اور شکایات کے ازالے کیلئے ایک یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرانے کی سفارش بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506154</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 21:27:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05212605a80a3f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05212605a80a3f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ہنزہ لاہور جیسا ہو یا کراچی جیسا‘: میئرکراچی کا خرم دستگیر کے بیان پر ردِ عمل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506149/murtaza-wahab-responds-to-khurram-dastgir-karachi-sindh-flood-recovery</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا ایسا شہر ہے جو پورے ملک کو سہارا دیتا ہے۔ انہوں نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی حکومت کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کی قومی خدمات اور معاشی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں خرم دستگیر کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ہنزہ کے عوام سے سوال کیا تھا کہ وہ اپنے علاقے کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں یا کراچی جیسا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتضیٰ وہاب نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جہاں قدرتی آفات اور مشکلات کے دوران حکومت اور سیاسی قیادت عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت متاثرہ افراد کے ساتھ موجود رہی اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KmcPakistan/status/2062823652941591030'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KmcPakistan/status/2062823652941591030"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی بحالی مہم جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں جب کہ 12 لاکھ سے زائد گھر متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ایک غریب پرور اور ملک گیر شہر ہے جہاں پاکستان کے تمام علاقوں سے لوگ آ کر روزگار اور بہتر زندگی کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بقول کراچی نہ صرف غریب اور کمزور طبقات کا سہارا بنتا ہے بل کہ ملکی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی وہ شہر ہے جو پورے پاکستان کی معیشت کو متحرک رکھتا ہے اور اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہنزہ بھی کراچی کی طرح پورے ملک کی خدمت کرنے والا علاقہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ انتخابی نعروں اور وعدوں کے بجائے عملی کارکردگی کو مدنظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام دوست پالیسیوں کو عملی شکل دینے کی مثال اگر کسی سیاسی جماعت نے قائم کی ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ہنزہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے نام لیے بغیر پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ اگلے 5 برسوں میں ہنزہ کو کراچی جیسا بننا ہے یا لاہور جیسا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سڑکیں وہی بنائیں گے جنہوں نے ماضی میں شاہراہوں کا جال بچھایا، گلگت بلتستان سے بلوچستان تک ہر منصوبے پر شیر کا نشان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا ایسا شہر ہے جو پورے ملک کو سہارا دیتا ہے۔ انہوں نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی حکومت کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔</strong></p>
<p>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کی قومی خدمات اور معاشی اہمیت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں خرم دستگیر کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ہنزہ کے عوام سے سوال کیا تھا کہ وہ اپنے علاقے کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں یا کراچی جیسا۔</p>
<p>مرتضیٰ وہاب نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جہاں قدرتی آفات اور مشکلات کے دوران حکومت اور سیاسی قیادت عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت متاثرہ افراد کے ساتھ موجود رہی اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KmcPakistan/status/2062823652941591030'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KmcPakistan/status/2062823652941591030"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی بحالی مہم جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں جب کہ 12 لاکھ سے زائد گھر متاثرہ خاندانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>میئر کراچی نے کہا کہ کراچی ایک غریب پرور اور ملک گیر شہر ہے جہاں پاکستان کے تمام علاقوں سے لوگ آ کر روزگار اور بہتر زندگی کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بقول کراچی نہ صرف غریب اور کمزور طبقات کا سہارا بنتا ہے بل کہ ملکی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی وہ شہر ہے جو پورے پاکستان کی معیشت کو متحرک رکھتا ہے اور اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہنزہ بھی کراچی کی طرح پورے ملک کی خدمت کرنے والا علاقہ بنے۔</p>
<p>انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ انتخابی نعروں اور وعدوں کے بجائے عملی کارکردگی کو مدنظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام دوست پالیسیوں کو عملی شکل دینے کی مثال اگر کسی سیاسی جماعت نے قائم کی ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ہنزہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے نام لیے بغیر پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ اگلے 5 برسوں میں ہنزہ کو کراچی جیسا بننا ہے یا لاہور جیسا؟</p>
<p>خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سڑکیں وہی بنائیں گے جنہوں نے ماضی میں شاہراہوں کا جال بچھایا، گلگت بلتستان سے بلوچستان تک ہر منصوبے پر شیر کا نشان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506149</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 18:40:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05185512dd411a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05185512dd411a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم تمام 6 دہشتگردوں کو انجام تک پہنچا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور ایک گاڑی بھی برآمد ہوئی ہے۔ یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2062793687193792830'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2062793687193792830"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور مزید دہشتگردوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم تمام 6 دہشتگردوں کو انجام تک پہنچا دیا گیا۔</p>
<p>ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور ایک گاڑی بھی برآمد ہوئی ہے۔ یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2062793687193792830'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2062793687193792830"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور مزید دہشتگردوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506132</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 12:43:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05122722bbbefa4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05122722bbbefa4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آزاد کشمیر میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان، شیڈول جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506133/general-elections-announced-in-azad-kashmir</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے۔ انتخابی عمل کے آغاز کے ساتھ ہی سرکاری محکموں میں تقرریوں اور تبادلوں سمیت ترقیاتی منصوبوں کے نئے اعلانات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف الیکشن کمشنر کے مطابق امیدوار 9 جون سے 19 جون تک اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ انتخابی شیڈول کے اجرا کے ساتھ ہی ضابطہ اخلاق بھی نافذ العمل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری محکموں میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں کے نئے اعلانات بھی نہیں کیے جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں منعقد کرائے جائیں گے اور تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے۔ انتخابی عمل کے آغاز کے ساتھ ہی سرکاری محکموں میں تقرریوں اور تبادلوں سمیت ترقیاتی منصوبوں کے نئے اعلانات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 27 جولائی کو منعقد ہوں گے۔</p>
<p>چیف الیکشن کمشنر کے مطابق امیدوار 9 جون سے 19 جون تک اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ انتخابی شیڈول کے اجرا کے ساتھ ہی ضابطہ اخلاق بھی نافذ العمل ہو گیا ہے۔</p>
<p>غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سرکاری محکموں میں تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں کے نئے اعلانات بھی نہیں کیے جا سکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابات آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں منعقد کرائے جائیں گے اور تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506133</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 12:42:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0512415357ed774.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0512415357ed774.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مومنہ اقبال ہراسانی کیس: رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506128/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مبینہ معاملے میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درج کیا گیا ہے، جو اداکارہ کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا خان اور دیگر ساتھیوں پر سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اداکارہ کی نگرانی کرتے رہے اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505693/momina-iqbal-accuses-saqib-chadhar-of-leaking-private-photos-urges-to-stop-sharing'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی سے متعلق معلومات سامنے آنے پر مومنہ اقبال نے شادی سے انکار کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں پرائیویٹ ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق 2023 میں بھی ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات لگا کر اداکارہ کا رشتہ ختم کروانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505937/actress-momina-iqbals-wedding-festivities-begin-beautiful-dua-e-khair-pictures-go-viral'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505937"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فریقین کی جانب سے اس حوالے سے مزید مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر سیشن کورٹ لاہور میں اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مبینہ کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ملزم کو 24 جون تک گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس دوران انہیں گرفتار نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال حال ہی میں حمزہ حبیب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جس کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مبینہ معاملے میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درج کیا گیا ہے، جو اداکارہ کی مدعیت میں دائر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ سمیرا خان اور دیگر ساتھیوں پر سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر اداکارہ کی نگرانی کرتے رہے اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505693/momina-iqbal-accuses-saqib-chadhar-of-leaking-private-photos-urges-to-stop-sharing'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مقدمے میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ ثاقب چدھڑ کی پہلی شادی سے متعلق معلومات سامنے آنے پر مومنہ اقبال نے شادی سے انکار کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر انہیں پرائیویٹ ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق 2023 میں بھی ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات لگا کر اداکارہ کا رشتہ ختم کروانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505937/actress-momina-iqbals-wedding-festivities-begin-beautiful-dua-e-khair-pictures-go-viral'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505937"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فریقین کی جانب سے اس حوالے سے مزید مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔</p>
<p>اُدھر سیشن کورٹ لاہور میں اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مبینہ کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔</p>
<p>عدالت نے ملزم کو 24 جون تک گرفتاری سے روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس دوران انہیں گرفتار نہ کریں۔</p>
<p>خیال رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال حال ہی میں حمزہ حبیب کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جس کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506128</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 11:53:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/051121042e77916.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/051121042e77916.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کا موسم آج کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں آج موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کا کم سے کم درجہ حرارت 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موجودہ درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، تاہم دن بھر موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم بعض بالائی اور میدانی اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506103/heavy-rainfall-in-punjab-khyber-pakhtunkhwa-and-azad-kashmir'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور میں موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دن کے دوران درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 51 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبے کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق چترال میں 11 ڈگری سینٹی گریڈ اور دیر میں 14 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ مالم جبہ میں درجہ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ سیدو شریف میں 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بنوں میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ، ڈیرہ اسماعیل خان میں 29 ڈگری سینٹی گریڈ اور ایبٹ آباد میں 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے شہریوں کو گرمی کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محکمہ موسمیات نے شہر قائد میں آج موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کا کم سے کم درجہ حرارت 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موجودہ درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔</p>
<p>شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، تاہم دن بھر موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اُدھر محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم بعض بالائی اور میدانی اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506103/heavy-rainfall-in-punjab-khyber-pakhtunkhwa-and-azad-kashmir'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور میں موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ دن کے دوران درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 51 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>صوبے کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق چترال میں 11 ڈگری سینٹی گریڈ اور دیر میں 14 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ مالم جبہ میں درجہ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ سیدو شریف میں 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔</p>
<p>اسی طرح بنوں میں درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ، ڈیرہ اسماعیل خان میں 29 ڈگری سینٹی گریڈ اور ایبٹ آباد میں 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے شہریوں کو گرمی کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506124</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 10:12:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05101245955b51a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05101245955b51a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی ایک بار پھر مہنگی، فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 19 پیسے اضافہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506117/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اضافہ اپریل 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں 1 روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق ملک بھر کے صارفین پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اپریل 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے اور اس کی وصولی جون کے بجلی بلوں میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جبکہ صارفین کو جون کے بلوں میں فی یونٹ اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ اضافہ اپریل 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں 1 روپے 19 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق ملک بھر کے صارفین پر ہوگا۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اپریل 2026 کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے اور اس کی وصولی جون کے بجلی بلوں میں کی جائے گی۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا۔</p>
<p>بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جبکہ صارفین کو جون کے بلوں میں فی یونٹ اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506117</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 00:22:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/050021370343e28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/050021370343e28.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نور مقدم قتل کیس: سزائے موت کے خلاف مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست خارج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506106/noor-muqaddam-murder-case-convict-zahir-jaffers-review-petition-against-death-sentence-dismissed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کے آغاز میں مؤقف اپنایا کہ سب سے پہلے تسلیم کرتا ہوں مقتولہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا، میں مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں تاہم میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے، تسلیم کرتا ہوں میرا موکل وقوعے کے وقت موجود تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473970/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وکیل ظاہر جعفر نے کہا کہ یہ نہیں کہوں گا میرے موکل نے قتل نہیں کیا،  وقوعے اور ٹرائل کے وقت میرے موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہی ہیں، ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا، یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں مجرم کا علاج کب شروع ہوا، وقوعے کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا، کس ڈاکٹر نے علاج کیا، ظاہر جعفر کے دوست بھی ہوں گے، مجرم کی اسکول یا کالج، یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹیٹ کلینک کا خط عدالت میں پیش کیا تو جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ اس خط پر تو سال 2022 کی تاریخ درج ہے، کیا مجرم واقعے کے بعد خود خط لینے لندن گیا تھا، آپ کی دلیل ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہیں ملا، یہ عجیب حیرت کی بات ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اس کے لیے خط آگیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473670/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجرم کے وکیل نے مزید کہا کہ حیران کن ہے مقتولہ کا تو ٹیسٹ کرایا گیا لیکن مجرم کا نشے کی جانچ کا ٹیکسٹ نہیں ہوا، میرا سوال ہے کہ استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا، ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی استغاثہ نے دباؤ میں آکر میرے مؤکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا، اس وقت سوشل میڈیا پر یہی چل رہا تھا مجرم کو نشہ کا عادی ثابت کرکے بچایا جائے گا،  معذرت کے ساتھ جج صاحب نے بھی ٹرائل کے دوران میڈیا کا پریشر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ  نے کہا کہ یہ عدالت فیصلہ نہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی ہے نہ ہی ہم سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتے ہیں، ہم نے چند روز پہلے سنی مسیح کیس میں اس ایشو کو طے کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ  خواجہ حارث صاحب آپ کے دلائل تضاد ہے، آپ کہہ رہے ہیں وقوعے کے وقت اس کی زہنی حالت ٹھیک نہیں تھی،  اس کا مطلب یہ ہوا آپ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں، فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی زہنی حالت درست نہیں تھی۔ &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ  نے کہا کہ اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ حارث  نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی، میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہے،  سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461163/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461163"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ  نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،  ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں،تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی، ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینے کو چیلنج نہیں کیا گیا، وہ معاملہ تو حتمی ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے درخواست پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر  کی زہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ میں رپورٹ ہوا مجرم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا جانور سمجھ رہا تھا، میرا موکل زہنی مریض ہے وہ دستخط تک ٹھیک نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بھی صبح اخبار پڑھ کر پریشانی ہوتی ہے،  کچھ لوگوں کی اونچی آواز میں وی لاگ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ میڈیکل ہسٹری بہت طویل ہوتی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ آج ہم باقی سارے کیسز ملتوی کررہے ہیں، ویسے بھی آج ہمارے بچے یہاں موجود نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30465305/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30465305"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوران سماعت مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے ٹرائل کے دوران اخباری رپورٹنگ کا حوالہ دیا، اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم یہاں خبریں سننے کیلئے نہیں بیٹھے ہوئے،جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بعض دفعہ ہم کہتے کچھ ہیں رپورٹ کچھ ہوتا ہے،  اخبار میں رپورٹنگ کچھ ہوتی ہے، وی لاگ میں کچھ اور کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہر کوئی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ مقتولہ نوز مقدم کے والدین کے وکیل شاور نے اپنے دلائل  میں مؤقف اپنایا کہ  مجرم کی 20 جولائی کو وقوعے کی جگہ سے گرفتاری ہوئی، جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ کے عرصے کے دوران بھی مجرم کو سنئیر وکیل کی خدمات حاصل تھیں، چالان، فرد جرم اور جرح کے دوران بھی لاہور کے فوجداری کے سینئر وکیل کی خدمات حاصل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ خاور نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج سکندر القرنین مجرم کا وکیل تھا، عدالت نے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا،  مجرم ظاہر جعفر نے 342 اور 265 کا بیان بھی خود ریکارڈ کرایا، بیان سے دیکھا جاسکتا ہے کہ مجرم دماغی طور پر بلکل صحت مند ہے، مجرم کے والدین بھی کیس میں ملوث ملزمان تھے، انہیں بھی سنئیر وکلا کی خدمات میسر تھیں، مجرم کے والدین نے بھی کبھی نہیں کہا کہ انکا بیٹا دماغی طور پر صحت مند نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ خاور  نے موقف اپنای کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے بھی خود اور جیل ڈاکٹر سے مجرم کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا، ٹرائل کورٹ کے جج بھی اس نتیجے پر پہنچے کے مجرم بلکل ٹھیک ہے، میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی مجرم کی استدعا ٹرائل کورٹ نے مسترد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ خاور نے کہا کہ اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی ٹرائل کورٹ سے لے  کر سپریم کورٹ تک عدالت میں چلائی گئیں، اس نقاط کی بنیاد پر میری استدعا ہے کہ نظرثانی خارج کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نور-مقدم-کیس-کا-پس-منظر" href="#نور-مقدم-کیس-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نور مقدم کیس کا پس منظر&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;نور مقدم کے قتل کا واقعہ 20 جولائی 2021 کو پیش آیا جب مقتولہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں واقع ایک گھر سے برآمد ہوئی۔ اسی دن پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو موقعِ واردات سے گرفتار کر لیا۔ اس قتل نے پورے ملک میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور ریپ کے الزام میں 25 سال قیدِ سخت کی سزا سنائی۔ اس کے دو ملازمین، محمد افتخار اور جان محمد، جو وقوعہ کے وقت گھر میں موجود تھے، انہیں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مقدمے میں ظاہر کے والدین، معروف کاروباری شخصیات ذاکر جعفر اور اسما آدم جی، پر اکتوبر 2021 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی تاہم بعد میں عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر دونوں کو بری کر دیا۔ اسی طرح تھراپی ورکس کے چھ اہلکار، جو پولیس سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے، پہلے تو ملزم نامزد ہوئے لیکن بعدازاں عدالت نے انہیں بھی بری کر دیا۔ چالان میں الزام تھا کہ والدین اور تھراپی ورکس کے افراد نے جرم کو چھپانے اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قتل کی سزائے موت برقرار رکھی اور مزید سخت فیصلہ دیتے ہوئے ریپ کے الزام میں دی گئی 25 سال قید کو بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ ملازمین کی سزا کے خلاف دائر اپیلیں بھی مسترد ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد اگلے مہینے ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ اس کی سزا ’’ثبوت کے غلط جائزے‘‘ کا نتیجہ ہے اور ماتحت عدالتیں ایف آئی آر میں موجود ’’بنیادی خامیاں‘‘ سمجھنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں برس مئی میں سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی جب کہ ریپ کے الزام میں سنائی گئی موت کی سزا کو کم کرکے عمر قید کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت کی۔</p>
<p>سماعت کے دوران مرکزی مجرم ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کے آغاز میں مؤقف اپنایا کہ سب سے پہلے تسلیم کرتا ہوں مقتولہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا، میں مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں تاہم میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے، تسلیم کرتا ہوں میرا موکل وقوعے کے وقت موجود تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473970/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وکیل ظاہر جعفر نے کہا کہ یہ نہیں کہوں گا میرے موکل نے قتل نہیں کیا،  وقوعے اور ٹرائل کے وقت میرے موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہی ہیں، ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا، یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آجاتا ہے۔</p>
<p>جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں مجرم کا علاج کب شروع ہوا، وقوعے کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا، کس ڈاکٹر نے علاج کیا، ظاہر جعفر کے دوست بھی ہوں گے، مجرم کی اسکول یا کالج، یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہوگی۔</p>
<p>خواجہ حارث نے لندن کے ہارلے اسٹیٹ کلینک کا خط عدالت میں پیش کیا تو جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ اس خط پر تو سال 2022 کی تاریخ درج ہے، کیا مجرم واقعے کے بعد خود خط لینے لندن گیا تھا، آپ کی دلیل ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہیں ملا، یہ عجیب حیرت کی بات ہے کہ مجرم کو مرضی کا وکیل نہ ملا لیکن لندن سے اس کے لیے خط آگیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473670/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مجرم کے وکیل نے مزید کہا کہ حیران کن ہے مقتولہ کا تو ٹیسٹ کرایا گیا لیکن مجرم کا نشے کی جانچ کا ٹیکسٹ نہیں ہوا، میرا سوال ہے کہ استغاثہ نے مجرم کے نشے کا ٹیسٹ کیوں نہیں کرایا، ٹرائل کے دوران جس طرح کی رپورٹنگ ہوئی استغاثہ نے دباؤ میں آکر میرے مؤکل کا ٹیسٹ نہیں کرایا، اس وقت سوشل میڈیا پر یہی چل رہا تھا مجرم کو نشہ کا عادی ثابت کرکے بچایا جائے گا،  معذرت کے ساتھ جج صاحب نے بھی ٹرائل کے دوران میڈیا کا پریشر لیا۔</p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ  نے کہا کہ یہ عدالت فیصلہ نہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی ہے نہ ہی ہم سوشل میڈیا کے دباؤ میں آتے ہیں، ہم نے چند روز پہلے سنی مسیح کیس میں اس ایشو کو طے کر دیا۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ  خواجہ حارث صاحب آپ کے دلائل تضاد ہے، آپ کہہ رہے ہیں وقوعے کے وقت اس کی زہنی حالت ٹھیک نہیں تھی،  اس کا مطلب یہ ہوا آپ سوشل میڈیا کے تبصروں کو درست قرار دے رہے ہیں، فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی زہنی حالت درست نہیں تھی۔ </p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ  نے کہا کہ اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپ کو اس کا کیا فائدہ ہوتا۔</p>
<p>خواجہ حارث  نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی، میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہے،  سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461163/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461163"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ  نے کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،  ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں،تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ </p>
<p>جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی درخواست مسترد کی، ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینے کو چیلنج نہیں کیا گیا، وہ معاملہ تو حتمی ہوچکا ہے۔</p>
<p>عدالت نے درخواست پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر  کی زہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔</p>
<p>خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ میں رپورٹ ہوا مجرم خود کو روحانی پیشوا اور مقتولہ کو قربانی کا جانور سمجھ رہا تھا، میرا موکل زہنی مریض ہے وہ دستخط تک ٹھیک نہیں کر سکتا۔</p>
<p>جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بھی صبح اخبار پڑھ کر پریشانی ہوتی ہے،  کچھ لوگوں کی اونچی آواز میں وی لاگ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ میڈیکل ہسٹری بہت طویل ہوتی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ آج ہم باقی سارے کیسز ملتوی کررہے ہیں، ویسے بھی آج ہمارے بچے یہاں موجود نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30465305/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30465305"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوران سماعت مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے ٹرائل کے دوران اخباری رپورٹنگ کا حوالہ دیا، اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ہم یہاں خبریں سننے کیلئے نہیں بیٹھے ہوئے،جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ بعض دفعہ ہم کہتے کچھ ہیں رپورٹ کچھ ہوتا ہے،  اخبار میں رپورٹنگ کچھ ہوتی ہے، وی لاگ میں کچھ اور کہا جاتا ہے۔</p>
<p>جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ ہر کوئی اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ مقتولہ نوز مقدم کے والدین کے وکیل شاور نے اپنے دلائل  میں مؤقف اپنایا کہ  مجرم کی 20 جولائی کو وقوعے کی جگہ سے گرفتاری ہوئی، جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ کے عرصے کے دوران بھی مجرم کو سنئیر وکیل کی خدمات حاصل تھیں، چالان، فرد جرم اور جرح کے دوران بھی لاہور کے فوجداری کے سینئر وکیل کی خدمات حاصل تھیں۔</p>
<p>شاہ خاور نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج سکندر القرنین مجرم کا وکیل تھا، عدالت نے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا،  مجرم ظاہر جعفر نے 342 اور 265 کا بیان بھی خود ریکارڈ کرایا، بیان سے دیکھا جاسکتا ہے کہ مجرم دماغی طور پر بلکل صحت مند ہے، مجرم کے والدین بھی کیس میں ملوث ملزمان تھے، انہیں بھی سنئیر وکلا کی خدمات میسر تھیں، مجرم کے والدین نے بھی کبھی نہیں کہا کہ انکا بیٹا دماغی طور پر صحت مند نہیں۔</p>
<p>شاہ خاور  نے موقف اپنای کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے بھی خود اور جیل ڈاکٹر سے مجرم کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا، ٹرائل کورٹ کے جج بھی اس نتیجے پر پہنچے کے مجرم بلکل ٹھیک ہے، میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی مجرم کی استدعا ٹرائل کورٹ نے مسترد کی۔</p>
<p>شاہ خاور نے کہا کہ اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی ٹرائل کورٹ سے لے  کر سپریم کورٹ تک عدالت میں چلائی گئیں، اس نقاط کی بنیاد پر میری استدعا ہے کہ نظرثانی خارج کی جائے۔</p>
<h1><a id="نور-مقدم-کیس-کا-پس-منظر" href="#نور-مقدم-کیس-کا-پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نور مقدم کیس کا پس منظر</strong></h1>
<p>نور مقدم کے قتل کا واقعہ 20 جولائی 2021 کو پیش آیا جب مقتولہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7/4 میں واقع ایک گھر سے برآمد ہوئی۔ اسی دن پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو موقعِ واردات سے گرفتار کر لیا۔ اس قتل نے پورے ملک میں شدید غم و غصہ پیدا کیا اور ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔</p>
<p>فروری 2022 میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو قتل کے جرم میں سزائے موت اور ریپ کے الزام میں 25 سال قیدِ سخت کی سزا سنائی۔ اس کے دو ملازمین، محمد افتخار اور جان محمد، جو وقوعہ کے وقت گھر میں موجود تھے، انہیں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔</p>
<p>اسی مقدمے میں ظاہر کے والدین، معروف کاروباری شخصیات ذاکر جعفر اور اسما آدم جی، پر اکتوبر 2021 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی تاہم بعد میں عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر دونوں کو بری کر دیا۔ اسی طرح تھراپی ورکس کے چھ اہلکار، جو پولیس سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے، پہلے تو ملزم نامزد ہوئے لیکن بعدازاں عدالت نے انہیں بھی بری کر دیا۔ چالان میں الزام تھا کہ والدین اور تھراپی ورکس کے افراد نے جرم کو چھپانے اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔</p>
<p>مارچ 2023 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قتل کی سزائے موت برقرار رکھی اور مزید سخت فیصلہ دیتے ہوئے ریپ کے الزام میں دی گئی 25 سال قید کو بھی سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔ ملازمین کی سزا کے خلاف دائر اپیلیں بھی مسترد ہوئیں۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد اگلے مہینے ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ اس کی سزا ’’ثبوت کے غلط جائزے‘‘ کا نتیجہ ہے اور ماتحت عدالتیں ایف آئی آر میں موجود ’’بنیادی خامیاں‘‘ سمجھنے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>رواں برس مئی میں سپریم کورٹ نے قتل کے جرم میں ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی جب کہ ریپ کے الزام میں سنائی گئی موت کی سزا کو کم کرکے عمر قید کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506106</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:15:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041711594ceba6c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041711594ceba6c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی 2 کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506113/4-indian-backed-terrorists-killed-in-2-security-forces-operations-in-khyber-pakhtunkhwa</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جب کہ مارے گئے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) 3 اور 4 جون کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع مہمند میں سیکیورٹی فورسز نے 2 الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، خفیہ اطلاعات پر کیے گئے ان آپریشنز میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2062555550018392314?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2062555550018392314?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنہ الخوارج کے 2 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع مہمند میں کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مہارت کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے مزید 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے جب کہ علاقے میں موجود کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی قابلِ ستائش ہیں، دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505768/11-terrorists-killed-during-security-forces-operation-in-north-waziristan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے مزید کہا کہ قوم اپنی بہادر مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے پرعزم ہیں پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جب کہ مارے گئے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) 3 اور 4 جون کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان اور ضلع مہمند میں سیکیورٹی فورسز نے 2 الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، خفیہ اطلاعات پر کیے گئے ان آپریشنز میں بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کے 4 دہشت گرد مارے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2062555550018392314?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2062555550018392314?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنہ الخوارج کے 2 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع مہمند میں کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مہارت کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے مزید 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے جب کہ علاقے میں موجود کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی قابلِ ستائش ہیں، دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505768/11-terrorists-killed-during-security-forces-operation-in-north-waziristan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے مزید کہا کہ قوم اپنی بہادر مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں، ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے پرعزم ہیں پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506113</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 21:01:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/04205451c68c87b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/04205451c68c87b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب سمیت خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں موسلا دھار بارش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506103/heavy-rainfall-in-punjab-khyber-pakhtunkhwa-and-azad-kashmir</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز آندھی اور گرد آلود ہواؤں کے بعد بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ، ماڈل ٹاؤن، گرین ٹاؤن، ڈی ایچ اے، کینٹ اور گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینال روڈ، فیروزپور روڈ، جیل روڈ، مغل پورہ، دھرم پورہ اور اقبال ٹاؤن میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مختلف علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گجرات میں بھی بادل خوب برسے اور وقفے وقفے سے جاری رہنے والی بارش نے شہر کا موسم خوشگوار بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بارش کے باعث شہر کے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ مختلف فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری رہی، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506016/pakistan-accelerates-four-major-dam-projects-amid-growing-water-security-concerns'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش نے موسم کا رنگ ہی بدل دیا۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ ہونے والی بارش نے شدید گرمی کا زور توڑ دیا اور شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارگلہ کی پہاڑیوں سمیت شہر بھر میں درختوں اور سڑکوں پر جمی دھول دھل گئی، جس سے قدرتی مناظر مزید دلکش ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں علی الصبح سے ہی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ سیاہ و سفید بادلوں کی گھن گرج اور موسلا دھار بارش نے کئی علاقوں میں جل تھل ایک کر دیا جبکہ شہریوں نے گرمی سے وقتی نجات پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریکارڈ کی گئی جہاں 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ فعال موسمی نظام ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہے اور اس کے زیر اثر 5 جون تک مزید بارشوں کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق حالیہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے کا سبب بنیں گی بلکہ ڈیموں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہتر ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز آندھی اور گرد آلود ہواؤں کے بعد بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ، ماڈل ٹاؤن، گرین ٹاؤن، ڈی ایچ اے، کینٹ اور گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کینال روڈ، فیروزپور روڈ، جیل روڈ، مغل پورہ، دھرم پورہ اور اقبال ٹاؤن میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا۔</p>
<p>تاہم مختلف علاقوں میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔</p>
<p>دوسری جانب گجرات میں بھی بادل خوب برسے اور وقفے وقفے سے جاری رہنے والی بارش نے شہر کا موسم خوشگوار بنا دیا۔</p>
<p>تاہم بارش کے باعث شہر کے متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ مختلف فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری رہی، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506016/pakistan-accelerates-four-major-dam-projects-amid-growing-water-security-concerns'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بارش نے موسم کا رنگ ہی بدل دیا۔ بادلوں کی گھن گرج کے ساتھ ہونے والی بارش نے شدید گرمی کا زور توڑ دیا اور شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا۔</p>
<p>مارگلہ کی پہاڑیوں سمیت شہر بھر میں درختوں اور سڑکوں پر جمی دھول دھل گئی، جس سے قدرتی مناظر مزید دلکش ہوگئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں علی الصبح سے ہی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ سیاہ و سفید بادلوں کی گھن گرج اور موسلا دھار بارش نے کئی علاقوں میں جل تھل ایک کر دیا جبکہ شہریوں نے گرمی سے وقتی نجات پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریکارڈ کی گئی جہاں 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ فعال موسمی نظام ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہے اور اس کے زیر اثر 5 جون تک مزید بارشوں کا امکان ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق حالیہ بارشیں نہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے کا سبب بنیں گی بلکہ ڈیموں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح بہتر ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506103</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:20:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0415190089c5dd3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0415190089c5dd3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت اور پیپلز پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس: بجٹ 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506077/government-and-ppp-hold-important-consultative-meeting-agreed-to-present-budget-on-june-10</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، جہاں دونوں جانب سے ہونے والے مشاورتی اجلاس میں وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کی وزیراعظم شہباز شریف کو سفارش پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ میں حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DPM_PK/status/2062206675738841551?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DPM_PK/status/2062206675738841551?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بلال اظہر کیانی شریک ہوئے جب کہ پیپلز پارٹی کے وفد میں سینیٹر شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف شامل تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505890/federal-budget-2026-27-proposals'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی اخراجات، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے منصوبوں اور معاشی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ عوامی فلاح و بہبود، اقتصادی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد نے حکومت کے سامنے اپنا مؤقف، تجاویز اور مطالبات بھرپور انداز میں پیش کیے۔ مشاورت کے دوران پیپلز پارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کو وفاقی بجٹ کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ میں حکومت کی حمایت اور بجٹ کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا  جب کہ پارٹی قیادت نے حکومتی وفد کو اس حوالے سے یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505949/imf-proposes-to-increase-gst-from-18-to-19-percent-in-next-budget'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش ہے کہ عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے جب کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے انفورسمنٹ کو بہتر بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف، اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق آج ہونے والی ملاقاتیں انتہائی مثبت رہیں اور بجٹ سے متعلق مزید مشاورت کے لیے ہفتے کے آخر میں دوبارہ ملاقاتیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، جہاں دونوں جانب سے ہونے والے مشاورتی اجلاس میں وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کی وزیراعظم شہباز شریف کو سفارش پر اتفاق کیا گیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ میں حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کو حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ترجیحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DPM_PK/status/2062206675738841551?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DPM_PK/status/2062206675738841551?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اجلاس میں حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بلال اظہر کیانی شریک ہوئے جب کہ پیپلز پارٹی کے وفد میں سینیٹر شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف شامل تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505890/federal-budget-2026-27-proposals'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505890"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی اخراجات، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے منصوبوں اور معاشی ترجیحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ عوامی فلاح و بہبود، اقتصادی ترقی اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد نے حکومت کے سامنے اپنا مؤقف، تجاویز اور مطالبات بھرپور انداز میں پیش کیے۔ مشاورت کے دوران پیپلز پارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کو وفاقی بجٹ کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ میں حکومت کی حمایت اور بجٹ کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا  جب کہ پارٹی قیادت نے حکومتی وفد کو اس حوالے سے یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505949/imf-proposes-to-increase-gst-from-18-to-19-percent-in-next-budget'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505949"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 10 جون کو وفاقی بجٹ پیش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش ہے کہ عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے جب کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے انفورسمنٹ کو بہتر بنانے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف، اتحادی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق آج ہونے والی ملاقاتیں انتہائی مثبت رہیں اور بجٹ سے متعلق مزید مشاورت کے لیے ہفتے کے آخر میں دوبارہ ملاقاتیں ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506077</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:06:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/032204560b3b8d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/032204560b3b8d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے ایران کے جوہری پروگرام کی معلومات امریکا کو نہیں دیں: دفترِ خارجہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506095/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہم رہے، جن کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور رابطے کیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں سے بھرپور رہے ہیں اور ملک نے عالمی اور علاقائی سطح پر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کی دعوت پر سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کی چینی صدر اور وزیراعظم کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ وزیراعظم نے ہانگژو میں پاک چین بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) کانفرنس میں بھی شرکت کی، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ سے نیویارک گئے، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کی، جبکہ بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی کے مطابق پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506002/ishaq-dar-and-abbas-araqchi-contact-discuss-regional-situation-and-ceasefire'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506002"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی صدر کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے بحرین، کویت اور ملائیشیا کی قیادت کے ساتھ بھی رابطے کیے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی نے کہا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور نائب صدر کایا کالاس کا حالیہ دورہ پاکستان بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ اس موقع پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور فلسطینی کاز کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505902/pakistan-and-the-us-agree-to-further-strengthen-cooperation-in-counter-terrorism-and-other-areas'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505902"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے ساتھ آبی تنازع سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنے یا روکنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اقدامات کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی کا جائز اور قانونی حق دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505866/shehbaz-sharif-pezeshkian-phone-call-peace-efforts'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ کشمیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور پاکستان اس مسئلے کو عالمی فورمز پر مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہم رہے، جن کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور رابطے کیے۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں سے بھرپور رہے ہیں اور ملک نے عالمی اور علاقائی سطح پر امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی جمہوریہ چین کی دعوت پر سرکاری دورہ کیا، جہاں ان کی چینی صدر اور وزیراعظم کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ وزیراعظم نے ہانگژو میں پاک چین بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) کانفرنس میں بھی شرکت کی، جس میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ سے نیویارک گئے، جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کی، جبکہ بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔</p>
<p>طاہر اندرابی کے مطابق پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران امن کے فروغ اور سفارتی رابطوں کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506002/ishaq-dar-and-abbas-araqchi-contact-discuss-regional-situation-and-ceasefire'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506002"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی صدر کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے بحرین، کویت اور ملائیشیا کی قیادت کے ساتھ بھی رابطے کیے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر گفتگو کی۔</p>
<p>طاہر اندرابی نے کہا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور نائب صدر کایا کالاس کا حالیہ دورہ پاکستان بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ اس موقع پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے کی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت نے اپنے دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور فلسطینی کاز کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505902/pakistan-and-the-us-agree-to-further-strengthen-cooperation-in-counter-terrorism-and-other-areas'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505902"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بھارت کے ساتھ آبی تنازع سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے پانی کو کنٹرول کرنے یا روکنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی اقدامات کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے پانی کا جائز اور قانونی حق دار ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔</p>
<p>طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505866/shehbaz-sharif-pezeshkian-phone-call-peace-efforts'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505866"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مسئلہ کشمیر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور پاکستان اس مسئلے کو عالمی فورمز پر مسلسل اجاگر کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ رابطے میں ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506095</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:46:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041201090ed1877.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041201090ed1877.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں ڈیجیٹل دہشتگردی: سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے ذریعے ذہنوں پر قبضے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے بلوچستان میں جاری بدامنی کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف ایک ایسی خاموش مگر خطرناک جنگ لڑی جا رہی ہے جو اب پہاڑوں کے بجائے موبائل فونز کے اندر منتقل ہو چکی ہے۔ اس نئی جنگ میں گولیوں اور بارود سے زیادہ خطرناک پروپیگنڈے اور بیانیے کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بندوق چلانے سے پہلے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمال رئیسانی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان طویل عرصے سے بیرونی مداخلت اور پراکسی وار کا شکار رہا ہے، لیکن اب دشمن نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں۔ اب بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی خفیہ انکرپٹڈ ایپس کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گردی کا پورا نظام اب ڈیجیٹل دنیا میں شفٹ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اہم کمانڈر بشیر زیب کا ذکر کیا، جس پر حکومت نے بھاری انعام مقرر کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمال رئیسانی نے بتایا کہ بشیر زیب کوئی عام دہشتگرد نہیں ہے بلکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور طلبہ سیاست کا حصہ رہا ہے، اسی لیے وہ جدید دور کی نفسیاتی جنگ کے طریقوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انکشاف کیا کہ کراچی میں حال ہی میں سی ٹی ڈی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد پکڑا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں جنید نامی شخص کو بشیر زیب کا انتہائی قریبی ساتھی اور شہروں میں رابطے قائم کرنے والا اہم کردار سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمال رئیسانی نے انکشاف کیا کہ اس ڈیجیٹل جنگ کے لیے زنگی، سگنل، ڈیلٹا چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی موبائل ایپس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ایپس کی خاص بات یہ ہے کہ ان پر ہونے والی گفتگو کو ٹریس کرنا اور کالز کی نگرانی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سگنل ایپ پر پیغامات خود بخود مٹ جاتے ہیں جبکہ ڈیلٹا چیٹ بظاہر ای میل کی طرح کام کرتی ہے مگر اس کے اندر خفیہ چیٹ کی سہولت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عناصر سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس میں یہ تشویشناک بات بھی سامنے لائی گئی کہ یونیورسٹیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505861/major-terror-plot-foiled-in-karachi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505861"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جمال رئیسانی کے مطابق دشمن اب صرف گولی نہیں چلاتا بلکہ وہ انٹرنیٹ پر ٹرینڈ چلاتا ہے اور جذباتی ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی اختلاف اور آئینی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے اور انسانی حقوق کا احترام ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر کوئی بھی پلیٹ فارم یا نیٹ ورک دہشت گردی اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال ہوگا تو قانون حرکت میں آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اصرار کیا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ قوم کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن بننے سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے بلوچستان میں جاری بدامنی کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف ایک ایسی خاموش مگر خطرناک جنگ لڑی جا رہی ہے جو اب پہاڑوں کے بجائے موبائل فونز کے اندر منتقل ہو چکی ہے۔ اس نئی جنگ میں گولیوں اور بارود سے زیادہ خطرناک پروپیگنڈے اور بیانیے کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بندوق چلانے سے پہلے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>جمال رئیسانی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان طویل عرصے سے بیرونی مداخلت اور پراکسی وار کا شکار رہا ہے، لیکن اب دشمن نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں۔ اب بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی خفیہ انکرپٹڈ ایپس کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کی جا سکیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گردی کا پورا نظام اب ڈیجیٹل دنیا میں شفٹ ہو چکا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر انہوں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اہم کمانڈر بشیر زیب کا ذکر کیا، جس پر حکومت نے بھاری انعام مقرر کر رکھا ہے۔</p>
<p>جمال رئیسانی نے بتایا کہ بشیر زیب کوئی عام دہشتگرد نہیں ہے بلکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور طلبہ سیاست کا حصہ رہا ہے، اسی لیے وہ جدید دور کی نفسیاتی جنگ کے طریقوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے انکشاف کیا کہ کراچی میں حال ہی میں سی ٹی ڈی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد پکڑا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں جنید نامی شخص کو بشیر زیب کا انتہائی قریبی ساتھی اور شہروں میں رابطے قائم کرنے والا اہم کردار سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>جمال رئیسانی نے انکشاف کیا کہ اس ڈیجیٹل جنگ کے لیے زنگی، سگنل، ڈیلٹا چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی موبائل ایپس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ایپس کی خاص بات یہ ہے کہ ان پر ہونے والی گفتگو کو ٹریس کرنا اور کالز کی نگرانی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سگنل ایپ پر پیغامات خود بخود مٹ جاتے ہیں جبکہ ڈیلٹا چیٹ بظاہر ای میل کی طرح کام کرتی ہے مگر اس کے اندر خفیہ چیٹ کی سہولت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عناصر سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچے رہتے ہیں۔</p>
<p>پریس کانفرنس میں یہ تشویشناک بات بھی سامنے لائی گئی کہ یونیورسٹیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505861/major-terror-plot-foiled-in-karachi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505861"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جمال رئیسانی کے مطابق دشمن اب صرف گولی نہیں چلاتا بلکہ وہ انٹرنیٹ پر ٹرینڈ چلاتا ہے اور جذباتی ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی اختلاف اور آئینی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے اور انسانی حقوق کا احترام ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر کوئی بھی پلیٹ فارم یا نیٹ ورک دہشت گردی اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال ہوگا تو قانون حرکت میں آئے گا۔</p>
<p>انہوں نے اصرار کیا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ قوم کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن بننے سے بچایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506059</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:39:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/031159172fb2602.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/031159172fb2602.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506015/budget-2026-heavy-taxes-on-basic-food-items-unlikely-to-be-reduced'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506015"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506015/budget-2026-heavy-taxes-on-basic-food-items-unlikely-to-be-reduced'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506015"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔</p>
<p>ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506042</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 21:06:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/022103583907e81.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/022103583907e81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 17 دہشت گرد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506041/balochistan-security-forces-operations-17-terrorists-killed-ispr</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) اور کارروائیاں کیں، جن کے دوران 17 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلوں میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا۔</strong></p>
<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) اور کارروائیاں کیں، جن کے دوران 17 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائیاں کی گئیں۔ مختلف مقامات پر فائرنگ کے تبادلوں میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد مارے گئے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506041</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 20:29:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02202825852bf40.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02202825852bf40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور ڈرگ کوئین گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506049/drug-queen-arrested-from-karachi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ماضی میں بھی منشیات فروشی کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ہیروئن، چرس سمیت دیگر منشیات کی فروخت کے کاروبار میں ملوث تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں تقریباً 35 مقدمات درج ہیں، جبکہ وہ چند سال قبل بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505856/pinky-medical-examination'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے مطابق ملزمہ ماضی میں سہراب گوٹھ کے علاقے میں منشیات کا بڑا اڈہ چلاتی رہی ہے۔ دو سال قبل جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ منشیات کے کاروبار کا آغاز کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے بتایا کہ ایک مقدمے میں ملزمہ کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوا تھا، جس کے باعث اس کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور اس کے بیٹوں سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ منشیات کے نیٹ ورک سے متعلق مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ماضی میں بھی منشیات فروشی کے متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔</strong></p>
<p>کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ منشیات فروش خاتون شیریں عرف شیرینہ کو اس کے دو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے براہِ راست ہیروئن سپلائی کرتی تھی اور ہیروئن، چرس سمیت دیگر منشیات کی فروخت کے کاروبار میں ملوث تھی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں تقریباً 35 مقدمات درج ہیں، جبکہ وہ چند سال قبل بھی منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505856/pinky-medical-examination'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیقات کے مطابق ملزمہ ماضی میں سہراب گوٹھ کے علاقے میں منشیات کا بڑا اڈہ چلاتی رہی ہے۔ دو سال قبل جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ منشیات کے کاروبار کا آغاز کردیا تھا۔</p>
<p>پولیس نے بتایا کہ ایک مقدمے میں ملزمہ کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوا تھا، جس کے باعث اس کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور اس کے بیٹوں سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ منشیات کے نیٹ ورک سے متعلق مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506049</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 09:03:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03085808af24923.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03085808af24923.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
