<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 16:33:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 16:33:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر کی رفتار: فراری کی نئی کار شاہکار یا سب سے بڑی غلطی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506027/electric-vehicles-controversy-automotive-industry-luxury-cars-ferrari-luce-supercar-car-design-ev-market-competition</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی شہرت یافتہ لگژری کار کمپنی ”فراری“ کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی رونمائی کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی فون کے معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے فکری تصور سے تخلیق پانے والی اس نئی کار کا نام ’لُوچے‘ (Luce) رکھا گیا ہے، جس کا اطالوی زبان میں مطلب ’روشنی‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراری کی تاریخ میں پہلی بار پانچ نشستوں پر مشتمل اس الیکٹرک کار کو ڈھائی سیکنڈ میں زیرو سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی غیر معمولی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس گاڑی کی مالیت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 18 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراری کی اس پہلی مکمل الیکٹرک کار(ای وی) کی تقریبِ رونمائی میں اٹلی کے صدر اور عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس بڑی رونمائی کے اگلے ہی دن فراری کے شیئرز کی قیمتوں میں آٹھ فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ناقدین، سرمایہ کاروں اور سیاست دانوں کی جانب سے اس کار کے ڈیزائن پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02132429d263ffe.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02132429d263ffe.webp'  alt=' (فراری &amp;rsquo;لوچے&amp;lsquo; کا انٹیریئر) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(فراری ’لوچے‘ کا انٹیریئر)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نیا ماڈل فراری کے تاریخی افسانوی برانڈ کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کمپنی کو اس گاڑی سے اپنا روایتی پریسنگ ہارس یعنی اچھلتے ہوئے گھوڑے کا لوگو ہٹا دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کار ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کار کا بیرونی ڈھانچہ روایتی فراری گاڑیوں کی طرح نیچا اور اسٹریم لائن نہیں ہے، جبکہ الیکٹرک انجن کی وجہ سے اس میں فراری کی وہ مخصوص گرجدار آواز بھی غائب ہے جو اس برانڈ کا خاصہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456040'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے بھی اس پر سوال اٹھایا کہ کیا یہی اصل جدت ہے اور کہا کہ گاڑی فراری کی کلاسیکی شناخت سے مختلف لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے اس کے ڈیزائن کا موازنہ سستی الیکٹرک گاڑیوں سے کیا اور کئی افراد نے اسے غیر متاثر کن قرار دیا۔ کچھ صارفین نے مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے متبادل ڈیزائن بھی شیئر کیے جو ان کے مطابق زیادہ بہتر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعتی چیلنجز اور مقابلہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فراری کا الیکٹرک مارکیٹ میں یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور بڑی آٹو موبائل کمپنیاں اپنے الیکٹرک منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504062/china-pakistan-car-prices-chinese-evs-beijing-auto-show-affordable-evs-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فراری کی حریف کمپنی لیمبورگنی نے صارفین کی پٹرول انجن میں دلچسپی کے باعث اپنے مکمل الیکٹرک منصوبے ختم کر کے ہائبرڈ گاڑیوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اسی طرح پورشے اور فورڈ نے بھی اپنے برقی منصوبوں کو محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ خصوصاً چین میں سستی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس چینی برقی گاڑیوں سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ تاہم فراری کے موجودہ سربراہ بینی ڈیٹو وینا نے تمام تر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ قیمت کار کی جدت کی عکاس ہے اور ممکنہ خریداروں کی جانب سے اس گاڑی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی شہرت یافتہ لگژری کار کمپنی ”فراری“ کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی رونمائی کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔</strong></p>
<p>آئی فون کے معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے فکری تصور سے تخلیق پانے والی اس نئی کار کا نام ’لُوچے‘ (Luce) رکھا گیا ہے، جس کا اطالوی زبان میں مطلب ’روشنی‘ ہے۔</p>
<p>فراری کی تاریخ میں پہلی بار پانچ نشستوں پر مشتمل اس الیکٹرک کار کو ڈھائی سیکنڈ میں زیرو سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی غیر معمولی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس گاڑی کی مالیت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 18 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>فراری کی اس پہلی مکمل الیکٹرک کار(ای وی) کی تقریبِ رونمائی میں اٹلی کے صدر اور عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس بڑی رونمائی کے اگلے ہی دن فراری کے شیئرز کی قیمتوں میں آٹھ فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ناقدین، سرمایہ کاروں اور سیاست دانوں کی جانب سے اس کار کے ڈیزائن پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02132429d263ffe.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02132429d263ffe.webp'  alt=' (فراری &rsquo;لوچے&lsquo; کا انٹیریئر) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(فراری ’لوچے‘ کا انٹیریئر)</figcaption>
    </figure>
<p>فراری کے سابق چیئرمین لوکا کورڈیرو ڈی مونتیزیمولو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نیا ماڈل فراری کے تاریخی افسانوی برانڈ کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کمپنی کو اس گاڑی سے اپنا روایتی پریسنگ ہارس یعنی اچھلتے ہوئے گھوڑے کا لوگو ہٹا دینا چاہیے۔</p>
<p>کار ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کار کا بیرونی ڈھانچہ روایتی فراری گاڑیوں کی طرح نیچا اور اسٹریم لائن نہیں ہے، جبکہ الیکٹرک انجن کی وجہ سے اس میں فراری کی وہ مخصوص گرجدار آواز بھی غائب ہے جو اس برانڈ کا خاصہ رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30456040'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30456040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے بھی اس پر سوال اٹھایا کہ کیا یہی اصل جدت ہے اور کہا کہ گاڑی فراری کی کلاسیکی شناخت سے مختلف لگتی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے اس کے ڈیزائن کا موازنہ سستی الیکٹرک گاڑیوں سے کیا اور کئی افراد نے اسے غیر متاثر کن قرار دیا۔ کچھ صارفین نے مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے متبادل ڈیزائن بھی شیئر کیے جو ان کے مطابق زیادہ بہتر تھے۔</p>
<p><strong>صنعتی چیلنجز اور مقابلہ</strong></p>
<p>فراری کا الیکٹرک مارکیٹ میں یہ قدم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور بڑی آٹو موبائل کمپنیاں اپنے الیکٹرک منصوبوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504062/china-pakistan-car-prices-chinese-evs-beijing-auto-show-affordable-evs-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فراری کی حریف کمپنی لیمبورگنی نے صارفین کی پٹرول انجن میں دلچسپی کے باعث اپنے مکمل الیکٹرک منصوبے ختم کر کے ہائبرڈ گاڑیوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اسی طرح پورشے اور فورڈ نے بھی اپنے برقی منصوبوں کو محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>ان کمپنیوں کو بین الاقوامی مارکیٹ خصوصاً چین میں سستی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس چینی برقی گاڑیوں سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ تاہم فراری کے موجودہ سربراہ بینی ڈیٹو وینا نے تمام تر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ قیمت کار کی جدت کی عکاس ہے اور ممکنہ خریداروں کی جانب سے اس گاڑی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506027</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 13:41:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02131348fe9a4f0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02131348fe9a4f0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینویڈیا نے آپ کے کمپیوٹر کو 'ذاتی اے آئی' میں تبدیل کرنے والی چپ متعارف کرادی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505986/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی اینویڈیا نے مصنوعی ذہانت کو براہِ راست لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز تک پہنچانے کیلئے نئی ’’RTX Spark‘‘ پی سی چپ متعارف کرا دی، جسے ماہرین کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے تائیوان میں جاری کمپیوٹیکس کانفرنس کے دوران نئی چپ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مائیکروسافٹ کے ساتھ تین سالہ اشتراک کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ’’اے آئی دور کیلئے پی سی کو دوبارہ ایجاد کرنا‘‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جینسن ہوانگ کے مطابق نئی آر ٹی ایکس اسپارک چپ اس انداز میں تیار کی گئی ہے کہ اے آئی ایجنٹس کو براہِ راست کمپیوٹر پر چلایا جا سکے، تاکہ صارفین کو ہر وقت کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر انحصار نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس چپ کی تیاری میں تائیوان کی معروف کمپنی میڈیا ٹیک نے بھی اینویڈیا کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی تجزیہ کار اور کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے شریک بانی نیل شاہ نے کہا کہ آر ٹی ایکس اسپارک روایتی ایپ بیسڈ کمپیوٹرز کو ’’ایجنٹک اے آئی‘‘ پر مبنی ذاتی کمپیوٹرز میں تبدیل کر دے گی، جو آنے والے برسوں میں ہر گھر کا حصہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آئی فون، چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک نے اپنی اپنی صنعتوں میں انقلاب برپا کیا، ویسے ہی آر ٹی ایکس اسپارک کمپیوٹنگ کے شعبے میں نئی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینویڈیا نے اس موقع پر اپنی نئی ’’ویرا سی پی یو‘‘ بھی متعارف کرائی، جو خاص طور پر اے آئی ایجنٹس کیلئے تیار کی گئی ہے۔ جینسن ہوانگ کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک اور اسپیس ایکس سمیت کئی بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نئی ویرا سی پی یو اینویڈیا کو 200 ارب ڈالر کی نئی مارکیٹ تک رسائی دے سکتی ہے اور یہ کمپنی کی آئندہ ترقی کا بڑا ذریعہ بنے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499894'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران جینسن ہوانگ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر انجینئرز کی نوکریاں ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی درحقیقت ملازمین کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور مزید سافٹ ویئر انجینئرز کی بھرتیوں کا سبب بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’یہ کہنا کہ اے آئی نوکریاں ختم کر دے گی، مکمل فضول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے سافٹ ویئر انجینئرز کی مانگ بڑھ رہی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کمپیوٹیکس ٹیکنالوجی نمائش 2 جون سے 5 جون تک جاری رہے گی، جہاں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی اینویڈیا نے مصنوعی ذہانت کو براہِ راست لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز تک پہنچانے کیلئے نئی ’’RTX Spark‘‘ پی سی چپ متعارف کرا دی، جسے ماہرین کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے تائیوان میں جاری کمپیوٹیکس کانفرنس کے دوران نئی چپ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مائیکروسافٹ کے ساتھ تین سالہ اشتراک کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ’’اے آئی دور کیلئے پی سی کو دوبارہ ایجاد کرنا‘‘ ہے۔</p>
<p>جینسن ہوانگ کے مطابق نئی آر ٹی ایکس اسپارک چپ اس انداز میں تیار کی گئی ہے کہ اے آئی ایجنٹس کو براہِ راست کمپیوٹر پر چلایا جا سکے، تاکہ صارفین کو ہر وقت کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر انحصار نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس چپ کی تیاری میں تائیوان کی معروف کمپنی میڈیا ٹیک نے بھی اینویڈیا کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔</p>
<p>ٹیکنالوجی تجزیہ کار اور کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے شریک بانی نیل شاہ نے کہا کہ آر ٹی ایکس اسپارک روایتی ایپ بیسڈ کمپیوٹرز کو ’’ایجنٹک اے آئی‘‘ پر مبنی ذاتی کمپیوٹرز میں تبدیل کر دے گی، جو آنے والے برسوں میں ہر گھر کا حصہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جس طرح آئی فون، چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک نے اپنی اپنی صنعتوں میں انقلاب برپا کیا، ویسے ہی آر ٹی ایکس اسپارک کمپیوٹنگ کے شعبے میں نئی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اینویڈیا نے اس موقع پر اپنی نئی ’’ویرا سی پی یو‘‘ بھی متعارف کرائی، جو خاص طور پر اے آئی ایجنٹس کیلئے تیار کی گئی ہے۔ جینسن ہوانگ کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک اور اسپیس ایکس سمیت کئی بڑی کمپنیاں اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نئی ویرا سی پی یو اینویڈیا کو 200 ارب ڈالر کی نئی مارکیٹ تک رسائی دے سکتی ہے اور یہ کمپنی کی آئندہ ترقی کا بڑا ذریعہ بنے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499894'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499894"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تقریب کے دوران جینسن ہوانگ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر انجینئرز کی نوکریاں ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی درحقیقت ملازمین کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور مزید سافٹ ویئر انجینئرز کی بھرتیوں کا سبب بنے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’یہ کہنا کہ اے آئی نوکریاں ختم کر دے گی، مکمل فضول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے سافٹ ویئر انجینئرز کی مانگ بڑھ رہی ہے۔‘‘</p>
<p>واضح رہے کہ کمپیوٹیکس ٹیکنالوجی نمائش 2 جون سے 5 جون تک جاری رہے گی، جہاں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505986</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 14:08:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/011403579fbd227.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/011403579fbd227.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیل کا ایپل کو بڑا چیلنج: میک بک کے مقابلے میں سستا اور جدید لیپ ٹاپ متعارف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505970/apple-dell-xps-13-macbook-neo-laptop-market-competition-tech-challenge</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈیل نے کمپیوٹر مارکیٹ میں ایپل کو چیلنج کرنے کے لیے اپنا سب سے سستا اور ہلکا لیپ ٹاپ ”ایکس پی ایس 13“ متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی کا بنیادی ہدف طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد ہیں تاکہ وہ کم قیمت میں جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے لیپ ٹاپ کی ابتدائی قیمت 699 ڈالر رکھی گئی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار روپے بنتی ہے، اس کے ساتھ ہی اسکولوں اور کالجوں کے نئے تعلیمی سیزن کے دوران 16 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے یہ قیمت مزید کم کر کے 599 ڈالریعنی ایک لاکھ 67 ہزار روپے کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا ماڈل ان کا اب تک کا سب سے پتلا اور ہلکا ترین لیپ ٹاپ ہے۔ یہ وزن میں ایپل کے میک بک نیو سے تقریباً آدھا پاؤنڈ ہلکا ہے، جبکہ اس کی اسکرین کا سائز بھی ایپل کے مقابلے میں بڑا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505130/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505130"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ڈیل کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمپیوٹر انڈسٹری میں میموری چپس کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایپل نے رواں سال مارچ میں اپنے میک بک نیو لیپ ٹاپس متعارف کروائے تھے جن کی ابتدائی قیمت 599 ڈالر تھی اور طلبہ کے لیے یہ 500 ڈالر میں دستیاب تھا۔ ایپل کے اس سستے ماڈل کی وجہ سے اس کی سیلز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیل کے چیف آپریٹنگ آفیسرجیف کلارک نے اس مقابلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایپل کی اس پروڈکٹ کو سراہتے ہیں کیونکہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مارکیٹ میں سستے اور اچھے لیپ ٹاپس کی مانگ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اور عام صارفین مناسب قیمت میں بہتر متبادل کے حقدار ہیں اور ڈیل اسی سوچ کے تحت کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502820'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ڈیل نے رواں سال جنوری میں لاس ویگاس کی کنزیومر الیکٹرانکس شو میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ ہر قیمت کی کیٹیگری میں ایپل اور دیگر کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسی موقع پر کمپنی نے ایکس پی ایس 13 متعارف کرانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کمپنی نے اس ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی مشہور ”ایکس پی ایس سیریز“ کو دوبارہ نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس اقدام سے سال کے دوسرے نصف میں کمپیوٹرز کی فروخت میں ممکنہ کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا لیپ ٹاپ انٹیل کور سیریز 3 کے پراسیسر کے ساتھ بہت جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوگا، جبکہ اس کا مزید طاقتور ماڈل انٹیل کور الٹرا سیریز 3  اور ایک خاص اسٹورم  رنگ کے ساتھ موسم گرما کے آخر میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف ٹیکنالوجی کمپنی ڈیل نے کمپیوٹر مارکیٹ میں ایپل کو چیلنج کرنے کے لیے اپنا سب سے سستا اور ہلکا لیپ ٹاپ ”ایکس پی ایس 13“ متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی کا بنیادی ہدف طلبہ اور نوجوان پیشہ ور افراد ہیں تاکہ وہ کم قیمت میں جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں</strong>۔</p>
<p>اس نئے لیپ ٹاپ کی ابتدائی قیمت 699 ڈالر رکھی گئی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار روپے بنتی ہے، اس کے ساتھ ہی اسکولوں اور کالجوں کے نئے تعلیمی سیزن کے دوران 16 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے یہ قیمت مزید کم کر کے 599 ڈالریعنی ایک لاکھ 67 ہزار روپے کر دی جائے گی۔</p>
<p>کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا ماڈل ان کا اب تک کا سب سے پتلا اور ہلکا ترین لیپ ٹاپ ہے۔ یہ وزن میں ایپل کے میک بک نیو سے تقریباً آدھا پاؤنڈ ہلکا ہے، جبکہ اس کی اسکرین کا سائز بھی ایپل کے مقابلے میں بڑا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505130/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505130"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق ڈیل کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ کمپیوٹر انڈسٹری میں میموری چپس کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایپل نے رواں سال مارچ میں اپنے میک بک نیو لیپ ٹاپس متعارف کروائے تھے جن کی ابتدائی قیمت 599 ڈالر تھی اور طلبہ کے لیے یہ 500 ڈالر میں دستیاب تھا۔ ایپل کے اس سستے ماڈل کی وجہ سے اس کی سیلز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔</p>
<p>ڈیل کے چیف آپریٹنگ آفیسرجیف کلارک نے اس مقابلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایپل کی اس پروڈکٹ کو سراہتے ہیں کیونکہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مارکیٹ میں سستے اور اچھے لیپ ٹاپس کی مانگ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اور عام صارفین مناسب قیمت میں بہتر متبادل کے حقدار ہیں اور ڈیل اسی سوچ کے تحت کام کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502820'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل ڈیل نے رواں سال جنوری میں لاس ویگاس کی کنزیومر الیکٹرانکس شو میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ ہر قیمت کی کیٹیگری میں ایپل اور دیگر کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسی موقع پر کمپنی نے ایکس پی ایس 13 متعارف کرانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔</p>
<p>اب کمپنی نے اس ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی مشہور ”ایکس پی ایس سیریز“ کو دوبارہ نئے انداز میں پیش کیا ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس اقدام سے سال کے دوسرے نصف میں کمپیوٹرز کی فروخت میں ممکنہ کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔</p>
<p>یہ نیا لیپ ٹاپ انٹیل کور سیریز 3 کے پراسیسر کے ساتھ بہت جلد مارکیٹ میں دستیاب ہوگا، جبکہ اس کا مزید طاقتور ماڈل انٹیل کور الٹرا سیریز 3  اور ایک خاص اسٹورم  رنگ کے ساتھ موسم گرما کے آخر میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505970</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 10:06:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01095925545dfe4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01095925545dfe4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آج رات آسمان پر نایاب ’بلیو مائیکرو مون‘ کا نظارہ، ماہرین فلکیات نے اہم تفصیلات بتا دیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505946/rare-blue-micromoon-to-light-up-the-sky-tonight-astronomers-share-key-details</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج رات (31 مئی) آسمان پر ایک منفرد اور نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ’’بلیو مائیکرو مون‘‘ طلوع ہوگا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ ایک ایسا غیر معمولی منظر ہے جو ہر چند برس بعد ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چاند اس لحاظ سے خاص ہے کہ مئی کے مہینے میں دوسری بار مکمل چاند نمودار ہو رہا ہے۔ فلکیاتی اصطلاح میں ایک ہی کیلنڈر مہینے کے دوران نظر آنے والے دوسرے مکمل چاند کو ’’بلیو مون‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل یکم مئی کو مکمل چاند طلوع ہوا تھا جبکہ آج مہینے کا دوسرا مکمل چاند نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کا بلیو مون ایک ’’مائیکرو مون‘‘ بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق چاند اس وقت اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً سب سے زیادہ فاصلے پر موجود ہوگا، جس کی وجہ سے یہ معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور کم روشن دکھائی دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’بلیو مون‘‘ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چاند کا رنگ نیلا ہو جائے گا۔ درحقیقت یہ نام صرف ایک نادر کیلنڈری ترتیب کی نشاندہی کرتا ہے۔ چاند اپنے معمول کے سفید اور چمکدار رنگ میں ہی نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/amp/30505761'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.aaj.tv/news/amp/30505761'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق چاند آج زمین سے تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار کلومیٹر دور ہوگا، جس کے باعث اس کا حجم عام مکمل چاند کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد چھوٹا اور چمک 30 فیصد تک کم محسوس ہو سکتی ہے، تاہم یہ فرق عام آنکھ سے واضح طور پر محسوس کرنا آسان نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے اس موقع پر عوام کو یاد دلایا ہے کہ بلیو مون کا انسانی صحت، رویوں یا روزمرہ زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے جو آسمان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک خوبصورت اور یادگار نظارہ ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج رات (31 مئی) آسمان پر ایک منفرد اور نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ’’بلیو مائیکرو مون‘‘ طلوع ہوگا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ ایک ایسا غیر معمولی منظر ہے جو ہر چند برس بعد ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ چاند اس لحاظ سے خاص ہے کہ مئی کے مہینے میں دوسری بار مکمل چاند نمودار ہو رہا ہے۔ فلکیاتی اصطلاح میں ایک ہی کیلنڈر مہینے کے دوران نظر آنے والے دوسرے مکمل چاند کو ’’بلیو مون‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل یکم مئی کو مکمل چاند طلوع ہوا تھا جبکہ آج مہینے کا دوسرا مکمل چاند نظر آئے گا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کا بلیو مون ایک ’’مائیکرو مون‘‘ بھی ہوگا۔ ماہرین کے مطابق چاند اس وقت اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً سب سے زیادہ فاصلے پر موجود ہوگا، جس کی وجہ سے یہ معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں قدرے چھوٹا اور کم روشن دکھائی دے گا۔</p>
<p>فلکیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’بلیو مون‘‘ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چاند کا رنگ نیلا ہو جائے گا۔ درحقیقت یہ نام صرف ایک نادر کیلنڈری ترتیب کی نشاندہی کرتا ہے۔ چاند اپنے معمول کے سفید اور چمکدار رنگ میں ہی نظر آئے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/amp/30505761'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.aaj.tv/news/amp/30505761'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق چاند آج زمین سے تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار کلومیٹر دور ہوگا، جس کے باعث اس کا حجم عام مکمل چاند کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد چھوٹا اور چمک 30 فیصد تک کم محسوس ہو سکتی ہے، تاہم یہ فرق عام آنکھ سے واضح طور پر محسوس کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p>سائنسدانوں نے اس موقع پر عوام کو یاد دلایا ہے کہ بلیو مون کا انسانی صحت، رویوں یا روزمرہ زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک قدرتی فلکیاتی مظہر ہے جو آسمان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک خوبصورت اور یادگار نظارہ ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505946</guid>
      <pubDate>Sun, 31 May 2026 15:23:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/31151940298e5ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/31151940298e5ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاپی رائٹس تنازع؛ سی این این کا ’اے آئی‘ کمپنی پرپلیکسٹی کے خلاف عدالت سے رجوع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505886/cnn-sues-perplexity-over-alleged-unauthorised-use-of-content</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے معروف نیوز نیٹ ورک ’سی این این‘ نے مشہور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کمپنی ’پرپلیکسٹی‘ کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ سی این این نے الزام عائد کیا ہے کہ پرپلیکسٹی ان کی خبریں اور مواد غیر قانونی طور پر کاپی کر کے صارفین تک پہنچا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کی جانب سے جمعرات کو نیویارک کی ایک عدالت میں دائر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://variety.com/2026/biz/news/cnn-sues-perplexity-alleging-copyright-infringement-1236760987/"&gt;مقدمے &lt;/a&gt;میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پرپلیکسٹی‘ نے بغیر اجازت سی این این کا صحافتی مواد استعمال کیا اور اسے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے تقسیم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں پرپلیکسٹی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے سی این این کی 17 ہزار سے زائد اسٹوریز، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کو اسکریپ کیا اور اسے اپنی مصنوعات کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ ان قانونی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جو ’دی نیویارک ٹائمز‘ جیسے بڑے اشاعتی اداروں نے ’جنریٹیو اے آئی‘ اسٹارٹ اپس کے خلاف شروع کر رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی ٹولز بڑی تعداد میں خبروں کا مواد صارفین تک پہنچا رہے ہیں، اس لیے اصل صحافتی مواد تخلیق کرنے والے اداروں کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Variety/status/2059993090757218653'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Variety/status/2059993090757218653"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سی این این کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مقدمہ اس اصول کی نمائندگی کرتا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی کوئی بھی کمپنی اصل مواد تخلیق کرنے والے اداروں کے کام سے بلا معاوضہ فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام دنیا کو سمجھنے کے لیے انسانوں کے معیاری صحافتی مواد پر انحصار کرتے ہیں، جو اکثر خطرناک اور محنت طلب مراحل سے گزر کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے تجارتی مقاصد کے لیے اس مواد کے استعمال کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پرپلکسیٹی کے چیف کمیونیکیشن آفیسر جیسی ڈوائر نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’حقائق پر کاپی رائٹ نہیں ہو سکتا۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Variety/status/2059999126964555817'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Variety/status/2059999126964555817"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیویارک کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر درخواست کے مطابق سی این این نے گزشتہ سال پرپلکسیٹی کے ساتھ مواد کے استعمال سے متعلق معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم دونوں فریق شرائط پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے پہلے اور بعد میں بھی پرپلکسیٹی کو معلوم تھا کہ اسے سی این این کے مواد، ٹریڈ مارکس یا سروس مارکس استعمال کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے ساتھ ’لائسنسنگ معاہدوں‘ کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر کوئی کمپنی اس راستے کو اختیار نہیں کرتی تو پھر قانونی کارروائی کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی این این نے عدالت سے پرپلیکسٹی کو ہرجانے کی ادائیگی اور اس کا مواد استعمال کرنے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران نیویارک ٹائمز، شکاگو ٹریبیون، انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا اور جاپانی میڈیا کمپنی ’یومیوری شمبن‘ نے بھی پرپلیکسٹی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے تاہم اس کے برعکس گینیٹ، ٹائم، لی مونڈے اور ڈیر اسپیگل جیسے نمایاں پبلشرز نے اسی عرصے کے دوران پرپلیکسٹی کے ساتھ باقاعدہ معاہدوں کا اعلان بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے معروف نیوز نیٹ ورک ’سی این این‘ نے مشہور اے آئی (مصنوعی ذہانت) کمپنی ’پرپلیکسٹی‘ کے خلاف کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ سی این این نے الزام عائد کیا ہے کہ پرپلیکسٹی ان کی خبریں اور مواد غیر قانونی طور پر کاپی کر کے صارفین تک پہنچا رہا ہے۔</strong></p>
<p>سی این این کی جانب سے جمعرات کو نیویارک کی ایک عدالت میں دائر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://variety.com/2026/biz/news/cnn-sues-perplexity-alleging-copyright-infringement-1236760987/">مقدمے </a>میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پرپلیکسٹی‘ نے بغیر اجازت سی این این کا صحافتی مواد استعمال کیا اور اسے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے تقسیم کیا۔</p>
<p>مقدمے میں پرپلیکسٹی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے سی این این کی 17 ہزار سے زائد اسٹوریز، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کو اسکریپ کیا اور اسے اپنی مصنوعات کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>یہ مقدمہ ان قانونی کارروائیوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جو ’دی نیویارک ٹائمز‘ جیسے بڑے اشاعتی اداروں نے ’جنریٹیو اے آئی‘ اسٹارٹ اپس کے خلاف شروع کر رکھی ہیں۔</p>
<p>میڈیا اداروں کا مؤقف ہے کہ چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی ٹولز بڑی تعداد میں خبروں کا مواد صارفین تک پہنچا رہے ہیں، اس لیے اصل صحافتی مواد تخلیق کرنے والے اداروں کو مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Variety/status/2059993090757218653'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Variety/status/2059993090757218653"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سی این این کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مقدمہ اس اصول کی نمائندگی کرتا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت رکھنے والی کوئی بھی کمپنی اصل مواد تخلیق کرنے والے اداروں کے کام سے بلا معاوضہ فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام دنیا کو سمجھنے کے لیے انسانوں کے معیاری صحافتی مواد پر انحصار کرتے ہیں، جو اکثر خطرناک اور محنت طلب مراحل سے گزر کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے تجارتی مقاصد کے لیے اس مواد کے استعمال کی قیمت ادا کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پرپلکسیٹی کے چیف کمیونیکیشن آفیسر جیسی ڈوائر نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’حقائق پر کاپی رائٹ نہیں ہو سکتا۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Variety/status/2059999126964555817'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Variety/status/2059999126964555817"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نیویارک کی امریکی ضلعی عدالت میں دائر درخواست کے مطابق سی این این نے گزشتہ سال پرپلکسیٹی کے ساتھ مواد کے استعمال سے متعلق معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم دونوں فریق شرائط پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔</p>
<p>مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے پہلے اور بعد میں بھی پرپلکسیٹی کو معلوم تھا کہ اسے سی این این کے مواد، ٹریڈ مارکس یا سروس مارکس استعمال کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔</p>
<p>سی این این کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے ساتھ ’لائسنسنگ معاہدوں‘ کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر کوئی کمپنی اس راستے کو اختیار نہیں کرتی تو پھر قانونی کارروائی کے ذریعے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔</p>
<p>سی این این نے عدالت سے پرپلیکسٹی کو ہرجانے کی ادائیگی اور اس کا مواد استعمال کرنے سے روکنے کی استدعا کی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران نیویارک ٹائمز، شکاگو ٹریبیون، انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا اور جاپانی میڈیا کمپنی ’یومیوری شمبن‘ نے بھی پرپلیکسٹی کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے تاہم اس کے برعکس گینیٹ، ٹائم، لی مونڈے اور ڈیر اسپیگل جیسے نمایاں پبلشرز نے اسی عرصے کے دوران پرپلیکسٹی کے ساتھ باقاعدہ معاہدوں کا اعلان بھی کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505886</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 11:47:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/29114747f1a38b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/29114747f1a38b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی خلائی کمپنی کا راکٹ ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے پھٹ گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505885/blue-origin-new-glenn-rocket-explodes-during-ground-test</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کا بغیر عملے والا ’نیو گلین‘ راکٹ جمعرات کے روز ایک ٹیسٹ کے دوران لانچ پیڈ پر ہی دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ اس واقعے کو ’بلیو اوریجن‘ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے جو ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور خلائی مشنز میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کا ’نیو گلین‘ راکٹ جمعرات کو فلوریڈا میں ایک ٹیسٹ کے دوران لانچ پیڈ پر دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں لانچ پیڈ اور اطراف میں آگ کے شعلے اور آسمان پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا اسپیس فلائٹ نامی یوٹیوب چینل نے واقعے کی ویڈیو نشر کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راکٹ نے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے لانچ پیڈ پر آگ پکڑی اور چند ہی لمحوں بعد آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060164928472854821'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2060164928472854821"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے پر ’بلیو اوریجن‘ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں آج کے ’ہاٹ فائر ٹیسٹ‘ کے دوران ایک ’اناملی‘ (تکنیکی خرابی) کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہاٹ فائر ٹیسٹ‘ اس مرحلے کو کہا جاتا ہے جس میں راکٹ کے انجن کو زمین پر باندھ کر چلایا جاتا ہے تاکہ پرواز سے پہلے اس کی کارکردگی جانچی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے تصدیق کی کہ تمام عملہ محفوظ ہے اور مزید معلومات ملنے پر اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/blueorigin/status/2060172114796204539'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/blueorigin/status/2060172114796204539"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جیف بیزوس نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں اس واقعے کو ایک انتہائی مشکل دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس واقعے کی اصل وجہ جاننا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت مشکل دن ہے، لیکن ہم جو کچھ دوبارہ بنانا پڑا، بنائیں گے اور دوبارہ پرواز کریں گے، کیوں کہ یہ ضروری ہے‘۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/JeffBezos/status/2060182822170902622'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/JeffBezos/status/2060182822170902622"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خلائی پرواز ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل عمل ہے جبکہ وزن لے جانے والے نئے راکٹس کی تیاری غیر معمولی حد تک مشکل کام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ناسا اس واقعے کی مکمل تحقیقات میں اپنے شراکت داروں کی معاونت کرے گا اور اس کے ’آرٹیمس‘ سمیت ’مون بیس‘ پروگرامز پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASAAdmin/status/2060186268772835475'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NASAAdmin/status/2060186268772835475"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ناسا نے بلیو اوریجن کو 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا ایک کنٹریکٹ دیا تھا، جس کے تحت کمپنی کے بغیر عملے والے کارگو لیونر لینڈر ’مارک 1‘ کے ذریعے چاند کی سطح پر ’روورز‘ پہنچائے جانے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ’بلیو اوریجن‘ اور ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کے درمیان انسانوں کو چاند پر لے جانے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ دونوں کمپنیاں ناسا کے لیے ’لیونر لینڈرز‘ (چاند پر اترنے والے مشن) تیار کر رہی ہیں، جب کہ چین بھی 2030 تک انسان بردار ’مون مشن‘ کی تیاری میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس کو بھی ماضی میں ایسے واقعات کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں کمپنی کا ’اسٹار شپ‘ راکٹ ٹیکساس میں ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اوریجن کے دھماکے کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے ایکس پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوس ناک ہے کیوں کہ راکٹس بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیو اوریجن نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ’نیو گلین‘ راکٹ کے ذریعے ایمازون کے 48 سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ایلون مسک کے ’اسٹارلنک‘ نیٹ ورک کا مقابلہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اس 29 منزلہ اونچے اور دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کی تیاری پر تقریباً ایک دہائی کا وقت اور اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، تاکہ اسپیس ایکس کے ’فالکن‘ راکٹس اور زیادہ طاقتور ’اسٹار شپ‘ کا مقابلہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے سے آگاہ ہیں، تاہم یہ ان کے دائرہ کار سے باہر ہے اور اس سے خطے میں ہوائی ٹریفک متاثر نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ارب پتی جیف بیزوس کی خلائی کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کا بغیر عملے والا ’نیو گلین‘ راکٹ جمعرات کے روز ایک ٹیسٹ کے دوران لانچ پیڈ پر ہی دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ اس واقعے کو ’بلیو اوریجن‘ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے جو ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور خلائی مشنز میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کا ’نیو گلین‘ راکٹ جمعرات کو فلوریڈا میں ایک ٹیسٹ کے دوران لانچ پیڈ پر دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں لانچ پیڈ اور اطراف میں آگ کے شعلے اور آسمان پر دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔</p>
<p>ناسا اسپیس فلائٹ نامی یوٹیوب چینل نے واقعے کی ویڈیو نشر کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راکٹ نے مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 9 بجے لانچ پیڈ پر آگ پکڑی اور چند ہی لمحوں بعد آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2060164928472854821'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2060164928472854821"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے پر ’بلیو اوریجن‘ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں آج کے ’ہاٹ فائر ٹیسٹ‘ کے دوران ایک ’اناملی‘ (تکنیکی خرابی) کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>’ہاٹ فائر ٹیسٹ‘ اس مرحلے کو کہا جاتا ہے جس میں راکٹ کے انجن کو زمین پر باندھ کر چلایا جاتا ہے تاکہ پرواز سے پہلے اس کی کارکردگی جانچی جا سکے۔</p>
<p>کمپنی نے تصدیق کی کہ تمام عملہ محفوظ ہے اور مزید معلومات ملنے پر اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/blueorigin/status/2060172114796204539'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/blueorigin/status/2060172114796204539"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جیف بیزوس نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں اس واقعے کو ایک انتہائی مشکل دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال اس واقعے کی اصل وجہ جاننا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت مشکل دن ہے، لیکن ہم جو کچھ دوبارہ بنانا پڑا، بنائیں گے اور دوبارہ پرواز کریں گے، کیوں کہ یہ ضروری ہے‘۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/JeffBezos/status/2060182822170902622'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/JeffBezos/status/2060182822170902622"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے بھی ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خلائی پرواز ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل عمل ہے جبکہ وزن لے جانے والے نئے راکٹس کی تیاری غیر معمولی حد تک مشکل کام ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ناسا اس واقعے کی مکمل تحقیقات میں اپنے شراکت داروں کی معاونت کرے گا اور اس کے ’آرٹیمس‘ سمیت ’مون بیس‘ پروگرامز پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASAAdmin/status/2060186268772835475'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NASAAdmin/status/2060186268772835475"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ناسا نے بلیو اوریجن کو 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا ایک کنٹریکٹ دیا تھا، جس کے تحت کمپنی کے بغیر عملے والے کارگو لیونر لینڈر ’مارک 1‘ کے ذریعے چاند کی سطح پر ’روورز‘ پہنچائے جانے تھے۔</p>
<p>یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ’بلیو اوریجن‘ اور ایلون مسک کی ’اسپیس ایکس‘ کے درمیان انسانوں کو چاند پر لے جانے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ دونوں کمپنیاں ناسا کے لیے ’لیونر لینڈرز‘ (چاند پر اترنے والے مشن) تیار کر رہی ہیں، جب کہ چین بھی 2030 تک انسان بردار ’مون مشن‘ کی تیاری میں مصروف ہے۔</p>
<p>اسپیس ایکس کو بھی ماضی میں ایسے واقعات کا سامنا رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں کمپنی کا ’اسٹار شپ‘ راکٹ ٹیکساس میں ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا۔</p>
<p>بلیو اوریجن کے دھماکے کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے ایکس پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انتہائی افسوس ناک ہے کیوں کہ راکٹس بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔‘</p>
<p>بلیو اوریجن نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ’نیو گلین‘ راکٹ کے ذریعے ایمازون کے 48 سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ایلون مسک کے ’اسٹارلنک‘ نیٹ ورک کا مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p>کمپنی نے اس 29 منزلہ اونچے اور دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کی تیاری پر تقریباً ایک دہائی کا وقت اور اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، تاکہ اسپیس ایکس کے ’فالکن‘ راکٹس اور زیادہ طاقتور ’اسٹار شپ‘ کا مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب، امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے سے آگاہ ہیں، تاہم یہ ان کے دائرہ کار سے باہر ہے اور اس سے خطے میں ہوائی ٹریفک متاثر نہیں ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505885</guid>
      <pubDate>Fri, 29 May 2026 10:48:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/291051557203829.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/291051557203829.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند پر نظریں: 2030 مشن کے لیے چینی خلا بازوں نے خلا میں ڈیرہ ڈال لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505787/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن ”تیانگونگ“ بھیج دیا ہے۔ اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک خلا باز ایک سال تک خلا میں قیام کرے گا، جو چین کی تاریخ کا سب سے طویل انسانی خلائی مشن ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کو چین کے 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کے منصوبے کی تیاری کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/china-send-astronaut-year-long-space-mission-it-eyes-2030-moon-landing-2026-05-23/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق شین ژو-23 نامی خلائی جہاز اتوار کی رات شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس مشن میں کمانڈر ژو یانگ ژو، پائلٹ ژانگ یوآن ژی اور پے لوڈ اسپیشلسٹ لی جیا ینگ شامل ہیں۔ لی جیا ینگ پہلے ہانگ کانگ پولیس افسر رہ چکے ہیں اور وہ کسی چینی خلائی مشن میں حصہ لینے والے ہانگ کانگ کے پہلے خلا باز بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چینی خلائی ادارے کے مطابق تینوں میں سے ایک خلا باز ایک سال تک تیانگونگ خلائی اسٹیشن میں رہے گا، تاہم یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ طویل مدت تک خلا میں کون قیام کرے گا۔ اس مشن کا مقصد خلا میں انسانی جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا مطالعہ کرنا ہے، جن میں ہڈیوں کی کمزوری، تابکاری کے اثرات اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین گزشتہ چند برسوں سے اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ 2021 سے اب تک کئی مشنز کے ذریعے خلا بازوں کو چھ ماہ کے قیام کے لیے تیانگونگ بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن اس بار کا مشن اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا میں چاند تک رسائی کی نئی دوڑ تیز ہو چکی ہے، جس میں چین اور امریکا دونوں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی خلائی ایجنسی ناسا 2028 تک انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ چین نے 2030 تک اپنا ہدف مقرر کیا ہے۔ امریکا مستقبل میں مریخ تک انسانی مشنز کی تیاری کے لیے چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین روس کے تعاون سے 2035 تک چاند پر مستقل اڈہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین پر بعض امریکی حکام کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ چاند کے وسائل اور زمین پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم بیجنگ ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499706'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499706"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اپریل میں ناسا کے چار خلا باز آرٹیمس ٹو مشن کے تحت چاند کے گرد تاریخی سفر کر چکے ہیں۔ اسی دوران ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنی نئی اسٹارشپ راکٹ کا بغیر انسان کے کامیاب تجربہ بھی کیا، جسے مستقبل میں چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے لیے اگلے چار سال انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ اسے چاند پر انسانی مشن کے لیے نئی ٹیکنالوجی، راکٹ، لینڈر اور سافٹ ویئر مکمل طور پر تیار کرنا ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حالیہ مہینوں میں لانگ مارچ-10 راکٹ، مینگ ژو خلائی کیپسول اور لانیو قمری لینڈر کے حفاظتی تجربات بھی کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شین ژو-23 مشن میں پہلی بار تیانگونگ کے مرکزی حصے کے ساتھ تیز رفتار خودکار ڈاکنگ کا تجربہ بھی کیا جائے گا، جسے مستقبل کے قمری مشن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ چاند کے مدار میں خودکار نظام کے ذریعے خلائی کیپسول اور لینڈر کو آپس میں جوڑا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503094'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503094"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مشن کے دوران سائنسی تحقیق کا دائرہ بھی وسیع رکھا گیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین خلا میں انسانی ”مصنوعی ایمبریو“ پر دنیا کا پہلا تجربہ بھی کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی اسٹیم سیلز کے نمونے تیانگونگ بھیجے گئے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ خلا میں طویل عرصے تک انسانی زندگی، افزائش اور بقا کس حد تک ممکن ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اس سے پہلے صرف روبوٹس کے ذریعے چاند پر مشن بھیجتا رہا ہے، تاہم جون 2024 میں وہ چاند کے اُس حصے سے نمونے واپس لانے والا پہلا ملک بنا تھا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ ماہرین کے مطابق اگر چین 2030 سے پہلے انسان کو کامیابی سے چاند پر اتارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عالمی خلائی دوڑ میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن ”تیانگونگ“ بھیج دیا ہے۔ اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک خلا باز ایک سال تک خلا میں قیام کرے گا، جو چین کی تاریخ کا سب سے طویل انسانی خلائی مشن ہوگا۔</strong></p>
<p>اس اقدام کو چین کے 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کے منصوبے کی تیاری کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/china-send-astronaut-year-long-space-mission-it-eyes-2030-moon-landing-2026-05-23/">رائٹرز</a> کے مطابق شین ژو-23 نامی خلائی جہاز اتوار کی رات شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ اس مشن میں کمانڈر ژو یانگ ژو، پائلٹ ژانگ یوآن ژی اور پے لوڈ اسپیشلسٹ لی جیا ینگ شامل ہیں۔ لی جیا ینگ پہلے ہانگ کانگ پولیس افسر رہ چکے ہیں اور وہ کسی چینی خلائی مشن میں حصہ لینے والے ہانگ کانگ کے پہلے خلا باز بن گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چینی خلائی ادارے کے مطابق تینوں میں سے ایک خلا باز ایک سال تک تیانگونگ خلائی اسٹیشن میں رہے گا، تاہم یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ طویل مدت تک خلا میں کون قیام کرے گا۔ اس مشن کا مقصد خلا میں انسانی جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا مطالعہ کرنا ہے، جن میں ہڈیوں کی کمزوری، تابکاری کے اثرات اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔</p>
<p>چین گزشتہ چند برسوں سے اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ 2021 سے اب تک کئی مشنز کے ذریعے خلا بازوں کو چھ ماہ کے قیام کے لیے تیانگونگ بھیجا جا چکا ہے۔ لیکن اس بار کا مشن اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا میں چاند تک رسائی کی نئی دوڑ تیز ہو چکی ہے، جس میں چین اور امریکا دونوں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا کی خلائی ایجنسی ناسا 2028 تک انسان کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ چین نے 2030 تک اپنا ہدف مقرر کیا ہے۔ امریکا مستقبل میں مریخ تک انسانی مشنز کی تیاری کے لیے چاند پر مستقل موجودگی قائم کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب چین روس کے تعاون سے 2035 تک چاند پر مستقل اڈہ بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔</p>
<p>چین پر بعض امریکی حکام کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ چاند کے وسائل اور زمین پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم بیجنگ ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499706'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499706"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رواں سال اپریل میں ناسا کے چار خلا باز آرٹیمس ٹو مشن کے تحت چاند کے گرد تاریخی سفر کر چکے ہیں۔ اسی دوران ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنی نئی اسٹارشپ راکٹ کا بغیر انسان کے کامیاب تجربہ بھی کیا، جسے مستقبل میں چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>چین کے لیے اگلے چار سال انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ اسے چاند پر انسانی مشن کے لیے نئی ٹیکنالوجی، راکٹ، لینڈر اور سافٹ ویئر مکمل طور پر تیار کرنا ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حالیہ مہینوں میں لانگ مارچ-10 راکٹ، مینگ ژو خلائی کیپسول اور لانیو قمری لینڈر کے حفاظتی تجربات بھی کیے گئے ہیں۔</p>
<p>شین ژو-23 مشن میں پہلی بار تیانگونگ کے مرکزی حصے کے ساتھ تیز رفتار خودکار ڈاکنگ کا تجربہ بھی کیا جائے گا، جسے مستقبل کے قمری مشن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ چاند کے مدار میں خودکار نظام کے ذریعے خلائی کیپسول اور لینڈر کو آپس میں جوڑا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503094'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503094"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس مشن کے دوران سائنسی تحقیق کا دائرہ بھی وسیع رکھا گیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین خلا میں انسانی ”مصنوعی ایمبریو“ پر دنیا کا پہلا تجربہ بھی کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی اسٹیم سیلز کے نمونے تیانگونگ بھیجے گئے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ خلا میں طویل عرصے تک انسانی زندگی، افزائش اور بقا کس حد تک ممکن ہو سکتی ہے۔</p>
<p>چین اس سے پہلے صرف روبوٹس کے ذریعے چاند پر مشن بھیجتا رہا ہے، تاہم جون 2024 میں وہ چاند کے اُس حصے سے نمونے واپس لانے والا پہلا ملک بنا تھا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔ ماہرین کے مطابق اگر چین 2030 سے پہلے انسان کو کامیابی سے چاند پر اتارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عالمی خلائی دوڑ میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505787</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 10:11:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/251006402b07bea.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/251006402b07bea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمین سے چاند تک کا سستا اور ایندھن بچانے والا انوکھا راستہ دریافت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505764/scientists-discover-a-unique-fuel-saving-and-low-cost-route-from-earth-to-the-moon</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی سفر سے متعلق  خبروں کی ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.space.com/astronomy/moon/scientists-find-a-hidden-route-to-the-moon-that-saves-fuel"&gt;اسپیس ڈاٹ کام&lt;/a&gt; کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505761/two-full-moons-in-one-month-get-ready-to-witness-a-rare-celestial-spectacle'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505761"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ ماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505322/fog-bacteria-air-pollution-environmental-science-microbiology-atmosphere-climate-research'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔</strong></p>
<p>خلائی سفر سے متعلق  خبروں کی ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.space.com/astronomy/moon/scientists-find-a-hidden-route-to-the-moon-that-saves-fuel">اسپیس ڈاٹ کام</a> کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505761/two-full-moons-in-one-month-get-ready-to-witness-a-rare-celestial-spectacle'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505761"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔</p>
<p>ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔</p>
<p>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھا۔</p>
<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ ماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505322/fog-bacteria-air-pollution-environmental-science-microbiology-atmosphere-climate-research'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>سائنسدانوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505764</guid>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 12:41:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2412384401f64c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2412384401f64c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک مہینے میں دو مکمل چاند: نایاب نظارہ دیکھنے کے لیے تیار ہوجائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505761/two-full-moons-in-one-month-get-ready-to-witness-a-rare-celestial-spectacle</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مئی 2026 میں آسمان ایک نایاب فلکیاتی منظر پیش کرنے جا رہا ہے جب ماہِ مئی کے دوران دوسرا مکمل چاند نمودار ہوگا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق 31 مئی کو نظر آنے والا یہ مکمل چاند ”بلو مون“ کہلائے گا، جو ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی واقعے کے حوالے سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.skyatnightmagazine.com/news/blue-moon-2026"&gt;بی بی سی&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مئی 2026 کا پہلا مکمل چاند یکم مئی کو طلوع ہوا تھا، جبکہ دوسرا مکمل چاند 31 مئی کو آسمان پر دکھائی دے گا۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند نمودار ہو رہا ہے، اسی لیے دوسرے چاند کو ”بلو مون“ کا نام دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504681/atmosphere-detected-pluto-astronomy-solarsystem-newresearch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504681"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایک سال میں 12 مکمل چاند دیکھنے کو ملتے ہیں، تاہم قمری مہینوں اور گریگورین کیلنڈر کے دنوں میں فرق کی وجہ سے بعض اوقات ایک اضافی مکمل چاند بھی سامنے آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2026 میں مجموعی طور پر 13 مکمل چاند دیکھے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلکیاتی ماہرین کے مطابق چاند زمین کے گرد تقریباً 29.5 دن میں اپنا چکر مکمل کرتا ہے، جبکہ کیلنڈر کے مہینے اس دورانیے سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی فرق کے باعث بعض برسوں میں ایک ہی مہینے کے دوران دو مکمل چاند دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے پہلے مکمل چاند کو ”فلاور مون“ کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران بہار اپنے عروج پر ہوتی ہے اور مختلف علاقوں میں پھول کھل رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ دو مکمل چاند کے درمیان تقریباً ساڑھے انتیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے، اس لیے مہینہ ختم ہونے سے پہلے ایک اور مکمل چاند طلوع ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503970/fifth-force-solar-system-discovery'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس حساب سے 31 مئی کو نظر آنے والے چاند کو باقاعدہ طور پر ماہانہ بلیو مون قرار دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ چاند آسمان پر کہاں نظر آئے گا، اس حوالے سے ماہرین بتاتے ہیں کہ 31 مئی کو یہ نیلا چاند مشرق کی سمت سے طلوع ہوگا، تاہم یہ آسمان میں قدرے نیچے اور سنبلہ یعنی ورگو نامی ستاروں کے جھرمٹ کے بالکل دائیں جانب دکھائی دے گا۔ جس کے باعث فلکیات کے ماہرین اور دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ منظر خاص توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین فلکیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر موسم صاف ہو تو اس نایاب منظر کو کھلی جگہ سے دیکھا جائے تاکہ بلو مون کی خوبصورتی سے بھرپور لطف اٹھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مئی 2026 میں آسمان ایک نایاب فلکیاتی منظر پیش کرنے جا رہا ہے جب ماہِ مئی کے دوران دوسرا مکمل چاند نمودار ہوگا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق 31 مئی کو نظر آنے والا یہ مکمل چاند ”بلو مون“ کہلائے گا، جو ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>اس غیر معمولی واقعے کے حوالے سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.skyatnightmagazine.com/news/blue-moon-2026">بی بی سی</a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مئی 2026 کا پہلا مکمل چاند یکم مئی کو طلوع ہوا تھا، جبکہ دوسرا مکمل چاند 31 مئی کو آسمان پر دکھائی دے گا۔<br></p>
<p>چونکہ ایک ہی کیلنڈر مہینے میں دو مرتبہ مکمل چاند نمودار ہو رہا ہے، اسی لیے دوسرے چاند کو ”بلو مون“ کا نام دیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504681/atmosphere-detected-pluto-astronomy-solarsystem-newresearch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504681"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایک سال میں 12 مکمل چاند دیکھنے کو ملتے ہیں، تاہم قمری مہینوں اور گریگورین کیلنڈر کے دنوں میں فرق کی وجہ سے بعض اوقات ایک اضافی مکمل چاند بھی سامنے آجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2026 میں مجموعی طور پر 13 مکمل چاند دیکھے جائیں گے۔</p>
<p>فلکیاتی ماہرین کے مطابق چاند زمین کے گرد تقریباً 29.5 دن میں اپنا چکر مکمل کرتا ہے، جبکہ کیلنڈر کے مہینے اس دورانیے سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی فرق کے باعث بعض برسوں میں ایک ہی مہینے کے دوران دو مکمل چاند دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>مئی کے پہلے مکمل چاند کو ”فلاور مون“ کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران بہار اپنے عروج پر ہوتی ہے اور مختلف علاقوں میں پھول کھل رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ دو مکمل چاند کے درمیان تقریباً ساڑھے انتیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے، اس لیے مہینہ ختم ہونے سے پہلے ایک اور مکمل چاند طلوع ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503970/fifth-force-solar-system-discovery'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس حساب سے 31 مئی کو نظر آنے والے چاند کو باقاعدہ طور پر ماہانہ بلیو مون قرار دیا جائے گا۔</p>
<p>یہ چاند آسمان پر کہاں نظر آئے گا، اس حوالے سے ماہرین بتاتے ہیں کہ 31 مئی کو یہ نیلا چاند مشرق کی سمت سے طلوع ہوگا، تاہم یہ آسمان میں قدرے نیچے اور سنبلہ یعنی ورگو نامی ستاروں کے جھرمٹ کے بالکل دائیں جانب دکھائی دے گا۔ جس کے باعث فلکیات کے ماہرین اور دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ منظر خاص توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین فلکیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر موسم صاف ہو تو اس نایاب منظر کو کھلی جگہ سے دیکھا جائے تاکہ بلو مون کی خوبصورتی سے بھرپور لطف اٹھایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505761</guid>
      <pubDate>Sun, 24 May 2026 11:31:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/24113057cc4dadf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/24113057cc4dadf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویڈیو: سمندر میں اترتے ہی ایلون مسک کے اسٹار شپ میں دھماکہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505727/spacex-starshipv3-elonmusk-rocketlaunch-spacetechnology-nasa-indianocean</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے سب سے بڑے اور طاقتور راکٹ اسٹارشپ ”وی تھری“  کی ایک کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کی، جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور بحرِ ہند میں لینڈنگ کے بعد منصوبہ بند دھماکے کے ساتھ ختم ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تاریخی تجربہ جمعہ کے روز کیا گیا، جب اسٹارشپ ”وی تھری“ نے خلا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے زیادہ تر اہم مقاصد حاصل کر لیے۔ تاہم مشن کے دوران راکٹ کے دونوں مراحل میں انجن کی کچھ خرابیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے باوجود پرواز جاری رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/2058014367652696484?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/2058014367652696484?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس لانچ کو ایک دن کی تاخیر کے بعد انجام دیا گیا تھا، کیونکہ لانچ ٹاور میں ایک ہائیڈرولک پن کی خرابی سامنے آئی تھی جس کی وجہ سے فوری طور پر پرواز روک دی گئی تھی۔ خرابی دور کرنے کے بعد مشن کو دوبارہ شیڈول کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30447499'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30447499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پرواز کے اختتام پر اسٹارشپ بحرِ ہند میں داخل ہوا اور وہاں اترنے کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا، جسے کمپنی نے پہلے سے منصوبہ بند قرار دیا ہے۔ اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اس تجربے میں استعمال ہونے والا خلائی جہاز دوبارہ استعمال کے لیے نہیں تھا، اس لیے لینڈنگ کے بعد اسے محفوظ طریقے سے تباہ کرنا مشن کا حصہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارشپ وی تھری کو اب تک کا سب سے بڑا اور طاقتور راکٹ قرار دیا جاتا ہے، اور یہ آزمائش، اسپیس ایکس کے مستقبل کے مشنوں، خصوصاً چاند اور مریخ تک انسانی پروازوں کی تیاری کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے سب سے بڑے اور طاقتور راکٹ اسٹارشپ ”وی تھری“  کی ایک کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کی، جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی اور بحرِ ہند میں لینڈنگ کے بعد منصوبہ بند دھماکے کے ساتھ ختم ہوئی۔</strong></p>
<p>یہ تاریخی تجربہ جمعہ کے روز کیا گیا، جب اسٹارشپ ”وی تھری“ نے خلا میں پرواز کرتے ہوئے اپنے زیادہ تر اہم مقاصد حاصل کر لیے۔ تاہم مشن کے دوران راکٹ کے دونوں مراحل میں انجن کی کچھ خرابیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس کے باوجود پرواز جاری رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/2058014367652696484?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/2058014367652696484?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس لانچ کو ایک دن کی تاخیر کے بعد انجام دیا گیا تھا، کیونکہ لانچ ٹاور میں ایک ہائیڈرولک پن کی خرابی سامنے آئی تھی جس کی وجہ سے فوری طور پر پرواز روک دی گئی تھی۔ خرابی دور کرنے کے بعد مشن کو دوبارہ شیڈول کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30447499'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30447499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پرواز کے اختتام پر اسٹارشپ بحرِ ہند میں داخل ہوا اور وہاں اترنے کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا، جسے کمپنی نے پہلے سے منصوبہ بند قرار دیا ہے۔ اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اس تجربے میں استعمال ہونے والا خلائی جہاز دوبارہ استعمال کے لیے نہیں تھا، اس لیے لینڈنگ کے بعد اسے محفوظ طریقے سے تباہ کرنا مشن کا حصہ تھا۔</p>
<p>اسٹارشپ وی تھری کو اب تک کا سب سے بڑا اور طاقتور راکٹ قرار دیا جاتا ہے، اور یہ آزمائش، اسپیس ایکس کے مستقبل کے مشنوں، خصوصاً چاند اور مریخ تک انسانی پروازوں کی تیاری کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505727</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 14:17:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23140426c7ca546.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23140426c7ca546.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش: ختم ہوچکی نسلوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا حیران کن کارنامہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505712/dna-science-conservation-innovation-biotechnology-genetics-deextinction-moa-bird-dodo</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی بائیوٹیک کمپنی ’کولوسل بایوسائنسز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تیار کردہ مصنوعی انڈے کے نظام سے دو درجن سے زائد صحت مند چوزے نکلے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ پیش رفت اس کے اس منصوبے میں ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد نیوزی لینڈ کے معدوم ہو چکے دیوقامت پرندے ”ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا“ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/chicks-hatch-artificial-egg-us-company-aims-revive-extinct-species-2026-05-22/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; کمپنی نے یہ اعلان اسی ہفتے کیا ہے۔ کولوسل بایوسائنسز ان جانوروں اور پرندوں کو واپس لانے پر کام کر رہی ہے جو صدیوں پہلے دنیا سے ختم ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے منصوبوں میں ”موا“ کے علاوہ ”ڈوڈو“ پرندہ بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے کمپنی یہ بھی بتا چکی ہے کہ اس نے برفانی دور کے معدوم شکاری جانور “ڈائر وولف” کے جینز پر بھی کام کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی بین لیم نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اب تک 26 چوزے اس مصنوعی نظام کے ذریعے نکل چکے ہیں اور ان کی نشوونما پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چوزے کمپنی کے ہیڈکوارٹر، امریکی شہر ڈلاس میں پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق مصنوعی انڈوں کا یہ نظام ایک خاص سلیکون جھلی پر مبنی ہے جسے ایک سخت بیرونی ڈھانچے کے اندر رکھا جاتا ہے۔ یہ جھلی قدرتی انڈے کے خول کی طرح کام کرتی ہے اور بچے کو آکسیجن لینے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے ساتھ نمی، درجہ حرارت اور گیسوں کی مقدار کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ جنین قدرتی ماحول کی طرح نشوونما پا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472031/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472031"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بین لیم کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جن کے انڈے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”موا“ کا انڈہ فٹبال کے سائز کے برابر تھا، اس لیے کسی موجودہ پرندے کے ذریعے اس کی افزائش ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی انڈے کا نظام تیار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا ایک بہت بڑا، اڑان نہ بھر سکنے والا پرندہ تھا جو تقریباً 12 فٹ تک لمبا ہو سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ پرندہ تقریباً 500 سال پہلے انسانی شکار کی وجہ سے معدوم ہو گیا تھا۔ اس کا قریب ترین زندہ رشتہ دار آسٹریلیا کا ایمو پرندہ ہے، لیکن ایمو کا قد اور انڈہ دونوں موا کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے وضاحت کی کہ اس عمل میں سب سے پہلے بارآور پرندے کے جنین کو مصنوعی انڈے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پورا نظام قدرتی انڈے کی طرح ماحول فراہم کرتا ہے۔ جنین کی نشوونما کے دوران کیلشیم سمیت دیگر ضروری غذائی اجزا بھی دیے جاتے ہیں تاکہ ہڈیوں کی افزائش درست انداز میں ہو سکے۔ چونکہ جنین اوپر کی سطح پر نظر آتا رہتا ہے، اس لیے سائنس دان ہر مرحلے کی نگرانی براہِ راست کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30452636'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30452636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق چوزوں کو مکمل طور پر نکلنے میں تقریباً 21 دن لگے، جو اس نسل کے لیے عام مدت کے برابر ہے۔ بین لیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نایاب اور خطرے سے دوچار پرندوں کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین کے مطابق موا کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ابھی کئی مشکلات باقی ہیں۔ سائنس دانوں کو قدیم ڈی این اے کی مدد سے موا کا مکمل جینیاتی نقشہ تیار کرنا ہوگا اور پھر اس کی اہم خصوصیات کو کسی زندہ قریبی نسل، جیسے ایمو، میں منتقل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اس وقت منصوبہ جینوم سیکوینسنگ کے مرحلے میں ہے، جس کے دوران مختلف قدیم نمونوں سے ڈی این اے حاصل کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ”موا“ کے کئی اچھے معیار کے ڈی این اے نمونے ملے ہیں، جن میں ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا کے نمونے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی بائیوٹیک کمپنی ’کولوسل بایوسائنسز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تیار کردہ مصنوعی انڈے کے نظام سے دو درجن سے زائد صحت مند چوزے نکلے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ پیش رفت اس کے اس منصوبے میں ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد نیوزی لینڈ کے معدوم ہو چکے دیوقامت پرندے ”ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا“ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/chicks-hatch-artificial-egg-us-company-aims-revive-extinct-species-2026-05-22/">رائٹرز کے مطابق</a> کمپنی نے یہ اعلان اسی ہفتے کیا ہے۔ کولوسل بایوسائنسز ان جانوروں اور پرندوں کو واپس لانے پر کام کر رہی ہے جو صدیوں پہلے دنیا سے ختم ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے منصوبوں میں ”موا“ کے علاوہ ”ڈوڈو“ پرندہ بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے کمپنی یہ بھی بتا چکی ہے کہ اس نے برفانی دور کے معدوم شکاری جانور “ڈائر وولف” کے جینز پر بھی کام کیا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی بین لیم نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اب تک 26 چوزے اس مصنوعی نظام کے ذریعے نکل چکے ہیں اور ان کی نشوونما پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چوزے کمپنی کے ہیڈکوارٹر، امریکی شہر ڈلاس میں پیدا ہوئے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق مصنوعی انڈوں کا یہ نظام ایک خاص سلیکون جھلی پر مبنی ہے جسے ایک سخت بیرونی ڈھانچے کے اندر رکھا جاتا ہے۔ یہ جھلی قدرتی انڈے کے خول کی طرح کام کرتی ہے اور بچے کو آکسیجن لینے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے ساتھ نمی، درجہ حرارت اور گیسوں کی مقدار کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ جنین قدرتی ماحول کی طرح نشوونما پا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30472031/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30472031"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بین لیم کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جن کے انڈے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”موا“ کا انڈہ فٹبال کے سائز کے برابر تھا، اس لیے کسی موجودہ پرندے کے ذریعے اس کی افزائش ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی انڈے کا نظام تیار کیا گیا۔</p>
<p>ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا ایک بہت بڑا، اڑان نہ بھر سکنے والا پرندہ تھا جو تقریباً 12 فٹ تک لمبا ہو سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ پرندہ تقریباً 500 سال پہلے انسانی شکار کی وجہ سے معدوم ہو گیا تھا۔ اس کا قریب ترین زندہ رشتہ دار آسٹریلیا کا ایمو پرندہ ہے، لیکن ایمو کا قد اور انڈہ دونوں موا کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔</p>
<p>کمپنی نے وضاحت کی کہ اس عمل میں سب سے پہلے بارآور پرندے کے جنین کو مصنوعی انڈے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پورا نظام قدرتی انڈے کی طرح ماحول فراہم کرتا ہے۔ جنین کی نشوونما کے دوران کیلشیم سمیت دیگر ضروری غذائی اجزا بھی دیے جاتے ہیں تاکہ ہڈیوں کی افزائش درست انداز میں ہو سکے۔ چونکہ جنین اوپر کی سطح پر نظر آتا رہتا ہے، اس لیے سائنس دان ہر مرحلے کی نگرانی براہِ راست کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30452636'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30452636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے مطابق چوزوں کو مکمل طور پر نکلنے میں تقریباً 21 دن لگے، جو اس نسل کے لیے عام مدت کے برابر ہے۔ بین لیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نایاب اور خطرے سے دوچار پرندوں کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>تاہم ماہرین کے مطابق موا کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ابھی کئی مشکلات باقی ہیں۔ سائنس دانوں کو قدیم ڈی این اے کی مدد سے موا کا مکمل جینیاتی نقشہ تیار کرنا ہوگا اور پھر اس کی اہم خصوصیات کو کسی زندہ قریبی نسل، جیسے ایمو، میں منتقل کرنا ہوگا۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق اس وقت منصوبہ جینوم سیکوینسنگ کے مرحلے میں ہے، جس کے دوران مختلف قدیم نمونوں سے ڈی این اے حاصل کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ”موا“ کے کئی اچھے معیار کے ڈی این اے نمونے ملے ہیں، جن میں ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا کے نمونے بھی شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505712</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 12:03:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23105138712e891.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23105138712e891.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹک ٹاک سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارم پر بچوں کا تحفظ خطرے میں پڑگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505689/childsafety-onlinesafety-cybersecurity-digitalparenting-internetsafety</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیٹ کی تیزی سے پھیلتی ہوئی دنیا میں ’بچوں کا تحفظ‘ اس وقت ایک بڑا عالمی اور قومی چیلنج بن چکا ہے، جس کے لیے دنیا بھر میں سخت قوانین اور نئے حفاظتی اقدامات متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ برطانوی ریگولیٹر کی حالیہ رپورٹ جہاں عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے، وہیں پاکستان میں موجودہ حالات اور معاشرتی مسائل اس حوالے سے مزید ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس وقت عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، جن میں برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ofcom.org.uk/online-safety/protecting-children/tech-firms-commit-to-stronger-anti-grooming-measures-in-response-to-ofcom-demands"&gt;’آف کام’ کی حالیہ رپورٹ&lt;/a&gt; انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے آن لائن دنیا میں 8 سے 12 سال کی عمربچوں کو اجنبیوں کے ہتھے چڑھنے اور ورغلائے جانے سے بچانے کے لیے نئے اور سخت ترین حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں اسنیپ چیٹ، میٹا اور روبلوکس نے تصدیق کی ہے کہ وہ بچوں کے اکاؤنٹس پر برطانوی قوانین کے مطابق نئی پابندیاں لگائیں گے۔ ان اقدامات کے تحت اسنیپ چیٹ پر اب کوئی بھی غیر متعلقہ بالغ شخص خودکار طور پر بچوں سے رابطہ نہیں کر سکے گا، روبلوکس والدین کو یہ اختیار دے گا کہ وہ کم عمر بچوں کی براہِ راست بات چیت کو مکمل طور پر بند کر سکیں، اور انسٹاگرام پر بالغوں اور بچوں کے درمیان مشکوک گفتگو کو پکڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید ترین ٹولز استعمال کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30482486'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30482486"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، برطانوی ریگولیٹر نے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو نقصان دہ مواد دکھانے والے اپنے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ہونے والی ان تمام کوششوں کے برعکس، پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بچوں کے تحفظ کے حوالے سے منفرد اور سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں اگرچہ انٹرنیٹ اور جرائم کی روک تھام کا قانون موجود ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ آن لائن بلیک میلنگ اور بچوں کے استحصال کے خلاف کارروائیاں بھی کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق مغربی ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی اصل عمر کی تصدیق کا نہ ہونا ہے، کیونکہ یہاں زیادہ تر بچے اپنے والدین یا گھر کے بڑے افراد کے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز اور انٹرنیٹ کنکشنز استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ جاننا ناممکن ہو جاتا ہے کہ موبائل فون کوئی بچہ چلا رہا ہے یا کوئی بڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497064'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497064"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی انٹرنیٹ پر غیر مناسب مواد کی روک تھام کے لیے مسلسل کام کرتی ہے، تاہم فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی بڑی عالمی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر پاکستان میں نہ ہونے کے باعث، شکایات پر رابطے اور کارروائی کے عمل میں وقت لگ جاتا ہے جو اس کام کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ معاشرتی رویے اور والدین میں جدید ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑی تعداد ان والدین کی ہے جو خود انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے زیادہ واقف نہیں ہیں، اس لیے وہ یہ نگرانی کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ان کا بچہ موبائل پر کن لوگوں سے رابطہ کر رہا ہے یا کس قسم کا مواد دیکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، معاشرتی بدنامی اور خوف کے باعث اکثر خاندان آن لائن بلیک میلنگ یا ہراساں کیے جانے کا شکار ہونے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بعض مقامی فلاحی تنظیمیں اسکولوں میں بچوں اور والدین کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بچوں کا مؤثر تحفظ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک والدین خود اس معاملے میں سنجیدگی سے آگے نہیں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر مختلف آن لائن گیمز میں بچے لائیو چیٹ کے زریعے اجنبی افراد سے بات کرتے ہیں،جیسے روبلوکس صرف ایک سادہ گیم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بچے گیم کھیلنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے دوسرے کھلاڑیوں سے براہِ راست بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس پر صحیح نگرانی نہ رکھی جائے، تو یہ بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سائبر کرائم کے ماہرین کی رپورٹس کے مطابق،پب جی ، فری فائر اورروبلوکس پاکستان میں کھیلی جانے والی آن لائن گیمز میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ آن لائن پرائیویسی، ڈیجیٹل خطرات اور حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی حاصل کریں اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر ذمہ دارانہ نظر رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاعلمی اور غفلت کی صورت میں بچے ہراسانی، استحصال اور دیگر آن لائن خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی اس سلسلے میں سنجیدہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیٹ کی تیزی سے پھیلتی ہوئی دنیا میں ’بچوں کا تحفظ‘ اس وقت ایک بڑا عالمی اور قومی چیلنج بن چکا ہے، جس کے لیے دنیا بھر میں سخت قوانین اور نئے حفاظتی اقدامات متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ برطانوی ریگولیٹر کی حالیہ رپورٹ جہاں عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے، وہیں پاکستان میں موجودہ حالات اور معاشرتی مسائل اس حوالے سے مزید ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>بچوں کو انٹرنیٹ کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس وقت عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، جن میں برطانیہ کے میڈیا ریگولیٹر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ofcom.org.uk/online-safety/protecting-children/tech-firms-commit-to-stronger-anti-grooming-measures-in-response-to-ofcom-demands">’آف کام’ کی حالیہ رپورٹ</a> انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p>اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے آن لائن دنیا میں 8 سے 12 سال کی عمربچوں کو اجنبیوں کے ہتھے چڑھنے اور ورغلائے جانے سے بچانے کے لیے نئے اور سخت ترین حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں اسنیپ چیٹ، میٹا اور روبلوکس نے تصدیق کی ہے کہ وہ بچوں کے اکاؤنٹس پر برطانوی قوانین کے مطابق نئی پابندیاں لگائیں گے۔ ان اقدامات کے تحت اسنیپ چیٹ پر اب کوئی بھی غیر متعلقہ بالغ شخص خودکار طور پر بچوں سے رابطہ نہیں کر سکے گا، روبلوکس والدین کو یہ اختیار دے گا کہ وہ کم عمر بچوں کی براہِ راست بات چیت کو مکمل طور پر بند کر سکیں، اور انسٹاگرام پر بالغوں اور بچوں کے درمیان مشکوک گفتگو کو پکڑنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید ترین ٹولز استعمال کیے جائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30482486'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30482486"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب، برطانوی ریگولیٹر نے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو نقصان دہ مواد دکھانے والے اپنے نظام کو درست کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس پر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر ہونے والی ان تمام کوششوں کے برعکس، پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بچوں کے تحفظ کے حوالے سے منفرد اور سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں اگرچہ انٹرنیٹ اور جرائم کی روک تھام کا قانون موجود ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ آن لائن بلیک میلنگ اور بچوں کے استحصال کے خلاف کارروائیاں بھی کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق مغربی ممالک سے یکسر مختلف ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی اصل عمر کی تصدیق کا نہ ہونا ہے، کیونکہ یہاں زیادہ تر بچے اپنے والدین یا گھر کے بڑے افراد کے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز اور انٹرنیٹ کنکشنز استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ جاننا ناممکن ہو جاتا ہے کہ موبائل فون کوئی بچہ چلا رہا ہے یا کوئی بڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497064'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497064"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی انٹرنیٹ پر غیر مناسب مواد کی روک تھام کے لیے مسلسل کام کرتی ہے، تاہم فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسی بڑی عالمی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر پاکستان میں نہ ہونے کے باعث، شکایات پر رابطے اور کارروائی کے عمل میں وقت لگ جاتا ہے جو اس کام کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ معاشرتی رویے اور والدین میں جدید ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ ہمارے ہاں ایک بڑی تعداد ان والدین کی ہے جو خود انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال سے زیادہ واقف نہیں ہیں، اس لیے وہ یہ نگرانی کرنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ان کا بچہ موبائل پر کن لوگوں سے رابطہ کر رہا ہے یا کس قسم کا مواد دیکھ رہا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، معاشرتی بدنامی اور خوف کے باعث اکثر خاندان آن لائن بلیک میلنگ یا ہراساں کیے جانے کا شکار ہونے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرنے سے کتراتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ بعض مقامی فلاحی تنظیمیں اسکولوں میں بچوں اور والدین کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق بچوں کا مؤثر تحفظ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک والدین خود اس معاملے میں سنجیدگی سے آگے نہیں آئیں گے۔</p>
<p>مثال کے طور پر مختلف آن لائن گیمز میں بچے لائیو چیٹ کے زریعے اجنبی افراد سے بات کرتے ہیں،جیسے روبلوکس صرف ایک سادہ گیم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں بچے گیم کھیلنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے دوسرے کھلاڑیوں سے براہِ راست بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس پر صحیح نگرانی نہ رکھی جائے، تو یہ بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں بچوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سائبر کرائم کے ماہرین کی رپورٹس کے مطابق،پب جی ، فری فائر اورروبلوکس پاکستان میں کھیلی جانے والی آن لائن گیمز میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ آن لائن پرائیویسی، ڈیجیٹل خطرات اور حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہی حاصل کریں اور بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر ذمہ دارانہ نظر رکھیں۔</p>
<p>لاعلمی اور غفلت کی صورت میں بچے ہراسانی، استحصال اور دیگر آن لائن خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کو بھی اس سلسلے میں سنجیدہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505689</guid>
      <pubDate>Fri, 22 May 2026 15:58:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/2215502551bef2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/2215502551bef2d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ایکس' کی پیسے نہ دینے والوں کے لیے پوسٹ کرنے پر نئی پابندیاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505591/socialmedia-bots-ai-training-digital-policy-xplatform-posting-limits-spam-control</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ نے اپنے غیر پریمیم صارفین کے لیے نئی پابندیاں نافذ کر دی ہیں جن کے تحت اب روزانہ پوسٹس اور جوابات کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پلیٹ فارم پر بوٹس کی سرگرمیوں کو کم کرنا اور اسپام یا غیر ضروری مواد کو روکنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئی اپ ڈیٹ کے بعد، وہ صارفین جن کے پاس ’ایکس پریمیم‘ کی رکنیت نہیں ہے، اب دن بھر میں صرف 50 اصل پوسٹس کر سکیں گے، جبکہ اس سے قبل یہ حد 2,400 پوسٹس روزانہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اب روزانہ صرف 200 رپلائیز کی اجازت ہوگی، جبکہ براہِ راست پیغامات کے لیے روزانہ 500 اور نئے اکاؤنٹس کو فالو کرنے کے لیے روزانہ 400 کی حد برقرار رکھی گئی ہے، اور اکاؤنٹ کی ای میل کو ایک گھنٹے میں صرف 4 بار تبدیل کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505428/artificial-intelligence-ai-model-sensayisland-futuretechnology-aigovernment-micronation-techinnovation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505428"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں اسپامرز کے لیے پلیٹ فارم کو مشکل بنانے کی ایک واضع کوشش ہیں، کیونکہ اب وہ مفت اکاؤنٹس کے ذریعے بے تحاشہ مواد اپ لوڈ نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے سے کمپنی پلیٹ فارم کے ماحول کو صاف اور محفوظ بنانا چاہتی ہے تاکہ خودکار بوٹس کا نیٹ ورک عام صارفین کا تجربہ خراب نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام صارفین اور ’پاور یوزرز‘ کے حوالے سے اگر بات کریں تو اگرچہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 فیصد صارفین ایکس پر پوسٹ کرنے کے بجائے صرف مواد دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے عام صارفین پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا، لیکن ’پاور یوزرز‘ اور وہ لوگ جو دن بھر پلیٹ فارم پر فعال رہتے ہیں، ان کے لیے اب پریمیم سبسکرپشن لینا تقریباً ناگزیر ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505432/digitalphenotyping-mentalhealth-depressionawareness-smartphonetechnology-artificialintelligence-digitalhealth-techinnovation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;’پاور یوزرز‘ دراصل وہ فعال صارفین ہوتے ہیں جو عام لوگوں کے مقابلے میں کسی پلیٹ فارم یا ایپ کا بہت زیادہ اور ’پیشہ ورانہ‘ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں صحافی، انفلائنسرز اور برانڈ مینیجرز شامل ہیں، جو دن بھر میں سینکڑوں پوسٹس، جوابات اور بریکنگ نیوز شیئر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بھی غیر تصدیق شدہ صارف ان طے شدہ حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کرے گا، تو سسٹم کی جانب سے اسے ایک الرٹ موصول ہوگا جس میں بتایا جائے گا کہ اس نے یومیہ حد مکمل کر لی ہے اور اسے دوبارہ پوسٹ کرنے کے لیے مخصوص وقت تک انتظار کرنا ہوگا یا پھر ایکس پریمیم کی رکنیت حاصل کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ نے اپنے غیر پریمیم صارفین کے لیے نئی پابندیاں نافذ کر دی ہیں جن کے تحت اب روزانہ پوسٹس اور جوابات کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پلیٹ فارم پر بوٹس کی سرگرمیوں کو کم کرنا اور اسپام یا غیر ضروری مواد کو روکنا ہے۔</strong></p>
<p>اس نئی اپ ڈیٹ کے بعد، وہ صارفین جن کے پاس ’ایکس پریمیم‘ کی رکنیت نہیں ہے، اب دن بھر میں صرف 50 اصل پوسٹس کر سکیں گے، جبکہ اس سے قبل یہ حد 2,400 پوسٹس روزانہ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اب روزانہ صرف 200 رپلائیز کی اجازت ہوگی، جبکہ براہِ راست پیغامات کے لیے روزانہ 500 اور نئے اکاؤنٹس کو فالو کرنے کے لیے روزانہ 400 کی حد برقرار رکھی گئی ہے، اور اکاؤنٹ کی ای میل کو ایک گھنٹے میں صرف 4 بار تبدیل کیا جا سکے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505428/artificial-intelligence-ai-model-sensayisland-futuretechnology-aigovernment-micronation-techinnovation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505428"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں اسپامرز کے لیے پلیٹ فارم کو مشکل بنانے کی ایک واضع کوشش ہیں، کیونکہ اب وہ مفت اکاؤنٹس کے ذریعے بے تحاشہ مواد اپ لوڈ نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے سے کمپنی پلیٹ فارم کے ماحول کو صاف اور محفوظ بنانا چاہتی ہے تاکہ خودکار بوٹس کا نیٹ ورک عام صارفین کا تجربہ خراب نہ کر سکے۔</p>
<p>عام صارفین اور ’پاور یوزرز‘ کے حوالے سے اگر بات کریں تو اگرچہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 فیصد صارفین ایکس پر پوسٹ کرنے کے بجائے صرف مواد دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے عام صارفین پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا، لیکن ’پاور یوزرز‘ اور وہ لوگ جو دن بھر پلیٹ فارم پر فعال رہتے ہیں، ان کے لیے اب پریمیم سبسکرپشن لینا تقریباً ناگزیر ہو جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505432/digitalphenotyping-mentalhealth-depressionawareness-smartphonetechnology-artificialintelligence-digitalhealth-techinnovation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>’پاور یوزرز‘ دراصل وہ فعال صارفین ہوتے ہیں جو عام لوگوں کے مقابلے میں کسی پلیٹ فارم یا ایپ کا بہت زیادہ اور ’پیشہ ورانہ‘ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں صحافی، انفلائنسرز اور برانڈ مینیجرز شامل ہیں، جو دن بھر میں سینکڑوں پوسٹس، جوابات اور بریکنگ نیوز شیئر کرتے ہیں۔</p>
<p>اگر کوئی بھی غیر تصدیق شدہ صارف ان طے شدہ حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کرے گا، تو سسٹم کی جانب سے اسے ایک الرٹ موصول ہوگا جس میں بتایا جائے گا کہ اس نے یومیہ حد مکمل کر لی ہے اور اسے دوبارہ پوسٹ کرنے کے لیے مخصوص وقت تک انتظار کرنا ہوگا یا پھر ایکس پریمیم کی رکنیت حاصل کرنی ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505591</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 10:52:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/201043059a6060b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/201043059a6060b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسٹا گرام میں ہر تصویر اور ویڈیو کے لیے الگ کیپشن کا فیچر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505580/instagram-pictures-new-feature-download-images-technews-captions</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسٹا گرام اپنے صارفین کے لیے ایک اور دلچسپ اور کارآمد فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت اب ملٹی فوٹو یا ویڈیو پوسٹس میں شامل ہر تصویر یا ویڈیو کے ساتھ الگ کیپشن تحریر کیا جا سکے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے فیچر کی آزمائش فی الحال محدود صارفین میں کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد پوسٹس کو مزید معلوماتی، واضح اور دلکش بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق انسٹا گرام کے کمپوزر میں ایک نیا پاپ اَپ میسج ظاہر ہو رہا ہے، جس میں صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پوسٹ میں شامل ہر فوٹو یا ویڈیو کے ساتھ علیحدہ کیپشن شامل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/200851384ed54fd.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/200851384ed54fd.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس وقت انسٹا گرام پر اگر کوئی صارف متعدد تصاویر یا ویڈیوز پر مشتمل پوسٹ شیئر کرتا ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی مشترکہ کیپشن لکھنے کی سہولت موجود ہے، تاہم ’نئے فیچر‘ کے بعد ہر تصویر یا ویڈیو کو الگ انداز میں بیان کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی خاص طور پر اُن صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگی جو ٹریول، فوڈ، فیشن، ایجوکیشن یا وی لاگز جیسا مواد شیئر کرتے ہیں، کیونکہ اب وہ ہر تصویر یا کلپ کے بارے میں الگ معلومات، تفصیل یا پس منظر بیان کر سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں ناظرین کو پوسٹ کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ہر تصویر یا ویڈیو سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505453/instagram-is-run-by-girls-elon-musks-sarcastic-remark'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505453"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں انسٹا گرام پر ملٹی فوٹو اور ویڈیو پوسٹس کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ 2024 میں انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے کہا تھا کہ ایسی پوسٹس صارفین کی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک سے زیادہ تصاویر یا ویڈیوز والی پوسٹس پر لوگ زیادہ وقت گزارتے ہیں، جس سے مواد کی انگیجمنٹ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ مارچ 2025 میں انسٹا گرام نے ایک اور نمایاں فیچر متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے صارفین پوسٹ شائع کرنے کے بعد بھی تصاویر یا ویڈیوز کی ترتیب تبدیل کر سکتے ہیں۔ اب ہر تصویر یا ویڈیو کے لیے الگ کیپشن شامل کرنے کا نیا فیچر اس سہولت کو مزید مؤثر اور مفید بنا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹا گرام انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے اور محدود صارفین کو دستیاب ہے، تاہم کامیاب نتائج کے بعد اسے دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسٹا گرام اپنے صارفین کے لیے ایک اور دلچسپ اور کارآمد فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت اب ملٹی فوٹو یا ویڈیو پوسٹس میں شامل ہر تصویر یا ویڈیو کے ساتھ الگ کیپشن تحریر کیا جا سکے گا۔</strong></p>
<p>اس نئے فیچر کی آزمائش فی الحال محدود صارفین میں کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد پوسٹس کو مزید معلوماتی، واضح اور دلکش بنانا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق انسٹا گرام کے کمپوزر میں ایک نیا پاپ اَپ میسج ظاہر ہو رہا ہے، جس میں صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ وہ پوسٹ میں شامل ہر فوٹو یا ویڈیو کے ساتھ علیحدہ کیپشن شامل کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/200851384ed54fd.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/200851384ed54fd.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس وقت انسٹا گرام پر اگر کوئی صارف متعدد تصاویر یا ویڈیوز پر مشتمل پوسٹ شیئر کرتا ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی مشترکہ کیپشن لکھنے کی سہولت موجود ہے، تاہم ’نئے فیچر‘ کے بعد ہر تصویر یا ویڈیو کو الگ انداز میں بیان کیا جا سکے گا۔</p>
<p>یہ تبدیلی خاص طور پر اُن صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگی جو ٹریول، فوڈ، فیشن، ایجوکیشن یا وی لاگز جیسا مواد شیئر کرتے ہیں، کیونکہ اب وہ ہر تصویر یا کلپ کے بارے میں الگ معلومات، تفصیل یا پس منظر بیان کر سکیں گے۔ اس کے نتیجے میں ناظرین کو پوسٹ کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ہر تصویر یا ویڈیو سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505453/instagram-is-run-by-girls-elon-musks-sarcastic-remark'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505453"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ برسوں میں انسٹا گرام پر ملٹی فوٹو اور ویڈیو پوسٹس کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ 2024 میں انسٹا گرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے کہا تھا کہ ایسی پوسٹس صارفین کی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک سے زیادہ تصاویر یا ویڈیوز والی پوسٹس پر لوگ زیادہ وقت گزارتے ہیں، جس سے مواد کی انگیجمنٹ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ مارچ 2025 میں انسٹا گرام نے ایک اور نمایاں فیچر متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے صارفین پوسٹ شائع کرنے کے بعد بھی تصاویر یا ویڈیوز کی ترتیب تبدیل کر سکتے ہیں۔ اب ہر تصویر یا ویڈیو کے لیے الگ کیپشن شامل کرنے کا نیا فیچر اس سہولت کو مزید مؤثر اور مفید بنا دے گا۔</p>
<p>انسٹا گرام انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ فیچر ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے اور محدود صارفین کو دستیاب ہے، تاہم کامیاب نتائج کے بعد اسے دنیا بھر کے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505580</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 09:10:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20085815cc488f5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20085815cc488f5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تکنیکی غلطی پڑ گئی بھاری: ایلون مسک کو اوپن اے آئی مقدمے میں بڑی شکست</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505539/elon-musk-openai-sam-altman-microsoft-artificial-intelligence-tech-news-lawsuit</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ارب پتی اور ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف جاری قانونی جنگ میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں وفاقی جیوری نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف مسک کے تین اہم دعوے مسترد کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانونی تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ مقدمے کے کئی دوسرے حصے اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے ابتدائی فلاحی مقصد کو چھوڑ کر خود کو منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل کر لیا۔ مسک کے مطابق اوپن اے آئی کی قیادت، جس میں سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین شامل ہیں، نے تنظیم کی نئی ساخت سے ذاتی فائدہ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیوری نے جن تین دعوؤں کو مسترد کیا ان میں فلاحی مقصد سے ہٹنا، ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنا، اور مائیکروسوفٹ پر اوپن اے آئی کی مبینہ خلاف ورزی میں مدد دینے کا الزام شامل تھا۔ مائیکروسافٹ کے خلاف دعویٰ بھی اسی بنیاد پر ختم ہو گیا کیونکہ وہ مرکزی الزام سے جڑا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ اوپن اے آئی کی قیادت بے قصور ہے یا قصوروار۔ جیوری نے صرف یہ قرار دیا کہ ایلون مسک نے یہ دعوے مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی قانون میں اس مدت کو ”اسٹیچوٹ آف لمیٹیشنز“ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مقدمے کے یہ حصے تکنیکی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے بعد ایلون مسک نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اصل الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف ”کیلنڈر کی تکنیکی بات“ کی بنیاد پر مقدمہ مسترد کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کو انسانیت کے فائدے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے منافع بخش ادارے میں بدل دیا گیا۔ مسک نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقدمے میں مالی اعتبار سے بھی بہت بڑے مطالبات کیے گئے تھے۔ ایلون مسک نے تقریباً 134 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین کو اوپن اے آئی سے ہٹانے اور کمپنی کی 2025 کی منافع بخش تنظیم نو کو واپس لینے کی درخواست بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسک کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی نے ابتدا میں خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری کے طور پر پیش کیا، لیکن بعد میں یہ ایک بڑی تجارتی کمپنی بن گئی جس کے مائیکروسافٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ مسک کے وکیل مارک ٹوبیروف نے فیصلے کے بعد کہا کہ ”یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440459'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عدالت نے بھی واضح کیا ہے کہ مقدمے کے تمام معاملات ختم نہیں ہوئے۔ جج ایوون گونزالیز راجرز نے وکلا سے کہا کہ کیس میں اب بھی کئی دعوے باقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکے ساتھ ہی مقدمے کے دیگر معاہداتی اور وفاقی نوعیت کے الزامات ابھی زیر سماعت ہیں اور آنے والے مہینوں میں ان پر مزید کارروائی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی اپیل اور باقی دعوؤں کی وجہ سے اوپن اے آئی اور مسک کے درمیان یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ارب پتی اور ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کو اوپن اے آئی کے خلاف جاری قانونی جنگ میں بڑا دھچکا لگا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں وفاقی جیوری نے اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف مسک کے تین اہم دعوے مسترد کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>یہ قانونی تنازع ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ مقدمے کے کئی دوسرے حصے اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔</p>
<p>دو ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے ابتدائی فلاحی مقصد کو چھوڑ کر خود کو منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل کر لیا۔ مسک کے مطابق اوپن اے آئی کی قیادت، جس میں سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین شامل ہیں، نے تنظیم کی نئی ساخت سے ذاتی فائدہ حاصل کیا۔</p>
<p>جیوری نے جن تین دعوؤں کو مسترد کیا ان میں فلاحی مقصد سے ہٹنا، ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنا، اور مائیکروسوفٹ پر اوپن اے آئی کی مبینہ خلاف ورزی میں مدد دینے کا الزام شامل تھا۔ مائیکروسافٹ کے خلاف دعویٰ بھی اسی بنیاد پر ختم ہو گیا کیونکہ وہ مرکزی الزام سے جڑا ہوا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ اوپن اے آئی کی قیادت بے قصور ہے یا قصوروار۔ جیوری نے صرف یہ قرار دیا کہ ایلون مسک نے یہ دعوے مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کیے۔</p>
<p>امریکی قانون میں اس مدت کو ”اسٹیچوٹ آف لمیٹیشنز“ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مقدمے کے یہ حصے تکنیکی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔</p>
<p>فیصلے کے بعد ایلون مسک نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اصل الزامات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا بلکہ صرف ”کیلنڈر کی تکنیکی بات“ کی بنیاد پر مقدمہ مسترد کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی کو انسانیت کے فائدے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے منافع بخش ادارے میں بدل دیا گیا۔ مسک نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔</p>
<p>مقدمے میں مالی اعتبار سے بھی بہت بڑے مطالبات کیے گئے تھے۔ ایلون مسک نے تقریباً 134 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیم آلٹمین اور گریگ بروک مین کو اوپن اے آئی سے ہٹانے اور کمپنی کی 2025 کی منافع بخش تنظیم نو کو واپس لینے کی درخواست بھی کی تھی۔</p>
<p>مسک کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ اوپن اے آئی نے ابتدا میں خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش مصنوعی ذہانت کی لیبارٹری کے طور پر پیش کیا، لیکن بعد میں یہ ایک بڑی تجارتی کمپنی بن گئی جس کے مائیکروسافٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ مسک کے وکیل مارک ٹوبیروف نے فیصلے کے بعد کہا کہ ”یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440459'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب عدالت نے بھی واضح کیا ہے کہ مقدمے کے تمام معاملات ختم نہیں ہوئے۔ جج ایوون گونزالیز راجرز نے وکلا سے کہا کہ کیس میں اب بھی کئی دعوے باقی ہیں۔</p>
<p>اسکے ساتھ ہی مقدمے کے دیگر معاہداتی اور وفاقی نوعیت کے الزامات ابھی زیر سماعت ہیں اور آنے والے مہینوں میں ان پر مزید کارروائی متوقع ہے۔</p>
<p>قانونی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی اپیل اور باقی دعوؤں کی وجہ سے اوپن اے آئی اور مسک کے درمیان یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505539</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 11:03:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/191059235ba7935.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/191059235ba7935.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پورے ملک کے لیے 'چیٹ جی پی ٹی پلس' مفت کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505537/malta-announces-free-chatgpt-plus-subscription-for-all-citizens</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی ملک مالٹا نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے اوپن اے آئی کمپنی کے ساتھ ایک عالمی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مالٹا اپنے تمام شہریوں اور وہاں رہنے والے افراد کو ایک سال کے لیے چیٹ جی پی ٹی پلس کی پریمیم سروس بالکل مفت فراہم کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالٹا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اپنے شہریوں کو مصنوعی ذہانت کے اس مہنگے اور جدید ترین ٹول تک مفت رسائی دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ڈیجیٹل تربیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی اعلان کے مطابق مالٹا کے ہر اس شہری اور رہائشی کی عمر 14 سال یا اس سے زیادہ ہے، وہ یہ پریمیم سروس مفت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو صرف ایک مختصر آن لائن کورس مکمل کرنا ہوگا جس میں مصنوعی ذہانت کا درست استعمال سکھایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504206/want'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504206"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کورس یونیورسٹی آف مالٹا نے تیار کیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مصنوعی ذہانت کیا ہے، یہ کیا کام نہیں کر سکتی اور اسے گھر یا پیشہ ورانہ زندگی میں ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی چھوٹا منصوبہ نہیں ہے کیونکہ مالٹا میں رہنے والے تقریباً 5 لاکھ 74 ہزار 250 افراد اس کورس کو مکمل کر کے چیٹ جی پی ٹی پلس تک مفت رسائی پا سکیں گے، جس کی عام طور پر امریکہ میں ماہانہ فیس 20 ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مالٹا کے وہ شہری جو اس وقت ملک سے باہر رہ رہے ہیں، وہ بھی اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکیں تاکہ کوئی بھی اس بہترین موقع سے محروم نہ رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503542/china-oil-shortage-solution-water-powered-planes'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503542"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مئی میں شروع ہو رہا ہے اور مالٹا ڈیجیٹل انوویشن اتھارٹی اس کی نگرانی کر رہی ہے، تاکہ اہل افراد کو سبسکرپشن فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے معاہدے کے پیچھے موجود سوچ کو واضح کرتے ہوئے مالٹا کے وزیر اقتصادیات سلویو شیمبری نے کہا کہ یہ اقدام شہریوں، طلبہ اور کارکنوں کے لیے عملی مدد فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیرِ اعظم ایان بورگ نے سلیکون ویلی میں ملاقاتوں کے ذریعے یہ معاہدہ طے کیا اور کہا، ہم نہیں چاہتے کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں ہمارا کوئی بھی شہری پیچھے رہ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کے بین الاقوامی ممالک کے سربراہ جارج اوسبورن نے مالٹا کی اس پیش قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’مالٹا یورپ اور دنیا میں سب شہریوں کے لیے اے آئی لانے میں پیش پیش ہے، اور جہاں مالٹا آگے بڑھتا ہے، مجھے امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی ملک مالٹا نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے اوپن اے آئی کمپنی کے ساتھ ایک عالمی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مالٹا اپنے تمام شہریوں اور وہاں رہنے والے افراد کو ایک سال کے لیے چیٹ جی پی ٹی پلس کی پریمیم سروس بالکل مفت فراہم کرے گا۔</strong></p>
<p>مالٹا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے اپنے شہریوں کو مصنوعی ذہانت کے اس مہنگے اور جدید ترین ٹول تک مفت رسائی دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ڈیجیٹل تربیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>حکومتی اعلان کے مطابق مالٹا کے ہر اس شہری اور رہائشی کی عمر 14 سال یا اس سے زیادہ ہے، وہ یہ پریمیم سروس مفت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو صرف ایک مختصر آن لائن کورس مکمل کرنا ہوگا جس میں مصنوعی ذہانت کا درست استعمال سکھایا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504206/want'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504206"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ کورس یونیورسٹی آف مالٹا نے تیار کیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مصنوعی ذہانت کیا ہے، یہ کیا کام نہیں کر سکتی اور اسے گھر یا پیشہ ورانہ زندگی میں ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے؟</p>
<p>یہ کوئی چھوٹا منصوبہ نہیں ہے کیونکہ مالٹا میں رہنے والے تقریباً 5 لاکھ 74 ہزار 250 افراد اس کورس کو مکمل کر کے چیٹ جی پی ٹی پلس تک مفت رسائی پا سکیں گے، جس کی عام طور پر امریکہ میں ماہانہ فیس 20 ڈالر ہے۔</p>
<p>حکومت نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مالٹا کے وہ شہری جو اس وقت ملک سے باہر رہ رہے ہیں، وہ بھی اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکیں تاکہ کوئی بھی اس بہترین موقع سے محروم نہ رہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503542/china-oil-shortage-solution-water-powered-planes'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503542"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس منصوبے کا پہلا مرحلہ مئی میں شروع ہو رہا ہے اور مالٹا ڈیجیٹل انوویشن اتھارٹی اس کی نگرانی کر رہی ہے، تاکہ اہل افراد کو سبسکرپشن فراہم کی جا سکے۔</p>
<p>اس بڑے معاہدے کے پیچھے موجود سوچ کو واضح کرتے ہوئے مالٹا کے وزیر اقتصادیات سلویو شیمبری نے کہا کہ یہ اقدام شہریوں، طلبہ اور کارکنوں کے لیے عملی مدد فراہم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔</p>
<p>نائب وزیرِ اعظم ایان بورگ نے سلیکون ویلی میں ملاقاتوں کے ذریعے یہ معاہدہ طے کیا اور کہا، ہم نہیں چاہتے کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں ہمارا کوئی بھی شہری پیچھے رہ جائے۔</p>
<p>اوپن اے آئی کے بین الاقوامی ممالک کے سربراہ جارج اوسبورن نے مالٹا کی اس پیش قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’مالٹا یورپ اور دنیا میں سب شہریوں کے لیے اے آئی لانے میں پیش پیش ہے، اور جہاں مالٹا آگے بڑھتا ہے، مجھے امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505537</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 10:39:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/191037302afb9f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/191037302afb9f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایلون مسک چین سے متاثر، پہاڑ کی چوٹی پر بنے ٹرین اسٹیشن کو دیکھ کر حیران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505506/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی بزنس وفد کے ہمراہ بیجنگ پہنچنے والے ایلون مسک چین کے ترقیاتی رنگ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے، اور اب دورہ ختم ہونے کے بعد ان کی جانب سے چین کی ترقی کی جھلکیاں شیئر کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بیجنگ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی سربراہی اجلاس کے دوران روایتی سفارتی آداب کو بھول کر ایک عام سیاح کی طرح ویڈیوز بناتے ہوئے پائے گئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 مئی 2026 کو گریٹ ہال آف دی پیپل میں منعقدہ سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران جہاں دنیا بھر کے نامور رہنما اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام انتہائی سنجیدگی اور احترام کے ساتھ کھڑے تھے، وہیں ایلون مسک نے اپنا اسمارٹ فون نکالا اور ہال کا پورا نظارہ قید کرنے کے لیے دائرے کی شکل میں گھوم کر 360 ڈگری کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس لمحے کا خوب مذاق بھی اڑایا گیا اور اسے پسند بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;div style="display: flex; justify-content: center; align-items: center; width: 100%; padding: 1rem 0;"&gt;
  &lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F990639280090975%2F&amp;show_text=false&amp;width=267&amp;t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;کئی صارفین نے تبصرہ کیا کہ مسک ایک اسکول کے بچے یا کسی ایسے سیاح کی طرح لگ رہے ہیں جو چینی حکومت کے اس وسیع و عریض ہال کی شان و شوکت اور بناوٹ دیکھ کر مکمل طور پر حیرت زدہ رہ گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اس اہم سفارتی اور تجارتی دورے پر اکیلے نہیں آئے بلکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی طیارے ایئرفورس ون میں سوار ہو کر بیجنگ پہنچنے والے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد کے ایک نمایاں رکن تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وفد میں ان کے ساتھ ایپل کے سی ای او ٹم کک اور اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ بھی شامل تھے، جو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور باہمی تجارت کے اہم امور پر مذاکرات کے لیے چین پہنچے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505453/instagram-is-run-by-girls-elon-musks-sarcastic-remark'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505453"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس سنگین سیاسی اور کاروباری ماحول میں بھی ایلون مسک کی غیر رسمی اور دلچسپ حرکات نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دورے کے دوران کئی ایسے غیر اسکرپٹڈ بھی واقعات پیش آئے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ضیافت اور عشائیے کے دوران ایلون مسک نے ایک بار پھر سب کو ہنسنے پر مجبور کر دیا جب انہوں نے تصاویر کھنچواتے وقت انتہائی مضحکہ خیز چہرے بنائے اور آنکھیں گھمائیں، جس پر انٹرنیٹ صارفین نے انہیں اس اہم سرکاری محفل کا کلاس کلاؤن یعنی سب کو ہنسانے والا طالب علم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے دیگر ارب پتی بھی ایلون مسک کے سحر میں جکڑے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیاؤمی کے بانی لی جون اور ایپل کے ٹم کک کو خود ایلون مسک کے پاس جا کر تفریحی سیلفیاں لیتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں مسک نے اپنی عادت کے مطابق سنجیدہ ہونے کے بجائے مزاحیہ چہرے بنا کر پوز دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریٹ ہال آف دی پیپل کے اندر موجود دیگر مہمانوں اور سفارت کاروں نے بھی ایلون مسک کو اپنے حصار میں لے لیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سفارت کاروں کے درمیان بھی ان کی مقبولیت کسی نامور سلیبریٹی سے کم نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس مقبولیت کے باوجود وہ خود چین کے فین نظر آئے، اور چین کی ترقی کا سحر ان کے سر پر سوار ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا واپسی پر بھی ایلون مسک چین کی ترقی کے حوالے سے ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے چین کی جانب سے بنائے گئے ایک ایسے ٹرین اسٹیشن کی ویڈیو شیئر کی جو پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/2056284797899567459?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/2056284797899567459?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چین نے پہاڑ کی چوٹی پر دنیا کا سب سے بڑا ’چونگیانگ ایسٹ ریلوے اسٹیشن‘ تعمیر کر کے انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔&lt;br&gt;چونگیانگ ایسٹ اسٹیشن نامی یہ میگا پراجیکٹ سات ارب اسی کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے تیار کیا گیا ہے، جس کا کل رقبہ بارہ لاکھ بائیس ہزار مربع میٹر ہے اور یہ اب پوری دنیا کا سب سے بڑا ریلوے ہب بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حیرت انگیز پراجیکٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر محض 38 مہینوں کے قلیل عرصے میں مکمل کیا گیا ہے، جس کے لیے 40 ہزار ورکرز نے دن رات ایک کر کے اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹیشن کی تعمیر میں جدید ترین اور منفرد سائنسی طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ انجینئرز نے عمارت کی چھت کے لیے 16 ہزار 500 ٹن وزنی اسٹیل کا ایک بہت بڑا فریم ورک پہلے زمین پر ہی مکمل تیار کیا، اور پھر ہائیڈرولک ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بھاری بھرکم چھت کو 34 فٹ کی بلندی سے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف سرکاتے ہوئے 44 فٹ اونچے اسٹیل کے ستونوں پر کامیابی سے فٹ کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ ستون چین کے مشہور درخت ہوانگ جیو کی شاخوں کی شکل میں ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت لگتے ہیں بلکہ اسٹیشن کو شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہاڑ کی ڈھلوان پر اتنی بلندی پر اسٹیشن کی بیرونی دیواروں پر اسٹینلیس اسٹیل کی چادریں چڑھانا ایک انتہائی پرخطر اور مشکل کام تھا، جسے چینی کاریگروں نے بحسن و خوبی انجام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسٹیشن اب جنوب مغربی چین کو ملک کے چودہ بڑے شہروں سے جوڑنے والی تیز ترین ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کا مرکزی گڑھ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشکل ترین جغرافیائی حالات اور پہاڑی علاقوں میں بھی اگر درست حکمتِ عملی اور جدید ترین مشینری کا استعمال کیا جائے، تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے اس نئے شاہکار کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں، اور دنیا بھر کے صنعتی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس تیز رفتار ترقی اور جدید طرزِ تعمیر کو داد دیے بغیر نہیں رہ پا رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی بزنس وفد کے ہمراہ بیجنگ پہنچنے والے ایلون مسک چین کے ترقیاتی رنگ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے، اور اب دورہ ختم ہونے کے بعد ان کی جانب سے چین کی ترقی کی جھلکیاں شیئر کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔</strong></p>
<p>ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بیجنگ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی سربراہی اجلاس کے دوران روایتی سفارتی آداب کو بھول کر ایک عام سیاح کی طرح ویڈیوز بناتے ہوئے پائے گئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔</p>
<p>14 مئی 2026 کو گریٹ ہال آف دی پیپل میں منعقدہ سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران جہاں دنیا بھر کے نامور رہنما اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام انتہائی سنجیدگی اور احترام کے ساتھ کھڑے تھے، وہیں ایلون مسک نے اپنا اسمارٹ فون نکالا اور ہال کا پورا نظارہ قید کرنے کے لیے دائرے کی شکل میں گھوم کر 360 ڈگری کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس لمحے کا خوب مذاق بھی اڑایا گیا اور اسے پسند بھی کیا گیا۔</p>
<raw-html>
<div style="display: flex; justify-content: center; align-items: center; width: 100%; padding: 1rem 0;">
  <iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F990639280090975%2F&show_text=false&width=267&t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe>
</div>
</raw-html>
<p>کئی صارفین نے تبصرہ کیا کہ مسک ایک اسکول کے بچے یا کسی ایسے سیاح کی طرح لگ رہے ہیں جو چینی حکومت کے اس وسیع و عریض ہال کی شان و شوکت اور بناوٹ دیکھ کر مکمل طور پر حیرت زدہ رہ گیا ہو۔</p>
<p>ایلون مسک اس اہم سفارتی اور تجارتی دورے پر اکیلے نہیں آئے بلکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی طیارے ایئرفورس ون میں سوار ہو کر بیجنگ پہنچنے والے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد کے ایک نمایاں رکن تھے۔</p>
<p>اس وفد میں ان کے ساتھ ایپل کے سی ای او ٹم کک اور اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ بھی شامل تھے، جو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور باہمی تجارت کے اہم امور پر مذاکرات کے لیے چین پہنچے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505453/instagram-is-run-by-girls-elon-musks-sarcastic-remark'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505453"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، اس سنگین سیاسی اور کاروباری ماحول میں بھی ایلون مسک کی غیر رسمی اور دلچسپ حرکات نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھی۔</p>
<p>اس دورے کے دوران کئی ایسے غیر اسکرپٹڈ بھی واقعات پیش آئے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔</p>
<p>سرکاری ضیافت اور عشائیے کے دوران ایلون مسک نے ایک بار پھر سب کو ہنسنے پر مجبور کر دیا جب انہوں نے تصاویر کھنچواتے وقت انتہائی مضحکہ خیز چہرے بنائے اور آنکھیں گھمائیں، جس پر انٹرنیٹ صارفین نے انہیں اس اہم سرکاری محفل کا کلاس کلاؤن یعنی سب کو ہنسانے والا طالب علم قرار دیا۔</p>
<p>یہی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے دیگر ارب پتی بھی ایلون مسک کے سحر میں جکڑے نظر آئے۔</p>
<p>شیاؤمی کے بانی لی جون اور ایپل کے ٹم کک کو خود ایلون مسک کے پاس جا کر تفریحی سیلفیاں لیتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں مسک نے اپنی عادت کے مطابق سنجیدہ ہونے کے بجائے مزاحیہ چہرے بنا کر پوز دیے۔</p>
<p>گریٹ ہال آف دی پیپل کے اندر موجود دیگر مہمانوں اور سفارت کاروں نے بھی ایلون مسک کو اپنے حصار میں لے لیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سفارت کاروں کے درمیان بھی ان کی مقبولیت کسی نامور سلیبریٹی سے کم نہیں تھی۔</p>
<p>لیکن اس مقبولیت کے باوجود وہ خود چین کے فین نظر آئے، اور چین کی ترقی کا سحر ان کے سر پر سوار ہوگیا۔</p>
<p>امریکا واپسی پر بھی ایلون مسک چین کی ترقی کے حوالے سے ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے چین کی جانب سے بنائے گئے ایک ایسے ٹرین اسٹیشن کی ویڈیو شیئر کی جو پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/2056284797899567459?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/2056284797899567459?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>چین نے پہاڑ کی چوٹی پر دنیا کا سب سے بڑا ’چونگیانگ ایسٹ ریلوے اسٹیشن‘ تعمیر کر کے انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔<br>چونگیانگ ایسٹ اسٹیشن نامی یہ میگا پراجیکٹ سات ارب اسی کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے تیار کیا گیا ہے، جس کا کل رقبہ بارہ لاکھ بائیس ہزار مربع میٹر ہے اور یہ اب پوری دنیا کا سب سے بڑا ریلوے ہب بن چکا ہے۔</p>
<p>اس حیرت انگیز پراجیکٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر محض 38 مہینوں کے قلیل عرصے میں مکمل کیا گیا ہے، جس کے لیے 40 ہزار ورکرز نے دن رات ایک کر کے اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔</p>
<p>اس اسٹیشن کی تعمیر میں جدید ترین اور منفرد سائنسی طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ انجینئرز نے عمارت کی چھت کے لیے 16 ہزار 500 ٹن وزنی اسٹیل کا ایک بہت بڑا فریم ورک پہلے زمین پر ہی مکمل تیار کیا، اور پھر ہائیڈرولک ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بھاری بھرکم چھت کو 34 فٹ کی بلندی سے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف سرکاتے ہوئے 44 فٹ اونچے اسٹیل کے ستونوں پر کامیابی سے فٹ کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ ستون چین کے مشہور درخت ہوانگ جیو کی شاخوں کی شکل میں ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت لگتے ہیں بلکہ اسٹیشن کو شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔</p>
<p>پہاڑ کی ڈھلوان پر اتنی بلندی پر اسٹیشن کی بیرونی دیواروں پر اسٹینلیس اسٹیل کی چادریں چڑھانا ایک انتہائی پرخطر اور مشکل کام تھا، جسے چینی کاریگروں نے بحسن و خوبی انجام دیا۔</p>
<p>یہ اسٹیشن اب جنوب مغربی چین کو ملک کے چودہ بڑے شہروں سے جوڑنے والی تیز ترین ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کا مرکزی گڑھ بن گیا ہے۔</p>
<p>اس منصوبے کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشکل ترین جغرافیائی حالات اور پہاڑی علاقوں میں بھی اگر درست حکمتِ عملی اور جدید ترین مشینری کا استعمال کیا جائے، تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>چین کے اس نئے شاہکار کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں، اور دنیا بھر کے صنعتی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس تیز رفتار ترقی اور جدید طرزِ تعمیر کو داد دیے بغیر نہیں رہ پا رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505506</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 14:17:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/18140504e90cb92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/18140504e90cb92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھر کو ٹھنڈا رکھنے اور ہوا سے پانی پیدا کرنے والا جادوئی پینٹ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505495/clean-energy-climate-tech-cooling-paint-water-harvesting-sustainable-innovation-urban-heat-island-renewable-materials</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب دنیا بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور پانی کی شدید کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، تو محققین ایسے حل تلاش کر رہے ہیں جو سادہ بھی ہوں اور مؤثر بھی، اور جو ہماری روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکیں۔ آسٹریلیا کے محققین نے ان دونوں مسائل کے حل کے لیے ایک نئی نینو انجینیئرڈ پینٹ تیار کی ہے جو ایک ساتھ ان دونوں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/science/dewpoint-paint-cool-home-water-harvest-climate-c2e-spc"&gt;سی این این&lt;/a&gt; کے مطابق یہ منصوبہ یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کیارا نیٹو اور منگ چیو کے خیال سے شروع ہوا، جنہوں نے سوچا کہ کیا ایسی چھت تیار کی جا سکتی ہے جو سورج کی گرمی کم کرے اور فضا سے پانی بھی جمع کرے۔ بعد میں اس تحقیق سے ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ڈیو پوائنٹ انوویشنز وجود میں آئی، جس کا مقصد عمارتوں کے ڈیزائن کو زیادہ ماحول دوست بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505498/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505498"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق شہروں میں کنکریٹ اور چھتیں سورج کی حرارت جذب کرکے درجہ حرارت بڑھا دیتی ہیں، جسے ”اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے اس نئے پینٹ میں خاص نینو میٹریلز استعمال کیے گئے ہیں جو ”پیسو ریڈی ایٹو کولنگ“ کے ذریعے سورج کی زیادہ تر توانائی واپس فضا میں منعکس کر دیتے ہیں اور سطح کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تجربات میں اس پینٹ نے عام سفید پینٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔ ماہرین کے مطابق عام سفید پینٹ تقریباً 70 سے 80 فیصد سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے، جبکہ اس نئی کوٹنگ نے کچھ تجربات میں 96 فیصد تک سورج کی شعاعیں واپس منعکس کیں۔ اس کے نتیجے میں چھتوں کا درجہ حرارت اردگرد کے ماحول سے کئی ڈگری کم رہا اور بعض حالات میں بجلی سے چلنے والے ائیرکنڈیشنر کے استعمال میں بھی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181239014c5740f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181239014c5740f.webp'  alt='تصویر: بشکریہ سی این این' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصویر: بشکریہ سی این این&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال ہو جائے تو شہروں کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف سڈنی اور آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی (رائل میلبورن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے ماہرین بھی شامل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پینٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ہوا سے پانی جمع کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جب سطح ٹھنڈی رہتی ہے اور اردگرد کی ہوا گرم اور مرطوب ہو، تو نمی اس سطح پر پانی کی بوندوں کی شکل میں جمع ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ٹھنڈے گلاس کے باہر پانی کے قطرے بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تجربات میں دیکھا گیا کہ 200 مربع میٹر کی چھت ایک دن میں تقریباً 74 لیٹر پانی جمع کر سکتی ہے، اگر ہوا میں نمی مناسب ہو۔ کمپنی کے مطابق یہ پانی مکمل طور پر گھر کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا، لیکن اضافی ذریعہ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505497/china-5-2-magnitude-earthquake-kills-2-collapses-13-buildings'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505497"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے سربراہ کے مطابق یہ نظام خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ مؤثر ہے جہاں نمی زیادہ ہو، جیسے ساحلی علاقے یا گرم و مرطوب خطے مثلاً سنگاپور یا امازون بیسن۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ کارکردگی موسم، ہوا اور نمی کے مطابق بدل سکتی ہے۔ اس کے باوجود اسے مستقبل میں شہروں کے لیے ایک اہم ماحولیاتی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پینٹ کو مارکیٹ میں لانے کے لیے کمپنی نے آسٹریلوی ادارے ہیمز پینٹ کے ساتھ بھی شراکت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر اس کی قیمت اور کارکردگی عام صارفین کے لیے موزوں رہی تو یہ ٹیکنالوجی عام گھروں تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ توانائی کے استعمال اور کاربن اخراج میں کمی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں، جبکہ کچھ حد تک پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب دنیا بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور پانی کی شدید کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، تو محققین ایسے حل تلاش کر رہے ہیں جو سادہ بھی ہوں اور مؤثر بھی، اور جو ہماری روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکیں۔ آسٹریلیا کے محققین نے ان دونوں مسائل کے حل کے لیے ایک نئی نینو انجینیئرڈ پینٹ تیار کی ہے جو ایک ساتھ ان دونوں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/science/dewpoint-paint-cool-home-water-harvest-climate-c2e-spc">سی این این</a> کے مطابق یہ منصوبہ یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کیارا نیٹو اور منگ چیو کے خیال سے شروع ہوا، جنہوں نے سوچا کہ کیا ایسی چھت تیار کی جا سکتی ہے جو سورج کی گرمی کم کرے اور فضا سے پانی بھی جمع کرے۔ بعد میں اس تحقیق سے ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ڈیو پوائنٹ انوویشنز وجود میں آئی، جس کا مقصد عمارتوں کے ڈیزائن کو زیادہ ماحول دوست بنانا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505498/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505498"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق شہروں میں کنکریٹ اور چھتیں سورج کی حرارت جذب کرکے درجہ حرارت بڑھا دیتی ہیں، جسے ”اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کو کم کرنے کے لیے اس نئے پینٹ میں خاص نینو میٹریلز استعمال کیے گئے ہیں جو ”پیسو ریڈی ایٹو کولنگ“ کے ذریعے سورج کی زیادہ تر توانائی واپس فضا میں منعکس کر دیتے ہیں اور سطح کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔</p>
<p>ابتدائی تجربات میں اس پینٹ نے عام سفید پینٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی۔ ماہرین کے مطابق عام سفید پینٹ تقریباً 70 سے 80 فیصد سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے، جبکہ اس نئی کوٹنگ نے کچھ تجربات میں 96 فیصد تک سورج کی شعاعیں واپس منعکس کیں۔ اس کے نتیجے میں چھتوں کا درجہ حرارت اردگرد کے ماحول سے کئی ڈگری کم رہا اور بعض حالات میں بجلی سے چلنے والے ائیرکنڈیشنر کے استعمال میں بھی کمی دیکھی گئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181239014c5740f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181239014c5740f.webp'  alt='تصویر: بشکریہ سی این این' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصویر: بشکریہ سی این این</figcaption>
    </figure>
<p>اس منصوبے میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال ہو جائے تو شہروں کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف سڈنی اور آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی (رائل میلبورن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے ماہرین بھی شامل رہے ہیں۔</p>
<p>اس پینٹ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ہوا سے پانی جمع کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جب سطح ٹھنڈی رہتی ہے اور اردگرد کی ہوا گرم اور مرطوب ہو، تو نمی اس سطح پر پانی کی بوندوں کی شکل میں جمع ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ٹھنڈے گلاس کے باہر پانی کے قطرے بنتے ہیں۔</p>
<p>ابتدائی تجربات میں دیکھا گیا کہ 200 مربع میٹر کی چھت ایک دن میں تقریباً 74 لیٹر پانی جمع کر سکتی ہے، اگر ہوا میں نمی مناسب ہو۔ کمپنی کے مطابق یہ پانی مکمل طور پر گھر کی ضرورت پوری نہیں کر سکتا، لیکن اضافی ذریعہ بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505497/china-5-2-magnitude-earthquake-kills-2-collapses-13-buildings'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505497"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے سربراہ کے مطابق یہ نظام خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ مؤثر ہے جہاں نمی زیادہ ہو، جیسے ساحلی علاقے یا گرم و مرطوب خطے مثلاً سنگاپور یا امازون بیسن۔</p>
<p>ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ کارکردگی موسم، ہوا اور نمی کے مطابق بدل سکتی ہے۔ اس کے باوجود اسے مستقبل میں شہروں کے لیے ایک اہم ماحولیاتی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس پینٹ کو مارکیٹ میں لانے کے لیے کمپنی نے آسٹریلوی ادارے ہیمز پینٹ کے ساتھ بھی شراکت کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر اس کی قیمت اور کارکردگی عام صارفین کے لیے موزوں رہی تو یہ ٹیکنالوجی عام گھروں تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ توانائی کے استعمال اور کاربن اخراج میں کمی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں، جبکہ کچھ حد تک پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505495</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 12:52:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1812390154db564.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1812390154db564.webp"/>
        <media:title>سڈنی کا ڈی پوائنٹ</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا موت کے بعد کسی کے فون کا لاک کھولا جاسکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505466/can-a-phone-be-unlocked-after-death</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل نے کئی سال قبل آئی فون صارفین کے لیے فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی، جس کے ذریعے چہرے کی شناخت سے فون کو محفوظ طریقے سے لاک اور ان لاک کیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دیگر اسمارٹ فون کمپنیوں نے بھی فیشل ریکگنیشن فیچر اپنایا، جبکہ وقت کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی مزید جدید اور محفوظ ہوتی چلی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کا کہنا ہے کہ چونکہ صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں محفوظ ہوتی ہیں، اس لیے ان ڈیوائسز کی سیکیورٹی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکن ایئر لائنز کے سابق سی ای او کپیلا چندرسینا کی حال ہی میں وفات کے بعد ان کے آئی فون تک رسائی سے متعلق تحقیقات نے فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی شخص کی موت کے بعد اس کے چہرے کے ذریعے فون ان لاک کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے تقریباً نو برس قبل آئی فون ایکس کے ساتھ فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی، جس کے ذریعے صارف اپنے چہرے کی شناخت سے فون ان لاک کر سکتے ہیں۔ اب یہ ٹیکنالوجی جدید آئی فون ماڈلز تک پہنچ چکی ہے اور اسے انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505432/digitalphenotyping-mentalhealth-depressionawareness-smartphonetechnology-artificialintelligence-digitalhealth-techinnovation'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی ’ٹرو ڈیپتھ‘ کیمرہ سسٹم کے ذریعے چہرے کے ہزاروں غیر مرئی نقاط کا تجزیہ کرتا ہے اور ایک تھری ڈی نقشہ تیار کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا فون کے محفوظ سسٹم میں انکرپٹ ہو کر محفوظ رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ فیس آئی ڈی صرف تصاویر پر انحصار نہیں کرتا بلکہ یہ بھی جانچتا ہے کہ صارف کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ فون کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اسی لیے کسی دوسرے شخص کے لیے خفیہ طور پر فون کھولنا آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اس حد تک جدید ہے کہ بعض صورتوں میں زندہ اور مردہ شخص میں فرق بھی کر سکتی ہے۔ اگر صرف ایک ہی چہرہ رجسٹر ہو تو کسی اور کے ذریعے فون ان لاک ہونے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505195/claude-blackmailed-and-threatened-engineer-to-avoid-shutdown-anthropic-now-knows-why'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505195"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین کے مطابق بعض ڈیجیٹل فارنزک ٹولز کے ذریعے مخصوص حالات میں فون سے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فون کے ماڈل اور سیکیورٹی سسٹم پر منحصر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2016 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سان برنارڈینو حملے کے ملزم کا آئی فون ایپل کی مدد کے بغیر کھول لیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی Cellebrite نے اس کام میں مدد فراہم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے فون تک رسائی کے قانونی اور اخلاقی پہلو بھی اہم ہیں اور عدالت کے حکم کے بغیر کمپنیوں کے لیے صارف کا ڈیٹا فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے صارفین کے لیے ’لیگیسی کانٹیکٹ‘ نامی سہولت بھی متعارف کر رکھی ہے، جس کے ذریعے کوئی صارف اپنی وفات کے بعد کسی قابلِ اعتماد شخص کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی دے سکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ افراد کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ درخواست دینا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل نے کئی سال قبل آئی فون صارفین کے لیے فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی، جس کے ذریعے چہرے کی شناخت سے فون کو محفوظ طریقے سے لاک اور ان لاک کیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دیگر اسمارٹ فون کمپنیوں نے بھی فیشل ریکگنیشن فیچر اپنایا، جبکہ وقت کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی مزید جدید اور محفوظ ہوتی چلی گئی۔</strong></p>
<p>ایپل کا کہنا ہے کہ چونکہ صارفین کی ذاتی اور مالی معلومات اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس میں محفوظ ہوتی ہیں، اس لیے ان ڈیوائسز کی سیکیورٹی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔</p>
<p>سری لنکن ایئر لائنز کے سابق سی ای او کپیلا چندرسینا کی حال ہی میں وفات کے بعد ان کے آئی فون تک رسائی سے متعلق تحقیقات نے فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی شخص کی موت کے بعد اس کے چہرے کے ذریعے فون ان لاک کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ایپل نے تقریباً نو برس قبل آئی فون ایکس کے ساتھ فیس آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی، جس کے ذریعے صارف اپنے چہرے کی شناخت سے فون ان لاک کر سکتے ہیں۔ اب یہ ٹیکنالوجی جدید آئی فون ماڈلز تک پہنچ چکی ہے اور اسے انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505432/digitalphenotyping-mentalhealth-depressionawareness-smartphonetechnology-artificialintelligence-digitalhealth-techinnovation'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505432"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی ’ٹرو ڈیپتھ‘ کیمرہ سسٹم کے ذریعے چہرے کے ہزاروں غیر مرئی نقاط کا تجزیہ کرتا ہے اور ایک تھری ڈی نقشہ تیار کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا فون کے محفوظ سسٹم میں انکرپٹ ہو کر محفوظ رہتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ فیس آئی ڈی صرف تصاویر پر انحصار نہیں کرتا بلکہ یہ بھی جانچتا ہے کہ صارف کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ فون کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اسی لیے کسی دوسرے شخص کے لیے خفیہ طور پر فون کھولنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p>سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اس حد تک جدید ہے کہ بعض صورتوں میں زندہ اور مردہ شخص میں فرق بھی کر سکتی ہے۔ اگر صرف ایک ہی چہرہ رجسٹر ہو تو کسی اور کے ذریعے فون ان لاک ہونے کا امکان انتہائی کم ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505195/claude-blackmailed-and-threatened-engineer-to-avoid-shutdown-anthropic-now-knows-why'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505195"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم ماہرین کے مطابق بعض ڈیجیٹل فارنزک ٹولز کے ذریعے مخصوص حالات میں فون سے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فون کے ماڈل اور سیکیورٹی سسٹم پر منحصر ہوتا ہے۔</p>
<p>2016 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سان برنارڈینو حملے کے ملزم کا آئی فون ایپل کی مدد کے بغیر کھول لیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی Cellebrite نے اس کام میں مدد فراہم کی تھی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے فون تک رسائی کے قانونی اور اخلاقی پہلو بھی اہم ہیں اور عدالت کے حکم کے بغیر کمپنیوں کے لیے صارف کا ڈیٹا فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔</p>
<p>ایپل نے صارفین کے لیے ’لیگیسی کانٹیکٹ‘ نامی سہولت بھی متعارف کر رکھی ہے، جس کے ذریعے کوئی صارف اپنی وفات کے بعد کسی قابلِ اعتماد شخص کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی دے سکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ افراد کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ درخواست دینا ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505466</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 14:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1714521125b7439.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1714521125b7439.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'انسٹاگرام تو لڑکیاں چلاتی ہیں': ایلون مسک کا طنز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505453/instagram-is-run-by-girls-elon-musks-sarcastic-remark</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کے مالک اوردنیا کی امیر ترین کاروباری شخصیت ایلون مسک اپنے عجیب و غریب بیانات کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں۔ اب انہوں نے انسٹاگرام کو ”لڑکیوں کا پلیٹ فارم“ قرار دے کر سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ پر لوگ مذاق میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی تصاویر یا کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک بھی اس گفتگو میں شامل ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا کہ انسٹاگرام لڑکیوں کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب لوگوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تو انہوں نے اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک اور پوسٹ کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوسری پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ بعض اوقات بڑے مرد مجھے اپنے انسٹاگرام پروفائلز بھیجتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ کیا آپ لڑکے سے لڑکی بن رہے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کے اس بیان پر بہت سے لوگ ناراض بھی ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ انسٹاگرام پر شیئر ہونے والی چیزیں غیر سنجیدہ ہوتی ہیں اور مردوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک اکثر ایسی باتیں صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ لوگ انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں بحث کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی کمپنی ایکس کو دوسری کمپنیوں سے بہتر دکھانا چاہتے ہیں۔ اس طنز و مزاح کے پیچھے ان کا اصل مقصد اپنے پلیٹ فارم ایکس کی تشہیر کرنا اور حریف کمپنیوں کو نیچا دکھانا معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440459/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کے ساتھ ان کی پرانی دشمنی ہے۔ اسی لیے ایلون مسک نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ صرف ایکس ہی ایک سچا اور کھلاپلیٹ فارم ہے، جبکہ باقی سوشل میڈیا کمپنیاں بند دروازوں کے پیچھے دھوکہ دہی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صارفین کو ایکس پر شفٹ ہونے کا مشورہ بھی دیا تاکہ ”آڈیو اور ویڈیو کالز زیادہ محفوظ“ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے وہ واٹس ایپ کے بارے میں بھی کہہ چکے ہیں کہ واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں کو کال کرنے کے لیے ایکس کا استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اس نئے بیان نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ مسک کے بیانات کو صرف مذاق یا بحث کے لیے سمجھتے ہیں، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے جنس اور سوشل میڈیا کلچر کے بارے میں متنازع نظریات کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کے مالک اوردنیا کی امیر ترین کاروباری شخصیت ایلون مسک اپنے عجیب و غریب بیانات کی وجہ سے ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں۔ اب انہوں نے انسٹاگرام کو ”لڑکیوں کا پلیٹ فارم“ قرار دے کر سوشل میڈیا پر ہلچل مچادی ہے۔</strong></p>
<p>یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب انٹرنیٹ پر لوگ مذاق میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے مختلف حصوں میں سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی تصاویر یا کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔</p>
<p>ایلون مسک بھی اس گفتگو میں شامل ہو گئے اور انہوں نے ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا کہ انسٹاگرام لڑکیوں کے لیے ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504122/elon-musk-says-openai-was-his-idea-before-executives-looted-it'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب لوگوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تو انہوں نے اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ایک اور پوسٹ کر دی۔</p>
<p>اس دوسری پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ بعض اوقات بڑے مرد مجھے اپنے انسٹاگرام پروفائلز بھیجتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ کیا آپ لڑکے سے لڑکی بن رہے ہیں؟</p>
<p>ایلون مسک کے اس بیان پر بہت سے لوگ ناراض بھی ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ انسٹاگرام پر شیئر ہونے والی چیزیں غیر سنجیدہ ہوتی ہیں اور مردوں کو یہ زیب نہیں دیتا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک اکثر ایسی باتیں صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ لوگ انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں بحث کریں۔</p>
<p>اس سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی کمپنی ایکس کو دوسری کمپنیوں سے بہتر دکھانا چاہتے ہیں۔ اس طنز و مزاح کے پیچھے ان کا اصل مقصد اپنے پلیٹ فارم ایکس کی تشہیر کرنا اور حریف کمپنیوں کو نیچا دکھانا معلوم ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440459/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440459"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انسٹاگرام اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کے ساتھ ان کی پرانی دشمنی ہے۔ اسی لیے ایلون مسک نے ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ صرف ایکس ہی ایک سچا اور کھلاپلیٹ فارم ہے، جبکہ باقی سوشل میڈیا کمپنیاں بند دروازوں کے پیچھے دھوکہ دہی کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے صارفین کو ایکس پر شفٹ ہونے کا مشورہ بھی دیا تاکہ ”آڈیو اور ویڈیو کالز زیادہ محفوظ“ ہوں۔</p>
<p>اس سے پہلے وہ واٹس ایپ کے بارے میں بھی کہہ چکے ہیں کہ واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور لوگوں کو کال کرنے کے لیے ایکس کا استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>ان کے اس نئے بیان نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگ مسک کے بیانات کو صرف مذاق یا بحث کے لیے سمجھتے ہیں، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے جنس اور سوشل میڈیا کلچر کے بارے میں متنازع نظریات کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505453</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 10:54:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/17104821d5948c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/17104821d5948c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فون، آپ کا ڈپریشن ڈاکٹر سے پہلے کیسے جان لیتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505432/digitalphenotyping-mentalhealth-depressionawareness-smartphonetechnology-artificialintelligence-digitalhealth-techinnovation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا تیزی سے اس دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف سہولت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ انسانی جذبات، عادات اور نفسیاتی کیفیت کو بھی سمجھنے لگی ہے۔ وہ چیزیں جو کبھی سائنس فکشن فلموں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، اب حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہی حیران کن پیش رفتوں میں ایک نئی اصطلاح ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ بھی شامل ہے، جس کے ذریعے اسمارٹ فون انسان کی ذہنی کیفیت، خصوصاً ڈپریشن، کے ابتدائی آثار کو محسوس کرنے سے پہلے ہی شناخت کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل فینوٹائپنگ ایک ایسا جدید طریقہ ہے جس میں سمارٹ فونز، اسمارٹ واچز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے ذریعے انسانی رویوں، حرکات اور روزمرہ کی عادات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں فون کے سینسرز، لوکیشن ہسٹری، اسکرین ٹائم، ٹائپنگ پیٹرن، نیند کے معمولات اور سوشل سرگرمیوں جیسے عوامل کو جمع کر کے ایک ایسا ”ڈیجیٹل خاکہ“ تیار کیا جاتا ہے جو کسی فرد کی نفسیاتی حالت کی عکاسی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503509/eating-screen-time-kids-health-risk'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503509"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی آف میڈیسن کی ایک تحقیق نے اس تصوّر کو مزید تقویت دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو ڈپریشن کا شکار تھے، وہ روزانہ اپنے فون پر غیر معمولی حد تک زیادہ وقت گزارتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں شامل متاثرہ افراد کی اوسط فون استعمال کا دورانیہ تقریباً 68 منٹ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ذہنی طور پر صحت مند افراد کی اوسط صرف 17 منٹ تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کے استعمال کا بڑھتا ہوا وقت، محدود نقل و حرکت اور سماجی سرگرمیوں میں کمی ذہنی دباؤ اور تنہائی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ کی اصطلاح کو متعارف کرواتے ہوئے اسے انسانی رویے کی لمحہ بہ لمحہ پیمائش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ہر کلک، ہر سوائپ، ہر قدم اور ہر ٹیکسٹ میسج دراصل ایک چھوٹا سا ڈیٹا پوائنٹ بن جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہی بے شمار ڈیجیٹل نشانات مل کر انسان کی ایک منفرد ”ڈیجیٹل شناخت“ تشکیل دیتے ہیں، جو اس کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں حیران کن حد تک درست معلومات فراہم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جدید اسمارٹ فونز اب صرف رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ انسانی رویوں کے خاموش مبصر بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے لگے، فون کالز کم کر دے، رات گئے تک اسکرین استعمال کرے یا ٹائپنگ کی رفتار میں غیر معمولی تبدیلی آئے تو یہ تمام عوامل ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30344071'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نفسیاتی تحقیق سے وابستہ جریدوں میں شائع ہونے والی متعدد رپورٹس نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ڈیجیٹل رویوں کا تجزیہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں مریض کے علامات ظاہر کرنے سے پہلے ہی ابتدائی مدد فراہم کرنا ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس ٹیکنالوجی نے جہاں طبی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں پرائیویسی اور ذاتی آزادی سے متعلق سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جذبات، عادات اور ذہنی کیفیت کا ڈیٹا مسلسل جمع کیا جاتا رہا تو یہ معلومات غلط ہاتھوں میں جا کر خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک حقیقت واضح دکھائی دیتی ہے کہ آنے والے وقت میں سمارٹ فون صرف ہمارے رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں گے بلکہ وہ ہماری ذہنی اور جذباتی زندگی کے خاموش تجزیہ کار بھی بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا تیزی سے اس دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف سہولت کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ انسانی جذبات، عادات اور نفسیاتی کیفیت کو بھی سمجھنے لگی ہے۔ وہ چیزیں جو کبھی سائنس فکشن فلموں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، اب حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔</strong></p>
<p>انہی حیران کن پیش رفتوں میں ایک نئی اصطلاح ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ بھی شامل ہے، جس کے ذریعے اسمارٹ فون انسان کی ذہنی کیفیت، خصوصاً ڈپریشن، کے ابتدائی آثار کو محسوس کرنے سے پہلے ہی شناخت کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل فینوٹائپنگ ایک ایسا جدید طریقہ ہے جس میں سمارٹ فونز، اسمارٹ واچز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے ذریعے انسانی رویوں، حرکات اور روزمرہ کی عادات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس عمل میں فون کے سینسرز، لوکیشن ہسٹری، اسکرین ٹائم، ٹائپنگ پیٹرن، نیند کے معمولات اور سوشل سرگرمیوں جیسے عوامل کو جمع کر کے ایک ایسا ”ڈیجیٹل خاکہ“ تیار کیا جاتا ہے جو کسی فرد کی نفسیاتی حالت کی عکاسی کر سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503509/eating-screen-time-kids-health-risk'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503509"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی آف میڈیسن کی ایک تحقیق نے اس تصوّر کو مزید تقویت دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو ڈپریشن کا شکار تھے، وہ روزانہ اپنے فون پر غیر معمولی حد تک زیادہ وقت گزارتے تھے۔</p>
<p>تحقیق میں شامل متاثرہ افراد کی اوسط فون استعمال کا دورانیہ تقریباً 68 منٹ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ذہنی طور پر صحت مند افراد کی اوسط صرف 17 منٹ تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فون کے استعمال کا بڑھتا ہوا وقت، محدود نقل و حرکت اور سماجی سرگرمیوں میں کمی ذہنی دباؤ اور تنہائی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ”ڈیجیٹل فینوٹائپنگ“ کی اصطلاح کو متعارف کرواتے ہوئے اسے انسانی رویے کی لمحہ بہ لمحہ پیمائش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ہر کلک، ہر سوائپ، ہر قدم اور ہر ٹیکسٹ میسج دراصل ایک چھوٹا سا ڈیٹا پوائنٹ بن جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہی بے شمار ڈیجیٹل نشانات مل کر انسان کی ایک منفرد ”ڈیجیٹل شناخت“ تشکیل دیتے ہیں، جو اس کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں حیران کن حد تک درست معلومات فراہم کر سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جدید اسمارٹ فونز اب صرف رابطے یا تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ انسانی رویوں کے خاموش مبصر بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے لگے، فون کالز کم کر دے، رات گئے تک اسکرین استعمال کرے یا ٹائپنگ کی رفتار میں غیر معمولی تبدیلی آئے تو یہ تمام عوامل ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30344071'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344071"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نفسیاتی تحقیق سے وابستہ جریدوں میں شائع ہونے والی متعدد رپورٹس نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ڈیجیٹل رویوں کا تجزیہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں مریض کے علامات ظاہر کرنے سے پہلے ہی ابتدائی مدد فراہم کرنا ممکن ہوگا۔</p>
<p>تاہم اس ٹیکنالوجی نے جہاں طبی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں پرائیویسی اور ذاتی آزادی سے متعلق سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جذبات، عادات اور ذہنی کیفیت کا ڈیٹا مسلسل جمع کیا جاتا رہا تو یہ معلومات غلط ہاتھوں میں جا کر خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہیں۔</p>
<p>ٹیکنالوجی کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ایک حقیقت واضح دکھائی دیتی ہے کہ آنے والے وقت میں سمارٹ فون صرف ہمارے رابطے کا ذریعہ نہیں رہیں گے بلکہ وہ ہماری ذہنی اور جذباتی زندگی کے خاموش تجزیہ کار بھی بن سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505432</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 17:41:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1615481274a2007.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1615481274a2007.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت کے رحم و کرم پر چلنے والا نیا ملک: بانی خود اپنے ہی فیصلے سے خوفزدہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505428/artificial-intelligence-ai-model-sensayisland-futuretechnology-aigovernment-micronation-techinnovation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اے آئی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں، جہاں مصنوعی ذہانت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہی ہے وہاں فلپائن کے خوبصورت جزیرے ’پالاوان‘ میں ایک ایسا منفرد تجربہ شروع کیا گیا ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/travel/country-governed-by-ai-sensay-philippines"&gt;سی این این&lt;/a&gt; کے مطابق ٹیکنالوجی فاؤنڈر ڈین تھامسن نے جزیرے کو ”اے آئی کے ذریعے چلنے والا ملک“ قرار دیتے ہوئے ایک ایسے نظامِ حکومت کا تصور پیش کیا ہے جہاں فیصلے انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کرے گی، اور یہی خیال مستقبل کی سیاست اور حکمرانی کے بارے میں نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ریاست نہیں ہے۔ اس تجربے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں حکومت انسانوں کے بجائے ”اے آئی سسٹمز“ کے ذریعے چلانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منفرد جزیرے کو ”سین سے آئی لینڈ“  کا نام دیا گیا ہے اور اسے چلانے کے لیے تاریخ کے عظیم لیڈروں کے افکار پر مبنی ڈیجیٹل کرداروں کی ایک کابینہ بنائی گئی ہے۔ ان کرداروں میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل، رومی شہنشاہ مارکس اوریلیئس، نیلسن منڈیلا، مہاتما گاندھی، اور لیونارڈو ڈاونچی جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498023'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498023"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تمام کرداروں کو ان کی زندگی میں لکھی گئی کتابوں، تقریروں اور تاریخی دستاویزات کے ڈیٹا کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ ڈین تھامسن کا ماننا ہے کہ کمپیوٹر سے چلنے والے یہ لیڈرز کسی ذاتی مفاد، رشوت ستانی یا سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بغیر، بالکل غیر جانبدار ہو کر صرف ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر سکتے ہیں، جس سے موجودہ دور کے کرپٹ سیاسی نظام سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو ایک شفاف متبادل مل سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس جزیرے کو تاحال کوئی بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور اس کی مستقل آبادی میں فی الحال جزیرے کی دیکھ بھال کرنے والا یا نگران صرف ایک شخص ہے جس کا نام مائیک ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر سے اب تک 12 ہزار سے زائد افراد نے اس کے ’ای-رہائشی‘ بننے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ منصوبے کے تحت یہ رہائشی انٹرنیٹ کے ذریعے جزیرے کے قوانین اور پالیسیوں کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں گے، جس پر یہ اے آئی کابینہ آپس میں بحث کرے گی اور پھر ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460598'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460598"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر ان فیصلوں پر عمل درآمد انسان کریں گے، لیکن مستقبل میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ یہ نظام اتنا خود مختار ہو جائے گا کہ ڈیجیٹل حکومت اپنے بینک اکاؤنٹس اور کرپٹو والیٹس کے ذریعے خود ہی مزدور اور ٹھیکیدار ہائر کر کے جزیرے کے ترقیاتی کام کروا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈین تھامسن کے مطابق جزیرہ بہت بڑا نہیں، تاہم وہاں تقریباً 30 ولاز تعمیر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہاں زیادہ تر سیاح آئیں گے، جبکہ کچھ مستقل رہائشیوں کے قیام کا امکان بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ فلپائن کے علاقے کورون آئی لینڈ اور آس پاس کے دیگر جزائر سے آنے والے سیاح اس جزیرے کا رخ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، مصنوعی ذہانت کے ماہرین اس پورے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایتھکس ان اے آئی کی ایک ماہر الونڈرا نیلسن نے اس دعوے کو بالکل مضحکہ خیز اور غیر جمہوری قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس خیال پر ماہرین نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ اسے ریاستی معاملات جیسے حساس اور پیچیدہ نظام کا مکمل اختیار دیا جا سکے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اے آئی کبھی کبھار غلط یا نقصان دہ فیصلے بھی کر سکتا ہے، اور اگر اسے مکمل اختیار دے دیا جائے تو یہ خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی ایک کمپنی یا شخص کے کنٹرول میں ایسا نظام ہو تو اسے واقعی جمہوری کیسے کہا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30439383'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30439383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے بانی خود بھی اس بات پر مکمل یقین نہیں رکھتے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا۔ وہ اسے ایک ”سوشل ایکسپیریمنٹ“ قرار دیتے ہیں، جس میں نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس نظام میں سب سے بڑا چیلنج انسانوں کا کردار ہے، کیونکہ لوگ اے آئی کو ایسے فیصلوں کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں جو طاقت کے غلط استعمال یا توسیع پسندی پر مبنی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجربہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا مستقبل میں واقعی حکومتیں ’اے آئی‘  کے حوالے کی جا سکتی ہیں، یا یہ سب صرف ایک تجرباتی خیال ہے جو انسان اور مشین کے تعلق کی حدوں کو آزمانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ فی الحال سین سے آئی لینڈ ایک حقیقی ریاست سے زیادہ ایک تجرباتی لیبارٹری محسوس ہوتا ہے جہاں ٹیکنالوجی، سیاست اور اخلاقیات کے درمیان نئی سرحدیں تلاش کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اے آئی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں، جہاں مصنوعی ذہانت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہی ہے وہاں فلپائن کے خوبصورت جزیرے ’پالاوان‘ میں ایک ایسا منفرد تجربہ شروع کیا گیا ہے جس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/travel/country-governed-by-ai-sensay-philippines">سی این این</a> کے مطابق ٹیکنالوجی فاؤنڈر ڈین تھامسن نے جزیرے کو ”اے آئی کے ذریعے چلنے والا ملک“ قرار دیتے ہوئے ایک ایسے نظامِ حکومت کا تصور پیش کیا ہے جہاں فیصلے انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کرے گی، اور یہی خیال مستقبل کی سیاست اور حکمرانی کے بارے میں نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔</p>
<p>یہ کوئی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ریاست نہیں ہے۔ اس تجربے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں حکومت انسانوں کے بجائے ”اے آئی سسٹمز“ کے ذریعے چلانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس منفرد جزیرے کو ”سین سے آئی لینڈ“  کا نام دیا گیا ہے اور اسے چلانے کے لیے تاریخ کے عظیم لیڈروں کے افکار پر مبنی ڈیجیٹل کرداروں کی ایک کابینہ بنائی گئی ہے۔ ان کرداروں میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل، رومی شہنشاہ مارکس اوریلیئس، نیلسن منڈیلا، مہاتما گاندھی، اور لیونارڈو ڈاونچی جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498023'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498023"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان تمام کرداروں کو ان کی زندگی میں لکھی گئی کتابوں، تقریروں اور تاریخی دستاویزات کے ڈیٹا کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ ڈین تھامسن کا ماننا ہے کہ کمپیوٹر سے چلنے والے یہ لیڈرز کسی ذاتی مفاد، رشوت ستانی یا سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے بغیر، بالکل غیر جانبدار ہو کر صرف ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کر سکتے ہیں، جس سے موجودہ دور کے کرپٹ سیاسی نظام سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو ایک شفاف متبادل مل سکے گا۔</p>
<p>اگرچہ اس جزیرے کو تاحال کوئی بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور اس کی مستقل آبادی میں فی الحال جزیرے کی دیکھ بھال کرنے والا یا نگران صرف ایک شخص ہے جس کا نام مائیک ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر سے اب تک 12 ہزار سے زائد افراد نے اس کے ’ای-رہائشی‘ بننے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ منصوبے کے تحت یہ رہائشی انٹرنیٹ کے ذریعے جزیرے کے قوانین اور پالیسیوں کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں گے، جس پر یہ اے آئی کابینہ آپس میں بحث کرے گی اور پھر ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460598'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460598"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی طور پر ان فیصلوں پر عمل درآمد انسان کریں گے، لیکن مستقبل میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ یہ نظام اتنا خود مختار ہو جائے گا کہ ڈیجیٹل حکومت اپنے بینک اکاؤنٹس اور کرپٹو والیٹس کے ذریعے خود ہی مزدور اور ٹھیکیدار ہائر کر کے جزیرے کے ترقیاتی کام کروا سکے گی۔</p>
<p>ڈین تھامسن کے مطابق جزیرہ بہت بڑا نہیں، تاہم وہاں تقریباً 30 ولاز تعمیر کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہاں زیادہ تر سیاح آئیں گے، جبکہ کچھ مستقل رہائشیوں کے قیام کا امکان بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ فلپائن کے علاقے کورون آئی لینڈ اور آس پاس کے دیگر جزائر سے آنے والے سیاح اس جزیرے کا رخ کریں گے۔</p>
<p>دوسری طرف، مصنوعی ذہانت کے ماہرین اس پورے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایتھکس ان اے آئی کی ایک ماہر الونڈرا نیلسن نے اس دعوے کو بالکل مضحکہ خیز اور غیر جمہوری قرار دیا ہے۔</p>
<p>تاہم اس خیال پر ماہرین نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ اسے ریاستی معاملات جیسے حساس اور پیچیدہ نظام کا مکمل اختیار دیا جا سکے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اے آئی کبھی کبھار غلط یا نقصان دہ فیصلے بھی کر سکتا ہے، اور اگر اسے مکمل اختیار دے دیا جائے تو یہ خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی ایک کمپنی یا شخص کے کنٹرول میں ایسا نظام ہو تو اسے واقعی جمہوری کیسے کہا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30439383'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30439383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے بانی خود بھی اس بات پر مکمل یقین نہیں رکھتے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا۔ وہ اسے ایک ”سوشل ایکسپیریمنٹ“ قرار دیتے ہیں، جس میں نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس نظام میں سب سے بڑا چیلنج انسانوں کا کردار ہے، کیونکہ لوگ اے آئی کو ایسے فیصلوں کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں جو طاقت کے غلط استعمال یا توسیع پسندی پر مبنی ہوں۔</p>
<p>یہ تجربہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا مستقبل میں واقعی حکومتیں ’اے آئی‘  کے حوالے کی جا سکتی ہیں، یا یہ سب صرف ایک تجرباتی خیال ہے جو انسان اور مشین کے تعلق کی حدوں کو آزمانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ فی الحال سین سے آئی لینڈ ایک حقیقی ریاست سے زیادہ ایک تجرباتی لیبارٹری محسوس ہوتا ہے جہاں ٹیکنالوجی، سیاست اور اخلاقیات کے درمیان نئی سرحدیں تلاش کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505428</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 15:32:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/16150533cb33b6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1328">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/16150533cb33b6f.webp"/>
        <media:title>تصویر: اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برمودا ٹرائینگل کا معمہ 'حل'؟ سائنسدانوں نے جزیرے کے نیچے چھپا ڈھانچہ دریافت کر لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505417/bermudatriangle-sciencenews-geology-earthscience-discovery-mantle-research</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بحرِ اوقیانوس کا مشہور جزیرہ برمودا اپنے پراسرار واقعات اور ’برمودا ٹرائینگل‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ طویل عرصے سے ماہرینِ ارضیات کے لیے ایک بڑی پہیلی بنا ہوا تھا، جس کے سائنسی رازوں سے پردہ اٹھانا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدان حیران تھے کہ برمودا کے آتش فشاں تقریباً 3 کروڑ سال سے خاموش ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ جزیرہ اپنے آس پاس کے سمندری فرش سے تقریباً 1,600 فٹ کی غیر معمولی بلندی پر کیسے برقرار ہے؟ حال ہی میں امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق زمین کی اندرونی ساخت اور برمودا جزیرے کے نیچے چھپے ایک ایسے ارضیاتی راز کو فاش کرتی ہے جس نے سائنسدانوں کو طویل عرصے سے الجھن میں ڈال رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنیگی سائنس کے ماہرِ زلزلہ ولیم فرئیزر اور ییل یونیورسٹی کے جیفری پارک کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برمودا کے نیچے زمین کی ایک ایسی منفرد ساخت موجود ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔ یہ تحقیق مشہور سائنسی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://agupubs.onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1029/2025GL118279"&gt;’جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز’&lt;/a&gt; میں شائع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/245699'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/245699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر ’ہوائی‘ جیسے آتش فشانی جزیرے زمین کی گہرائی سے اٹھنے والے گرم اور پگھلے ہوئے چٹانی کالموں کی وجہ سے بنتے ہیں، جو سمندری فرش کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ آتش فشانی عمل رک جاتا ہے، تو وہ جزیرے دوبارہ نیچے بیٹھ جاتے ہیں، لیکن برمودا کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا اور وہ اب بھی اونچائی پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے سائنسدانوں نے دنیا بھر میں آنے والے بڑے زلزلوں کی لہروں کا سہارا لیا۔ یہ لہریں جب زمین کے اندر سے گزرتی ہیں، تو اندرونی مادے کی کثافت کے حساب سے ان کی رفتار بدل جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برمودا میں نصب زلزلہ پیما مرکز کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سائنسدانوں نے جزیرے کے نیچے تقریباً 20 میل گہرائی تک کا ایک اندرونی نقشہ تیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نقشے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ جزیرے کی اوپری سطح کے بالکل نیچے 12 میل سے زیادہ موٹی چٹان کی ایک ایسی پرت  موجود ہے جو اپنے آس پاس کی زمین کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ زمین کے نیچے پگھلی ہوئی گرم چٹانوں کے اوپر اٹھنے کے بجائے، یہ ہلکی چٹان ایک ’فلوٹنگ رافٹ‘ یعنی سمندری تختے کی طرح کام کر رہی ہے، جس نے برمودا اور اس کے سمندری فرش کو اوپر کی طرف اٹھا کر سنبھالا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چٹان کی یہ موٹی پرت کروڑوں سال پہلے اس وقت بنی تھی جب برمودا میں آتش فشاں پھٹتے تھے اور کاربن سے بھرپور پگھلا ہوا مادہ زمین کی اوپری سطح کے نیچے جمع ہو کر ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ یہ مادہ شاید اس دور کا ہے جب دنیا کے تمام براعظم ایک ساتھ جڑے ہوئے تھے اور اسے ’پینجیا‘ کہا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہلکی چٹانی تہہ ایک بہت بڑے ”کوشنز“ یا ”بیڑے“ کی طرح کام کر رہی ہے۔ یہ اپنے ہلکے پن اور اچھال کی قوت کی وجہ سے پورے برمودا جزیرے کو سمندر کے اوپر اٹھائے ہوئے ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پانی میں تھرماکول یا لکڑی کا بڑا تختہ تیرتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461885'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461885"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آسان الفاظ میں برمودا جزیرہ زمین کے نیچے کسی گرمی یا لاوے کے دباؤ کی وجہ سے اوپر نہیں ٹکا ہوا، بلکہ وہ اپنے نیچے موجود ایک بہت بڑی، ہلکی اور مضبوط چٹانی لائف جیکٹ کی وجہ سے کروڑوں سالوں سے سمندر کے اوپر سکون سے تیر رہا ہے اور ڈوبنے سے بچا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ تہہ نہ ہوتی، تو سمندری لہریں برمودا کے اوپری حصے کو کاٹ کر برابر کر دیتیں اور یہ جزیرہ پانی کے اندر چھپا ہوا ایک چپٹا پہاڑ بن جاتا، جسے ارضیات کی زبان میں ”گیوٹ“ یا سی ماؤنٹ کہتے ہیں۔ یعنی آج نقشے پر برمودا نام کا کوئی جزیرہ نہ ہوتا، بلکہ وہ بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں کہیں گم ایک پہاڑ ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ ہلکی چٹانی تہہ نہ ہوتی، تو برمودا کروڑوں سال پہلے ہی سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہو کر ایک گمنام پہاڑ بن چکا ہوتا۔ یہ تہہ ہی ہے جس نے اسے ایک ”خلائی پُل“ کی طرح پانی سے باہر سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے سربراہ ولیم فریزر کا کہنا ہے کہ برمودا زمین کے روایتی ماڈل پر پورا نہیں اترتا، جس کی وجہ سے یہ تحقیق کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔ اب وہ دنیا کے دیگر جزائر کے نیچے بھی ایسی ہی ساختیں تلاش کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا برمودا دنیا کا واحد منفرد جزیرہ ہے یا پھر زمین کے اندر ایسے مزید راز بھی چھپے ہوئے ہیں جو ہم اب تک نہیں جانتے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بحرِ اوقیانوس کا مشہور جزیرہ برمودا اپنے پراسرار واقعات اور ’برمودا ٹرائینگل‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ طویل عرصے سے ماہرینِ ارضیات کے لیے ایک بڑی پہیلی بنا ہوا تھا، جس کے سائنسی رازوں سے پردہ اٹھانا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔</strong></p>
<p>سائنسدان حیران تھے کہ برمودا کے آتش فشاں تقریباً 3 کروڑ سال سے خاموش ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ جزیرہ اپنے آس پاس کے سمندری فرش سے تقریباً 1,600 فٹ کی غیر معمولی بلندی پر کیسے برقرار ہے؟ حال ہی میں امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے۔</p>
<p>یہ تحقیق زمین کی اندرونی ساخت اور برمودا جزیرے کے نیچے چھپے ایک ایسے ارضیاتی راز کو فاش کرتی ہے جس نے سائنسدانوں کو طویل عرصے سے الجھن میں ڈال رکھا تھا۔</p>
<p>کارنیگی سائنس کے ماہرِ زلزلہ ولیم فرئیزر اور ییل یونیورسٹی کے جیفری پارک کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برمودا کے نیچے زمین کی ایک ایسی منفرد ساخت موجود ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔ یہ تحقیق مشہور سائنسی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://agupubs.onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1029/2025GL118279">’جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز’</a> میں شائع ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/245699'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/245699"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر ’ہوائی‘ جیسے آتش فشانی جزیرے زمین کی گہرائی سے اٹھنے والے گرم اور پگھلے ہوئے چٹانی کالموں کی وجہ سے بنتے ہیں، جو سمندری فرش کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ آتش فشانی عمل رک جاتا ہے، تو وہ جزیرے دوبارہ نیچے بیٹھ جاتے ہیں، لیکن برمودا کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا اور وہ اب بھی اونچائی پر قائم ہے۔</p>
<p>اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے سائنسدانوں نے دنیا بھر میں آنے والے بڑے زلزلوں کی لہروں کا سہارا لیا۔ یہ لہریں جب زمین کے اندر سے گزرتی ہیں، تو اندرونی مادے کی کثافت کے حساب سے ان کی رفتار بدل جاتی ہے۔</p>
<p>برمودا میں نصب زلزلہ پیما مرکز کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے سائنسدانوں نے جزیرے کے نیچے تقریباً 20 میل گہرائی تک کا ایک اندرونی نقشہ تیار کیا۔</p>
<p>اس نقشے سے ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ جزیرے کی اوپری سطح کے بالکل نیچے 12 میل سے زیادہ موٹی چٹان کی ایک ایسی پرت  موجود ہے جو اپنے آس پاس کی زمین کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ زمین کے نیچے پگھلی ہوئی گرم چٹانوں کے اوپر اٹھنے کے بجائے، یہ ہلکی چٹان ایک ’فلوٹنگ رافٹ‘ یعنی سمندری تختے کی طرح کام کر رہی ہے، جس نے برمودا اور اس کے سمندری فرش کو اوپر کی طرف اٹھا کر سنبھالا ہوا ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چٹان کی یہ موٹی پرت کروڑوں سال پہلے اس وقت بنی تھی جب برمودا میں آتش فشاں پھٹتے تھے اور کاربن سے بھرپور پگھلا ہوا مادہ زمین کی اوپری سطح کے نیچے جمع ہو کر ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ یہ مادہ شاید اس دور کا ہے جب دنیا کے تمام براعظم ایک ساتھ جڑے ہوئے تھے اور اسے ’پینجیا‘ کہا جاتا تھا۔</p>
<p>یہ ہلکی چٹانی تہہ ایک بہت بڑے ”کوشنز“ یا ”بیڑے“ کی طرح کام کر رہی ہے۔ یہ اپنے ہلکے پن اور اچھال کی قوت کی وجہ سے پورے برمودا جزیرے کو سمندر کے اوپر اٹھائے ہوئے ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پانی میں تھرماکول یا لکڑی کا بڑا تختہ تیرتا رہتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30461885'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30461885"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آسان الفاظ میں برمودا جزیرہ زمین کے نیچے کسی گرمی یا لاوے کے دباؤ کی وجہ سے اوپر نہیں ٹکا ہوا، بلکہ وہ اپنے نیچے موجود ایک بہت بڑی، ہلکی اور مضبوط چٹانی لائف جیکٹ کی وجہ سے کروڑوں سالوں سے سمندر کے اوپر سکون سے تیر رہا ہے اور ڈوبنے سے بچا ہوا ہے۔</p>
<p>اگر یہ تہہ نہ ہوتی، تو سمندری لہریں برمودا کے اوپری حصے کو کاٹ کر برابر کر دیتیں اور یہ جزیرہ پانی کے اندر چھپا ہوا ایک چپٹا پہاڑ بن جاتا، جسے ارضیات کی زبان میں ”گیوٹ“ یا سی ماؤنٹ کہتے ہیں۔ یعنی آج نقشے پر برمودا نام کا کوئی جزیرہ نہ ہوتا، بلکہ وہ بحرِ اوقیانوس کی گہرائیوں میں کہیں گم ایک پہاڑ ہوتا۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ ہلکی چٹانی تہہ نہ ہوتی، تو برمودا کروڑوں سال پہلے ہی سمندر کی گہرائیوں میں غرق ہو کر ایک گمنام پہاڑ بن چکا ہوتا۔ یہ تہہ ہی ہے جس نے اسے ایک ”خلائی پُل“ کی طرح پانی سے باہر سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>تحقیق کے سربراہ ولیم فریزر کا کہنا ہے کہ برمودا زمین کے روایتی ماڈل پر پورا نہیں اترتا، جس کی وجہ سے یہ تحقیق کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔ اب وہ دنیا کے دیگر جزائر کے نیچے بھی ایسی ہی ساختیں تلاش کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا برمودا دنیا کا واحد منفرد جزیرہ ہے یا پھر زمین کے اندر ایسے مزید راز بھی چھپے ہوئے ہیں جو ہم اب تک نہیں جانتے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505417</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 12:48:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/16125619d893ecb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/16125619d893ecb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈرون ناکارہ بنانے کی مہارت سیکھنے والے 12 سالہ بچے کے خاندان پر ڈرون حملہ، پھر کیا ہوا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505414/drone-attack-ukraine-ukraine-conflict-russia-ukraine-war-breakingnews-world-news-fiber-optic-drones</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین کی جنگ میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہو چکا ہے، وہاں ایک 12 سالہ بچے نے اپنی ذہانت اور بہادری سے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا۔ یوکرین کے سرحدی گاؤں کے رہائشی اناطولی پروخورینکو نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک ایسے مہلک ڈرون کا رخ موڑا جو اس کے چھوٹے بہن بھائیوں اور دیگر بچوں پر حملے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اناطولی یوکرین کے شمالی علاقے چيرنی ہيف کے ایک ایسے چھوٹے سے زرعی گاؤں میں رہتا ہے جو روسی سرحد سے محض 7 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس علاقے میں ڈرون حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک شام، جب اناطولی اپنے پڑوسی کے باغ میں ناشپاتی کے درخت پر چڑھ کر ایک خراب ٹہنی کاٹ رہا تھا، تو اسے فضا میں ایک مانوس گونج سنائی دی۔ یہ ایک سیاہ رنگ کا کواڈ کاپٹر یعنی ڈرون تھا جو زمین سے کچھ ہی اوپر اڑتا ہوا آرہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اناطولی نے دیکھا کہ ڈرون نے زمین پر کھیلتے ہوئے بچوں کو، جن میں اس کے تین چھوٹے بہن بھائی بھی شامل تھے، دیکھ لیا تھا اور وہ ان پر حملہ کرنے کے لیے اونچائی کی طرف برح رہا تھا۔ اس نازک موقع پر اناطولی کو ایک فوجی سے ہونے والی ملاقات یاد آگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505337'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہ قبل، اناطولی اپنے والد کے ساتھ قریبی جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا جب اس کی ملاقات ایک ماہر فوجی سے ہوئی جس کا علامتی نام  ”ڈائنامو“ تھا۔ وہ فوجی ایک انتہائی باریک اور چمکدار تار سے کچھ کام کر رہا تھا۔ اناطولی کے پوچھنے پر فوجی نے بتایا کہ یہ فائبر آپٹک فلیمینٹ ہے، جسے ننگے ہاتھوں سے توڑنا ناممکن ہوتا ہے۔&lt;br&gt;فوجی نے بچے کو اس تار کو مخصوص انداز میں گھما کر اور چٹکی کاٹ کر توڑنے کی تین خاص تکنیکیں سکھائیں تھیں۔ فوجی نے یہ نصیحت بھی کی تھی کہ کارروائی سے پہلے  15 تک گنتی گن لینا تاکہ ڈرون آپریٹر کی نظروں میں نہ آؤ، اس کے بعد  تار کو توڑنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخت پر موجود اناطولی نے فوری طور پر ڈرون کے پیچھے لٹکتے ہوئے اسی باریک چمکدار فائبر آپٹک تار کو تلاش کیا۔ جیسے ہی نشانہ واضح ہوا، وہ درخت سے نیچے کودا، تیزی سے دوڑا اور اس نے اپنے ہاتھوں میں وہ باریک تار پکڑ لی، جس کا دوسرا سرا روس میں بیٹھے آپریٹر کے کنٹرولر سے جڑا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505156'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وقت کی کمی کے باعث وہ پوری 15 گنتی تو نہ گن سکا، لیکن اس نے 10 تک گنتی گنی اور فوجی کی بتائی ہوئی تکنیک کے مطابق تار کو جھٹکا دے کر توڑ دیا۔ تار ٹوٹتے ہی ڈرون کا رابطہ اپنے آپریٹر سے منقطع ہو گیا، وہ فضا میں لہرایا اور بچوں کی طرف بڑھنے کے بجائے قریبی دلدلی علاقے میں جا گرا۔ اس طرح ایک بڑا حادثہ ٹل گیا اور بچوں کی جانیں محفوظ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود بارود کے ماہر فوجی ”ڈائنامو“ نے امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/world/2026/05/15/russian-drones-hunt-ukrainians-human-safari-boy-fought-back/"&gt;’دی واشنگٹن پوسٹ’&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ جو کام عام طور پر تربیت یافتہ فوجی بھی سیکنڈوں میں نہیں کر پاتے، وہ ایک بچے نے کر دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کی جنگ میں عام شہریوں کو چھوٹے تجارتی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا سلسلہ گزشتہ دو سالوں سے جاری ہے۔ روس نے خرسون کے علاقے سے اس حربے کا آغاز کیا جہاں عام شہریوں، سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں پر سستے ایف پی وی ڈرونز سے حملے کیے جاتے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک آزاد کمیشن کی اپریل 2025 کی رپورٹ کے مطابق، ان حملوں میں ماہانہ 42 شہری ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نے شروع میں ان ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے جیمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا تاکہ ان کے ریڈیو سگنلز کو بلاک کیا جا سکے۔ اس کے جواب میں روس نے فائبر آپٹک ٹیتھر ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا۔ اس ٹیکنالوجی میں ڈرون کے پیچھے 12 میل لمبی باریک تار لٹکتی ہے، جس کے ذریعے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ڈرون ریڈیو سگنلز پر انحصار نہیں کرتے، اس لیے انہیں جیمنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنانا ناممکن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505129'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505129"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس بہادری کے بعد 12 سالہ اناطولی کو پورے یوکرین میں ایک ہیرو کے طور پر سراہا گیا، لیکن اس شہرت کے بعد روسی ٹیلی گرام چینلز پر اسے اور اس کے خاندان کو آن لائن دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر، اس کے 7 افراد پر مشتمل خاندان کو اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا اورچيرنی ہیف میں کرائے کے دو کمروں کے ایک فلیٹ میں منتقل ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنگ زدہ یوکرین کے اس حصے میں، جہاں 12 سال کے بچوں کو ہوم ورک اور کھیلوں میں مصروف ہونا چاہیے، وہاں ایک بچے کو اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کے لیے ڈرون ناکارہ بنانے جیسی خطرناک مہارتوں کا جاننا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین کی جنگ میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہو چکا ہے، وہاں ایک 12 سالہ بچے نے اپنی ذہانت اور بہادری سے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا۔ یوکرین کے سرحدی گاؤں کے رہائشی اناطولی پروخورینکو نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک ایسے مہلک ڈرون کا رخ موڑا جو اس کے چھوٹے بہن بھائیوں اور دیگر بچوں پر حملے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔</strong></p>
<p>اناطولی یوکرین کے شمالی علاقے چيرنی ہيف کے ایک ایسے چھوٹے سے زرعی گاؤں میں رہتا ہے جو روسی سرحد سے محض 7 میل کے فاصلے پر ہے۔ اس علاقے میں ڈرون حملے ایک معمول بن چکے ہیں۔</p>
<p>ایک شام، جب اناطولی اپنے پڑوسی کے باغ میں ناشپاتی کے درخت پر چڑھ کر ایک خراب ٹہنی کاٹ رہا تھا، تو اسے فضا میں ایک مانوس گونج سنائی دی۔ یہ ایک سیاہ رنگ کا کواڈ کاپٹر یعنی ڈرون تھا جو زمین سے کچھ ہی اوپر اڑتا ہوا آرہا تھا۔</p>
<p>اناطولی نے دیکھا کہ ڈرون نے زمین پر کھیلتے ہوئے بچوں کو، جن میں اس کے تین چھوٹے بہن بھائی بھی شامل تھے، دیکھ لیا تھا اور وہ ان پر حملہ کرنے کے لیے اونچائی کی طرف برح رہا تھا۔ اس نازک موقع پر اناطولی کو ایک فوجی سے ہونے والی ملاقات یاد آگئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505337'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505337"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کچھ ماہ قبل، اناطولی اپنے والد کے ساتھ قریبی جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا جب اس کی ملاقات ایک ماہر فوجی سے ہوئی جس کا علامتی نام  ”ڈائنامو“ تھا۔ وہ فوجی ایک انتہائی باریک اور چمکدار تار سے کچھ کام کر رہا تھا۔ اناطولی کے پوچھنے پر فوجی نے بتایا کہ یہ فائبر آپٹک فلیمینٹ ہے، جسے ننگے ہاتھوں سے توڑنا ناممکن ہوتا ہے۔<br>فوجی نے بچے کو اس تار کو مخصوص انداز میں گھما کر اور چٹکی کاٹ کر توڑنے کی تین خاص تکنیکیں سکھائیں تھیں۔ فوجی نے یہ نصیحت بھی کی تھی کہ کارروائی سے پہلے  15 تک گنتی گن لینا تاکہ ڈرون آپریٹر کی نظروں میں نہ آؤ، اس کے بعد  تار کو توڑنا۔</p>
<p>درخت پر موجود اناطولی نے فوری طور پر ڈرون کے پیچھے لٹکتے ہوئے اسی باریک چمکدار فائبر آپٹک تار کو تلاش کیا۔ جیسے ہی نشانہ واضح ہوا، وہ درخت سے نیچے کودا، تیزی سے دوڑا اور اس نے اپنے ہاتھوں میں وہ باریک تار پکڑ لی، جس کا دوسرا سرا روس میں بیٹھے آپریٹر کے کنٹرولر سے جڑا ہوا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505156'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وقت کی کمی کے باعث وہ پوری 15 گنتی تو نہ گن سکا، لیکن اس نے 10 تک گنتی گنی اور فوجی کی بتائی ہوئی تکنیک کے مطابق تار کو جھٹکا دے کر توڑ دیا۔ تار ٹوٹتے ہی ڈرون کا رابطہ اپنے آپریٹر سے منقطع ہو گیا، وہ فضا میں لہرایا اور بچوں کی طرف بڑھنے کے بجائے قریبی دلدلی علاقے میں جا گرا۔ اس طرح ایک بڑا حادثہ ٹل گیا اور بچوں کی جانیں محفوظ رہیں۔</p>
<p>خود بارود کے ماہر فوجی ”ڈائنامو“ نے امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/world/2026/05/15/russian-drones-hunt-ukrainians-human-safari-boy-fought-back/">’دی واشنگٹن پوسٹ’</a> سے بات کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ جو کام عام طور پر تربیت یافتہ فوجی بھی سیکنڈوں میں نہیں کر پاتے، وہ ایک بچے نے کر دکھایا۔</p>
<p>یوکرین کی جنگ میں عام شہریوں کو چھوٹے تجارتی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا سلسلہ گزشتہ دو سالوں سے جاری ہے۔ روس نے خرسون کے علاقے سے اس حربے کا آغاز کیا جہاں عام شہریوں، سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں پر سستے ایف پی وی ڈرونز سے حملے کیے جاتے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک آزاد کمیشن کی اپریل 2025 کی رپورٹ کے مطابق، ان حملوں میں ماہانہ 42 شہری ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہو رہے تھے۔</p>
<p>یوکرین نے شروع میں ان ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے جیمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا تاکہ ان کے ریڈیو سگنلز کو بلاک کیا جا سکے۔ اس کے جواب میں روس نے فائبر آپٹک ٹیتھر ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا۔ اس ٹیکنالوجی میں ڈرون کے پیچھے 12 میل لمبی باریک تار لٹکتی ہے، جس کے ذریعے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ڈرون ریڈیو سگنلز پر انحصار نہیں کرتے، اس لیے انہیں جیمنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنانا ناممکن ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505129'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505129"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس بہادری کے بعد 12 سالہ اناطولی کو پورے یوکرین میں ایک ہیرو کے طور پر سراہا گیا، لیکن اس شہرت کے بعد روسی ٹیلی گرام چینلز پر اسے اور اس کے خاندان کو آن لائن دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر، اس کے 7 افراد پر مشتمل خاندان کو اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا اورچيرنی ہیف میں کرائے کے دو کمروں کے ایک فلیٹ میں منتقل ہونا پڑا۔</p>
<p>یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنگ زدہ یوکرین کے اس حصے میں، جہاں 12 سال کے بچوں کو ہوم ورک اور کھیلوں میں مصروف ہونا چاہیے، وہاں ایک بچے کو اپنی اور اپنے خاندان کی بقا کے لیے ڈرون ناکارہ بنانے جیسی خطرناک مہارتوں کا جاننا ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505414</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 11:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/161102353cf3b75.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/161102353cf3b75.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھروں کے عام پودے میں چھپا ریاضی کا پیچیدہ راز، جسے کھوجنے میں صدیاں لگ گئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505408/chinese-money-plant-mathematics-voronoi-diagram-plant-biology-scientific-discovery-geometry-natural-algorithms</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فطرت اپنے اندر ایسے گہرے قوانین چھپائے ہوئے ہے جنہیں سمجھنے میں انسان کو صدیوں کا سفر طے کرنا پڑا۔ ایک حالیہ سائنسی انکشاف نے ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ کس قدر ایک خودکار الگورتھم کے تحت متحرک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے ممتاز تحقیقی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nature.com/articles/s41467-026-71768-3"&gt;”کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری“&lt;/a&gt; کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گھروں میں سجاوٹ کے لیے رکھا جانے والا عام سا پودا، چائنیز منی پلانٹ، جسے سائنسی دنیا میں پیلیا پیپرومائڈز کہتے ہیں، اپنے وجود میں ریاضی کا ایک ایسا شاہکار چھپائے ہوئے ہے جسے انسان نے طویل علمی ارتقا کے بعد ڈی کوڈ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پودا، جسے لوگ اکثر خوش قسمتی اور محبت کے اظہار کے لیے ایک دوسرے کو تحفے میں دیتے ہیں، دراصل اپنے پتوں کی ساخت میں ایک خاموش ریاضی دان کی طرح کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مطابق، اس پودے کے پتے خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خاص ہندسوں یا حساب کا اصول استعمال کرتے ہیں،سائنسدانوں نے ان پوائنٹس اور رگوں کا تفصیلی نقشہ بنایا، تو انہوں نے دیکھا کہ یہ ساخت بڑی کیلکولیٹڈ اور حیران کن تھی جسے ریاضی کی اصطلاح میں ورونوئی ڈایاگرام  کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503845/plants-feel-hear-sound'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انسانی دنیا میں یہ نظام کوئی معمولی چیز نہیں ہے، ہم اسے بڑے شہروں کی جدید ترین منصوبہ بندی، پیچیدہ کمپیوٹر نیٹ ورکس اور خلائی ریاضی میں استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ کسی بھی مخصوص جگہ کو مختلف حصوں میں اس طرح تقسیم کرتا ہے کہ ہر حصہ اپنے ایک مرکزی نقطے سے جڑا رہتا ہے۔ اس کی سادہ ترین مثال اسکولوں کے اضلاع کی ہے، جہاں شہر کی حدود کو اس طرح غیر مرئی خطوط سے تقسیم کیا جاتا ہے کہ ہر محلے کا بچہ اپنے قریب ترین اسکول تک آسانی سے پہنچ سکے۔ انسان کو اس منطقی حل تک پہنچنے میں صدیاں لگیں، مگر چائنیز منی پلانٹ یہ کارنامہ بغیر کسی پیمائشی آلے یا شعوری دماغ کے، محض اپنے فطری وجود سے انجام دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم اس پودے کے پتے کا گہرائی سے مشاہدہ کریں، تو اس کے پتے پر چھوٹے چھوٹے مسام نظر آتے ہیں جنہیں ہائیڈاتھوڈز کہا جاتا ہے۔ یہ مسام عام آنکھ سے باریک نقطوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، جن کے ذریعے پودا اپنے اندر کا اضافی پانی باہر نکالتا ہے۔ ان مساموں کے ارد گرد رگوں کا ایک انتہائی پیچیدہ اور خوبصورت جال بچھا ہوتا ہے جو پورے پتے کو زندگی بخشنے کے لیے پانی اور غذائیت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30260237'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30260237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب محققین نے ان مساموں اور رگوں کے باہمی تعلق کا سائنسی نقشہ تیار کیا، تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ یہ ڈھانچہ سو فیصد ورونوئی ڈایاگرام کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ رگوں کا ہر چھوٹا نیٹ ورک اپنے قریبی ترین مسام کو سب سے زیادہ مؤثر اور کم سے کم وقت میں خوراک پہنچانے کے لیے خود کو ترتیب دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دریافت پر روشنی ڈالتے ہوئے، کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کی محقق سی سی زینگ کہتی ہیں کہ جس طرح انسانوں کو بقا کے لیے اپنے مسائل حل کرنے پڑتے ہیں، بالکل اسی طرح کائنات کے دوسرے جاندار بھی اپنے وجود کی جنگ لڑتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ انسان فاصلوں کو ناپنے کے لیے پیمانے استعمال کرتا ہے، جبکہ پودے کسی بیرونی آلے کے محتاج نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اس پیچیدہ ریاضیاتی حل تک پہنچنے کے لیے صرف اپنے اندرونی اور لوکل بائیالوجیکل انٹرایکشنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پیٹرن کے پیچھے موجود حیاتیاتی راز کو جاننے کے لیے تحقیقی ٹیم نے پودوں کی رگوں کے عالمی ماہر، پروفیسر پرزیمیسلاو پروسینکیوِچ  کی خدمات حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسرپروسینکیوِچ کا کہنا ہے کہ پودوں کے وجود کا اس قدر ریاضیاتی ہونا حیرت انگیز ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پودوں میں رگوں کے بننے کا یہ معمہ دہائیوں سے حل طلب تھا، جس کا اب ایک منطقی اور حیاتیاتی جواب سامنے آ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498727'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق دراصل سائنس کے اس وسیع تر فکری شعبے کو تقویت دیتی ہے جو یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جاندار چیزیں بغیر کسی مادی دماغ، نقشے یا شعور کے، محض سادہ حیاتیاتی رابطوں کے ذریعے اتنے بڑے اور پیچیدہ مسائل کیسے حل کر لیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مطالعے کے سینئر مصنف اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ساکت نولکھا کا ماننا ہے کہ یہ دریافت کلاسیکل جیومیٹری، ماڈرن پلانٹ بائیولوجی  اور کمپیوٹر سائنس کا ایک حسین سنگم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا خیال ہے کہ قدرت کے ان پوشیدہ اور خودکار طریقوں یعنی الگورتھم کا گہرا مطالعہ مستقبل میں ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ریاضی کے آفاقی اصول کس طرح زندگی کی تشکیل، اس کے ارتقا اور پوری کائنات کے ڈیزائن کو ترتیب دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فطرت اپنے اندر ایسے گہرے قوانین چھپائے ہوئے ہے جنہیں سمجھنے میں انسان کو صدیوں کا سفر طے کرنا پڑا۔ ایک حالیہ سائنسی انکشاف نے ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ کس قدر ایک خودکار الگورتھم کے تحت متحرک ہے۔</strong></p>
<p>امریکا کے ممتاز تحقیقی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nature.com/articles/s41467-026-71768-3">”کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری“</a> کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گھروں میں سجاوٹ کے لیے رکھا جانے والا عام سا پودا، چائنیز منی پلانٹ، جسے سائنسی دنیا میں پیلیا پیپرومائڈز کہتے ہیں، اپنے وجود میں ریاضی کا ایک ایسا شاہکار چھپائے ہوئے ہے جسے انسان نے طویل علمی ارتقا کے بعد ڈی کوڈ کیا تھا۔</p>
<p>یہ پودا، جسے لوگ اکثر خوش قسمتی اور محبت کے اظہار کے لیے ایک دوسرے کو تحفے میں دیتے ہیں، دراصل اپنے پتوں کی ساخت میں ایک خاموش ریاضی دان کی طرح کام کر رہا ہے۔</p>
<p>اس تحقیق کے مطابق، اس پودے کے پتے خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خاص ہندسوں یا حساب کا اصول استعمال کرتے ہیں،سائنسدانوں نے ان پوائنٹس اور رگوں کا تفصیلی نقشہ بنایا، تو انہوں نے دیکھا کہ یہ ساخت بڑی کیلکولیٹڈ اور حیران کن تھی جسے ریاضی کی اصطلاح میں ورونوئی ڈایاگرام  کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503845/plants-feel-hear-sound'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انسانی دنیا میں یہ نظام کوئی معمولی چیز نہیں ہے، ہم اسے بڑے شہروں کی جدید ترین منصوبہ بندی، پیچیدہ کمپیوٹر نیٹ ورکس اور خلائی ریاضی میں استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>اس نظام کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ کسی بھی مخصوص جگہ کو مختلف حصوں میں اس طرح تقسیم کرتا ہے کہ ہر حصہ اپنے ایک مرکزی نقطے سے جڑا رہتا ہے۔ اس کی سادہ ترین مثال اسکولوں کے اضلاع کی ہے، جہاں شہر کی حدود کو اس طرح غیر مرئی خطوط سے تقسیم کیا جاتا ہے کہ ہر محلے کا بچہ اپنے قریب ترین اسکول تک آسانی سے پہنچ سکے۔ انسان کو اس منطقی حل تک پہنچنے میں صدیاں لگیں، مگر چائنیز منی پلانٹ یہ کارنامہ بغیر کسی پیمائشی آلے یا شعوری دماغ کے، محض اپنے فطری وجود سے انجام دے رہا ہے۔</p>
<p>اگر ہم اس پودے کے پتے کا گہرائی سے مشاہدہ کریں، تو اس کے پتے پر چھوٹے چھوٹے مسام نظر آتے ہیں جنہیں ہائیڈاتھوڈز کہا جاتا ہے۔ یہ مسام عام آنکھ سے باریک نقطوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں، جن کے ذریعے پودا اپنے اندر کا اضافی پانی باہر نکالتا ہے۔ ان مساموں کے ارد گرد رگوں کا ایک انتہائی پیچیدہ اور خوبصورت جال بچھا ہوتا ہے جو پورے پتے کو زندگی بخشنے کے لیے پانی اور غذائیت فراہم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30260237'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30260237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب محققین نے ان مساموں اور رگوں کے باہمی تعلق کا سائنسی نقشہ تیار کیا، تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ یہ ڈھانچہ سو فیصد ورونوئی ڈایاگرام کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ رگوں کا ہر چھوٹا نیٹ ورک اپنے قریبی ترین مسام کو سب سے زیادہ مؤثر اور کم سے کم وقت میں خوراک پہنچانے کے لیے خود کو ترتیب دیتا ہے۔</p>
<p>اس دریافت پر روشنی ڈالتے ہوئے، کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کی محقق سی سی زینگ کہتی ہیں کہ جس طرح انسانوں کو بقا کے لیے اپنے مسائل حل کرنے پڑتے ہیں، بالکل اسی طرح کائنات کے دوسرے جاندار بھی اپنے وجود کی جنگ لڑتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ انسان فاصلوں کو ناپنے کے لیے پیمانے استعمال کرتا ہے، جبکہ پودے کسی بیرونی آلے کے محتاج نہیں ہوتے۔</p>
<p>وہ اس پیچیدہ ریاضیاتی حل تک پہنچنے کے لیے صرف اپنے اندرونی اور لوکل بائیالوجیکل انٹرایکشنز پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پیٹرن کے پیچھے موجود حیاتیاتی راز کو جاننے کے لیے تحقیقی ٹیم نے پودوں کی رگوں کے عالمی ماہر، پروفیسر پرزیمیسلاو پروسینکیوِچ  کی خدمات حاصل کیں۔</p>
<p>پروفیسرپروسینکیوِچ کا کہنا ہے کہ پودوں کے وجود کا اس قدر ریاضیاتی ہونا حیرت انگیز ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پودوں میں رگوں کے بننے کا یہ معمہ دہائیوں سے حل طلب تھا، جس کا اب ایک منطقی اور حیاتیاتی جواب سامنے آ چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498727'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498727"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تحقیق دراصل سائنس کے اس وسیع تر فکری شعبے کو تقویت دیتی ہے جو یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جاندار چیزیں بغیر کسی مادی دماغ، نقشے یا شعور کے، محض سادہ حیاتیاتی رابطوں کے ذریعے اتنے بڑے اور پیچیدہ مسائل کیسے حل کر لیتی ہیں۔</p>
<p>اس مطالعے کے سینئر مصنف اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ساکت نولکھا کا ماننا ہے کہ یہ دریافت کلاسیکل جیومیٹری، ماڈرن پلانٹ بائیولوجی  اور کمپیوٹر سائنس کا ایک حسین سنگم ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کا خیال ہے کہ قدرت کے ان پوشیدہ اور خودکار طریقوں یعنی الگورتھم کا گہرا مطالعہ مستقبل میں ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ریاضی کے آفاقی اصول کس طرح زندگی کی تشکیل، اس کے ارتقا اور پوری کائنات کے ڈیزائن کو ترتیب دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505408</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 09:59:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/16095508676fa86.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/16095508676fa86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل سرور کریش ہونے پر انٹرنیٹ کا استعمال کیسے جاری رکھیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505369/how-to-keep-using-the-internet-when-google-servers-crash</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیٹ کی دنیا میں گوگل ایک ایسی ضرورت بن چکا ہے جس کے بغیر آن لائن کام کا تصور بھی مشکل نظر آتا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں دنیا بھر کے لاکھوں صارفین کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب گوگل سرچ انجن اچانک بیٹھ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو کچھ بھی تلاش کرنے پر ’سرور ایرر‘ یا ’کچھ غلط ہو گیا ہے‘ جیسے پیغامات ملنے لگے۔ ایسی صورتحال میں جب انٹرنیٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ کام کرنا چھوڑ دے تو صارفین کے لیے اپنے روزمرہ کے کام جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے، کیونکہ پوری دنیا کا انٹرنیٹ نظام بڑی حد تک گوگل پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505130/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505130"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا ڈاؤن ہونا کوئی انوکھا یا مستقل واقعہ نہیں ہوتا بلکہ سرورز پر عارضی دباؤ یا خرابی کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر یہ مسئلہ دس سے تیس منٹ کے اندر خود ہی حل ہو جاتا ہے۔ تاہم صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ متبادل سرچ انجن اور اے آئی ٹولز کو اپنے فون اور کمپیوٹر پر پہلے سے تیار رکھیں تاکہ ان کا کام رکے بغیر جاری رہ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کا کام بہت ضروری ہے اور آپ گوگل کے ٹھیک ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے، تو چند آسان طریقوں اور متبادل سرچ انجنز کی مدد سے آپ اپنا کام بنا کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بھی گوگل پر سرچنگ میں کوئی مسئلہ آئے تو سب سے پہلے یہ تسلی کر لیں کہ آپ کا انٹرنیٹ کنکشن درست کام کر رہا ہے۔ اس کے لیے وائی فائی اور موبائل ڈیٹا دونوں کو باری باری چیک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے کمپیوٹر کے براؤزر کو ریفریش کریں یا کی بورڈ سے شارٹ کٹ بٹن دبا کر پیج کو دوبارہ لوڈ کریں۔ بعض اوقات براؤزر بدلنے سے بھی مسئلہ حل ہو جاتا ہے، اس لیے کروم کے علاوہ فائر فاکس یا مائیکروسافٹ ایج کا استعمال کر کے دیکھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503565/hidden-mobile-setting-empty-bank-account'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مسئلہ صرف آپ کے ساتھ ہے یا پوری دنیا میں گوگل بند ہے، تو ڈاؤن ڈیٹیکٹر نامی ویب سائٹ پر جا کر اس کی موجودہ صورتحال معلوم کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر گوگل مکمل طور پر بند ہو تو مائیکروسافٹ کا سرچ انجن ’بنگ‘ ایک بہترین اور مضبوط متبادل ثابت ہوتا ہے جو گوگل کی طرح ہی بہترین نتائج فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ جو صارفین اپنی رازداری اور سرچ ہسٹری کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ’ڈک ڈک گو‘ ایک بہترین انتخاب ہے۔ پرانے اور قابلِ بھروسہ سرچ انجنز میں ’یاہو سرچ‘ بھی ایک اچھا آپشن ہے جو اب بھی ٹھیک کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹولز نے معلومات کی تلاش کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اگر آپ کو کسی سوال کا تفصیلی جواب چاہیے تو آپ چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمنائی یا پرپلیکسٹی جیسے اے آئی پلیٹ فارمز سے براہِ راست مدد لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل صارفین کے لیے یہ مشورہ بھی مفید ہے کہ وہ اپنے فون میں وکی پیڈیا اور یوٹیوب جیسی ایپس کو تیار رکھیں اور ضرورت پڑنے پر براؤزر کے ڈیفالٹ سرچ انجن کو عارضی طور پر تبدیل کر دیں تاکہ گوگل ڈاؤن ہونے کی صورت میں بھی انٹرنیٹ کی دنیا سے ان کا رابطہ نہ ٹوٹے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیٹ کی دنیا میں گوگل ایک ایسی ضرورت بن چکا ہے جس کے بغیر آن لائن کام کا تصور بھی مشکل نظر آتا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں دنیا بھر کے لاکھوں صارفین کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب گوگل سرچ انجن اچانک بیٹھ گیا۔</strong></p>
<p>صارفین کو کچھ بھی تلاش کرنے پر ’سرور ایرر‘ یا ’کچھ غلط ہو گیا ہے‘ جیسے پیغامات ملنے لگے۔ ایسی صورتحال میں جب انٹرنیٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ کام کرنا چھوڑ دے تو صارفین کے لیے اپنے روزمرہ کے کام جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے، کیونکہ پوری دنیا کا انٹرنیٹ نظام بڑی حد تک گوگل پر انحصار کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505130/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505130"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کا ڈاؤن ہونا کوئی انوکھا یا مستقل واقعہ نہیں ہوتا بلکہ سرورز پر عارضی دباؤ یا خرابی کی وجہ سے ایسا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>عام طور پر یہ مسئلہ دس سے تیس منٹ کے اندر خود ہی حل ہو جاتا ہے۔ تاہم صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ متبادل سرچ انجن اور اے آئی ٹولز کو اپنے فون اور کمپیوٹر پر پہلے سے تیار رکھیں تاکہ ان کا کام رکے بغیر جاری رہ سکے۔</p>
<p>اگر آپ کا کام بہت ضروری ہے اور آپ گوگل کے ٹھیک ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے، تو چند آسان طریقوں اور متبادل سرچ انجنز کی مدد سے آپ اپنا کام بنا کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p>جب بھی گوگل پر سرچنگ میں کوئی مسئلہ آئے تو سب سے پہلے یہ تسلی کر لیں کہ آپ کا انٹرنیٹ کنکشن درست کام کر رہا ہے۔ اس کے لیے وائی فائی اور موبائل ڈیٹا دونوں کو باری باری چیک کریں۔</p>
<p>اپنے کمپیوٹر کے براؤزر کو ریفریش کریں یا کی بورڈ سے شارٹ کٹ بٹن دبا کر پیج کو دوبارہ لوڈ کریں۔ بعض اوقات براؤزر بدلنے سے بھی مسئلہ حل ہو جاتا ہے، اس لیے کروم کے علاوہ فائر فاکس یا مائیکروسافٹ ایج کا استعمال کر کے دیکھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503565/hidden-mobile-setting-empty-bank-account'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مسئلہ صرف آپ کے ساتھ ہے یا پوری دنیا میں گوگل بند ہے، تو ڈاؤن ڈیٹیکٹر نامی ویب سائٹ پر جا کر اس کی موجودہ صورتحال معلوم کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اگر گوگل مکمل طور پر بند ہو تو مائیکروسافٹ کا سرچ انجن ’بنگ‘ ایک بہترین اور مضبوط متبادل ثابت ہوتا ہے جو گوگل کی طرح ہی بہترین نتائج فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ جو صارفین اپنی رازداری اور سرچ ہسٹری کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ’ڈک ڈک گو‘ ایک بہترین انتخاب ہے۔ پرانے اور قابلِ بھروسہ سرچ انجنز میں ’یاہو سرچ‘ بھی ایک اچھا آپشن ہے جو اب بھی ٹھیک کام کرتا ہے۔</p>
<p>موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹولز نے معلومات کی تلاش کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اگر آپ کو کسی سوال کا تفصیلی جواب چاہیے تو آپ چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمنائی یا پرپلیکسٹی جیسے اے آئی پلیٹ فارمز سے براہِ راست مدد لے سکتے ہیں۔</p>
<p>موبائل صارفین کے لیے یہ مشورہ بھی مفید ہے کہ وہ اپنے فون میں وکی پیڈیا اور یوٹیوب جیسی ایپس کو تیار رکھیں اور ضرورت پڑنے پر براؤزر کے ڈیفالٹ سرچ انجن کو عارضی طور پر تبدیل کر دیں تاکہ گوگل ڈاؤن ہونے کی صورت میں بھی انٹرنیٹ کی دنیا سے ان کا رابطہ نہ ٹوٹے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505369</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 13:01:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/151301071daf2ca.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/151301071daf2ca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسانی خون میں چھپے دائمی کیمیکلز، کیا آپ بھی خطرے میں ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جدید دور میں انسان نے جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت بے پناہ آسائشیں حاصل کی ہیں، وہیں نادانستہ طور پر کچھ ایسے عناصر کو بھی جنم دیا ہے جو اب خود اس کی بقا کے لیے ایک خاموش خطرہ بن چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حالیہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/15459624.2025.2601605"&gt;سائنسی تحقیق&lt;/a&gt; نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ دنیا میں مصنوعی طور پر تیار کردہ کیمیکلز اب انسان کے وجود کا حصہ بن چکے ہیں، یہ کیمیکلز انسانی جسم میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کیمیکلز کوعام زبان میں ”فور ایور کیمیکلز“ کہا جاتا ہے، اور سائنسی طور پر انہیں ”پی ایف اے ایس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی کیمیکل فیملی ہے جس میں ہزاروں اقسام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کیمیکلز اپنی خصوصیات کی وجہ سے بہت مفید سمجھے جاتے رہے ہیں، کیونکہ یہ پانی، گرمی اور چکنائی کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں کپڑوں، فرنیچر، کھانے کی پیکیجنگ اور کئی صنعتی اشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کیمیکلز ماحول میں ٹوٹتے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ زمین، پانی اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں جمع ہوتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ 15 ہزار سے زائد ایسے کیمیکلز کا مجموعہ ہے جو قدرتی طور پر آسانی سے ختم یا تحلیل نہیں ہوتے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ کیمیکلز ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہ کپڑوں، فرنیچر اور کھانے پینے کی اشیاء کی پیکنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ ہماری خوراک، پانی اور پورے ماحولیاتی نظام میں شامل ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی ایک معروف تجربہ گاہ این ایم ایس لیبز کے محققین نے 10 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ عام لوگ ایک ہی وقت میں کتنے مختلف اقسام کے کیمیکلز کا شکار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ صرف 0.18 فیصد نمونے ایسے تھے جن میں صرف ایک ہی قسم کا کیمیکل پایا گیا، جبکہ اکثریت کے خون میں پانچ یا اس سے زیادہ مختلف کیمیکلز کا آمیزہ موجود تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ایک ساتھ اتنے سارے کیمیکلز کا انسانی جسم میں موجود ہونا ہماری صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے دوران کیمیکل ”پی ایف ایچ ایکس ایس“  تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا، جو عام طور پر کپڑوں، فرنیچر اور گوند میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اب اس کے استعمال پر پابندی لگا رہے ہیں کیونکہ اس کیمیکل کے جگر اور مدافعتی نظام  پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اس تحقیق میں صرف 13 عام کیمیکلز کی جانچ کی گئی تھی، اس لیے انسانی جسم میں ان کیمیکلز کی حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس ٹیسٹ سے صرف ان کیمیکلز کی موجودگی کا پتہ چلا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کتنی مقدار میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدان اب بھی اس بات کا حتمی تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کیمیکلز کی کتنی مقدار انسانی جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانوروں پر کی جانے والی مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیمیکلز عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں، دماغ میں تبدیلیاں لاتے ہیں اور بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، تاہم انسانوں پر اس کے براہِ راست اثرات کا سو فیصد ثبوت ملنا ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کیمیکلز کو روزمرہ مصنوعات سے ہٹانا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ چیزوں کو پانی، گرمی اور تیل سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اب حکومتیں ان کے استعمال کو محدود کرنے اور محفوظ متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معلومات مستقبل میں صحت عامہ کے رہنما اصول بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جدید دور میں انسان نے جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت بے پناہ آسائشیں حاصل کی ہیں، وہیں نادانستہ طور پر کچھ ایسے عناصر کو بھی جنم دیا ہے جو اب خود اس کی بقا کے لیے ایک خاموش خطرہ بن چکے ہیں۔</strong></p>
<p>ایک حالیہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tandfonline.com/doi/full/10.1080/15459624.2025.2601605">سائنسی تحقیق</a> نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ دنیا میں مصنوعی طور پر تیار کردہ کیمیکلز اب انسان کے وجود کا حصہ بن چکے ہیں، یہ کیمیکلز انسانی جسم میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتے۔</p>
<p>ان کیمیکلز کوعام زبان میں ”فور ایور کیمیکلز“ کہا جاتا ہے، اور سائنسی طور پر انہیں ”پی ایف اے ایس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی کیمیکل فیملی ہے جس میں ہزاروں اقسام شامل ہیں۔</p>
<p>یہ کیمیکلز اپنی خصوصیات کی وجہ سے بہت مفید سمجھے جاتے رہے ہیں، کیونکہ یہ پانی، گرمی اور چکنائی کے خلاف مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں کپڑوں، فرنیچر، کھانے کی پیکیجنگ اور کئی صنعتی اشیا میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔</p>
<p>لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کیمیکلز ماحول میں ٹوٹتے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ زمین، پانی اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں جمع ہوتے رہتے ہیں۔</p>
<p>یہ 15 ہزار سے زائد ایسے کیمیکلز کا مجموعہ ہے جو قدرتی طور پر آسانی سے ختم یا تحلیل نہیں ہوتے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ کیمیکلز ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ یہ کپڑوں، فرنیچر اور کھانے پینے کی اشیاء کی پیکنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آہستہ آہستہ ہماری خوراک، پانی اور پورے ماحولیاتی نظام میں شامل ہو چکے ہیں۔</p>
<p>امریکا کی ایک معروف تجربہ گاہ این ایم ایس لیبز کے محققین نے 10 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ عام لوگ ایک ہی وقت میں کتنے مختلف اقسام کے کیمیکلز کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>
<p>تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ صرف 0.18 فیصد نمونے ایسے تھے جن میں صرف ایک ہی قسم کا کیمیکل پایا گیا، جبکہ اکثریت کے خون میں پانچ یا اس سے زیادہ مختلف کیمیکلز کا آمیزہ موجود تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ایک ساتھ اتنے سارے کیمیکلز کا انسانی جسم میں موجود ہونا ہماری صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس تحقیق کے دوران کیمیکل ”پی ایف ایچ ایکس ایس“  تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا، جو عام طور پر کپڑوں، فرنیچر اور گوند میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اب اس کے استعمال پر پابندی لگا رہے ہیں کیونکہ اس کیمیکل کے جگر اور مدافعتی نظام  پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اس تحقیق میں صرف 13 عام کیمیکلز کی جانچ کی گئی تھی، اس لیے انسانی جسم میں ان کیمیکلز کی حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس ٹیسٹ سے صرف ان کیمیکلز کی موجودگی کا پتہ چلا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کتنی مقدار میں موجود ہیں۔</p>
<p>سائنسدان اب بھی اس بات کا حتمی تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کیمیکلز کی کتنی مقدار انسانی جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p>جانوروں پر کی جانے والی مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کیمیکلز عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں، دماغ میں تبدیلیاں لاتے ہیں اور بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، تاہم انسانوں پر اس کے براہِ راست اثرات کا سو فیصد ثبوت ملنا ابھی باقی ہے۔</p>
<p>ان کیمیکلز کو روزمرہ مصنوعات سے ہٹانا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ چیزوں کو پانی، گرمی اور تیل سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اب حکومتیں ان کے استعمال کو محدود کرنے اور محفوظ متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ محققین نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معلومات مستقبل میں صحت عامہ کے رہنما اصول بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505368</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 12:32:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/15122713a0c3eb0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/15122713a0c3eb0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ کے ہنرمندوں کا کمال: جنگ سے متاثرہ افراد کے مسائل حل کرنے کے لیے نئی ایپ تیار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505333/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ میں جاری مسلسل جنگ اور سنگین انسانی بحران کے باوجود، باصلاحیت نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کو بقا اور مدد کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، بجلی کا بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے کٹھن حالات بھی ان نوجوانوں کے حوصلے پست نہ کرسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/features/2026/5/13/theres-an-app-for-that-gazas-developers-use-tech-to-solve-war-problems"&gt;الجزیرہ کی ایک رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق غزہ کے نوجوان ڈویلپرز، جنگ کی تباہ کاریوں اور روزمرہ کے سنگین مسائل کا حل نکالنے کے لیے ٹیکنالوجی  کا سہارا لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحرانوں نے یہاں کے ’ٹیک سیکٹر‘ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جہاں اب ایپس  محض سہولت کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ کی بندش، بجلی کی قلت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے کٹھن حالات میں یہ ڈویلپرز ایسے جدید موبائل ایپلی کیشنز تیار کر رہے ہیں جو روزمرہ کے پیچیدہ مسائل، جیسے ٹرانسپورٹ کی کمی اور نقل مکانی کے دوران گمشدہ اشیاء کی تلاش، کا عملی حل فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ شہر میں ”طاقت غزہ“ نامی ایک مشترکہ ’کو ورکنگ اسپیس‘ ان ڈویلپرز کے لیے ایک جائے پناہ اور کام کا مرکز بن گئی ہے، جہاں موجود نوجوان ایسے ڈیجیٹل حل تیار کر رہے ہیں جو براہِ راست جنگی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505258'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505258"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہی ڈویلپرز میں 23 سالہ پروگرامر سجیٰ الغول شامل ہیں جنہوں نے ”وسیلنی“ نامی ایک موبائل ایپ تیار کی ہے، جس کا مقصد غزہ کے لوگوں کو سفر اور آمد و رفت میں پیش آنے والی مشکلات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کی وجہ سے غزہ میں ایندھن کی قلت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے حل کے لیے یہ ایپ لوگوں کو رائڈ شیئرنگ  کی سہولت دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ذریعے مسافر ایک ہی سمت جانے والی گاڑیوں میں اپنی سِیٹس بُک کر سکتے ہیں اور اخراجات آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ نقد رقم کی شدید کمی کو دیکھتے ہوئے اس ایپ میں ایک پری پیڈ الیکٹرانک والٹ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ادائیگیوں میں آسانی ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے 26 سالہ بہاء الملاحی نے ”رجّع لِی“ نامی پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ نقل مکانی کے دوران لوگوں کا سامان، اہم دستاویزات اور موبائل فونز بڑے پیمانے پر گم ہو گئے ہیں، جس کے لیے یہ ایپ ایک سینٹرل ڈیٹا بیس فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہاء اس ایپ کو مزید وسعت دے کر لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کسی مخصوص علاقے میں بچہ لاپتہ ہونے پر قریبی صارفین کو تصاویر کے ساتھ فوری الرٹ موصول ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”طاقت غزہ“ نامی ادارے کے بانی، انجینئر شریف نعیم بتاتے ہیں کہ یہ مرکز محض ایک دفتر نہیں بلکہ غزہ کے تباہ حال ٹیک سیکٹر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے دوران ہزاروں فری لانسرز بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے تھے، جنہیں اب یہ مرکز کام کے لیے محفوظ جگہ فراہم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504386/us-to-close-its-flagship-gaza-mission-as-trump-plan-stalls-sources-say'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504386"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ ’نالج گیپ‘ کو پر کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، کیونکہ جنگ کے دو سالوں کے دوران دنیا بھر میں اے آئی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی سے غزہ کے نوجوان کٹ کر رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام تر کوششوں کے باوجود ڈویلپرز کو کئی بڑے مالی اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ اے آئی کے ٹولز اور سافٹ ویئر کی سبسکرپشنز انتہائی مہنگی ہیں اور انٹرنیٹ و بجلی کا حصول ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ان ایپس کی بڑے پیمانے پر کامیابی کے لیے مقامی حکام کے تعاون اور عوام کے بھرپور اعتماد کی ضرورت ہے۔ شریف نعیم کے مطابق، غزہ کے یہ نوجوان اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر عملی حل تیار کر رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ اگر انہیں درست ماحول اور سرمایہ کاری ملے تو وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نامساعد حالات کا زیادہ بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ میں جاری مسلسل جنگ اور سنگین انسانی بحران کے باوجود، باصلاحیت نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کو بقا اور مدد کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، بجلی کا بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے کٹھن حالات بھی ان نوجوانوں کے حوصلے پست نہ کرسکے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/features/2026/5/13/theres-an-app-for-that-gazas-developers-use-tech-to-solve-war-problems">الجزیرہ کی ایک رپورٹ</a> کے مطابق غزہ کے نوجوان ڈویلپرز، جنگ کی تباہ کاریوں اور روزمرہ کے سنگین مسائل کا حل نکالنے کے لیے ٹیکنالوجی  کا سہارا لے رہے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحرانوں نے یہاں کے ’ٹیک سیکٹر‘ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جہاں اب ایپس  محض سہولت کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ کی بندش، بجلی کی قلت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے کٹھن حالات میں یہ ڈویلپرز ایسے جدید موبائل ایپلی کیشنز تیار کر رہے ہیں جو روزمرہ کے پیچیدہ مسائل، جیسے ٹرانسپورٹ کی کمی اور نقل مکانی کے دوران گمشدہ اشیاء کی تلاش، کا عملی حل فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>غزہ شہر میں ”طاقت غزہ“ نامی ایک مشترکہ ’کو ورکنگ اسپیس‘ ان ڈویلپرز کے لیے ایک جائے پناہ اور کام کا مرکز بن گئی ہے، جہاں موجود نوجوان ایسے ڈیجیٹل حل تیار کر رہے ہیں جو براہِ راست جنگی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کر سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505258'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505258"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہی ڈویلپرز میں 23 سالہ پروگرامر سجیٰ الغول شامل ہیں جنہوں نے ”وسیلنی“ نامی ایک موبائل ایپ تیار کی ہے، جس کا مقصد غزہ کے لوگوں کو سفر اور آمد و رفت میں پیش آنے والی مشکلات کم کرنے میں مدد دینا ہے۔</p>
<p>جنگ کی وجہ سے غزہ میں ایندھن کی قلت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے حل کے لیے یہ ایپ لوگوں کو رائڈ شیئرنگ  کی سہولت دیتی ہے۔</p>
<p>اس کے ذریعے مسافر ایک ہی سمت جانے والی گاڑیوں میں اپنی سِیٹس بُک کر سکتے ہیں اور اخراجات آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ نقد رقم کی شدید کمی کو دیکھتے ہوئے اس ایپ میں ایک پری پیڈ الیکٹرانک والٹ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ادائیگیوں میں آسانی ہو سکے۔</p>
<p>ایک اور اہم ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے 26 سالہ بہاء الملاحی نے ”رجّع لِی“ نامی پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ نقل مکانی کے دوران لوگوں کا سامان، اہم دستاویزات اور موبائل فونز بڑے پیمانے پر گم ہو گئے ہیں، جس کے لیے یہ ایپ ایک سینٹرل ڈیٹا بیس فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>بہاء اس ایپ کو مزید وسعت دے کر لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کسی مخصوص علاقے میں بچہ لاپتہ ہونے پر قریبی صارفین کو تصاویر کے ساتھ فوری الرٹ موصول ہو سکے۔</p>
<p>”طاقت غزہ“ نامی ادارے کے بانی، انجینئر شریف نعیم بتاتے ہیں کہ یہ مرکز محض ایک دفتر نہیں بلکہ غزہ کے تباہ حال ٹیک سیکٹر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔</p>
<p>جنگ کے دوران ہزاروں فری لانسرز بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے تھے، جنہیں اب یہ مرکز کام کے لیے محفوظ جگہ فراہم کر رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504386/us-to-close-its-flagship-gaza-mission-as-trump-plan-stalls-sources-say'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504386"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ ’نالج گیپ‘ کو پر کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، کیونکہ جنگ کے دو سالوں کے دوران دنیا بھر میں اے آئی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی سے غزہ کے نوجوان کٹ کر رہ گئے تھے۔</p>
<p>ان تمام تر کوششوں کے باوجود ڈویلپرز کو کئی بڑے مالی اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ اے آئی کے ٹولز اور سافٹ ویئر کی سبسکرپشنز انتہائی مہنگی ہیں اور انٹرنیٹ و بجلی کا حصول ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ان ایپس کی بڑے پیمانے پر کامیابی کے لیے مقامی حکام کے تعاون اور عوام کے بھرپور اعتماد کی ضرورت ہے۔ شریف نعیم کے مطابق، غزہ کے یہ نوجوان اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر عملی حل تیار کر رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ اگر انہیں درست ماحول اور سرمایہ کاری ملے تو وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نامساعد حالات کا زیادہ بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505333</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 15:52:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1415315790bb6b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1415315790bb6b3.webp"/>
        <media:title>سجیٰ الغول ٹیک ڈویلپر</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مصنوعی ذہانت صرف سوچنے پر ہی آپ کی ضرورت پوری کردے گی: اینتھروپک کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505330/ai-future-technology-office-productivity-holographic-assistant-automation-work-environment</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی دستک دے رہی ہے، اب آپ کو کمپیوٹر یا موبائل کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت خود ہی آپ کی ضرورت کو بھانپ لے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعی ذہانت کے جدید نظام تیار کرنے والی امریکی کمپنی اینتھروپک کی ایگزیکٹو کیتھرین وُو کے حالیہ بیان نے اس بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے نظام ایسے بن جائیں گے جو صارفین کی روزمرہ عادات کو سمجھ کر ان کے کام خود بخود انجام دیں گے، بغیر اس کے کہ صارف ہر بار ہدایت دے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کیٹ وُو نے حال ہی میں سان فرانسسکو میں ہونے والی کوڈ وِت کلاؤڈ کانفرنس کے دوران ٹیک کرنچ سے گفتگو میں بتایا کہ آج ہم اے آئی کو خود ہدایات دیتے ہیں کہ کوئی ای میل لکھ دو یا کوئی کوڈ بنا دو لیکن اگلا بڑا قدم اسے فعال بنانا ہے۔ مستقبل میں یہ زیادہ ”پرو ایکٹیو“ ہو جائیں گے یعنی آنے والے وقت میں کلاڈ جیسے سسٹم آپ کے کام کرنے کے انداز کو اتنی گہرائی سے جان لیں گے کہ وہ خود بخود آپ کے لیے فائلیں تیار کرنے اور دیگر ضروری انتظامات کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام کام جو انسان بار بار کرتے کرتے اکتا جاتے ہیں اب وہ خودکار نظام کے تحت ہوا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیتھرین وو کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کا اصل مقصد صرف دوسری کمپنیوں کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو انسانی کام کے نظام میں اس طرح شامل کرنا ہے کہ یہ ایک بہترین مددگار ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بہت سے لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ اس سے ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف تھکا دینے والے اور بورنگ کاموں کو اپنے ذمہ لے گی تاکہ انسانوں کے پاس تخلیقی اور زیادہ اہم کاموں کے لیے وقت بچ سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503232'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس تمام عمل میں انسانی نگرانی کی اہمیت برقرار رہے گی۔ کیتھرین وو کے مطابق اے آئی ایجنٹس کام تو کریں گے لیکن کسی بھی غلطی کو پکڑنے اور نظام کو صحیح سمت میں رکھنے کے لیے انسانی تجربہ اور مہارت ہمیشہ ضروری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک اب تیزی سے ایسے نئے ماڈلز پر کام کر رہی ہے جو دفاتر اور کاروباری اداروں میں لوگوں کی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک نے پچھلے سال میں تیزی سے ترقی کی ہے اور ان کا کلاؤڈ چیٹ بوٹ کاروباری صارفین میں مقبول ہوا ہے۔ کمپنی نے اے آئی ماڈلز کی تعداد بڑھائی ہے اور کوڈنگ اور ورک پلیس پروڈکٹیویٹی کے آلات تیار کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی دستک دے رہی ہے، اب آپ کو کمپیوٹر یا موبائل کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت خود ہی آپ کی ضرورت کو بھانپ لے گی۔</strong></p>
<p>مصنوعی ذہانت کے جدید نظام تیار کرنے والی امریکی کمپنی اینتھروپک کی ایگزیکٹو کیتھرین وُو کے حالیہ بیان نے اس بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے نظام ایسے بن جائیں گے جو صارفین کی روزمرہ عادات کو سمجھ کر ان کے کام خود بخود انجام دیں گے، بغیر اس کے کہ صارف ہر بار ہدایت دے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کیٹ وُو نے حال ہی میں سان فرانسسکو میں ہونے والی کوڈ وِت کلاؤڈ کانفرنس کے دوران ٹیک کرنچ سے گفتگو میں بتایا کہ آج ہم اے آئی کو خود ہدایات دیتے ہیں کہ کوئی ای میل لکھ دو یا کوئی کوڈ بنا دو لیکن اگلا بڑا قدم اسے فعال بنانا ہے۔ مستقبل میں یہ زیادہ ”پرو ایکٹیو“ ہو جائیں گے یعنی آنے والے وقت میں کلاڈ جیسے سسٹم آپ کے کام کرنے کے انداز کو اتنی گہرائی سے جان لیں گے کہ وہ خود بخود آپ کے لیے فائلیں تیار کرنے اور دیگر ضروری انتظامات کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام کام جو انسان بار بار کرتے کرتے اکتا جاتے ہیں اب وہ خودکار نظام کے تحت ہوا کریں گے۔</p>
<p>کیتھرین وو کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کا اصل مقصد صرف دوسری کمپنیوں کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو انسانی کام کے نظام میں اس طرح شامل کرنا ہے کہ یہ ایک بہترین مددگار ثابت ہو۔</p>
<p>اگرچہ بہت سے لوگ اس بات سے پریشان ہیں کہ اس سے ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف تھکا دینے والے اور بورنگ کاموں کو اپنے ذمہ لے گی تاکہ انسانوں کے پاس تخلیقی اور زیادہ اہم کاموں کے لیے وقت بچ سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503232'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503232"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم اس تمام عمل میں انسانی نگرانی کی اہمیت برقرار رہے گی۔ کیتھرین وو کے مطابق اے آئی ایجنٹس کام تو کریں گے لیکن کسی بھی غلطی کو پکڑنے اور نظام کو صحیح سمت میں رکھنے کے لیے انسانی تجربہ اور مہارت ہمیشہ ضروری رہے گی۔</p>
<p>اینتھروپک اب تیزی سے ایسے نئے ماڈلز پر کام کر رہی ہے جو دفاتر اور کاروباری اداروں میں لوگوں کی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔</p>
<p>اینتھروپک نے پچھلے سال میں تیزی سے ترقی کی ہے اور ان کا کلاؤڈ چیٹ بوٹ کاروباری صارفین میں مقبول ہوا ہے۔ کمپنی نے اے آئی ماڈلز کی تعداد بڑھائی ہے اور کوڈنگ اور ورک پلیس پروڈکٹیویٹی کے آلات تیار کررہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505330</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 13:19:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/14131450cd095fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1328">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/14131450cd095fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فضا کی صفائی کا قدرتی نظام: دھند میں موجود بیکٹیریا زہریلی آلودگی ہضم کرنے لگے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505322/fog-bacteria-air-pollution-environmental-science-microbiology-atmosphere-climate-research</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دھند کو ہمیشہ سے صرف ایک پراسرار موسمی رجحان سمجھا جاتا رہا ہے جو خاموشی سے پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، لیکن ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں اس کے اندر چھپی ایک حیرت انگیز دنیا دریافت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ دھند کے ان ننھے قطروں کے اندر زندگی موجود ہے جو نہ صرف وہاں پروان چڑھ رہی ہے بلکہ انسانی سانسوں کے لیے زہریلی فضائی آلودگی کو ختم کرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔ اس &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://journals.asm.org/doi/10.1128/mbio.00463-26"&gt;تحقیق کے مطابق&lt;/a&gt; دھند کے قطرے دراصل ایک عارضی اور زندہ نظام کے طور پر کام کرتے ہیں جہاں بیکٹیریا کی ایک خاص قسم متحرک رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کی سربراہ تھی تھونگ کاؤ اور ان کی ٹیم نے جب خوردبین کی مدد سے ان قطروں کا معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ”میتھائلو بیکٹیریا“ نامی جراثیم ان قطروں میں محض موجود نہیں ہیں بلکہ وہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنی تعداد بڑھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497050'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ جراثیم فضا میں موجود ”فارمل ڈی ہائیڈ“ نامی ایک خطرناک زہریلے مادے کو اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فارمل ڈی ہائیڈ وہ آلودگی ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کرتی ہے اور اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہے لیکن یہ ننھے جراثیم اس زہریلے مادے کو کھا کر اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں جس سے ہوا قدرتی طور پر صاف ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ دھند کے صرف ایک فیصد قطروں میں یہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں لیکن جب ان تمام قطروں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ان میں جراثیم کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ سمندر کے پانی میں دیکھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اندازے کے مطابق انگلی کے ایک پور جتنا دھند کا پانی تقریباً ایک کروڑ بیکٹیریا پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت ان علاقوں کے لیے ایک نئی سوچ پیدا کرتی ہے جہاں لوگ پینے کے لیے دھند کا پانی جمع کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497367'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497367"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دھند میں زندہ جراثیم موجود ہیں اس لیے اس پانی کو پینے سے پہلے کسی بھی دوسرے پانی کی طرح صاف کرنا اور جراثیم سے پاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مطالعہ موسمیاتی سائنس کے روایتی تصورات میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، سورج کی روشنی سے ہونے والے کیمیائی عمل کے برعکس یہ خوردبینی جاندار رات کے وقت بھی متحرک رہتے ہیں اور فضا کی کیمسٹری کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک فکر انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ اگر انسان بڑے پیمانے پر دھند کا پانی جمع کرنا شروع کر دیں تو کہیں ہم ان مفید جراثیم کو فضا سے ختم تو نہیں کر دیں گے جو خاموشی سے ہماری ہوا صاف کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دھند کو ہمیشہ سے صرف ایک پراسرار موسمی رجحان سمجھا جاتا رہا ہے جو خاموشی سے پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، لیکن ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں اس کے اندر چھپی ایک حیرت انگیز دنیا دریافت کی ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ دھند کے ان ننھے قطروں کے اندر زندگی موجود ہے جو نہ صرف وہاں پروان چڑھ رہی ہے بلکہ انسانی سانسوں کے لیے زہریلی فضائی آلودگی کو ختم کرنے کا کام بھی کر رہی ہے۔ اس <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://journals.asm.org/doi/10.1128/mbio.00463-26">تحقیق کے مطابق</a> دھند کے قطرے دراصل ایک عارضی اور زندہ نظام کے طور پر کام کرتے ہیں جہاں بیکٹیریا کی ایک خاص قسم متحرک رہتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کی سربراہ تھی تھونگ کاؤ اور ان کی ٹیم نے جب خوردبین کی مدد سے ان قطروں کا معائنہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ”میتھائلو بیکٹیریا“ نامی جراثیم ان قطروں میں محض موجود نہیں ہیں بلکہ وہ تقسیم در تقسیم ہو کر اپنی تعداد بڑھا رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497050'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ جراثیم فضا میں موجود ”فارمل ڈی ہائیڈ“ نامی ایک خطرناک زہریلے مادے کو اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فارمل ڈی ہائیڈ وہ آلودگی ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کرتی ہے اور اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہے لیکن یہ ننھے جراثیم اس زہریلے مادے کو کھا کر اسے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کر دیتے ہیں جس سے ہوا قدرتی طور پر صاف ہو جاتی ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ دھند کے صرف ایک فیصد قطروں میں یہ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں لیکن جب ان تمام قطروں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ان میں جراثیم کی تعداد اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ سمندر کے پانی میں دیکھی جاتی ہے۔</p>
<p>اندازے کے مطابق انگلی کے ایک پور جتنا دھند کا پانی تقریباً ایک کروڑ بیکٹیریا پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت ان علاقوں کے لیے ایک نئی سوچ پیدا کرتی ہے جہاں لوگ پینے کے لیے دھند کا پانی جمع کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497367'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497367"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دھند میں زندہ جراثیم موجود ہیں اس لیے اس پانی کو پینے سے پہلے کسی بھی دوسرے پانی کی طرح صاف کرنا اور جراثیم سے پاک کرنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مطالعہ موسمیاتی سائنس کے روایتی تصورات میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، سورج کی روشنی سے ہونے والے کیمیائی عمل کے برعکس یہ خوردبینی جاندار رات کے وقت بھی متحرک رہتے ہیں اور فضا کی کیمسٹری کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ایک فکر انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ اگر انسان بڑے پیمانے پر دھند کا پانی جمع کرنا شروع کر دیں تو کہیں ہم ان مفید جراثیم کو فضا سے ختم تو نہیں کر دیں گے جو خاموشی سے ہماری ہوا صاف کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505322</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 11:53:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1411370277ca301.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1411370277ca301.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
