<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 21:15:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 21:15:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ 2026 کی فاتح اور رنر اپ ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملے گی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509404/how-much-prize-money-will-the-winner-and-runner-up-team-of-the-fifa-world-cup-2026-receive</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ثابت ہو رہا ہے، جہاں ٹیموں، میچوں اور مجموعی مالی حجم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے 48 ٹیموں پر مشتمل اس ایونٹ کے لیے فیفا نے مجموعی طور پر 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ مالی تقسیم کا اعلان کیا ہے جب کہ کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی انعامی رقم کا فنڈ 65 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جو 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں آج اسپین اور ارجنٹینا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گے، جہاں نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی فٹبال ٹرافی کا فیصلہ ہوگا بلکہ ریکارڈ 5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم بھی داؤ پر لگی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے مطابق ورلڈ کپ 2026 کی فاتح ٹیم کی قومی فٹبال فیڈریشن کو 5 کروڑ امریکی ڈالر جب کہ رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔ اس طرح چیمپئن اور رنر اپ کے درمیان انعامی رقم کا فرق ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506330/cricket-football-t20-world-cup-2026-icc-womens-t20-world-cup-sports-economy-fifa-worldcup-2026-fifa-prize-money-sports-business'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رواں برس امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 48 ٹیمیں شریک ہیں، جس کے باعث ایونٹ کے حجم کے ساتھ مالی وسائل میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے مطابق مجموعی 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی مالی تقسیم میں کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی انعامی رقم، شریک ٹیموں کے لیے تیاری کے اخراجات، اضافی مالی معاونت اور دیگر پروگرام شامل ہیں۔ ان میں صرف کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی انعامی رقم کا فنڈ 65 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے، جو قطر میں منعقدہ 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے اعلان کیا ہے کہ ٹورنامنٹ میں شریک ہر قومی فٹبال فیڈریشن کو صرف ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کی ضمانتی رقم فراہم کی گئی جب کہ ٹیموں کی تیاری کے اخراجات کے لیے فی ٹیم 25 لاکھ ڈالر بھی مختص کیے گئے۔ اس کے علاوہ وفود کے سفری اور انتظامی اخراجات سمیت دیگر سہولیات کے لیے بھی اضافی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509261/argentina-or-spain-who-will-win-the-fifa-world-cup-pets-make-fascinating-predictions'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509261"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹورنامنٹ کے مختلف مراحل کے لیے بھی الگ الگ انعامی رقوم مقرر کی گئی ہیں۔ راؤنڈ آف 32 تک پہنچنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر، پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) کھیلنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر، کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر، چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر، تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، رنر اپ کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر جب کہ عالمی چیمپئن کو 5 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری پوزیشن کے میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو 4 کے مقابلے میں 6 گول سے شکست دے کر برانز میڈل اپنے نام کیا۔ اس کامیابی پر انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملے گی جب کہ چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی فرانس کی ٹیم کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے مطابق کوارٹر فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں، جن میں ناروے، بیلجیئم، مراکش اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، کو فی ٹیم ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔ اسی طرح نویں سے سولہویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر، 17 ویں سے 32 ویں نمبر تک رہنے والی ٹیموں کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر جب کہ 33 ویں سے 48 ویں پوزیشن تک آنے والی ہر ٹیم کو 90 لاکھ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508679/why-has-argentinas-football-team-suddenly-become-the-target-of-the-football-world'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا کا کہنا ہے کہ انعامی رقم براہِ راست متعلقہ قومی فٹبال فیڈریشنز کو ادا کی جاتی ہے جب کہ کھلاڑیوں کو ملنے والے بونس کا فیصلہ ہر ملک کی فٹبال فیڈریشن اور ٹیم کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ فیفا کے &lt;strong&gt;کلب بینیفٹس پروگرام&lt;/strong&gt; کے تحت قومی ٹیموں کو اپنے کھلاڑی فراہم کرنے والے کلبوں میں بھی مجموعی طور پر 35 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تقسیم کیے جائیں گے، جو اس پروگرام کی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے ورلڈ کپ میں چیمپئن ارجنٹینا کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جب کہ 2018 کے عالمی چیمپئن فرانس کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2026 کے ورلڈ کپ میں فاتح ٹیم کے لیے مقرر کردہ 5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم عالمی کپ کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی انعامی رقم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ثابت ہو رہا ہے، جہاں ٹیموں، میچوں اور مجموعی مالی حجم میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے 48 ٹیموں پر مشتمل اس ایونٹ کے لیے فیفا نے مجموعی طور پر 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ مالی تقسیم کا اعلان کیا ہے جب کہ کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی انعامی رقم کا فنڈ 65 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مقرر کیا گیا ہے، جو 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں آج اسپین اور ارجنٹینا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گے، جہاں نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی فٹبال ٹرافی کا فیصلہ ہوگا بلکہ ریکارڈ 5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم بھی داؤ پر لگی ہوگی۔</p>
<p>فیفا کے مطابق ورلڈ کپ 2026 کی فاتح ٹیم کی قومی فٹبال فیڈریشن کو 5 کروڑ امریکی ڈالر جب کہ رنر اپ ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔ اس طرح چیمپئن اور رنر اپ کے درمیان انعامی رقم کا فرق ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506330/cricket-football-t20-world-cup-2026-icc-womens-t20-world-cup-sports-economy-fifa-worldcup-2026-fifa-prize-money-sports-business'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506330"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رواں برس امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 48 ٹیمیں شریک ہیں، جس کے باعث ایونٹ کے حجم کے ساتھ مالی وسائل میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>فیفا کے مطابق مجموعی 87 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی مالی تقسیم میں کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی انعامی رقم، شریک ٹیموں کے لیے تیاری کے اخراجات، اضافی مالی معاونت اور دیگر پروگرام شامل ہیں۔ ان میں صرف کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی انعامی رقم کا فنڈ 65 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہے، جو قطر میں منعقدہ 2022 کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>فیفا نے اعلان کیا ہے کہ ٹورنامنٹ میں شریک ہر قومی فٹبال فیڈریشن کو صرف ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کی ضمانتی رقم فراہم کی گئی جب کہ ٹیموں کی تیاری کے اخراجات کے لیے فی ٹیم 25 لاکھ ڈالر بھی مختص کیے گئے۔ اس کے علاوہ وفود کے سفری اور انتظامی اخراجات سمیت دیگر سہولیات کے لیے بھی اضافی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509261/argentina-or-spain-who-will-win-the-fifa-world-cup-pets-make-fascinating-predictions'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509261"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹورنامنٹ کے مختلف مراحل کے لیے بھی الگ الگ انعامی رقوم مقرر کی گئی ہیں۔ راؤنڈ آف 32 تک پہنچنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر، پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) کھیلنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر، کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیم کو ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر، چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر، تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر، رنر اپ کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر جب کہ عالمی چیمپئن کو 5 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔</p>
<p>تیسری پوزیشن کے میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو 4 کے مقابلے میں 6 گول سے شکست دے کر برانز میڈل اپنے نام کیا۔ اس کامیابی پر انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملے گی جب کہ چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی فرانس کی ٹیم کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔</p>
<p>فیفا کے مطابق کوارٹر فائنل تک پہنچنے والی ٹیموں، جن میں ناروے، بیلجیئم، مراکش اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، کو فی ٹیم ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔ اسی طرح نویں سے سولہویں پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر، 17 ویں سے 32 ویں نمبر تک رہنے والی ٹیموں کو ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر جب کہ 33 ویں سے 48 ویں پوزیشن تک آنے والی ہر ٹیم کو 90 لاکھ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508679/why-has-argentinas-football-team-suddenly-become-the-target-of-the-football-world'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیفا کا کہنا ہے کہ انعامی رقم براہِ راست متعلقہ قومی فٹبال فیڈریشنز کو ادا کی جاتی ہے جب کہ کھلاڑیوں کو ملنے والے بونس کا فیصلہ ہر ملک کی فٹبال فیڈریشن اور ٹیم کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ فیفا کے <strong>کلب بینیفٹس پروگرام</strong> کے تحت قومی ٹیموں کو اپنے کھلاڑی فراہم کرنے والے کلبوں میں بھی مجموعی طور پر 35 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تقسیم کیے جائیں گے، جو اس پروگرام کی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے ورلڈ کپ میں چیمپئن ارجنٹینا کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جب کہ 2018 کے عالمی چیمپئن فرانس کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم ملی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2026 کے ورلڈ کپ میں فاتح ٹیم کے لیے مقرر کردہ 5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم عالمی کپ کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی انعامی رقم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509404</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 18:12:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19180753737fd94.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19180753737fd94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈکپ 2026: ارجنٹینا کے لیونل میسی ایک اور سنگ میل عبور کرنے کے قریب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509399/fifa-world-cup-2026-argentinas-lionel-messi-close-to-reaching-another-milestone</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہیں۔ اگر انہیں فائنل میں ابتدائی الیون کا حصہ بنایا گیا تو وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں تین فائنلز کا آغاز کرنے والے پہلے فٹبالر بن جائیں گے جب کہ انہیں مسلسل دوسرے ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کا بھی موقع ملے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر اور کپتان لیونل میسی ایک بار پھر ورلڈ کپ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوانے کے قریب ہیں، اگر میسی 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹینا کی ابتدائی الیون میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 3 فائنلز کا آغاز کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے، اس کے ساتھ ہی وہ برازیل کے سابق کپتان کافو سے بھی آگے نکل جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509370/argentina-vs-spain-who-became-world-champions-when-and-how-many-times'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509370"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیونل میسی اس سے قبل 2014 کے فیفا ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی کے خلاف ارجنٹینا کی جانب سے ابتدائی الیون میں شامل تھے، جہاں ان کی ٹیم کو اضافی وقت میں 1-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں 2022 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی انہوں نے ابتدا سے کھیلتے ہوئے ارجنٹینا کو فرانس کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 4-2 سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اب 2026 کے فائنل میں اسپین کے خلاف فائنل میں جلوہ گر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب برازیل کے سابق دفاعی کھلاڑی کافو تین ورلڈ کپ فائنلز (1994، 1998 اور 2002) میں شریک رہے تاہم وہ 1994 کے فائنل میں ابتدائی الیون کا حصہ نہیں تھے اور متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے تھے جب کہ 1998 اور 2002 کے فائنلز میں انہوں نے ابتدا سے کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی کے پاس ایک اور منفرد ریکارڈ اپنے نام کرنے کا بھی موقع موجود ہے۔ اگر وہ 2026 کے ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ مسلسل 2 فیفا ورلڈ کپ فائنلز میں گول کرنے والے دنیا کے صرف تیسرے کھلاڑی بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509348/golden-boot-race-takes-a-new-twist-mbappe-overtakes-messi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میسی نے 2022 کے فائنل میں فرانس کے خلاف دو گول کیے تھے جب کہ اس سے قبل برازیل کے ویوا نے 1958 اور 1962 کے ورلڈ کپ فائنلز میں مسلسل گول کیے تھے۔ اسی طرح فرانس کے کیلیان ایمباپے نے 2018 کے فائنل میں گول کیا اور 2022 کے فائنل میں ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر لیونل میسی 2026 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی گول کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو وہ ویوا اور کیلیان ایمباپے کے ساتھ اس منفرد اعزاز کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہیں۔ اگر انہیں فائنل میں ابتدائی الیون کا حصہ بنایا گیا تو وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں تین فائنلز کا آغاز کرنے والے پہلے فٹبالر بن جائیں گے جب کہ انہیں مسلسل دوسرے ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کا بھی موقع ملے گا۔</strong></p>
<p>ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر اور کپتان لیونل میسی ایک بار پھر ورلڈ کپ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوانے کے قریب ہیں، اگر میسی 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ارجنٹینا کی ابتدائی الیون میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 3 فائنلز کا آغاز کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے، اس کے ساتھ ہی وہ برازیل کے سابق کپتان کافو سے بھی آگے نکل جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509370/argentina-vs-spain-who-became-world-champions-when-and-how-many-times'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509370"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لیونل میسی اس سے قبل 2014 کے فیفا ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی کے خلاف ارجنٹینا کی جانب سے ابتدائی الیون میں شامل تھے، جہاں ان کی ٹیم کو اضافی وقت میں 1-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں 2022 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی انہوں نے ابتدا سے کھیلتے ہوئے ارجنٹینا کو فرانس کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 4-2 سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اب 2026 کے فائنل میں اسپین کے خلاف فائنل میں جلوہ گر ہوں گے۔</p>
<p>دوسری جانب برازیل کے سابق دفاعی کھلاڑی کافو تین ورلڈ کپ فائنلز (1994، 1998 اور 2002) میں شریک رہے تاہم وہ 1994 کے فائنل میں ابتدائی الیون کا حصہ نہیں تھے اور متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آئے تھے جب کہ 1998 اور 2002 کے فائنلز میں انہوں نے ابتدا سے کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔</p>
<p>میسی کے پاس ایک اور منفرد ریکارڈ اپنے نام کرنے کا بھی موقع موجود ہے۔ اگر وہ 2026 کے ورلڈ کپ فائنل میں گول کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ مسلسل 2 فیفا ورلڈ کپ فائنلز میں گول کرنے والے دنیا کے صرف تیسرے کھلاڑی بن جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509348/golden-boot-race-takes-a-new-twist-mbappe-overtakes-messi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میسی نے 2022 کے فائنل میں فرانس کے خلاف دو گول کیے تھے جب کہ اس سے قبل برازیل کے ویوا نے 1958 اور 1962 کے ورلڈ کپ فائنلز میں مسلسل گول کیے تھے۔ اسی طرح فرانس کے کیلیان ایمباپے نے 2018 کے فائنل میں گول کیا اور 2022 کے فائنل میں ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔</p>
<p>اب اگر لیونل میسی 2026 کے ورلڈ کپ فائنل میں بھی گول کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو وہ ویوا اور کیلیان ایمباپے کے ساتھ اس منفرد اعزاز کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509399</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 16:53:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1916511472950fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1916511472950fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارجنٹائن یا اسپین؟ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فاتح کا فیصلہ آج ہوگا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509370/argentina-vs-spain-who-became-world-champions-when-and-how-many-times</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 اب اپنے فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں آج رات دنیائے فٹبال کی دو مضبوط ٹیمیں ارجنٹائن اور اسپین فائنل میچ میں ٹرافی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔ اس فائنل مقابلے میں ارجنٹائن کی ٹیم چوتھی بار جبکہ اسپین کی ٹیم دوسری بار ورلڈ چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اترے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن اس سے قبل 1978، 1986 اور 2022 میں عالمی چیمپئن بن چکا ہے، جبکہ اسپین نے 2010 میں پہلی بار ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کا آغاز 1930 میں ہوا تھا اور اب تک کھیلے گئے 22 ٹورنامنٹس میں دنیا کی صرف 8 ٹیمیں ہی ایسی ہیں جو چیمپئن بننے کا خواب پورا کر سکی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509270/fifa-fifa-worldcup-2026-mathematics-in-football-impossiball-adidas-telstar-durlast-trionda-historica-linnovation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509270"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فٹ بال کی دنیا میں سب سے کامیاب ٹیم برازیل کی مانی جاتی ہے، جس نے سب سے زیادہ پانچ بار یعنی سال 1958، 1962، 1970، 1994 اور 2002 میں ورلڈ کپ جیت کر پوری دنیا پر راج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کے بعد جرمنی اور اٹلی چار، چار مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکے ہیں۔ جرمنی نے 1954، 1974، 1990 اور 2014 میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے، جبکہ اٹلی نے 1934، 1938، 1982 اور 2006 میں فائنل میں کامیابی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن تین مرتبہ ورلڈ کپ کی فاتح رہی ہے۔ جنوبی امریکی ٹیم نے پہلی بار 1978 میں اپنے ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ٹرافی جیتی، اس کے بعد 1986 میں میراڈونا کی قیادت میں عالمی چیمپئن بنی، جبکہ 2022 میں لیونل میسی کی قیادت میں تیسری بار یہ اعزاز حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوراگوئے نے ورلڈ کپ کے ابتدائی دور میں دو مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ اس نے 1930 میں پہلے ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا اور پھر 1950 میں دوسری بار عالمی چیمپئن بنا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس بھی فٹبال کی بڑی طاقتوں میں شامل ہے۔ فرانس نے 1998 اور 2018 میں ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی، جبکہ انگلینڈ اور اسپین ایک، ایک مرتبہ عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب ہوئے۔ انگلینڈ نے 1966 میں پہلی اور واحد بار ورلڈ کپ جیتا، جبکہ اسپین نے 2010 میں تاریخ رقم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے فائنل میں ارجنٹائن اور اسپین کی ٹیمیں ایک بار پھر عالمی فٹبال کے سب سے بڑے اعزاز کے لیے آمنے سامنے ہوں گی، جہاں دونوں ٹیموں کے پاس اپنی تاریخ میں ایک اور یادگار باب شامل کرنے کا موقع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار ارجنٹائن چوتھی بار ٹرافی اٹھا کر جرمنی اور اٹلی کے برابر پہنچتا ہے یا اسپین دوسری بار فٹ بال کا بادشاہ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 اب اپنے فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جہاں آج رات دنیائے فٹبال کی دو مضبوط ٹیمیں ارجنٹائن اور اسپین فائنل میچ میں ٹرافی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔ اس فائنل مقابلے میں ارجنٹائن کی ٹیم چوتھی بار جبکہ اسپین کی ٹیم دوسری بار ورلڈ چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اترے گی۔</strong></p>
<p>ارجنٹائن اس سے قبل 1978، 1986 اور 2022 میں عالمی چیمپئن بن چکا ہے، جبکہ اسپین نے 2010 میں پہلی بار ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی تھی۔</p>
<p>اگر فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کا آغاز 1930 میں ہوا تھا اور اب تک کھیلے گئے 22 ٹورنامنٹس میں دنیا کی صرف 8 ٹیمیں ہی ایسی ہیں جو چیمپئن بننے کا خواب پورا کر سکی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509270/fifa-fifa-worldcup-2026-mathematics-in-football-impossiball-adidas-telstar-durlast-trionda-historica-linnovation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509270"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فٹ بال کی دنیا میں سب سے کامیاب ٹیم برازیل کی مانی جاتی ہے، جس نے سب سے زیادہ پانچ بار یعنی سال 1958، 1962، 1970، 1994 اور 2002 میں ورلڈ کپ جیت کر پوری دنیا پر راج کیا۔</p>
<p>برازیل کے بعد جرمنی اور اٹلی چار، چار مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکے ہیں۔ جرمنی نے 1954، 1974، 1990 اور 2014 میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے، جبکہ اٹلی نے 1934، 1938، 1982 اور 2006 میں فائنل میں کامیابی حاصل کی۔</p>
<p>ارجنٹائن تین مرتبہ ورلڈ کپ کی فاتح رہی ہے۔ جنوبی امریکی ٹیم نے پہلی بار 1978 میں اپنے ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ٹرافی جیتی، اس کے بعد 1986 میں میراڈونا کی قیادت میں عالمی چیمپئن بنی، جبکہ 2022 میں لیونل میسی کی قیادت میں تیسری بار یہ اعزاز حاصل کیا۔</p>
<p>یوراگوئے نے ورلڈ کپ کے ابتدائی دور میں دو مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ اس نے 1930 میں پہلے ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا اور پھر 1950 میں دوسری بار عالمی چیمپئن بنا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فرانس بھی فٹبال کی بڑی طاقتوں میں شامل ہے۔ فرانس نے 1998 اور 2018 میں ورلڈ کپ ٹرافی اپنے نام کی، جبکہ انگلینڈ اور اسپین ایک، ایک مرتبہ عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب ہوئے۔ انگلینڈ نے 1966 میں پہلی اور واحد بار ورلڈ کپ جیتا، جبکہ اسپین نے 2010 میں تاریخ رقم کی۔</p>
<p>2026 کے فائنل میں ارجنٹائن اور اسپین کی ٹیمیں ایک بار پھر عالمی فٹبال کے سب سے بڑے اعزاز کے لیے آمنے سامنے ہوں گی، جہاں دونوں ٹیموں کے پاس اپنی تاریخ میں ایک اور یادگار باب شامل کرنے کا موقع ہوگا۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار ارجنٹائن چوتھی بار ٹرافی اٹھا کر جرمنی اور اٹلی کے برابر پہنچتا ہے یا اسپین دوسری بار فٹ بال کا بادشاہ بنتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509370</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 21:06:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19210604bf45251.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19210604bf45251.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/192043178f11e5b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/192043178f11e5b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آگ اور دھویں سے فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل متاثر ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509349/fear-of-football-world-cup-final-being-affected-by-wildfire-smoke-and-haze</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان ہونے والے بڑے مقابلے پر موسم کی صورتحال بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ سے اٹھنے والا دھواں اور امریکا کے نیویارک کے علاقے میں آنے والے شدید طوفانوں نے شائقین اور منتظمین میں تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہی طوفانی نظام اب فضا کو صاف کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل سے قبل ہفتے کے روز شدید بارش، بجلی گرنے اور تیز ہواؤں کے باعث تیاریوں میں مشکلات پیش آئیں۔ اسپین کی ٹیم کا ٹریننگ سیشن بھی علاقے میں آسمانی بجلی کے خطرے کے باعث روکنا پڑا، جبکہ نیویارک/نیوجرسی اسٹیڈیم میں موجود افراد کو طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام اور فیفا نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ فائنل کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم تازہ موسمی پیش گوئی کے مطابق اتوار کو میچ کے وقت حالات بہتر ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509124/alarm-bells-ahead-of-fifa-world-cup-final-new-york-engulfed-in-air-pollution'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ کا دھواں حالیہ دنوں میں امریکا کے شمال مشرقی علاقوں تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث کئی ریاستوں میں فضائی معیار سے متعلق الرٹس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا طوفانی نظام اس دھوئیں کو علاقے سے دور لے جانے میں مدد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر موسمیات ٹائلر روئز نے خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/world-cup-final-smoke-21b616e6fef1af907abef4aba6f5dfb4"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس &lt;/a&gt;سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”کچھ ہلکا دھواں باقی رہ سکتا ہے جس سے فضا قدرے دھندلی نظر آ سکتی ہے، لیکن یہ بہت معمولی ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”وہ دھواں جو بہت زیادہ تھا اور جس کی وجہ سے فضا خراب ہو رہی تھی، اب اس کے نیویارک یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے کی امید نہیں ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر موسمیات جیف بیرارڈیلی نے بھی صورتحال کے بہتر ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ، ہفتے کو آنے والے طوفان نے فضا کو دھو کر صاف کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اب یہ دھواں بالکل بھی خطرناک نہیں رہے گا اور موسم پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہو جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے اس سے اچھے موسم کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ہفتے کے روز آنے والے طوفان، جنہوں نے تیاریوں میں خلل ڈالا، اب الٹا فائدہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ فضا میں موجود دھوئیں کو کم کرنے میں مدد دیں گے۔ پیش گوئی کے مطابق میچ کے وقت ایسٹ رودرفورڈ کے علاقے میں فضائی معیار ”درمیانے درجے“ کا ہوگا، جس سے عام لوگوں کو کوئی بڑا خطرہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509215/spain-argentina-fifa-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-footballnews-championship-rings'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509215"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فائنل کے وقت درجہ حرارت تقریباً 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے، جبکہ ہوا کی رفتار ہلکی اور نمی کی سطح بھی نسبتاً کم رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حالات فٹبال کھیلنے کے لیے بہترین تصور کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیف بیرارڈیلی نے کہا، ”ورلڈ کپ فائنل کے لیے اس سے بہتر موسم کی خواہش شاید ہی کی جا سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ موسم کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے، لیکن فیفا اب بھی مکمل احتیاط کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ فیفا نے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں رہنے کا اعلان کیا ہے تاکہ موسم اور فضائی معیار دونوں پر نظر رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوجرسی کی گورنر میکی شیرل نے ہفتے کے روز طوفان کے دوران لوگوں کو احتیاط کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے ممکنہ تیز ہواؤں، اچانک سیلاب، طوفانی بگولوں اور بڑے اولوں کے خطرے سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کینیڈا اور شمالی ریاست منی سوٹا کے علاقوں میں جنگلات کی آگ اب بھی جاری ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر دھواں وسطی امریکا اور گریٹ لیکس کے علاقوں تک محدود رہنے کا امکان ہے اور ورلڈ کپ فائنل کے وقت نیویارک کے قریب اس کا اثر بہت کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان ہونے والے بڑے مقابلے پر موسم کی صورتحال بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ سے اٹھنے والا دھواں اور امریکا کے نیویارک کے علاقے میں آنے والے شدید طوفانوں نے شائقین اور منتظمین میں تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہی طوفانی نظام اب فضا کو صاف کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</strong></p>
<p>نیویارک کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل سے قبل ہفتے کے روز شدید بارش، بجلی گرنے اور تیز ہواؤں کے باعث تیاریوں میں مشکلات پیش آئیں۔ اسپین کی ٹیم کا ٹریننگ سیشن بھی علاقے میں آسمانی بجلی کے خطرے کے باعث روکنا پڑا، جبکہ نیویارک/نیوجرسی اسٹیڈیم میں موجود افراد کو طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی گئی۔</p>
<p>حکام اور فیفا نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ فائنل کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم تازہ موسمی پیش گوئی کے مطابق اتوار کو میچ کے وقت حالات بہتر ہونے کی توقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509124/alarm-bells-ahead-of-fifa-world-cup-final-new-york-engulfed-in-air-pollution'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509124"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ کا دھواں حالیہ دنوں میں امریکا کے شمال مشرقی علاقوں تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث کئی ریاستوں میں فضائی معیار سے متعلق الرٹس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا طوفانی نظام اس دھوئیں کو علاقے سے دور لے جانے میں مدد کرے گا۔</p>
<p>ماہر موسمیات ٹائلر روئز نے خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/world-cup-final-smoke-21b616e6fef1af907abef4aba6f5dfb4">ایسوسی ایٹڈ پریس </a>سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”کچھ ہلکا دھواں باقی رہ سکتا ہے جس سے فضا قدرے دھندلی نظر آ سکتی ہے، لیکن یہ بہت معمولی ہوگا۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”وہ دھواں جو بہت زیادہ تھا اور جس کی وجہ سے فضا خراب ہو رہی تھی، اب اس کے نیویارک یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے کی امید نہیں ہے۔“</p>
<p>ماہر موسمیات جیف بیرارڈیلی نے بھی صورتحال کے بہتر ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ، ہفتے کو آنے والے طوفان نے فضا کو دھو کر صاف کر دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اب یہ دھواں بالکل بھی خطرناک نہیں رہے گا اور موسم پہلے سے بہت زیادہ بہتر ہو جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے اس سے اچھے موسم کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ہفتے کے روز آنے والے طوفان، جنہوں نے تیاریوں میں خلل ڈالا، اب الٹا فائدہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ فضا میں موجود دھوئیں کو کم کرنے میں مدد دیں گے۔ پیش گوئی کے مطابق میچ کے وقت ایسٹ رودرفورڈ کے علاقے میں فضائی معیار ”درمیانے درجے“ کا ہوگا، جس سے عام لوگوں کو کوئی بڑا خطرہ نہیں ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509215/spain-argentina-fifa-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-footballnews-championship-rings'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509215"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فائنل کے وقت درجہ حرارت تقریباً 27 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے، جبکہ ہوا کی رفتار ہلکی اور نمی کی سطح بھی نسبتاً کم رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حالات فٹبال کھیلنے کے لیے بہترین تصور کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>جیف بیرارڈیلی نے کہا، ”ورلڈ کپ فائنل کے لیے اس سے بہتر موسم کی خواہش شاید ہی کی جا سکتی ہے۔“</p>
<p>اگرچہ موسم کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے، لیکن فیفا اب بھی مکمل احتیاط کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ فیفا نے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں رہنے کا اعلان کیا ہے تاکہ موسم اور فضائی معیار دونوں پر نظر رکھی جا سکے۔</p>
<p>نیوجرسی کی گورنر میکی شیرل نے ہفتے کے روز طوفان کے دوران لوگوں کو احتیاط کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے ممکنہ تیز ہواؤں، اچانک سیلاب، طوفانی بگولوں اور بڑے اولوں کے خطرے سے آگاہ کیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب کینیڈا اور شمالی ریاست منی سوٹا کے علاقوں میں جنگلات کی آگ اب بھی جاری ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر دھواں وسطی امریکا اور گریٹ لیکس کے علاقوں تک محدود رہنے کا امکان ہے اور ورلڈ کپ فائنل کے وقت نیویارک کے قریب اس کا اثر بہت کم ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509349</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:54:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1911535199d9755.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1911535199d9755.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گولڈن بوٹ کی ریس میں نیا ٹوئسٹ، ایمباپے نے میسی کو پیچھے چھوڑ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509348/golden-boot-race-takes-a-new-twist-mbappe-overtakes-messi</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ کی دوڑ مزید دلچسپ ہو گئی ہے، جہاں فرانس کے اسٹار فارورڈ کیلیان ایمباپے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ارجنٹائن کے لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کے میچ میں دو گول اسکور کرنے کے بعد نہ صرف ایمباپے گولڈن بوٹ کی ریس میں سب سے آگے نکل گئے بلکہ وہ ورلڈ کپ تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میامی میں کھیلے گئے ورلڈ کپ 2026 کے تیسری پوزیشن کے میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا، لیکن فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے شکست کے باوجود اپنی شاندار کارکردگی سے نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ میں دو گول کرنے کے بعد ایمباپے کے ورلڈ کپ گولز کی تعداد 22 ہو گئی ہے، جس کے ساتھ انہوں نے لیونل میسی کا ریکارڈ توڑ دیا، جن کے نام عالمی کپ میں 21 گول تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509343/ude-bellingham-sets-new-world-cup-record-becomes-first-england-player-to-score-7-goals-in-a-single-world-cup'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;27 سالہ ایمباپے نے دوسرے ہاف میں اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 48ویں منٹ میں پہلا گول کیا جبکہ 66ویں منٹ میں دوسرا گول کرکے فرانس کو مقابلے میں واپس لانے کی کوشش کی۔ ان دونوں گولز نے انہیں ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمباپے نے یہ تاریخی اعزاز صرف 22 ورلڈ کپ میچوں میں حاصل کیا ہے۔ انہوں نے 2018 کے ورلڈ کپ میں 4 گول کیے تھے، جبکہ 2022 کے عالمی کپ میں 8 گول کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اب 2026 کے ورلڈ کپ میں ان کے گولز کی تعداد 10 ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ گولڈن بوٹ کے مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈن بوٹ کی موجودہ ریس میں ایمباپے 10 گول اور 4 اسسٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہیں، جبکہ لیونل میسی 8 گول اور 4 اسسٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ناروے کے ارلنگ ہالینڈ 7 گول کے ساتھ تیسرے اور انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم 7 گول کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی کامیابی کے بعد ایمباپے نے کہا، ”میسی اتوار کے فائنل میں ضرور گول کریں گے۔ میں صرف اپنی ٹیم کو جتوانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جب آپ ورلڈ کپ میں بہت زیادہ گول کرتے ہیں تو آپ ایک خاص مقام حاصل کر لیتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی کپتان نے مزید کہا، ”میں یہ پسند کرتا کہ میں ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی نہ بنتا بلکہ میری ٹیم فائنل کھیل رہی ہوتی۔ یہ ریکارڈ میرے کیریئر اور میری وراثت کے لیے اچھا ہے، لیکن اس وقت یہ میرے ذہن میں سب سے اہم چیز نہیں ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509339/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509339"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایمباپے نے اس ورلڈ کپ میں ایک اور منفرد کارنامہ بھی انجام دیا ہے۔ وہ عالمی کپ کے تقریباً ہر مرحلے میں گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے گروپ مرحلے، راؤنڈ آف 32، راؤنڈ آف 16، کوارٹر فائنل اور تیسری پوزیشن کے میچ میں گول کیے، تاہم وہ اب تک ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں گول نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب شائقین کی نظریں ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان ہونے والے فائنل پر ہیں، جہاں لیونل میسی کے پاس نہ صرف اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنانے کا موقع ہوگا بلکہ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں بھی واپسی کا امکان موجود ہے۔ اگر میسی فائنل میں دو گول اور ایک اسسِٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ایمباپے کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ورلڈ کپ 2026 کا فائنل صرف ٹرافی کے لیے مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ گولڈن بوٹ اور عالمی ریکارڈز کی جنگ بھی بن چکا ہے، جہاں میسی اور ایمباپے کے درمیان مقابلہ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ کی دوڑ مزید دلچسپ ہو گئی ہے، جہاں فرانس کے اسٹار فارورڈ کیلیان ایمباپے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ارجنٹائن کے لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کے میچ میں دو گول اسکور کرنے کے بعد نہ صرف ایمباپے گولڈن بوٹ کی ریس میں سب سے آگے نکل گئے بلکہ وہ ورلڈ کپ تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔</strong></p>
<p>میامی میں کھیلے گئے ورلڈ کپ 2026 کے تیسری پوزیشن کے میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا، لیکن فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے شکست کے باوجود اپنی شاندار کارکردگی سے نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔</p>
<p>میچ میں دو گول کرنے کے بعد ایمباپے کے ورلڈ کپ گولز کی تعداد 22 ہو گئی ہے، جس کے ساتھ انہوں نے لیونل میسی کا ریکارڈ توڑ دیا، جن کے نام عالمی کپ میں 21 گول تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509343/ude-bellingham-sets-new-world-cup-record-becomes-first-england-player-to-score-7-goals-in-a-single-world-cup'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>27 سالہ ایمباپے نے دوسرے ہاف میں اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 48ویں منٹ میں پہلا گول کیا جبکہ 66ویں منٹ میں دوسرا گول کرکے فرانس کو مقابلے میں واپس لانے کی کوشش کی۔ ان دونوں گولز نے انہیں ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی بنا دیا۔</p>
<p>ایمباپے نے یہ تاریخی اعزاز صرف 22 ورلڈ کپ میچوں میں حاصل کیا ہے۔ انہوں نے 2018 کے ورلڈ کپ میں 4 گول کیے تھے، جبکہ 2022 کے عالمی کپ میں 8 گول کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اب 2026 کے ورلڈ کپ میں ان کے گولز کی تعداد 10 ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ گولڈن بوٹ کے مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں۔</p>
<p>گولڈن بوٹ کی موجودہ ریس میں ایمباپے 10 گول اور 4 اسسٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہیں، جبکہ لیونل میسی 8 گول اور 4 اسسٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ناروے کے ارلنگ ہالینڈ 7 گول کے ساتھ تیسرے اور انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم 7 گول کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔</p>
<p>اپنی کامیابی کے بعد ایمباپے نے کہا، ”میسی اتوار کے فائنل میں ضرور گول کریں گے۔ میں صرف اپنی ٹیم کو جتوانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ جب آپ ورلڈ کپ میں بہت زیادہ گول کرتے ہیں تو آپ ایک خاص مقام حاصل کر لیتے ہیں۔“</p>
<p>فرانسیسی کپتان نے مزید کہا، ”میں یہ پسند کرتا کہ میں ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی نہ بنتا بلکہ میری ٹیم فائنل کھیل رہی ہوتی۔ یہ ریکارڈ میرے کیریئر اور میری وراثت کے لیے اچھا ہے، لیکن اس وقت یہ میرے ذہن میں سب سے اہم چیز نہیں ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509339/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509339"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایمباپے نے اس ورلڈ کپ میں ایک اور منفرد کارنامہ بھی انجام دیا ہے۔ وہ عالمی کپ کے تقریباً ہر مرحلے میں گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے گروپ مرحلے، راؤنڈ آف 32، راؤنڈ آف 16، کوارٹر فائنل اور تیسری پوزیشن کے میچ میں گول کیے، تاہم وہ اب تک ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں گول نہیں کر سکے۔</p>
<p>اب شائقین کی نظریں ارجنٹائن اور اسپین کے درمیان ہونے والے فائنل پر ہیں، جہاں لیونل میسی کے پاس نہ صرف اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنانے کا موقع ہوگا بلکہ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں بھی واپسی کا امکان موجود ہے۔ اگر میسی فائنل میں دو گول اور ایک اسسِٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ ایمباپے کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>یوں ورلڈ کپ 2026 کا فائنل صرف ٹرافی کے لیے مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ گولڈن بوٹ اور عالمی ریکارڈز کی جنگ بھی بن چکا ہے، جہاں میسی اور ایمباپے کے درمیان مقابلہ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509348</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:04:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/191102391d84315.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/191102391d84315.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ فائنل سے چند گھنٹے قبل اسپین کی ٹیم کو بڑا جھٹکا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509345/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے چند گھنٹے قبل اسپین کی ٹیم کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جب خراب موسم اور آسمانی بجلی کے باعث اس کا ٹریننگ سیشن روک دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین کی ٹیم اتوار کو ارجنٹینا کے خلاف ہونے والے ورلڈ کپ فائنل سے پہلے نیو جرسی کے میلانی لین ٹریننگ گراؤنڈ میں پریکٹس کر رہی تھی، تاہم علاقے میں طوفان اور آسمانی بجلی کے خطرے کے باعث امریکی حفاظتی ضوابط کے تحت ٹریننگ معطل کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپینش فٹبال فیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ نیو جرسی کے میلانی لین ٹریننگ گراؤنڈ میں اسپین کی قومی ٹیم کا ٹریننگ سیشن امریکی طوفانی موسم کے حفاظتی پروٹوکول کے مطابق معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن نے مزید کہا کہ کھلاڑی اس وقت ہال کے اندر وارم اپ سیشن میں حصہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509343/ude-bellingham-sets-new-world-cup-record-becomes-first-england-player-to-score-7-goals-in-a-single-world-cup'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ موسم بہتر ہونے کی صورت میں اسپین کی ٹیم دوبارہ میدان میں آ کر مکمل ٹریننگ کرے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ارجنٹینا کی ٹیم نے بارش کے باوجود کھلے میدان میں اپنی ٹریننگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ٹیمیں اس وقت نیو جرسی میں موجود ہیں جہاں اتوار کو ورلڈ کپ 2026 کا فائنل کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو جرسی کی گورنر مکی شیرل نے بھی شہریوں کو شدید موسم سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر میں شدید طوفان، تیز ہوائیں، ممکنہ بگولے، اچانک سیلاب اور بڑے اولے پڑنے کا خطرہ ہے، اس لیے شہری احتیاط کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا، جبکہ اسپین 2010 کے بعد پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کی کوشش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین نے اب تک اپنی تاریخ میں صرف ایک مرتبہ 2010 میں فیفا ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا نے سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دی تھی۔ پہلے ہاف میں ایک گول کے خسارے کے باوجود اینزو فرنانڈیز نے برابری کا گول کیا، جبکہ لاوتارو مارٹینیز نے اضافی وقت میں فیصلہ کن گول کرکے ٹیم کو فائنل میں پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کامیابی کے ساتھ ارجنٹینا نے مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ کا 1966 کے بعد پہلی بار فائنل کھیلنے کا خواب ٹوٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسپین نے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ فائنل میں رسائی حاصل کی اور اب یورپی چیمپئن ہونے کے ساتھ عالمی ٹائٹل بھی اپنے نام کرنے کی کوشش کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے چند گھنٹے قبل اسپین کی ٹیم کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، جب خراب موسم اور آسمانی بجلی کے باعث اس کا ٹریننگ سیشن روک دیا گیا۔</strong></p>
<p>غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین کی ٹیم اتوار کو ارجنٹینا کے خلاف ہونے والے ورلڈ کپ فائنل سے پہلے نیو جرسی کے میلانی لین ٹریننگ گراؤنڈ میں پریکٹس کر رہی تھی، تاہم علاقے میں طوفان اور آسمانی بجلی کے خطرے کے باعث امریکی حفاظتی ضوابط کے تحت ٹریننگ معطل کر دی گئی۔</p>
<p>اسپینش فٹبال فیڈریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ نیو جرسی کے میلانی لین ٹریننگ گراؤنڈ میں اسپین کی قومی ٹیم کا ٹریننگ سیشن امریکی طوفانی موسم کے حفاظتی پروٹوکول کے مطابق معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>فیڈریشن نے مزید کہا کہ کھلاڑی اس وقت ہال کے اندر وارم اپ سیشن میں حصہ لے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509343/ude-bellingham-sets-new-world-cup-record-becomes-first-england-player-to-score-7-goals-in-a-single-world-cup'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509343"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ موسم بہتر ہونے کی صورت میں اسپین کی ٹیم دوبارہ میدان میں آ کر مکمل ٹریننگ کرے گی یا نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ارجنٹینا کی ٹیم نے بارش کے باوجود کھلے میدان میں اپنی ٹریننگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ٹیمیں اس وقت نیو جرسی میں موجود ہیں جہاں اتوار کو ورلڈ کپ 2026 کا فائنل کھیلا جائے گا۔</p>
<p>نیو جرسی کی گورنر مکی شیرل نے بھی شہریوں کو شدید موسم سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بھر میں شدید طوفان، تیز ہوائیں، ممکنہ بگولے، اچانک سیلاب اور بڑے اولے پڑنے کا خطرہ ہے، اس لیے شہری احتیاط کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ارجنٹینا مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا، جبکہ اسپین 2010 کے بعد پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کی کوشش کرے گا۔</p>
<p>اسپین نے اب تک اپنی تاریخ میں صرف ایک مرتبہ 2010 میں فیفا ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا تھا۔</p>
<p>ارجنٹینا نے سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دی تھی۔ پہلے ہاف میں ایک گول کے خسارے کے باوجود اینزو فرنانڈیز نے برابری کا گول کیا، جبکہ لاوتارو مارٹینیز نے اضافی وقت میں فیصلہ کن گول کرکے ٹیم کو فائنل میں پہنچایا۔</p>
<p>اس کامیابی کے ساتھ ارجنٹینا نے مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ کا 1966 کے بعد پہلی بار فائنل کھیلنے کا خواب ٹوٹ گیا۔</p>
<p>دوسری جانب اسپین نے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ فائنل میں رسائی حاصل کی اور اب یورپی چیمپئن ہونے کے ساتھ عالمی ٹائٹل بھی اپنے نام کرنے کی کوشش کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509345</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:02:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1910024688f36b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1910024688f36b4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوڈ بیلنگھم کا نیا عالمی ریکارڈ، ایک ہی ورلڈ کپ میں 7 گول کرنے والے پہلے انگلش کھلاڑی بن گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509343/ude-bellingham-sets-new-world-cup-record-becomes-first-england-player-to-score-7-goals-in-a-single-world-cup</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے تیسری پوزیشن کے سنسنی خیز میچ میں فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا ہے۔ لیکن اس یادگار فتح نے صرف بوکایو ساکا کی ہیٹ ٹرک ہی نہیں بلکہ جوڈ بیلنگھم کے ایک تاریخی ریکارڈ کو بھی جنم دیا۔ انگلش مڈفیلڈر ایک ہی ورلڈ کپ میں 7 گول کرنے والے انگلینڈ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے شہر میامی میں کھیلے گئے اس دلچسپ اور 10 گولوں سے بھرپور مقابلے میں انگلینڈ نے فرانس کی شاندار واپسی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ 1966 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انگلینڈ کی بہترین کارکردگی بھی قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈ بیلنگھم نے میچ کے اضافی وقت کے آٹھویں منٹ میں فرانس کے گول کیپر مائیک میگنان کو شکست دے کر اپنی ٹیم کے لیے چھٹا گول اسکور کیا۔ یہ ان کا رواں ورلڈ کپ میں ساتواں گول تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے انگلش فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ اس سے قبل کوئی بھی انگلش کھلاڑی ورلڈ کپ کے ایک ہی ایڈیشن میں سات گول اسکور نہیں کر سکا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509339/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509339"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس میچ میں بوکایو ساکا کی تاریخی ہیٹ ٹرک سب کی توجہ کا مرکز بنی، تاہم جوڈ بیلنگھم نے خاموشی سے ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کر لیا جسے آنے والے برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کا آخری لمحات میں کیا گیا گول فرانس کی امیدوں پر آخری ضرب ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کا آغاز انگلینڈ نے انتہائی جارحانہ انداز میں کیا۔ صرف تیسرے منٹ میں ڈیکلن رائس نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی، جس کے بعد ایزری کونسا نے اس برتری کو مزید مستحکم بنایا۔ بوکایو ساکا نے پہلے ہاف میں دو خوبصورت گول اسکور کرکے فرانس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا اور انگلینڈ پہلے ہاف کے اختتام تک 0-4 کی مضبوط برتری حاصل کر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے ہاف میں فرانس نے شاندار کم بیک کیا۔ کپتان کیلیان ایمباپے نے دو گول اسکور کیے جبکہ بریڈلی بارکولا نے ایک گول کرکے میچ کو ایک مرتبہ پھر دلچسپ بنا دیا۔ 66ویں منٹ تک فرانس نے خسارہ کم کرکے اسکور 4-3 کر دیا تھا اور انگلینڈ کی ٹیم دباؤ میں دکھائی دے رہی تھی۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ میچ کسی بھی رخ جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم میچ کے اختتامی لمحات میں بوکایو ساکا نے پنالٹی پر اپنا تیسرا گول کرکے ہیٹ ٹرک مکمل کی اور انگلینڈ کو 3-5 کی برتری دلا دی۔ اس کے باوجود فرانس نے ہمت نہ ہاری اور عثمان ڈیمبیلے نے ایک اور گول کرکے مقابلے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب فرانس برابر گول کی تلاش میں آگے بڑھ رہا تھا تو متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آنے والے جوڈ بیلنگھم نے اضافی وقت میں انگلینڈ کا چھٹا گول اسکور کرکے فرانس کی تمام امیدو پر پانی پھیر دیا اور یوں انگلینڈ نے 4-6 سے کامیابی حاصل کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ میچ کئی حوالوں سے تاریخی ثابت ہوا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیسری پوزیشن کے کسی میچ میں پہلی مرتبہ مجموعی طور پر 10 گول اسکور کیے گئے۔ اس سے قبل 1958 کے ورلڈ کپ میں فرانس نے مغربی جرمنی کو 3-6 سے شکست دی تھی، جو اس مرحلے کا سب سے زیادہ گولوں والا میچ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس یادگار جیت کے بعد انگلینڈ کے مداح خوشی سے نہال ہیں اور کوچ تھامس ٹوچل کی حکمت عملی کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس کے اسٹار فٹبالر کیلیان ایمباپے نے بھی اس مقابلے میں ایک بڑی کامیابی اپنے نام کی۔ ان کے دو گولوں کے بعد رواں ورلڈ کپ میں ان کے مجموعی گولز کی تعداد 10 ہو گئی، جس کے ساتھ وہ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 22 گول اسکور کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا اور اس معاملے میں لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;39 سالہ لیونل میسی کو اب اتوار کے روز اسپین کے خلاف فائنل میں اپنے مجموعی گولز کی تعداد بڑھانے کا ایک اور موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فرانس کے لیے یہ مقابلہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ یہ ان کے ہیڈ کوچ دیدیے دیشان کا بطور کوچ آخری ورلڈ کپ میچ تھا۔ 2018 میں فرانس کو عالمی چیمپئن بنانے والے کوچ اپنی ٹیم کو فتح کے ساتھ رخصت کرنا چاہتے تھے، تاہم انگلینڈ نے ان کی خواہش پوری نہ ہونے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل کی ٹیم نے سیمی فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف محتاط کھیل پر ہونے والی تنقید کا جواب جارحانہ انداز میں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوڈ بیلنگھم اور ہیری کین جیسے اہم کھلاڑی ابتدائی لائن اپ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود انگلینڈ نے شاندار کھیل پیش کیا اور بالآخر تیسری پوزیشن اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 اور 2018 میں تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں شکست کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ نے ورلڈ کپ میں کانسی کا تمغہ جیتا ہے، جبکہ جوڈ بیلنگھم کا نیا ریکارڈ اس تاریخی فتح کو مزید یادگار بنا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے تیسری پوزیشن کے سنسنی خیز میچ میں فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا ہے۔ لیکن اس یادگار فتح نے صرف بوکایو ساکا کی ہیٹ ٹرک ہی نہیں بلکہ جوڈ بیلنگھم کے ایک تاریخی ریکارڈ کو بھی جنم دیا۔ انگلش مڈفیلڈر ایک ہی ورلڈ کپ میں 7 گول کرنے والے انگلینڈ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکا کے شہر میامی میں کھیلے گئے اس دلچسپ اور 10 گولوں سے بھرپور مقابلے میں انگلینڈ نے فرانس کی شاندار واپسی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ 1966 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انگلینڈ کی بہترین کارکردگی بھی قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p>جوڈ بیلنگھم نے میچ کے اضافی وقت کے آٹھویں منٹ میں فرانس کے گول کیپر مائیک میگنان کو شکست دے کر اپنی ٹیم کے لیے چھٹا گول اسکور کیا۔ یہ ان کا رواں ورلڈ کپ میں ساتواں گول تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے انگلش فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ اس سے قبل کوئی بھی انگلش کھلاڑی ورلڈ کپ کے ایک ہی ایڈیشن میں سات گول اسکور نہیں کر سکا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509339/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509339"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ اس میچ میں بوکایو ساکا کی تاریخی ہیٹ ٹرک سب کی توجہ کا مرکز بنی، تاہم جوڈ بیلنگھم نے خاموشی سے ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کر لیا جسے آنے والے برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کا آخری لمحات میں کیا گیا گول فرانس کی امیدوں پر آخری ضرب ثابت ہوا۔</p>
<p>میچ کا آغاز انگلینڈ نے انتہائی جارحانہ انداز میں کیا۔ صرف تیسرے منٹ میں ڈیکلن رائس نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی، جس کے بعد ایزری کونسا نے اس برتری کو مزید مستحکم بنایا۔ بوکایو ساکا نے پہلے ہاف میں دو خوبصورت گول اسکور کرکے فرانس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا اور انگلینڈ پہلے ہاف کے اختتام تک 0-4 کی مضبوط برتری حاصل کر چکا تھا۔</p>
<p>دوسرے ہاف میں فرانس نے شاندار کم بیک کیا۔ کپتان کیلیان ایمباپے نے دو گول اسکور کیے جبکہ بریڈلی بارکولا نے ایک گول کرکے میچ کو ایک مرتبہ پھر دلچسپ بنا دیا۔ 66ویں منٹ تک فرانس نے خسارہ کم کرکے اسکور 4-3 کر دیا تھا اور انگلینڈ کی ٹیم دباؤ میں دکھائی دے رہی تھی۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ میچ کسی بھی رخ جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم میچ کے اختتامی لمحات میں بوکایو ساکا نے پنالٹی پر اپنا تیسرا گول کرکے ہیٹ ٹرک مکمل کی اور انگلینڈ کو 3-5 کی برتری دلا دی۔ اس کے باوجود فرانس نے ہمت نہ ہاری اور عثمان ڈیمبیلے نے ایک اور گول کرکے مقابلے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔</p>
<p>جب فرانس برابر گول کی تلاش میں آگے بڑھ رہا تھا تو متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آنے والے جوڈ بیلنگھم نے اضافی وقت میں انگلینڈ کا چھٹا گول اسکور کرکے فرانس کی تمام امیدو پر پانی پھیر دیا اور یوں انگلینڈ نے 4-6 سے کامیابی حاصل کر لی۔</p>
<p>یہ میچ کئی حوالوں سے تاریخی ثابت ہوا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیسری پوزیشن کے کسی میچ میں پہلی مرتبہ مجموعی طور پر 10 گول اسکور کیے گئے۔ اس سے قبل 1958 کے ورلڈ کپ میں فرانس نے مغربی جرمنی کو 3-6 سے شکست دی تھی، جو اس مرحلے کا سب سے زیادہ گولوں والا میچ تھا۔</p>
<p>اس یادگار جیت کے بعد انگلینڈ کے مداح خوشی سے نہال ہیں اور کوچ تھامس ٹوچل کی حکمت عملی کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فرانس کے اسٹار فٹبالر کیلیان ایمباپے نے بھی اس مقابلے میں ایک بڑی کامیابی اپنے نام کی۔ ان کے دو گولوں کے بعد رواں ورلڈ کپ میں ان کے مجموعی گولز کی تعداد 10 ہو گئی، جس کے ساتھ وہ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 22 گول اسکور کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا اور اس معاملے میں لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا۔</p>
<p>39 سالہ لیونل میسی کو اب اتوار کے روز اسپین کے خلاف فائنل میں اپنے مجموعی گولز کی تعداد بڑھانے کا ایک اور موقع ملے گا۔</p>
<p>دوسری جانب فرانس کے لیے یہ مقابلہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ یہ ان کے ہیڈ کوچ دیدیے دیشان کا بطور کوچ آخری ورلڈ کپ میچ تھا۔ 2018 میں فرانس کو عالمی چیمپئن بنانے والے کوچ اپنی ٹیم کو فتح کے ساتھ رخصت کرنا چاہتے تھے، تاہم انگلینڈ نے ان کی خواہش پوری نہ ہونے دی۔</p>
<p>انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل کی ٹیم نے سیمی فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف محتاط کھیل پر ہونے والی تنقید کا جواب جارحانہ انداز میں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوڈ بیلنگھم اور ہیری کین جیسے اہم کھلاڑی ابتدائی لائن اپ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود انگلینڈ نے شاندار کھیل پیش کیا اور بالآخر تیسری پوزیشن اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>1990 اور 2018 میں تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں شکست کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ نے ورلڈ کپ میں کانسی کا تمغہ جیتا ہے، جبکہ جوڈ بیلنگھم کا نیا ریکارڈ اس تاریخی فتح کو مزید یادگار بنا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509343</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 09:57:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19103447d510710.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19103447d510710.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ اور فرانس کے میچ میں گولز کی بارش، 'ورلڈ کپ فائنل تو یہ ہونا چاہیے تھا'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509339/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اتوار کے روز شیڈول فائنل میچ سے ٹھیک ایک دن پہلے، فٹ بال ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا گیا میچ کھیل کی تاریخ کا ایک لازوال اور کبھی نہ بھولنے والا سنسنی خیز مقابلہ بن گیا ہے۔ اس انتہائی ہائی اسکورنگ اور اعصاب شکن میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو چار کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میچ میں اتنے زیادہ گول ہوئے کہ شائقین میچ کے آخری لمحے تک اپنی نشستوں پر ٹِک ہی نہ پائے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اتوار کو ہوانے والا فائنل میچ کا وہ مزہ نہیں آئے گا جو اس میچ نے دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TrollFootball/status/2078629050554388622?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TrollFootball/status/2078629050554388622?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے پہلے ہاف میں انگلینڈ کی ٹیم، جسے تھری لائنز بھی کہا جاتا ہے، فرانسیسی ٹیم پر پوری طرح حاوی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے تیسرے ہی منٹ میں انگلینڈ کے ڈیکلن رائس نے فرانسیسی کھلاڑی کے ایک غلط پاس کو بیچ راستے میں روکا اور گیند کو سیدھا گول پوسٹ میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پہلے گول نے فرانسیسی دفاع کے بندھن توڑ دیے اور انگلینڈ نے ایک کے بعد ایک گول داغنے شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/England/status/2078616550009893047?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/England/status/2078616550009893047?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے اٹھارویں منٹ میں ازری کونسا نے اچھل کر ایک شاندار ہیڈر کے ذریعے اسکور 2-0 کر دیا، جس پر انگلش مداحوں کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک مداح نے تو سوشل میڈیا پر یہ تک لکھا کہ فرانس اس وقت اتنی بری کارکردگی دکھا رہا ہے کہ ہم جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے سینتیسویں منٹ میں فرانس کی مضحکہ خیز پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بوکایو ساکا نے تیسرا گول کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاف ٹائم ختم ہونے سے ذرا پہلے بوکایو ساکا نے ایک اور بہترین گول کر کے انگلینڈ کی برتری کو 4-0 کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرانس کی تاریخ کا ایک بدترین ہاف تھا کیونکہ اپریل 1968 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فرانس نے کسی میچ کے پہلے ہاف میں چار گول کھائے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی اس کارکردگی پر ایک سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ میم شئیر کی، جس میں ایک فرانس کے کمزور دفاع کو دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FootyHumour/status/2078597931335143667'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FootyHumour/status/2078597931335143667"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی اس انتہائی سست اور مایوس کن کارکردگی پر اسٹیڈیم اور سوشل میڈیا پر موجود فرانسیسی مداحوں نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دراصل فرانسیسی کھلاڑی ابراہیمی کوناٹے نے میچ سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ فرانسیسی کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کا یہ میچ نہیں کھیلنا چاہتے اور اسے چاکلیٹ میڈل کا میچ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی اس بات اور پہلے ہاف میں انتہائی ناقص کارکردگی پر ایک مداح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر برہم ہوتے ہوئے لکھا کہ فرانس، اگرچہ آپ کو اس میچ کی کوئی پرواہ نہیں ہے، لیکن پہلے ہاف میں چار گول کھا لینا انتہائی گھناؤنا عمل ہے، خاص طور پر ان مداحوں کے لیے جو اتنی گرمی میں یہاں میامی تک سفر کر کے آئے اور اسٹیڈیم میں آپ کی حمایت کے لیے پیسے خرچ کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mhyzzcarolyn_/status/2078599300389404698'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mhyzzcarolyn_/status/2078599300389404698"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مداح نے فرانسیسی کھلاڑی کوناٹے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ فرانس نے پورے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر صرف چار گول کھائے تھے، لیکن کوناٹے نے انگلینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلتے ہی صرف پینتالیس منٹ میں چار گول کھا لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مداح نے تو مایوسی میں یہاں تک لکھ دیا کہ یہ فرانس ایک بالکل بیکار ٹیم بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا تھا کہ مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا موقع گنوانے کے بعد فرانسیسی کھلاڑیوں کے پاس اس میچ کے لیے کوئی حوصلہ یا لگن باقی نہیں بچی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن دوسرے ہاف میں فرانسیسی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے زبردست تبدیلیوں کا سہارا لیا اور کھیل کو انتہائی سنسنی خیز بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلیان ایمباپے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دو گول داغے جبکہ بریڈلی بارکولا نے ایک گول کر کے اسکور کو 4-3 تک پہنچا دیا، جس سے اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا ڈوپامن لیول شوٹ کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوشل میڈیا صارف نے اس میچ کو بیکار سمجھنے پر معافی بھی مانگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/tombogert/status/2078611949625934129'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/tombogert/status/2078611949625934129"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی اس زبردست واپسی کے باوجود انگلینڈ کے بوکایو ساکا اور جوڈ بیلنگھم نے آخری لمحات میں مزید گول کر کے میچ کو اپنے حق کرکے ختم کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iKHAL1D4/status/2078620780858839077/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/iKHAL1D4/status/2078620780858839077/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹوچل نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے اس میچ کو ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری کے طور پر دیکھتی ہے اور انہوں نے دوسرے ہاف میں فرانس کی واپسی سے پہلے تک انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کھیل پیش کیا جس کی بدولت وہ جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/eurofootcom/status/2078616549011652743?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/eurofootcom/status/2078616549011652743?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد بھی مداحوں کا نشہ نہیں اُترا اور انہوں نے کاص طور پر سوشل میڈیا پر اس شاندار میچ کی تعریف کی۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے اس میچ کو نسلوں تک یاد رکھا جانےوالا قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TrollFootball/status/2078617017016549386'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TrollFootball/status/2078617017016549386"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے ان لوگوں پر تنقید کی جنہوں نے تھرڈ پوزہیشن کے لیے کھیلنے جانے والے میچ کو بورنگ سمجھ کر تنقید کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FootyHumour/status/2078616578900271378'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FootyHumour/status/2078616578900271378"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک مداح نے ان لوگوں کے لیے طنزیہ دو منٹ کی علامتی خاموشی بھی اختیار کی جنہوں نے اس میچ کو بورنگ سمجھ کر نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FootyHumour/status/2078609678024560662'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FootyHumour/status/2078609678024560662"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سوشل میڈیا صارف نے اسے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بہترین میچ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/433/status/2078616755031658865'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/433/status/2078616755031658865"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جبکی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس میچ کو تو فائنل ہونا چاہیے تھا‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/litteralyme0/status/2077775851031015849?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/litteralyme0/status/2077775851031015849?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اتوار کے روز شیڈول فائنل میچ سے ٹھیک ایک دن پہلے، فٹ بال ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا گیا میچ کھیل کی تاریخ کا ایک لازوال اور کبھی نہ بھولنے والا سنسنی خیز مقابلہ بن گیا ہے۔ اس انتہائی ہائی اسکورنگ اور اعصاب شکن میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو چار کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی ہے۔</strong></p>
<p>اس میچ میں اتنے زیادہ گول ہوئے کہ شائقین میچ کے آخری لمحے تک اپنی نشستوں پر ٹِک ہی نہ پائے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اتوار کو ہوانے والا فائنل میچ کا وہ مزہ نہیں آئے گا جو اس میچ نے دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TrollFootball/status/2078629050554388622?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TrollFootball/status/2078629050554388622?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے پہلے ہاف میں انگلینڈ کی ٹیم، جسے تھری لائنز بھی کہا جاتا ہے، فرانسیسی ٹیم پر پوری طرح حاوی رہی۔</p>
<p>میچ کے تیسرے ہی منٹ میں انگلینڈ کے ڈیکلن رائس نے فرانسیسی کھلاڑی کے ایک غلط پاس کو بیچ راستے میں روکا اور گیند کو سیدھا گول پوسٹ میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔</p>
<p>اس پہلے گول نے فرانسیسی دفاع کے بندھن توڑ دیے اور انگلینڈ نے ایک کے بعد ایک گول داغنے شروع کر دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/England/status/2078616550009893047?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/England/status/2078616550009893047?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے اٹھارویں منٹ میں ازری کونسا نے اچھل کر ایک شاندار ہیڈر کے ذریعے اسکور 2-0 کر دیا، جس پر انگلش مداحوں کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک مداح نے تو سوشل میڈیا پر یہ تک لکھا کہ فرانس اس وقت اتنی بری کارکردگی دکھا رہا ہے کہ ہم جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>میچ کے سینتیسویں منٹ میں فرانس کی مضحکہ خیز پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بوکایو ساکا نے تیسرا گول کر دیا۔</p>
<p>ہاف ٹائم ختم ہونے سے ذرا پہلے بوکایو ساکا نے ایک اور بہترین گول کر کے انگلینڈ کی برتری کو 4-0 کر دیا۔</p>
<p>یہ فرانس کی تاریخ کا ایک بدترین ہاف تھا کیونکہ اپریل 1968 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فرانس نے کسی میچ کے پہلے ہاف میں چار گول کھائے ہوں۔</p>
<p>فرانس کی اس کارکردگی پر ایک سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ میم شئیر کی، جس میں ایک فرانس کے کمزور دفاع کو دکھایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FootyHumour/status/2078597931335143667'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FootyHumour/status/2078597931335143667"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فرانس کی اس انتہائی سست اور مایوس کن کارکردگی پر اسٹیڈیم اور سوشل میڈیا پر موجود فرانسیسی مداحوں نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔</p>
<p>دراصل فرانسیسی کھلاڑی ابراہیمی کوناٹے نے میچ سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ فرانسیسی کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کا یہ میچ نہیں کھیلنا چاہتے اور اسے چاکلیٹ میڈل کا میچ قرار دیا تھا۔</p>
<p>ان کی اس بات اور پہلے ہاف میں انتہائی ناقص کارکردگی پر ایک مداح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر برہم ہوتے ہوئے لکھا کہ فرانس، اگرچہ آپ کو اس میچ کی کوئی پرواہ نہیں ہے، لیکن پہلے ہاف میں چار گول کھا لینا انتہائی گھناؤنا عمل ہے، خاص طور پر ان مداحوں کے لیے جو اتنی گرمی میں یہاں میامی تک سفر کر کے آئے اور اسٹیڈیم میں آپ کی حمایت کے لیے پیسے خرچ کیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/mhyzzcarolyn_/status/2078599300389404698'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mhyzzcarolyn_/status/2078599300389404698"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور مداح نے فرانسیسی کھلاڑی کوناٹے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ فرانس نے پورے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر صرف چار گول کھائے تھے، لیکن کوناٹے نے انگلینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلتے ہی صرف پینتالیس منٹ میں چار گول کھا لیے۔</p>
<p>ایک اور مداح نے تو مایوسی میں یہاں تک لکھ دیا کہ یہ فرانس ایک بالکل بیکار ٹیم بن چکی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا ماننا تھا کہ مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا موقع گنوانے کے بعد فرانسیسی کھلاڑیوں کے پاس اس میچ کے لیے کوئی حوصلہ یا لگن باقی نہیں بچی تھی۔</p>
<p>لیکن دوسرے ہاف میں فرانسیسی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے زبردست تبدیلیوں کا سہارا لیا اور کھیل کو انتہائی سنسنی خیز بنا دیا۔</p>
<p>کیلیان ایمباپے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دو گول داغے جبکہ بریڈلی بارکولا نے ایک گول کر کے اسکور کو 4-3 تک پہنچا دیا، جس سے اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا ڈوپامن لیول شوٹ کرگیا۔</p>
<p>ایک سوشل میڈیا صارف نے اس میچ کو بیکار سمجھنے پر معافی بھی مانگی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/tombogert/status/2078611949625934129'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/tombogert/status/2078611949625934129"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فرانس کی اس زبردست واپسی کے باوجود انگلینڈ کے بوکایو ساکا اور جوڈ بیلنگھم نے آخری لمحات میں مزید گول کر کے میچ کو اپنے حق کرکے ختم کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iKHAL1D4/status/2078620780858839077/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/iKHAL1D4/status/2078620780858839077/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹوچل نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے اس میچ کو ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری کے طور پر دیکھتی ہے اور انہوں نے دوسرے ہاف میں فرانس کی واپسی سے پہلے تک انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کھیل پیش کیا جس کی بدولت وہ جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/eurofootcom/status/2078616549011652743?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/eurofootcom/status/2078616549011652743?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے بعد بھی مداحوں کا نشہ نہیں اُترا اور انہوں نے کاص طور پر سوشل میڈیا پر اس شاندار میچ کی تعریف کی۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے اس میچ کو نسلوں تک یاد رکھا جانےوالا قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TrollFootball/status/2078617017016549386'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TrollFootball/status/2078617017016549386"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک صارف نے ان لوگوں پر تنقید کی جنہوں نے تھرڈ پوزہیشن کے لیے کھیلنے جانے والے میچ کو بورنگ سمجھ کر تنقید کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FootyHumour/status/2078616578900271378'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FootyHumour/status/2078616578900271378"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک مداح نے ان لوگوں کے لیے طنزیہ دو منٹ کی علامتی خاموشی بھی اختیار کی جنہوں نے اس میچ کو بورنگ سمجھ کر نہیں دیکھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FootyHumour/status/2078609678024560662'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FootyHumour/status/2078609678024560662"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک سوشل میڈیا صارف نے اسے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بہترین میچ قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/433/status/2078616755031658865'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/433/status/2078616755031658865"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جبکی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس میچ کو تو فائنل ہونا چاہیے تھا‘۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/litteralyme0/status/2077775851031015849?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/litteralyme0/status/2077775851031015849?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509339</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 09:14:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1909173745ec633.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1909173745ec633.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19091405372a1a0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19091405372a1a0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال ورلڈ کپ کی گیند کے پیچھے چھپے عددی کمال اور منفرد انکشافات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509270/fifa-fifa-worldcup-2026-mathematics-in-football-impossiball-adidas-telstar-durlast-trionda-historica-linnovation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ کپ کا فائنل میچ جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ چکا ہے۔ میدان میں جہاں سب کی نظریں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہیں، وہیں اس کھیل کے ایک اہم ترین کردار یعنی فٹ بال کی گیند اور اس کے پیچھے چھپی حیرت انگیز کہانی کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چمڑے یا مصنوعی مواد سے بنی ایک گیند نہیں، بلکہ اس کے ڈیزائن کے پسِ پردہ ریاضی، ہندسوں اور جیومیٹری کا ایک شاندار اور متوازن نظام موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی تاریخ میں مقبول ترین اور متوازن شکل کے سائنسی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں قائم نیشنل میوزیم آف میتھمیٹکس ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا عنوان ”فٹ بال کی خفیہ جیومیٹری“ رکھا گیا ہے۔ اس تقریب میں بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح دنیا کے اس مقبول ترین کھیل کی گیند کے پیچھے ریاضی کے خوبصورت اصول کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیشکش کی قیادت کرنے والے ریاضی دان ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے کہ ”یہ سیشن انتہائی دلچسپ، پُرجوش اور تفریحی ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ جب وہ سڑک پر چلتے ہیں تو انہیں ہر جگہ، عمارتوں، لوہے کے دروازوں اور حتیٰ کہ سائے میں بھی ریاضی کا یہی توازن دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، روایتی 32 پینلز پر مشتمل سیاہ اور سفید فٹ بال دنیا میں ریاضیاتی توازن کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک گول شکل میں اس سے زیادہ متوازن نمونہ تشکیل دینا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹ بال بنانے والی معروف کمپنی ایڈیڈاس کے شعبہ فٹ بال انوویشن کے سربراہ ہانیس شیفکے بھی اس سائنسی حقیقت سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک انٹرویو میں ہانیس شیفکے نے کہا، ”دیکھا جائے تو یہ گیند اپنی تکنیکی خصوصیات سمیت ایک مکمل متوازن نظام کی نمائندگی کرتی ہے، چاہے آپ اسے کسی بھی سمت سے گھمائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے ڈیزائن کے پیچھے ریاضی کا آغاز ایک بنیادی سوال سے ہوتا ہے کہ ایک گول دائرے یا کُرے کی سطح پر تمام نقاط کو کس طرح یکساں انداز میں تقسیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاضی کے ماہرین کے مطابق عام زندگی میں توازن سے مراد عموماً حصوں کا باہمی میل یا یکسانیت ہوتی ہے، لیکن ریاضی میں توازن کا تصور اس سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موراویئن یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس ڈورس شیٹ شنائیڈر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”کسی شے کے توازن کو اس پر کی جانے والی تبدیلی یا عمل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو گھمانے یا تبدیل کرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسی ہی دکھائی دے جیسی ابتدا میں تھی تو اسے متوازن کہا جاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلاسک فٹ بال، جیسا کہ 1970 اور 1974 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی ایڈیڈاس ٹیل اسٹار تھی، 12 سیاہ پانچ کونوں والی شکلوں اور 20 سفید ہیکساگونز یعنی چھ کونوں والی شکلوں پر مشتمل ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'  alt=' (ایڈیڈاس ٹیل اسٹار) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ایڈیڈاس ٹیل اسٹار)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریاضی دانوں کے مطابق اگر ایک مخصوص سیاہ اور سفید شکل کو مختلف زاویوں سے گھما کر اور آئینے کے عکس کے ذریعے دہرایا جائے تو یہی ایک بنیادی اکائی پوری فٹ بال کا منفرد ڈیزائن تشکیل دے دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کلاسک ڈیزائن کے بعد 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئی گیند تیار کی گئی ہے، جس کا نام ”ٹریونڈا“ رکھا گیا ہے۔ اس نام کا مطلب ”تین لہریں“ ہے، جو ورلڈ کپ کے تین میزبان ممالک کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کی نمائندگی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گیند کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پینلز روایتی سیدھی شکلوں کے بجائے لہردار یا ایس نما ڈیزائن کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے، ”اگر آپ کے پاس ٹریونڈا گیند موجود ہو تو آپ اسے مخصوص نقاط پر گھما کر اس کا ہندسی توازن خود دیکھ سکتے ہیں۔ مختلف زاویوں سے گھمانے کے باوجود گیند کی ہر تفصیل اپنی اصل جگہ پر بالکل درست انداز میں برقرار رہتی ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'  alt=' (ٹرائیونڈا) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ٹرائیونڈا)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریاضی کے ان اصولوں کے ساتھ ساتھ کچھ ڈیزائنرز نے دنیا کو حیران کرنے کے لیے ایسی فٹ بالز بھی تیار کی ہیں جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکساس کے کاریگر جان پال وہٹلی نے ایک ایسی گیند تیار کی ہے جسے ”امپاسی بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند برطانیہ کے ایک سڑک کے سائن بورڈ پر بنے ایسے فٹ بال ڈیزائن سے متاثر ہے جس میں صرف چھ کونوں والے پینلز دکھائے گئے تھے، جبکہ ریاضی کے اصولوں کے مطابق ایسا ڈیزائن ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'  alt=' (امپاسی بال فٹبال) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(امپاسی بال فٹبال)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جان پال وہٹلی کے مطابق، ”ایک مخصوص زاویے سے دیکھنے پر یہ گیند ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے یہ صرف چھ کونوں والے پینلز سے بنی ہو، لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ اس تاثر کو پیدا کرنے کے لیے ہمیں پینلز کو مختلف سمتوں سے خم دینا پڑا، جس کا اندازہ سائیڈ سے دیکھنے پر ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک اور گیند بھی تیار کی جسے ”گلچ بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند دیکھنے میں ایسی دھندلی اور الجھی ہوئی محسوس ہوتی ہے جیسے آنکھوں کو دھوکا دے رہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے اس منفرد گیند پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاید واحد گیند ہے جو گول کیپرز کے لیے 2010 کے ورلڈ کپ کی بدنام زمانہ جابولانی گیند سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ جابولانی اپنی انتہائی ہموار سطح کے باعث ہوا میں غیر متوقع انداز میں راستہ بدلنے کے لیے مشہور ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، نیویارک کی ایک بیکری نے ورلڈ کپ کی مناسبت سے فٹ بال کے ڈیزائن سے متاثر ایک ڈونٹ بھی تیار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاضی کے اصول صرف گول گیندوں کی ساخت کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ میٹھے ڈونٹس جیسی شکلوں کے توازن اور جیومیٹری کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ کپ کا فائنل میچ جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ چکا ہے۔ میدان میں جہاں سب کی نظریں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہیں، وہیں اس کھیل کے ایک اہم ترین کردار یعنی فٹ بال کی گیند اور اس کے پیچھے چھپی حیرت انگیز کہانی کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چمڑے یا مصنوعی مواد سے بنی ایک گیند نہیں، بلکہ اس کے ڈیزائن کے پسِ پردہ ریاضی، ہندسوں اور جیومیٹری کا ایک شاندار اور متوازن نظام موجود ہے۔</strong></p>
<p>انسانی تاریخ میں مقبول ترین اور متوازن شکل کے سائنسی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں قائم نیشنل میوزیم آف میتھمیٹکس ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا عنوان ”فٹ بال کی خفیہ جیومیٹری“ رکھا گیا ہے۔ اس تقریب میں بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح دنیا کے اس مقبول ترین کھیل کی گیند کے پیچھے ریاضی کے خوبصورت اصول کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس پیشکش کی قیادت کرنے والے ریاضی دان ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے کہ ”یہ سیشن انتہائی دلچسپ، پُرجوش اور تفریحی ہوگا۔“</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ جب وہ سڑک پر چلتے ہیں تو انہیں ہر جگہ، عمارتوں، لوہے کے دروازوں اور حتیٰ کہ سائے میں بھی ریاضی کا یہی توازن دکھائی دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/181557304780b25.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق، روایتی 32 پینلز پر مشتمل سیاہ اور سفید فٹ بال دنیا میں ریاضیاتی توازن کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک گول شکل میں اس سے زیادہ متوازن نمونہ تشکیل دینا ممکن نہیں۔</p>
<p>فٹ بال بنانے والی معروف کمپنی ایڈیڈاس کے شعبہ فٹ بال انوویشن کے سربراہ ہانیس شیفکے بھی اس سائنسی حقیقت سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔</p>
<p>ایک انٹرویو میں ہانیس شیفکے نے کہا، ”دیکھا جائے تو یہ گیند اپنی تکنیکی خصوصیات سمیت ایک مکمل متوازن نظام کی نمائندگی کرتی ہے، چاہے آپ اسے کسی بھی سمت سے گھمائیں۔“</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے ڈیزائن کے پیچھے ریاضی کا آغاز ایک بنیادی سوال سے ہوتا ہے کہ ایک گول دائرے یا کُرے کی سطح پر تمام نقاط کو کس طرح یکساں انداز میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p>ریاضی کے ماہرین کے مطابق عام زندگی میں توازن سے مراد عموماً حصوں کا باہمی میل یا یکسانیت ہوتی ہے، لیکن ریاضی میں توازن کا تصور اس سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔</p>
<p>موراویئن یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس ڈورس شیٹ شنائیڈر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”کسی شے کے توازن کو اس پر کی جانے والی تبدیلی یا عمل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو گھمانے یا تبدیل کرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسی ہی دکھائی دے جیسی ابتدا میں تھی تو اسے متوازن کہا جاتا ہے۔“</p>
<p>کلاسک فٹ بال، جیسا کہ 1970 اور 1974 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی ایڈیڈاس ٹیل اسٹار تھی، 12 سیاہ پانچ کونوں والی شکلوں اور 20 سفید ہیکساگونز یعنی چھ کونوں والی شکلوں پر مشتمل ہوتی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155429d7edffb.webp'  alt=' (ایڈیڈاس ٹیل اسٹار) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ایڈیڈاس ٹیل اسٹار)</figcaption>
    </figure>
<p>ریاضی دانوں کے مطابق اگر ایک مخصوص سیاہ اور سفید شکل کو مختلف زاویوں سے گھما کر اور آئینے کے عکس کے ذریعے دہرایا جائے تو یہی ایک بنیادی اکائی پوری فٹ بال کا منفرد ڈیزائن تشکیل دے دیتی ہے۔</p>
<p>اس کلاسک ڈیزائن کے بعد 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے ایک نئی گیند تیار کی گئی ہے، جس کا نام ”ٹریونڈا“ رکھا گیا ہے۔ اس نام کا مطلب ”تین لہریں“ ہے، جو ورلڈ کپ کے تین میزبان ممالک کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کی نمائندگی کرتی ہیں۔</p>
<p>اس گیند کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پینلز روایتی سیدھی شکلوں کے بجائے لہردار یا ایس نما ڈیزائن کے حامل ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے، ”اگر آپ کے پاس ٹریونڈا گیند موجود ہو تو آپ اسے مخصوص نقاط پر گھما کر اس کا ہندسی توازن خود دیکھ سکتے ہیں۔ مختلف زاویوں سے گھمانے کے باوجود گیند کی ہر تفصیل اپنی اصل جگہ پر بالکل درست انداز میں برقرار رہتی ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18155048072cbaa.webp'  alt=' (ٹرائیونڈا) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ٹرائیونڈا)</figcaption>
    </figure>
<p>ریاضی کے ان اصولوں کے ساتھ ساتھ کچھ ڈیزائنرز نے دنیا کو حیران کرنے کے لیے ایسی فٹ بالز بھی تیار کی ہیں جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>ٹیکساس کے کاریگر جان پال وہٹلی نے ایک ایسی گیند تیار کی ہے جسے ”امپاسی بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند برطانیہ کے ایک سڑک کے سائن بورڈ پر بنے ایسے فٹ بال ڈیزائن سے متاثر ہے جس میں صرف چھ کونوں والے پینلز دکھائے گئے تھے، جبکہ ریاضی کے اصولوں کے مطابق ایسا ڈیزائن ممکن نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815494467e9454.webp'  alt=' (امپاسی بال فٹبال) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(امپاسی بال فٹبال)</figcaption>
    </figure>
<p>جان پال وہٹلی کے مطابق، ”ایک مخصوص زاویے سے دیکھنے پر یہ گیند ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے یہ صرف چھ کونوں والے پینلز سے بنی ہو، لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں۔ اس تاثر کو پیدا کرنے کے لیے ہمیں پینلز کو مختلف سمتوں سے خم دینا پڑا، جس کا اندازہ سائیڈ سے دیکھنے پر ہوتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے ایک اور گیند بھی تیار کی جسے ”گلچ بال“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیند دیکھنے میں ایسی دھندلی اور الجھی ہوئی محسوس ہوتی ہے جیسے آنکھوں کو دھوکا دے رہی ہو۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے اس منفرد گیند پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاید واحد گیند ہے جو گول کیپرز کے لیے 2010 کے ورلڈ کپ کی بدنام زمانہ جابولانی گیند سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔ جابولانی اپنی انتہائی ہموار سطح کے باعث ہوا میں غیر متوقع انداز میں راستہ بدلنے کے لیے مشہور ہوئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب، نیویارک کی ایک بیکری نے ورلڈ کپ کی مناسبت سے فٹ بال کے ڈیزائن سے متاثر ایک ڈونٹ بھی تیار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاضی کے اصول صرف گول گیندوں کی ساخت کو سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ میٹھے ڈونٹس جیسی شکلوں کے توازن اور جیومیٹری کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509270</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:20:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181604274afc941.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181604274afc941.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ فائنل کے لیے ریفری مقرر ہونے والے ارجنٹائن کے ڈراؤنے خواب سلوکو ونچچ کون ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509250/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے لیے ریفری کا اعلان کر دیا گیا ہے، اور یہ اہم ذمہ داری سلووینیا کے سلوکو ونچچ کو سونپی گئی ہے۔ ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان نیویارک میں اتوار کو کھیلے جانے والے بڑے مقابلے میں ونچچ میچ کی نگرانی کریں گے۔ اس بڑے اور اہم مقابلے میں ان کے ساتھ معاون ریفری ٹوماز کلانچنک، اندراز کووچچ، چوتھے آفیشل ادھم مخادمہ اور ریزرو اسسٹنٹ ریفری محمد الکلاف بھی فرائض انجام دیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے سربراہ برائے ریفری پیئر لوئیجی کولینا نے ونچچ کی تقرری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پٹیوں والی جرسی پہننا ایک خوبصورت احساس ہے، اور یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ فائنل کے لیے سلوکو ونچچ کو منتخب کیا گیا ہے۔ تقرری کے اعلان کے وقت ونچچ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، جس کی ویڈیو بھی فیفا کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس ورلڈ کپ میں ریفریوں اور وی اے آر نظام پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ کچھ حلقوں میں ارجنٹائن کے حق میں فیصلوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ونچچ کی تقرری ان کے طویل تجربے اور عالمی سطح کے مقابلوں میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شائقین کے لیے یہ جاننا بھی دلچسپ ہوگا کہ 46 سالہ سلوکو ونچچ کا شمار دنیا کے تجربہ کار ریفریوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں پہلی بار عالمی کپ کے میچز میں فرائض انجام دیے تھے اور اب یہ 2026 کا فائنل ان کے کیریئر کا چھٹا ورلڈ کپ میچ ہوگا، جبکہ اس ٹورنامنٹ میں یہ ان کی چوتھی ذمہ داری ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509253/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ونچچ اس سے پہلے بھی بڑے فٹبال مقابلوں میں ریفری رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2024 کی یوئیفا چیمپئنز لیگ فائنل میں ریال میڈرڈ اور بوروسیا ڈورٹمنڈ کے درمیان میچ کی نگرانی کی تھی، جو یورپی فٹبال میں کسی بھی ریفری کے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2022 کی یوئیفا یوروپا لیگ فائنل میں بھی ریفری کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے تجربے میں یوئیفا چیمپئنز لیگ کے کئی مقابلے، یورپی چیمپئن شپ، یوروپا لیگ، نیشنز لیگ، فیفا کلب ورلڈ کپ، نوجوانوں کے ٹورنامنٹس اور بین الاقوامی کوالیفائنگ میچز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن کے ساتھ ونچچ کا تعلق ایک یادگار اور تکلیف دہ میچ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں وہ اس میچ کے ریفری تھے جس میں ارجنٹائن کو سعودی عرب کے ہاتھوں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ شکست ارجنٹینا کی 36 میچز پر مشتمل ناقابل شکست رہنے کی شاندار سلسلے کا اختتام بھی ثابت ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس میچ میں ونچچ نے ارجنٹائن کے حق میں پنالٹی بھی دی تھی، جب لیانڈرو پریڈیز کو کارنر کے دوران گرایا گیا تھا۔ کپتان لیونل میسی نے اس موقع کو گول میں تبدیل کیا تھا۔ تاہم سعودی عرب نے بعد میں دو گول کر کے مقابلہ اپنے نام کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سلوکو ونچچ ایک بار پھر ارجنٹائن کے میچ میں موجود ہوں گے، لیکن اس بار داؤ بہت بڑا ہے، کیونکہ سامنے ورلڈ کپ کا فائنل ہوگا اور دنیا بھر کے شائقین کی نظریں ان کے ہر فیصلے پر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے لیے ریفری کا اعلان کر دیا گیا ہے، اور یہ اہم ذمہ داری سلووینیا کے سلوکو ونچچ کو سونپی گئی ہے۔ ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان نیویارک میں اتوار کو کھیلے جانے والے بڑے مقابلے میں ونچچ میچ کی نگرانی کریں گے۔ اس بڑے اور اہم مقابلے میں ان کے ساتھ معاون ریفری ٹوماز کلانچنک، اندراز کووچچ، چوتھے آفیشل ادھم مخادمہ اور ریزرو اسسٹنٹ ریفری محمد الکلاف بھی فرائض انجام دیں گے۔</strong></p>
<p>فیفا کے سربراہ برائے ریفری پیئر لوئیجی کولینا نے ونچچ کی تقرری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پٹیوں والی جرسی پہننا ایک خوبصورت احساس ہے، اور یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ فائنل کے لیے سلوکو ونچچ کو منتخب کیا گیا ہے۔ تقرری کے اعلان کے وقت ونچچ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، جس کی ویڈیو بھی فیفا کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس ورلڈ کپ میں ریفریوں اور وی اے آر نظام پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ کچھ حلقوں میں ارجنٹائن کے حق میں فیصلوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ونچچ کی تقرری ان کے طویل تجربے اور عالمی سطح کے مقابلوں میں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کی گئی ہے۔</p>
<p>شائقین کے لیے یہ جاننا بھی دلچسپ ہوگا کہ 46 سالہ سلوکو ونچچ کا شمار دنیا کے تجربہ کار ریفریوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں پہلی بار عالمی کپ کے میچز میں فرائض انجام دیے تھے اور اب یہ 2026 کا فائنل ان کے کیریئر کا چھٹا ورلڈ کپ میچ ہوگا، جبکہ اس ٹورنامنٹ میں یہ ان کی چوتھی ذمہ داری ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509253/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ونچچ اس سے پہلے بھی بڑے فٹبال مقابلوں میں ریفری رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2024 کی یوئیفا چیمپئنز لیگ فائنل میں ریال میڈرڈ اور بوروسیا ڈورٹمنڈ کے درمیان میچ کی نگرانی کی تھی، جو یورپی فٹبال میں کسی بھی ریفری کے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2022 کی یوئیفا یوروپا لیگ فائنل میں بھی ریفری کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔</p>
<p>ان کے تجربے میں یوئیفا چیمپئنز لیگ کے کئی مقابلے، یورپی چیمپئن شپ، یوروپا لیگ، نیشنز لیگ، فیفا کلب ورلڈ کپ، نوجوانوں کے ٹورنامنٹس اور بین الاقوامی کوالیفائنگ میچز شامل ہیں۔</p>
<p>ارجنٹائن کے ساتھ ونچچ کا تعلق ایک یادگار اور تکلیف دہ میچ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں وہ اس میچ کے ریفری تھے جس میں ارجنٹائن کو سعودی عرب کے ہاتھوں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ شکست ارجنٹینا کی 36 میچز پر مشتمل ناقابل شکست رہنے کی شاندار سلسلے کا اختتام بھی ثابت ہوئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509223"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس میچ میں ونچچ نے ارجنٹائن کے حق میں پنالٹی بھی دی تھی، جب لیانڈرو پریڈیز کو کارنر کے دوران گرایا گیا تھا۔ کپتان لیونل میسی نے اس موقع کو گول میں تبدیل کیا تھا۔ تاہم سعودی عرب نے بعد میں دو گول کر کے مقابلہ اپنے نام کر لیا تھا۔</p>
<p>اب سلوکو ونچچ ایک بار پھر ارجنٹائن کے میچ میں موجود ہوں گے، لیکن اس بار داؤ بہت بڑا ہے، کیونکہ سامنے ورلڈ کپ کا فائنل ہوگا اور دنیا بھر کے شائقین کی نظریں ان کے ہر فیصلے پر ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509250</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:20:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181508566b596fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181508566b596fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کے باوجود میسی 'گولڈن بوٹ' کیسے کھو سکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509223/argentina-lionel-messi-kylian-mbappe-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-golden-boot-fifawc</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنانے کے باوجود ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی کے لیے گولڈن بوٹ جیتنے کی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میسی نے شاندار کارکردگی کے ذریعے خود کو ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل کر لیا ہے، لیکن چند حالات ایسے ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن نے مشکل لمحات میں بار بار اپنے کپتان اور اسٹار کھلاڑی لیونل میسی پر بھروسہ کیا۔ ناک آؤٹ مرحلے میں جب ٹیم دباؤ میں تھی، میسی نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پری کوارٹر فائنل میں مصر کے خلاف ارجنٹائن ایک وقت پر پیچھے تھا، لیکن میسی نے گول کرنے کے ساتھ ساتھ ایک گول میں مدد فراہم کی اور ٹیم کو شاندار واپسی میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیمی فائنل میں بھی میسی نے ایک بار پھر اپنی اہمیت ثابت کی۔ انگلینڈ کے خلاف ارجنٹائن آخری لمحات تک 0-1 سے پیچھے تھا، لیکن میچ کے اختتامی پانچ منٹ میں میسی نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گولز میں مدد دی۔ پہلے انہوں نے 85 ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کے لیے برابری کا موقع بنایا، جبکہ انجری ٹائم میں لاؤتارو مارٹینیز کو بہترین پاس دے کر فیصلہ کن گول میں کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ارجنٹائن فائنل میں پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی نے اس ورلڈ کپ میں اب تک 8 گول کیے ہیں جبکہ ان کے نام چار اسسٹس بھی ہیں۔ اسی کارکردگی کی بدولت انہوں نے فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے کو گولڈن بوٹ کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایمباپے نے بھی ٹورنامنٹ میں 8 گول کیے تھے، لیکن ان کے اسسٹس میسی سے ایک کم ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس وقت پیچھے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508991/football-spain-argentina-lionel-messi-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-bath-by-messi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایمباپے کے پاس اب بھی یہ اعزاز جیتنے کا موقع موجود ہے۔ اگر وہ انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کے میچ میں ایک یا اس سے زیادہ گول کر دیتے ہیں اور میسی اسپین کے خلاف فائنل میں گول نہیں کر پاتے، تو فرانس کا یہ اسٹار کھلاڑی گولڈن بوٹ اپنے نام کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسپین کے مائیکل اویارزابال بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر وہ فائنل میں 4 گول کر دیتے ہیں جبکہ میسی اور ایمباپے کوئی گول نہ کر سکیں، تو دونوں بڑے نام گولڈن بوٹ کی دوڑ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اویارزابال اب تک ورلڈ کپ میں 5 گول کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام صورتِ حال کے تحت میسی گولڈن بوٹ  کھو سکتے ہیں کیونکہ دوسرے کھلاڑیوں کے پاس ابھی میچز باقی ہیں اور وہ گول کر کے ان سے آگے نکل سکتے ہیں۔ میسی کے لیے فائنل میں گول کرنا اس اعزاز کو محفوظ بنانے کا سب سے اہم راستہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنانے کے باوجود ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی کے لیے گولڈن بوٹ جیتنے کی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ میسی نے شاندار کارکردگی کے ذریعے خود کو ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل کر لیا ہے، لیکن چند حالات ایسے ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>ارجنٹائن نے مشکل لمحات میں بار بار اپنے کپتان اور اسٹار کھلاڑی لیونل میسی پر بھروسہ کیا۔ ناک آؤٹ مرحلے میں جب ٹیم دباؤ میں تھی، میسی نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پری کوارٹر فائنل میں مصر کے خلاف ارجنٹائن ایک وقت پر پیچھے تھا، لیکن میسی نے گول کرنے کے ساتھ ساتھ ایک گول میں مدد فراہم کی اور ٹیم کو شاندار واپسی میں مدد دی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سیمی فائنل میں بھی میسی نے ایک بار پھر اپنی اہمیت ثابت کی۔ انگلینڈ کے خلاف ارجنٹائن آخری لمحات تک 0-1 سے پیچھے تھا، لیکن میچ کے اختتامی پانچ منٹ میں میسی نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گولز میں مدد دی۔ پہلے انہوں نے 85 ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کے لیے برابری کا موقع بنایا، جبکہ انجری ٹائم میں لاؤتارو مارٹینیز کو بہترین پاس دے کر فیصلہ کن گول میں کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ارجنٹائن فائنل میں پہنچ گیا۔</p>
<p>میسی نے اس ورلڈ کپ میں اب تک 8 گول کیے ہیں جبکہ ان کے نام چار اسسٹس بھی ہیں۔ اسی کارکردگی کی بدولت انہوں نے فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے کو گولڈن بوٹ کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایمباپے نے بھی ٹورنامنٹ میں 8 گول کیے تھے، لیکن ان کے اسسٹس میسی سے ایک کم ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس وقت پیچھے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508991/football-spain-argentina-lionel-messi-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-bath-by-messi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم ایمباپے کے پاس اب بھی یہ اعزاز جیتنے کا موقع موجود ہے۔ اگر وہ انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کے میچ میں ایک یا اس سے زیادہ گول کر دیتے ہیں اور میسی اسپین کے خلاف فائنل میں گول نہیں کر پاتے، تو فرانس کا یہ اسٹار کھلاڑی گولڈن بوٹ اپنے نام کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسپین کے مائیکل اویارزابال بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر وہ فائنل میں 4 گول کر دیتے ہیں جبکہ میسی اور ایمباپے کوئی گول نہ کر سکیں، تو دونوں بڑے نام گولڈن بوٹ کی دوڑ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اویارزابال اب تک ورلڈ کپ میں 5 گول کر چکے ہیں۔</p>
<p>اس تمام صورتِ حال کے تحت میسی گولڈن بوٹ  کھو سکتے ہیں کیونکہ دوسرے کھلاڑیوں کے پاس ابھی میچز باقی ہیں اور وہ گول کر کے ان سے آگے نکل سکتے ہیں۔ میسی کے لیے فائنل میں گول کرنا اس اعزاز کو محفوظ بنانے کا سب سے اہم راستہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509223</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 11:08:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181108052ad665b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181108052ad665b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا کا ورلڈ کپ فاتحین کو قیمتی انگوٹھی دینے کا اعلان، 'چیمپیئز رِنگ' کس چیز سے بنی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509215/spain-argentina-fifa-fifa-world-cup-final-fifa-worldcup-2026-footballnews-championship-rings</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فاتح کو پہلی بار روایتی ٹرافی اور طلائی تمغوں کے ساتھ خصوصی چیمپئن شپ رِنگز بھی دی جائیں گی۔ یہ کسی بھی فیفا ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ فاتح ٹیم کو اس نوعیت کا اعزاز دیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 کا فائنل اتوار، 19 جولائی کو نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں ارجنٹائن اور اسپین کی ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے لیے مدمقابل ہوں گی۔ اس مقابلے کی فاتح ٹیم کو پہلی بار امریکی طرز کی چیمپئن شپ رنگز بھی دی جائیں گی، جو امریکہ کی مختلف پیشہ ورانہ کھیلوں کی روایات کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508991/football-spain-argentina-lionel-messi-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-bath-by-messi'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے مطابق چیمپئن شپ رنگز کا مجموعہ محدود تعداد میں تیار کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر 2,026 رنگز بنائی جائیں گی، جو ورلڈ کپ 2026 کی مناسبت سے اس تعداد میں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے 30 رنگز فاتح ٹیم کے لیے مخصوص ہوں گی، جبکہ باقی 1,996 رنگز دنیا بھر کے شائقین کے لیے سرکاری لائسنس یافتہ مصنوعات کے طور پر فروخت کی جائیں گی تاکہ وہ بھی اس تاریخی ٹورنامنٹ کی یادگار اپنے پاس رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FOXSports/status/2078184000129208477?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FOXSports/status/2078184000129208477?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے بتایا کہ ہر رنگ منفرد ہوگی اور اس پر الگ نمبر درج ہوگا۔ رنگ کے ایک حصے پر فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی کا نقش بنایا جائے گا، جبکہ دوسرے حصے کو فاتح ٹیم کی شناخت کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ ہر رنگ متعلقہ فرد کے ہاتھ کے مطابق تیار کی جائے گی اور اس کے ساتھ ایک  سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18085142139d681.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18085142139d681.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے مطابق فائنل ختم ہونے کے فوراً بعد فاتح ٹیم کے کپتان اور ہیڈ کوچ کو یادگاری طور پر عارضی رنگز دی جائیں گی۔ بعد ازاں فاتح ٹیم کے لیے مخصوص تمام 30 رنگز کو انفرادی طور پر تیار کیا جائے گا تاکہ وہ ہر کھلاڑی اور متعلقہ فرد کے لیے مکمل طور پر موزوں ہوں، جس کے بعد انہیں ایک الگ تقریب میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چیمپئن شپ رنگز امریکا کی کئی بڑی کھیلوں کی لیگوں، جیسے امریکی فٹبال، بیس بال، باسکٹ بال، آئس ہاکی اور میجر لیگ سوکر میں کامیاب ٹیموں کو دی جاتی ہیں۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس روایت کو پہلی بار عالمی فٹبال کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ایک نئی اور منفرد یادگار بھی دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ شائقین کے لیے فروخت کی جانے والی رنگز کی قیمت کیا ہوگی، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو حسبِ روایت ٹرافی اور طلائی تمغے بھی دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فاتح کو پہلی بار روایتی ٹرافی اور طلائی تمغوں کے ساتھ خصوصی چیمپئن شپ رِنگز بھی دی جائیں گی۔ یہ کسی بھی فیفا ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ فاتح ٹیم کو اس نوعیت کا اعزاز دیا جائے گا۔</strong></p>
<p>ورلڈ کپ 2026 کا فائنل اتوار، 19 جولائی کو نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں ارجنٹائن اور اسپین کی ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے لیے مدمقابل ہوں گی۔ اس مقابلے کی فاتح ٹیم کو پہلی بار امریکی طرز کی چیمپئن شپ رنگز بھی دی جائیں گی، جو امریکہ کی مختلف پیشہ ورانہ کھیلوں کی روایات کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508991/football-spain-argentina-lionel-messi-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-bath-by-messi'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیفا کے مطابق چیمپئن شپ رنگز کا مجموعہ محدود تعداد میں تیار کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر 2,026 رنگز بنائی جائیں گی، جو ورلڈ کپ 2026 کی مناسبت سے اس تعداد میں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے 30 رنگز فاتح ٹیم کے لیے مخصوص ہوں گی، جبکہ باقی 1,996 رنگز دنیا بھر کے شائقین کے لیے سرکاری لائسنس یافتہ مصنوعات کے طور پر فروخت کی جائیں گی تاکہ وہ بھی اس تاریخی ٹورنامنٹ کی یادگار اپنے پاس رکھ سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FOXSports/status/2078184000129208477?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FOXSports/status/2078184000129208477?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فیفا نے بتایا کہ ہر رنگ منفرد ہوگی اور اس پر الگ نمبر درج ہوگا۔ رنگ کے ایک حصے پر فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی کا نقش بنایا جائے گا، جبکہ دوسرے حصے کو فاتح ٹیم کی شناخت کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ ہر رنگ متعلقہ فرد کے ہاتھ کے مطابق تیار کی جائے گی اور اس کے ساتھ ایک  سرٹیفکیٹ بھی دیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18085142139d681.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18085142139d681.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فیفا کے مطابق فائنل ختم ہونے کے فوراً بعد فاتح ٹیم کے کپتان اور ہیڈ کوچ کو یادگاری طور پر عارضی رنگز دی جائیں گی۔ بعد ازاں فاتح ٹیم کے لیے مخصوص تمام 30 رنگز کو انفرادی طور پر تیار کیا جائے گا تاکہ وہ ہر کھلاڑی اور متعلقہ فرد کے لیے مکمل طور پر موزوں ہوں، جس کے بعد انہیں ایک الگ تقریب میں باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چیمپئن شپ رنگز امریکا کی کئی بڑی کھیلوں کی لیگوں، جیسے امریکی فٹبال، بیس بال، باسکٹ بال، آئس ہاکی اور میجر لیگ سوکر میں کامیاب ٹیموں کو دی جاتی ہیں۔ فیفا کا کہنا ہے کہ اس روایت کو پہلی بار عالمی فٹبال کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو ایک نئی اور منفرد یادگار بھی دی جا سکے۔</p>
<p>فیفا نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ شائقین کے لیے فروخت کی جانے والی رنگز کی قیمت کیا ہوگی، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو حسبِ روایت ٹرافی اور طلائی تمغے بھی دیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509215</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 11:58:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/18085127ba9e3af.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/18085127ba9e3af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرپل سنچری، چھ چھکے اور کئی منفرد ریکارڈز کے حامل لیجنڈ کرکٹر گیری سوبرز انتقال کر گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509182/cricket-icon-sir-garry-sobers-passed-away-leaving-behind-unmatched-records</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز (گیری سوبرز) 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ، تین مختلف انداز میں بولنگ اور غیر معمولی فیلڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے گیری سوبرز نے اپنے دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں کئی ریکارڈز قائم کیے۔ وہ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم عمر ترین ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ انڈیز کرکٹ نے جمعے کو سر گیری سوبرز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘ ادارے نے ان کی تصویر کے ساتھ ’لیجنڈ، آئیکون، ہیرو‘ کے القابات بھی تحریر کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے انتقال کے ساتھ کھیل کا ایک سنہری باب اختتام کو پہنچ گیا لیکن ان کے ریکارڈز اور کارنامے آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/windiescricket/status/2078134366778118190'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/windiescricket/status/2078134366778118190"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے انتقال پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سر گارفیلڈ سوبرز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی بی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ 1959 میں ویسٹ انڈیز کے دورۂ پاکستان کے دوران سر گارفیلڈ سوبرز کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز تھا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیت نے پاکستانی میدانوں کو اعزاز بخشا اور ان کا شاندار کیریئر عالمی کرکٹ پر ہمیشہ کے لیے اپنے نقوش چھوڑ گیا پے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی بی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ، سر گارفیلڈ سوبرز کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2078162878042120400'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2078162878042120400"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/englandcricket/status/2078139041971576979'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/englandcricket/status/2078139041971576979"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انہیں کرکٹ کا حقیقی آئیکون اور کھیل کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک قرار دیا اور ان کی بھارتی کرکٹرز سے ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BCCI/status/2078138947977597419/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BCCI/status/2078138947977597419/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="شاندار-کرکٹ-کیرئیر" href="#شاندار-کرکٹ-کیرئیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;شاندار کرکٹ کیرئیر&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سر گارفیلڈ سوبرز نے محض 16 برس کی عمر میں بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں انہوں نے 28 ہزار سے زائد رنز بنائے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث انہیں 1954 میں صرف 17 برس کی عمر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سر گارفیلڈ سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں نے 57.78 کی شاندار اوسط سے 8 ہزار 32 رنز بنائے اور ساتھ ہی 235 وکٹیں بھی حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے 8 ہزار رنز صرف 157 اننگز میں مکمل کیے تھے۔ ان کا یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے اور دنیا کا کوئی بھی بلے باز یہاں تک کہ سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا جیسے عظیم کرکٹرز بھی ان کے اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 1958 میں پاکستان کے خلاف انہوں نے کانراڈ ہنٹ کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 446 رنز کی تاریخی پارٹنراشپ قائم کی تھی، جو دہائیوں تک ورلڈ ریکارڈ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ صرف ایک کامیاب بلے باز یا بولر نہیں تھے بلکہ کرکٹ کے تینوں شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricbuzz/status/2078165843591283004'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cricbuzz/status/2078165843591283004"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرپل سنچری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنہ 1958 میں صرف 21 برس کی عمر میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی۔ اس وقت یہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی، جس نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ یہ ریکارڈ بعد میں ویسٹ انڈیز کے ہی کرکٹر برائن لارا نے توڑا تاہم ٹرپل سنچری بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کا اعزاز آج بھی ان ہی کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا ریکارڈ ٹوٹنے پر کمنٹیٹر نے ان سے سوال کیا کہ ریکارڈ ٹوٹنے پر کیسا محسوس ہورہا ہے تو انہوں نے نہایت دلچسپ جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیری سوبرز کا کہنا تھا کہ ’ریکارڈز تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں اور نیا ریکارڈ بنانے کے لیے کسی کا پرانا ریکارڈ ٹوٹنا بھی عام سی بات ہے۔ میرے لیے خوشی کی بات میرا ریکارڈ توڑنے والا کھلاڑی (برائن لارا) ہے جو کرکٹ کو اسی انداز سے کھیلتا ہے، جس طرح اسے کھیلا جانا چاہیے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SkyCricket/status/2078157528521716201/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SkyCricket/status/2078157528521716201/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک اوور میں 6 چھکے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سر گارفیلڈ سوبرز کے تاریخی ریکارڈز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگانے والے پہلے بلے باز تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ منفرد اعزاز ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے گلیمورگن کے بولر میلکم نیش کے خلاف حاصل کیا، جو آج بھی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے سابقہ کلب ناٹنگھم شائر کرکٹ کلب نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر اور اپنی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CricketSkool/status/1398583927422349315/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CricketSkool/status/1398583927422349315/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مختلف بالنگ اسٹائل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیری سوبرز جارحانہ بیٹسمین کے علاوہ ایک جادوگر بولر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں تین مختلف انداز سے بولنگ میں کمال حاصل تھا۔ وہ بائیں ہاتھ سے سے تیز بولنگ، آرتھوڈوکس &lt;strong&gt;اور&lt;/strong&gt; چائنا مین اسپن بولنگ، تینوں میں ماہر تھے۔ ایک بولر کی تینوں انداز میں مہارت آج کے دور میں بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹنگ اور بولنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ٹیم کو جب بھی مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنا ہوتا، وہ ’شارٹ لیگ‘ اور ’سلپ‘ کی پوزیشن پر موجود نظر آتے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 93 میچوں میں 109 کیچز پکڑے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/virendersehwag/status/2078163450568827240'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/virendersehwag/status/2078163450568827240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے علاقے سینٹ مائیکل میں پیدا ہونے والے گیری سوبرز کی ذاتی زندگی بھی کے کئی پہلو بھی بہت مشہور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/sports/cricket/west-indies-great-sobers-dies-89-2026-07-17/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;کے مطابق پیدائش کے وقت ان کے دونوں ہاتھوں میں ایک، ایک اضافی انگلی موجود تھی جنہیں انہوں نے بچپن میں خود ہی کاٹ کر علیحدہ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے والد کینیڈین مرچنٹ نیوی میں ملازم تھے لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن حملے میں ان کا جہاز ڈوب گیا۔ اس وقت سوبرز صرف پانچ برس کے تھے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی خودنوشت میں انہوں نے لکھا کہ والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی بچوں کی تعلیم، خوراک اور ہر ضرورت کا بھرپور خیال رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں ’نائٹ ہڈ‘ سے نوازا اور ’سر‘ کا خطاب دیا۔ جنوبی افریقہ کے معروف رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی انہیں پسندیدہ کرکٹر قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ویسٹ انڈیز کے ایک کامیاب ترین کپتان تھے جن کے دور میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم ناقابلِ شکست تصور کی جاتی تھی۔ ان کی اسی عظیم خدمات کی وجہ سے آئی سی سی نے سال کے بہترین کرکٹر کا ایوارڈ ان کے نام سے منسوب کر رکھا ہے، جسے ’سر گیری سوبرز ٹرافی‘ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/virender_swag/status/2078153649512182035'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/virender_swag/status/2078153649512182035"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ کے معروف جریدے ’وزڈن‘ نے سنہ 2000 میں 100 بین الاقوامی کرکٹ ماہرین کے پینل کے ذریعے 20ویں صدی کے 5 عظیم ترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تھا۔ اس تاریخی فہرست میں سر ڈونلڈ بریڈمین سرفہرست جب کہ سر گیری سوبرز دوسرے نمبر پر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سر ڈونلڈ بریڈمین نے خود سر گارفیلڈ سوبرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا ’میرے خیال میں وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارباڈوس میں ہر سال 28 اپریل کو ’قومی ہیروز کا دن‘ منایا جاتا ہے۔ سنہ 1998 میں بارباڈوس کی پارلیمنٹ نے ’آرڈر آف نیشنل ہیروز ایکٹ‘ پاس کیا، جس کے تحت ملک کی تاریخ بدلنے والے 10 عظیم ترین افراد کو ’قومی ہیرو‘ کا درجہ دیا گیا۔ ان 10 ہیروز میں سے ایک گیری سوبرز تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے آبائی وطن بارباڈوس میں حکومت نے ان کے نام پر ’سر گارفیلڈ سوبرز اسپورٹس کمپلیکس‘ بھی قائم کر رکھا ہے جو اب ملک میں انڈور اسپورٹس اور بڑے ثقافتی میلوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز (گیری سوبرز) 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ، تین مختلف انداز میں بولنگ اور غیر معمولی فیلڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے گیری سوبرز نے اپنے دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں کئی ریکارڈز قائم کیے۔ وہ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم عمر ترین ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز ہیں۔</strong></p>
<p>ویسٹ انڈیز کرکٹ نے جمعے کو سر گیری سوبرز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘ ادارے نے ان کی تصویر کے ساتھ ’لیجنڈ، آئیکون، ہیرو‘ کے القابات بھی تحریر کیے۔</p>
<p>ان کے انتقال کے ساتھ کھیل کا ایک سنہری باب اختتام کو پہنچ گیا لیکن ان کے ریکارڈز اور کارنامے آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/windiescricket/status/2078134366778118190'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/windiescricket/status/2078134366778118190"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ان کے انتقال پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سر گارفیلڈ سوبرز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>پی سی بی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ 1959 میں ویسٹ انڈیز کے دورۂ پاکستان کے دوران سر گارفیلڈ سوبرز کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز تھا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیت نے پاکستانی میدانوں کو اعزاز بخشا اور ان کا شاندار کیریئر عالمی کرکٹ پر ہمیشہ کے لیے اپنے نقوش چھوڑ گیا پے۔</p>
<p>پی سی بی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ، سر گارفیلڈ سوبرز کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2078162878042120400'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2078162878042120400"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/englandcricket/status/2078139041971576979'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/englandcricket/status/2078139041971576979"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انہیں کرکٹ کا حقیقی آئیکون اور کھیل کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک قرار دیا اور ان کی بھارتی کرکٹرز سے ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BCCI/status/2078138947977597419/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BCCI/status/2078138947977597419/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<h2><a id="شاندار-کرکٹ-کیرئیر" href="#شاندار-کرکٹ-کیرئیر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>شاندار کرکٹ کیرئیر</strong></h2>
<p>سر گارفیلڈ سوبرز نے محض 16 برس کی عمر میں بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں انہوں نے 28 ہزار سے زائد رنز بنائے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث انہیں 1954 میں صرف 17 برس کی عمر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔</p>
<p>سر گارفیلڈ سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں نے 57.78 کی شاندار اوسط سے 8 ہزار 32 رنز بنائے اور ساتھ ہی 235 وکٹیں بھی حاصل کیں۔</p>
<p>انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے 8 ہزار رنز صرف 157 اننگز میں مکمل کیے تھے۔ ان کا یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے اور دنیا کا کوئی بھی بلے باز یہاں تک کہ سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا جیسے عظیم کرکٹرز بھی ان کے اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکے تھے۔</p>
<p>اس کے علاوہ 1958 میں پاکستان کے خلاف انہوں نے کانراڈ ہنٹ کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 446 رنز کی تاریخی پارٹنراشپ قائم کی تھی، جو دہائیوں تک ورلڈ ریکارڈ رہا۔</p>
<p>وہ صرف ایک کامیاب بلے باز یا بولر نہیں تھے بلکہ کرکٹ کے تینوں شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر قرار دیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/cricbuzz/status/2078165843591283004'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cricbuzz/status/2078165843591283004"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><strong>ٹرپل سنچری</strong></p>
<p>سنہ 1958 میں صرف 21 برس کی عمر میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی۔ اس وقت یہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی، جس نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ یہ ریکارڈ بعد میں ویسٹ انڈیز کے ہی کرکٹر برائن لارا نے توڑا تاہم ٹرپل سنچری بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کا اعزاز آج بھی ان ہی کے پاس ہے۔</p>
<p>ان کا ریکارڈ ٹوٹنے پر کمنٹیٹر نے ان سے سوال کیا کہ ریکارڈ ٹوٹنے پر کیسا محسوس ہورہا ہے تو انہوں نے نہایت دلچسپ جواب دیا۔</p>
<p>گیری سوبرز کا کہنا تھا کہ ’ریکارڈز تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں اور نیا ریکارڈ بنانے کے لیے کسی کا پرانا ریکارڈ ٹوٹنا بھی عام سی بات ہے۔ میرے لیے خوشی کی بات میرا ریکارڈ توڑنے والا کھلاڑی (برائن لارا) ہے جو کرکٹ کو اسی انداز سے کھیلتا ہے، جس طرح اسے کھیلا جانا چاہیے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SkyCricket/status/2078157528521716201/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SkyCricket/status/2078157528521716201/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><strong>ایک اوور میں 6 چھکے</strong></p>
<p>سر گارفیلڈ سوبرز کے تاریخی ریکارڈز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگانے والے پہلے بلے باز تھے۔</p>
<p>انہوں نے یہ منفرد اعزاز ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے گلیمورگن کے بولر میلکم نیش کے خلاف حاصل کیا، جو آج بھی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کے سابقہ کلب ناٹنگھم شائر کرکٹ کلب نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر اور اپنی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CricketSkool/status/1398583927422349315/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CricketSkool/status/1398583927422349315/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><strong>مختلف بالنگ اسٹائل</strong></p>
<p>گیری سوبرز جارحانہ بیٹسمین کے علاوہ ایک جادوگر بولر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں تین مختلف انداز سے بولنگ میں کمال حاصل تھا۔ وہ بائیں ہاتھ سے سے تیز بولنگ، آرتھوڈوکس <strong>اور</strong> چائنا مین اسپن بولنگ، تینوں میں ماہر تھے۔ ایک بولر کی تینوں انداز میں مہارت آج کے دور میں بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>بیٹنگ اور بولنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ٹیم کو جب بھی مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنا ہوتا، وہ ’شارٹ لیگ‘ اور ’سلپ‘ کی پوزیشن پر موجود نظر آتے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 93 میچوں میں 109 کیچز پکڑے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/virendersehwag/status/2078163450568827240'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/virendersehwag/status/2078163450568827240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے علاقے سینٹ مائیکل میں پیدا ہونے والے گیری سوبرز کی ذاتی زندگی بھی کے کئی پہلو بھی بہت مشہور ہوئے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/sports/cricket/west-indies-great-sobers-dies-89-2026-07-17/">رائٹرز </a>کے مطابق پیدائش کے وقت ان کے دونوں ہاتھوں میں ایک، ایک اضافی انگلی موجود تھی جنہیں انہوں نے بچپن میں خود ہی کاٹ کر علیحدہ کر دیا تھا۔</p>
<p>ان کے والد کینیڈین مرچنٹ نیوی میں ملازم تھے لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن حملے میں ان کا جہاز ڈوب گیا۔ اس وقت سوبرز صرف پانچ برس کے تھے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔</p>
<p>اپنی خودنوشت میں انہوں نے لکھا کہ والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی بچوں کی تعلیم، خوراک اور ہر ضرورت کا بھرپور خیال رکھا۔</p>
<p>کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں ’نائٹ ہڈ‘ سے نوازا اور ’سر‘ کا خطاب دیا۔ جنوبی افریقہ کے معروف رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی انہیں پسندیدہ کرکٹر قرار دیا تھا۔</p>
<p>وہ ویسٹ انڈیز کے ایک کامیاب ترین کپتان تھے جن کے دور میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم ناقابلِ شکست تصور کی جاتی تھی۔ ان کی اسی عظیم خدمات کی وجہ سے آئی سی سی نے سال کے بہترین کرکٹر کا ایوارڈ ان کے نام سے منسوب کر رکھا ہے، جسے ’سر گیری سوبرز ٹرافی‘ کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/virender_swag/status/2078153649512182035'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/virender_swag/status/2078153649512182035"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کرکٹ کے معروف جریدے ’وزڈن‘ نے سنہ 2000 میں 100 بین الاقوامی کرکٹ ماہرین کے پینل کے ذریعے 20ویں صدی کے 5 عظیم ترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تھا۔ اس تاریخی فہرست میں سر ڈونلڈ بریڈمین سرفہرست جب کہ سر گیری سوبرز دوسرے نمبر پر رہے تھے۔</p>
<p>بعد ازاں سر ڈونلڈ بریڈمین نے خود سر گارفیلڈ سوبرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا ’میرے خیال میں وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں۔‘</p>
<p>بارباڈوس میں ہر سال 28 اپریل کو ’قومی ہیروز کا دن‘ منایا جاتا ہے۔ سنہ 1998 میں بارباڈوس کی پارلیمنٹ نے ’آرڈر آف نیشنل ہیروز ایکٹ‘ پاس کیا، جس کے تحت ملک کی تاریخ بدلنے والے 10 عظیم ترین افراد کو ’قومی ہیرو‘ کا درجہ دیا گیا۔ ان 10 ہیروز میں سے ایک گیری سوبرز تھے۔</p>
<p>ان کے آبائی وطن بارباڈوس میں حکومت نے ان کے نام پر ’سر گارفیلڈ سوبرز اسپورٹس کمپلیکس‘ بھی قائم کر رکھا ہے جو اب ملک میں انڈور اسپورٹس اور بڑے ثقافتی میلوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509182</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 23:26:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/17221142c45b805.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/17221142c45b805.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ فائنل کی ذمہ داری ملنے پر ریفری خوشی سے رو پڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509092/referee-breaks-down-in-tears-of-joy-after-being-appointed-for-fifa-world-cup-final</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے لیے سلووینیا کے تجربہ کار ریفری اسلاوکو وینچیچ کی بطور مرکزی ریفری تقرری نے ایک جذباتی منظر پیش کر دیا۔ ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان 19 جولائی کو نیویارک میں کھیلے جانے والے فائنل کے لیے ان کے نام کا اعلان ہوتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس موقع پر وہاں موجود دیگر ریفریز نے انہیں مبارک باد دی اور ان کے اس یادگار لمحے کو سراہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں کھلاڑیوں کے جذبات کو زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن اسلاوکو وینچیچ کے آنسوؤں نے یہ ثابت کر دیا کہ اس عالمی مقابلے کا حصہ بننا ریفریز کے لیے بھی کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں ہوتا۔ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کے فائنل میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہر ریفری کے کیریئر کا ایک اہم ترین لمحہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077949989670572484%7Ctwgr%5Ec92c13a2b7868a7ac73a41de725f51491aecf36d%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Ffootball%2Fstory%2Fslavko-vincic-world-cup-final-referee-appointment-tears-argentina-vs-spain-2949704-2026-07-17'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077949989670572484%7Ctwgr%5Ec92c13a2b7868a7ac73a41de725f51491aecf36d%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Ffootball%2Fstory%2Fslavko-vincic-world-cup-final-referee-appointment-tears-argentina-vs-spain-2949704-2026-07-17"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلاوکو وینچیچ کے ساتھ ان کے ہم وطن اور پرانے ساتھی توماز کلانچنک اور آندراز کواچک معاون ریفری کے فرائض انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ اردن سے تعلق رکھنے والے ادھم مخادمہ کو چوتھا آفیشل مقرر کیا گیا ہے اور محمد الکلاف ریزرو اسسٹنٹ ریفری کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508816/argentina-vs-england-semifinal-who-is-referee-ismail-elfath-chosen-for-the-match'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلاوکو وینچیچ یورپ کے تجربہ کار ریفریز میں شمار ہوتے ہیں اور وہ 2010 سے فیفا کے منظور شدہ بین الاقوامی ریفری ہیں۔ انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں کئی اہم بین الاقوامی مقابلوں میں خدمات انجام دی ہیں، جن میں 2024 کے یوئیفا چیمپئنز لیگ فائنل جیسے بڑے میچ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں بھی وہ دو میچز میں ریفری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں جبکہ موجودہ ورلڈ کپ میں اب تک تین میچز میں ان کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ٹورنامنٹ میں ان کا آخری میچ یکم جولائی کو میکسیکو اور ایکواڈور کے درمیان کھیلا گیا تھا، جس میں میکسیکو نے 0-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سنسنی خیز مقابلے میں کئی کھلاڑیوں کو وارننگز دی گئیں اور انہوں نے قانون توڑنے پر ایکواڈور کے کھلاڑی پیئرو ہنکاپی کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاون ریفریز توماش کلانچنک اور آندراز کواچیچ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بین الاقوامی سطح پر ایک ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں اور اس بار بھی وہ اسلاوکو وینچیچ کی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ فائنل جیسے بڑے مقابلے کے لیے ان کی تقرری ان کے وسیع تجربے کا اعتراف سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائنل کے لیے اپنے نام کے اعلان کے بعد اسلاوکو وینچیچ کے جذباتی انداز نے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان کی آنکھوں میں آنے والے آنسو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیفا ورلڈ کپ کا فائنل صرف کھلاڑیوں ہی نہیں بلکہ آفیشلز کے لیے بھی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہوتا ہے۔ یہ تقرری ان کے برسوں کی محنت، تجربے اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف بھی سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے لیے سلووینیا کے تجربہ کار ریفری اسلاوکو وینچیچ کی بطور مرکزی ریفری تقرری نے ایک جذباتی منظر پیش کر دیا۔ ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان 19 جولائی کو نیویارک میں کھیلے جانے والے فائنل کے لیے ان کے نام کا اعلان ہوتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس موقع پر وہاں موجود دیگر ریفریز نے انہیں مبارک باد دی اور ان کے اس یادگار لمحے کو سراہا۔</strong></p>
<p>عام طور پر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں کھلاڑیوں کے جذبات کو زیادہ توجہ دی جاتی ہے، لیکن اسلاوکو وینچیچ کے آنسوؤں نے یہ ثابت کر دیا کہ اس عالمی مقابلے کا حصہ بننا ریفریز کے لیے بھی کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں ہوتا۔ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کے فائنل میں ذمہ داریاں سنبھالنا ہر ریفری کے کیریئر کا ایک اہم ترین لمحہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077949989670572484%7Ctwgr%5Ec92c13a2b7868a7ac73a41de725f51491aecf36d%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Ffootball%2Fstory%2Fslavko-vincic-world-cup-final-referee-appointment-tears-argentina-vs-spain-2949704-2026-07-17'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2077949989670572484?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2077949989670572484%7Ctwgr%5Ec92c13a2b7868a7ac73a41de725f51491aecf36d%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Ffootball%2Fstory%2Fslavko-vincic-world-cup-final-referee-appointment-tears-argentina-vs-spain-2949704-2026-07-17"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسلاوکو وینچیچ کے ساتھ ان کے ہم وطن اور پرانے ساتھی توماز کلانچنک اور آندراز کواچک معاون ریفری کے فرائض انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ اردن سے تعلق رکھنے والے ادھم مخادمہ کو چوتھا آفیشل مقرر کیا گیا ہے اور محمد الکلاف ریزرو اسسٹنٹ ریفری کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508816/argentina-vs-england-semifinal-who-is-referee-ismail-elfath-chosen-for-the-match'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلاوکو وینچیچ یورپ کے تجربہ کار ریفریز میں شمار ہوتے ہیں اور وہ 2010 سے فیفا کے منظور شدہ بین الاقوامی ریفری ہیں۔ انہوں نے اپنے طویل کیریئر میں کئی اہم بین الاقوامی مقابلوں میں خدمات انجام دی ہیں، جن میں 2024 کے یوئیفا چیمپئنز لیگ فائنل جیسے بڑے میچ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں بھی وہ دو میچز میں ریفری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں جبکہ موجودہ ورلڈ کپ میں اب تک تین میچز میں ان کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔</p>
<p>اس ٹورنامنٹ میں ان کا آخری میچ یکم جولائی کو میکسیکو اور ایکواڈور کے درمیان کھیلا گیا تھا، جس میں میکسیکو نے 0-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سنسنی خیز مقابلے میں کئی کھلاڑیوں کو وارننگز دی گئیں اور انہوں نے قانون توڑنے پر ایکواڈور کے کھلاڑی پیئرو ہنکاپی کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا تھا۔</p>
<p>معاون ریفریز توماش کلانچنک اور آندراز کواچیچ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بین الاقوامی سطح پر ایک ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں اور اس بار بھی وہ اسلاوکو وینچیچ کی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ فائنل جیسے بڑے مقابلے کے لیے ان کی تقرری ان کے وسیع تجربے کا اعتراف سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>فائنل کے لیے اپنے نام کے اعلان کے بعد اسلاوکو وینچیچ کے جذباتی انداز نے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان کی آنکھوں میں آنے والے آنسو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیفا ورلڈ کپ کا فائنل صرف کھلاڑیوں ہی نہیں بلکہ آفیشلز کے لیے بھی زندگی کا ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہوتا ہے۔ یہ تقرری ان کے برسوں کی محنت، تجربے اور پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف بھی سمجھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509092</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 11:04:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/171059515382530.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/171059515382530.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ فائنل سے قبل خطرے کی گھنٹی، نیویارک کی فضا آلودگی کی لپیٹ میں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509124/alarm-bells-ahead-of-fifa-world-cup-final-new-york-engulfed-in-air-pollution</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل امریکا کے شہر نیویارک اور نیو جرسی میں فضائی آلودگی نے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ کینیڈا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں شمال مشرقی امریکا کے مختلف علاقوں تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان ہونے والے فائنل میچ کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے فٹ بال شائقین فائنل مقابلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ 19 جولائی کو نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں ہونے والے اس تاریخی مقابلے کو دیکھنے کے لیے 80 ہزار سے زائد شائقین کی آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق منتظمین مسلسل موسم اور فضائی معیار کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ میچ کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509092/referee-breaks-down-in-tears-of-joy-after-being-appointed-for-fifa-world-cup-final'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صحت سے متعلق جاری کردہ الرٹ میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور سخت جسمانی سرگرمیوں سے گریز کریں۔ طبی ماہرین کے مطابق جنگلاتی آگ کے دھوئیں میں زیادہ دیر تک رہنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو سخت جسمانی سرگرمی انجام دے رہے ہوں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق 90 منٹ تک فٹ بال کھیلنا بھی ایک انتہائی مشقت طلب سرگرمی ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر امراضِ تنفس ڈاکٹر وِن گپتا نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”دھوئیں سے بھرپور ماحول میں 90 منٹ تک فٹ بال کھیلنا کھلاڑیوں کے دل اور پھیپھڑوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سانس کے امراض میں مبتلا شائقین کو احتیاط برتنی چاہیے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو ماسک کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگرچہ اس وقت نیویارک اور اس کے گرد و نواح میں فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک ہے، تاہم ہفتے کے روز متوقع بارش اور گرج چمک کے باعث صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیش گوئی کے مطابق بارش دھوئیں کے ذرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ ٹھنڈی ہوائیں بھی فضائی معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;موسم کی پیش گوئی کے مطابق جمعہ کو درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے جبکہ ہفتے کو بارش متوقع ہے۔ فائنل کے روز درجہ حرارت تقریباً 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے اور موسم نسبتاً بہتر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسپین اور ارجنٹینا پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔ اسپین 2010 کے بعد اپنا دوسرا عالمی ٹائٹل جیتنے کا خواہاں ہے جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اترے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائنل کی رنگا رنگ اختتامی تقریب بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہوگی۔ اس بار میچ کے ہاف ٹائم میں شکیرا اور جسٹن بیبر سمیت  دنیا کے مشہور فنکار اپنی پرفارمنس پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ فاتح ٹیم کے کپتان کو ورلڈ کپ ٹرافی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی جانب سے پیش کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ فضائی آلودگی نے وقتی طور پر تشویش پیدا کی ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ موسمی پیش گوئی درست ثابت ہونے کی صورت میں ورلڈ کپ فائنل کے انعقاد میں کسی بڑی رکاوٹ کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل امریکا کے شہر نیویارک اور نیو جرسی میں فضائی آلودگی نے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ کینیڈا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں شمال مشرقی امریکا کے مختلف علاقوں تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان ہونے والے فائنل میچ کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر کے فٹ بال شائقین فائنل مقابلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ 19 جولائی کو نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں ہونے والے اس تاریخی مقابلے کو دیکھنے کے لیے 80 ہزار سے زائد شائقین کی آمد متوقع ہے۔</p>
<p>غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق منتظمین مسلسل موسم اور فضائی معیار کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ میچ کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509092/referee-breaks-down-in-tears-of-joy-after-being-appointed-for-fifa-world-cup-final'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صحت سے متعلق جاری کردہ الرٹ میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور سخت جسمانی سرگرمیوں سے گریز کریں۔ طبی ماہرین کے مطابق جنگلاتی آگ کے دھوئیں میں زیادہ دیر تک رہنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو سخت جسمانی سرگرمی انجام دے رہے ہوں</p>
<p>ماہرین کے مطابق 90 منٹ تک فٹ بال کھیلنا بھی ایک انتہائی مشقت طلب سرگرمی ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی کھلاڑیوں کی کارکردگی اور صحت کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>ماہر امراضِ تنفس ڈاکٹر وِن گپتا نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”دھوئیں سے بھرپور ماحول میں 90 منٹ تک فٹ بال کھیلنا کھلاڑیوں کے دل اور پھیپھڑوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سانس کے امراض میں مبتلا شائقین کو احتیاط برتنی چاہیے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو ماسک کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔<br></p>
<p>موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگرچہ اس وقت نیویارک اور اس کے گرد و نواح میں فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک ہے، تاہم ہفتے کے روز متوقع بارش اور گرج چمک کے باعث صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔</p>
<p>پیش گوئی کے مطابق بارش دھوئیں کے ذرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ ٹھنڈی ہوائیں بھی فضائی معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>موسم کی پیش گوئی کے مطابق جمعہ کو درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے جبکہ ہفتے کو بارش متوقع ہے۔ فائنل کے روز درجہ حرارت تقریباً 29 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے اور موسم نسبتاً بہتر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسپین اور ارجنٹینا پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔ اسپین 2010 کے بعد اپنا دوسرا عالمی ٹائٹل جیتنے کا خواہاں ہے جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اترے گا۔</p>
<p>فائنل کی رنگا رنگ اختتامی تقریب بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہوگی۔ اس بار میچ کے ہاف ٹائم میں شکیرا اور جسٹن بیبر سمیت  دنیا کے مشہور فنکار اپنی پرفارمنس پیش کریں گے۔</p>
<p>اس کے علاوہ فاتح ٹیم کے کپتان کو ورلڈ کپ ٹرافی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی جانب سے پیش کیے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ فضائی آلودگی نے وقتی طور پر تشویش پیدا کی ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ موسمی پیش گوئی درست ثابت ہونے کی صورت میں ورلڈ کپ فائنل کے انعقاد میں کسی بڑی رکاوٹ کا امکان نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509124</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 14:19:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1714142193e02ef.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1714142193e02ef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی بورڈ سے ناخوش، روہت شرما کا انگلینڈ سیریز کا آئندہ میچ آخری ون ڈے ہو گا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509113/indian-cricket-team-bcci-odi-cricket-2027-odi-world-cup-yashasvi-jaiswal-rohit-sharma</link>
      <description>&lt;h3&gt;&lt;a id="بھارتی-کرکٹ-ٹیم-کے-مایہ-ناز-اوپنر-روہت-شرما-کے-ون-ڈے-کیریئر-کے-اختتام-سے-متعلق-افواہیں-اور-چہ-مگوئیاں-عروج-پر-ہیں-کئی-رپورٹس-میں-دعویٰ-کیا-گیا-ہے-کہ-انگلینڈ-کے-خلاف-جاری-ون-ڈے-سیریز-کے-بعد-روہت-شرما-کے-لیے-بھارتی-ٹیم-کے-دروازے-بند-کیے-جا-سکتے-ہیں-تاہم-اس-" href="#بھارتی-کرکٹ-ٹیم-کے-مایہ-ناز-اوپنر-روہت-شرما-کے-ون-ڈے-کیریئر-کے-اختتام-سے-متعلق-افواہیں-اور-چہ-مگوئیاں-عروج-پر-ہیں-کئی-رپورٹس-میں-دعویٰ-کیا-گیا-ہے-کہ-انگلینڈ-کے-خلاف-جاری-ون-ڈے-سیریز-کے-بعد-روہت-شرما-کے-لیے-بھارتی-ٹیم-کے-دروازے-بند-کیے-جا-سکتے-ہیں-تاہم-اس-" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اوپنر روہت شرما کے ون ڈے کیریئر کے اختتام سے متعلق افواہیں اور چہ مگوئیاں عروج  پر ہیں۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف جاری ون ڈے سیریز کے بعد روہت شرما کے لیے بھارتی ٹیم کے دروازے بند کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس معاملے پر بی سی سی آئی یا روہت شرما کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sports.ndtv.com/england-vs-india-2026/rohit-sharma-wasnt-happy-after-meeting-bcci-officials-amid-stars-last-odi-buzz-report-claims-inside-details-11781851"&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس&lt;/a&gt; کے مطابق روہت شرما نے انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے دوران بی سی سی آئی حکام سے ملاقات کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روہت مبینہ طور پر بورڈ کے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے روہت اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر سے بات چیت کے بعد مستقبل کے منصوبوں پر اپنا موقف واضح کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508952'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق سلیکٹرز 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں یشسوی جیسوال کا نام بھی زیر بحث ہے، جو ایک باصلاحیت اوپنر کے طور پر ٹیم میں جگہ بنانے کے منتظر ہیں۔ سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ آنے والے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے نئی نسل کے کھلاڑیوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک رپورٹ میں بی سی سی آئی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ سلیکٹرز نے روہت شرما کے ون ڈے انتخاب کے حوالے سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ اپنے مستقبل کے بارے میں آخری فیصلہ روہت کا ذاتی معاملہ ہوگا۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تیسرا ون ڈے روہت کے ون ڈے کیریئر کا آخری میچ ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روہت شرما نے رواں سال ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شُبھمن گل کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ ون ڈے کرکٹ میں روہت کا شمار بھارت کے کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 286 ون ڈے میچوں میں 11 ہزار 731 رنز بنائے ہیں اور اپنی جارحانہ بیٹنگ کے باعث دنیا بھر میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506645/joe-root-14000-test-runs-second-highest-scorer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بطور کپتان بھی روہت شرما کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ انہوں نے 56 ون ڈے میچوں میں بھارتی ٹیم کی قیادت کی اور 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔ ان کی قیادت میں بھارت نے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روہت شرما کے مستقبل کا حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر سلیکٹرز واقعی نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بھارتی ون ڈے کرکٹ میں ایک بڑے دور کے اختتام کا اشارہ ہوگا۔ تاہم جب تک باضابطہ اعلان نہیں ہوتا، روہت کے کیریئر کے بارے میں تمام باتیں صرف رپورٹس اور قیاس آرائیوں تک محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h3><a id="بھارتی-کرکٹ-ٹیم-کے-مایہ-ناز-اوپنر-روہت-شرما-کے-ون-ڈے-کیریئر-کے-اختتام-سے-متعلق-افواہیں-اور-چہ-مگوئیاں-عروج-پر-ہیں-کئی-رپورٹس-میں-دعویٰ-کیا-گیا-ہے-کہ-انگلینڈ-کے-خلاف-جاری-ون-ڈے-سیریز-کے-بعد-روہت-شرما-کے-لیے-بھارتی-ٹیم-کے-دروازے-بند-کیے-جا-سکتے-ہیں-تاہم-اس-" href="#بھارتی-کرکٹ-ٹیم-کے-مایہ-ناز-اوپنر-روہت-شرما-کے-ون-ڈے-کیریئر-کے-اختتام-سے-متعلق-افواہیں-اور-چہ-مگوئیاں-عروج-پر-ہیں-کئی-رپورٹس-میں-دعویٰ-کیا-گیا-ہے-کہ-انگلینڈ-کے-خلاف-جاری-ون-ڈے-سیریز-کے-بعد-روہت-شرما-کے-لیے-بھارتی-ٹیم-کے-دروازے-بند-کیے-جا-سکتے-ہیں-تاہم-اس-" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اوپنر روہت شرما کے ون ڈے کیریئر کے اختتام سے متعلق افواہیں اور چہ مگوئیاں عروج  پر ہیں۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف جاری ون ڈے سیریز کے بعد روہت شرما کے لیے بھارتی ٹیم کے دروازے بند کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس معاملے پر بی سی سی آئی یا روہت شرما کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔</h3>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sports.ndtv.com/england-vs-india-2026/rohit-sharma-wasnt-happy-after-meeting-bcci-officials-amid-stars-last-odi-buzz-report-claims-inside-details-11781851">بھارتی میڈیا رپورٹس</a> کے مطابق روہت شرما نے انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے دوران بی سی سی آئی حکام سے ملاقات کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روہت مبینہ طور پر بورڈ کے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے روہت اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر سے بات چیت کے بعد مستقبل کے منصوبوں پر اپنا موقف واضح کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508952'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق سلیکٹرز 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں یشسوی جیسوال کا نام بھی زیر بحث ہے، جو ایک باصلاحیت اوپنر کے طور پر ٹیم میں جگہ بنانے کے منتظر ہیں۔ سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ آنے والے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے نئی نسل کے کھلاڑیوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>ایک رپورٹ میں بی سی سی آئی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ سلیکٹرز نے روہت شرما کے ون ڈے انتخاب کے حوالے سے اپنا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ اپنے مستقبل کے بارے میں آخری فیصلہ روہت کا ذاتی معاملہ ہوگا۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف تیسرا ون ڈے روہت کے ون ڈے کیریئر کا آخری میچ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>روہت شرما نے رواں سال ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شُبھمن گل کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ ون ڈے کرکٹ میں روہت کا شمار بھارت کے کامیاب ترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 286 ون ڈے میچوں میں 11 ہزار 731 رنز بنائے ہیں اور اپنی جارحانہ بیٹنگ کے باعث دنیا بھر میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506645/joe-root-14000-test-runs-second-highest-scorer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506645"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بطور کپتان بھی روہت شرما کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ انہوں نے 56 ون ڈے میچوں میں بھارتی ٹیم کی قیادت کی اور 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ٹیم کو فائنل تک پہنچایا۔ ان کی قیادت میں بھارت نے 2025 کی چیمپئنز ٹرافی بھی جیتی۔</p>
<p>روہت شرما کے مستقبل کا حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر سلیکٹرز واقعی نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بھارتی ون ڈے کرکٹ میں ایک بڑے دور کے اختتام کا اشارہ ہوگا۔ تاہم جب تک باضابطہ اعلان نہیں ہوتا، روہت کے کیریئر کے بارے میں تمام باتیں صرف رپورٹس اور قیاس آرائیوں تک محدود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509113</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 12:52:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/171245226c291b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/171245226c291b2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد نواز پر اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ کی خلاف ورزی ثابت، آئی سی سی نے سزا سُنا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509135/icc-sanctions-mohammad-nawaz-for-anti-doping-violation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد نواز کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دے دی گئی ہے۔ آئی سی سی نے جمعے کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ 32 سالہ کرکٹر کے ڈوپ ٹیسٹ میں ممنوعہ مادہ کاربوکسی-ٹی ایچ سی  پایا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف اینٹی ڈوپنگ ضابطے کے تحت کارروائی کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ 7 فروری 2026 کو کولمبو میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ میچ کے بعد لیا گیا تھا۔ ٹیسٹ کے نتائج میں ممنوعہ مادے کی موجودگی سامنے آنے پر معاملے کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اپریل میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے محمد نواز کی طبی تاریخ آئی سی سی کو بھجوائی تھی، جب یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وہ سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران کیے گئے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ICC/status/2078028155697463722'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/2078028155697463722"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد نواز نے اینٹی ڈوپنگ قانون کی خلاف ورزی تسلیم کر لی ہے اور یہ بھی ثابت کیا کہ ممنوعہ مادہ مقابلے سے باہر استعمال کیا گیا تھا اور اس کا کھیل میں کارکردگی بہتر بنانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق محمد نواز پر ابتدائی طور پر تین ماہ کی نااہلی عائد کی گئی تھی، تاہم اس سزا کا اطلاق یکم مئی سے تصور کیا گیا کیونکہ انہوں نے اسی تاریخ سے رضاکارانہ طور پر عارضی معطلی قبول کر لی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509113/indian-cricket-team-bcci-odi-cricket-2027-odi-world-cup-yashasvi-jaiswal-rohit-sharma'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ محمد نواز نے منشیات کے استعمال سے متعلق بحالی (ری ہیبیلیٹیشن) پروگرام میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی، جس کی وجہ سے ان کی نااہلی کی مدت تین ماہ سے کم ہو کر ایک ماہ کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق چونکہ محمد نواز ڈھائی ماہ سے زائد عرصہ عارضی معطلی کاٹ چکے ہیں، اس لیے ان کی معطلی ختم کر دی گئی ہے۔ کرکٹ بورڈ نے نے کہا کہ اگر محمد نواز آئی سی سی کی تسلی کے مطابق علاج اور بحالی کا پروگرام مکمل کر لیتے ہیں تو انہیں مزید کسی اضافی نااہلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508952/cricket-world-cup-icc-odi-worldcup-2027-india-vs-pakistan-cricketnews-world-cup-format-super-seven-pakistan-cricket-cricket-rules'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق نیدرلینڈز کے خلاف میچ میں محمد نواز کی کارکردگی اور اس کے بعد یکم مئی تک کھیلے گئے تمام میچوں کا ریکارڈ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل بھی کئی کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2006 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے قبل فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف بھی ڈرگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے پر بالترتیب دو سال اور ایک سال کی پابندی کا سامنا کر چکے تھے، جبکہ سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ پر 2015 میں ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد تین ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد نواز کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دے دی گئی ہے۔ آئی سی سی نے جمعے کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ 32 سالہ کرکٹر کے ڈوپ ٹیسٹ میں ممنوعہ مادہ کاربوکسی-ٹی ایچ سی  پایا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف اینٹی ڈوپنگ ضابطے کے تحت کارروائی کی گئی۔</strong></p>
<p>آئی سی سی کے مطابق محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ 7 فروری 2026 کو کولمبو میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ میچ کے بعد لیا گیا تھا۔ ٹیسٹ کے نتائج میں ممنوعہ مادے کی موجودگی سامنے آنے پر معاملے کی تحقیقات شروع ہوئی تھیں۔</p>
<p>اس سے قبل اپریل میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے محمد نواز کی طبی تاریخ آئی سی سی کو بھجوائی تھی، جب یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وہ سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران کیے گئے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ICC/status/2078028155697463722'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ICC/status/2078028155697463722"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ محمد نواز نے اینٹی ڈوپنگ قانون کی خلاف ورزی تسلیم کر لی ہے اور یہ بھی ثابت کیا کہ ممنوعہ مادہ مقابلے سے باہر استعمال کیا گیا تھا اور اس کا کھیل میں کارکردگی بہتر بنانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق محمد نواز پر ابتدائی طور پر تین ماہ کی نااہلی عائد کی گئی تھی، تاہم اس سزا کا اطلاق یکم مئی سے تصور کیا گیا کیونکہ انہوں نے اسی تاریخ سے رضاکارانہ طور پر عارضی معطلی قبول کر لی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509113/indian-cricket-team-bcci-odi-cricket-2027-odi-world-cup-yashasvi-jaiswal-rohit-sharma'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ محمد نواز نے منشیات کے استعمال سے متعلق بحالی (ری ہیبیلیٹیشن) پروگرام میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی، جس کی وجہ سے ان کی نااہلی کی مدت تین ماہ سے کم ہو کر ایک ماہ کر دی گئی۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق چونکہ محمد نواز ڈھائی ماہ سے زائد عرصہ عارضی معطلی کاٹ چکے ہیں، اس لیے ان کی معطلی ختم کر دی گئی ہے۔ کرکٹ بورڈ نے نے کہا کہ اگر محمد نواز آئی سی سی کی تسلی کے مطابق علاج اور بحالی کا پروگرام مکمل کر لیتے ہیں تو انہیں مزید کسی اضافی نااہلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508952/cricket-world-cup-icc-odi-worldcup-2027-india-vs-pakistan-cricketnews-world-cup-format-super-seven-pakistan-cricket-cricket-rules'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق نیدرلینڈز کے خلاف میچ میں محمد نواز کی کارکردگی اور اس کے بعد یکم مئی تک کھیلے گئے تمام میچوں کا ریکارڈ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل بھی کئی کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام رہ چکے ہیں۔</p>
<p>2006 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے قبل فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف بھی ڈرگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے پر بالترتیب دو سال اور ایک سال کی پابندی کا سامنا کر چکے تھے، جبکہ سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ پر 2015 میں ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد تین ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509135</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 14:44:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/17143022775f585.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/17143022775f585.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرکٹ ورلڈ کپ کا نیا فارمیٹ؛ پاکستان اور بھارت کے درمیان اضافی مقابلوں کا امکان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508952/cricket-world-cup-icc-odi-worldcup-2027-india-vs-pakistan-cricketnews-world-cup-format-super-seven-pakistan-cricket-cricket-rules</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2027 میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے نئے فارمیٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی میچ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جسے کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اور مقبول مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق 2027 کا ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر ہی مشتمل ہوگا، تاہم ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ پہلے سے مختلف ہوگا۔ نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کرنے والی 14 ٹیموں میں سے سب سے کم درجہ بندی رکھنے والی تین ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں کھیلیں گی، جن میں سے صرف ایک ٹیم اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ اس کے بعد مرکزی مرحلے میں 12 ٹیمیں شامل ہوں گی، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ میں 6، 6 ٹیمیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ مرحلے کے بعد پہلے کی طرح ”سپر سِکس“ مرحلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ ”سپر سیون“ مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس مرحلے میں ٹیمیں مزید اہم میچز کھیلیں گی، تاہم اس بار کوارٹر فائنلز نہیں ہوں گے۔ یعنی ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مرحلے کا ایک اضافی راؤنڈ نہیں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507938/indian-team-bundled-out-for-just-76-against-england-former-cricketers-and-public-outraged'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کو زیادہ دلچسپ، مسابقتی اور اہم بنانا ہے۔ ادارے کے مطابق اس تبدیلی سے ایسے میچز کی تعداد کم ہوگی جن کے نتائج سے ٹورنامنٹ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جبکہ ہر میچ کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فارمیٹ کی وجہ سے گروپ اور سپر7 مرحلے میں زیادہ میچز کھیلے جائیں گے، جس کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی مقابلہ ہونے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے، بشرطیکہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کئی برسوں سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلتے۔ دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس یا ایشیا کپ جیسے محدود ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری دوطرفہ سیریز 2006 میں پاکستان میں کھیلی گئی تھی، جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے میچز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507522/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507522"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ کے شائقین کی بڑی تعداد اور دونوں ممالک کے درمیان اس تاریخی مقابلے کی مقبولیت کے باعث بھارت اور پاکستان کا میچ نشریاتی حقوق اور تجارتی آمدنی کے لحاظ سے آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ اہم مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے مردوں کے 2028 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بھی تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں 20 ٹیمیں ہی شریک ہوں گی، لیکن گروپ مرحلے سے 8 کے بجائے 10 ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی۔ ”سپر 10“ مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی دو ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، جبکہ باقی سیمی فائنل کی نشستوں کا فیصلہ ایک نئے ایلیمینیٹر مرحلے کے ذریعے ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507756/belgian-footballers-donald-trump-dance-goes-viral-on-social-media'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آئی سی سی نے ایک الگ اعلان میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو 1 کروڑ 28 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے تاکہ بورڈ کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسٹ انڈیز دیگر بڑی کرکٹ ٹیموں سے مختلف ہے کیونکہ یہ ایک علاقائی ٹیم ہے، جس میں کئی کیریبین ممالک اور علاقوں کے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں۔ محدود مالی وسائل اور مختلف جزائر کے درمیان طویل سفری اخراجات کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے مالی طور پر مضبوط کرکٹ بورڈز کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2027 میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے نئے فارمیٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی میچ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جسے کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اور مقبول مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>آئی سی سی کے مطابق 2027 کا ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر ہی مشتمل ہوگا، تاہم ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ پہلے سے مختلف ہوگا۔ نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کرنے والی 14 ٹیموں میں سے سب سے کم درجہ بندی رکھنے والی تین ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں کھیلیں گی، جن میں سے صرف ایک ٹیم اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ اس کے بعد مرکزی مرحلے میں 12 ٹیمیں شامل ہوں گی، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ میں 6، 6 ٹیمیں ہوں گی۔</p>
<p>گروپ مرحلے کے بعد پہلے کی طرح ”سپر سِکس“ مرحلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ ”سپر سیون“ مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس مرحلے میں ٹیمیں مزید اہم میچز کھیلیں گی، تاہم اس بار کوارٹر فائنلز نہیں ہوں گے۔ یعنی ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مرحلے کا ایک اضافی راؤنڈ نہیں رکھا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507938/indian-team-bundled-out-for-just-76-against-england-former-cricketers-and-public-outraged'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی سی سی کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کو زیادہ دلچسپ، مسابقتی اور اہم بنانا ہے۔ ادارے کے مطابق اس تبدیلی سے ایسے میچز کی تعداد کم ہوگی جن کے نتائج سے ٹورنامنٹ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جبکہ ہر میچ کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔</p>
<p>نئے فارمیٹ کی وجہ سے گروپ اور سپر7 مرحلے میں زیادہ میچز کھیلے جائیں گے، جس کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی مقابلہ ہونے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے، بشرطیکہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر لیں۔</p>
<p>بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کئی برسوں سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلتے۔ دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس یا ایشیا کپ جیسے محدود ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری دوطرفہ سیریز 2006 میں پاکستان میں کھیلی گئی تھی، جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے میچز شامل تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507522/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507522"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کرکٹ کے شائقین کی بڑی تعداد اور دونوں ممالک کے درمیان اس تاریخی مقابلے کی مقبولیت کے باعث بھارت اور پاکستان کا میچ نشریاتی حقوق اور تجارتی آمدنی کے لحاظ سے آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ اہم مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>آئی سی سی نے مردوں کے 2028 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بھی تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں 20 ٹیمیں ہی شریک ہوں گی، لیکن گروپ مرحلے سے 8 کے بجائے 10 ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی۔ ”سپر 10“ مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی دو ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، جبکہ باقی سیمی فائنل کی نشستوں کا فیصلہ ایک نئے ایلیمینیٹر مرحلے کے ذریعے ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507756/belgian-footballers-donald-trump-dance-goes-viral-on-social-media'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب آئی سی سی نے ایک الگ اعلان میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو 1 کروڑ 28 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے تاکہ بورڈ کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکے۔</p>
<p>ویسٹ انڈیز دیگر بڑی کرکٹ ٹیموں سے مختلف ہے کیونکہ یہ ایک علاقائی ٹیم ہے، جس میں کئی کیریبین ممالک اور علاقوں کے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں۔ محدود مالی وسائل اور مختلف جزائر کے درمیان طویل سفری اخراجات کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے مالی طور پر مضبوط کرکٹ بورڈز کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508952</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 11:12:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16120123a928f4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16120123a928f4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد ارجنٹائن کے کھلاڑیوں نے متنازع بینر لہرا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508951/argentina-players-wave-controversial-banner-after-defeating-england</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دینے کے بعد ارجنٹائن کے چند کھلاڑیوں کی جانب سے فالکلینڈز جزائر سے متعلق ایک سیاسی بینر لہرانے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف کھیل کے میدان سے باہر سیاسی تنازع کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے بلکہ فیفا کے ضابطہ اخلاق پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے اختتام پر ارجنٹائن کے کھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو نے جیت کی خوشی مناتے ہوئے ایک بینر اٹھایا جس پر ہسپانوی زبان میں ”لاس مالویناس سن ارجنٹیناس“ یعنی ”فالکلینڈز ارجنٹینا کے ہیں“ تحریر تھا۔ دونوں کھلاڑی مسکراتے ہوئے یہ بینر شائقین کو دکھاتے رہے جبکہ ان کے ساتھ موجود نکولس اوتامندی بھی اس موقع پر نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اشارہ ان جزائر کی طرف تھا جنہیں برطانیہ میں فالکلینڈ کہا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ان پر ملکیت کا جھگڑا چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کھلاڑیوں کا یہ اقدام فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے قوانین کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ فیفا کے اسٹیڈیم کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر کسی بھی قسم کے سیاسی، نسلی یا تعصبی بینر، جھنڈے اور اشاراتی لباس لے جانے پر سخت پابندی ہے۔ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی جانب سے اس بینر کی نمائش کو اسی ضابطے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد عالمی میڈیا کی جانب سے فیفا سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم فوری طور پر فیفا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فالکلینڈز جزائر، جنہیں ارجنٹائن میں ”مالویناس“ کہا جاتا ہے، جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع ہیں اور کئی دہائیوں سے برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان تنازع کا مرکز رہے ہیں۔ برطانیہ ان جزائر کو فالکلینڈز کے نام سے پکارتا ہے جبکہ ارجنٹائن انہیں مالویناس قرار دیتا ہے اور ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان 1982 میں ان جزائر کے معاملے پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ بھی ہوئی تھی، جس میں ارجنٹائن کے 649  اور برطانیہ کے 255 فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ میں برطانیہ کو فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے جزائر کی اکثریتی آبادی خود کو برطانیہ کا حصہ برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508947/england-captain-faces-severe-criticism-after-defeat-to-argentina'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ارجنٹائن کا دعویٰ ہے کہ اسے 1816 میں اسپین سے آزادی کے بعد ان جزائر کی ملکیت ورثے میں ملی تھی اور برطانیہ نے 1833 میں ایک غیر قانونی نوآبادیاتی اقدام کے ذریعے ان پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد ارجنٹائن کےکھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو یہ بینر اٹھا کر تماشائیوں کی جانب بڑھے تو یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ بینر میدان میں کہاں سے آیا اور کھلاڑیوں تک کیسے پہنچا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں جب ورلڈ کپ کے دوران سیاسی نوعیت کے بینرز یا جھنڈوں نے توجہ حاصل کی ہو۔ گزشتہ ماہ لاس اینجلس میں ایران کے میچ کے دوران بعض ایرانی نژاد امریکی شائقین نے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کی علامت سمجھے جانے والے انقلاب سے قبل کے ایرانی پرچم بھی لہرا ئے تھے۔ اس موقع پر میچ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فیفا اس معاملے پر کوئی کارروائی کرتا ہے یا اسے محض ایک علامتی اظہار کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دینے کے بعد ارجنٹائن کے چند کھلاڑیوں کی جانب سے فالکلینڈز جزائر سے متعلق ایک سیاسی بینر لہرانے پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف کھیل کے میدان سے باہر سیاسی تنازع کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے بلکہ فیفا کے ضابطہ اخلاق پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔</strong></p>
<p>میچ کے اختتام پر ارجنٹائن کے کھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو نے جیت کی خوشی مناتے ہوئے ایک بینر اٹھایا جس پر ہسپانوی زبان میں ”لاس مالویناس سن ارجنٹیناس“ یعنی ”فالکلینڈز ارجنٹینا کے ہیں“ تحریر تھا۔ دونوں کھلاڑی مسکراتے ہوئے یہ بینر شائقین کو دکھاتے رہے جبکہ ان کے ساتھ موجود نکولس اوتامندی بھی اس موقع پر نظر آئے۔</p>
<p>یہ اشارہ ان جزائر کی طرف تھا جنہیں برطانیہ میں فالکلینڈ کہا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ان پر ملکیت کا جھگڑا چل رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کھلاڑیوں کا یہ اقدام فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے قوانین کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔ فیفا کے اسٹیڈیم کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق اسٹیڈیم کے اندر کسی بھی قسم کے سیاسی، نسلی یا تعصبی بینر، جھنڈے اور اشاراتی لباس لے جانے پر سخت پابندی ہے۔ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کی جانب سے اس بینر کی نمائش کو اسی ضابطے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>واقعے کے بعد عالمی میڈیا کی جانب سے فیفا سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم فوری طور پر فیفا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ فالکلینڈز جزائر، جنہیں ارجنٹائن میں ”مالویناس“ کہا جاتا ہے، جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع ہیں اور کئی دہائیوں سے برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان تنازع کا مرکز رہے ہیں۔ برطانیہ ان جزائر کو فالکلینڈز کے نام سے پکارتا ہے جبکہ ارجنٹائن انہیں مالویناس قرار دیتا ہے اور ان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان 1982 میں ان جزائر کے معاملے پر ایک مختصر لیکن خونریز جنگ بھی ہوئی تھی، جس میں ارجنٹائن کے 649  اور برطانیہ کے 255 فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ میں برطانیہ کو فتح ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے جزائر کی اکثریتی آبادی خود کو برطانیہ کا حصہ برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508947/england-captain-faces-severe-criticism-after-defeat-to-argentina'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508947"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ارجنٹائن کا دعویٰ ہے کہ اسے 1816 میں اسپین سے آزادی کے بعد ان جزائر کی ملکیت ورثے میں ملی تھی اور برطانیہ نے 1833 میں ایک غیر قانونی نوآبادیاتی اقدام کے ذریعے ان پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔</p>
<p>میچ کے بعد ارجنٹائن کےکھلاڑی لیساندرو مارٹینیز اور جیووانی لو سیلسو یہ بینر اٹھا کر تماشائیوں کی جانب بڑھے تو یہ واضح نہ ہوسکا کہ یہ بینر میدان میں کہاں سے آیا اور کھلاڑیوں تک کیسے پہنچا؟</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں جب ورلڈ کپ کے دوران سیاسی نوعیت کے بینرز یا جھنڈوں نے توجہ حاصل کی ہو۔ گزشتہ ماہ لاس اینجلس میں ایران کے میچ کے دوران بعض ایرانی نژاد امریکی شائقین نے ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کی علامت سمجھے جانے والے انقلاب سے قبل کے ایرانی پرچم بھی لہرا ئے تھے۔ اس موقع پر میچ بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوا تھا۔</p>
<p>اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فیفا اس معاملے پر کوئی کارروائی کرتا ہے یا اسے محض ایک علامتی اظہار کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508951</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 11:09:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/161030325036ac7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/161030325036ac7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارجنٹائن سے شکست کے بعد انگلش کپتان شدید تنقید کی زد میں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508947/england-captain-faces-severe-criticism-after-defeat-to-argentina</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی ڈرامائی شکست کے بعد انگلینڈ کے کپتان ہیری کین اور ٹیم کے مینیجر تھامس ٹوخل پر کڑی تنقید  کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جرمنی کے مشہور اور مایہ ناز سابق گول کیپر اولیور کان نے ہیری کین کے کھیل اور ٹیم کی حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی کو اس شکست کا بڑا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ جس کی بھاری قیمت اسے فائنل سے باہر ہو کر چکانی پڑی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کھیل کے 85 ویں منٹ تک 0-1 سے آگے تھی اور جیت کے بالکل قریب تھی، لیکن ارجنٹائن نے آخری لمحات میں صرف آٹھ منٹ کے اندر دو گول کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور 1-2 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس اچانک ہار کے بعد دنیا بھر میں انگلینڈ کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sports.ndtv.com/fifa-world-cup-2026/world-cup-legends-scathing-attack-on-harry-kane-after-englands-elimination-11777245?pfrom=home-ndtv_icymistories"&gt; این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق  جرمنی کو  1996 میں یورپی چیمپئن بنانے والے اولیور کان نے میچ کے بعد ایک اسپورٹس پروگرام  میں ہیری کین کے کھیل پر کھلے عام سوال اٹھائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ، ہیری کین کا مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) جیسی حملہ آور ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں تو بعض اوقات بہت سست اور ضرورت سے زیادہ دفاعی ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میچ کے 60ویں منٹ تک ہیری کین کی طرف سے ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اولیور کان نے صرف کپتان کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ انگلینڈ کے مینیجر تھامس ٹوخل کے فیصلوں پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ گول کرنے کے بعد ٹیم کو ضرورت سے زیادہ پیچھے دھکیلنا ایک بڑی غلطی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اولیور کان نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہاف میں میسی کے پاس کھیلنے کے لیے زیادہ جگہ نہیں تھی، لیکن دوسرے ہاف کے آخری لمحات میں انگلینڈ نے میچ پر سے اپنا کنٹرول کھو دیا۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”جب آپ برتری حاصل کیے ہوئے تھے تو پھر اپنے 10 کھلاڑیوں کو پینلٹی باکس کے اندر کیوں کھڑا کر دیا؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ انگلینڈ نے کھیل کے55ویں منٹ میں گورڈن کے گول کی بدولت برتری حاصل کی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ٹیم 1966 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم میچ کے آخری آٹھ منٹوں میں تھامس ٹوخل نے جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے مزید دفاعی کھلاڑی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹوخل نے پہلے گول اسکور کرنے والے انتھونی گورڈن کو باہر بٹھا کر دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا کو میدان میں بھیجا۔ اس کے بعد ڈین برن اور نیکو او ریلی کو بھی متبادل کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا۔ اگرچہ کوچ نے میچ کے اختتامی لمحات میں دو جارح مزاج تبدیلیاں بھی کیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن نے میچ کے آخری لمحات میں زبردست کم بیک کرتے ہوئے 85ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کے گول کی بدولت مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کی بنیاد لیونل میسی کے خوبصورت پاس نے رکھی تھی۔ اس کے بعد انجری ٹائم کے دوسرے منٹ میں میسی نے ایک اور شاندار کراس لاوتارو مارٹینیز کو دیا، جسے انہوں نے ہیڈر کے ذریعے گول میں تبدیل کر کے اپنی ٹیم کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فتح کے ساتھ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ اتوار کے روز نیو جرسی کے شہر ایسٹ ردرفورڈ میں اسپین سے ہوگا۔ اگر ارجنٹائن یہ فائنل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ 1958 اور 1962 میں برازیل کے بعد مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ شکست انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ میچ کے بیشتر حصے میں برتری حاصل کرنے کے باوجود آخری چند منٹوں میں دفاعی حکمت عملی نے اس کے فائنل کھیلنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا، جبکہ اولیور کان کی تنقید نے ہیری کین اور تھامس ٹوخل کی کارکردگی پر نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی ڈرامائی شکست کے بعد انگلینڈ کے کپتان ہیری کین اور ٹیم کے مینیجر تھامس ٹوخل پر کڑی تنقید  کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جرمنی کے مشہور اور مایہ ناز سابق گول کیپر اولیور کان نے ہیری کین کے کھیل اور ٹیم کی حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی کو اس شکست کا بڑا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ جس کی بھاری قیمت اسے فائنل سے باہر ہو کر چکانی پڑی۔</strong></p>
<p>اس اہم میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کھیل کے 85 ویں منٹ تک 0-1 سے آگے تھی اور جیت کے بالکل قریب تھی، لیکن ارجنٹائن نے آخری لمحات میں صرف آٹھ منٹ کے اندر دو گول کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور 1-2 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی۔ اس اچانک ہار کے بعد دنیا بھر میں انگلینڈ کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sports.ndtv.com/fifa-world-cup-2026/world-cup-legends-scathing-attack-on-harry-kane-after-englands-elimination-11777245?pfrom=home-ndtv_icymistories"> این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق  جرمنی کو  1996 میں یورپی چیمپئن بنانے والے اولیور کان نے میچ کے بعد ایک اسپورٹس پروگرام  میں ہیری کین کے کھیل پر کھلے عام سوال اٹھائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508946/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ، ہیری کین کا مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) جیسی حملہ آور ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں تو بعض اوقات بہت سست اور ضرورت سے زیادہ دفاعی ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میچ کے 60ویں منٹ تک ہیری کین کی طرف سے ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔</p>
<p>اولیور کان نے صرف کپتان کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ انگلینڈ کے مینیجر تھامس ٹوخل کے فیصلوں پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ گول کرنے کے بعد ٹیم کو ضرورت سے زیادہ پیچھے دھکیلنا ایک بڑی غلطی تھی۔</p>
<p>اولیور کان نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہاف میں میسی کے پاس کھیلنے کے لیے زیادہ جگہ نہیں تھی، لیکن دوسرے ہاف کے آخری لمحات میں انگلینڈ نے میچ پر سے اپنا کنٹرول کھو دیا۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”جب آپ برتری حاصل کیے ہوئے تھے تو پھر اپنے 10 کھلاڑیوں کو پینلٹی باکس کے اندر کیوں کھڑا کر دیا؟“</p>
<p>واضح رہے کہ انگلینڈ نے کھیل کے55ویں منٹ میں گورڈن کے گول کی بدولت برتری حاصل کی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ٹیم 1966 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تاہم میچ کے آخری آٹھ منٹوں میں تھامس ٹوخل نے جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے مزید دفاعی کھلاڑی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹوخل نے پہلے گول اسکور کرنے والے انتھونی گورڈن کو باہر بٹھا کر دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا کو میدان میں بھیجا۔ اس کے بعد ڈین برن اور نیکو او ریلی کو بھی متبادل کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا۔ اگرچہ کوچ نے میچ کے اختتامی لمحات میں دو جارح مزاج تبدیلیاں بھی کیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔</p>
<p>ارجنٹائن نے میچ کے آخری لمحات میں زبردست کم بیک کرتے ہوئے 85ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز کے گول کی بدولت مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول کی بنیاد لیونل میسی کے خوبصورت پاس نے رکھی تھی۔ اس کے بعد انجری ٹائم کے دوسرے منٹ میں میسی نے ایک اور شاندار کراس لاوتارو مارٹینیز کو دیا، جسے انہوں نے ہیڈر کے ذریعے گول میں تبدیل کر کے اپنی ٹیم کو 1-2 کی فیصلہ کن برتری دلا دی۔</p>
<p>اس فتح کے ساتھ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا ہے، جہاں اس کا مقابلہ اتوار کے روز نیو جرسی کے شہر ایسٹ ردرفورڈ میں اسپین سے ہوگا۔ اگر ارجنٹائن یہ فائنل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ 1958 اور 1962 میں برازیل کے بعد مسلسل دو ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بن جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ شکست انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ میچ کے بیشتر حصے میں برتری حاصل کرنے کے باوجود آخری چند منٹوں میں دفاعی حکمت عملی نے اس کے فائنل کھیلنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا، جبکہ اولیور کان کی تنقید نے ہیری کین اور تھامس ٹوخل کی کارکردگی پر نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508947</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 09:23:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1609194489655e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1609194489655e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فٹبال ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508946/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ارجنٹائن کے کھلاڑیوں اینزو فرنانڈیز اور لاؤتارو مارٹنیز نے میچ کے آخری لمحات میں شاندار گول کر کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے منہ سے فتح چھین لی اور اپنی ٹیم کو دو ایک سے کامیابی دلا کر فائنل میں پہنچا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز کھیلے گئے سنسنی خیز ورلڈ کپ سیمی فائنل میں اس جیت کے ساتھ ہی لیونل میسی کی دفاعی چیمپئن ٹیم نے اتوار کو اسپین کے خلاف ہونے والے فائنل معرکے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسے وقت میں جب دوسرے ہاف میں اینتھونی گورڈن کے گول کی بدولت انگلینڈ کی جیت یقینی دکھائی دے رہی تھی، ارجنٹائن نے حریف ٹیم کے گول پر پے در پے حملے کیے جس کا صلہ انہیں فرنانڈیز اور مارٹنیز کے گولز کی شکل میں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن کے شہرہ آفاق کھلاڑی لیونل میسی نے پاس دے کر ان دونوں گولز میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میچ کے نتیجے نے فٹ بال کی دنیا کی دو روایتی حریف ٹیموں کے درمیان تاریخی دشمنی اور سنسنی کا ایک اور یادگار باب لکھ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے لیے 1966 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کا خواب میچ کے آخری منٹوں میں چکنا چور ہو گیا جبکہ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں اور مداحوں نے اس شاندار واپسی پر جشن منایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے 50ویں منٹ کے بعد جب انگلش ٹیم دفاعی پوزیشن پر چلی گئی تو ارجنٹائن کا گول کرنا ناگزیر دکھائی دینے لگا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالاآخر 50ویں منٹ میں میسی کے پاس پر اینزو فرنانڈیز نے بیس میٹر کے فاصلے سے شاندار ہٹ لگا کر گیند کو جال کی راہ دکھائی اور اسکور برابر کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083332e9d2544.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083332e9d2544.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد میچ کے اضافی وقت میں متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے لاؤتارو مارٹنیز نے میسی کے بہترین کراس پر ہیڈر کے ذریعے گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/160833024d43912.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/160833024d43912.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی فتح پر ارجنٹائن کے مینیجر لیونل اسکالونی نے انتہائی جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم واقعی منفرد ہیں اور یہ کوئی غرور کی بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے ان کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں یہ فتح دلائی، میرے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہیں، یہ ہمارے ملک اور ہمارے لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی خوشی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ جیت 39 سالہ لیونل میسی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ ان کے شاندار کیریئر کا آخری ورلڈ کپ تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1608342384e60cc.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1608342384e60cc.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ شکست کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھی کیونکہ انہوں نے میچ کے ایک بڑے حصے میں ارجنٹائن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ نے 55ویں منٹ میں اس وقت برتری حاصل کی جب نکولس ٹیگلیافیکو کی جانب سے گیند کو دور پھینکنے کی کوشش ناکام ہوئی اور گیند ڈیکلن رائس کے پاس چلی گئی، جنہوں نے مورگن روجرز کو پاس دیا اور پھر اینتھونی گورڈن نے ان کے کراس کو گول میں تبدیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تھامس ٹوخل کی نگرانی میں کھیلنے والی انگلش ٹیم آخری منٹوں میں ارجنٹائن کے دباؤ کو برداشت نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے کپتان ہیری کین نے میچ کے بعد انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی ٹیم، عملے اور مداحوں کے لیے بہت دلبرداشتہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے میچ کا زیادہ تر حصہ بہت اچھا کھیلا لیکن ایک صفر کی برتری حاصل کرنے کے بعد ہم نے صرف اس برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، اور اس سطح کے کھیل میں یہ حکمت عملی کافی نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیری کین کا مزید کہنا تھا کہ مجھے دکھ ہے کیونکہ ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کی تھی اور لڑکوں نے اپنا خون پسینہ ایک کر دیا تھا، اس طرح فائنل کی دوڑ سے باہر ہونا بہت تکلیف دہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083405aec34b5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083405aec34b5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انگلش ٹیم کے کوچ تھامس ٹوخل نے کہا کہ انہیں اپنی حکمت عملی پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹیم نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا اور ہم جیت کے بہت قریب تھے، ہماری ٹیم بہترین کھیلی مگر ہم کامیابی کی لکیر عبور نہ کر سکے، اس لیے فی الحال کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیل کے دوران اٹلانٹا کا مرسڈیز بینز اسٹیڈیم ارجنٹائن کے حامیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور اسٹیڈیم کا ماحول بیونس آئرس کے روایتی فٹ بال گراؤنڈ جیسا دکھائی دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083354c6bc7be.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083354c6bc7be.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کھیل شروع ہوتے ہی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور میچ میں شدید تناؤ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے ہاف میں یہ تناؤ گولز کی شکل میں سامنے آیا لیکن انگلینڈ برتری حاصل کرنے کے بعد اس کو برقرار نہ رکھ سکا اور ارجنٹائن اتوار کو ہونے والے فائنل میں پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے ہیرو لاؤتارو مارٹنیز نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے ایک بہت ہی جذباتی لمحہ ہے، جب میرے والد نے مجھے زندگی میں پہلی بار بوٹ خرید کر دیے تھے تو میں نے ہمیشہ ایسے ہی گول اسکور کرنے کا خواب دیکھا تھا، آج کا میچ بہت مشکل تھا لیکن اینزو نے شاندار گول کیا اور مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم آگے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ارجنٹائن کے کھلاڑیوں اینزو فرنانڈیز اور لاؤتارو مارٹنیز نے میچ کے آخری لمحات میں شاندار گول کر کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے منہ سے فتح چھین لی اور اپنی ٹیم کو دو ایک سے کامیابی دلا کر فائنل میں پہنچا دیا۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز کھیلے گئے سنسنی خیز ورلڈ کپ سیمی فائنل میں اس جیت کے ساتھ ہی لیونل میسی کی دفاعی چیمپئن ٹیم نے اتوار کو اسپین کے خلاف ہونے والے فائنل معرکے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔</p>
<p>ایک ایسے وقت میں جب دوسرے ہاف میں اینتھونی گورڈن کے گول کی بدولت انگلینڈ کی جیت یقینی دکھائی دے رہی تھی، ارجنٹائن نے حریف ٹیم کے گول پر پے در پے حملے کیے جس کا صلہ انہیں فرنانڈیز اور مارٹنیز کے گولز کی شکل میں ملا۔</p>
<p>ارجنٹائن کے شہرہ آفاق کھلاڑی لیونل میسی نے پاس دے کر ان دونوں گولز میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>اس میچ کے نتیجے نے فٹ بال کی دنیا کی دو روایتی حریف ٹیموں کے درمیان تاریخی دشمنی اور سنسنی کا ایک اور یادگار باب لکھ دیا ہے۔</p>
<p>انگلینڈ کے لیے 1966 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کا خواب میچ کے آخری منٹوں میں چکنا چور ہو گیا جبکہ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں اور مداحوں نے اس شاندار واپسی پر جشن منایا۔</p>
<p>میچ کے 50ویں منٹ کے بعد جب انگلش ٹیم دفاعی پوزیشن پر چلی گئی تو ارجنٹائن کا گول کرنا ناگزیر دکھائی دینے لگا تھا۔</p>
<p>بالاآخر 50ویں منٹ میں میسی کے پاس پر اینزو فرنانڈیز نے بیس میٹر کے فاصلے سے شاندار ہٹ لگا کر گیند کو جال کی راہ دکھائی اور اسکور برابر کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083332e9d2544.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083332e9d2544.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے بعد میچ کے اضافی وقت میں متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے لاؤتارو مارٹنیز نے میسی کے بہترین کراس پر ہیڈر کے ذریعے گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلا دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/160833024d43912.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/160833024d43912.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس تاریخی فتح پر ارجنٹائن کے مینیجر لیونل اسکالونی نے انتہائی جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم واقعی منفرد ہیں اور یہ کوئی غرور کی بات نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے ان کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں یہ فتح دلائی، میرے پاس اپنے جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہیں، یہ ہمارے ملک اور ہمارے لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی خوشی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ جیت 39 سالہ لیونل میسی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ ان کے شاندار کیریئر کا آخری ورلڈ کپ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1608342384e60cc.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1608342384e60cc.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب انگلینڈ کے لیے یہ شکست کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھی کیونکہ انہوں نے میچ کے ایک بڑے حصے میں ارجنٹائن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔</p>
<p>انگلینڈ نے 55ویں منٹ میں اس وقت برتری حاصل کی جب نکولس ٹیگلیافیکو کی جانب سے گیند کو دور پھینکنے کی کوشش ناکام ہوئی اور گیند ڈیکلن رائس کے پاس چلی گئی، جنہوں نے مورگن روجرز کو پاس دیا اور پھر اینتھونی گورڈن نے ان کے کراس کو گول میں تبدیل کر دیا۔</p>
<p>تاہم تھامس ٹوخل کی نگرانی میں کھیلنے والی انگلش ٹیم آخری منٹوں میں ارجنٹائن کے دباؤ کو برداشت نہ کر سکی۔</p>
<p>انگلینڈ کے کپتان ہیری کین نے میچ کے بعد انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی ٹیم، عملے اور مداحوں کے لیے بہت دلبرداشتہ ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے میچ کا زیادہ تر حصہ بہت اچھا کھیلا لیکن ایک صفر کی برتری حاصل کرنے کے بعد ہم نے صرف اس برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، اور اس سطح کے کھیل میں یہ حکمت عملی کافی نہیں ہوتی۔</p>
<p>ہیری کین کا مزید کہنا تھا کہ مجھے دکھ ہے کیونکہ ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کی تھی اور لڑکوں نے اپنا خون پسینہ ایک کر دیا تھا، اس طرح فائنل کی دوڑ سے باہر ہونا بہت تکلیف دہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083405aec34b5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083405aec34b5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>انگلش ٹیم کے کوچ تھامس ٹوخل نے کہا کہ انہیں اپنی حکمت عملی پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹیم نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا اور ہم جیت کے بہت قریب تھے، ہماری ٹیم بہترین کھیلی مگر ہم کامیابی کی لکیر عبور نہ کر سکے، اس لیے فی الحال کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔</p>
<p>کھیل کے دوران اٹلانٹا کا مرسڈیز بینز اسٹیڈیم ارجنٹائن کے حامیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور اسٹیڈیم کا ماحول بیونس آئرس کے روایتی فٹ بال گراؤنڈ جیسا دکھائی دے رہا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083354c6bc7be.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083354c6bc7be.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کھیل شروع ہوتے ہی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور میچ میں شدید تناؤ دیکھا گیا۔</p>
<p>دوسرے ہاف میں یہ تناؤ گولز کی شکل میں سامنے آیا لیکن انگلینڈ برتری حاصل کرنے کے بعد اس کو برقرار نہ رکھ سکا اور ارجنٹائن اتوار کو ہونے والے فائنل میں پہنچ گیا۔</p>
<p>میچ کے ہیرو لاؤتارو مارٹنیز نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لیے ایک بہت ہی جذباتی لمحہ ہے، جب میرے والد نے مجھے زندگی میں پہلی بار بوٹ خرید کر دیے تھے تو میں نے ہمیشہ ایسے ہی گول اسکور کرنے کا خواب دیکھا تھا، آج کا میچ بہت مشکل تھا لیکن اینزو نے شاندار گول کیا اور مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم آگے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508946</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 10:14:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/160831302849e79.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/160831302849e79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1608323582e851a.webp" type="image/webp" medium="image" height="678" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1608323582e851a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1608331936bb5db.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1608331936bb5db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083247da08373.webp" type="image/webp" medium="image" height="702" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16083247da08373.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16083344d38287f.webp" type="image/webp" medium="image" height="721" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16083344d38287f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ہم جیتنے کے لائق ہی نہیں تھے': ایمپابے نے اسپین سے ہار کا ملبہ ٹیم پر ڈال دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508822/we-were-not-worthy-of-winningquot-mbappe-blames-team-after-defeat-against-spain</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں اسپین کے ہاتھوں 0-2 سے شکست کے بعد فرانسیسی ٹیم کا فائنل میں پہنچنے کا خواب چکنا چور گیا ہے۔ اس بڑی ہار کے بعد فرانس کی ٹیم کے کپتان کلین ایمباپے نے گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے سچائی کو تسلیم کیا ہے اور صاف کہا ہے کہ ان کی ٹیم کا کھیل اس لائق ہی نہیں تھا کہ وہ فائنل میں پہنچ پاتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی کپتان کیلیان ایمباپے نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فرانس کی ٹیم نہ تو حکمت عملی کے لحاظ سے اچھا کھیل پیش کر سکی اور نہ ہی تکنیکی اعتبار سے سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے کے معیار پر پورا اتری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کپتان کیلیان ایمباپے نے انتہائی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم نے وہ کھیل پیش کیا جو ہم کھیلنا چاہتے تھے، چاہے وہ میدان کی حکمت عملی ہو، کھیل کی مہارت ہو یا پھر ہماری کارکردگی کا مجموعی معیار ہو اور جب آپ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل جیسے بڑے میچ میں وہ سب نہیں کرتے جو آپ کو کرنا چاہیے، تو پھر آپ جیت نہیں سکتے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایمباپے نے بتایا کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ان کی ٹیم کا منصوبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اسپین پر ابتدا ہی سے دباؤ ڈالنے کا تھا تاکہ وہ اپنے روایتی انداز میں کھیل نہ سکیں، کیونکہ جب کھیل کو قابو میں رکھنے کی بات آتی ہے تو وہ ہم سے بہتر ہیں، لیکن ہم ایسا نہ کرسکے۔ ان کے مطابق اسپین نے فرانس کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیل کی باریکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کپتان کا کہنا تھا کہ میدان کے بیچ میں ہمارے کھلاڑیوں کی تعداد ان سے کم رہ گئی تھی، جس کا اسپین نے پورا فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/AODA0VWYz_8'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/AODA0VWYz_8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اعتراف کیا کہ جب آپ ان سب چیزوں کو ملا کر دیکھتے ہیں تو نتیجہ ہار کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کا گیند کو چھونا اور میدان میں حرکت کرنا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے معیار کا تھا ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان نے مزید کہا کہ ہمارا خواب فائنل میں پہنچنا تھا تاکہ ہم اپنے ملک کے لوگوں کو خوشیاں دے سکیں اور تاریخ رقم کر سکیں، لیکن اب ہمیں اس ہار کا سامنا سر اٹھا کر کرنا ہوگا۔ میرا ماننا ہے کہ جب آپ جیتتے ہیں تو سر اٹھا کر جیتتے ہیں، اس لیے جب آپ ہاریں تو تب بھی آپ کو سر اٹھا کر ہی ہار قبول کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;27 سالہ  ایمباپے نے موجودہ ورلڈ کپ میں اب تک آٹھ گول اسکور کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں بہت زیادہ مایوسی ہے اور میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں اور میری ٹیم کتنی اداس ہے۔ لیکن اب ہمیں خود کو سنبھالنا ہوگا، چھٹیاں گزارنی ہوں گی اور آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ فٹ بال کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہمیں نئے سرے سے شروعات کرنی ہوگی، اس ناکامی کو پیچھے چھوڑنا ہوگا اور اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فرانس کی ٹیم ورلڈ کپ 2026 کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ اسپین نے ایک مرتبہ پھر اپنی مضبوط اور منظم کارکردگی سے ثابت کیا کہ وہ عالمی فٹبال کی صفِ اول کی ٹیموں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایمباپے کے دوٹوک اور بے لاگ تبصرے فٹبال شائقین کے درمیان بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں کچھ لوگ اسے ایک کپتان کی دیانت دارانہ خود احتسابی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے الفاظ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے سخت تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں اسپین کے ہاتھوں 0-2 سے شکست کے بعد فرانسیسی ٹیم کا فائنل میں پہنچنے کا خواب چکنا چور گیا ہے۔ اس بڑی ہار کے بعد فرانس کی ٹیم کے کپتان کلین ایمباپے نے گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے سچائی کو تسلیم کیا ہے اور صاف کہا ہے کہ ان کی ٹیم کا کھیل اس لائق ہی نہیں تھا کہ وہ فائنل میں پہنچ پاتی۔</strong></p>
<p>فرانسیسی کپتان کیلیان ایمباپے نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فرانس کی ٹیم نہ تو حکمت عملی کے لحاظ سے اچھا کھیل پیش کر سکی اور نہ ہی تکنیکی اعتبار سے سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے کے معیار پر پورا اتری۔</p>
<p>میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کپتان کیلیان ایمباپے نے انتہائی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم نے وہ کھیل پیش کیا جو ہم کھیلنا چاہتے تھے، چاہے وہ میدان کی حکمت عملی ہو، کھیل کی مہارت ہو یا پھر ہماری کارکردگی کا مجموعی معیار ہو اور جب آپ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل جیسے بڑے میچ میں وہ سب نہیں کرتے جو آپ کو کرنا چاہیے، تو پھر آپ جیت نہیں سکتے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایمباپے نے بتایا کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ان کی ٹیم کا منصوبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اسپین پر ابتدا ہی سے دباؤ ڈالنے کا تھا تاکہ وہ اپنے روایتی انداز میں کھیل نہ سکیں، کیونکہ جب کھیل کو قابو میں رکھنے کی بات آتی ہے تو وہ ہم سے بہتر ہیں، لیکن ہم ایسا نہ کرسکے۔ ان کے مطابق اسپین نے فرانس کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔</p>
<p>کھیل کی باریکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کپتان کا کہنا تھا کہ میدان کے بیچ میں ہمارے کھلاڑیوں کی تعداد ان سے کم رہ گئی تھی، جس کا اسپین نے پورا فائدہ اٹھایا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/AODA0VWYz_8'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/AODA0VWYz_8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے اعتراف کیا کہ جب آپ ان سب چیزوں کو ملا کر دیکھتے ہیں تو نتیجہ ہار کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کا گیند کو چھونا اور میدان میں حرکت کرنا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے معیار کا تھا ہی نہیں۔</p>
<p>کپتان نے مزید کہا کہ ہمارا خواب فائنل میں پہنچنا تھا تاکہ ہم اپنے ملک کے لوگوں کو خوشیاں دے سکیں اور تاریخ رقم کر سکیں، لیکن اب ہمیں اس ہار کا سامنا سر اٹھا کر کرنا ہوگا۔ میرا ماننا ہے کہ جب آپ جیتتے ہیں تو سر اٹھا کر جیتتے ہیں، اس لیے جب آپ ہاریں تو تب بھی آپ کو سر اٹھا کر ہی ہار قبول کرنی چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>27 سالہ  ایمباپے نے موجودہ ورلڈ کپ میں اب تک آٹھ گول اسکور کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں بہت زیادہ مایوسی ہے اور میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں اور میری ٹیم کتنی اداس ہے۔ لیکن اب ہمیں خود کو سنبھالنا ہوگا، چھٹیاں گزارنی ہوں گی اور آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ فٹ بال کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہمیں نئے سرے سے شروعات کرنی ہوگی، اس ناکامی کو پیچھے چھوڑنا ہوگا اور اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ فرانس کی ٹیم ورلڈ کپ 2026 کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ اسپین نے ایک مرتبہ پھر اپنی مضبوط اور منظم کارکردگی سے ثابت کیا کہ وہ عالمی فٹبال کی صفِ اول کی ٹیموں میں شامل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایمباپے کے دوٹوک اور بے لاگ تبصرے فٹبال شائقین کے درمیان بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں کچھ لوگ اسے ایک کپتان کی دیانت دارانہ خود احتسابی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے الفاظ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے سخت تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508822</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:19:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/15101704894bb7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/15101704894bb7c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا سیمی فائنل: شائقین کو میسی اور کین کی ٹکر کا بے صبری سے انتظار، میچ کے ٹکٹ دوگنا مہنگے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508823/lionel-messi-fifa-worldcup-2026-world-cup-tickets-atlanta-stadium-harry-kane-fifa-semi-final-argentina-vs-england</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل کی دیوانگی عروج پر پہنچ گئی، ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے ہائی پروفائل مقابلے کے لیے شائقین کی غیرمعمولی دلچسپی کے باعث ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی ہو گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا کے مطابق سیمی فائنل کا وہ ٹکٹ جو چند روز قبل 1326 ڈالر میں دستیاب تھا، اب ری سیل مارکیٹ میں 2867 ڈالر تک فروخت ہو رہا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس کی مالیت تقریباً 7 لاکھ 93 ہزار روپے بنتی ہے، جبکہ بہتر نشستوں کے ٹکٹ اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی شہر اٹلانٹا کے مرسیڈیز بینز اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ میں ایک جانب آٹھ بار کے بیلن ڈی اور فاتح لیونل میسی اپنی ٹیم کی قیادت کریں گے، جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان اور تجربہ کار اسٹرائیکر ہیری کین ٹیم کو فائنل تک پہنچانے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ دونوں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے درمیان ممکنہ مقابلہ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن نے پورے ٹورنامنٹ میں متاثرکن کھیل پیش کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے بھی مسلسل عمدہ کارکردگی کی بدولت آخری چار ٹیموں میں رسائی حاصل کی۔ دونوں ٹیموں کے پاس تجربہ کار اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا امتزاج موجود ہے، جس کے باعث ماہرین ایک سخت اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال ماہرین کے مطابق ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ورلڈ کپ کی پرانی رقابت اس میچ کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔ لیونل میسی اپنے شاندار کیریئر میں ایک اور عالمی اعزاز کے لیے میدان میں اتریں گے، جبکہ ہیری کین انگلینڈ کو کئی دہائیوں بعد ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508816/argentina-vs-england-semifinal-who-is-referee-ismail-elfath-chosen-for-the-match'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دونوں ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ کی تاریخ کئی یادگار مقابلوں سے بھری پڑی ہے، جس کے باعث اس بار بھی دنیا بھر کے فٹبال شائقین اس میچ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ فاتح ٹیم ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں جگہ بنائے گی، جبکہ شکست کھانے والی ٹیم کا عالمی ٹائٹل جیتنے کا خواب ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کی غیرمعمولی مقبولیت کے پیش نظر اٹلانٹا میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ دنیا بھر سے ہزاروں شائقین اس تاریخی مقابلے کو اسٹیڈیم میں دیکھنے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ فٹبال حلقوں کے مطابق یہ سیمی فائنل نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا مقابلہ ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس کے فاتح کو ورلڈ کپ ٹائٹل کا مضبوط امیدوار بھی تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل کی دیوانگی عروج پر پہنچ گئی، ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے ہائی پروفائل مقابلے کے لیے شائقین کی غیرمعمولی دلچسپی کے باعث ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی ہو گئیں۔</strong></p>
<p>امریکی میڈیا کے مطابق سیمی فائنل کا وہ ٹکٹ جو چند روز قبل 1326 ڈالر میں دستیاب تھا، اب ری سیل مارکیٹ میں 2867 ڈالر تک فروخت ہو رہا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں اس کی مالیت تقریباً 7 لاکھ 93 ہزار روپے بنتی ہے، جبکہ بہتر نشستوں کے ٹکٹ اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>فیفا ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی شہر اٹلانٹا کے مرسیڈیز بینز اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوگا۔</p>
<p>میچ میں ایک جانب آٹھ بار کے بیلن ڈی اور فاتح لیونل میسی اپنی ٹیم کی قیادت کریں گے، جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کے کپتان اور تجربہ کار اسٹرائیکر ہیری کین ٹیم کو فائنل تک پہنچانے کے لیے میدان میں اتریں گے۔ دونوں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے درمیان ممکنہ مقابلہ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508814/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508814"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ارجنٹائن نے پورے ٹورنامنٹ میں متاثرکن کھیل پیش کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جبکہ انگلینڈ نے بھی مسلسل عمدہ کارکردگی کی بدولت آخری چار ٹیموں میں رسائی حاصل کی۔ دونوں ٹیموں کے پاس تجربہ کار اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا امتزاج موجود ہے، جس کے باعث ماہرین ایک سخت اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔</p>
<p>فٹبال ماہرین کے مطابق ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ورلڈ کپ کی پرانی رقابت اس میچ کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔ لیونل میسی اپنے شاندار کیریئر میں ایک اور عالمی اعزاز کے لیے میدان میں اتریں گے، جبکہ ہیری کین انگلینڈ کو کئی دہائیوں بعد ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508816/argentina-vs-england-semifinal-who-is-referee-ismail-elfath-chosen-for-the-match'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508816"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دونوں ٹیموں کے درمیان ورلڈ کپ کی تاریخ کئی یادگار مقابلوں سے بھری پڑی ہے، جس کے باعث اس بار بھی دنیا بھر کے فٹبال شائقین اس میچ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ فاتح ٹیم ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں جگہ بنائے گی، جبکہ شکست کھانے والی ٹیم کا عالمی ٹائٹل جیتنے کا خواب ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>میچ کی غیرمعمولی مقبولیت کے پیش نظر اٹلانٹا میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ دنیا بھر سے ہزاروں شائقین اس تاریخی مقابلے کو اسٹیڈیم میں دیکھنے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ فٹبال حلقوں کے مطابق یہ سیمی فائنل نہ صرف ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا مقابلہ ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس کے فاتح کو ورلڈ کپ ٹائٹل کا مضبوط امیدوار بھی تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508823</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:50:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/15104739379293a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/15104739379293a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارجنٹائن انگلینڈ سیمی فائنل؛ میچ کے لیے چُنے گئے ریفری اسماعیل الفتح کون ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508816/argentina-vs-england-semifinal-who-is-referee-ismail-elfath-chosen-for-the-match</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان سیمی فائنل ہونے جا رہا ہے۔ اس بڑے اور اہم سیمی فائنل میچ کو میدان میں کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ کے ریفری اسماعیل الفتح کو چن لیا گیا ہے۔ یہ میچ بدھ کے روز اٹلانٹا کے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ریفریز کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ کے میچ نمبر 102 کے لیے میچ آفیشلز کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس میچ میں اسماعیل الفتح کی مدد کے لیے ان کے ساتھی کوری پارکر اور کائل اٹکنز بھی میدان میں موجود ہوں گے، جن کا تعلق بھی امریکہ سے ہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2076804867751063808?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2076804867751063808%7Ctwgr%5Ee8da389e5c6bfb7ed4b76410ae4655310569c13d%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fsports.ndtv.com%2Ffifa-world-cup-2026%2Fwho-is-ismail-smael-elfath-the-referee-chosen-for-argentina-vs-england-world-cup-semifinal-11768461'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2076804867751063808?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2076804867751063808%7Ctwgr%5Ee8da389e5c6bfb7ed4b76410ae4655310569c13d%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fsports.ndtv.com%2Ffifa-world-cup-2026%2Fwho-is-ismail-smael-elfath-the-referee-chosen-for-argentina-vs-england-world-cup-semifinal-11768461"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;44 سالہ اسماعیل الفتح فٹ بال کی دنیا میں کوئی نیا نام نہیں ہیں۔ ان کا شمارامریکا کے معروف فٹبال ریفریزمیں ہوتا ہے۔ وہ مراکش میں پیدا ہوئے لیکن اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ اسماعیل الفتح امریکہ کی فٹ بال لیگ میں سال 2012 سے ریفری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507632/what-is-article-27-of-fifas-disciplinary-code-that-allows-red-carded-balogun-to-play'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن کے مشہور کھلاڑی لیونل میسی بھی ان کے انداز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ کے فائنل میں جب ارجنٹائن اور فرانس کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں اور لیونل میسی کی قیادت میں ارجنٹائن نے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اس وقت اسماعیل الفتح چوتھے آفیشل کی حیثیت سے ریفری پینل کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ورلڈ کپ میں بھی وہ اب تک تین اہم میچوں میں ریفری رہ چکے ہیں، جن میں نیدرلینڈز اور جاپان، یوراگوئے اور اسپین اور ناروے اور برازیل کے میچ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان یہ مقابلہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ٹیمیں 2005 کے بعد پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جبکہ ورلڈ کپ میں ان کی آخری ٹکر 2002 میں ہوئی تھی، جس میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے دوران کئی ریفری فیصلے اور وی اے آر کے استعمال پر بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے میچ میں الجزائر کے عیسیٰ ماندی کے خلاف فاؤل پر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی طرح مصر کے خلاف میچ میں دوسرے ہاف میں کیے گئے ایک گول کو بلڈ اپ پلے میں فاؤل کی بنیاد پر مسترد کیے جانے پر بھی کافی تبصرے دیکھنے میں آئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507895/we-were-cheated-egypt-coach-and-captain-accuse-officials-after-argentinas-victory'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان واقعات کے باعث ارجنٹائن کے میچز میں ریفری کے فیصلے مسلسل توجہ کا مرکز رہے ہیں، اور اب سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے میں اسماعیل الفتح کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ فٹبال ماہرین کا خیال ہے کہ اس میچ میں ان کے ہر فیصلے کو باریک بینی سے دیکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انگلینڈ اورارجنٹائن دونوں کے درمیان تاریخی رقابت بھی اس مقابلے کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔ شائقین فٹبال کو ایک سنسنی خیز میچ کی توقع ہے، جہاں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ریفری کی کارکردگی بھی زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی کے اس اہم معرکے میں اب سب کی نظریں نہ صرف لیونل میسی اور انگلینڈ کے ستاروں پر ہوں گی بلکہ اسماعیل الفتح پر بھی ہوں گی، جنہیں اس بڑے مقابلے میں غیر جانبدار اور درست فیصلوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان سیمی فائنل ہونے جا رہا ہے۔ اس بڑے اور اہم سیمی فائنل میچ کو میدان میں کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ کے ریفری اسماعیل الفتح کو چن لیا گیا ہے۔ یہ میچ بدھ کے روز اٹلانٹا کے اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچنے کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔</strong></p>
<p>فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ریفریز کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ کے میچ نمبر 102 کے لیے میچ آفیشلز کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس میچ میں اسماعیل الفتح کی مدد کے لیے ان کے ساتھی کوری پارکر اور کائل اٹکنز بھی میدان میں موجود ہوں گے، جن کا تعلق بھی امریکہ سے ہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FIFAcom/status/2076804867751063808?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2076804867751063808%7Ctwgr%5Ee8da389e5c6bfb7ed4b76410ae4655310569c13d%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fsports.ndtv.com%2Ffifa-world-cup-2026%2Fwho-is-ismail-smael-elfath-the-referee-chosen-for-argentina-vs-england-world-cup-semifinal-11768461'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FIFAcom/status/2076804867751063808?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2076804867751063808%7Ctwgr%5Ee8da389e5c6bfb7ed4b76410ae4655310569c13d%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fsports.ndtv.com%2Ffifa-world-cup-2026%2Fwho-is-ismail-smael-elfath-the-referee-chosen-for-argentina-vs-england-world-cup-semifinal-11768461"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>44 سالہ اسماعیل الفتح فٹ بال کی دنیا میں کوئی نیا نام نہیں ہیں۔ ان کا شمارامریکا کے معروف فٹبال ریفریزمیں ہوتا ہے۔ وہ مراکش میں پیدا ہوئے لیکن اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ اسماعیل الفتح امریکہ کی فٹ بال لیگ میں سال 2012 سے ریفری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507632/what-is-article-27-of-fifas-disciplinary-code-that-allows-red-carded-balogun-to-play'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ارجنٹائن کے مشہور کھلاڑی لیونل میسی بھی ان کے انداز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ 2022 کے قطر ورلڈ کپ کے فائنل میں جب ارجنٹائن اور فرانس کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں اور لیونل میسی کی قیادت میں ارجنٹائن نے عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، اس وقت اسماعیل الفتح چوتھے آفیشل کی حیثیت سے ریفری پینل کا حصہ تھے۔</p>
<p>موجودہ ورلڈ کپ میں بھی وہ اب تک تین اہم میچوں میں ریفری رہ چکے ہیں، جن میں نیدرلینڈز اور جاپان، یوراگوئے اور اسپین اور ناروے اور برازیل کے میچ شامل ہیں۔</p>
<p>ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان یہ مقابلہ کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ٹیمیں 2005 کے بعد پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جبکہ ورلڈ کپ میں ان کی آخری ٹکر 2002 میں ہوئی تھی، جس میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی تھی۔</p>
<p>اس ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کی سیمی فائنل تک رسائی کے دوران کئی ریفری فیصلے اور وی اے آر کے استعمال پر بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے میچ میں الجزائر کے عیسیٰ ماندی کے خلاف فاؤل پر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی طرح مصر کے خلاف میچ میں دوسرے ہاف میں کیے گئے ایک گول کو بلڈ اپ پلے میں فاؤل کی بنیاد پر مسترد کیے جانے پر بھی کافی تبصرے دیکھنے میں آئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507895/we-were-cheated-egypt-coach-and-captain-accuse-officials-after-argentinas-victory'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان واقعات کے باعث ارجنٹائن کے میچز میں ریفری کے فیصلے مسلسل توجہ کا مرکز رہے ہیں، اور اب سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے میں اسماعیل الفتح کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ فٹبال ماہرین کا خیال ہے کہ اس میچ میں ان کے ہر فیصلے کو باریک بینی سے دیکھا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب انگلینڈ اورارجنٹائن دونوں کے درمیان تاریخی رقابت بھی اس مقابلے کو مزید دلچسپ بنا رہی ہے۔ شائقین فٹبال کو ایک سنسنی خیز میچ کی توقع ہے، جہاں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ریفری کی کارکردگی بھی زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی کے اس اہم معرکے میں اب سب کی نظریں نہ صرف لیونل میسی اور انگلینڈ کے ستاروں پر ہوں گی بلکہ اسماعیل الفتح پر بھی ہوں گی، جنہیں اس بڑے مقابلے میں غیر جانبدار اور درست فیصلوں کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508816</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:59:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/15091030b18ee25.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/15091030b18ee25.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپین نے فرانس کے فٹبال ورلڈ کپ فاتح بننے کا خواب چکنا چور کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508814/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ 2010 میں اپنا پہلا عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسپین ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے میچ میں اسپین نے گیند پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، کھیل کی رفتار اپنے کنٹرول میں رکھی اور فرانس کے مضبوط حملہ آوروں کو مؤثر کھیل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے آغاز سے ہی اسپین نے جارحانہ انداز اپنایا اور مسلسل پریسنگ کے ذریعے فرانس کو دباؤ میں رکھا۔ اسپین کی جانب سے میکل اویارزابال اور پیڈرو پورو نے ایک، ایک گول کیا، تاہم اسکور لائن اسپین کی مکمل برتری کی پوری طرح عکاسی نہیں کرتی کیونکہ یورپی چیمپئن ٹیم نے تقریباً پورے مقابلے پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد اسپین کے گول اسکورر پیڈرو پورو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل تک پہنچنا ان کے لیے خواب پورا ہونے کے مترادف ہے۔ ان کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اس مقام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے ایک مضبوط حریف کے خلاف ہر شعبے میں بہترین کھیل پیش کیا اور کامیابی پورے اسکواڈ کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فتح کے ساتھ اسپین اب ورلڈ کپ اور یورپی چیمپئن شپ دونوں ٹائٹلز اپنے نام کرنے سے صرف ایک کامیابی دور ہے۔ فائنل میں اس کا مقابلہ انگلینڈ اور ارجنٹائن کے درمیان دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم سے ہوگا، جبکہ یہ میچ بدھ کو اٹلانٹا میں کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فرانس کو شکست کے بعد اب تیسرے نمبر کے لیے پلے آف میچ کھیلنا ہوگا۔ فرانس کے کوچ دیدیے دیشان نے کہا کہ کھلاڑی اس شکست سے بہت مایوس ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے اسپین بہتر ٹیم ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق فرانس کی ٹیم درست انداز میں پاسنگ، توانائی اور تکنیکی معیار برقرار رکھنے میں ناکام رہی جبکہ اسپین نے ان کے حملوں کو مؤثر انداز میں روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کی نوجوان نسل، خصوصاً لامین یامال، نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ مجموعی طور پر پوری ٹیم نے غیر معمولی ہم آہنگی کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ اسپین کے کھلاڑیوں کی پاسنگ، ایک دوسرے کی نقل و حرکت کو سمجھنے کی صلاحیت اور اجتماعی کھیل نے فرانس کو مسلسل دفاع پر مجبور رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین نے میچ کا پہلا گول 22ویں منٹ میں کیا۔ مارک کوکوریلا کی جانب سے کیے گئے کراس پر لامین یامال کو فرانسیسی ڈیفنڈر لوکاس دینیے کی جانب سے فاؤل کیا گیا، جس پر ریفری نے فوری طور پر پنالٹی کا فیصلہ دیا۔ میکل اویارزابال نے پنالٹی پر طاقتور شاٹ لگا کر گیند جال میں پہنچا دی اور اسپین کو برتری دلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا گول کھانے کے بعد فرانس نے کھیل میں واپسی کی کوشش کی، تاہم اسپین نے انہیں زیادہ مواقع نہیں دیے۔ فرانس کے خطرناک حملہ آور مائیکل اولیسے، عثمان ڈیمبیلے، بریڈلی بارکولا، دیزیرے دوئے اور کپتان کیلیان ایمباپے اسپین کے مضبوط دفاع اور مسلسل دباؤ کے باعث اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہ کر سکے۔ پورے میچ میں فرانس صرف دو مرتبہ ہی ہدف پر شاٹ لگا سکا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508291/fifa-worldcup-2026-met-life-stadium-world-cup-tickets-footballnews-gianniinfantino-sportsnews-fifa-tickets-high-price'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508291"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اسپین نے اپنی برتری دگنی کر دی۔ پیڈرو پورو نے دانی اولمو کے ساتھ خوبصورت پاسوں کے تبادلے کے بعد گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور 0-2 کر دیا۔ اس گول کے بعد فرانس کے لیے واپسی مزید مشکل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے اختتام پر فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم حکمت عملی، تکنیکی معیار اور مجموعی کھیل کے اعتبار سے اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل جیسے اہم میچ میں اگر ٹیم اپنی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرے تو کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسپین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حریف ٹیم نے اپنے منصوبے پر مکمل اعتماد کے ساتھ عمل کیا اور اسی وجہ سے کامیابی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخری سیٹی بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی خوشی سے میدان میں جشن منانے لگے، جبکہ فرانسیسی کھلاڑی مایوسی کے عالم میں میدان سے باہر گئے۔ اب اسپین صرف ایک اور کامیابی حاصل کر کے اپنی تاریخ کا دوسرا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے اور عالمی فٹبال میں اپنی نئی گولڈن جنریشن کی آمد پر مہر ثبت کرنے سے ایک قدم دور ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانس کو 0-2 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ 2010 میں اپنا پہلا عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسپین ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا ہے۔</strong></p>
<p>پورے میچ میں اسپین نے گیند پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، کھیل کی رفتار اپنے کنٹرول میں رکھی اور فرانس کے مضبوط حملہ آوروں کو مؤثر کھیل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔</p>
<p>میچ کے آغاز سے ہی اسپین نے جارحانہ انداز اپنایا اور مسلسل پریسنگ کے ذریعے فرانس کو دباؤ میں رکھا۔ اسپین کی جانب سے میکل اویارزابال اور پیڈرو پورو نے ایک، ایک گول کیا، تاہم اسکور لائن اسپین کی مکمل برتری کی پوری طرح عکاسی نہیں کرتی کیونکہ یورپی چیمپئن ٹیم نے تقریباً پورے مقابلے پر اپنی گرفت برقرار رکھی۔</p>
<p>میچ کے بعد اسپین کے گول اسکورر پیڈرو پورو نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل تک پہنچنا ان کے لیے خواب پورا ہونے کے مترادف ہے۔ ان کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اس مقام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے ایک مضبوط حریف کے خلاف ہر شعبے میں بہترین کھیل پیش کیا اور کامیابی پورے اسکواڈ کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس فتح کے ساتھ اسپین اب ورلڈ کپ اور یورپی چیمپئن شپ دونوں ٹائٹلز اپنے نام کرنے سے صرف ایک کامیابی دور ہے۔ فائنل میں اس کا مقابلہ انگلینڈ اور ارجنٹائن کے درمیان دوسرے سیمی فائنل کی فاتح ٹیم سے ہوگا، جبکہ یہ میچ بدھ کو اٹلانٹا میں کھیلا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب فرانس کو شکست کے بعد اب تیسرے نمبر کے لیے پلے آف میچ کھیلنا ہوگا۔ فرانس کے کوچ دیدیے دیشان نے کہا کہ کھلاڑی اس شکست سے بہت مایوس ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے اسپین بہتر ٹیم ثابت ہوئی۔ ان کے مطابق فرانس کی ٹیم درست انداز میں پاسنگ، توانائی اور تکنیکی معیار برقرار رکھنے میں ناکام رہی جبکہ اسپین نے ان کے حملوں کو مؤثر انداز میں روک دیا۔</p>
<p>اسپین کی نوجوان نسل، خصوصاً لامین یامال، نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ مجموعی طور پر پوری ٹیم نے غیر معمولی ہم آہنگی کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ اسپین کے کھلاڑیوں کی پاسنگ، ایک دوسرے کی نقل و حرکت کو سمجھنے کی صلاحیت اور اجتماعی کھیل نے فرانس کو مسلسل دفاع پر مجبور رکھا۔</p>
<p>اسپین نے میچ کا پہلا گول 22ویں منٹ میں کیا۔ مارک کوکوریلا کی جانب سے کیے گئے کراس پر لامین یامال کو فرانسیسی ڈیفنڈر لوکاس دینیے کی جانب سے فاؤل کیا گیا، جس پر ریفری نے فوری طور پر پنالٹی کا فیصلہ دیا۔ میکل اویارزابال نے پنالٹی پر طاقتور شاٹ لگا کر گیند جال میں پہنچا دی اور اسپین کو برتری دلا دی۔</p>
<p>پہلا گول کھانے کے بعد فرانس نے کھیل میں واپسی کی کوشش کی، تاہم اسپین نے انہیں زیادہ مواقع نہیں دیے۔ فرانس کے خطرناک حملہ آور مائیکل اولیسے، عثمان ڈیمبیلے، بریڈلی بارکولا، دیزیرے دوئے اور کپتان کیلیان ایمباپے اسپین کے مضبوط دفاع اور مسلسل دباؤ کے باعث اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہ کر سکے۔ پورے میچ میں فرانس صرف دو مرتبہ ہی ہدف پر شاٹ لگا سکا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508291/fifa-worldcup-2026-met-life-stadium-world-cup-tickets-footballnews-gianniinfantino-sportsnews-fifa-tickets-high-price'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508291"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اسپین نے اپنی برتری دگنی کر دی۔ پیڈرو پورو نے دانی اولمو کے ساتھ خوبصورت پاسوں کے تبادلے کے بعد گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور 0-2 کر دیا۔ اس گول کے بعد فرانس کے لیے واپسی مزید مشکل ہو گئی۔</p>
<p>میچ کے اختتام پر فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم حکمت عملی، تکنیکی معیار اور مجموعی کھیل کے اعتبار سے اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل جیسے اہم میچ میں اگر ٹیم اپنی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرے تو کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسپین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حریف ٹیم نے اپنے منصوبے پر مکمل اعتماد کے ساتھ عمل کیا اور اسی وجہ سے کامیابی حاصل کی۔</p>
<p>آخری سیٹی بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی خوشی سے میدان میں جشن منانے لگے، جبکہ فرانسیسی کھلاڑی مایوسی کے عالم میں میدان سے باہر گئے۔ اب اسپین صرف ایک اور کامیابی حاصل کر کے اپنی تاریخ کا دوسرا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے اور عالمی فٹبال میں اپنی نئی گولڈن جنریشن کی آمد پر مہر ثبت کرنے سے ایک قدم دور ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508814</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:02:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/150835437756bc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/150835437756bc4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: فرانس اور اسپین میں سے فائنل میں کون جائے گا؟ فیصلہ آج ہوگا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508726/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں آج عالمی فٹبال کی دو بڑی طاقتیں فرانس اور اسپین مدمقابل ہوں گی۔ امریکا کے شہر ڈیلاس میں کھیلے جانے والے اہم میچ کی فاتح ٹیم ٹائٹل کے لیے فائنل میں پہنچ جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کا پہلا سیمی فائنل آج امریکا کے ڈیلاس اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں فیفا رینکنگ کی نمبر ایک ٹیم فرانس اور عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر موجود اسپین کی ٹیم ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی ٹیم رواں ورلڈ کپ میں اب تک ناقابل شکست رہی ہے اور ٹورنامنٹ کے تمام 6 میچز میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ فرانسیسی ٹیم نے ان مقابلوں میں 16 گول اسکور کیے اور شاندار کارکردگی کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسپین کی ٹیم بھی ورلڈ کپ میں اب تک کوئی میچ نہیں ہاری۔ 2010 کی عالمی چیمپئن اسپین نے 16 سال بعد ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی ہے اور ایک بار پھر ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508679/why-has-argentinas-football-team-suddenly-become-the-target-of-the-football-world'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی جانب سے کپتان اور اسٹار فٹبالر کائیلیان ایمباپے نے رواں ورلڈ کپ میں 8 گول کیے ہیں، جس کے بعد وہ ارجنٹائن کے لیونل میسی کے برابر گول کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور گولڈن بوٹ کی دوڑ میں موجود ہیں۔ جبکہ عثمان ڈیمبیلے بھی 5 گول کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کی جانب سے میکائیل اویارزبال ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 4 گول کر کے ٹیم کے نمایاں اسکورر ہیں۔ تاہم اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال اب تک ورلڈ کپ میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے، لیکن ٹیم کو اب بھی ان سے اہم کردار کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14175542d6afcf0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14175542d6afcf0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق فرانس کو اس مقابلے میں فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسپین بھی کسی بھی وقت میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسپین نے ماضی میں یورو کپ اور نیشنز لیگ میں فرانس کو شکست دے کر اپنی طاقت ثابت کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508181/kylian-mbappe-france-football-lionel-messi-mbappe-records-fifa-worldcup-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن فرانس اس سے قبل چار بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ چکی ہے۔ اگر فرانس سیمی فائنل جیت جاتا ہے تو وہ مسلسل تیسری مرتبہ اور مجموعی طور پر پانچویں بار ورلڈ کپ فائنل کھیلے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 2010 کی عالمی چیمپئن اسپین 16 سال بعد دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کے لیے میدان میں اترے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ 2026 کا پہلا سیمی فائنل 70 ہزار سے زائد شائقین کی گنجائش رکھنے والے ڈیلاس اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جو پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 12 بجے شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے سیمی فائنل میں آج عالمی فٹبال کی دو بڑی طاقتیں فرانس اور اسپین مدمقابل ہوں گی۔ امریکا کے شہر ڈیلاس میں کھیلے جانے والے اہم میچ کی فاتح ٹیم ٹائٹل کے لیے فائنل میں پہنچ جائے گی۔</strong></p>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کا پہلا سیمی فائنل آج امریکا کے ڈیلاس اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں فیفا رینکنگ کی نمبر ایک ٹیم فرانس اور عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر موجود اسپین کی ٹیم ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔</p>
<p>فرانس کی ٹیم رواں ورلڈ کپ میں اب تک ناقابل شکست رہی ہے اور ٹورنامنٹ کے تمام 6 میچز میں کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ فرانسیسی ٹیم نے ان مقابلوں میں 16 گول اسکور کیے اور شاندار کارکردگی کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔</p>
<p>دوسری جانب اسپین کی ٹیم بھی ورلڈ کپ میں اب تک کوئی میچ نہیں ہاری۔ 2010 کی عالمی چیمپئن اسپین نے 16 سال بعد ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی ہے اور ایک بار پھر ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508679/why-has-argentinas-football-team-suddenly-become-the-target-of-the-football-world'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فرانس کی جانب سے کپتان اور اسٹار فٹبالر کائیلیان ایمباپے نے رواں ورلڈ کپ میں 8 گول کیے ہیں، جس کے بعد وہ ارجنٹائن کے لیونل میسی کے برابر گول کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور گولڈن بوٹ کی دوڑ میں موجود ہیں۔ جبکہ عثمان ڈیمبیلے بھی 5 گول کر چکے ہیں۔</p>
<p>اسپین کی جانب سے میکائیل اویارزبال ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 4 گول کر کے ٹیم کے نمایاں اسکورر ہیں۔ تاہم اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال اب تک ورلڈ کپ میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے، لیکن ٹیم کو اب بھی ان سے اہم کردار کی امید ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14175542d6afcf0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/14175542d6afcf0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق فرانس کو اس مقابلے میں فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسپین بھی کسی بھی وقت میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسپین نے ماضی میں یورو کپ اور نیشنز لیگ میں فرانس کو شکست دے کر اپنی طاقت ثابت کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508181/kylian-mbappe-france-football-lionel-messi-mbappe-records-fifa-worldcup-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن فرانس اس سے قبل چار بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ چکی ہے۔ اگر فرانس سیمی فائنل جیت جاتا ہے تو وہ مسلسل تیسری مرتبہ اور مجموعی طور پر پانچویں بار ورلڈ کپ فائنل کھیلے گا۔</p>
<p>دوسری جانب 2010 کی عالمی چیمپئن اسپین 16 سال بعد دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کے لیے میدان میں اترے گی۔</p>
<p>ورلڈ کپ 2026 کا پہلا سیمی فائنل 70 ہزار سے زائد شائقین کی گنجائش رکھنے والے ڈیلاس اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جو پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 12 بجے شروع ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508726</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 17:56:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/14142027d70686e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/14142027d70686e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میچ، ارجنٹائن اپنی جرسی تبدیل کیوں کرنا چاہتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508685/england-argentina-lionel-messi-fifa-fifa-worldcup-2026-world-cup-semifinal-diego-maradona-navy-blue-jersy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے بڑے مقابلے سے قبل ایک دلچسپ نفسیاتی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن نے فیفا سے درخواست کی کہ اسے اس اہم میچ میں اپنی گہرے نیلے رنگ کی متبادل جرسی پہننے کی اجازت دی جائے، تاکہ انگلینڈ کے خلاف ماضی کی کامیاب یادوں کو ایک بار پھر تازہ کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن کا ماننا ہے کہ یہ جرسی ٹیم کے اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، کیونکہ انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ میں حاصل ہونے والی اس کی تین فتوحات میں سے دو اسی متبادل کٹ میں تھیں۔ فیفا نے بھی اس درخواست کی منظوری دیتے ہوئے تصدیق کر دی ہے کہ سیمی فائنل میں ارجنٹائن گہرے نیلے اور سیاہ رنگ کی متبادل جرسی جبکہ انگلینڈ اپنی روایتی سفید جرسی میں میدان میں اترے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے نے فٹبال شائقین کو 1986 اور 1998 کے وہ تاریخی مقابلے یاد دلا دیے ہیں، جب یہی جرسی ارجنٹائن کے لیے یادگار کامیابیوں کی علامت بنی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1986 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ڈیاگو میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف وہ تاریخی میچ کھیلا تھا جس میں ان کا متنازع ”ہینڈ آف گاڈ“ گول اور شاندار انفرادی کوشش سے کیا گیا دوسرا گول آج بھی فٹبال کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔ اس روز ارجنٹائن نے نیلی جرسی پہن رکھی تھی اور 2-1 سے کامیابی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141221530fd8da7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141221530fd8da7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 1998 کے ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن نے گہرے نیلے رنگ کی متبادل جرسی پہن کر انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی تھی۔ دوسری جانب 1966 اور 2002 کے ورلڈ کپ میں جب ارجنٹائن اپنی روایتی آسمانی اور سفید دھاری دار جرسی میں انگلینڈ کے خلاف میدان میں اترا تو اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2022 میں انگلینڈ کے سابق مڈفیلڈر اسٹیو ہوج نے میراڈونا کی 1986 کے اسی میچ میں پہنی گئی نمبر 10 جرسی نیلامی میں 70 لاکھ پاؤنڈ سے زائد، یعنی تقریباً 93 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت کی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508680/leroy-sane-fifa-worldcup-2026-jude-bellingham-football-fashion-mehdi-taremi-socks-fashion-in-fifa-football'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رواں ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ ٹیم نے اپنے 6 میں سے 5 میچ روایتی جرسی میں کھیلے اور تمام جیتے، جبکہ متبادل جرسی صرف ایک بار اردن کے خلاف استعمال کی، جہاں اسے 3-1 سے کامیابی ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انگلینڈ نے بھی اپنی سفید جرسی میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، 5 میچوں میں 4 میں فتوحات حاصل کیں جبکہ ایک مقابلہ برابر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ماضی کی یادوں سے جڑی یہ نیلی جرسی ارجنٹائن کے لیے ایک بار پھر خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے یا انگلینڈ تاریخ کا رخ بدلنے میں کامیاب رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے بڑے مقابلے سے قبل ایک دلچسپ نفسیاتی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن نے فیفا سے درخواست کی کہ اسے اس اہم میچ میں اپنی گہرے نیلے رنگ کی متبادل جرسی پہننے کی اجازت دی جائے، تاکہ انگلینڈ کے خلاف ماضی کی کامیاب یادوں کو ایک بار پھر تازہ کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>ارجنٹائن کا ماننا ہے کہ یہ جرسی ٹیم کے اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، کیونکہ انگلینڈ کے خلاف ورلڈ کپ میں حاصل ہونے والی اس کی تین فتوحات میں سے دو اسی متبادل کٹ میں تھیں۔ فیفا نے بھی اس درخواست کی منظوری دیتے ہوئے تصدیق کر دی ہے کہ سیمی فائنل میں ارجنٹائن گہرے نیلے اور سیاہ رنگ کی متبادل جرسی جبکہ انگلینڈ اپنی روایتی سفید جرسی میں میدان میں اترے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508677"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس فیصلے نے فٹبال شائقین کو 1986 اور 1998 کے وہ تاریخی مقابلے یاد دلا دیے ہیں، جب یہی جرسی ارجنٹائن کے لیے یادگار کامیابیوں کی علامت بنی تھی۔</p>
<p>1986 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ڈیاگو میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف وہ تاریخی میچ کھیلا تھا جس میں ان کا متنازع ”ہینڈ آف گاڈ“ گول اور شاندار انفرادی کوشش سے کیا گیا دوسرا گول آج بھی فٹبال کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔ اس روز ارجنٹائن نے نیلی جرسی پہن رکھی تھی اور 2-1 سے کامیابی حاصل کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141221530fd8da7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/141221530fd8da7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح 1998 کے ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن نے گہرے نیلے رنگ کی متبادل جرسی پہن کر انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی تھی۔ دوسری جانب 1966 اور 2002 کے ورلڈ کپ میں جب ارجنٹائن اپنی روایتی آسمانی اور سفید دھاری دار جرسی میں انگلینڈ کے خلاف میدان میں اترا تو اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اس کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 2022 میں انگلینڈ کے سابق مڈفیلڈر اسٹیو ہوج نے میراڈونا کی 1986 کے اسی میچ میں پہنی گئی نمبر 10 جرسی نیلامی میں 70 لاکھ پاؤنڈ سے زائد، یعنی تقریباً 93 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت کی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508680/leroy-sane-fifa-worldcup-2026-jude-bellingham-football-fashion-mehdi-taremi-socks-fashion-in-fifa-football'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508680"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رواں ورلڈ کپ میں بھی ارجنٹائن کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ ٹیم نے اپنے 6 میں سے 5 میچ روایتی جرسی میں کھیلے اور تمام جیتے، جبکہ متبادل جرسی صرف ایک بار اردن کے خلاف استعمال کی، جہاں اسے 3-1 سے کامیابی ملی۔</p>
<p>دوسری جانب انگلینڈ نے بھی اپنی سفید جرسی میں عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، 5 میچوں میں 4 میں فتوحات حاصل کیں جبکہ ایک مقابلہ برابر رہا۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ماضی کی یادوں سے جڑی یہ نیلی جرسی ارجنٹائن کے لیے ایک بار پھر خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے یا انگلینڈ تاریخ کا رخ بدلنے میں کامیاب رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508685</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:52:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/141230426d9ee2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/141230426d9ee2a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارجنٹائن کی فٹبال ٹیم اچانک دنیا کی آنکھوں میں کیوں کھٹکنے لگی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508679/why-has-argentinas-football-team-suddenly-become-the-target-of-the-football-world</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران ارجنٹائن کی قومی ٹیم ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، لیکن اس بار وجہ صرف اس کی شاندار کارکردگی نہیں بلکہ دنیا بھر کے فٹبال شائقین کا بدلتا ہوا رویہ بھی ہے۔ جو لوگ پہلے ارجنٹائن اور لیونل میسی کی جیت کے لیے دعائیں کرتے تھے، اب وہی لوگ چاہتے ہیں کہ ارجنٹائن&lt;/strong&gt; &lt;strong&gt;ہر میچ ہار جائے۔ جب کوئی ٹیم مسلسل جیتنے لگتی ہے تو لوگوں کی ہمدردی ختم ہو جاتی ہے اور وہ اس سے جلنے لگتے ہیں۔ ارجنٹینا کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی سالوں تک فٹ بال کے شوقین لیونل میسی کو ایک دکھی ہیرو کے طور پر دیکھتے تھے۔ میسی نے کلب فٹ بال میں ہر ٹرافی جیتی تھی لیکن وہ ارجنٹائن کے لیے ورلڈ کپ نہیں جیت پا رہے تھے۔ جب بھی ارجنٹائن فائنل میں ہارتا، تو دنیا بھر کے لوگ میسی کے لیے اداس ہو جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2014 میں جب ارجنٹائن جرمنی سے ورلڈ کپ فائنل ہارا، تو سب کو دکھ ہوا۔ جب وہ 2015 اور 2016 میں فائنل ہارے، تو لوگوں کی ہمدردی اور بھی بڑھ گئی۔ دنیا ارجنٹائن سے پیار کرتی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ جیت کے قریب پہنچ کر ہار جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میسی کو ایک ایسے عظیم کھلاڑی کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو اپنی تمام کامیابیوں کے باوجود عالمی اعزاز سے محروم تھا۔ یہاں تک کہ دوسری شکست کے بعد جب میسی نے مختصر عرصے کے لیے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو مخالف ٹیموں کے مداحوں نے بھی ان سے واپس آنے کی اپیل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن پھر اچانک منظر بدل گیا۔ ارجنٹائن نے مسلسل بڑے ٹائٹل جیتنے شروع کردیے۔ 2021 میں کوپا امریکا، 2022 میں فائنالیسیما اور پھر قطر میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ارجنٹائن نے عالمی فٹبال میں اپنی برتری ثابت کر دی۔ اسی کامیابی کے بعد ٹیم کے بارے میں مداحوں کے جذبات بھی تبدیل ہونے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں کوپا امریکہ اور پھر قطر میں ہونے والا ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ جیسے ہی میسی کا خواب پورا ہوا، لوگوں کا رویہ بھی بدل گیا۔ شائقین نے لیونل میسی کے بارے میں بات کرنا بند کر دی اور ریفریوں کے فیصلوں پر بحث شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1410094068ebd64.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1410094068ebd64.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اب ارجنٹائن کی ہر بڑی جیت پر لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ورلڈ کپ کا پورا ٹورنامنٹ اس طرح بنایا گیا تھا تاکہ میسی جیت سکیں۔ ارجنٹائن کو ملنے والی پنالٹیوں پر سوشل میڈیا پر مذاق بنائے گئے۔ اگرچہ ماضی میں انگلینڈ، جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسی ٹیمیں بھی متنازع فیصلوں کی مدد سے میچ جیتی ہیں، ارجنٹائن کی جیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نفرت کی ایک بڑی وجہ گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز بھی ہیں جن کے جارحانہ انداز اور مخالف ٹیموں کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کی کوششوں پر اکثر تنقید ہوتی ہے۔ وہ میچ کے دوران مخالف کھلاڑیوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور عجیب طریقے سے جشن مناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506703/most-goals-in-fifa-world-cup-lionel-messi-sets-new-world-record'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب دوسرے ملکوں کے کھلاڑی ایسا کرتے ہیں تو لوگ اسے ان کا جادو کہتے ہیں، لیکن جب کوئی ارجنٹائن کا کھلاڑی ایسا کرے تو اسے بدتمیزی کہا جاتا ہے۔ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کے جذبے کو اب غصہ اور ان کے بھروسے کو غرور کا نام دیا جانے لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ارجنٹائن کے کھلاڑیوں سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ 2024 کے کوپا امریکہ کی جیت کے جشن کے دوران انزو فرنانڈیز اور دیگر کھلاڑیوں نے ایک ایسا گانا گایا جسے فرانس کے کھلاڑیوں نے نسل پرستانہ قرار دیا۔ اس حرکت پر ارجنٹائن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو کہ بالکل درست تھا، لیکن اس ایک واقعے کی وجہ سے پوری ٹیم اور ان کے مداحوں کو برا کہنا ٹھیک نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ بات یہ ہے کہ اب ارجنٹائن دوسری ٹیموں کے خوابوں کے راستے کا پتھر بن گیا ہے۔ وہ ہر بڑے ٹورنامنٹ میں فیورٹ ٹیم کے طور پر میدان میں اترتا ہے، جس کی وجہ سے دیگر ٹیموں کے مداح اسے اپنی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ، فرانس اور اسپین جیسی ٹیمیں جب بھی ٹرافی جیتنے کا خواب دیکھتی ہیں، ارجنٹائن ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ دنیا ہمیشہ خواب دیکھنے والوں سے پیار کرتی ہے، جیتنے والوں سے نہیں۔ اس لیے اب ارجنٹائن کے خلاف ہونے والی باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے طاقتور ٹیم بن چکے ہیں، کیونکہ کمزور ٹیموں کے خلاف کوئی سازشوں کی کہانیاں نہیں بناتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی کی ورلڈ کپ کامیابی نے نہ صرف ان کے کیریئر کو مکمل کیا بلکہ ارجنٹائن کے بارے میں دنیا کے فٹبال شائقین کی سوچ بھی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ جو ٹیم کبھی ہمدردی کی علامت تھی، آج وہ عالمی چیمپئن ہے اور شاید یہی کامیابی اس پر ہونے والی بڑھتی ہوئی تنقید کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران ارجنٹائن کی قومی ٹیم ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، لیکن اس بار وجہ صرف اس کی شاندار کارکردگی نہیں بلکہ دنیا بھر کے فٹبال شائقین کا بدلتا ہوا رویہ بھی ہے۔ جو لوگ پہلے ارجنٹائن اور لیونل میسی کی جیت کے لیے دعائیں کرتے تھے، اب وہی لوگ چاہتے ہیں کہ ارجنٹائن</strong> <strong>ہر میچ ہار جائے۔ جب کوئی ٹیم مسلسل جیتنے لگتی ہے تو لوگوں کی ہمدردی ختم ہو جاتی ہے اور وہ اس سے جلنے لگتے ہیں۔ ارجنٹینا کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔</strong></p>
<p>کئی سالوں تک فٹ بال کے شوقین لیونل میسی کو ایک دکھی ہیرو کے طور پر دیکھتے تھے۔ میسی نے کلب فٹ بال میں ہر ٹرافی جیتی تھی لیکن وہ ارجنٹائن کے لیے ورلڈ کپ نہیں جیت پا رہے تھے۔ جب بھی ارجنٹائن فائنل میں ہارتا، تو دنیا بھر کے لوگ میسی کے لیے اداس ہو جاتے۔</p>
<p>2014 میں جب ارجنٹائن جرمنی سے ورلڈ کپ فائنل ہارا، تو سب کو دکھ ہوا۔ جب وہ 2015 اور 2016 میں فائنل ہارے، تو لوگوں کی ہمدردی اور بھی بڑھ گئی۔ دنیا ارجنٹائن سے پیار کرتی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ جیت کے قریب پہنچ کر ہار جاتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میسی کو ایک ایسے عظیم کھلاڑی کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو اپنی تمام کامیابیوں کے باوجود عالمی اعزاز سے محروم تھا۔ یہاں تک کہ دوسری شکست کے بعد جب میسی نے مختصر عرصے کے لیے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو مخالف ٹیموں کے مداحوں نے بھی ان سے واپس آنے کی اپیل کی تھی۔</p>
<p>لیکن پھر اچانک منظر بدل گیا۔ ارجنٹائن نے مسلسل بڑے ٹائٹل جیتنے شروع کردیے۔ 2021 میں کوپا امریکا، 2022 میں فائنالیسیما اور پھر قطر میں ہونے والا فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ارجنٹائن نے عالمی فٹبال میں اپنی برتری ثابت کر دی۔ اسی کامیابی کے بعد ٹیم کے بارے میں مداحوں کے جذبات بھی تبدیل ہونے لگے۔</p>
<p>2021 میں کوپا امریکہ اور پھر قطر میں ہونے والا ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کر دی۔ جیسے ہی میسی کا خواب پورا ہوا، لوگوں کا رویہ بھی بدل گیا۔ شائقین نے لیونل میسی کے بارے میں بات کرنا بند کر دی اور ریفریوں کے فیصلوں پر بحث شروع کر دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1410094068ebd64.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/1410094068ebd64.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اب ارجنٹائن کی ہر بڑی جیت پر لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ ورلڈ کپ کا پورا ٹورنامنٹ اس طرح بنایا گیا تھا تاکہ میسی جیت سکیں۔ ارجنٹائن کو ملنے والی پنالٹیوں پر سوشل میڈیا پر مذاق بنائے گئے۔ اگرچہ ماضی میں انگلینڈ، جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسی ٹیمیں بھی متنازع فیصلوں کی مدد سے میچ جیتی ہیں، ارجنٹائن کی جیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>اس نفرت کی ایک بڑی وجہ گول کیپر ایمیلیانو مارٹنیز بھی ہیں جن کے جارحانہ انداز اور مخالف ٹیموں کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کی کوششوں پر اکثر تنقید ہوتی ہے۔ وہ میچ کے دوران مخالف کھلاڑیوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور عجیب طریقے سے جشن مناتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506703/most-goals-in-fifa-world-cup-lionel-messi-sets-new-world-record'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب دوسرے ملکوں کے کھلاڑی ایسا کرتے ہیں تو لوگ اسے ان کا جادو کہتے ہیں، لیکن جب کوئی ارجنٹائن کا کھلاڑی ایسا کرے تو اسے بدتمیزی کہا جاتا ہے۔ ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کے جذبے کو اب غصہ اور ان کے بھروسے کو غرور کا نام دیا جانے لگا ہے۔</p>
<p>تاہم، ارجنٹائن کے کھلاڑیوں سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں۔ 2024 کے کوپا امریکہ کی جیت کے جشن کے دوران انزو فرنانڈیز اور دیگر کھلاڑیوں نے ایک ایسا گانا گایا جسے فرانس کے کھلاڑیوں نے نسل پرستانہ قرار دیا۔ اس حرکت پر ارجنٹائن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو کہ بالکل درست تھا، لیکن اس ایک واقعے کی وجہ سے پوری ٹیم اور ان کے مداحوں کو برا کہنا ٹھیک نہیں ہے۔</p>
<p>سچ بات یہ ہے کہ اب ارجنٹائن دوسری ٹیموں کے خوابوں کے راستے کا پتھر بن گیا ہے۔ وہ ہر بڑے ٹورنامنٹ میں فیورٹ ٹیم کے طور پر میدان میں اترتا ہے، جس کی وجہ سے دیگر ٹیموں کے مداح اسے اپنی کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔</p>
<p>انگلینڈ، فرانس اور اسپین جیسی ٹیمیں جب بھی ٹرافی جیتنے کا خواب دیکھتی ہیں، ارجنٹائن ان کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ دنیا ہمیشہ خواب دیکھنے والوں سے پیار کرتی ہے، جیتنے والوں سے نہیں۔ اس لیے اب ارجنٹائن کے خلاف ہونے والی باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے طاقتور ٹیم بن چکے ہیں، کیونکہ کمزور ٹیموں کے خلاف کوئی سازشوں کی کہانیاں نہیں بناتا۔</p>
<p>میسی کی ورلڈ کپ کامیابی نے نہ صرف ان کے کیریئر کو مکمل کیا بلکہ ارجنٹائن کے بارے میں دنیا کے فٹبال شائقین کی سوچ بھی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ جو ٹیم کبھی ہمدردی کی علامت تھی، آج وہ عالمی چیمپئن ہے اور شاید یہی کامیابی اس پر ہونے والی بڑھتی ہوئی تنقید کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508679</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:54:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/141015266734ab4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/141015266734ab4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا سیمی فائنل: میچ سے پہلے دو یورپی طاقتوں کا ایک دوسرے کے خلاف مائنڈ گیم شروع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508677/france-spain-kylian-mbappe-fifa-worldcup-2026-lamine-yamal-spain-vs-france-world-cup-semifinal</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب تمام نظریں اسپین اور فرانس کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل پر مرکوز ہیں جو آج رات اسپین اور فرانس کے درمیان کھیلا جائے گا، لیکن اس بار مقابلہ صرف میدان تک محدود نہیں رہا۔ میچ سے پہلے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے بیانات نے اس ٹاکرے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اصل مقابلے سے پہلے نفسیاتی جنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اسپین اور فرانس دونوں یورپی طاقتیں ایک بار پھر عالمی کپ کے بڑے اسٹیج پر آمنے سامنے ہیں۔ اس سے قبل 2006 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ٹکرائی تھیں، جہاں فرانس نے اسپین کو 1-3 سے شکست دے کر فائنل کی راہ ہموار کی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں صورتحال مختلف رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 2024 کے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 1-2 سے شکست دی، جبکہ گزشتہ برس یوئیفا نیشنز لیگ کے سیمی فائنل میں بھی اسپین نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-5 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اب ہسپانوی ٹیم مسلسل تیسری بار فرانس کو شکست دینے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ فرانس کی امیدیں کائیلین ایمباپے جبکہ اسپین کی نظریں لامین یامال پر ٹکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ سے پہلے فرانس کے ہیڈ کوچ دیدیے دیشامپ نے موجودہ یورپی چیمپئن اسپین کو اس سیمی فائنل کا فیورٹ قرار دیا، لیکن ہسپانوی کھلاڑیوں نے بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508576/golden-boot-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-kylian-mbappe-harry-kane-worldcup-football'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے نوجوان فارورڈ لامین یامال کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم فرانس کو اپنے آخری دو مقابلوں میں شکست دے چکی ہے، اس لیے اگر کسی ٹیم کو فکر ہونی چاہیے تو وہ فرانس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کسی سے خوفزدہ نہیں اور میدان میں بہتر کھیل ہی کامیابی کا فیصلہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یامال کے ساتھی ونگر نیکو ولیمز نے بھی اسی اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کو فرانس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی ٹیم پہلے ہی دو بار انہیں شکست دے چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ غرور نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں پر یقین اور خود اعتمادی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسپین کے نوجوان دفاعی کھلاڑی پاؤ کوبارسی سے جب فرانس کے کپتان اور ورلڈ کپ کے مشترکہ ٹاپ اسکورر ایمباپے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایمباپے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ایمباپے ایک غیرمعمولی کھلاڑی ہیں جو ایک لمحے میں میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ان کے بقول جیسے لامین یامال منفرد صلاحیتوں کے مالک ہیں، ویسے ہی ایمباپے بھی کسی ایک موقع سے فرق پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے پورے 90 منٹ مکمل توجہ برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کی جانب سے ان بیانات کا جواب سینٹر بیک ابراہیما کوناتے نے دیا۔ انہوں نے ہسپانوی کھلاڑیوں کے تبصروں کو ایک نفسیاتی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی ٹیم ایسے بیانات پر توجہ نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر سب سے اہم چیز عاجزی، نظم و ضبط اور مکمل توجہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مخالف ٹیم جو چاہے کہہ سکتی ہے، لیکن فرانس اس جال میں نہیں پھنسے گا اور اپنی بہترین تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ ان کے مطابق اصل فیصلہ میچ کے اختتام پر ہوگا کہ فائدہ کس ٹیم کو پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ٹیموں کی حالیہ فارم، ماضی کے دلچسپ مقابلے اور اسٹار کھلاڑیوں کی موجودگی نے اس سیمی فائنل کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلوں میں شامل کر دیا ہے۔ ایک جانب کائیلین ایمباپے اپنی شاندار گول اسکورنگ فارم کے ساتھ فرانس کی امید ہیں، تو دوسری طرف لامین یامال کی برق رفتار کارکردگی اسپین کے لیے بڑا ہتھیار سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ میچ سے پہلے دونوں جانب سے اعتماد بھرے بیانات سامنے آئے ہیں، لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اصل فیصلہ الفاظ سے نہیں بلکہ میدان میں ہونے والی کارکردگی سے ہوگا، جہاں 90 منٹ کی جدوجہد ہی یہ طے کرے گی کہ فائنل میں کون سی ٹیم پہنچے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب تمام نظریں اسپین اور فرانس کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل پر مرکوز ہیں جو آج رات اسپین اور فرانس کے درمیان کھیلا جائے گا، لیکن اس بار مقابلہ صرف میدان تک محدود نہیں رہا۔ میچ سے پہلے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے بیانات نے اس ٹاکرے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اصل مقابلے سے پہلے نفسیاتی جنگ بھی شروع ہو چکی ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اسپین اور فرانس دونوں یورپی طاقتیں ایک بار پھر عالمی کپ کے بڑے اسٹیج پر آمنے سامنے ہیں۔ اس سے قبل 2006 کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ٹکرائی تھیں، جہاں فرانس نے اسپین کو 1-3 سے شکست دے کر فائنل کی راہ ہموار کی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں صورتحال مختلف رہی ہے۔</p>
<p>یورو 2024 کے سیمی فائنل میں اسپین نے فرانس کو 1-2 سے شکست دی، جبکہ گزشتہ برس یوئیفا نیشنز لیگ کے سیمی فائنل میں بھی اسپین نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-5 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اب ہسپانوی ٹیم مسلسل تیسری بار فرانس کو شکست دینے کے ارادے سے میدان میں اترے گی۔ فرانس کی امیدیں کائیلین ایمباپے جبکہ اسپین کی نظریں لامین یامال پر ٹکی ہیں۔</p>
<p>میچ سے پہلے فرانس کے ہیڈ کوچ دیدیے دیشامپ نے موجودہ یورپی چیمپئن اسپین کو اس سیمی فائنل کا فیورٹ قرار دیا، لیکن ہسپانوی کھلاڑیوں نے بھی بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508576/golden-boot-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-kylian-mbappe-harry-kane-worldcup-football'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508576"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسپین کے نوجوان فارورڈ لامین یامال کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم فرانس کو اپنے آخری دو مقابلوں میں شکست دے چکی ہے، اس لیے اگر کسی ٹیم کو فکر ہونی چاہیے تو وہ فرانس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کسی سے خوفزدہ نہیں اور میدان میں بہتر کھیل ہی کامیابی کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p>یامال کے ساتھی ونگر نیکو ولیمز نے بھی اسی اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کو فرانس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی ٹیم پہلے ہی دو بار انہیں شکست دے چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ غرور نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں پر یقین اور خود اعتمادی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسپین کے نوجوان دفاعی کھلاڑی پاؤ کوبارسی سے جب فرانس کے کپتان اور ورلڈ کپ کے مشترکہ ٹاپ اسکورر ایمباپے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایمباپے سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ایمباپے ایک غیرمعمولی کھلاڑی ہیں جو ایک لمحے میں میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ان کے بقول جیسے لامین یامال منفرد صلاحیتوں کے مالک ہیں، ویسے ہی ایمباپے بھی کسی ایک موقع سے فرق پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے پورے 90 منٹ مکمل توجہ برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔</p>
<p>فرانس کی جانب سے ان بیانات کا جواب سینٹر بیک ابراہیما کوناتے نے دیا۔ انہوں نے ہسپانوی کھلاڑیوں کے تبصروں کو ایک نفسیاتی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی ٹیم ایسے بیانات پر توجہ نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر سب سے اہم چیز عاجزی، نظم و ضبط اور مکمل توجہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508546/football-argentina-fifa-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-var'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ مخالف ٹیم جو چاہے کہہ سکتی ہے، لیکن فرانس اس جال میں نہیں پھنسے گا اور اپنی بہترین تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ ان کے مطابق اصل فیصلہ میچ کے اختتام پر ہوگا کہ فائدہ کس ٹیم کو پہنچتا ہے۔</p>
<p>دونوں ٹیموں کی حالیہ فارم، ماضی کے دلچسپ مقابلے اور اسٹار کھلاڑیوں کی موجودگی نے اس سیمی فائنل کو ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مقابلوں میں شامل کر دیا ہے۔ ایک جانب کائیلین ایمباپے اپنی شاندار گول اسکورنگ فارم کے ساتھ فرانس کی امید ہیں، تو دوسری طرف لامین یامال کی برق رفتار کارکردگی اسپین کے لیے بڑا ہتھیار سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>اگرچہ میچ سے پہلے دونوں جانب سے اعتماد بھرے بیانات سامنے آئے ہیں، لیکن دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اصل فیصلہ الفاظ سے نہیں بلکہ میدان میں ہونے والی کارکردگی سے ہوگا، جہاں 90 منٹ کی جدوجہد ہی یہ طے کرے گی کہ فائنل میں کون سی ٹیم پہنچے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508677</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 09:46:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1410550358f801f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1410550358f801f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میسی، ایمباپے یا ہیری کین: فیفا ورلڈ کپ کا گولڈن بوٹ کسے ملے گا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508576/golden-boot-fifa-worldcup-2026-lionelmessi-kylian-mbappe-harry-kane-worldcup-football</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سیمی فائنل میں فرانس، اسپین، انگلینڈ اور ارجنٹینا اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف عالمی چیمپئن بننے کی جنگ عروج پر ہے، وہیں ٹورنامنٹ کے انفرادی اعزازات، خاص طور پر گولڈن بوٹ اور گولڈن بال، کے لیے بھی سخت مقابلہ جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈن بوٹ اس کھلاڑی کو دیا جاتا ہے جو ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول اسکور کرے، جبکہ گولڈن بال ٹورنامنٹ کے بہترین مجموعی کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز فیفا کے ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کی تیار کردہ فہرست کی بنیاد پر عالمی میڈیا کے ووٹ سے منتخب کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ایوارڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے جیتنے کے لیے ٹیم کا چیمپئن بننا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ ماضی میں کئی ایسے کھلاڑی بھی گولڈن بال جیت چکے ہیں جن کی ٹیم فائنل میں کامیاب نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈن بوٹ کی دوڑ اس وقت انتہائی دلچسپ صورت اختیار کر چکی ہے۔ ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی اور فرانس کے کپتان کائلیان ایمباپے 8، 8 گول کے ساتھ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں، جبکہ انگلینڈ کے ہیری کین 6 گول کر کے تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ سیمی فائنل اور ممکنہ طور پر فائنل میں ان کھلاڑیوں کی کارکردگی اس دوڑ کا فیصلہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508181'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رواں ورلڈ کپ میں اب تک 100 میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 292 گول اسکور کیے گئے ہیں، جو ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اسی وجہ سے اس بار گولڈن بوٹ کی دوڑ کو حالیہ ورلڈ کپ کی دلچسپ ترین انفرادی مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گولڈن بال کے مضبوط امیدواروں میں بھی کئی بڑے نام شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کے مطابق فرانس کے کائلیان ایمباپے اس وقت اس اعزاز کے مضبوط ترین امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف 8 گول کیے ہیں بلکہ 3 گول میں اپنے ساتھیوں کی بھی مدد کی ہے، جس کے باعث وہ مجموعی کارکردگی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا کے لیونل میسی بھی اس اعزاز کے بڑے دعوے دار ہیں۔ 39 سالہ میسی نے اس ورلڈ کپ میں 8 گول کرنے کے ساتھ ساتھ 2 گول میں معاونت بھی فراہم کی ہے۔ اس دوران وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اسسٹ کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی مشترکہ طور پر سرفہرست پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508468/shakira-reveals-a-secret-about-kylian-mbappe'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508468"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر میسی گولڈن بال جیتتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا تیسرا گولڈن بال ہوگا، اس سے قبل وہ 2014 اور 2022 میں بھی یہ اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے ہیری کین بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے اب تک 6 گول اسکور کیے ہیں اور سیمی فائنل میں اچھی کارکردگی دکھا کر گولڈن بوٹ اور گولڈن بال دونوں کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم بھی مسلسل متاثر کن کھیل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے 6 گول کیے ہیں اور کوارٹر فائنل سمیت اہم مقابلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں بھی گولڈن بال کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کے مائیکل اولیسے نے اب تک 5 اسسٹ کر کے اس شعبے میں سبقت حاصل کر رکھی ہے، جبکہ اسپین کے روڈری اپنی ٹیم کے مڈفیلڈ میں مسلسل مؤثر کارکردگی کی وجہ سے ماہرین کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اسپین کے نوجوان کھلاڑی لامین یامال بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق گولڈن بال کی دوڑ میں مضبوط دعوے داری کے لیے انہیں سیمی فائنل میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506703/most-goals-in-fifa-world-cup-lionel-messi-sets-new-world-record'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے ٹورنامنٹ میں 7 گول کیے، لیکن ان کی ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر ہو گئی، جس کے بعد ان کے گولڈن بوٹ اور گولڈن بال جیتنے کے امکانات بھی تقریباً ختم ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ ورلڈ کپ اپنے آخری دو مقابلوں کی جانب بڑھ رہا ہے، شائقین کی نظریں نہ صرف نئی عالمی چیمپئن ٹیم پر بلکہ انفرادی اعزازات کے فاتحین پر بھی مرکوز ہیں۔ سیمی فائنل اور فائنل میں ہونے والی کارکردگی ہی فیصلہ کرے گی کہ گولڈن بوٹ اور گولڈن بال کس کھلاڑی کے حصے میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سیمی فائنل میں فرانس، اسپین، انگلینڈ اور ارجنٹینا اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف عالمی چیمپئن بننے کی جنگ عروج پر ہے، وہیں ٹورنامنٹ کے انفرادی اعزازات، خاص طور پر گولڈن بوٹ اور گولڈن بال، کے لیے بھی سخت مقابلہ جاری ہے۔</strong></p>
<p>گولڈن بوٹ اس کھلاڑی کو دیا جاتا ہے جو ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول اسکور کرے، جبکہ گولڈن بال ٹورنامنٹ کے بہترین مجموعی کھلاڑی کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز فیفا کے ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کی تیار کردہ فہرست کی بنیاد پر عالمی میڈیا کے ووٹ سے منتخب کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس ایوارڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اسے جیتنے کے لیے ٹیم کا چیمپئن بننا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ ماضی میں کئی ایسے کھلاڑی بھی گولڈن بال جیت چکے ہیں جن کی ٹیم فائنل میں کامیاب نہیں ہو سکی۔</p>
<p>گولڈن بوٹ کی دوڑ اس وقت انتہائی دلچسپ صورت اختیار کر چکی ہے۔ ارجنٹینا کے کپتان لیونل میسی اور فرانس کے کپتان کائلیان ایمباپے 8، 8 گول کے ساتھ مشترکہ طور پر سرفہرست ہیں، جبکہ انگلینڈ کے ہیری کین 6 گول کر کے تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ سیمی فائنل اور ممکنہ طور پر فائنل میں ان کھلاڑیوں کی کارکردگی اس دوڑ کا فیصلہ کر سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508181'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508181"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رواں ورلڈ کپ میں اب تک 100 میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 292 گول اسکور کیے گئے ہیں، جو ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اسی وجہ سے اس بار گولڈن بوٹ کی دوڑ کو حالیہ ورلڈ کپ کی دلچسپ ترین انفرادی مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب گولڈن بال کے مضبوط امیدواروں میں بھی کئی بڑے نام شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کے مطابق فرانس کے کائلیان ایمباپے اس وقت اس اعزاز کے مضبوط ترین امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف 8 گول کیے ہیں بلکہ 3 گول میں اپنے ساتھیوں کی بھی مدد کی ہے، جس کے باعث وہ مجموعی کارکردگی میں نمایاں نظر آتے ہیں۔</p>
<p>ارجنٹینا کے لیونل میسی بھی اس اعزاز کے بڑے دعوے دار ہیں۔ 39 سالہ میسی نے اس ورلڈ کپ میں 8 گول کرنے کے ساتھ ساتھ 2 گول میں معاونت بھی فراہم کی ہے۔ اس دوران وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ اسسٹ کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی مشترکہ طور پر سرفہرست پہنچ گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508468/shakira-reveals-a-secret-about-kylian-mbappe'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508468"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر میسی گولڈن بال جیتتے ہیں تو یہ ان کے کیریئر کا تیسرا گولڈن بال ہوگا، اس سے قبل وہ 2014 اور 2022 میں بھی یہ اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔</p>
<p>انگلینڈ کے ہیری کین بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے اب تک 6 گول اسکور کیے ہیں اور سیمی فائنل میں اچھی کارکردگی دکھا کر گولڈن بوٹ اور گولڈن بال دونوں کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم بھی مسلسل متاثر کن کھیل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے 6 گول کیے ہیں اور کوارٹر فائنل سمیت اہم مقابلوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں بھی گولڈن بال کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>فرانس کے مائیکل اولیسے نے اب تک 5 اسسٹ کر کے اس شعبے میں سبقت حاصل کر رکھی ہے، جبکہ اسپین کے روڈری اپنی ٹیم کے مڈفیلڈ میں مسلسل مؤثر کارکردگی کی وجہ سے ماہرین کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اسپین کے نوجوان کھلاڑی لامین یامال بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق گولڈن بال کی دوڑ میں مضبوط دعوے داری کے لیے انہیں سیمی فائنل میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506703/most-goals-in-fifa-world-cup-lionel-messi-sets-new-world-record'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506703"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے ٹورنامنٹ میں 7 گول کیے، لیکن ان کی ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر ہو گئی، جس کے بعد ان کے گولڈن بوٹ اور گولڈن بال جیتنے کے امکانات بھی تقریباً ختم ہو گئے۔</p>
<p>اب جبکہ ورلڈ کپ اپنے آخری دو مقابلوں کی جانب بڑھ رہا ہے، شائقین کی نظریں نہ صرف نئی عالمی چیمپئن ٹیم پر بلکہ انفرادی اعزازات کے فاتحین پر بھی مرکوز ہیں۔ سیمی فائنل اور فائنل میں ہونے والی کارکردگی ہی فیصلہ کرے گی کہ گولڈن بوٹ اور گولڈن بال کس کھلاڑی کے حصے میں آتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508576</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 13:21:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/13134942c2b93fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/13134942c2b93fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
