<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan - Education</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:18:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:18:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بی ٹیک‘ کے متبادل 5 بہترین کورسز جو نوکری کا دروازہ کھول دیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30483183/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرمیڈیٹ (خصوصاً سائنس اسٹریم) مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ طلبہ بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک) کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن ہرطالب علم کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بی ٹیک  کرے یا اس کا انتخاب کر سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹری امتحانات، زیادہ فیس، یا ذاتی پسند کئی طلبہ کے لیے بی ٹیک کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ جس نے انہیں متبادل کورسز تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے، ایسے کئی متبادل انجینئرنگ کورسز موجود ہیں جو بہترین کیریئر کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروگرام مختصر، سستے اور عملی مہارت کے حامل ہیں جو طلبہ کو فوری نوکری کے قابل بناتے ہیں۔ ذیل میں پانچ مقبول اختیارات پیش کیے گئے ہیں جو ان کی دلچسپی، صلاحیت اور کیریئر کے اہداف کے زیادہ قریب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بیچلر-آف-سائنس-بی-ایس-سی" href="#بیچلر-آف-سائنس-بی-ایس-سی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیچلر آف سائنس (بی ایس سی)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بی ایس سی بی ٹیک کا ایک مقبول اور عملی متبادل سمجھا جاتا ہے۔ یہ تین سالہ انڈرگریجویٹ ڈگری پروگرام سائنسی اصولوں، تحقیقی مہارتوں اور تھیوری پر مبنی ہوتا ہے۔ خصوصاً وہ طلبہ جو مستقبل میں ریسرچ یا اعلیٰ تعلیم، جیسے ایم ایس سی یا پی ایچ ڈی کے لیے تیاری کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بی ایس سی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، بی ایس سی میں خصوصی کورسز اور لیبارٹری ورک طلبہ کو عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جو ان کی کریئر کی تیاری اور مستقبل کے تعلیمی مواقع کو مزید مضبوط بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ڈپلومہ-ان-انجینئرنگ" href="#ڈپلومہ-ان-انجینئرنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈپلومہ ان انجینئرنگ&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ان طلبہ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جو جلدی عملی میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور تکنیکی مہارتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پروگرام عموماً میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد کیا جا سکتا ہے اور بی ٹیک کے مقابلے میں اس کی مدت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ جلدی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں اور مالی خودمختاری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈپلومہ کی فیس نسبتاً کم ہوتی ہے اور یہ زیادہ قابلِ رسائی تعلیمی راستہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص بات یہ ہے کہ ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد طلبہ کے پاس بی ٹیک میں لیٹرل انٹری کا آپشن بھی موجود ہوتا ہے، جس سے وہ اپنی تعلیم کو آگے بڑھا کر اعلیٰ تعلیم جیسے بی ٹیک، ایم ٹیک یا ریسرچ پروگرامز کے لیے بھی تیار ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بیچلر-آف-کمپیوٹر-سائنس-بی-سی-اے" href="#بیچلر-آف-کمپیوٹر-سائنس-بی-سی-اے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیچلر آف کمپیوٹر سائنس  (بی سی اے)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بی سی اے بنیادی طور پر کمپیوٹر ایپلی کیشنز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پر مبنی ڈگری ہے۔ اس میں پروگرامنگ لینگویجز، ڈیٹا بیس مینجمنٹ، ویب ٹیکنالوجیز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے اہم پہلو پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ ڈگری آئی ٹی سیکٹر میں کیریئر بنانے کے خواہش مند طلبہ کے لیے بہترین ہے۔ مزید یہ کہ یہ کورس مختلف اسٹریمز سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے بھی دستیاب ہے، بشرطیکہ انہوں نے انٹرمیڈیٹ میں ریاضی یا متعلقہ مضمون پڑھا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;center&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I"&gt;
&lt;img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90"&gt;
&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/center&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بیچلر-آف-بزنس-ایڈمنسٹریشن-بی-بی-اے" href="#بیچلر-آف-بزنس-ایڈمنسٹریشن-بی-بی-اے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام طلبہ کو نہ صرف انتظامی صلاحیتیں سکھاتا ہے بلکہ قیادت، فیصلہ سازی، کمیونیکیشن اور ٹیم ورک کی مہارتیں بھی فراہم کرتا ہے، جو کامیاب بزنس کیریئر کے لیے ضروری ہیں۔بی بی اے ان طلبہ کے لیے بہترین ہے جو بزنس، مینجمنٹ یا انٹرپرینیورشپ میں کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔ اس میں مینجمنٹ، مارکیٹنگ، فائنانس، آپریشنز اور ہیومن ریسورسز سمیت مختلف شعبوں کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ کورس کارپوریٹ سیکٹر اور بزنس مینجمنٹ میں مضبوط کیریئر کے دروازے کھولتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بیچلر-آف-انجنیئرنگ-بی-ای" href="#بیچلر-آف-انجنیئرنگ-بی-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیچلر آف انجنیئرنگ (بی ای)&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وہ طلبہ جو مستقبل میں پی ایچ ڈی ، ایم ٹیک یا ریسرچ پروجیکٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے بی ای ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ بی ای پروگرام میں اکثر لیبارٹری ورک، تھیوری کلاسز اور تحقیقی پروجیکٹس شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ، بی ای کرنے والے طلبہ یونیورسٹی یا صنعتی ریسرچ، تکنیکی مشاورت، اور اعلیٰ تعلیمی پروگرامز میں بھی آسانی سے داخلہ لے سکتے ہیں، جو انہیں طویل مدتی کیریئر میں زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کورسز نہ صرف سستے اور کم وقت میں مکمل ہونے والے ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرمیڈیٹ (خصوصاً سائنس اسٹریم) مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ طلبہ بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک) کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن ہرطالب علم کے لیے ضروری نہیں کہ وہ بی ٹیک  کرے یا اس کا انتخاب کر سکے۔</strong></p>
<p>انٹری امتحانات، زیادہ فیس، یا ذاتی پسند کئی طلبہ کے لیے بی ٹیک کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ جس نے انہیں متبادل کورسز تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔</p>
<p>خوش قسمتی سے، ایسے کئی متبادل انجینئرنگ کورسز موجود ہیں جو بہترین کیریئر کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ پروگرام مختصر، سستے اور عملی مہارت کے حامل ہیں جو طلبہ کو فوری نوکری کے قابل بناتے ہیں۔ ذیل میں پانچ مقبول اختیارات پیش کیے گئے ہیں جو ان کی دلچسپی، صلاحیت اور کیریئر کے اہداف کے زیادہ قریب ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="بیچلر-آف-سائنس-بی-ایس-سی" href="#بیچلر-آف-سائنس-بی-ایس-سی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیچلر آف سائنس (بی ایس سی)</strong></h1>
<p>بی ایس سی بی ٹیک کا ایک مقبول اور عملی متبادل سمجھا جاتا ہے۔ یہ تین سالہ انڈرگریجویٹ ڈگری پروگرام سائنسی اصولوں، تحقیقی مہارتوں اور تھیوری پر مبنی ہوتا ہے۔ خصوصاً وہ طلبہ جو مستقبل میں ریسرچ یا اعلیٰ تعلیم، جیسے ایم ایس سی یا پی ایچ ڈی کے لیے تیاری کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بی ایس سی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، بی ایس سی میں خصوصی کورسز اور لیبارٹری ورک طلبہ کو عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جو ان کی کریئر کی تیاری اور مستقبل کے تعلیمی مواقع کو مزید مضبوط بناتا ہے۔</p>
<h1><a id="ڈپلومہ-ان-انجینئرنگ" href="#ڈپلومہ-ان-انجینئرنگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈپلومہ ان انجینئرنگ</strong></h1>
<p>ان طلبہ کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے جو جلدی عملی میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور تکنیکی مہارتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پروگرام عموماً میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے بعد کیا جا سکتا ہے اور بی ٹیک کے مقابلے میں اس کی مدت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ جلدی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں اور مالی خودمختاری حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈپلومہ کی فیس نسبتاً کم ہوتی ہے اور یہ زیادہ قابلِ رسائی تعلیمی راستہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>خاص بات یہ ہے کہ ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد طلبہ کے پاس بی ٹیک میں لیٹرل انٹری کا آپشن بھی موجود ہوتا ہے، جس سے وہ اپنی تعلیم کو آگے بڑھا کر اعلیٰ تعلیم جیسے بی ٹیک، ایم ٹیک یا ریسرچ پروگرامز کے لیے بھی تیار ہو سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="بیچلر-آف-کمپیوٹر-سائنس-بی-سی-اے" href="#بیچلر-آف-کمپیوٹر-سائنس-بی-سی-اے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیچلر آف کمپیوٹر سائنس  (بی سی اے)</strong></h1>
<p>بی سی اے بنیادی طور پر کمپیوٹر ایپلی کیشنز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پر مبنی ڈگری ہے۔ اس میں پروگرامنگ لینگویجز، ڈیٹا بیس مینجمنٹ، ویب ٹیکنالوجیز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے اہم پہلو پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ ڈگری آئی ٹی سیکٹر میں کیریئر بنانے کے خواہش مند طلبہ کے لیے بہترین ہے۔ مزید یہ کہ یہ کورس مختلف اسٹریمز سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے بھی دستیاب ہے، بشرطیکہ انہوں نے انٹرمیڈیٹ میں ریاضی یا متعلقہ مضمون پڑھا ہو۔</p>
<center><p><a href="https://whatsapp.com/channel/0029Va8czsoLNSZzP877bA0I">
<img src="https://i.aaj.tv/large/2025/09/041745569b68024.webp" alt="AAJ News Whatsapp" width="728" height="90">
</a></p></center>
<h1><a id="بیچلر-آف-بزنس-ایڈمنسٹریشن-بی-بی-اے" href="#بیچلر-آف-بزنس-ایڈمنسٹریشن-بی-بی-اے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے)</strong></h1>
<p>یہ پروگرام طلبہ کو نہ صرف انتظامی صلاحیتیں سکھاتا ہے بلکہ قیادت، فیصلہ سازی، کمیونیکیشن اور ٹیم ورک کی مہارتیں بھی فراہم کرتا ہے، جو کامیاب بزنس کیریئر کے لیے ضروری ہیں۔بی بی اے ان طلبہ کے لیے بہترین ہے جو بزنس، مینجمنٹ یا انٹرپرینیورشپ میں کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔ اس میں مینجمنٹ، مارکیٹنگ، فائنانس، آپریشنز اور ہیومن ریسورسز سمیت مختلف شعبوں کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ کورس کارپوریٹ سیکٹر اور بزنس مینجمنٹ میں مضبوط کیریئر کے دروازے کھولتا ہے۔</p>
<h1><a id="بیچلر-آف-انجنیئرنگ-بی-ای" href="#بیچلر-آف-انجنیئرنگ-بی-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیچلر آف انجنیئرنگ (بی ای)</strong></h1>
<p>وہ طلبہ جو مستقبل میں پی ایچ ڈی ، ایم ٹیک یا ریسرچ پروجیکٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے بی ای ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ بی ای پروگرام میں اکثر لیبارٹری ورک، تھیوری کلاسز اور تحقیقی پروجیکٹس شامل ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ، بی ای کرنے والے طلبہ یونیورسٹی یا صنعتی ریسرچ، تکنیکی مشاورت، اور اعلیٰ تعلیمی پروگرامز میں بھی آسانی سے داخلہ لے سکتے ہیں، جو انہیں طویل مدتی کیریئر میں زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>یہ کورسز نہ صرف سستے اور کم وقت میں مکمل ہونے والے ہیں بلکہ مستقبل میں بہتر مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30483183</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 13:08:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/09/20125722838033e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/09/20125722838033e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر معمولی ذہانت والی پاکستانی نژاد طالبہ، جس کے خواب نے اسے آکسفورڈ تک پہنچا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30477603/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لندن کے مضافات میں پلنے والی ایک خاموش اور پڑھاکو لڑکی نے دنیا کو حیران کر دیا۔ 18 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی طالبہ ماہ نور چیمہ نے اے لیول کے امتحانات میں 24 مضامین میں اے گریڈ حاصل کر کے نہ صرف ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا بلکہ دنیا بھر کے طلبہ کے لیے ایک نئی مثال بھی قائم کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہی ماہ نور ہیں جنہوں نے محض 16 برس کی عمر میں جنرل سرٹیفکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن (جی سی ایس ای) کے 34 مضامین میں شاندار کامیابی حاصل کر کے سب کو چونکا دیا تھا۔ اس بار ان کی کامیابی نے انہیں براہِ راست آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور ایگزیٹر کالج تک پہنچا دیا ہے، جہاں وہ اپنا خواب پورا کرنے یعنی ”میڈیسن کی تعلیم“ حاصل کرنے جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایک-بچپن-جو-عام-نہیں-تھا" href="#ایک-بچپن-جو-عام-نہیں-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایک بچپن جو عام نہیں تھا&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق ماہ نور کی والدہ طیبہ چیمہ، یاد کرتی ہیں کہ بچپن سے ہی ان کی بیٹی دوسروں سے مختلف تھی۔ ’جب بھی کتابیں لیتے، وہ اصرار کرتی کہ پوری سیریز خریدی جائے۔ ہمیں لگتا کہ اسے ختم کرنے میں کئی دن لگیں گے مگر وہ محض دو دن میں سب ختم کر دیتی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی غیر معمولی شوق انہیں اپنے ہم عمروں سے الگ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول میں اکثر وہ ان اسباق کو پہلے ہی پڑھ چکی ہوتیں جو کلاس میں پڑھائے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’اساتذہ مجھے ایک کونے میں بٹھا دیتے اور ایک الگ ورک شیٹ تھما دیتے۔ لیکن مجھے وہ بھی مشکل نہ لگتی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161433157fa68c9.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خاندان-کی-قربانیاں" href="#خاندان-کی-قربانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خاندان کی قربانیاں&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور کے والد بیرسٹر عثمان چیمہ اس کامیابی کو پورے خاندان کی جیت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ  ’میرے نزدیک بیٹیوں کی کامیابی دراصل اگلی نسل کی کامیابی ہے۔ ماہ نور نے یہ ثابت کیا کہ اگر بچیوں کو موقع اور سہولت ملے تو وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمہ فیملی نے پاکستان سے برطانیہ ہجرت بھی اسی مقصد کے لیے کی تاکہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161436445681b70.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے وہ کورس کتابیں منگوائیں جو عام طور پر بڑے طلبہ پڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان کے مطابق ’ماہ نور نے سات سال کی عمر میں او لیول کا ریاضی کا کورس ختم کر لیا تھا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایک-جینیئس-کی-پرورش" href="#ایک-جینیئس-کی-پرورش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایک جینیئس کی پرورش&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور کے والدین کے مطابق غیر معمولی ذہانت رکھنے والے بچے کی پرورش آسان نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے بچے کو صرف باتوں سے نہیں بہلایا جا سکتا۔ اسے منطق اور جواز دینا پڑتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیبہ چیمہ کہتی ہیں۔ لیکن وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کی محنت رنگ لائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161434564ce79a5.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خواب-جو-حقیقت-بن-گیا" href="#خواب-جو-حقیقت-بن-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خواب جو حقیقت بن گیا&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور کا خواب تھا کہ وہ طب کے شعبے میں جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے دادا دادی کی بیماری نے انہیں ڈاکٹر بننے کا حوصلہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ خوشی سے بتاتی ہیں کہ ’آکسفورڈ یونیورسٹی سے میڈیسن کی پیشکش ملنا بچپن کا خواب پورا ہونے جیسا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں چاند پر ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="عالمی-ریکارڈز-کی-فہرست" href="#عالمی-ریکارڈز-کی-فہرست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;عالمی ریکارڈز کی فہرست&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جی سی ایس ای میں 34 مضامین میں شاندار کامیابی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے لیول میں 24 اے گریڈز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں سب سے زیادہ مضامین میں نمایاں نمبروں کے ریکارڈ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 58 مضامین میں امتحانات دے کر کامیاب ہونے کا کارنامہ۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایک-نئی-کہانی-کا-آغاز" href="#ایک-نئی-کہانی-کا-آغاز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایک نئی کہانی کا آغاز&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ماہ نور محض ایک ریکارڈ ہولڈر نہیں، بلکہ ان لاکھوں طالبات کے لیے امید کی کرن ہیں جنہیں اپنے خواب بڑے دیکھنے کی ترغیب چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتی ہیں: ’میرے والدین نے مجھے یہ سکھایا کہ دوسروں کو اچھے کام کرتے دیکھ کر ان سے سیکھنا ہے، حسد نہیں کرنا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑی ہوں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161436588a569d9.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جب وہ آکسفورڈ کی راہداریوں میں قدم رکھیں گی تو یہ صرف ان کی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ ایک خاندان، ایک کمیونٹی اور ان تمام بچیوں کی کامیابی ہو گی جو یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ ذہانت اور محنت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لندن کے مضافات میں پلنے والی ایک خاموش اور پڑھاکو لڑکی نے دنیا کو حیران کر دیا۔ 18 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی طالبہ ماہ نور چیمہ نے اے لیول کے امتحانات میں 24 مضامین میں اے گریڈ حاصل کر کے نہ صرف ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا بلکہ دنیا بھر کے طلبہ کے لیے ایک نئی مثال بھی قائم کر دی ہے۔</strong></p>
<p>یہ وہی ماہ نور ہیں جنہوں نے محض 16 برس کی عمر میں جنرل سرٹیفکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن (جی سی ایس ای) کے 34 مضامین میں شاندار کامیابی حاصل کر کے سب کو چونکا دیا تھا۔ اس بار ان کی کامیابی نے انہیں براہِ راست آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور ایگزیٹر کالج تک پہنچا دیا ہے، جہاں وہ اپنا خواب پورا کرنے یعنی ”میڈیسن کی تعلیم“ حاصل کرنے جا رہی ہیں۔</p>
<h1><a id="ایک-بچپن-جو-عام-نہیں-تھا" href="#ایک-بچپن-جو-عام-نہیں-تھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایک بچپن جو عام نہیں تھا</strong></h1>
<p>بی بی سی کے مطابق ماہ نور کی والدہ طیبہ چیمہ، یاد کرتی ہیں کہ بچپن سے ہی ان کی بیٹی دوسروں سے مختلف تھی۔ ’جب بھی کتابیں لیتے، وہ اصرار کرتی کہ پوری سیریز خریدی جائے۔ ہمیں لگتا کہ اسے ختم کرنے میں کئی دن لگیں گے مگر وہ محض دو دن میں سب ختم کر دیتی۔‘</p>
<p>یہی غیر معمولی شوق انہیں اپنے ہم عمروں سے الگ کرتا رہا۔</p>
<p>اسکول میں اکثر وہ ان اسباق کو پہلے ہی پڑھ چکی ہوتیں جو کلاس میں پڑھائے جاتے۔</p>
<p>ماہ نور ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’اساتذہ مجھے ایک کونے میں بٹھا دیتے اور ایک الگ ورک شیٹ تھما دیتے۔ لیکن مجھے وہ بھی مشکل نہ لگتی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161433157fa68c9.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="خاندان-کی-قربانیاں" href="#خاندان-کی-قربانیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خاندان کی قربانیاں</strong></h1>
<p>ماہ نور کے والد بیرسٹر عثمان چیمہ اس کامیابی کو پورے خاندان کی جیت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ  ’میرے نزدیک بیٹیوں کی کامیابی دراصل اگلی نسل کی کامیابی ہے۔ ماہ نور نے یہ ثابت کیا کہ اگر بچیوں کو موقع اور سہولت ملے تو وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔‘</p>
<p>چیمہ فیملی نے پاکستان سے برطانیہ ہجرت بھی اسی مقصد کے لیے کی تاکہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دی جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161436445681b70.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہ نور کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے وہ کورس کتابیں منگوائیں جو عام طور پر بڑے طلبہ پڑھتے ہیں۔</p>
<p>عثمان کے مطابق ’ماہ نور نے سات سال کی عمر میں او لیول کا ریاضی کا کورس ختم کر لیا تھا۔‘</p>
<h1><a id="ایک-جینیئس-کی-پرورش" href="#ایک-جینیئس-کی-پرورش" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایک جینیئس کی پرورش</strong></h1>
<p>ماہ نور کے والدین کے مطابق غیر معمولی ذہانت رکھنے والے بچے کی پرورش آسان نہیں ہوتی۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے بچے کو صرف باتوں سے نہیں بہلایا جا سکتا۔ اسے منطق اور جواز دینا پڑتا ہے۔‘</p>
<p>طیبہ چیمہ کہتی ہیں۔ لیکن وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ ان کی محنت رنگ لائی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161434564ce79a5.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="خواب-جو-حقیقت-بن-گیا" href="#خواب-جو-حقیقت-بن-گیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خواب جو حقیقت بن گیا</strong></h1>
<p>ماہ نور کا خواب تھا کہ وہ طب کے شعبے میں جائیں۔</p>
<p>اپنے دادا دادی کی بیماری نے انہیں ڈاکٹر بننے کا حوصلہ دیا۔</p>
<p>وہ خوشی سے بتاتی ہیں کہ ’آکسفورڈ یونیورسٹی سے میڈیسن کی پیشکش ملنا بچپن کا خواب پورا ہونے جیسا ہے۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں چاند پر ہوں‘۔</p>
<h1><a id="عالمی-ریکارڈز-کی-فہرست" href="#عالمی-ریکارڈز-کی-فہرست" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>عالمی ریکارڈز کی فہرست</strong></h1>
<p>جی سی ایس ای میں 34 مضامین میں شاندار کامیابی۔</p>
<p>اے لیول میں 24 اے گریڈز۔</p>
<p>دنیا بھر میں سب سے زیادہ مضامین میں نمایاں نمبروں کے ریکارڈ۔</p>
<p>مجموعی طور پر 58 مضامین میں امتحانات دے کر کامیاب ہونے کا کارنامہ۔</p>
<h1><a id="ایک-نئی-کہانی-کا-آغاز" href="#ایک-نئی-کہانی-کا-آغاز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایک نئی کہانی کا آغاز</strong></h1>
<p>ماہ نور محض ایک ریکارڈ ہولڈر نہیں، بلکہ ان لاکھوں طالبات کے لیے امید کی کرن ہیں جنہیں اپنے خواب بڑے دیکھنے کی ترغیب چاہیے۔</p>
<p>وہ کہتی ہیں: ’میرے والدین نے مجھے یہ سکھایا کہ دوسروں کو اچھے کام کرتے دیکھ کر ان سے سیکھنا ہے، حسد نہیں کرنا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑی ہوں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/161436588a569d9.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اب جب وہ آکسفورڈ کی راہداریوں میں قدم رکھیں گی تو یہ صرف ان کی کامیابی نہیں ہو گی بلکہ ایک خاندان، ایک کمیونٹی اور ان تمام بچیوں کی کامیابی ہو گی جو یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ ذہانت اور محنت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30477603</guid>
      <pubDate>Sat, 16 Aug 2025 14:45:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/16143331cb2110f.png" type="image/png" medium="image" height="1199" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/16143331cb2110f.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم ڈی کیٹ فیس میں 80 فیصد اضافے کی خبریں، ترجمان کا بیان آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476869/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے اعلان کیا ہے کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 5 اکتوبر 2025 (بروز اتوار) کو ہوگا۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر فیس میں 80 فیصد اضافے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق گزشتہ سال ایم ڈی کیٹ کی فیس 8 ہزار روپے تھی، جبکہ 2025 کے لیے یہ 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، یعنی صرف 12.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، نہ کہ 80 فیصد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152409e3487db.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152409b52b828.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152408670a394.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/0915240882e1594.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے واضح کیا کہ یہ ترمیم امتحان لینے والی جامعات کی درخواست پر کی گئی، تاکہ کاغذی طباعت، سیکیورٹی اقدامات، انتظامی اخراجات اور امتحانی مراکز میں سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ ملک بھر میں وفاقی و صوبائی حکام کی نامزد کردہ جامعات کے ذریعے منعقد کیا جائے گا، جن میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور، بولان یونیورسٹی کوئٹہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد، اور سعودی عرب میں قائم بین الاقوامی مرکز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق امتحان کا یکساں نصاب پی ایم اینڈ ڈی سی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا ہے، جبکہ سوالات کا ذخیرہ (Question Bank) صوبوں کے متفقہ نصاب پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ڈی کیٹ کی آن لائن رجسٹریشن 8 اگست سے جاری ہے جو 25 اگست تک جاری رہے گی، جبکہ لیٹ فیس کے ساتھ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 1 ستمبر 2025 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے ہدایت کی کہ امیدوار صرف ایک امتحانی مرکز کا انتخاب کریں اور فارم میں تمام معلومات درست طور پر فراہم کریں، ورنہ درخواست مسترد کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید بتایا کہ امتحان انگریزی زبان میں کاغذی بنیاد پر ہوگا، جس میں 180 ملٹی پل چوائس سوالات شامل ہوں گے، جن میں بائیولوجی کے 81، کیمسٹری 45، فزکس 36، انگلش 9، اور لاجیکل ریزننگ کے 9 سوالات ہوں گے۔ اس میں منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق نصاب &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="http://www.pmdc.pk"&gt;www.pmdc.pk&lt;/a&gt; پر اور رجسٹریشن &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://mdcat.pmdc.pk/Account/Login"&gt;https://mdcat.pmdc.pk/Account/Login&lt;/a&gt; پر دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے اعلان کیا ہے کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 5 اکتوبر 2025 (بروز اتوار) کو ہوگا۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر فیس میں 80 فیصد اضافے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔</strong></p>
<p>ترجمان پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق گزشتہ سال ایم ڈی کیٹ کی فیس 8 ہزار روپے تھی، جبکہ 2025 کے لیے یہ 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، یعنی صرف 12.5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، نہ کہ 80 فیصد۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152409e3487db.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152409b52b828.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152408670a394.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/08/0915240882e1594.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان نے واضح کیا کہ یہ ترمیم امتحان لینے والی جامعات کی درخواست پر کی گئی، تاکہ کاغذی طباعت، سیکیورٹی اقدامات، انتظامی اخراجات اور امتحانی مراکز میں سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ایم ڈی کیٹ ملک بھر میں وفاقی و صوبائی حکام کی نامزد کردہ جامعات کے ذریعے منعقد کیا جائے گا، جن میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور، بولان یونیورسٹی کوئٹہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد، اور سعودی عرب میں قائم بین الاقوامی مرکز شامل ہیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق امتحان کا یکساں نصاب پی ایم اینڈ ڈی سی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا ہے، جبکہ سوالات کا ذخیرہ (Question Bank) صوبوں کے متفقہ نصاب پر مبنی ہے۔</p>
<p>ایم ڈی کیٹ کی آن لائن رجسٹریشن 8 اگست سے جاری ہے جو 25 اگست تک جاری رہے گی، جبکہ لیٹ فیس کے ساتھ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 1 ستمبر 2025 ہے۔</p>
<p>ترجمان نے ہدایت کی کہ امیدوار صرف ایک امتحانی مرکز کا انتخاب کریں اور فارم میں تمام معلومات درست طور پر فراہم کریں، ورنہ درخواست مسترد کر دی جائے گی۔</p>
<p>ترجمان نے مزید بتایا کہ امتحان انگریزی زبان میں کاغذی بنیاد پر ہوگا، جس میں 180 ملٹی پل چوائس سوالات شامل ہوں گے، جن میں بائیولوجی کے 81، کیمسٹری 45، فزکس 36، انگلش 9، اور لاجیکل ریزننگ کے 9 سوالات ہوں گے۔ اس میں منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق نصاب <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="http://www.pmdc.pk">www.pmdc.pk</a> پر اور رجسٹریشن <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://mdcat.pmdc.pk/Account/Login">https://mdcat.pmdc.pk/Account/Login</a> پر دستیاب ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476869</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Aug 2025 15:27:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرانہ کومل)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/09152552168be1e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/09152552168be1e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لینے کی ذمہ داری آئی بی اے سکھر کو سونپنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30476763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ کابینہ نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے منعقد کیے جانے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی ذمہ داری آئی بی اے سکھر کو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں یہ اہم فیصلہ گزشتہ ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کے تناظر میں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق، نئی داخلہ پالیسی پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبوں کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز پر یکساں طور پر لاگو ہوگی، جبکہ محکمہ صحت اس سارے عمل کو ریگولیٹ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، سندھ میں سرکاری میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس کی 2550 اور بی ڈی ایس کی 500 نشستیں دستیاب ہیں، جبکہ نجی کالجز میں ایم بی بی ایس کی 1441 اور ڈینٹل کی 2025 نشستیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ سال کے ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بعض بے ضابطگیوں کی اطلاعات پر پالیسی میں تبدیلی کی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت تعلیم کے شعبے میں معیار کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کابینہ کے فیصلے کے بعد اب صوبے بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا امتحان آئی بی اے سکھر کی نگرانی میں ہوگا، جس سے امتحانی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ کابینہ نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے منعقد کیے جانے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی ذمہ داری آئی بی اے سکھر کو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں یہ اہم فیصلہ گزشتہ ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کے تناظر میں کیا گیا۔</strong></p>
<p>ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق، نئی داخلہ پالیسی پبلک اور پرائیویٹ دونوں شعبوں کے میڈیکل و ڈینٹل کالجز پر یکساں طور پر لاگو ہوگی، جبکہ محکمہ صحت اس سارے عمل کو ریگولیٹ کرے گا۔</p>
<p>سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، سندھ میں سرکاری میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس کی 2550 اور بی ڈی ایس کی 500 نشستیں دستیاب ہیں، جبکہ نجی کالجز میں ایم بی بی ایس کی 1441 اور ڈینٹل کی 2025 نشستیں ہیں۔</p>
<p>وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ سال کے ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بعض بے ضابطگیوں کی اطلاعات پر پالیسی میں تبدیلی کی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت تعلیم کے شعبے میں معیار کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔</p>
<p>سندھ کابینہ کے فیصلے کے بعد اب صوبے بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا امتحان آئی بی اے سکھر کی نگرانی میں ہوگا، جس سے امتحانی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30476763</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 14:28:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اقتدار انور)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/08/07142757b85d123.jpg?r=142817" type="image/jpeg" medium="image" height="455" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/08/07142757b85d123.jpg?r=142817"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں کے میٹرک نتائج مایوس کن، کئی اسکولوں میں تمام طلبہ فیل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30475760/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبرپختونخوا میں تمام تر حکومتی اصلاحات، تعلیمی منصوبوں اور دعوؤں کے باوجود سرکاری اسکولوں کے میٹرک کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ متعدد اسکولوں میں پوری کی پوری کلاس فیل ہو گئی، اور کہیں صرف ایک یا دو طلبہ ہی کامیاب ہو سکے۔ اس صورتحال نے صوبے کے سرکاری تعلیمی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق پشاور بورڈ کے تحت رجسٹرڈ صرف 29 اسکولوں کے 739 طلبہ میں سے صرف 151 ہی امتحان میں کامیاب ہو سکے۔ یعنی 80 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چترال کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بیوری کے تمام طلبہ ناکام رہے, جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ہریانہ پایان پشاور کی تمام 18 طالبات بھی فیل ہوگئیں۔ اسی طرح دامن افغانی گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں 35 میں سے 33 طالبات فیل ہوئیں، اور رجڑ چارسدہ کے اسکول میں 13 میں سے صرف دو طالبات کامیاب ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چترال کے دیگر اسکولوں کا حال بھی مختلف نہیں رہا:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;ارسون چترال کے 6 میں سے 5 طلبہ فیل&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بیروم چترال کے 8 میں سے 7 طلبہ ناکام&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;شیکڈی لوئر چترال کے 7 میں سے 5 فیل&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بنگ چترال کے 9 میں سے 8 طلبہ ناکام قرار پائے&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;پشاور کے متعدد اسکولوں میں بھی کارکردگی انتہائی ناقص رہی:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول حاجی بانڈہ کے 14 میں سے 13 طلبہ فیل&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول ماشوگگر کے 76 طلبہ میں سے صرف 5 کامیاب&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;گورنمنٹ شہید ثاقب غنی اسکول کے 102 میں سے 84 طلبہ ناکام رہے&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ چارسدہ، چترال، پشاور، خیبر اور مہمند سمیت کئی اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی کامیابی کی شرح نہایت کم رہی۔ ان نتائج نے اساتذہ کی کارکردگی، تدریسی معیار، تعلیمی ماحول اور حکومتی اقدامات کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی عدم حاضری، ناقص تدریسی معیار اور تعلیمی نظام میں بدانتظامی کی وجہ سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماہرین نے حکومت سے فوری نوٹس لینے، تعلیمی اداروں کا آڈٹ کرانے اور اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبرپختونخوا میں تمام تر حکومتی اصلاحات، تعلیمی منصوبوں اور دعوؤں کے باوجود سرکاری اسکولوں کے میٹرک کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ متعدد اسکولوں میں پوری کی پوری کلاس فیل ہو گئی، اور کہیں صرف ایک یا دو طلبہ ہی کامیاب ہو سکے۔ اس صورتحال نے صوبے کے سرکاری تعلیمی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>دستاویزات کے مطابق پشاور بورڈ کے تحت رجسٹرڈ صرف 29 اسکولوں کے 739 طلبہ میں سے صرف 151 ہی امتحان میں کامیاب ہو سکے۔ یعنی 80 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہوگئے۔</p>
<p>چترال کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول بیوری کے تمام طلبہ ناکام رہے, جبکہ گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول ہریانہ پایان پشاور کی تمام 18 طالبات بھی فیل ہوگئیں۔ اسی طرح دامن افغانی گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں 35 میں سے 33 طالبات فیل ہوئیں، اور رجڑ چارسدہ کے اسکول میں 13 میں سے صرف دو طالبات کامیاب ہو سکیں۔</p>
<p>چترال کے دیگر اسکولوں کا حال بھی مختلف نہیں رہا:</p>
<ul>
<li>ارسون چترال کے 6 میں سے 5 طلبہ فیل</li>
<li>بیروم چترال کے 8 میں سے 7 طلبہ ناکام</li>
<li>شیکڈی لوئر چترال کے 7 میں سے 5 فیل</li>
<li>بنگ چترال کے 9 میں سے 8 طلبہ ناکام قرار پائے</li>
</ul>
<p>پشاور کے متعدد اسکولوں میں بھی کارکردگی انتہائی ناقص رہی:</p>
<ul>
<li>گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول حاجی بانڈہ کے 14 میں سے 13 طلبہ فیل</li>
<li>گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول ماشوگگر کے 76 طلبہ میں سے صرف 5 کامیاب</li>
<li>گورنمنٹ شہید ثاقب غنی اسکول کے 102 میں سے 84 طلبہ ناکام رہے</li>
</ul>
<p>دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ چارسدہ، چترال، پشاور، خیبر اور مہمند سمیت کئی اضلاع کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی کامیابی کی شرح نہایت کم رہی۔ ان نتائج نے اساتذہ کی کارکردگی، تدریسی معیار، تعلیمی ماحول اور حکومتی اقدامات کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔</p>
<p>تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی عدم حاضری، ناقص تدریسی معیار اور تعلیمی نظام میں بدانتظامی کی وجہ سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماہرین نے حکومت سے فوری نوٹس لینے، تعلیمی اداروں کا آڈٹ کرانے اور اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30475760</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Jul 2025 15:50:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/30154718f7acd9a.jpg?r=155019" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/30154718f7acd9a.jpg?r=155019"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا میں اساتذہ کا تاریخ ساز آن لائن جائزہ امتحان، تعلیمی نظام میں جدیدیت کی نئی بنیاد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30471635/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی شعبے میں ایک تاریخ ساز قدم اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں پہلی بار آن لائن اساتذہ کا جائزہ امتحان کامیابی سے منعقد کرلیا، جسے تعلیمی معیار میں بہتری اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جائزہ ای ایس ای ایف ہیڈ آفس میں قائم کردہ نئے کوالٹی ایشورنس اینڈ اسسمنٹ سیل کی نگرانی میں منعقد کیا گیا، جس کا مقصد اساتذہ کی موجودہ صلاحیتوں کا منظم انداز میں تجزیہ کر کے انہیں مؤثر تربیت کی طرف رہنمائی فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتحان میں صوبے کے 26 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 5,511 اساتذہ نے شرکت کی۔ یہ امتحان بیک وقت 42 مراکز پر منعقد کیا گیا، اور اساتذہ کو چار بنیادی تدریسی شعبوں میں جانچا گیا:&lt;/p&gt;
&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;ریاضیاتی و تجزیاتی صلاحیت&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;مضمون کی فنی مہارت&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;تدریسی مہارتیں&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کلاس روم مینجمنٹ&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/121123058796d4f.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایس ای ایف ترجمان کے مطابق، یہ محض ایک امتحان نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی ڈھانچے کو ڈیجیٹل، شفاف اور معیاری بنیادوں پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ ’ہم اساتذہ کی موجودہ مہارتوں کو جانچ کر آئندہ ان کی تربیت کو مؤثر بنانا چاہتے ہیں تاکہ طلبہ کو بہتر سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتحان کے انعقاد میں شفافیت اور تکنیکی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ہر استاد کو منفرد آئی ڈی اور پاس ورڈ مہیا کیا گیا۔ امتحان تمام مراکز میں ایک ہی وقت پر شروع ہوا، اور نتائج فوری طور پر آن لائن دستیاب کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اساتذہ کو امتحان کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے رہنما ویڈیوز فراہم کی گئیں جبکہ کسی بھی تکنیکی مسئلے کی صورت میں ماہرین کی آن لائن ٹیم بھی موجود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتحان کے مؤثر انعقاد کے لیے ایک مربوط مانیٹرنگ سسٹم بھی قائم کیا گیا۔ ضلعی ای ایس ای ایف دفاتر، محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے امتحانی مراکز، سیکیورٹی اور نگرانی میں بھرپور تعاون کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اساتذہ کو اضلاع میں دو گروپوں میں تقسیم کر کے امتحان کا مرحلہ وار انعقاد کیا گیا تاکہ سہولت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔ ہیڈ آفس میں ایک لائیو اسسمنٹ روم قائم کیا گیا جہاں سے تمام ضلع پروگرام افسران (DPOs) آن لائن موجود رہے اور امتحانی عمل کی براہِ راست نگرانی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/121123158709adb.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف اساتذہ کی پیشہ ورانہ ضروریات کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل کے تربیتی پروگرامز کو مؤثر، ہدفی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ایس ای ایف کے اس اقدام کو تعلیم کے شعبے میں جدت، شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر اصلاحات کی سمت ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک بھر کے تعلیمی ماڈل کے لیے ایک مثالی نظام سامنے آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی شعبے میں ایک تاریخ ساز قدم اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں پہلی بار آن لائن اساتذہ کا جائزہ امتحان کامیابی سے منعقد کرلیا، جسے تعلیمی معیار میں بہتری اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ جائزہ ای ایس ای ایف ہیڈ آفس میں قائم کردہ نئے کوالٹی ایشورنس اینڈ اسسمنٹ سیل کی نگرانی میں منعقد کیا گیا، جس کا مقصد اساتذہ کی موجودہ صلاحیتوں کا منظم انداز میں تجزیہ کر کے انہیں مؤثر تربیت کی طرف رہنمائی فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>امتحان میں صوبے کے 26 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 5,511 اساتذہ نے شرکت کی۔ یہ امتحان بیک وقت 42 مراکز پر منعقد کیا گیا، اور اساتذہ کو چار بنیادی تدریسی شعبوں میں جانچا گیا:</p>
<ol>
<li>ریاضیاتی و تجزیاتی صلاحیت</li>
<li>مضمون کی فنی مہارت</li>
<li>تدریسی مہارتیں</li>
<li>کلاس روم مینجمنٹ</li>
</ol>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/121123058796d4f.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ای ایس ای ایف ترجمان کے مطابق، یہ محض ایک امتحان نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی ڈھانچے کو ڈیجیٹل، شفاف اور معیاری بنیادوں پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ ’ہم اساتذہ کی موجودہ مہارتوں کو جانچ کر آئندہ ان کی تربیت کو مؤثر بنانا چاہتے ہیں تاکہ طلبہ کو بہتر سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔‘</p>
<p>امتحان کے انعقاد میں شفافیت اور تکنیکی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ہر استاد کو منفرد آئی ڈی اور پاس ورڈ مہیا کیا گیا۔ امتحان تمام مراکز میں ایک ہی وقت پر شروع ہوا، اور نتائج فوری طور پر آن لائن دستیاب کر دیے گئے۔</p>
<p>اساتذہ کو امتحان کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے رہنما ویڈیوز فراہم کی گئیں جبکہ کسی بھی تکنیکی مسئلے کی صورت میں ماہرین کی آن لائن ٹیم بھی موجود رہی۔</p>
<p>امتحان کے مؤثر انعقاد کے لیے ایک مربوط مانیٹرنگ سسٹم بھی قائم کیا گیا۔ ضلعی ای ایس ای ایف دفاتر، محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے امتحانی مراکز، سیکیورٹی اور نگرانی میں بھرپور تعاون کیا۔</p>
<p>اساتذہ کو اضلاع میں دو گروپوں میں تقسیم کر کے امتحان کا مرحلہ وار انعقاد کیا گیا تاکہ سہولت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔ ہیڈ آفس میں ایک لائیو اسسمنٹ روم قائم کیا گیا جہاں سے تمام ضلع پروگرام افسران (DPOs) آن لائن موجود رہے اور امتحانی عمل کی براہِ راست نگرانی کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/121123158709adb.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف اساتذہ کی پیشہ ورانہ ضروریات کو سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ مستقبل کے تربیتی پروگرامز کو مؤثر، ہدفی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>ای ایس ای ایف کے اس اقدام کو تعلیم کے شعبے میں جدت، شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر اصلاحات کی سمت ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک بھر کے تعلیمی ماڈل کے لیے ایک مثالی نظام سامنے آ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30471635</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2025 11:24:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/121122444d64393.jpg?r=112459" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/121122444d64393.jpg?r=112459"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوجوانوں میں بڑھتی شدت پسندی کی وجوہات نفسیاتی، سماجی اور ماحولیاتی عوامل قرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30472094/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکالوجی، جامعہ کراچی ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی (سینٹر آف ایکسیلنس)، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے ”پرامن پاکستان کی تعمیر میں میڈیا کے کردار“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں تعلیمی، ذہنی صحت کے ماہرین، اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔سیمینار میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے بھی  سیر حاصل گفتگو کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی ڈاکٹر روبینہ حنیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے کی پہلی درسگاہ اسکا گھر ہوتا ہے،
اگر والدین اپنی ذمہ داریوں  کے ساتھ ساتھ  نوجوانوں کے رویوں پر نظر ثانی کریں، اور  اپنی مصروفیات سے تھوڑا وقت نکال کر بچوں کے ساتھ وقت گذاریں تو بے راہ روی کے بہت سے مسائل پر قابو پانا آسان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا ناگہانی حادثات اور  اموات کی خبریں اور   وقت بے وقت موبائل فون کا بے جا استعمال بھی  نوجوان نسل اور بچوں کی ذہنی صحت پر  برے اثرات مرتب کرتے ہیں  ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/14125728667cdb2.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب  نوجوانوں میں بڑھتی شدت پسندی کی وجوہات میں بے روزگاری کا  بھی عمل دخل ہے۔والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا  مسائل میں روز بروز اضافہ کرتا جا رہا ہے۔مقررین کا کہنا تھا  خاندانی روایات سے دوری نئی نسل کو بے راہ روی کی جانب تیزی سے گامزن کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتہاپسندی اور شدت پسندی کے نفسیاتی، سماجی و ماحولیاتی عوامل کے عنوان سے جاری ملک گیر منصوبے کا مقصد نوجوانوں میں انتہاپسندی کے بنیادی اسباب کا سائنسی و سماجی تناظر میں جائزہ لینا اور اسکے سدباب کے لیئے اقدامات کرنا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں یہ منصوبہ UNODC (اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم) ،  NACTA (نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی) اور یورپی یونین کے تعاون سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکالوجی، جامعہ کراچی ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی (سینٹر آف ایکسیلنس)، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے ”پرامن پاکستان کی تعمیر میں میڈیا کے کردار“ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں تعلیمی، ذہنی صحت کے ماہرین، اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔سیمینار میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے بھی  سیر حاصل گفتگو کی گئی۔</p>
<p>ڈائریکٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائیکالوجی ڈاکٹر روبینہ حنیف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے کی پہلی درسگاہ اسکا گھر ہوتا ہے،
اگر والدین اپنی ذمہ داریوں  کے ساتھ ساتھ  نوجوانوں کے رویوں پر نظر ثانی کریں، اور  اپنی مصروفیات سے تھوڑا وقت نکال کر بچوں کے ساتھ وقت گذاریں تو بے راہ روی کے بہت سے مسائل پر قابو پانا آسان ہوگا۔</p>
<p>میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا ناگہانی حادثات اور  اموات کی خبریں اور   وقت بے وقت موبائل فون کا بے جا استعمال بھی  نوجوان نسل اور بچوں کی ذہنی صحت پر  برے اثرات مرتب کرتے ہیں  ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/07/14125728667cdb2.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب  نوجوانوں میں بڑھتی شدت پسندی کی وجوہات میں بے روزگاری کا  بھی عمل دخل ہے۔والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا  مسائل میں روز بروز اضافہ کرتا جا رہا ہے۔مقررین کا کہنا تھا  خاندانی روایات سے دوری نئی نسل کو بے راہ روی کی جانب تیزی سے گامزن کر رہا ہے۔</p>
<p>انتہاپسندی اور شدت پسندی کے نفسیاتی، سماجی و ماحولیاتی عوامل کے عنوان سے جاری ملک گیر منصوبے کا مقصد نوجوانوں میں انتہاپسندی کے بنیادی اسباب کا سائنسی و سماجی تناظر میں جائزہ لینا اور اسکے سدباب کے لیئے اقدامات کرنا ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں یہ منصوبہ UNODC (اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم) ،  NACTA (نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی) اور یورپی یونین کے تعاون سے جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30472094</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Jul 2025 13:00:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شازیہ ارشد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/14125616693c9bd.jpg?r=130032" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/14125616693c9bd.jpg?r=130032"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نجی اسکولوں کی من مانیاں ختم: فیس، کتابوں اور ماحول سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30471241/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین پر مالی دباؤ اور غیر ضروری فیسوں کے مطالبات پر قابو پانے کے لیے ڈسٹرکٹ اسکول ایجوکیشن اتھارٹی نے سخت گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جن کے تحت کسی بھی اسکول کو مقررہ فیس سے زائد رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گائیڈ لائن کے مطابق کوئی بھی نجی اسکول ٹیوشن فیس سالانہ صرف 5 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، اس سے زائد اضافہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کسی بھی سرگرمی یا سمر کیمپ کی مد میں اضافی فیس وصول نہیں کرے گی، اور نہ ہی طلبہ کو مخصوص دکانوں سے کتابیں یا کاپیاں خریدنے پر مجبور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین کو درپیش ایک اور اہم مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بھی نجی اسکول طلبہ سے ایڈوانس فیس نہیں لے گا۔ صرف ماہانہ بنیاد پر فیس وصول کرنے کی اجازت ہوگی، اور فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں کسی بھی طالبعلم کو اسکول سے نکالنے یا تذلیل کا نشانہ بنانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گائیڈ لائن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام نجی تعلیمی ادارے طلبہ کے لیے ایک محفوظ، دوستانہ اور ہراسگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسکول انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ وہ تعلیمی ماحول کو خوشگوار بنائے اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ اسکول ایجوکیشن اتھارٹی نے تمام نجی اسکولوں کے مالکان کو مذکورہ نئی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی بھی تنبیہ کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین پر مالی دباؤ اور غیر ضروری فیسوں کے مطالبات پر قابو پانے کے لیے ڈسٹرکٹ اسکول ایجوکیشن اتھارٹی نے سخت گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جن کے تحت کسی بھی اسکول کو مقررہ فیس سے زائد رقم وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔</strong></p>
<p>گائیڈ لائن کے مطابق کوئی بھی نجی اسکول ٹیوشن فیس سالانہ صرف 5 فیصد تک بڑھا سکتا ہے، اس سے زائد اضافہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کسی بھی سرگرمی یا سمر کیمپ کی مد میں اضافی فیس وصول نہیں کرے گی، اور نہ ہی طلبہ کو مخصوص دکانوں سے کتابیں یا کاپیاں خریدنے پر مجبور کیا جائے گا۔</p>
<p>والدین کو درپیش ایک اور اہم مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بھی نجی اسکول طلبہ سے ایڈوانس فیس نہیں لے گا۔ صرف ماہانہ بنیاد پر فیس وصول کرنے کی اجازت ہوگی، اور فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں کسی بھی طالبعلم کو اسکول سے نکالنے یا تذلیل کا نشانہ بنانے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p>گائیڈ لائن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام نجی تعلیمی ادارے طلبہ کے لیے ایک محفوظ، دوستانہ اور ہراسگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسکول انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ وہ تعلیمی ماحول کو خوشگوار بنائے اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ اسکول ایجوکیشن اتھارٹی نے تمام نجی اسکولوں کے مالکان کو مذکورہ نئی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی بھی تنبیہ کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30471241</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 14:35:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہما بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/101435273d06ab3.jpg?r=143551" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/101435273d06ab3.jpg?r=143551"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی کی ٹاپ یونیورسٹیز، جہاں کسی طالبعلم کیلئے کوئی فیس نہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30471166/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر کے لاکھوں طلبا کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کریں، وہ بھی بغیر کسی بھاری فیس کے۔ اگر آپ بھی ان میں شامل ہیں تو خوش ہو جائیے، کیونکہ جرمنی میں یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں عوامی (Public) جامعات میں تعلیم تقریباً مفت فراہم کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سہولت صرف جرمن شہریوں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی طلبا بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن پبلک یونیورسٹیز میں بیچلر (UG) پروگرامز مکمل طور پر ٹیوشن فیس سے پاک ہوتے ہیں۔ طلبا کو صرف سیمیسٹر فیس ادا کرنی ہوتی ہے، جو کہ معمولی رقم ہوتی ہے اور عام طور پر یہ فیس 83 ہزار سے 1’ لاکھ 17 ہزار’ پاکستانی روپے فی سیمیسٹر کے درمیان ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماسٹرز (PG) پروگرامز میں بھی کئی پبلک یونیورسٹیاں مخصوص شعبوں میں ٹیوشن فری داخلے کی پیشکش کرتی ہیں، خاص طور پر اگر آپ نے اپنی بیچلر ڈگری بھی جرمنی سے ہی حاصل کی ہو۔ بعض ماسٹرز پروگرامز میں بین الاقوامی طلبا بھی مفت تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30469232/"&gt;مسلم یونیورسٹیز نے عالمی رینکنگ میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی کی بہترین پبلک یونیورسٹیاں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ (TUM) دنیا کی بہترین انجینئرنگ اور سائنسی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ یونیورسٹی سائنس، انجینئرنگ، اور بزنس جیسے شعبوں میں بیچلر اور ماسٹرز پروگرامز پیش کرتی ہے۔ اس کی عالمی رینکنگ ’کیو ایس ورلڈ رینکنگز 2026‘ کے مطابق 22ویں نمبر پر ہے اور یہاں 15,000 سے زائد بین الاقوامی طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوڈوِگ میکسمیلین یونیورسٹی، میونخ (LMU Munich) لائف سائنسز، میڈیکل، قدرتی سائنسز، بزنس اور آرٹس میں اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرتی ہے۔ یہ یونیورسٹی QS رینکنگ میں 58ویں نمبر پر ہے، اور یہاں 32 ماسٹرز پروگرامز دستیاب ہیں۔ اس کی عالمی شہرت کا اندازہ اس کے ایمپلائر ریپوٹیشن اسکور 95.5 سے لگایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہومبولٹ یونیورسٹی آف برلن ایک تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے معروف ادارہ ہے، جہاں بزنس ایڈمنسٹریشن، اکنامکس، کمپیوٹر سائنس، اور انٹرنیشنل ریلیشنز جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کی عالمی درجہ بندی 130 ہے اور یہاں 6,154 طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف بون ایک متنوع اور جامع ادارہ ہے جو نیچرل سائنسز، ریاضی، انجینئرنگ، میڈیسن، ہیومینیٹیز، اور سوشیالوجی جیسے مضامین میں تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اس کی عالمی رینکنگ 207 ہے اور یہاں 4,629 بین الاقوامی طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30454216/"&gt;فلسطین کی حمایت پر ٹرمپ کا معتبر ترین ہارورڈ یونیورسٹی پر وار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف فرائبرگ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو بیچلر آف آرٹس، بیچلر آف سائنس، اور لبرل آرٹس اینڈ سائنسز جیسے مختلف شعبوں میں ڈگری پروگرامز پیش کرتا ہے۔ یہاں ماسٹرز کے لیے بھی بہت سے کورسز دستیاب ہیں جن میں ہیومینیٹیز، نیچرل سائنسز، انجینئرنگ، اور میڈیسن شامل ہیں۔ اس کی عالمی درجہ بندی 207 ہے اور 4,629 طلبا یہاں زیر تعلیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف ہیمبرگ بزنس ایڈمنسٹریشن، اکنامکس، کمپیوٹر سائنس، اور سائیکالوجی جیسے مقبول شعبوں میں تعلیم فراہم کرتی ہے۔ اس یونیورسٹی میں آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز کے 30 پروگرامز بھی دستیاب ہیں۔ اس کی عالمی درجہ بندی 193 ہے اور یہاں کل طلبا کا 14 فیصد حصہ بین الاقوامی طلبا پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمن زبان کا کردار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے طلبا کو جرمن زبان پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر تعلیمی پروگرامز کا ذریعہ تدریس جرمن زبان ہے۔ بعض ماسٹرز پروگرامز انگریزی زبان میں بھی دستیاب ہوتے ہیں، مگر جرمن زبان سیکھنا کلاسز میں بہتر سمجھ بوجھ، روزمرہ زندگی میں آسانی، اور ملازمت کے مواقع کے لیے فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30445377/"&gt;گوگل میں نوکری کے باوجود یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر ذہین نوجوان کا دلچسپ اقدام&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;درخواست دینے کے اہم نکات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کی ہر یونیورسٹی اور ہر کورس کی اپنی مخصوص داخلہ شرائط ہوتی ہیں۔ عام طور پر، زبان کا سرٹیفکیٹ جیسے کہ TestDaF یا DSH ضروری ہوتا ہے۔ ویزا، انشورنس، اور رہائش کے انتظامات وقت سے پہلے مکمل کرنا بہتر ہوتا ہے۔ طلبا DAAD جیسی ویب سائٹس سے اسکالرشپس، داخلہ گائیڈز، اور متعلقہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی: تعلیم اور کیریئر کا مرکز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی میں تعلیم محض ایک ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ یہاں کی یونیورسٹیاں تحقیق، صنعتی ربط، اور عملی تجربے پر زور دیتی ہیں۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد طلبا کو جرمنی میں کام کرنے اور مستقل رہائش حاصل کرنے کے مواقع بھی دستیاب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر کے لاکھوں طلبا کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کریں، وہ بھی بغیر کسی بھاری فیس کے۔ اگر آپ بھی ان میں شامل ہیں تو خوش ہو جائیے، کیونکہ جرمنی میں یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔</strong></p>
<p>جرمنی کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں عوامی (Public) جامعات میں تعلیم تقریباً مفت فراہم کی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سہولت صرف جرمن شہریوں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی طلبا بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔</p>
<p>جرمن پبلک یونیورسٹیز میں بیچلر (UG) پروگرامز مکمل طور پر ٹیوشن فیس سے پاک ہوتے ہیں۔ طلبا کو صرف سیمیسٹر فیس ادا کرنی ہوتی ہے، جو کہ معمولی رقم ہوتی ہے اور عام طور پر یہ فیس 83 ہزار سے 1’ لاکھ 17 ہزار’ پاکستانی روپے فی سیمیسٹر کے درمیان ہوتی ہے۔</p>
<p>ماسٹرز (PG) پروگرامز میں بھی کئی پبلک یونیورسٹیاں مخصوص شعبوں میں ٹیوشن فری داخلے کی پیشکش کرتی ہیں، خاص طور پر اگر آپ نے اپنی بیچلر ڈگری بھی جرمنی سے ہی حاصل کی ہو۔ بعض ماسٹرز پروگرامز میں بین الاقوامی طلبا بھی مفت تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30469232/">مسلم یونیورسٹیز نے عالمی رینکنگ میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا</a></p>
<p><strong>جرمنی کی بہترین پبلک یونیورسٹیاں</strong></p>
<p>ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ (TUM) دنیا کی بہترین انجینئرنگ اور سائنسی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ یونیورسٹی سائنس، انجینئرنگ، اور بزنس جیسے شعبوں میں بیچلر اور ماسٹرز پروگرامز پیش کرتی ہے۔ اس کی عالمی رینکنگ ’کیو ایس ورلڈ رینکنگز 2026‘ کے مطابق 22ویں نمبر پر ہے اور یہاں 15,000 سے زائد بین الاقوامی طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔</p>
<p>لوڈوِگ میکسمیلین یونیورسٹی، میونخ (LMU Munich) لائف سائنسز، میڈیکل، قدرتی سائنسز، بزنس اور آرٹس میں اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرتی ہے۔ یہ یونیورسٹی QS رینکنگ میں 58ویں نمبر پر ہے، اور یہاں 32 ماسٹرز پروگرامز دستیاب ہیں۔ اس کی عالمی شہرت کا اندازہ اس کے ایمپلائر ریپوٹیشن اسکور 95.5 سے لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ہومبولٹ یونیورسٹی آف برلن ایک تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے معروف ادارہ ہے، جہاں بزنس ایڈمنسٹریشن، اکنامکس، کمپیوٹر سائنس، اور انٹرنیشنل ریلیشنز جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کی عالمی درجہ بندی 130 ہے اور یہاں 6,154 طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p>یونیورسٹی آف بون ایک متنوع اور جامع ادارہ ہے جو نیچرل سائنسز، ریاضی، انجینئرنگ، میڈیسن، ہیومینیٹیز، اور سوشیالوجی جیسے مضامین میں تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اس کی عالمی رینکنگ 207 ہے اور یہاں 4,629 بین الاقوامی طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30454216/">فلسطین کی حمایت پر ٹرمپ کا معتبر ترین ہارورڈ یونیورسٹی پر وار</a></p>
<p>یونیورسٹی آف فرائبرگ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو بیچلر آف آرٹس، بیچلر آف سائنس، اور لبرل آرٹس اینڈ سائنسز جیسے مختلف شعبوں میں ڈگری پروگرامز پیش کرتا ہے۔ یہاں ماسٹرز کے لیے بھی بہت سے کورسز دستیاب ہیں جن میں ہیومینیٹیز، نیچرل سائنسز، انجینئرنگ، اور میڈیسن شامل ہیں۔ اس کی عالمی درجہ بندی 207 ہے اور 4,629 طلبا یہاں زیر تعلیم ہیں۔</p>
<p>یونیورسٹی آف ہیمبرگ بزنس ایڈمنسٹریشن، اکنامکس، کمپیوٹر سائنس، اور سائیکالوجی جیسے مقبول شعبوں میں تعلیم فراہم کرتی ہے۔ اس یونیورسٹی میں آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز کے 30 پروگرامز بھی دستیاب ہیں۔ اس کی عالمی درجہ بندی 193 ہے اور یہاں کل طلبا کا 14 فیصد حصہ بین الاقوامی طلبا پر مشتمل ہے۔</p>
<p><strong>جرمن زبان کا کردار</strong></p>
<p>جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے طلبا کو جرمن زبان پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر تعلیمی پروگرامز کا ذریعہ تدریس جرمن زبان ہے۔ بعض ماسٹرز پروگرامز انگریزی زبان میں بھی دستیاب ہوتے ہیں، مگر جرمن زبان سیکھنا کلاسز میں بہتر سمجھ بوجھ، روزمرہ زندگی میں آسانی، اور ملازمت کے مواقع کے لیے فائدہ مند ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30445377/">گوگل میں نوکری کے باوجود یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پر ذہین نوجوان کا دلچسپ اقدام</a></p>
<p><strong>درخواست دینے کے اہم نکات</strong></p>
<p>جرمنی کی ہر یونیورسٹی اور ہر کورس کی اپنی مخصوص داخلہ شرائط ہوتی ہیں۔ عام طور پر، زبان کا سرٹیفکیٹ جیسے کہ TestDaF یا DSH ضروری ہوتا ہے۔ ویزا، انشورنس، اور رہائش کے انتظامات وقت سے پہلے مکمل کرنا بہتر ہوتا ہے۔ طلبا DAAD جیسی ویب سائٹس سے اسکالرشپس، داخلہ گائیڈز، اور متعلقہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>جرمنی: تعلیم اور کیریئر کا مرکز</strong></p>
<p>جرمنی میں تعلیم محض ایک ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ یہاں کی یونیورسٹیاں تحقیق، صنعتی ربط، اور عملی تجربے پر زور دیتی ہیں۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد طلبا کو جرمنی میں کام کرنے اور مستقل رہائش حاصل کرنے کے مواقع بھی دستیاب ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30471166</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 11:09:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/10105329cd43e1f.jpg?r=105358" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/10105329cd43e1f.jpg?r=105358"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا کی جامعات شدید مالی بحران کا شکار، تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر اساتذہ اور عملہ پریشان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30471017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبرپختونخوا کی اعلیٰ تعلیمی جامعات اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہیں، جہاں متعدد جامعات کے اساتذہ، وزٹنگ فیکلٹی اور دیگر ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں اور پنشن نہیں مل سکیں۔ جامعہ پشاور، زرعی یونیورسٹی اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی چارسدہ سمیت متعدد ادارے مالی بدحالی کا شکار ہیں، جس کے باعث تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامعہ پشاور کے رجسٹرار ڈاکٹر یورید احسن ضیاء نے آج نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے کم از کم 40 کروڑ روپے درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ آج کا نہیں بلکہ کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایچ ای سی اور صوبائی حکومت سے گرانٹ کے لیے پُرامید ہیں لیکن بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی یونیورسٹی کے ملازمین بھی تنخواہوں اور پنشن کی 30 فیصد بقایاجات کے منتظر ہیں جبکہ شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی چارسدہ کی وزٹنگ فیکلٹی کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس سے اساتذہ میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب آج نیوز نے اس معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی سے مؤقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بات کرنے سے معذرت کرتے ہوئے ساری ذمہ داری محکمہ خزانہ پر ڈال دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) کے صدر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے گفتگو میں بتایا کہ تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی پر ہم نے وائس چانسلر اور محکمہ خزانہ سے ملاقات کی، مگر وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے نہ تو ہمیں وقت دیا اور نہ ہی ہمارے مسائل سنے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی عملہ اور اساتذہ سخت معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوٹا کے جنرل سیکریٹری فاروق خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے کے باوجود حکومت کی غیر سنجیدگی نے جامعات کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ فیسوں میں بے تحاشا اضافہ تو کیا گیا مگر طلبہ کو سہولیات میسر نہیں، جس کی وجہ سے تحقیق (ریسرچ) جیسا اہم شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسرچ فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث تحقیقی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاروق خان نے مزید انکشاف کیا کہ چانسلرشپ کی تبدیلی کے وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مالی مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن تاحال کسی قسم کا عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ جامعات کے مستقل ملازمین کو فکس پے پر لانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جس کا مطلب ہوگا کہ انہیں سرکاری مراعات اور الاؤنسز سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کی جامعات کو درپیش مالی بحران اگر فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کا براہِ راست اثر صوبے کی اعلیٰ تعلیم اور طلبہ کے مستقبل پر پڑے گا۔ ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور فوری اقدامات کرے تاکہ جامعات اپنی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبرپختونخوا کی اعلیٰ تعلیمی جامعات اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہیں، جہاں متعدد جامعات کے اساتذہ، وزٹنگ فیکلٹی اور دیگر ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہیں اور پنشن نہیں مل سکیں۔ جامعہ پشاور، زرعی یونیورسٹی اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی چارسدہ سمیت متعدد ادارے مالی بدحالی کا شکار ہیں، جس کے باعث تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔</strong></p>
<p>جامعہ پشاور کے رجسٹرار ڈاکٹر یورید احسن ضیاء نے آج نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے کم از کم 40 کروڑ روپے درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ آج کا نہیں بلکہ کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایچ ای سی اور صوبائی حکومت سے گرانٹ کے لیے پُرامید ہیں لیکن بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔</p>
<p>زرعی یونیورسٹی کے ملازمین بھی تنخواہوں اور پنشن کی 30 فیصد بقایاجات کے منتظر ہیں جبکہ شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی چارسدہ کی وزٹنگ فیکلٹی کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس سے اساتذہ میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔</p>
<p>جب آج نیوز نے اس معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی سے مؤقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بات کرنے سے معذرت کرتے ہوئے ساری ذمہ داری محکمہ خزانہ پر ڈال دی۔</p>
<p>پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) کے صدر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے گفتگو میں بتایا کہ تنخواہوں کی مسلسل عدم ادائیگی پر ہم نے وائس چانسلر اور محکمہ خزانہ سے ملاقات کی، مگر وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے نہ تو ہمیں وقت دیا اور نہ ہی ہمارے مسائل سنے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی عملہ اور اساتذہ سخت معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>پیوٹا کے جنرل سیکریٹری فاروق خان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے کے باوجود حکومت کی غیر سنجیدگی نے جامعات کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ فیسوں میں بے تحاشا اضافہ تو کیا گیا مگر طلبہ کو سہولیات میسر نہیں، جس کی وجہ سے تحقیق (ریسرچ) جیسا اہم شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسرچ فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث تحقیقی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔</p>
<p>فاروق خان نے مزید انکشاف کیا کہ چانسلرشپ کی تبدیلی کے وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مالی مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن تاحال کسی قسم کا عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ جامعات کے مستقل ملازمین کو فکس پے پر لانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، جس کا مطلب ہوگا کہ انہیں سرکاری مراعات اور الاؤنسز سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>خیبرپختونخوا کی جامعات کو درپیش مالی بحران اگر فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کا براہِ راست اثر صوبے کی اعلیٰ تعلیم اور طلبہ کے مستقبل پر پڑے گا۔ ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور فوری اقدامات کرے تاکہ جامعات اپنی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں بحال کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30471017</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Jul 2025 16:03:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/09160309240793a.jpg?r=160345" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/09160309240793a.jpg?r=160345"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیمبرج کا بڑا فیصلہ: لیک پرچوں کے طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کی پیشکش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30469283/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے جون 2025 میں لیک ہونے والے تین اہم امتحانی پرچوں میں شریک طلبہ کو نومبر 2025 کی امتحانی سیریز میں بغیر کسی فیس کے دوبارہ امتحان دینے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ پرچے درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;اے ایس اور اے لیول ریاضیات پیپر 12&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اے ایس اور اے لیول ریاضیات پیپر 42&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اے ایس اور اے لیول کمپیوٹر سائنس پیپر 22&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ادارے کا کہنا ہے کہ ان پرچوں کے نتائج معمول کے مطابق جاری کیے جائیں گے، تاہم متاثرہ طلبہ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے تحت، انہیں نومبر 2025 میں مذکورہ پرچوں میں دوبارہ شرکت کا اختیار دیا گیا ہے، وہ بھی بلا معاوضہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیمبرج انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ تمام امیدواروں اور ان کے والدین کو اسکولز کے ذریعے باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید معلومات امتحانی نتائج کے اجرا کے بعد فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30384513/"&gt;کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کا ریاضی کا پرچہ آؤٹ ہونے پر تحقیقات کا آغاز &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید براں، طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو وہ براہِ راست اپنے متعلقہ اسکول سے رابطہ کریں۔ اس ضمن میں رہنمائی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تین نئے چیئرمین بھی تعینات کر دیے گئے ہیں، جو آئندہ منگل سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کی تقرری تین سالہ مدت کے لیے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30463073/"&gt;اے لیول کے امتحانات میں پیپرز لیک ہونے کا معاملہ: قائمہ کمیٹی کا شدید ردعمل&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام کیمبرج کی جانب سے امتحانات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی سفر کسی بھی غیرمتوقع رکاوٹ سے متاثر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے جون 2025 میں لیک ہونے والے تین اہم امتحانی پرچوں میں شریک طلبہ کو نومبر 2025 کی امتحانی سیریز میں بغیر کسی فیس کے دوبارہ امتحان دینے کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>متاثرہ پرچے درج ذیل ہیں:</p>
<ul>
<li>اے ایس اور اے لیول ریاضیات پیپر 12</li>
<li>اے ایس اور اے لیول ریاضیات پیپر 42</li>
<li>اے ایس اور اے لیول کمپیوٹر سائنس پیپر 22</li>
</ul>
<p>ادارے کا کہنا ہے کہ ان پرچوں کے نتائج معمول کے مطابق جاری کیے جائیں گے، تاہم متاثرہ طلبہ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے تحت، انہیں نومبر 2025 میں مذکورہ پرچوں میں دوبارہ شرکت کا اختیار دیا گیا ہے، وہ بھی بلا معاوضہ۔</p>
<p>کیمبرج انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ تمام امیدواروں اور ان کے والدین کو اسکولز کے ذریعے باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید معلومات امتحانی نتائج کے اجرا کے بعد فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30384513/">کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن کا ریاضی کا پرچہ آؤٹ ہونے پر تحقیقات کا آغاز </a></p>
<p>مزید براں، طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو وہ براہِ راست اپنے متعلقہ اسکول سے رابطہ کریں۔ اس ضمن میں رہنمائی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تین نئے چیئرمین بھی تعینات کر دیے گئے ہیں، جو آئندہ منگل سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کی تقرری تین سالہ مدت کے لیے کی گئی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30463073/">اے لیول کے امتحانات میں پیپرز لیک ہونے کا معاملہ: قائمہ کمیٹی کا شدید ردعمل</a></p>
<p>یہ اقدام کیمبرج کی جانب سے امتحانات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی سفر کسی بھی غیرمتوقع رکاوٹ سے متاثر نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30469283</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Jul 2025 14:41:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/011436135f8858f.png?r=143620" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/011436135f8858f.png?r=143620"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم کورٹ کا لیگل ایجوکیشن میں انقلابی قدم: ایل ایل بی کی مدت کم، سی لاء ٹیسٹ ختم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30467895/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان میں لیگل ایجوکیشن ریفارمز کیس کی اہم سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے ملک میں قانونی تعلیم سے متعلق کئی اہم احکامات جاری کیے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فیصلہ دیا کہ ایل ایل بی (LLB) پروگرام کی مدت پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دی جائے، تاکہ قانونی تعلیم میں بہتری اور طلبا کے تعلیمی بوجھ میں توازن لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی سپریم کورٹ نے بیرون ملک سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لیے سی لاء (C-Law) کا ٹیسٹ ختم کرنے کی ہدایت جاری کی، جو اس سے قبل پاکستان میں قانونی پریکٹس کے لیے لازم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس محمد علی مظہر نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ لاء کالجز کا معیار بہتر کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف کمیوں کی بنیاد پر ادارے بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ان میں بہتری لائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایم لاء کالج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس مظہر نے کہا، ’ایس ایم لاء کالج تو قیام پاکستان سے بھی پہلے کا ادارہ ہے، اگر وہاں کوئی کمی ہے تو اسے دور کیا جائے نہ کہ کالج بند کر دیا جائے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ آف پاکستان میں لیگل ایجوکیشن ریفارمز کیس کی اہم سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے ملک میں قانونی تعلیم سے متعلق کئی اہم احکامات جاری کیے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔</strong></p>
<p>عدالت نے فیصلہ دیا کہ ایل ایل بی (LLB) پروگرام کی مدت پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دی جائے، تاکہ قانونی تعلیم میں بہتری اور طلبا کے تعلیمی بوجھ میں توازن لایا جا سکے۔</p>
<p>ساتھ ہی سپریم کورٹ نے بیرون ملک سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لیے سی لاء (C-Law) کا ٹیسٹ ختم کرنے کی ہدایت جاری کی، جو اس سے قبل پاکستان میں قانونی پریکٹس کے لیے لازم تھا۔</p>
<p>جسٹس محمد علی مظہر نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ لاء کالجز کا معیار بہتر کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف کمیوں کی بنیاد پر ادارے بند کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ان میں بہتری لائی جائے۔</p>
<p>ایس ایم لاء کالج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس مظہر نے کہا، ’ایس ایم لاء کالج تو قیام پاکستان سے بھی پہلے کا ادارہ ہے، اگر وہاں کوئی کمی ہے تو اسے دور کیا جائے نہ کہ کالج بند کر دیا جائے۔‘</p>
<p>عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30467895</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 12:46:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/06/251245223be026a.jpg?r=124608" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/06/251245223be026a.jpg?r=124608"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم یونیورسٹیز نے عالمی رینکنگ میں اسرائیلی تعلیمی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30469232/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سالانہ درجہ بندی ’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ‘ 2026 کا حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے جس میں 100 سے زائد ممالک کی 1500 سے زائد جامعات شامل ہیں۔ اس رینکنگ میں مسلم دنیا کی جامعات نے نمایاں ترقی کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر ایشیا کے ممالک میں، جبکہ امریکہ اب بھی عالمی تعلیمی میدان میں سبقت برقرار رکھے ہوئے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کیو ایس‘ ایک برطانوی تعلیمی تنظیم ہے جو ہر سال ’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ‘ جاری کرتی ہے، جو دنیا کی بہترین جامعات کی درجہ بندی کرتی ہے۔ اس درجہ بندی میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے جیسے،  تعلیمی معیار،  تحقیقاتی اثر،  تدریسی معیار،  فیکلٹی یا اسٹوڈنٹ تناسب، بین الاقوامی اسٹوڈنٹس اور فیکلٹی کا تناسب اور صنعتی شناخت۔  ’کیو ایس رینکنگ‘ کو دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کی کارکردگی اور معیار کا معتبر پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30467965/"&gt;عالمی بینک نے پاکستان میں 2 منصوبوں کی منظوری دیدی&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مسلم-دنیا-کی-نمایاں-جامعات" href="#مسلم-دنیا-کی-نمایاں-جامعات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مسلم دنیا کی نمایاں جامعات&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;’کیو ایس‘ کی اس تازہ ترین درجہ بندی میں مسلم دنیا کی دو جامعات کو عالمی ٹاپ 100 میں جگہ ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;strong&gt;ملائیشیا کی یونیورسٹی ملایا (Universiti Malaya)&lt;/strong&gt;  نے 58 ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، جو کہ مسلم دنیا کی بہترین کارکردگی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;strong&gt;سعودی عرب کی کنگ فہد پیٹرولیم اینڈ منرلز یونیورسٹی (KFUPM)&lt;/strong&gt; نے 67 ویں نمبر پر اپنی پوزیشن حاصل کی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ دیگر مسلم ممالک کی جامعات نے بھی قابل ذکر ترقی کی ہے، جن میں قطر کی یونیورسٹی قطر 112 ویں، اور متحدہ عرب امارات کی خلیفہ یونیورسٹی 177 ویں نمبر پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30395617/"&gt;غزہ کے طلبہ اب پاکستان میں تعلیم جاری رکھ سکیں گے&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مسلم-دنیا-کی-جامعات-کی-مجموعی-صورتحال" href="#مسلم-دنیا-کی-جامعات-کی-مجموعی-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مسلم دنیا کی جامعات کی مجموعی صورتحال&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دیگر اہم جامعات کی درجہ بندی کچھ  یوں ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی ملایا (UM) – درجہ 58&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی کبانسنگن ملائیشیا (UKM) – درجہ 126&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی پوترا ملائیشیا (UPM) – درجہ 134&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی سائنس ملائیشیا (USM) – درجہ 134&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا (UTM) – درجہ 153&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی ٹیکنالوجی پیٹروناس (UTP) – درجہ 251&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ٹیلر یونیورسٹی – درجہ 253&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یو سی ایس آئی یونیورسٹی – درجہ 269&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سنوے یونیورسٹی – درجہ 410&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی اوتارا ملائیشیا (UUM) – درجہ 491&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز (KFUPM) – درجہ 67&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کنگ سعود یونیورسٹی – درجہ 143&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی (KAU) – درجہ 163&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پرنس محمد بن فہد یونیورسٹی – درجہ 436&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;امام عبدالرحمن بن فیصل یونیورسٹی (IAU) – درجہ 491&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;قطر&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;قطر یونیورسٹی – درجہ 112&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;حماد بن خلیفہ یونیورسٹی – درجہ 244&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;خلیفہ یونیورسٹی – درجہ 177&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی آف متحدہ عرب امارات – درجہ 229&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;امریکن یونیورسٹی آف شارجہ – درجہ 272&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی آف شارجہ – درجہ 328&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ابو ظہبی یونیورسٹی – درجہ 391&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;عجمان یونیورسٹی – درجہ 440&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;قازقستان&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی – درجہ 166&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایل این گومیلیوف یوریشین نیشنل یونیورسٹی (ENU) – درجہ 317&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ستبایف یونیورسٹی – درجہ 331&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹس انڈونیشیا – درجہ 189&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;گاجاہ مڈا یونیورسٹی – درجہ 224&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;انسٹی ٹیوٹ ٹیکنالوجی بندونگ (ITB) – درجہ 255&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹس ایئرلانگا – درجہ 287&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;آئی پی بی یونیورسٹی – درجہ 399&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ترکی&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی – درجہ 269&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی – درجہ 298&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کوچ یونیورسٹی – درجہ 323&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سبانجی یونیورسٹی – درجہ 404&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بلیکینٹ یونیورسٹی – درجہ 415&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بوغازیچی یونیورسٹی – درجہ 371&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;تل ابیب یونیورسٹی – درجہ 223&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ہیبرو یونیورسٹی آف یروشلم – درجہ 240&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ٹیکنیشن – اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی – درجہ 350&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;بن گوریون یونیورسٹی آف دی نیگوف – درجہ 469&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;عمان&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;سلطان قابوس یونیورسٹی – درجہ 334&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;اردن&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی آف اردن – درجہ 324&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;اردن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی – درجہ 461&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ایران&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;یونیورسٹی آف تہران – درجہ 322&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی – درجہ 375&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی – درجہ 456&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی – درجہ 496&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ازبکستان&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;تاشقند انسٹی ٹیوٹ آف اریگیشن اینڈ ایگریکلچرل میکینائزیشن انجینئرز (TIIAME) – درجہ 469&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ‘ 2026 کی یہ درجہ بندی عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایشیا اور مسلم دنیا کی جامعات نے اپنی کارکردگی بہتر کر کے عالمی جامعات کے مابین اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔ امریکہ ابھی بھی تعلیمی معیار اور تحقیقی پیداوار میں عالمی قیادت کر رہا ہے، لیکن مسلم دنیا کی جامعات کی ترقی خوش آئند ہے اور آنے والے وقت میں یہ رجحان مزید بڑھنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سالانہ درجہ بندی ’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ‘ 2026 کا حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے جس میں 100 سے زائد ممالک کی 1500 سے زائد جامعات شامل ہیں۔ اس رینکنگ میں مسلم دنیا کی جامعات نے نمایاں ترقی کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر ایشیا کے ممالک میں، جبکہ امریکہ اب بھی عالمی تعلیمی میدان میں سبقت برقرار رکھے ہوئے ہے۔</strong></p>
<p>’کیو ایس‘ ایک برطانوی تعلیمی تنظیم ہے جو ہر سال ’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ‘ جاری کرتی ہے، جو دنیا کی بہترین جامعات کی درجہ بندی کرتی ہے۔ اس درجہ بندی میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے جیسے،  تعلیمی معیار،  تحقیقاتی اثر،  تدریسی معیار،  فیکلٹی یا اسٹوڈنٹ تناسب، بین الاقوامی اسٹوڈنٹس اور فیکلٹی کا تناسب اور صنعتی شناخت۔  ’کیو ایس رینکنگ‘ کو دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کی کارکردگی اور معیار کا معتبر پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30467965/">عالمی بینک نے پاکستان میں 2 منصوبوں کی منظوری دیدی</a></p>
<h3><a id="مسلم-دنیا-کی-نمایاں-جامعات" href="#مسلم-دنیا-کی-نمایاں-جامعات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مسلم دنیا کی نمایاں جامعات</strong></h3>
<p>’کیو ایس‘ کی اس تازہ ترین درجہ بندی میں مسلم دنیا کی دو جامعات کو عالمی ٹاپ 100 میں جگہ ملی ہے۔</p>
<ul>
<li>
<strong>ملائیشیا کی یونیورسٹی ملایا (Universiti Malaya)</strong>  نے 58 ویں نمبر پر جگہ بنائی ہے، جو کہ مسلم دنیا کی بہترین کارکردگی ہے۔</li>
<li>
<strong>سعودی عرب کی کنگ فہد پیٹرولیم اینڈ منرلز یونیورسٹی (KFUPM)</strong> نے 67 ویں نمبر پر اپنی پوزیشن حاصل کی ہے۔</li>
</ul>
<p>اس کے علاوہ دیگر مسلم ممالک کی جامعات نے بھی قابل ذکر ترقی کی ہے، جن میں قطر کی یونیورسٹی قطر 112 ویں، اور متحدہ عرب امارات کی خلیفہ یونیورسٹی 177 ویں نمبر پر ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30395617/">غزہ کے طلبہ اب پاکستان میں تعلیم جاری رکھ سکیں گے</a></p>
<h3><a id="مسلم-دنیا-کی-جامعات-کی-مجموعی-صورتحال" href="#مسلم-دنیا-کی-جامعات-کی-مجموعی-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مسلم دنیا کی جامعات کی مجموعی صورتحال</strong></h3>
<p>دیگر اہم جامعات کی درجہ بندی کچھ  یوں ہے،</p>
<p>ملائیشیا</p>
<ul>
<li>یونیورسٹی ملایا (UM) – درجہ 58</li>
<li>یونیورسٹی کبانسنگن ملائیشیا (UKM) – درجہ 126</li>
<li>یونیورسٹی پوترا ملائیشیا (UPM) – درجہ 134</li>
<li>یونیورسٹی سائنس ملائیشیا (USM) – درجہ 134</li>
<li>یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا (UTM) – درجہ 153</li>
<li>یونیورسٹی ٹیکنالوجی پیٹروناس (UTP) – درجہ 251</li>
<li>ٹیلر یونیورسٹی – درجہ 253</li>
<li>یو سی ایس آئی یونیورسٹی – درجہ 269</li>
<li>سنوے یونیورسٹی – درجہ 410</li>
<li>یونیورسٹی اوتارا ملائیشیا (UUM) – درجہ 491</li>
</ul>
<p>سعودی عرب</p>
<ul>
<li>کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز (KFUPM) – درجہ 67</li>
<li>کنگ سعود یونیورسٹی – درجہ 143</li>
<li>کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی (KAU) – درجہ 163</li>
<li>پرنس محمد بن فہد یونیورسٹی – درجہ 436</li>
<li>امام عبدالرحمن بن فیصل یونیورسٹی (IAU) – درجہ 491</li>
</ul>
<p>قطر</p>
<ul>
<li>قطر یونیورسٹی – درجہ 112</li>
<li>حماد بن خلیفہ یونیورسٹی – درجہ 244</li>
</ul>
<p>متحدہ عرب امارات</p>
<ul>
<li>خلیفہ یونیورسٹی – درجہ 177</li>
<li>یونیورسٹی آف متحدہ عرب امارات – درجہ 229</li>
<li>امریکن یونیورسٹی آف شارجہ – درجہ 272</li>
<li>یونیورسٹی آف شارجہ – درجہ 328</li>
<li>ابو ظہبی یونیورسٹی – درجہ 391</li>
<li>عجمان یونیورسٹی – درجہ 440</li>
</ul>
<p>قازقستان</p>
<ul>
<li>الفارابی قازق نیشنل یونیورسٹی – درجہ 166</li>
<li>ایل این گومیلیوف یوریشین نیشنل یونیورسٹی (ENU) – درجہ 317</li>
<li>ستبایف یونیورسٹی – درجہ 331</li>
</ul>
<p>انڈونیشیا</p>
<ul>
<li>یونیورسٹس انڈونیشیا – درجہ 189</li>
<li>گاجاہ مڈا یونیورسٹی – درجہ 224</li>
<li>انسٹی ٹیوٹ ٹیکنالوجی بندونگ (ITB) – درجہ 255</li>
<li>یونیورسٹس ایئرلانگا – درجہ 287</li>
<li>آئی پی بی یونیورسٹی – درجہ 399</li>
</ul>
<p>ترکی</p>
<ul>
<li>مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی – درجہ 269</li>
<li>استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی – درجہ 298</li>
<li>کوچ یونیورسٹی – درجہ 323</li>
<li>سبانجی یونیورسٹی – درجہ 404</li>
<li>بلیکینٹ یونیورسٹی – درجہ 415</li>
<li>بوغازیچی یونیورسٹی – درجہ 371</li>
</ul>
<p>اسرائیل</p>
<ul>
<li>تل ابیب یونیورسٹی – درجہ 223</li>
<li>ہیبرو یونیورسٹی آف یروشلم – درجہ 240</li>
<li>ٹیکنیشن – اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی – درجہ 350</li>
<li>بن گوریون یونیورسٹی آف دی نیگوف – درجہ 469</li>
</ul>
<p>عمان</p>
<ul>
<li>سلطان قابوس یونیورسٹی – درجہ 334</li>
</ul>
<p>اردن</p>
<ul>
<li>یونیورسٹی آف اردن – درجہ 324</li>
<li>اردن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی – درجہ 461</li>
</ul>
<p>ایران</p>
<ul>
<li>یونیورسٹی آف تہران – درجہ 322</li>
<li>شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی – درجہ 375</li>
<li>امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی – درجہ 456</li>
<li>ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی – درجہ 496</li>
</ul>
<p>ازبکستان</p>
<ul>
<li>تاشقند انسٹی ٹیوٹ آف اریگیشن اینڈ ایگریکلچرل میکینائزیشن انجینئرز (TIIAME) – درجہ 469</li>
</ul>
<p>’کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ‘ 2026 کی یہ درجہ بندی عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایشیا اور مسلم دنیا کی جامعات نے اپنی کارکردگی بہتر کر کے عالمی جامعات کے مابین اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔ امریکہ ابھی بھی تعلیمی معیار اور تحقیقی پیداوار میں عالمی قیادت کر رہا ہے، لیکن مسلم دنیا کی جامعات کی ترقی خوش آئند ہے اور آنے والے وقت میں یہ رجحان مزید بڑھنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30469232</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Jul 2025 12:06:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/07/0111424162f005f.jpg?r=114246" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/07/0111424162f005f.jpg?r=114246"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں کالج داخلوں کے لیے والد کے ڈومیسائل کی شرط عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30466600/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں گیارہویں جماعت میں داخلوں کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم اس بار داخلے کے لیے ایک نئی شرط نے والدین اور طلبہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے طالب علم کے بجائے والد کے ڈومیسائل کو لازمی قرار دے دیا ہے جبکہ طالب علم کا اپنا ڈومیسائل اور پی آر سی جمع کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی کالجز نوید رب کے مطابق داخلے کے عمل میں آسانی کے لیے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے نتائج بھی اب لازمی نہیں رہے جبکہ نویں جماعت کے دو پرچوں میں فیل طلبہ کو بھی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والد کے ڈومیسائل کی شرط نے شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کر دیا ہے جہاں کئی افراد کو دستاویزات کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ داخلے کے اس نئے نظام نے ایک اور امتحان میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;داخلوں کا سلسلہ 15 جولائی تک جاری رہے گا، جبکہ 22 جولائی سے میرٹ فہرستیں آویزاں کر دی جائیں گی۔ مقررہ وقت پر داخلے کی تصدیق نہ کرانے والے طلبہ کا نام فہرست سے نکال کر کسی دوسرے امیدوار کو داخلہ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں گیارہویں جماعت میں داخلوں کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم اس بار داخلے کے لیے ایک نئی شرط نے والدین اور طلبہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے طالب علم کے بجائے والد کے ڈومیسائل کو لازمی قرار دے دیا ہے جبکہ طالب علم کا اپنا ڈومیسائل اور پی آر سی جمع کرانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔</strong></p>
<p>ڈی جی کالجز نوید رب کے مطابق داخلے کے عمل میں آسانی کے لیے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے نتائج بھی اب لازمی نہیں رہے جبکہ نویں جماعت کے دو پرچوں میں فیل طلبہ کو بھی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔</p>
<p>والد کے ڈومیسائل کی شرط نے شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کر دیا ہے جہاں کئی افراد کو دستاویزات کے حصول میں دشواری کا سامنا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ داخلے کے اس نئے نظام نے ایک اور امتحان میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>داخلوں کا سلسلہ 15 جولائی تک جاری رہے گا، جبکہ 22 جولائی سے میرٹ فہرستیں آویزاں کر دی جائیں گی۔ مقررہ وقت پر داخلے کی تصدیق نہ کرانے والے طلبہ کا نام فہرست سے نکال کر کسی دوسرے امیدوار کو داخلہ دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30466600</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jun 2025 09:05:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قیصر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/06/190856037959ed8.jpg?r=085805" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/06/190856037959ed8.jpg?r=085805"/>
        <media:title>فائل فوٹیج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی کی بڑھتی طلب، مستقبل میں نوکریوں کیلئے کونسے کورسز کرنے چاہئیے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30465295/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی ترقی کی لہر نے تعلیمی شعبے کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک، اسکولز اور تعلیمی ادارے اے آئی کے بنیادی اصولوں، تجربہ گاہوں اور سرٹیفیکیشن پروگرامز کے ذریعے طلباء کو اے آئی کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اے آئی کی مہارتوں کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد مستقبل میں اقتصادی ترقی، نئے خیالات کی تخلیق، اور عالمی سطح پر ملک کو مزید مسابقتی (Competitive) بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کی تعلیم کا مقصد طلباء کو جدید ترین ٹیکنالوجیز سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں بلکہ مختلف صنعتوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔ اے آئی کے مختلف شعبوں میں جیسے مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس، خودکار نظام (automated systems) اور این ایل پی (Natural Language Processing) کے ماہرین کی بڑی مانگ بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30460351/"&gt;کیا اے آئی مستقبل بتا سکتا ہے؟ اس حوالے سے ثابت شدہ 5 باتیں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شعبوں میں سے مشین لرننگ انجینئرنگ ایک اہم فیلڈ ہے، اس کے علاوہ ڈیٹا سائنس میں ماہرین بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کاروباری فیصلوں کے لیے اہم بصیرت فراہم کرتے ہیں، جبکہ قدرتی زبان کی پروسیسنگ این ایل پی کی مدد سے کمپیوٹرز انسانوں کی زبان سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ آٹومیشن اور روبوٹکس انجینئرنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبے بھی طلباء کے لیے نئے کیریئر کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30465288/"&gt;اے آئی ایجنٹ میں پہلی بار سکیورٹی خامی کا انکشاف &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو میٹڈ سسٹم اور روبوٹکس انجینئرنگ کے شعبے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جیسے جیسے انڈسٹری 4.0 کا انقلاب آ رہا ہے جوکہ ایک ماڈرن انڈسٹریل ریوولوشن کی اصطلاح ہے جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار اور صنعتوں کو مزید آٹومیٹک ، آرگنائزڈ اور مربوط یا انٹیگریٹڈ بنانا ہے۔ اسی طرح خودکار سسٹمز اور سمارٹ روبوٹ بنانے والے ماہرین کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ وہ اہم شعبے ہیں جہاں اے آئی کی تعلیم اور تربیت حاصل کرنے والے طلباء کے لیے مختلف کیریئر کے مواقع کھل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی ترقی کی لہر نے تعلیمی شعبے کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے قصبوں تک، اسکولز اور تعلیمی ادارے اے آئی کے بنیادی اصولوں، تجربہ گاہوں اور سرٹیفیکیشن پروگرامز کے ذریعے طلباء کو اے آئی کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اے آئی کی مہارتوں کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد مستقبل میں اقتصادی ترقی، نئے خیالات کی تخلیق، اور عالمی سطح پر ملک کو مزید مسابقتی (Competitive) بنانا ہے۔</strong></p>
<p>اے آئی کی تعلیم کا مقصد طلباء کو جدید ترین ٹیکنالوجیز سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں بلکہ مختلف صنعتوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں۔ اے آئی کے مختلف شعبوں میں جیسے مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس، خودکار نظام (automated systems) اور این ایل پی (Natural Language Processing) کے ماہرین کی بڑی مانگ بڑھ رہی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30460351/">کیا اے آئی مستقبل بتا سکتا ہے؟ اس حوالے سے ثابت شدہ 5 باتیں</a></p>
<p>ان شعبوں میں سے مشین لرننگ انجینئرنگ ایک اہم فیلڈ ہے، اس کے علاوہ ڈیٹا سائنس میں ماہرین بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے کاروباری فیصلوں کے لیے اہم بصیرت فراہم کرتے ہیں، جبکہ قدرتی زبان کی پروسیسنگ این ایل پی کی مدد سے کمپیوٹرز انسانوں کی زبان سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ آٹومیشن اور روبوٹکس انجینئرنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبے بھی طلباء کے لیے نئے کیریئر کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30465288/">اے آئی ایجنٹ میں پہلی بار سکیورٹی خامی کا انکشاف </a></p>
<p>آٹو میٹڈ سسٹم اور روبوٹکس انجینئرنگ کے شعبے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جیسے جیسے انڈسٹری 4.0 کا انقلاب آ رہا ہے جوکہ ایک ماڈرن انڈسٹریل ریوولوشن کی اصطلاح ہے جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پیداوار اور صنعتوں کو مزید آٹومیٹک ، آرگنائزڈ اور مربوط یا انٹیگریٹڈ بنانا ہے۔ اسی طرح خودکار سسٹمز اور سمارٹ روبوٹ بنانے والے ماہرین کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ وہ اہم شعبے ہیں جہاں اے آئی کی تعلیم اور تربیت حاصل کرنے والے طلباء کے لیے مختلف کیریئر کے مواقع کھل رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30465295</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jun 2025 11:56:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/06/12112347c709692.jpg?r=112420" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/06/12112347c709692.jpg?r=112420"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں غیرملکی طلبہ کے ویزے کیلئے نئی شرائط پر غور شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30462565/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں غیرملکی طلبہ کے ویزے کے عمل کو مزید سخت بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی مجوزہ پالیسی میں غیرملکی طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مکمل چھان بین کی جائے گی جبکہ دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں کو طلبہ کے نئے ویزا انٹرویوز عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ اقدامات سے طلبہ کے ویزا کے حصول کا عمل مزید سست ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں امریکی تعلیمی اداروں، خصوصاً یونیورسٹیوں، کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30462453/"&gt;اے آئی نوکریاں چھیننے لگی، آئی بی ایم نے ہزاروں ملازمین کو گھر بھیج دیا &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اداروں میں صف اول کی ہارورڈ یونیورسٹی شامل ہے، جس کے امریکی حکومت کے ساتھ 100 ملین ڈالر کے تحقیقی معاہدے کی منسوخی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ہارورڈ کی تین ارب ڈالر کی وفاقی تحقیقی گرانٹس ختم کی جا چکی ہیں۔ اگر نئی پالیسی لاگو ہوئی تو صرف ہارورڈ یونیورسٹی کے 68 ہزار بین الاقوامی طلبہ براہ راست متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30462324/"&gt;18 کروڑ صارفین کا حساس ڈیٹا چوری، گوگل، فیس بک اور ایپل کے صارفین متاثر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کا مقصد امیگریشن پالیسی کو سخت سے سخت تر بنانا ہے، تاہم اس کا سب سے بڑا نقصان امریکی جامعات کو ہوگا جو عالمی طلبہ سے حاصل ہونے والی فیسوں اور تحقیقی فنڈز پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30462397/"&gt;امارات کے نجی شعبوں میں ملازمت کے خواہشمند افراد کیلئے اہم اعلان &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا کی جانچ اور ویزا انٹرویوز کی معطلی جیسے اقدامات سے امریکا کی علمی برتری اور بین الاقوامی کشش کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تعلیمی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علمی شعبے کو سیاست سے پاک رکھا جائے تاکہ امریکی جامعات عالمی معیار پر قائم رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں غیرملکی طلبہ کے ویزے کے عمل کو مزید سخت بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی مجوزہ پالیسی میں غیرملکی طلبہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مکمل چھان بین کی جائے گی جبکہ دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں کو طلبہ کے نئے ویزا انٹرویوز عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ اقدامات سے طلبہ کے ویزا کے حصول کا عمل مزید سست ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں امریکی تعلیمی اداروں، خصوصاً یونیورسٹیوں، کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30462453/">اے آئی نوکریاں چھیننے لگی، آئی بی ایم نے ہزاروں ملازمین کو گھر بھیج دیا </a></strong></p>
<p>سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اداروں میں صف اول کی ہارورڈ یونیورسٹی شامل ہے، جس کے امریکی حکومت کے ساتھ 100 ملین ڈالر کے تحقیقی معاہدے کی منسوخی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ہارورڈ کی تین ارب ڈالر کی وفاقی تحقیقی گرانٹس ختم کی جا چکی ہیں۔ اگر نئی پالیسی لاگو ہوئی تو صرف ہارورڈ یونیورسٹی کے 68 ہزار بین الاقوامی طلبہ براہ راست متاثر ہوں گے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30462324/">18 کروڑ صارفین کا حساس ڈیٹا چوری، گوگل، فیس بک اور ایپل کے صارفین متاثر</a></strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کا مقصد امیگریشن پالیسی کو سخت سے سخت تر بنانا ہے، تاہم اس کا سب سے بڑا نقصان امریکی جامعات کو ہوگا جو عالمی طلبہ سے حاصل ہونے والی فیسوں اور تحقیقی فنڈز پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30462397/">امارات کے نجی شعبوں میں ملازمت کے خواہشمند افراد کیلئے اہم اعلان </a></strong></p>
<p>سوشل میڈیا کی جانچ اور ویزا انٹرویوز کی معطلی جیسے اقدامات سے امریکا کی علمی برتری اور بین الاقوامی کشش کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تعلیمی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علمی شعبے کو سیاست سے پاک رکھا جائے تاکہ امریکی جامعات عالمی معیار پر قائم رہ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30462565</guid>
      <pubDate>Wed, 28 May 2025 09:24:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/2809225251fb72b.webp?r=092321" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/2809225251fb72b.webp?r=092321"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت سندھ کا بڑا فیصلہ: اسکولوں میں اجرک، ٹوپی اور تحائف دینے پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30462441/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت سندھ نے سرکاری تقریبات میں بچوں کے ذریعے مہمانوں کے استقبال، اجرک و ٹوپی دینے اور تحائف پیش کرنے کی روایت کو ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ ایجوکیشن سندھ کی اجنب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق تمام ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز کو فوری طور پر احکامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اب کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں بچوں کو مہمانوں کے استقبال کے لیے قطار میں کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ اس عمل کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30462425/"&gt;بچوں کو حج پر لے جانے پر عائد پابندی سے متعلق فیصلہ برقرار &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سرکاری سطح پر اجرک، سندھی ٹوپی یا کوئی تحفہ دینے کی روایت بھی بند کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سندھ کا مؤقف ہے کہ تمام ادارے ان احکامات پر مکمل عمل درآمد کے پابند ہوں گے، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30462395/"&gt;پنجاب کے اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں 28 مئی سے شروع ہوں گی &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ اس نئی پالیسی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا تاکہ تعلیمی ماحول کو رسمی تقاریب کے بجائے تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت سندھ نے سرکاری تقریبات میں بچوں کے ذریعے مہمانوں کے استقبال، اجرک و ٹوپی دینے اور تحائف پیش کرنے کی روایت کو ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ ایجوکیشن سندھ کی اجنب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق تمام ڈائریکٹرز، پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز کو فوری طور پر احکامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اب کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں بچوں کو مہمانوں کے استقبال کے لیے قطار میں کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ اس عمل کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30462425/">بچوں کو حج پر لے جانے پر عائد پابندی سے متعلق فیصلہ برقرار </a></strong></p>
<p>اسی طرح سرکاری سطح پر اجرک، سندھی ٹوپی یا کوئی تحفہ دینے کی روایت بھی بند کر دی گئی ہے۔</p>
<p>حکومت سندھ کا مؤقف ہے کہ تمام ادارے ان احکامات پر مکمل عمل درآمد کے پابند ہوں گے، اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30462395/">پنجاب کے اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں 28 مئی سے شروع ہوں گی </a></strong></p>
<p>نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ اس نئی پالیسی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا تاکہ تعلیمی ماحول کو رسمی تقاریب کے بجائے تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30462441</guid>
      <pubDate>Tue, 27 May 2025 13:30:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قیصر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/27131015b91cb75.webp?r=131046" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/27131015b91cb75.webp?r=131046"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں ملازمین کی جعلی دستاویزات کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30461668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبرپختونخوا کے محکمہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں ٹرانسفر، پوسٹنگ، پروموشن اور طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کے لیے جعلی دستاویزات کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ نے صوبہ بھر کی خواتین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈی ای اوز) کو سخت مراسلہ جاری کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ تمام تقرریوں، تبادلوں، ترقیوں اور طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کے تمام کیسز میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات کی باقاعدہ تصدیق لازمی ہوگی۔ بغیر تصدیق کے کسی بھی قسم کا آرڈر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ماضی میں جعلی میڈیکل رپورٹس اور دیگر کاغذات کی بنیاد پر اساتذہ نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی، اور بعد ازاں اپنی نشست پر اہل خانہ یا من پسند افراد کو ایڈجسٹ کروایا گیا۔ اس عمل میں محکمہ تعلیم کے بعض اہلکار بھی ملوث پائے گئے، جو مبینہ طور پر رشوت کے عوض جعلی کیسز تیار کرتے اور ان کی منظوری دلوانے میں کردار ادا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ تعلیم کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جعلی نیٹ ورک کی وجہ سے نہ صرف محکمے کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی بلکہ تعلیمی معیار بھی زوال کا شکار ہوا۔ اب ڈائریکٹوریٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر قسم کے تقرری یا تبادلے کی بنیاد پر جمع ہونے والی میڈیکل رپورٹس اور دیگر کاغذات کو متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعد ہی منظور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سخت اقدامات کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ اور میرٹ کی بحالی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبرپختونخوا کے محکمہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں ٹرانسفر، پوسٹنگ، پروموشن اور طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کے لیے جعلی دستاویزات کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ نے صوبہ بھر کی خواتین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈی ای اوز) کو سخت مراسلہ جاری کردیا ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ تمام تقرریوں، تبادلوں، ترقیوں اور طبی بنیادوں پر ریٹائرمنٹ کے تمام کیسز میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات کی باقاعدہ تصدیق لازمی ہوگی۔ بغیر تصدیق کے کسی بھی قسم کا آرڈر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ماضی میں جعلی میڈیکل رپورٹس اور دیگر کاغذات کی بنیاد پر اساتذہ نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی، اور بعد ازاں اپنی نشست پر اہل خانہ یا من پسند افراد کو ایڈجسٹ کروایا گیا۔ اس عمل میں محکمہ تعلیم کے بعض اہلکار بھی ملوث پائے گئے، جو مبینہ طور پر رشوت کے عوض جعلی کیسز تیار کرتے اور ان کی منظوری دلوانے میں کردار ادا کرتے تھے۔</p>
<p>محکمہ تعلیم کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جعلی نیٹ ورک کی وجہ سے نہ صرف محکمے کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی بلکہ تعلیمی معیار بھی زوال کا شکار ہوا۔ اب ڈائریکٹوریٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر قسم کے تقرری یا تبادلے کی بنیاد پر جمع ہونے والی میڈیکل رپورٹس اور دیگر کاغذات کو متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعد ہی منظور کیا جائے گا۔</p>
<p>حکام کے مطابق سخت اقدامات کا مقصد بدعنوانی کا خاتمہ اور میرٹ کی بحالی ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30461668</guid>
      <pubDate>Thu, 22 May 2025 13:52:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/22135238f13db27.webp?r=135245" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/22135238f13db27.webp?r=135245"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30461157/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر کے سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات 28 مئی سے شروع ہوں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر سکولوں کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ وزیر تعلیم کے مطابق اب سکول صبح 7 بج کر 30 منٹ سے 11 بج کر 30 منٹ تک کھلے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ طلباء کو گرمی سے بچایا جا سکے۔ تعطیلات کے دوران طلباء کو اپنی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، وزیر تعلیم پنجاب نے کہا تھا کہ صوبے میں گرمیوں کی چھٹیوں سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ تین سے چار روز میں کر لیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ چھٹیوں کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، تاہم فی الحال گرمیوں کی چھٹیوں کی تاریخ یکم جون ہی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ ہم موجودہ تعلیمی سال کے دوران اسکولوں کی بندش کے باعث ہونے والے لرننگ لاسز کے ازالے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، اور ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ ان نقصانات میں مزید اضافہ نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ اس وقت صوبے بھر کے اسکولوں میں معمول کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں اور فی الحال کوئی فوری بندش کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے طلباء اور والدین کو مشورہ دیا کہ وہ ہیٹ ویو کے ممکنہ اثرات سے بچاؤ کے لیے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ بچے محفوظ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پنجاب-میں-اسکولز-کے-بعد-کالجز-میں-بھی-چھٹیوں-کا-اعلان" href="#پنجاب-میں-اسکولز-کے-بعد-کالجز-میں-بھی-چھٹیوں-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پنجاب میں اسکولز کے بعد کالجز میں بھی چھٹیوں کا اعلان&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پنجاب میں گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد اسکولز کے بعد کالجز میں بھی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے کالجز میں موسم گرما کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق 28 مئی سے تمام سرکاری اور پرائیوٹ کالجز موسم گرما کی چھٹیوں کے لیے بند ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق  کالجز 15 اگست 2055 کو دوبارہ معمول کے مطابق کھلیں گے، تمام امتحانات معمول کے  اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر کے سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات 28 مئی سے شروع ہوں گی۔</strong></p>
<p>شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر سکولوں کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ وزیر تعلیم کے مطابق اب سکول صبح 7 بج کر 30 منٹ سے 11 بج کر 30 منٹ تک کھلے رہیں گے۔</p>
<p>وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ طلباء کو گرمی سے بچایا جا سکے۔ تعطیلات کے دوران طلباء کو اپنی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>قبل ازیں، وزیر تعلیم پنجاب نے کہا تھا کہ صوبے میں گرمیوں کی چھٹیوں سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ تین سے چار روز میں کر لیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ چھٹیوں کی تاریخ میں ممکنہ ردوبدل کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، تاہم فی الحال گرمیوں کی چھٹیوں کی تاریخ یکم جون ہی برقرار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ ہم موجودہ تعلیمی سال کے دوران اسکولوں کی بندش کے باعث ہونے والے لرننگ لاسز کے ازالے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، اور ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ ان نقصانات میں مزید اضافہ نہ ہو۔</p>
<p>وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ اس وقت صوبے بھر کے اسکولوں میں معمول کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں اور فی الحال کوئی فوری بندش کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے طلباء اور والدین کو مشورہ دیا کہ وہ ہیٹ ویو کے ممکنہ اثرات سے بچاؤ کے لیے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ بچے محفوظ رہیں۔</p>
<h2><a id="پنجاب-میں-اسکولز-کے-بعد-کالجز-میں-بھی-چھٹیوں-کا-اعلان" href="#پنجاب-میں-اسکولز-کے-بعد-کالجز-میں-بھی-چھٹیوں-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پنجاب میں اسکولز کے بعد کالجز میں بھی چھٹیوں کا اعلان</strong></h2>
<p>دوسری جانب پنجاب میں گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد اسکولز کے بعد کالجز میں بھی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا۔</p>
<p>محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے کالجز میں موسم گرما کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق 28 مئی سے تمام سرکاری اور پرائیوٹ کالجز موسم گرما کی چھٹیوں کے لیے بند ہوں گے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق  کالجز 15 اگست 2055 کو دوبارہ معمول کے مطابق کھلیں گے، تمام امتحانات معمول کے  اپنے شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30461157</guid>
      <pubDate>Tue, 20 May 2025 17:00:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلیم شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/20104453213ec43.webp?r=104543" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/20104453213ec43.webp?r=104543"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریاضی کب ایجاد ہوئی؟ حیران کن انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30460358/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریاضی، جو تمام سائنسی علوم کی بنیاد ہے، انسانوں کے ابتدائی گنتی کے طریقوں سے ترقی کرتے ہوئے آج کے پیچیدہ نظاموں تک پہنچی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ریاضی کب ایجاد ہوئی؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانوں نے ہزاروں سال قبل گنتی کرنا شروع کی۔ افریقہ کے کانگو علاقے سے دریافت ہونے والی اشانگو ہڈی، جو تقریباً 20,000 سال پرانی ہے، اس پر کٹے ہوئے نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی انسان گنتی کرتے تھے۔ اسی طرح، جنوبی افریقہ سے ملنے والی لیبومبو ہڈی، جو تقریباً 43,000 سال پرانی ہے، اس پر بھی کٹے ہوئے نشانات ہیں، جو ممکنہ طور پر چاند کے مہینے یا حیض کے دنوں کی گنتی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/1215522745089d6.webp'  alt='   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30445849/"&gt;’خدا واقعی موجود ہے‘: سائنسدان نے ثبوت کیلئے ریاضیاتی فارمولا پیش کردیا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدیم سومیری باشندوں نے تقریباً 4500 سے 1900 قبل مسیح کے درمیان کیلکولیفارم لکھائی اور 60 کی بنیاد پر عددی نظام ایجاد کیا، جو آج بھی وقت کی پیمائش اور مثلثیات میں استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے حساب، الجبرا، اور جیومیٹری کے بنیادی اصول وضع کیے، جو زمین کی پیمائش اور آبپاشی کے نظاموں کے لیے ضروری تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/150915/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%8c%db%81%d9%88%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b3%db%8c%d8%ad%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86"&gt;سائنس میں یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کا کردار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاضی کی بنیادی جڑیں قدیم یونان، مصر، اور بھارت جیسے تہذیبوں میں موجود تھیں۔ تاہم، اسلامی دنیا نے ان علوم کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ ان میں بہتری بھی کی۔ اسلامی عہد میں، مسلمان علماء نے ریاضی اور سائنسی علوم کو بہت زیادہ فروغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/12160935c8fa620.webp'  alt='ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/137315/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85-%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%88%d9%84-%db%8c%d8%b9%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%85%db%8c"&gt;کیا آپ جانتے ہیں ’ٹائم ٹریول‘ یعنی وقت میں سفر کرنا کس طرح ممکن ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاضی کی مزید ترقی مصر، یونان، بھارت، چین، اور اسلامی دنیا میں ہوئی۔ 17ویں صدی کے آخر میں آئزک نیوٹن اور گوٹفریڈ ولیم لائبنز نے آزادانہ طور پر کیلکولس کی ترقی کی، جو جدید سائنس اور انجینئرنگ کی بنیاد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریاضی، جو تمام سائنسی علوم کی بنیاد ہے، انسانوں کے ابتدائی گنتی کے طریقوں سے ترقی کرتے ہوئے آج کے پیچیدہ نظاموں تک پہنچی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ریاضی کب ایجاد ہوئی؟</strong></p>
<p>انسانوں نے ہزاروں سال قبل گنتی کرنا شروع کی۔ افریقہ کے کانگو علاقے سے دریافت ہونے والی اشانگو ہڈی، جو تقریباً 20,000 سال پرانی ہے، اس پر کٹے ہوئے نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی انسان گنتی کرتے تھے۔ اسی طرح، جنوبی افریقہ سے ملنے والی لیبومبو ہڈی، جو تقریباً 43,000 سال پرانی ہے، اس پر بھی کٹے ہوئے نشانات ہیں، جو ممکنہ طور پر چاند کے مہینے یا حیض کے دنوں کی گنتی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/1215522745089d6.webp'  alt='   ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30445849/">’خدا واقعی موجود ہے‘: سائنسدان نے ثبوت کیلئے ریاضیاتی فارمولا پیش کردیا</a></p>
<p>قدیم سومیری باشندوں نے تقریباً 4500 سے 1900 قبل مسیح کے درمیان کیلکولیفارم لکھائی اور 60 کی بنیاد پر عددی نظام ایجاد کیا، جو آج بھی وقت کی پیمائش اور مثلثیات میں استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے حساب، الجبرا، اور جیومیٹری کے بنیادی اصول وضع کیے، جو زمین کی پیمائش اور آبپاشی کے نظاموں کے لیے ضروری تھے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/150915/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%8c%db%81%d9%88%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba%d8%8c-%d9%85%d8%b3%db%8c%d8%ad%db%8c%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86">سائنس میں یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کا کردار</a></p>
<p>ریاضی کی بنیادی جڑیں قدیم یونان، مصر، اور بھارت جیسے تہذیبوں میں موجود تھیں۔ تاہم، اسلامی دنیا نے ان علوم کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ ان میں بہتری بھی کی۔ اسلامی عہد میں، مسلمان علماء نے ریاضی اور سائنسی علوم کو بہت زیادہ فروغ دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/12160935c8fa620.webp'  alt='ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ریاضی دان محمد ابن موسیٰ الخوارزمی</figcaption>
    </figure></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/137315/%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85-%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%88%d9%84-%db%8c%d8%b9%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%85%db%8c">کیا آپ جانتے ہیں ’ٹائم ٹریول‘ یعنی وقت میں سفر کرنا کس طرح ممکن ہے؟</a></p>
<p>ریاضی کی مزید ترقی مصر، یونان، بھارت، چین، اور اسلامی دنیا میں ہوئی۔ 17ویں صدی کے آخر میں آئزک نیوٹن اور گوٹفریڈ ولیم لائبنز نے آزادانہ طور پر کیلکولس کی ترقی کی، جو جدید سائنس اور انجینئرنگ کی بنیاد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30460358</guid>
      <pubDate>Mon, 12 May 2025 16:11:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/12155217c702e99.webp?r=155306" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/12155217c702e99.webp?r=155306"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بائیولوجی کی کتاب میں اصلی کی جگہ ’لیگو خوردبین‘ چھاپنے پر سندھ بورڈ تنقید کی زد میں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30458715/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حیاتیات کی درسی کتاب کی میں خوردبین (مایکروسکوپ) کی جگہ ”لیگو“ (LEGO) سے بنے ماڈل کی تصویر چھاپنے پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ریڈٹ“ پر جاری ہونے کے بعد یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور سوشل میڈیا پر صارفین نے سندھ بورڈ کی عدم توجہی پر شدید غم و غصہ اور طنزیہ تبصرے شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی صارفین نے بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ”بس اتنا ہی بجٹ ہے ہماری قوم کے خزانے میں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور نے کہا، ”یہ سندھ بورڈ ہے، اور کیا امید رکھ سکتے ہو؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ تیسرے صارف نے مایوسی کے ساتھ لکھا، ”جب بھی سندھ بورڈ کا ذکر آتا ہے، کچھ نیا اور شرمناک ہی سننے کو ملتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/031228329a68847.webp'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین تعلیم، طلبہ اور والدین کی جانب سے اس واقعے کو ادارہ جاتی نااہلی کی ایک اور واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی اور واضح غلطی نظر انداز کیسے ہو گئی اور بغیر کسی جانچ پڑتال کے یہ کتاب طلبہ تک کیسے پہنچ گئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ سندھ بورڈ کی ادارتی صلاحیتوں اور معیار پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں تعلیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حیاتیات کی درسی کتاب کی میں خوردبین (مایکروسکوپ) کی جگہ ”لیگو“ (LEGO) سے بنے ماڈل کی تصویر چھاپنے پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔</strong></p>
<p>”ریڈٹ“ پر جاری ہونے کے بعد یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور سوشل میڈیا پر صارفین نے سندھ بورڈ کی عدم توجہی پر شدید غم و غصہ اور طنزیہ تبصرے شروع کر دیے۔</p>
<p>کئی صارفین نے بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ”بس اتنا ہی بجٹ ہے ہماری قوم کے خزانے میں“۔</p>
<p>ایک اور نے کہا، ”یہ سندھ بورڈ ہے، اور کیا امید رکھ سکتے ہو؟“</p>
<p>جب کہ تیسرے صارف نے مایوسی کے ساتھ لکھا، ”جب بھی سندھ بورڈ کا ذکر آتا ہے، کچھ نیا اور شرمناک ہی سننے کو ملتا ہے۔“</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2025/05/031228329a68847.webp'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین تعلیم، طلبہ اور والدین کی جانب سے اس واقعے کو ادارہ جاتی نااہلی کی ایک اور واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی اور واضح غلطی نظر انداز کیسے ہو گئی اور بغیر کسی جانچ پڑتال کے یہ کتاب طلبہ تک کیسے پہنچ گئی؟</p>
<p>یہ واقعہ سندھ بورڈ کی ادارتی صلاحیتوں اور معیار پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں تعلیمی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30458715</guid>
      <pubDate>Sat, 03 May 2025 12:30:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/05/03122803b30c06f.webp?r=123009" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/05/03122803b30c06f.webp?r=123009"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات ملتوی، بورڈ کا نیا شیڈول جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30457050/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے چیئرمین کی ہدایت پر 28 اپریل سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات برائے 2025 مؤخر کر دیے ہیں۔ بورڈ کے ترجمان کے مطابق اب یہ امتحانات 5 مئی 2025ء سے شروع ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے امتحانات کے آغاز کی تاریخ میں تبدیلی کی گئی ہے، تاکہ امتحانی مراکز پر جاری میٹرک کے امتحانات کے عمل کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔ بعض مراکز ایسے ہیں جہاں اس وقت بھی میٹرک کے امتحانات جاری ہیں، اس لیے انٹر کے امتحانات کے آغاز میں چند روز کی تاخیر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں امتحانی پرچوں میں گریس مارکس دینے کے عمل پر بھی کام جاری ہے، تاکہ طلبہ کو غیر معمولی حالات میں سہولت فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے طلبہ اور والدین سے گزارش کی ہے کہ وہ نئے شیڈول کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھیں اور بورڈ کی جاری کردہ ہدایات پر مکمل عمل کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے چیئرمین کی ہدایت پر 28 اپریل سے شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات برائے 2025 مؤخر کر دیے ہیں۔ بورڈ کے ترجمان کے مطابق اب یہ امتحانات 5 مئی 2025ء سے شروع ہوں گے۔</strong></p>
<p>ترجمان کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے امتحانات کے آغاز کی تاریخ میں تبدیلی کی گئی ہے، تاکہ امتحانی مراکز پر جاری میٹرک کے امتحانات کے عمل کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔ بعض مراکز ایسے ہیں جہاں اس وقت بھی میٹرک کے امتحانات جاری ہیں، اس لیے انٹر کے امتحانات کے آغاز میں چند روز کی تاخیر کی گئی ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں امتحانی پرچوں میں گریس مارکس دینے کے عمل پر بھی کام جاری ہے، تاکہ طلبہ کو غیر معمولی حالات میں سہولت فراہم کی جا سکے۔</p>
<p>اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے طلبہ اور والدین سے گزارش کی ہے کہ وہ نئے شیڈول کے مطابق اپنی تیاری جاری رکھیں اور بورڈ کی جاری کردہ ہدایات پر مکمل عمل کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30457050</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Apr 2025 13:54:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قیصر عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/261353499b353a9.webp?r=135438" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/261353499b353a9.webp?r=135438"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئٹہ: کرایہ نہ ملنے پر اسکول کو تالہ، طالبات اور اساتذہ کو نکال دیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30456569/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ میں بروری روڈ پر واقع گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کلی ابراہیم زئی کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب عمارت کے مالک نے محکمہ تعلیم کی جانب سے طویل عرصے سے کرایہ ادا نہ کیے جانے پر اسکول کو تالہ لگا دیا اور طالبات و اساتذہ کو باہر نکال دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمارت کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ کئی مرتبہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام کو کرایے کی عدم ادائیگی کے بارے میں آگاہ کر چکے ہیں، لیکن کسی نے شنوائی نہیں کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت محکمہ تعلیم کی جانب سے ان کے کسی اہل خانہ کو ملازمت دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، مگر وہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30456488/"&gt;ڈی آئی خان میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے فوری طور پر عمارت کے مالک سے رابطہ کیا اور اسکول کا کرایہ اپنی ذاتی جیب سے ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور اس حوالے سے تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30456335/"&gt;مختلف وزارتوں اور محکموں میں ہزاروں سرکاری آسامیاں ختم &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بخت محمد کاکڑ نے اسکول کے تالے کھلوا کر تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کروا دیا ہے، جس سے طالبات اور ان کے والدین نے سکھ کا سانس لیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ میں بروری روڈ پر واقع گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول کلی ابراہیم زئی کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب عمارت کے مالک نے محکمہ تعلیم کی جانب سے طویل عرصے سے کرایہ ادا نہ کیے جانے پر اسکول کو تالہ لگا دیا اور طالبات و اساتذہ کو باہر نکال دیا۔</strong></p>
<p>عمارت کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ کئی مرتبہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام کو کرایے کی عدم ادائیگی کے بارے میں آگاہ کر چکے ہیں، لیکن کسی نے شنوائی نہیں کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت محکمہ تعلیم کی جانب سے ان کے کسی اہل خانہ کو ملازمت دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، مگر وہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30456488/">ڈی آئی خان میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ </a></strong></p>
<p>واقعے کے بعد صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے فوری طور پر عمارت کے مالک سے رابطہ کیا اور اسکول کا کرایہ اپنی ذاتی جیب سے ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>وزیر صحت کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور اس حوالے سے تمام مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30456335/">مختلف وزارتوں اور محکموں میں ہزاروں سرکاری آسامیاں ختم </a></strong></p>
<p>بخت محمد کاکڑ نے اسکول کے تالے کھلوا کر تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز کروا دیا ہے، جس سے طالبات اور ان کے والدین نے سکھ کا سانس لیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30456569</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Apr 2025 13:33:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مجیب احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/24133106df51bae.webp?r=133202" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/24133106df51bae.webp?r=133202"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں کی اسکالرشپ لےکر فرار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30455290/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں روپے کی اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی سروس جوائن کیے بغیر مفرور ہو گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان سے رقوم کی وصولی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سمیت متعلقہ اداروں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق، مفرور اساتذہ کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کروانے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو بھی خط ارسال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے مطابق، مجموعی طور پر 56 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لیے کروڑوں روپے کی اسکالرشپ فراہم کی گئی تھی، جن میں سے 12 اساتذہ اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد واپس آ کر ڈیوٹی پر نہیں آئے۔ معاہدے کے مطابق ان اساتذہ کو پی ایچ ڈی کے بعد کم از کم پانچ سال یونیورسٹی میں سروس دینی تھی، بصورت دیگر اسکالرشپ کی تمام رقم واپس کرنا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30452047/"&gt;غیرقانونی مقیم افراد کیخلاف پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں گرینڈ آپریشن&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق مفرور اساتذہ میں شامل افراد اور واجب الادا رقوم درج ذیل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرح ستار (جی آئی ایس سینٹر): 70 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید محسن علی (جی آئی ایس سینٹر): 1 کروڑ 40 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرن عائشہ (انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز): 1 کروڑ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابعہ عباد (شعبہ ایم ایم جی): 90 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ خرم خورشید (آئی کیو ٹی ایم): 84 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمائلہ اسحاق (ہیلی کالج آف کامرس): 1 کروڑ 61 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان رحیم (سنٹر فار کول ٹیکنالوجی): 72 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان عزیز (کالج آف انجینئرنگ): 90 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد نواز (جی آئی ایس): 72 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جویریہ اقبال (پی یو سی آئی ٹی): 60 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیماب آرا (ایڈمنسٹریٹو سائنسز): 1 کروڑ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سامعہ محمود: 1 کروڑ 16 لاکھ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب یونیورسٹی نے ان تمام نادہندہ اساتذہ کو سروس سے برطرف بھی کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں روپے کی اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی سروس جوائن کیے بغیر مفرور ہو گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان سے رقوم کی وصولی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سمیت متعلقہ اداروں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق، مفرور اساتذہ کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کروانے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو بھی خط ارسال کیا جائے گا۔</p>
<p>یونیورسٹی کے مطابق، مجموعی طور پر 56 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لیے کروڑوں روپے کی اسکالرشپ فراہم کی گئی تھی، جن میں سے 12 اساتذہ اسکالرشپ حاصل کرنے کے بعد واپس آ کر ڈیوٹی پر نہیں آئے۔ معاہدے کے مطابق ان اساتذہ کو پی ایچ ڈی کے بعد کم از کم پانچ سال یونیورسٹی میں سروس دینی تھی، بصورت دیگر اسکالرشپ کی تمام رقم واپس کرنا تھی۔</p>
<p><strong><a href="https://www.aaj.tv/news/30452047/">غیرقانونی مقیم افراد کیخلاف پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں گرینڈ آپریشن</a></strong></p>
<p>یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق مفرور اساتذہ میں شامل افراد اور واجب الادا رقوم درج ذیل ہیں۔</p>
<p>فرح ستار (جی آئی ایس سینٹر): 70 لاکھ</p>
<p>سید محسن علی (جی آئی ایس سینٹر): 1 کروڑ 40 لاکھ</p>
<p>کرن عائشہ (انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز): 1 کروڑ</p>
<p>رابعہ عباد (شعبہ ایم ایم جی): 90 لاکھ</p>
<p>خواجہ خرم خورشید (آئی کیو ٹی ایم): 84 لاکھ</p>
<p>شمائلہ اسحاق (ہیلی کالج آف کامرس): 1 کروڑ 61 لاکھ</p>
<p>عثمان رحیم (سنٹر فار کول ٹیکنالوجی): 72 لاکھ</p>
<p>سلمان عزیز (کالج آف انجینئرنگ): 90 لاکھ</p>
<p>محمد نواز (جی آئی ایس): 72 لاکھ</p>
<p>جویریہ اقبال (پی یو سی آئی ٹی): 60 لاکھ</p>
<p>سیماب آرا (ایڈمنسٹریٹو سائنسز): 1 کروڑ</p>
<p>سامعہ محمود: 1 کروڑ 16 لاکھ</p>
<p>پنجاب یونیورسٹی نے ان تمام نادہندہ اساتذہ کو سروس سے برطرف بھی کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30455290</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Apr 2025 13:04:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہما بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/04/19125941e2f503b.webp?r=130208" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/04/19125941e2f503b.webp?r=130208"/>
        <media:title>فائل فوٹیج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے نجی میڈیکل کالجوں میں فیس کی حد مقرر کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30450467/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے ملک بھر کے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ فیس کو محدود کرتے ہوئے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز کے لیے 18 لاکھ روپے کی حد مقرر کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کا اعلان ایک سرکاری اعلامیے میں کیا گیا، جس کے مطابق فیسوں میں کنٹرول اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجی اداروں کو اپنی مالی تفصیلات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو فراہم کرنا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق، نجی میڈیکل کالجوں کو فیسوں میں سالانہ اضافہ صرف کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ غیر ضروری فیسوں میں اضافے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی فیصلے کو والدین اور طلبہ کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے مہنگی میڈیکل تعلیم پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اس فیصلے کی منظوری دی گئی تاکہ نجی میڈیکل کالجوں میں تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے اس اقدام کو طلبہ اور ان کے والدین نے سراہا ہے، کیونکہ اس سے مہنگی فیسوں کا مسئلہ حل ہونے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے ملک بھر کے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ فیس کو محدود کرتے ہوئے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز کے لیے 18 لاکھ روپے کی حد مقرر کر دی ہے۔</p>
<p>اس فیصلے کا اعلان ایک سرکاری اعلامیے میں کیا گیا، جس کے مطابق فیسوں میں کنٹرول اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجی اداروں کو اپنی مالی تفصیلات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو فراہم کرنا ہوں گی۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق، نجی میڈیکل کالجوں کو فیسوں میں سالانہ اضافہ صرف کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ غیر ضروری فیسوں میں اضافے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>حکومتی فیصلے کو والدین اور طلبہ کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے مہنگی میڈیکل تعلیم پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اس فیصلے کی منظوری دی گئی تاکہ نجی میڈیکل کالجوں میں تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔</p>
<p>حکومت کے اس اقدام کو طلبہ اور ان کے والدین نے سراہا ہے، کیونکہ اس سے مہنگی فیسوں کا مسئلہ حل ہونے کی امید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30450467</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Mar 2025 18:28:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمرانہ کومل)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/2718283715974f0.webp?r=182857" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/2718283715974f0.webp?r=182857"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محکمہ تعلیم سندھ کا حکم، خواتین اساتذہ کو زیادہ میک اپ کرنے، ہائی ہیل اور زیادہ زیورات پہننے سے روک دیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30450286/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محکمہ تعلیم سندھ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اسکول اساتذہ کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرلیا ہے، جس میں لباس، رویے اور پیشہ ورانہ اصولوں سے متعلق رہنما اصول دیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ تعلیم کی گائیڈ لائن کے مطابق، اساتذہ کو ایسا لباس پہننے کی ہدایت دی گئی ہے جو پیشہ ورانہ اقدار اور ثقافتی احترام کی عکاسی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطہ اخلاق کے مطابق خواتین اساتذہ کو زیادہ میک اپ اور زیورات پہننے سے اجتناب برتنے اور ہائی ہیلز کے بجائے روایتی لباس پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ مرد اساتذہ کے لیے ٹی شرٹ اور جینز پہن کر اسکول آنے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضابطہ اخلاق کے تحت، اسکول کے احاطے میں گٹکا، نسوار، ماوا، سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کو طلبہ سے ذاتی کام کروانے اور جسمانی سزا دینے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اساتذہ کو اسکول انتظامیہ اور دیگر تدریسی و غیر تدریسی عملے سے احترام کے ساتھ پیش آنے اور مثبت و پیشہ ورانہ لہجہ اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید برآں، طلبہ کے ساتھ پیشہ ورانہ حدود برقرار رکھنے اور کسی قسم کی جانبداری یا امتیازی سلوک سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ تمام طلبہ کو مساوی برتاؤ حاصل ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>محکمہ تعلیم سندھ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اسکول اساتذہ کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرلیا ہے، جس میں لباس، رویے اور پیشہ ورانہ اصولوں سے متعلق رہنما اصول دیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>محکمہ تعلیم کی گائیڈ لائن کے مطابق، اساتذہ کو ایسا لباس پہننے کی ہدایت دی گئی ہے جو پیشہ ورانہ اقدار اور ثقافتی احترام کی عکاسی کرے۔</p>
<p>ضابطہ اخلاق کے مطابق خواتین اساتذہ کو زیادہ میک اپ اور زیورات پہننے سے اجتناب برتنے اور ہائی ہیلز کے بجائے روایتی لباس پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ مرد اساتذہ کے لیے ٹی شرٹ اور جینز پہن کر اسکول آنے سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے۔</p>
<p>ضابطہ اخلاق کے تحت، اسکول کے احاطے میں گٹکا، نسوار، ماوا، سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اساتذہ کو طلبہ سے ذاتی کام کروانے اور جسمانی سزا دینے سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>اساتذہ کو اسکول انتظامیہ اور دیگر تدریسی و غیر تدریسی عملے سے احترام کے ساتھ پیش آنے اور مثبت و پیشہ ورانہ لہجہ اپنانے کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید برآں، طلبہ کے ساتھ پیشہ ورانہ حدود برقرار رکھنے اور کسی قسم کی جانبداری یا امتیازی سلوک سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ تمام طلبہ کو مساوی برتاؤ حاصل ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30450286</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Mar 2025 23:51:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/26233633a64beb8.webp?r=233713" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/26233633a64beb8.webp?r=233713"/>
        <media:title>علامتی تصویر بزریعہ اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر اعلیٰ پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم 2025 میں اپلائی کیسے کریں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30444782/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار مستحق طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق بی ایس پروگرام میں داخل سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو 13ویں جنریشن کے کور آئی 7 لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آن لائن درخواستوں کے لیے باضابطہ لنک جاری کر دیا گیا ہے، اور مزید تفصیلات پنجاب ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسکیم مسلم لیگ (ن) حکومت کا ایک نمایاں منصوبہ ہے، جسے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دور وزارت اعلیٰ میں شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="درخواست-دینے-کا-طریقہ" href="#درخواست-دینے-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;درخواست دینے کا طریقہ:&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;پنجاب ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;”سی ایم لیپ ٹاپ پروگرام“ پر کلک کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;”Apply Now“ پر کلک کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ایک پورٹل کھلے گا، جہاں طلبہ کو اپنی تفصیلات بھر کر اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ:&lt;/strong&gt; درخواست گزار کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC) لازمی طور پر اسی کے نام پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="درخواست-کے-لیے-درکار-معلومات" href="#درخواست-کے-لیے-درکار-معلومات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;درخواست کے لیے درکار معلومات:&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;نام&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ای میل&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;فون نمبر&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;شناختی کارڈ نمبر (CNIC)&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پاس ورڈ سیٹ کریں&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;پاس ورڈ دوبارہ درج کریں&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کیپچا کوڈ درج کریں&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;”Sign Up“ پر کلک کریں&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اہلیت-کے-معیار" href="#اہلیت-کے-معیار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اہلیت کے معیار:&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;پنجاب کے کسی بھی ضلع کا ڈومیسائل ہونا لازمی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;کسی سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں بی ایس پروگرام کے پہلے یا دوسرے سمسٹر میں داخلہ ہونا چاہیے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز/یونیورسٹی میں پہلے پروفیشنل (اکیڈمک سیشن 2024) میں داخلہ ہونا ضروری ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سرکاری یونیورسٹیز یا کالجز کے طلبہ کے لیے انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 65 فیصد نمبر ہونا ضروری ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز/یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 80 فیصد نمبر ہونا ضروری ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;درخواست گزار پہلے کسی لیپ ٹاپ اسکیم سے مستفید نہ ہو چکا ہو۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;مزید معلومات اور درخواست جمع کرانے کے لیے پنجاب ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار مستحق طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق بی ایس پروگرام میں داخل سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو 13ویں جنریشن کے کور آئی 7 لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>آن لائن درخواستوں کے لیے باضابطہ لنک جاری کر دیا گیا ہے، اور مزید تفصیلات پنجاب ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔</p>
<p>یہ اسکیم مسلم لیگ (ن) حکومت کا ایک نمایاں منصوبہ ہے، جسے موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دور وزارت اعلیٰ میں شروع کیا تھا۔</p>
<h3><a id="درخواست-دینے-کا-طریقہ" href="#درخواست-دینے-کا-طریقہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>درخواست دینے کا طریقہ:</strong></h3>
<ul>
<li>پنجاب ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔</li>
<li>”سی ایم لیپ ٹاپ پروگرام“ پر کلک کریں۔</li>
<li>”Apply Now“ پر کلک کریں۔</li>
<li>ایک پورٹل کھلے گا، جہاں طلبہ کو اپنی تفصیلات بھر کر اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔</li>
</ul>
<p><strong>نوٹ:</strong> درخواست گزار کا شناختی کارڈ نمبر (CNIC) لازمی طور پر اسی کے نام پر ہونا چاہیے۔</p>
<h3><a id="درخواست-کے-لیے-درکار-معلومات" href="#درخواست-کے-لیے-درکار-معلومات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>درخواست کے لیے درکار معلومات:</strong></h3>
<ul>
<li>نام</li>
<li>ای میل</li>
<li>فون نمبر</li>
<li>شناختی کارڈ نمبر (CNIC)</li>
<li>پاس ورڈ سیٹ کریں</li>
<li>پاس ورڈ دوبارہ درج کریں</li>
<li>کیپچا کوڈ درج کریں</li>
<li>”Sign Up“ پر کلک کریں</li>
</ul>
<h3><a id="اہلیت-کے-معیار" href="#اہلیت-کے-معیار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اہلیت کے معیار:</strong></h3>
<ul>
<li>پنجاب کے کسی بھی ضلع کا ڈومیسائل ہونا لازمی ہے۔</li>
<li>کسی سرکاری یونیورسٹی یا کالج میں بی ایس پروگرام کے پہلے یا دوسرے سمسٹر میں داخلہ ہونا چاہیے۔</li>
<li>سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز/یونیورسٹی میں پہلے پروفیشنل (اکیڈمک سیشن 2024) میں داخلہ ہونا ضروری ہے۔</li>
<li>سرکاری یونیورسٹیز یا کالجز کے طلبہ کے لیے انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 65 فیصد نمبر ہونا ضروری ہے۔</li>
<li>سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز/یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے انٹرمیڈیٹ میں کم از کم 80 فیصد نمبر ہونا ضروری ہے۔</li>
<li>درخواست گزار پہلے کسی لیپ ٹاپ اسکیم سے مستفید نہ ہو چکا ہو۔</li>
</ul>
<p>مزید معلومات اور درخواست جمع کرانے کے لیے پنجاب ہائر ایجوکیشن کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30444782</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Mar 2025 14:33:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/03/031432521aaa0a4.webp?r=143323" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/03/031432521aaa0a4.webp?r=143323"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں کو ایک ماہ میں مستقل وائس چانسلرز مل جائیں گے، مینا خان آفریدی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30442911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے اور ایک مہینے کے اندر تمام یونیورسٹیوں کو مستقل وائس چانسلرز مل جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینا خان آفریدی نے آج نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یونیورسٹیوں کے مالی بحران پر قابو پانے کے لیے ایک جامع معاشی پلان تیار کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد کے بعد آئندہ مالی سال تک یونیورسٹیوں کی مالی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ میں رد و بدل سے متعلق سوال پر مینا خان آفریدی نے کہا کہ اس کا فیصلہ بانی چیئرمین کریں گے، وہ جس کو چاہیں، کوئی بھی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر نے وزیر صحت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وزیر صحت اچھا کام کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں مثبت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے اور ایک مہینے کے اندر تمام یونیورسٹیوں کو مستقل وائس چانسلرز مل جائیں گے۔</strong></p>
<p>مینا خان آفریدی نے آج نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یونیورسٹیوں کے مالی بحران پر قابو پانے کے لیے ایک جامع معاشی پلان تیار کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد کے بعد آئندہ مالی سال تک یونیورسٹیوں کی مالی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔</p>
<p>کابینہ میں رد و بدل سے متعلق سوال پر مینا خان آفریدی نے کہا کہ اس کا فیصلہ بانی چیئرمین کریں گے، وہ جس کو چاہیں، کوئی بھی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔</p>
<p>صوبائی وزیر نے وزیر صحت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں وزیر صحت اچھا کام کر رہے ہیں اور صحت کے شعبے میں مثبت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30442911</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Feb 2025 13:46:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/2213390207b4fff.webp?r=133930" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/2213390207b4fff.webp?r=133930"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور میں غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی، جعلی حاضری پر سکول ہیڈز کے تبادلے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30440978/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پشاور نے مختلف سرکاری سکولوں کے دورے پر ڈیوٹی سے غیر حاضر کئی اساتذہ اور عملے کے خلاف کارروائی کے احکلماات جاری کئے ہیں۔ غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی جبکہ جعلی حاضری میں ملوث سکول ہیڈز کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے مطابق گورنمنٹ پرائمری سکول جٹی پایاں کے دو اساتذہ فیزیکلی غیر حاضر تھے، تاہم ان کی حاضری رجسٹر میں درج کی گئی تھی۔ اس بے ضابطگی پر دونوں اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ اسی طرح گورنمنٹ پرائمری سکول شاہ عالم میں چوکیدار غیر حاضر پایا گیا، جس پر اس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، دو سرکاری سکولوں میں صفائی کی ناقص صورتحال اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر وہاں کے ہیڈ ٹیچرز کے تبادلے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران کئی سکولوں میں چوکیدار اور اساتذہ غیر حاضر پائے گئے جبکہ متعدد طلبہ کلاس رومز میں موجود ہونے کے بجائے سکول کے احاطے میں گھومتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پشاور نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے مزید اچانک دورے کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی استاد یا عملہ ڈیوٹی میں غفلت برتتے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پشاور نے مختلف سرکاری سکولوں کے دورے پر ڈیوٹی سے غیر حاضر کئی اساتذہ اور عملے کے خلاف کارروائی کے احکلماات جاری کئے ہیں۔ غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی جبکہ جعلی حاضری میں ملوث سکول ہیڈز کے تبادلے کر دیے گئے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے مطابق گورنمنٹ پرائمری سکول جٹی پایاں کے دو اساتذہ فیزیکلی غیر حاضر تھے، تاہم ان کی حاضری رجسٹر میں درج کی گئی تھی۔ اس بے ضابطگی پر دونوں اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ اسی طرح گورنمنٹ پرائمری سکول شاہ عالم میں چوکیدار غیر حاضر پایا گیا، جس پر اس کی ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، دو سرکاری سکولوں میں صفائی کی ناقص صورتحال اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر وہاں کے ہیڈ ٹیچرز کے تبادلے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>دورے کے دوران کئی سکولوں میں چوکیدار اور اساتذہ غیر حاضر پائے گئے جبکہ متعدد طلبہ کلاس رومز میں موجود ہونے کے بجائے سکول کے احاطے میں گھومتے نظر آئے۔</p>
<p>ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پشاور نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے مزید اچانک دورے کیے جائیں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی استاد یا عملہ ڈیوٹی میں غفلت برتتے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30440978</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Feb 2025 12:41:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/13124046c72fa8e.webp?r=124120" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/13124046c72fa8e.webp?r=124120"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور میں دسویں جماعت کے امتحانات ملتوی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30439237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور میں دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ تعلیمی بورڈ کے مطابق مارچ میں ہونے والے میٹرک امتحانات رمضان کے بعد منعقد ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر امتحانات کا شیڈول رمضان کے بعد رکھا گیا ہے تاکہ طلبہ کو سہولت فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی بورڈ کا کہنا ہے کہ طلبہ کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور میں دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ تعلیمی بورڈ کے مطابق مارچ میں ہونے والے میٹرک امتحانات رمضان کے بعد منعقد ہوں گے۔</strong></p>
<p>وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر امتحانات کا شیڈول رمضان کے بعد رکھا گیا ہے تاکہ طلبہ کو سہولت فراہم کی جا سکے۔</p>
<p>تعلیمی بورڈ کا کہنا ہے کہ طلبہ کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے امتحانات کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30439237</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Feb 2025 13:57:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کاشان اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2025/02/05135704537335e.webp?r=135750" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2025/02/05135704537335e.webp?r=135750"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
