<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 14:31:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 14:31:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپ سوچیں، روبوٹ کام کردے گا: چین نے حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509587/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے شہر شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ اے آئی کانفرنس 2026 کے دوران چینی کمپنی ”برین کو“ نے ایک نئی ”برین ٹو روبوٹ“ ٹیکنالوجی پیش کی، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے انسان بغیر کسی جسمانی حرکت اور بغیر دماغ کی سرجری کے صرف اپنے خیالات کے ذریعے روبوٹ کو کنٹرول کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام میں کسی چپ کو دماغ کے اندر نصب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صارف صرف ایک ہلکا پھلکا ہیڈ سیٹ پہنتا ہے، جو دماغ کی برقی سرگرمی، یعنی ای ای جی، کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ان دماغی سگنلز کا تجزیہ کرتا ہے، صارف کی نیت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر روبوٹ کو اسی کے مطابق حرکت کرنے کا حکم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر صارف کسی کپ کو اٹھانے کا ارادہ کرے تو روبوٹک بازو اس اشارے کو سمجھ کر کپ اٹھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی جانب سے کانفرنس میں دیے گئے مظاہرے میں ایک روبوٹک بازو کو صرف دماغی اشاروں کے ذریعے کپ اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ’برین کو‘ کے مطابق یہی پلیٹ فارم صرف روبوٹک بازو ہی نہیں بلکہ انسانی شکل والے روبوٹس اور روبوٹک کتوں کو بھی کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اس کے مطابق ایسا محقق بھی، جسے برین کمپیوٹر انٹرفیس کا کوئی سابقہ تجربہ نہ ہو، تقریباً 10 منٹ میں صرف سوچ کے ذریعے روبوٹ کو چلانا سیکھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21092254e7bf12c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21092254e7bf12c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس نئی پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ نظام ایلون مسک کی امریکی کمپنی نیورالنک کے طریقہ کار سے مختلف ہے، کیونکہ نیورالنک میں دماغ کے اندر چپ نصب کرنے کے لیے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ’برین کو‘ کی ٹیکنالوجی دماغی سگنلز کو بیرونی ’ہیڈ سیٹ‘ کے ذریعے پڑھتی ہے، اس لیے کسی آپریشن یا امپلانٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر ایسی ٹیکنالوجی عملی طور پر مؤثر ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں اس کے کئی اہم استعمال سامنے آ سکتے ہیں۔ جسمانی معذوری کا شکار افراد مصنوعی اعضا یا وہیل چیئر کو صرف اپنے خیالات کے ذریعے کنٹرول کر سکیں گے، جبکہ صنعت، تحقیق اور روبوٹکس کے شعبوں میں بھی انسان اور مشین کے درمیان رابطہ مزید تیز اور آسان بنایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506952/israel-developing-space-lasers-to-attack-above-the-earth-katz-says'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;“برین کو“ کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی اور اسے چین کی تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپنی مصنوعی ذہانت، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور روبوٹکس کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمپنی کی جانب سے اس پلیٹ فارم کو دنیا کا پہلا مربوط ”برین ٹو روبوٹ“ نظام قرار دینے کے دعوے کی ابھی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی حقیقی صلاحیت، درستگی اور بڑے پیمانے پر استعمال کے امکانات کا اندازہ مزید آزادانہ تجربات اور سائنسی جائزوں کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے شہر شنگھائی میں ہونے والی ورلڈ اے آئی کانفرنس 2026 کے دوران چینی کمپنی ”برین کو“ نے ایک نئی ”برین ٹو روبوٹ“ ٹیکنالوجی پیش کی، جس کے بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے انسان بغیر کسی جسمانی حرکت اور بغیر دماغ کی سرجری کے صرف اپنے خیالات کے ذریعے روبوٹ کو کنٹرول کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>اس نظام میں کسی چپ کو دماغ کے اندر نصب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صارف صرف ایک ہلکا پھلکا ہیڈ سیٹ پہنتا ہے، جو دماغ کی برقی سرگرمی، یعنی ای ای جی، کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر ان دماغی سگنلز کا تجزیہ کرتا ہے، صارف کی نیت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر روبوٹ کو اسی کے مطابق حرکت کرنے کا حکم دیتا ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر اگر صارف کسی کپ کو اٹھانے کا ارادہ کرے تو روبوٹک بازو اس اشارے کو سمجھ کر کپ اٹھا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کی جانب سے کانفرنس میں دیے گئے مظاہرے میں ایک روبوٹک بازو کو صرف دماغی اشاروں کے ذریعے کپ اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ’برین کو‘ کے مطابق یہی پلیٹ فارم صرف روبوٹک بازو ہی نہیں بلکہ انسانی شکل والے روبوٹس اور روبوٹک کتوں کو بھی کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اس کے مطابق ایسا محقق بھی، جسے برین کمپیوٹر انٹرفیس کا کوئی سابقہ تجربہ نہ ہو، تقریباً 10 منٹ میں صرف سوچ کے ذریعے روبوٹ کو چلانا سیکھ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21092254e7bf12c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/21092254e7bf12c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس نئی پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ نظام ایلون مسک کی امریکی کمپنی نیورالنک کے طریقہ کار سے مختلف ہے، کیونکہ نیورالنک میں دماغ کے اندر چپ نصب کرنے کے لیے سرجری کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ’برین کو‘ کی ٹیکنالوجی دماغی سگنلز کو بیرونی ’ہیڈ سیٹ‘ کے ذریعے پڑھتی ہے، اس لیے کسی آپریشن یا امپلانٹ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر ایسی ٹیکنالوجی عملی طور پر مؤثر ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں اس کے کئی اہم استعمال سامنے آ سکتے ہیں۔ جسمانی معذوری کا شکار افراد مصنوعی اعضا یا وہیل چیئر کو صرف اپنے خیالات کے ذریعے کنٹرول کر سکیں گے، جبکہ صنعت، تحقیق اور روبوٹکس کے شعبوں میں بھی انسان اور مشین کے درمیان رابطہ مزید تیز اور آسان بنایا جا سکے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506952/israel-developing-space-lasers-to-attack-above-the-earth-katz-says'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>“برین کو“ کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی اور اسے چین کی تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپنی مصنوعی ذہانت، برین کمپیوٹر انٹرفیس اور روبوٹکس کے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔</p>
<p>تاہم کمپنی کی جانب سے اس پلیٹ فارم کو دنیا کا پہلا مربوط ”برین ٹو روبوٹ“ نظام قرار دینے کے دعوے کی ابھی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی حقیقی صلاحیت، درستگی اور بڑے پیمانے پر استعمال کے امکانات کا اندازہ مزید آزادانہ تجربات اور سائنسی جائزوں کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509587</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 09:41:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/210921055c4301b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/210921055c4301b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/21092254e7bf12c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/21092254e7bf12c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز بحال</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509372/facebook-services-down-across-the-world-including-pakistan</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سمیت دنیا بھر میں معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ کی سروس ڈاؤن ہونے کے بعد بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سروس ڈاؤن ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین متاثر ہوئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کی سروسز میں خلل کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے اتوار کے روز دنیا بھر میں صارفین کو فیس بک کے استعمال میں مشکلات کی نشاندہی کی تھی۔ تاہم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق اب شکایات کی تعداد بالکل ختم ہو چکی ہے اور ٹریفک معمول پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے اس حوالے سے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ دنیا بھر میں صارفین نے فیس بک میں مسائل کی نشاندہی رپورٹ کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/downdetector/status/2078750648745521259'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/downdetector/status/2078750648745521259"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق اتوار کے روز فیس بک کے مسائل کی شکایات میں اچانک اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق صبح تقریباً 10 بج کر 39 منٹ پر شکایات کی تعداد صرف چند لمحوں میں 5 سے بڑھ کر 3 ہزار 555 تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق فیس بک کا ڈیسک ٹاپ ورژن بھی کئی صارفین کے لیے دستیاب نہیں تھا۔ بعض افراد کو اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش پر پیغام موصول ہوا کہ “آپ کا اکاؤنٹ عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے، سائٹ کے مسئلے کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ فی الحال بند ہے، امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا، چند منٹ بعد دوبارہ کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/191316163453691.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/191316163453691.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمپنی کی جانب سے اس خرابی کی فوری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے بھی آؤٹیج کی وجہ یا اسے ٹھیک کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں کروڑوں افراد فیس بک کو رابطوں، کاروباری سرگرمیوں اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی بڑے تکنیکی مسئلے کی صورت میں بڑی تعداد میں صارفین متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف اس حوالے سے ایکس پر لکھا کہ، فیس بک کو اس وقت بیک اینڈ ڈیٹا بیس کے مقامی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو ”اکاؤنٹ عارضی طور پر دستیاب نہیں“ کا پیغام دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DanielZahoor/status/2078754060027466133'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/DanielZahoor/status/2078754060027466133"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف نے لکھا کہ فیس بک اب بھی بند ہے! لاکھوں صارفین کو اب بھی فیس بک استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لاگ اِن، نیوز فیڈ اور پوسٹس کے فیچرز درست طریقے سے کام نہیں کر رہے۔ کیا آپ کا فیس بک بھی ابھی تک کام نہیں کر رہا؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArunMishraLive/status/2078751296069513509'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ArunMishraLive/status/2078751296069513509"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سمیت دنیا بھر میں معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ کی سروس ڈاؤن ہونے کے بعد بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ سروس ڈاؤن ہونے سے دنیا بھر میں لاکھوں صارفین متاثر ہوئے تھے۔</strong></p>
<p>انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کی سروسز میں خلل کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے اتوار کے روز دنیا بھر میں صارفین کو فیس بک کے استعمال میں مشکلات کی نشاندہی کی تھی۔ تاہم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق اب شکایات کی تعداد بالکل ختم ہو چکی ہے اور ٹریفک معمول پر آ گئی ہے۔</p>
<p>ڈاؤن ڈیٹیکٹر نے اس حوالے سے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ دنیا بھر میں صارفین نے فیس بک میں مسائل کی نشاندہی رپورٹ کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/downdetector/status/2078750648745521259'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/downdetector/status/2078750648745521259"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق اتوار کے روز فیس بک کے مسائل کی شکایات میں اچانک اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق صبح تقریباً 10 بج کر 39 منٹ پر شکایات کی تعداد صرف چند لمحوں میں 5 سے بڑھ کر 3 ہزار 555 تک پہنچ گئی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق فیس بک کا ڈیسک ٹاپ ورژن بھی کئی صارفین کے لیے دستیاب نہیں تھا۔ بعض افراد کو اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش پر پیغام موصول ہوا کہ “آپ کا اکاؤنٹ عارضی طور پر دستیاب نہیں ہے، سائٹ کے مسئلے کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ فی الحال بند ہے، امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوجائے گا، چند منٹ بعد دوبارہ کوشش کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/191316163453691.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/191316163453691.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم کمپنی کی جانب سے اس خرابی کی فوری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے بھی آؤٹیج کی وجہ یا اسے ٹھیک کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تھا۔</p>
<p>دنیا بھر میں کروڑوں افراد فیس بک کو رابطوں، کاروباری سرگرمیوں اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی بڑے تکنیکی مسئلے کی صورت میں بڑی تعداد میں صارفین متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایک صارف اس حوالے سے ایکس پر لکھا کہ، فیس بک کو اس وقت بیک اینڈ ڈیٹا بیس کے مقامی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>صارفین کو ”اکاؤنٹ عارضی طور پر دستیاب نہیں“ کا پیغام دکھائی دے رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/DanielZahoor/status/2078754060027466133'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/DanielZahoor/status/2078754060027466133"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور صارف نے لکھا کہ فیس بک اب بھی بند ہے! لاکھوں صارفین کو اب بھی فیس بک استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لاگ اِن، نیوز فیڈ اور پوسٹس کے فیچرز درست طریقے سے کام نہیں کر رہے۔ کیا آپ کا فیس بک بھی ابھی تک کام نہیں کر رہا؟</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ArunMishraLive/status/2078751296069513509'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ArunMishraLive/status/2078751296069513509"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509372</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:12:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/191313057ee30cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/191313057ee30cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ویڈیو گیمز یادداشت بہتر بناتے ہیں'؛ 20 سال کی تحقیق میں حیران کن انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509251/video-games-improve-memory-surprising-findings-revealed-in-a-20-year-study</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ویڈیو گیمز کو عموماً صرف تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان کے ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انتہائی دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ 20 برس پر محیط تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد بعض ذہنی صلاحیتوں، خصوصاً یادداشت، میں دوسروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی تحقیقات سے متعلق ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2026-07-video-games-modestly-sharpen-memory.html"&gt;میڈیکل ایکسپریس&lt;/a&gt; کے مطابق، محققین نے جنوری 2005 سے اگست 2025 کے درمیان شائع ہونے والی متعدد تحقیقات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس دوران محققین نے ویڈیو گیمز کے انسانی دماغ پر اثرات کو جانچنے کے لیے مختلف مطالعات کے نتائج کا موازنہ کیا۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا ویڈیو گیمز واقعی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طویل المدت تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز محض وقت گزاری یا تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغ کو فعال رکھنے اور یادداشت کو تیز کرنے میں ایک اہم معاون کے طور پر ابھری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406399'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406399"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز اور ذہنی صلاحیتوں کے درمیان ایک محدود لیکن شماریاتی طور پر اہم مثبت تعلق پایا گیا۔ سب سے نمایاں فائدہ یادداشت کے شعبے میں دیکھا گیا، جہاں گیمز کھیلنے والے افراد نے یادداشت کے مختلف ٹیسٹوں میں نسبتاً بہتر نتائج حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے دوران مسلسل معلومات کو یاد رکھنا، مختلف واقعات پر نظر رکھنا، تیزی سے فیصلے کرنا اور حکمت عملی ترتیب دینا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بار بار ان مراحل سے گزرنے کے باعث کھلاڑیوں کی یادداشت کی مہارتیں مضبوط ہو جاتی ہیں، جو کہ ایک قسم کی قدرتی ”ذہنی تربیت“ ہے۔ بعض گیمز میں بیک وقت کئی چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے، جو دماغ کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی ٹیم نے اس جائزے کے دوران تین مختلف اقسام کے تجزیے کیے، جن میں کھلاڑیوں اور غیر کھلاڑیوں کا موازنہ، مختلف تجرباتی مطالعات اور ویڈیو گیمز کھیلنے کے دورانیے اور ذہنی صلاحیتوں کے درمیان تعلق کا جائزہ شامل تھا۔ محققین نے پانچ اہم ذہنی شعبوں یعنی یادداشت، مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول اور ذہانت پر خصوصی توجہ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد نے مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول اور ذہانت کے بعض ٹیسٹوں میں بھی نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان شعبوں میں بہتری معمولی تھی، تاہم یادداشت وہ واحد شعبہ تھا جس میں نمایاں اور قابلِ ذکر مثبت اثرات دیکھنے میں آئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30341440'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30341440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام ویڈیو گیمز ایک جیسے نتائج نہیں دیتیں کیونکہ مختلف تحقیقات میں استعمال ہونے والی گیمز کی اقسام، شرکاء کی عمریں اور تحقیق کے طریقہ کار بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ بعض مطالعات میں ایکشن گیمز شامل تھیں جبکہ کچھ میں دماغی تربیت اور فٹنس سے متعلق گیمز کا جائزہ لیا گیا، جس کی وجہ سے نتائج میں بھی معمولی اختلاف دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ویڈیو گیمز روزمرہ زندگی کی تمام ذہنی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کی تصدیق کے لیے مزید طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ یہ فوائد کتنے عرصے تک برقرار رہتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق ویڈیو گیمز کا اعتدال کے ساتھ استعمال ذہنی سرگرمیوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور اسکرین ٹائم پر قابو رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو گیمز کو متوازن طرزِ زندگی کا حصہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف تفریح فراہم کر سکتی ہیں بلکہ بعض ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ویڈیو گیمز کو عموماً صرف تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے ان کے ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انتہائی دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ 20 برس پر محیط تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد بعض ذہنی صلاحیتوں، خصوصاً یادداشت، میں دوسروں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>طبی تحقیقات سے متعلق ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2026-07-video-games-modestly-sharpen-memory.html">میڈیکل ایکسپریس</a> کے مطابق، محققین نے جنوری 2005 سے اگست 2025 کے درمیان شائع ہونے والی متعدد تحقیقات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس دوران محققین نے ویڈیو گیمز کے انسانی دماغ پر اثرات کو جانچنے کے لیے مختلف مطالعات کے نتائج کا موازنہ کیا۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا ویڈیو گیمز واقعی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔</p>
<p>اس طویل المدت تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز محض وقت گزاری یا تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ انسانی دماغ کو فعال رکھنے اور یادداشت کو تیز کرنے میں ایک اہم معاون کے طور پر ابھری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406399'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406399"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز اور ذہنی صلاحیتوں کے درمیان ایک محدود لیکن شماریاتی طور پر اہم مثبت تعلق پایا گیا۔ سب سے نمایاں فائدہ یادداشت کے شعبے میں دیکھا گیا، جہاں گیمز کھیلنے والے افراد نے یادداشت کے مختلف ٹیسٹوں میں نسبتاً بہتر نتائج حاصل کیے۔</p>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے دوران مسلسل معلومات کو یاد رکھنا، مختلف واقعات پر نظر رکھنا، تیزی سے فیصلے کرنا اور حکمت عملی ترتیب دینا پڑتی ہے۔</p>
<p>بار بار ان مراحل سے گزرنے کے باعث کھلاڑیوں کی یادداشت کی مہارتیں مضبوط ہو جاتی ہیں، جو کہ ایک قسم کی قدرتی ”ذہنی تربیت“ ہے۔ بعض گیمز میں بیک وقت کئی چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے، جو دماغ کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>تحقیقاتی ٹیم نے اس جائزے کے دوران تین مختلف اقسام کے تجزیے کیے، جن میں کھلاڑیوں اور غیر کھلاڑیوں کا موازنہ، مختلف تجرباتی مطالعات اور ویڈیو گیمز کھیلنے کے دورانیے اور ذہنی صلاحیتوں کے درمیان تعلق کا جائزہ شامل تھا۔ محققین نے پانچ اہم ذہنی شعبوں یعنی یادداشت، مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول اور ذہانت پر خصوصی توجہ دی۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے افراد نے مکانی صلاحیتوں، بصری توجہ، شناختی کنٹرول اور ذہانت کے بعض ٹیسٹوں میں بھی نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ ان شعبوں میں بہتری معمولی تھی، تاہم یادداشت وہ واحد شعبہ تھا جس میں نمایاں اور قابلِ ذکر مثبت اثرات دیکھنے میں آئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30341440'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30341440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام ویڈیو گیمز ایک جیسے نتائج نہیں دیتیں کیونکہ مختلف تحقیقات میں استعمال ہونے والی گیمز کی اقسام، شرکاء کی عمریں اور تحقیق کے طریقہ کار بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ بعض مطالعات میں ایکشن گیمز شامل تھیں جبکہ کچھ میں دماغی تربیت اور فٹنس سے متعلق گیمز کا جائزہ لیا گیا، جس کی وجہ سے نتائج میں بھی معمولی اختلاف دیکھا گیا۔</p>
<p>محققین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ ویڈیو گیمز روزمرہ زندگی کی تمام ذہنی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس بات کی تصدیق کے لیے مزید طویل المدتی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ یہ فوائد کتنے عرصے تک برقرار رہتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق ویڈیو گیمز کا اعتدال کے ساتھ استعمال ذہنی سرگرمیوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ متوازن غذا، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور اسکرین ٹائم پر قابو رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ اگر ویڈیو گیمز کو متوازن طرزِ زندگی کا حصہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف تفریح فراہم کر سکتی ہیں بلکہ بعض ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509251</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 13:59:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181338382b2eb92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181338382b2eb92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینڈرائیڈ فون کے 3 سیفٹی فیچرز آپ کی جان بچا سکتے ہیں، ابھی آن کریں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509094/these-3-safety-features-of-android-phones-can-save-your-life-in-an-emergency-turn-them-on-now</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون پر باتیں کرنے، ویڈیو دیکھنے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے علاوہ اس میں کچھ ایسے حفاظتی فیچرز بھی موجود ہیں جو کسی حادثے، زلزلے یا اچانک آنے والی مصیبت میں مدد کرسکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان زبردست فیچرز کے بارے میں جانتے ہی نہیں اور نہ ہی انہیں اپنے فون میں آن رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ضرورت کے وقت ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی ان حفاظتی سیٹنگز کو فون کے اندر پہلے سے ہی شامل کرتی ہے تاکہ مشکل وقت میں یہ فیچر خود بخود کام کر سکیں اور گلی محلوں میں رہنے والے عام لوگ بھی کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ نے ابھی تک ان فیچرز کو آن نہیں کیا تو ان کے بارے میں جانیں اور فوراً اپنے فون میں آن کریں۔ یہ فیچرز پہلے سے فعال ہوں تو خطرے کی صورت میں فون خودکار طور پر الرٹ بھیج سکتا ہے، مقام کی معلومات فراہم کر سکتا ہے اور قریبی افراد کو اطلاع دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506840/how-to-protect-your-smartphone-during-extreme-summer-heat'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506840"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایمرجنسی ایس او ایس فیچر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلا اور اہم فیچر ایمرجنسی ایس او ایس یعنی ہنگامی مدد کا ہے۔ یہ فیچر اس وقت سب سے زیادہ کام آتا ہے جب انسان کسی ایسی مصیبت میں پھنس جائے جہاں موبائل کا لاک کھولنے یا نمبر ڈائل کرنے کا وقت بالکل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کو آن کرنے کے لیے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیفٹی اینڈ ایمرجنسی والے حصے میں اپنے کسی پیارے یا گھر والے کا نمبر محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب بھی کوئی مصیبت آئے، آپ کو صرف اپنے فون کا پاور بٹن (جس سے فون آن آف ہوتا ہے) لگاتار کئی بار دبانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا کرتے ہی آپ کے فون سے اس نمبر پر خود بخود کال چلی جائے گی اور ساتھ ہی آپ کہاں موجود ہیں، اس جگہ کا پتہ یعنی لوکیشن بھی میسج کے ذریعے پہنچ جائے گی، جس سے گھر والے یا متعلقہ افراد فوری طور پر صورتحال سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زلزلے سے پہلے خبردار کرنے والا الرٹ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم فیچر زلزلے سے باخبر رکھنے کا ہے۔ قدرتی آفت یا زلزلے سے ہونے والے نقصان سے بچانے کے لیے گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں زلزلے کا الرٹ بھیجنے کا سسٹم رکھا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے سے چند سیکنڈ پہلے ہی یہ فون پر ایک زوردار آواز کے ساتھ الرٹ بھیج دیتا ہے۔ اس سے انسان کو سنبھلنے اور کسی محفوظ جگہ پر جانے کا کچھ وقت مل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کو فعال کرنے کے لیے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سیکشن کھولیں اور ”ارتھ کوئیک الرٹ“ کو آن کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506625/socialmedia-instagram-instagramreels-digitalmarketing-contentcreat-comment-for-details'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506625"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حادثے کی صورت میں خودکار مدد&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی پرسنل سیفٹی ایپ میں موجود کار کریش ڈیٹیکشن فیچر بھی صارفین کے لیے انتہائی اہم سہولت ہے۔ یہ فیچر گاڑی کے خطرناک حادثے کی صورت میں صورتحال کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر فون کو محسوس ہو کہ صارف کسی بڑے حادثے کا شکار ہوا ہے اور کوئی ردعمل نہیں دے رہا تو یہ خودکار طور پر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے اور محفوظ کیے گئے رابطوں کو الرٹ بھیجنے میں مدد کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولت خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو اکیلے سفر کرتے ہیں یا لمبے راستوں پر گاڑی چلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قدرتی آفات کے لیے وائرلیس ایمرجنسی الرٹس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح وائرلیس ایمرجنسی الرٹ کا ایک فیچر بھی فون میں موجود ہوتا ہے جو سیلاب، طوفان یا تیز بارشوں جیسی آفات کے آنے سے پہلے ہی آپ کے فون کی اسکرین پر الرٹ بھیج کر آپ کو خبردار کر دیتا ہے تاکہ آپ وقت پر کسی محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ یہ الرٹس سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ بروقت احتیاطی اقدامات کر سکیں اور خطرناک علاقوں سے دور رہ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سیکشن میں ان الرٹس کو فعال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون میں موجود یہ سہولیات صرف اضافی آپشنز نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں زندگی بچانے والے ٹولز ثابت ہو سکتی ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے فون کی سیٹنگز چیک کریں اور ان اہم حفاظتی فیچرز کو پہلے سے فعال رکھیں تاکہ ضرورت کے وقت فوری مدد حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کل موبائل فون ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون پر باتیں کرنے، ویڈیو دیکھنے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے کے علاوہ اس میں کچھ ایسے حفاظتی فیچرز بھی موجود ہیں جو کسی حادثے، زلزلے یا اچانک آنے والی مصیبت میں مدد کرسکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان زبردست فیچرز کے بارے میں جانتے ہی نہیں اور نہ ہی انہیں اپنے فون میں آن رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ضرورت کے وقت ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔</strong></p>
<p>ہر اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی ان حفاظتی سیٹنگز کو فون کے اندر پہلے سے ہی شامل کرتی ہے تاکہ مشکل وقت میں یہ فیچر خود بخود کام کر سکیں اور گلی محلوں میں رہنے والے عام لوگ بھی کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔</p>
<p>اگر آپ نے ابھی تک ان فیچرز کو آن نہیں کیا تو ان کے بارے میں جانیں اور فوراً اپنے فون میں آن کریں۔ یہ فیچرز پہلے سے فعال ہوں تو خطرے کی صورت میں فون خودکار طور پر الرٹ بھیج سکتا ہے، مقام کی معلومات فراہم کر سکتا ہے اور قریبی افراد کو اطلاع دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506840/how-to-protect-your-smartphone-during-extreme-summer-heat'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506840"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>ایمرجنسی ایس او ایس فیچر</strong></p>
<p>سب سے پہلا اور اہم فیچر ایمرجنسی ایس او ایس یعنی ہنگامی مدد کا ہے۔ یہ فیچر اس وقت سب سے زیادہ کام آتا ہے جب انسان کسی ایسی مصیبت میں پھنس جائے جہاں موبائل کا لاک کھولنے یا نمبر ڈائل کرنے کا وقت بالکل نہ ہو۔</p>
<p>اس فیچر کو آن کرنے کے لیے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیفٹی اینڈ ایمرجنسی والے حصے میں اپنے کسی پیارے یا گھر والے کا نمبر محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد جب بھی کوئی مصیبت آئے، آپ کو صرف اپنے فون کا پاور بٹن (جس سے فون آن آف ہوتا ہے) لگاتار کئی بار دبانا ہوگا۔</p>
<p>ایسا کرتے ہی آپ کے فون سے اس نمبر پر خود بخود کال چلی جائے گی اور ساتھ ہی آپ کہاں موجود ہیں، اس جگہ کا پتہ یعنی لوکیشن بھی میسج کے ذریعے پہنچ جائے گی، جس سے گھر والے یا متعلقہ افراد فوری طور پر صورتحال سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>زلزلے سے پہلے خبردار کرنے والا الرٹ</strong></p>
<p>دوسرا اہم فیچر زلزلے سے باخبر رکھنے کا ہے۔ قدرتی آفت یا زلزلے سے ہونے والے نقصان سے بچانے کے لیے گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں زلزلے کا الرٹ بھیجنے کا سسٹم رکھا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے سے چند سیکنڈ پہلے ہی یہ فون پر ایک زوردار آواز کے ساتھ الرٹ بھیج دیتا ہے۔ اس سے انسان کو سنبھلنے اور کسی محفوظ جگہ پر جانے کا کچھ وقت مل جاتا ہے۔</p>
<p>اس فیچر کو فعال کرنے کے لیے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سیکشن کھولیں اور ”ارتھ کوئیک الرٹ“ کو آن کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506625/socialmedia-instagram-instagramreels-digitalmarketing-contentcreat-comment-for-details'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506625"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>حادثے کی صورت میں خودکار مدد</strong></p>
<p>گوگل کی پرسنل سیفٹی ایپ میں موجود کار کریش ڈیٹیکشن فیچر بھی صارفین کے لیے انتہائی اہم سہولت ہے۔ یہ فیچر گاڑی کے خطرناک حادثے کی صورت میں صورتحال کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p>اگر فون کو محسوس ہو کہ صارف کسی بڑے حادثے کا شکار ہوا ہے اور کوئی ردعمل نہیں دے رہا تو یہ خودکار طور پر ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے اور محفوظ کیے گئے رابطوں کو الرٹ بھیجنے میں مدد کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہ سہولت خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو اکیلے سفر کرتے ہیں یا لمبے راستوں پر گاڑی چلاتے ہیں۔</p>
<p><strong>قدرتی آفات کے لیے وائرلیس ایمرجنسی الرٹس</strong></p>
<p>اسی طرح وائرلیس ایمرجنسی الرٹ کا ایک فیچر بھی فون میں موجود ہوتا ہے جو سیلاب، طوفان یا تیز بارشوں جیسی آفات کے آنے سے پہلے ہی آپ کے فون کی اسکرین پر الرٹ بھیج کر آپ کو خبردار کر دیتا ہے تاکہ آپ وقت پر کسی محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ یہ الرٹس سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ بروقت احتیاطی اقدامات کر سکیں اور خطرناک علاقوں سے دور رہ سکیں۔</p>
<p>صارفین اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر سیفٹی اینڈ ایمرجنسی سیکشن میں ان الرٹس کو فعال کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون میں موجود یہ سہولیات صرف اضافی آپشنز نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں زندگی بچانے والے ٹولز ثابت ہو سکتی ہیں۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے فون کی سیٹنگز چیک کریں اور ان اہم حفاظتی فیچرز کو پہلے سے فعال رکھیں تاکہ ضرورت کے وقت فوری مدد حاصل کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509094</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 12:05:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1711573470510cb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1711573470510cb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی فون 18 پرو میکس کا ممکنہ وزن کتنا ہوگا؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508993/how-much-will-the-iphone-18-pro-max-weigh-the-answer-may-surprise-you</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے آنے والے فلیگ شپ اسمارٹ فون آئی فون 18 پرو میکس کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جو موبائل فون کے شوقین افراد کے لیے خوشی اور تھوڑی پریشانی دونوں کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی جریدے  &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/davidphelan/2026/07/13/apple-iphone-18-pro-max-to-tie-as-heaviest-iphone-ever-at-240-grams/"&gt;فوربز&lt;/a&gt; کی رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو میکس میں 5,500 ایم اے ایچ سے زائد گنجائش کی بیٹری متوقع ہے، جبکہ اس کا وزن 240 گرام تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ ایپل کی تاریخ کے سب سے بھاری آئی فونز میں شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف ٹیک لیکر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://weibo.com/5673255066/R7SFuF16r"&gt;آئس یونیورس&lt;/a&gt; نے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی فون 18 پرو میکس میں 5,500 ایم اے ایچ کی بڑی بیٹری دی جائے گی، لیکن اس فائدے کے بدلے صارفین کو 240 گرام وزنی اور 9 ملی میٹر چوڑا فون سنبھالنا ہوگا جو کہ کافی بھاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز میگزین کے سینیئر رائٹر ڈیوڈ فیلن کے مطابق، 240 گرام وزن کسی بھی آئی فون کا اب تک کا سب سے زیادہ وزن ہوگا۔ اس سے پہلے سال 2021 میں آنے والا آئی فون 13 پرو میکس بھی اتنا ہی بھاری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ موجودہ آئی فون 17 پرو میکس کا وزن 233 گرام ہے، یعنی نئے ماڈل میں تقریباً 7 گرام کا اضافہ متوقع ہے۔ اگرچہ یہ فرق معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن ماضی میں آئی فون 15 پرو میکس کے وزن میں کمی کو صارفین نے واضح طور پر محسوس کیا تھا، جب ایپل نے اسٹین لیس اسٹیل کے بجائے ٹائٹینیم میٹریل کا استعمال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق آئی فون 18 پرو میکس میں امریکا کے لیے 5,567 ایم اے ایچ جبکہ چین میں 5,391 ایم اے ایچ کی بیٹری دیے جانے کا امکان ہے۔ چین کے ماڈل میں سم کارڈ ٹرے کی موجودگی کی وجہ سے بیٹری کی گنجائش قدرے کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل کے ماہرین نے ایک اور اہم بات سے خبردار کیا ہے کہ بڑی بیٹری ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ فون اب چارجنگ کے بغیر کئی دن زیادہ چلے گا۔ ایپل ماضی میں بھی نئی اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والی ٹیکنالوجیز کو سپورٹ کرنے کے لیے بیٹری کی گنجائش میں اضافہ کرتا رہا ہے تاکہ فون کی مجموعی بیٹری لائف برقرار رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوربز کے سینئر ٹیک صحافی ڈیوڈ فیلن کے مطابق اضافی بیٹری ممکنہ طور پر ایپل کے نئے مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز، خصوصاً سری اے آئی، کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ ”میرا اندازہ ہے کہ ایپل اس اضافی بیٹری کو فون کے استعمال کے دورانیے کو بڑھانے کے بجائے نئی اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والی خصوصیات کے لیے مختص کرے گا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی فون 18 پرو میکس نہ صرف زیادہ بھاری بلکہ پہلے سے زیادہ موٹا بھی ہوگا۔ اگر اس کی موٹائی 9 ملی میٹر تک پہنچتی ہے تو حفاظتی کور استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فون کو ایک ہاتھ سے استعمال کرنا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مارکیٹ میں یہ افواہیں بھی ہیں کہ اسی تقریب کے دوران ایپل کمپنی اپنا پہلا فولڈ ایبل فون بھی متعارف کرا سکتی ہے جسے ممکنہ طور پر ’آئس فون الٹرا‘ کا نام دیا جائےگا اور ہو سکتا ہے اس کا وزن آئی فون 18 پرو میکس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایپل نے ابھی تک آئی فون 18 پرو میکس کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم لیکس اور ریگولیٹری معلومات نے یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ کمپنی اس بار صارفین کو بڑی بیٹری اور جدید اے آئی فیچرز کے ساتھ ایک زیادہ طاقتور، لیکن نسبتاً بھاری اسمارٹ فون پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کے دلدادہ لوگ اب بے صبری سے ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ فون باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے آنے والے فلیگ شپ اسمارٹ فون آئی فون 18 پرو میکس کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جو موبائل فون کے شوقین افراد کے لیے خوشی اور تھوڑی پریشانی دونوں کا باعث بن سکتی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی جریدے  <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/sites/davidphelan/2026/07/13/apple-iphone-18-pro-max-to-tie-as-heaviest-iphone-ever-at-240-grams/">فوربز</a> کی رپورٹ کے مطابق آئی فون 18 پرو میکس میں 5,500 ایم اے ایچ سے زائد گنجائش کی بیٹری متوقع ہے، جبکہ اس کا وزن 240 گرام تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ ایپل کی تاریخ کے سب سے بھاری آئی فونز میں شامل ہوگا۔</p>
<p>معروف ٹیک لیکر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://weibo.com/5673255066/R7SFuF16r">آئس یونیورس</a> نے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی فون 18 پرو میکس میں 5,500 ایم اے ایچ کی بڑی بیٹری دی جائے گی، لیکن اس فائدے کے بدلے صارفین کو 240 گرام وزنی اور 9 ملی میٹر چوڑا فون سنبھالنا ہوگا جو کہ کافی بھاری ہے۔</p>
<p>فوربز میگزین کے سینیئر رائٹر ڈیوڈ فیلن کے مطابق، 240 گرام وزن کسی بھی آئی فون کا اب تک کا سب سے زیادہ وزن ہوگا۔ اس سے پہلے سال 2021 میں آنے والا آئی فون 13 پرو میکس بھی اتنا ہی بھاری تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ موجودہ آئی فون 17 پرو میکس کا وزن 233 گرام ہے، یعنی نئے ماڈل میں تقریباً 7 گرام کا اضافہ متوقع ہے۔ اگرچہ یہ فرق معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن ماضی میں آئی فون 15 پرو میکس کے وزن میں کمی کو صارفین نے واضح طور پر محسوس کیا تھا، جب ایپل نے اسٹین لیس اسٹیل کے بجائے ٹائٹینیم میٹریل کا استعمال کیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق آئی فون 18 پرو میکس میں امریکا کے لیے 5,567 ایم اے ایچ جبکہ چین میں 5,391 ایم اے ایچ کی بیٹری دیے جانے کا امکان ہے۔ چین کے ماڈل میں سم کارڈ ٹرے کی موجودگی کی وجہ سے بیٹری کی گنجائش قدرے کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>موبائل کے ماہرین نے ایک اور اہم بات سے خبردار کیا ہے کہ بڑی بیٹری ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ فون اب چارجنگ کے بغیر کئی دن زیادہ چلے گا۔ ایپل ماضی میں بھی نئی اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والی ٹیکنالوجیز کو سپورٹ کرنے کے لیے بیٹری کی گنجائش میں اضافہ کرتا رہا ہے تاکہ فون کی مجموعی بیٹری لائف برقرار رکھی جا سکے۔</p>
<p>فوربز کے سینئر ٹیک صحافی ڈیوڈ فیلن کے مطابق اضافی بیٹری ممکنہ طور پر ایپل کے نئے مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز، خصوصاً سری اے آئی، کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ ”میرا اندازہ ہے کہ ایپل اس اضافی بیٹری کو فون کے استعمال کے دورانیے کو بڑھانے کے بجائے نئی اور زیادہ توانائی استعمال کرنے والی خصوصیات کے لیے مختص کرے گا۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی فون 18 پرو میکس نہ صرف زیادہ بھاری بلکہ پہلے سے زیادہ موٹا بھی ہوگا۔ اگر اس کی موٹائی 9 ملی میٹر تک پہنچتی ہے تو حفاظتی کور استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فون کو ایک ہاتھ سے استعمال کرنا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ مارکیٹ میں یہ افواہیں بھی ہیں کہ اسی تقریب کے دوران ایپل کمپنی اپنا پہلا فولڈ ایبل فون بھی متعارف کرا سکتی ہے جسے ممکنہ طور پر ’آئس فون الٹرا‘ کا نام دیا جائےگا اور ہو سکتا ہے اس کا وزن آئی فون 18 پرو میکس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ ایپل نے ابھی تک آئی فون 18 پرو میکس کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم لیکس اور ریگولیٹری معلومات نے یہ اشارہ ضرور دیا ہے کہ کمپنی اس بار صارفین کو بڑی بیٹری اور جدید اے آئی فیچرز کے ساتھ ایک زیادہ طاقتور، لیکن نسبتاً بھاری اسمارٹ فون پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کے دلدادہ لوگ اب بے صبری سے ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ فون باقاعدہ طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508993</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 15:24:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16141638801a81d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16141638801a81d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قرارداد؛ کیا پورے ملک میں نفاذ ممکن ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کے بعد پاکستان کے صوبے پنجاب میں بھی ایسا ہی ایک بل پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد اس سوال نے جنم لیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قانون منظور ہوتا ہے تو کیا اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند سال پہلے تک صرف ماہرینِ صحت، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان ہی یہ سوال زیرِ بحث ہوا کرتا تھا کہ کیا کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ مگر اب یہی سوال دنیا بھر کی قانون ساز اسمبلیوں سے ہوتا ہوا پاکستان کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی رکن اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے ایک اہم قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کی جائے اور عمر کی تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ احمد نے بچوں کے حقوق اور ان کے بچپن کو محفوظ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ احمد کے مطابق، اس قرارداد کا مقصد بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، غیر اخلاقی و نامناسب مواد اور دیگر سنگین خطرات سے بچانا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30486770/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30486770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پاکستان میں فی الحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے کسی کم از کم عمر کا تعین کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرارداد بذاتِ خود کوئی قانون نہیں ہے بلکہ اس میں پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے رجوع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ضوابط وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی لازمی قانون کے ملک گیر نفاذ کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پنجاب اسمبلی اس قرارداد کو منظور کر بھی لیتی ہے تو یہ صوبائی اسمبلی کی صرف ایک رسمی رائے اور وفاقی حکومت کے لیے سفارش تصور ہوگی، ملک گیر لاگو ہوانے والا قانون نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے متعدد ممالک بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں سخت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں برطانیہ نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے عادی بنانے والے الگورتھمز پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ”تمام والدین کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ بچے خوش اور محفوظ رہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد کیا ایسا ممکن ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اب ہر صورت یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کم عمر صارفین نئے اکاؤنٹس نہ بنا سکیں اور پرانے اکاؤنٹس بند کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066420074265661746'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2066420074265661746"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آسٹریلیا وہ پہلا ملک ہے جس نے دسمبر 2025 میں مکمل پابندی یعنی ”بلینکٹ بین“ کا قانون منظور کیا، جس کے تحت سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر سخت پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے رکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا نے مارچ 2026 میں ایسی ہی پابندیاں نافذ کیں جبکہ ملائیشیا، ترکیہ اور یونان نے بھی عمر کی تصدیق اور رجسٹریشن کے سخت قوانین بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں پہلے سے ہی ”مائنر موڈ“ فریم ورک موجود ہے جو والدین کو ایک کلک سے بچوں کے فون پر انٹرنیٹ رسائی بلاک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کا ماڈل تھوڑا مختلف ہے جہاں تیرہ سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں اور خلاف ورزی پر والدین کو بھی جوابدہ بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اگرچہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ قانون پاس نہیں ہو سکا، مگر یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتوں میں مسلسل اٹھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516/social-media-age-restrictions-worldwide-from-debate-to-legislation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جون 2025 میں سینیٹ میں ایک ایسا ہی بل پیش کیا گیا تھا جو بعد میں اعتراضات کے باعث واپس لے لیا گیا، تاہم جنوری 2026 میں یہ معاملہ دوبارہ سینیٹ میں اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت سینیٹ کی قائم مقام چیئرمین شیری رحمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”سوشل میڈیا تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے سینیٹ کو تمام پہلوؤں کا محتاط جائزہ لیتے ہوئے متوازن فیصلہ کرنا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سینیٹر فلک ناز نے ایک کم عمر ٹک ٹاکر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات واضح کرتے ہیں کہ بچوں کا بغیر نگرانی سوشل میڈیا استعمال کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ عدالتوں میں بھی پہنچا ہے اور لاہور ہائی کورٹ سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور پیمرا سے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا کی لت بچوں کے کچے ذہنوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اس پر طبی ماہرین شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066868405358248391'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2066868405358248391"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن، اضطراب یعنی اینزائٹی، نیند کی کمی اور سائبر بلنگ کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق گیارہ سے چودہ سال کی عمر بچوں کے دماغی ارتقا کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس عمر میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال ان کے پُراعتماد ہونے کی صلاحیت کو کچل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل جیسے ممالک نے اسی لیے سوشل میڈیا کے ایسے فیچرز پر پابندی لگائی ہے جو لامتناہی اسکرولنگ یا ویڈیوز کو خود بخود چلا کر بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ”ڈوپامن“ نامی کیمیکل پیدا کرتے ہیں اور انہیں اس لت کا عادی بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے اس بحث میں ایک مختلف زاویہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کے ماحول کو بچوں کے لیے محفوظ بنانا زیادہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کے بعد پاکستان کے صوبے پنجاب میں بھی ایسا ہی ایک بل پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد اس سوال نے جنم لیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قانون منظور ہوتا ہے تو کیا اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے؟</strong></p>
<p>چند سال پہلے تک صرف ماہرینِ صحت، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان ہی یہ سوال زیرِ بحث ہوا کرتا تھا کہ کیا کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ مگر اب یہی سوال دنیا بھر کی قانون ساز اسمبلیوں سے ہوتا ہوا پاکستان کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی رکن اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے ایک اہم قرارداد جمع کرائی گئی ہے۔ اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤثر قانونی پابندی عائد کی جائے اور عمر کی تصدیق کا لازمی نظام متعارف کرایا جائے۔</p>
<p>سارہ احمد نے بچوں کے حقوق اور ان کے بچپن کو محفوظ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور بچوں کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔“</p>
<p>سارہ احمد کے مطابق، اس قرارداد کا مقصد بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن جنسی استحصال، غیر اخلاقی و نامناسب مواد اور دیگر سنگین خطرات سے بچانا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30486770/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30486770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، پاکستان میں فی الحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے کسی کم از کم عمر کا تعین کرتا ہو۔</p>
<p>یہ قرارداد بذاتِ خود کوئی قانون نہیں ہے بلکہ اس میں پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے رجوع کرے۔</p>
<p>چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ضوابط وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی لازمی قانون کے ملک گیر نفاذ کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہوگی۔</p>
<p>اگر پنجاب اسمبلی اس قرارداد کو منظور کر بھی لیتی ہے تو یہ صوبائی اسمبلی کی صرف ایک رسمی رائے اور وفاقی حکومت کے لیے سفارش تصور ہوگی، ملک گیر لاگو ہوانے والا قانون نہیں۔</p>
<p>یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے متعدد ممالک بچوں کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں سخت کر رہے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں برطانیہ نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس پابندی کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے عادی بنانے والے الگورتھمز پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ”تمام والدین کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ بچے خوش اور محفوظ رہیں، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد کیا ایسا ممکن ہے؟“</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اب ہر صورت یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کم عمر صارفین نئے اکاؤنٹس نہ بنا سکیں اور پرانے اکاؤنٹس بند کیے جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066420074265661746'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2066420074265661746"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح آسٹریلیا وہ پہلا ملک ہے جس نے دسمبر 2025 میں مکمل پابندی یعنی ”بلینکٹ بین“ کا قانون منظور کیا، جس کے تحت سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر سخت پابندی عائد کی گئی اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے رکھے گئے۔</p>
<p>انڈونیشیا نے مارچ 2026 میں ایسی ہی پابندیاں نافذ کیں جبکہ ملائیشیا، ترکیہ اور یونان نے بھی عمر کی تصدیق اور رجسٹریشن کے سخت قوانین بنائے۔</p>
<p>چین میں پہلے سے ہی ”مائنر موڈ“ فریم ورک موجود ہے جو والدین کو ایک کلک سے بچوں کے فون پر انٹرنیٹ رسائی بلاک کرنے کی سہولت دیتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کا ماڈل تھوڑا مختلف ہے جہاں تیرہ سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں اور خلاف ورزی پر والدین کو بھی جوابدہ بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اگرچہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ قانون پاس نہیں ہو سکا، مگر یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتوں میں مسلسل اٹھایا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506516/social-media-age-restrictions-worldwide-from-debate-to-legislation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جون 2025 میں سینیٹ میں ایک ایسا ہی بل پیش کیا گیا تھا جو بعد میں اعتراضات کے باعث واپس لے لیا گیا، تاہم جنوری 2026 میں یہ معاملہ دوبارہ سینیٹ میں اٹھایا گیا۔</p>
<p>اس وقت سینیٹ کی قائم مقام چیئرمین شیری رحمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”سوشل میڈیا تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے سینیٹ کو تمام پہلوؤں کا محتاط جائزہ لیتے ہوئے متوازن فیصلہ کرنا چاہیے۔“</p>
<p>اسی دوران سینیٹر فلک ناز نے ایک کم عمر ٹک ٹاکر کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات واضح کرتے ہیں کہ بچوں کا بغیر نگرانی سوشل میڈیا استعمال کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ عدالتوں میں بھی پہنچا ہے اور لاہور ہائی کورٹ سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی اے اور پیمرا سے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا کی لت بچوں کے کچے ذہنوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اس پر طبی ماہرین شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://twitter.com/i/status/2066868405358248391'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2066868405358248391"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن، اضطراب یعنی اینزائٹی، نیند کی کمی اور سائبر بلنگ کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق گیارہ سے چودہ سال کی عمر بچوں کے دماغی ارتقا کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس عمر میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال ان کے پُراعتماد ہونے کی صلاحیت کو کچل دیتا ہے۔</p>
<p>برازیل جیسے ممالک نے اسی لیے سوشل میڈیا کے ایسے فیچرز پر پابندی لگائی ہے جو لامتناہی اسکرولنگ یا ویڈیوز کو خود بخود چلا کر بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ”ڈوپامن“ نامی کیمیکل پیدا کرتے ہیں اور انہیں اس لت کا عادی بنا دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/bhavyapandya07/status/2066400491731595368"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف نے اس بحث میں ایک مختلف زاویہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ انٹرنیٹ کے ماحول کو بچوں کے لیے محفوظ بنانا زیادہ ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508995</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 15:08:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/161419151981001.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/161419151981001.webp"/>
        <media:title>علامتی تصویر بزریعہ اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلا میں زندگی کے آثار؟ ستاروں کے درمیان چینی دریافت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508684/signs-of-life-in-space-sugar-discovered-between-the-stars</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسمان کی وسعتوں میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے خلا کو تھوڑا میٹھا بنا دیا ہے۔ سائنسدانوں نے خلا میں ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد کے بادلوں میں ایک پیچیدہ قسم کی چینی دریافت کی ہے، جسے ”ایریتھرولوز“ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق پیر کے روز معروف سائنسی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nature.com/articles/d41586-026-02173-5"&gt;نیچر آسٹرونومی&lt;/a&gt; میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ خاص قسم کی چینی دودھیا کہکشاں (ملکی وے) کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل میں دریافت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم کامیابی کے لیے اسپین میں لگی ڈش نما دو بڑی ریڈیو دوربینوں کا استعمال کیا گیا جن کی مدد سے ہماری کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508298/nasa-moon-mission-spaceexploration-nasa-volunteers-mars-analog-mission-artemis-mission-johnson-space-center-deep-space-mission-astronaut-research'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے لیبارٹری میں موجود نمونوں سے دوربین کے اشاروں کا موازنہ کر کے اس گیس نما شکر کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ وہی قدرتی چینی ہے جو عام طور پر ہمارے ہاں رسبری نامی پھل اور  رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خود زندگی کے لیے ضروری جزو نہیں، لیکن یہ آسانی سے ایسی شکل اختیار کر سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کرنے والی چینی سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے لیے چینی صرف چائے کو میٹھا کرنے یا مٹھائیاں بنانے کے کام ہی نہیں آتی بلکہ یہ ہمارے جسم کے چھوٹے چھوٹے خلیوں کو چلانے اور ہماری نسل کو آگے بڑھانے والے نظام یعنی ڈی این اے کو بنانے کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ خلا میں چینی کیسے بنتی ہے اور اس کا زندگی کے آغاز سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف ایریزونا کی ماہر فلکیات ایریکا ہیمڈن، جو خود اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کہتی ہیں کہ یہ دریافت اس مواد کی ایک شاندار اور اصل مثال ہے جو ہماری پوری کہکشاں میں بس یوں ہی آزادانہ طور پر تیر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ یہ چینی بذات خود تو زندگی شروع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے لیکن یہ بہت آسانی سے ایسی شکل میں بدل سکتی ہے جو زمین پر زندگی کی شروعات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدان طویل عرصے سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی۔ کیا باہر سے آنے والے دمدار ستاروں یا خلائی چٹانوں نے زندگی کے لیے ضروری چیزیں ہم تک پہنچائیں یا پھر یہ بنیادی اجزاء پہلے سے ہی خلا میں موجود تھے جن سے بعد میں ہمارا پورا نظام شمسی بنا۔ اب ملنے والی یہ نئی چینی دوسری بات کو زیادہ مضبوط کرتی ہے کہ یہ چیزیں پہلے سے ہی خلا میں تیر رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507171/scientists-claim-to-have-created-a-living-cell'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507171"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے اس سے پہلے بھی ملکی وے کے مرکز کے قریب عام کھانے کی چینی سے ملتی جلتی ایک اور قسم دریافت کی تھی۔ اس کے علاوہ ناسا کے اوسیریس ریکس مشن کے ذریعے سیارچے بینو  لائے گئے نمونوں میں بھی مختلف اقسام کی چینی ملی تھیں، جن میں ڈی این اے کی تشکیل کے لیے اہم ایک جزو بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ نئی دریافت اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ زندگی کے بنیادی کیمیائی اجزا ہمارے نظامِ شمسی بننے سے پہلے ہی خلا میں موجود تھے اور بعد میں انہی اجزا سے سیارے اور دیگر اجرام تشکیل پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپین کے سینٹر فار ایسٹرو بائیولوجی سے تعلق رکھنے والی اور اس تحقیق کی مصنفہ ازاسکون جیمینیز سیرا کہتی ہیں کہ زندگی کے آغاز کے لیے یہ ضروری بنیادی اجزاء کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں، جس سے کائنات میں کسی دوسری جگہ پر بھی زندگی کے پیدا ہونے اور پھلنے پھولنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اگر یہ چینی ایک جگہ ملی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کائنات کے دوسرے دور دراز کونوں میں بھی چھپی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اب مزید تحقیقات کے ذریعے خلا میں موجود دیگر اقسام کی چینی تلاش کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ مادے کس طرح ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتے ہیں اور زندگی کی ابتدا میں ان کا کیا کردار رہا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسمان کی وسعتوں میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے خلا کو تھوڑا میٹھا بنا دیا ہے۔ سائنسدانوں نے خلا میں ستاروں کے درمیان موجود گیس اور گرد کے بادلوں میں ایک پیچیدہ قسم کی چینی دریافت کی ہے، جسے ”ایریتھرولوز“ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ ہماری کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ تحقیق پیر کے روز معروف سائنسی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nature.com/articles/d41586-026-02173-5">نیچر آسٹرونومی</a> میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ خاص قسم کی چینی دودھیا کہکشاں (ملکی وے) کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل میں دریافت کی گئی۔</p>
<p>اس اہم کامیابی کے لیے اسپین میں لگی ڈش نما دو بڑی ریڈیو دوربینوں کا استعمال کیا گیا جن کی مدد سے ہماری کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ایک بڑے گیس کے بادل کا جائزہ لیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508298/nasa-moon-mission-spaceexploration-nasa-volunteers-mars-analog-mission-artemis-mission-johnson-space-center-deep-space-mission-astronaut-research'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508298"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنسدانوں نے لیبارٹری میں موجود نمونوں سے دوربین کے اشاروں کا موازنہ کر کے اس گیس نما شکر کی نشاندہی کی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ وہی قدرتی چینی ہے جو عام طور پر ہمارے ہاں رسبری نامی پھل اور  رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ خود زندگی کے لیے ضروری جزو نہیں، لیکن یہ آسانی سے ایسی شکل اختیار کر سکتی ہے جو زمین پر زندگی کے آغاز میں اہم کردار ادا کرنے والی چینی سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>ہمارے لیے چینی صرف چائے کو میٹھا کرنے یا مٹھائیاں بنانے کے کام ہی نہیں آتی بلکہ یہ ہمارے جسم کے چھوٹے چھوٹے خلیوں کو چلانے اور ہماری نسل کو آگے بڑھانے والے نظام یعنی ڈی این اے کو بنانے کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ خلا میں چینی کیسے بنتی ہے اور اس کا زندگی کے آغاز سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یونیورسٹی آف ایریزونا کی ماہر فلکیات ایریکا ہیمڈن، جو خود اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کہتی ہیں کہ یہ دریافت اس مواد کی ایک شاندار اور اصل مثال ہے جو ہماری پوری کہکشاں میں بس یوں ہی آزادانہ طور پر تیر رہا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ یہ چینی بذات خود تو زندگی شروع کرنے کے لیے کافی نہیں ہے لیکن یہ بہت آسانی سے ایسی شکل میں بدل سکتی ہے جو زمین پر زندگی کی شروعات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>سائنسدان طویل عرصے سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی۔ کیا باہر سے آنے والے دمدار ستاروں یا خلائی چٹانوں نے زندگی کے لیے ضروری چیزیں ہم تک پہنچائیں یا پھر یہ بنیادی اجزاء پہلے سے ہی خلا میں موجود تھے جن سے بعد میں ہمارا پورا نظام شمسی بنا۔ اب ملنے والی یہ نئی چینی دوسری بات کو زیادہ مضبوط کرتی ہے کہ یہ چیزیں پہلے سے ہی خلا میں تیر رہی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507171/scientists-claim-to-have-created-a-living-cell'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507171"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنسدانوں نے اس سے پہلے بھی ملکی وے کے مرکز کے قریب عام کھانے کی چینی سے ملتی جلتی ایک اور قسم دریافت کی تھی۔ اس کے علاوہ ناسا کے اوسیریس ریکس مشن کے ذریعے سیارچے بینو  لائے گئے نمونوں میں بھی مختلف اقسام کی چینی ملی تھیں، جن میں ڈی این اے کی تشکیل کے لیے اہم ایک جزو بھی شامل تھا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ نئی دریافت اس نظریے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ زندگی کے بنیادی کیمیائی اجزا ہمارے نظامِ شمسی بننے سے پہلے ہی خلا میں موجود تھے اور بعد میں انہی اجزا سے سیارے اور دیگر اجرام تشکیل پائے۔</p>
<p>اسپین کے سینٹر فار ایسٹرو بائیولوجی سے تعلق رکھنے والی اور اس تحقیق کی مصنفہ ازاسکون جیمینیز سیرا کہتی ہیں کہ زندگی کے آغاز کے لیے یہ ضروری بنیادی اجزاء کہکشاں کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں، جس سے کائنات میں کسی دوسری جگہ پر بھی زندگی کے پیدا ہونے اور پھلنے پھولنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق اگر یہ چینی ایک جگہ ملی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کائنات کے دوسرے دور دراز کونوں میں بھی چھپی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین اب مزید تحقیقات کے ذریعے خلا میں موجود دیگر اقسام کی چینی تلاش کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ مادے کس طرح ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتے ہیں اور زندگی کی ابتدا میں ان کا کیا کردار رہا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508684</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2026 12:17:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/14123223679f757.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/14123223679f757.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مریخ پر رہنا چاہتے ہیں؟ ناسا نے درخواستیں طلب کرلیں، اپلائی کرنے کا طریقہ جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508298/nasa-moon-mission-spaceexploration-nasa-volunteers-mars-analog-mission-artemis-mission-johnson-space-center-deep-space-mission-astronaut-research</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایسے رضاکاروں سے درخواستیں طلب کی ہیں جو تقریباً ایک سال مریخ اور چاند جیسے مصنوعی ماحول میں گزارنے کے خواہشمند ہوں۔ اس تحقیق کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی مشنز کے دوران خلا بازوں کی صحت، کارکردگی اور ذہنی و جسمانی تیاری کا جائزہ لینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nasa.gov/humans-in-space/nasa-seeks-volunteers-for-new-yearlong-simulated-moon-mars-mission/"&gt;ناسا کے مطابق&lt;/a&gt;، منتخب رضاکار امریکی شہر ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر میں تقریباً ایک سال گزاریں گے۔ انہیں محدود اور الگ تھلگ ماحول میں رکھا جائے گا، جہاں حالات کو مستقبل میں چاند اور مریخ کے انسانی مشنز سے ملتا جلتا بنانے کی کوشش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے ایک سالہ تحقیقی پروگرام کو ”مون اینڈ مارس ایکسپلوریشن اینالاگ“ کا نام دیا گیا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں دوسرے سیاروں کی سطح پر کام کرنے والے خلا بازوں کو محفوظ اور تیار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق چاند پر طویل مدتی انسانی موجودگی اور آرٹیمس مشنز کی منصوبہ بندی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30447499'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30447499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشن کے لیے مخصوص جسمانی اور تعلیمی معیار پر پورا اترنے والے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ امیدواروں کو کئی روز پر مشتمل انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا جبکہ ناسا ان کے جسمانی اور نفسیاتی جائزے بھی کرے گا۔ ادارہ ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو اس منفرد تجربے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہوں اور مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کی تیاری میں حصہ ڈالنا چاہتے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام ناسا کے دو سابق تحقیقی منصوبوں ’ہیومن ایکسپلوریشن ریسرچ اینالاگ‘ (ہیرا) اور ’کریو ہیلتھ اینڈ پرفارمنس ایکسپلوریشن اینالاگ‘ (چیپیا) کے اہم حصوں کو ایک مشترکہ مشن میں یکجا کرتا ہے۔ اس کا مقصد مختلف خلائی حالات میں انسانوں کے ردعمل اور خلا بازوں کی ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کا مطالعہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجربے کے دوران ’ہیرا‘ کے مصنوعی ماحول کو خلائی جہاز جبکہ ’چیپیا‘ کے مسکن کو سیارے پر قائم ایک بیس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ رضاکار کئی ماہ کے خلائی سفر جیسے حالات میں محدود ماحول کے اندر رہیں گے اور روزمرہ کے مختلف مشن انجام دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضاکار مریخ کی سطح پر چہل قدمی کی نقل کرنے والی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں گے۔ اس کے علاوہ انہیں روور کے ذریعے مرکزی رہائش گاہ سے دور فرضی تحقیقی مقامات تک جانے جیسے تجربات کرائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505787'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505787"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشن کے دوران محققین محدود وسائل اور کام کے دباؤ میں رضاکاروں کی صحت اور کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ ناسا مختلف آلات، ٹیکنالوجیز، حفاظتی طریقہ کار اور دیگر نظاموں کو بھی جانچے گا جو مستقبل کے طویل خلائی سفر میں خلا بازوں کی مدد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ناسا کے ہیومن ریسرچ پروگرام کو فراہم کیا جائے گا، جو طویل خلائی مشنز کے دوران خلا بازوں کو صحت مند اور کام کے لیے تیار رکھنے کے طریقوں پر تحقیق کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپی رکھنے والے افراد کو ناسا کے ”اینالاگز ریکروٹنگ“ پیج پر جا کر ناسا کی فراہم کردہ ہدایات کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا یعنی خواہشمند افراد ناسا کے مون اینڈ مارس ایکسپلوریشن اینالاگ مشن کے لیے ’آن لائن‘  درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اہل قرار پانے والے امیدواروں کو کئی روزہ انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا اور ناسا کے جسمانی و نفسیاتی معائنے بھی پاس کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشن کے لیے درخواست دینے والے افراد کا امریکی شہری یا گرین کارڈ ہولڈر ہونا ضروری ہے جبکہ ان کی عمر 30 سے 55 سال کے درمیان اور قد 74 انچ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ امیدوار کو انگریزی زبان پر عبور، مضبوط تکنیکی صلاحیتوں اور متعلقہ سائنسی یا انجینئرنگ شعبے میں کم از کم بیچلر ڈگری کا حامل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502980'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502980"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;منتخب افراد تقریباً 14 ماہ کے پروگرام میں حصہ لینے پر رضامند ہوں گے، جس میں ایک سال مصنوعی خلائی ماحول میں قیام جبکہ دو ماہ مشن سے پہلے اور بعد کی تربیت اور ڈیٹا جمع کرنے کے لیے مختص ہوں گے۔ منتخب رضاکاروں کو اس تحقیقی پروگرام میں شرکت کے عوض معاوضہ بھی دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی ناسا مستقبل میں چاند کے مزید مشکل اور طویل مشنز کی تیاری کر رہا ہے۔ ادارے کا مقصد سائنسی تحقیق، ممکنہ معاشی فوائد اور چاند کی سطح پر مستقل انسانی موجودگی کے لیے بنیاد تیار کرنا ہے، جس کے بعد انسانوں کو پہلی مرتبہ مریخ بھیجنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی ناسا مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، آلات اور طریقہ کار کو بھی زمین پر آزمانا چاہتا ہے، تاکہ چاند اور مریخ پر جانے والے خلا بازوں کو ممکنہ مشکلات کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایسے رضاکاروں سے درخواستیں طلب کی ہیں جو تقریباً ایک سال مریخ اور چاند جیسے مصنوعی ماحول میں گزارنے کے خواہشمند ہوں۔ اس تحقیق کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی مشنز کے دوران خلا بازوں کی صحت، کارکردگی اور ذہنی و جسمانی تیاری کا جائزہ لینا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nasa.gov/humans-in-space/nasa-seeks-volunteers-for-new-yearlong-simulated-moon-mars-mission/">ناسا کے مطابق</a>، منتخب رضاکار امریکی شہر ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر میں تقریباً ایک سال گزاریں گے۔ انہیں محدود اور الگ تھلگ ماحول میں رکھا جائے گا، جہاں حالات کو مستقبل میں چاند اور مریخ کے انسانی مشنز سے ملتا جلتا بنانے کی کوشش کی جائے گی۔</p>
<p>اس نئے ایک سالہ تحقیقی پروگرام کو ”مون اینڈ مارس ایکسپلوریشن اینالاگ“ کا نام دیا گیا ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں دوسرے سیاروں کی سطح پر کام کرنے والے خلا بازوں کو محفوظ اور تیار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ تحقیق چاند پر طویل مدتی انسانی موجودگی اور آرٹیمس مشنز کی منصوبہ بندی میں بھی معاون ثابت ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30447499'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30447499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشن کے لیے مخصوص جسمانی اور تعلیمی معیار پر پورا اترنے والے افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ امیدواروں کو کئی روز پر مشتمل انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا جبکہ ناسا ان کے جسمانی اور نفسیاتی جائزے بھی کرے گا۔ ادارہ ایسے افراد کی تلاش میں ہے جو اس منفرد تجربے میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہوں اور مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کی تیاری میں حصہ ڈالنا چاہتے ہوں۔</p>
<p>یہ پروگرام ناسا کے دو سابق تحقیقی منصوبوں ’ہیومن ایکسپلوریشن ریسرچ اینالاگ‘ (ہیرا) اور ’کریو ہیلتھ اینڈ پرفارمنس ایکسپلوریشن اینالاگ‘ (چیپیا) کے اہم حصوں کو ایک مشترکہ مشن میں یکجا کرتا ہے۔ اس کا مقصد مختلف خلائی حالات میں انسانوں کے ردعمل اور خلا بازوں کی ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت کا مطالعہ کرنا ہے۔</p>
<p>تجربے کے دوران ’ہیرا‘ کے مصنوعی ماحول کو خلائی جہاز جبکہ ’چیپیا‘ کے مسکن کو سیارے پر قائم ایک بیس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ رضاکار کئی ماہ کے خلائی سفر جیسے حالات میں محدود ماحول کے اندر رہیں گے اور روزمرہ کے مختلف مشن انجام دیں گے۔</p>
<p>رضاکار مریخ کی سطح پر چہل قدمی کی نقل کرنے والی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں گے۔ اس کے علاوہ انہیں روور کے ذریعے مرکزی رہائش گاہ سے دور فرضی تحقیقی مقامات تک جانے جیسے تجربات کرائے جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505787'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505787"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشن کے دوران محققین محدود وسائل اور کام کے دباؤ میں رضاکاروں کی صحت اور کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ ناسا مختلف آلات، ٹیکنالوجیز، حفاظتی طریقہ کار اور دیگر نظاموں کو بھی جانچے گا جو مستقبل کے طویل خلائی سفر میں خلا بازوں کی مدد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>اس تحقیق سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ناسا کے ہیومن ریسرچ پروگرام کو فراہم کیا جائے گا، جو طویل خلائی مشنز کے دوران خلا بازوں کو صحت مند اور کام کے لیے تیار رکھنے کے طریقوں پر تحقیق کرتا ہے۔</p>
<p>دلچسپی رکھنے والے افراد کو ناسا کے ”اینالاگز ریکروٹنگ“ پیج پر جا کر ناسا کی فراہم کردہ ہدایات کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا یعنی خواہشمند افراد ناسا کے مون اینڈ مارس ایکسپلوریشن اینالاگ مشن کے لیے ’آن لائن‘  درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اہل قرار پانے والے امیدواروں کو کئی روزہ انتخابی عمل سے گزرنا ہوگا اور ناسا کے جسمانی و نفسیاتی معائنے بھی پاس کرنا ہوں گے۔</p>
<p>مشن کے لیے درخواست دینے والے افراد کا امریکی شہری یا گرین کارڈ ہولڈر ہونا ضروری ہے جبکہ ان کی عمر 30 سے 55 سال کے درمیان اور قد 74 انچ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ امیدوار کو انگریزی زبان پر عبور، مضبوط تکنیکی صلاحیتوں اور متعلقہ سائنسی یا انجینئرنگ شعبے میں کم از کم بیچلر ڈگری کا حامل ہونا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502980'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502980"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>منتخب افراد تقریباً 14 ماہ کے پروگرام میں حصہ لینے پر رضامند ہوں گے، جس میں ایک سال مصنوعی خلائی ماحول میں قیام جبکہ دو ماہ مشن سے پہلے اور بعد کی تربیت اور ڈیٹا جمع کرنے کے لیے مختص ہوں گے۔ منتخب رضاکاروں کو اس تحقیقی پروگرام میں شرکت کے عوض معاوضہ بھی دیا جائے گا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی ناسا مستقبل میں چاند کے مزید مشکل اور طویل مشنز کی تیاری کر رہا ہے۔ ادارے کا مقصد سائنسی تحقیق، ممکنہ معاشی فوائد اور چاند کی سطح پر مستقل انسانی موجودگی کے لیے بنیاد تیار کرنا ہے، جس کے بعد انسانوں کو پہلی مرتبہ مریخ بھیجنے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔</p>
<p>ساتھ ہی ناسا مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی، آلات اور طریقہ کار کو بھی زمین پر آزمانا چاہتا ہے، تاکہ چاند اور مریخ پر جانے والے خلا بازوں کو ممکنہ مشکلات کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508298</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 12:10:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/111139125b5e3c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/111139125b5e3c5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>12 سال کی عمر میں جہاز بنانے والی اگلی آئنسٹائن سبرینا کون ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508296/nasa-mit-sabrina-pasterski-next-einstein-theoretical-physicist-quantum-gravity-stephen-hawking</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے شہر شکاگو میں پیدا ہونے والی نظریاتی طبیعیات دان سبرینا گونزالیز پاسٹرسکی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ انہیں بعض حلقوں میں ”اگلا البرٹ آئن اسٹائن“ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ کششِ ثقل اور کوانٹم میکینکس کے درمیان تعلق جیسے بڑے سائنسی سوالات پر کام کر رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبرینا 1993 میں ایک کیوبن نژاد امریکی والدہ اور پولش نژاد امریکی والد کے گھر پیدا ہوئیں۔ انہیں بچپن ہی سے ہوابازی اور سائنس میں گہری دلچسپی تھی۔ صرف 12 سال کی عمر میں انہوں نے ایک کٹ کی مدد سے سنگل انجن طیارہ تیار کرنا شروع کیا۔ تقریباً دو سال کی محنت کے بعد انہوں نے یہ طیارہ مکمل کیا اور 14 سال کی عمر میں خود اسے اڑا کر ایک منفرد کارنامہ انجام دیا۔ اس وقت وہ گاڑی چلانے کی قانونی عمر تک بھی نہیں پہنچی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیم کے دوران بھی ان کی صلاحیتیں نمایاں رہیں۔ انہوں نے الینوائے میتھمیٹکس اینڈ سائنس اکیڈمی میں تعلیم حاصل کی، امریکی انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کی اور ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر اور بلیو اوریجن میں بطور انٹرن بھی کام کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30465338'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30465338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سال 2010 میں جب انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں داخلے کے لیے درخواست دی تو ابتدا میں انہیں انتظار کی فہرست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ان کے اپنے ہاتھوں سے تیار کیے گئے طیارے نے ان کی صلاحیتوں کو نمایاں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صرف تین سال میں ایم آئی ٹی سے طبیعیات کی ڈگری مکمل کی اور 5.0 کا مکمل گریڈ پوائنٹ ایوریج حاصل کیا۔ وہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد طبیعیات کے شعبے میں ادارے میں پہلی خاتون بنیں جنہوں نے مکمل نمبر حاصل کیے۔ اسی دوران وہ باوقار اورلوف اسکالرشپ حاصل کرنے والی پہلی خاتون بھی بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں سبرینا نے ہارورڈ یونیورسٹی سے معروف طبیعیات دان اینڈریو اسٹرومنجر کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہوں نے اپنے ساتھی محققین کے ساتھ مل کر ”اسپن میموری ایفیکٹ“ پر تحقیق کی، جو گریویٹیشنل ویوز اور خلاء و زمان کے مطالعے سے متعلق ایک اہم تصور سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/11104524dc53665.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/11104524dc53665.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کی تحقیق اس قدر جاندار تھی کہ دنیا کے عظیم ترین سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے بھی اپنی زندگی کے آخری مقالوں میں سبرینا کی ریسرچ کا حوالہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبرینا کی شاندار قابلیت کو دیکھتے ہوئے امریکی خلائی ادارے ناسا اور جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن اور دیگر معروف اداروں کی جانب سے کام کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ یہی نہیں بلکہ بتایا جاتا ہے کہ ہ انہیں براؤن یونیورسٹی میں تقریباً 11 لاکھ امریکی ڈالرمالیت کی اسسٹنٹ پروفیسر کی پیشکش بھی کی،لیکن سبرینا نے ان تمام پرکشش پیشکشوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا اور کروڑوں روپے کی پیشکشیں ٹھکرانے کے بعد 2021 میں وہ کینیڈا کے ایک نجی تحقیقی ادارے پیریمیٹر انسٹیٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے وابستہ ہوئیں، جہاں وہ کم عمر ترین ریسرچ فیکلٹی اراکین میں شامل ہیں۔ وہاں انہوں نے ”سیلسٹیئل ہولوگرافی انیشی ایٹو“ کے نام سے ایک تحقیقی پروگرام شروع کیا، جس کا مقصد کوانٹم میکینکس اور کششِ ثقل کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/233649'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/233649"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سال 2023 میں اس منصوبے کو سائمنز فاؤنڈیشن کی جانب سے 80 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ بھی ملی، جس میں ہارورڈ، آکسفورڈ، کیمبرج اور دیگر معروف اداروں کے محققین شریک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبرینا کو اگلا آئن سٹائن اس لیے بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ فزکس کے ایک ایسے بڑے اور الجھے ہوئے سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں جو آئن سٹائن کے بعد سے اب تک حل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کشش ثقل یعنی گریویٹی انتہائی چھوٹے ذرات کی سطح پر کس طرح کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبرینا پاسٹرسکی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ جدید طبیعیات کے سب سے بڑے معمہ کو لازمی حل کر لیں گی۔ مختلف انٹرویوز میں وہ کہہ چکی ہیں کہ سائنس کی اصل خوبصورتی نئی دریافتوں کی تلاش اور نامعلوم سوالات کے جواب ڈھونڈنے میں ہے۔ یہی جستجو اور تحقیق سے وابستگی ان کی شناخت سمجھی جاتی ہے، جس کی وجہ سے آج انہیں جدید دور کے نمایاں سائنس دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے شہر شکاگو میں پیدا ہونے والی نظریاتی طبیعیات دان سبرینا گونزالیز پاسٹرسکی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ انہیں بعض حلقوں میں ”اگلا البرٹ آئن اسٹائن“ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ کششِ ثقل اور کوانٹم میکینکس کے درمیان تعلق جیسے بڑے سائنسی سوالات پر کام کر رہی ہیں۔</strong></p>
<p>سبرینا 1993 میں ایک کیوبن نژاد امریکی والدہ اور پولش نژاد امریکی والد کے گھر پیدا ہوئیں۔ انہیں بچپن ہی سے ہوابازی اور سائنس میں گہری دلچسپی تھی۔ صرف 12 سال کی عمر میں انہوں نے ایک کٹ کی مدد سے سنگل انجن طیارہ تیار کرنا شروع کیا۔ تقریباً دو سال کی محنت کے بعد انہوں نے یہ طیارہ مکمل کیا اور 14 سال کی عمر میں خود اسے اڑا کر ایک منفرد کارنامہ انجام دیا۔ اس وقت وہ گاڑی چلانے کی قانونی عمر تک بھی نہیں پہنچی تھیں۔</p>
<p>تعلیم کے دوران بھی ان کی صلاحیتیں نمایاں رہیں۔ انہوں نے الینوائے میتھمیٹکس اینڈ سائنس اکیڈمی میں تعلیم حاصل کی، امریکی انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کی اور ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر اور بلیو اوریجن میں بطور انٹرن بھی کام کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30465338'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30465338"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سال 2010 میں جب انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں داخلے کے لیے درخواست دی تو ابتدا میں انہیں انتظار کی فہرست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں ان کے اپنے ہاتھوں سے تیار کیے گئے طیارے نے ان کی صلاحیتوں کو نمایاں کیا۔</p>
<p>انہوں نے صرف تین سال میں ایم آئی ٹی سے طبیعیات کی ڈگری مکمل کی اور 5.0 کا مکمل گریڈ پوائنٹ ایوریج حاصل کیا۔ وہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد طبیعیات کے شعبے میں ادارے میں پہلی خاتون بنیں جنہوں نے مکمل نمبر حاصل کیے۔ اسی دوران وہ باوقار اورلوف اسکالرشپ حاصل کرنے والی پہلی خاتون بھی بنیں۔</p>
<p>بعد میں سبرینا نے ہارورڈ یونیورسٹی سے معروف طبیعیات دان اینڈریو اسٹرومنجر کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہوں نے اپنے ساتھی محققین کے ساتھ مل کر ”اسپن میموری ایفیکٹ“ پر تحقیق کی، جو گریویٹیشنل ویوز اور خلاء و زمان کے مطالعے سے متعلق ایک اہم تصور سمجھا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/11104524dc53665.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/11104524dc53665.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان کی تحقیق اس قدر جاندار تھی کہ دنیا کے عظیم ترین سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے بھی اپنی زندگی کے آخری مقالوں میں سبرینا کی ریسرچ کا حوالہ دیا۔</p>
<p>سبرینا کی شاندار قابلیت کو دیکھتے ہوئے امریکی خلائی ادارے ناسا اور جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن اور دیگر معروف اداروں کی جانب سے کام کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔ یہی نہیں بلکہ بتایا جاتا ہے کہ ہ انہیں براؤن یونیورسٹی میں تقریباً 11 لاکھ امریکی ڈالرمالیت کی اسسٹنٹ پروفیسر کی پیشکش بھی کی،لیکن سبرینا نے ان تمام پرکشش پیشکشوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>ناسا اور کروڑوں روپے کی پیشکشیں ٹھکرانے کے بعد 2021 میں وہ کینیڈا کے ایک نجی تحقیقی ادارے پیریمیٹر انسٹیٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے وابستہ ہوئیں، جہاں وہ کم عمر ترین ریسرچ فیکلٹی اراکین میں شامل ہیں۔ وہاں انہوں نے ”سیلسٹیئل ہولوگرافی انیشی ایٹو“ کے نام سے ایک تحقیقی پروگرام شروع کیا، جس کا مقصد کوانٹم میکینکس اور کششِ ثقل کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/233649'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/233649"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سال 2023 میں اس منصوبے کو سائمنز فاؤنڈیشن کی جانب سے 80 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ بھی ملی، جس میں ہارورڈ، آکسفورڈ، کیمبرج اور دیگر معروف اداروں کے محققین شریک ہیں۔</p>
<p>سبرینا کو اگلا آئن سٹائن اس لیے بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ فزکس کے ایک ایسے بڑے اور الجھے ہوئے سوال کا جواب تلاش کر رہی ہیں جو آئن سٹائن کے بعد سے اب تک حل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کشش ثقل یعنی گریویٹی انتہائی چھوٹے ذرات کی سطح پر کس طرح کام کرتی ہے۔</p>
<p>سبرینا پاسٹرسکی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ جدید طبیعیات کے سب سے بڑے معمہ کو لازمی حل کر لیں گی۔ مختلف انٹرویوز میں وہ کہہ چکی ہیں کہ سائنس کی اصل خوبصورتی نئی دریافتوں کی تلاش اور نامعلوم سوالات کے جواب ڈھونڈنے میں ہے۔ یہی جستجو اور تحقیق سے وابستگی ان کی شناخت سمجھی جاتی ہے، جس کی وجہ سے آج انہیں جدید دور کے نمایاں سائنس دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508296</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 10:52:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/11104059c83a66b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/11104059c83a66b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیدائش سے قبل بیماریوں کا خاتمہ؛ جینیاتی تبدیلی والے بچوں کی راہ ہموار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508019/gene-editing-crispr-cas9-human-embryos-genetic-diseases-ivf-designer-babies-medical-ethics</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنسدانوں کی نئی تحقیق سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مستقبل میں انسانی بچوں کی جینیاتی بیماریوں کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال سے پہلے ابھی کئی اہم سائنسی اور اخلاقی مسائل حل ہونا باقی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسان نے ہمیشہ وقت کی رفتار اور تقدیر کے فیصلوں کو بدلنے کی کوشش کی ہے، اور اب میڈیکل سائنس نے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جس نے انسان کو زندگی کی تخلیق کے بنیادی اسکرپٹ یعنی ڈی این اے کا ایڈیٹر بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/07/08/science/human-embryo-gene-editing"&gt;سی این این کی ایک حالیہ سائنسی رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق، سائنسدانوں نے لیبارٹری میں انسانی جنین کے اندر موجود جینیاتی نقائص کو اتنی باریکی اور درستی سے ٹھیک کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس نئی پیش رفت نے جہاں لاعلاج موروثی بیماریوں کے خاتمے کی نئی امیدیں جگا دی ہیں، وہی دنیا بھر میں اخلاقی اور قانونی بحث کا ایک نیا طوفان بھی کھڑا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سائنسی معجزے کے پیچھے ’بیس ایڈیٹنگ‘ نامی ایک نئی اور انتہائی حساس ٹیکنالوجی ہے، جسے ڈی این اے کے لیے ”ورڈ پروسیسر“ یا کٹ اینڈ پیس ٹول کہا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nature.com/articles/s41586-026-10792-1"&gt;حالیہ تحقیق&lt;/a&gt; میں سائنسدانوں نے یہی ’بیس ایڈیٹنگ‘ تکنیک استعمال کی، جو پرانی ”کرِسپر کیس-9“ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیادہ درست سمجھی جاتی ہے۔ اس طریقے سے ڈی این اے کے صرف ایک مخصوص حرف میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، جس سے غیر ضروری یا غیر ارادی تبدیلی غیر ارادی تبدیلیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت جین ایڈیٹنگ کی جدید تکنیکیں بعض موروثی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہیں، جن سے کئی مریضوں کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم ایسے افراد میں یہ خطرہ برقرار رہتا ہے کہ وہ بیماری پیدا کرنے والے جینیاتی نقائص اپنی آئندہ نسل کو منتقل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیٹرک ایگلی اور ان کی ٹیم نے مصنوعی طریقہ کار (آئی وی ایف) کے ذریعے عطیہ کیے گئے ابتدائی انسانی جنین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ڈی این اے کی پٹڑی پر موجود انفرادی کیمیکلز کو، جو اندھے پن، دل کے عارضے یا خون کی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، پیدائش سے پہلے ہی جنین کی سطح پر بدل کر بالکل درست کر دیا۔ ماضی کی جین ایڈیٹنگ تکنیکوں کے برعکس، یہ نیا طریقہ کار اس قدر محفوظ ہے کہ اس سے ڈی این اے کے دوسرے حصوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر محفوظ ثابت ہو گئی، تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا طبی انقلاب ہوگا۔ بچوں میں پیدائشی اندھاپن، خون کی کمی یعنی تھلیسیمیا کا شکار معصوم جانیں اور نسل در نسل چلنے والے کینسر کے سائے ہمیشہ کے لیے ختم کیے جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسی دنیا کا خواب ہے جہاں کوئی بچہ موروثی بیماری لے کر پیدا ہی نہیں ہوگا۔ والدین اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند زندگی کا تحفہ پیش کر سکیں، اور وہ بیماریاں جو خاندانی شجروں کو نگل جاتی تھیں، ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس چمکتے ہوئے سائنسی رخ کا ایک تاریک اور خوفناک پہلو بھی ہے جس نے اخلاقی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انسان اب ’خدا‘ بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ اگر آج ڈی این اے کو بیماریوں کے خاتمے کے لیے بدلا جا رہا ہے، تو کل کو یہی ٹیکنالوجی امیر طبقے کے لیے ’ڈیزائنر بیبیز‘ بنانے کا ذریعہ بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496467'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لوگ اپنی مرضی سے بچوں کی آنکھوں کا رنگ، قد، جلد کی رنگت، اور یہاں تک کہ ان کی ذہانت کا معیار بھی آرڈر پر تیار کروائیں گے۔ اس سے معاشرے میں ایک ایسی جینیاتی تفریق پیدا ہو سکتی ہے جہاں امیروں کے بچے زیادہ خوبصورت، ذہین اور صحت مند پیدا ہوں گے، جبکہ غریب طبقہ قدرتی خامیوں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الوقت دنیا کے تقریباً 70 سے زائد ممالک میں اس تبدیل شدہ جنین کو کسی خاتون کے رحم میں منتقل کر کے بچہ پیدا کرنے پر سخت قانونی پابندی ہے۔ خود اس تحقیق میں شامل سائنسدان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی کلینکل استعمال یعنی بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس پر مزید کئی سالوں کی تحقیق درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس نے قدرت کے بند دروازے پر دستک تو دے دی ہے، لیکن اب گیند انسانوں اور عالمی رہنماؤں کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس جادوئی چھڑی کو انسانیت کی بقا کے لیے استعمال کرتے ہیں یا قدرتی توازن کو بگاڑ کر ایک نئی تباہی کو دعوت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنسدانوں کی نئی تحقیق سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مستقبل میں انسانی بچوں کی جینیاتی بیماریوں کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال سے پہلے ابھی کئی اہم سائنسی اور اخلاقی مسائل حل ہونا باقی ہیں۔</strong></p>
<p>انسان نے ہمیشہ وقت کی رفتار اور تقدیر کے فیصلوں کو بدلنے کی کوشش کی ہے، اور اب میڈیکل سائنس نے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جس نے انسان کو زندگی کی تخلیق کے بنیادی اسکرپٹ یعنی ڈی این اے کا ایڈیٹر بنا دیا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/07/08/science/human-embryo-gene-editing">سی این این کی ایک حالیہ سائنسی رپورٹ</a> کے مطابق، سائنسدانوں نے لیبارٹری میں انسانی جنین کے اندر موجود جینیاتی نقائص کو اتنی باریکی اور درستی سے ٹھیک کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس نئی پیش رفت نے جہاں لاعلاج موروثی بیماریوں کے خاتمے کی نئی امیدیں جگا دی ہیں، وہی دنیا بھر میں اخلاقی اور قانونی بحث کا ایک نیا طوفان بھی کھڑا کر دیا ہے۔</p>
<p>اس سائنسی معجزے کے پیچھے ’بیس ایڈیٹنگ‘ نامی ایک نئی اور انتہائی حساس ٹیکنالوجی ہے، جسے ڈی این اے کے لیے ”ورڈ پروسیسر“ یا کٹ اینڈ پیس ٹول کہا جا رہا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nature.com/articles/s41586-026-10792-1">حالیہ تحقیق</a> میں سائنسدانوں نے یہی ’بیس ایڈیٹنگ‘ تکنیک استعمال کی، جو پرانی ”کرِسپر کیس-9“ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیادہ درست سمجھی جاتی ہے۔ اس طریقے سے ڈی این اے کے صرف ایک مخصوص حرف میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، جس سے غیر ضروری یا غیر ارادی تبدیلی غیر ارادی تبدیلیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اس وقت جین ایڈیٹنگ کی جدید تکنیکیں بعض موروثی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہیں، جن سے کئی مریضوں کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم ایسے افراد میں یہ خطرہ برقرار رہتا ہے کہ وہ بیماری پیدا کرنے والے جینیاتی نقائص اپنی آئندہ نسل کو منتقل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیٹرک ایگلی اور ان کی ٹیم نے مصنوعی طریقہ کار (آئی وی ایف) کے ذریعے عطیہ کیے گئے ابتدائی انسانی جنین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ڈی این اے کی پٹڑی پر موجود انفرادی کیمیکلز کو، جو اندھے پن، دل کے عارضے یا خون کی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، پیدائش سے پہلے ہی جنین کی سطح پر بدل کر بالکل درست کر دیا۔ ماضی کی جین ایڈیٹنگ تکنیکوں کے برعکس، یہ نیا طریقہ کار اس قدر محفوظ ہے کہ اس سے ڈی این اے کے دوسرے حصوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر محفوظ ثابت ہو گئی، تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا طبی انقلاب ہوگا۔ بچوں میں پیدائشی اندھاپن، خون کی کمی یعنی تھلیسیمیا کا شکار معصوم جانیں اور نسل در نسل چلنے والے کینسر کے سائے ہمیشہ کے لیے ختم کیے جا سکیں گے۔</p>
<p>یہ ایک ایسی دنیا کا خواب ہے جہاں کوئی بچہ موروثی بیماری لے کر پیدا ہی نہیں ہوگا۔ والدین اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند زندگی کا تحفہ پیش کر سکیں، اور وہ بیماریاں جو خاندانی شجروں کو نگل جاتی تھیں، ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔</p>
<p>تاہم، اس چمکتے ہوئے سائنسی رخ کا ایک تاریک اور خوفناک پہلو بھی ہے جس نے اخلاقی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انسان اب ’خدا‘ بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ اگر آج ڈی این اے کو بیماریوں کے خاتمے کے لیے بدلا جا رہا ہے، تو کل کو یہی ٹیکنالوجی امیر طبقے کے لیے ’ڈیزائنر بیبیز‘ بنانے کا ذریعہ بن جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496467'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لوگ اپنی مرضی سے بچوں کی آنکھوں کا رنگ، قد، جلد کی رنگت، اور یہاں تک کہ ان کی ذہانت کا معیار بھی آرڈر پر تیار کروائیں گے۔ اس سے معاشرے میں ایک ایسی جینیاتی تفریق پیدا ہو سکتی ہے جہاں امیروں کے بچے زیادہ خوبصورت، ذہین اور صحت مند پیدا ہوں گے، جبکہ غریب طبقہ قدرتی خامیوں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گا۔</p>
<p>فی الوقت دنیا کے تقریباً 70 سے زائد ممالک میں اس تبدیل شدہ جنین کو کسی خاتون کے رحم میں منتقل کر کے بچہ پیدا کرنے پر سخت قانونی پابندی ہے۔ خود اس تحقیق میں شامل سائنسدان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی کلینکل استعمال یعنی بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس پر مزید کئی سالوں کی تحقیق درکار ہے۔</p>
<p>سائنس نے قدرت کے بند دروازے پر دستک تو دے دی ہے، لیکن اب گیند انسانوں اور عالمی رہنماؤں کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس جادوئی چھڑی کو انسانیت کی بقا کے لیے استعمال کرتے ہیں یا قدرتی توازن کو بگاڑ کر ایک نئی تباہی کو دعوت دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508019</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Jul 2026 10:05:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/09100219eea5fcb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/09100219eea5fcb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میٹا کے نئے اے آئی فوٹو جنریٹر نے لانچ ہوتے ہی تنازع کھڑا کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507920/metas-new-ai-photo-generator-sparks-controversy-immediately-after-launch</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تصویر بنانے والا ٹول متعارف کرایا ہے جس کا نام ’میوز امیج‘ رکھا گیا ہے۔ اس نئے طریقے کی مدد سے لوگ اب واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر صرف لکھ کر اپنی پسند کی تصویریں بنوا سکتے ہیں۔ لیکن یہ نیا سوفٹ ویئر آتے ہی ایک بڑے تنازع کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس میں ایک ایسا طریقہ رکھا گیا ہے جس سے کوئی بھی دوسرا شخص آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی تصویریں بنا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے مطابق میوز امیج کی مدد سے لوگ اپنی مرضی کی تصاویر بنا سکتے ہیں، پرانی تصاویر میں تبدیلی کر سکتے ہیں، کارٹون انداز کی تصویریں تیار کر سکتے ہیں اور دعوت نامے یا پوسٹ کارڈ جیسی تصاویر بھی بنا سکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹول صارف کے دیے گئے حکم یعنی پرامپٹ کو سمجھ کر بہتر تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس نئے فیچر کے سامنے آتے ہی پرائیویسی کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ میٹا کمپنی نے بتایا ہے کہ یہ نیا نظام تصویریں بنانے کے لیے انسٹاگرام کی معلومات کا استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507168/what-did-the-worlds-largest-digital-camera-see-in-the-hidden-corners-of-the-universe'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ پبلک ہے اور اسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، تو کوئی بھی دوسرا شخص اس اکاؤنٹ کو ٹیگ کر کے کر آپ کی شکل والی نئی تصویر تیار کروا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس  معاملے پر کئی سوشل میڈیا صارفین کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ اصل لوگوں کی اجازت کے بغیر اے آئی سے بنائی گئی تصاویر میں شامل کرنا عام شہریوں کی پرائیویسی پر ایک بڑا حملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے قانون کے مطابق جب تک آپ کا اکاؤنٹ سب کے لیے کھلا ہے، تب تک دوسرے لوگ میٹا کے اس نئے طریقے سے آپ کی تصویروں کا استعمال کر کے نیا مواد بنا سکتے ہیں، البتہ ایسا ہونے پر آپ کو موبائل پر میسج کے ذریعے اطلاع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی شکل استعمال نہ کرے تو آپ موبائل کی سیٹنگ میں جا کر اس آپشن کو بند کر سکتے ہیں یا اپنے اکاؤنٹ کو پرائیویٹ کر سکتے ہیں، لیکن جو تصویریں پہلے ہی بن چکی ہوں گی وہ مٹائی نہیں جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میوز امیج‘میں کئی نئے فیچر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ صارفین پہلے سے تیار کردہ انداز یعنی پری سیٹس استعمال کر سکتے ہیں یا خود اپنی ہدایات لکھ کر تصویر بنوا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے مطابق، یہ ٹول انسٹاگرام اسٹوریز کے لیے نئے اے آئی افیکٹس بھی فراہم کرے گا، جن میں تصاویر کے رنگ، انداز اور شکل کو تبدیل کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506946/whatsapp-privacy-cybersecurity-technews-username-messagingapp-whatsappupdate'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز کے سربراہ الیگزینڈر وانگ نے انٹرنیٹ پر بتایا کہ یہ نظام بہت سمجھدار ہے، یہ آپ کی لکھی ہوئی بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے، معلومات تلاش کرتا ہے اور پھر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تصویر تیار کرتا ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے لوگ کارٹون والی تصویریں، شادی کے کارڈ اور دعوت نامے بھی بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کے شعبے میں میوز امیج کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ ٹول مختلف اے آئی تصویر بنانے والے سسٹمز کی درجہ بندی میں اوپن اے آئی کے جی پی ٹی امیج 2 کے بعد نمایاں مقام پر موجود ہے۔ میٹا نے ساتھ ہی ایک اے ائی ویڈیو بنانے والے ٹول میوز ویڈیوکا بھی ذکر کیا ہے، جو ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ سروس فی الحال بالکل مفت ہے لیکن اگر کوئی بہت زیادہ تصویریں بنائے گا تو اسے کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا یا پھر وہ کمپنی کے کسی ادا شدہ منصوبے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی مستقبل میں اس فیچر کو فیس بک اور میسنجر پر بھی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک اس سہولت کو فیس بک پر بھی لے آیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میٹا کمپنی پر پہلے بھی لوگوں کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا چوری کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور ماضی میں انہیں اس وجہ سے بھاری جرمانے بھی دینے پڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تصویر بنانے والا ٹول متعارف کرایا ہے جس کا نام ’میوز امیج‘ رکھا گیا ہے۔ اس نئے طریقے کی مدد سے لوگ اب واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر صرف لکھ کر اپنی پسند کی تصویریں بنوا سکتے ہیں۔ لیکن یہ نیا سوفٹ ویئر آتے ہی ایک بڑے تنازع کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ اس میں ایک ایسا طریقہ رکھا گیا ہے جس سے کوئی بھی دوسرا شخص آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی تصویریں بنا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>میٹا کے مطابق میوز امیج کی مدد سے لوگ اپنی مرضی کی تصاویر بنا سکتے ہیں، پرانی تصاویر میں تبدیلی کر سکتے ہیں، کارٹون انداز کی تصویریں تیار کر سکتے ہیں اور دعوت نامے یا پوسٹ کارڈ جیسی تصاویر بھی بنا سکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹول صارف کے دیے گئے حکم یعنی پرامپٹ کو سمجھ کر بہتر تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>تاہم، اس نئے فیچر کے سامنے آتے ہی پرائیویسی کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ میٹا کمپنی نے بتایا ہے کہ یہ نیا نظام تصویریں بنانے کے لیے انسٹاگرام کی معلومات کا استعمال کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507168/what-did-the-worlds-largest-digital-camera-see-in-the-hidden-corners-of-the-universe'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ پبلک ہے اور اسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، تو کوئی بھی دوسرا شخص اس اکاؤنٹ کو ٹیگ کر کے کر آپ کی شکل والی نئی تصویر تیار کروا سکتا ہے۔</p>
<p>اس  معاملے پر کئی سوشل میڈیا صارفین کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ اصل لوگوں کی اجازت کے بغیر اے آئی سے بنائی گئی تصاویر میں شامل کرنا عام شہریوں کی پرائیویسی پر ایک بڑا حملہ ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے قانون کے مطابق جب تک آپ کا اکاؤنٹ سب کے لیے کھلا ہے، تب تک دوسرے لوگ میٹا کے اس نئے طریقے سے آپ کی تصویروں کا استعمال کر کے نیا مواد بنا سکتے ہیں، البتہ ایسا ہونے پر آپ کو موبائل پر میسج کے ذریعے اطلاع دی جائے گی۔</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کی شکل استعمال نہ کرے تو آپ موبائل کی سیٹنگ میں جا کر اس آپشن کو بند کر سکتے ہیں یا اپنے اکاؤنٹ کو پرائیویٹ کر سکتے ہیں، لیکن جو تصویریں پہلے ہی بن چکی ہوں گی وہ مٹائی نہیں جائیں گی۔</p>
<p>’میوز امیج‘میں کئی نئے فیچر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ صارفین پہلے سے تیار کردہ انداز یعنی پری سیٹس استعمال کر سکتے ہیں یا خود اپنی ہدایات لکھ کر تصویر بنوا سکتے ہیں۔</p>
<p>میٹا کے مطابق، یہ ٹول انسٹاگرام اسٹوریز کے لیے نئے اے آئی افیکٹس بھی فراہم کرے گا، جن میں تصاویر کے رنگ، انداز اور شکل کو تبدیل کیا جا سکے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506946/whatsapp-privacy-cybersecurity-technews-username-messagingapp-whatsappupdate'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز کے سربراہ الیگزینڈر وانگ نے انٹرنیٹ پر بتایا کہ یہ نظام بہت سمجھدار ہے، یہ آپ کی لکھی ہوئی بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے، معلومات تلاش کرتا ہے اور پھر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ تصویر تیار کرتا ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے لوگ کارٹون والی تصویریں، شادی کے کارڈ اور دعوت نامے بھی بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کے شعبے میں میوز امیج کو بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ ٹول مختلف اے آئی تصویر بنانے والے سسٹمز کی درجہ بندی میں اوپن اے آئی کے جی پی ٹی امیج 2 کے بعد نمایاں مقام پر موجود ہے۔ میٹا نے ساتھ ہی ایک اے ائی ویڈیو بنانے والے ٹول میوز ویڈیوکا بھی ذکر کیا ہے، جو ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ سروس فی الحال بالکل مفت ہے لیکن اگر کوئی بہت زیادہ تصویریں بنائے گا تو اسے کچھ وقت انتظار کرنا پڑے گا یا پھر وہ کمپنی کے کسی ادا شدہ منصوبے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کمپنی مستقبل میں اس فیچر کو فیس بک اور میسنجر پر بھی لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک اس سہولت کو فیس بک پر بھی لے آیا جائے گا۔</p>
<p>یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میٹا کمپنی پر پہلے بھی لوگوں کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا چوری کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں اور ماضی میں انہیں اس وجہ سے بھاری جرمانے بھی دینے پڑے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507920</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Jul 2026 12:16:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/081216258c2b441.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/081216258c2b441.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا کلاڈ انسان بن رہا ہے؟ اینتھروپک نے اے آئی کی 'خفیہ سوچ' ڈھونڈ نکالی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر ایک ایسا خفیہ اور اندرونی نظام دریافت کیا ہے جہاں یہ بوٹ صارف کو دکھائے بغیر خاموشی سے مختلف خیالات اور باتوں پر کام کرتا ہے۔ کمپنی نے اس خفیہ جگہ کو ”جے اسپیس“ کا نام دیا ہے جو کہ ایک خاص ریاضیاتی طریقے ”جیکوبین“ سے ماخوذ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جے اسپیس کلاڈ کی عام نظر آنے والی سوچ یا چیٹ میں دکھائی دینے والی وجہ بیان کرنے کی صلاحیت سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسا اندرونی ورک اسپیس ہے جہاں اے آئی مختلف تصورات کو فعال کر سکتا ہے، منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور معلومات کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اس کی تفصیل صارف کو براہ راست دکھائی نہیں دیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کے مطابق کلاڈ بعض اوقات اندر ہی اندر ایسے کام کر لیتا ہے جن کے تمام مراحل وہ اپنے جواب میں ظاہر نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر یہ کوڈ میں غلطیاں تلاش کر سکتا ہے یا تصاویر کو پہچان سکتا ہے، مگر صارف کو صرف آخری جواب نظر آتا ہے، مکمل اندرونی عمل نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506571/artificial-intelligence-cybersecurity-anthropic-technews-mythos5-fable5'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ کلاڈ کا جے اسپیس بعض اوقات ایسے خیالات کو بھی فعال رکھ سکتا ہے جن کا براہ راست تعلق اس کے موجودہ کام سے نہیں ہوتا۔ کمپنی نے اس عمل کا موازنہ انسانوں کی سوچ سے کیا ہے، جہاں ایک شخص بظاہر کوئی کام کر رہا ہوتا ہے لیکن ذہن میں کسی اور موضوع پر بھی غور کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کو جانچنے کے لیے محققین نے کلاڈ کو ایک ایسا جملہ نقل کرنے کا کہا جس کا تعلق ایک الگ موضوع سے تھا، جبکہ ساتھ ہی اسے گولڈن گیٹ برج کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا گیا۔ کلاڈ نے صرف جملہ نقل کیا، لیکن تحقیق کرنے والوں نے دیکھا کہ اس کے اندرونی جے اسپیس میں ”پل“ اور ”کیلیفورنیا“ جیسے تصورات بھی فعال تھے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماڈل ایک ہی وقت میں مختلف معلومات پر اندرونی طور پر کام کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلاڈ میں انسانوں جیسی جان یا شعور آ گیا ہے، لیکن اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز کس طرح انسانوں کی طرز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کے مطابق جے اسپیس کی اہمیت صرف یہ جاننے تک محدود نہیں کہ اے آئی کس طرح سوچتا ہے بلکہ یہ اے آئی کی حفاظت کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر محققین اے آئی کے اندرونی عمل کو بہتر طریقے سے دیکھ سکیں تو وہ ایسے حالات کو پہلے ہی پکڑ سکتے ہیں جہاں ایک ماڈل کے اندرونی ارادے اس کے ظاہر کیے گئے جواب سے مختلف ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506410/america-bans-claude-fable-five-mythos-anthropic-suspends-global-access'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایک مثال بھی پیش کی جس میں ایک ایسے اے آئی ماڈل کا جائزہ لیا گیا جسے خفیہ طور پر کوڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ اینتھروپک کے مطابق اس ماڈل کے اندرونی جے اسپیس میں ”جعلی“، ”خفیہ طور پر“ اور ”دھوکا“ جیسے تصورات نظر آئے، حالانکہ اس کا آخری جواب بظاہر عام اور درست دکھائی دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے لیے یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز کے رویے کو سمجھنے اور ان کی نگرانی کے نئے طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا ابھی ممکن نہیں کہ کلاڈ یا کوئی اور اے آئی نظام انسانوں کی طرح سوچتا ہے یا شعور رکھتا ہے۔ موجودہ تحقیق صرف یہ بتاتی ہے کہ جدید اے آئی کے اندرونی عمل پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت کی مشہور کمپنی اینتھروپک نے اپنے معروف اے آئی ماڈل کلاڈ کے اندر ایک ایسا خفیہ اور اندرونی نظام دریافت کیا ہے جہاں یہ بوٹ صارف کو دکھائے بغیر خاموشی سے مختلف خیالات اور باتوں پر کام کرتا ہے۔ کمپنی نے اس خفیہ جگہ کو ”جے اسپیس“ کا نام دیا ہے جو کہ ایک خاص ریاضیاتی طریقے ”جیکوبین“ سے ماخوذ ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جے اسپیس کلاڈ کی عام نظر آنے والی سوچ یا چیٹ میں دکھائی دینے والی وجہ بیان کرنے کی صلاحیت سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسا اندرونی ورک اسپیس ہے جہاں اے آئی مختلف تصورات کو فعال کر سکتا ہے، منصوبہ بندی کر سکتا ہے اور معلومات کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اس کی تفصیل صارف کو براہ راست دکھائی نہیں دیتی۔</p>
<p>اینتھروپک کے مطابق کلاڈ بعض اوقات اندر ہی اندر ایسے کام کر لیتا ہے جن کے تمام مراحل وہ اپنے جواب میں ظاہر نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر یہ کوڈ میں غلطیاں تلاش کر سکتا ہے یا تصاویر کو پہچان سکتا ہے، مگر صارف کو صرف آخری جواب نظر آتا ہے، مکمل اندرونی عمل نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506571/artificial-intelligence-cybersecurity-anthropic-technews-mythos5-fable5'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506571"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ کلاڈ کا جے اسپیس بعض اوقات ایسے خیالات کو بھی فعال رکھ سکتا ہے جن کا براہ راست تعلق اس کے موجودہ کام سے نہیں ہوتا۔ کمپنی نے اس عمل کا موازنہ انسانوں کی سوچ سے کیا ہے، جہاں ایک شخص بظاہر کوئی کام کر رہا ہوتا ہے لیکن ذہن میں کسی اور موضوع پر بھی غور کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس بات کو جانچنے کے لیے محققین نے کلاڈ کو ایک ایسا جملہ نقل کرنے کا کہا جس کا تعلق ایک الگ موضوع سے تھا، جبکہ ساتھ ہی اسے گولڈن گیٹ برج کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا گیا۔ کلاڈ نے صرف جملہ نقل کیا، لیکن تحقیق کرنے والوں نے دیکھا کہ اس کے اندرونی جے اسپیس میں ”پل“ اور ”کیلیفورنیا“ جیسے تصورات بھی فعال تھے۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماڈل ایک ہی وقت میں مختلف معلومات پر اندرونی طور پر کام کر سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AnthropicAI/status/2074185358678364414?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلاڈ میں انسانوں جیسی جان یا شعور آ گیا ہے، لیکن اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز کس طرح انسانوں کی طرز پر کام کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اینتھروپک کے مطابق جے اسپیس کی اہمیت صرف یہ جاننے تک محدود نہیں کہ اے آئی کس طرح سوچتا ہے بلکہ یہ اے آئی کی حفاظت کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر محققین اے آئی کے اندرونی عمل کو بہتر طریقے سے دیکھ سکیں تو وہ ایسے حالات کو پہلے ہی پکڑ سکتے ہیں جہاں ایک ماڈل کے اندرونی ارادے اس کے ظاہر کیے گئے جواب سے مختلف ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506410/america-bans-claude-fable-five-mythos-anthropic-suspends-global-access'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی نے ایک مثال بھی پیش کی جس میں ایک ایسے اے آئی ماڈل کا جائزہ لیا گیا جسے خفیہ طور پر کوڈ کو نقصان پہنچانے کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ اینتھروپک کے مطابق اس ماڈل کے اندرونی جے اسپیس میں ”جعلی“، ”خفیہ طور پر“ اور ”دھوکا“ جیسے تصورات نظر آئے، حالانکہ اس کا آخری جواب بظاہر عام اور درست دکھائی دے رہا تھا۔</p>
<p>ماہرین کے لیے یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ مستقبل میں اے آئی سسٹمز کے رویے کو سمجھنے اور ان کی نگرانی کے نئے طریقے سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا ابھی ممکن نہیں کہ کلاڈ یا کوئی اور اے آئی نظام انسانوں کی طرح سوچتا ہے یا شعور رکھتا ہے۔ موجودہ تحقیق صرف یہ بتاتی ہے کہ جدید اے آئی کے اندرونی عمل پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507793</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 14:01:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/07135912ac61fcb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/07135912ac61fcb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی شکایات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507233/pakistan-internet-disruption-smw5-cable-dirbs-upgrade</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی زیرِ سمندر ایس ایم ڈبلیو 5 کیبل میں خرابی کے باعث بعض صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں تعطل اور سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مختلف شہروں میں جمعرات کو انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جس کے باعث صارفین کو ویب براؤزنگ، سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن سروسز کے استعمال میں مشکلات پیش آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر نظر رکھنے والے ادارے ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی متعدد شکایات موصول ہوئیں، جب کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی صارفین نے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ بین الاقوامی زیرِ سمندر ایس ایم ڈبلیو 5 کیبل میں خرابی کے باعث ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بعض صارفین کو وقفے وقفے سے کنیکٹیویٹی اور سروس کے معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTAofficialpk/status/2072724589260542250'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTAofficialpk/status/2072724589260542250"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (ٹی ڈبلیو اے)، ایس ایم ڈبلیو 5 کنسورشیم کے ساتھ مل کر خرابی کی بنیادی وجہ اور سروس کی بحالی کے متوقع وقت کا تعین کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے بتایا کہ صارفین پر اثرات کم سے کم رکھنے کے لیے انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل بین الاقوامی لنکس پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خدمات کا تسلسل ممکن حد تک برقرار رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس جلد از جلد معمول پر لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پی ٹی اے نے ایک الگ اعلامیے میں بتایا کہ ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس اپ گریڈ کے باعث ڈی آئی آر بی ایس پورٹل اور اس سے متعلق تمام خدمات 3 جولائی شام 5 بجے سے 6 جولائی صبح 4 بجے تک عارضی طور پر دستیاب نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق اپ گریڈ کے بعد مقامی طور پر تیار کیا گیا نیا نظام عام صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے موبائل ڈیوائس رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروس سست ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی زیرِ سمندر ایس ایم ڈبلیو 5 کیبل میں خرابی کے باعث بعض صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں تعطل اور سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کے مختلف شہروں میں جمعرات کو انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئیں، جس کے باعث صارفین کو ویب براؤزنگ، سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن سروسز کے استعمال میں مشکلات پیش آئیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر نظر رکھنے والے ادارے ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی متعدد شکایات موصول ہوئیں، جب کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی صارفین نے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہونے کی نشاندہی کی۔</p>
<p>بعد ازاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ بین الاقوامی زیرِ سمندر ایس ایم ڈبلیو 5 کیبل میں خرابی کے باعث ملک میں انٹرنیٹ ٹریفک متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بعض صارفین کو وقفے وقفے سے کنیکٹیویٹی اور سروس کے معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PTAofficialpk/status/2072724589260542250'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTAofficialpk/status/2072724589260542250"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پی ٹی اے کے مطابق ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (ٹی ڈبلیو اے)، ایس ایم ڈبلیو 5 کنسورشیم کے ساتھ مل کر خرابی کی بنیادی وجہ اور سروس کی بحالی کے متوقع وقت کا تعین کر رہی ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے بتایا کہ صارفین پر اثرات کم سے کم رکھنے کے لیے انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل بین الاقوامی لنکس پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خدمات کا تسلسل ممکن حد تک برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p>پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس جلد از جلد معمول پر لائی جا سکے۔</p>
<p>دریں اثنا، پی ٹی اے نے ایک الگ اعلامیے میں بتایا کہ ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس اپ گریڈ کے باعث ڈی آئی آر بی ایس پورٹل اور اس سے متعلق تمام خدمات 3 جولائی شام 5 بجے سے 6 جولائی صبح 4 بجے تک عارضی طور پر دستیاب نہیں ہوں گی۔</p>
<p>پی ٹی اے کے مطابق اپ گریڈ کے بعد مقامی طور پر تیار کیا گیا نیا نظام عام صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے موبائل ڈیوائس رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507233</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 22:32:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/02222958b4de49d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/02222958b4de49d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سائنس دانوں کا قدرتی خصوصیات کا حامل مصنوعی خلیہ تخلیق کرنے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507171/scientists-claim-to-have-created-a-living-cell</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنس دانوں نے تاریخ میں پہلی بار تجربہ گاہ میں بے جان کیمیاوی مادوں کو ملا کر ایک ایسا خلیہ یعنی سیل بنایا ہے جو قدرتی خلیوں کی طرح خوراک کھا سکتا ہے، بڑا ہو سکتا ہے اور اپنی نسل بھی بڑھا سکتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس بڑی کامیابی سے اب ایسی جاندار مشینیں بنانا ممکن ہو سکے گا جو انسانوں کے کہنے پر کام کریں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/07/01/science/synthetic-cell-research"&gt;سی این این &lt;/a&gt;کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف منیسوٹا کی پروفیسر کیٹ ایڈامالا اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس مصنوعی خلیے کو مختلف کیمیکلز اور مالیکیولز کو جوڑ کر مرحلہ وار تیار کیا۔ یہ خلیہ نہ تو کسی پودے کا ہے اور نہ ہی کسی جانور کا، بلکہ یہ دیکھنے میں ایک عام جرثومے یعنی بیکٹیریا جیسا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506231/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پروفیسر کیٹ ایڈامالا کا کہنا ہے کہ میں اس خلیے میں ڈالی گئی تمام چیزوں اور کیمیکلز کو اچھی طرح جانتی ہوں اور ہمیں معلوم ہے کہ کون سی چیز کتنی مقدار میں ڈالی گئی ہے، اس لیے ہم اپنی مرضی سے اس میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس طریقے سے مستقبل میں کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا علاج اور نئی دوائیاں بنانا آسان ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن کے امپیریل کالج کے ایک ماہر یوول ایلانی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، انہوں نے اس کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیے کو بالکل شروع سے بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم قدرت کے پرانے اصولوں کے پابند نہیں رہے، اس سے ہمیں ایسی چیزیں بنانے کا موقع ملے گا جو عام قدرتی خلیے آسانی سے نہیں کر سکتے یا بالکل نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ اس پرانی کوشش میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا تھا کہ کیا کیمیکلز کو اس طرح جوڑا جا سکتا ہے جسے ہم زندگی کا نام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مصنوعی خلیے کا نام ایڈامالا نے اسپڈ سیل رکھا ہے۔ جو اسپوٹنک سیٹلائٹ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ایک دلچسپ نام ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی خلیہ تقریباً 150 سے 200 مالیکیولز پر مشتمل ہے، جبکہ قدرتی خلیوں میں لاکھوں بلکہ اربوں اجزاء ہوتے ہیں۔ یہ خلیہ ہر بار تقریباً 12 گھنٹے میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ عام بیکٹیریا جیسے ای کولی صرف 30 منٹ میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کے مطابق اسپڈ سیل قدرتی خلیے کی طرح مکمل نظام نہیں رکھتا، مثال کے طور پر اس میں وہ اندرونی ڈھانچہ موجود نہیں جو قدرتی خلیوں کو سہارا دیتا ہے۔ یہ اپنے پروٹینز کو استعمال کر کے خود کو تقسیم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابھی زندگی کی مکمل شکل نہیں، لیکن اس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زندگی بنیادی طور پر کیسے وجود میں آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505417/bermudatriangle-sciencenews-geology-earthscience-discovery-mantle-research'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505417"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی تسلی دی کہ یہ خلیہ کسی بیماری یا حیاتیاتی ہتھیار پھیلانے کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ صرف تجربہ گاہ میں سائنس دانوں کے ہاتھ سے دی گئی خوراک پر ہی زندہ رہ سکتا ہے اور اگر اسے باہر کھلا چھوڑ دیا جائے تو یہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ماہرین نے اس تحقیق کو ایک بڑی سائنسی پیش رفت قرار دیا ہے۔ لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر ٹام ایلس نے کہا، ”یہ مصنوعی خلیوں کے شعبے میں حالیہ دور کی سب سے بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق سے مستقبل میں ایسی مشینیں یا خلیے تیار کیے جا سکتے ہیں جو بیماریوں کے علاج، کاربن جذب کرنے یا کیمیکلز بنانے جیسے کام انجام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی آگے بڑھے گی، اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر بھی غور کرنا ضروری ہوگا تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنس دانوں نے تاریخ میں پہلی بار تجربہ گاہ میں بے جان کیمیاوی مادوں کو ملا کر ایک ایسا خلیہ یعنی سیل بنایا ہے جو قدرتی خلیوں کی طرح خوراک کھا سکتا ہے، بڑا ہو سکتا ہے اور اپنی نسل بھی بڑھا سکتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس بڑی کامیابی سے اب ایسی جاندار مشینیں بنانا ممکن ہو سکے گا جو انسانوں کے کہنے پر کام کریں گی۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/07/01/science/synthetic-cell-research">سی این این </a>کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف منیسوٹا کی پروفیسر کیٹ ایڈامالا اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس مصنوعی خلیے کو مختلف کیمیکلز اور مالیکیولز کو جوڑ کر مرحلہ وار تیار کیا۔ یہ خلیہ نہ تو کسی پودے کا ہے اور نہ ہی کسی جانور کا، بلکہ یہ دیکھنے میں ایک عام جرثومے یعنی بیکٹیریا جیسا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506231/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق پروفیسر کیٹ ایڈامالا کا کہنا ہے کہ میں اس خلیے میں ڈالی گئی تمام چیزوں اور کیمیکلز کو اچھی طرح جانتی ہوں اور ہمیں معلوم ہے کہ کون سی چیز کتنی مقدار میں ڈالی گئی ہے، اس لیے ہم اپنی مرضی سے اس میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔</p>
<p>سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس طریقے سے مستقبل میں کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا علاج اور نئی دوائیاں بنانا آسان ہو جائے گا۔</p>
<p>لندن کے امپیریل کالج کے ایک ماہر یوول ایلانی، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، انہوں نے اس کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیے کو بالکل شروع سے بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم قدرت کے پرانے اصولوں کے پابند نہیں رہے، اس سے ہمیں ایسی چیزیں بنانے کا موقع ملے گا جو عام قدرتی خلیے آسانی سے نہیں کر سکتے یا بالکل نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ اس پرانی کوشش میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا تھا کہ کیا کیمیکلز کو اس طرح جوڑا جا سکتا ہے جسے ہم زندگی کا نام دے سکیں۔</p>
<p>اس مصنوعی خلیے کا نام ایڈامالا نے اسپڈ سیل رکھا ہے۔ جو اسپوٹنک سیٹلائٹ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ایک دلچسپ نام ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی خلیہ تقریباً 150 سے 200 مالیکیولز پر مشتمل ہے، جبکہ قدرتی خلیوں میں لاکھوں بلکہ اربوں اجزاء ہوتے ہیں۔ یہ خلیہ ہر بار تقریباً 12 گھنٹے میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ عام بیکٹیریا جیسے ای کولی صرف 30 منٹ میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>سائنسدانوں کے مطابق اسپڈ سیل قدرتی خلیے کی طرح مکمل نظام نہیں رکھتا، مثال کے طور پر اس میں وہ اندرونی ڈھانچہ موجود نہیں جو قدرتی خلیوں کو سہارا دیتا ہے۔ یہ اپنے پروٹینز کو استعمال کر کے خود کو تقسیم کرتا ہے۔</p>
<p>اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابھی زندگی کی مکمل شکل نہیں، لیکن اس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زندگی بنیادی طور پر کیسے وجود میں آئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505417/bermudatriangle-sciencenews-geology-earthscience-discovery-mantle-research'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505417"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے یہ بھی تسلی دی کہ یہ خلیہ کسی بیماری یا حیاتیاتی ہتھیار پھیلانے کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ صرف تجربہ گاہ میں سائنس دانوں کے ہاتھ سے دی گئی خوراک پر ہی زندہ رہ سکتا ہے اور اگر اسے باہر کھلا چھوڑ دیا جائے تو یہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>کئی ماہرین نے اس تحقیق کو ایک بڑی سائنسی پیش رفت قرار دیا ہے۔ لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر ٹام ایلس نے کہا، ”یہ مصنوعی خلیوں کے شعبے میں حالیہ دور کی سب سے بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔“</p>
<p>سائنسدانوں کے مطابق اس تحقیق سے مستقبل میں ایسی مشینیں یا خلیے تیار کیے جا سکتے ہیں جو بیماریوں کے علاج، کاربن جذب کرنے یا کیمیکلز بنانے جیسے کام انجام دے سکیں۔</p>
<p>تاہم ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی آگے بڑھے گی، اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر بھی غور کرنا ضروری ہوگا تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507171</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 16:36:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/02144615700dc04.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/02144615700dc04.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے نے کائنات کے پوشیدہ حصے میں کیا دیکھا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507168/what-did-the-worlds-largest-digital-camera-see-in-the-hidden-corners-of-the-universe</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرہ بنا لیا ہے جس کی مدد سے وہ کائنات کے ایسے حصوں کی تصاویر حاصل کرسکیں گے جو پہلے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھے جا سکے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انوکھا کیمرہ چلی کے ایک بلند پہاڑ پر قائم ویرا سی روبن آبزرویٹری میں نصب کیا گیا ہے۔ یہ رصدگاہ اگلے 10 برس تک جنوبی آسمان کا مسلسل مشاہدہ کرے گی اور ہر رات سینکڑوں تصاویر لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس کیمرے کی مدد سے وہ ہماری زمین سے دور موجود اربوں ستاروں اور کہکشاؤں کا ایک نیا اور بہتر نقشہ بنا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506411/alien-hotspot-in-america-newly-released-government-files-spark-uproar'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کیمرہ بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ایک ہی جگہ کی بار بار تصویریں لے سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو ستارے یا سیارے بہت مدہم ہیں اور پہلے نظر نہیں آتے تھے، اب وہ بھی صاف دکھائی دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجربہ گاہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز فل مارشل کا کہنا ہے کہ ہم دنیا بھر کے بہت سے سائنس دانوں کو اس کیمرے سے ملنے والی معلومات پر کام کرتے ہوئے دیکھیں گے اور وہ کائنات کا اس طرح مطالعہ کر سکیں گے جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیمرہ پچھلے سال ہی کچھ آزمائشی تصویریں بھیج چکا ہے جن میں  زمین سے ہزاروں نوری سال دور واقع ٹرائی فڈ اور لیگون نیبیولا کی خوبصورت تصاویر شامل تھیں۔ ایک نوری سال تقریباً 9.7 کھرب کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران آلات کو مزید بہتر بنایا تاکہ وہ 10 سالہ سائنسی سروے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505764/scientists-discover-a-unique-fuel-saving-and-low-cost-route-from-earth-to-the-moon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تصاویر سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کہکشائیں اربوں سال میں کیسے بنتی اور ایک دوسرے کے قریب جمع ہوتی ہیں، اور کائنات کی تشکیل کیسے ہوئی۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور امریکی محکمہ توانائی کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ اس رصدگاہ کا نام ماہر فلکیات ویرا روبن کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے پہلی بار پراسرار ”ڈارک میٹر“ کے وجود کے اہم شواہد پیش کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ کیمرہ اس خفیہ مادے اور کائنات کو چلانے والی دیگر پراسرار طاقتوں کے رازوں سے پردہ اٹھائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرہ بنا لیا ہے جس کی مدد سے وہ کائنات کے ایسے حصوں کی تصاویر حاصل کرسکیں گے جو پہلے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھے جا سکے تھے۔</strong></p>
<p>یہ انوکھا کیمرہ چلی کے ایک بلند پہاڑ پر قائم ویرا سی روبن آبزرویٹری میں نصب کیا گیا ہے۔ یہ رصدگاہ اگلے 10 برس تک جنوبی آسمان کا مسلسل مشاہدہ کرے گی اور ہر رات سینکڑوں تصاویر لے گی۔</p>
<p>سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس کیمرے کی مدد سے وہ ہماری زمین سے دور موجود اربوں ستاروں اور کہکشاؤں کا ایک نیا اور بہتر نقشہ بنا سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506411/alien-hotspot-in-america-newly-released-government-files-spark-uproar'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ کیمرہ بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور ایک ہی جگہ کی بار بار تصویریں لے سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو ستارے یا سیارے بہت مدہم ہیں اور پہلے نظر نہیں آتے تھے، اب وہ بھی صاف دکھائی دیں گے۔</p>
<p>اس تجربہ گاہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے آپریشنز فل مارشل کا کہنا ہے کہ ہم دنیا بھر کے بہت سے سائنس دانوں کو اس کیمرے سے ملنے والی معلومات پر کام کرتے ہوئے دیکھیں گے اور وہ کائنات کا اس طرح مطالعہ کر سکیں گے جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>یہ کیمرہ پچھلے سال ہی کچھ آزمائشی تصویریں بھیج چکا ہے جن میں  زمین سے ہزاروں نوری سال دور واقع ٹرائی فڈ اور لیگون نیبیولا کی خوبصورت تصاویر شامل تھیں۔ ایک نوری سال تقریباً 9.7 کھرب کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔</p>
<p>سائنس دانوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران آلات کو مزید بہتر بنایا تاکہ وہ 10 سالہ سائنسی سروے کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505764/scientists-discover-a-unique-fuel-saving-and-low-cost-route-from-earth-to-the-moon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تصاویر سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کہکشائیں اربوں سال میں کیسے بنتی اور ایک دوسرے کے قریب جمع ہوتی ہیں، اور کائنات کی تشکیل کیسے ہوئی۔<br></p>
<p>یہ منصوبہ امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور امریکی محکمہ توانائی کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ اس رصدگاہ کا نام ماہر فلکیات ویرا روبن کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے پہلی بار پراسرار ”ڈارک میٹر“ کے وجود کے اہم شواہد پیش کیے تھے۔</p>
<p>سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ کیمرہ اس خفیہ مادے اور کائنات کو چلانے والی دیگر پراسرار طاقتوں کے رازوں سے پردہ اٹھائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507168</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 14:20:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/021415263673489.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/021415263673489.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھر کی صفائی ستھرائی کے لیے روبوٹ لانچ کردیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507143/robot-launched-for-household-cleaning-and-tidiness</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اب آپ کو کام کاج سے تھک کر گھر آنے کے بعد بستر ٹھیک کرنے، کپڑے سمیٹنے یا کھلونا اٹھانے کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔ امریکہ کی ایک نئی کمپنی ویو روبوٹکس نے ایک ایسا روبوٹ بنایا ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں گھر کے یہ سارے کام خود بخود کر دے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس روبوٹ کا نام آئزک ون رکھا گیا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ خاص طور پر گھروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سان فرانسسکو میں قائم ویو روبوٹکس نے اس روبوٹ کی پری آرڈر بکنگ بھی شروع کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایزک 1 کو خاص طور پر گھروں میں استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ زیادہ تر جدید روبوٹس فیکٹریوں اور گوداموں میں کام کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو روزمرہ کے ان کاموں سے نجات دلانا ہے جن سے وہ اکتا جاتے ہیں، جیسے کہ کپڑے تہہ کرنا اور چیزیں سمیٹنا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446348'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق ایزک 1 اس کے پہلے ماڈل ”ایزک 0“ کا جدید ورژن ہے۔ ایزک 0 صرف کپڑے تہہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور کمپنی کے دعوے کے مطابق یہ کیلیفورنیا میں صارفین کے پاس 2 ہزار گھنٹوں سے زیادہ کام کر چکا ہے اور ہر ہفتے ایک ہزار پاؤنڈ سے زائد کپڑے تہہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویو روبوٹکس کا کہنا ہے، “ایزک 1 گھر میں خود سے گھوم پھر سکتا ہے اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا کر کام کرتا ہے۔ اس میں دو خاص خوبیاں ہیں جنہیں لانڈری فلو اور ڈیلی ری سیٹ کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لانڈری فلو کے ذریعے یہ روبوٹ گندے کپڑے ڈھونڈ کر اٹھاتا ہے، انہیں ٹوکری میں ڈال کر لاتا ہے اور صاف ہونے کے بعد انہیں اچھے طریقے سے تہہ کر کے اپنی جگہ پر رکھ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف ڈیلی ری سیٹ کے ذریعے یہ بستر درست کرتا ہے، تکیے اور کمبل سلیقے سے رکھتا ہے اور فرش پر بکھرے ہوئے کھلونے یا جوتے اٹھا کر ان کی اصل جگہ پر پہنچا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ آئزک ون زیادہ تر کام خود ہی کر لیتا ہے اور اسے ہر وقت دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کبھی روبوٹ کسی ایسی مشکل میں پھنس جائے جو اس کی سمجھ سے باہر ہو، تو کمپنی کے ماہرین دور بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے اسے چلا سکتے ہیں تاکہ کام ادھورا نہ رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492302'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492302"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گھر کے مالک اپنے موبائل فون کی ایپ کے ذریعے روبوٹ کو کام کا کہہ سکتے ہیں، چاہے وہ گھر پر ہوں یا گھر سے باہر کسی کام سے گئے ہوئے ہوں ایپ کے ذریعے مختلف کاموں کا وقت مقرر کر سکتے ہیں یا فوری طور پر کسی کام کا حکم دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ روبوٹ دیکھنے میں نیچے سے پہیوں والا ہے اور اس کے دو ہاتھ ہیں۔ اس کا قد چھوٹا بڑا ہو سکتا ہے، یعنی یہ تین فٹ سے لے کر پونے چھ فٹ تک اونچا ہو سکتا ہے تاکہ اونچی الماریوں یا بستر تک آسانی سے پہنچ سکے۔ اس کے اوپر نرم کپڑے کا غلاف چڑھایا گیا ہے تاکہ گھر میں کسی چیز یا انسان سے ٹکرانے پر نقصان نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پانچ مختلف رنگوں میں دستیاب ہے تاکہ گھر کے فرنیچر کے ساتھ اچھا لگے۔ اس کی بیٹری آٹھ گھنٹے تک چلتی ہے اور یہ دو گھنٹے میں دوبارہ چارج ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس روبوٹ کی قیمت تقریباً آٹھ ہزار امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔ جو لوگ اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں دے سکتے، وہ 449 ڈالر ماہانہ سبسکرپشن کے ذریعے بھی اسے حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ رواں سال کے آخر تک کیلی فورنیا کے لوگوں کو ملنا شروع ہو جائے گا جبکہ اگلے سال سے یہ پورے امریکا میں ہر جگہ دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اب آپ کو کام کاج سے تھک کر گھر آنے کے بعد بستر ٹھیک کرنے، کپڑے سمیٹنے یا کھلونا اٹھانے کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔ امریکہ کی ایک نئی کمپنی ویو روبوٹکس نے ایک ایسا روبوٹ بنایا ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں گھر کے یہ سارے کام خود بخود کر دے گا۔</strong></p>
<p>اس روبوٹ کا نام آئزک ون رکھا گیا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ خاص طور پر گھروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>سان فرانسسکو میں قائم ویو روبوٹکس نے اس روبوٹ کی پری آرڈر بکنگ بھی شروع کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایزک 1 کو خاص طور پر گھروں میں استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ زیادہ تر جدید روبوٹس فیکٹریوں اور گوداموں میں کام کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو روزمرہ کے ان کاموں سے نجات دلانا ہے جن سے وہ اکتا جاتے ہیں، جیسے کہ کپڑے تہہ کرنا اور چیزیں سمیٹنا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446348'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے مطابق ایزک 1 اس کے پہلے ماڈل ”ایزک 0“ کا جدید ورژن ہے۔ ایزک 0 صرف کپڑے تہہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور کمپنی کے دعوے کے مطابق یہ کیلیفورنیا میں صارفین کے پاس 2 ہزار گھنٹوں سے زیادہ کام کر چکا ہے اور ہر ہفتے ایک ہزار پاؤنڈ سے زائد کپڑے تہہ کرتا ہے۔</p>
<p>ویو روبوٹکس کا کہنا ہے، “ایزک 1 گھر میں خود سے گھوم پھر سکتا ہے اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا کر کام کرتا ہے۔ اس میں دو خاص خوبیاں ہیں جنہیں لانڈری فلو اور ڈیلی ری سیٹ کا نام دیا گیا ہے۔</p>
<p>لانڈری فلو کے ذریعے یہ روبوٹ گندے کپڑے ڈھونڈ کر اٹھاتا ہے، انہیں ٹوکری میں ڈال کر لاتا ہے اور صاف ہونے کے بعد انہیں اچھے طریقے سے تہہ کر کے اپنی جگہ پر رکھ دیتا ہے۔</p>
<p>دوسری طرف ڈیلی ری سیٹ کے ذریعے یہ بستر درست کرتا ہے، تکیے اور کمبل سلیقے سے رکھتا ہے اور فرش پر بکھرے ہوئے کھلونے یا جوتے اٹھا کر ان کی اصل جگہ پر پہنچا دیتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ آئزک ون زیادہ تر کام خود ہی کر لیتا ہے اور اسے ہر وقت دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کبھی روبوٹ کسی ایسی مشکل میں پھنس جائے جو اس کی سمجھ سے باہر ہو، تو کمپنی کے ماہرین دور بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے اسے چلا سکتے ہیں تاکہ کام ادھورا نہ رہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492302'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492302"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گھر کے مالک اپنے موبائل فون کی ایپ کے ذریعے روبوٹ کو کام کا کہہ سکتے ہیں، چاہے وہ گھر پر ہوں یا گھر سے باہر کسی کام سے گئے ہوئے ہوں ایپ کے ذریعے مختلف کاموں کا وقت مقرر کر سکتے ہیں یا فوری طور پر کسی کام کا حکم دے سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ روبوٹ دیکھنے میں نیچے سے پہیوں والا ہے اور اس کے دو ہاتھ ہیں۔ اس کا قد چھوٹا بڑا ہو سکتا ہے، یعنی یہ تین فٹ سے لے کر پونے چھ فٹ تک اونچا ہو سکتا ہے تاکہ اونچی الماریوں یا بستر تک آسانی سے پہنچ سکے۔ اس کے اوپر نرم کپڑے کا غلاف چڑھایا گیا ہے تاکہ گھر میں کسی چیز یا انسان سے ٹکرانے پر نقصان نہ ہو۔</p>
<p>یہ پانچ مختلف رنگوں میں دستیاب ہے تاکہ گھر کے فرنیچر کے ساتھ اچھا لگے۔ اس کی بیٹری آٹھ گھنٹے تک چلتی ہے اور یہ دو گھنٹے میں دوبارہ چارج ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس روبوٹ کی قیمت تقریباً آٹھ ہزار امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔ جو لوگ اتنے پیسے ایک ساتھ نہیں دے سکتے، وہ 449 ڈالر ماہانہ سبسکرپشن کے ذریعے بھی اسے حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ رواں سال کے آخر تک کیلی فورنیا کے لوگوں کو ملنا شروع ہو جائے گا جبکہ اگلے سال سے یہ پورے امریکا میں ہر جگہ دستیاب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507143</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 13:33:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/02122552dfe430d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/02122552dfe430d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے واٹس ایپ کے نئے 'یوزر نیم' فیچر پر پابندی کیوں لگائی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30507137/why-has-india-imposed-a-ban-on-whatsapps-new-username-feature</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی مرکزی حکومت نے واٹس ایپ چلانے والی بڑی کمپنی میٹا کو ہدایت دی ہے کہ وہ واٹس ایپ کا نیا ”یوزر نیم“ فیچر فی الحال ملک میں متعارف نہ کرائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیچر سے صارفین کی پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے بھارتی حکام نے میٹا انڈیا کے چیف کمپلائنس آفیسر کو نوٹس بھی جاری کیا ہے اور تین روز کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے اس نئے فیچر پر انٹرنیٹ پر بھی بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے صارفین کی ذاتی معلومات زیادہ محفوظ رہیں گی، جبکہ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ فیچر سائبر جرائم اور آن لائن فراڈ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506946/whatsapp-privacy-cybersecurity-technews-username-messagingapp-whatsappupdate'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اب تک واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے کسی بھی شخص سے رابطہ کرنے کی خاطر فون نمبر شیئر کرنا ضروری ہوتا تھا۔ چاہے وہ کوئی نیا دوست ہو، دفتر کا ساتھی ہو یا محلے کا کوئی فرد، واٹس ایپ پر بات کرنے کے لیے فون نمبر دینا لازمی تھا۔ لیکن اس نئے فیچر کے آنے سے لوگ اپنا ایک خاص نام رکھ سکیں گے اور بغیر نمبر بتائے بھی ایک دوسرے سے واٹس ایپ پر جڑ سکیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیلی گرام یا انسٹاگرام پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے مطابق اس وقت صارفین صرف اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کر سکتے ہیں، جبکہ اس کا مکمل استعمال مرحلہ وار رواں سال کے دوران شروع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ فیچر پرائیویسی میں بہتری کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اگر فون نمبر کی بجائے صرف یوزر نیم نظر آئے گا تو جعلساز مشہور شخصیات، سرکاری اداروں یا معروف افراد کے نام سے ملتے جلتے یوزر نیم بنا کر لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب بھارت میں آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت اس فیچر کو احتیاط سے دیکھنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف بھارتی فنانس انفلوئنسر انکور واریکو نے بھی اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، سوچیے اگر کوئی میرے نام سے ملتا جلتا نقلی نام بنا کر لوگوں سے پیسے مانگنے لگے تو کتنا بڑا دھوکہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506956/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ماہر جسویر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس فیچر سے واٹس ایپ بھی ٹیلی گرام جیسا بن جائے گا، جہاں کوئی بھی نمبر جانے بغیر آپ کو میسج کر سکتا ہے اور یہ جگہ دھوکے بازوں کے لیے جنت بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب میٹا کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق مشہور شخصیات، سرکاری اداروں اور میٹا سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے معروف یوزر نیم پہلے سے محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ انہیں صرف اصل مالک ہی حاصل کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے وضاحت کی ہے، ”ہم نے معروف شخصیات، سرکاری اداروں اور تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے متعلق یوزر نیم اور ان کی مختلف شکلیں پہلے ہی محفوظ کر لی ہیں۔ اگر کوئی دوسرا شخص ایسے یوزر نیم لینے کی کوشش کرے گا تو سسٹم انہیں دستیاب نہیں دکھائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید بتایا کہ اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرے گا تو صارف کو اس کے ملک کے بارے میں معلومات اور ایک وارننگ بھی دکھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ”یوزر نیم کی“ نامی ایک اضافی حفاظتی فیچر بھی دستیاب ہوگا، جس میں چار ہندسوں کا خصوصی کوڈ استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صارف یہ فیچر فعال کر دے تو صرف وہی شخص رابطہ کر سکے گا جس کے پاس یوزر نیم کے ساتھ یہ مخصوص کوڈ بھی موجود ہوگا۔ یعنی جب تک آپ سامنے والے کو وہ کوڈ نہیں بتائیں گے، وہ آپ کے نام پر میسج نہیں بھیج سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے یہ بھی واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر بعض افراد کے یہ دعوے غلط ہیں کہ انہوں نے پہلے ہی مشہور شخصیات کے یوزر نیم محفوظ کر لیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق صرف اصل اور تصدیق شدہ اکاؤنٹ رکھنے والے افراد ہی ایسے یوزر نیم حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے نوٹس کی واضح قانونی بنیاد نظر نہیں آتی۔ قانون میں ایسا کوئی قاعدہ نہیں ہے جس کے تحت حکومت کسی کمپنی کو کوئی نیا فیچر لانے سے پہلے ہی روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے مجرموں کو پکڑنا چاہیے نہ کہ نئے طریقوں کو ہی بند کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506707/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-to-expose-apple-tesla-trade-secrets'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا، ”ہمیں تشویش ہے کہ حکومت کسی کمپنی کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کون سا فیچر متعارف کرا سکتی ہے اور کون سا نہیں، جبکہ موجودہ قانون میں ایسی کوئی واضح اجازت موجود نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ جعلسازی اور دھوکہ دہی یقیناً حقیقی مسائل ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کا طریقہ مجرموں کے خلاف قانون نافذ کرنا ہے، نہ کہ نئی ٹیکنالوجی یا فیچر کو پہلے ہی روک دینا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلاؤڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہیلو اے آئی کے بانی وکرم رائچورا نے کہا، ”واٹس ایپ کے یوزر نیم سے متعلق سائبر سکیورٹی کے خدشات درست ہیں اور ان پر نظر رکھنا ضروری ہے، لیکن کمپنی نے خطرات کم کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ سرچ ایبل ڈائریکٹری نہیں ہوگی، یوزر نیم کی تجاویز نہیں دی جائیں گی اور کسی سے رابطے کے لیے اس کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر سکیورٹی ماہر اور کلیراکون اے آئی کے منیجنگ پارٹنر مکُل کمار کا کہنا ہے کہ یہ فیچر بعض سائبر جرائم کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”سم سویپ فراڈ اس وقت بھارت کے سب سے خطرناک سائبر جرائم میں شامل ہے۔ اگر لوگ اپنا فون نمبر کم شیئر کریں اور یوزر نیم کو اپنی بنیادی شناخت بنا لیں تو وقت کے ساتھ فون نمبر سائبر مجرموں کے لیے کم اہم ہدف بن سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ابھی تک میٹا نے بھارتی حکومت کے نوٹس کا باضابطہ جواب جاری نہیں کیا تھا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس فیچر کی اجازت دیتی ہے یا مزید شرائط عائد کرتی ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس فیچر کا مرحلہ وار آغاز متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی مرکزی حکومت نے واٹس ایپ چلانے والی بڑی کمپنی میٹا کو ہدایت دی ہے کہ وہ واٹس ایپ کا نیا ”یوزر نیم“ فیچر فی الحال ملک میں متعارف نہ کرائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیچر سے صارفین کی پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے بھارتی حکام نے میٹا انڈیا کے چیف کمپلائنس آفیسر کو نوٹس بھی جاری کیا ہے اور تین روز کے اندر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔</p>
<p>واٹس ایپ کے اس نئے فیچر پر انٹرنیٹ پر بھی بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے صارفین کی ذاتی معلومات زیادہ محفوظ رہیں گی، جبکہ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ فیچر سائبر جرائم اور آن لائن فراڈ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506946/whatsapp-privacy-cybersecurity-technews-username-messagingapp-whatsappupdate'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506946"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اب تک واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے کسی بھی شخص سے رابطہ کرنے کی خاطر فون نمبر شیئر کرنا ضروری ہوتا تھا۔ چاہے وہ کوئی نیا دوست ہو، دفتر کا ساتھی ہو یا محلے کا کوئی فرد، واٹس ایپ پر بات کرنے کے لیے فون نمبر دینا لازمی تھا۔ لیکن اس نئے فیچر کے آنے سے لوگ اپنا ایک خاص نام رکھ سکیں گے اور بغیر نمبر بتائے بھی ایک دوسرے سے واٹس ایپ پر جڑ سکیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ٹیلی گرام یا انسٹاگرام پر ہوتا ہے۔</p>
<p>واٹس ایپ کے مطابق اس وقت صارفین صرف اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کر سکتے ہیں، جبکہ اس کا مکمل استعمال مرحلہ وار رواں سال کے دوران شروع کیا جائے گا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ فیچر پرائیویسی میں بہتری کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اگر فون نمبر کی بجائے صرف یوزر نیم نظر آئے گا تو جعلساز مشہور شخصیات، سرکاری اداروں یا معروف افراد کے نام سے ملتے جلتے یوزر نیم بنا کر لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب بھارت میں آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت اس فیچر کو احتیاط سے دیکھنا چاہتی ہے۔</p>
<p>معروف بھارتی فنانس انفلوئنسر انکور واریکو نے بھی اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، سوچیے اگر کوئی میرے نام سے ملتا جلتا نقلی نام بنا کر لوگوں سے پیسے مانگنے لگے تو کتنا بڑا دھوکہ ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506956/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور ماہر جسویر سنگھ کا کہنا تھا کہ اس فیچر سے واٹس ایپ بھی ٹیلی گرام جیسا بن جائے گا، جہاں کوئی بھی نمبر جانے بغیر آپ کو میسج کر سکتا ہے اور یہ جگہ دھوکے بازوں کے لیے جنت بن جائے گی۔</p>
<p>دوسری جانب میٹا کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق مشہور شخصیات، سرکاری اداروں اور میٹا سے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے معروف یوزر نیم پہلے سے محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ انہیں صرف اصل مالک ہی حاصل کر سکے۔</p>
<p>واٹس ایپ نے وضاحت کی ہے، ”ہم نے معروف شخصیات، سرکاری اداروں اور تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے متعلق یوزر نیم اور ان کی مختلف شکلیں پہلے ہی محفوظ کر لی ہیں۔ اگر کوئی دوسرا شخص ایسے یوزر نیم لینے کی کوشش کرے گا تو سسٹم انہیں دستیاب نہیں دکھائے گا۔“</p>
<p>کمپنی نے مزید بتایا کہ اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرے گا تو صارف کو اس کے ملک کے بارے میں معلومات اور ایک وارننگ بھی دکھائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ”یوزر نیم کی“ نامی ایک اضافی حفاظتی فیچر بھی دستیاب ہوگا، جس میں چار ہندسوں کا خصوصی کوڈ استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>اگر صارف یہ فیچر فعال کر دے تو صرف وہی شخص رابطہ کر سکے گا جس کے پاس یوزر نیم کے ساتھ یہ مخصوص کوڈ بھی موجود ہوگا۔ یعنی جب تک آپ سامنے والے کو وہ کوڈ نہیں بتائیں گے، وہ آپ کے نام پر میسج نہیں بھیج سکے گا۔</p>
<p>واٹس ایپ نے یہ بھی واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر بعض افراد کے یہ دعوے غلط ہیں کہ انہوں نے پہلے ہی مشہور شخصیات کے یوزر نیم محفوظ کر لیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق صرف اصل اور تصدیق شدہ اکاؤنٹ رکھنے والے افراد ہی ایسے یوزر نیم حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ادھر انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے نوٹس کی واضح قانونی بنیاد نظر نہیں آتی۔ قانون میں ایسا کوئی قاعدہ نہیں ہے جس کے تحت حکومت کسی کمپنی کو کوئی نیا فیچر لانے سے پہلے ہی روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے مجرموں کو پکڑنا چاہیے نہ کہ نئے طریقوں کو ہی بند کر دیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506707/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-to-expose-apple-tesla-trade-secrets'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں کہا، ”ہمیں تشویش ہے کہ حکومت کسی کمپنی کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کون سا فیچر متعارف کرا سکتی ہے اور کون سا نہیں، جبکہ موجودہ قانون میں ایسی کوئی واضح اجازت موجود نہیں۔“</p>
<p>فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ جعلسازی اور دھوکہ دہی یقیناً حقیقی مسائل ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کا طریقہ مجرموں کے خلاف قانون نافذ کرنا ہے، نہ کہ نئی ٹیکنالوجی یا فیچر کو پہلے ہی روک دینا۔</p>
<p>کلاؤڈ کمیونیکیشن پلیٹ فارم ہیلو اے آئی کے بانی وکرم رائچورا نے کہا، ”واٹس ایپ کے یوزر نیم سے متعلق سائبر سکیورٹی کے خدشات درست ہیں اور ان پر نظر رکھنا ضروری ہے، لیکن کمپنی نے خطرات کم کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ سرچ ایبل ڈائریکٹری نہیں ہوگی، یوزر نیم کی تجاویز نہیں دی جائیں گی اور کسی سے رابطے کے لیے اس کا درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا۔“</p>
<p>سائبر سکیورٹی ماہر اور کلیراکون اے آئی کے منیجنگ پارٹنر مکُل کمار کا کہنا ہے کہ یہ فیچر بعض سائبر جرائم کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”سم سویپ فراڈ اس وقت بھارت کے سب سے خطرناک سائبر جرائم میں شامل ہے۔ اگر لوگ اپنا فون نمبر کم شیئر کریں اور یوزر نیم کو اپنی بنیادی شناخت بنا لیں تو وقت کے ساتھ فون نمبر سائبر مجرموں کے لیے کم اہم ہدف بن سکتا ہے۔“</p>
<p>تاہم ابھی تک میٹا نے بھارتی حکومت کے نوٹس کا باضابطہ جواب جاری نہیں کیا تھا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اس فیچر کی اجازت دیتی ہے یا مزید شرائط عائد کرتی ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس فیچر کا مرحلہ وار آغاز متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30507137</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Jul 2026 12:04:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/021202297964b96.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/021202297964b96.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کے بغیر سمندر کا کھارا پانی میٹھا؛ چینی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506973/chinese-technology-surprises-the-world</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے سائنس دانوں نے سمندر کے کھارے پانی کو بغیر بجلی کے میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام صرف سورج کی روشنی سے چلتا ہے اور مستقبل میں اس کے ذریعے صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/news/china/science/article/3358699/chinese-tech-makes-desalinating-seawater-cheaper-producing-bottled-water"&gt;ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ &lt;/a&gt;کی رپورٹ کے مطابق چینی سائنس دانوں نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایسا جدید ڈی سیلینیشن (نمکیات ختم کرنے) کا نظام تیار کیا ہے، جو سمندر کے کھارے پانی کو کم لاگت میں پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق محققین نے اس ٹیکنالوجی کا ایک عملی نمونہ تیار کیا، جس نے کھلے ماحول میں مسلسل ایک سال تک کام کیا اور اس دوران اسے بجلی کے قومی نظام یا کسی بیرونی توانائی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ پورا نظام صرف سورج کی قدرتی روشنی سے چلتا رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456040/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کامیابی کی بنیاد ایک نئے فوٹو تھرمل مادے پر رکھی گئی ہے۔ سائنس دانوں نے نینو ذرات کو تین جہتی ساخت میں بُن کر ایسا مادہ تیار کیا ہے، جو سورج کی روشنی کو حرارت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔ یہی حرارت پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے نمک الگ کرنے کے عمل کو مؤثر بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزمائش کے دوران اس نئے مادے نے سورج کی روشنی جذب کرنے کی 90.2 فیصد تک صلاحیت حاصل کی، جبکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں اتنی ہی مقدار میں سمندری پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے درکار توانائی میں 45.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506954/ai-quality-test-fail-ford-rehires-human-engineers'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربے میں اس نظام سے حاصل ہونے والے میٹھے پانی کو زرعی آبپاشی کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں تقریباً 5 مربع میٹر زرعی رقبے کو پورے کاشت کے موسم میں کامیابی سے سیراب کیا گیا۔ اس دوران نظام نے کسی بجلی، ایندھن یا بیرونی توانائی کے بغیر صرف سورج کی روشنی سے کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ٹیم کے مطابق اگر یہ نظام تقریباً دو سال تک مسلسل استعمال کیا جائے تو اس سے تیار ہونے والے پانی کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو جائے گی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے یا زیادہ عرصے تک چلایا جائے تو اس کی لاگت میں مزید نمایاں کمی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ نئی ایجاد دنیا کے ان علاقوں کے لیے ایک کم خرچ اور ماحول دوست حل ثابت ہو سکتی ہے جہاں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے، سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن بجلی اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ محدود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے سائنس دانوں نے سمندر کے کھارے پانی کو بغیر بجلی کے میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام صرف سورج کی روشنی سے چلتا ہے اور مستقبل میں اس کے ذریعے صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/news/china/science/article/3358699/chinese-tech-makes-desalinating-seawater-cheaper-producing-bottled-water">ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ </a>کی رپورٹ کے مطابق چینی سائنس دانوں نے شمسی توانائی سے چلنے والا ایسا جدید ڈی سیلینیشن (نمکیات ختم کرنے) کا نظام تیار کیا ہے، جو سمندر کے کھارے پانی کو کم لاگت میں پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کر سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق محققین نے اس ٹیکنالوجی کا ایک عملی نمونہ تیار کیا، جس نے کھلے ماحول میں مسلسل ایک سال تک کام کیا اور اس دوران اسے بجلی کے قومی نظام یا کسی بیرونی توانائی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ پورا نظام صرف سورج کی قدرتی روشنی سے چلتا رہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456040/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کامیابی کی بنیاد ایک نئے فوٹو تھرمل مادے پر رکھی گئی ہے۔ سائنس دانوں نے نینو ذرات کو تین جہتی ساخت میں بُن کر ایسا مادہ تیار کیا ہے، جو سورج کی روشنی کو حرارت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔ یہی حرارت پانی کو بخارات میں تبدیل کرکے نمک الگ کرنے کے عمل کو مؤثر بناتی ہے۔</p>
<p>آزمائش کے دوران اس نئے مادے نے سورج کی روشنی جذب کرنے کی 90.2 فیصد تک صلاحیت حاصل کی، جبکہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں اتنی ہی مقدار میں سمندری پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے لیے درکار توانائی میں 45.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506954/ai-quality-test-fail-ford-rehires-human-engineers'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506954"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربے میں اس نظام سے حاصل ہونے والے میٹھے پانی کو زرعی آبپاشی کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں تقریباً 5 مربع میٹر زرعی رقبے کو پورے کاشت کے موسم میں کامیابی سے سیراب کیا گیا۔ اس دوران نظام نے کسی بجلی، ایندھن یا بیرونی توانائی کے بغیر صرف سورج کی روشنی سے کام کیا۔</p>
<p>تحقیقی ٹیم کے مطابق اگر یہ نظام تقریباً دو سال تک مسلسل استعمال کیا جائے تو اس سے تیار ہونے والے پانی کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو جائے گی۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے یا زیادہ عرصے تک چلایا جائے تو اس کی لاگت میں مزید نمایاں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ نئی ایجاد دنیا کے ان علاقوں کے لیے ایک کم خرچ اور ماحول دوست حل ثابت ہو سکتی ہے جہاں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے، سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہے لیکن بجلی اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ محدود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506973</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Jul 2026 11:33:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/011129477bea81c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/011129477bea81c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی کوالٹی ٹیسٹ میں فیل؛ فورڈ کمپنی دوبارہ انسان بھرتی کرنے پر مجبور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506954/ai-quality-test-fail-ford-rehires-human-engineers</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی آٹو موبائل کمپنی ’فورڈ‘ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) گاڑیوں کے معیار کی جانچ میں انسانی ماہرین جیسی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، جس کے بعد کمپنی نے 300 سے زائد تجربہ کار انجینئرز اور کوالٹی انسپکٹرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق فورڈ نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے مختلف شعبوں، خصوصاً گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھایا تھا۔ کمپنی کو امید تھی کہ اس ٹیکنالوجی سے اخراجات کم ہوں گے اور کام کی رفتار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، تاہم عملی نتائج توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، مصنوعی ذہانت ایک شاندار ٹول ہے، لیکن یہ صرف اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنی اچھی معلومات سے اسے تربیت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہم نے اپنے ان تجربہ کار انجینئرز کے علم اور تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو کئی نسلوں کی گاڑیوں پر کام کر چکے تھے اور ان کے پاس برسوں کا عملی تجربہ موجود تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506027/electric-vehicles-controversy-automotive-industry-luxury-cars-ferrari-luce-supercar-car-design-ev-market-competition'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چارلس پون نے مزید کہا کہ کمپنی نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف اے آئی کو ڈیزائن کی ضروریات فراہم کر دینے سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سوچا کہ مصنوعی ذہانت کو ڈیزائن کی معلومات دے دینے سے خود بخود بہترین معیار حاصل ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورڈ کے نائب صدر نے بتایا کہ خودکار نظام اور اے آئی ٹولز میں وہ مہارت اور عملی تجربہ موجود نہیں تھا جو سینئر تکنیکی ماہرین کے پاس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی تجربہ کار ملازمین کمپنی چھوڑ گئے تھے اور ان کا قیمتی علم اے آئی سسٹمز کو منتقل نہیں کیا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلس پون کے مطابق کمپنی نے اب انہی تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا ہے تاکہ وہ نہ صرف اے آئی اور مشین لرننگ سسٹمز کو بہتر انداز میں تربیت دیں بلکہ نوجوان انجینئرز کی بھی رہنمائی کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456040/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہ تسلیم کیا کہ اگر ہمیں اپنی آٹومیشن، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے نظام بہتر بنانے ہیں تو ان کی تربیت سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے گزشتہ سال اکتوبر میں سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ کمپنی اپنے پورے صنعتی نظام میں اے آئی متعارف کرا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے اپنے کارخانوں میں 900 اے آئی سے چلنے والے کیمرے نصب کیے ہیں تاکہ پیداواری مرحلے پر ہی معیار سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور سپلائی میں رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جون 2025 میں فورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم فارلے نے مصنف والٹر آئزکسن کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت بہت سے وائٹ کالر ملازمین کو پیچھے چھوڑ دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فورڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے گاڑیوں کے معیار کے حوالے سے نمایاں بہتری بھی حاصل کی ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ امریکا میں جے ڈی پاور انیشل کوالٹی اسٹڈی میں سب سے بہترین مین اسٹریم آٹو موبائل کمپنی قرار پائی ہے، جو اسے 2010 کے بعد پہلی مرتبہ حاصل ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فورڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لیے کمپنی کو بڑے پیمانے پر باصلاحیت افراد کی دوبارہ خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کے سینئر عہدیداروں میں تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ تقریباً 300 ایسے تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا گیا جو کئی دہائیوں کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کے تجربے کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی آٹو موبائل کمپنی ’فورڈ‘ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) گاڑیوں کے معیار کی جانچ میں انسانی ماہرین جیسی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، جس کے بعد کمپنی نے 300 سے زائد تجربہ کار انجینئرز اور کوالٹی انسپکٹرز کو دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا ہے۔</strong></p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق فورڈ نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے مختلف شعبوں، خصوصاً گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے عمل میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھایا تھا۔ کمپنی کو امید تھی کہ اس ٹیکنالوجی سے اخراجات کم ہوں گے اور کام کی رفتار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، تاہم عملی نتائج توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔</p>
<p>فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، مصنوعی ذہانت ایک شاندار ٹول ہے، لیکن یہ صرف اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جتنی اچھی معلومات سے اسے تربیت دی جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہم نے اپنے ان تجربہ کار انجینئرز کے علم اور تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو کئی نسلوں کی گاڑیوں پر کام کر چکے تھے اور ان کے پاس برسوں کا عملی تجربہ موجود تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506027/electric-vehicles-controversy-automotive-industry-luxury-cars-ferrari-luce-supercar-car-design-ev-market-competition'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چارلس پون نے مزید کہا کہ کمپنی نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف اے آئی کو ڈیزائن کی ضروریات فراہم کر دینے سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار ہو جائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سوچا کہ مصنوعی ذہانت کو ڈیزائن کی معلومات دے دینے سے خود بخود بہترین معیار حاصل ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔</p>
<p>فورڈ کے نائب صدر نے بتایا کہ خودکار نظام اور اے آئی ٹولز میں وہ مہارت اور عملی تجربہ موجود نہیں تھا جو سینئر تکنیکی ماہرین کے پاس تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی تجربہ کار ملازمین کمپنی چھوڑ گئے تھے اور ان کا قیمتی علم اے آئی سسٹمز کو منتقل نہیں کیا جا سکا۔</p>
<p>چارلس پون کے مطابق کمپنی نے اب انہی تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا ہے تاکہ وہ نہ صرف اے آئی اور مشین لرننگ سسٹمز کو بہتر انداز میں تربیت دیں بلکہ نوجوان انجینئرز کی بھی رہنمائی کریں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456040/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہ تسلیم کیا کہ اگر ہمیں اپنی آٹومیشن، مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے نظام بہتر بنانے ہیں تو ان کی تربیت سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔</p>
<p>فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے گزشتہ سال اکتوبر میں سرمایہ کاروں کو بتایا تھا کہ کمپنی اپنے پورے صنعتی نظام میں اے آئی متعارف کرا رہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے اپنے کارخانوں میں 900 اے آئی سے چلنے والے کیمرے نصب کیے ہیں تاکہ پیداواری مرحلے پر ہی معیار سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور سپلائی میں رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>اس سے قبل جون 2025 میں فورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جم فارلے نے مصنف والٹر آئزکسن کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت بہت سے وائٹ کالر ملازمین کو پیچھے چھوڑ دے گی۔</p>
<p>دوسری جانب فورڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی نے گاڑیوں کے معیار کے حوالے سے نمایاں بہتری بھی حاصل کی ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ امریکا میں جے ڈی پاور انیشل کوالٹی اسٹڈی میں سب سے بہترین مین اسٹریم آٹو موبائل کمپنی قرار پائی ہے، جو اسے 2010 کے بعد پہلی مرتبہ حاصل ہوا ہے۔</p>
<p>فورڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے لیے کمپنی کو بڑے پیمانے پر باصلاحیت افراد کی دوبارہ خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ اس مقصد کے لیے انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کے سینئر عہدیداروں میں تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ تقریباً 300 ایسے تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا گیا جو کئی دہائیوں کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کے تجربے کے حامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506954</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 15:08:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30142129427b681.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30142129427b681.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی کمپنی 'ٹاٹا' کی ڈیٹا چوری میں آئی فون 18 پرو کی تفصیلات لیک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506956/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل کے آنے والے آئی فون 18 پرو سے متعلق حساس معلومات، پرزہ جات کی تفصیلات، سپلائرز کی فہرست اور مبینہ تصاویر انٹرنیٹ کے خفیہ حصے ڈارک ویب پر لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ معلومات اس سائبر حملے کے بعد سامنے آئیں جس میں ایپل کی بھارتی سپلائر کمپنی ٹاٹا الیکٹرانکس کا ڈیٹا چوری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا رینسم ویئر گروپ ”ورلڈ لیکس“ نے ڈارک ویب پر جاری کیا۔ لیک ہونے والی فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے مختلف پرزوں، ان کے سپلائرز اور فون کی تیاری سے متعلق اہم معلومات شامل ہیں، جبکہ بعض تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر آئی فون 18 پرو کے ڈراپ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506901/uae-apple-technews-iphone18pro-apple-price-hike-iphone-18-pro-max'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق راز افشاں ہونے سے ایپل کے اس پیچیدہ سپلائی سسٹم کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس میں دنیا بھر کی مختلف کمپنیاں آئی فون کے مختلف پرزے تیار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ان معلومات کے سامنے آنے سے حریف کمپنیوں، جعلی مصنوعات بنانے والوں اور سپلائرز کو بھی اہم تجارتی معلومات مل سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹاٹا الیکٹرانکس نہ صرف ایپل کو مختلف پرزے فراہم کرتی ہے بلکہ بھارت میں آئی فون کی اسمبلنگ بھی کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹاٹا چین کے علاوہ ایپل کی اہم ترین مینوفیکچرنگ پارٹنرز میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ بھارتی حکومت بھی ملک کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا بڑا مرکز بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق ایپل کمپنی رواں برس ستمبر میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لیک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے گزشتہ ہفتے میموری اور اسٹوریج چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث آئی پیڈ اور میک بک کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں آئی فون کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق اس سے قبل بھی ٹاٹا الیکٹرانکس سے چوری ہونے والی دو لاکھ سے زائد فائلوں میں پرانے آئی فونز، ٹیسلا، تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی اور کوالکوم سے متعلق دستاویزات شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جن نئی دستاویزات کا جائزہ لیا، ان کے مطابق کم از کم چھ فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے مختلف پرزوں کو ان کی سپلائر کمپنیوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ان میں مین سرکٹ بورڈ پر لگنے والی چپس، بیٹری اور کیمروں کے مختلف حصوں کی معلومات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایپل ان معلومات کو انتہائی حساس سمجھتی ہے، کیونکہ یہ ایسے فون سے متعلق ہیں جو ابھی تک مارکیٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ معاملے سے واقف ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دستاویزات آئی فون کے مختلف پرزوں کو ان کے سپلائرز کے ساتھ جوڑتی ہیں، جبکہ ایپل عام طور پر یہ معلومات اپنی عوامی سپلائر فہرست میں ظاہر نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ریکارڈز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پرزوں کے لیے ایپل ایک سے زیادہ سپلائرز پر انحصار کرتی ہے، جبکہ کچھ حصے صرف چند مخصوص کمپنیوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس سے کمپنی کی سپلائی چین کی مضبوطیاں اور ممکنہ کمزوریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505970/apple-dell-xps-13-macbook-neo-laptop-market-competition-tech-challenge'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ورلڈ لیکس اس سے قبل نائکی پر ہونے والے سائبر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے، تاہم رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ لیک ہونے والے ڈیٹا کی مکمل تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی فوری طور پر ورلڈ لیکس سے مؤقف حاصل کیا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ویب سائٹ ایپل انسائیڈر نے سب سے پہلے خبر دی تھی کہ آئی فون 18 پرو سے متعلق دستاویزات بھی ٹاٹا ڈیٹا لیک کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506707'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے اپنی سابقہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایپل اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ٹاٹا کے ساتھ مل کر مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ ٹاٹا نے تحقیقات کے دوران حساس سسٹمز تک اندرونی رسائی محدود کر دی ہے اور ایک عالمی کنسلٹنٹ کو فرانزک آڈٹ کے لیے بھی مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ سائبر حملہ ایپل اور ٹاٹا کے درمیان اعتماد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ایپل اپنی پیداوار کو چین سے باہر منتقل کرنے کی حکمت عملی میں بھارت اور خاص طور پر ٹاٹا پر تیزی سے انحصار بڑھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں تیار ہونے والے تقریباً 26 فیصد آئی فون بھارت میں بنائے جائیں گے، جبکہ چار سال پہلے یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل کے آنے والے آئی فون 18 پرو سے متعلق حساس معلومات، پرزہ جات کی تفصیلات، سپلائرز کی فہرست اور مبینہ تصاویر انٹرنیٹ کے خفیہ حصے ڈارک ویب پر لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ معلومات اس سائبر حملے کے بعد سامنے آئیں جس میں ایپل کی بھارتی سپلائر کمپنی ٹاٹا الیکٹرانکس کا ڈیٹا چوری کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا رینسم ویئر گروپ ”ورلڈ لیکس“ نے ڈارک ویب پر جاری کیا۔ لیک ہونے والی فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے مختلف پرزوں، ان کے سپلائرز اور فون کی تیاری سے متعلق اہم معلومات شامل ہیں، جبکہ بعض تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر آئی فون 18 پرو کے ڈراپ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506901/uae-apple-technews-iphone18pro-apple-price-hike-iphone-18-pro-max'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق راز افشاں ہونے سے ایپل کے اس پیچیدہ سپلائی سسٹم کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس میں دنیا بھر کی مختلف کمپنیاں آئی فون کے مختلف پرزے تیار کرتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ان معلومات کے سامنے آنے سے حریف کمپنیوں، جعلی مصنوعات بنانے والوں اور سپلائرز کو بھی اہم تجارتی معلومات مل سکتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹاٹا الیکٹرانکس نہ صرف ایپل کو مختلف پرزے فراہم کرتی ہے بلکہ بھارت میں آئی فون کی اسمبلنگ بھی کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹاٹا چین کے علاوہ ایپل کی اہم ترین مینوفیکچرنگ پارٹنرز میں شامل ہو چکی ہے، جبکہ بھارتی حکومت بھی ملک کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا بڑا مرکز بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق ایپل کمپنی رواں برس ستمبر میں آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔</p>
<p>یہ لیک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے گزشتہ ہفتے میموری اور اسٹوریج چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث آئی پیڈ اور میک بک کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، جبکہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں آئی فون کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق اس سے قبل بھی ٹاٹا الیکٹرانکس سے چوری ہونے والی دو لاکھ سے زائد فائلوں میں پرانے آئی فونز، ٹیسلا، تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی اور کوالکوم سے متعلق دستاویزات شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق جن نئی دستاویزات کا جائزہ لیا، ان کے مطابق کم از کم چھ فائلوں میں آئی فون 18 پرو کے مختلف پرزوں کو ان کی سپلائر کمپنیوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ان میں مین سرکٹ بورڈ پر لگنے والی چپس، بیٹری اور کیمروں کے مختلف حصوں کی معلومات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایپل ان معلومات کو انتہائی حساس سمجھتی ہے، کیونکہ یہ ایسے فون سے متعلق ہیں جو ابھی تک مارکیٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔ معاملے سے واقف ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دستاویزات آئی فون کے مختلف پرزوں کو ان کے سپلائرز کے ساتھ جوڑتی ہیں، جبکہ ایپل عام طور پر یہ معلومات اپنی عوامی سپلائر فہرست میں ظاہر نہیں کرتی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ریکارڈز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض پرزوں کے لیے ایپل ایک سے زیادہ سپلائرز پر انحصار کرتی ہے، جبکہ کچھ حصے صرف چند مخصوص کمپنیوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس سے کمپنی کی سپلائی چین کی مضبوطیاں اور ممکنہ کمزوریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505970/apple-dell-xps-13-macbook-neo-laptop-market-competition-tech-challenge'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق ایپل اور ٹاٹا الیکٹرانکس کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>دوسری جانب ورلڈ لیکس اس سے قبل نائکی پر ہونے والے سائبر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر چکا ہے، تاہم رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ لیک ہونے والے ڈیٹا کی مکمل تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی فوری طور پر ورلڈ لیکس سے مؤقف حاصل کیا جا سکا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے ویب سائٹ ایپل انسائیڈر نے سب سے پہلے خبر دی تھی کہ آئی فون 18 پرو سے متعلق دستاویزات بھی ٹاٹا ڈیٹا لیک کا حصہ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506707'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز نے اپنی سابقہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایپل اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ٹاٹا کے ساتھ مل کر مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ ٹاٹا نے تحقیقات کے دوران حساس سسٹمز تک اندرونی رسائی محدود کر دی ہے اور ایک عالمی کنسلٹنٹ کو فرانزک آڈٹ کے لیے بھی مقرر کیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ سائبر حملہ ایپل اور ٹاٹا کے درمیان اعتماد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ایپل اپنی پیداوار کو چین سے باہر منتقل کرنے کی حکمت عملی میں بھارت اور خاص طور پر ٹاٹا پر تیزی سے انحصار بڑھا رہی ہے۔</p>
<p>تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں تیار ہونے والے تقریباً 26 فیصد آئی فون بھارت میں بنائے جائیں گے، جبکہ چار سال پہلے یہ شرح صرف 6 فیصد تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506956</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 15:05:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30150221472d147.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30150221472d147.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کا خلا میں حملوں کے لیے لیزر ہتھیاروں کی تیاری کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506952/israel-developing-space-lasers-to-attack-above-the-earth-katz-says</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بڑا اور چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک خلا میں دشمنوں پر حملہ کرنے کے لیے خاص قسم کے لیزر ہتھیار  تیار کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی اخبار&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.jpost.com/defense-and-tech/article-900854"&gt; ’یروشلم پوسٹ‘&lt;/a&gt; کے مطابق، وزیر دفاع کاٹز نے اس بات کا اقرار کیا کہ اسرائیل دنیا کا وہ پہلا ملک بننا چاہتا ہے جو خلا میں اپنے دشمنوں کو نشانہ بنانے کی پوری طاقت رکھتا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ملک کے بہترین دماغوں اور سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ آج کے دن تک دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس خلا میں حملے کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، اور ہمیں اس طاقت کے ساتھ دنیا کا سب سے آگے رہنے والا ملک بننا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506926/israels-e1-settlement-construction-plan-poses-serious-threat-to-the-geographic-continuity-of-the-palestinian-state-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے یہ ہدف حاصل کر لیا تو یہ ہمیں اپنے ان دشمنوں کے مقابلے میں بہت بڑی برتری اور تباہ کن طاقت دے گا جن کے پاس بہت زیادہ وسائل اور دولت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے خلا میں لیزر ہتھیاروں کے استعمال کا کھل کر ذکر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا اشارہ خاص طور پر ایران کی طرف ہے، کیونکہ رواں سال ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے ان ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا تھا جو خلا میں سیٹلائٹ پر حملہ کرنے کی ٹیکنالوجی بنا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ماہرین کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ دعویٰ پوری طرح درست نہیں ہے کہ کسی دوسرے ملک کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ روس اور چین پہلے ہی خلا میں اپنے ہی پرانے سیٹلائٹس کو تباہ کر کے اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506951/gaza-hamas-replacement-administration-preparations-intensify'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506951"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کئی دوسرے ملک بھی خلا میں دشمن کے سیٹلائٹ کو جام کرنے یا نقصان پہنچانے پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل پہلے ہی زمین پر کام کرنے والا ایک لیزر سسٹم بنا چکا ہے جسے آئرن بیم کہا جاتا ہے، جو راکٹوں اور ڈرونز کو سستے داموں تباہ کر سکتا ہے۔ اب وہ اسی ٹیکنالوجی کو جنگی جہازوں اور خلا میں لے جانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر ایران یا کوئی دوسرا ملک اس خلائی دوڑ میں اسرائیل سے آگے نکل گیا، تو وہ اسرائیل کے جاسوسی کرنے والے سیٹلائٹس کو تباہ کر سکتا ہے، جس سے اسرائیل کی نگرانی کرنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی خطرے سے بچنے کے لیے اسرائیل اب خلا کو جنگ کا نیا میدان بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بڑا اور چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک خلا میں دشمنوں پر حملہ کرنے کے لیے خاص قسم کے لیزر ہتھیار  تیار کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیلی اخبار<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.jpost.com/defense-and-tech/article-900854"> ’یروشلم پوسٹ‘</a> کے مطابق، وزیر دفاع کاٹز نے اس بات کا اقرار کیا کہ اسرائیل دنیا کا وہ پہلا ملک بننا چاہتا ہے جو خلا میں اپنے دشمنوں کو نشانہ بنانے کی پوری طاقت رکھتا ہو۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ملک کے بہترین دماغوں اور سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ آج کے دن تک دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس خلا میں حملے کرنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، اور ہمیں اس طاقت کے ساتھ دنیا کا سب سے آگے رہنے والا ملک بننا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506926/israels-e1-settlement-construction-plan-poses-serious-threat-to-the-geographic-continuity-of-the-palestinian-state-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے یہ ہدف حاصل کر لیا تو یہ ہمیں اپنے ان دشمنوں کے مقابلے میں بہت بڑی برتری اور تباہ کن طاقت دے گا جن کے پاس بہت زیادہ وسائل اور دولت موجود ہے۔</p>
<p>یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے خلا میں لیزر ہتھیاروں کے استعمال کا کھل کر ذکر کیا ہے۔</p>
<p>دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا اشارہ خاص طور پر ایران کی طرف ہے، کیونکہ رواں سال ہونے والی جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے ان ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا تھا جو خلا میں سیٹلائٹ پر حملہ کرنے کی ٹیکنالوجی بنا رہے تھے۔</p>
<p>تاہم، ماہرین کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ دعویٰ پوری طرح درست نہیں ہے کہ کسی دوسرے ملک کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ روس اور چین پہلے ہی خلا میں اپنے ہی پرانے سیٹلائٹس کو تباہ کر کے اس کا تجربہ کر چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506951/gaza-hamas-replacement-administration-preparations-intensify'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506951"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ کئی دوسرے ملک بھی خلا میں دشمن کے سیٹلائٹ کو جام کرنے یا نقصان پہنچانے پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل پہلے ہی زمین پر کام کرنے والا ایک لیزر سسٹم بنا چکا ہے جسے آئرن بیم کہا جاتا ہے، جو راکٹوں اور ڈرونز کو سستے داموں تباہ کر سکتا ہے۔ اب وہ اسی ٹیکنالوجی کو جنگی جہازوں اور خلا میں لے جانا چاہتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر ایران یا کوئی دوسرا ملک اس خلائی دوڑ میں اسرائیل سے آگے نکل گیا، تو وہ اسرائیل کے جاسوسی کرنے والے سیٹلائٹس کو تباہ کر سکتا ہے، جس سے اسرائیل کی نگرانی کرنے کی صلاحیت بالکل ختم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی خطرے سے بچنے کے لیے اسرائیل اب خلا کو جنگ کا نیا میدان بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506952</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 12:46:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30122818efcbe6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30122818efcbe6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ پر 'یوزر نیم' لانے کا اعلان؛ 'اپنا نام فوراً محفوظ کریں'</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506946/whatsapp-privacy-cybersecurity-technews-username-messagingapp-whatsappupdate</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واٹس ایپ نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صارفین اب اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی دوسروں سے رابطہ قائم کر سکیں گے۔ اس فیچر کو ’یوزر نیم‘ کا نام دیا گیا ہے جس سے صارفین اپنی شناخت ایک منفرد نام کے ذریعے کر سکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے مطابق یہ نیا فیچر ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید ہوگا جو اپنی پرائیویسی برقرار رکھتے ہوئے صرف منتخب افراد سے رابطہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اس نظام کے تحت اگر آپ کسی کو اپنا فون نمبر نہیں دینا چاہتے تو صرف اپنا یوزر نیم دے کر اس سے واٹس ایپ پر رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ اس طرح سامنے والا شخص آپ کو میسج تو بھیج سکے گا، لیکن آپ کے فون نمبر تک اس کی رسائی نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ براہ راست کال یا ایس ایم ایس کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق صارفین جلد ہی اپنے لیے یوزر نیم منتخب کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن انسٹال کیا گیا ہو۔ صارفین ایپ کی سیٹنگز میں اکاؤنٹ کے سیکشن میں جا کر یہ نام منتخب کر سکیں گے۔ یہ سہولت لازمی نہیں ہوگی، یعنی صارف چاہیں تو پہلے کی طرح صرف فون نمبر کے ذریعے بھی واٹس ایپ استعمال کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504120/smartphone-models-on-which-whatsapp-will-no-longer-work'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504120"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ نے بتایا ہے کہ یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا اور ہر یوزر نیم منفرد ہوگا، یعنی ایک ہی نام دو افراد استعمال نہیں کر سکیں گے۔ جب کوئی صارف نام منتخب کرے گا تو ایپ اسے بتا دے گی کہ وہ نام دستیاب ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ معروف شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے نام عام صارفین کے لیے یوزر نیم کے طور پر دستیاب نہیں ہوں گے تاکہ جعل سازی اور غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو دھوکہ دہی اور جعلی اکاؤنٹس سے محفوظ رکھنا بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر آنے والے چند ماہ میں دنیا بھر کے تقریباً تین ارب صارفین تک مرحلہ وار پہنچایا جائے گا۔ ایک بار مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد صارفین کا فون نمبر ایپ پر دوسروں کو نظر نہیں آئے گا، تاہم اکاؤنٹ بنانے اور تصدیق کے لیے فون نمبر کی ضرورت برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476673'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476673"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صارفین کی جانب سے اس اعلان پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے پرائیویسی کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے جبکہ بعض نے سوالات اٹھائے ہیں کہ اگر ایک جیسے نام استعمال ہوں یا جعل ساز اس نظام کا فائدہ اٹھائیں تو اسے کیسے روکا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ہر اکاؤنٹ پر حفاظتی اقدامات موجود ہوں گے اور سسٹم مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کر کے انہیں محدود یا بلاک بھی کر سکے گا۔ اس کے علاوہ صارفین کو ایپ کے اندر شکایت درج کرانے کا آپشن بھی دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ یہ سہولت واٹس ایپ بزنس پر بھی دستیاب ہوگی اور اسے جلد ہی وہاں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ کچھ صارفین کی فیچر ظاہر نہ ہونے کی شکایت پر کمپنی نے کہا ہے کہ یہ مرحلہ وار سب صارفین تک پہنچے گا اور اس کے لیے ایپ کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واٹس ایپ نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صارفین اب اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی دوسروں سے رابطہ قائم کر سکیں گے۔ اس فیچر کو ’یوزر نیم‘ کا نام دیا گیا ہے جس سے صارفین اپنی شناخت ایک منفرد نام کے ذریعے کر سکیں گے۔</strong></p>
<p>واٹس ایپ کے مطابق یہ نیا فیچر ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید ہوگا جو اپنی پرائیویسی برقرار رکھتے ہوئے صرف منتخب افراد سے رابطہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اس نظام کے تحت اگر آپ کسی کو اپنا فون نمبر نہیں دینا چاہتے تو صرف اپنا یوزر نیم دے کر اس سے واٹس ایپ پر رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ اس طرح سامنے والا شخص آپ کو میسج تو بھیج سکے گا، لیکن آپ کے فون نمبر تک اس کی رسائی نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ براہ راست کال یا ایس ایم ایس کر سکے گا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق صارفین جلد ہی اپنے لیے یوزر نیم منتخب کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے ضروری ہوگا کہ واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن انسٹال کیا گیا ہو۔ صارفین ایپ کی سیٹنگز میں اکاؤنٹ کے سیکشن میں جا کر یہ نام منتخب کر سکیں گے۔ یہ سہولت لازمی نہیں ہوگی، یعنی صارف چاہیں تو پہلے کی طرح صرف فون نمبر کے ذریعے بھی واٹس ایپ استعمال کر سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504120/smartphone-models-on-which-whatsapp-will-no-longer-work'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504120"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واٹس ایپ نے بتایا ہے کہ یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا اور ہر یوزر نیم منفرد ہوگا، یعنی ایک ہی نام دو افراد استعمال نہیں کر سکیں گے۔ جب کوئی صارف نام منتخب کرے گا تو ایپ اسے بتا دے گی کہ وہ نام دستیاب ہے یا نہیں۔</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ معروف شخصیات اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے نام عام صارفین کے لیے یوزر نیم کے طور پر دستیاب نہیں ہوں گے تاکہ جعل سازی اور غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو دھوکہ دہی اور جعلی اکاؤنٹس سے محفوظ رکھنا بتایا گیا ہے۔</p>
<p>واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر آنے والے چند ماہ میں دنیا بھر کے تقریباً تین ارب صارفین تک مرحلہ وار پہنچایا جائے گا۔ ایک بار مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد صارفین کا فون نمبر ایپ پر دوسروں کو نظر نہیں آئے گا، تاہم اکاؤنٹ بنانے اور تصدیق کے لیے فون نمبر کی ضرورت برقرار رہے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30476673'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30476673"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صارفین کی جانب سے اس اعلان پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسے پرائیویسی کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے جبکہ بعض نے سوالات اٹھائے ہیں کہ اگر ایک جیسے نام استعمال ہوں یا جعل ساز اس نظام کا فائدہ اٹھائیں تو اسے کیسے روکا جائے گا۔</p>
<p>اس حوالے سے واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ہر اکاؤنٹ پر حفاظتی اقدامات موجود ہوں گے اور سسٹم مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کر کے انہیں محدود یا بلاک بھی کر سکے گا۔ اس کے علاوہ صارفین کو ایپ کے اندر شکایت درج کرانے کا آپشن بھی دیا جائے گا۔</p>
<p>کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ یہ سہولت واٹس ایپ بزنس پر بھی دستیاب ہوگی اور اسے جلد ہی وہاں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ کچھ صارفین کی فیچر ظاہر نہ ہونے کی شکایت پر کمپنی نے کہا ہے کہ یہ مرحلہ وار سب صارفین تک پہنچے گا اور اس کے لیے ایپ کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506946</guid>
      <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 11:34:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/30112234d40cb60.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/30112234d40cb60.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی سے سستا آئی فون منگوانے والوں کے لیے بری خبر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506901/uae-apple-technews-iphone18pro-apple-price-hike-iphone-18-pro-max</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل نے متحدہ عرب امارات میں اپنی کئی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال متوقع آئی فون 18 پرو سیریز بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر متعارف کرائی جائے گی۔ اگرچہ کمپنی نے ابھی تک نئے آئی فون کی قیمت یا خصوصیات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم حالیہ قیمتوں میں اضافے نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کے متحدہ عرب امارات کے آن لائن اسٹور پر 26 جون کو نئی قیمتیں جاری کی گئیں، جن کے مطابق بعض مصنوعات کی قیمت میں ایک ہزار درہم سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی قیمتوں کے مطابق ایم 5 چپ کے ساتھ 13 انچ میک بک ایئر، جو مارچ میں 4 ہزار 599 درہم میں متعارف کرایا گیا تھا، اب 5 ہزار 499 درہم میں دستیاب ہے۔ اسی طرح 15 انچ میک بک ایئر کی قیمت 5 ہزار 499 درہم سے بڑھ کر 6 ہزار 299 درہم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ اضافہ 14 انچ میک بک پرو کی قیمت میں دیکھا گیا ہے۔ یہ ماڈل، جو رواں سال تقریباً 7 ہزار 199 درہم میں لانچ ہوا تھا، اب 8 ہزار 499 درہم میں فروخت کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک نے 17 جون کو وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ میموری اور اسٹوریج چپس کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق سپلائی محدود ہے جبکہ صارفین کی طلب برقرار ہے، جس کے باعث میموری بنانے والی کمپنیاں بھی قیمتیں بڑھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ایپل نے اعلان کیا کہ وہ دنیا بھر میں میک بک، آئی پیڈ اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہی رجحان آنے والی آئی فون 18 پرو سیریز میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نئے پرو ماڈلز میں 12 جی بی ریم دی جا سکتی ہے تاکہ ایپل اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی سہولیات کو مزید بہتر انداز میں پیش کر سکے، جس سے ان کی تیاری کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492506'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ریسرچ کے ادارے آئی ڈی سی کی سینئر ڈائریکٹر برائے ڈیٹا اینڈ اینالیٹکس نبیلہ پوپل کے مطابق حالیہ میک اور آئی پیڈ کی قیمتوں میں اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت میں 200 امریکی ڈالر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو پہلے لگائے گئے اندازوں سے دوگنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگے اسمارٹ فونز کی تیاری پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث معمول کے سالانہ 50 ڈالر اضافے کا دور شاید ختم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو آئی فون 18 پرو کی ابتدائی عالمی قیمت تقریباً 1 ہزار 249 سے 1 ہزار 299 امریکی ڈالر جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت 1 ہزار 349 سے 1 ہزار 399 امریکی ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ مقامی ٹیکس اور علاقائی قیمتوں کا اطلاق اس کے علاوہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات میں اگر ایپل یہ مکمل اضافہ صارفین تک منتقل کرتی ہے تو آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت تقریباً 5 ہزار 400 سے 5 ہزار 500 درہم جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت تقریباً 5 ہزار 800 سے 5 ہزار 900 درہم تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ امارات میں فروخت ہونے والے اب تک کے مہنگے ترین مرکزی آئی فون ماڈلز ہوں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 پرو سیریز میں نئے اے 20 پرو چپ سیٹ، بڑی بیٹری، زیادہ روشن ڈسپلے، ویری ایبل اپرچر کیمرا سسٹم، نئی نسل کا سی 2 موڈیم اور آئی او ایس 27 کے ساتھ مزید جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے ابھی تک آئی فون 18 سیریز کی قیمت، خصوصیات یا لانچ کی تاریخ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم مختلف صنعتی رپورٹس کے مطابق نئے آئی فونز کی لانچ ستمبر میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل نے متحدہ عرب امارات میں اپنی کئی مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال متوقع آئی فون 18 پرو سیریز بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر متعارف کرائی جائے گی۔ اگرچہ کمپنی نے ابھی تک نئے آئی فون کی قیمت یا خصوصیات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم حالیہ قیمتوں میں اضافے نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔</strong></p>
<p>ایپل کے متحدہ عرب امارات کے آن لائن اسٹور پر 26 جون کو نئی قیمتیں جاری کی گئیں، جن کے مطابق بعض مصنوعات کی قیمت میں ایک ہزار درہم سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>نئی قیمتوں کے مطابق ایم 5 چپ کے ساتھ 13 انچ میک بک ایئر، جو مارچ میں 4 ہزار 599 درہم میں متعارف کرایا گیا تھا، اب 5 ہزار 499 درہم میں دستیاب ہے۔ اسی طرح 15 انچ میک بک ایئر کی قیمت 5 ہزار 499 درہم سے بڑھ کر 6 ہزار 299 درہم ہو گئی ہے۔</p>
<p>سب سے زیادہ اضافہ 14 انچ میک بک پرو کی قیمت میں دیکھا گیا ہے۔ یہ ماڈل، جو رواں سال تقریباً 7 ہزار 199 درہم میں لانچ ہوا تھا، اب 8 ہزار 499 درہم میں فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قیمتوں میں اضافے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹم کک نے 17 جون کو وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ میموری اور اسٹوریج چپس کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق سپلائی محدود ہے جبکہ صارفین کی طلب برقرار ہے، جس کے باعث میموری بنانے والی کمپنیاں بھی قیمتیں بڑھا رہی ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں ایپل نے اعلان کیا کہ وہ دنیا بھر میں میک بک، آئی پیڈ اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہی رجحان آنے والی آئی فون 18 پرو سیریز میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نئے پرو ماڈلز میں 12 جی بی ریم دی جا سکتی ہے تاکہ ایپل اپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی سہولیات کو مزید بہتر انداز میں پیش کر سکے، جس سے ان کی تیاری کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30492506'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30492506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکیٹ ریسرچ کے ادارے آئی ڈی سی کی سینئر ڈائریکٹر برائے ڈیٹا اینڈ اینالیٹکس نبیلہ پوپل کے مطابق حالیہ میک اور آئی پیڈ کی قیمتوں میں اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت میں 200 امریکی ڈالر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے، جو پہلے لگائے گئے اندازوں سے دوگنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگے اسمارٹ فونز کی تیاری پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث معمول کے سالانہ 50 ڈالر اضافے کا دور شاید ختم ہو چکا ہے۔</p>
<p>اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو آئی فون 18 پرو کی ابتدائی عالمی قیمت تقریباً 1 ہزار 249 سے 1 ہزار 299 امریکی ڈالر جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت 1 ہزار 349 سے 1 ہزار 399 امریکی ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ مقامی ٹیکس اور علاقائی قیمتوں کا اطلاق اس کے علاوہ ہوگا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات میں اگر ایپل یہ مکمل اضافہ صارفین تک منتقل کرتی ہے تو آئی فون 18 پرو کی ابتدائی قیمت تقریباً 5 ہزار 400 سے 5 ہزار 500 درہم جبکہ آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت تقریباً 5 ہزار 800 سے 5 ہزار 900 درہم تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت میں یہ امارات میں فروخت ہونے والے اب تک کے مہنگے ترین مرکزی آئی فون ماڈلز ہوں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 پرو سیریز میں نئے اے 20 پرو چپ سیٹ، بڑی بیٹری، زیادہ روشن ڈسپلے، ویری ایبل اپرچر کیمرا سسٹم، نئی نسل کا سی 2 موڈیم اور آئی او ایس 27 کے ساتھ مزید جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔</p>
<p>ایپل نے ابھی تک آئی فون 18 سیریز کی قیمت، خصوصیات یا لانچ کی تاریخ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم مختلف صنعتی رپورٹس کے مطابق نئے آئی فونز کی لانچ ستمبر میں متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506901</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Jun 2026 12:23:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2912142361c9871.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2912142361c9871.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا، جاپان اور اب پاکستان: دنیا بھر میں اچانک بڑھنے والے زلزلوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506866/venezeula-japan-pakistan-why-are-we-having-so-many-earthquakes</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پچھلے کچھ دنوں میں دنیا کے الگ الگ حصوں میں یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں نے لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور ہر طرف یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان زلزلوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے وینزویلا کے سمندری ساحل پر 7.2 اور 7.5 شدت کے انتہائی خطرناک زلزلے آئے جس سے شدید تباہی مچی اور اب تک 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 50 ہزار سے زائد لاپتا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے فوراً بعد جاپان کے سمندر میں 6.9 شدت کا زلزلہ آیا اور اسی دوران امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں بھی 5.6 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا جو وہاں 1940 کے بعد سب سے بڑا زلزلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستان کے صوبے بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کا مرکز افغانستان تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506844/earthquake-in-islamabad-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506844"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک ہی وقت میں اتنے بڑے زلزلوں کے آنے پر دنیا بھر کے لوگ پریشان ہیں، لیکن ماہرینِ ارضیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک اتفاق ہے اور ان زلزلوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر پیٹر اسٹافورڈ نے اس بات کو آسان لفظوں میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی اپنی وجوہات کی وجہ سے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر پیٹر اسٹافورڈ کے مطابق، کیلیفورنیا میں ہر سال دو سے تین ایسے زلزلے آتے ہیں اور جاپان میں بھی سال میں ایک بار ایسا زلزلہ آنا عام بات ہے۔ وینزویلا میں البتہ ایسے بڑے زلزلے ذرا دیر سے، یعنی پچاس سے سو سال کے بعد آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ زلزلے کسی ایک وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے، تو ان ملکوں کے بیچ میں جتنے علاقے اور فالٹ لائنز آتی ہیں، وہاں زلزلے کیوں نہیں آئے؟ اس لیے یہ صرف ایک حسابی اتفاق ہے کہ یہ سب ایک ساتھ آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں نے اس بات کو بھی بالکل غلط قرار دیا ہے کہ دنیا میں بڑے زلزلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماہرین کے مطابق کسی سال زلزلے زیادہ آنا اور کسی سال کم آنا ایک عام سی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں کمپیوٹر اور مشینوں پر اب زیادہ زلزلے ریکارڈ ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ زلزلے زیادہ آ رہے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب دنیا میں زلزلہ ناپنے والی مشینیں بہت زیادہ اور جدید ہو چکی ہیں جو چھوٹے سے چھوٹے جھٹکے کو بھی پکڑ لیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506856/venezuela-earthquake-death-toll-rises-aid-operations'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے محکمہ ارضیات ’یو ایس جی ایس‘ کے مطابق اب ہر سال دنیا بھر میں بیس ہزار کے قریب چھوٹے بڑے زلزلے ریکارڈ ہوتے ہیں، یعنی روزانہ کے حساب سے تقریباً 55 زلزلے آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پچھلے سو سال کا ریکارڈ دیکھا جائے تو دنیا میں ہر سال اوسطاً 16 بڑے زلزلے آتے ہیں جن کی شدت 7 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ کسی سال یہ تعداد بڑھ جاتی ہے جیسے سن 2010 میں 23 بڑے زلزلے آئے تھے، اور کسی سال یہ بہت کم ہو جاتی ہے جیسے 1989 میں صرف 6 بڑے زلزلے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ میں سب سے بڑا زلزلہ 1960 میں ملک چِلی میں آیا تھا جس کی شدت 9.5 تھی اور اس میں 1600 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788/venezuela-earthquake-google-alert-how-did-google-know-before-the-quake'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سن 2004 میں انڈونیشیا میں 9.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے بعد سمندر میں اٹھنے والی سونامی کی لہروں نے دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی حال ہی میں سن 2025 میں روس کے علاقے کامچتکا میں بھی 8.8 شدت کا ایک بڑا زلزلہ آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے قدرتی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے لوگوں کو افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سائنسی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پچھلے کچھ دنوں میں دنیا کے الگ الگ حصوں میں یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں نے لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور ہر طرف یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان زلزلوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟</strong></p>
<p>سب سے پہلے وینزویلا کے سمندری ساحل پر 7.2 اور 7.5 شدت کے انتہائی خطرناک زلزلے آئے جس سے شدید تباہی مچی اور اب تک 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 50 ہزار سے زائد لاپتا ہیں۔</p>
<p>اس کے فوراً بعد جاپان کے سمندر میں 6.9 شدت کا زلزلہ آیا اور اسی دوران امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں بھی 5.6 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا جو وہاں 1940 کے بعد سب سے بڑا زلزلہ ہے۔</p>
<p>اسی دوران پاکستان کے صوبے بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کا مرکز افغانستان تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506844/earthquake-in-islamabad-khyber-pakhtunkhwa-and-balochistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506844"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک ہی وقت میں اتنے بڑے زلزلوں کے آنے پر دنیا بھر کے لوگ پریشان ہیں، لیکن ماہرینِ ارضیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک اتفاق ہے اور ان زلزلوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>لندن کے امپیریل کالج کے پروفیسر پیٹر اسٹافورڈ نے اس بات کو آسان لفظوں میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی اپنی وجوہات کی وجہ سے آتے ہیں۔</p>
<p>پروفیسر پیٹر اسٹافورڈ کے مطابق، کیلیفورنیا میں ہر سال دو سے تین ایسے زلزلے آتے ہیں اور جاپان میں بھی سال میں ایک بار ایسا زلزلہ آنا عام بات ہے۔ وینزویلا میں البتہ ایسے بڑے زلزلے ذرا دیر سے، یعنی پچاس سے سو سال کے بعد آتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506786/why-does-the-earth-shake-the-stories-and-reality-associated-with-earthquakes-and-tsunamis'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506786"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ زلزلے کسی ایک وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے، تو ان ملکوں کے بیچ میں جتنے علاقے اور فالٹ لائنز آتی ہیں، وہاں زلزلے کیوں نہیں آئے؟ اس لیے یہ صرف ایک حسابی اتفاق ہے کہ یہ سب ایک ساتھ آگئے۔</p>
<p>سائنس دانوں نے اس بات کو بھی بالکل غلط قرار دیا ہے کہ دنیا میں بڑے زلزلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>امریکی ماہرین کے مطابق کسی سال زلزلے زیادہ آنا اور کسی سال کم آنا ایک عام سی بات ہے۔</p>
<p>امریکی ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں کمپیوٹر اور مشینوں پر اب زیادہ زلزلے ریکارڈ ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ زلزلے زیادہ آ رہے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب دنیا میں زلزلہ ناپنے والی مشینیں بہت زیادہ اور جدید ہو چکی ہیں جو چھوٹے سے چھوٹے جھٹکے کو بھی پکڑ لیتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506856/venezuela-earthquake-death-toll-rises-aid-operations'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506856"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکا کے محکمہ ارضیات ’یو ایس جی ایس‘ کے مطابق اب ہر سال دنیا بھر میں بیس ہزار کے قریب چھوٹے بڑے زلزلے ریکارڈ ہوتے ہیں، یعنی روزانہ کے حساب سے تقریباً 55 زلزلے آتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔</p>
<p>اگر پچھلے سو سال کا ریکارڈ دیکھا جائے تو دنیا میں ہر سال اوسطاً 16 بڑے زلزلے آتے ہیں جن کی شدت 7 یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ کسی سال یہ تعداد بڑھ جاتی ہے جیسے سن 2010 میں 23 بڑے زلزلے آئے تھے، اور کسی سال یہ بہت کم ہو جاتی ہے جیسے 1989 میں صرف 6 بڑے زلزلے آئے تھے۔</p>
<p>تاریخ میں سب سے بڑا زلزلہ 1960 میں ملک چِلی میں آیا تھا جس کی شدت 9.5 تھی اور اس میں 1600 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788/venezuela-earthquake-google-alert-how-did-google-know-before-the-quake'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح سن 2004 میں انڈونیشیا میں 9.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے بعد سمندر میں اٹھنے والی سونامی کی لہروں نے دو لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جان لے لی تھی۔</p>
<p>ابھی حال ہی میں سن 2025 میں روس کے علاقے کامچتکا میں بھی 8.8 شدت کا ایک بڑا زلزلہ آیا تھا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے قدرتی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے لوگوں کو افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے سائنسی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506866</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 11:14:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/28110925d119347.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/28110925d119347.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرمی کے اس شدید موسم میں موبائل فون کو محفوظ رکھنے کے طریقے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506840/how-to-protect-your-smartphone-during-extreme-summer-heat</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان بے حال ہیں، وہاں ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز بھی ایک خاموش بحران کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں اچانک بڑھتی ہوئی تپش کے باعث لاکھوں موبائل فونز کارکردگی میں سستی، بیٹری کی خرابی اور اچانک بند ہونے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لیے چند بنیادی تدابیر اختیار کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ فون کی زندگی بچانے کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462059'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جدید اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، دفتری کام، تعلیم، ویڈیوز، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت تقریباً ہر کام موبائل فون کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان ڈیوائسز کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی میگزین ’لیول اپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ طاقتور ڈیوائسز گرمی کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیشتر اسمارٹ فونز کو صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب درجہ حرارت اس حد سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی عمر کم ہو سکتی ہے، پراسیسر کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل ہارڈویئر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فون پر ”ڈیوائس از ٹو ہاٹ“ یا ”فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے“ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈیوائس خود کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408515'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسمارٹ فون کو پگھلنے اور خراب ہونے سے بچانے کے 7 سنہری طریقے&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس چلچلاتی دھوپ میں آپ کا قیمتی فون محفوظ رہے اور اسکرین پر ”ڈیوائس بہت گرم ہے“ کا انتباہی میسج نہ آئے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بند گاڑی میں فون نہ رکھیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈیش بورڈ پر رکھا فون اس گرمی کو اسفنج کی طرح جذب کرتا ہے جو اسکرین اور بیٹری کو فوری ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے چند منٹ کے لیے بھی گاڑی سے اتریں تو فون ساتھ لے کر جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سگنل کمزور ہوں تو ’ایئرپلین موڈ‘ آن کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرم علاقوں میں جب موبائل کے سگنل کمزور ہوتے ہیں، تو فون کا انٹینا کنکشن بحال رکھنے کے لیے دگنی طاقت لگاتا ہے۔ اس سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر ایئرپلین موڈ کا استعمال فون پر دباؤ کو خوامخواہ بڑھنے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تپتے ہوئے فون کو چارجنگ پر مت لگائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارجنگ کے دوران فون کے اندر کیمیائی عمل کی وجہ سے پہلے ہی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر فون پہلے سے گرم ہو، تو پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم فون کو چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ عام چارجر کے مقابلے میں فون کو زیادہ گرم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کا غلط استعمال&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن میں ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ چلنے سے فون بہت جلد گرم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ فون کو ایئر کنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی کم رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باہر نکلتے ہی ’بیٹری سیور‘ موڈ آن کردیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی دھوپ میں نکلیں، فون کا بیٹری سیونگ موڈ آن کر دیں۔ یہ موڈ فون کے بھاری اندرونی پروسیسز کو روک دیتا ہے، اسکرین کی برائٹنس کم کرتا ہے اور بیک گراؤنڈ کی فالتو چیزیں بند کر کے فون کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;فون کو براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے گریز کریں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فون کی ایلومینیم اور شیشے کی باڈی گرمی کو سیکنڈوں میں کھینچتی ہے۔ فون کو کبھی بھی دھوپ میں میز یا کرسی پر کھلا نہ چھوڑیں، بلکہ اسے کسی بیگ، تولیے کے نیچے یا سایہ دار جگہ پر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ کالے رنگ کے موبائل کور گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہلکے رنگ کے کور استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیک گراؤنڈ ایپس بند کردیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے موبائل کی تمام چلنے والی ایپس (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ای میل وغیرہ) کو مکمل بند کر دیں۔ کیونکہ پس منظر میں چلنے والی ایپس مسلسل توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں اور فون کو گرم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;اگر کسی لاپرواہی کی وجہ سے آپ کا فون شدید گرم ہو جائے، تو اسے ہرگز فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ درجہ حرارت میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی سے فون کے اندر نمی  پیدا ہو سکتی ہے جو سرکٹ کو شارٹ کر دے گی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فون کا کور اتاریں، اسے فوراً پاور آف کریں اور کسی پنکھے کی ہوا کے نیچے یا ٹھنڈی چھاؤں میں رکھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اسمارٹ فون کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر بھی کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اس موسم میں جہاں انسان بے حال ہیں، وہاں ہماری جیبوں میں موجود اسمارٹ فونز بھی ایک خاموش بحران کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں اچانک بڑھتی ہوئی تپش کے باعث لاکھوں موبائل فونز کارکردگی میں سستی، بیٹری کی خرابی اور اچانک بند ہونے جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق، اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لیے چند بنیادی تدابیر اختیار کرنا اب محض ایک مشورہ نہیں بلکہ فون کی زندگی بچانے کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30462059'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30462059"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جدید اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ بینکنگ، آن لائن ادائیگی، دفتری کام، تعلیم، ویڈیوز، سوشل میڈیا اور ہنگامی رابطوں سمیت تقریباً ہر کام موبائل فون کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، لیکن زیادہ درجہ حرارت ان ڈیوائسز کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی میگزین ’لیول اپ‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ طاقتور ڈیوائسز گرمی کے سامنے انتہائی کمزور ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیشتر اسمارٹ فونز کو صفر سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>جب درجہ حرارت اس حد سے بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر فون براہِ راست دھوپ میں ہو، تو اس کے اندرونی پرزے تیزی سے گرم ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی عمر کم ہو سکتی ہے، پراسیسر کی رفتار متاثر ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل ہارڈویئر نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فون پر ”ڈیوائس از ٹو ہاٹ“ یا ”فون بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے“ جیسا انتباہ ظاہر ہو تو اسے فوراً استعمال کرنا بند کر دینا چاہیے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈیوائس خود کو نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408515'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>اسمارٹ فون کو پگھلنے اور خراب ہونے سے بچانے کے 7 سنہری طریقے</strong><br>اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس چلچلاتی دھوپ میں آپ کا قیمتی فون محفوظ رہے اور اسکرین پر ”ڈیوائس بہت گرم ہے“ کا انتباہی میسج نہ آئے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں۔</p>
<p><strong>بند گاڑی میں فون نہ رکھیں</strong></p>
<p>تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت چند ہی منٹوں میں 54 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈیش بورڈ پر رکھا فون اس گرمی کو اسفنج کی طرح جذب کرتا ہے جو اسکرین اور بیٹری کو فوری ناکارہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے چند منٹ کے لیے بھی گاڑی سے اتریں تو فون ساتھ لے کر جائیں۔</p>
<p><strong>سگنل کمزور ہوں تو ’ایئرپلین موڈ‘ آن کریں</strong></p>
<p>گرم علاقوں میں جب موبائل کے سگنل کمزور ہوتے ہیں، تو فون کا انٹینا کنکشن بحال رکھنے کے لیے دگنی طاقت لگاتا ہے۔ اس سے بیٹری تیزی سے گرم ہوتی ہے۔ ایسے مقامات پر ایئرپلین موڈ کا استعمال فون پر دباؤ کو خوامخواہ بڑھنے سے روکتا ہے۔</p>
<p><strong>تپتے ہوئے فون کو چارجنگ پر مت لگائیں</strong></p>
<p>چارجنگ کے دوران فون کے اندر کیمیائی عمل کی وجہ سے پہلے ہی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر فون پہلے سے گرم ہو، تو پہلے اسے ٹھنڈا ہونے دیں، کیونکہ گرم فون کو چارج کرنے سے بیٹری پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اسی طرح گرمیوں میں وائرلیس چارجنگ سے بھی پرہیز کریں کیونکہ یہ عام چارجر کے مقابلے میں فون کو زیادہ گرم کرتی ہے۔</p>
<p><strong>ڈیش بورڈ پر نیویگیشن کا غلط استعمال</strong></p>
<p>دن میں ڈرائیونگ کے دوران فون کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر لگانا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دھوپ، جی پی ایس اور موبائل ڈیٹا ایک ساتھ چلنے سے فون بہت جلد گرم ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ فون کو ایئر کنڈیشنر کے قریب رکھا جائے اور اسکرین کی روشنی کم رکھی جائے۔</p>
<p><strong>باہر نکلتے ہی ’بیٹری سیور‘ موڈ آن کردیں</strong></p>
<p>جب بھی دھوپ میں نکلیں، فون کا بیٹری سیونگ موڈ آن کر دیں۔ یہ موڈ فون کے بھاری اندرونی پروسیسز کو روک دیتا ہے، اسکرین کی برائٹنس کم کرتا ہے اور بیک گراؤنڈ کی فالتو چیزیں بند کر کے فون کو اندر سے ٹھنڈا رکھنے میں جادوئی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p><br><strong>فون کو براہِ راست دھوپ میں رکھنے سے گریز کریں</strong></p>
<p>فون کی ایلومینیم اور شیشے کی باڈی گرمی کو سیکنڈوں میں کھینچتی ہے۔ فون کو کبھی بھی دھوپ میں میز یا کرسی پر کھلا نہ چھوڑیں، بلکہ اسے کسی بیگ، تولیے کے نیچے یا سایہ دار جگہ پر رکھیں۔ یاد رکھیں کہ کالے رنگ کے موبائل کور گرمی کو زیادہ جذب کرتے ہیں، اس لیے گرمیوں میں ہلکے رنگ کے کور استعمال کریں۔</p>
<p><strong>بیک گراؤنڈ ایپس بند کردیں</strong></p>
<p>گھر یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے موبائل کی تمام چلنے والی ایپس (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ای میل وغیرہ) کو مکمل بند کر دیں۔ کیونکہ پس منظر میں چلنے والی ایپس مسلسل توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں اور فون کو گرم کرتی ہیں۔</p>
<p><br>اگر کسی لاپرواہی کی وجہ سے آپ کا فون شدید گرم ہو جائے، تو اسے ہرگز فوری طور پر فریج یا فریزر میں رکھنے کی غلطی نہ کریں۔ درجہ حرارت میں اچانک اتنی بڑی تبدیلی سے فون کے اندر نمی  پیدا ہو سکتی ہے جو سرکٹ کو شارٹ کر دے گی۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ فون کا کور اتاریں، اسے فوراً پاور آف کریں اور کسی پنکھے کی ہوا کے نیچے یا ٹھنڈی چھاؤں میں رکھ دیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اسمارٹ فون کی کارکردگی بہتر رکھی جا سکتی ہے بلکہ اس کی بیٹری اور دیگر اہم پرزوں کی عمر بھی کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506840</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 12:51:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/27124701f64b42c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/27124701f64b42c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی بڑی کمپنی 'ٹاٹا' پر سائبر حملہ، آئی فون اور ٹیسلا گاڑیوں کے راز چوری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506707/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-to-expose-apple-tesla-trade-secrets</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ایک بہت بڑی کمپنی ’ٹاٹا الیکٹرانکس‘ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر اٹیک ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاٹا نے یہ انکشاف اس وقت کیا جب انٹرنیٹ کی دنیا پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا کہ ’ورلڈ لیکس‘ نامی ایک بدنام زمانہ ہیکر گروپ نے آئی فون بنانے والی مشہور کمپنی ’ایپل‘ اور بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’ٹیسلا‘ کے انتہائی خفیہ نقشے اور ڈیزائن انٹرنیٹ کی ایک چھپی ہوئی دنیا یعنی ڈارک ویب پر آن لائن لیک کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں دنیا کی بڑی کمپنیاں بھارتی کمپنی ’ٹاٹا‘ سے اپنے پرزے بنواتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیکرز پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس گروپ نے ٹاٹا کے کمپیوٹروں سے چوری کی گئی دو لاکھ سے زیادہ خفیہ فائلیں انٹرنیٹ پر ڈال دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے حملے کے بعد ٹاٹا الیکٹرانکس نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “کچھ ہفتے پہلے ٹاٹا الیکٹرانکس نے اپنے کچھ کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملے کی نشاندہی کی تھی۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹاٹا گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ”ہماری سیکیورٹی ٹیموں نے فوری طور پر اس سائبر حملے کا تدارک کیا اور اس واقعے سے ہمارے کاروبار اور فیکٹریوں کے کام کاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے، تمام کام معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف اس معاملے سے جڑے ایک باخبر شخص نے نام نہ بتانے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/media-telecom/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-expose-apple-tesla-trade-2026-06-22/"&gt;’رائٹرز‘&lt;/a&gt; کو بتایا کہ ایپل کمپنی اس چوری کی خود تفتیش کر رہی ہے اور اس کا پورا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شخص نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہیکرز نے یہ ڈیٹا واپس کرنے کے بدلے ٹاٹا کمپنی سے بھاری تاوان بھی مانگا ہے، تاہم ٹاٹا کمپنی نے تاوان کے اس مطالبے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ایپل نے بھی اس پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506625/socialmedia-instagram-instagramreels-digitalmarketing-contentcreat-comment-for-details'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506625"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایپل کمپنی کے لیے ایک نیا جھٹکا ہے کیونکہ ٹاٹا کمپنی چین سے باہر ایپل کے لیے آئی فون بنانے والی سب سے اہم پارٹنر بن کر ابھر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا چوری کرنے والے گروپ ’ورلڈ لیکس‘ نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ سارا ڈیٹا ٹاٹا الیکٹرانکس کا ہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر سیکیورٹی کے ماہر راج شیکھر راجاہریہ، جنہوں نے پولیس کو بھی ایسے معاملات میں مشورے دیے ہیں، انہوں نے ان فائلوں کو دیکھنے کے بعد بتایا کہ ان میں نہ صرف کمپنیوں کے راز ہیں بلکہ ملازمین کی ای میلز، پرانے ریکارڈ اور کئی غیر ملکی ملازمین کے پاسپورٹ کی کاپیاں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506636/earning-from-facebook-has-now-become-even-easier-with-major-relaxations-introduced-in-monetization-rules'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سیکیورٹی ماہر راکیش کرشنن نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ چوری شدہ ڈیٹا پچھلے کئی دنوں سے انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ان فائلوں میں ٹیسلا کمپنی کی نئی ’ماڈل وائی‘ گاڑی کے چارجنگ سسٹم کے ڈیزائن اور ’ماڈل تھری‘ گاڑی کے وہ بلیو پرنٹ شامل ہیں جن پر ’تجارت کا خفیہ راز‘ لکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ان فائلوں میں آئی فون کے سرکٹ بورڈ کی کوالٹی چیک کرنے کے طریقے اور ٹاٹا کی تامل ناڈو میں واقع آئی فون فیکٹری ’ہوسور‘ کی بھی 32 فائلیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاٹا کمپنی نے پچھلے ہفتے ہی اپنے کچھ ملازمین کو اس ڈیٹا چوری کے بارے میں بتا دیا تھا کیونکہ ٹاٹا کمپنی اس وقت بھارت میں بننے والے کل آئی فونز کا تقریباً ایک تہائی حصہ خود بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ایک بہت بڑی کمپنی ’ٹاٹا الیکٹرانکس‘ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے کمپیوٹر سسٹم پر سائبر اٹیک ہوا ہے۔</strong></p>
<p>ٹاٹا نے یہ انکشاف اس وقت کیا جب انٹرنیٹ کی دنیا پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا کہ ’ورلڈ لیکس‘ نامی ایک بدنام زمانہ ہیکر گروپ نے آئی فون بنانے والی مشہور کمپنی ’ایپل‘ اور بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’ٹیسلا‘ کے انتہائی خفیہ نقشے اور ڈیزائن انٹرنیٹ کی ایک چھپی ہوئی دنیا یعنی ڈارک ویب پر آن لائن لیک کر دیے ہیں۔</p>
<p>یہ دونوں دنیا کی بڑی کمپنیاں بھارتی کمپنی ’ٹاٹا‘ سے اپنے پرزے بنواتی ہیں۔</p>
<p>ہیکرز پر نظر رکھنے والے ماہرین نے بتایا ہے کہ اس گروپ نے ٹاٹا کے کمپیوٹروں سے چوری کی گئی دو لاکھ سے زیادہ خفیہ فائلیں انٹرنیٹ پر ڈال دی ہیں۔</p>
<p>اس بڑے حملے کے بعد ٹاٹا الیکٹرانکس نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “کچھ ہفتے پہلے ٹاٹا الیکٹرانکس نے اپنے کچھ کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملے کی نشاندہی کی تھی۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹاٹا گروپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ”ہماری سیکیورٹی ٹیموں نے فوری طور پر اس سائبر حملے کا تدارک کیا اور اس واقعے سے ہمارے کاروبار اور فیکٹریوں کے کام کاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے، تمام کام معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔“</p>
<p>دوسری طرف اس معاملے سے جڑے ایک باخبر شخص نے نام نہ بتانے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/media-telecom/indias-tata-electronics-hit-by-cyber-breach-claiming-expose-apple-tesla-trade-2026-06-22/">’رائٹرز‘</a> کو بتایا کہ ایپل کمپنی اس چوری کی خود تفتیش کر رہی ہے اور اس کا پورا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس شخص نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہیکرز نے یہ ڈیٹا واپس کرنے کے بدلے ٹاٹا کمپنی سے بھاری تاوان بھی مانگا ہے، تاہم ٹاٹا کمپنی نے تاوان کے اس مطالبے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ایپل نے بھی اس پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506625/socialmedia-instagram-instagramreels-digitalmarketing-contentcreat-comment-for-details'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506625"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ واقعہ ایپل کمپنی کے لیے ایک نیا جھٹکا ہے کیونکہ ٹاٹا کمپنی چین سے باہر ایپل کے لیے آئی فون بنانے والی سب سے اہم پارٹنر بن کر ابھر رہی ہے۔</p>
<p>ڈیٹا چوری کرنے والے گروپ ’ورلڈ لیکس‘ نے اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ سارا ڈیٹا ٹاٹا الیکٹرانکس کا ہی ہے۔</p>
<p>سائبر سیکیورٹی کے ماہر راج شیکھر راجاہریہ، جنہوں نے پولیس کو بھی ایسے معاملات میں مشورے دیے ہیں، انہوں نے ان فائلوں کو دیکھنے کے بعد بتایا کہ ان میں نہ صرف کمپنیوں کے راز ہیں بلکہ ملازمین کی ای میلز، پرانے ریکارڈ اور کئی غیر ملکی ملازمین کے پاسپورٹ کی کاپیاں بھی شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506636/earning-from-facebook-has-now-become-even-easier-with-major-relaxations-introduced-in-monetization-rules'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور سیکیورٹی ماہر راکیش کرشنن نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ چوری شدہ ڈیٹا پچھلے کئی دنوں سے انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ ان فائلوں میں ٹیسلا کمپنی کی نئی ’ماڈل وائی‘ گاڑی کے چارجنگ سسٹم کے ڈیزائن اور ’ماڈل تھری‘ گاڑی کے وہ بلیو پرنٹ شامل ہیں جن پر ’تجارت کا خفیہ راز‘ لکھا ہوا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ان فائلوں میں آئی فون کے سرکٹ بورڈ کی کوالٹی چیک کرنے کے طریقے اور ٹاٹا کی تامل ناڈو میں واقع آئی فون فیکٹری ’ہوسور‘ کی بھی 32 فائلیں شامل ہیں۔</p>
<p>ٹاٹا کمپنی نے پچھلے ہفتے ہی اپنے کچھ ملازمین کو اس ڈیٹا چوری کے بارے میں بتا دیا تھا کیونکہ ٹاٹا کمپنی اس وقت بھارت میں بننے والے کل آئی فونز کا تقریباً ایک تہائی حصہ خود بناتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506707</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 09:17:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/2309122939e9d51.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/2309122939e9d51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیا آئی فون 18 پرو کیسا ہوگا؟ ڈیزائن، کیمرے، فیچرز اور متوقع قیمت کی تفصیلات جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506658/what-will-the-new-iphone-18-pro-be-like-details-about-its-design-camera-features-and-expected-price-have-been-revealed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل جلد اپنے نئے فلیگ شپ موبائل آئی فون18 پرو کو متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔  اس بار آئی فون 18 پرو میں کئی بڑی تبدیلیاں اور نئے فیچرز دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جس کے باعث صارفین کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال کروڑوں لوگ  ایپل کے نئے آئی فون کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور اس سال بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پچھلے سال ستمبر میں آنے والے آئی فون 17 کو لوگوں نے بہت پسند کیا تھا اور اب کمپنی اپنے نئے اور زیادہ طاقتور فون آئی فون 18 پرو ماڈلز کو جلد ہی مارکیٹ میں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بھی نیا فون خریدنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کو تھوڑا انتظار کر لینا چاہیے کیونکہ اس نئے فون میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506410/america-bans-claude-fable-five-mythos-anthropic-suspends-global-access'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق اس بار فون کے ڈیزائن میں بہت بڑی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ ایپل عام طور پر ہر سال مکمل نیا ڈیزائن متعارف نہیں کراتا۔ تاہم اس بار رنگوں میں تبدیلی متوقع ہے۔ لیکس کے مطابق آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کو ڈارک چیری، لائٹ بلیو، ڈارک گرے اور سلور رنگوں میں پیش کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ڈارک چیری رنگ اس سیریز کا خاص رنگ بن سکتا ہے۔ کمپنی فون کے پچھلے حصے کو بھی پہلے سے زیادہ خوبصورت اور ہموار بنانے پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکرین کے حوالے سے بھی بڑی بہتری سامنے آ سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئی فون 18 پرو میں نئی  اسکرین دی جائے گی، جو کم بیٹری استعمال کرے گی اور بہتر رنگ دکھائے گی۔ ساتھ ہی ڈائنامک آئی لینڈ پہلے سے چھوٹا ہوگا، جس سے اسکرین پر زیادہ جگہ دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارکردگی کے لیے ایپل اپنا نیا پرو اے 20پروسیسر استعمال کر سکتا ہے، جو 2nm ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق یہ چپ پچھلے ماڈل کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ تیز اور 30 فیصد زیادہ توانائی بچانے والی ہو سکتی ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505986/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505986"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جیف پو نے اس حوالے سے بتایا کہ فون کے اندر انٹرنیٹ چلانے والا نظام یعنی موڈیم پہلے سے زیادہ تیز رفتار ہوگا اور یہ کم بجلی استعمال کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق نئے آئی فون میں آر ایم اے  12GBبھی دی جا سکتی ہے، جس سے فون کی رفتار اور اے ائی فیچرز مزید بہتر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے فون میں بیٹری بھی پہلے سے بڑی دی جا رہی ہے اور انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس سے ضرورت پڑنے پر سیٹلائٹ کے ذریعے بھی انٹرنیٹ چلایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی تبدیلی فون کے کیمرے میں ہونے کی امید ہے، جس سے رات کے اندھیرے میں بھی بہت شاندار اور صاف تصویریں کھینچی جا سکیں گیی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی فون 18 پرو میں تین 48 میگا پکسل کیمرے دیے جانے کا امکان ہے، جن میں مین، الٹرا وائیڈ اور ٹیلی فوٹو لینز شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی ایپل نئی پیش رفت کرنے جا رہا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی،  گوگل اور جیمینائی کی بڑھتی مقبولیت کے بعد ایپل اپنے سری سسٹم میں بڑا اپ ڈیٹ لا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بول کر کام کرنے والے سسٹم یعنی سری کو گوگل کی جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ وہ آپ کی بات کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ کر کام کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے حوالے سے ایپل کمپنی کے بڑے افسر ٹم کوک نے حال ہی میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق نئے آئی فون اٹھارہ پرو کی قیمت پچھلے ماڈل کے مقابلے میں دو سو ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں فون کے پرزے مہنگے ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل آئی فونز کے لانچ کے حوالے سے ایک نیا طریقہ اپنانے کا امکان رکھتا ہے۔ آئی فون 18 پرو، آئی فون 18 پرو میکس اور کافی عرصے سے زیرِ بحث فولڈیبل آئی فون ممکنہ طور پر ستمبر 2026 میں متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ عام آئی فون 18 کو 2027 کے آغاز تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک ایپل نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، لیکن سامنے آنے والی معلومات نے صارفین میں بے چینی اور دلچسپی دونوں بڑھا دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگ اب فیصلہ کر رہے ہیں کہ نیا فون خریدنے سے پہلے شاید آئی فون 18 پرو کا انتظار کرنا بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل جلد اپنے نئے فلیگ شپ موبائل آئی فون18 پرو کو متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔  اس بار آئی فون 18 پرو میں کئی بڑی تبدیلیاں اور نئے فیچرز دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جس کے باعث صارفین کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے۔</strong></p>
<p>ہر سال کروڑوں لوگ  ایپل کے نئے آئی فون کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور اس سال بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پچھلے سال ستمبر میں آنے والے آئی فون 17 کو لوگوں نے بہت پسند کیا تھا اور اب کمپنی اپنے نئے اور زیادہ طاقتور فون آئی فون 18 پرو ماڈلز کو جلد ہی مارکیٹ میں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔</p>
<p>اگر آپ بھی نیا فون خریدنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کو تھوڑا انتظار کر لینا چاہیے کیونکہ اس نئے فون میں کئی بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506410/america-bans-claude-fable-five-mythos-anthropic-suspends-global-access'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق اس بار فون کے ڈیزائن میں بہت بڑی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ ایپل عام طور پر ہر سال مکمل نیا ڈیزائن متعارف نہیں کراتا۔ تاہم اس بار رنگوں میں تبدیلی متوقع ہے۔ لیکس کے مطابق آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کو ڈارک چیری، لائٹ بلیو، ڈارک گرے اور سلور رنگوں میں پیش کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ڈارک چیری رنگ اس سیریز کا خاص رنگ بن سکتا ہے۔ کمپنی فون کے پچھلے حصے کو بھی پہلے سے زیادہ خوبصورت اور ہموار بنانے پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>اسکرین کے حوالے سے بھی بڑی بہتری سامنے آ سکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئی فون 18 پرو میں نئی  اسکرین دی جائے گی، جو کم بیٹری استعمال کرے گی اور بہتر رنگ دکھائے گی۔ ساتھ ہی ڈائنامک آئی لینڈ پہلے سے چھوٹا ہوگا، جس سے اسکرین پر زیادہ جگہ دستیاب ہوگی۔</p>
<p>کارکردگی کے لیے ایپل اپنا نیا پرو اے 20پروسیسر استعمال کر سکتا ہے، جو 2nm ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق یہ چپ پچھلے ماڈل کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ تیز اور 30 فیصد زیادہ توانائی بچانے والی ہو سکتی ہے۔<br></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505986/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505986"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جیف پو نے اس حوالے سے بتایا کہ فون کے اندر انٹرنیٹ چلانے والا نظام یعنی موڈیم پہلے سے زیادہ تیز رفتار ہوگا اور یہ کم بجلی استعمال کرے گا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق نئے آئی فون میں آر ایم اے  12GBبھی دی جا سکتی ہے، جس سے فون کی رفتار اور اے ائی فیچرز مزید بہتر ہوں گے۔</p>
<p>اس نئے فون میں بیٹری بھی پہلے سے بڑی دی جا رہی ہے اور انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جس سے ضرورت پڑنے پر سیٹلائٹ کے ذریعے بھی انٹرنیٹ چلایا جا سکے گا۔</p>
<p>سب سے بڑی تبدیلی فون کے کیمرے میں ہونے کی امید ہے، جس سے رات کے اندھیرے میں بھی بہت شاندار اور صاف تصویریں کھینچی جا سکیں گیی۔</p>
<p>آئی فون 18 پرو میں تین 48 میگا پکسل کیمرے دیے جانے کا امکان ہے، جن میں مین، الٹرا وائیڈ اور ٹیلی فوٹو لینز شامل ہوں گے۔</p>
<p>مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی ایپل نئی پیش رفت کرنے جا رہا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی،  گوگل اور جیمینائی کی بڑھتی مقبولیت کے بعد ایپل اپنے سری سسٹم میں بڑا اپ ڈیٹ لا رہا ہے۔</p>
<p>بول کر کام کرنے والے سسٹم یعنی سری کو گوگل کی جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ وہ آپ کی بات کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ کر کام کر سکے۔</p>
<p>قیمتوں کے حوالے سے ایپل کمپنی کے بڑے افسر ٹم کوک نے حال ہی میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506557/big-shock-for-iphone-users-apple-signals-upcoming-price-hikes'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق نئے آئی فون اٹھارہ پرو کی قیمت پچھلے ماڈل کے مقابلے میں دو سو ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں فون کے پرزے مہنگے ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل آئی فونز کے لانچ کے حوالے سے ایک نیا طریقہ اپنانے کا امکان رکھتا ہے۔ آئی فون 18 پرو، آئی فون 18 پرو میکس اور کافی عرصے سے زیرِ بحث فولڈیبل آئی فون ممکنہ طور پر ستمبر 2026 میں متعارف کرائے جائیں گے، جبکہ عام آئی فون 18 کو 2027 کے آغاز تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ابھی تک ایپل نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، لیکن سامنے آنے والی معلومات نے صارفین میں بے چینی اور دلچسپی دونوں بڑھا دی ہیں۔</p>
<p>بہت سے لوگ اب فیصلہ کر رہے ہیں کہ نیا فون خریدنے سے پہلے شاید آئی فون 18 پرو کا انتظار کرنا بہتر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506658</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 13:11:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/21114129ceeb277.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/21114129ceeb277.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک سے کمانا ہوا اب اور بھی آسان، مونیٹائزیشن کے قوانین میں بڑی نرمی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506636/earning-from-facebook-has-now-become-even-easier-with-major-relaxations-introduced-in-monetization-rules</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں کمپنی نے اپنی مونیٹائزیشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ نئی اپڈیٹ کے بعد اب کم فالوورز رکھنے والے صارفین کے لیے بھی فیس بک سے آمدن حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں آسان ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ معلومات کے مطابق فیس بک نے بعض پیجز اور پروفائلز کے لیے مونیٹائزیشن کے معیار میں نرمی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف اپنے فیس بک پیج پر صرف 28 دنوں کے اندر 3 لاکھ ویوز حاصل کر لیتا ہے تو فیس بک اسے ’کانٹینٹ مونیٹائزیشن ٹول‘ تک رسائی دے دے گا۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنی ویڈیوز، ریلز اور دیگر مواد سے ڈالرز میں کمائی شروع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122814943d96a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122814943d96a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے فیس بک پر کمائی کے لیے کافی سخت شرائط موجود تھیں، جن میں کم از کم 10 ہزار فالوورز، 6 لاکھ منٹ کا واچ ٹائم اور مخصوص تعداد میں ویڈیوز اپلوڈ کرنا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نئے کریئیٹرز کے لیے مونیٹائزیشن تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا تھا اور وہ دلبرداشتہ ہو کر کام چھوڑ دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505369/how-to-keep-using-the-internet-when-google-servers-crash'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی سہولت سے ابھرتے ہوئے کانٹینٹ بنانے والوں کے لیے آمدن کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، لیکن فیس بک کے قواعد و ضوابط اور مقررہ شرائط پر عمل کرنا بدستور ضروری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی تبدیلی ابھی ہر اکاؤنٹ یا پیج کے لیے دستیاب نہیں، بلکہ فی الحال صرف کچھ مخصوص صارفین ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے خوش آئند خبر سامنے آئی ہے، جہاں کمپنی نے اپنی مونیٹائزیشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ نئی اپڈیٹ کے بعد اب کم فالوورز رکھنے والے صارفین کے لیے بھی فیس بک سے آمدن حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں آسان ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔</strong></p>
<p>تازہ معلومات کے مطابق فیس بک نے بعض پیجز اور پروفائلز کے لیے مونیٹائزیشن کے معیار میں نرمی کی ہے۔</p>
<p>نئے نظام کے تحت اگر کوئی صارف اپنے فیس بک پیج پر صرف 28 دنوں کے اندر 3 لاکھ ویوز حاصل کر لیتا ہے تو فیس بک اسے ’کانٹینٹ مونیٹائزیشن ٹول‘ تک رسائی دے دے گا۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنی ویڈیوز، ریلز اور دیگر مواد سے ڈالرز میں کمائی شروع کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122814943d96a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/20122814943d96a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس سے پہلے فیس بک پر کمائی کے لیے کافی سخت شرائط موجود تھیں، جن میں کم از کم 10 ہزار فالوورز، 6 لاکھ منٹ کا واچ ٹائم اور مخصوص تعداد میں ویڈیوز اپلوڈ کرنا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نئے کریئیٹرز کے لیے مونیٹائزیشن تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا تھا اور وہ دلبرداشتہ ہو کر کام چھوڑ دیتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505369/how-to-keep-using-the-internet-when-google-servers-crash'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی سہولت سے ابھرتے ہوئے کانٹینٹ بنانے والوں کے لیے آمدن کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، لیکن فیس بک کے قواعد و ضوابط اور مقررہ شرائط پر عمل کرنا بدستور ضروری رہے گا۔</p>
<p>کمپنی کی رپورٹ کے مطابق یہ نئی تبدیلی ابھی ہر اکاؤنٹ یا پیج کے لیے دستیاب نہیں، بلکہ فی الحال صرف کچھ مخصوص صارفین ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506636</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 12:44:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/201243399217839.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/201243399217839.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر انسٹاگرام ریل کے نیچے 'کمنٹ فار لنک' کیوں لکھا ہوتا ہے؟ کمائی کا خفیہ طریقہ جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506625/socialmedia-instagram-instagramreels-digitalmarketing-contentcreat-comment-for-details</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام  پر حالیہ عرصے میں ”کمنٹ فار لنک“، ”کمنٹ فار گائیڈ“ یا ”کمنٹ فار ڈیٹیلز“ جیسے پیغامات انتہائی عام ہو چکے ہیں۔ کھانوں کی تراکیب بتانے والے کریئیٹرز ہوں، فیشن انفلوئنسرز یا فنانشل ایڈوائزر دینے والے ماہرین، ہزاروں پوسٹس اور ریلز میں صارفین سے کسی مخصوص لفظ کے ساتھ کمنٹ کرنے کی درخواست کی جاتی ہے تاکہ انہیں مطلوبہ معلومات یا لنک فراہم کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ رجحان محض صارفین کو معلومات فراہم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماڈل ہے جو بیک وقت کریئیٹرز، برانڈز اور انسٹاگرام کے الگورتھم کو فائدہ پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام پر پوسٹس کے کیپشن میں کلک ایبل لنکس شامل نہ کیے جانے کی پابندی اس رجحان کی بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ صارفین بائیو یا اسٹوریز میں موجود لنکس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس عمل میں اضافی مراحل شامل ہونے کے باعث دلچسپی رکھنے والے افراد کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے کریئیٹرز اب خودکار سافٹ ویئر اور آٹومیشن ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کے تحت جب کوئی صارف پوسٹ پر مخصوص لفظ کمنٹ کرتا ہے تو سافٹ ویئر فوری طور پر اس کی نشاندہی کرکے صارف کے ڈائریکٹ میسج (ڈی ایم) میں متعلقہ لنک یا معلومات بھیج دیتا ہے۔ یوں صارف کو مطلوبہ مواد تک رسائی آسانی سے مل جاتی ہے جبکہ کریئیٹر کو اضافی انگیجمنٹ حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503442'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503442"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا سب سے بڑا فائدہ انسٹاگرام کے الگورتھم سے جڑا ہوا ہے۔ ہر کمنٹ پلیٹ فارم کے لیے ایک اہم انگیجمنٹ سگنل تصور کیا جاتا ہے۔ جب کسی پوسٹ پر بڑی تعداد میں تبصرے آتے ہیں تو انسٹاگرام اسے زیادہ دلچسپی کا حامل مواد سمجھتے ہوئے مزید صارفین تک پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے ”کمنٹ فار لنک“ ماڈل کریئیٹرز کے لیے دوہرا فائدہ رکھتا ہے۔ ایک طرف صارفین کو فوری معلومات ملتی ہیں جبکہ دوسری جانب کمنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد مواد کی رسائی میں اضافہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عام صارفین میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر کمنٹ سے انفلوئنسرز کو براہ راست مالی فائدہ پہنچتا ہے، لیکن ماہرین اس خیال کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق انسٹاگرام ہر کمنٹ پر ادائیگی نہیں کرتا اور نہ ہی زیادہ تر برانڈز کمنٹس یا کلکس کی بنیاد پر رقم دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر انفلوئنسر مارکیٹنگ مہمات میں کریئیٹرز کو مواد تیار کرنے اور شائع کرنے کے عوض ایک مقررہ فیس دی جاتی ہے۔ اس ادائیگی کا تعلق اس بات سے نہیں ہوتا کہ کتنے افراد ”لنک“ یا دیگر الفاظ کمنٹ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ بعض معاملات میں ایفیلیئیٹ مارکیٹنگ یا ریونیو شیئرنگ ماڈل استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگراموں میں کریئیٹر کی آمدن اس وقت بنتی ہے جب صارف لنک حاصل کرنے کے بعد کوئی مخصوص عمل انجام دے، مثلاً کسی مصنوعات کی خریداری، ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنا، کسی سروس کے لیے رجسٹریشن یا لیڈ فارم جمع کروانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق اصل مالی قدر کمنٹ میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے مرحلے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر صارف لنک پر کلک کرنے کے بعد خریداری یا سبسکرپشن جیسا عمل مکمل کرے تو ہی کریئیٹر یا برانڈ کو حقیقی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30290467'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30290467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کئی ممالک میں ایفیلیئیٹ مارکیٹنگ کے تحت فزیکل مصنوعات پر عموماً 10 سے 25 فیصد تک کمیشن دیا جاتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل مصنوعات پر یہ شرح 30 سے 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ بعض سافٹ ویئر یا سروسز میں کمیشن کی شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ”کمنٹ فار لنک“ دراصل ایک وسیع مارکیٹنگ فنل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ کمنٹ کرنے والا صارف دلچسپی کا اظہار کرتا ہے، پھر اسے ڈی ایم میں لنک موصول ہوتا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن مرحلہ آتا ہے کہ آیا وہ لنک پر کلک کرے گا، خریداری کرے گا، سبسکرائب کرے گا یا مواد کو نظر انداز کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ حکمت عملی اب بھی مؤثر سمجھی جاتی ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا حد سے زیادہ استعمال صارفین میں اکتاہٹ پیدا کر سکتا ہے۔ جب ہر پوسٹ میں ایک ہی انداز کا مطالبہ دہرایا جائے تو ناظرین اس سے لاتعلق ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق ”کمنٹ فار لنک“ کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کریئیٹرز اور برانڈز انسٹاگرام کی تکنیکی حدود اور الگورتھم کے مطابق اپنی حکمت عملیاں مسلسل تبدیل کر رہے ہیں۔ تاہم وائرل ریلز کے نیچے نظر آنے والے ہزاروں کمنٹس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ ہر ”لنک“ لکھنے والا صارف کریئیٹر کی آمدن میں براہ راست اضافہ نہیں کرتا، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کمنٹ کے بعد صارف کیا فیصلہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام  پر حالیہ عرصے میں ”کمنٹ فار لنک“، ”کمنٹ فار گائیڈ“ یا ”کمنٹ فار ڈیٹیلز“ جیسے پیغامات انتہائی عام ہو چکے ہیں۔ کھانوں کی تراکیب بتانے والے کریئیٹرز ہوں، فیشن انفلوئنسرز یا فنانشل ایڈوائزر دینے والے ماہرین، ہزاروں پوسٹس اور ریلز میں صارفین سے کسی مخصوص لفظ کے ساتھ کمنٹ کرنے کی درخواست کی جاتی ہے تاکہ انہیں مطلوبہ معلومات یا لنک فراہم کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ رجحان محض صارفین کو معلومات فراہم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماڈل ہے جو بیک وقت کریئیٹرز، برانڈز اور انسٹاگرام کے الگورتھم کو فائدہ پہنچاتا ہے۔</p>
<p>انسٹاگرام پر پوسٹس کے کیپشن میں کلک ایبل لنکس شامل نہ کیے جانے کی پابندی اس رجحان کی بنیادی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ صارفین بائیو یا اسٹوریز میں موجود لنکس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس عمل میں اضافی مراحل شامل ہونے کے باعث دلچسپی رکھنے والے افراد کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے کریئیٹرز اب خودکار سافٹ ویئر اور آٹومیشن ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس نظام کے تحت جب کوئی صارف پوسٹ پر مخصوص لفظ کمنٹ کرتا ہے تو سافٹ ویئر فوری طور پر اس کی نشاندہی کرکے صارف کے ڈائریکٹ میسج (ڈی ایم) میں متعلقہ لنک یا معلومات بھیج دیتا ہے۔ یوں صارف کو مطلوبہ مواد تک رسائی آسانی سے مل جاتی ہے جبکہ کریئیٹر کو اضافی انگیجمنٹ حاصل ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503442'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503442"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈیجیٹل مارکیٹنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا سب سے بڑا فائدہ انسٹاگرام کے الگورتھم سے جڑا ہوا ہے۔ ہر کمنٹ پلیٹ فارم کے لیے ایک اہم انگیجمنٹ سگنل تصور کیا جاتا ہے۔ جب کسی پوسٹ پر بڑی تعداد میں تبصرے آتے ہیں تو انسٹاگرام اسے زیادہ دلچسپی کا حامل مواد سمجھتے ہوئے مزید صارفین تک پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p>اسی وجہ سے ”کمنٹ فار لنک“ ماڈل کریئیٹرز کے لیے دوہرا فائدہ رکھتا ہے۔ ایک طرف صارفین کو فوری معلومات ملتی ہیں جبکہ دوسری جانب کمنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد مواد کی رسائی میں اضافہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم عام صارفین میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر کمنٹ سے انفلوئنسرز کو براہ راست مالی فائدہ پہنچتا ہے، لیکن ماہرین اس خیال کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق انسٹاگرام ہر کمنٹ پر ادائیگی نہیں کرتا اور نہ ہی زیادہ تر برانڈز کمنٹس یا کلکس کی بنیاد پر رقم دیتے ہیں۔</p>
<p>اکثر انفلوئنسر مارکیٹنگ مہمات میں کریئیٹرز کو مواد تیار کرنے اور شائع کرنے کے عوض ایک مقررہ فیس دی جاتی ہے۔ اس ادائیگی کا تعلق اس بات سے نہیں ہوتا کہ کتنے افراد ”لنک“ یا دیگر الفاظ کمنٹ کرتے ہیں۔</p>
<p>البتہ بعض معاملات میں ایفیلیئیٹ مارکیٹنگ یا ریونیو شیئرنگ ماڈل استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے پروگراموں میں کریئیٹر کی آمدن اس وقت بنتی ہے جب صارف لنک حاصل کرنے کے بعد کوئی مخصوص عمل انجام دے، مثلاً کسی مصنوعات کی خریداری، ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنا، کسی سروس کے لیے رجسٹریشن یا لیڈ فارم جمع کروانا۔</p>
<p>مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق اصل مالی قدر کمنٹ میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے مرحلے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر صارف لنک پر کلک کرنے کے بعد خریداری یا سبسکرپشن جیسا عمل مکمل کرے تو ہی کریئیٹر یا برانڈ کو حقیقی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30290467'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30290467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کئی ممالک میں ایفیلیئیٹ مارکیٹنگ کے تحت فزیکل مصنوعات پر عموماً 10 سے 25 فیصد تک کمیشن دیا جاتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل مصنوعات پر یہ شرح 30 سے 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ بعض سافٹ ویئر یا سروسز میں کمیشن کی شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ”کمنٹ فار لنک“ دراصل ایک وسیع مارکیٹنگ فنل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ کمنٹ کرنے والا صارف دلچسپی کا اظہار کرتا ہے، پھر اسے ڈی ایم میں لنک موصول ہوتا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن مرحلہ آتا ہے کہ آیا وہ لنک پر کلک کرے گا، خریداری کرے گا، سبسکرائب کرے گا یا مواد کو نظر انداز کر دے گا۔</p>
<p>اگرچہ یہ حکمت عملی اب بھی مؤثر سمجھی جاتی ہے، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا حد سے زیادہ استعمال صارفین میں اکتاہٹ پیدا کر سکتا ہے۔ جب ہر پوسٹ میں ایک ہی انداز کا مطالبہ دہرایا جائے تو ناظرین اس سے لاتعلق ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق ”کمنٹ فار لنک“ کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کریئیٹرز اور برانڈز انسٹاگرام کی تکنیکی حدود اور الگورتھم کے مطابق اپنی حکمت عملیاں مسلسل تبدیل کر رہے ہیں۔ تاہم وائرل ریلز کے نیچے نظر آنے والے ہزاروں کمنٹس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ ہر ”لنک“ لکھنے والا صارف کریئیٹر کی آمدن میں براہ راست اضافہ نہیں کرتا، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کمنٹ کے بعد صارف کیا فیصلہ کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506625</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 12:04:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/20105300a637d88.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/20105300a637d88.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران معاہدہ: الیکٹرونک یا ڈیجیٹل دستخط کیا ہوتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506576/what-is-electronic-or-digital-signature</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تاریخی امن معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کردیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فرانس میں بیٹھ کر اور مسعود پزشکیان نے تہران میں رہ کر اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد سے اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔ جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ الیکٹرانک دستخط آخر کیا ہے اور ایسا کیوں کیا گیا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو یہ انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کے ذریعے کسی دستاویز، فارم یا معاہدے کو قبول کرنے یا اس پر اپنی رضامندی دینے کا ایک جدید طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقے میں دو ملکوں یا پارٹیوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے یا ایک ہی کاغذ پر قلم سے دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور یہ عمل بالکل ویسا ہی قانونی اثر رکھتا ہے جیسے روایتی طور پر قلم اور سیاہی سے کاغذ پر دستخط کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی دستخطوں کے لیے بڑے بڑے ہالوں میں سرکاری تقریبات ہوتی ہیں جن کا ایک خاص مطلب نکالا جاتا ہے، لیکن الیکٹرانک دستخط کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کام بہت جلدی ہو جاتا ہے اور مخالفین کو آمنے سامنے بیٹھنے کی سیاسی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506578/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506578"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عملی طور پر الیکٹرانک دستخط اور ہاتھ سے کیے گئے دستخط میں کوئی قانونی فرق نہیں ہے۔ یہ الیکٹرانک دستخط قانون کی نظر میں بالکل پکّے اور سچے مانے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن 2000 میں بننے والے امریکی قانون اور یورپی یونین کے ضوابط کے مطابق ان ڈیجیٹل دستخطوں کو صرف اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کاغذ پر نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم اس ٹیکنالوجی کی اقسام پر نظر ڈالیں تو یہ کئی طریقوں سے استعمال کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی سب سے سادہ شکل یہ ہے کہ کوئی بندہ کمپیوٹر پر کسی فارم کے نیچے اپنا نام ٹائپ کر دے، اپنے ہاتھ کے دستخط کی تصویر اسکین کر کے لگا دے، یا کسی ویب سائٹ پر جا کر صرف اس بٹن پر کلک کر دے جہاں لکھا ہوتا ہے کہ ”میں متفق ہوں“ یا ”میں قبول کرتا ہوں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506555/trump-pezeshkian-sign-us-iran-mou-to-end-war-reopen-strait-of-hormuz'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506555"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر روزمرہ کے چھوٹے موٹے فارموں اور کاروباری سودوں کے لیے یہی سادہ طریقہ استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بات بڑے ممالک کے درمیان معاہدوں کی ہو، تو وہاں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ڈیجیٹل دستخط یا بائیو میٹرک دستخط استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں کمپیوٹر کوڈنگ، خفیہ چابیاں اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ استعمال ہوتے ہیں جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ دستخط کرنے والے کی پہچان بالکل درست ہے اور دستخط ہونے کے بعد اس دستاویز میں ایک نقطے کی تبدیلی بھی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بائیو میٹرک طریقے میں انسان کی انگلیوں کے نشانات یعنی فنگر پرنٹ، چہرے کی پہچان یا آنکھوں کے اسکین کے ذریعے منفرد دستخط بنائے جاتے ہیں جن کے لیے خاص قسم کی مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقے اتنے محفوظ ہوتے ہیں کہ کوئی بھی شخص دستخط کرنے کے بعد اپنی بات سے مکر نہیں سکتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506560/full-text-of-us-iran-memorandum-of-understanding'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506560"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تمام جدید طریقوں نے دنیا بھر میں کاروباری اور سرکاری کاموں کو بہت آسان اور پیپر لیس یعنی کاغذ کے بغیر ممکن بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن، جب ہم امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے دستخط کی ویڈیو دیکھتے ہیں تو ان میں دونوں ممالک کے صدور کو ایک کاغذ پر دستخط کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ کس طرح الیکٹرونک دستخط ہوئے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو اس کا جواب یہ ہے کہ معاہدے کی مختلف کاپیاں فریقین کو آن لائن فراہم کی جاتی ہیں، جن کا پرنٹ نکال کر ان پر علامتی دستخط کیے جاتے ہیں۔ پہلے ایک فریق دستخط کرتا ہے پھر اس کی ایک اسکین شدہ کاپی دوسرے کو بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ اس پر دستخط کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ کار میڈیا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ فوٹیج کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا جاسکے کہ معاہدے کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تاریخی امن معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کردیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فرانس میں بیٹھ کر اور مسعود پزشکیان نے تہران میں رہ کر اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد سے اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔ جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ الیکٹرانک دستخط آخر کیا ہے اور ایسا کیوں کیا گیا؟</strong></p>
<p>آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو یہ انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کے ذریعے کسی دستاویز، فارم یا معاہدے کو قبول کرنے یا اس پر اپنی رضامندی دینے کا ایک جدید طریقہ ہے۔</p>
<p>اس طریقے میں دو ملکوں یا پارٹیوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے یا ایک ہی کاغذ پر قلم سے دستخط کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور یہ عمل بالکل ویسا ہی قانونی اثر رکھتا ہے جیسے روایتی طور پر قلم اور سیاہی سے کاغذ پر دستخط کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>روایتی دستخطوں کے لیے بڑے بڑے ہالوں میں سرکاری تقریبات ہوتی ہیں جن کا ایک خاص مطلب نکالا جاتا ہے، لیکن الیکٹرانک دستخط کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کام بہت جلدی ہو جاتا ہے اور مخالفین کو آمنے سامنے بیٹھنے کی سیاسی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506578/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506578"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عملی طور پر الیکٹرانک دستخط اور ہاتھ سے کیے گئے دستخط میں کوئی قانونی فرق نہیں ہے۔ یہ الیکٹرانک دستخط قانون کی نظر میں بالکل پکّے اور سچے مانے جاتے ہیں۔</p>
<p>سن 2000 میں بننے والے امریکی قانون اور یورپی یونین کے ضوابط کے مطابق ان ڈیجیٹل دستخطوں کو صرف اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کاغذ پر نہیں کیے گئے۔</p>
<p>اگر ہم اس ٹیکنالوجی کی اقسام پر نظر ڈالیں تو یہ کئی طریقوں سے استعمال کی جاتی ہے۔</p>
<p>اس کی سب سے سادہ شکل یہ ہے کہ کوئی بندہ کمپیوٹر پر کسی فارم کے نیچے اپنا نام ٹائپ کر دے، اپنے ہاتھ کے دستخط کی تصویر اسکین کر کے لگا دے، یا کسی ویب سائٹ پر جا کر صرف اس بٹن پر کلک کر دے جہاں لکھا ہوتا ہے کہ ”میں متفق ہوں“ یا ”میں قبول کرتا ہوں“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506555/trump-pezeshkian-sign-us-iran-mou-to-end-war-reopen-strait-of-hormuz'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506555"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر روزمرہ کے چھوٹے موٹے فارموں اور کاروباری سودوں کے لیے یہی سادہ طریقہ استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ سیکیورٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔</p>
<p>جب بات بڑے ممالک کے درمیان معاہدوں کی ہو، تو وہاں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لیے ڈیجیٹل دستخط یا بائیو میٹرک دستخط استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں کمپیوٹر کوڈنگ، خفیہ چابیاں اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹ استعمال ہوتے ہیں جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ دستخط کرنے والے کی پہچان بالکل درست ہے اور دستخط ہونے کے بعد اس دستاویز میں ایک نقطے کی تبدیلی بھی نہیں کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ بائیو میٹرک طریقے میں انسان کی انگلیوں کے نشانات یعنی فنگر پرنٹ، چہرے کی پہچان یا آنکھوں کے اسکین کے ذریعے منفرد دستخط بنائے جاتے ہیں جن کے لیے خاص قسم کی مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>یہ طریقے اتنے محفوظ ہوتے ہیں کہ کوئی بھی شخص دستخط کرنے کے بعد اپنی بات سے مکر نہیں سکتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506560/full-text-of-us-iran-memorandum-of-understanding'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506560"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان تمام جدید طریقوں نے دنیا بھر میں کاروباری اور سرکاری کاموں کو بہت آسان اور پیپر لیس یعنی کاغذ کے بغیر ممکن بنا دیا ہے۔</p>
<p>لیکن، جب ہم امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے دستخط کی ویڈیو دیکھتے ہیں تو ان میں دونوں ممالک کے صدور کو ایک کاغذ پر دستخط کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ کس طرح الیکٹرونک دستخط ہوئے؟</p>
<p>تو اس کا جواب یہ ہے کہ معاہدے کی مختلف کاپیاں فریقین کو آن لائن فراہم کی جاتی ہیں، جن کا پرنٹ نکال کر ان پر علامتی دستخط کیے جاتے ہیں۔ پہلے ایک فریق دستخط کرتا ہے پھر اس کی ایک اسکین شدہ کاپی دوسرے کو بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ اس پر دستخط کرسکے۔</p>
<p>یہ طریقہ کار میڈیا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ فوٹیج کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا جاسکے کہ معاہدے کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506576</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 17:24:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/18141753ce3925d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/18141753ce3925d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
