<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Sports</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:17:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:17:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاچا کرکٹ: پاکستان ٹیم کے بارہویں کھلاڑی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506071/five-decades-500-matches-pakistan-super-fan-chacha-cricket-retired</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بومرز سے لے کر جین زی میں یکساں مقبول، پاکستانی کرکٹ کے سب سے معروف اور جانے مانے مداح ’چاچا کرکٹ‘ اب روایتی انداز میں پاکستانی پرچم تھامے گراؤنڈ میں نظر نہیں آئیں گے۔ وہ پاکستان ٹیم کے بارہویں کھلاڑی تھے جو گراؤنڈ میں نہیں بلکہ اسٹینڈ سے ٹیم کی حوصلہ افزائی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے شائقین کا لہو گرماتے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کو چند چہروں میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو یہ تاریخ 77 سالہ ’چاچا کرکٹ‘ کو شامل کیے بغیر ادھوری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبز کُرتا، سفید شلوار اور چاند تارے والی ٹوپی کے ساتھ پاکستانی پرچم ہاتھ میں تھامے دنیا بھر کے کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ’چاچا کرکٹ‘ تماشائی سے بڑھ کر پاکستانی کرکٹ اور ثقافت کا مستقل حصہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اس طویل سفر میں جہاں وہ بے شمار یادگار لمحات کے عینی شاہد رہے وہیں انہوں نے کئی زخم بھی جھیلے، جنہیں وہ آج تک نہیں بھول سکے ہیں۔ ڈھلتی عمر کے باوجود کرکٹ کے جنون کو تازہ رکھنے کے لیے وہ ایک نیا سفر شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;77 سالہ چوہدری عبدالجلیل 500 انٹرنیشنل میچز میں گرین شرٹس کی سپورٹ کے لیے دنیا بھر کے گراؤنڈز میں موجود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چاچا کرکٹ ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے مایوس ہیں، تاہم وہ مستقبل کے حوالے سے اب بھی پُرامید ہیں۔ ماضی میں جب جب ٹیم پر کڑا وقت آیا تو وہ یہی کہتے پائے گئے کہ ’ہوتا ہے بھائی ہوتا ہے، کھیل میں ایسا ہوتا ہے، کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی خوشی کبھی غم، کبھی تم کبھی ہم‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060763645278343601'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060763645278343601"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چاچا کرکٹ نے ڈھلتی عمر اور صحت کی وجہ سے اب ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں وہ آخری مرتبہ اپنے روایتی انداز میں ٹیم کو سپورٹ کرتے نظر آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے چوہدری عبدالجلیل نے 1969 میں پہلی مرتبہ 19 برس کی عمر میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ایک روزہ انٹرنیشنل میچ دیکھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کے دل میں کرکٹ کا ایسا جنون پیدا کیا جو کئی دہائیوں بعد بھی آج تک قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاچا کرکٹ 1973 میں روزگار کی تلاش کے لیے متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے۔ شارجہ اور ابوظہبی میں مختلف ملازمتیں کرنے کے باوجود ان کا کرکٹ سے ان کا جنون کم نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظہبی میں ملازمت کے دوران بھی جب پاکستان کا میچ شارجہ میں ہوتا، وہ تمام مصروفیات ترک اور طویل سفر کر کے اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے باقاعدگی سے اسٹیڈیم پہنچ جایا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061392565694603470'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2061392565694603470"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سنہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم پاک-بھارت مقابلوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اور اسی عرصے میں چوہدری عبدالجلیل کی داڑھی میں سفیدی بھی نمایاں ہوچکی تھی۔ اسی دوران ایک میچ میں وہ اپنا روایتی لباس زیب تن کیے، پاکستانی پرچم لہراتے اسکرین پر نظر آئے تو کمنٹری باکس سے انہیں ’چاچا کرکٹ‘ کہہ کر پکارا گیا اور وقت کے ساتھ یہی نام ان کی مستقل شناخت بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنہ 1994 کے ’آسٹرل ایشیا کپ‘ کے مقابلوں کے دوران چاچا کرکٹ کا روایتی لباس اور جوش و جذبہ اس قدر نمایاں ہوا کہ وہ پاکستان کے نمائندہ چہرے کے طور پر دنیا بھر میں پہچانے جانے لگے۔ ان کی اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پیشکش پر یو اے ای کی نوکری چھوڑ کر وطن واپس آگئے اور پی سی بی نے انہیں باضابطہ طور پر قومی ٹیم کا آفیشل ’چیئر لیڈر‘ مقرر کردیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061890364609606004'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2061890364609606004"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چاچا کرکٹ کے جنون کا سب سے بڑا ثبوت 1999 میں انگلینڈ میں ہونے والا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ تھا، جب ان کے پاس ورلڈکپ میں شرکت کے لیے برطانیہ جانے اور اخراجات کے لیے کوئی اسپانسرشپ دستیاب نہیں تھی۔ انہوں نے حیرت انگیز قدم اٹھایا اور اپنا ذاتی گھر بیچ کر پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے انگلینڈ پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ہائی کمیشن نے بھی ان کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے دستاویزات کی چھان بین کیے بغیر ہی صرف ایک گھنٹے میں انہیں اعزازی ویزا جاری کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی واقعے کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ حلقوں میں ایک معروف شخصیت بن گئے اور دنیا بھر کے اسٹیڈیمز میں انہیں پاکستانی کرکٹ کے سفیر کے طور پر خصوصی توجہ ملنے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چاچا کرکٹ پاکستانی کرکٹ کے سب سے نمایاں سپورٹر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی شائقین میں بھی مقبول ہیں اور وہ 6 مرتبہ بھارت کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/cricbyusman/status/2060761135872368868'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cricbyusman/status/2060761135872368868"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے معروف سُپر فین ’سدھیر کمار‘ سمیت کئی غیر ملکی شائقین کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات بھی رہے۔ بھارت کے ساتھ میچز اور دوروں کے موقع پر انٹرویوز میں کھیل کے ذریعے دوستی، احترام اور مثبت رویوں کی وجہ سے بھی چاچا کرکٹ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے اور ان کے بین الاقوامی فینز میں اضافہ ہوتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاچا کرکٹ کے مطابق پاکستان ٹیم کو 500 میچز میں براہِ راست سپورٹ کرنا ان کی زندگی کا ایک بڑا خواب تھا، جو پورا ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اس سفر میں ان کے پاس یادوں کا ایک خزانہ موجود ہے۔ ان میں 1986 میں شارجہ کے تاریخی فائنل میں جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا بھی شامل ہے، جسے وہ یادگار ترین لمحہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح بھی ان کے یادگار لمحات میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاچا کرکٹ کے مطابق میدان میں خوشیوں کے ساتھ مایوسیاں بھی ان کے سفر کا حصہ رہیں۔ وہ خاص طور پر 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شکست کو افسوس کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جب پاکستان بھارت کے 120 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 2011 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں موہالی میں بھارت کے خلاف شکست بھی ان کی تلخ یادوں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق وہ میچ دیکھنے کے لیے انہوں نے طویل اور مشکل ترین سفر طے کیا تھا، مگر میچ کا نتیجہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں نکل سکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود وہ شکست کو کھیل کا حصہ سمجھتے ہوئے قومی ٹیم کی بھرپور سپورٹ اور شائقین کو یہی پیغام دیتے رہے ہیں کہ کھیل میں کبھی جیت اور کبھی ہار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2062067467682545675'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2062067467682545675"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;77 برس کی عمر میں اب چاچا کرکٹ ایک نیا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ چوہدری عبدالجلیل سیالکوٹ کے مضافات میں ’کرکٹ میوزیم‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جہاں وہ اپنے 58 سالہ طویل سفر کے دوران جمع کی گئی یادگار اشیاء، کھلاڑیوں کے دستخط شدہ بلے، گیندیں، تصاویر اور دیگر نوادرات نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاچا کرکٹ اپنی مقبولیت اور شناخت کو معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال کی غرض سے فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خواہش مند بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061756412771127435'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2061756412771127435"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستانی کرکٹ اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی ایونٹس میں خاطر خواہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے شائقین مایوس نظر آتے ہیں لیکن چاچا کرکٹ اب بھی پُر امید نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کرکٹ میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی ناکامی، مگر کھیل سے محبت ختم نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اس طویل سفر، کرکٹ کے جنون اور جذبے کے اعتراف میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے لیے خصوصی الوداعی تقریب کا اہتمام کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں نقد انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ’چاچا کرکٹ‘ ایک ایسی روایت کا نام ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بومرز سے لے کر جین زی میں یکساں مقبول، پاکستانی کرکٹ کے سب سے معروف اور جانے مانے مداح ’چاچا کرکٹ‘ اب روایتی انداز میں پاکستانی پرچم تھامے گراؤنڈ میں نظر نہیں آئیں گے۔ وہ پاکستان ٹیم کے بارہویں کھلاڑی تھے جو گراؤنڈ میں نہیں بلکہ اسٹینڈ سے ٹیم کی حوصلہ افزائی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے شائقین کا لہو گرماتے تھے۔</strong></p>
<p>پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کو چند چہروں میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو یہ تاریخ 77 سالہ ’چاچا کرکٹ‘ کو شامل کیے بغیر ادھوری رہے گی۔</p>
<p>سبز کُرتا، سفید شلوار اور چاند تارے والی ٹوپی کے ساتھ پاکستانی پرچم ہاتھ میں تھامے دنیا بھر کے کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ’چاچا کرکٹ‘ تماشائی سے بڑھ کر پاکستانی کرکٹ اور ثقافت کا مستقل حصہ رہے ہیں۔</p>
<p>اپنے اس طویل سفر میں جہاں وہ بے شمار یادگار لمحات کے عینی شاہد رہے وہیں انہوں نے کئی زخم بھی جھیلے، جنہیں وہ آج تک نہیں بھول سکے ہیں۔ ڈھلتی عمر کے باوجود کرکٹ کے جنون کو تازہ رکھنے کے لیے وہ ایک نیا سفر شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>77 سالہ چوہدری عبدالجلیل 500 انٹرنیشنل میچز میں گرین شرٹس کی سپورٹ کے لیے دنیا بھر کے گراؤنڈز میں موجود رہے۔</p>
<p>اگرچہ چاچا کرکٹ ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے مایوس ہیں، تاہم وہ مستقبل کے حوالے سے اب بھی پُرامید ہیں۔ ماضی میں جب جب ٹیم پر کڑا وقت آیا تو وہ یہی کہتے پائے گئے کہ ’ہوتا ہے بھائی ہوتا ہے، کھیل میں ایسا ہوتا ہے، کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی خوشی کبھی غم، کبھی تم کبھی ہم‘۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060763645278343601'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060763645278343601"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>چاچا کرکٹ نے ڈھلتی عمر اور صحت کی وجہ سے اب ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں وہ آخری مرتبہ اپنے روایتی انداز میں ٹیم کو سپورٹ کرتے نظر آئیں گے۔</p>
<p>سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے چوہدری عبدالجلیل نے 1969 میں پہلی مرتبہ 19 برس کی عمر میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ایک روزہ انٹرنیشنل میچ دیکھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کے دل میں کرکٹ کا ایسا جنون پیدا کیا جو کئی دہائیوں بعد بھی آج تک قائم ہے۔</p>
<p>چاچا کرکٹ 1973 میں روزگار کی تلاش کے لیے متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے۔ شارجہ اور ابوظہبی میں مختلف ملازمتیں کرنے کے باوجود ان کا کرکٹ سے ان کا جنون کم نہ ہوا۔</p>
<p>ابوظہبی میں ملازمت کے دوران بھی جب پاکستان کا میچ شارجہ میں ہوتا، وہ تمام مصروفیات ترک اور طویل سفر کر کے اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے باقاعدگی سے اسٹیڈیم پہنچ جایا کرتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061392565694603470'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2061392565694603470"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سنہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم پاک-بھارت مقابلوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اور اسی عرصے میں چوہدری عبدالجلیل کی داڑھی میں سفیدی بھی نمایاں ہوچکی تھی۔ اسی دوران ایک میچ میں وہ اپنا روایتی لباس زیب تن کیے، پاکستانی پرچم لہراتے اسکرین پر نظر آئے تو کمنٹری باکس سے انہیں ’چاچا کرکٹ‘ کہہ کر پکارا گیا اور وقت کے ساتھ یہی نام ان کی مستقل شناخت بن گیا۔</p>
<p>سنہ 1994 کے ’آسٹرل ایشیا کپ‘ کے مقابلوں کے دوران چاچا کرکٹ کا روایتی لباس اور جوش و جذبہ اس قدر نمایاں ہوا کہ وہ پاکستان کے نمائندہ چہرے کے طور پر دنیا بھر میں پہچانے جانے لگے۔ ان کی اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پیشکش پر یو اے ای کی نوکری چھوڑ کر وطن واپس آگئے اور پی سی بی نے انہیں باضابطہ طور پر قومی ٹیم کا آفیشل ’چیئر لیڈر‘ مقرر کردیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061890364609606004'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2061890364609606004"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>چاچا کرکٹ کے جنون کا سب سے بڑا ثبوت 1999 میں انگلینڈ میں ہونے والا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ تھا، جب ان کے پاس ورلڈکپ میں شرکت کے لیے برطانیہ جانے اور اخراجات کے لیے کوئی اسپانسرشپ دستیاب نہیں تھی۔ انہوں نے حیرت انگیز قدم اٹھایا اور اپنا ذاتی گھر بیچ کر پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے انگلینڈ پہنچ گئے۔</p>
<p>برطانوی ہائی کمیشن نے بھی ان کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے دستاویزات کی چھان بین کیے بغیر ہی صرف ایک گھنٹے میں انہیں اعزازی ویزا جاری کر دیا تھا۔</p>
<p>اسی واقعے کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ حلقوں میں ایک معروف شخصیت بن گئے اور دنیا بھر کے اسٹیڈیمز میں انہیں پاکستانی کرکٹ کے سفیر کے طور پر خصوصی توجہ ملنے لگی۔</p>
<p>اگرچہ چاچا کرکٹ پاکستانی کرکٹ کے سب سے نمایاں سپورٹر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی شائقین میں بھی مقبول ہیں اور وہ 6 مرتبہ بھارت کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/cricbyusman/status/2060761135872368868'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cricbyusman/status/2060761135872368868"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارت کے معروف سُپر فین ’سدھیر کمار‘ سمیت کئی غیر ملکی شائقین کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات بھی رہے۔ بھارت کے ساتھ میچز اور دوروں کے موقع پر انٹرویوز میں کھیل کے ذریعے دوستی، احترام اور مثبت رویوں کی وجہ سے بھی چاچا کرکٹ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے اور ان کے بین الاقوامی فینز میں اضافہ ہوتا رہا۔</p>
<p>چاچا کرکٹ کے مطابق پاکستان ٹیم کو 500 میچز میں براہِ راست سپورٹ کرنا ان کی زندگی کا ایک بڑا خواب تھا، جو پورا ہوچکا ہے۔</p>
<p>نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اس سفر میں ان کے پاس یادوں کا ایک خزانہ موجود ہے۔ ان میں 1986 میں شارجہ کے تاریخی فائنل میں جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا بھی شامل ہے، جسے وہ یادگار ترین لمحہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح بھی ان کے یادگار لمحات میں سے ایک ہے۔</p>
<p>چاچا کرکٹ کے مطابق میدان میں خوشیوں کے ساتھ مایوسیاں بھی ان کے سفر کا حصہ رہیں۔ وہ خاص طور پر 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شکست کو افسوس کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جب پاکستان بھارت کے 120 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔</p>
<p>اسی طرح 2011 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں موہالی میں بھارت کے خلاف شکست بھی ان کی تلخ یادوں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق وہ میچ دیکھنے کے لیے انہوں نے طویل اور مشکل ترین سفر طے کیا تھا، مگر میچ کا نتیجہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں نکل سکا تھا۔</p>
<p>اس کے باوجود وہ شکست کو کھیل کا حصہ سمجھتے ہوئے قومی ٹیم کی بھرپور سپورٹ اور شائقین کو یہی پیغام دیتے رہے ہیں کہ کھیل میں کبھی جیت اور کبھی ہار ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2062067467682545675'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2062067467682545675"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>77 برس کی عمر میں اب چاچا کرکٹ ایک نیا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ چوہدری عبدالجلیل سیالکوٹ کے مضافات میں ’کرکٹ میوزیم‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جہاں وہ اپنے 58 سالہ طویل سفر کے دوران جمع کی گئی یادگار اشیاء، کھلاڑیوں کے دستخط شدہ بلے، گیندیں، تصاویر اور دیگر نوادرات نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔</p>
<p>چاچا کرکٹ اپنی مقبولیت اور شناخت کو معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال کی غرض سے فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خواہش مند بھی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061756412771127435'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2061756412771127435"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ پاکستانی کرکٹ اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی ایونٹس میں خاطر خواہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے شائقین مایوس نظر آتے ہیں لیکن چاچا کرکٹ اب بھی پُر امید نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کرکٹ میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی ناکامی، مگر کھیل سے محبت ختم نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>ان کے اس طویل سفر، کرکٹ کے جنون اور جذبے کے اعتراف میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے لیے خصوصی الوداعی تقریب کا اہتمام کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں نقد انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ’چاچا کرکٹ‘ ایک ایسی روایت کا نام ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506071</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:10:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عبدالرحمٰن)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0317312240982f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0317312240982f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریڈ کارڈز زیادہ، وقت کا ضیاع ختم: فٹبال ورلڈ کپ میں کون سے نئے قوانین نافذ ہوں گے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506062/world-cup-2026-fifa-var-footballrules-ifab</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے ورلڈ کپ سے پہلے کھیل کے قوانین میں کئی اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ نئے اصول نہ صرف آئندہ سیزن 27-2026 سے نافذ ہوں گے بلکہ ورلڈ کپ میں بھی ان پر عمل کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد کھیل میں شفافیت بڑھانا، وقت کے ضیاع کو کم کرنا اور کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے کھیل کو مزید منظم اور بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کھلاڑی-کے-منہ-چھپانے-پر-اصول" href="#کھلاڑی-کے-منہ-چھپانے-پر-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کھلاڑی کے منہ چھپانے پر اصول&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نئے قوانین کے تحت اب اگر کوئی کھلاڑی بحث یا تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ، بازو یا جرسی سے چھپائے گا تو اسے ریڈ کارڈ دکھایا جا سکتا ہے۔ تاہم عام دوستانہ گفتگو کے دوران ایسا کرنے پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ یہ اصول اس وقت سامنے آیا جب ایک حالیہ واقعے میں ایک کھلاڑی پر الزام لگا تھا کہ اس نے منہ چھپا کر نسلی تعصبی جملے کہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="احتجاج-میں-میدان-چھوڑنے-پر-ریڈ-کارڈ" href="#احتجاج-میں-میدان-چھوڑنے-پر-ریڈ-کارڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;احتجاج میں میدان چھوڑنے پر ریڈ کارڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم تبدیلی کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی ریفری کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے میدان چھوڑ دے گا تو اسے بھی ریڈ کارڈ دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی ٹیم یا آفیشل کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر اکساتا ہے تو اس پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔ اگر کوئی ٹیم میچ جاری رکھنے سے انکار کرے اور میچ ادھورا رہ جائے تو اسے میچ ہارنے کے مترادف قرار دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وقت-ضائع-کرنے-کے-خلاف-نیا-کاؤنٹ-ڈاؤن" href="#وقت-ضائع-کرنے-کے-خلاف-نیا-کاؤنٹ-ڈاؤن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;وقت ضائع کرنے کے خلاف نیا کاؤنٹ ڈاؤن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کھیل میں وقت ضائع کرنے کے مسئلے کو روکنے کے لیے تھرو اِن اور گول کِک کے دوران نیا کاؤنٹ ڈاؤن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ ریفری پانچ سیکنڈ کا اشارہ ہاتھ کے ذریعے دے گا۔ اگر مقررہ وقت میں تھرو اِن یا گول کِک نہ لیا جائے تو بال بالترتیب مخالف ٹیم کو دے دی جائے گی، اور بعض صورتوں میں گول کِک کی تاخیر پر کونے کی کِک دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کھلاڑیوں-کی-تبدیلی-پر-نئے-اصول" href="#کھلاڑیوں-کی-تبدیلی-پر-نئے-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کھلاڑیوں کی تبدیلی پر نئے اصول&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کھلاڑیوں کی تبدیلی کے عمل میں بھی نیا اصول شامل کیا گیا ہے۔ اب تبدیل ہونے والے کھلاڑی کو 10 سیکنڈ کے اندر میدان چھوڑنا ہوگا اور اسے قریبی لائن سے باہر جانا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو متبادل کھلاڑی فوری طور پر میدان میں نہیں آ سکے گا اور اسے اگلے کھیل کے توقف تک انتظار کرنا پڑے گا، جو کم از کم ایک منٹ بعد ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506052/fifa-world-cup-2026-squads-for-all-48-teams'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="طبی-امداد-کے-بعد-وقفے-کا-اصول" href="#طبی-امداد-کے-بعد-وقفے-کا-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;طبی امداد کے بعد وقفے کا اصول&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;طبی امداد کے حوالے سے بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اگر کسی فیلڈ کھلاڑی کو میدان میں طبی علاج دیا جائے تو اسے کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایک منٹ کے لیے باہر رہنا ہوگا۔ تاہم گول کیپر کی انجری یا بعض خاص حالات میں اس اصول سے استثنا دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وی-اے-آر-کا-دائرہ-کار-مزید-وسیع" href="#وی-اے-آر-کا-دائرہ-کار-مزید-وسیع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;وی اے آر کا دائرہ کار مزید وسیع&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نئے فیصلے کے مطابق اب وی اے آر صرف گول یا پنالٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غلط یلو کارڈ کے بعد دیے گئے ریڈ کارڈ، یا کھلاڑی کی غلط شناخت کی صورت میں بھی مداخلت کر سکے گا۔ اس کے علاوہ اگر کسی ٹیم کو غلط کارنر کِک دے دی جائے تو بھی وی اے آر فوری طور پر درستگی کر سکتا ہے، بشرطیکہ کھیل کے دوبارہ شروع ہونے میں تاخیر نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وی اے آر ایسے مواقع پر بھی استعمال ہوگا جہاں کھیل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے کوئی فاؤل کیا گیا ہو، مثلاً سیٹ پیس سے پہلے حملہ آور کا دفاعی کھلاڑی پر فاؤل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ  کے مطابق وی اے آر ریفری کو آن فیلڈ ریویو کا مشورہ دے گا، اور اگر ریفری تصدیق کرے کہ فاؤل یا غلطی کھیل شروع ہونے سے پہلے ہوئی تھی تو مناسب کارروائی کی جائے گی اور کِک دوبارہ لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506057/how-the-48-team-format-of-fifa-world-cup-2026-works'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506057"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہائیڈریشن-بریک-لازمی-قرار" href="#ہائیڈریشن-بریک-لازمی-قرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہائیڈریشن بریک لازمی قرار&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہر ہاف میں تین منٹ کا ہائیڈریشن بریک بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو پانی پینے اور آرام کا موقع مل سکے۔ ریفری کو اس وقت میں کچھ لچک دی گئی ہے، خاص طور پر اگر کسی کھلاڑی کو چوٹ لگ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گول-کیپر-انجری-سے-متعلق-نیا-اصول" href="#گول-کیپر-انجری-سے-متعلق-نیا-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گول کیپر انجری سے متعلق نیا اصول&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;آخر میں گول کیپر کی انجری کے دوران بھی نیا اصول شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اگر گول کیپر کا علاج میدان میں جاری ہو تو دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اپنے کوچز کے ساتھ عارضی وقفہ نہیں لے سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام تبدیلیاں ورلڈ کپ 2026 کو زیادہ منظم، تیز اور شفاف بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ نے ورلڈ کپ سے پہلے کھیل کے قوانین میں کئی اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ نئے اصول نہ صرف آئندہ سیزن 27-2026 سے نافذ ہوں گے بلکہ ورلڈ کپ میں بھی ان پر عمل کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد کھیل میں شفافیت بڑھانا، وقت کے ضیاع کو کم کرنا اور کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے کھیل کو مزید منظم اور بہتر بنانا ہے۔</p>
<h3><a id="کھلاڑی-کے-منہ-چھپانے-پر-اصول" href="#کھلاڑی-کے-منہ-چھپانے-پر-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کھلاڑی کے منہ چھپانے پر اصول</strong></h3>
<p>نئے قوانین کے تحت اب اگر کوئی کھلاڑی بحث یا تنازع کے دوران اپنا منہ ہاتھ، بازو یا جرسی سے چھپائے گا تو اسے ریڈ کارڈ دکھایا جا سکتا ہے۔ تاہم عام دوستانہ گفتگو کے دوران ایسا کرنے پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ یہ اصول اس وقت سامنے آیا جب ایک حالیہ واقعے میں ایک کھلاڑی پر الزام لگا تھا کہ اس نے منہ چھپا کر نسلی تعصبی جملے کہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h3><a id="احتجاج-میں-میدان-چھوڑنے-پر-ریڈ-کارڈ" href="#احتجاج-میں-میدان-چھوڑنے-پر-ریڈ-کارڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>احتجاج میں میدان چھوڑنے پر ریڈ کارڈ</strong></h3>
<p>ایک اور اہم تبدیلی کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی ریفری کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے میدان چھوڑ دے گا تو اسے بھی ریڈ کارڈ دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی ٹیم یا آفیشل کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر اکساتا ہے تو اس پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔ اگر کوئی ٹیم میچ جاری رکھنے سے انکار کرے اور میچ ادھورا رہ جائے تو اسے میچ ہارنے کے مترادف قرار دیا جائے گا۔</p>
<h3><a id="وقت-ضائع-کرنے-کے-خلاف-نیا-کاؤنٹ-ڈاؤن" href="#وقت-ضائع-کرنے-کے-خلاف-نیا-کاؤنٹ-ڈاؤن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>وقت ضائع کرنے کے خلاف نیا کاؤنٹ ڈاؤن</strong></h3>
<p>کھیل میں وقت ضائع کرنے کے مسئلے کو روکنے کے لیے تھرو اِن اور گول کِک کے دوران نیا کاؤنٹ ڈاؤن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ ریفری پانچ سیکنڈ کا اشارہ ہاتھ کے ذریعے دے گا۔ اگر مقررہ وقت میں تھرو اِن یا گول کِک نہ لیا جائے تو بال بالترتیب مخالف ٹیم کو دے دی جائے گی، اور بعض صورتوں میں گول کِک کی تاخیر پر کونے کی کِک دی جائے گی۔</p>
<h3><a id="کھلاڑیوں-کی-تبدیلی-پر-نئے-اصول" href="#کھلاڑیوں-کی-تبدیلی-پر-نئے-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کھلاڑیوں کی تبدیلی پر نئے اصول</strong></h3>
<p>کھلاڑیوں کی تبدیلی کے عمل میں بھی نیا اصول شامل کیا گیا ہے۔ اب تبدیل ہونے والے کھلاڑی کو 10 سیکنڈ کے اندر میدان چھوڑنا ہوگا اور اسے قریبی لائن سے باہر جانا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو متبادل کھلاڑی فوری طور پر میدان میں نہیں آ سکے گا اور اسے اگلے کھیل کے توقف تک انتظار کرنا پڑے گا، جو کم از کم ایک منٹ بعد ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506052/fifa-world-cup-2026-squads-for-all-48-teams'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h3><a id="طبی-امداد-کے-بعد-وقفے-کا-اصول" href="#طبی-امداد-کے-بعد-وقفے-کا-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>طبی امداد کے بعد وقفے کا اصول</strong></h3>
<p>طبی امداد کے حوالے سے بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اگر کسی فیلڈ کھلاڑی کو میدان میں طبی علاج دیا جائے تو اسے کھیل دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایک منٹ کے لیے باہر رہنا ہوگا۔ تاہم گول کیپر کی انجری یا بعض خاص حالات میں اس اصول سے استثنا دیا جائے گا۔</p>
<h3><a id="وی-اے-آر-کا-دائرہ-کار-مزید-وسیع" href="#وی-اے-آر-کا-دائرہ-کار-مزید-وسیع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>وی اے آر کا دائرہ کار مزید وسیع</strong></h3>
<p>نئے فیصلے کے مطابق اب وی اے آر صرف گول یا پنالٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غلط یلو کارڈ کے بعد دیے گئے ریڈ کارڈ، یا کھلاڑی کی غلط شناخت کی صورت میں بھی مداخلت کر سکے گا۔ اس کے علاوہ اگر کسی ٹیم کو غلط کارنر کِک دے دی جائے تو بھی وی اے آر فوری طور پر درستگی کر سکتا ہے، بشرطیکہ کھیل کے دوبارہ شروع ہونے میں تاخیر نہ ہو۔</p>
<p>وی اے آر ایسے مواقع پر بھی استعمال ہوگا جہاں کھیل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے کوئی فاؤل کیا گیا ہو، مثلاً سیٹ پیس سے پہلے حملہ آور کا دفاعی کھلاڑی پر فاؤل۔</p>
<p>انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ  کے مطابق وی اے آر ریفری کو آن فیلڈ ریویو کا مشورہ دے گا، اور اگر ریفری تصدیق کرے کہ فاؤل یا غلطی کھیل شروع ہونے سے پہلے ہوئی تھی تو مناسب کارروائی کی جائے گی اور کِک دوبارہ لی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506057/how-the-48-team-format-of-fifa-world-cup-2026-works'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506057"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h3><a id="ہائیڈریشن-بریک-لازمی-قرار" href="#ہائیڈریشن-بریک-لازمی-قرار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہائیڈریشن بریک لازمی قرار</strong></h3>
<p>ہر ہاف میں تین منٹ کا ہائیڈریشن بریک بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو پانی پینے اور آرام کا موقع مل سکے۔ ریفری کو اس وقت میں کچھ لچک دی گئی ہے، خاص طور پر اگر کسی کھلاڑی کو چوٹ لگ جائے۔</p>
<h3><a id="گول-کیپر-انجری-سے-متعلق-نیا-اصول" href="#گول-کیپر-انجری-سے-متعلق-نیا-اصول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گول کیپر انجری سے متعلق نیا اصول</strong></h3>
<p>آخر میں گول کیپر کی انجری کے دوران بھی نیا اصول شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اگر گول کیپر کا علاج میدان میں جاری ہو تو دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اپنے کوچز کے ساتھ عارضی وقفہ نہیں لے سکیں گے۔</p>
<p>یہ تمام تبدیلیاں ورلڈ کپ 2026 کو زیادہ منظم، تیز اور شفاف بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506062</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:52:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/031257520e4e68c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/031257520e4e68c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ 2026: 48 ٹیموں والا نیا فارمیٹ کیا ہے اور کیسے کام کرے گا؟ آسان الفاظ میں سمجھیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506057/how-the-48-team-format-of-fifa-world-cup-2026-works</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال کی 96 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا فیفا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے جو ماضی کے تمام ٹورنامنٹس سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس بار ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی۔ جب 1930 میں پہلا ورلڈ کپ ہوا تھا تو اس میں صرف 13 ٹیمیں شامل تھیں، لیکن اب یہ مقابلہ چار گنا بڑا ہو چکا ہے۔ اس نئے نظام کے جہاں کھیل کو بہت سے فائدے مل رہے ہیں، وہاں کچھ ماہرین اس پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے فارمیٹ کے تحت تمام 48 ٹیموں کو چار، چار کے حساب سے 12 گروپس میں بانٹا گیا ہے۔ ہر گروپ سے دو بہترین ٹیمیں اگلے راؤنڈ میں پہنچیں گی، جبکہ تمام گروپس میں تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیموں کو بھی آگے جانے کا موقع ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح پہلی بار راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ ہوگا جس کے بعد روایتی انداز میں ناک آؤٹ میچز، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے گلوبل فٹبال ڈویلپمنٹ کے سربراہ اور آرسنل کے سابق مینیجر آرسین وینگر کا ماننا ہے کہ ٹیموں کی تعداد بڑھانا فٹبال کی ترقی کے لیے ایک قدرتی عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ”یہ ایک قدرتی ارتقا ہے، میرا خیال ہے کہ ہم فٹبال کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ 1930 سے اب تک کا سفر دیکھیں تو 2030 میں ورلڈ کپ کو 100 سال پورے ہو جائیں گے۔ ہم نے 13 ٹیموں سے شروع کیا، پھر 16 ہوئیں، 1982 میں پہلی بار 24 اور 1998 میں 32 ٹیمیں شامل کی گئیں۔ اب میرا ماننا ہے کہ 48 ٹیمیں بالکل درست تعداد ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس نئے نظام کا ایک بڑا فائدہ فیفا اور فٹبال کی معیشت کو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق اس بڑے ٹورنامنٹ سے 80.1 ارب ڈالرز کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی، جس میں سے ساڑھے 30 ارب ڈالرز صرف میزبانی کرنے والے ملک امریکا کو ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ اس سال ٹورنامنٹ سے 11 ارب ڈالرز کی آمدنی متوقع ہے جو دوبارہ فٹبال کی بہتری پر لگائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسہ دنیا بھر کے 211 ممالک میں جائے گا تاکہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے فٹبال کے منصوبے، اکیڈمیاں، اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور مقابلے منعقد کیے جا سکیں۔ ان ممالک میں سے تین چوتھائی شاید ورلڈ کپ سے ملنے والی اس امداد کے بغیر اپنے ہاں کھیلوں کا انعقاد بھی نہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فارمیٹ کی وجہ سے چھوٹے ممالک کے لیے بھی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے کا راستہ کھلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کیوراساؤ، کیپ وررے، اردن اور ازبکستان جیسی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں ڈیبیو کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوراساؤ تو ورلڈ کپ کی تاریخ کا کوالیفائی کرنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506071/five-decades-500-matches-pakistan-super-fan-chacha-cricket-retired'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے جب خواتین کے ورلڈ کپ میں ٹیمیں بڑھائی گئی تھیں تو بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا تھا، لیکن وہاں جمائکا اور مراکش جیسی کمزور ٹیموں نے سیمی فائنل تک پہنچنے والی بڑی ٹیموں کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، اس فارمیٹ کے کچھ نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب گروپ اسٹیج میں کچھ میچز بہت یکطرفہ ہو سکتے ہیں، جیسے جرمنی اور کیوراساؤ یا اسپین اور کیپ وردے کا میچ، جس میں بڑے ممالک کی جیت پہلے سے واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس سے میچوں کا سسپنس کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ کوئی ٹیم اپنے تینوں میچ ڈرا کر کے بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے، جس سے کھیل کا معیار متاثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بڑا مسئلہ کھلاڑیوں کی صحت اور تھکن کا ہے۔ اب فائنل تک پہنچنے والی ٹیم کو 38 دنوں میں 8 میچز کھیلنے ہوں گے۔ اس دوران طویل سفر، مختلف ٹائم زونز اور الگ الگ شہروں کے موسم کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال بینچ مارک گروپ کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ کپ کے فائنل اور انگلش پریمیئر لیگ کے نئے سیزن کے شروع ہونے میں صرف 34 دن کا فاصلہ ہوگا، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو آرام اور نئے سیزن کی تیاری کے لیے بہت ہی کم وقت مل پائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال کی 96 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا فیفا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے جو ماضی کے تمام ٹورنامنٹس سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس بار ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی۔ جب 1930 میں پہلا ورلڈ کپ ہوا تھا تو اس میں صرف 13 ٹیمیں شامل تھیں، لیکن اب یہ مقابلہ چار گنا بڑا ہو چکا ہے۔ اس نئے نظام کے جہاں کھیل کو بہت سے فائدے مل رہے ہیں، وہاں کچھ ماہرین اس پر سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اس نئے فارمیٹ کے تحت تمام 48 ٹیموں کو چار، چار کے حساب سے 12 گروپس میں بانٹا گیا ہے۔ ہر گروپ سے دو بہترین ٹیمیں اگلے راؤنڈ میں پہنچیں گی، جبکہ تمام گروپس میں تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیموں کو بھی آگے جانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p>اس طرح پہلی بار راؤنڈ آف 32 کا مرحلہ ہوگا جس کے بعد روایتی انداز میں ناک آؤٹ میچز، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل کھیلا جائے گا۔</p>
<p>فیفا کے گلوبل فٹبال ڈویلپمنٹ کے سربراہ اور آرسنل کے سابق مینیجر آرسین وینگر کا ماننا ہے کہ ٹیموں کی تعداد بڑھانا فٹبال کی ترقی کے لیے ایک قدرتی عمل ہے۔</p>
<p>انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ”یہ ایک قدرتی ارتقا ہے، میرا خیال ہے کہ ہم فٹبال کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ 1930 سے اب تک کا سفر دیکھیں تو 2030 میں ورلڈ کپ کو 100 سال پورے ہو جائیں گے۔ ہم نے 13 ٹیموں سے شروع کیا، پھر 16 ہوئیں، 1982 میں پہلی بار 24 اور 1998 میں 32 ٹیمیں شامل کی گئیں۔ اب میرا ماننا ہے کہ 48 ٹیمیں بالکل درست تعداد ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس نئے نظام کا ایک بڑا فائدہ فیفا اور فٹبال کی معیشت کو ہوگا۔</p>
<p>ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق اس بڑے ٹورنامنٹ سے 80.1 ارب ڈالرز کی معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی، جس میں سے ساڑھے 30 ارب ڈالرز صرف میزبانی کرنے والے ملک امریکا کو ملیں گے۔</p>
<p>فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کا کہنا ہے کہ اس سال ٹورنامنٹ سے 11 ارب ڈالرز کی آمدنی متوقع ہے جو دوبارہ فٹبال کی بہتری پر لگائی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسہ دنیا بھر کے 211 ممالک میں جائے گا تاکہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے فٹبال کے منصوبے، اکیڈمیاں، اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور مقابلے منعقد کیے جا سکیں۔ ان ممالک میں سے تین چوتھائی شاید ورلڈ کپ سے ملنے والی اس امداد کے بغیر اپنے ہاں کھیلوں کا انعقاد بھی نہ کر سکیں۔</p>
<p>اس فارمیٹ کی وجہ سے چھوٹے ممالک کے لیے بھی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کھیلنے کا راستہ کھلا ہے۔</p>
<p>اس سال کیوراساؤ، کیپ وررے، اردن اور ازبکستان جیسی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں ڈیبیو کر رہی ہیں۔</p>
<p>کیوراساؤ تو ورلڈ کپ کی تاریخ کا کوالیفائی کرنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506071/five-decades-500-matches-pakistan-super-fan-chacha-cricket-retired'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے پہلے جب خواتین کے ورلڈ کپ میں ٹیمیں بڑھائی گئی تھیں تو بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا تھا، لیکن وہاں جمائکا اور مراکش جیسی کمزور ٹیموں نے سیمی فائنل تک پہنچنے والی بڑی ٹیموں کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب، اس فارمیٹ کے کچھ نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p>اب گروپ اسٹیج میں کچھ میچز بہت یکطرفہ ہو سکتے ہیں، جیسے جرمنی اور کیوراساؤ یا اسپین اور کیپ وردے کا میچ، جس میں بڑے ممالک کی جیت پہلے سے واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس سے میچوں کا سسپنس کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ کوئی ٹیم اپنے تینوں میچ ڈرا کر کے بھی اگلے راؤنڈ میں پہنچ جائے، جس سے کھیل کا معیار متاثر ہوگا۔</p>
<p>ایک اور بڑا مسئلہ کھلاڑیوں کی صحت اور تھکن کا ہے۔ اب فائنل تک پہنچنے والی ٹیم کو 38 دنوں میں 8 میچز کھیلنے ہوں گے۔ اس دوران طویل سفر، مختلف ٹائم زونز اور الگ الگ شہروں کے موسم کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>فٹبال بینچ مارک گروپ کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ کپ کے فائنل اور انگلش پریمیئر لیگ کے نئے سیزن کے شروع ہونے میں صرف 34 دن کا فاصلہ ہوگا، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو آرام اور نئے سیزن کی تیاری کے لیے بہت ہی کم وقت مل پائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506057</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:22:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0311061273fb15c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0311061273fb15c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فٹبال کا وہ ہونہار بچہ جس نے اپنے استاد کو ریٹائر ہونے پر مجبور کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506054/the-wonder-kid-of-football-who-forced-his-coach-into-retirement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ارجنٹائن کے شہر روساریو میں پیدا ہونے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کی زندگی لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی نے کم عمری میں ہی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں سے سب کو متاثر کر دیا تھا۔ ان کے ابتدائی کوچ اینریکے ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں میسی جیسا باصلاحیت کھلاڑی نہیں دیکھا۔ ڈومنگیز کے مطابق میسی کی غیرمعمولی مہارت نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ بعد میں انہوں نے کوچنگ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیونل میسی کے بچپن کے کوچ اینریک ڈومنگیوز کی عمر اس وقت صرف پینتالیس برس تھی جب وہ روساریو میں بارسلونا کے اس مستقبل کے اسٹار کو تربیت دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506052/fifa-world-cup-2026-squads-for-all-48-teams'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ بچہ خدا کا ایک تحفہ تھا۔ ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا کہ جب آپ میسی کو میدان میں کھیلتے دیکھتے ہیں، تو کیا آپ کو فخر ہوتا ہے کہ آپ نے اسے یہ سب سکھایا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوچ نے جواب دیا کہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اسے کچھ نہیں سکھایا، کیونکہ اسے سکھانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ جو جادو وہ آج پینتیس چھتیس سال کی عمر میں دکھاتا ہے، وہ بارہ سال کی عمر میں بھی بالکل ویسا ہی کھیلتا تھا۔ بس اسی لیے میں نے سوچا کہ اب زندگی میں کسی اور کو کیا سکھانا اور میں نے کوچنگ ہی چھوڑ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی کا بچپن ارجنٹائن کے ایک عام سے شہر روساریو میں گزرا۔ ان کے بچپن کے دوست والٹر باریرا پرانی باتیں یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ دونوں اسکول جانے کے لیے ایک فوجی اڈے کی باڑ کاٹ کر شارٹ کٹ لیتے تھے۔ ایک دفعہ تو وہاں کے چوکیدار نے ان کے پیچھے دوڑ بھی لگا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والٹر کہتے ہیں کہ ہم شرارتی ضرور تھے لیکن  برے بچے نہیں تھے۔ والٹر نے مزید کہا کہ ہم نے بچپن میں رگبی، بیس بال اور دیگر کھیل بھی کھیلے لیکن میسی کا اصل نشانہ فٹ بال ہی تھا۔ والٹر باریرا کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بہت آگے جائے گا، وہ فٹ بال کا بادشاہ تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031033176d2f8c7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031033176d2f8c7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میسی کے خاندان کے حالات کافی مشکل تھے۔ ان کے دوسرے کوچ ایڈریان کوریا بتاتے ہیں کہ میسی کے والد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور اکثر کہتے تھے کہ ان کے پاس گاڑی میں پٹرول ڈالنے کے اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ میسی کو ٹریننگ پر لا سکیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ بچپن میں میسی کو ایک بیماری کا پتا چلا جس کی وجہ سے ان کا قد نہیں بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے ساتھ کے بچوں سے بہت چھوٹے اور کمزور نظر آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈریان کوریا کا کہنا تھا کہ لیو اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے چالیس سینٹی میٹر چھوٹے اور پندرہ کلو گرام ہلکے تھے، جو کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات میں میسی کے خاندان نے ہسپانوی کلب بارسلونا کی اکیڈمی سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر میسی کو منتخب کر لیا اور ان کے علاج کا خرچہ اٹھانے کا وعدہ کیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی 2000ء میں تیرہ سال کی عمر میں بارسلونا منتقل ہو گئے اور اس کے بعد سے وہ کبھی مستقل طور پر ارجنٹائن میں نہیں رہے۔ کوچ ایڈریان کہتے ہیں کہ میسی کا نشانہ بالکل پکا تھا، وہ ہر حال میں دنیا کا بہترین کھلاڑی بننا چاہتا تھا اور اس نے یہ کر دکھایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03102657492923d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03102657492923d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میسی اب اپنے چھٹے ورلڈ کپ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اپنے ملک کو چار سال پہلے ورلڈ کپ جتا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج جس محلے میں میسی کا بچپن گزرا تھا، وہاں دنیا بھر سے لوگ ان کا پرانا گھر دیکھنے آتے ہیں۔ وہاں دیواروں پر میسی کی بڑی بڑی تصویریں بنی ہیں اور ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ کھلاڑی کسی دوسری دنیا کا لگتا ہے، لیکن ہے ہمارے ہی محلے کا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی کے سابق کوچز کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کا راز صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ ان کی غیرمعمولی محنت، لگن اور بہترین بننے کا عزم بھی تھا، جس نے انہیں فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ارجنٹائن کے شہر روساریو میں پیدا ہونے والے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کی زندگی لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔</strong></p>
<p>میسی نے کم عمری میں ہی اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں سے سب کو متاثر کر دیا تھا۔ ان کے ابتدائی کوچ اینریکے ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں میسی جیسا باصلاحیت کھلاڑی نہیں دیکھا۔ ڈومنگیز کے مطابق میسی کی غیرمعمولی مہارت نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ بعد میں انہوں نے کوچنگ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا۔</p>
<p>لیونل میسی کے بچپن کے کوچ اینریک ڈومنگیوز کی عمر اس وقت صرف پینتالیس برس تھی جب وہ روساریو میں بارسلونا کے اس مستقبل کے اسٹار کو تربیت دے رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506052/fifa-world-cup-2026-squads-for-all-48-teams'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ بچہ خدا کا ایک تحفہ تھا۔ ایک بار کسی نے مجھ سے پوچھا کہ جب آپ میسی کو میدان میں کھیلتے دیکھتے ہیں، تو کیا آپ کو فخر ہوتا ہے کہ آپ نے اسے یہ سب سکھایا؟</p>
<p>کوچ نے جواب دیا کہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اسے کچھ نہیں سکھایا، کیونکہ اسے سکھانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ جو جادو وہ آج پینتیس چھتیس سال کی عمر میں دکھاتا ہے، وہ بارہ سال کی عمر میں بھی بالکل ویسا ہی کھیلتا تھا۔ بس اسی لیے میں نے سوچا کہ اب زندگی میں کسی اور کو کیا سکھانا اور میں نے کوچنگ ہی چھوڑ دی۔</p>
<p>میسی کا بچپن ارجنٹائن کے ایک عام سے شہر روساریو میں گزرا۔ ان کے بچپن کے دوست والٹر باریرا پرانی باتیں یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ دونوں اسکول جانے کے لیے ایک فوجی اڈے کی باڑ کاٹ کر شارٹ کٹ لیتے تھے۔ ایک دفعہ تو وہاں کے چوکیدار نے ان کے پیچھے دوڑ بھی لگا دی تھی۔</p>
<p>والٹر کہتے ہیں کہ ہم شرارتی ضرور تھے لیکن  برے بچے نہیں تھے۔ والٹر نے مزید کہا کہ ہم نے بچپن میں رگبی، بیس بال اور دیگر کھیل بھی کھیلے لیکن میسی کا اصل نشانہ فٹ بال ہی تھا۔ والٹر باریرا کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم تھا کہ وہ بہت آگے جائے گا، وہ فٹ بال کا بادشاہ تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031033176d2f8c7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031033176d2f8c7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>میسی کے خاندان کے حالات کافی مشکل تھے۔ ان کے دوسرے کوچ ایڈریان کوریا بتاتے ہیں کہ میسی کے والد ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے اور اکثر کہتے تھے کہ ان کے پاس گاڑی میں پٹرول ڈالنے کے اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ میسی کو ٹریننگ پر لا سکیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ بچپن میں میسی کو ایک بیماری کا پتا چلا جس کی وجہ سے ان کا قد نہیں بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے ساتھ کے بچوں سے بہت چھوٹے اور کمزور نظر آتے تھے۔</p>
<p>ایڈریان کوریا کا کہنا تھا کہ لیو اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے چالیس سینٹی میٹر چھوٹے اور پندرہ کلو گرام ہلکے تھے، جو کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔</p>
<p>ان حالات میں میسی کے خاندان نے ہسپانوی کلب بارسلونا کی اکیڈمی سے رابطہ کیا، جنہوں نے فوری طور پر میسی کو منتخب کر لیا اور ان کے علاج کا خرچہ اٹھانے کا وعدہ کیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔</p>
<p>میسی 2000ء میں تیرہ سال کی عمر میں بارسلونا منتقل ہو گئے اور اس کے بعد سے وہ کبھی مستقل طور پر ارجنٹائن میں نہیں رہے۔ کوچ ایڈریان کہتے ہیں کہ میسی کا نشانہ بالکل پکا تھا، وہ ہر حال میں دنیا کا بہترین کھلاڑی بننا چاہتا تھا اور اس نے یہ کر دکھایا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03102657492923d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03102657492923d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>میسی اب اپنے چھٹے ورلڈ کپ کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اپنے ملک کو چار سال پہلے ورلڈ کپ جتا چکے ہیں۔</p>
<p>آج جس محلے میں میسی کا بچپن گزرا تھا، وہاں دنیا بھر سے لوگ ان کا پرانا گھر دیکھنے آتے ہیں۔ وہاں دیواروں پر میسی کی بڑی بڑی تصویریں بنی ہیں اور ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ کھلاڑی کسی دوسری دنیا کا لگتا ہے، لیکن ہے ہمارے ہی محلے کا۔</p>
<p>میسی کے سابق کوچز کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی کا راز صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ ان کی غیرمعمولی محنت، لگن اور بہترین بننے کا عزم بھی تھا، جس نے انہیں فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506054</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 10:35:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/030950509ba729f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/030950509ba729f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ 2026 کے 10 ابھرتے ہوئے جادوگر، جن پر پوری دنیا کی نظریں ہوں گی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال کے شائقین کی نظریں ایک بار پھر فیفا ورلڈ کپ 2026 پر جمی ہوئی ہیں، جہاں عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین کھلاڑی، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، اپنی چھٹی ورلڈ کپ شرکت کے لیے میدان میں اتریں گے۔ دونوں سپر اسٹارز نے 2006 کے ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی تھی اور گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا بھر کے مداحوں کو اپنے کھیل سے متاثر کرتے آ رہے ہیں، تاہم اس بار شائقین کی نظریں جہاں پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑیوں پر ہوں گی وہیں کچھ ایسے نوجوان بھی میدان میں اتر رہے ہیں جو پوری دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا اب ان نئے چہروں کی تلاش میں ہے جو مستقبل میں فٹبال پر اپنی حکمرانی قائم کر سکیں۔ ماہرین نے ایسے ہی 10 باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی نشاندہی کی ہے جو ورلڈ کپ 2026 میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ جرمنی میں پیدا ہونے والے یلدیز نے یووینٹس کے ساتھ ابتدائی عمر میں ہی کامیابیاں حاصل کیں اور اب ترکیہ کی 24 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے دوران ٹیم کی امیدوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ وہ اٹیکنگ مڈفیلڈر اور ونگر دونوں پوزیشنوں پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235857cf45f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235857cf45f.webp'  alt=' (ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹینا کے نیکو پاز کو مستقبل کا بڑا اسٹار تصور کیا جا رہا ہے۔ 21 سالہ مڈفیلڈر نے اٹلی کی سیری اے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 گول اور 7 اسسٹ فراہم کیے۔ انہیں ایسے کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں میں ارجنٹائن کے لیے میسی کے بعد تخلیقی کردار سنبھال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092359cda8f9c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092359cda8f9c.webp'  alt=' (ارجنٹینا کے 21 سالہ نیکو پیز) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ارجنٹینا کے 21 سالہ نیکو پیز)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان بھی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ انہوں نے واسکو ڈی گاما کے لیے شاندار سیزن گزارنے کے بعد انگلش کلب بورنماؤتھ میں جگہ بنائی اور پریمیئر لیگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ قومی ٹیم میں شمولیت کے بعد انہوں نے ایک دوستانہ میچ میں اپنا پہلا بین الاقوامی گول بھی اسکور کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923581c20c8d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923581c20c8d.webp'  alt=' (برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میزبان ممالک میں شامل میکسیکو کے نوجوان مڈفیلڈر گلبرٹو مورا نے کم عمری میں ہی کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وہ میکسیکن لیگ میں گول کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے اور بعد ازاں قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کی۔ گزشتہ برس گولڈ کپ جیتنے والی میکسیکو ٹیم کا حصہ بن کر انہوں نے مزید شہرت حاصل کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923582c175ec.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923582c175ec.webp'  alt=' (میسیکو کے 17 سالہ گلبرٹو مورا) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(میسیکو کے 17 سالہ گلبرٹو مورا)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے نے جرمن کلب آر بی لیپزگ میں اپنی رفتار، ڈربلنگ اور گول اسکورنگ صلاحیت سے سب کو متاثر کیا ہے۔ بنڈس لیگا میں شاندار سیزن گزارنے کے بعد انہیں جرمنی کی لیگ کے بہترین نوجوان کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923584204a81.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923584204a81.webp'  alt=' (آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے نیکو اوریلی نے مانچسٹر سٹی میں اپنی ورسٹائل صلاحیتوں کی بدولت نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ دفاعی اور جارحانہ دونوں کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل انہیں اپنی ٹیم کے لیے اہم ہتھیار تصور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235804ec171.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235804ec171.webp'  alt=' (انگلینڈ کے 21 سالہ نیکو او ریلی) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(انگلینڈ کے 21 سالہ نیکو او ریلی)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل نے بائرن میونخ کے ساتھ اپنے پہلے ہی سیزن میں متاثر کن کھیل پیش کیا۔ اگرچہ ان کا جسمانی اسٹرکچرنسبتاً کمزور سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کی تیز رفتاری، مہارت اور گول کرنے کی صلاحیت نے انہیں جرمن فٹبال کا ابھرتا ہوا اسٹار بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358ce06214.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358ce06214.webp'  alt='(جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل)' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کروشیا کے 19 سالہ باصلاحیت سینٹر بیک لوکا ووشکووچ بھی نوجوان ٹیلنٹ میں نمایاں نام ہیں۔ لمبے قد اور متاثرکن کارکردگی کی بدولت انہوں نے جرمن لیگ میں اپنی شناخت بنائی اور یورپ کے بڑے کلبوں کی توجہ حاصل کی۔ انہیں یورپ کے ابھرتے ہوئے بہترین نوجوان دفاعی کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235827ce901.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235827ce901.webp'  alt=' (کروشیا کے 19 سالہ لوکا ووشکووچ) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(کروشیا کے 19 سالہ لوکا ووشکووچ)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے 20 سالہ اسٹرائیکر کیسوکے گوٹو اپنی قومی ٹیم کے کم عمر ترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ 6 فٹ 3 انچ قد کے  اس اسٹرائیکر نے رواں سیزن میں 13 گول اور 8 اسسٹ کیے، جس کے باعث انہیں جاپان کی جارحانہ لائن میں ایک اہم کھلاڑی تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358981b515.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358981b515.webp'  alt='(جاپان کے 20 سالہ کیسوکے گوٹو)' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(جاپان کے 20 سالہ کیسوکے گوٹو)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عراق کے 22 سالہ علی جاسم بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بغداد میں پیدا ہونے والے جاسم نے مختلف ممالک کی لیگز میں کھیلنے کے بعد اپنی صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ عراق کی ٹیم 40 برس بعد ورلڈ کپ میں واپسی کر رہی ہے اور جاسم کو اس نئی نسل کے اہم کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923583e6ae2b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923583e6ae2b.webp'  alt=' (عراق کے  22 سالہ علی جاسم) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(عراق کے  22 سالہ علی جاسم)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے شمالی امریکا میں ہوگا۔ جہاں ایک طرف دنیا میسی اور رونالڈو جیسے عظیم کھلاڑیوں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت کا مشاہدہ کرے گی، وہیں دوسری طرف نوجوان ستاروں کی ایک نئی کھیپ عالمی فٹبال کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال کے شائقین کی نظریں ایک بار پھر فیفا ورلڈ کپ 2026 پر جمی ہوئی ہیں، جہاں عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین کھلاڑی، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، اپنی چھٹی ورلڈ کپ شرکت کے لیے میدان میں اتریں گے۔ دونوں سپر اسٹارز نے 2006 کے ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کی تھی اور گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا بھر کے مداحوں کو اپنے کھیل سے متاثر کرتے آ رہے ہیں، تاہم اس بار شائقین کی نظریں جہاں پرانے اور منجھے ہوئے کھلاڑیوں پر ہوں گی وہیں کچھ ایسے نوجوان بھی میدان میں اتر رہے ہیں جو پوری دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا اب ان نئے چہروں کی تلاش میں ہے جو مستقبل میں فٹبال پر اپنی حکمرانی قائم کر سکیں۔ ماہرین نے ایسے ہی 10 باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی نشاندہی کی ہے جو ورلڈ کپ 2026 میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ جرمنی میں پیدا ہونے والے یلدیز نے یووینٹس کے ساتھ ابتدائی عمر میں ہی کامیابیاں حاصل کیں اور اب ترکیہ کی 24 سال بعد ورلڈ کپ میں واپسی کے دوران ٹیم کی امیدوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ وہ اٹیکنگ مڈفیلڈر اور ونگر دونوں پوزیشنوں پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235857cf45f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235857cf45f.webp'  alt=' (ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز)</figcaption>
    </figure>
<p>ارجنٹینا کے نیکو پاز کو مستقبل کا بڑا اسٹار تصور کیا جا رہا ہے۔ 21 سالہ مڈفیلڈر نے اٹلی کی سیری اے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 گول اور 7 اسسٹ فراہم کیے۔ انہیں ایسے کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں میں ارجنٹائن کے لیے میسی کے بعد تخلیقی کردار سنبھال سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092359cda8f9c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092359cda8f9c.webp'  alt=' (ارجنٹینا کے 21 سالہ نیکو پیز) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ارجنٹینا کے 21 سالہ نیکو پیز)</figcaption>
    </figure>
<p>برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان بھی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ انہوں نے واسکو ڈی گاما کے لیے شاندار سیزن گزارنے کے بعد انگلش کلب بورنماؤتھ میں جگہ بنائی اور پریمیئر لیگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ قومی ٹیم میں شمولیت کے بعد انہوں نے ایک دوستانہ میچ میں اپنا پہلا بین الاقوامی گول بھی اسکور کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923581c20c8d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923581c20c8d.webp'  alt=' (برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(برازیل کے 19 سالہ ونگر رایان)</figcaption>
    </figure>
<p>میزبان ممالک میں شامل میکسیکو کے نوجوان مڈفیلڈر گلبرٹو مورا نے کم عمری میں ہی کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ وہ میکسیکن لیگ میں گول کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بنے اور بعد ازاں قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کی۔ گزشتہ برس گولڈ کپ جیتنے والی میکسیکو ٹیم کا حصہ بن کر انہوں نے مزید شہرت حاصل کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923582c175ec.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923582c175ec.webp'  alt=' (میسیکو کے 17 سالہ گلبرٹو مورا) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(میسیکو کے 17 سالہ گلبرٹو مورا)</figcaption>
    </figure>
<p>آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے نے جرمن کلب آر بی لیپزگ میں اپنی رفتار، ڈربلنگ اور گول اسکورنگ صلاحیت سے سب کو متاثر کیا ہے۔ بنڈس لیگا میں شاندار سیزن گزارنے کے بعد انہیں جرمنی کی لیگ کے بہترین نوجوان کھلاڑی کا اعزاز بھی ملا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923584204a81.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923584204a81.webp'  alt=' (آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(آئیوری کوسٹ کے 19 سالہ یان دیومانڈے)</figcaption>
    </figure>
<p>انگلینڈ کے نیکو اوریلی نے مانچسٹر سٹی میں اپنی ورسٹائل صلاحیتوں کی بدولت نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ دفاعی اور جارحانہ دونوں کردار ادا کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل انہیں اپنی ٹیم کے لیے اہم ہتھیار تصور کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235804ec171.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235804ec171.webp'  alt=' (انگلینڈ کے 21 سالہ نیکو او ریلی) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(انگلینڈ کے 21 سالہ نیکو او ریلی)</figcaption>
    </figure>
<p>جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل نے بائرن میونخ کے ساتھ اپنے پہلے ہی سیزن میں متاثر کن کھیل پیش کیا۔ اگرچہ ان کا جسمانی اسٹرکچرنسبتاً کمزور سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کی تیز رفتاری، مہارت اور گول کرنے کی صلاحیت نے انہیں جرمن فٹبال کا ابھرتا ہوا اسٹار بنا دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358ce06214.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358ce06214.webp'  alt='(جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل)' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(جرمنی کے 18 سالہ لینارٹ کارل)</figcaption>
    </figure>
<p>کروشیا کے 19 سالہ باصلاحیت سینٹر بیک لوکا ووشکووچ بھی نوجوان ٹیلنٹ میں نمایاں نام ہیں۔ لمبے قد اور متاثرکن کارکردگی کی بدولت انہوں نے جرمن لیگ میں اپنی شناخت بنائی اور یورپ کے بڑے کلبوں کی توجہ حاصل کی۔ انہیں یورپ کے ابھرتے ہوئے بہترین نوجوان دفاعی کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235827ce901.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0309235827ce901.webp'  alt=' (کروشیا کے 19 سالہ لوکا ووشکووچ) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(کروشیا کے 19 سالہ لوکا ووشکووچ)</figcaption>
    </figure>
<p>جاپان کے 20 سالہ اسٹرائیکر کیسوکے گوٹو اپنی قومی ٹیم کے کم عمر ترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ 6 فٹ 3 انچ قد کے  اس اسٹرائیکر نے رواں سیزن میں 13 گول اور 8 اسسٹ کیے، جس کے باعث انہیں جاپان کی جارحانہ لائن میں ایک اہم کھلاڑی تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358981b515.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/03092358981b515.webp'  alt='(جاپان کے 20 سالہ کیسوکے گوٹو)' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(جاپان کے 20 سالہ کیسوکے گوٹو)</figcaption>
    </figure>
<p>عراق کے 22 سالہ علی جاسم بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بغداد میں پیدا ہونے والے جاسم نے مختلف ممالک کی لیگز میں کھیلنے کے بعد اپنی صلاحیتوں کو نکھارا ہے۔ عراق کی ٹیم 40 برس بعد ورلڈ کپ میں واپسی کر رہی ہے اور جاسم کو اس نئی نسل کے اہم کھلاڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923583e6ae2b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/030923583e6ae2b.webp'  alt=' (عراق کے  22 سالہ علی جاسم) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(عراق کے  22 سالہ علی جاسم)</figcaption>
    </figure>
<p>فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے شمالی امریکا میں ہوگا۔ جہاں ایک طرف دنیا میسی اور رونالڈو جیسے عظیم کھلاڑیوں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت کا مشاہدہ کرے گی، وہیں دوسری طرف نوجوان ستاروں کی ایک نئی کھیپ عالمی فٹبال کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506048</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 10:25:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03093738126dc6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03093738126dc6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایبولا کا خوف: اسپین نے کانگو کا ورلڈ کپ وارم اپ میچ منسوخ کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506055/congo-countries-africa-fifa-worldcup-2026-ebola-virus-geography</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپین کے ایک شہر میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کا ورلڈ کپ 2026 سے پہلے کھیلا جانے والا دوستانہ فٹبال میچ ایبولا کے خدشات کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی میئر نے صحت سے متعلق احتیاطی اقدامات کے تحت کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے جنوبی شہر ’لا لینیا ڈی لا کنسیپسیون‘ کے میئر نے کہا کہ انہوں نے 9 جون کو ہونے والا وہ میچ روکنے کا حکم دیا ہے جس میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو اور چلی کی ٹیموں کو کھیلنا تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر احتیاطی تھا اور علاقائی صحت حکام کی سفارشات کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کا کہنا تھا کہ شہر کے طبی ماہرین نے بھی واضح طور پر مشورہ دیا تھا کہ صحت کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ میچ نہ کرایا جائے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 65 ہزار ہے اور یہ جبل الطارق کی سرحد کے قریب واقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کانگو کی ٹیم پہلے ہی اپنے ملک میں ایبولا وبا کے پھیلنے کے بعد مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے ٹیم نے ملک میں اپنا تربیتی کیمپ منسوخ کر دیا تھا اور کھلاڑی اس وقت بیلجیئم میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگو کی فٹبال فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ٹیم میزبان ممالک کی صحت سے متعلق تمام پروٹوکولز پر عمل کر رہی ہے۔ اسی دوران ٹیم نے ایک اور وارم اپ میچ ڈنمارک کے خلاف بیلجیئم کے شہر لیژ میں کھیلنے کا پروگرام بھی بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے بھی کہا ہے کہ کانگو کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت سے پہلے 21 دن تک آئسولیشن میں رہنا ہوگا۔ یہ عالمی ٹورنامنٹ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا اور اسے مشترکہ طور پر کینیڈا، یونائیٹڈ اسٹیٹ اور میکسیکومیں منعقد کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506071/five-decades-500-matches-pakistan-super-fan-chacha-cricket-retired'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کانگو کی ٹیم نے اس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جو 1974 کے بعد ان کی پہلی شرکت ہوگی جب وہ اس وقت زائر کے نام سے ٹورنامنٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ٹیم اپنے میچز کے لیے امریکہ کے شہر ہوسٹن کو بیس بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں وہ پہلا گروپ میچ 17 جون کو پرتگال کے خلاف کھیلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کانگو کی ٹیم 24 جون کو میکسیکو کے شہر گوادالاخارا میں کولمبیا کے خلاف میدان میں اترے گی، جبکہ 28 جون کو وہ دوبارہ امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ازبکستان کے خلاف اپنا آخری گروپ میچ کھیلے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپین کے ایک شہر میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کا ورلڈ کپ 2026 سے پہلے کھیلا جانے والا دوستانہ فٹبال میچ ایبولا کے خدشات کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی میئر نے صحت سے متعلق احتیاطی اقدامات کے تحت کیا۔</strong></p>
<p>اسپین کے جنوبی شہر ’لا لینیا ڈی لا کنسیپسیون‘ کے میئر نے کہا کہ انہوں نے 9 جون کو ہونے والا وہ میچ روکنے کا حکم دیا ہے جس میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو اور چلی کی ٹیموں کو کھیلنا تھا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر احتیاطی تھا اور علاقائی صحت حکام کی سفارشات کے بعد کیا گیا۔</p>
<p>میئر کا کہنا تھا کہ شہر کے طبی ماہرین نے بھی واضح طور پر مشورہ دیا تھا کہ صحت کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر یہ میچ نہ کرایا جائے۔ اس شہر کی آبادی تقریباً 65 ہزار ہے اور یہ جبل الطارق کی سرحد کے قریب واقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب کانگو کی ٹیم پہلے ہی اپنے ملک میں ایبولا وبا کے پھیلنے کے بعد مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے ٹیم نے ملک میں اپنا تربیتی کیمپ منسوخ کر دیا تھا اور کھلاڑی اس وقت بیلجیئم میں موجود ہیں۔</p>
<p>کانگو کی فٹبال فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ٹیم میزبان ممالک کی صحت سے متعلق تمام پروٹوکولز پر عمل کر رہی ہے۔ اسی دوران ٹیم نے ایک اور وارم اپ میچ ڈنمارک کے خلاف بیلجیئم کے شہر لیژ میں کھیلنے کا پروگرام بھی بنایا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے بھی کہا ہے کہ کانگو کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت سے پہلے 21 دن تک آئسولیشن میں رہنا ہوگا۔ یہ عالمی ٹورنامنٹ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا اور اسے مشترکہ طور پر کینیڈا، یونائیٹڈ اسٹیٹ اور میکسیکومیں منعقد کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506071/five-decades-500-matches-pakistan-super-fan-chacha-cricket-retired'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کانگو کی ٹیم نے اس ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جو 1974 کے بعد ان کی پہلی شرکت ہوگی جب وہ اس وقت زائر کے نام سے ٹورنامنٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ٹیم اپنے میچز کے لیے امریکہ کے شہر ہوسٹن کو بیس بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جہاں وہ پہلا گروپ میچ 17 جون کو پرتگال کے خلاف کھیلے گی۔</p>
<p>اس کے بعد کانگو کی ٹیم 24 جون کو میکسیکو کے شہر گوادالاخارا میں کولمبیا کے خلاف میدان میں اترے گی، جبکہ 28 جون کو وہ دوبارہ امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ازبکستان کے خلاف اپنا آخری گروپ میچ کھیلے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506055</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:22:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/031109536981cd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/031109536981cd9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ 2026: تمام 48 ممالک کے اسکواڈز کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506052/fifa-world-cup-2026-squads-for-all-48-teams</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں فٹبال کے سب سے بڑے مقابلے فیفا ورلڈ کپ 2026  کے آغاز میں صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں. اس بار ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر اس عالمی ایونٹ کی میزبانی کریں گے.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹورنامنٹ میں شریک تمام 48 ممالک نے اپنے حتمی 26 رکنی اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فٹبال کی دنیا کے عظیم کھلاڑیوں لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ممکنہ طور پر آخری ورلڈ کپ ہوگا، جبکہ دوسری جانب اسپین کے لیمین یامال اور برازیل کے اینڈرک جیسے ابھرتے ہوئے نوجوان ستارے اپنے پہلے عالمی ایونٹ میں ان پرانے لیجنڈز کو پیچھے چھوڑنے اور اپنی شناخت بنانے کے لیے بے تاب ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031030462456209.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031030462456209.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کے اس سب سے بڑے معرکے کے لیے تمام 48 ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="الجزائر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#الجزائر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;الجزائر کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں اسامہ بن بوٹ، میلوین ماسٹل، لوکا زیدان شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں اشرف عبادہ، ریان آیت نوری، زین الدین بیلعید، رفیق بلغالی، رامی بن سبعینی، سمیر شرگی، جوان حجام، عیسیٰ مندی، محمد امین توگائی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں حسام عوار، نبیل بن طالب، ہشام بوداوی، فارس شعیبی، ابراہیم مازا، یاسین تیتراوئی، رامز زیروکی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں محمد امین عمورہ، نادیر بن بوعلی، عادل بلبینہ، فارس غدجمیس، امین گوئیری، ریاض محرز، انیس حاج موسیٰ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ارجنٹائن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ارجنٹائن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ارجنٹائن کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ایمیلیانو مارٹنیز، جیرونیمو رولی، جوآن موسو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں لیونارڈو بالیرڈی، گونزالو مونٹیل، نکولس ٹیگلیافیکو، لیسانڈرو مارٹنیز، کرسچن رومیرو، نکولس اوٹامینڈی، فاکونڈو مدینا، ناہوئل مولینا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں لینڈرو پریڈیس، روڈریگو ڈی پال، ویلنٹائن بارکو، جیوانی لو سیلسو، ایکزیکیل پالاسیوس، الیکسس میک الیسٹر، اینزو فرنانڈیز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں جولین الوارز، لیونل میسی، نکولس گونزالیز، تھیاگو الماڈا، جیولیانو سیمیونی، نکولس پاز، جوز مینوئل لوپیز، لاؤٹارو مارٹنیز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506057/how-the-48-team-format-of-fifa-world-cup-2026-works'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506057"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں پیٹرک بیچ، پال ایزو، میتھیو رائن شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں عزیز بہیچ، جارڈن باس، کیمرون برجس، الیسانڈرو سرکاٹی، میلوس ڈیجینیک، جیسن گیریا، لوکاس ہیرنگٹن، جیکب اٹالیانو، ہیری سوٹار، کائی ٹریون شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں کیمرون ڈیولن، اجدین ہروسٹک، جیکسن اروائن، کونر میٹکالف، ایڈن او نیل، پال اوکون اینگسٹلر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں نیسٹوری ایرانکنڈا، میتھیو لیکی، ایور مابیل، محمد تورے، نشن ویلوپیلے، کرسچن وولپاٹو، ٹیٹے ینگی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آسٹریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#آسٹریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آسٹریا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں پیٹرک پینٹز، الیگزینڈر شلاگر، فلورین ویگلے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ڈیوڈ افینگربر، ڈیوڈ الابا، کیون ڈانسو، مارکو فریڈل، فلپ لینہارٹ، فلپ موینے، اسٹیفن پوش، الیگزینڈر پراس، مائیکل سووبودا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں کرسٹوف باؤمگارٹنر، کارنی چکوویمیکا، فلورین گریلیٹس، کونراڈ لیمر، مارسیل سبٹزر، زیور شلاگر، رومانو شمڈ، الیسانڈرو شوف، نکولس سیوالڈ، پال وانر، پیٹرک ومر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں مارکو ارناؤٹووچ، مائیکل گریگوریٹس، ساسا کالاجڈزک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بیلجیم-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#بیلجیم-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بیلجیم کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں تھیباؤٹ کورٹوئس، سین لیمنز، مائیک پینڈرز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ٹموتھی کاسٹاگنے، زینو ڈیبیسٹ، میکسم ڈی کائپر، کونی ڈی ونٹر، برینڈن میشیل، تھامس مونیئر، ناتھن نگوئے، جوکوئن سیس، آرتھر تھیٹے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں کیون ڈی بروئن، امادو اونانا، نکولس راسکن، یوری ٹیلیمنز، ہنس واناکین، ایکسل وٹسل شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں چارلس ڈی کیٹیلیئر، جیریمی ڈوکو، ماتیاس فرنانڈیز پارڈو، رومیلو لوکاکو، ڈوڈی لوکیباکیو، ڈیئگو موریرا، الیکسس سیلیماکرز، لینڈرو ٹروسارڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بوسنیا-اور-ہرزیگووینا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#بوسنیا-اور-ہرزیگووینا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بوسنیا اور ہرزیگووینا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں نیکولا واسیلی، مارٹن زلومیسلک، عثمان ہادزیکک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں سیاد کولاسیناک، امر دیدک، نہاد مجاکک، نیکولا کاٹک، طارق مہاریمووک، ستیپن راڈیلیچ، ڈینس ہادزیکاڈونک، ندال چیلک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں امیر ہادزیاہمیٹووک، ایوان سنجک، ایوان بیسک، ڈزینس برنک، ایرمن مہامک، بنجمن طاہرووک، امر میمک، ارمین گیگووک، کیریم الائبیگووک، اسمیر باجراکٹیریوک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں ایرمیڈن دیمیرووک، جووو لوکک، صمد بازدار، حارث تاباکووک، ایڈن ڈزیکو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="برازیل-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#برازیل-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;برازیل کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ایلیسن، ایڈرسن، ویورٹن شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں الیکس سینڈرو، بریمر، ڈینیلو، ڈگلس سینٹوس، گیبریل میگالھیس، ایبانیز، لیو پریرا، مارکینیوس، ویزلے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں برونو گماریش، کاسیمیرو، ڈینیلو سینٹوس، فابینہو، لوکاس پاٹیٹا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں اینڈرک، گیبریل مارٹینیلی، ایگور تھیاگو، لوئیز ہینریک، میتھیاس کونہا، نییمار جونیئر، رافینہا، ریان، ونیسیئس جونیئر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کے فارورڈ نییمار حالیہ چوٹوں کے باوجود پانچ بار کی چیمپئن ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کینیڈا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کینیڈا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کینیڈا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ڈین سینٹ کلیئر، میکسم کریپو، اوون گڈمین شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں الیسٹر جانسٹن، ڈیرک کارنیلیس، رچی لاریہ، نیکو سیگر، جوئل واٹرمین، لک ڈی فوگیرولس، موئس بومبیٹو، الفونسو ڈیوس، الفی جونز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں اسٹیفن یوستاکیو، اسماعیل کونے، تاجون بوکانن، میتھیو شوئنیئر، علی احمد، ناتھن سالیبا، لیام ملر، جیکب شیفلبرگ، جوناٹن اوسوریو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹیکرز میں جوناٹن ڈیوڈ، کائل لارن، تانی اولواسی، پرومس ڈیوڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیپ-وردے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کیپ-وردے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیپ وردے کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں سی جے ڈوس سینٹوس، مارسیو روسا، وزینہا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں سڈنی کیبرال، ڈینی بورجیس، لوگن کوسٹا، رابرٹو پیکو لوپس، اسٹیون موریرا، ویگنر پینا، کیلوین پائرس، جوآؤ پالو فرنانڈیز، اینیک اسٹپیرا تاواریس شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ٹیلمو ارکانجو، ڈیروئے ڈوارٹے، لاروس ڈوارٹے، جیمیرو مونوٹیریو، کیون پینا، یانیک سیمڈو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں گلسن بینچیمول، جووین کیبرال، ڈیلون لیورامانٹو، ریان مینڈس، نونو دا کوسٹا، گیری روڈریگز، ولی سیمڈو، ہیلیو واریلا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کولمبیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کولمبیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کولمبیا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں کامیلو ورگاس، الوارو مونٹیرو، ڈیوڈ اوسپینا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ڈاونجینرک سانچیز، جان لوکومی، یری مینا، ولر ڈٹا، ڈینیئل منوز، سانٹیاگو اڑیاس، جوہان موجیکا، ڈیور مچاڈو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں رچرڈ ریوس، جیفرسن لیرما، کیون کاسٹانو، جوآن کامیلو پورٹیلا، گستاوو پیورٹا، جان اڑیاس، جارج کاراسکل، جوآن فرنانڈو کوئنٹو، جیمز روڈریگز، جیمنٹن کیمپاز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں جوآن کامیلو ہرنانڈیز، لوئس ڈیاز، لوئس سواریز، کارلوس گومز، جھون کورڈوبا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کروشیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کروشیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کروشیا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ڈومینک لیواکووک، ڈومینک کوٹارسکی، ایوار پانڈور شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں جوسکو گوارڈیول، دوجے کالیٹا کار، جوسیپ سوٹالو، جوسیپ اسٹانیسک، مارن پونگراچک، مارٹن ایرلک، لوکا ووسکووک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں لوکا موڈرک، میٹیو کوواسیچ، ماریو پاسالک، نیکولا ولاسک، لوکا سوکک، مارٹن بٹورینا، کرسٹجن جاکک، پیٹر سوکک، نیکولا مورو، ٹونی فروک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں ایوان پیریسک، آندرے کرامارک، اینٹے بوڈیمیر، مارکو پاسالک، پیٹر موسیٰ، ایگور مٹانووک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ متبادل کھلاڑیوں میں لوورو مائر، فرینجو ایوانووک، ڈیون ڈرینا بیلو، ایوان اسمولچک، کارلو لیٹیکا، ایڈریان سیگیسک، لوکا اسٹوجکووک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کیوراساؤ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کیوراساؤ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کیوراساؤ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ٹائرک بوڈیک، ٹریور ڈورنبوش، ایلوئے روم شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ریشڈلی بازوئیر، جوشوا برینیٹ، روشان وان ایجما، شیریل فلورانس، ڈیورون فونویل، جوریئن گاری، ارمانڈو اوبسپو، شورانڈی سامبو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں جونیہو باکونا، لینڈرو باکونا، لیوانو کومینینشیا، کیون فیلیدا، ارجانی مارٹھا، ٹائریس نوسلن، گاڈفریڈ رویمیراٹو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں جیریمی اینٹونیسے، تاہتھ چونگ، کینجی گورے، سونٹجے ہینسن، گیروین کاسٹانیر، برینڈلے کوواس، جورگن لوکاڈیا، جیریل مارگریتھا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="چیک-جمہوریہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#چیک-جمہوریہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;چیک جمہوریہ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں لوکاس ہارنیسک، میٹیج کووار، جندریچ اسٹانیک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ولادیمیر کوفال، ڈیوڈ دوڈیرا، تھامس ہولس، رابن ہراناک، اسٹیپن چلوپیک، ڈیوڈ جراسیک، لاڈیسلاو کریچی، جروسلاو زیلینی، ڈیوڈ زیما شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں لوکاس چیرو، ولادیمیر ڈاریڈا، لوکاس پرووڈ، مائیکل ساڈیلک، ہیوگو سوچوریک، الیگزینڈر سوجکا، تھامس سوکیک، پایل سلک، ڈینس ویسنسکی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں ایڈم ہلوژیک، تھامس چوری، موجمر چیتل، جان کچٹا، پیٹرک شِک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506054/the-wonder-kid-of-football-who-forced-his-coach-into-retirement'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506054"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کانگو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کانگو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کانگو کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں میتھیو ایپولو، ٹموتھی فایولو، لیونل مپاسی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ڈیلن باٹوبنسیکا، گیڈیون کالولو، اسٹیو کاپوادی، جورس کایمبے، آرتھر ماسواکو، چانسل مبیمبا، ایکسل توانزیبے، ایرون وان بساکا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں برائن سیپینگا، میشاک ایلیا، گیل کاکوٹا، ایڈو کایمبے، ناتھانیل مبوکو، سیموئل موٹوسامی، نگالیل مکاؤ، چارلس پکل، نوح سادیکی، ایرون تشیبولا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں سیڈرک باکامبو، سیمون بانزا، فسٹن مایلے، یوآن وسا، تھیو بونگونڈا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایکواڈور-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ایکواڈور-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایکواڈور کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ہرنان گالینڈیز، موئسیس رامیرز، گونزالو ویلے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں پیرو ہنکاپی، ولین پاچو، پروس ایسٹوپینان، فیلکس ٹوریس، جوئل اورڈونیز، جیکسن پوروزو، اینجلو پریسیاڈو، یامار مدینا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں موئسیس کیسیڈو، ایلن فرانکو، کینڈری پائز، گونزالو پلاٹا، پیڈرو ویٹے، جورڈی الچیور، ڈینل کاسٹیلو، جان یبواہ، نیلسن انگولو، ایلن مینڈا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں اینر ویلنسیا، کیون روڈریگز، جورڈی کیسیڈو، انتھونی ویلنسیا، جیریمی اریوالو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مصر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#مصر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مصر کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں محمد الشناوی، مصطفیٰ شوبیر، المہدی سلیمان، محمد علاء شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں محمد عبدالمنعم، محمد ہانی، یاسر ابراہیم، حسام عبدالمجید، احمد فتوح، طارق علاء، رامی رابعہ، کریم حافظ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں مروان عطیہ، احمد سید زیزو، محمود حسن تریزیگے، امام عاشور، مصطفیٰ عبدالرؤف، مہند لاشین، ہیثم حسن، محمود صابر، ابراہیم عادل، نبيل عماد، حمدی فتحی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں محمد صلاح، عمر مرموش، حمزہ عبدالکریم شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="انگلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#انگلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;انگلینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں جارج پکفورڈ، ڈین ہینڈرسن، جیمز ٹریفورڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ریس جیمز، ایزری کونسا، جیرل کوانسا، جان اسٹونز، مارک گیوہی، ڈین برن، نیکو او رائیلی، ڈیجیڈ اسپینس، ٹینو لیورامینٹو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ڈیکلان رائس، ایلیٹ اینڈرسن، کوبی مینو، جارڈن ہینڈرسن، مورگن راجرز، جوڈ بیلنگہم، ایبیریچی ایز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں ہیری کین، ایوان ٹونی، اولی واٹکنز، بوکایو ساکا، مارکس ریشفورڈ، انتھونی گورڈن، نونی مادویکی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فرانس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#فرانس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;فرانس کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں مائیک میگنن، رابن ریسر، برائس سامبا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں لوکاس ڈینی، مالو گسٹو، لوکاس ہرنانڈیز، تھیو ہرنانڈیز، ابراہما کوناٹے، میکسنس لاکروئیکس، جولز کونڈے، ولیم سالیبا، ڈایوٹ اوپامیکانو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں این گولو کانٹے، مینو کونے، ایڈریئن رابیٹ، اوریلین چوامینی، وارن زائر ایمری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں میگنس اکلیوش، بریڈلے بارکولا، ریان شرکی، عثمان ڈیمبیلے، ڈیزائر ڈو، مائیکل اولیس، کائلان ایمباپے، جین فلپ ماتیٹا، مارکس تھورم شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جرمنی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جرمنی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جرمنی کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں مینوئل نوئر، اولیور باؤمن، الیگزینڈر نوبل شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں نیکو شلوٹربیک، ڈیوڈ راؤم، ناتھانیل براؤن، جوناٹن ٹاہ، والڈیمار انتون، جوشوا کِمچ، مالِک تھیاؤ، انتونیو روڈیگر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں پاسکل گروس، لیون گوریٹزکا، فیلکس نمیچا، جمال موسیالا، ندیم امیری، جیمی لیولنگ، لینارٹ کارل، فلورین ورٹز، لیرائے سانے، الیگزینڈر پاولواک، اینجلو اسٹلر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں کائی ہاورٹز، نک وولٹیمیڈ، ڈینیز اونداو، میکسیمیلیان بیئر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="گھانا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#گھانا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;گھانا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں جوزف انانگ، بنجمن اسارے، لارنس اتی زیگی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں جونس ادجیتی، ڈیرک لوکاسن، گائیڈن مینسا، عبدالمومن، جیروم اوپوکو، کوجو اوپونگ پپرا، بابا عبدالرحمان، الیدو سیدو، مارون سینایا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں اگسٹین بواکیے، عبدالفتاح اسحاقو، الیشا اوزو، تھامس پارٹی، کواسی سیبو، کمال دین سلیمانا، کیلیب یرینکی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں پرنس کوابینا اڈو، جارڈن ایو، کرسٹوفر بونسو باہ، ارنسٹ نواماہ، انٹوائن سیمینیو، برینڈن تھامس اسانٹے، ایناکی ولیمز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہیٹی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ہیٹی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہیٹی کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں جوسو ڈوورجر، الیگزینڈر پیئر، جونی بلاسائیڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ریکارڈو ایڈے، کارلنز آرکس، ہینز ڈیلکروئیکس، جین کیون ڈوورنے، مارٹن ایکسپیرینس، ڈیوک لاکروئیکس، ولگینس پوگین، کیٹو تھرمونسی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں کارل فریڈ سینٹ، جین ریکنر بیلیگارڈ، لیورٹن پیئر، ڈینلے جین جیکس، ووڈینسکی پیئر، ڈومینک سیمون شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں جوسو کاسمیر، لوئیسیئس ڈیڈسن، ڈیرک ایٹین جونیئر، یاسین فورچون، ولسن اسیڈور، لینی جوزف، ڈکنز نازون، فرینٹزڈی پیئروٹ، روبن پروویڈنس شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ایران-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ایران کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں علیرضا بیرانوند، سید حسین حسینی، پیام نیازمند شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں دانیال ایری، احسان حاج صفی، صالح حردانی، حسین کنعانی، شجاع خلیل زادہ، میلاد محمدی، علی نعمتی، رامین رضائیان شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں روزبہ چشمی، سعید عزت اللہی، مہدی قایدی، سامان قدوس، محمد قربانی، علیرضا جہان بخش، محمد محبی، امیر محمد رزاق نیا، مہدی ترابی، آریا یوسفی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں علی علیپور، ڈینس درگاہی، امیر حسین حسین زادہ، مہدی طارمی، شہریار مغانلو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="عراق-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#عراق-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;عراق کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں فہد طالب، جلال حسن، احمد باسل شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں حسین علی، مناف یونس، زید تحسین، ریبین سولاکا، اکام ہاشم، مرچاس دوسکی، احمد یحییٰ، زید اسماعیل، فرانس پطروس، مصطفیٰ سعدون شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں امیر العماری، کیون یاکوب، زیدان اقبال، ایمار شیر، ابراہیم بایش، احمد قاسم، یوسف امین، مارکو فرجی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں علی جاسم، علی الحمادی، علی یوسف، ایمن حسین، مہند علی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آئیوری-کوسٹ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#آئیوری-کوسٹ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آئیوری کوسٹ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں یحییٰ فوفانا، محمد کونے، البان لافون شامل ہیں. ڈیفنڈرز میں ایمانوئل اگباڈو، کرسٹوفر اوپیری، عثمان ڈیمانڈے، گویلا ڈو، غزلان کونان، اوڈیلون کوسونو، ولفریڈ سنگو، ایوان ندیکا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں سیکو فوفانا، پارفائٹ گویاگون، کرسٹ اناؤ اولائی، فرانک کیسی، ابراہیم سنگارے، جین مائیکل سیری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں سیمون ادینگرا، اینج یوآن بونی، اماد ڈیالو، عمر ڈیاکیٹ، یان ڈیمانڈے، ایوان گیسانڈ، نکولس پیپے، بازومانا تورے، الی واہی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متبادل کھلاڑیوں میں کرسٹوفر اوپیری، مالِک یالکوئے، مارشل گوڈو، سیبسٹین ہالر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جاپان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جاپان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جاپان کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ٹوموکی ہایاکاوا، کیسوکے اوساکو، زیون سوزوکی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں کو ایتاکورا، ہیروکی اتو، یوٹو ناگاٹومو، ایومو سیکو، یوکینیری سوگاوارا، جونسوکے سوزوکی، شوگو تانیگوچی، ٹیکہیرو تومیاسو، تیوشی واتانابے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں رتسو ڈوان، وتارو اینڈو، جونیئر اتو، دائیچی کامادا، ٹیکفوسا کیوبو، کیٹو ناکامورا، کاپشو سانو، آؤ تاناکا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں کیسوکے گوٹو، ڈائزین مائدہ، کوکی اوگاوا، کینٹو شیوگائی، یوئیٹو سوزوکی، ایاسے اویدا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اردن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#اردن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اردن کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں یزید ابو لیلیٰ، نور بنی عطیہ، عبداللہ الفاخوری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں محمد ابو حشیش، عبداللہ نصیب، حسام ابو ذہب، یزن العرب، محمد ابو النادی، سالم عبید، سائد الروسان، احسان حداد، انس بدوی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں عامر جاموس، نور الروابدی، رجائی عاید، ابراہیم سدہ، مہند ابو طحہ، نزار الرشدان، محمد الداؤد، محمود مرداہی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں محمد ابو زریق، علی علوان، موسیٰ التعمری، اودے فاخوری، ابراہیم صبرا، علی عزائزہ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="میکسیکو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#میکسیکو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;میکسیکو کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں راؤل رینجل، گلیرمو اوچوا، کارلوس ایسیویڈو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں جارج سانچیز، اسرائیل ریس، سیسر مونٹیس، جوہان واسکیز، جیسس گالارڈو، میٹیو چاویز، ایڈسن الاریز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ایرک لیرا، اوربیلین پینیڈا، الوارو فیڈالگو، برائن گوٹیرز، لوئس رومو، اوبید ورگاس، گلبرٹو مورا، لوئس چاویز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں رابرٹو الواریڈو، سیسر ہوئیرٹا، الیکسس ویگا، جولین کوئنز، گلیرمو مارٹنیز، ارمانڈو گونزالز، سانٹیاگو گیمینیز، راؤل گیمینیز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مراکش-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#مراکش-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;مراکش کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں یاسین بونو، منیر الکجوعی، احمد رضا تگناوتی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں نصیر مزراوی، انس صلاح الدین، یوسف بیلاماری، اشرف حکیمی، زکریا الواحدی، نایف اکرد، شادی ریاض، رضوان ہلال، عیسیٰ ڈیوپ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں سمیر المرابط، ایوب بوادی، نیل العیناوی، سفیان امرابط، عزالدین اوناحی، بلال الخنوس، اسماعیل صیباری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں عبدمحمد الزلزولی، شمس الدین طالبی، سفیان رحیمی، ایوب الکعبی، براہیم ڈیاز، یاسین جسیم، ایوب عمائمونی اشغویاب شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیدرلینڈز-ہالینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#نیدرلینڈز-ہالینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نیدرلینڈز (ہالینڈ) کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں مارک فلیکن، رابن روفس، بارٹ وربروگن شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ناتھن اکے، ورجل وان ڈائک، ڈینزل ڈمفریز، جان پال وان ہیکے، جوریئن ٹمبر، جوریل ہاٹو، مکی وان ڈی وین شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ریان گریونبرچ، فرینکی ڈی جونگ، ٹیون کوپمینرز، تیجانی ریجندرز، مارٹن ڈی رون، گوس ٹل، کوئنٹن ٹمبر، میٹس ویفر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں برائن بروبی، میمفس ڈیپائے، کوڈی گاکپو، نوح لینگ، ڈونیئل مالین، کریسنسیو سمر ویل، واؤٹ ویگہورسٹ، جسٹن کلوئیورٹ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیوزی-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#نیوزی-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;نیوزی لینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں میکس کروکومبے، الیکس پالسن، مائیکل وؤڈ شامل ہیں. ڈیفنڈرز میں ٹائلر بنڈن، مائیکل بکسال، لیبراٹو کاکاچی، فرانسس ڈی وریز، کالن ایلیٹ، ٹم پین، نینڈو پجناکر، ٹومی اسمتھ، فن سورمین شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں لاچلان بیلیس، جو بیل، میٹ گاربیٹ، ایلی جسٹ، کیلم میک کوواٹ، بین اولڈ، الیکس روفر، مارکو اسٹامینک، سرپریت سنگھ، رائن تھامس شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں کوسٹا بارباروسس، جسی رینڈل، بین وین، کرس ووڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناروے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ناروے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ناروے کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں اوریان ہاسکجولڈ نیلینڈ، ایگل سیلوک، سینڈر ٹانگوک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں کرسٹوفر واسباک اجر، فریڈرک بیورکن، ہنریک فالچنر، سونڈرے لانگاس، ٹوربیورن ہیگیم، مارکس ہولمگرین پیڈرسن، جولین ریرسن، ڈیوڈ مولر وولف، لیو اوسٹیگارڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں تھیلوئنس آسگارڈ، فریڈرک اورسنیس، پیٹرک برگ، سینڈر برگی، آسکر بوب، جینس پیٹر ہاؤگے، انتونیو نوسا، اینڈریاس شجیلڈروپ، مورٹن تھورسبی، کرسٹین تھورسٹویڈ، مارٹن اوڈیگارڈ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں ارلنگ ہالینڈ، الیگزینڈر سورلوتھ، جورگن اسٹرینڈ لارسن شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پاناما-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#پاناما-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پاناما کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں اورلینڈو موسکیرا، لوئس میجیا، سیسر ساموڈیو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں سیسر بلیک مین، جارج گوٹیرز، امیر موریلو، فیدل اسکوبار، اینڈریس اینڈراڈے، ایڈگارڈو فارینا، جوز کورڈوبا، ایرک ڈیوڈ، جیوانی راموس، روڈرک ملر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں انیبل گودوئے، اڈالبرٹو کاراسکیلا، کارلوس ہاروے، کرسچن مارٹنیز، جوز لوئس روڈریگز، سیسر یانیس، یوئل بارسیناس، البرٹو کوئنٹو، ازاریاس لنڈونو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں اسماعیل ڈیاز، سیسیلیو واٹرمین، جوز فاجارڈو، تھامس روڈریگز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پیراگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#پیراگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پیراگوئے کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں اورلینڈو گل، رابرٹو فرنانڈیز، گسٹن اولویرا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں جوآن کیسیریس، گسٹاوو ویلازکوز، گسٹاوو گومز، جونیئر الونسو، جوز کینالے، عمر الڈیرٹے، الیگزینڈر مائیڈانا، فیبین بالبوینا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ڈیئگو گومز، ماریشیو میگالھیس، ڈیمین بوباڈیلا، برائن اوجیڈا، اینڈریس کیوباس، ماتیاس گالارزا، الیگزینڈر گیمارا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں گسٹاوو کابالیرو، ریمن سوسا، الیکس ارسے، اسیڈرو پِٹا، گیبریل ایوالوس، میگل المیرون، جولیو اینسیسو، انتونیو سنابریا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پرتگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#پرتگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;پرتگال کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ڈیئگو کوسٹا، جوز سا، روئی سلوا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں تھامس اڑاؤجو، جوآؤ کینسلو، ڈیئگو ڈلوٹ، روبن ڈیاز، گونزالو اناسیو، نونو مینڈس، میتھیوس نونس، نیلسن سیمیڈو، ریناٹو ویگا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں سیموئل کوسٹا، برونو فرنانڈیز، جوآؤ نیوس، روبن نیوس، برنارڈو سلوا، وٹینیا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں فرانسسکو کونسیساؤ، جوآؤ فیلکس، گونزالو گیدیس، رافیل لیاؤ، پیڈرو نیٹو، گونزالو راموس، کرسچن رونالڈو، فرانسسکو ٹرنکاؤ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قطر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#قطر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قطر کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں صلاح زکریا، مشعل برشم، محمود ابو ندیٰ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں بوعلام خوخی، پیڈرو میگل، سلطان البریک، الہاشمی الحسین، ایوب العلوئی، عیسیٰ لاۓ، لوکاس مینڈس، ہمام الامین شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں احمد فتحی، جاسم جابر، عاصم مادبو، عبدالعزیز حاتم، کریم بوضیاف، محمد مناعی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں المعز علی، اکرم عفیف، تحسین محمد، ایڈمیلسن جونیئر، احمد الجناحی، احمد علاء، حسن الہیدوس، محمد مونٹاری، یوسف عبدالرزاق شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سعودی-عرب-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سعودی-عرب-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں نواف العقیدی، محمد العویس، احمد الکصار شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں سعود عبدالحمید، جہاد ٹھکری، عبداللہ العمری، حسن تمبکتی، علی لاجامی، حسن کادش، متعب الحربي، نواف بوشل، علی مجرشی، محمد ابو الشمات شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں زیاد الجوہنی، ناصر الدوسری، محمد کنو، عبداللہ الخیبری، علاء الحجی، مصعب الجویر، سلطان منداش، ایمن یحییٰ، خالد الغنام شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں سالم الدوسری، عبداللہ الحمدان، فراس البریکان، صالح الشہری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اسکاٹ-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#اسکاٹ-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسکاٹ لینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں کریگ گورڈن، اینگس گن، لیام کیلی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں گرانٹ ہینلی، جیک ہینڈری، ہارون ہکی، ڈوم ہیام، اسکاٹ میک کینا، ناتھن پیٹرسن، انتھونی رالسٹن، اینڈریو رابرٹسن، جان سوٹار، کیران ٹیرنی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ریان کرسٹی، فائنڈلے کرٹس، لیوس فرگوسن، ٹائلر فلیچر، بین گینن ڈوک، جان میک گن، کینی میک لین، اسکاٹ میک ٹومینے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں چے ایڈمز، لنڈن ڈائیکس، جارج ہرسٹ، لارنس شینکلینڈ، روس اسٹیوارٹ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سینیگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سینیگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سینیگال کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ایڈورڈ مینڈے، موری دیاؤ، یہوان دیوف شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں کریپین دیاٹا، انٹوائن مینڈے، کالیدو کولیبالی، الحاج مائک دیوف، مامادو سار، موسیٰ نیاکھاتے، عبداللہ سیک، اسماعیل جیکبز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ادریسا گانا گوئی، پاپ گوئی، لیمین کامارا، حبیب دیارا، پاتھے سس، پاپ ماتیار سار، بارا ساپوکو ندیاۓ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں سادیو مانے، اسماعیلہ سار، الیمان ندیاۓ، اسانے دیاؤ، ابراہم مبائے، نیکولس جیکسن، بامبا دینگ، شریف ندیاۓ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنوبی-افریقہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جنوبی-افریقہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں رونویں ولیمز، ریکارڈو گوس، سپہو چائین شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں اوبری موڈیبا، کھلیسو مداؤ، کھلومانی ندامانے، کاموگیلو سیبیلیبیلے، نکوسیناتھی سیبیسی، بریڈلے کراس، سیموکیلے کابینی، اولویتھو مکھانیا، تھابنگ ماتولوڈی، مبیکزیلی مبوکازی، ایمے اوکون شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں اوسون اپولس، تھالینٹے مباتھا، ریلیبوہیل موفوکینگ، جےڈن ایڈمز، ٹیبوہو موکوینا، تھیمبا زوانے، سپھیپھیلو سیتھولے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں ایویڈنس ماکگوپا، تشیپانگ موریمی، لائل فوسٹر، تھاپيلو ماسیکو، اقرام رینرز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنوبی-کوریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جنوبی-کوریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں سونگ بومکون، جو ہیون وو، کم سیونگ جیو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں جینس کاسٹروپ، لی ہانبیوم، پارک جینسوب، لی کیہیوک، کم من جے، کم مونہوان، کم تایہون، لی تائیسوک، سیول ینگ وو، چو وجے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں لی ڈونگ گیونگ، ہوانگ ہی چان، یانگ ہیونجون، ہوانگ انبیوم، لی جے سنگ، کم جنگیو، اوم جِسنگ، بے جونہو، لی کانگ ان، پائیک سیونگ ہو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں چو گوئیسنگ، سون ہیونگ من، اوہ ہیونگیو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اسپین-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#اسپین-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اسپین کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں انائی سیمون، ڈیوڈ رایا، جوآن گارسیا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں مارک کوکوریلا، پاؤ کیوبارسی، ایمرک لاپورٹے، الیگزینڈر گریمالڈو، پیڈرو پورو، ایرک گارسیا، مارکوس لورینٹے، مارک پوبل شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں گاوی، روڈری، پیڈری، مارٹن زوبیمینڈی، فیبین روئیز، الیکس بائینا، مائیکل میرینو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں لیمین یامال، نیکو ولیمز، ڈانی اولمو، فیران ٹوریس، مائیکل اویارزابال، یریمی پینو، بورجا اگلیسیاس، وکٹر منوز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سویڈن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سویڈن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سویڈن کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں وکٹر جوہانسن، گسٹاف لیگر بئلکے، کرسٹوفر نورڈفیلڈ، جیکب زیٹرسٹروم شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں ہجالمر ایکڈل، گیبریل گڈمنڈسن، اساک ہین، وکٹر لنڈلوف، ایرک اسمتھ، کارل اسٹارفیلٹ، ڈینیئل سوینسن شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں یاسین عیاری، لوکاس برگوال، جيسپر کارلسٹروم، بنجمن نیگرین، کین سیما، ایلیٹ اسٹراؤڈ، میتھیاس سوانبرگ، بیسفورٹ زینیلی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں طحہٰ علی، الیگزینڈر برن ہارڈسن، انتھونی ایلینگا، وکٹر جیوکیرس، الیگزینڈر اساک، گسٹاف نیلسن شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سوئٹزرلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سوئٹزرلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سوئٹزرلینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں ماروین کیلر، گریگور کوبل، یوون مِووگو شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں مینوئل اکانجی، اوریل امینڈا، ایرے کومرٹ، نیکو الویڈی، لوکا جاکیز، میرو موہایم، ریکارڈو روڈریگز، سلوان وڈمر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں مشیل ایبیشر، کرسچن فاسناٹ، ریمو فرولر، ارڈن جشاری، فیبین ریڈر، ڈیجبرل سو، سیڈرک اٹن، گرینٹ زہاکا، ڈینس زکریا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں روبن ورگاس، زیکی امدونی، بریل ایمبولو، ڈین نڈوئے، نوح اوکافور، جوہان منزامبی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تیونس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#تیونس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تیونس کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں صبری بن حسن، عبدالمہیب شمام، ایمن دحمان شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں علی عبدی، آدم عروس، محمد امین بن حمیدہ، ڈیلن برون، رائد چکھاوی، معتز نفاٹی، عمر رکیک، منتصر طالبی، یان ویلری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں مرتضیٰ بن وانس، انیس بن سلیمان، اسماعیل غربی، رانی خضیرہ، محمد حاج محمود، ہنی بال مجبری، الیاس صخیری شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں الیاس اچوری، خلیل عیاری، فراس شواط، ریان الیومی، حازم مستوری، الیاس سعد، سیبسٹین تونکتی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ترکیہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ترکیہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں الطائے بایندیر، میرٹ گونوک، یوگرکان چاکر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں عبدالکریم بردکچی، چاغلر سوینجو، ایرن المالی، فردی کادیوگلو، مریح ڈیمیرل، میرٹ مولدور، اوزان کباک، سامت اکایدین، زیکی چیلک شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ہاکان چالان اوغلو، اسماعیل یوکسیک، کان ایہان، اورکون کوکچو، صالح اوزکان شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں اردا گولر، باریش الپر یلماز، کان ازون، ڈینیز گل، عرفان کان کہوچی، کینان یلدز، کیرم اکترک اوغلو، اوغوز ایدین، یونس اکگون شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یوروگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#یوروگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;یوروگوئے کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں سرجیو روچیٹ، فرنینڈو موسلیرا، سانٹیاگو میلے شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں گلیرمو واریلا، رونالڈ اڑاؤجو، جوز ماریا گیمینیز، سانٹیاگو بوینو، سبسٹین کیسیریس، ماتیاس اولیویرا، جوکوئن پیکریز، ماتیاس وینیا شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں میکسیمیلیانو اڑاؤجو، جیورجین ڈی اراسکائٹا، روڈریگو بینٹانکور، اگسٹین کینوبیو، نکولس ڈی لا کروز، ایمیلیانو مارٹنیز، فاکونڈو پیلسٹری، برائن روڈریگز، جوآن مینوئل سانابریا، مینوئل اوگارٹے، فیڈریکو ویلورڈے، روڈریگو زالازار شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں روڈریگو اگویری، فیڈریکو ویناس، ڈارون نونیز شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#امریکا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;امریکا کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں کرس بریڈی، میٹ فریس، میٹ ٹرنر شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں میکس آرفسٹن، سرجینو ڈیسٹ، الیکس فری مین، مارک میک کینزی، ٹم ریام، کرس رچرڈز، اینٹونی روڈنسن، مائلز روڈنسن، جو اسکالی، آسٹن ٹرسٹی شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں ٹائلر ایڈمز، سبسٹین برہالٹر، ویسٹن میک کینی، کرسچن رولڈان، برینڈن آرنسن، کرسچن پلسک، جیو رینا، ملک ٹلمین، ٹم ویاہ، الیگزینڈر زندیجاس شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں فولارین بالوگن، ریکارڈو پیپی، حاجی رائٹ شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ازبکستان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ازبکستان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ازبکستان کا ورلڈ کپ اسکواڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گول کیپرز میں بوترالی ایرگاشیف، عبدووحید نیماتوف، اتکر یوسوپوف شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیفنڈرز میں عبدوقادر خوسانوف، کھوجیاکبر الیجوانوف، رستم جون اشورماتوف، فرخ سیفیف، شیرزود نصراللہ ایف، عمر بیک ایشمورادوف، اوازبیک علماءالیف، جاہونگیر اروزوف، بیکھروز کریموف، عبداللہ عبداللہ ایف شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مڈفیلڈرز میں اکمل موزگووائے، اوتابیک شوکوروف، جمشید اسکندروف، عادل جون ہامروبیکوف، جلال الدین مشاریپوف، عزیز بیک گانیف، شیرزود عیسانوف، عباس بیک فایزولائیف شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارورڈز میں عزیز بیک امونوف، ایلڈور شومورودوف، ایگور سرگیف، اوسٹن ارونوف، دسٹونبیک ہمداموف شامل ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال ورلڈ کپ کی تمام تر گہما گہمی اور لائیو کوریج کو دیکھنے کے لیے شائقین ’آج ڈیجیٹل‘ کے &lt;a href="https://www.aaj.tv/trends/fifa-worldcup-2026"&gt;ورلڈ کپ 2026 کے خصوصی پیج &lt;/a&gt;کو فالو کر سکتے ہیں، جہاں میچز کی تازہ ترین خبریں، گروپ پوائنٹس ٹیبل اور میچز کے شیڈول کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں فٹبال کے سب سے بڑے مقابلے فیفا ورلڈ کپ 2026  کے آغاز میں صرف نو دن باقی رہ گئے ہیں. اس بار ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر اس عالمی ایونٹ کی میزبانی کریں گے.</strong></p>
<p>ٹورنامنٹ میں شریک تمام 48 ممالک نے اپنے حتمی 26 رکنی اسکواڈز کا اعلان کر دیا ہے۔</p>
<p>یہ فٹبال کی دنیا کے عظیم کھلاڑیوں لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ممکنہ طور پر آخری ورلڈ کپ ہوگا، جبکہ دوسری جانب اسپین کے لیمین یامال اور برازیل کے اینڈرک جیسے ابھرتے ہوئے نوجوان ستارے اپنے پہلے عالمی ایونٹ میں ان پرانے لیجنڈز کو پیچھے چھوڑنے اور اپنی شناخت بنانے کے لیے بے تاب ہیں.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031030462456209.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/031030462456209.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>فٹبال کے اس سب سے بڑے معرکے کے لیے تمام 48 ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:</p>
<h3><a id="الجزائر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#الجزائر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>الجزائر کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں اسامہ بن بوٹ، میلوین ماسٹل، لوکا زیدان شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں اشرف عبادہ، ریان آیت نوری، زین الدین بیلعید، رفیق بلغالی، رامی بن سبعینی، سمیر شرگی، جوان حجام، عیسیٰ مندی، محمد امین توگائی شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں حسام عوار، نبیل بن طالب، ہشام بوداوی، فارس شعیبی، ابراہیم مازا، یاسین تیتراوئی، رامز زیروکی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں محمد امین عمورہ، نادیر بن بوعلی، عادل بلبینہ، فارس غدجمیس، امین گوئیری، ریاض محرز، انیس حاج موسیٰ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ارجنٹائن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ارجنٹائن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ارجنٹائن کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ایمیلیانو مارٹنیز، جیرونیمو رولی، جوآن موسو شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں لیونارڈو بالیرڈی، گونزالو مونٹیل، نکولس ٹیگلیافیکو، لیسانڈرو مارٹنیز، کرسچن رومیرو، نکولس اوٹامینڈی، فاکونڈو مدینا، ناہوئل مولینا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں لینڈرو پریڈیس، روڈریگو ڈی پال، ویلنٹائن بارکو، جیوانی لو سیلسو، ایکزیکیل پالاسیوس، الیکسس میک الیسٹر، اینزو فرنانڈیز شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں جولین الوارز، لیونل میسی، نکولس گونزالیز، تھیاگو الماڈا، جیولیانو سیمیونی، نکولس پاز، جوز مینوئل لوپیز، لاؤٹارو مارٹنیز شامل ہیں.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506057/how-the-48-team-format-of-fifa-world-cup-2026-works'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506057"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>آسٹریلیا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></p>
<p>گول کیپرز میں پیٹرک بیچ، پال ایزو، میتھیو رائن شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں عزیز بہیچ، جارڈن باس، کیمرون برجس، الیسانڈرو سرکاٹی، میلوس ڈیجینیک، جیسن گیریا، لوکاس ہیرنگٹن، جیکب اٹالیانو، ہیری سوٹار، کائی ٹریون شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں کیمرون ڈیولن، اجدین ہروسٹک، جیکسن اروائن، کونر میٹکالف، ایڈن او نیل، پال اوکون اینگسٹلر شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں نیسٹوری ایرانکنڈا، میتھیو لیکی، ایور مابیل، محمد تورے، نشن ویلوپیلے، کرسچن وولپاٹو، ٹیٹے ینگی شامل ہیں.</p>
<h3><a id="آسٹریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#آسٹریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آسٹریا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں پیٹرک پینٹز، الیگزینڈر شلاگر، فلورین ویگلے شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ڈیوڈ افینگربر، ڈیوڈ الابا، کیون ڈانسو، مارکو فریڈل، فلپ لینہارٹ، فلپ موینے، اسٹیفن پوش، الیگزینڈر پراس، مائیکل سووبودا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں کرسٹوف باؤمگارٹنر، کارنی چکوویمیکا، فلورین گریلیٹس، کونراڈ لیمر، مارسیل سبٹزر، زیور شلاگر، رومانو شمڈ، الیسانڈرو شوف، نکولس سیوالڈ، پال وانر، پیٹرک ومر شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں مارکو ارناؤٹووچ، مائیکل گریگوریٹس، ساسا کالاجڈزک شامل ہیں.</p>
<h3><a id="بیلجیم-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#بیلجیم-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بیلجیم کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں تھیباؤٹ کورٹوئس، سین لیمنز، مائیک پینڈرز شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ٹموتھی کاسٹاگنے، زینو ڈیبیسٹ، میکسم ڈی کائپر، کونی ڈی ونٹر، برینڈن میشیل، تھامس مونیئر، ناتھن نگوئے، جوکوئن سیس، آرتھر تھیٹے شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں کیون ڈی بروئن، امادو اونانا، نکولس راسکن، یوری ٹیلیمنز، ہنس واناکین، ایکسل وٹسل شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں چارلس ڈی کیٹیلیئر، جیریمی ڈوکو، ماتیاس فرنانڈیز پارڈو، رومیلو لوکاکو، ڈوڈی لوکیباکیو، ڈیئگو موریرا، الیکسس سیلیماکرز، لینڈرو ٹروسارڈ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="بوسنیا-اور-ہرزیگووینا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#بوسنیا-اور-ہرزیگووینا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بوسنیا اور ہرزیگووینا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں نیکولا واسیلی، مارٹن زلومیسلک، عثمان ہادزیکک شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں سیاد کولاسیناک، امر دیدک، نہاد مجاکک، نیکولا کاٹک، طارق مہاریمووک، ستیپن راڈیلیچ، ڈینس ہادزیکاڈونک، ندال چیلک شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں امیر ہادزیاہمیٹووک، ایوان سنجک، ایوان بیسک، ڈزینس برنک، ایرمن مہامک، بنجمن طاہرووک، امر میمک، ارمین گیگووک، کیریم الائبیگووک، اسمیر باجراکٹیریوک شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں ایرمیڈن دیمیرووک، جووو لوکک، صمد بازدار، حارث تاباکووک، ایڈن ڈزیکو شامل ہیں.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506048/fifa-fifa-worldcup-2026-young-footballers-rising-stars-kenan-yildiz-turkey-football-team-football-prospects-world-cup-players-world-cup-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h3><a id="برازیل-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#برازیل-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>برازیل کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ایلیسن، ایڈرسن، ویورٹن شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں الیکس سینڈرو، بریمر، ڈینیلو، ڈگلس سینٹوس، گیبریل میگالھیس، ایبانیز، لیو پریرا، مارکینیوس، ویزلے شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں برونو گماریش، کاسیمیرو، ڈینیلو سینٹوس، فابینہو، لوکاس پاٹیٹا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں اینڈرک، گیبریل مارٹینیلی، ایگور تھیاگو، لوئیز ہینریک، میتھیاس کونہا، نییمار جونیئر، رافینہا، ریان، ونیسیئس جونیئر شامل ہیں.</p>
<p>برازیل کے فارورڈ نییمار حالیہ چوٹوں کے باوجود پانچ بار کی چیمپئن ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں.</p>
<h3><a id="کینیڈا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کینیڈا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کینیڈا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ڈین سینٹ کلیئر، میکسم کریپو، اوون گڈمین شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں الیسٹر جانسٹن، ڈیرک کارنیلیس، رچی لاریہ، نیکو سیگر، جوئل واٹرمین، لک ڈی فوگیرولس، موئس بومبیٹو، الفونسو ڈیوس، الفی جونز شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں اسٹیفن یوستاکیو، اسماعیل کونے، تاجون بوکانن، میتھیو شوئنیئر، علی احمد، ناتھن سالیبا، لیام ملر، جیکب شیفلبرگ، جوناٹن اوسوریو شامل ہیں.</p>
<p>اٹیکرز میں جوناٹن ڈیوڈ، کائل لارن، تانی اولواسی، پرومس ڈیوڈ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="کیپ-وردے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کیپ-وردے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیپ وردے کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں سی جے ڈوس سینٹوس، مارسیو روسا، وزینہا شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں سڈنی کیبرال، ڈینی بورجیس، لوگن کوسٹا، رابرٹو پیکو لوپس، اسٹیون موریرا، ویگنر پینا، کیلوین پائرس، جوآؤ پالو فرنانڈیز، اینیک اسٹپیرا تاواریس شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ٹیلمو ارکانجو، ڈیروئے ڈوارٹے، لاروس ڈوارٹے، جیمیرو مونوٹیریو، کیون پینا، یانیک سیمڈو شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں گلسن بینچیمول، جووین کیبرال، ڈیلون لیورامانٹو، ریان مینڈس، نونو دا کوسٹا، گیری روڈریگز، ولی سیمڈو، ہیلیو واریلا شامل ہیں.</p>
<h3><a id="کولمبیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کولمبیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کولمبیا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں کامیلو ورگاس، الوارو مونٹیرو، ڈیوڈ اوسپینا شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ڈاونجینرک سانچیز، جان لوکومی، یری مینا، ولر ڈٹا، ڈینیئل منوز، سانٹیاگو اڑیاس، جوہان موجیکا، ڈیور مچاڈو شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں رچرڈ ریوس، جیفرسن لیرما، کیون کاسٹانو، جوآن کامیلو پورٹیلا، گستاوو پیورٹا، جان اڑیاس، جارج کاراسکل، جوآن فرنانڈو کوئنٹو، جیمز روڈریگز، جیمنٹن کیمپاز شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں جوآن کامیلو ہرنانڈیز، لوئس ڈیاز، لوئس سواریز، کارلوس گومز، جھون کورڈوبا شامل ہیں.</p>
<h3><a id="کروشیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کروشیا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کروشیا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ڈومینک لیواکووک، ڈومینک کوٹارسکی، ایوار پانڈور شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں جوسکو گوارڈیول، دوجے کالیٹا کار، جوسیپ سوٹالو، جوسیپ اسٹانیسک، مارن پونگراچک، مارٹن ایرلک، لوکا ووسکووک شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں لوکا موڈرک، میٹیو کوواسیچ، ماریو پاسالک، نیکولا ولاسک، لوکا سوکک، مارٹن بٹورینا، کرسٹجن جاکک، پیٹر سوکک، نیکولا مورو، ٹونی فروک شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں ایوان پیریسک، آندرے کرامارک، اینٹے بوڈیمیر، مارکو پاسالک، پیٹر موسیٰ، ایگور مٹانووک شامل ہیں.</p>
<p>جبکہ متبادل کھلاڑیوں میں لوورو مائر، فرینجو ایوانووک، ڈیون ڈرینا بیلو، ایوان اسمولچک، کارلو لیٹیکا، ایڈریان سیگیسک، لوکا اسٹوجکووک شامل ہیں.</p>
<h3><a id="کیوراساؤ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کیوراساؤ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کیوراساؤ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ٹائرک بوڈیک، ٹریور ڈورنبوش، ایلوئے روم شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ریشڈلی بازوئیر، جوشوا برینیٹ، روشان وان ایجما، شیریل فلورانس، ڈیورون فونویل، جوریئن گاری، ارمانڈو اوبسپو، شورانڈی سامبو شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں جونیہو باکونا، لینڈرو باکونا، لیوانو کومینینشیا، کیون فیلیدا، ارجانی مارٹھا، ٹائریس نوسلن، گاڈفریڈ رویمیراٹو شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں جیریمی اینٹونیسے، تاہتھ چونگ، کینجی گورے، سونٹجے ہینسن، گیروین کاسٹانیر، برینڈلے کوواس، جورگن لوکاڈیا، جیریل مارگریتھا شامل ہیں.</p>
<h3><a id="چیک-جمہوریہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#چیک-جمہوریہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>چیک جمہوریہ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں لوکاس ہارنیسک، میٹیج کووار، جندریچ اسٹانیک شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ولادیمیر کوفال، ڈیوڈ دوڈیرا، تھامس ہولس، رابن ہراناک، اسٹیپن چلوپیک، ڈیوڈ جراسیک، لاڈیسلاو کریچی، جروسلاو زیلینی، ڈیوڈ زیما شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں لوکاس چیرو، ولادیمیر ڈاریڈا، لوکاس پرووڈ، مائیکل ساڈیلک، ہیوگو سوچوریک، الیگزینڈر سوجکا، تھامس سوکیک، پایل سلک، ڈینس ویسنسکی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں ایڈم ہلوژیک، تھامس چوری، موجمر چیتل، جان کچٹا، پیٹرک شِک شامل ہیں.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506054/the-wonder-kid-of-football-who-forced-his-coach-into-retirement'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506054"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<h3><a id="کانگو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#کانگو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کانگو کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں میتھیو ایپولو، ٹموتھی فایولو، لیونل مپاسی شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ڈیلن باٹوبنسیکا، گیڈیون کالولو، اسٹیو کاپوادی، جورس کایمبے، آرتھر ماسواکو، چانسل مبیمبا، ایکسل توانزیبے، ایرون وان بساکا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں برائن سیپینگا، میشاک ایلیا، گیل کاکوٹا، ایڈو کایمبے، ناتھانیل مبوکو، سیموئل موٹوسامی، نگالیل مکاؤ، چارلس پکل، نوح سادیکی، ایرون تشیبولا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں سیڈرک باکامبو، سیمون بانزا، فسٹن مایلے، یوآن وسا، تھیو بونگونڈا شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ایکواڈور-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ایکواڈور-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایکواڈور کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ہرنان گالینڈیز، موئسیس رامیرز، گونزالو ویلے شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں پیرو ہنکاپی، ولین پاچو، پروس ایسٹوپینان، فیلکس ٹوریس، جوئل اورڈونیز، جیکسن پوروزو، اینجلو پریسیاڈو، یامار مدینا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں موئسیس کیسیڈو، ایلن فرانکو، کینڈری پائز، گونزالو پلاٹا، پیڈرو ویٹے، جورڈی الچیور، ڈینل کاسٹیلو، جان یبواہ، نیلسن انگولو، ایلن مینڈا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں اینر ویلنسیا، کیون روڈریگز، جورڈی کیسیڈو، انتھونی ویلنسیا، جیریمی اریوالو شامل ہیں.</p>
<h3><a id="مصر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#مصر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مصر کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں محمد الشناوی، مصطفیٰ شوبیر، المہدی سلیمان، محمد علاء شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں محمد عبدالمنعم، محمد ہانی، یاسر ابراہیم، حسام عبدالمجید، احمد فتوح، طارق علاء، رامی رابعہ، کریم حافظ شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں مروان عطیہ، احمد سید زیزو، محمود حسن تریزیگے، امام عاشور، مصطفیٰ عبدالرؤف، مہند لاشین، ہیثم حسن، محمود صابر، ابراہیم عادل، نبيل عماد، حمدی فتحی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں محمد صلاح، عمر مرموش، حمزہ عبدالکریم شامل ہیں.</p>
<h3><a id="انگلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#انگلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>انگلینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں جارج پکفورڈ، ڈین ہینڈرسن، جیمز ٹریفورڈ شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ریس جیمز، ایزری کونسا، جیرل کوانسا، جان اسٹونز، مارک گیوہی، ڈین برن، نیکو او رائیلی، ڈیجیڈ اسپینس، ٹینو لیورامینٹو شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ڈیکلان رائس، ایلیٹ اینڈرسن، کوبی مینو، جارڈن ہینڈرسن، مورگن راجرز، جوڈ بیلنگہم، ایبیریچی ایز شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں ہیری کین، ایوان ٹونی، اولی واٹکنز، بوکایو ساکا، مارکس ریشفورڈ، انتھونی گورڈن، نونی مادویکی شامل ہیں.</p>
<h3><a id="فرانس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#فرانس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>فرانس کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں مائیک میگنن، رابن ریسر، برائس سامبا شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں لوکاس ڈینی، مالو گسٹو، لوکاس ہرنانڈیز، تھیو ہرنانڈیز، ابراہما کوناٹے، میکسنس لاکروئیکس، جولز کونڈے، ولیم سالیبا، ڈایوٹ اوپامیکانو شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں این گولو کانٹے، مینو کونے، ایڈریئن رابیٹ، اوریلین چوامینی، وارن زائر ایمری شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں میگنس اکلیوش، بریڈلے بارکولا، ریان شرکی، عثمان ڈیمبیلے، ڈیزائر ڈو، مائیکل اولیس، کائلان ایمباپے، جین فلپ ماتیٹا، مارکس تھورم شامل ہیں.</p>
<h3><a id="جرمنی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جرمنی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جرمنی کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں مینوئل نوئر، اولیور باؤمن، الیگزینڈر نوبل شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں نیکو شلوٹربیک، ڈیوڈ راؤم، ناتھانیل براؤن، جوناٹن ٹاہ، والڈیمار انتون، جوشوا کِمچ، مالِک تھیاؤ، انتونیو روڈیگر شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں پاسکل گروس، لیون گوریٹزکا، فیلکس نمیچا، جمال موسیالا، ندیم امیری، جیمی لیولنگ، لینارٹ کارل، فلورین ورٹز، لیرائے سانے، الیگزینڈر پاولواک، اینجلو اسٹلر شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں کائی ہاورٹز، نک وولٹیمیڈ، ڈینیز اونداو، میکسیمیلیان بیئر شامل ہیں.</p>
<h3><a id="گھانا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#گھانا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>گھانا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں جوزف انانگ، بنجمن اسارے، لارنس اتی زیگی شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں جونس ادجیتی، ڈیرک لوکاسن، گائیڈن مینسا، عبدالمومن، جیروم اوپوکو، کوجو اوپونگ پپرا، بابا عبدالرحمان، الیدو سیدو، مارون سینایا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں اگسٹین بواکیے، عبدالفتاح اسحاقو، الیشا اوزو، تھامس پارٹی، کواسی سیبو، کمال دین سلیمانا، کیلیب یرینکی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں پرنس کوابینا اڈو، جارڈن ایو، کرسٹوفر بونسو باہ، ارنسٹ نواماہ، انٹوائن سیمینیو، برینڈن تھامس اسانٹے، ایناکی ولیمز شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ہیٹی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ہیٹی-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہیٹی کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں جوسو ڈوورجر، الیگزینڈر پیئر، جونی بلاسائیڈ شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ریکارڈو ایڈے، کارلنز آرکس، ہینز ڈیلکروئیکس، جین کیون ڈوورنے، مارٹن ایکسپیرینس، ڈیوک لاکروئیکس، ولگینس پوگین، کیٹو تھرمونسی شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں کارل فریڈ سینٹ، جین ریکنر بیلیگارڈ، لیورٹن پیئر، ڈینلے جین جیکس، ووڈینسکی پیئر، ڈومینک سیمون شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں جوسو کاسمیر، لوئیسیئس ڈیڈسن، ڈیرک ایٹین جونیئر، یاسین فورچون، ولسن اسیڈور، لینی جوزف، ڈکنز نازون، فرینٹزڈی پیئروٹ، روبن پروویڈنس شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ایران-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ایران-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ایران کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں علیرضا بیرانوند، سید حسین حسینی، پیام نیازمند شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں دانیال ایری، احسان حاج صفی، صالح حردانی، حسین کنعانی، شجاع خلیل زادہ، میلاد محمدی، علی نعمتی، رامین رضائیان شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں روزبہ چشمی، سعید عزت اللہی، مہدی قایدی، سامان قدوس، محمد قربانی، علیرضا جہان بخش، محمد محبی، امیر محمد رزاق نیا، مہدی ترابی، آریا یوسفی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں علی علیپور، ڈینس درگاہی، امیر حسین حسین زادہ، مہدی طارمی، شہریار مغانلو شامل ہیں.</p>
<h1><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h1>
<h3><a id="عراق-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#عراق-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>عراق کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں فہد طالب، جلال حسن، احمد باسل شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں حسین علی، مناف یونس، زید تحسین، ریبین سولاکا، اکام ہاشم، مرچاس دوسکی، احمد یحییٰ، زید اسماعیل، فرانس پطروس، مصطفیٰ سعدون شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں امیر العماری، کیون یاکوب، زیدان اقبال، ایمار شیر، ابراہیم بایش، احمد قاسم، یوسف امین، مارکو فرجی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں علی جاسم، علی الحمادی، علی یوسف، ایمن حسین، مہند علی شامل ہیں.</p>
<h3><a id="آئیوری-کوسٹ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#آئیوری-کوسٹ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آئیوری کوسٹ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں یحییٰ فوفانا، محمد کونے، البان لافون شامل ہیں. ڈیفنڈرز میں ایمانوئل اگباڈو، کرسٹوفر اوپیری، عثمان ڈیمانڈے، گویلا ڈو، غزلان کونان، اوڈیلون کوسونو، ولفریڈ سنگو، ایوان ندیکا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں سیکو فوفانا، پارفائٹ گویاگون، کرسٹ اناؤ اولائی، فرانک کیسی، ابراہیم سنگارے، جین مائیکل سیری شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں سیمون ادینگرا، اینج یوآن بونی، اماد ڈیالو، عمر ڈیاکیٹ، یان ڈیمانڈے، ایوان گیسانڈ، نکولس پیپے، بازومانا تورے، الی واہی شامل ہیں.</p>
<p>متبادل کھلاڑیوں میں کرسٹوفر اوپیری، مالِک یالکوئے، مارشل گوڈو، سیبسٹین ہالر شامل ہیں.</p>
<h3><a id="جاپان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جاپان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جاپان کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ٹوموکی ہایاکاوا، کیسوکے اوساکو، زیون سوزوکی شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں کو ایتاکورا، ہیروکی اتو، یوٹو ناگاٹومو، ایومو سیکو، یوکینیری سوگاوارا، جونسوکے سوزوکی، شوگو تانیگوچی، ٹیکہیرو تومیاسو، تیوشی واتانابے شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں رتسو ڈوان، وتارو اینڈو، جونیئر اتو، دائیچی کامادا، ٹیکفوسا کیوبو، کیٹو ناکامورا، کاپشو سانو، آؤ تاناکا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں کیسوکے گوٹو، ڈائزین مائدہ، کوکی اوگاوا، کینٹو شیوگائی، یوئیٹو سوزوکی، ایاسے اویدا شامل ہیں.</p>
<h3><a id="اردن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#اردن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اردن کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں یزید ابو لیلیٰ، نور بنی عطیہ، عبداللہ الفاخوری شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں محمد ابو حشیش، عبداللہ نصیب، حسام ابو ذہب، یزن العرب، محمد ابو النادی، سالم عبید، سائد الروسان، احسان حداد، انس بدوی شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں عامر جاموس، نور الروابدی، رجائی عاید، ابراہیم سدہ، مہند ابو طحہ، نزار الرشدان، محمد الداؤد، محمود مرداہی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں محمد ابو زریق، علی علوان، موسیٰ التعمری، اودے فاخوری، ابراہیم صبرا، علی عزائزہ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="میکسیکو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#میکسیکو-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>میکسیکو کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں راؤل رینجل، گلیرمو اوچوا، کارلوس ایسیویڈو شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں جارج سانچیز، اسرائیل ریس، سیسر مونٹیس، جوہان واسکیز، جیسس گالارڈو، میٹیو چاویز، ایڈسن الاریز شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ایرک لیرا، اوربیلین پینیڈا، الوارو فیڈالگو، برائن گوٹیرز، لوئس رومو، اوبید ورگاس، گلبرٹو مورا، لوئس چاویز شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں رابرٹو الواریڈو، سیسر ہوئیرٹا، الیکسس ویگا، جولین کوئنز، گلیرمو مارٹنیز، ارمانڈو گونزالز، سانٹیاگو گیمینیز، راؤل گیمینیز شامل ہیں.</p>
<h3><a id="مراکش-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#مراکش-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>مراکش کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں یاسین بونو، منیر الکجوعی، احمد رضا تگناوتی شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں نصیر مزراوی، انس صلاح الدین، یوسف بیلاماری، اشرف حکیمی، زکریا الواحدی، نایف اکرد، شادی ریاض، رضوان ہلال، عیسیٰ ڈیوپ شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں سمیر المرابط، ایوب بوادی، نیل العیناوی، سفیان امرابط، عزالدین اوناحی، بلال الخنوس، اسماعیل صیباری شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں عبدمحمد الزلزولی، شمس الدین طالبی، سفیان رحیمی، ایوب الکعبی، براہیم ڈیاز، یاسین جسیم، ایوب عمائمونی اشغویاب شامل ہیں.</p>
<h3><a id="نیدرلینڈز-ہالینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#نیدرلینڈز-ہالینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نیدرلینڈز (ہالینڈ) کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں مارک فلیکن، رابن روفس، بارٹ وربروگن شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ناتھن اکے، ورجل وان ڈائک، ڈینزل ڈمفریز، جان پال وان ہیکے، جوریئن ٹمبر، جوریل ہاٹو، مکی وان ڈی وین شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ریان گریونبرچ، فرینکی ڈی جونگ، ٹیون کوپمینرز، تیجانی ریجندرز، مارٹن ڈی رون، گوس ٹل، کوئنٹن ٹمبر، میٹس ویفر شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں برائن بروبی، میمفس ڈیپائے، کوڈی گاکپو، نوح لینگ، ڈونیئل مالین، کریسنسیو سمر ویل، واؤٹ ویگہورسٹ، جسٹن کلوئیورٹ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="نیوزی-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#نیوزی-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>نیوزی لینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں میکس کروکومبے، الیکس پالسن، مائیکل وؤڈ شامل ہیں. ڈیفنڈرز میں ٹائلر بنڈن، مائیکل بکسال، لیبراٹو کاکاچی، فرانسس ڈی وریز، کالن ایلیٹ، ٹم پین، نینڈو پجناکر، ٹومی اسمتھ، فن سورمین شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں لاچلان بیلیس، جو بیل، میٹ گاربیٹ، ایلی جسٹ، کیلم میک کوواٹ، بین اولڈ، الیکس روفر، مارکو اسٹامینک، سرپریت سنگھ، رائن تھامس شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں کوسٹا بارباروسس، جسی رینڈل، بین وین، کرس ووڈ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ناروے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ناروے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ناروے کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں اوریان ہاسکجولڈ نیلینڈ، ایگل سیلوک، سینڈر ٹانگوک شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں کرسٹوفر واسباک اجر، فریڈرک بیورکن، ہنریک فالچنر، سونڈرے لانگاس، ٹوربیورن ہیگیم، مارکس ہولمگرین پیڈرسن، جولین ریرسن، ڈیوڈ مولر وولف، لیو اوسٹیگارڈ شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں تھیلوئنس آسگارڈ، فریڈرک اورسنیس، پیٹرک برگ، سینڈر برگی، آسکر بوب، جینس پیٹر ہاؤگے، انتونیو نوسا، اینڈریاس شجیلڈروپ، مورٹن تھورسبی، کرسٹین تھورسٹویڈ، مارٹن اوڈیگارڈ شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں ارلنگ ہالینڈ، الیگزینڈر سورلوتھ، جورگن اسٹرینڈ لارسن شامل ہیں.</p>
<h3><a id="پاناما-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#پاناما-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پاناما کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں اورلینڈو موسکیرا، لوئس میجیا، سیسر ساموڈیو شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں سیسر بلیک مین، جارج گوٹیرز، امیر موریلو، فیدل اسکوبار، اینڈریس اینڈراڈے، ایڈگارڈو فارینا، جوز کورڈوبا، ایرک ڈیوڈ، جیوانی راموس، روڈرک ملر شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں انیبل گودوئے، اڈالبرٹو کاراسکیلا، کارلوس ہاروے، کرسچن مارٹنیز، جوز لوئس روڈریگز، سیسر یانیس، یوئل بارسیناس، البرٹو کوئنٹو، ازاریاس لنڈونو شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں اسماعیل ڈیاز، سیسیلیو واٹرمین، جوز فاجارڈو، تھامس روڈریگز شامل ہیں.</p>
<h3><a id="پیراگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#پیراگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پیراگوئے کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں اورلینڈو گل، رابرٹو فرنانڈیز، گسٹن اولویرا شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں جوآن کیسیریس، گسٹاوو ویلازکوز، گسٹاوو گومز، جونیئر الونسو، جوز کینالے، عمر الڈیرٹے، الیگزینڈر مائیڈانا، فیبین بالبوینا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ڈیئگو گومز، ماریشیو میگالھیس، ڈیمین بوباڈیلا، برائن اوجیڈا، اینڈریس کیوباس، ماتیاس گالارزا، الیگزینڈر گیمارا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں گسٹاوو کابالیرو، ریمن سوسا، الیکس ارسے، اسیڈرو پِٹا، گیبریل ایوالوس، میگل المیرون، جولیو اینسیسو، انتونیو سنابریا شامل ہیں.</p>
<h3><a id="پرتگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#پرتگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>پرتگال کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ڈیئگو کوسٹا، جوز سا، روئی سلوا شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں تھامس اڑاؤجو، جوآؤ کینسلو، ڈیئگو ڈلوٹ، روبن ڈیاز، گونزالو اناسیو، نونو مینڈس، میتھیوس نونس، نیلسن سیمیڈو، ریناٹو ویگا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں سیموئل کوسٹا، برونو فرنانڈیز، جوآؤ نیوس، روبن نیوس، برنارڈو سلوا، وٹینیا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں فرانسسکو کونسیساؤ، جوآؤ فیلکس، گونزالو گیدیس، رافیل لیاؤ، پیڈرو نیٹو، گونزالو راموس، کرسچن رونالڈو، فرانسسکو ٹرنکاؤ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="قطر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#قطر-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قطر کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں صلاح زکریا، مشعل برشم، محمود ابو ندیٰ شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں بوعلام خوخی، پیڈرو میگل، سلطان البریک، الہاشمی الحسین، ایوب العلوئی، عیسیٰ لاۓ، لوکاس مینڈس، ہمام الامین شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں احمد فتحی، جاسم جابر، عاصم مادبو، عبدالعزیز حاتم، کریم بوضیاف، محمد مناعی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں المعز علی، اکرم عفیف، تحسین محمد، ایڈمیلسن جونیئر، احمد الجناحی، احمد علاء، حسن الہیدوس، محمد مونٹاری، یوسف عبدالرزاق شامل ہیں.</p>
<h3><a id="سعودی-عرب-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سعودی-عرب-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سعودی عرب کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں نواف العقیدی، محمد العویس، احمد الکصار شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں سعود عبدالحمید، جہاد ٹھکری، عبداللہ العمری، حسن تمبکتی، علی لاجامی، حسن کادش، متعب الحربي، نواف بوشل، علی مجرشی، محمد ابو الشمات شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں زیاد الجوہنی، ناصر الدوسری، محمد کنو، عبداللہ الخیبری، علاء الحجی، مصعب الجویر، سلطان منداش، ایمن یحییٰ، خالد الغنام شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں سالم الدوسری، عبداللہ الحمدان، فراس البریکان، صالح الشہری شامل ہیں.</p>
<h3><a id="اسکاٹ-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#اسکاٹ-لینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسکاٹ لینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</h3>
<p>گول کیپرز میں کریگ گورڈن، اینگس گن، لیام کیلی شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں گرانٹ ہینلی، جیک ہینڈری، ہارون ہکی، ڈوم ہیام، اسکاٹ میک کینا، ناتھن پیٹرسن، انتھونی رالسٹن، اینڈریو رابرٹسن، جان سوٹار، کیران ٹیرنی شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ریان کرسٹی، فائنڈلے کرٹس، لیوس فرگوسن، ٹائلر فلیچر، بین گینن ڈوک، جان میک گن، کینی میک لین، اسکاٹ میک ٹومینے شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں چے ایڈمز، لنڈن ڈائیکس، جارج ہرسٹ، لارنس شینکلینڈ، روس اسٹیوارٹ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="سینیگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سینیگال-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سینیگال کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ایڈورڈ مینڈے، موری دیاؤ، یہوان دیوف شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں کریپین دیاٹا، انٹوائن مینڈے، کالیدو کولیبالی، الحاج مائک دیوف، مامادو سار، موسیٰ نیاکھاتے، عبداللہ سیک، اسماعیل جیکبز شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ادریسا گانا گوئی، پاپ گوئی، لیمین کامارا، حبیب دیارا، پاتھے سس، پاپ ماتیار سار، بارا ساپوکو ندیاۓ شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں سادیو مانے، اسماعیلہ سار، الیمان ندیاۓ، اسانے دیاؤ، ابراہم مبائے، نیکولس جیکسن، بامبا دینگ، شریف ندیاۓ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="جنوبی-افریقہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جنوبی-افریقہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں رونویں ولیمز، ریکارڈو گوس، سپہو چائین شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں اوبری موڈیبا، کھلیسو مداؤ، کھلومانی ندامانے، کاموگیلو سیبیلیبیلے، نکوسیناتھی سیبیسی، بریڈلے کراس، سیموکیلے کابینی، اولویتھو مکھانیا، تھابنگ ماتولوڈی، مبیکزیلی مبوکازی، ایمے اوکون شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں اوسون اپولس، تھالینٹے مباتھا، ریلیبوہیل موفوکینگ، جےڈن ایڈمز، ٹیبوہو موکوینا، تھیمبا زوانے، سپھیپھیلو سیتھولے شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں ایویڈنس ماکگوپا، تشیپانگ موریمی، لائل فوسٹر، تھاپيلو ماسیکو، اقرام رینرز شامل ہیں.</p>
<h3><a id="جنوبی-کوریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#جنوبی-کوریا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنوبی کوریا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں سونگ بومکون، جو ہیون وو، کم سیونگ جیو شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں جینس کاسٹروپ، لی ہانبیوم، پارک جینسوب، لی کیہیوک، کم من جے، کم مونہوان، کم تایہون، لی تائیسوک، سیول ینگ وو، چو وجے شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں لی ڈونگ گیونگ، ہوانگ ہی چان، یانگ ہیونجون، ہوانگ انبیوم، لی جے سنگ، کم جنگیو، اوم جِسنگ، بے جونہو، لی کانگ ان، پائیک سیونگ ہو شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں چو گوئیسنگ، سون ہیونگ من، اوہ ہیونگیو شامل ہیں.</p>
<h3><a id="اسپین-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#اسپین-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اسپین کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں انائی سیمون، ڈیوڈ رایا، جوآن گارسیا شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں مارک کوکوریلا، پاؤ کیوبارسی، ایمرک لاپورٹے، الیگزینڈر گریمالڈو، پیڈرو پورو، ایرک گارسیا، مارکوس لورینٹے، مارک پوبل شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں گاوی، روڈری، پیڈری، مارٹن زوبیمینڈی، فیبین روئیز، الیکس بائینا، مائیکل میرینو شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں لیمین یامال، نیکو ولیمز، ڈانی اولمو، فیران ٹوریس، مائیکل اویارزابال، یریمی پینو، بورجا اگلیسیاس، وکٹر منوز شامل ہیں.</p>
<h3><a id="سویڈن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سویڈن-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سویڈن کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں وکٹر جوہانسن، گسٹاف لیگر بئلکے، کرسٹوفر نورڈفیلڈ، جیکب زیٹرسٹروم شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں ہجالمر ایکڈل، گیبریل گڈمنڈسن، اساک ہین، وکٹر لنڈلوف، ایرک اسمتھ، کارل اسٹارفیلٹ، ڈینیئل سوینسن شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں یاسین عیاری، لوکاس برگوال، جيسپر کارلسٹروم، بنجمن نیگرین، کین سیما، ایلیٹ اسٹراؤڈ، میتھیاس سوانبرگ، بیسفورٹ زینیلی شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں طحہٰ علی، الیگزینڈر برن ہارڈسن، انتھونی ایلینگا، وکٹر جیوکیرس، الیگزینڈر اساک، گسٹاف نیلسن شامل ہیں.</p>
<h3><a id="سوئٹزرلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#سوئٹزرلینڈ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سوئٹزرلینڈ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں ماروین کیلر، گریگور کوبل، یوون مِووگو شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں مینوئل اکانجی، اوریل امینڈا، ایرے کومرٹ، نیکو الویڈی، لوکا جاکیز، میرو موہایم، ریکارڈو روڈریگز، سلوان وڈمر شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں مشیل ایبیشر، کرسچن فاسناٹ، ریمو فرولر، ارڈن جشاری، فیبین ریڈر، ڈیجبرل سو، سیڈرک اٹن، گرینٹ زہاکا، ڈینس زکریا شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں روبن ورگاس، زیکی امدونی، بریل ایمبولو، ڈین نڈوئے، نوح اوکافور، جوہان منزامبی شامل ہیں.</p>
<h3><a id="تیونس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#تیونس-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تیونس کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں صبری بن حسن، عبدالمہیب شمام، ایمن دحمان شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں علی عبدی، آدم عروس، محمد امین بن حمیدہ، ڈیلن برون، رائد چکھاوی، معتز نفاٹی، عمر رکیک، منتصر طالبی، یان ویلری شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں مرتضیٰ بن وانس، انیس بن سلیمان، اسماعیل غربی، رانی خضیرہ، محمد حاج محمود، ہنی بال مجبری، الیاس صخیری شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں الیاس اچوری، خلیل عیاری، فراس شواط، ریان الیومی، حازم مستوری، الیاس سعد، سیبسٹین تونکتی شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ترکیہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ترکیہ-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ترکیہ کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں الطائے بایندیر، میرٹ گونوک، یوگرکان چاکر شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں عبدالکریم بردکچی، چاغلر سوینجو، ایرن المالی، فردی کادیوگلو، مریح ڈیمیرل، میرٹ مولدور، اوزان کباک، سامت اکایدین، زیکی چیلک شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ہاکان چالان اوغلو، اسماعیل یوکسیک، کان ایہان، اورکون کوکچو، صالح اوزکان شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں اردا گولر، باریش الپر یلماز، کان ازون، ڈینیز گل، عرفان کان کہوچی، کینان یلدز، کیرم اکترک اوغلو، اوغوز ایدین، یونس اکگون شامل ہیں.</p>
<h3><a id="یوروگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#یوروگوئے-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>یوروگوئے کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں سرجیو روچیٹ، فرنینڈو موسلیرا، سانٹیاگو میلے شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں گلیرمو واریلا، رونالڈ اڑاؤجو، جوز ماریا گیمینیز، سانٹیاگو بوینو، سبسٹین کیسیریس، ماتیاس اولیویرا، جوکوئن پیکریز، ماتیاس وینیا شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں میکسیمیلیانو اڑاؤجو، جیورجین ڈی اراسکائٹا، روڈریگو بینٹانکور، اگسٹین کینوبیو، نکولس ڈی لا کروز، ایمیلیانو مارٹنیز، فاکونڈو پیلسٹری، برائن روڈریگز، جوآن مینوئل سانابریا، مینوئل اوگارٹے، فیڈریکو ویلورڈے، روڈریگو زالازار شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں روڈریگو اگویری، فیڈریکو ویناس، ڈارون نونیز شامل ہیں.</p>
<h3><a id="امریکا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#امریکا-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>امریکا کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں کرس بریڈی، میٹ فریس، میٹ ٹرنر شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں میکس آرفسٹن، سرجینو ڈیسٹ، الیکس فری مین، مارک میک کینزی، ٹم ریام، کرس رچرڈز، اینٹونی روڈنسن، مائلز روڈنسن، جو اسکالی، آسٹن ٹرسٹی شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں ٹائلر ایڈمز، سبسٹین برہالٹر، ویسٹن میک کینی، کرسچن رولڈان، برینڈن آرنسن، کرسچن پلسک، جیو رینا، ملک ٹلمین، ٹم ویاہ، الیگزینڈر زندیجاس شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں فولارین بالوگن، ریکارڈو پیپی، حاجی رائٹ شامل ہیں.</p>
<h3><a id="ازبکستان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" href="#ازبکستان-کا-ورلڈ-کپ-اسکواڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ازبکستان کا ورلڈ کپ اسکواڈ</strong></h3>
<p>گول کیپرز میں بوترالی ایرگاشیف، عبدووحید نیماتوف، اتکر یوسوپوف شامل ہیں.</p>
<p>ڈیفنڈرز میں عبدوقادر خوسانوف، کھوجیاکبر الیجوانوف، رستم جون اشورماتوف، فرخ سیفیف، شیرزود نصراللہ ایف، عمر بیک ایشمورادوف، اوازبیک علماءالیف، جاہونگیر اروزوف، بیکھروز کریموف، عبداللہ عبداللہ ایف شامل ہیں.</p>
<p>مڈفیلڈرز میں اکمل موزگووائے، اوتابیک شوکوروف، جمشید اسکندروف، عادل جون ہامروبیکوف، جلال الدین مشاریپوف، عزیز بیک گانیف، شیرزود عیسانوف، عباس بیک فایزولائیف شامل ہیں.</p>
<p>فارورڈز میں عزیز بیک امونوف، ایلڈور شومورودوف، ایگور سرگیف، اوسٹن ارونوف، دسٹونبیک ہمداموف شامل ہیں.</p>
<p>فٹبال ورلڈ کپ کی تمام تر گہما گہمی اور لائیو کوریج کو دیکھنے کے لیے شائقین ’آج ڈیجیٹل‘ کے <a href="https://www.aaj.tv/trends/fifa-worldcup-2026">ورلڈ کپ 2026 کے خصوصی پیج </a>کو فالو کر سکتے ہیں، جہاں میچز کی تازہ ترین خبریں، گروپ پوائنٹس ٹیبل اور میچز کے شیڈول کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں.</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506052</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 13:06:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03100639d57c682.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03100639d57c682.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506038/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو 41 رنز سے ہرادیا، 232 رنز کے ہدف کے جواب میں قومی ٹیم 190 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قذافی اسٹیڈیم لاہور میں آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میں مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا کر گرین شرٹس کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاداب خان کے 71 رنز بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچاسکے، غازی غوری 37 اور عرفات منہاس 33 رنز بناسکے، معاذ صداقت صفر، عبدالصمد 2، صاحبزادہ فرحان 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان علی آغا 7، شاہین آفریدی 11 اور بابر اعظم 16 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن ایلس کے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، میتھیو شارٹ نے تین وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی بلے باز کیمرون گرین 53 اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر نمایاں رہے، میٹ رینشا نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکس کیری بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے، میتھیو شارٹ کو 15 رنز پر ابرار احمد نے آؤٹ کیا، مارنس لبوشین 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، عرفات منہاس، حارث رؤف اور ابرار احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو 41 رنز سے ہرادیا، 232 رنز کے ہدف کے جواب میں قومی ٹیم 190 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔</strong></p>
<p>قذافی اسٹیڈیم لاہور میں آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف دوسرے ون ڈے میں مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا کر گرین شرٹس کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دیا۔</p>
<p>شاداب خان کے 71 رنز بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچاسکے، غازی غوری 37 اور عرفات منہاس 33 رنز بناسکے، معاذ صداقت صفر، عبدالصمد 2، صاحبزادہ فرحان 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔</p>
<p>سلمان علی آغا 7، شاہین آفریدی 11 اور بابر اعظم 16 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن ایلس کے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، میتھیو شارٹ نے تین وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>اس سے قبل آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دیا۔</p>
<p>آسٹریلوی بلے باز کیمرون گرین 53 اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر نمایاں رہے، میٹ رینشا نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔</p>
<p>الیکس کیری بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے، میتھیو شارٹ کو 15 رنز پر ابرار احمد نے آؤٹ کیا، مارنس لبوشین 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، عرفات منہاس، حارث رؤف اور ابرار احمد نے دو، دو وکٹیں حاصل کی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506038</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 00:09:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/030003366b4b3e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/030003366b4b3e5.webp"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ: ای ایس پی این کرک انفو</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ: امریکا میں ایرانی میچز کے لیے سیکیورٹی سخت، امیگریشن حکام کو دور رکھنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506050/fifa-world-cup-extra-security-for-iran-games-in-los-angeles</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاس اینجلس میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے شہری امیگریشن قوانین کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ شائقین اور ملازمین کے خدشات دور کرنے کیلئے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ ایران کے میچز کے دوران موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اضافی سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران شہر میں ہونے والے میچز اور متعلقہ تقریبات میں شہری امیگریشن قوانین کے نفاذ کیلئے آئی سی ای اہلکار کارروائیاں نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران رابرٹ لونا نے بتایا کہ چند ہفتے قبل ایسی اطلاعات اور افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران آئی سی ای اہلکار موجود ہوں گے، جس پر انہوں نے خود محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے علاقائی سربراہ سے رابطہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق وفاقی اداروں کے اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کیلئے موجود ہوں گے تاکہ تمام اسٹیڈیمز اور تقریبات کو محفوظ بنایا جا سکے، تاہم امیگریشن قوانین کے تحت گرفتاریوں یا کارروائیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاس اینجلس کا سوفائی اسٹیڈیم، جو ورلڈ کپ کے دوران ”لاس اینجلس اسٹیڈیم“ کہلائے گا، 12 جون کو امریکا اور پیراگوئے کے درمیان افتتاحی میچ کی میزبانی کرے گا۔ شہر میں مجموعی طور پر آٹھ ورلڈ کپ میچز کھیلے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس لاس اینجلس میں آئی سی ای کی کارروائیوں کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ماہ اسٹیڈیم کے ملازمین نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر ورلڈ کپ کے دوران آئی سی ای اہلکار تعینات کیے گئے تو وہ ہڑتال پر جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسٹیڈیم کے ملازمین کا مؤقف تھا کہ آئی سی ای کی موجودگی ملازمین اور شائقین میں خوف کی فضا پیدا کرے گی۔ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اسٹیڈیم کے ملازم آئزک مارٹینز نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ مقابلوں میں آئی سی ای کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور کارکن خوف کے ماحول میں کام نہیں کرنا چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب لاس اینجلس دو ایسے گروپ میچز کی بھی میزبانی کرے گا جن میں ایرانی ٹیم شریک ہوگی۔ ایران 15 جون کو ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ لاس اینجلس میں کھیلے گا۔ یہ شہر ایران سے باہر ایرانی نژاد افراد کی سب سے بڑی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابرٹ لونا نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باعث ایرانی ٹیم کے میچز ایک مختلف نوعیت کی سکیورٹی صورتحال پیدا کرتے ہیں، اسی لیے ان مقابلوں کیلئے اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور ممکنہ احتجاج یا دیگر سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505941/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505941"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام نے ورلڈ کپ کے دوران ڈرونز کے استعمال پر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیڈیمز کے اطراف عارضی فضائی پابندیاں نافذ ہوں گی اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرونز کو محفوظ انداز میں نیچے اتارنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرانڈی نے خبردار کیا کہ فضائی پابندیوں کی خلاف ورزی پر ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی اختیار کی جائے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل نگرانی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاس اینجلس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ناتھن ہوک مین نے کہا کہ 11 جون سے 19 جولائی تک شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر معمولی موجودگی ہوگی اور اس عرصے میں جرائم پیشہ افراد کیلئے جرم کا ارتکاب کرنا انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاس اینجلس میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے شہری امیگریشن قوانین کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ شائقین اور ملازمین کے خدشات دور کرنے کیلئے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ ایران کے میچز کے دوران موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اضافی سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لونا نے اعلان کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے دوران شہر میں ہونے والے میچز اور متعلقہ تقریبات میں شہری امیگریشن قوانین کے نفاذ کیلئے آئی سی ای اہلکار کارروائیاں نہیں کریں گے۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران رابرٹ لونا نے بتایا کہ چند ہفتے قبل ایسی اطلاعات اور افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران آئی سی ای اہلکار موجود ہوں گے، جس پر انہوں نے خود محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے علاقائی سربراہ سے رابطہ کیا۔</p>
<p>ان کے مطابق وفاقی اداروں کے اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کیلئے موجود ہوں گے تاکہ تمام اسٹیڈیمز اور تقریبات کو محفوظ بنایا جا سکے، تاہم امیگریشن قوانین کے تحت گرفتاریوں یا کارروائیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔</p>
<p>لاس اینجلس کا سوفائی اسٹیڈیم، جو ورلڈ کپ کے دوران ”لاس اینجلس اسٹیڈیم“ کہلائے گا، 12 جون کو امریکا اور پیراگوئے کے درمیان افتتاحی میچ کی میزبانی کرے گا۔ شہر میں مجموعی طور پر آٹھ ورلڈ کپ میچز کھیلے جائیں گے۔</p>
<p>گزشتہ برس لاس اینجلس میں آئی سی ای کی کارروائیوں کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ماہ اسٹیڈیم کے ملازمین نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر ورلڈ کپ کے دوران آئی سی ای اہلکار تعینات کیے گئے تو وہ ہڑتال پر جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسٹیڈیم کے ملازمین کا مؤقف تھا کہ آئی سی ای کی موجودگی ملازمین اور شائقین میں خوف کی فضا پیدا کرے گی۔ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران اسٹیڈیم کے ملازم آئزک مارٹینز نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ مقابلوں میں آئی سی ای کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور کارکن خوف کے ماحول میں کام نہیں کرنا چاہتے۔</p>
<p>دوسری جانب لاس اینجلس دو ایسے گروپ میچز کی بھی میزبانی کرے گا جن میں ایرانی ٹیم شریک ہوگی۔ ایران 15 جون کو ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ لاس اینجلس میں کھیلے گا۔ یہ شہر ایران سے باہر ایرانی نژاد افراد کی سب سے بڑی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>رابرٹ لونا نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باعث ایرانی ٹیم کے میچز ایک مختلف نوعیت کی سکیورٹی صورتحال پیدا کرتے ہیں، اسی لیے ان مقابلوں کیلئے اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور ممکنہ احتجاج یا دیگر سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505941/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505941"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام نے ورلڈ کپ کے دوران ڈرونز کے استعمال پر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیڈیمز کے اطراف عارضی فضائی پابندیاں نافذ ہوں گی اور ان کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرونز کو محفوظ انداز میں نیچے اتارنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔</p>
<p>ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرانڈی نے خبردار کیا کہ فضائی پابندیوں کی خلاف ورزی پر ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی اختیار کی جائے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل نگرانی کریں گے۔</p>
<p>لاس اینجلس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ناتھن ہوک مین نے کہا کہ 11 جون سے 19 جولائی تک شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر معمولی موجودگی ہوگی اور اس عرصے میں جرائم پیشہ افراد کیلئے جرم کا ارتکاب کرنا انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506050</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 09:20:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03091447040a2c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03091447040a2c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امپائر پر حملے کا خمیازہ: ٹم ڈیوڈ پر آئی پی ایل 2027 کا پہلا میچ کھیلنے پر پابندی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506008/rcbs-tim-david-suspended-for-ipl-2027-opener-after-throwing-ice-bag-towards-umpire</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف کھیلے گئے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے فائنل میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے بلے باز ٹم ڈیوڈ کو اگلے سیزن کے پہلے میچ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی ایل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق فائنل میچ کی پہلی اننگز کے دسویں اوور میں وکٹ گرنے کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی ٹم ڈیوڈ نے غصے میں آ کر امپائر نتن مینن کی طرف آئس بیگ پھینکا تھا، جس پر ایکشن لیتے ہوئے ان پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹم ڈیوڈ کو آئی پی ایل کے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 2.9 کے تحت لیول ون کے جرم کا مرتکب پایا گیا، جو میچ کے دوران کسی بھی کھلاڑی، امپائر یا آفیشل کی طرف خطرناک انداز میں گیند یا کوئی اور چیز پھینکنے سے متعلق ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505994/icc-approves-major-changes-in-cricket-rules'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی پی ایل حکام کے مطابق ٹم ڈیوڈ نے اپنے اس غلط رویے کا اعتراف کر لیا ہے اور میچ ریفری جواگل سری ناتھ کی طرف سے دی جانے والی سزا کو قبول کیا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس واقعے کی فوری سزا صرف فیس کی کٹوتی اور دو ڈیمیرٹ پوائنٹس تھی، لیکن یہ ٹم ڈیوڈ کا اس پورے سیزن میں تیسرا بڑا جرم تھا جس کی وجہ سے ان کے مجموعی ڈیمیرٹ پوائنٹس کی تعداد پانچ ہو گئی.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی ایل کے قوانین کے تحت پانچ پوائنٹس ہونے پر کھلاڑی پر خودبخود ایک میچ کی پابندی لگ جاتی ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505979/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس معطلی کے باعث وہ آئی پی ایل 2027 میں رائل چیلنجرز بنگلورو کا پہلا میچ نہیں کھیل سکیں گے، اور اگر وہ اگلے سیزن میں کسی دوسری ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں تو بھی یہ پابندی برقرار رہے گی.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رائل چیلنجرز بنگلورو نے فائنل جیت کر ٹرافی اپنے نام کی ہے، لیکن اس بڑی کامیابی کے جشن کے باوجود ٹیم کے اہم بلے باز کا اگلا سیزن معطلی سے شروع ہونا ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف کھیلے گئے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے فائنل میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے بلے باز ٹم ڈیوڈ کو اگلے سیزن کے پہلے میچ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے.</strong></p>
<p>آئی پی ایل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق فائنل میچ کی پہلی اننگز کے دسویں اوور میں وکٹ گرنے کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی ٹم ڈیوڈ نے غصے میں آ کر امپائر نتن مینن کی طرف آئس بیگ پھینکا تھا، جس پر ایکشن لیتے ہوئے ان پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے.</p>
<p>ٹم ڈیوڈ کو آئی پی ایل کے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 2.9 کے تحت لیول ون کے جرم کا مرتکب پایا گیا، جو میچ کے دوران کسی بھی کھلاڑی، امپائر یا آفیشل کی طرف خطرناک انداز میں گیند یا کوئی اور چیز پھینکنے سے متعلق ہے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505994/icc-approves-major-changes-in-cricket-rules'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی پی ایل حکام کے مطابق ٹم ڈیوڈ نے اپنے اس غلط رویے کا اعتراف کر لیا ہے اور میچ ریفری جواگل سری ناتھ کی طرف سے دی جانے والی سزا کو قبول کیا ہے.</p>
<p>اگرچہ اس واقعے کی فوری سزا صرف فیس کی کٹوتی اور دو ڈیمیرٹ پوائنٹس تھی، لیکن یہ ٹم ڈیوڈ کا اس پورے سیزن میں تیسرا بڑا جرم تھا جس کی وجہ سے ان کے مجموعی ڈیمیرٹ پوائنٹس کی تعداد پانچ ہو گئی.</p>
<p>آئی پی ایل کے قوانین کے تحت پانچ پوائنٹس ہونے پر کھلاڑی پر خودبخود ایک میچ کی پابندی لگ جاتی ہے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505979/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس معطلی کے باعث وہ آئی پی ایل 2027 میں رائل چیلنجرز بنگلورو کا پہلا میچ نہیں کھیل سکیں گے، اور اگر وہ اگلے سیزن میں کسی دوسری ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں تو بھی یہ پابندی برقرار رہے گی.</p>
<p>یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رائل چیلنجرز بنگلورو نے فائنل جیت کر ٹرافی اپنے نام کی ہے، لیکن اس بڑی کامیابی کے جشن کے باوجود ٹیم کے اہم بلے باز کا اگلا سیزن معطلی سے شروع ہونا ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے.</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506008</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 13:26:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02093222f038fc0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02093222f038fc0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی مل گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505997/pakistan-gets-to-host-icc-womens-t20-world-cup-2028</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی سونپنے کی منظوری دے دی ہے جب کہ بھارتی ٹیم ایونٹ میں اپنے تمام میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں 2028 میں ہونے والے ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی پاکستان کو دینے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی اجلاس میں ایونٹ کے انتظامی اور شیڈولنگ معاملات کی منظوری بھی دی گئی۔ اعلامیے کہا گیا کہ ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ 2028 میں مجموعی طور پر 12 ٹیمیں حصہ لیں گی جب کہ ایونٹ کا مکمل شیڈول آئندہ سال جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500082/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ میزبان پاکستان میں ٹورنامنٹ کے میچز ہوں گے تاہم بھارت کی ٹیم اپنے تمام میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی، جیسا کہ ہائبرڈ ماڈل کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایونٹ کے انتظامات اور وینیوز سے متعلق تیاریوں کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا جب کہ شیڈول کی حتمی منظوری بعد میں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آئی سی سی نے ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 کے شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کو جون جولائی سے منتقل کر کے فروری 2027 میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ایونٹ سری لنکا میں 14 سے 28 فروری تک کھیلا جائے گا تاہم آئی سی سی کی جانب سے شیڈول کی تبدیلی کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق آٹھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ ٹی20 فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جس کا آغاز 14 فروری سے ہوگا اور یہ 28 فروری تک جاری رہے گا۔ ٹورنامنٹ کا پہلا اعلان 2022 میں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505994/icc-approves-major-changes-in-cricket-rules'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شیڈول میں تبدیلی کے باعث اب اس ٹورنامنٹ کا جزوی طور پر نیوزی لینڈ کے آسٹریلیا کے دورے سے ٹکراؤ بھی ہوگا، جو 27 فروری سے 7 مارچ تک وائٹ بال سیریز پر مشتمل ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کو اس تبدیلی سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے ویمنز ایمیچور اور ایسوسی ایٹ ٹیموں کے لیے ایک نئے فارمیٹ کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت ویمنز ایمیچور نیشنز ٹرافی کو 10 ٹیموں تک بڑھایا جائے گا۔ اس میں پانچ فل ممبرز اور پانچ ایسوسی ایٹ ٹیمیں شامل ہوں گی جن کا انتخاب رینکنگ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے مزید کہا ہے کہ کرکٹ کینیڈا کو رکنیت کی خلاف ورزیوں کے باعث معطل کیا گیا ہے تاہم کینیڈین ٹیمیں آئی سی سی ایونٹس میں شرکت جاری رکھیں گی اور ان کے پروگرامز کے لیے فنڈنگ ایک کنٹرولڈ سسٹم کے تحت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی سونپنے کی منظوری دے دی ہے جب کہ بھارتی ٹیم ایونٹ میں اپنے تمام میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی۔</strong></p>
<p>پیر کے روز بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں 2028 میں ہونے والے ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی پاکستان کو دینے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔</p>
<p>آئی سی سی اجلاس میں ایونٹ کے انتظامی اور شیڈولنگ معاملات کی منظوری بھی دی گئی۔ اعلامیے کہا گیا کہ ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ 2028 میں مجموعی طور پر 12 ٹیمیں حصہ لیں گی جب کہ ایونٹ کا مکمل شیڈول آئندہ سال جاری کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500082/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500082"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ میزبان پاکستان میں ٹورنامنٹ کے میچز ہوں گے تاہم بھارت کی ٹیم اپنے تمام میچز نیوٹرل وینیو پر کھیلے گی، جیسا کہ ہائبرڈ ماڈل کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایونٹ کے انتظامات اور وینیوز سے متعلق تیاریوں کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا جب کہ شیڈول کی حتمی منظوری بعد میں دی جائے گی۔</p>
<p>دوسری جانب آئی سی سی نے ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 کے شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے ٹورنامنٹ کو جون جولائی سے منتقل کر کے فروری 2027 میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ایونٹ سری لنکا میں 14 سے 28 فروری تک کھیلا جائے گا تاہم آئی سی سی کی جانب سے شیڈول کی تبدیلی کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی گئی۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق آٹھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ ٹی20 فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جس کا آغاز 14 فروری سے ہوگا اور یہ 28 فروری تک جاری رہے گا۔ ٹورنامنٹ کا پہلا اعلان 2022 میں کیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505994/icc-approves-major-changes-in-cricket-rules'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505994"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شیڈول میں تبدیلی کے باعث اب اس ٹورنامنٹ کا جزوی طور پر نیوزی لینڈ کے آسٹریلیا کے دورے سے ٹکراؤ بھی ہوگا، جو 27 فروری سے 7 مارچ تک وائٹ بال سیریز پر مشتمل ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کو اس تبدیلی سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p>آئی سی سی نے ویمنز ایمیچور اور ایسوسی ایٹ ٹیموں کے لیے ایک نئے فارمیٹ کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت ویمنز ایمیچور نیشنز ٹرافی کو 10 ٹیموں تک بڑھایا جائے گا۔ اس میں پانچ فل ممبرز اور پانچ ایسوسی ایٹ ٹیمیں شامل ہوں گی جن کا انتخاب رینکنگ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔</p>
<p>آئی سی سی نے مزید کہا ہے کہ کرکٹ کینیڈا کو رکنیت کی خلاف ورزیوں کے باعث معطل کیا گیا ہے تاہم کینیڈین ٹیمیں آئی سی سی ایونٹس میں شرکت جاری رکھیں گی اور ان کے پروگرامز کے لیے فنڈنگ ایک کنٹرولڈ سسٹم کے تحت فراہم کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505997</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 18:45:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01184314e4e83f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01184314e4e83f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی سی سی نے کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505994/icc-approves-major-changes-in-cricket-rules</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، ٹیسٹ میچز میں خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے سرخ گیند کی جگہ گلابی گیند استعمال کرنے کے تجرباتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت دونوں ٹیموں کی پیشگی رضامندی سے میچ کے دوران فلڈ لائٹس میں سرخ گیند کو گلابی گیند سے تبدیل کیا جا سکے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی بورڈ نے اتوار کو احمد آباد میں ہونے والے اجلاس میں چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کی متعدد سفارشات کی منظوری دی، جن میں ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی آزمائشی پالیسی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک گلابی گیند صرف ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز میں استعمال کی جاتی تھی تاہم نئے تجربے کے تحت روایتی ٹیسٹ میچز میں بھی خراب روشنی کی صورت میں فلڈ لائٹس کے ساتھ گلابی گیند استعمال کی جا سکے گی تاکہ کم روشنی کے باعث ضائع ہونے والے اوورز اور وقت کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ خراب روشنی کے باعث کھیل متاثر ہونے سے بچانے کے لیے میچ آفیشلز اور اسٹیڈیمز میں روشنی کی جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کی جائے گی۔ اس سلسلے میں آئی سی سی اور میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) مشترکہ طور پر تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کریں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499299/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ایک اور اہم سفارش کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت ون ڈے اور ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں ہیڈ کوچ یا نامزد سپورٹ اسٹاف کو ڈرنکس بریک کے دوران میدان میں جا کر کھلاڑیوں سے مشاورت کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بین الاقوامی کرکٹ میں کوچز کو براہ راست میدان میں جا کر کھلاڑیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی اور پیغامات صرف ڈرنکس لے جانے والے کھلاڑیوں کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں دونوں اننگز کے درمیان وقفہ 15 منٹ ہوگا اور بیٹرز کو کھیل دوبارہ شروع ہونے کے وقت مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، آئی سی سی نے لیگ سائیڈ پر وائیڈ گیندوں کے فیصلوں کے لیے استعمال ہونے والی گائیڈ لائنز کو مستقل بنیادوں پر اپنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر اس وقت مدد گار ثابت ہوگا جب بیٹر کریز میں اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505997/pakistan-gets-to-host-icc-womens-t20-world-cup-2028'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505997"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشکوک بولنگ ایکشن کے معاملات میں بھی آئی سی سی نے نئی سہولت متعارف کرانے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت میچ آفیشلز کو کسی بولر کے ایکشن کی رپورٹنگ پر غور کرتے وقت ہاک آئی (Hawk-Eye) ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آئی سی سی کی جانب سے ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 جون، جولائی کی بجائے 14 سے 28 فروری کو کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے بے ضابطگیوں پر کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کر دی تاہم کینیڈا کی قومی ٹیمیں معطلی کے دوران بھی آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی اہل رہیں گی۔ اجلاس میں آئی سی سی بورڈ نے فرنچائز کرکٹ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی بورڈ کے دو نمائندے بنگلادیش کا دورہ بھی کریں گے، جہاں بنگلادیش کی صورت حال بشمول بی سی بی کے انتخابی عمل کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، ٹیسٹ میچز میں خراب روشنی کے باعث کھیل کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے سرخ گیند کی جگہ گلابی گیند استعمال کرنے کے تجرباتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت دونوں ٹیموں کی پیشگی رضامندی سے میچ کے دوران فلڈ لائٹس میں سرخ گیند کو گلابی گیند سے تبدیل کیا جا سکے گا۔</strong></p>
<p>آئی سی سی بورڈ نے اتوار کو احمد آباد میں ہونے والے اجلاس میں چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کی متعدد سفارشات کی منظوری دی، جن میں ٹیسٹ کرکٹ میں خراب روشنی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی آزمائشی پالیسی بھی شامل ہے۔</p>
<p>اب تک گلابی گیند صرف ڈے نائٹ ٹیسٹ میچز میں استعمال کی جاتی تھی تاہم نئے تجربے کے تحت روایتی ٹیسٹ میچز میں بھی خراب روشنی کی صورت میں فلڈ لائٹس کے ساتھ گلابی گیند استعمال کی جا سکے گی تاکہ کم روشنی کے باعث ضائع ہونے والے اوورز اور وقت کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>آئی سی سی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ خراب روشنی کے باعث کھیل متاثر ہونے سے بچانے کے لیے میچ آفیشلز اور اسٹیڈیمز میں روشنی کی جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کی جائے گی۔ اس سلسلے میں آئی سی سی اور میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) مشترکہ طور پر تحقیق و ترقی کے منصوبوں کی مالی معاونت کریں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499299/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499299"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اجلاس میں ایک اور اہم سفارش کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت ون ڈے اور ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں ہیڈ کوچ یا نامزد سپورٹ اسٹاف کو ڈرنکس بریک کے دوران میدان میں جا کر کھلاڑیوں سے مشاورت کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>اس سے قبل بین الاقوامی کرکٹ میں کوچز کو براہ راست میدان میں جا کر کھلاڑیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی اور پیغامات صرف ڈرنکس لے جانے والے کھلاڑیوں کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں دونوں اننگز کے درمیان وقفہ 15 منٹ ہوگا اور بیٹرز کو کھیل دوبارہ شروع ہونے کے وقت مکمل طور پر تیار رہنا ہوگا۔</p>
<p>علاوہ ازیں، آئی سی سی نے لیگ سائیڈ پر وائیڈ گیندوں کے فیصلوں کے لیے استعمال ہونے والی گائیڈ لائنز کو مستقل بنیادوں پر اپنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر اس وقت مدد گار ثابت ہوگا جب بیٹر کریز میں اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505997/pakistan-gets-to-host-icc-womens-t20-world-cup-2028'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505997"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشکوک بولنگ ایکشن کے معاملات میں بھی آئی سی سی نے نئی سہولت متعارف کرانے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت میچ آفیشلز کو کسی بولر کے ایکشن کی رپورٹنگ پر غور کرتے وقت ہاک آئی (Hawk-Eye) ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی۔</p>
<p>دوسری جانب آئی سی سی کی جانب سے ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 جون، جولائی کی بجائے 14 سے 28 فروری کو کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔</p>
<p>آئی سی سی نے بے ضابطگیوں پر کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کر دی تاہم کینیڈا کی قومی ٹیمیں معطلی کے دوران بھی آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی اہل رہیں گی۔ اجلاس میں آئی سی سی بورڈ نے فرنچائز کرکٹ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔</p>
<p>آئی سی سی بورڈ کے دو نمائندے بنگلادیش کا دورہ بھی کریں گے، جہاں بنگلادیش کی صورت حال بشمول بی سی بی کے انتخابی عمل کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505994</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 18:46:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01174814e8bba92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01174814e8bba92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو پر 5 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505932/arafat-minhas-becomes-first-pakistani-bowler-to-claim-five-wicket-haul-on-odi-debut</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی 55 سالہ تاریخ میں اب تک صرف 17 کھلاڑیوں نے ڈیبیو میچ میں 5 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کا یہ نایاب کارنامہ انجام دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفات منہاس اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں، جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر اپنا نام تاریخ میں رقم کروا لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کئی مایہ ناز بولرز آئے لیکن کوئی بھی اپنے ون ڈے ڈیبیو پر 5 وکٹیں حاصل نہیں کرسکا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060737445491085776'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060737445491085776"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے پہلے میچ میں بائیں ہاتھ سے اسپن بالنگ کرنے والے 21 سالہ عرفات منہاس نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو چکرا کر رکھ دیا اور 10 اوورز میں 32 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو پویلین روانہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505928/pak-vs-aus-first-odi-green-shirts-achieved-milestone-of-1000-odis'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505928"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آسٹریلیا کے مضبوط مڈل آرڈر کو تہس نہس کرتے ہوئے آسٹریلوی کپتان جوش انگلس کو اپنا پہلا شکار بنایا۔ اس کے بعد مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کو بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس بھیج کر آسٹریلوی ٹیم پر دباؤ میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیو اوپنر میتھیو شارٹ بھی نصف سنچری بنانے کے بعد عرفات منہاس کی گھومتی ہوئی گیند کو نہ سمجھ پائے اور اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔ 43ویں اوور میں عرفات منہاس نے پھر اپنا جادو دکھایا اور نیتھن ایلس کو بولڈ کرکے ڈیبیو میچ کو یادگار بنا دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2060750032413032505'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2060750032413032505"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے ون ڈے ڈیبیو پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ذاکر خان تھے، یہ ریکارڈ 42 سال تک ان کے پاس رہا۔ ذاکر خان نے 1984 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ڈیبیو میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم آج عرفات منہاس نے یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیبیو پر پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کرنے والے کرکٹرز میں پہلا نام سابق سری لنکن کرکٹر اویس قرنین کا ہے جو 1984 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 26 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کرکے ون ڈے ڈیبیو پر یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے کرکٹر بنے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کی جانب سے چارتھا بدھیکا اور  دشن شناکا، بنگلہ دیش کے تسکین احمد اور مستفیض الرحمان بھی یہ ریکارڈ اپنے نام کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست میں آسٹریلیا کے ٹونی ڈوڈیمائڈ، جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ اور کاگیسو ربادا، ویسٹ انڈیز کے فیڈل ایڈورڈز، نیوزی لینڈ کے بین سیئرز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمبابوے کی جانب سے برائن ویٹوری، آئرلینڈ کے کریگ ینگ، اسکاٹ لینڈ کے چارلی کیسل، کینیڈا کے آسٹن کوڈرنگٹن اور نیمیبیا کے جیک نپیل اور جیرارڈ ایراسمس بھی ون ڈیبیو پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفات منہاس پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں یہ منفرد اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اور 17 ویں کرکٹر بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔</strong></p>
<p>ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی 55 سالہ تاریخ میں اب تک صرف 17 کھلاڑیوں نے ڈیبیو میچ میں 5 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کا یہ نایاب کارنامہ انجام دیا ہے۔</p>
<p>عرفات منہاس اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں، جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر اپنا نام تاریخ میں رقم کروا لیا ہے۔</p>
<p>پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کئی مایہ ناز بولرز آئے لیکن کوئی بھی اپنے ون ڈے ڈیبیو پر 5 وکٹیں حاصل نہیں کرسکا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060737445491085776'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060737445491085776"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>راولپنڈی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے پہلے میچ میں بائیں ہاتھ سے اسپن بالنگ کرنے والے 21 سالہ عرفات منہاس نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو چکرا کر رکھ دیا اور 10 اوورز میں 32 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو پویلین روانہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505928/pak-vs-aus-first-odi-green-shirts-achieved-milestone-of-1000-odis'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505928"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے آسٹریلیا کے مضبوط مڈل آرڈر کو تہس نہس کرتے ہوئے آسٹریلوی کپتان جوش انگلس کو اپنا پہلا شکار بنایا۔ اس کے بعد مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کو بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس بھیج کر آسٹریلوی ٹیم پر دباؤ میں اضافہ کیا۔</p>
<p>آسٹریلیو اوپنر میتھیو شارٹ بھی نصف سنچری بنانے کے بعد عرفات منہاس کی گھومتی ہوئی گیند کو نہ سمجھ پائے اور اسٹمپ آؤٹ ہوگئے۔ 43ویں اوور میں عرفات منہاس نے پھر اپنا جادو دکھایا اور نیتھن ایلس کو بولڈ کرکے ڈیبیو میچ کو یادگار بنا دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2060750032413032505'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2060750032413032505"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان کی جانب سے ون ڈے ڈیبیو پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ذاکر خان تھے، یہ ریکارڈ 42 سال تک ان کے پاس رہا۔ ذاکر خان نے 1984 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ڈیبیو میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم آج عرفات منہاس نے یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔</p>
<p>ڈیبیو پر پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کرنے والے کرکٹرز میں پہلا نام سابق سری لنکن کرکٹر اویس قرنین کا ہے جو 1984 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 26 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کرکے ون ڈے ڈیبیو پر یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے کرکٹر بنے تھے۔</p>
<p>سری لنکا کی جانب سے چارتھا بدھیکا اور  دشن شناکا، بنگلہ دیش کے تسکین احمد اور مستفیض الرحمان بھی یہ ریکارڈ اپنے نام کر چکے ہیں۔</p>
<p>اس فہرست میں آسٹریلیا کے ٹونی ڈوڈیمائڈ، جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ اور کاگیسو ربادا، ویسٹ انڈیز کے فیڈل ایڈورڈز، نیوزی لینڈ کے بین سیئرز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>زمبابوے کی جانب سے برائن ویٹوری، آئرلینڈ کے کریگ ینگ، اسکاٹ لینڈ کے چارلی کیسل، کینیڈا کے آسٹن کوڈرنگٹن اور نیمیبیا کے جیک نپیل اور جیرارڈ ایراسمس بھی ون ڈیبیو پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>عرفات منہاس پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں یہ منفرد اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اور 17 ویں کرکٹر بن گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505932</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 21:15:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/30212300daa8f01.webp" type="image/webp" medium="image" height="840" width="1400">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/30212300daa8f01.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>راجستھان رائلز کے 15 سالہ کھلاڑی ویبھو سوریاونشی نے آئی پی ایل سے کتنا کمایا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505979/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے دوران راجھستان رائلز کے 15 سالہ نوجوان بیٹر ویبھو سوریاونشی نے سیزن کے دوران شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے کرکٹ کیریئر کو یادگار بنا دیا۔ ان کی ٹیم فائنل تک تو رسائی حاصل نہ کرسکی تاہم نوجوان کھلاڑی نے بڑا اعزاز اپنے نام کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوان بیٹر سوریاونشی نے پورے سیزن میں سب سے زیادہ 776 رنز بنائے اور اورنج کیپ اپنے نام کی اور اس طرح وہ سیزن کے ٹاپ اسکورر بھی قرار پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں راجستھان رائلز نے گزشتہ سیزن سے پہلے ہونے والی نیلامی میں 1.10 کروڑ بھارتی روپے میں اسکواڈ کا حصہ بنایا تھا، جبکہ اس سال ان کی ریٹینر رقم بھی وہی رہی۔ تاہم مستقل شاندار کارکردگی کے باعث ان کی مجموعی آمدن اس سے کہیں زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ راجستھان رائلز فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی، لیکن ویبھو سوریاونشی نے احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل  میں شرکت کی۔ اس میچ میں رائل چیلنجرز بنگلورو نے دو سالوں میں دوسری بار ٹائٹل جیتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505895/the-use-of-smart-sunglasses-has-been-banned-in-ipl-what-is-the-reason'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہیں پریزنٹیشن تقریب میں مدعو کیا گیا جہاں انہیں سیزن کا موسٹ ویلیو ایبل پلیئر قرار دے کر اعزاز سے نوازا گیا۔ انہیں سیزن کے بہترین کھلاڑی کے طور پر 15 لاکھ روپے دیے گئے۔ اورنج کیپ حاصل کرنے پر انہیں 10 لاکھ روپے ملے، جبکہ سپر اسٹرائیکر آف دی سیزن کے لیے بھی انہیں 10 لاکھ روپے اور ٹاٹا سیرا گاڑی بطور انعام دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سپر سکسز آف دی سیزن کے لیے بھی انہیں 10 لاکھ روپے دیے گئے، یہ اعزاز انہوں نے 72 چھکے لگا کر حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہیں ایمرجنگ پلیئر آف دی سیزن کا ایوارڈ بھی دیا گیا جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی نقد رقم شامل تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505790/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان سالانہ ریٹینر اور انعامی رقوم کے علاوہ سوریہ ونشی کو ہر میچ کے لیے 7.5 لاکھ روپے میچ فیس بھی ملی۔ انہوں نے سیزن میں 16 میچز کھیلے، جس کے نتیجے میں صرف میچ فیس سے ان کی آمدن 1.20 کروڑ روپے تک پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ انہیں مختلف میچ ڈے پرفارمنس ایوارڈز جیسے الیکٹرک اسٹرائیکر آف دی میچ اور موسٹ سکسز آف دی میچ پر بھی ہر بار 1 لاکھ روپے دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر آئی پی ایل 2026 سیزن میں وائبھو سوریہ ونشی کی آمدن 2.50 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے دوران راجھستان رائلز کے 15 سالہ نوجوان بیٹر ویبھو سوریاونشی نے سیزن کے دوران شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے کرکٹ کیریئر کو یادگار بنا دیا۔ ان کی ٹیم فائنل تک تو رسائی حاصل نہ کرسکی تاہم نوجوان کھلاڑی نے بڑا اعزاز اپنے نام کیا۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوان بیٹر سوریاونشی نے پورے سیزن میں سب سے زیادہ 776 رنز بنائے اور اورنج کیپ اپنے نام کی اور اس طرح وہ سیزن کے ٹاپ اسکورر بھی قرار پائے۔</p>
<p>انہیں راجستھان رائلز نے گزشتہ سیزن سے پہلے ہونے والی نیلامی میں 1.10 کروڑ بھارتی روپے میں اسکواڈ کا حصہ بنایا تھا، جبکہ اس سال ان کی ریٹینر رقم بھی وہی رہی۔ تاہم مستقل شاندار کارکردگی کے باعث ان کی مجموعی آمدن اس سے کہیں زیادہ رہی۔</p>
<p>اگرچہ راجستھان رائلز فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی، لیکن ویبھو سوریاونشی نے احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل  میں شرکت کی۔ اس میچ میں رائل چیلنجرز بنگلورو نے دو سالوں میں دوسری بار ٹائٹل جیتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505895/the-use-of-smart-sunglasses-has-been-banned-in-ipl-what-is-the-reason'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505895"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بعد ازاں انہیں پریزنٹیشن تقریب میں مدعو کیا گیا جہاں انہیں سیزن کا موسٹ ویلیو ایبل پلیئر قرار دے کر اعزاز سے نوازا گیا۔ انہیں سیزن کے بہترین کھلاڑی کے طور پر 15 لاکھ روپے دیے گئے۔ اورنج کیپ حاصل کرنے پر انہیں 10 لاکھ روپے ملے، جبکہ سپر اسٹرائیکر آف دی سیزن کے لیے بھی انہیں 10 لاکھ روپے اور ٹاٹا سیرا گاڑی بطور انعام دی گئی۔</p>
<p>اسی طرح سپر سکسز آف دی سیزن کے لیے بھی انہیں 10 لاکھ روپے دیے گئے، یہ اعزاز انہوں نے 72 چھکے لگا کر حاصل کیا۔ اس کے علاوہ انہیں ایمرجنگ پلیئر آف دی سیزن کا ایوارڈ بھی دیا گیا جس کے ساتھ 10 لاکھ روپے کی نقد رقم شامل تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505790/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505790"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان سالانہ ریٹینر اور انعامی رقوم کے علاوہ سوریہ ونشی کو ہر میچ کے لیے 7.5 لاکھ روپے میچ فیس بھی ملی۔ انہوں نے سیزن میں 16 میچز کھیلے، جس کے نتیجے میں صرف میچ فیس سے ان کی آمدن 1.20 کروڑ روپے تک پہنچی۔</p>
<p>مزید یہ کہ انہیں مختلف میچ ڈے پرفارمنس ایوارڈز جیسے الیکٹرک اسٹرائیکر آف دی میچ اور موسٹ سکسز آف دی میچ پر بھی ہر بار 1 لاکھ روپے دیے گئے۔</p>
<p>مجموعی طور پر آئی پی ایل 2026 سیزن میں وائبھو سوریہ ونشی کی آمدن 2.50 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505979</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 10:42:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01103235c4afa52.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01103235c4afa52.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عرفات منہاس کا یادگار ڈیبیو، پاکستان کی پہلے ون ڈے میں آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505928/pak-vs-aus-first-odi-green-shirts-achieved-milestone-of-1000-odis</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے آسٹریلیا کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایک-صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ میچ مختلف حوالوں سے دلچسپ رہا، قومی ٹیم نے اس میچ میں ایک ہزار ون ڈے میچز کھیلنے کا اہم سنگِ میل عبور کیا جب کہ نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس بھی ڈیبیو پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کا قومی بولرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ٹیم پاکستانی بولنگ کے سامنے مشکلات کا شکار رہی اور 45 ویں  اوور میں 200 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوان آل راؤنڈر اور ڈیبیو بوائے عرفات منہاس کی شاندار بولنگ نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو چکرا کر رکھ دیا اور اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کے پہلے ہی میچ کو یادگار بنا دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060737445491085776'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060737445491085776"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کینگروز کو پہلا نقصان الیکس کیری کی صورت میں اٹھانا پڑا جو 19 رنز بنا کر ابرار احمد کا شکار بنے۔ اس کے بعد ڈیبیو کرنے والے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن پر تابڑ توڑ حملہ کرتے ہوئے میچ کا نقشہ بدل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفات منہاس نے پہلے آسٹریلوی کپتان جوش انگلس کو 13 رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا، پھر مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس بھیج دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کے اوپنر میتھیو شارٹ نے مزاحمت کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی، تاہم پھر وہ بھی عرفات منہاس کی گیند پر اسٹمپ آؤٹ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سلمان علی آغا نے اولیور پیک کی وکٹ حاصل کی جب کہ ابرار احمد نے میتھیو رینشا کو اپنا دوسرا شکار بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060736210574753888'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060736210574753888"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ کے 43ویں اوور میں عرفات منہاس نے نیتھن ایلس کو بولڈ کر کے اپنے کیریئر کی پانچویں وکٹ حاصل کی اور یوں وہ ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے کرکٹر بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی ماندہ دو وکٹیں حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی نے حاصل کیں اور یوں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 200 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس نے پانچ، ابرار احمد نے دو جب کہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور سلمان علی آغا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2060685397739311155'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2060685397739311155"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کے 201 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور 43ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بابر اعظم اور غازی غوری نے نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کی۔ بابر اعظم 69 رنز جب کہ غازی غوری 65 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060766990579454247'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060766990579454247"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عرفات منہاس نے آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کی جیت پر مہر لگائی اور بہترین کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کے منیجر نوید اکرم نے عرفات منہاس کو ڈیبیو کیپ پیش کی۔ اس موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف نے نوجوان کرکٹر کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی میں جاری اس میچ کی ایک اور تاریخی اہمیت یہ بھی تھی یہ کہ پاکستان کے لیے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا 1000واں میچ تھا۔ اس سنگِ میل کے ساتھ قومی ٹیم ایک ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھارت اور آسٹریلیا یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ بھارت فروری 2022 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا 1000واں ون ڈے کھیل کر یہ سنگِ میل عبور کرنے والی پہلی ٹیم بنی تھی، جبکہ آسٹریلیا ایک ہزار میچز کا سنگ میل عبور کرنے والی دوسری ٹیم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060683177128059142'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060683177128059142"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میچ سے قبل دونوں ٹیموں کی جانب سے خوشگوار منظر بھی دیکھنے میں آیا جب آسٹریلوی ٹیم کے منیجر نے پاکستانی ڈریسنگ روم کا دورہ کیا اور عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر دونوں ٹیموں کے عہدیداروں کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین میچوں کی سیریز کا پہلا میچ راولپنڈی میں کھیلا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا اور تیسرا ون ڈے 2 اور 4 جون کو لاہور میں ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے آسٹریلیا کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایک-صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ میچ مختلف حوالوں سے دلچسپ رہا، قومی ٹیم نے اس میچ میں ایک ہزار ون ڈے میچز کھیلنے کا اہم سنگِ میل عبور کیا جب کہ نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس بھی ڈیبیو پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔</strong></p>
<p>راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کا قومی بولرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>آسٹریلوی ٹیم پاکستانی بولنگ کے سامنے مشکلات کا شکار رہی اور 45 ویں  اوور میں 200 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔</p>
<p>نوجوان آل راؤنڈر اور ڈیبیو بوائے عرفات منہاس کی شاندار بولنگ نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو چکرا کر رکھ دیا اور اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کیریئر کے پہلے ہی میچ کو یادگار بنا دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060737445491085776'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060737445491085776"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کینگروز کو پہلا نقصان الیکس کیری کی صورت میں اٹھانا پڑا جو 19 رنز بنا کر ابرار احمد کا شکار بنے۔ اس کے بعد ڈیبیو کرنے والے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس نے آسٹریلوی بیٹنگ لائن پر تابڑ توڑ حملہ کرتے ہوئے میچ کا نقشہ بدل دیا۔</p>
<p>عرفات منہاس نے پہلے آسٹریلوی کپتان جوش انگلس کو 13 رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا، پھر مارنس لبوشین اور کیمرون گرین کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین واپس بھیج دیا۔</p>
<p>آسٹریلیا کے اوپنر میتھیو شارٹ نے مزاحمت کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی، تاہم پھر وہ بھی عرفات منہاس کی گیند پر اسٹمپ آؤٹ ہو گئے۔</p>
<p>بعد ازاں سلمان علی آغا نے اولیور پیک کی وکٹ حاصل کی جب کہ ابرار احمد نے میتھیو رینشا کو اپنا دوسرا شکار بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060736210574753888'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060736210574753888"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میچ کے 43ویں اوور میں عرفات منہاس نے نیتھن ایلس کو بولڈ کر کے اپنے کیریئر کی پانچویں وکٹ حاصل کی اور یوں وہ ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے کرکٹر بن گئے۔</p>
<p>باقی ماندہ دو وکٹیں حارث رؤف اور شاہین شاہ آفریدی نے حاصل کیں اور یوں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 200 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس نے پانچ، ابرار احمد نے دو جب کہ شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور سلمان علی آغا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2060685397739311155'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2060685397739311155"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آسٹریلیا کے 201 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا اور 43ویں اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔</p>
<p>بابر اعظم اور غازی غوری نے نصف سنچریاں اسکور کر کے ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کی۔ بابر اعظم 69 رنز جب کہ غازی غوری 65 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060766990579454247'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060766990579454247"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عرفات منہاس نے آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کی جیت پر مہر لگائی اور بہترین کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار پائے۔</p>
<p>میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کے منیجر نوید اکرم نے عرفات منہاس کو ڈیبیو کیپ پیش کی۔ اس موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں اور سپورٹنگ اسٹاف نے نوجوان کرکٹر کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔</p>
<p>راولپنڈی میں جاری اس میچ کی ایک اور تاریخی اہمیت یہ بھی تھی یہ کہ پاکستان کے لیے ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کا 1000واں میچ تھا۔ اس سنگِ میل کے ساتھ قومی ٹیم ایک ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل بھارت اور آسٹریلیا یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ بھارت فروری 2022 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا 1000واں ون ڈے کھیل کر یہ سنگِ میل عبور کرنے والی پہلی ٹیم بنی تھی، جبکہ آسٹریلیا ایک ہزار میچز کا سنگ میل عبور کرنے والی دوسری ٹیم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060683177128059142'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060683177128059142"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میچ سے قبل دونوں ٹیموں کی جانب سے خوشگوار منظر بھی دیکھنے میں آیا جب آسٹریلوی ٹیم کے منیجر نے پاکستانی ڈریسنگ روم کا دورہ کیا اور عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر دونوں ٹیموں کے عہدیداروں کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔</p>
<p>تین میچوں کی سیریز کا پہلا میچ راولپنڈی میں کھیلا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا اور تیسرا ون ڈے 2 اور 4 جون کو لاہور میں ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505928</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 23:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/3023315919cb931.webp" type="image/webp" medium="image" height="840" width="1400">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/3023315919cb931.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فُٹ بال کلب ٹیم پی ایس جی کی چیمپئنز لیگ میں فتح کے بعد پیرس میں ہنگامے، 400 سے زائد گرفتاریاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505941/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فٹ بال کلب ٹیم پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل جیتنے کے بعد فتح کا جشن منانے کے دوران پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کو چیمپئنز لیگ فائنل کے موقع پر ملک بھر میں 22 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں سے 8 ہزار اہلکار صرف پیرس میں موجود تھے۔ گزشتہ برس بھی پی ایس جی کی کامیابی کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے پیشِ نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 416 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 283 گرفتاریاں پیرس میں ہوئیں۔ حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے افراد کو مزید تفتیش کے لیے باقاعدہ حراست میں رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور انہوں نے ایسے واقعے کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق پی ایس جی کے حامیوں کے ایک گروپ نے پیرس کی رنگ روڈ پر بھی دھاوا بول دیا، جس سے ٹریفک کچھ وقت کے لیے معطل ہوگئی جبکہ وہاں آتش گیر شعلے (فلیئرز) بھی جلائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے حاصل کی گئی ڈرامائی فتح کا جشن منانے کے لیے تقریباً 20 ہزار افراد پیرس کی مشہور شانزے لیزے ایونیو پر جمع ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DevidClemm/status/2060901592258220447'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DevidClemm/status/2060901592258220447"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر میچ سے قبل متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں کو حفاظتی تختوں سے ڈھانپ دیا تھا۔ گزشتہ برس نوجوانوں نے شانزے لیزے اور دیگر سڑکوں پر واقع دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اس دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے ہفتے کے روز 24 فلیئرز اور تقریباً 100 آتش بازی کے سامان بھی ضبط کیے جبکہ شانزے لیزے کے قریب ایک بس اسٹاپ شیڈ کو نقصان پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق پی ایس جی کے ہوم گراؤنڈ پارک دی پرانسز اسٹیڈیم کے قریب ایک بیکری اور ایک ریستوران کو نقصان پہنچا۔ اسٹیڈیم کے اندر ہزاروں شائقین میچ دیکھ رہے تھے جبکہ تقریباً 4 ہزار سے 5 ہزار افراد باہر موجود تھے، جن میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 150 افراد نے اسٹیڈیم کے ایک دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ افراد نے کرائے کی سائیکلوں کو استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ (بیریکیڈ) قائم کرنے کی بھی کوشش کی جسے پولیس نے ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق اسٹیڈیم کے قریب پولیس اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور جب پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکا گیا تو اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کے دارالحکومت پیرس میں فٹ بال کلب ٹیم پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی چیمپئنز لیگ ٹورنامنٹ کا فائنل جیتنے کے بعد فتح کا جشن منانے کے دوران پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جس کے نتیجے میں پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔</strong></p>
<p>فرانسیسی حکام کے مطابق ہفتے کو چیمپئنز لیگ فائنل کے موقع پر ملک بھر میں 22 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جن میں سے 8 ہزار اہلکار صرف پیرس میں موجود تھے۔ گزشتہ برس بھی پی ایس جی کی کامیابی کے بعد ہونے والے ہنگاموں کے پیشِ نظر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔</p>
<p>فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 416 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 283 گرفتاریاں پیرس میں ہوئیں۔ حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے افراد کو مزید تفتیش کے لیے باقاعدہ حراست میں رکھا گیا ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ جھڑپوں کے دوران سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور انہوں نے ایسے واقعے کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق پی ایس جی کے حامیوں کے ایک گروپ نے پیرس کی رنگ روڈ پر بھی دھاوا بول دیا، جس سے ٹریفک کچھ وقت کے لیے معطل ہوگئی جبکہ وہاں آتش گیر شعلے (فلیئرز) بھی جلائے گئے۔</p>
<p>ادھر ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے حاصل کی گئی ڈرامائی فتح کا جشن منانے کے لیے تقریباً 20 ہزار افراد پیرس کی مشہور شانزے لیزے ایونیو پر جمع ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/DevidClemm/status/2060901592258220447'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DevidClemm/status/2060901592258220447"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر میچ سے قبل متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کی کھڑکیوں کو حفاظتی تختوں سے ڈھانپ دیا تھا۔ گزشتہ برس نوجوانوں نے شانزے لیزے اور دیگر سڑکوں پر واقع دکانوں کو نقصان پہنچایا تھا اور اس دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/3112190039d0ffb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پولیس نے ہفتے کے روز 24 فلیئرز اور تقریباً 100 آتش بازی کے سامان بھی ضبط کیے جبکہ شانزے لیزے کے قریب ایک بس اسٹاپ شیڈ کو نقصان پہنچایا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق پی ایس جی کے ہوم گراؤنڈ پارک دی پرانسز اسٹیڈیم کے قریب ایک بیکری اور ایک ریستوران کو نقصان پہنچا۔ اسٹیڈیم کے اندر ہزاروں شائقین میچ دیکھ رہے تھے جبکہ تقریباً 4 ہزار سے 5 ہزار افراد باہر موجود تھے، جن میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا پھینکیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/311218597ef285f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پولیس ترجمان نے بتایا کہ تقریباً 150 افراد نے اسٹیڈیم کے ایک دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔</p>
<p>کچھ افراد نے کرائے کی سائیکلوں کو استعمال کرتے ہوئے رکاوٹ (بیریکیڈ) قائم کرنے کی بھی کوشش کی جسے پولیس نے ہٹا دیا۔</p>
<p>اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق اسٹیڈیم کے قریب پولیس اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور جب پولیس پر آتش بازی کا سامان پھینکا گیا تو اہلکاروں نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505941</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 08:45:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/31121134cc1eb89.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/31121134cc1eb89.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی پی ایل میں اسمارٹ سن گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد، وجہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505895/the-use-of-smart-sunglasses-has-been-banned-in-ipl-what-is-the-reason</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے اختتامی مرحلے میں کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کے لیے اسمارٹ سن گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sports.ndtv.com/ipl-2026/ipl-bcci-bans-smart-sunglasses-in-pmoa-warns-of-action-in-case-of-violation-11562509"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی ایس یو) کی جانب سے فرنچائزز کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بعض کمپنیاں کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو اسمارٹ چشمے فروخت کر رہی ہیں، جن میں جدید کمیونیکیشن فیچرز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CricketNDTV/status/2060230054983200934?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CricketNDTV/status/2060230054983200934?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری کے مطابق یہ اسمارٹ چشمے لائیو اسٹریمنگ، ٹیکسٹ میسجز بھیجنے اور وصول کرنے جب کہ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کے ذریعے آڈیو اور ویڈیو کالز کی سہولت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی سی سی آئی نے واضح کیا کہ پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا میں ایسے آلات کو آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس اور کمیونیکیشن ڈیوائس تصور کیا جائے گا، اس لیے ان کا استعمال یا اپنے پاس رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504237/ryan-prag-fined-for-using-a-vape-in-the-dressing-room'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے ہدایت کی ہے کہ تمام کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف میچ کے روز اپنے موبائل فونز اور اسمارٹ واچز کے ساتھ اسمارٹ چشمے بھی سیکیورٹی لائژن آفیسر کے پاس جمع کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ان ہدایات پر عمل نہ کیا تو اسے پی ایم او اے قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور متعلقہ فرد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں سیزن میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد بی سی سی آئی نے سیکیورٹی پروٹوکول مزید سخت کیے ہیں۔ اس سے قبل راجستھان رائلز کے رومی بھنڈر پر ٹیم ڈگ آؤٹ میں موبائل فون استعمال کرنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور وارننگ دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503279/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503279"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بی سی سی آئی نے حالیہ دنوں میں کھلاڑیوں کے لیے بغیر اجازت رات گئے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کی تھی جب کہ سیکیورٹی خدشات اور ہنی ٹریپ کے خطرات کے پیش نظر ہوٹل کمروں میں مہمانوں کے داخلے کی اجازت بھی محدود کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے اختتامی مرحلے میں کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کے لیے اسمارٹ سن گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sports.ndtv.com/ipl-2026/ipl-bcci-bans-smart-sunglasses-in-pmoa-warns-of-action-in-case-of-violation-11562509">این ڈی ٹی وی</a> کی رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی ایس یو) کی جانب سے فرنچائزز کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بعض کمپنیاں کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو اسمارٹ چشمے فروخت کر رہی ہیں، جن میں جدید کمیونیکیشن فیچرز موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CricketNDTV/status/2060230054983200934?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CricketNDTV/status/2060230054983200934?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایڈوائزری کے مطابق یہ اسمارٹ چشمے لائیو اسٹریمنگ، ٹیکسٹ میسجز بھیجنے اور وصول کرنے جب کہ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کے ذریعے آڈیو اور ویڈیو کالز کی سہولت رکھتے ہیں۔</p>
<p>بی سی سی آئی نے واضح کیا کہ پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا میں ایسے آلات کو آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ ڈیوائس اور کمیونیکیشن ڈیوائس تصور کیا جائے گا، اس لیے ان کا استعمال یا اپنے پاس رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504237/ryan-prag-fined-for-using-a-vape-in-the-dressing-room'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بورڈ نے ہدایت کی ہے کہ تمام کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف میچ کے روز اپنے موبائل فونز اور اسمارٹ واچز کے ساتھ اسمارٹ چشمے بھی سیکیورٹی لائژن آفیسر کے پاس جمع کرائیں۔</p>
<p>بی سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ان ہدایات پر عمل نہ کیا تو اسے پی ایم او اے قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور متعلقہ فرد کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں سیزن میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد بی سی سی آئی نے سیکیورٹی پروٹوکول مزید سخت کیے ہیں۔ اس سے قبل راجستھان رائلز کے رومی بھنڈر پر ٹیم ڈگ آؤٹ میں موبائل فون استعمال کرنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور وارننگ دی گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503279/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503279"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بی سی سی آئی نے حالیہ دنوں میں کھلاڑیوں کے لیے بغیر اجازت رات گئے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کی تھی جب کہ سیکیورٹی خدشات اور ہنی ٹریپ کے خطرات کے پیش نظر ہوٹل کمروں میں مہمانوں کے داخلے کی اجازت بھی محدود کردی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505895</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 18:55:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/29184616c6b6a2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/29184616c6b6a2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویسٹ انڈیز کا پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے شیڈول کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505871/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا مکمل شیڈول جاری کردیا ہے، جس کے مطابق دونوں ٹیسٹ میچز ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباکو میں کھیلے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم 2 ٹیسٹ میچز کے لیے جولائی میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 25 جولائی سے 29 جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جہاں پہلی مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 2 اگست سے 6 اگست تک کوئنز پارک اوول میں کھیلا جائے گا، جو ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹ وینیوز میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا مکمل شیڈول جاری کردیا ہے، جس کے مطابق دونوں ٹیسٹ میچز ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباکو میں کھیلے جائیں گے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم 2 ٹیسٹ میچز کے لیے جولائی میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرے گی۔</p>
<p>سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 25 جولائی سے 29 جولائی تک برائن لارا کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جہاں پہلی مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی جائے گی۔</p>
<p>دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 2 اگست سے 6 اگست تک کوئنز پارک اوول میں کھیلا جائے گا، جو ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹ وینیوز میں شمار ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505871</guid>
      <pubDate>Thu, 28 May 2026 16:19:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/281027570b41d4a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/281027570b41d4a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے خلاف سیریز سے قبل آسٹریلوی کپتان باہر، اب ٹیم کی قیادت کون کرے گا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505841/australia-suffers-major-setback-ahead-of-odi-series-against-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے قبل آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے، آسٹریلوی کپتان مچل مارش ٹخنے کی انجری کے باعث سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ آسٹریلیا نے مچل مارش کے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مچل مارش پاکستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں شرکت نہیں کریں گے جب کہ ان کی جگہ وکٹ کیپر بیٹر جوش انگلس کو ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ESPNcricinfo/status/2059223713070149782?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ESPNcricinfo/status/2059223713070149782?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مچل مارش انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم وہ آخری میچ میں شرکت نہیں کرسکے تھے جب کہ مارش 19 مئی کو راجستھان رائلز کے خلاف میچ کے بعد آسٹریلیا واپس لوٹ گئے تھے اور انہیں پاکستان کے خلاف سیریز میں ٹیم کی قیادت کرنا تھی لیکن ٹخنے کی انجری کے باعث وہ پاکستان روانہ نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.icc-cricket.com/news/australia-forced-into-captaincy-shuffle-for-pakistan-series"&gt;رپورٹس&lt;/a&gt; کے مطابق مارش کی بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت بھی تاحال غیر یقینی ہے۔ آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان ون ڈے سیریز 9 جون جب کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز 17 جون سے شروع ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505678/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505678"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مچل مارش کی غیر موجودگی میں جوش انگلس کو کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ مستقل کپتان پیٹ کمنز اور ٹریوس ہیڈ بھی آئی پی ایل پلے آف مرحلے میں مصروفیات کے باعث پاکستان کے دورے کا حصہ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی اسکواڈ میں جوش ہیزل ووڈ اور مچل اسٹارک بھی شامل نہیں ہیں جب کہ کوپر کونولی، زیویئر بارٹلیٹ اور بین ڈوارشیس کو ابتدا میں آئی پی ایل پلے آف کے سبب پاکستان سیریز کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مچل مارش حالیہ آئی پی ایل سیزن میں شاندار فارم میں تھے اور انہوں نے 13 میچوں میں 563 رنز بنائے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 163.18 رہا جب کہ وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ساتویں بیٹر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی ٹیم اب پاکستان کے خلاف اوپننگ کمبی نیشن کے لیے نئے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ میتھیو شارٹ کے ساتھ ایک نئے اوپنر کو آزمایا جا سکتا ہے جب کہ ایلکس کیری کو بھی اوپر بیٹنگ کے لیے بھیجے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504978/pcb-announces-schedule-for-odi-series-between-pakistan-and-australia'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز کا پہلا میچ 30 مئی کو راولپنڈی میں کھیلا جائے گا جب کہ دوسرا اور تیسرا میچ لاہور میں 2 اور 4 جون کو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے خلاف آسٹریلوی اسکواڈ میں جوش انگلس (کپتان)، ایلکس کیری، ناتھن ایلس، کیمرون گرین، میتھیو کوہن مین، مارنس لبوشین، ریلی میریڈتھ، اولی پیک، میتھیو رینشا، تنویر سنگھا، لیام اسکاٹ، میتھیو شارٹ، بلی اسٹین لیک اور ایڈم زیمپا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے قبل آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے، آسٹریلوی کپتان مچل مارش ٹخنے کی انجری کے باعث سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>کرکٹ آسٹریلیا نے مچل مارش کے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مچل مارش پاکستان کے خلاف تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں شرکت نہیں کریں گے جب کہ ان کی جگہ وکٹ کیپر بیٹر جوش انگلس کو ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ESPNcricinfo/status/2059223713070149782?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ESPNcricinfo/status/2059223713070149782?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مچل مارش انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم وہ آخری میچ میں شرکت نہیں کرسکے تھے جب کہ مارش 19 مئی کو راجستھان رائلز کے خلاف میچ کے بعد آسٹریلیا واپس لوٹ گئے تھے اور انہیں پاکستان کے خلاف سیریز میں ٹیم کی قیادت کرنا تھی لیکن ٹخنے کی انجری کے باعث وہ پاکستان روانہ نہیں ہوئے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.icc-cricket.com/news/australia-forced-into-captaincy-shuffle-for-pakistan-series">رپورٹس</a> کے مطابق مارش کی بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت بھی تاحال غیر یقینی ہے۔ آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان ون ڈے سیریز 9 جون جب کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز 17 جون سے شروع ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505678/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505678"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مچل مارش کی غیر موجودگی میں جوش انگلس کو کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ مستقل کپتان پیٹ کمنز اور ٹریوس ہیڈ بھی آئی پی ایل پلے آف مرحلے میں مصروفیات کے باعث پاکستان کے دورے کا حصہ نہیں ہیں۔</p>
<p>آسٹریلوی اسکواڈ میں جوش ہیزل ووڈ اور مچل اسٹارک بھی شامل نہیں ہیں جب کہ کوپر کونولی، زیویئر بارٹلیٹ اور بین ڈوارشیس کو ابتدا میں آئی پی ایل پلے آف کے سبب پاکستان سیریز کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>مچل مارش حالیہ آئی پی ایل سیزن میں شاندار فارم میں تھے اور انہوں نے 13 میچوں میں 563 رنز بنائے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 163.18 رہا جب کہ وہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ساتویں بیٹر رہے۔</p>
<p>آسٹریلیا کی ٹیم اب پاکستان کے خلاف اوپننگ کمبی نیشن کے لیے نئے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ میتھیو شارٹ کے ساتھ ایک نئے اوپنر کو آزمایا جا سکتا ہے جب کہ ایلکس کیری کو بھی اوپر بیٹنگ کے لیے بھیجے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504978/pcb-announces-schedule-for-odi-series-between-pakistan-and-australia'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے میچز کی سیریز کا پہلا میچ 30 مئی کو راولپنڈی میں کھیلا جائے گا جب کہ دوسرا اور تیسرا میچ لاہور میں 2 اور 4 جون کو ہوگا۔</p>
<p>پاکستان کے خلاف آسٹریلوی اسکواڈ میں جوش انگلس (کپتان)، ایلکس کیری، ناتھن ایلس، کیمرون گرین، میتھیو کوہن مین، مارنس لبوشین، ریلی میریڈتھ، اولی پیک، میتھیو رینشا، تنویر سنگھا، لیام اسکاٹ، میتھیو شارٹ، بلی اسٹین لیک اور ایڈم زیمپا شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505841</guid>
      <pubDate>Tue, 26 May 2026 17:02:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/261654170199fab.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/261654170199fab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویرات کوہلی کی شرمناک حرکت پر ٹریوس ہیڈ اور ان کی اہلیہ کو دھکمیاں ملنے لگیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505810/travis-head-and-his-wife-started-receiving-threats-over-virat-kohlis-shameful-behavior</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں رائل چیلنجرز بنگلورو اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان میچ کے بعد بھارتی اسٹار بلے باز ویرات کوہلی اور آسٹریلین کرکٹر ٹریوس ہیڈ کے درمیان پیش آنے والے تنازع نے سوشل میڈیا پر نیا رخ اختیار کرلیا، جہاں ٹریوس ہیڈ اور ان کی اہلیہ جیسیکا کو سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ ویرات کوہلی کے ساتھ آئی پی ایل میچ کے دوران ہونے والی تلخ جملوں کی تکرار بنی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sundayguardianlive.com/sports/travis-heads-wife-breaks-silence-on-online-abuse-after-virat-kohli-handshake-controversy-they-are-attacking-my-family-196705/"&gt;سنڈے گارجین&lt;/a&gt; کے مطابق جمعہ 22 اپریل کو کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے 67 ویں میچ میں سن رائزرز حیدرآباد نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 255 رنز بنائے تھے۔ میچ کے دوران ویرات کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریوس ہیڈ نے ویرات کوہلی کو جارحانہ انداز میں کھیلنے سے متعلق جملہ کہا، جس پر بھارتی اسٹار بیٹر نے طنزیہ انداز میں امپیکٹ پلیئر کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا اور آسٹریلوی کھلاڑی کو بولنگ کرنے کا چیلنج بھی دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505718/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505718"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب ویرات کوہلی صرف 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق ٹریوس ہیڈ نے اس موقع پر کہا کہ میں بولنگ کے لیے آنے سے پہلے ہی تم آؤٹ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد ہاتھ ملانے کی روایت کے دوران بھی صورت حال زیر بحث رہی، میچ ختم ہونے کے بعد ایک اور لمحہ توجہ کا مرکز بنا جب کوہلی نے دیگر کھلاڑیوں سے ہاتھ ملایا لیکن ٹریوس ہیڈ کی جانب سے بڑھایا گیا ہاتھ نظر انداز کردیا کہ جب کہ کوہلی نے پیٹ کمنز اور ابھیشیک شرما سے گرمجوشی سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Avnueone8/status/2058046669305098616?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058046669305098616%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Avnueone8/status/2058046669305098616?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058046669305098616%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی بعض صارفین نے ٹریوس ہیڈ اور ان کی فیملی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرولز نے ان کی شادی کی تصاویر پر نازیبا اور دھمکی آمیز تبصرے کیے، جن میں کچھ پیغامات انتہائی قابل اعتراض تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AsianDigest/status/2058784808428548456?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058784808428548456%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AsianDigest/status/2058784808428548456?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058784808428548456%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیے جانے کے خلاف بھی آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جیسیکا-ہیڈ-کا-رد-عمل" href="#جیسیکا-ہیڈ-کا-رد-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جیسیکا ہیڈ کا رد عمل&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب آسٹریلوی کرکٹر ٹریوس ہیڈ کی اہلیہ جیسیکا ہیڈ نے اپنے خاندان کے خلاف آن لائن بدسلوکی اور دھمکیوں پر ردعمل دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریوس ہیڈ کی اہلیہ جیسیکا ہیڈ نے آسٹریلوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں، ان کے دوستوں اور خاندان کو سوشل میڈیا پر نازیبا پیغامات اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسیکا ہیڈ نے کہا کہ یہ سب کچھ ورلڈ کپ کے بعد ہونے والی بدسلوکی کی یاد دلاتا ہے۔ میں صبح اٹھی تو سوشل میڈیا پر مسلسل پیغامات آرہے تھے۔ ہم ٹھیک ہیں لیکن میرے دوستوں اور خاندان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IS_Netwrk29/status/2058761354706817042?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IS_Netwrk29/status/2058761354706817042?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کھیل میں جذبہ اپنی جگہ اہم ہے تاہم لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کھلاڑیوں کے پیچھے حقیقی خاندان اور انسان موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ٹریوس ہیڈ اس سے قبل بھی 2023 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل، 2023 ون ڈے ورلڈ کپ فائنل اور 2024 باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور بدسلوکی کا سامنا کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسیکا ہیڈ آسٹریلیا کی معروف ماڈل، کاروباری شخصیت اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں وہ اور ٹریوس ہیڈ 2015 سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں جب کہ اپریل 2023 میں دونوں نے شادی کی تھی، جوڑے کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام میلا لوئیس ہیڈ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں رائل چیلنجرز بنگلورو اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان میچ کے بعد بھارتی اسٹار بلے باز ویرات کوہلی اور آسٹریلین کرکٹر ٹریوس ہیڈ کے درمیان پیش آنے والے تنازع نے سوشل میڈیا پر نیا رخ اختیار کرلیا، جہاں ٹریوس ہیڈ اور ان کی اہلیہ جیسیکا کو سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ ویرات کوہلی کے ساتھ آئی پی ایل میچ کے دوران ہونے والی تلخ جملوں کی تکرار بنی۔</strong></p>
<p>بھارتی ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://sundayguardianlive.com/sports/travis-heads-wife-breaks-silence-on-online-abuse-after-virat-kohli-handshake-controversy-they-are-attacking-my-family-196705/">سنڈے گارجین</a> کے مطابق جمعہ 22 اپریل کو کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے 67 ویں میچ میں سن رائزرز حیدرآباد نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 255 رنز بنائے تھے۔ میچ کے دوران ویرات کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>ٹریوس ہیڈ نے ویرات کوہلی کو جارحانہ انداز میں کھیلنے سے متعلق جملہ کہا، جس پر بھارتی اسٹار بیٹر نے طنزیہ انداز میں امپیکٹ پلیئر کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا اور آسٹریلوی کھلاڑی کو بولنگ کرنے کا چیلنج بھی دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505718/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505718"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب ویرات کوہلی صرف 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق ٹریوس ہیڈ نے اس موقع پر کہا کہ میں بولنگ کے لیے آنے سے پہلے ہی تم آؤٹ ہوگئے۔</p>
<p>میچ کے بعد ہاتھ ملانے کی روایت کے دوران بھی صورت حال زیر بحث رہی، میچ ختم ہونے کے بعد ایک اور لمحہ توجہ کا مرکز بنا جب کوہلی نے دیگر کھلاڑیوں سے ہاتھ ملایا لیکن ٹریوس ہیڈ کی جانب سے بڑھایا گیا ہاتھ نظر انداز کردیا کہ جب کہ کوہلی نے پیٹ کمنز اور ابھیشیک شرما سے گرمجوشی سے ملاقات کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Avnueone8/status/2058046669305098616?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058046669305098616%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Avnueone8/status/2058046669305098616?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058046669305098616%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی بعض صارفین نے ٹریوس ہیڈ اور ان کی فیملی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرولز نے ان کی شادی کی تصاویر پر نازیبا اور دھمکی آمیز تبصرے کیے، جن میں کچھ پیغامات انتہائی قابل اعتراض تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AsianDigest/status/2058784808428548456?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058784808428548456%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AsianDigest/status/2058784808428548456?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2058784808428548456%7Ctwgr%5E1bddebd5e9816d783a24cc2ef9f2f855d5d16c48%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2814651%2Ftravis-head-and-family-targeted-after-kohli-handshake-snub-2814651"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیے جانے کے خلاف بھی آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔</p>
<h1><a id="جیسیکا-ہیڈ-کا-رد-عمل" href="#جیسیکا-ہیڈ-کا-رد-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جیسیکا ہیڈ کا رد عمل</strong></h1>
<p>دوسری جانب آسٹریلوی کرکٹر ٹریوس ہیڈ کی اہلیہ جیسیکا ہیڈ نے اپنے خاندان کے خلاف آن لائن بدسلوکی اور دھمکیوں پر ردعمل دے دیا۔</p>
<p>ٹریوس ہیڈ کی اہلیہ جیسیکا ہیڈ نے آسٹریلوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں، ان کے دوستوں اور خاندان کو سوشل میڈیا پر نازیبا پیغامات اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔</p>
<p>جیسیکا ہیڈ نے کہا کہ یہ سب کچھ ورلڈ کپ کے بعد ہونے والی بدسلوکی کی یاد دلاتا ہے۔ میں صبح اٹھی تو سوشل میڈیا پر مسلسل پیغامات آرہے تھے۔ ہم ٹھیک ہیں لیکن میرے دوستوں اور خاندان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/IS_Netwrk29/status/2058761354706817042?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IS_Netwrk29/status/2058761354706817042?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ کھیل میں جذبہ اپنی جگہ اہم ہے تاہم لوگوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کھلاڑیوں کے پیچھے حقیقی خاندان اور انسان موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ٹریوس ہیڈ اس سے قبل بھی 2023 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل، 2023 ون ڈے ورلڈ کپ فائنل اور 2024 باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور بدسلوکی کا سامنا کرچکے ہیں۔</p>
<p>جیسیکا ہیڈ آسٹریلیا کی معروف ماڈل، کاروباری شخصیت اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں وہ اور ٹریوس ہیڈ 2015 سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں جب کہ اپریل 2023 میں دونوں نے شادی کی تھی، جوڑے کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام میلا لوئیس ہیڈ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505810</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 17:29:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/25172132c231354.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/25172132c231354.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایرانی فٹ بال ٹیم کی بلا رکاوٹ ورلڈ کپ میں شرکت یقینی بنائے: تہران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505809/iran-demands-us-ensure-world-cup-team-access</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ 2026 فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کی بلا رکاوٹ شرکت یقینی بنائے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکی ویزا مسائل کے باعث ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا، 2026 فیفا ورلڈ کپ کے شریک میزبان کی حیثیت سے ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کی بغیر کسی رکاوٹ شرکت کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کا پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.irna.ir/news/86164518/US-must-guarantee-participation-of-Iran-football-team-at-World"&gt;ارنا&lt;/a&gt;‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے انتظامی معاملات میں فیفا بنیادی ادارہ ہے، تاہم امریکا بھی شریک میزبان ہونے کے باعث اہم ذمہ داری رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹیم کی امریکا آمد مکمل طور پر کھیلوں کے مقاصد کے تحت اور فیفا قوانین کے مطابق ہوگی، اس لیے کسی قسم کی رکاوٹ یا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے امریکی ویزا کے حصول میں بار بار مشکلات کے باعث قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل بقائی کے مطابق تربیتی کیمپ کی منتقلی کا فیصلہ فیفا، میکسیکن فٹ بال فیڈریشن اور متعلقہ امریکی حکام سے مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ ممکنہ رکاوٹوں کو پہلے ہی دور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی فٹ بال کے اصولوں کے مطابق تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ ایرانی ٹیم کو عالمی مقابلوں میں شرکت کے دوران کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ 2026 فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کی بلا رکاوٹ شرکت یقینی بنائے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکی ویزا مسائل کے باعث ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا، 2026 فیفا ورلڈ کپ کے شریک میزبان کی حیثیت سے ایرانی قومی فٹ بال ٹیم کی بغیر کسی رکاوٹ شرکت کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کا پابند ہے۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://en.irna.ir/news/86164518/US-must-guarantee-participation-of-Iran-football-team-at-World">ارنا</a>‘ کے مطابق اسماعیل بقائی نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اگرچہ ٹورنامنٹ کے انتظامی معاملات میں فیفا بنیادی ادارہ ہے، تاہم امریکا بھی شریک میزبان ہونے کے باعث اہم ذمہ داری رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایرانی ٹیم کی امریکا آمد مکمل طور پر کھیلوں کے مقاصد کے تحت اور فیفا قوانین کے مطابق ہوگی، اس لیے کسی قسم کی رکاوٹ یا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے امریکی ویزا کے حصول میں بار بار مشکلات کے باعث قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ امریکا کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>اسماعیل بقائی کے مطابق تربیتی کیمپ کی منتقلی کا فیصلہ فیفا، میکسیکن فٹ بال فیڈریشن اور متعلقہ امریکی حکام سے مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ ممکنہ رکاوٹوں کو پہلے ہی دور کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی فٹ بال کے اصولوں کے مطابق تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ ایرانی ٹیم کو عالمی مقابلوں میں شرکت کے دوران کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505809</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 17:24:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/25172028a57f75b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/25172028a57f75b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی پی ایل میں بھارتی اسٹار بولر بمراہ نے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505790/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے معروف فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کافی مشکل ثابت ہوا ہے، جہاں انہوں نے ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کرلیا جو کسی بھی بولر کے لیے پسندیدہ نہیں مانا جاتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں ان کی کارکردگی توقعات کے برعکس رہی اور وہ مسلسل مشکلات کا شکار نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں کم از کم 40 اوورز کرانے والے بولرز کی فہرست میں شامل ہیں، لیکن اس بار انہیں ہروکٹ کے لیے 100 سے زیادہ رنز دینے پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پورے ٹورنامنٹ میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کرتے ہوئے جسپریت بمراہ نے 13 میچ کھیلے اور ان میچوں کے دوران انہوں نے مخالف ٹیموں کے خلاف 294 رنز دیے، جبکہ ان کے رنز دینے کی اوسط رفتار بھی پچھلے سالوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان 13 میچوں میں وہ مجموعی طور پر صرف 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو سکے اور کسی بھی ایک میچ میں وہ ایک سے زیادہ وکٹ حاصل نہیں کر پائے۔ وکٹیں نہ ملنے کی اس کم رفتاری کی وجہ سے ان کی بولنگ کی اوسط اور اوورز کی کارکردگی کا گراف تکنیکی بنیادوں پر کافی منفرد سطح پر چلا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504237'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کھیل کے ماہرین کے مطابق اس خراب ریکارڈ کے پیچھے ایک خاص وجہ یہ بھی رہی کہ ممبئی انڈینز کے دوسرے بولرز نے میچوں میں کافی زیادہ رنز دیے، جس کی وجہ سے مخالف ٹیم کے بلے بازوں نے جسپریت بمراہ کے خلاف کوئی بڑا خطرہ مول لینے کے بجائے بہت احتیاط سے کھیلنے کی حکمت عملی اپنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلے بازوں نے ان کے اوورز میں رنز بنانے کی زیادہ کوشش نہیں کی بلکہ صرف اپنا دفاع کیا، جس کی وجہ سے بمراہ کو وکٹیں حاصل کرنے کے مواقع نہیں مل سکے۔ اگرچہ ان کے نام یہ غیر معمولی ریکارڈ درج ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ بیشتر میچوں میں رنز کی رفتار کو روکنے اور بلے بازوں کو دباؤ میں رکھنے میں کامیاب رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے معروف فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کافی مشکل ثابت ہوا ہے، جہاں انہوں نے ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کرلیا جو کسی بھی بولر کے لیے پسندیدہ نہیں مانا جاتا۔</strong></p>
<p>آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں ان کی کارکردگی توقعات کے برعکس رہی اور وہ مسلسل مشکلات کا شکار نظر آئے۔</p>
<p>وہ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں کم از کم 40 اوورز کرانے والے بولرز کی فہرست میں شامل ہیں، لیکن اس بار انہیں ہروکٹ کے لیے 100 سے زیادہ رنز دینے پڑے۔</p>
<p>اس پورے ٹورنامنٹ میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کرتے ہوئے جسپریت بمراہ نے 13 میچ کھیلے اور ان میچوں کے دوران انہوں نے مخالف ٹیموں کے خلاف 294 رنز دیے، جبکہ ان کے رنز دینے کی اوسط رفتار بھی پچھلے سالوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ رہی۔</p>
<p>ان 13 میچوں میں وہ مجموعی طور پر صرف 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو سکے اور کسی بھی ایک میچ میں وہ ایک سے زیادہ وکٹ حاصل نہیں کر پائے۔ وکٹیں نہ ملنے کی اس کم رفتاری کی وجہ سے ان کی بولنگ کی اوسط اور اوورز کی کارکردگی کا گراف تکنیکی بنیادوں پر کافی منفرد سطح پر چلا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504237'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کھیل کے ماہرین کے مطابق اس خراب ریکارڈ کے پیچھے ایک خاص وجہ یہ بھی رہی کہ ممبئی انڈینز کے دوسرے بولرز نے میچوں میں کافی زیادہ رنز دیے، جس کی وجہ سے مخالف ٹیم کے بلے بازوں نے جسپریت بمراہ کے خلاف کوئی بڑا خطرہ مول لینے کے بجائے بہت احتیاط سے کھیلنے کی حکمت عملی اپنائی۔</p>
<p>بلے بازوں نے ان کے اوورز میں رنز بنانے کی زیادہ کوشش نہیں کی بلکہ صرف اپنا دفاع کیا، جس کی وجہ سے بمراہ کو وکٹیں حاصل کرنے کے مواقع نہیں مل سکے۔ اگرچہ ان کے نام یہ غیر معمولی ریکارڈ درج ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ بیشتر میچوں میں رنز کی رفتار کو روکنے اور بلے بازوں کو دباؤ میں رکھنے میں کامیاب رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505790</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 12:06:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/251114077978f56.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/251114077978f56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے جبکہ سلمان آغا کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان کردہ اسکواڈ میں وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، جبکہ سابق کپتان بابر اعظم ، فاسٹ بولر حارث رؤف، نسیم شاہ، آل راؤنڈر شاداب خان اور نوجوان اسپنر صفیان مقیم کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2057669684829602005'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2057669684829602005"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ احمد دانیال، عرفات منہاس اور روحیل نذیر قومی ون ڈے انٹرنیشنل اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ محمد غازی غوری اور روحیل نذیر کو اسکواڈ میں وکٹ کیپر بیٹرز کے طور پر شامل کیا گیا۔ صاحبزادہ فرحان اور شمائل حسین بھی آسٹریلیا کے ساتھ 16 رکنی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز 30 مئی سے 4 جون تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے جبکہ سلمان آغا کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلان کردہ اسکواڈ میں وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، جبکہ سابق کپتان بابر اعظم ، فاسٹ بولر حارث رؤف، نسیم شاہ، آل راؤنڈر شاداب خان اور نوجوان اسپنر صفیان مقیم کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheRealPCB/status/2057669684829602005'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCB/status/2057669684829602005"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ احمد دانیال، عرفات منہاس اور روحیل نذیر قومی ون ڈے انٹرنیشنل اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ محمد غازی غوری اور روحیل نذیر کو اسکواڈ میں وکٹ کیپر بیٹرز کے طور پر شامل کیا گیا۔ صاحبزادہ فرحان اور شمائل حسین بھی آسٹریلیا کے ساتھ 16 رکنی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز 30 مئی سے 4 جون تک راولپنڈی اور لاہور میں کھیلی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505678</guid>
      <pubDate>Fri, 22 May 2026 10:37:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/221037226ac449f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/221037226ac449f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ 2026: کون سے عالمی شہرت یافتہ فٹبالرز ٹورنامنٹ میں نظر نہیں آئیں گے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505760/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا ورلڈ کپ 2026 میں دنیا کے بہترین فٹبالرز شمالی ایکشن میں نظر آئیں گے، تاہم کئی بڑے اسٹارز یا تو اپنی ٹیموں کے کوالیفائی نہ کرنے یا انجریز کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جارجیا کے اسٹار ونگر خویچا کواراتسخیلیا اپنی ٹیم کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کے باعث ورلڈ کپ نہیں کھیل سکیں گے، جبکہ پولینڈ کے تجربہ کار اسٹرائیکر رابرٹ لیوانڈوسکی بھی ٹیم کی ناکامی کے بعد ایونٹ سے باہر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا، جس کے باعث عالمی شہرت یافتہ گول کیپر جیانلوئیجی ڈوناروما اور مڈفیلڈر سینڈرو ٹونالی بھی ایونٹ سے محروم رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائجیریا کی ناکامی نے وکٹر اوسیمہن اور ایڈیمولا لکمین جیسے بڑے ستاروں کو بھی ورلڈ کپ سے دور کردیا، جبکہ کیمرون کے برائن ایمبیومو بھی ٹیم کے باہر ہونے کے باعث شرکت نہیں کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505675/cristiano-ronaldo-al-nassr-saudi-pro-league-football-sports-manchester-united'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انجریز بھی کئی اسٹار کھلاڑیوں کے خواب توڑ گئیں۔ فرانس کے ہیوگو ایکیٹیکے، برازیل کے ایسٹیواؤ اور روڈریگو، نیدرلینڈز کے زاوی سیمنز اور جاپان کے تاکومی مینامینو سمیت متعدد کھلاڑی شدید انجریز کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ انگلینڈ نے کول پامر اور فل فوڈن کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا، جبکہ برازیل کے ایڈر میلیتاؤ، جواؤ پیڈرو اور ریچارلیسن بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلووینیا کے یان اوبلاک اور ہنگری کے ڈومینک سوبوسزلائی بھی اپنی ٹیموں کے کوالیفائی نہ کرنے کے باعث ورلڈ کپ میں ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا ورلڈ کپ 2026 میں دنیا کے بہترین فٹبالرز شمالی ایکشن میں نظر آئیں گے، تاہم کئی بڑے اسٹارز یا تو اپنی ٹیموں کے کوالیفائی نہ کرنے یا انجریز کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جارجیا کے اسٹار ونگر خویچا کواراتسخیلیا اپنی ٹیم کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کے باعث ورلڈ کپ نہیں کھیل سکیں گے، جبکہ پولینڈ کے تجربہ کار اسٹرائیکر رابرٹ لیوانڈوسکی بھی ٹیم کی ناکامی کے بعد ایونٹ سے باہر ہوگئے۔</p>
<p>اٹلی مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکا، جس کے باعث عالمی شہرت یافتہ گول کیپر جیانلوئیجی ڈوناروما اور مڈفیلڈر سینڈرو ٹونالی بھی ایونٹ سے محروم رہیں گے۔</p>
<p>نائجیریا کی ناکامی نے وکٹر اوسیمہن اور ایڈیمولا لکمین جیسے بڑے ستاروں کو بھی ورلڈ کپ سے دور کردیا، جبکہ کیمرون کے برائن ایمبیومو بھی ٹیم کے باہر ہونے کے باعث شرکت نہیں کرسکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505675/cristiano-ronaldo-al-nassr-saudi-pro-league-football-sports-manchester-united'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انجریز بھی کئی اسٹار کھلاڑیوں کے خواب توڑ گئیں۔ فرانس کے ہیوگو ایکیٹیکے، برازیل کے ایسٹیواؤ اور روڈریگو، نیدرلینڈز کے زاوی سیمنز اور جاپان کے تاکومی مینامینو سمیت متعدد کھلاڑی شدید انجریز کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے۔</p>
<p>اس کے علاوہ انگلینڈ نے کول پامر اور فل فوڈن کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا، جبکہ برازیل کے ایڈر میلیتاؤ، جواؤ پیڈرو اور ریچارلیسن بھی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔</p>
<p>سلووینیا کے یان اوبلاک اور ہنگری کے ڈومینک سوبوسزلائی بھی اپنی ٹیموں کے کوالیفائی نہ کرنے کے باعث ورلڈ کپ میں ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505760</guid>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 11:13:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/241108549f9c96e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/241108549f9c96e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانسیسی کلب 'لینز' کی تاریخی کامیابی، 120 سال بعد کوپا ڈی فرانس کا ٹائٹل جیت لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505737/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانسیسی فٹبال کلب آر سی لینز نے تاریخ رقم کرتے ہوئے 120 سال میں پہلی بار کوپا ڈی فرانس کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائنل میں لینز نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے او جی سی نیس کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر ٹرافی جیت لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلہ کن مقابلے میں لینز کے کھلاڑی ابتدا ہی سے حریف ٹیم پر حاوی رہے اور جارحانہ حکمت عملی کے باعث نیس کی دفاعی لائن دباؤ کا شکار دکھائی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے دوران لینز کے کھلاڑیوں نے بہترین ٹیم ورک اور تیز رفتار کھیل پیش کرتے ہوئے تین گول اسکور کیے، جبکہ نیس کی ٹیم صرف ایک گول کرنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/231535200a362b2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/231535200a362b2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاریخی فتح کے بعد اسٹیڈیم میں موجود شائقین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ لینز کے کھلاڑیوں نے میدان میں بھرپور جشن منایا جبکہ فینز نے اپنی ٹیم کی کامیابی پر نعرے بازی اور خوشی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلب کی ایک صدی سے زائد عرصے بعد بڑی ٹرافی جیتنے پر شہر بھر میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کامیابی کو لینز کی فٹبال تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کلب نے 120 برس بعد پہلی مرتبہ کوپا ڈی فرانس کا اعزاز حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانسیسی فٹبال کلب آر سی لینز نے تاریخ رقم کرتے ہوئے 120 سال میں پہلی بار کوپا ڈی فرانس کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>فائنل میں لینز نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے او جی سی نیس کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے کر ٹرافی جیت لی۔</p>
<p>فیصلہ کن مقابلے میں لینز کے کھلاڑی ابتدا ہی سے حریف ٹیم پر حاوی رہے اور جارحانہ حکمت عملی کے باعث نیس کی دفاعی لائن دباؤ کا شکار دکھائی دی۔</p>
<p>میچ کے دوران لینز کے کھلاڑیوں نے بہترین ٹیم ورک اور تیز رفتار کھیل پیش کرتے ہوئے تین گول اسکور کیے، جبکہ نیس کی ٹیم صرف ایک گول کرنے میں کامیاب رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/231535200a362b2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/231535200a362b2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاریخی فتح کے بعد اسٹیڈیم میں موجود شائقین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ لینز کے کھلاڑیوں نے میدان میں بھرپور جشن منایا جبکہ فینز نے اپنی ٹیم کی کامیابی پر نعرے بازی اور خوشی کا اظہار کیا۔</p>
<p>کلب کی ایک صدی سے زائد عرصے بعد بڑی ٹرافی جیتنے پر شہر بھر میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>اس کامیابی کو لینز کی فٹبال تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کلب نے 120 برس بعد پہلی مرتبہ کوپا ڈی فرانس کا اعزاز حاصل کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505737</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 15:38:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23153313128a5d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23153313128a5d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ کی تیاریاں عروج پر، وارم اپ میچ میں میکسیکو کی گھانا کو 0-2 سے شکست</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505735/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں نے زور پکڑ لیا ہے، مختلف ٹیموں نے عالمی ایونٹ سے قبل اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینا شروع کردی ہے۔ وارم اپ میچ میں میزبان میکسیکو نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھانا کو کو دو صفر سے شکست دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ میں میکسیکو کی جانب سے برائن گٹیریز اور گولرمو نے ایک، ایک گول اسکور کرکے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کو شائقینِ فٹبال نے خوب سراہا، جبکہ کوچنگ اسٹاف نے بھی ٹیم کے مجموعی کھیل پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میکسیکو نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور صرف دو منٹ بعد برائن گٹیریز نے باکس کے کنارے سے خوبصورت کِک پر گیند جال میں پہنچا کر ٹیم کو برتری دلا دی۔ پہلے ہاف میں نوجوان لیگا ایم ایکس اسٹار گل مورا نے بھی شاندار کھیل پیش کیا، تاہم ان کی کوشش گیند پوسٹ سے ٹکرا گئی، جبکہ الیکسس ویگا کا ہیڈر آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505652/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505652"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میکسیکو کے کوچ نے گل مورا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مختلف انداز کے کھلاڑی ہیں۔ ان کے مطابق مورا بہادر، سیدھے انداز میں کھیلنے والے اور ٹیم کے لیے خوشی کا باعث ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ انجری کے بعد بغیر تکلیف کے واپس آئے ہیں۔ مورا نے نومبر کے بعد میکسیکو کے لیے پہلی بار میدان میں واپسی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گھانا نے بھی دوسرے ہاف کے آغاز میں میچ برابر کرنے کی کوشش کی۔ حال ہی میں مقرر کیے گئے کوچ کارلوس کیروز ؎کی عدم موجودگی میں معاون کوچز نے ٹیم کی رہنمائی کی۔ گھانا نے میکسیکن گول کیپر کو دو اہم سیوز کرنے پر مجبور کیا جبکہ ایک موقع پر گیند کراس بار سے بھی ٹکرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں ارجنٹائن نے بھی منفرد اقدام اٹھا لیا۔ ارجنٹائن حکومت نے قومی فٹبال ٹیم کے لیے خصوصی ائربس طیارہ تیار کرلیا ہے، جس میں ورلڈ کپ کے دوران اسکواڈ سفر کرے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505556'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505556"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خصوصی طیارے پر ٹیم کی شناخت کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے، طیارے کی دم پر دس کا ہندسہ درج کیا گیا ہے جبکہ ارجنٹائن کے تین عالمی ٹائٹلز کی مناسبت سے تین اسٹارز بھی پینٹ کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خصوصی طیارہ کھلاڑیوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے اور ٹیم کے مورال کو بلند رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹبال کے عالمی میلے سے قبل مختلف ممالک کی جانب سے تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور شائقین بھی سنسنی خیز مقابلوں کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں نے زور پکڑ لیا ہے، مختلف ٹیموں نے عالمی ایونٹ سے قبل اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینا شروع کردی ہے۔ وارم اپ میچ میں میزبان میکسیکو نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھانا کو کو دو صفر سے شکست دے دی۔</strong></p>
<p>میچ میں میکسیکو کی جانب سے برائن گٹیریز اور گولرمو نے ایک، ایک گول اسکور کرکے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کو شائقینِ فٹبال نے خوب سراہا، جبکہ کوچنگ اسٹاف نے بھی ٹیم کے مجموعی کھیل پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>میکسیکو نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور صرف دو منٹ بعد برائن گٹیریز نے باکس کے کنارے سے خوبصورت کِک پر گیند جال میں پہنچا کر ٹیم کو برتری دلا دی۔ پہلے ہاف میں نوجوان لیگا ایم ایکس اسٹار گل مورا نے بھی شاندار کھیل پیش کیا، تاہم ان کی کوشش گیند پوسٹ سے ٹکرا گئی، جبکہ الیکسس ویگا کا ہیڈر آف سائیڈ قرار دے دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505652/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505652"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میکسیکو کے کوچ نے گل مورا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مختلف انداز کے کھلاڑی ہیں۔ ان کے مطابق مورا بہادر، سیدھے انداز میں کھیلنے والے اور ٹیم کے لیے خوشی کا باعث ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ انجری کے بعد بغیر تکلیف کے واپس آئے ہیں۔ مورا نے نومبر کے بعد میکسیکو کے لیے پہلی بار میدان میں واپسی کی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب گھانا نے بھی دوسرے ہاف کے آغاز میں میچ برابر کرنے کی کوشش کی۔ حال ہی میں مقرر کیے گئے کوچ کارلوس کیروز ؎کی عدم موجودگی میں معاون کوچز نے ٹیم کی رہنمائی کی۔ گھانا نے میکسیکن گول کیپر کو دو اہم سیوز کرنے پر مجبور کیا جبکہ ایک موقع پر گیند کراس بار سے بھی ٹکرائی۔</p>
<p>دوسری جانب فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں ارجنٹائن نے بھی منفرد اقدام اٹھا لیا۔ ارجنٹائن حکومت نے قومی فٹبال ٹیم کے لیے خصوصی ائربس طیارہ تیار کرلیا ہے، جس میں ورلڈ کپ کے دوران اسکواڈ سفر کرے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505556'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505556"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خصوصی طیارے پر ٹیم کی شناخت کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے، طیارے کی دم پر دس کا ہندسہ درج کیا گیا ہے جبکہ ارجنٹائن کے تین عالمی ٹائٹلز کی مناسبت سے تین اسٹارز بھی پینٹ کیے گئے ہیں۔</p>
<p>یہ خصوصی طیارہ کھلاڑیوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے اور ٹیم کے مورال کو بلند رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>فٹبال کے عالمی میلے سے قبل مختلف ممالک کی جانب سے تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور شائقین بھی سنسنی خیز مقابلوں کے منتظر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505735</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 15:29:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2315295070cecc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2315295070cecc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میچ ہارنے پر ویرات کوہلی نے ٹریوس ہیڈ پر غصہ اتار دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505718/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں سن رائزرز حیدر آباد کی ٹیم سے ہارنے کے بعد رائل چیلنجرز بنگلورو کے سابق کپتان ویرات کوہلی کا تکبر بھرا انداز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جب وہ میچ کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ ملائے بغیر آگے بڑھ گئے اور یہ لمحہ کیمرے میں قید ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں جمعہ 22 مئی کو راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران سن رائزرز حیدر آباد اور رائل چیلنجرز بنگلورو کے درمیان مقابلہ نہ صرف میدان میں بلکہ میچ کے بعد بھی خبروں کی زینت بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن رائزرز حیدرآباد نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائل چیلنجرز بنگلورو کو 55 رنز سے شکست دی، تاہم سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ چرچا بھارتی اسٹار بیٹر ویران کوہلی اور آسٹریلوی اوپنر ٹریوس ہیڈ کے درمیان پیش آنے والے تناؤ بھرے لمحے کا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ میچ کے اختتام پر ویرات کوہلی نے روایتی مصافحے کے دوران ٹریوس ہیڈ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CricketopiaCom/status/2057896332640268412?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2057896332640268412%7Ctwgr%5E9b7358ac4144bd400463da5b0d6aa9a7d05425a8%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Fcricket%2Fstory%2Fvirat-kohli-travis-head-ignore-handshake-controversey-srh-vs-rcb-watch-viral-video-2915803-2026-05-23'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CricketopiaCom/status/2057896332640268412?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2057896332640268412%7Ctwgr%5E9b7358ac4144bd400463da5b0d6aa9a7d05425a8%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Fcricket%2Fstory%2Fvirat-kohli-travis-head-ignore-handshake-controversey-srh-vs-rcb-watch-viral-video-2915803-2026-05-23"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کوہلی نے سن رائزرز حیدرآباد کے کپتان ابھیشیک شرما، پیٹ کمنز اور اشان کشن سے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا، تاہم وہ ٹریوس ہیڈ کے سامنے سے تیزی سے گزر گئے، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان کشیدگی میچ کے دوران ہی واضح ہوگئی تھی۔ پہلی اننگز میں جب ٹریوس ہیڈ 26 رنز بنا کر راسکھ سلام ڈار کی گیند پر بولڈ ہوئے تو ویرات کوہلی نے انتہائی جذباتی انداز میں جشن منایا، جس نے شائقین کی توجہ حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 256 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گرما گرم جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ویرات کوہلی کو ٹریوس ہیڈ کی جانب جارحانہ اشارے کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جہاں انہوں نے آسٹریلوی کھلاڑی کو بولنگ کے لیے آنے کا چیلنج دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں سن رائزرز حیدر آباد کی ٹیم سے ہارنے کے بعد رائل چیلنجرز بنگلورو کے سابق کپتان ویرات کوہلی کا تکبر بھرا انداز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جب وہ میچ کے بعد آسٹریلوی کھلاڑی ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ ملائے بغیر آگے بڑھ گئے اور یہ لمحہ کیمرے میں قید ہوگیا۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں جمعہ 22 مئی کو راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران سن رائزرز حیدر آباد اور رائل چیلنجرز بنگلورو کے درمیان مقابلہ نہ صرف میدان میں بلکہ میچ کے بعد بھی خبروں کی زینت بنا۔</p>
<p>سن رائزرز حیدرآباد نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائل چیلنجرز بنگلورو کو 55 رنز سے شکست دی، تاہم سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ چرچا بھارتی اسٹار بیٹر ویران کوہلی اور آسٹریلوی اوپنر ٹریوس ہیڈ کے درمیان پیش آنے والے تناؤ بھرے لمحے کا رہا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ میچ کے اختتام پر ویرات کوہلی نے روایتی مصافحے کے دوران ٹریوس ہیڈ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CricketopiaCom/status/2057896332640268412?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2057896332640268412%7Ctwgr%5E9b7358ac4144bd400463da5b0d6aa9a7d05425a8%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Fcricket%2Fstory%2Fvirat-kohli-travis-head-ignore-handshake-controversey-srh-vs-rcb-watch-viral-video-2915803-2026-05-23'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CricketopiaCom/status/2057896332640268412?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2057896332640268412%7Ctwgr%5E9b7358ac4144bd400463da5b0d6aa9a7d05425a8%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.indiatoday.in%2Fsports%2Fcricket%2Fstory%2Fvirat-kohli-travis-head-ignore-handshake-controversey-srh-vs-rcb-watch-viral-video-2915803-2026-05-23"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کوہلی نے سن رائزرز حیدرآباد کے کپتان ابھیشیک شرما، پیٹ کمنز اور اشان کشن سے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا، تاہم وہ ٹریوس ہیڈ کے سامنے سے تیزی سے گزر گئے، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا۔</p>
<p>کوہلی اور ٹریوس ہیڈ کے درمیان کشیدگی میچ کے دوران ہی واضح ہوگئی تھی۔ پہلی اننگز میں جب ٹریوس ہیڈ 26 رنز بنا کر راسکھ سلام ڈار کی گیند پر بولڈ ہوئے تو ویرات کوہلی نے انتہائی جذباتی انداز میں جشن منایا، جس نے شائقین کی توجہ حاصل کی تھی۔</p>
<p>بعد ازاں 256 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گرما گرم جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ ویرات کوہلی کو ٹریوس ہیڈ کی جانب جارحانہ اشارے کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جہاں انہوں نے آسٹریلوی کھلاڑی کو بولنگ کے لیے آنے کا چیلنج دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505718</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 11:28:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23112545acb21e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23112545acb21e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رونالڈو کا جادو چل گیا: النصر پہلی بار سعودی پرو لیگ کا چیمپئن بن گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505675/cristiano-ronaldo-al-nassr-saudi-pro-league-football-sports-manchester-united</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی پرو لیگ میں بالآخر وہ لمحہ آ ہی گیا جس کا برسوں سے انتظار تھا، سعودی فٹ بال کے سب سے بڑے برانڈ ایمبیسیڈر کرسٹیانو رونالڈو نے پہلی بار النصر کے ساتھ لیگ ٹرافی اپنے نام کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگ کے آخری میچ میں جمعرات کو النصر نے دمک کلب کو 1-4 سے شکست دے کر 2019 کے بعد پہلی بار سعودی پرو لیگ کا چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتگالی اسٹار رونالڈو نے اس اہم مقابلے میں دو گول اسکور کیے اور یوں وہ مقصد پورا کر دکھایا جس کے لیے دسمبر 2022 میں انہیں مانچسٹر یونائیٹڈ چھوڑنے کے بعد سعودی عرب لایا گیا تھا۔ تین برس سے زائد عرصے میں رونالڈو، النصر کے لیے تمام مقابلوں میں 127 سے زیادہ گول اسکور کر چکے ہیں۔ اس دوران ان کی ٹیم کے ساتھ سب سے بڑا ہدف سعودی پرو لیگ کا ٹائٹل جیتنا رہا، جو بالآخر اس سیزن میں مکمل ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Cristiano/status/2057582069543252203?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Cristiano/status/2057582069543252203?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میدان میں موجود زبردست جوش و خروش اور تماشائیوں کے شور کے درمیان رونالڈو نے اپنی شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ فیصلہ کن گول داغ دیا جس نے کھیل کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔  شاندار فتح کا وہ یادگار لمحہ جس سے اسٹیڈیم  نعروں اور جوش سے گونج اٹھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ActuSPL/status/2057548557020758505?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ActuSPL/status/2057548557020758505?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ النصر کی تاریخ کا گیارہواں لیگ ٹائٹل ہے جبکہ رونالڈو کے کیریئر کا آٹھواں لیگ چیمپئن شپ اعزاز بھی بن گیا ہے۔ اس سے قبل وہ انگلینڈ میں مانچسٹر یونائیٹڈ، اسپین میں ریال میڈرڈ اور اٹلی میں یووینٹس کے ساتھ لیگ ٹرافیاں جیت چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈو کی آمد کے بعد سعودی فٹبال میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شامل ہوئی، جن میں کریم بینزیما، این گولو کانٹے، ریاض محرز، سادیو مانے اور نیمار شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی شمولیت نے سعودی لیگ کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس سیزن میں النصر نے کامیابی حاصل کی، لیکن سعودی فٹبال منصوبے پر حالیہ مہینوں میں سوالات بھی اٹھے ہیں۔ لیگ میں ریفری کے فیصلوں اور بعض کلبوں کو ترجیح دینے کے الزامات سامنے آئے، جبکہ رونالڈو نے بھی سیزن کے دوران لیگ کے ماحول پر تنقید کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق النصر کی یہ کامیابی سعودی عرب کے اس وژن کو تقویت دے گی جس کے تحت ملک کھیلوں کے عالمی مرکز کے طور پر خود کو منوانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی پرو لیگ میں بالآخر وہ لمحہ آ ہی گیا جس کا برسوں سے انتظار تھا، سعودی فٹ بال کے سب سے بڑے برانڈ ایمبیسیڈر کرسٹیانو رونالڈو نے پہلی بار النصر کے ساتھ لیگ ٹرافی اپنے نام کر لی۔</strong></p>
<p>لیگ کے آخری میچ میں جمعرات کو النصر نے دمک کلب کو 1-4 سے شکست دے کر 2019 کے بعد پہلی بار سعودی پرو لیگ کا چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔</p>
<p>پرتگالی اسٹار رونالڈو نے اس اہم مقابلے میں دو گول اسکور کیے اور یوں وہ مقصد پورا کر دکھایا جس کے لیے دسمبر 2022 میں انہیں مانچسٹر یونائیٹڈ چھوڑنے کے بعد سعودی عرب لایا گیا تھا۔ تین برس سے زائد عرصے میں رونالڈو، النصر کے لیے تمام مقابلوں میں 127 سے زیادہ گول اسکور کر چکے ہیں۔ اس دوران ان کی ٹیم کے ساتھ سب سے بڑا ہدف سعودی پرو لیگ کا ٹائٹل جیتنا رہا، جو بالآخر اس سیزن میں مکمل ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Cristiano/status/2057582069543252203?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Cristiano/status/2057582069543252203?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>میدان میں موجود زبردست جوش و خروش اور تماشائیوں کے شور کے درمیان رونالڈو نے اپنی شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ فیصلہ کن گول داغ دیا جس نے کھیل کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔  شاندار فتح کا وہ یادگار لمحہ جس سے اسٹیڈیم  نعروں اور جوش سے گونج اٹھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ActuSPL/status/2057548557020758505?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ActuSPL/status/2057548557020758505?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ النصر کی تاریخ کا گیارہواں لیگ ٹائٹل ہے جبکہ رونالڈو کے کیریئر کا آٹھواں لیگ چیمپئن شپ اعزاز بھی بن گیا ہے۔ اس سے قبل وہ انگلینڈ میں مانچسٹر یونائیٹڈ، اسپین میں ریال میڈرڈ اور اٹلی میں یووینٹس کے ساتھ لیگ ٹرافیاں جیت چکے ہیں۔</p>
<p>رونالڈو کی آمد کے بعد سعودی فٹبال میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شامل ہوئی، جن میں کریم بینزیما، این گولو کانٹے، ریاض محرز، سادیو مانے اور نیمار شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی شمولیت نے سعودی لیگ کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔</p>
<p>اگرچہ اس سیزن میں النصر نے کامیابی حاصل کی، لیکن سعودی فٹبال منصوبے پر حالیہ مہینوں میں سوالات بھی اٹھے ہیں۔ لیگ میں ریفری کے فیصلوں اور بعض کلبوں کو ترجیح دینے کے الزامات سامنے آئے، جبکہ رونالڈو نے بھی سیزن کے دوران لیگ کے ماحول پر تنقید کی تھی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق النصر کی یہ کامیابی سعودی عرب کے اس وژن کو تقویت دے گی جس کے تحت ملک کھیلوں کے عالمی مرکز کے طور پر خود کو منوانا چاہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505675</guid>
      <pubDate>Fri, 22 May 2026 11:44:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/22103838a3dd2af.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/22103838a3dd2af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد صلاح کی قیادت میں فیفا ورلڈ کپ کے لیے مصر کی ٹیم کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505652/mohammad-salah-will-lead-egypt-in-fifa-world-cup-2026</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصر نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 27 رکنی ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جس کی قیادت اسٹار فٹبالر محمد صلاح کریں گے، جو اس ممکنہ آخری ورلڈکپ میں نئے ریکارڈز بنانے اور مصر کو فتح دلوانے کے لیے پُرعزم ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ فٹبال کا یہ عالمی ایونٹ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصری نے ورلڈکپ اسکواڈ میں جہاں ایک جانب تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے وہیں نوجوان ٹیلنٹ کو بھی موقع دیا گیا ہے، تاہم فرانسیسی کلب نانٹس کے فارورڈ مصطفیٰ محمد کو غیر متوقع طور پر اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑی حمزہ عبدالکریم کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے، وہ اس وقت فرانسیسی کلب بارسلونا کے انڈر 19 اسکواڈ کا حصہ ہیں اور حالیہ عرصے میں شاندار فارم کی وجہ سے مصر کے ابھرتے ہوئے فارورڈز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2057039083285733843'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2057039083285733843"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مصطفیٰ محمد کی عدم شمولیت کو بھی حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ وہ اس سیزن میں اپنے کلب ’نینٹس‘ کے لیے 24 میچوں میں صرف چار گول کر سکے اور ٹیم فرانسیسی لیگ سے بھی باہر ہو گئی، تاہم ان کا تجربہ مصر کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد صلاح کی بات کی جائے تو وہ اس ورلڈ کپ میں کئی بڑے ریکارڈز بنانے کے قریب ہیں۔ اس ورلڈ کپ کو انکے بین الاقوامی کیریئر کے آخری بڑے ایونٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/LFC/status/1133000918285398016'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/LFC/status/1133000918285398016"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محمد صلاح اب تک مصر کے لیے 67 گول اسکور کر چکے ہیں۔ انہیں اپنے موجودہ ہیڈ کوچ حسام حسن کے 69 گول کا ریکارڈ توڑ کر مصر کی تاریخ کا ٹاپ گول اسکورر بننے کے لیے صرف 3 مزید گول درکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد صلاح نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 2025-26 سیزن کے بعد لیورپول فٹبال کلب بھی چھوڑ دیں گے۔ اپنے 9 سالہ شاندار پریمیئر لیگ کیریئر کے اختتام پر انہوں نے ایک ہی کلب کے لیے سب سے زیادہ گولز اور اسسٹس کا انگلش فٹبالر وین رونی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور وہ 257 گولز کے حیرت انگیز ریکارڈ کے ساتھ ’اینفیلڈ‘ کو الوداع کہہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MiddleEast_24/status/2057265119617523953'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MiddleEast_24/status/2057265119617523953"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محمد صلاح افریقی کوالیفائرز کی تاریخ میں بھی سب سے زیادہ (20) گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ وہ 2026 کی کوالیفائنگ مہم میں بھی 9 گولز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے اور مصر کو ناقابلِ شکست رہتے ہوئے ورلڈ کپ تک پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ مصر نے فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ میں آج تک کوئی میچ نہیں جیتا ہے۔ محمد صلاح کا سب سے بڑا ہدف ’گروپ جی‘ میں مصر کو ورلڈ کپ کی پہلی تاریخی فتح دلوانا اور ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ مہم کے باقاعدہ آغاز سے قبل مصری ٹیم 6 جون کو کلیولینڈ میں برازیل کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلے گی۔ اس کے بعد ورلڈ کپ کے ’گروپ جی‘ میں مصر کا مقابلہ 15 جون کو بیلجیم، 21 جون کو نیوزی لینڈ اور 26 جون کو ایران سے ہوگا۔ کپتان محمد صلاح، مانچسٹر سٹی کے فارورڈ عمر مرموش کے ساتھ مل کر ٹیم کی فارورڈ لائن بھی سنبھالیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصر نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 27 رکنی ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جس کی قیادت اسٹار فٹبالر محمد صلاح کریں گے، جو اس ممکنہ آخری ورلڈکپ میں نئے ریکارڈز بنانے اور مصر کو فتح دلوانے کے لیے پُرعزم ہیں۔</strong></p>
<p>مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ فٹبال کا یہ عالمی ایونٹ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلا جائے گا۔</p>
<p>مصری نے ورلڈکپ اسکواڈ میں جہاں ایک جانب تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے وہیں نوجوان ٹیلنٹ کو بھی موقع دیا گیا ہے، تاہم فرانسیسی کلب نانٹس کے فارورڈ مصطفیٰ محمد کو غیر متوقع طور پر اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔</p>
<p>27 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑی حمزہ عبدالکریم کو پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے، وہ اس وقت فرانسیسی کلب بارسلونا کے انڈر 19 اسکواڈ کا حصہ ہیں اور حالیہ عرصے میں شاندار فارم کی وجہ سے مصر کے ابھرتے ہوئے فارورڈز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2057039083285733843'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2057039083285733843"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب مصطفیٰ محمد کی عدم شمولیت کو بھی حیران کن قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ وہ اس سیزن میں اپنے کلب ’نینٹس‘ کے لیے 24 میچوں میں صرف چار گول کر سکے اور ٹیم فرانسیسی لیگ سے بھی باہر ہو گئی، تاہم ان کا تجربہ مصر کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا۔</p>
<p>محمد صلاح کی بات کی جائے تو وہ اس ورلڈ کپ میں کئی بڑے ریکارڈز بنانے کے قریب ہیں۔ اس ورلڈ کپ کو انکے بین الاقوامی کیریئر کے آخری بڑے ایونٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/LFC/status/1133000918285398016'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/LFC/status/1133000918285398016"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>محمد صلاح اب تک مصر کے لیے 67 گول اسکور کر چکے ہیں۔ انہیں اپنے موجودہ ہیڈ کوچ حسام حسن کے 69 گول کا ریکارڈ توڑ کر مصر کی تاریخ کا ٹاپ گول اسکورر بننے کے لیے صرف 3 مزید گول درکار ہیں۔</p>
<p>محمد صلاح نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 2025-26 سیزن کے بعد لیورپول فٹبال کلب بھی چھوڑ دیں گے۔ اپنے 9 سالہ شاندار پریمیئر لیگ کیریئر کے اختتام پر انہوں نے ایک ہی کلب کے لیے سب سے زیادہ گولز اور اسسٹس کا انگلش فٹبالر وین رونی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور وہ 257 گولز کے حیرت انگیز ریکارڈ کے ساتھ ’اینفیلڈ‘ کو الوداع کہہ رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MiddleEast_24/status/2057265119617523953'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MiddleEast_24/status/2057265119617523953"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>محمد صلاح افریقی کوالیفائرز کی تاریخ میں بھی سب سے زیادہ (20) گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ وہ 2026 کی کوالیفائنگ مہم میں بھی 9 گولز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے اور مصر کو ناقابلِ شکست رہتے ہوئے ورلڈ کپ تک پہنچایا۔</p>
<p>واضح رہے کہ مصر نے فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ میں آج تک کوئی میچ نہیں جیتا ہے۔ محمد صلاح کا سب سے بڑا ہدف ’گروپ جی‘ میں مصر کو ورلڈ کپ کی پہلی تاریخی فتح دلوانا اور ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچانا ہے۔</p>
<p>ورلڈ کپ مہم کے باقاعدہ آغاز سے قبل مصری ٹیم 6 جون کو کلیولینڈ میں برازیل کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلے گی۔ اس کے بعد ورلڈ کپ کے ’گروپ جی‘ میں مصر کا مقابلہ 15 جون کو بیلجیم، 21 جون کو نیوزی لینڈ اور 26 جون کو ایران سے ہوگا۔ کپتان محمد صلاح، مانچسٹر سٹی کے فارورڈ عمر مرموش کے ساتھ مل کر ٹیم کی فارورڈ لائن بھی سنبھالیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505652</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 15:23:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2114352180ceb56.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2114352180ceb56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شان مسعود کی کپتانی میں پاکستان ٹیم کو 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز میں شکست</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505613/shan-masood-likely-to-resign-after-whitewash-against-bangladesh</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، ان کی قیادت میں قومی ٹیم 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز ہار گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سلہٹ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے آخری دن بنگلا دیش نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے 437 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی ٹیم 358 رنز بنا سکی اور یوں دوسرے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم کو 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505592/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505592"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش سے شکست کے بعد شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، قومی ٹیم کو اب تک ان کی قیادت میں کھیلے گئے 16 ٹیسٹ میچز میں سے 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کامیابیوں کی تعداد انتہائی محدود رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلادیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان ٹیم خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور شان مسعود کی کپتانی میں ہی دوسری مرتبہ وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ٹیم کی پرفارمنس پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Aryaseen5911/status/2056977695595184178?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Aryaseen5911/status/2056977695595184178?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سال 2024 میں بھی بنگلادیش نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں مہمان ٹیم نے قومی ٹیم کو دو صفر سے شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ نتائج کے بعد قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی، ٹیم کمبی نیشن اور قیادت کے حوالے سے سوالات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تبدیلی-سے-زیادہ-بہتری-کے-لیے-سوچنا-ہوگا-شان-مسعود" href="#تبدیلی-سے-زیادہ-بہتری-کے-لیے-سوچنا-ہوگا-شان-مسعود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;تبدیلی سے زیادہ بہتری کے لیے سوچنا ہوگا: شان مسعود&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;بنگلادیش کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد سلہٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  شان مسعود نے کہا کہ میری نیت صاف ہے اور کپتانی کی ذمہ داری ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری کیلئے لی تھی، کچھ چیزیں ہیں جنہیں بہتر کرنے کیلئے کرکٹ بورڈ سے بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505246/dhaka-test-pakistan-vs-bangladesh'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کپتانی کے حوالے سے فیصلہ ہمیشہ کرکٹ بورڈ کا ہوتا ہے، ان کی سوچ ہمیشہ کرکٹ کی بہتری کیلئے رہی ہے، بہتری لانے کیلئے ضروری نہیں کہ کرسی پر بیٹھ کر ہی سوچا جائے یا فیصلے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شان مسعود کے مطابق تبدیلی سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر بنانے کیلئے سوچنا ہوگا، شکست کا ذمہ دار بیٹنگ، بولنگ یا فیلڈنگ کو قرار نہیں دوں گا ، جب جیت ہوتی ہے تو 10رنز ہوں یا 100رنز سب کی اہمیت ہوتی ہے، شکست پر وہ بھی دلبرداشتہ ہیں لیکن نا تو جذبات میں آکر سوچنا ہوگا اور نا ہی جذباتی فیصلے کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جو کمی یا خامی ہے اس کو  کس طرح پورا کیا جائے، 40 سال کا کرکٹر ہو یا 18 سال کا کمی یا خامی کو دور کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، ان کی قیادت میں قومی ٹیم 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز ہار گئی۔</strong></p>
<p>واضح رہے کہ سلہٹ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے آخری دن بنگلا دیش نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے 437 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی ٹیم 358 رنز بنا سکی اور یوں دوسرے ٹیسٹ میں مہمان ٹیم کو 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505592/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505592"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنگلہ دیش سے شکست کے بعد شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، قومی ٹیم کو اب تک ان کی قیادت میں کھیلے گئے 16 ٹیسٹ میچز میں سے 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کامیابیوں کی تعداد انتہائی محدود رہی۔</p>
<p>بنگلادیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان ٹیم خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور شان مسعود کی کپتانی میں ہی دوسری مرتبہ وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ٹیم کی پرفارمنس پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Aryaseen5911/status/2056977695595184178?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Aryaseen5911/status/2056977695595184178?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل سال 2024 میں بھی بنگلادیش نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں مہمان ٹیم نے قومی ٹیم کو دو صفر سے شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔</p>
<p>حالیہ نتائج کے بعد قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی، ٹیم کمبی نیشن اور قیادت کے حوالے سے سوالات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔</p>
<h1><a id="تبدیلی-سے-زیادہ-بہتری-کے-لیے-سوچنا-ہوگا-شان-مسعود" href="#تبدیلی-سے-زیادہ-بہتری-کے-لیے-سوچنا-ہوگا-شان-مسعود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>تبدیلی سے زیادہ بہتری کے لیے سوچنا ہوگا: شان مسعود</strong></h1>
<p>بنگلادیش کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد سلہٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  شان مسعود نے کہا کہ میری نیت صاف ہے اور کپتانی کی ذمہ داری ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری کیلئے لی تھی، کچھ چیزیں ہیں جنہیں بہتر کرنے کیلئے کرکٹ بورڈ سے بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505246/dhaka-test-pakistan-vs-bangladesh'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کپتانی کے حوالے سے فیصلہ ہمیشہ کرکٹ بورڈ کا ہوتا ہے، ان کی سوچ ہمیشہ کرکٹ کی بہتری کیلئے رہی ہے، بہتری لانے کیلئے ضروری نہیں کہ کرسی پر بیٹھ کر ہی سوچا جائے یا فیصلے کیے جائیں۔</p>
<p>شان مسعود کے مطابق تبدیلی سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر بنانے کیلئے سوچنا ہوگا، شکست کا ذمہ دار بیٹنگ، بولنگ یا فیلڈنگ کو قرار نہیں دوں گا ، جب جیت ہوتی ہے تو 10رنز ہوں یا 100رنز سب کی اہمیت ہوتی ہے، شکست پر وہ بھی دلبرداشتہ ہیں لیکن نا تو جذبات میں آکر سوچنا ہوگا اور نا ہی جذباتی فیصلے کرنے ہوں گے۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جو کمی یا خامی ہے اس کو  کس طرح پورا کیا جائے، 40 سال کا کرکٹر ہو یا 18 سال کا کمی یا خامی کو دور کرنا ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505613</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 18:24:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2017421952dc78d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2017421952dc78d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
