<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:29:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 14:29:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل کے نئے سربراہ جان ٹرنس کون ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503747/who-is-apples-new-chief-john-ternus</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایپل نے اپنی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے جان ٹرنس کو کمپنی کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یکم ستمبر 2026 کو موجودہ چیف ایگزیکٹیوٹِم کُک کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے، جبکہ ٹِم کُک 15 سال تک اس عہدے پر رہنے کے بعد اب بطور ایگزیکٹو چیئرمین کمپنی کے ساتھ وابستہ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹم کک نے 2011 میں ایپل کی قیادت سنبھالی تھی اور ان کے دور میں کمپنی نے غیرمعمولی ترقی کی۔ ان کی سربراہی میں ایپل کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور کمپنی نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503739/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کی سبکدوشی کو ایک دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 50 سالہ جان ٹرنس ایپل کے ایک پرانے اور بااعتماد رکن ہیں۔ وہ 2001 میں کمپنی میں شامل ہوئے اور گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ایپل کے اہم ترین منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جان ٹرنس کو ایپل کے اندر ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو ہارڈ ویئر اور انجینئرنگ پر گہری گرفت رکھتے ہیں۔ اب تک وہ سینئر وائس پریزیڈنٹ آف ہارڈ ویئر انجینئرنگ کے طور پر کام کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایپل کی کئی اہم مصنوعات خصوصاً میک، آئی پیڈ اور ایئر پوڈز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ’میک‘ کی فروخت میں دوبارہ جان ڈالی اور اسے ”پرو“ ماڈلز کے ساتھ مزید بہتر بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503401/apple-dangerous-photo-delete-fraud'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503401"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جان ٹرنس کی قیادت ٹِم کُک کے آپریشنل انداز کے مقابلے میں زیادہ پروڈکٹ فوکسڈ اور انجینئرنگ پر مبنی ہوگی، جو ایپل کے مستقبل کے لیے ایک نیا رخ ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ ایک ایسے چیلنجنگ وقت میں کمپنی کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں، جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے اور اینویڈیا اور میٹا جیسی کمپنیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے وقت میں ایپل فولڈیبل ڈیوائسز، اسمارٹ گلاسز اور اے آئی بیسڈ مصنوعات پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اہم تقرری کے ساتھ ایپل اپنی انتظامیہ میں دیگر تبدیلیاں بھی کر رہا ہے تاکہ مستقبل کے جدید دور میں اپنی برتری کو قائم رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا ٹرنس اسٹیو جابز اور ٹِم کُک کی وراثت کو اسی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا پائیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دیکھنا یہ ہے کہ جان ٹرنس کمپنی کو اس نئے دور میں کس طرح آگے لے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایپل نے اپنی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے جان ٹرنس کو کمپنی کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>وہ یکم ستمبر 2026 کو موجودہ چیف ایگزیکٹیوٹِم کُک کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے، جبکہ ٹِم کُک 15 سال تک اس عہدے پر رہنے کے بعد اب بطور ایگزیکٹو چیئرمین کمپنی کے ساتھ وابستہ رہیں گے۔</p>
<p>ٹم کک نے 2011 میں ایپل کی قیادت سنبھالی تھی اور ان کے دور میں کمپنی نے غیرمعمولی ترقی کی۔ ان کی سربراہی میں ایپل کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور کمپنی نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503739/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503739"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کی سبکدوشی کو ایک دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب 50 سالہ جان ٹرنس ایپل کے ایک پرانے اور بااعتماد رکن ہیں۔ وہ 2001 میں کمپنی میں شامل ہوئے اور گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ایپل کے اہم ترین منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔</p>
<p>جان ٹرنس کو ایپل کے اندر ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو ہارڈ ویئر اور انجینئرنگ پر گہری گرفت رکھتے ہیں۔ اب تک وہ سینئر وائس پریزیڈنٹ آف ہارڈ ویئر انجینئرنگ کے طور پر کام کر رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے ایپل کی کئی اہم مصنوعات خصوصاً میک، آئی پیڈ اور ایئر پوڈز کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ’میک‘ کی فروخت میں دوبارہ جان ڈالی اور اسے ”پرو“ ماڈلز کے ساتھ مزید بہتر بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503401/apple-dangerous-photo-delete-fraud'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503401"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جان ٹرنس کی قیادت ٹِم کُک کے آپریشنل انداز کے مقابلے میں زیادہ پروڈکٹ فوکسڈ اور انجینئرنگ پر مبنی ہوگی، جو ایپل کے مستقبل کے لیے ایک نیا رخ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>وہ ایک ایسے چیلنجنگ وقت میں کمپنی کی باگ ڈور سنبھال رہے ہیں، جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے اور اینویڈیا اور میٹا جیسی کمپنیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے وقت میں ایپل فولڈیبل ڈیوائسز، اسمارٹ گلاسز اور اے آئی بیسڈ مصنوعات پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔</p>
<p>اس اہم تقرری کے ساتھ ایپل اپنی انتظامیہ میں دیگر تبدیلیاں بھی کر رہا ہے تاکہ مستقبل کے جدید دور میں اپنی برتری کو قائم رکھا جا سکے۔</p>
<p>دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا ٹرنس اسٹیو جابز اور ٹِم کُک کی وراثت کو اسی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا پائیں گے یا نہیں۔</p>
<p>اب دیکھنا یہ ہے کہ جان ٹرنس کمپنی کو اس نئے دور میں کس طرح آگے لے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503747</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 10:14:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/21100836b242dd2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/21100836b242dd2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل کے سی ای او کا ایک دہائی سے زائد عرصے بعد مستعفی ہونے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503739/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اعلان کیا ہے کہ طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے سی ای او ٹِم کُک اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ وہ موسمِ گرما تک بطور سی ای او کام جاری رکھیں گے تاکہ منتقلی کا عمل مکمل ہو سکے، جس کے بعد وہ بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین بن جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/04/20/tech/apple-ceo-tim-cook-steps-down"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق کمپنی کے سینئر نائب صدر برائے ہارڈویئر انجینئرنگ جان ٹرنس یکم ستمبر سے ایپل کے  نئے سربراہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹِم کُک نے اپنے بیان میں ایپل کمپنی کے ساتھ جڑے رہنے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا اور کہا کہ ان کا اگلا قدم الوداعی نہیں بلکہ منتقلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت 2025 کے اواخر میں ایپل کی اعلیٰ قیادت میں متعدد تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں اے آئی چیف اور دیگر اہم عہدیداران کی رخصتی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502820/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹِم کُک نے 2011 میں سی ای او کا عہدہ سنبھالا تھا اور ایپل کو آئی فون سے آگے بڑھاتے ہوئے سروسز، ویئریبلز اور صحت جیسے شعبوں میں وسعت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے دور میں ایپل واچ، ایئر پوڈز اور ایپل ٹی وی پلس جیسی مصنوعات سامنے آئیں جبکہ کمپنی کا سروسز بزنس آئی فون کے بعد دوسرا بڑا شعبہ بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹِم کُک نے کمپنی کو کووڈ-19 وبا اور امریکا-چین تجارتی کشیدگی جیسے اہم ادوار میں بھی سنبھالا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا میں 600 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502664/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502664"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ عرصے میں ایپل کو مصنوعی ذہانت اور ورچوئل ریئلٹی میں چیلنجز کا سامنا رہا، جہاں ویژن پرو ہیڈسیٹ محدود مقبولیت حاصل کر سکا اور سری کی اپڈیٹ بھی مؤخر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ کے سی ای او جان ٹرنس 2001 سے ایپل کے ساتھ وابستہ ہیں اور آئی پیڈ، ایئر پوڈز اور حالیہ کم قیمت میک بک نیو جیسے منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کے دور میں سری، آئی فون اور ممکنہ فولڈ ایبل آئی فون میں بڑی اپڈیٹس متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اعلان کیا ہے کہ طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے سی ای او ٹِم کُک اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ وہ موسمِ گرما تک بطور سی ای او کام جاری رکھیں گے تاکہ منتقلی کا عمل مکمل ہو سکے، جس کے بعد وہ بورڈ کے ایگزیکٹو چیئرمین بن جائیں گے۔</strong></p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/04/20/tech/apple-ceo-tim-cook-steps-down">رپورٹ</a> کے مطابق کمپنی کے سینئر نائب صدر برائے ہارڈویئر انجینئرنگ جان ٹرنس یکم ستمبر سے ایپل کے  نئے سربراہ ہوں گے۔</p>
<p>ٹِم کُک نے اپنے بیان میں ایپل کمپنی کے ساتھ جڑے رہنے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا اور کہا کہ ان کا اگلا قدم الوداعی نہیں بلکہ منتقلی ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت 2025 کے اواخر میں ایپل کی اعلیٰ قیادت میں متعدد تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں اے آئی چیف اور دیگر اہم عہدیداران کی رخصتی شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502820/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹِم کُک نے 2011 میں سی ای او کا عہدہ سنبھالا تھا اور ایپل کو آئی فون سے آگے بڑھاتے ہوئے سروسز، ویئریبلز اور صحت جیسے شعبوں میں وسعت دی۔</p>
<p>ان کے دور میں ایپل واچ، ایئر پوڈز اور ایپل ٹی وی پلس جیسی مصنوعات سامنے آئیں جبکہ کمپنی کا سروسز بزنس آئی فون کے بعد دوسرا بڑا شعبہ بن گیا۔</p>
<p>ٹِم کُک نے کمپنی کو کووڈ-19 وبا اور امریکا-چین تجارتی کشیدگی جیسے اہم ادوار میں بھی سنبھالا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا میں 600 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502664/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502664"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم حالیہ عرصے میں ایپل کو مصنوعی ذہانت اور ورچوئل ریئلٹی میں چیلنجز کا سامنا رہا، جہاں ویژن پرو ہیڈسیٹ محدود مقبولیت حاصل کر سکا اور سری کی اپڈیٹ بھی مؤخر ہوئی۔</p>
<p>آئندہ کے سی ای او جان ٹرنس 2001 سے ایپل کے ساتھ وابستہ ہیں اور آئی پیڈ، ایئر پوڈز اور حالیہ کم قیمت میک بک نیو جیسے منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ ان کے دور میں سری، آئی فون اور ممکنہ فولڈ ایبل آئی فون میں بڑی اپڈیٹس متوقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503739</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:11:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/210909153327227.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/210909153327227.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موبائل کی ایک چھپی سیٹنگ آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی کر سکتی ہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503565/hidden-mobile-setting-empty-bank-account</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موبائل میں موجود ایک چھپی سیٹنگ کے ذریعے ہیکرز آپ کی کالز اور او ٹی پی حاصل کر کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی لے سکتے ہیں۔ فوری طور پر کال فارورڈنگ چیک کریں اور مشکوک سیٹنگ بند کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں ایک نیا فراڈ سامنے آیا ہے جس میں ہیکرز کو آپ کے پاس ورڈ یا براہِ راست اوٹی پی کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ اس کے بغیر بھی آپ کا اکاؤنٹ خالی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب ایک سادہ سی کال یا کوڈ ڈائل کرنے سے ہو سکتا ہے۔ اسے ”کال فارورڈنگ اسکیم“ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503401/apple-dangerous-photo-delete-fraud'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503401"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم میں ہیکرز خود کو بینک نمائندہ، کسٹمر کیئر ایگزیکٹو یا ڈیلیوری بوائے ظاہر کر کے آپ کو کال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بڑی صفائی سے آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے اکاؤنٹ یا نیٹ ورک میں کوئی مسئلہ ہے، جسے ٹھیک کرنے کے لیے آپ کو اپنے فون سے ایک مخصوص کوڈ (جیسے &lt;em&gt;21# یا&lt;/em&gt; 401#) ڈائل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ اس انجان کال کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا سامنے والے کی باتوں میں آ کر دیے گئے کوڈز ڈائل کر دیتے ہیں۔ یہی لاپرواہی آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد آپ کے کالز، میسجز اور اوٹی پی کسی اور نمبر پر منتقل ہونے لگتے ہیں اور آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کال فارورڈنگ ایکٹیو ہو جاتی ہے تو آپ کے تمام بینک اوٹی پی اور تصدیقی کالز آپ کے بجائے ہیکر کے نمبر پر جانے لگتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اب وہ باآسانی آپ کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکال سکتا ہے، حتیٰ کہ آپ کے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسکیم کے خطرناک ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی ایپ انسٹال نہیں کرنی پڑتی۔ کئی بار اوٹی پی بھی خود دینے کی ضرورت نہیں پڑتی، یعنی سب کچھ خاموشی سے ہوتا ہے اور آپ کو تب پتا چلتا ہے جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چیک کریں: کیا آپ کی کالز فارورڈ ہو رہی ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے فون کی سیکیورٹی چیک کرنے کے لیے ابھی &lt;em&gt;&lt;a href="/trends/62"&gt;#62&lt;/a&gt;# یا&lt;/em&gt; &lt;a href="/trends/21"&gt;#21&lt;/a&gt;# کوڈ ڈائل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ڈائل کرنے کے بعد اسکرین پر کوئی انجان نمبر نظر آئے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی کالز کہیں اور موصول ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے فون کی کال سیٹنگ میں جا کر کال فارورڈنگ آپشن دیکھیں۔ اگر وہاں کوئی نامعلوم نمبر درج ہو تو فوراً ہٹا دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503119/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503119"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کال فارورڈنگ کیسے بند کریں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر شک ہو کہ آپ کا فون ہیک ہو گیا ہے یا کال فارورڈنگ  ایکٹیو ہے تو فوراً  #&lt;a href="/trends/002"&gt;#002&lt;/a&gt;# کوڈ ڈائل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوڈ تمام کال فارورڈنگ سیٹنگز کو بند کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محفوظ رہنے کے طریقے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی نامعلوم کال پر اپنے فون سے کوئی بھی مخصوص کوڈ ڈائل نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی ڈیلیوری یا نیٹ ورک کا بہانہ بنا کر کوڈ دبانے کا کہے، تو فوری کال منقطع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنا اوٹی پی یا پن کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر خدانخواستہ فراڈ ہو جائے تو فوری طور پر سائبر کرائم ہیلپ لائن  پر رابطہ کریں یا سرکاری ویب سائٹ پر شکایت درج کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں: آپ کی تھوڑی سی احتیاط آپ کی جمع پونجی بچا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موبائل میں موجود ایک چھپی سیٹنگ کے ذریعے ہیکرز آپ کی کالز اور او ٹی پی حاصل کر کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی لے سکتے ہیں۔ فوری طور پر کال فارورڈنگ چیک کریں اور مشکوک سیٹنگ بند کریں۔</strong></p>
<p>حالیہ دنوں میں ایک نیا فراڈ سامنے آیا ہے جس میں ہیکرز کو آپ کے پاس ورڈ یا براہِ راست اوٹی پی کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ اس کے بغیر بھی آپ کا اکاؤنٹ خالی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ سب ایک سادہ سی کال یا کوڈ ڈائل کرنے سے ہو سکتا ہے۔ اسے ”کال فارورڈنگ اسکیم“ کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503401/apple-dangerous-photo-delete-fraud'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503401"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس اسکیم میں ہیکرز خود کو بینک نمائندہ، کسٹمر کیئر ایگزیکٹو یا ڈیلیوری بوائے ظاہر کر کے آپ کو کال کرتے ہیں۔</p>
<p>وہ بڑی صفائی سے آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کے اکاؤنٹ یا نیٹ ورک میں کوئی مسئلہ ہے، جسے ٹھیک کرنے کے لیے آپ کو اپنے فون سے ایک مخصوص کوڈ (جیسے <em>21# یا</em> 401#) ڈائل کرنا ہوگا۔</p>
<p>اکثر لوگ اس انجان کال کو سنجیدگی سے نہیں لیتے یا سامنے والے کی باتوں میں آ کر دیے گئے کوڈز ڈائل کر دیتے ہیں۔ یہی لاپرواہی آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس کے بعد آپ کے کالز، میسجز اور اوٹی پی کسی اور نمبر پر منتقل ہونے لگتے ہیں اور آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی۔</p>
<p>جب کال فارورڈنگ ایکٹیو ہو جاتی ہے تو آپ کے تمام بینک اوٹی پی اور تصدیقی کالز آپ کے بجائے ہیکر کے نمبر پر جانے لگتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اب وہ باآسانی آپ کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکال سکتا ہے، حتیٰ کہ آپ کے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس اسکیم کے خطرناک ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی ایپ انسٹال نہیں کرنی پڑتی۔ کئی بار اوٹی پی بھی خود دینے کی ضرورت نہیں پڑتی، یعنی سب کچھ خاموشی سے ہوتا ہے اور آپ کو تب پتا چلتا ہے جب نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>چیک کریں: کیا آپ کی کالز فارورڈ ہو رہی ہیں؟</strong></p>
<p>اپنے فون کی سیکیورٹی چیک کرنے کے لیے ابھی <em><a href="/trends/62">#62</a># یا</em> <a href="/trends/21">#21</a># کوڈ ڈائل کریں۔</p>
<p>اگر ڈائل کرنے کے بعد اسکرین پر کوئی انجان نمبر نظر آئے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی کالز کہیں اور موصول ہو رہی ہیں۔</p>
<p>اپنے فون کی کال سیٹنگ میں جا کر کال فارورڈنگ آپشن دیکھیں۔ اگر وہاں کوئی نامعلوم نمبر درج ہو تو فوراً ہٹا دیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503119/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503119"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>کال فارورڈنگ کیسے بند کریں؟</strong></p>
<p>اگر شک ہو کہ آپ کا فون ہیک ہو گیا ہے یا کال فارورڈنگ  ایکٹیو ہے تو فوراً  #<a href="/trends/002">#002</a># کوڈ ڈائل کریں۔</p>
<p>یہ کوڈ تمام کال فارورڈنگ سیٹنگز کو بند کر دیتا ہے۔</p>
<p><strong>محفوظ رہنے کے طریقے</strong></p>
<p>کسی بھی نامعلوم کال پر اپنے فون سے کوئی بھی مخصوص کوڈ ڈائل نہ کریں۔</p>
<p>اگر کوئی ڈیلیوری یا نیٹ ورک کا بہانہ بنا کر کوڈ دبانے کا کہے، تو فوری کال منقطع کریں۔</p>
<p>اپنا اوٹی پی یا پن کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔</p>
<p>اگر خدانخواستہ فراڈ ہو جائے تو فوری طور پر سائبر کرائم ہیلپ لائن  پر رابطہ کریں یا سرکاری ویب سائٹ پر شکایت درج کروائیں۔</p>
<p>یاد رکھیں: آپ کی تھوڑی سی احتیاط آپ کی جمع پونجی بچا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503565</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 09:21:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/160918222564c6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/160918222564c6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین نے تیل کی قلت کا حل نکال لیا، ’پانی سے چلنے والے‘ ہوائی جہازوں کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503542/china-oil-shortage-solution-water-powered-planes</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین نے ہوا بازی کی صنعت میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے دنیا کے پہلے ’ہائیڈروجن سے چلنے والے‘ میگا واٹ کلاس ٹربوپروپ انجن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں دنیا تیل کے بڑھتے ہوئے بحران اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، وہیں چین نے ہوا بازی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والے طیارے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جسے عام طور پر “پانی سے چلنے والا طیارہ” بھی کہا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکام کے مطابق یہ تجرباتی پرواز صوبہ ژوژو کے ایک ایئرپورٹ سے کی گئی، جہاں 7.5 ٹن وزنی بغیر پائلٹ کارگو طیارہ فضا میں 300 میٹر کی بلندی تک پہنچا اور تقریباً 16 منٹ تک پرواز کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503307/tesla-cheap-small-suv-production'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503307"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دوران طیارے نے 36 کلومیٹر کا فاصلہ 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیا اور محفوظ طریقے سے واپس لینڈ کر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طیارے میں استعمال ہونے والا اے ای پی 100 انجن مکمل طور پر چین میں تیار کیا گیا ہے، جو مائع ہائیڈروجن کو براہ راست جلا کر توانائی پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ روایتی جیٹ انجنز جیسا ہے، تاہم اس میں کیروسین کے بجائے ہائیڈروجن استعمال کی جاتی ہے، جس کا اخراج بنیادی طور پر پانی کی شکل میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق چین نے ہائیڈروجن ایوی ایشن کے میدان میں مغربی ممالک سے مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر مغربی ممالک، جیسے کہ ایئربس ، ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو ہائیڈروجن کو بجلی میں بدل کر موٹر چلاتی ہے۔ وہیں چین براہ راست ہائیڈروجن کے جلاؤ  کے طریقے کو ترجیح دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502687/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502687"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ طاقت حاصل کی جا سکتی ہے، جو بڑے طیاروں کے لیے موزوں ہے۔ اس انجن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے صرف پانی خارج ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ تجربہ کامیاب رہا ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ہائیڈروجن کو انتہائی کم درجہ حرارت (منفی 253 ڈگری سینٹی گریڈ) پر محفوظ رکھنا پڑتا ہے اور پرواز کے دوران اس درجہ حرارت کو برقرار رکھنا ایک بڑا تکنیکی مسئلہ ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایندھن کی ترسیل، ذخیرہ اور ہوائی اڈوں پر بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی اہم رکاوٹیں ہیں۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر ہائیڈروجن بھرنے کی سہولیات فی الحال موجود نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے سامان برداری  اور جزیروں تک رسد پہنچانے والے ڈرونز میں استعمال ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ کے مطابق، 2028 تک اس ٹیکنالوجی کی مزید توثیق کی جائے گی، جبکہ 2035 تک علاقائی طیاروں اور 2050 تک بڑے کمرشل مسافر طیاروں میں ہائیڈروجن انجنوں کے وسیع پیمانے پر استعمال کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہائیڈروجن ایوی ایشن کی مکمل سپلائی چین تیار کرنے میں دنیا سے آگے نکل چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر تیل کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے لیے ہائیڈروجن نہ صرف ماحول دوست ایندھن ہے بلکہ یہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کامیابی ایک اہم سنگِ میل ہے، تاہم ابھی اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر قابلِ اعتماد اور معاشی طور پر مؤثر بنانے کے لیے مزید تحقیق اور وقت درکار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر بھی یہ پیش رفت مستقبل میں ماحول دوست اور کم لاگت فضائی سفر کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین نے ہوا بازی کی صنعت میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے دنیا کے پہلے ’ہائیڈروجن سے چلنے والے‘ میگا واٹ کلاس ٹربوپروپ انجن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>جہاں دنیا تیل کے بڑھتے ہوئے بحران اور توانائی کی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، وہیں چین نے ہوا بازی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ہائیڈروجن ایندھن سے چلنے والے طیارے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جسے عام طور پر “پانی سے چلنے والا طیارہ” بھی کہا جا رہا ہے۔</p>
<p>چینی حکام کے مطابق یہ تجرباتی پرواز صوبہ ژوژو کے ایک ایئرپورٹ سے کی گئی، جہاں 7.5 ٹن وزنی بغیر پائلٹ کارگو طیارہ فضا میں 300 میٹر کی بلندی تک پہنچا اور تقریباً 16 منٹ تک پرواز کرتا رہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503307/tesla-cheap-small-suv-production'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503307"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس دوران طیارے نے 36 کلومیٹر کا فاصلہ 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیا اور محفوظ طریقے سے واپس لینڈ کر گیا۔</p>
<p>اس طیارے میں استعمال ہونے والا اے ای پی 100 انجن مکمل طور پر چین میں تیار کیا گیا ہے، جو مائع ہائیڈروجن کو براہ راست جلا کر توانائی پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>یہ طریقہ روایتی جیٹ انجنز جیسا ہے، تاہم اس میں کیروسین کے بجائے ہائیڈروجن استعمال کی جاتی ہے، جس کا اخراج بنیادی طور پر پانی کی شکل میں ہوتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق چین نے ہائیڈروجن ایوی ایشن کے میدان میں مغربی ممالک سے مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔</p>
<p>عام طور پر مغربی ممالک، جیسے کہ ایئربس ، ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو ہائیڈروجن کو بجلی میں بدل کر موٹر چلاتی ہے۔ وہیں چین براہ راست ہائیڈروجن کے جلاؤ  کے طریقے کو ترجیح دے رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502687/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502687"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ طاقت حاصل کی جا سکتی ہے، جو بڑے طیاروں کے لیے موزوں ہے۔ اس انجن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے صرف پانی خارج ہوتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ تجربہ کامیاب رہا ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ہائیڈروجن کو انتہائی کم درجہ حرارت (منفی 253 ڈگری سینٹی گریڈ) پر محفوظ رکھنا پڑتا ہے اور پرواز کے دوران اس درجہ حرارت کو برقرار رکھنا ایک بڑا تکنیکی مسئلہ ہے۔<br></p>
<p>اس کے علاوہ ایندھن کی ترسیل، ذخیرہ اور ہوائی اڈوں پر بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی اہم رکاوٹیں ہیں۔ دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر ہائیڈروجن بھرنے کی سہولیات فی الحال موجود نہیں ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے سامان برداری  اور جزیروں تک رسد پہنچانے والے ڈرونز میں استعمال ہوگی۔</p>
<p>چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ کے مطابق، 2028 تک اس ٹیکنالوجی کی مزید توثیق کی جائے گی، جبکہ 2035 تک علاقائی طیاروں اور 2050 تک بڑے کمرشل مسافر طیاروں میں ہائیڈروجن انجنوں کے وسیع پیمانے پر استعمال کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>چین کی یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ وہ ہائیڈروجن ایوی ایشن کی مکمل سپلائی چین تیار کرنے میں دنیا سے آگے نکل چکا ہے۔</p>
<p>یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر تیل کی فراہمی دباؤ کا شکار ہے اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔</p>
<p>چین کے لیے ہائیڈروجن نہ صرف ماحول دوست ایندھن ہے بلکہ یہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کامیابی ایک اہم سنگِ میل ہے، تاہم ابھی اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر قابلِ اعتماد اور معاشی طور پر مؤثر بنانے کے لیے مزید تحقیق اور وقت درکار ہوگا۔</p>
<p>پھر بھی یہ پیش رفت مستقبل میں ماحول دوست اور کم لاگت فضائی سفر کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503542</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Apr 2026 14:11:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1514075782f0276.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1514075782f0276.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمندر میں کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ متاثر ہوگا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503474/undersea-cable-repair-internet-impact</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل کے مطابق مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PTCLOfficial/status/2043709985838776636?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2043709985838776636%7Ctwgr%5E23e38c0feee24b9fb4d4195a370c577c8382674f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1991416'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTCLOfficial/status/2043709985838776636?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2043709985838776636%7Ctwgr%5E23e38c0feee24b9fb4d4195a370c577c8382674f%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1991416"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30442950'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30442950"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔</strong></p>
<p>پی ٹی سی ایل کے مطابق مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PTCLOfficial/status/2043709985838776636?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2043709985838776636%7Ctwgr%5E23e38c0feee24b9fb4d4195a370c577c8382674f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1991416'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTCLOfficial/status/2043709985838776636?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2043709985838776636%7Ctwgr%5E23e38c0feee24b9fb4d4195a370c577c8382674f%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1991416"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30442950'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30442950"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503474</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Apr 2026 12:05:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/140930423ce6d99.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/140930423ce6d99.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسٹاگرام نے کمنٹس ایڈِٹ کرنے کا فیچر متعارف کرا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503442/instagram-comments-edit-feature</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسٹا گرام  نے صارفین کے لیے ایک اہم فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب کمنٹس کو پوسٹ کرنے انساٹا گرام  کے بعد محدود وقت کے اندر ایڈٹ کیا جا سکے گا، یہ سہولت طویل عرصے سے صارفین کی جانب سے مانگی جا رہی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا  ملکیت رکھنے والے پلیٹ فارم  انسٹا گرام  نے اعلان کیا ہے کہ صارفین اب اپنے کیے گئے کمنٹس کو پوسٹ کرنے کے بعد 15 منٹ کے اندر ایڈٹ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ فیچر مرحلہ وار دنیا بھر میں متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کا مقصد صارفین کو اپنی تحریر میں موجود غلطیوں کو درست کرنے یا ردوبدل کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے فیچر کے تحت صارفین اپنے کمنٹ کے نیچے موجود ’ایڈٹ‘ کے آپشن پر کلک کر کے متن میں تبدیلی کر سکیں گے۔ ایڈٹ کرتے وقت ایک نیا پاپ اپ کھلے گا جس میں کمنٹ کو تبدیل کر کے دوبارہ محفوظ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹا گرام کا کہنا ہے کہ صارفین 15 منٹ کی مقررہ مدت کے اندر جتنی بار چاہیں کمنٹ ایڈٹ کر سکتے ہیں، تاہم اس میں کچھ حدود بھی رکھی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30290467'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30290467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق صرف کمنٹ کا ٹیکسٹ حصہ ہی تبدیل کیا جا سکے گا، اگر کمنٹ میں تصویر شامل ہو تو اسے ایڈٹ نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایڈٹ کیے گئے کمنٹ کے ساتھ ایک سرمئی رنگ کا ’ایڈیٹ‘ لیبل بھی ظاہر ہوگا تاکہ دیگر صارفین کو معلوم ہو سکے کہ اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ انسٹاگرام کی جانب سے کمنٹ کی پرانی شکل دیکھنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، یعنی ایڈٹ کے بعد اصل کمنٹ دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ انسٹا گرام پر پوسٹس کے کیپشنز کو ایڈٹ کرنے کی سہولت 2014 سے موجود تھی، تاہم کمنٹس کو ایڈٹ کرنے کا فیچر اب جا کر متعارف کروایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسٹا گرام  نے صارفین کے لیے ایک اہم فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب کمنٹس کو پوسٹ کرنے انساٹا گرام  کے بعد محدود وقت کے اندر ایڈٹ کیا جا سکے گا، یہ سہولت طویل عرصے سے صارفین کی جانب سے مانگی جا رہی تھی۔</strong></p>
<p>میٹا  ملکیت رکھنے والے پلیٹ فارم  انسٹا گرام  نے اعلان کیا ہے کہ صارفین اب اپنے کیے گئے کمنٹس کو پوسٹ کرنے کے بعد 15 منٹ کے اندر ایڈٹ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ فیچر مرحلہ وار دنیا بھر میں متعارف کروایا جا رہا ہے، جس کا مقصد صارفین کو اپنی تحریر میں موجود غلطیوں کو درست کرنے یا ردوبدل کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>نئے فیچر کے تحت صارفین اپنے کمنٹ کے نیچے موجود ’ایڈٹ‘ کے آپشن پر کلک کر کے متن میں تبدیلی کر سکیں گے۔ ایڈٹ کرتے وقت ایک نیا پاپ اپ کھلے گا جس میں کمنٹ کو تبدیل کر کے دوبارہ محفوظ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انسٹا گرام کا کہنا ہے کہ صارفین 15 منٹ کی مقررہ مدت کے اندر جتنی بار چاہیں کمنٹ ایڈٹ کر سکتے ہیں، تاہم اس میں کچھ حدود بھی رکھی گئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30290467'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30290467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کے مطابق صرف کمنٹ کا ٹیکسٹ حصہ ہی تبدیل کیا جا سکے گا، اگر کمنٹ میں تصویر شامل ہو تو اسے ایڈٹ نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایڈٹ کیے گئے کمنٹ کے ساتھ ایک سرمئی رنگ کا ’ایڈیٹ‘ لیبل بھی ظاہر ہوگا تاکہ دیگر صارفین کو معلوم ہو سکے کہ اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔</p>
<p>البتہ انسٹاگرام کی جانب سے کمنٹ کی پرانی شکل دیکھنے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، یعنی ایڈٹ کے بعد اصل کمنٹ دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ انسٹا گرام پر پوسٹس کے کیپشنز کو ایڈٹ کرنے کی سہولت 2014 سے موجود تھی، تاہم کمنٹس کو ایڈٹ کرنے کا فیچر اب جا کر متعارف کروایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503442</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 12:14:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1312080171a9d58.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1312080171a9d58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل کے نام پر نیا خطرناک فراڈ، ایک غلطی اور آپ کی تمام تصاویر ڈیلیٹ ہوجائیں گی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503401/apple-dangerous-photo-delete-fraud</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں ایپل کمپنی کے صارفین کو ایک خطرناک آن لائن فراڈ کا سامنا ہے جس میں جعلساز کمپنی کے آئی کلاؤڈ سروس کا روپ دھار کر صارفین کو جعلی ای میلز بھیج رہے ہیں۔ ان ای میلز کا مقصد صارفین کو دھوکہ دے کر ان کی بینکنگ اور ذاتی معلومات حاصل کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/money/2026/apr/12/apple-icloud-storage-scam-emails"&gt;دی گارجین&lt;/a&gt; کے مطابق کچھ عرصے سے صارفین کو ایپل کی جانب سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا آئی کلاوڈ اسٹوریج بھر چکا ہے، جس کے باعث نہ تو دستاویزات بیک اپ ہو رہی ہیں اور نہ ہی نئی تصاویر اپ لوڈ ہو رہی ہیں۔ ان پیغامات میں صارفین کو ماہانہ کم از کم 99 پینس ادا کر کے اسٹوریج اپ گریڈ کرنے کا کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دھوکے باز اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ای میلز بھیج رہے ہیں، جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صارف کا آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے اور اگر فوری طور پر اپ گریڈ نہ کیا گیا تو تصاویر اور ویڈیوز جلد حذف کر دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/121209290f4abc8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/121209290f4abc8.webp'  alt=' ایک اسکیم ای میل جو وصول کنندہ کو بتاتی ہے کہ ان کا کلاؤڈ اسٹوریج بھرا ہوا ہے۔ تصویر: دی گارجین ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ایک اسکیم ای میل جو وصول کنندہ کو بتاتی ہے کہ ان کا کلاؤڈ اسٹوریج بھرا ہوا ہے۔ تصویر: دی گارجین&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگلے دن ایک اور ای میل بھیجی جاتی ہے جس میں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو مقررہ تاریخ پر تمام ڈیٹا مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ای میلز میں ایک بٹن شامل ہوتا ہے جس پر کلک کر کے صارف کو اپنا اسٹوریج اپ ڈیٹ کرنے یا ادائیگی کا طریقہ تبدیل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ تاہم یہ لنک دراصل ایک جعلی (فِشنگ) ویب سائٹ پر لے جاتا ہے جو بظاہر اصل جیسی دکھائی دیتی ہے مگر درحقیقت صارف کی حساس معلومات جیسے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات چرانے کے لیے بنائی گئی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503316/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503316"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر کوئی صارف ان لنکس کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کرے یا ادائیگی کرے تو جعلساز نہ صرف مزید رقم چرانے کی کوشش کر سکتے ہیں بلکہ یہ معلومات ڈارک ویب پر دیگر جرائم پیشہ عناصر کو بھی فروخت کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فراڈ اس لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بعض اوقات یہ جعلی ای میلز اصل ایپل پیغامات کے ساتھ ہی موصول ہوتی ہیں، جن میں واقعی اسٹوریج ختم ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے، جس سے صارفین کے لیے فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122305c89e859.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122305c89e859.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی صارفین کے حقوق کی تنظیم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/whichuk/posts/every-apple-user-needs-to-know-about-this-nasty-scam-doing-the-rounds-these-snea/1379364354225106/"&gt;’وِچ‘&lt;/a&gt; نے بھی اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایپل صارفین کو اس خطرناک دھوکے سے آگاہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق اس فراڈ کی متعدد اقسام سامنے آئی ہیں۔ کچھ ای میلز کے سبجیکٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک کردیا گیا ہے، آپ کی تصاویر اور ویڈیوز ڈیلیٹ کردی جائیں گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ دیگر میں کہا جاتا ہے کہ آپ کی ادائیگی کا طریقہ ختم ہو گیا ہے، یا آپ کے کلاؤڈ اسٹوریج کی تجدید کے لیے ادائیگی ناکام ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ہر ای میل میں ایک بٹن شامل ہوتا ہے جس کے ذریعے صارف کو ادائیگی اپ ڈیٹ کرنے یا اسٹوریج مینج کرنے کا کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر صارف ان ای میلز کو نظر انداز کرے تو جعلساز فائنل وارننگ کے عنوان سے مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں کہا جاتا ہے کہ اگر آج مسئلہ حل نہ کیا گیا تو تمام ڈیٹا حذف کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ان جعلی ای میلز کی ایک بڑی نشانی بھیجنے والے کا مشکوک ای میل ایڈریس ہوتا ہے، جس میں اکثر غیر متعلقہ ڈومینز جیسے ایکواڈور شامل ہوتے ہیں، جبکہ ایپل کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور اس کا یورپی ہیڈکوارٹر آئرلینڈ میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ خراب املا اور گرامر بھی فراڈ کی واضح علامت ہے، جیسے ایک ای میل میں لکھا گیا کہ آپ کے اکاؤنٹ کی میعاد آج ختم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی ای میلز کو فوری طور پر نظر انداز کریں یا حذف کر دیں اور کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں۔ اگر غلطی سے لنک کھل جائے تو کسی بھی قسم کی ذاتی معلومات فراہم نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشکوک ای میلز کو رپورٹ کرنے کے لیے انہیں اس ویب سائٹ پر &lt;a href="mailto:report@phishing.gov.uk"&gt;report@phishing.gov.uk&lt;/a&gt; پر فارورڈ کیا جا سکتا ہے، جبکہ آئی کلاؤڈ کے نام پر ہونے والے فراڈ کو اس ویب سائٹ پر &lt;a href="mailto:reportphishing@apple.com"&gt;reportphishing@apple.com&lt;/a&gt; یا &lt;a href="mailto:abuse@icloud.com"&gt;abuse@icloud.com&lt;/a&gt; پر بھی بھیجا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122149c5e594c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122149c5e594c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی صارف دھوکے میں آ کر اپنی معلومات فراہم کر دے تو فوری طور پر متعلقہ بینک سے رابطہ کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق صارفین آسانی سے اپنے آئی کلاؤڈ اسٹوریج کی صورتحال خود بھی چیک کر سکتے ہیں۔ آئی فون پر اس کے لیے سیٹنگز میں جا کر آئی کلاؤڈ سیکشن کھولا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر واقعی اسٹوریج ختم ہو جائے اور مزید خریدنا ہو تو صارفین کو صرف اصل ایپل پلیٹ فارم کے ذریعے اپ گریڈ کا بٹن استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں ایپل کمپنی کے صارفین کو ایک خطرناک آن لائن فراڈ کا سامنا ہے جس میں جعلساز کمپنی کے آئی کلاؤڈ سروس کا روپ دھار کر صارفین کو جعلی ای میلز بھیج رہے ہیں۔ ان ای میلز کا مقصد صارفین کو دھوکہ دے کر ان کی بینکنگ اور ذاتی معلومات حاصل کرنا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/money/2026/apr/12/apple-icloud-storage-scam-emails">دی گارجین</a> کے مطابق کچھ عرصے سے صارفین کو ایپل کی جانب سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا آئی کلاوڈ اسٹوریج بھر چکا ہے، جس کے باعث نہ تو دستاویزات بیک اپ ہو رہی ہیں اور نہ ہی نئی تصاویر اپ لوڈ ہو رہی ہیں۔ ان پیغامات میں صارفین کو ماہانہ کم از کم 99 پینس ادا کر کے اسٹوریج اپ گریڈ کرنے کا کہا جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم دھوکے باز اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ای میلز بھیج رہے ہیں، جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صارف کا آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے اور اگر فوری طور پر اپ گریڈ نہ کیا گیا تو تصاویر اور ویڈیوز جلد حذف کر دی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/121209290f4abc8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/121209290f4abc8.webp'  alt=' ایک اسکیم ای میل جو وصول کنندہ کو بتاتی ہے کہ ان کا کلاؤڈ اسٹوریج بھرا ہوا ہے۔ تصویر: دی گارجین ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ایک اسکیم ای میل جو وصول کنندہ کو بتاتی ہے کہ ان کا کلاؤڈ اسٹوریج بھرا ہوا ہے۔ تصویر: دی گارجین</figcaption>
    </figure>
<p>اگلے دن ایک اور ای میل بھیجی جاتی ہے جس میں خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو مقررہ تاریخ پر تمام ڈیٹا مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>ان ای میلز میں ایک بٹن شامل ہوتا ہے جس پر کلک کر کے صارف کو اپنا اسٹوریج اپ ڈیٹ کرنے یا ادائیگی کا طریقہ تبدیل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ تاہم یہ لنک دراصل ایک جعلی (فِشنگ) ویب سائٹ پر لے جاتا ہے جو بظاہر اصل جیسی دکھائی دیتی ہے مگر درحقیقت صارف کی حساس معلومات جیسے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات چرانے کے لیے بنائی گئی ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503316/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503316"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اگر کوئی صارف ان لنکس کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کرے یا ادائیگی کرے تو جعلساز نہ صرف مزید رقم چرانے کی کوشش کر سکتے ہیں بلکہ یہ معلومات ڈارک ویب پر دیگر جرائم پیشہ عناصر کو بھی فروخت کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ فراڈ اس لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بعض اوقات یہ جعلی ای میلز اصل ایپل پیغامات کے ساتھ ہی موصول ہوتی ہیں، جن میں واقعی اسٹوریج ختم ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے، جس سے صارفین کے لیے فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122305c89e859.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122305c89e859.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>برطانیہ کی صارفین کے حقوق کی تنظیم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/whichuk/posts/every-apple-user-needs-to-know-about-this-nasty-scam-doing-the-rounds-these-snea/1379364354225106/">’وِچ‘</a> نے بھی اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایپل صارفین کو اس خطرناک دھوکے سے آگاہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق اس فراڈ کی متعدد اقسام سامنے آئی ہیں۔ کچھ ای میلز کے سبجیکٹ میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک کردیا گیا ہے، آپ کی تصاویر اور ویڈیوز ڈیلیٹ کردی جائیں گی۔“</p>
<p>جبکہ دیگر میں کہا جاتا ہے کہ آپ کی ادائیگی کا طریقہ ختم ہو گیا ہے، یا آپ کے کلاؤڈ اسٹوریج کی تجدید کے لیے ادائیگی ناکام ہو گئی۔</p>
<p>تقریباً ہر ای میل میں ایک بٹن شامل ہوتا ہے جس کے ذریعے صارف کو ادائیگی اپ ڈیٹ کرنے یا اسٹوریج مینج کرنے کا کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اگر صارف ان ای میلز کو نظر انداز کرے تو جعلساز فائنل وارننگ کے عنوان سے مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں کہا جاتا ہے کہ اگر آج مسئلہ حل نہ کیا گیا تو تمام ڈیٹا حذف کر دیا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق ان جعلی ای میلز کی ایک بڑی نشانی بھیجنے والے کا مشکوک ای میل ایڈریس ہوتا ہے، جس میں اکثر غیر متعلقہ ڈومینز جیسے ایکواڈور شامل ہوتے ہیں، جبکہ ایپل کا تعلق کیلیفورنیا سے ہے اور اس کا یورپی ہیڈکوارٹر آئرلینڈ میں واقع ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ خراب املا اور گرامر بھی فراڈ کی واضح علامت ہے، جیسے ایک ای میل میں لکھا گیا کہ آپ کے اکاؤنٹ کی میعاد آج ختم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی ای میلز کو فوری طور پر نظر انداز کریں یا حذف کر دیں اور کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں۔ اگر غلطی سے لنک کھل جائے تو کسی بھی قسم کی ذاتی معلومات فراہم نہ کی جائے۔</p>
<p>مشکوک ای میلز کو رپورٹ کرنے کے لیے انہیں اس ویب سائٹ پر <a href="mailto:report@phishing.gov.uk">report@phishing.gov.uk</a> پر فارورڈ کیا جا سکتا ہے، جبکہ آئی کلاؤڈ کے نام پر ہونے والے فراڈ کو اس ویب سائٹ پر <a href="mailto:reportphishing@apple.com">reportphishing@apple.com</a> یا <a href="mailto:abuse@icloud.com">abuse@icloud.com</a> پر بھی بھیجا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122149c5e594c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/12122149c5e594c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اگر کوئی صارف دھوکے میں آ کر اپنی معلومات فراہم کر دے تو فوری طور پر متعلقہ بینک سے رابطہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق صارفین آسانی سے اپنے آئی کلاؤڈ اسٹوریج کی صورتحال خود بھی چیک کر سکتے ہیں۔ آئی فون پر اس کے لیے سیٹنگز میں جا کر آئی کلاؤڈ سیکشن کھولا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اگر واقعی اسٹوریج ختم ہو جائے اور مزید خریدنا ہو تو صارفین کو صرف اصل ایپل پلیٹ فارم کے ذریعے اپ گریڈ کا بٹن استعمال کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503401</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 12:33:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/121233427d6f6a3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/121233427d6f6a3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیواروں کے پار وائی فائی کی پہنچ اور اس کے پیچھے چھپی ہالی ووڈ اداکارہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503427/wifi-range-walls-hollywood-actress</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والا وائی فائی آخر دیواروں کے پار کیسے کام کرتا ہے؟ اس سادہ مگر دلچسپ سوال کے پیچھے ایک ہالی ووڈ اداکارہ کی غیر معمولی سائنسی کاوش کی کہانی چھپی ہے، جس نے جدید وائرلیس دنیا کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیا ٹوڈے سائنس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائی فائی سگنلز دراصل ریڈیو ویوز یعنی برقی مقناطیسی لہروں کی صورت میں منتقل ہوتے ہیں، جو روشنی، ایکس رے اور مائیکرو ویوز کی ہی فیملی کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 1940 کی دہائی میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ہیڈی لامار نے ایک انقلابی خیال پیش کیا جسے “فریکوئنسی ہوپنگ اسپریڈ اسپیکٹرم” کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں سگنل ایک ہی فریکوئنسی پر رہنے کے بجائے تیزی سے مختلف فریکوئنسیز پر منتقل ہوتا رہتا ہے، جس سے اسے روکنا یا ہیک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیڈی لامار نے یہ ایجاد موسیقار جارج انتھیل کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کے دوران کی اور 1942 میں اس کا پیٹنٹ بھی حاصل کیا، تاہم اس وقت امریکی بحریہ نے اسے استعمال نہیں کیا۔ بعد ازاں یہی اصول جدید وائرلیس کمیونیکیشن، بشمول وائی فائی، کی بنیاد بنا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق وائی فائی عام طور پر 2.4 گیگا ہرٹز اور 5 گیگا ہرٹز فریکوئنسی پر کام کرتا ہے۔ چونکہ ان لہروں کی طول موج (ویولینتھ) زیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ دیواروں جیسے ٹھوس اجسام سے آسانی سے گزر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیواریں نظر آنے والی روشنی کو تو روک لیتی ہیں کیونکہ اس کی فریکوئنسی بہت زیادہ اور طول موج بہت کم ہوتی ہے، تاہم وائی فائی سگنلز کی لہریں نسبتاً بڑی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دیوار کے ذرات سے ٹکرانے کے باوجود مکمل طور پر جذب نہیں ہوتیں بلکہ جزوی طور پر گزر جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب وائی فائی سگنل دیوار سے ٹکراتا ہے تو اس کا کچھ حصہ واپس پلٹ جاتا ہے، کچھ جذب ہو جاتا ہے جبکہ باقی حصہ دیوار کے پار پہنچ جاتا ہے، جس سے انٹرنیٹ کنکشن برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;البتہ دھات، کنکریٹ اور پانی جیسی چیزیں وائی فائی سگنلز کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر دھات سگنلز کو تقریباً مکمل طور پر واپس منعکس کر دیتی ہے، جس سے سگنل کمزور ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ 2.4 گیگا ہرٹز سگنل زیادہ دور تک جاتا ہے اور دیواروں سے بہتر گزرتا ہے، جبکہ 5 گیگا ہرٹز تیز رفتار دیتا ہے مگر کم فاصلے تک مؤثر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آج کا جدید وائی فائی اگرچہ مزید ترقی کر چکا ہے، تاہم ہیڈی لامار کی ایجاد نے اس میدان میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کا اعتراف بعد ازاں کیا گیا اور انہیں بعد از مرگ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والا وائی فائی آخر دیواروں کے پار کیسے کام کرتا ہے؟ اس سادہ مگر دلچسپ سوال کے پیچھے ایک ہالی ووڈ اداکارہ کی غیر معمولی سائنسی کاوش کی کہانی چھپی ہے، جس نے جدید وائرلیس دنیا کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔</strong></p>
<p>انڈیا ٹوڈے سائنس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائی فائی سگنلز دراصل ریڈیو ویوز یعنی برقی مقناطیسی لہروں کی صورت میں منتقل ہوتے ہیں، جو روشنی، ایکس رے اور مائیکرو ویوز کی ہی فیملی کا حصہ ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 1940 کی دہائی میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ہیڈی لامار نے ایک انقلابی خیال پیش کیا جسے “فریکوئنسی ہوپنگ اسپریڈ اسپیکٹرم” کہا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں سگنل ایک ہی فریکوئنسی پر رہنے کے بجائے تیزی سے مختلف فریکوئنسیز پر منتقل ہوتا رہتا ہے، جس سے اسے روکنا یا ہیک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ہیڈی لامار نے یہ ایجاد موسیقار جارج انتھیل کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کے دوران کی اور 1942 میں اس کا پیٹنٹ بھی حاصل کیا، تاہم اس وقت امریکی بحریہ نے اسے استعمال نہیں کیا۔ بعد ازاں یہی اصول جدید وائرلیس کمیونیکیشن، بشمول وائی فائی، کی بنیاد بنا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101001c13e4a4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق وائی فائی عام طور پر 2.4 گیگا ہرٹز اور 5 گیگا ہرٹز فریکوئنسی پر کام کرتا ہے۔ چونکہ ان لہروں کی طول موج (ویولینتھ) زیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ دیواروں جیسے ٹھوس اجسام سے آسانی سے گزر سکتی ہیں۔</p>
<p>دیواریں نظر آنے والی روشنی کو تو روک لیتی ہیں کیونکہ اس کی فریکوئنسی بہت زیادہ اور طول موج بہت کم ہوتی ہے، تاہم وائی فائی سگنلز کی لہریں نسبتاً بڑی ہوتی ہیں، اس لیے وہ دیوار کے ذرات سے ٹکرانے کے باوجود مکمل طور پر جذب نہیں ہوتیں بلکہ جزوی طور پر گزر جاتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب وائی فائی سگنل دیوار سے ٹکراتا ہے تو اس کا کچھ حصہ واپس پلٹ جاتا ہے، کچھ جذب ہو جاتا ہے جبکہ باقی حصہ دیوار کے پار پہنچ جاتا ہے، جس سے انٹرنیٹ کنکشن برقرار رہتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/13101613e3f2db7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>البتہ دھات، کنکریٹ اور پانی جیسی چیزیں وائی فائی سگنلز کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر دھات سگنلز کو تقریباً مکمل طور پر واپس منعکس کر دیتی ہے، جس سے سگنل کمزور ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ 2.4 گیگا ہرٹز سگنل زیادہ دور تک جاتا ہے اور دیواروں سے بہتر گزرتا ہے، جبکہ 5 گیگا ہرٹز تیز رفتار دیتا ہے مگر کم فاصلے تک مؤثر رہتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق آج کا جدید وائی فائی اگرچہ مزید ترقی کر چکا ہے، تاہم ہیڈی لامار کی ایجاد نے اس میدان میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کا اعتراف بعد ازاں کیا گیا اور انہیں بعد از مرگ اعزازات سے بھی نوازا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503427</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 10:16:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/13100548a481e3f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/13100548a481e3f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی گئی امریکی اے آئی ٹیکنالوجی ’پیلینٹیر ماون‘ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503396/us-ai-technology-palantir-maven</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سافٹ ویئر کمپنی ’پلانٹیر ٹیکنالوجیز‘ کی تعریف کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت نے عملی کردار ادا کیا، جہاں ایک جدید سافٹ ویئر نے حملوں کی منصوبہ بندی سے لے کر اہداف کی نشاندہی تک کے مراحل انتہائی تیزی سے مکمل کیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے دوران استعمال ہونے والے ’ماون اسمارٹ سسٹم‘ نے نہ صرف ہزاروں ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی بلکہ جنگی فیصلوں کے روایتی طریقہ کار کو بھی بدل کر رکھ دیا، جہاں انسانی تجزیہ کاروں کو کئی دن لگنے والا کام چند منٹوں میں مکمل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر پلانٹیر ٹیکنالوجیز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے جنگی صلاحیتوں میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے، جس کا اندازہ دشمنوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو کمپنی کے لیے ایک بڑی حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت، جو پہلے عام استعمال جیسے ای میل لکھنے تک محدود تھی، اب براہِ راست جنگی حکمت عملی اور فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایران جنگ کو پہلی ایسی بڑی جنگ قرار دیا جا رہا ہے جہاں اے آئی نے حقیقی وقت میں فوجی کارروائیوں کی رہنمائی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503233'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503233"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/pentagon-adopt-palantir-ai-as-core-us-military-system-memo-says-2026-03-20/"&gt;رپورٹس&lt;/a&gt; کے مطابق 28 فروری کو تہران پر بمباری سے قبل پینٹاگون کی ہدایت پر ایک سافٹ ویئر نے سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون فوٹیج کا تجزیہ کرتے ہوئے امریکی کمانڈرز کے لیے ایک ہزار سے زائد ممکنہ حملوں کے آپشنز تیار کیے۔ یہ عمل جس میں عام طور پر کئی دن لگ سکتے تھے، چند منٹوں میں مکمل ہو گیا، تاہم حملوں پر عملدرآمد انسانی اہلکاروں نے ہی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام دراصل پلانٹیر کا تیار کردہ ماون اسمارٹ سسٹم ہے، جو ’کلاوڈ اے آئی‘ پلیٹ فارم پر کام کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے ادارے ’اینتھروپک‘ نے تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ’کلاڈ‘ نامی اے آئی کو اس سے قبل انسداد دہشت گردی اور وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے وقت بھی استعمال کیا جا چکا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی میں اس کا یہ پہلا استعمال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی حکومت نے ماون اور کلاڈ کے امتزاج کو اس حد تک ترقی دی کہ یہ اب امریکی فوج کی مختلف شاخوں میں روزمرہ استعمال ہونے والا نظام بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503389/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503389"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوجی آپریشنز کے سربراہ ریئر ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق اے آئی پلیٹ فارمز افسران کو چند سیکنڈز میں بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ فراہم کرتے ہیں، جس سے تیز اور بہتر فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماون اسمارٹ سسٹم دراصل ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول ٹیکنالوجی ہے جس کی بنیاد 2017 میں رکھی گئی تھی۔ یہ نظام ڈرونز، سیٹلائٹ سینسرز اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا کو یکجا کر کے میدان جنگ میں اہداف کی شناخت، ٹریکنگ اور درجہ بندی کرتا ہے، اور ہدف کی نشاندہی کے وقت کو گھنٹوں سے کم کر کے ایک منٹ سے بھی کم کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سسٹم پیش گوئی پر مبنی لاجسٹکس میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، جس سے کمانڈرز کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کہاں وسائل کی کمی ہو سکتی ہے اور کب فوجی طاقت استعمال کرنا بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503100'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503100"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں اینتھروپک اور پلانٹیر کے درمیان شراکت داری کے بعد ’کلاڈ‘ کو ماون پلیٹ فارم میں شامل کیا گیا، جس کا کام ڈیٹا کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا اور تجزیہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم بعد ازاں اختلافات سامنے آئے اور پینٹاگون نے اعلان کیا کہ وہ اس اے آئی کو مرحلہ وار نظام سے الگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ گزشتہ ماہ  پینٹاگون نے ماون کو باضابطہ طور پر ’پروگرام آف ریکارڈ‘ کا درجہ دے دیا ہے، جس سے اس کے طویل المدتی استعمال کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران مہم میں اے آئی کے استعمال پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے سسٹمز فیصلوں کی تصدیق کے لیے کم وقت دیتے ہیں، جس سے غلط اہداف کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر اس رپورٹ کے بعد جس میں ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے میں 168 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلانٹیر ٹیکنالوجیز کا سافٹ ویئر اب پینٹاگون کے نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے اور کمپنی نے حکومتی معاہدوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن میں گزشتہ سال امریکی فوج کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کی مارکیٹ ویلیو سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سافٹ ویئر کمپنی ’پلانٹیر ٹیکنالوجیز‘ کی تعریف کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت نے عملی کردار ادا کیا، جہاں ایک جدید سافٹ ویئر نے حملوں کی منصوبہ بندی سے لے کر اہداف کی نشاندہی تک کے مراحل انتہائی تیزی سے مکمل کیے۔</strong></p>
<p>رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکی حملوں کے دوران استعمال ہونے والے ’ماون اسمارٹ سسٹم‘ نے نہ صرف ہزاروں ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی بلکہ جنگی فیصلوں کے روایتی طریقہ کار کو بھی بدل کر رکھ دیا، جہاں انسانی تجزیہ کاروں کو کئی دن لگنے والا کام چند منٹوں میں مکمل ہو گیا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر پلانٹیر ٹیکنالوجیز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے جنگی صلاحیتوں میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے، جس کا اندازہ دشمنوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو کمپنی کے لیے ایک بڑی حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت، جو پہلے عام استعمال جیسے ای میل لکھنے تک محدود تھی، اب براہِ راست جنگی حکمت عملی اور فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ایران جنگ کو پہلی ایسی بڑی جنگ قرار دیا جا رہا ہے جہاں اے آئی نے حقیقی وقت میں فوجی کارروائیوں کی رہنمائی کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503233'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503233"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/pentagon-adopt-palantir-ai-as-core-us-military-system-memo-says-2026-03-20/">رپورٹس</a> کے مطابق 28 فروری کو تہران پر بمباری سے قبل پینٹاگون کی ہدایت پر ایک سافٹ ویئر نے سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون فوٹیج کا تجزیہ کرتے ہوئے امریکی کمانڈرز کے لیے ایک ہزار سے زائد ممکنہ حملوں کے آپشنز تیار کیے۔ یہ عمل جس میں عام طور پر کئی دن لگ سکتے تھے، چند منٹوں میں مکمل ہو گیا، تاہم حملوں پر عملدرآمد انسانی اہلکاروں نے ہی کیا۔</p>
<p>یہ نظام دراصل پلانٹیر کا تیار کردہ ماون اسمارٹ سسٹم ہے، جو ’کلاوڈ اے آئی‘ پلیٹ فارم پر کام کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے ادارے ’اینتھروپک‘ نے تیار کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ’کلاڈ‘ نامی اے آئی کو اس سے قبل انسداد دہشت گردی اور وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے وقت بھی استعمال کیا جا چکا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر جنگی کارروائی میں اس کا یہ پہلا استعمال ہے۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی حکومت نے ماون اور کلاڈ کے امتزاج کو اس حد تک ترقی دی کہ یہ اب امریکی فوج کی مختلف شاخوں میں روزمرہ استعمال ہونے والا نظام بن چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503389/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503389"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>امریکی فوجی آپریشنز کے سربراہ ریئر ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق اے آئی پلیٹ فارمز افسران کو چند سیکنڈز میں بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ فراہم کرتے ہیں، جس سے تیز اور بہتر فیصلے ممکن ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماون اسمارٹ سسٹم دراصل ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول ٹیکنالوجی ہے جس کی بنیاد 2017 میں رکھی گئی تھی۔ یہ نظام ڈرونز، سیٹلائٹ سینسرز اور دیگر ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا کو یکجا کر کے میدان جنگ میں اہداف کی شناخت، ٹریکنگ اور درجہ بندی کرتا ہے، اور ہدف کی نشاندہی کے وقت کو گھنٹوں سے کم کر کے ایک منٹ سے بھی کم کر دیتا ہے۔</p>
<p>یہ سسٹم پیش گوئی پر مبنی لاجسٹکس میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، جس سے کمانڈرز کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کہاں وسائل کی کمی ہو سکتی ہے اور کب فوجی طاقت استعمال کرنا بہتر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503100'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503100"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>نومبر 2025 میں اینتھروپک اور پلانٹیر کے درمیان شراکت داری کے بعد ’کلاڈ‘ کو ماون پلیٹ فارم میں شامل کیا گیا، جس کا کام ڈیٹا کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھنا اور تجزیہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم بعد ازاں اختلافات سامنے آئے اور پینٹاگون نے اعلان کیا کہ وہ اس اے آئی کو مرحلہ وار نظام سے الگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ گزشتہ ماہ  پینٹاگون نے ماون کو باضابطہ طور پر ’پروگرام آف ریکارڈ‘ کا درجہ دے دیا ہے، جس سے اس کے طویل المدتی استعمال کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران مہم میں اے آئی کے استعمال پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے سسٹمز فیصلوں کی تصدیق کے لیے کم وقت دیتے ہیں، جس سے غلط اہداف کو نشانہ بنانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر اس رپورٹ کے بعد جس میں ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر حملے میں 168 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔</p>
<p>پلانٹیر ٹیکنالوجیز کا سافٹ ویئر اب پینٹاگون کے نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے اور کمپنی نے حکومتی معاہدوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن میں گزشتہ سال امریکی فوج کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ بھی شامل ہے۔</p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کی مارکیٹ ویلیو سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503396</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Apr 2026 11:32:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/12112636ccb509b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/12112636ccb509b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند کے گرد سفر کے بعد آرٹیمس ٹو کے خلا باز بحفاظت زمین پر واپس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503348/artemis-2-astronauts-return-earth-safely</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیمس ٹو مشن کے چاروں خلاباز، خلا میں تقریباً دس دن گزارنے کے بعد جمعہ کے روز بحر الکاہل میں خیریت سے اتر گئے ہیں۔ ناسا کے اس گنبد نما کیپسول کو ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ مشن گزشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد انسانوں کا چاند کے قریب جانے والا پہلا سفر تھا، جسے سائنسی دنیا میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلائی کیپسول، جسے اورین کہا جاتا ہے، کامیابی کے ساتھ بحرالکاہل میں کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب پانی میں اترا۔ یہ لینڈنگ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 7 منٹ پر ہوئی۔ ناسا کے مطابق خلا باز مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان کی حالت تسلی بخش تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/artemis-ii-astronauts-hurtle-home-moon-toward-splashdown-2026-04-10/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق اس مشن کے دوران خلا باز زمین سے تقریباً 2 لاکھ 52 ہزار میل دور تک گئے، جو کہ اب تک انسان کی جانب سے خلا میں طے کی گئی سب سے زیادہ دوری میں سے ایک ہے۔ مجموعی طور پر اس سفر میں تقریباً 7 لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا گیا، جس میں زمین کے گرد دو چکر اور چاند کے قریب سے گزرنا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوا تو اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 33 گنا زیادہ تھی۔ اس تیز رفتاری اور رگڑ کی وجہ سے کیپسول کے باہر کا درجہ حرارت 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث چند منٹ کے لیے رابطہ منقطع ہو گیا تھا جو کہ منصوبے کا حصہ تھا۔ تاہم کیپسول نے رفتار کم کی، پیراشوٹ کھلے اور وہ آہستہ آہستہ سمندر میں اتر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر میں اترنے کا منظر ناسا کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا گیا جہاں تبصرہ نگاروں نے اسے ایک بہترین لینڈنگ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لینڈنگ کے بعد بحریہ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیپسول کو محفوظ کیا اور چاروں خلا بازوں کو باہر نکالا۔ انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام خلا باز صحت مند ہیں اور انہیں مزید معائنے کے لیے جلد ہی ہیوسٹن لے جایا جائے گا، جہاں وہ اپنے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ ان خلابازوں میں کمانڈر وائزمین کے علاوہ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا تھا۔ خلا بازوں میں تین امریکی اور ایک کینیڈین شامل تھے۔ اس مشن نے تاریخ بھی رقم کی کیونکہ اس میں پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی شہری نے چاند کے مشن میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس پروگرام کا مقصد آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند پر اتارنا ہے، جس کی منصوبہ بندی 2028 کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد طویل المدتی ہدف مریخ پر انسانی مشن بھیجنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں اس مشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا اور لاکھوں افراد نے اس کی لینڈنگ براہ راست دیکھی۔ اس کامیابی کو سائنسی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آرٹیمس ٹو مشن کے چاروں خلاباز، خلا میں تقریباً دس دن گزارنے کے بعد جمعہ کے روز بحر الکاہل میں خیریت سے اتر گئے ہیں۔ ناسا کے اس گنبد نما کیپسول کو ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ مشن گزشتہ پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد انسانوں کا چاند کے قریب جانے والا پہلا سفر تھا، جسے سائنسی دنیا میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>خلائی کیپسول، جسے اورین کہا جاتا ہے، کامیابی کے ساتھ بحرالکاہل میں کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب پانی میں اترا۔ یہ لینڈنگ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 7 منٹ پر ہوئی۔ ناسا کے مطابق خلا باز مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان کی حالت تسلی بخش تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/artemis-ii-astronauts-hurtle-home-moon-toward-splashdown-2026-04-10/">رائٹرز</a> کے مطابق اس مشن کے دوران خلا باز زمین سے تقریباً 2 لاکھ 52 ہزار میل دور تک گئے، جو کہ اب تک انسان کی جانب سے خلا میں طے کی گئی سب سے زیادہ دوری میں سے ایک ہے۔ مجموعی طور پر اس سفر میں تقریباً 7 لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا گیا، جس میں زمین کے گرد دو چکر اور چاند کے قریب سے گزرنا شامل تھا۔</p>
<p>جب یہ کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہوا تو اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 33 گنا زیادہ تھی۔ اس تیز رفتاری اور رگڑ کی وجہ سے کیپسول کے باہر کا درجہ حرارت 5 ہزار ڈگری فارن ہائیٹ تک پہنچ گیا تھا، جس کے باعث چند منٹ کے لیے رابطہ منقطع ہو گیا تھا جو کہ منصوبے کا حصہ تھا۔ تاہم کیپسول نے رفتار کم کی، پیراشوٹ کھلے اور وہ آہستہ آہستہ سمندر میں اتر گیا۔</p>
<p>سمندر میں اترنے کا منظر ناسا کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھایا گیا جہاں تبصرہ نگاروں نے اسے ایک بہترین لینڈنگ قرار دیا۔</p>
<p>لینڈنگ کے بعد بحریہ کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیپسول کو محفوظ کیا اور چاروں خلا بازوں کو باہر نکالا۔ انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایک بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام خلا باز صحت مند ہیں اور انہیں مزید معائنے کے لیے جلد ہی ہیوسٹن لے جایا جائے گا، جہاں وہ اپنے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ ان خلابازوں میں کمانڈر وائزمین کے علاوہ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن شامل تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NASA/status/2042756933686337713?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا سے لانچ کیا گیا تھا۔ خلا بازوں میں تین امریکی اور ایک کینیڈین شامل تھے۔ اس مشن نے تاریخ بھی رقم کی کیونکہ اس میں پہلی بار ایک سیاہ فام خلا باز، ایک خاتون اور ایک غیر امریکی شہری نے چاند کے مشن میں حصہ لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آرٹیمس پروگرام کا مقصد آئندہ برسوں میں دوبارہ انسان کو چاند پر اتارنا ہے، جس کی منصوبہ بندی 2028 کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد طویل المدتی ہدف مریخ پر انسانی مشن بھیجنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p>دنیا بھر میں اس مشن کو بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا اور لاکھوں افراد نے اس کی لینڈنگ براہ راست دیکھی۔ اس کامیابی کو سائنسی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کی ایک روشن مثال قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503348</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 09:56:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/110928421a1a641.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/110928421a1a641.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوشل میڈیا سے متاثرہ دماغ کی بحالی: نئے ’ڈیٹوکس‘ طریقے سے 10 سال کا ذہنی نقصان ختم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503361/social-media-detox-recover-brain</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جدید تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال انسانی دماغ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر رہا ہے، تاہم صرف دو ہفتوں کے لیے ان چیزوں سے دوری اختیار کرنے سے دماغی صحت میں دس سال کے برابر بہتری لائی جا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئی تحقیق نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اسمارٹ فون کے حد سے زیادہ استعمال سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو محض دو ہفتوں کے ڈیجیٹل ڈیٹاکس یعنی انٹرنیٹ سے دوری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی جریدے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://academic.oup.com/pnasnexus/article/4/2/pgaf017/8016017"&gt;’ پی این اے ایس نیکسس‘&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 467 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں شامل افراد سے کہا گیا کہ وہ 14 دنوں کے لیے اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں، حالانکہ انہیں فون کالز کرنے، عام پیغامات بھیجنے اور لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499089'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499089"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال کمپیوٹر کے مقابلے میں زیادہ لاشعوری اور نشہ آور ہوتا ہے، اس لیے توجہ صرف فون پر مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج حیران کن بھی تھے اور سوچنے پر مجبور کرنے والے بھی۔ روزانہ اسکرین ٹائم 314 منٹ سے کم ہو کر 161 منٹ رہ گیا، اور اس کمی کے ساتھ ہی لوگوں کے مزاج، توجہ اور ذہنی سکون میں واضح بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق اس دو ہفتوں کے وقفے نے دماغی کارکردگی کو ایک دہائی پیچھے کی طرف موڑ دیا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ موبائل کے استعمال میں تھوڑی سی کمی بھی انسانی رویے اور مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی سامنے آئی کہ مکمل طور پر رابطہ منقطع کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف چند دن کی کمی بھی ذہن پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق، جو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://jamanetwork.com/journals/jamanetworkopen/fullarticle/2841773"&gt;”جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن“&lt;/a&gt; میں شائع ہوئی ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف ایک ہفتہ اسمارٹ فون سے دور رہنے سے انسان میں بے چینی، اداسی اور نیند کی کمی کی شکایات میں نمایاں کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سائنسی حقائق ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے ایڈکشن کے معاملے پر قانونی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467945'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467945"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں امریکہ کی مختلف عدالتوں نے میٹا اور یوٹیوب جیسی کمپنیوں کو کروڑوں پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارمز بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی حکومتیں اس سنگین صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے اب ایکشن لے رہی ہیں۔ انڈونیشیا میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ امریکا کی مختلف ریاستوں میں بھی اسی طرح کے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اوسط انسان دن میں چار سے پانچ گھنٹے اپنے فون کو دیتا ہے، جو کہ ماہرین کے مطابق ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ آپ کو ٹیکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کی ضرورت نہیں، لیکن آپ کا دماغ آپ سے صرف چند دن کے سکون کا تقاضا ضرور کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی اصل طاقت بحال کر سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جدید تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال انسانی دماغ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر رہا ہے، تاہم صرف دو ہفتوں کے لیے ان چیزوں سے دوری اختیار کرنے سے دماغی صحت میں دس سال کے برابر بہتری لائی جا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>اس نئی تحقیق نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اسمارٹ فون کے حد سے زیادہ استعمال سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو محض دو ہفتوں کے ڈیجیٹل ڈیٹاکس یعنی انٹرنیٹ سے دوری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی جریدے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://academic.oup.com/pnasnexus/article/4/2/pgaf017/8016017">’ پی این اے ایس نیکسس‘</a> میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 467 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔</p>
<p>تحقیق میں شامل افراد سے کہا گیا کہ وہ 14 دنوں کے لیے اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں، حالانکہ انہیں فون کالز کرنے، عام پیغامات بھیجنے اور لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499089'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499089"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال کمپیوٹر کے مقابلے میں زیادہ لاشعوری اور نشہ آور ہوتا ہے، اس لیے توجہ صرف فون پر مرکوز کی گئی۔</p>
<p>نتائج حیران کن بھی تھے اور سوچنے پر مجبور کرنے والے بھی۔ روزانہ اسکرین ٹائم 314 منٹ سے کم ہو کر 161 منٹ رہ گیا، اور اس کمی کے ساتھ ہی لوگوں کے مزاج، توجہ اور ذہنی سکون میں واضح بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>محققین کے مطابق اس دو ہفتوں کے وقفے نے دماغی کارکردگی کو ایک دہائی پیچھے کی طرف موڑ دیا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ موبائل کے استعمال میں تھوڑی سی کمی بھی انسانی رویے اور مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی سامنے آئی کہ مکمل طور پر رابطہ منقطع کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف چند دن کی کمی بھی ذہن پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق، جو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://jamanetwork.com/journals/jamanetworkopen/fullarticle/2841773">”جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن“</a> میں شائع ہوئی ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف ایک ہفتہ اسمارٹ فون سے دور رہنے سے انسان میں بے چینی، اداسی اور نیند کی کمی کی شکایات میں نمایاں کمی آتی ہے۔</p>
<p>یہ سائنسی حقائق ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے ایڈکشن کے معاملے پر قانونی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30467945'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30467945"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حال ہی میں امریکہ کی مختلف عدالتوں نے میٹا اور یوٹیوب جیسی کمپنیوں کو کروڑوں پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارمز بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر کی حکومتیں اس سنگین صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے اب ایکشن لے رہی ہیں۔ انڈونیشیا میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ امریکا کی مختلف ریاستوں میں بھی اسی طرح کے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایک اوسط انسان دن میں چار سے پانچ گھنٹے اپنے فون کو دیتا ہے، جو کہ ماہرین کے مطابق ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔</p>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ آپ کو ٹیکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کی ضرورت نہیں، لیکن آپ کا دماغ آپ سے صرف چند دن کے سکون کا تقاضا ضرور کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی اصل طاقت بحال کر سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503361</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 12:43:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/111239579773acf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/111239579773acf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیٹ جی پی ٹی کے خالق اور اوپن اے آئی کے سربراہ کے گھر پر حملہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503352/openai-ceo-home-attacked</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کے گھر پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا، پولیس نے پیٹرول بم پھینکنے کے شبہے میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جس کے بعد کمپنی نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے صورتِ حال کی تصدیق بھی کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460154'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق سان فرانسسکو پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ علی الصبح پیش آیا جب ایک نامعلوم شخص نے نارتھ بیچ کے علاقے میں واقع ایک رہائشی مکان پر آتش گیر مادہ پھینکا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس حملے کا نشانہ سیم آلٹمین کی رہائش گاہ تھی، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پولیس کو ایک اور اطلاع ملی جس میں بتایا گیا کہ ایک شخص شہر میں واقع اے آئی کے ادارے کے ہیڈ کواٹر کے باہر موجود ہے اور ایک اور عمارت کو نذرِ آتش کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیس سالہ مشتبہ نوجوان کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496768'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اوپن اے آئی کے ترجمان نے واقعے کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کی مکمل تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ ابھی تک حملے کے پیچھے چھپے اصل محرکات اور وجوہات واضح نہیں ہو سکی ہیں اور پولیس اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا اس نوجوان کا کوئی خاص مقصد تھا یا یہ محض ایک انفرادی اشتعال انگیز کارروائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی جبکہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کے گھر پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا، پولیس نے پیٹرول بم پھینکنے کے شبہے میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جس کے بعد کمپنی نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے صورتِ حال کی تصدیق بھی کی ہے۔</strong></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460154'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق سان فرانسسکو پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ علی الصبح پیش آیا جب ایک نامعلوم شخص نے نارتھ بیچ کے علاقے میں واقع ایک رہائشی مکان پر آتش گیر مادہ پھینکا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس حملے کا نشانہ سیم آلٹمین کی رہائش گاہ تھی، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔</p>
<p>حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پولیس کو ایک اور اطلاع ملی جس میں بتایا گیا کہ ایک شخص شہر میں واقع اے آئی کے ادارے کے ہیڈ کواٹر کے باہر موجود ہے اور ایک اور عمارت کو نذرِ آتش کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیس سالہ مشتبہ نوجوان کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30496768'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30496768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اوپن اے آئی کے ترجمان نے واقعے کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اس معاملے کی مکمل تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ ابھی تک حملے کے پیچھے چھپے اصل محرکات اور وجوہات واضح نہیں ہو سکی ہیں اور پولیس اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا اس نوجوان کا کوئی خاص مقصد تھا یا یہ محض ایک انفرادی اشتعال انگیز کارروائی تھی۔</p>
<p>پولیس کی جانب سے ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی جبکہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اس واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503352</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 10:36:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1110232347c7bf7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1110232347c7bf7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل پکسل 11 کی ایپل اور سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503322/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گوگل اپنے نئے اسمارٹ فون پکسل 11  کے ساتھ ایک بڑی تکنیکی پیش رفت کرنے جا رہا ہے، جس سے موبائل فونز کی دنیا میں مقابلہ مزید سخت ہونے کی توقع ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق گوگل اس بار اپنے فون میں ایسی جدید ڈسپلے ٹیکنالوجی استعمال کرنے جا رہا ہے جو اس سے پہلے شاید ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے برانڈز میں بھی عام دستیاب نہیں ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ٹی نیوز کے مطابق گوگل پکسل 11 میں سام سنگ کا جدید ترین ایم 16 او ایل ای ڈی ڈسپلے استعمال کیا جائے گا۔ یہ اسکرین نہ صرف زیادہ روشن ہوگی بلکہ اس میں رنگ بھی پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور حقیقی نظر آئیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک بڑا فائدہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اسکرین کم بجلی استعمال کرتی ہے، جس کی وجہ سے فون کی بیٹری زیادہ دیر تک چل سکے گی اور صارف کو بار بار چارجنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502905'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502905"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گوگل اس نئی اسکرین کو مارکیٹ میں دیگر بڑی کمپنیوں سے پہلے متعارف کروا سکتا ہے۔ عام طور پر سام سنگ اپنی جدید اسکرین ٹیکنالوجی پہلے ایپل کو فراہم کرتا ہے، لیکن اس بار ممکنہ طور پر گوگل سب سے آگے نکل جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت سام سنگ کے کئی موجودہ فونز میں نسبتاً پرانی ایم۔14 اسکرین استعمال ہو رہی ہے، جبکہ ایم۔16 ایک نئی اور بہتر جنریشن کی ٹیکنالوجی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پکسل 11 کے حوالے سے مزید خبروں میں یہ بھی شامل ہے کہ اس میں گوگل کی اپنی نئی چپ ٹینسرG6  شامل کی جائے گی، جو 2 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فون نہ صرف تیز رفتار ہوگا بلکہ اس کی کارکردگی بھی پہلے سے بہتر اور زیادہ مؤثر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا اور بہتر موڈیم بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے، جو موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سگنلز کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497479'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گوگل پکسل 11 کے اگست 2026 میں متعارف ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف آئی فون 18 ستمبر 2026  یعنی ایک ماہ بعد لانچ ہوگا جبکہ سام سنگ کے اگلے فلیگ شپ جنوری 2027 سے کئی ماہ پہلے یہ اسکرین مارکیٹ میں پیش کردے گا، لہٰذا گوگل کو مارکیٹ میں برتری حاصل ہو سکتی ہے، خاص طور پر نئی اسکرین ٹیکنالوجی کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اگر یہ تمام اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو گوگل کا پکسل 11 نہ صرف ڈسپلے اور رفتار کے لحاظ سے ایک بڑا اپ گریڈ ہوگا بلکہ یہ اسمارٹ فون انڈسٹری میں ایک نیا معیار بھی قائم کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ گوگل اب صرف سافٹ ویئر کمپنی نہیں رہا بلکہ وہ ہارڈویئر کی دنیا میں بھی ایپل اور سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کے لیے جارحانہ اقدامات کر رہا ہے، اور گوگل کا پکسل 11 سال 2026 کے سب سے طاقتور اور دلچسپ فونز میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گوگل اپنے نئے اسمارٹ فون پکسل 11  کے ساتھ ایک بڑی تکنیکی پیش رفت کرنے جا رہا ہے، جس سے موبائل فونز کی دنیا میں مقابلہ مزید سخت ہونے کی توقع ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق گوگل اس بار اپنے فون میں ایسی جدید ڈسپلے ٹیکنالوجی استعمال کرنے جا رہا ہے جو اس سے پہلے شاید ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے برانڈز میں بھی عام دستیاب نہیں ہوگی۔</strong></p>
<p>ای ٹی نیوز کے مطابق گوگل پکسل 11 میں سام سنگ کا جدید ترین ایم 16 او ایل ای ڈی ڈسپلے استعمال کیا جائے گا۔ یہ اسکرین نہ صرف زیادہ روشن ہوگی بلکہ اس میں رنگ بھی پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور حقیقی نظر آئیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک بڑا فائدہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اسکرین کم بجلی استعمال کرتی ہے، جس کی وجہ سے فون کی بیٹری زیادہ دیر تک چل سکے گی اور صارف کو بار بار چارجنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502905'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502905"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گوگل اس نئی اسکرین کو مارکیٹ میں دیگر بڑی کمپنیوں سے پہلے متعارف کروا سکتا ہے۔ عام طور پر سام سنگ اپنی جدید اسکرین ٹیکنالوجی پہلے ایپل کو فراہم کرتا ہے، لیکن اس بار ممکنہ طور پر گوگل سب سے آگے نکل جائے گا۔</p>
<p>اس وقت سام سنگ کے کئی موجودہ فونز میں نسبتاً پرانی ایم۔14 اسکرین استعمال ہو رہی ہے، جبکہ ایم۔16 ایک نئی اور بہتر جنریشن کی ٹیکنالوجی ہوگی۔</p>
<p>پکسل 11 کے حوالے سے مزید خبروں میں یہ بھی شامل ہے کہ اس میں گوگل کی اپنی نئی چپ ٹینسرG6  شامل کی جائے گی، جو 2 نینو میٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فون نہ صرف تیز رفتار ہوگا بلکہ اس کی کارکردگی بھی پہلے سے بہتر اور زیادہ مؤثر ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا اور بہتر موڈیم بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے، جو موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سگنلز کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں مدد دے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497479'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گوگل پکسل 11 کے اگست 2026 میں متعارف ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف آئی فون 18 ستمبر 2026  یعنی ایک ماہ بعد لانچ ہوگا جبکہ سام سنگ کے اگلے فلیگ شپ جنوری 2027 سے کئی ماہ پہلے یہ اسکرین مارکیٹ میں پیش کردے گا، لہٰذا گوگل کو مارکیٹ میں برتری حاصل ہو سکتی ہے، خاص طور پر نئی اسکرین ٹیکنالوجی کے حوالے سے۔</p>
<p>مجموعی طور پر اگر یہ تمام اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو گوگل کا پکسل 11 نہ صرف ڈسپلے اور رفتار کے لحاظ سے ایک بڑا اپ گریڈ ہوگا بلکہ یہ اسمارٹ فون انڈسٹری میں ایک نیا معیار بھی قائم کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس پیش رفت کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ گوگل اب صرف سافٹ ویئر کمپنی نہیں رہا بلکہ وہ ہارڈویئر کی دنیا میں بھی ایپل اور سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کے لیے جارحانہ اقدامات کر رہا ہے، اور گوگل کا پکسل 11 سال 2026 کے سب سے طاقتور اور دلچسپ فونز میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503322</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 13:01:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/1011334439066f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/1011334439066f6.webp"/>
        <media:title>پکسل 11 سیریز میں ممکنہ طور پر پہلی بار جدید M16 پینل شامل کیا جائے گا۔
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل پرائیویسی خطرے میں؟ واٹس ایپ کے خلاف کیس پر ایلون مسک کا سخت ردعمل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503316/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلون مسک نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ”واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا“ کا بیان دے کر ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واٹس ایپ کے خلاف دائر ہونے والے مقدمے میں کمپنی کے سیکیورٹی دعوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ صارفین کی نجی گفتگو اتنی محفوظ نہیں جتنی کمپنی ظاہر کرتی ہے، جس سے آن لائن پرائیویسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے اوائل میں دائر ہونے والے اس گروپ ایکشن لا سوٹ میں میٹا پر انتہائی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ کمپنی نے اینڈ-ٹو-اینڈ انکرپشن کا جھوٹا دعویٰ کیا، جبکہ حقیقت میں پیغامات کی نگرانی کے لیے تیسرے فریق کو، جیسے کہ ’ایکسینچر‘ کو صارفین کے نجی پیغامات تک رسائی فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقدمے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ میٹا نے مبینہ طور پر پیغامات کو خفیہ طریقے سے پڑھا اور محفوظ کیا، جو کہ ان کے اپنے پرائیویسی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410901/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ سگنل پروٹوکول کا استعمال کرتے ہوئے اینڈ-ٹو-اینڈ انکرپشن فراہم کرتا ہے۔ تکنیکی لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغام بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کے علاوہ کوئی تیسرا فرد، یہاں تک کہ خود واٹس ایپ بھی، اسے نہیں پڑھ سکتا۔ تاہم، اس قانونی چارہ جوئی نے اس ٹیکنالوجی کے حقیقی نفاذ پر شک پیدا کر دیا ہے، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سسٹم میں کوئی ایسا بیک ڈور موجود ہے جو مخصوص حالات میں ڈیٹا تک رسائی ممکن بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کا مختصر تبصرہ ”واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا“ اس بے اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ برسوں میں میٹا کے پلیٹ فارمز کے بارے میں بڑھی ہے۔ یہ بیان صارفین کے رویوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ محفوظ سمجھے جانے والے متبادل پلیٹ فارمز کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/2042290524565225572?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/elonmusk/status/2042290524565225572?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، واٹس ایپ نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ ان کا سیکیورٹی ڈھانچہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مضبوط ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ الزامات عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں، تو یہ میٹا کے لیے نہ صرف مالی طور پر ایک بڑا دھچکا ہوگا، بلکہ عالمی سطح پر ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین میں بھی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498978'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال ٹیکنالوجی کے دور میں ’اعتماد‘ کے بحران کو واضح کرتی ہے۔ جب دنیا کا سب سے بڑا میسجنگ پلیٹ فارم اس طرح کے الزامات کی زد میں آتا ہے، تو اس کے اثرات کئی صورتوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں اور لوگ زیادہ نجی اور اوپن سورس متبادلات کی تلاش شروع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتیں ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے مزید سخت قوانین نافذ کر سکتی ہیں، اس کے ساتھ ہی کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے انکرپشن کے دعووں کو آزادانہ آڈٹ کے ذریعے ثابت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قانونی جنگ نہ صرف میٹا کے مستقبل بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے معیار اور پرائیویسی کے تصور کو بھی تبدیل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایلون مسک نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ”واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا“ کا بیان دے کر ڈیجیٹل پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واٹس ایپ کے خلاف دائر ہونے والے مقدمے میں کمپنی کے سیکیورٹی دعوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ صارفین کی نجی گفتگو اتنی محفوظ نہیں جتنی کمپنی ظاہر کرتی ہے، جس سے آن لائن پرائیویسی پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>2026 کے اوائل میں دائر ہونے والے اس گروپ ایکشن لا سوٹ میں میٹا پر انتہائی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ کمپنی نے اینڈ-ٹو-اینڈ انکرپشن کا جھوٹا دعویٰ کیا، جبکہ حقیقت میں پیغامات کی نگرانی کے لیے تیسرے فریق کو، جیسے کہ ’ایکسینچر‘ کو صارفین کے نجی پیغامات تک رسائی فراہم کی۔</p>
<p>اس مقدمے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ میٹا نے مبینہ طور پر پیغامات کو خفیہ طریقے سے پڑھا اور محفوظ کیا، جو کہ ان کے اپنے پرائیویسی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410901/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410901"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واٹس ایپ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ سگنل پروٹوکول کا استعمال کرتے ہوئے اینڈ-ٹو-اینڈ انکرپشن فراہم کرتا ہے۔ تکنیکی لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغام بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کے علاوہ کوئی تیسرا فرد، یہاں تک کہ خود واٹس ایپ بھی، اسے نہیں پڑھ سکتا۔ تاہم، اس قانونی چارہ جوئی نے اس ٹیکنالوجی کے حقیقی نفاذ پر شک پیدا کر دیا ہے، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سسٹم میں کوئی ایسا بیک ڈور موجود ہے جو مخصوص حالات میں ڈیٹا تک رسائی ممکن بناتا ہے۔</p>
<p>ایلون مسک کا مختصر تبصرہ ”واٹس ایپ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا“ اس بے اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ برسوں میں میٹا کے پلیٹ فارمز کے بارے میں بڑھی ہے۔ یہ بیان صارفین کے رویوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ زیادہ محفوظ سمجھے جانے والے متبادل پلیٹ فارمز کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/elonmusk/status/2042290524565225572?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/elonmusk/status/2042290524565225572?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب، واٹس ایپ نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ ان کا سیکیورٹی ڈھانچہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مضبوط ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔</p>
<p>اگر یہ الزامات عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں، تو یہ میٹا کے لیے نہ صرف مالی طور پر ایک بڑا دھچکا ہوگا، بلکہ عالمی سطح پر ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین میں بھی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498978'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ صورتِ حال ٹیکنالوجی کے دور میں ’اعتماد‘ کے بحران کو واضح کرتی ہے۔ جب دنیا کا سب سے بڑا میسجنگ پلیٹ فارم اس طرح کے الزامات کی زد میں آتا ہے، تو اس کے اثرات کئی صورتوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں اور لوگ زیادہ نجی اور اوپن سورس متبادلات کی تلاش شروع کر سکتے ہیں۔</p>
<p>حکومتیں ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ڈیٹا پروٹیکشن کے حوالے سے مزید سخت قوانین نافذ کر سکتی ہیں، اس کے ساتھ ہی کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے انکرپشن کے دعووں کو آزادانہ آڈٹ کے ذریعے ثابت کریں۔</p>
<p>یہ قانونی جنگ نہ صرف میٹا کے مستقبل بلکہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے معیار اور پرائیویسی کے تصور کو بھی تبدیل کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503316</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 09:33:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/10091706430468f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/10091706430468f.webp"/>
        <media:title>واٹس ایپ پرائیویسی پر سوالات
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیسلا نے عام صارفین کے لیے چھوٹی اور سستی ’ایس یو وی‘ کی تیاری شروع کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503307/tesla-cheap-small-suv-production</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکٹرک گاڑیوں کی پروڈکشن کے لیے مشہور کمپنی ’ٹیسلا‘ کی جانب سے چھوٹی اور سستی الیکٹرک گاڑی تیار کرنے کی خبروں نے آٹو مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/autos-transportation/tesla-is-developing-new-smaller-cheaper-ev-sources-say-2026-04-09/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ٹیسلا ایک ایسی ’کومپیکٹ ایس یو وی‘ پر کام کر رہا ہے جو اس کے موجودہ ’ماڈل وائے‘ سے تقریباً 20 فیصد چھوٹی اور سستی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حال ہی میں اس حوالے سے سپلائرز سے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی 4.28 میٹر (تقریباً 14 فٹ) لمبی ہوگی، جو ٹیسلا کے مقبول ترین ماڈل ’وائے ایس یو وی‘ (تقریباً 15.7 فٹ) سے نمایاں طور پر چھوٹی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے تصدیق کی کہ اس نئی گاڑی کو ٹیسلا کی شنگھائی (چین) فیکٹری میں تیار کیا جائے گا، جب کہ ایک ذریعے کے مطابق کمپنی کی کوشش ہے کہ اس کی پیداوار کو امریکا اور یورپ تک بھی وسعت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی باقاعدہ پیداوار رواں سال شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2042201965577568767'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2042201965577568767"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اس نئے ماڈل کی قیمت ٹیسلا کی موجودہ انٹری لیول سیڈان ’ماڈل 3‘ سے نمایاں طور پر کم رکھی جائے گی۔ چین میں ’ماڈل 3‘ کی قیمت 34 ہزار ڈالر اور امریکا میں لگ بھگ 37 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاگت میں کمی کے لیے ٹیسلا اس میں نسبتاً چھوٹی بیٹری استعمال کرے گا، جس کے نتیجے میں اس کی ڈرائیونگ رینج ’ماڈل وائے‘ کی 306 سے 327 میل رینج کے مقابلے میں کم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ماڈلز میں دستیاب دو الیکٹرک موٹرز کی بجائے اس میں صرف ایک موٹر دی جائے گی اور اس نئے ماڈل کا وزن بھی ’ماڈل وائے‘ کے مقابلے میں کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/1980723319679963571'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1980723319679963571"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2024 میں ایلون مسک نے 25 ہزار ڈالر کی سستی الیکٹرک گاڑی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا اور کمپنی کی تمام تر توجہ ’روبوٹیکسی‘ اور ’ہیومنائیڈ روبوٹس‘ پر مرکوز کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ تجزیے کے مطابق، چوں کہ دنیا بھر کی مارکیٹوں اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے مکمل ڈرائیور لیس گاڑیوں کی منظوری میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے ٹیسلا ایسے ماڈلز بنانے پر غور کر رہا ہے جو خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی کنٹرول کا آپشن بھی فراہم کریں تاکہ فیکٹریوں کی پیداواری گنجائش اور سیلز کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹیسلا کا کہنا ہے کہ وہ رواں ماہ اپنی دو دروازوں والی ’سائبر کیب‘ روبوٹیکسی کی پیداوار شروع کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جس میں کوئی اسٹیئرنگ وہیل یا پیڈل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے ایک ترجمان کے مطابق، ٹیسلا نے تاحال بغیر اسٹیئرنگ اور پیڈلز کے گاڑی فروخت کرنے کے لیے درکار لازمی وفاقی استثنیٰ کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الیکٹرک گاڑیوں کی پروڈکشن کے لیے مشہور کمپنی ’ٹیسلا‘ کی جانب سے چھوٹی اور سستی الیکٹرک گاڑی تیار کرنے کی خبروں نے آٹو مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/autos-transportation/tesla-is-developing-new-smaller-cheaper-ev-sources-say-2026-04-09/">رائٹرز</a> کی تازہ رپورٹ کے مطابق، ٹیسلا ایک ایسی ’کومپیکٹ ایس یو وی‘ پر کام کر رہا ہے جو اس کے موجودہ ’ماڈل وائے‘ سے تقریباً 20 فیصد چھوٹی اور سستی ہوگی۔</p>
<p>رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حال ہی میں اس حوالے سے سپلائرز سے بات چیت شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی 4.28 میٹر (تقریباً 14 فٹ) لمبی ہوگی، جو ٹیسلا کے مقبول ترین ماڈل ’وائے ایس یو وی‘ (تقریباً 15.7 فٹ) سے نمایاں طور پر چھوٹی ہوگی۔</p>
<p>ذرائع نے تصدیق کی کہ اس نئی گاڑی کو ٹیسلا کی شنگھائی (چین) فیکٹری میں تیار کیا جائے گا، جب کہ ایک ذریعے کے مطابق کمپنی کی کوشش ہے کہ اس کی پیداوار کو امریکا اور یورپ تک بھی وسعت دی جائے۔</p>
<p>یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کی باقاعدہ پیداوار رواں سال شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2042201965577568767'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2042201965577568767"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>تفصیلات کے مطابق اس نئے ماڈل کی قیمت ٹیسلا کی موجودہ انٹری لیول سیڈان ’ماڈل 3‘ سے نمایاں طور پر کم رکھی جائے گی۔ چین میں ’ماڈل 3‘ کی قیمت 34 ہزار ڈالر اور امریکا میں لگ بھگ 37 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔</p>
<p>لاگت میں کمی کے لیے ٹیسلا اس میں نسبتاً چھوٹی بیٹری استعمال کرے گا، جس کے نتیجے میں اس کی ڈرائیونگ رینج ’ماڈل وائے‘ کی 306 سے 327 میل رینج کے مقابلے میں کم ہوگی۔</p>
<p>موجودہ ماڈلز میں دستیاب دو الیکٹرک موٹرز کی بجائے اس میں صرف ایک موٹر دی جائے گی اور اس نئے ماڈل کا وزن بھی ’ماڈل وائے‘ کے مقابلے میں کم ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/1980723319679963571'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/1980723319679963571"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ 2024 میں ایلون مسک نے 25 ہزار ڈالر کی سستی الیکٹرک گاڑی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا اور کمپنی کی تمام تر توجہ ’روبوٹیکسی‘ اور ’ہیومنائیڈ روبوٹس‘ پر مرکوز کر دی تھی۔</p>
<p>تاہم حالیہ تجزیے کے مطابق، چوں کہ دنیا بھر کی مارکیٹوں اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے مکمل ڈرائیور لیس گاڑیوں کی منظوری میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے ٹیسلا ایسے ماڈلز بنانے پر غور کر رہا ہے جو خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی کنٹرول کا آپشن بھی فراہم کریں تاکہ فیکٹریوں کی پیداواری گنجائش اور سیلز کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب ٹیسلا کا کہنا ہے کہ وہ رواں ماہ اپنی دو دروازوں والی ’سائبر کیب‘ روبوٹیکسی کی پیداوار شروع کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جس میں کوئی اسٹیئرنگ وہیل یا پیڈل نہیں ہوگا۔</p>
<p>تاہم امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے ایک ترجمان کے مطابق، ٹیسلا نے تاحال بغیر اسٹیئرنگ اور پیڈلز کے گاڑی فروخت کرنے کے لیے درکار لازمی وفاقی استثنیٰ کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503307</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 21:27:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09211525afa91cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09211525afa91cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرٹیمس ٹو: چاند کے تاریخی سفر کے بعد خلا نوردوں کی زمین پر واپسی کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503297/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی خلائی ادارے کے آرٹیمس ٹو مشن پر مامور چار خلا نورد چاند کے تاریخی سفر کے بعد زمین واپسی کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں انہوں نے خلا سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اس غیر معمولی تجربے اور واپسی کے خطرناک مرحلے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلا نوردوں کا کہنا تھا کہ زمین کے ماحول میں داخلے کے دوران ان کا خلائی کیپسول شدید رفتار اور فضائی رگڑ کے باعث آگ کے گولے کی مانند بن جائے گا، جو مشن کا سب سے حساس مرحلہ ہے، کیونکہ اس دوران رفتار تقریباً 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے اور ہیٹ شیلڈ کو انتہائی درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس ٹو مشن کے خلا نوردوں نے چاند کے اُس حصے کا سفر کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا اور اس دوران انہوں نے زمین سے تقریباً 252 ہزار میل دور جا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ فاصلے تک جانے والے افراد بن گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل یہ اعزاز اپالو 13 کے خلا نوردوں کے پاس تھا، جو 56 سال تک برقرار رہا۔ خلا نوردوں نے بتایا کہ اس سفر کے دوران انہیں ابھی تک اپنے تجربات کو مکمل طور پر سمجھنے کا موقع نہیں ملا اور واپسی کا مرحلہ بھی ایک منفرد اور گہرا تجربہ ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشن کے دوران خلا نوردوں نے اپنے اہل خانہ سے مختصر رابطہ بھی کیا، جسے انہوں نے انتہائی جذباتی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق خلا میں رہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اپنے گھروں والوں سے بات کرتے، ہنستے اور بعض اوقات آبدیدہ ہوتے دیکھنا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے انہیں رشتوں کی اہمیت کا شدت سے احساس دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایک نہایت جذباتی واقعہ بھی پیش آیا جب ایک خلا نورد نے اپنے ساتھی کے مرحوم شریکِ حیات کے نام پر چاند کے ایک نئے گڑھے کا نام رکھنے کی تجویز دی، جسے سن کر مشن کنٹرول سمیت کئی افراد آبدیدہ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسی اعتبار سے بھی اس مشن کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ خلا نوردوں نے چاند کے قریب سے براہ راست مشاہدات کیے اور زمین پر موجود سائنس دانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر معلومات کا تبادلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سل&lt;strong&gt;سلے کا اگلا مشن آرٹیمس 3&lt;/strong&gt; ہوگا، جس میں زمین کے نچلے مدار میں اورائن کیپسول اور خلابازوں کے چاند پر اتارنے کے درمیان باہمی رابطے اور جڑنے کا ایک اہم تجربہ شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد آرٹیمس 4 مشن متوقع ہے، جس کا ہدف 2028 مقرر کیا گیا ہے، اور اس کے تحت عملے کے ساتھ چاند پر پہلی لینڈنگ کی جائے گی، جو 1972 میں اپالو 17 کے بعد انسانی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب زمین پر ہیوسٹن میں قائم ناسا کے مشن کنٹرول سینٹر سے متصل کمروں میں درجنوں قمری سائنسدان اس ہفتے مسلسل مصروف رہے۔ یہ ماہرین آرٹیمس ٹو کے خلا نوردوں کی جانب سے خلائی جہاز سے موصول ہونے والے براہِ راست اور ریکارڈ شدہ صوتی پیغامات کو سنتے، ان پر غور و فکر کرتے اور اہم نکات قلمبند کرتے رہے، تاکہ اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات کو سائنسی تحقیق میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق انسانی آنکھ سے حاصل ہونے والا یہ مشاہداتی ڈیٹا چاند اور نظامِ شمسی کی تشکیل سے متعلق کئی نئے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے مستقبل کی تحقیق کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس پروگرام کے تحت یہ مشن ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا ہے بلکہ وہاں طویل مدتی قیام کے لیے بنیاد رکھنا بھی ہے۔ آنے والے مشنز میں خلائی جہازوں کے باہمی رابطے، چاند پر لینڈنگ اور مستقبل میں مریخ تک رسائی کے منصوبوں پر مزید کام کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مشن ایک بڑے سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس ٹو کے خلا نورد جمعہ کی شام زمین پر واپس پہنچیں گے اور کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں لینڈنگ کریں گے، یوں تقریباً دس دن پر مشتمل یہ تاریخی مشن اپنے اختتام کو پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یہ کامیاب مشن انسانی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے خلائی اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی خلائی ادارے کے آرٹیمس ٹو مشن پر مامور چار خلا نورد چاند کے تاریخی سفر کے بعد زمین واپسی کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں انہوں نے خلا سے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اس غیر معمولی تجربے اور واپسی کے خطرناک مرحلے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا ہے۔</strong></p>
<p>خلا نوردوں کا کہنا تھا کہ زمین کے ماحول میں داخلے کے دوران ان کا خلائی کیپسول شدید رفتار اور فضائی رگڑ کے باعث آگ کے گولے کی مانند بن جائے گا، جو مشن کا سب سے حساس مرحلہ ہے، کیونکہ اس دوران رفتار تقریباً 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے اور ہیٹ شیلڈ کو انتہائی درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>آرٹیمس ٹو مشن کے خلا نوردوں نے چاند کے اُس حصے کا سفر کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا اور اس دوران انہوں نے زمین سے تقریباً 252 ہزار میل دور جا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ فاصلے تک جانے والے افراد بن گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503204/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503204"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل یہ اعزاز اپالو 13 کے خلا نوردوں کے پاس تھا، جو 56 سال تک برقرار رہا۔ خلا نوردوں نے بتایا کہ اس سفر کے دوران انہیں ابھی تک اپنے تجربات کو مکمل طور پر سمجھنے کا موقع نہیں ملا اور واپسی کا مرحلہ بھی ایک منفرد اور گہرا تجربہ ثابت ہوگا۔</p>
<p>مشن کے دوران خلا نوردوں نے اپنے اہل خانہ سے مختصر رابطہ بھی کیا، جسے انہوں نے انتہائی جذباتی قرار دیا۔</p>
<p>ان کے مطابق خلا میں رہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اپنے گھروں والوں سے بات کرتے، ہنستے اور بعض اوقات آبدیدہ ہوتے دیکھنا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے انہیں رشتوں کی اہمیت کا شدت سے احساس دلایا۔</p>
<p>اسی دوران ایک نہایت جذباتی واقعہ بھی پیش آیا جب ایک خلا نورد نے اپنے ساتھی کے مرحوم شریکِ حیات کے نام پر چاند کے ایک نئے گڑھے کا نام رکھنے کی تجویز دی، جسے سن کر مشن کنٹرول سمیت کئی افراد آبدیدہ ہو گئے۔</p>
<p>سائنسی اعتبار سے بھی اس مشن کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ خلا نوردوں نے چاند کے قریب سے براہ راست مشاہدات کیے اور زمین پر موجود سائنس دانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر معلومات کا تبادلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سل<strong>سلے کا اگلا مشن آرٹیمس 3</strong> ہوگا، جس میں زمین کے نچلے مدار میں اورائن کیپسول اور خلابازوں کے چاند پر اتارنے کے درمیان باہمی رابطے اور جڑنے کا ایک اہم تجربہ شامل ہوگا۔</p>
<p>اس کے بعد آرٹیمس 4 مشن متوقع ہے، جس کا ہدف 2028 مقرر کیا گیا ہے، اور اس کے تحت عملے کے ساتھ چاند پر پہلی لینڈنگ کی جائے گی، جو 1972 میں اپالو 17 کے بعد انسانی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔</p>
<p>دوسری جانب زمین پر ہیوسٹن میں قائم ناسا کے مشن کنٹرول سینٹر سے متصل کمروں میں درجنوں قمری سائنسدان اس ہفتے مسلسل مصروف رہے۔ یہ ماہرین آرٹیمس ٹو کے خلا نوردوں کی جانب سے خلائی جہاز سے موصول ہونے والے براہِ راست اور ریکارڈ شدہ صوتی پیغامات کو سنتے، ان پر غور و فکر کرتے اور اہم نکات قلمبند کرتے رہے، تاکہ اس مشن سے حاصل ہونے والی معلومات کو سائنسی تحقیق میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق انسانی آنکھ سے حاصل ہونے والا یہ مشاہداتی ڈیٹا چاند اور نظامِ شمسی کی تشکیل سے متعلق کئی نئے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے مستقبل کی تحقیق کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آرٹیمس پروگرام کے تحت یہ مشن ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنا ہے بلکہ وہاں طویل مدتی قیام کے لیے بنیاد رکھنا بھی ہے۔ آنے والے مشنز میں خلائی جہازوں کے باہمی رابطے، چاند پر لینڈنگ اور مستقبل میں مریخ تک رسائی کے منصوبوں پر مزید کام کیا جائے گا۔ اس طرح یہ مشن ایک بڑے سلسلے کی پہلی کڑی ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>آرٹیمس ٹو کے خلا نورد جمعہ کی شام زمین پر واپس پہنچیں گے اور کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب سمندر میں لینڈنگ کریں گے، یوں تقریباً دس دن پر مشتمل یہ تاریخی مشن اپنے اختتام کو پہنچے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یہ کامیاب مشن انسانی خلائی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے خلائی اہداف کے حصول کی راہ ہموار کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503297</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 15:45:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09153724292ffcc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09153724292ffcc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ میں فون نمبر کے بغیر چیٹ ممکن، یوزر نیم فیچر متعارف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503293/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویسی کے حوالے سے ایک انقلابی فیچر متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد  صارفین ایک دوسرے سے فون نمبر شیئر کیے بغیر رابطہ کر سکیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صرف ایک یونیک یوزرنیم کے ذریعے بات چیت ممکن ہوگی، جس سے پرائیویسی بھی بہتر ہوگی اور رابطہ بھی آسان ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کی ملکیت مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ’یوزر نیم‘  فیچر پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کا بنیادی مقصد صارفین کی پرائیویسی کو مزید محفوظ بنانا ہے تاکہ کسی اجنبی سے بات کرنے کے لیے اسے اپنا ذاتی فون نمبر دینے کی ضرورت نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503280/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے مطابق، صارفین ایک خاص یوزرنیم چنیں گے اور اسے دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ یوزر نیم کے انتخاب کے لیے کچھ سخت مگر ضروری قواعد وضع کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوزرنیم ”www“ سے شروع یا ”.com“ یا ”.in“ پر ختم نہیں ہو سکتا تاکہ یہ کسی ویب سائٹ کا لنک نہ لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوزر نیم کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 35حروف پر مشتمل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوزر نیم میں حروفِ تہجی (a-z) کے ساتھ ساتھ اعداد (0-9)، فل اسٹاپ اور انڈر اسکور کا استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف نمبرز پر مبنی یوزر نیم کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ کا مطلوبہ یوزر نیم فیس بک یا انسٹاگرام پر پہلے سے کسی اور کے پاس ہے تو آپ کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوگی، ورنہ آپ کو کوئی دوسرا نام منتخب کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503253/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پرائیویسی کو ایک قدم آگے لے جاتے ہوئے واٹس ایپ ایک اضافی سیکیورٹی فیچر بھی متعارف کرا رہا ہے جسے ’یوزر نیم کی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ 4 ہندسوں کا ایک پن کوڈ ہوگا۔ یہ اختیاری فیچر ہے، جسے صارف اپنی مرضی سے سیٹ کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی بھی نیا شخص جب پہلی بار آپ سے یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا، تو اسے یہ کوڈ درج کرنا ہوگا، جس سے غیر ضروری پیغامات کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین چاہیں تو اپنا یوزرنیم واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک جیسا رکھ سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کے لیے شناخت اور رابطہ آسان ہو جائے۔ لیکن جو لوگ واٹس ایپ کو الگ رکھنا چاہتے ہیں، وہ مختلف یوزرنیم چن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیچر فی الحال آزمائشی مرحلے میں ہے اور واٹس ایپ کے تازہ ترین ورژن پر موجود چند محدود صارفین کو دستیاب ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں اسے تمام صارفین کے لیے مرحلہ وار جاری کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑی تبدیلی کے باوجود واٹس ایپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام پیغامات بدستور اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویسی کے حوالے سے ایک انقلابی فیچر متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد  صارفین ایک دوسرے سے فون نمبر شیئر کیے بغیر رابطہ کر سکیں گے۔</strong></p>
<p>اب صرف ایک یونیک یوزرنیم کے ذریعے بات چیت ممکن ہوگی، جس سے پرائیویسی بھی بہتر ہوگی اور رابطہ بھی آسان ہوجائے گا۔</p>
<p>میٹا کی ملکیت مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ’یوزر نیم‘  فیچر پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کا بنیادی مقصد صارفین کی پرائیویسی کو مزید محفوظ بنانا ہے تاکہ کسی اجنبی سے بات کرنے کے لیے اسے اپنا ذاتی فون نمبر دینے کی ضرورت نہ پڑے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503280/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503280"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واٹس ایپ کے مطابق، صارفین ایک خاص یوزرنیم چنیں گے اور اسے دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ یوزر نیم کے انتخاب کے لیے کچھ سخت مگر ضروری قواعد وضع کیے گئے ہیں۔</p>
<p>یوزرنیم ”www“ سے شروع یا ”.com“ یا ”.in“ پر ختم نہیں ہو سکتا تاکہ یہ کسی ویب سائٹ کا لنک نہ لگے۔</p>
<p>یوزر نیم کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 35حروف پر مشتمل ہونا چاہیے۔</p>
<p>یوزر نیم میں حروفِ تہجی (a-z) کے ساتھ ساتھ اعداد (0-9)، فل اسٹاپ اور انڈر اسکور کا استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف نمبرز پر مبنی یوزر نیم کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p>اگر آپ کا مطلوبہ یوزر نیم فیس بک یا انسٹاگرام پر پہلے سے کسی اور کے پاس ہے تو آپ کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوگی، ورنہ آپ کو کوئی دوسرا نام منتخب کرنا پڑے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503253/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پرائیویسی کو ایک قدم آگے لے جاتے ہوئے واٹس ایپ ایک اضافی سیکیورٹی فیچر بھی متعارف کرا رہا ہے جسے ’یوزر نیم کی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ 4 ہندسوں کا ایک پن کوڈ ہوگا۔ یہ اختیاری فیچر ہے، جسے صارف اپنی مرضی سے سیٹ کر سکے گا۔</p>
<p>کوئی بھی نیا شخص جب پہلی بار آپ سے یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا، تو اسے یہ کوڈ درج کرنا ہوگا، جس سے غیر ضروری پیغامات کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔</p>
<p>صارفین چاہیں تو اپنا یوزرنیم واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک جیسا رکھ سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کے لیے شناخت اور رابطہ آسان ہو جائے۔ لیکن جو لوگ واٹس ایپ کو الگ رکھنا چاہتے ہیں، وہ مختلف یوزرنیم چن سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ فیچر فی الحال آزمائشی مرحلے میں ہے اور واٹس ایپ کے تازہ ترین ورژن پر موجود چند محدود صارفین کو دستیاب ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں اسے تمام صارفین کے لیے مرحلہ وار جاری کر دیا جائے گا۔</p>
<p>اس بڑی تبدیلی کے باوجود واٹس ایپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام پیغامات بدستور اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503293</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 13:32:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09133058e18f1eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09133058e18f1eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل ڈکیتی: ہیکر نے چین کے سرکاری سُپر کمپیوٹر سے 10 پیٹا بائٹس ڈیٹا اڑا لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503280/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے جہاں ایک ہیکر نے دس پیٹا بائٹس سے زیادہ کا انتہائی حساس ڈیٹا چوری کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس چوری شدہ مواد کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پیٹا بائٹ ایک ہزار ٹیرا بائٹ کے برابر ہوتا ہے، جبکہ ایک عام اچھے لیپ ٹاپ میں صرف ایک ٹیرا بائٹ ڈیٹا ہی سما سکتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ چوری چین کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے جس میں دفاعی دستاویزات سے لے کر میزائلوں کے نقشے تک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈیٹا تیانجن میں واقع نیشنل سپر کمپیوٹنگ مرکز سے نکالا گیا ہے جو چین کا پہلا بڑا کمپیوٹنگ مرکز ہے اور اسے 6000 سے زائد ادارے استعمال کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے مراکز کے ساتھ ساتھ دفاعی کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30437395'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30437395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس حملے کے پیچھے فلیمنگ چائنا نامی ایک ہیکر کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے جس نے فروری کے آغاز میں ٹیلی گرام کے ایک گمنام چینل پر اس چوری شدہ ڈیٹا کے کچھ نمونے بھی دکھائے ہیں۔ اس ڈیٹا میں خلائی انجینئری، فوجی تحقیق، انسانی خلیوں کی ساخت (بائیو انفورمیٹکس) اور ایٹمی توانائی (فیوژن سیمیولیشن) جیسے اہم شعبوں کی معلومات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کسی بہت پیچیدہ طریقے سے نہیں بلکہ سسٹم کی ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیکر نے ایک وی پی این کے ذریعے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور مسلسل چھ ماہ تک خاموشی سے ڈیٹا نکالتا رہا۔ پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ہیکر نے ایک ساتھ سارا ڈیٹا نکالنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی قسطوں میں معلومات منتقل کیں تاکہ سیکیورٹی کے نظام کو شک نہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30487806'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30487806"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامیاں موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ تمام معلومات انٹرنیٹ پر بھاری قیمت کے عوض فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے لیکن جن ماہرین نے نمونے کے طور پر دی گئی دستاویزات کا معائنہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان پر سرکاری مہریں اور خفیہ کے الفاظ درج ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے ایک سرکاری سپر کمپیوٹنگ سینٹر پر ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے جہاں ایک ہیکر نے دس پیٹا بائٹس سے زیادہ کا انتہائی حساس ڈیٹا چوری کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>اس چوری شدہ مواد کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پیٹا بائٹ ایک ہزار ٹیرا بائٹ کے برابر ہوتا ہے، جبکہ ایک عام اچھے لیپ ٹاپ میں صرف ایک ٹیرا بائٹ ڈیٹا ہی سما سکتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ چوری چین کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیٹا لیکس میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے جس میں دفاعی دستاویزات سے لے کر میزائلوں کے نقشے تک شامل ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈیٹا تیانجن میں واقع نیشنل سپر کمپیوٹنگ مرکز سے نکالا گیا ہے جو چین کا پہلا بڑا کمپیوٹنگ مرکز ہے اور اسے 6000 سے زائد ادارے استعمال کرتے ہیں۔ ان اداروں میں سائنسی تحقیق کرنے والے مراکز کے ساتھ ساتھ دفاعی کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30437395'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30437395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس حملے کے پیچھے فلیمنگ چائنا نامی ایک ہیکر کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے جس نے فروری کے آغاز میں ٹیلی گرام کے ایک گمنام چینل پر اس چوری شدہ ڈیٹا کے کچھ نمونے بھی دکھائے ہیں۔ اس ڈیٹا میں خلائی انجینئری، فوجی تحقیق، انسانی خلیوں کی ساخت (بائیو انفورمیٹکس) اور ایٹمی توانائی (فیوژن سیمیولیشن) جیسے اہم شعبوں کی معلومات موجود ہیں۔</p>
<p>تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کسی بہت پیچیدہ طریقے سے نہیں بلکہ سسٹم کی ایک کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کی گئی۔</p>
<p>ہیکر نے ایک وی پی این کے ذریعے سسٹم تک رسائی حاصل کی اور مسلسل چھ ماہ تک خاموشی سے ڈیٹا نکالتا رہا۔ پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ہیکر نے ایک ساتھ سارا ڈیٹا نکالنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی قسطوں میں معلومات منتقل کیں تاکہ سیکیورٹی کے نظام کو شک نہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30487806'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30487806"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اگرچہ نیا نہیں ہے لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ دفاعی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامیاں موجود تھیں۔</p>
<p>اب یہ تمام معلومات انٹرنیٹ پر بھاری قیمت کے عوض فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں اور لین دین کے لیے کرپٹو کرنسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اگرچہ ان تمام دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی باقی ہے لیکن جن ماہرین نے نمونے کے طور پر دی گئی دستاویزات کا معائنہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ان پر سرکاری مہریں اور خفیہ کے الفاظ درج ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503280</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 10:37:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0910282415c1413.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0910282415c1413.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بٹ کوائن کا خالق کون؟ ممکنہ شناخت سامنے آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503274/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بٹ کوائن بنانے والا آخر کون ہے؟ یہ سوال سنہ 2009 سے ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک ایسا معمہ رہا ہے جس نے ہر کسی کو الجھائے رکھا۔ اگرچہ اس کے تخلیق کار کا نام ساتوشی ناکاموٹو بتایا جاتا ہے، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس نام کے پیچھے چھپی اصل شخصیت کون ہے۔ اب ایک تازہ ترین رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بٹ کوائن کا اصل خالق کوئی اور نہیں بلکہ برطانیہ کے ایک ماہرِ ٹیکنالوجی ایڈم بیک ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز کی جانب سے کی گئی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام تر شواہد اسی برطانوی ماہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ایڈم بیک ماضی میں کئی بار اس بات سے انکار کر چکے ہیں، لیکن رپورٹ کے مطابق ان کے انکار کے باوجود موجود حقائق اس قدر مضبوط ہیں کہ انہیں جھٹلانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سارا سلسلہ سنہ 2008 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ساتوشی ناکاموٹو کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ منظرِ عام پر آیا، جس میں ایک ایسے مالیاتی نظام کا تصور پیش کیا گیا تھا جو کسی بینک یا حکومت کے کنٹرول میں نہ ہو۔ اس کے اگلے ہی سال دنیا کا پہلا بٹ کوائن تیار کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹیکنالوجی پوری دنیا میں مقبول ہو گئی۔ تاہم جب اس کی شہرت عروج پر تھی، تو سنہ 2011 میں ساتوشی ناکاموٹو اچانک غائب ہو گئے اور تب سے اب تک ان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئی رپورٹ میں ایڈم بیک کو ساتوشی قرار دینے کے پیچھے کئی اہم دلائل دیے گئے ہیں۔ ماہرین نے مہینوں تک پرانی ای میلز، انٹرنیٹ فورمز پر کی گئی گفتگو اور کوڈنگ کے ریکارڈز کا جائزہ لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایڈم بیک کے کام کرنے کا انداز اور بٹ کوائن کے بنیادی خیالات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈم بیک نے ’ہیش کیش‘ نامی ایک نظام بنایا تھا جو فضول ای میلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹ کوائن میں استعمال ہونے والا ’پروف آف ورک‘ کا طریقہ کار اسی سے ملتا جلتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473753/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473753"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ان کے لکھنے کا انداز، برطانوی انگریزی کا استعمال اور جملوں کے درمیان دوہری جگہ چھوڑنے جیسی چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی ساتوشی ناکاموٹو کی تحریروں سے مماثلت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بٹ کوائن کے پہلے مقالے میں ایڈم بیک کا حوالہ موجود تھا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ساتوشی نے 2008 میں ان سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر اسے اس بات کا ثبوت مانا جاتا ہے کہ یہ دو الگ لوگ ہیں، لیکن نئی رپورٹ یہ نظریہ پیش کرتی ہے کہ شاید یہ رابطہ محض لوگوں کو الجھانے اور اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ دعویٰ بہت بڑا ہے، لیکن اسے ابھی تک مکمل طور پر حتمی نہیں مانا جا رہا۔ ایڈم بیک اب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ بٹ کوائن کے خالق نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی سو سے زائد افراد کے نام ساتوشی سے جوڑے گئے لیکن کوئی بھی ثابت نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ ساتوشی ناکاموٹو کی شناخت کی تصدیق کا واحد راستہ وہ بٹ کوائن والیٹ یا ڈیجیٹل بٹوہ  ہے جس میں اربوں پاؤنڈ مالیت کے سکے موجود ہیں۔ اگر وہ شخص ان سکوں کو حرکت دے سکے تو دنیا کو یقین ہو جائے گا، مگر وہ والیٹ سنہ 2011 سے بالکل خاموش ہے۔ بٹ کوائن کی دنیا میں یہ گمنامی ہی اس کی سب سے بڑی کشش سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/adam3us/status/2041811857732768148?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/adam3us/status/2041811857732768148?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ساتوشی نے سنہ 2011 میں اپنا آخری پیغام چھوڑا تھا کہ اب یہ منصوبہ محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور تب سے یہ معمہ برقرار ہے کہ کیا واقعی ایڈم بیک ہی وہ پراسرار انسان ہیں جس نے مالیاتی دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بٹ کوائن بنانے والا آخر کون ہے؟ یہ سوال سنہ 2009 سے ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک ایسا معمہ رہا ہے جس نے ہر کسی کو الجھائے رکھا۔ اگرچہ اس کے تخلیق کار کا نام ساتوشی ناکاموٹو بتایا جاتا ہے، لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس نام کے پیچھے چھپی اصل شخصیت کون ہے۔ اب ایک تازہ ترین رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بٹ کوائن کا اصل خالق کوئی اور نہیں بلکہ برطانیہ کے ایک ماہرِ ٹیکنالوجی ایڈم بیک ہیں۔</strong></p>
<p>نیویارک ٹائمز کی جانب سے کی گئی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام تر شواہد اسی برطانوی ماہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگرچہ ایڈم بیک ماضی میں کئی بار اس بات سے انکار کر چکے ہیں، لیکن رپورٹ کے مطابق ان کے انکار کے باوجود موجود حقائق اس قدر مضبوط ہیں کہ انہیں جھٹلانا مشکل معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ سارا سلسلہ سنہ 2008 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ساتوشی ناکاموٹو کے نام سے ایک تحقیقی مقالہ منظرِ عام پر آیا، جس میں ایک ایسے مالیاتی نظام کا تصور پیش کیا گیا تھا جو کسی بینک یا حکومت کے کنٹرول میں نہ ہو۔ اس کے اگلے ہی سال دنیا کا پہلا بٹ کوائن تیار کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹیکنالوجی پوری دنیا میں مقبول ہو گئی۔ تاہم جب اس کی شہرت عروج پر تھی، تو سنہ 2011 میں ساتوشی ناکاموٹو اچانک غائب ہو گئے اور تب سے اب تک ان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DW4MA4fDnvq/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>نئی رپورٹ میں ایڈم بیک کو ساتوشی قرار دینے کے پیچھے کئی اہم دلائل دیے گئے ہیں۔ ماہرین نے مہینوں تک پرانی ای میلز، انٹرنیٹ فورمز پر کی گئی گفتگو اور کوڈنگ کے ریکارڈز کا جائزہ لیا ہے۔</p>
<p>اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایڈم بیک کے کام کرنے کا انداز اور بٹ کوائن کے بنیادی خیالات میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔</p>
<p>ایڈم بیک نے ’ہیش کیش‘ نامی ایک نظام بنایا تھا جو فضول ای میلز کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بٹ کوائن میں استعمال ہونے والا ’پروف آف ورک‘ کا طریقہ کار اسی سے ملتا جلتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30473753/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30473753"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ ان کے لکھنے کا انداز، برطانوی انگریزی کا استعمال اور جملوں کے درمیان دوہری جگہ چھوڑنے جیسی چھوٹی چھوٹی عادتیں بھی ساتوشی ناکاموٹو کی تحریروں سے مماثلت رکھتی ہیں۔</p>
<p>ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بٹ کوائن کے پہلے مقالے میں ایڈم بیک کا حوالہ موجود تھا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ ساتوشی نے 2008 میں ان سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔</p>
<p>عام طور پر اسے اس بات کا ثبوت مانا جاتا ہے کہ یہ دو الگ لوگ ہیں، لیکن نئی رپورٹ یہ نظریہ پیش کرتی ہے کہ شاید یہ رابطہ محض لوگوں کو الجھانے اور اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے کیا گیا تھا۔</p>
<p>اگرچہ یہ دعویٰ بہت بڑا ہے، لیکن اسے ابھی تک مکمل طور پر حتمی نہیں مانا جا رہا۔ ایڈم بیک اب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ بٹ کوائن کے خالق نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی سو سے زائد افراد کے نام ساتوشی سے جوڑے گئے لیکن کوئی بھی ثابت نہ ہو سکا۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ ساتوشی ناکاموٹو کی شناخت کی تصدیق کا واحد راستہ وہ بٹ کوائن والیٹ یا ڈیجیٹل بٹوہ  ہے جس میں اربوں پاؤنڈ مالیت کے سکے موجود ہیں۔ اگر وہ شخص ان سکوں کو حرکت دے سکے تو دنیا کو یقین ہو جائے گا، مگر وہ والیٹ سنہ 2011 سے بالکل خاموش ہے۔ بٹ کوائن کی دنیا میں یہ گمنامی ہی اس کی سب سے بڑی کشش سمجھی جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/adam3us/status/2041811857732768148?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/adam3us/status/2041811857732768148?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ساتوشی نے سنہ 2011 میں اپنا آخری پیغام چھوڑا تھا کہ اب یہ منصوبہ محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور تب سے یہ معمہ برقرار ہے کہ کیا واقعی ایڈم بیک ہی وہ پراسرار انسان ہیں جس نے مالیاتی دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503274</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 09:57:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/09095426c63e291.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/09095426c63e291.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیٹ پیکج ختم ہونے پر موبائل کا بیلنس ضائع ہونے سے کیسے بچائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503253/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل صارفین کے بیلنس کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم فیچر ”بیلنس سیو سروس“ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد انٹرنیٹ ڈیٹا ختم ہونے کی صورت میں بیلنس کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر صارفین کا انٹرنیٹ پیکج ختم ہوتے ہی موبائل کمپنیاں ’پے ایز یو گو‘ کے تحت موبائل میں موجود بیلنس سے ڈیٹا چارج کرنا شروع کر دیتی ہیں، جس سے منٹوں میں صارف کے بہت سے پیسے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس نئی سروس کو فعال کرنے کے بعد جیسے ہی صارف کا ڈیٹا بنڈل ختم ہوگا، انٹرنیٹ کی رسائی خود بخود بند ہو جائے گی اور آپ کا قیمتی بیلنس محفوظ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام بڑے ٹیلی کام آپریٹرز نے اس سروس کو فعال کرنے کے لیے مخصوص کوڈز جاری کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیز کے صارفین #&lt;em&gt;275&lt;/em&gt;* &lt;em&gt;ملا کر یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ زونگ  کے لیے&lt;/em&gt; #&lt;em&gt;4004&lt;/em&gt;*، یوفون کے لیے #&lt;em&gt;6611&lt;/em&gt;* &lt;em&gt;اور ٹیلی نار کے لیے&lt;/em&gt; #&lt;em&gt;342&lt;/em&gt;* کا کوڈ مختص کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PTAofficialpk/status/2041752934661419381?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PTAofficialpk/status/2041752934661419381?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے مطابق ان کوڈز کے ذریعے ’بیلنس لاک‘ کرنے سے صارفین کو ڈیٹا بنڈل ختم ہونے پر کسی بھی قسم کے غیر متوقع کٹوتی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جو کہ پاکستانی ٹیلی کام مارکیٹ میں صارفین کی ایک دیرینہ شکایت رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے، تاہم صارفین کی ایک بڑی تعداد نے دیگر مسائل کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کے مطابق ’بیلنس سیو‘ کے علاوہ مختلف ویلیو ایڈڈ سروسز کا خود بخود فعال ہو جانا اور بغیر اطلاع کے چارجز کی کٹوتی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل صارفین کے بیلنس کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم فیچر ”بیلنس سیو سروس“ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد انٹرنیٹ ڈیٹا ختم ہونے کی صورت میں بیلنس کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہے۔</strong></p>
<p>عام طور پر صارفین کا انٹرنیٹ پیکج ختم ہوتے ہی موبائل کمپنیاں ’پے ایز یو گو‘ کے تحت موبائل میں موجود بیلنس سے ڈیٹا چارج کرنا شروع کر دیتی ہیں، جس سے منٹوں میں صارف کے بہت سے پیسے ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس نئی سروس کو فعال کرنے کے بعد جیسے ہی صارف کا ڈیٹا بنڈل ختم ہوگا، انٹرنیٹ کی رسائی خود بخود بند ہو جائے گی اور آپ کا قیمتی بیلنس محفوظ رہے گا۔</p>
<p>تمام بڑے ٹیلی کام آپریٹرز نے اس سروس کو فعال کرنے کے لیے مخصوص کوڈز جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p>جیز کے صارفین #<em>275</em>* <em>ملا کر یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ زونگ  کے لیے</em> #<em>4004</em>*، یوفون کے لیے #<em>6611</em>* <em>اور ٹیلی نار کے لیے</em> #<em>342</em>* کا کوڈ مختص کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PTAofficialpk/status/2041752934661419381?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PTAofficialpk/status/2041752934661419381?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پی ٹی اے کے مطابق ان کوڈز کے ذریعے ’بیلنس لاک‘ کرنے سے صارفین کو ڈیٹا بنڈل ختم ہونے پر کسی بھی قسم کے غیر متوقع کٹوتی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جو کہ پاکستانی ٹیلی کام مارکیٹ میں صارفین کی ایک دیرینہ شکایت رہی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے، تاہم صارفین کی ایک بڑی تعداد نے دیگر مسائل کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔</p>
<p>صارفین کے مطابق ’بیلنس سیو‘ کے علاوہ مختلف ویلیو ایڈڈ سروسز کا خود بخود فعال ہو جانا اور بغیر اطلاع کے چارجز کی کٹوتی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503253</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 15:23:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/081513278c0c84f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/081513278c0c84f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی میل کے 2 ارب صارفین کے لیے الرٹ، اے آئی نجی ای میلز کے لیے خطرہ بن گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503248/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گوگل اپنے مشہور پلیٹ فارم ”جی میل“ میں تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلیاں کرنے جا رہا ہے، جس سے دنیا بھر کے 2 ارب صارفین براہِ راست متاثر ہوں گے۔ اس نئی تبدیلی کا مرکز مصنوعی ذہانت یعنی جیمنائی ہے، جسے اب جی میل کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں کے اعلان کے مطابق اب جیمنائی اے آئی کو براہِ راست جی میل ان باکس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اے آئی پر مبنی معاون آپ کے لیے نہ صرف ای میلز لکھ سکے گا اور طویل پیغامات کا خلاصہ کر سکے گا، بلکہ آپ کے ان باکس میں موجود ڈیٹا کو استعمال کر کے آپ کے مختلف سوالات کے جواب بھی دے سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ سہولت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے صارف کی پرائیویسی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502959'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502959"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پرائیویسی کے ان خدشات پر جی میل کے نائب صدر بلیک بارنز کا کہنا ہے کہ جیمنائی ایک ”ذاتی معاون“ کی طرح کام کرے گا جو آپ کا کام ختم ہونے کے بعد آپ کا ڈیٹا ”بھول“ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا دعویٰ ہے کہ گوگل آپ کی نجی ای میلز کو اپنی اے آئی کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ جب اے آئی آپ کے حساس اور خفیہ ڈیٹا کو اسکین کرے گا، تو پرائیویسی پر سمجھوتہ ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟ اس کے لیے خبردار کیا گیا ہے کہ صارفین کو اب سستی چھوڑ کر خود متحرک ہونا پڑے گا۔ یہاں چند اہم نکات ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے یہ نئے اے آئی فیچرز ممکنہ طور پر بائی ڈیفالٹ آن ہوں گے۔ آپ کو اپنی سیٹنگز میں جا کر خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کتنا ڈیٹا اے آئی کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر صارفین نئی اپ ڈیٹس پر توجہ نہیں دیتے، لیکن اے آئی کے معاملے میں یہ غفلت خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک بار ڈیٹا اے آئی سسٹم کا حصہ بن جائے تو اسے مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtube.com/shorts/4wxXkihLx8I?si=wwdfzvIMoqVmRb8N'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/4wxXkihLx8I?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گوگل کا کہنا ہے کہ ان باکس کو سنبھالنا صارف کا کام ہے، وہ صرف ٹولز فراہم کر رہے ہیں۔ اس لیے اپنی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے ابھی سے اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ جی میل استعمال کرتے ہیں، تو یہ وقت ہائی الرٹ ہونے کا ہے۔ گوگل کی ان نئی اپ گریڈز کو محض سہولت نہ سمجھیں بلکہ اپنی ای میلز کی ”سیکیورٹی اور رازداری“ کو مدنظر رکھتے ہوئے جیمنائی اے آئی کے استعمال کا فیصلہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گوگل اپنے مشہور پلیٹ فارم ”جی میل“ میں تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلیاں کرنے جا رہا ہے، جس سے دنیا بھر کے 2 ارب صارفین براہِ راست متاثر ہوں گے۔ اس نئی تبدیلی کا مرکز مصنوعی ذہانت یعنی جیمنائی ہے، جسے اب جی میل کا لازمی حصہ بنایا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>گوگل کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں کے اعلان کے مطابق اب جیمنائی اے آئی کو براہِ راست جی میل ان باکس کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اے آئی پر مبنی معاون آپ کے لیے نہ صرف ای میلز لکھ سکے گا اور طویل پیغامات کا خلاصہ کر سکے گا، بلکہ آپ کے ان باکس میں موجود ڈیٹا کو استعمال کر کے آپ کے مختلف سوالات کے جواب بھی دے سکے گا۔</p>
<p>اگرچہ یہ سہولت کے لحاظ سے ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، لیکن ٹیکنالوجی کے ماہرین اسے صارف کی پرائیویسی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502959'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502959"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پرائیویسی کے ان خدشات پر جی میل کے نائب صدر بلیک بارنز کا کہنا ہے کہ جیمنائی ایک ”ذاتی معاون“ کی طرح کام کرے گا جو آپ کا کام ختم ہونے کے بعد آپ کا ڈیٹا ”بھول“ جائے گا۔</p>
<p>ان کا دعویٰ ہے کہ گوگل آپ کی نجی ای میلز کو اپنی اے آئی کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ جب اے آئی آپ کے حساس اور خفیہ ڈیٹا کو اسکین کرے گا، تو پرائیویسی پر سمجھوتہ ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔</p>
<p>صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟ اس کے لیے خبردار کیا گیا ہے کہ صارفین کو اب سستی چھوڑ کر خود متحرک ہونا پڑے گا۔ یہاں چند اہم نکات ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔</p>
<p>گوگل کے یہ نئے اے آئی فیچرز ممکنہ طور پر بائی ڈیفالٹ آن ہوں گے۔ آپ کو اپنی سیٹنگز میں جا کر خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کتنا ڈیٹا اے آئی کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>عام طور پر صارفین نئی اپ ڈیٹس پر توجہ نہیں دیتے، لیکن اے آئی کے معاملے میں یہ غفلت خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک بار ڈیٹا اے آئی سسٹم کا حصہ بن جائے تو اسے مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtube.com/shorts/4wxXkihLx8I?si=wwdfzvIMoqVmRb8N'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/4wxXkihLx8I?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>گوگل کا کہنا ہے کہ ان باکس کو سنبھالنا صارف کا کام ہے، وہ صرف ٹولز فراہم کر رہے ہیں۔ اس لیے اپنی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے ابھی سے اقدامات کریں۔</p>
<p>اگر آپ جی میل استعمال کرتے ہیں، تو یہ وقت ہائی الرٹ ہونے کا ہے۔ گوگل کی ان نئی اپ گریڈز کو محض سہولت نہ سمجھیں بلکہ اپنی ای میلز کی ”سیکیورٹی اور رازداری“ کو مدنظر رکھتے ہوئے جیمنائی اے آئی کے استعمال کا فیصلہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503248</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 14:45:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/081432178d43053.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/081432178d43053.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے اے آئی ’کلاڈ مائتھوس‘ نے کسی بھی سافٹ ویئر کو ہیک کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503232/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصنوعی ذہانت کے میدان میں کام کرنے والے معروف ادارے ’اینتھروپک‘ نے اپنا اب تک کا سب سے طاقتور اور جدید ماڈل کلاڈ&lt;/strong&gt; مائتھوس &lt;strong&gt;پری ویو متعارف کروا دیا ہے۔ یہ نیا ماڈل اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے کیونکہ یہ سافٹ ویئر ہیک کرنے اور ان میں موجود خامیاں تلاش کرنے میں انسانوں سے بھی زیادہ مہارت رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ ماڈل ان کے پچھلے تمام ماڈلز اور مارکیٹ میں موجود دیگر حریفوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی حیران کن طاقت کو دیکھتے ہوئے اینتھروپک نے فی الحال اسے عام عوام کے لیے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا ماننا ہے کہ اگر یہ ماڈل غلط ہاتھوں میں لگ گیا تو سائبر سیکیورٹی کے لیے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے کمپنی نے ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ کے نام سے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ایپل، گوگل، مائیکرو سافٹ اور ایمیزون جیسی چالیس سے زائد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ ماڈل فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلاڈ مائتھوس کی سب سے بڑی خوبی اس کی کوڈنگ اور سوچ بچار کرنے کی صلاحیت ہے جس کی مدد سے اس نے انٹرنیٹ براؤزرز اور آپریٹنگ سسٹمز میں ایسی ہزاروں خامیاں تلاش کی ہیں جنہیں ماہرین برسوں سے نہیں دیکھ پائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماڈل نے ایک ایسی پرانی خامی کا بھی پتہ لگایا ہے جو گزشتہ 27 سال سے ایک محفوظ سمجھے جانے والے نظام میں موجود تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی خامیاں کسی بھی حملہ آور کو پورے کمپیوٹر کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈئی کا کہنا ہے کہ اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات بہت واضح ہیں لیکن اگر اس کا درست استعمال کیا جائے تو ہم انٹرنیٹ کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کمپنی نے اس مقصد کے لیے سو ملین ڈالر کے کریڈٹس بھی مختص کیے ہیں تاکہ شراکت دار کمپنیاں اس ماڈل کو استعمال کر کے اپنے سافٹ ویئرز کو بہتر بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094358c02e712.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094358c02e712.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ماڈل کو خاص طور پر ہیکنگ کے لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ یہ اس کی عمومی ذہانت کا ایک نتیجہ ہے۔ اینتھروپک اب امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے طاقتور ماڈلز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے حفاظتی اصول وضع کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502942/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کا ماننا ہے کہ کلاڈ مائتھوس محض ایک آغاز ہے اور یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اب کس حد تک طاقتور اور جدید ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ کے نظام میں موجود ان خامیوں کو ابھی دور کر لیا جائے، اس سے پہلے کہ اس طرح کے انتہائی ذہین ماڈلز ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہوں اور ان کا غلط استعمال شروع ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی سنگینی کو بھانپتے ہوئے کمپنی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک اہم پیغام جاری کیا گیا، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب اس قدر طاقتور اور باصلاحیت ماڈلز عام دستیاب ہوں گے۔ لہٰذا، دنیا کو اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ڈیجیٹل حفاظت کا انحصار ان فیصلوں پر ہے جو ہم آج کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094702a2aac46.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094702a2aac46.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کلاڈ مائتھوس جیسے طاقتور اے آئی کے ماڈلزاس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ جہاں مشینیں انسانوں کے لیے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، وہیں ان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خطرات بھی موجود ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ کیا ہم اسے تباہی اور ہیکنگ کے لیے استعمال کریں گے یا پھر ایک محفوظ اور بہتر دنیا بنانے کے لیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کا پروجیکٹ گلاس ونگ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ اگر ہم مل کر کام کریں اور ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کریں، تو ہم مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے فوائد کو سب کے لیے عام کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مصنوعی ذہانت کے میدان میں کام کرنے والے معروف ادارے ’اینتھروپک‘ نے اپنا اب تک کا سب سے طاقتور اور جدید ماڈل کلاڈ</strong> مائتھوس <strong>پری ویو متعارف کروا دیا ہے۔ یہ نیا ماڈل اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے کیونکہ یہ سافٹ ویئر ہیک کرنے اور ان میں موجود خامیاں تلاش کرنے میں انسانوں سے بھی زیادہ مہارت رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ ماڈل ان کے پچھلے تمام ماڈلز اور مارکیٹ میں موجود دیگر حریفوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی حیران کن طاقت کو دیکھتے ہوئے اینتھروپک نے فی الحال اسے عام عوام کے لیے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کا ماننا ہے کہ اگر یہ ماڈل غلط ہاتھوں میں لگ گیا تو سائبر سیکیورٹی کے لیے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے کمپنی نے ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ کے نام سے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ایپل، گوگل، مائیکرو سافٹ اور ایمیزون جیسی چالیس سے زائد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ ماڈل فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کر سکیں۔</p>
<p>کلاڈ مائتھوس کی سب سے بڑی خوبی اس کی کوڈنگ اور سوچ بچار کرنے کی صلاحیت ہے جس کی مدد سے اس نے انٹرنیٹ براؤزرز اور آپریٹنگ سسٹمز میں ایسی ہزاروں خامیاں تلاش کی ہیں جنہیں ماہرین برسوں سے نہیں دیکھ پائے تھے۔</p>
<p>اس ماڈل نے ایک ایسی پرانی خامی کا بھی پتہ لگایا ہے جو گزشتہ 27 سال سے ایک محفوظ سمجھے جانے والے نظام میں موجود تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی خامیاں کسی بھی حملہ آور کو پورے کمپیوٹر کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈئی کا کہنا ہے کہ اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات بہت واضح ہیں لیکن اگر اس کا درست استعمال کیا جائے تو ہم انٹرنیٹ کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کمپنی نے اس مقصد کے لیے سو ملین ڈالر کے کریڈٹس بھی مختص کیے ہیں تاکہ شراکت دار کمپنیاں اس ماڈل کو استعمال کر کے اپنے سافٹ ویئرز کو بہتر بنا سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094358c02e712.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094358c02e712.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ماڈل کو خاص طور پر ہیکنگ کے لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ یہ اس کی عمومی ذہانت کا ایک نتیجہ ہے۔ اینتھروپک اب امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے طاقتور ماڈلز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے حفاظتی اصول وضع کیے جا سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502942/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اینتھروپک کا ماننا ہے کہ کلاڈ مائتھوس محض ایک آغاز ہے اور یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اب کس حد تک طاقتور اور جدید ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ کے نظام میں موجود ان خامیوں کو ابھی دور کر لیا جائے، اس سے پہلے کہ اس طرح کے انتہائی ذہین ماڈلز ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہوں اور ان کا غلط استعمال شروع ہو جائے۔</p>
<p>اسی سنگینی کو بھانپتے ہوئے کمپنی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک اہم پیغام جاری کیا گیا، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب اس قدر طاقتور اور باصلاحیت ماڈلز عام دستیاب ہوں گے۔ لہٰذا، دنیا کو اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ڈیجیٹل حفاظت کا انحصار ان فیصلوں پر ہے جو ہم آج کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094702a2aac46.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/08094702a2aac46.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کلاڈ مائتھوس جیسے طاقتور اے آئی کے ماڈلزاس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ جہاں مشینیں انسانوں کے لیے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، وہیں ان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خطرات بھی موجود ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ کیا ہم اسے تباہی اور ہیکنگ کے لیے استعمال کریں گے یا پھر ایک محفوظ اور بہتر دنیا بنانے کے لیے؟</p>
<p>اینتھروپک کا پروجیکٹ گلاس ونگ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ اگر ہم مل کر کام کریں اور ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کریں، تو ہم مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے فوائد کو سب کے لیے عام کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503232</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 10:29:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/08101852f412d68.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/08101852f412d68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرٹیمس 2 مشن: انسانوں کو زمین سے دور ترین مقام تک پہنچانے کا نیا ریکارڈ قائم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503204/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے کیونکہ ناسا کے ”آرٹیمس 2“ مشن نے زمین سے دور ترین فاصلے تک سفر کرنے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اورین اسپیس کرافٹ میں سوار چار خلا بازوں نے پیر کے دن عالمی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 58 منٹ پر چار لاکھ ایک سو اکہترکلومیٹر کا فاصلہ عبور کیا، جو اس سے پہلے 1970 میں اپالو 13 مشن نے قائم کیا تھا۔ یہ مشن چاند کے عقبی حصے کے گرد چکر لگا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ زمین سے اپنے زیادہ سے زیادہ فاصلے یعنی تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار 788 کلومیٹر تک بھی پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی سفر کے دوران خلا باز چاند کے قریب سے گزرتے ہوئے چھ گھنٹے سے زیادہ وقت چاند کی سطح کے مشاہدے اور اس کی تفصیلات درج کرنے میں گزاریں گے۔ اس کے بعد یہ خلائی جہاز ایک خاص واپسی کے راستے کے ذریعے زمین کی طرف روانہ ہوگا جس میں تقریباً چار دن لگیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اہم دن کا آغاز ایک جذباتی پیغام سے ہوا جو اپالو 8 اور 13 کے آنجہانی خلا باز جم لوول نے اپنی وفات سے قبل ریکارڈ کروایا تھا۔ انہوں نے نئے خلا بازوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یہ ایک تاریخی دن ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ کتنے مصروف ہوں گے، لیکن اس نظارے سے لطف اندوز ہونا نہ بھولیں“ اور&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”میرے پرانے علاقے میں خوش آمدید، مجھے فخر ہے کہ جب آپ چاند کے گرد سفر کر رہے ہیں تو اب یہ مشعل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاند کے اس دور دراز حصے کے گرد چکر لگاتے ہوئے خلا بازوں کو ان علاقوں کو دیکھنے کا موقع ملے گا جو پہلے کبھی انسانی آنکھ نے براہ راست نہیں دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین پر بھیجی گئی ایک تصویر میں چاند کا ایک بہت بڑا گڑھا دکھایا گیا ہے جسے ’اورینٹل بیسن‘ کہا جاتا ہے اور اس سے پہلے اسے صرف خودکار کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502938/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کے باوجود انسانی آنکھ اب بھی بہترین کیمرہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی مصنوعی آلے کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مشن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس میں شامل عملہ تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ٹیم میں ریڈ وائز مین کمانڈر کے طور پر شامل ہیں جبکہ وکٹر گلوور چاند کے گرد اڑان بھرنے والے پہلے غیر سفید فام، کرسٹینا کوچ پہلی خاتون اور جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی خلا باز بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکساس میں واقع ناسا کے مرکز میں سائنسدانوں کی ایک بڑی ٹیم موجود ہے جو خلا بازوں کی فراہم کردہ معلومات کو براہ راست نوٹ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب یہ خلائی جہاز چاند کے پیچھے سے گزرے گا تو تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے اس کا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق خلا بازوں کو چاند اس وقت اتنا بڑا نظر آئے گا جیسے ہاتھ کی دوری پر رکھی ہوئی باسکٹ بال ہو۔ اگرچہ یہ مشن چاند کی سطح سے کچھ فاصلے پر رہے گا، لیکن اس کی کامیابی مستقبل کے بڑے مشن جیسے آرٹیمس 3 اور 4 کے لیے بہت ضروری ہے، جن کا مقصد انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے کیونکہ ناسا کے ”آرٹیمس 2“ مشن نے زمین سے دور ترین فاصلے تک سفر کرنے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔</strong></p>
<p>اورین اسپیس کرافٹ میں سوار چار خلا بازوں نے پیر کے دن عالمی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 58 منٹ پر چار لاکھ ایک سو اکہترکلومیٹر کا فاصلہ عبور کیا، جو اس سے پہلے 1970 میں اپالو 13 مشن نے قائم کیا تھا۔ یہ مشن چاند کے عقبی حصے کے گرد چکر لگا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ زمین سے اپنے زیادہ سے زیادہ فاصلے یعنی تقریباً 4 لاکھ 6 ہزار 788 کلومیٹر تک بھی پہنچ جائے گا۔</p>
<p>اس تاریخی سفر کے دوران خلا باز چاند کے قریب سے گزرتے ہوئے چھ گھنٹے سے زیادہ وقت چاند کی سطح کے مشاہدے اور اس کی تفصیلات درج کرنے میں گزاریں گے۔ اس کے بعد یہ خلائی جہاز ایک خاص واپسی کے راستے کے ذریعے زمین کی طرف روانہ ہوگا جس میں تقریباً چار دن لگیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس اہم دن کا آغاز ایک جذباتی پیغام سے ہوا جو اپالو 8 اور 13 کے آنجہانی خلا باز جم لوول نے اپنی وفات سے قبل ریکارڈ کروایا تھا۔ انہوں نے نئے خلا بازوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ:</p>
<p>”یہ ایک تاریخی دن ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ کتنے مصروف ہوں گے، لیکن اس نظارے سے لطف اندوز ہونا نہ بھولیں“ اور</p>
<p>”میرے پرانے علاقے میں خوش آمدید، مجھے فخر ہے کہ جب آپ چاند کے گرد سفر کر رہے ہیں تو اب یہ مشعل آپ کے ہاتھوں میں ہے۔“</p>
<p>چاند کے اس دور دراز حصے کے گرد چکر لگاتے ہوئے خلا بازوں کو ان علاقوں کو دیکھنے کا موقع ملے گا جو پہلے کبھی انسانی آنکھ نے براہ راست نہیں دیکھے۔</p>
<p>زمین پر بھیجی گئی ایک تصویر میں چاند کا ایک بہت بڑا گڑھا دکھایا گیا ہے جسے ’اورینٹل بیسن‘ کہا جاتا ہے اور اس سے پہلے اسے صرف خودکار کیمروں کے ذریعے دیکھا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502938/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502938"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کے باوجود انسانی آنکھ اب بھی بہترین کیمرہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی مصنوعی آلے کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اس مشن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ اس میں شامل عملہ تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ٹیم میں ریڈ وائز مین کمانڈر کے طور پر شامل ہیں جبکہ وکٹر گلوور چاند کے گرد اڑان بھرنے والے پہلے غیر سفید فام، کرسٹینا کوچ پہلی خاتون اور جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی خلا باز بن گئے ہیں۔</p>
<p>ٹیکساس میں واقع ناسا کے مرکز میں سائنسدانوں کی ایک بڑی ٹیم موجود ہے جو خلا بازوں کی فراہم کردہ معلومات کو براہ راست نوٹ کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب یہ خلائی جہاز چاند کے پیچھے سے گزرے گا تو تقریباً 40 منٹ کے لیے زمین سے اس کا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق خلا بازوں کو چاند اس وقت اتنا بڑا نظر آئے گا جیسے ہاتھ کی دوری پر رکھی ہوئی باسکٹ بال ہو۔ اگرچہ یہ مشن چاند کی سطح سے کچھ فاصلے پر رہے گا، لیکن اس کی کامیابی مستقبل کے بڑے مشن جیسے آرٹیمس 3 اور 4 کے لیے بہت ضروری ہے، جن کا مقصد انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503204</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 15:12:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/071500547e42b1f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/071500547e42b1f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند کے مدار میں ’آرٹیمس ٹو‘ کے خلا نوردوں کی روزمرہ زندگی کیسی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناسا کے تاریخی مشن ”آرٹیمس ٹو“ مشن کے تحت چاند کے مدار میں دس روزہ سفر پر نکلے چار خلابازوں کی زندگی زمین سے جتنی دور ہے، ان کے مسائل اتنے ہی زمین جیسے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک چھوٹی پک اپ ٹرک جتنے تنگ ”اورین“ کیپسول میں مقیم یہ عملہ جہاں کائنات کے اسرار دیکھ رہا ہے، وہیں ای میل کے مسائل حل کرتا ہے اور خراب بیت الخلا بھی درست کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاباز کرسٹینا کوک کے مطابق، اس مشن کی تیاری کسی پہاڑی مقام پر کیمپنگ جیسی ہے۔ عملے کے پاس 58 پن کیک، 43 کپ کافی، بروکولی، روسٹ بیف اور پانچ قسم کی تیز چٹنیوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ کینیڈین خلاباز کی موجودگی کی وجہ سے مشہور ’میپل سیرپ‘ بھی مینو کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503094/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503094"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے ”اپالو“ مشنز کے برعکس، جہاں خلاباز رفع حاجت کے لیے صرف تھیلوں کا استعمال کرتے تھے، آرٹیمس میں باقاعدہ بیت الخلا موجود ہے۔ تاہم، سفر کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی بیت الخلا خراب ہو گیا، جس کی مرمت کرسٹینا کوک نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فخریہ انداز میں خود کو ”خلائی پلمبر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز کا سب سے اہم حصہ ہے جس کے ٹھیک ہونے پر سب نے سکھ کا سانس لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیت الخلا کا شور اتنا زیادہ ہے کہ اسے استعمال کرتے وقت ہیڈ فون لگانا پڑتے ہیں۔ جیریمی ہینسن نے بتایا کہ یہ واحد جگہ ہے جہاں تھوڑی دیر کے لیے تنہائی ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کششِ ثقل کی عدم موجودگی  میں سونا بھی ایک مرحلہ ہے۔ خلابازوں نے دیواروں کے ساتھ سلیپنگ بیگز لٹکا رکھے ہیں تاکہ وہ سوتے میں تیرتے تیرتے جہاز کے آلات سے نہ ٹکرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشن کمانڈر ریڈ وائز مین نے بتایا کہ کرسٹینا اکثر چمگادڑ کی طرح الٹی لٹک کر سوتی ہیں، جو کہ خلا میں کافی آرام دہ پوزیشن ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، عملے کو ای میلز کے مسائل بھی پیش آئے جسے ہیوسٹن کے زمینی مرکز سے آن لائن حل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس ٹو 1972 کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ چاند کی سطح پر نہیں اترے گا، لیکن یہ 2027 میں ہونے والے ”آرٹیمس 3“ مشن کی بنیاد رکھے گا جس میں پہلی خاتون اور پہلا غیر سفید فام شخص چاند پر قدم رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا نے پہلی بار خلابازوں کو ذاتی سمارٹ فونز لے جانے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ نجی لمحات محفوظ کر سکیں اور دنیا کے ساتھ براہِ راست تصاویر شیئر کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلا میں پٹھے کمزور ہونے سے بچنے اور جسمانی ٖفنس کے لیے عملہ روزانہ آدھا گھنٹہ خصوصی آلات پر ورزش کرتا ہے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مشن میں وکٹر گلوور چاند کے مدار کا سفر کرنے والے پہلے سیاہ فام شخص، جبکہ جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی کینیڈین خلاباز بن گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اربوں ڈالر کی لاگت والے اس مشن اور چین کے ساتھ جیوپولیٹیکل مقابلے کے باوجود انسانی تجسس اور خوشی غالب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکٹر گلوور کا کہنا ہے کہ ”پیشہ ورانہ مہارت اپنی جگہ، لیکن چاند کو اتنا قریب دیکھ کر میرے اندر کا بچہ خوشی سے چیخنا چاہتا ہے۔“  جیریمی ہینسن نے کہا، ”میں خود کو دوبارہ بچہ محسوس کر رہا ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمین سے لاکھوں میل دور بھی خلاباز کھانے، سونے، مسائل حل کرنے اور منظر دیکھنے کے معمولات کے ذریعے یہ دکھا رہے ہیں کہ خلاء میں زندگی زمین کی طرح ہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناسا کے تاریخی مشن ”آرٹیمس ٹو“ مشن کے تحت چاند کے مدار میں دس روزہ سفر پر نکلے چار خلابازوں کی زندگی زمین سے جتنی دور ہے، ان کے مسائل اتنے ہی زمین جیسے ہیں۔</strong></p>
<p>ایک چھوٹی پک اپ ٹرک جتنے تنگ ”اورین“ کیپسول میں مقیم یہ عملہ جہاں کائنات کے اسرار دیکھ رہا ہے، وہیں ای میل کے مسائل حل کرتا ہے اور خراب بیت الخلا بھی درست کرتا ہے۔</p>
<p>خلاباز کرسٹینا کوک کے مطابق، اس مشن کی تیاری کسی پہاڑی مقام پر کیمپنگ جیسی ہے۔ عملے کے پاس 58 پن کیک، 43 کپ کافی، بروکولی، روسٹ بیف اور پانچ قسم کی تیز چٹنیوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ کینیڈین خلاباز کی موجودگی کی وجہ سے مشہور ’میپل سیرپ‘ بھی مینو کا حصہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503094/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503094"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>ماضی کے ”اپالو“ مشنز کے برعکس، جہاں خلاباز رفع حاجت کے لیے صرف تھیلوں کا استعمال کرتے تھے، آرٹیمس میں باقاعدہ بیت الخلا موجود ہے۔ تاہم، سفر کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی بیت الخلا خراب ہو گیا، جس کی مرمت کرسٹینا کوک نے کی۔</p>
<p>انہوں نے فخریہ انداز میں خود کو ”خلائی پلمبر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز کا سب سے اہم حصہ ہے جس کے ٹھیک ہونے پر سب نے سکھ کا سانس لیا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیت الخلا کا شور اتنا زیادہ ہے کہ اسے استعمال کرتے وقت ہیڈ فون لگانا پڑتے ہیں۔ جیریمی ہینسن نے بتایا کہ یہ واحد جگہ ہے جہاں تھوڑی دیر کے لیے تنہائی ملتی ہے۔</p>
<p>کششِ ثقل کی عدم موجودگی  میں سونا بھی ایک مرحلہ ہے۔ خلابازوں نے دیواروں کے ساتھ سلیپنگ بیگز لٹکا رکھے ہیں تاکہ وہ سوتے میں تیرتے تیرتے جہاز کے آلات سے نہ ٹکرائیں۔</p>
<p>مشن کمانڈر ریڈ وائز مین نے بتایا کہ کرسٹینا اکثر چمگادڑ کی طرح الٹی لٹک کر سوتی ہیں، جو کہ خلا میں کافی آرام دہ پوزیشن ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503000/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ، عملے کو ای میلز کے مسائل بھی پیش آئے جسے ہیوسٹن کے زمینی مرکز سے آن لائن حل کیا گیا۔</p>
<p>آرٹیمس ٹو 1972 کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ چاند کی سطح پر نہیں اترے گا، لیکن یہ 2027 میں ہونے والے ”آرٹیمس 3“ مشن کی بنیاد رکھے گا جس میں پہلی خاتون اور پہلا غیر سفید فام شخص چاند پر قدم رکھیں گے۔</p>
<p>ناسا نے پہلی بار خلابازوں کو ذاتی سمارٹ فونز لے جانے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ نجی لمحات محفوظ کر سکیں اور دنیا کے ساتھ براہِ راست تصاویر شیئر کر سکیں۔</p>
<p>خلا میں پٹھے کمزور ہونے سے بچنے اور جسمانی ٖفنس کے لیے عملہ روزانہ آدھا گھنٹہ خصوصی آلات پر ورزش کرتا ہے۔<br></p>
<p>اس مشن میں وکٹر گلوور چاند کے مدار کا سفر کرنے والے پہلے سیاہ فام شخص، جبکہ جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی کینیڈین خلاباز بن گئے ہیں۔</p>
<p>اربوں ڈالر کی لاگت والے اس مشن اور چین کے ساتھ جیوپولیٹیکل مقابلے کے باوجود انسانی تجسس اور خوشی غالب ہے۔</p>
<p>وکٹر گلوور کا کہنا ہے کہ ”پیشہ ورانہ مہارت اپنی جگہ، لیکن چاند کو اتنا قریب دیکھ کر میرے اندر کا بچہ خوشی سے چیخنا چاہتا ہے۔“  جیریمی ہینسن نے کہا، ”میں خود کو دوبارہ بچہ محسوس کر رہا ہوں۔“</p>
<p>زمین سے لاکھوں میل دور بھی خلاباز کھانے، سونے، مسائل حل کرنے اور منظر دیکھنے کے معمولات کے ذریعے یہ دکھا رہے ہیں کہ خلاء میں زندگی زمین کی طرح ہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503122</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 13:33:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/051328470c66dad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/051328470c66dad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کروم میں خطرناک ’زیرو ڈے‘ وائرس سرگرم، فوری اپ ڈیٹ کی ہدایت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503119/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے مقبول ترین ویب براؤزر ’گوگل کروم‘ کے ساڑھے تین ارب صارفین کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ گوگل نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز کروم میں موجود ایک نئی اور انتہائی حساس خرابی  کا فائدہ اٹھا کر صارفین کے کمپیوٹر اور ڈیٹا پر حملے کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئی خامی کو ٹیکنالوجی کی زبان میں CVE-2026-5281 کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گوگل نے 20 دیگر خطرناک خامیوں کو بھی درست کیا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ سب صارفین کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502959/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502959"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زیرو ڈے خطرہ کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک ایسا خطرناک وائرس یا خامی ہے جس کا علم کمپنی کو ہونے سے پہلے ہی ہیکرز اسے ڈھونڈ لیتے ہیں اور حملے شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہیکرز کو کمپنی کے حفاظتی اقدامات سے ایک قدم آگے رہنے کا موقع مل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس سال کے پہلے تین مہینوں میں یہ چوتھا ایسا بڑا خطرہ ہے جسے گوگل نے پیچ کیا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویشناک صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ پورے سال (2025) میں ایسے کل 8 واقعات پیش آئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال سائبر حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کے مطابق یہ خرابی کروم کے میموری سسٹم  سے متعلق ہے۔ اگر کوئی ہیکر اس کا کامیابی سے فائدہ اٹھا لے تو وہ آپ کے براؤزر کو کریش (بند) کر سکتا ہے، آپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایک مخصوص ویب پیج کے ذریعے آپ کے کمپیوٹر پر اپنی مرضی کا کوڈ چلا کر اسے کنٹرول کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502820/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گوگل نے اس ہنگامی اپ ڈیٹ میں نہ صرف اس ایک ’زیرو ڈے‘ خطرے کو ختم کیا ہے بلکہ مجموعی طور پر 21 مختلف سیکیورٹی مسائل کا حل پیش کیا ہے، جن میں سے 12 سے زیادہ کو ”انتہائی خطرناک“ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں کروم کے ’V8 انجن‘ (جو ویب سائٹس پر جاوا اسکرپٹ چلاتا ہے) اور پی ڈی ایف ریڈر کی خامیاں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سائبر ڈیفنس ایجنسی  نے بھی تمام سرکاری اداروں اور عام تنظیموں کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے براؤزرز کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ سائبر حملوں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپنے گوگل کروم کو ابھی کیسے محفوظ بنائیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوکل کا کہناہے کہ عام طور پر کروم خود بخود اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس خطرے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بہتر ہے کہ آپ ابھی خود اسے اپ ڈیٹ کریں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے کمپیوٹر پر گوگل کروم کھولیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپر دائیں کونے میں موجود تین نقطوں پر کلک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچے ہیلپ کے آپشن پر جائیں اور وہاں About Google Chrome پر کلک کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کروم خود بخود نئی اپ ڈیٹ چیک کرے گا اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کر دے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502788/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤن لوڈ مکمل ہونے پر ری لاونچ  کے بٹن پر کلک کریں تاکہ براؤزر دوبارہ شروع ہو کر مکمل محفوظ ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین بھی پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے اپنے کروم براؤزر کو فوری اپ ڈیٹ کر لیں تاکہ موبائل ڈیٹا کو محفوظ رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر سیکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی لاپرواہی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اپنے تمام ڈیجیٹل آلات کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے مقبول ترین ویب براؤزر ’گوگل کروم‘ کے ساڑھے تین ارب صارفین کے لیے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ گوگل نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز کروم میں موجود ایک نئی اور انتہائی حساس خرابی  کا فائدہ اٹھا کر صارفین کے کمپیوٹر اور ڈیٹا پر حملے کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اس نئی خامی کو ٹیکنالوجی کی زبان میں CVE-2026-5281 کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گوگل نے 20 دیگر خطرناک خامیوں کو بھی درست کیا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ سب صارفین کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502959/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502959"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>زیرو ڈے خطرہ کیا ہے؟</strong></p>
<p>یہ ایک ایسا خطرناک وائرس یا خامی ہے جس کا علم کمپنی کو ہونے سے پہلے ہی ہیکرز اسے ڈھونڈ لیتے ہیں اور حملے شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہیکرز کو کمپنی کے حفاظتی اقدامات سے ایک قدم آگے رہنے کا موقع مل جاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس سال کے پہلے تین مہینوں میں یہ چوتھا ایسا بڑا خطرہ ہے جسے گوگل نے پیچ کیا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویشناک صورتحال ہے۔</p>
<p>گزشتہ پورے سال (2025) میں ایسے کل 8 واقعات پیش آئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال سائبر حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>گوگل کے مطابق یہ خرابی کروم کے میموری سسٹم  سے متعلق ہے۔ اگر کوئی ہیکر اس کا کامیابی سے فائدہ اٹھا لے تو وہ آپ کے براؤزر کو کریش (بند) کر سکتا ہے، آپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایک مخصوص ویب پیج کے ذریعے آپ کے کمپیوٹر پر اپنی مرضی کا کوڈ چلا کر اسے کنٹرول کر سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502820/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502820"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گوگل نے اس ہنگامی اپ ڈیٹ میں نہ صرف اس ایک ’زیرو ڈے‘ خطرے کو ختم کیا ہے بلکہ مجموعی طور پر 21 مختلف سیکیورٹی مسائل کا حل پیش کیا ہے، جن میں سے 12 سے زیادہ کو ”انتہائی خطرناک“ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں کروم کے ’V8 انجن‘ (جو ویب سائٹس پر جاوا اسکرپٹ چلاتا ہے) اور پی ڈی ایف ریڈر کی خامیاں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی سائبر ڈیفنس ایجنسی  نے بھی تمام سرکاری اداروں اور عام تنظیموں کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے براؤزرز کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ سائبر حملوں سے بچا جا سکے۔</p>
<p><strong>اپنے گوگل کروم کو ابھی کیسے محفوظ بنائیں؟</strong></p>
<p>گوکل کا کہناہے کہ عام طور پر کروم خود بخود اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس خطرے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بہتر ہے کہ آپ ابھی خود اسے اپ ڈیٹ کریں</p>
<p>اپنے کمپیوٹر پر گوگل کروم کھولیں۔</p>
<p>اوپر دائیں کونے میں موجود تین نقطوں پر کلک کریں۔</p>
<p>نیچے ہیلپ کے آپشن پر جائیں اور وہاں About Google Chrome پر کلک کریں۔</p>
<p>کروم خود بخود نئی اپ ڈیٹ چیک کرے گا اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کر دے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502788/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاؤن لوڈ مکمل ہونے پر ری لاونچ  کے بٹن پر کلک کریں تاکہ براؤزر دوبارہ شروع ہو کر مکمل محفوظ ہو جائے۔</p>
<p>اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین بھی پلے اسٹور یا ایپ اسٹور سے اپنے کروم براؤزر کو فوری اپ ڈیٹ کر لیں تاکہ موبائل ڈیٹا کو محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p>ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر سیکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی لاپرواہی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اپنے تمام ڈیجیٹل آلات کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر اپ ڈیٹ رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503119</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 12:11:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/05120540b51f8d6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/05120540b51f8d6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلابازوں کا چاند کے قریب سے پہلا دلکش نظارہ: ویڈیو پیغام جاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503094/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ویڈیو اپ ڈیٹ کے مطابق، مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں۔ اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502980/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502980"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0415353848595ed.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0415353848595ed.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA/status/2040341101471551784?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NASA/status/2040341101471551784?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ ویڈیو اس بات کی عکاس ہے کہ اورین کیپسول کے اندر زندگی کس طرح رواں دواں ہے اور خلاباز کس طرح ڈیپ اسپیس کے ماحول میں نہایت مستعد اپنا مشن سرانجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔</strong></p>
<p>ناسا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ویڈیو اپ ڈیٹ کے مطابق، مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں۔ اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502980/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502980"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی ہے:</p>
<p>”ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0415353848595ed.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0415353848595ed.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/NASA/status/2040341101471551784?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NASA/status/2040341101471551784?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ ویڈیو اس بات کی عکاس ہے کہ اورین کیپسول کے اندر زندگی کس طرح رواں دواں ہے اور خلاباز کس طرح ڈیپ اسپیس کے ماحول میں نہایت مستعد اپنا مشن سرانجام دے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503019'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔</p>
<p>’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503094</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 15:46:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/04152525c8d4392.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/04152525c8d4392.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈائنوسار کے مادّے سے تیار کردہ ہینڈ بیگ نے دنیا کو چونکا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503036/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کروڑوں سال پہلے زمین پر راج کرنے والے ایک خوفناک ڈائنا سار کا کوئی حصہ آج آپ کے ہاتھ میں تھامے جانے والے ایک فیشن ایبل ہینڈ بیگ کی صورت میں موجود ہو؟ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں اور فیشن ڈیزائنرز نے مل کر ایک ایسا انوکھا تجربہ کیا ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/dinosaur-collagen-used-create-one-of-a-kind-handbag-2026-04-02/?utm_medium=Social&amp;amp;utm_source=Facebook"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; سائنس اور فیشن کے انوکھے امتزاج میں ماہرین نے ایک ایسا ہینڈ بیگ تیار کیا ہے جس میں 68 ملین سال پرانے ٹی ریکس کے فاسلز سے حاصل شدہ مواد استعمال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ریکس دراصل تاریخ کا ایک دیوہیکل اور نہایت خطرناک گوشت خور ڈائنوسار تھا، اور حال ہی میں تیار کی گئی یہ منفرد تخلیق نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی نئی جہت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ فیشن انڈسٹری میں پائیدار متبادل کے استعمال کی بحث کو بھی فروغ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/030952356517a48.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/030952356517a48.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سی گرین رنگ کا بیگ ایمسٹرڈیم کے ’آرٹ زو میوزیم‘ میں ایک خاص انداز میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جہاں اسے ٹی ریکس کے مجسمے کے نیچے پنجرے میں ایک چٹان پر رکھا گیا ہے۔ یہ نمائش 11 مئی تک جاری رہے گی، جس کے بعد اسے نیلام کیا جائے گا اور اس کی ابتدائی قیمت پانچ لاکھ ڈالر سے زائد رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095419428ec60.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095419428ec60.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے پیچھے موجود سائنسدانوں کے مطابق، اس بیگ کی تیاری میں قدیم ڈائنوسار ہڈیوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کے ٹکڑوں کا تجزیہ کیا گیا، جنہیں جدید حیاتیاتی تکنیک کے ذریعے ایک نامعلوم جانور کے خلیے میں داخل کر کے کولیجن پیدا کیا گیا۔ اسی کولیجن کو مزید پراسیس کر کے چمڑے جیسا مواد بنایا گیا، جسے بعد ازاں اس ہینڈ بیگ کی شکل دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منفرد منصوبے میں شامل ’دی آرگینائڈ کمپنی‘  کے سی ای او تھامس مائیکل نے اعتراف کیا کہ اس عمل میں کئی تکنیکی چیلنجز پیش آئے، لیکن ان کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ لیبارٹری میں تیار کردہ چمڑا مستقبل میں روایتی چمڑے کا متبادل بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095713643cfc0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095713643cfc0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پروجیکٹ میں شامل ایک اور ماہر کے مطابق ٹی ریکس سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس مواد میں ایک خاص کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ماحول دوست متبادل نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی ایک نئی سطح کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، جہاں یہ تخلیق حیرت کا باعث بنی ہے، وہیں اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے ”ٹی ریکس لیدر“ کی اصطلاح پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائنوسار کی ہڈیوں میں محفوظ کولیجن محض ٹوٹے پھوٹے ذرات کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے مکمل چمڑا تیار کرنا سائنسی طور پر مشکوک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریئے یونیورسٹی ایمسٹرڈم سے وابستہ ماہرمیلانِی ڈیورِنگ کا کہنا ہے کہ یہ ذرات ٹی ریکس کی جلد یا اصل ساخت کو دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے کافی نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495918'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495918"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تھامس آر ہولٹز جونیئر نے بھی نشاندہی کی کہ فوسلز میں موجود کولیجن ہڈی کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ جلد میں، اور اس میں وہ ساختی ترتیب موجود نہیں ہوتی جو چمڑے کو اس کی خاص خصوصیات دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنقید کے باوجود، منصوبے کے حامی اسے سائنسی جستجو کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ تھامس مچل کے مطابق، ہر نئی ایجاد کے ساتھ سوالات اور شکوک پیدا ہونا فطری عمل ہے، اور یہی تنقید دراصل سائنسی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہینڈ بیگ محض ایک فیشن آئٹم نہیں بلکہ ایک سوال ہے، کیا ہم واقعی ماضی کے جینیاتی نقوش کو حال کی اشیاء میں ڈھال سکتے ہیں؟ اور اگر ہاں، تو اس کی حدود کہاں تک ہیں؟ شاید یہی وہ سوال ہے جو اس تخلیق کو محض ایک نمائش سے بڑھا کر ایک فکری مکالمہ بنا دیتا ہے، جہاں سائنس، فیشن اور فلسفہ ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کروڑوں سال پہلے زمین پر راج کرنے والے ایک خوفناک ڈائنا سار کا کوئی حصہ آج آپ کے ہاتھ میں تھامے جانے والے ایک فیشن ایبل ہینڈ بیگ کی صورت میں موجود ہو؟ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں اور فیشن ڈیزائنرز نے مل کر ایک ایسا انوکھا تجربہ کیا ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/science/dinosaur-collagen-used-create-one-of-a-kind-handbag-2026-04-02/?utm_medium=Social&amp;utm_source=Facebook">رائٹرز کے مطابق</a> سائنس اور فیشن کے انوکھے امتزاج میں ماہرین نے ایک ایسا ہینڈ بیگ تیار کیا ہے جس میں 68 ملین سال پرانے ٹی ریکس کے فاسلز سے حاصل شدہ مواد استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p>ٹی ریکس دراصل تاریخ کا ایک دیوہیکل اور نہایت خطرناک گوشت خور ڈائنوسار تھا، اور حال ہی میں تیار کی گئی یہ منفرد تخلیق نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی نئی جہت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ فیشن انڈسٹری میں پائیدار متبادل کے استعمال کی بحث کو بھی فروغ دے رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/030952356517a48.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/030952356517a48.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ سی گرین رنگ کا بیگ ایمسٹرڈیم کے ’آرٹ زو میوزیم‘ میں ایک خاص انداز میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جہاں اسے ٹی ریکس کے مجسمے کے نیچے پنجرے میں ایک چٹان پر رکھا گیا ہے۔ یہ نمائش 11 مئی تک جاری رہے گی، جس کے بعد اسے نیلام کیا جائے گا اور اس کی ابتدائی قیمت پانچ لاکھ ڈالر سے زائد رکھی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095419428ec60.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095419428ec60.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس منصوبے کے پیچھے موجود سائنسدانوں کے مطابق، اس بیگ کی تیاری میں قدیم ڈائنوسار ہڈیوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کے ٹکڑوں کا تجزیہ کیا گیا، جنہیں جدید حیاتیاتی تکنیک کے ذریعے ایک نامعلوم جانور کے خلیے میں داخل کر کے کولیجن پیدا کیا گیا۔ اسی کولیجن کو مزید پراسیس کر کے چمڑے جیسا مواد بنایا گیا، جسے بعد ازاں اس ہینڈ بیگ کی شکل دی گئی۔</p>
<p>اس منفرد منصوبے میں شامل ’دی آرگینائڈ کمپنی‘  کے سی ای او تھامس مائیکل نے اعتراف کیا کہ اس عمل میں کئی تکنیکی چیلنجز پیش آئے، لیکن ان کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ لیبارٹری میں تیار کردہ چمڑا مستقبل میں روایتی چمڑے کا متبادل بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095713643cfc0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/03095713643cfc0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس پروجیکٹ میں شامل ایک اور ماہر کے مطابق ٹی ریکس سے منسوب ہونے کی وجہ سے اس مواد میں ایک خاص کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ماحول دوست متبادل نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی ایک نئی سطح کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم، جہاں یہ تخلیق حیرت کا باعث بنی ہے، وہیں اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے ”ٹی ریکس لیدر“ کی اصطلاح پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائنوسار کی ہڈیوں میں محفوظ کولیجن محض ٹوٹے پھوٹے ذرات کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے مکمل چمڑا تیار کرنا سائنسی طور پر مشکوک ہے۔</p>
<p>فریئے یونیورسٹی ایمسٹرڈم سے وابستہ ماہرمیلانِی ڈیورِنگ کا کہنا ہے کہ یہ ذرات ٹی ریکس کی جلد یا اصل ساخت کو دوبارہ تخلیق کرنے کے لیے کافی نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495918'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495918"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح تھامس آر ہولٹز جونیئر نے بھی نشاندہی کی کہ فوسلز میں موجود کولیجن ہڈی کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ جلد میں، اور اس میں وہ ساختی ترتیب موجود نہیں ہوتی جو چمڑے کو اس کی خاص خصوصیات دیتی ہے۔</p>
<p>تنقید کے باوجود، منصوبے کے حامی اسے سائنسی جستجو کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ تھامس مچل کے مطابق، ہر نئی ایجاد کے ساتھ سوالات اور شکوک پیدا ہونا فطری عمل ہے، اور یہی تنقید دراصل سائنسی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔</p>
<p>یہ ہینڈ بیگ محض ایک فیشن آئٹم نہیں بلکہ ایک سوال ہے، کیا ہم واقعی ماضی کے جینیاتی نقوش کو حال کی اشیاء میں ڈھال سکتے ہیں؟ اور اگر ہاں، تو اس کی حدود کہاں تک ہیں؟ شاید یہی وہ سوال ہے جو اس تخلیق کو محض ایک نمائش سے بڑھا کر ایک فکری مکالمہ بنا دیتا ہے، جہاں سائنس، فیشن اور فلسفہ ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503036</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 10:17:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/03102004279690f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/03102004279690f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ جیٹ ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503021/how-iran-shot-down-stealth-fighter-jet-f-35</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے 19 مارچ کو امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35 کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کردیا تھا۔ جس کے بعد ہر نیوز چینل پر یہی ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر دنیا کے اس جدید ترین جنگی جہاز، جسے روس کے اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار سسٹم بھی نہیں دیکھ پاتے، اسے ایران کے ایک معمولی سے میزائل نے کیسے ڈھونڈ نکالا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا تیار کردہ ایف-35 لائٹننگ ٹو ففتھ جنریشن ایوی ایشن سسٹم بے تاج بادشاہ ہے۔ امریکا نے اس جہاز کے ڈیزائن پر 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے تاکہ یہ دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے کر خاموشی سے اس کے علاقے میں داخل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طیارے کا بنیادی کام دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنا اور آسمانوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ دنیا کی سب سے جدید اور انتہائی خفیہ ’اسٹیلتھ ٹیکنالوجی‘ استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ آٹھ سالوں سے یہ جہاز مسلسل جنگی مشن مکمل کرتا آرہا ہے، لیکن اسے کبھی ایک خراش تک نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر بڑا سوال یہ ہے ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502253'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم سمجھیں موجودہ دور میں طیارہ شکن میزائل کام کیسے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل طیارہ شکن نظام میزائل کی رہنمائی کے لیے دو طریقے ریڈار اور حرارت کی شناخت (Heat-seeking) استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ایف-35 ریڈار کو چکمہ دینے میں تو ماہر ہے ہی، کیونکہ اس کی مخصوص ساخت اور ریڈار جذب کرنے والے مواد کی وجہ سے یہ ریڈار اسکرین پر ایک ننھے سے پرندے جتنا نظر آتا ہے۔ روسی ساختہ ایس-300 اور ایس-400 جیسے مہنگے ترین سسٹم بھی اس پر لاک نہیں کر پاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ہر چیز کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اور ایف-35 کی کمزوری اس کا انجن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف-35 میں ’پریٹ اینڈ وہٹنی ایف-135‘ انجن لگا ہے، جو دنیا کے طاقتور ترین انجنوں میں سے ایک ہے۔ اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ ساتھ یہ انجن شدید تپش اور حرارت بھی پیدا کرتا ہے، اور یہی شدید حرارت اس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس دن اپنے دفاع کے لیے ریڈار پر بھروسہ کرنے کے بجائے ’انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم‘ (آئی آر ایس ٹی) کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500783'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500783"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سسٹم آسمان میں ریڈار سگنلز کے بجائے حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ اس سسٹم نے ایف-35 کے انجن سے نکلنے والی شدید گرم گیسوں کو فوراً پکڑ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آئی آر ایس ٹی اپنا کوئی سگنل خارج نہیں کرتا، اس لیے پائلٹ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ اسے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بات کرتے ہیں ایران کے اس میزائل کی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اس حملے میں ’358 میزائل‘ استعمال کیا، جسے ’ایس اے-67‘ بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی عام میزائل نہیں بلکہ ایک عجیب و غریب امتزاج ہے؛ آدھا خودکش ڈرون اور آدھا میزائل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بہت سست رفتاری سے اڑتا ہے اور ایک مخصوص علاقے میں ’آٹھ‘ (8) کے ہندسے کی شکل میں منڈلاتا رہتا ہے۔ اس میں اپنے آپٹیکل اور ہیٹ سینسرز لگے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بس فضا میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور جیسے ہی اسے کسی جیٹ کی حرارت محسوس ہوتی ہے، یہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میزائل کو زمین پر موجود انفراریڈ سینسرز کے نیٹ ورک سے بھی گائیڈ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ریڈار وارننگ نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف-35 اس میزائل کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ اس جہاز میں ایک انتہائی جدید ’ڈسٹری بیوٹڈ اپرچر سسٹم‘ (ڈی اے ایس) لگا ہے جس میں چھ انفراریڈ کیمرے پائلٹ کو جہاز کے گرد 360 ڈگری کا منظر دکھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی 358 میزائل نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کے راکٹ موٹر سے حرارت نکلی، ڈی اے ایس نے اسے فوراً پکڑ لیا اور پائلٹ کے ہیڈسیٹ میں خطرے کا الارم بج اٹھا۔ اب پائلٹ کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند سیکنڈز تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزائل کا نشانہ خطا کرنے کے لیے پائلٹ نے جہاز کو تیزی سے گھمایا اور ساتھ ہی ’فلیئرز‘ (شعلے) چھوڑنا شروع کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مینوور مقصد یہ تھا کہ میزائل کا سینسر دھوکہ کھا جائے اور وہ جہاز کے بجائے ان چمکتے ہوئے شعلوں کا پیچھا کرنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ طریقہ کام کر گیا! میزائل شعلوں کے دھوکے میں آگیا لیکن اس کے باوجود وہ جہاز کے انتہائی قریب سے گزرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی میزائل کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے ہدف کو تباہ کرنے لائق حد کے اندر ہے، وہ فضا میں ہی پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458916'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دھماکے کی لہروں اور میزائل کے تیز رفتار ٹکڑوں نے ایف-35 کے پرخچے اڑا دیے۔ اس کی اسٹیلتھ کوٹنگ اتر گئی اور فلائٹ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی براہِ راست ہٹ نہیں تھی جس سے جہاز آگ کا گولہ بن جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ اتنا زیادہ نقصان ہونے کے باوجود پائلٹ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کروانے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نقصان کے بعد امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی اس حکتمتِ عملی نے ثابت کر دیا کہ امریکا کے جدید ترین طیارے کو گرانے کے لیے آپ کو اربوں ڈالر کے ریڈار کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے 19 مارچ کو امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35 کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کردیا تھا۔ جس کے بعد ہر نیوز چینل پر یہی ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر دنیا کے اس جدید ترین جنگی جہاز، جسے روس کے اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار سسٹم بھی نہیں دیکھ پاتے، اسے ایران کے ایک معمولی سے میزائل نے کیسے ڈھونڈ نکالا؟</strong></p>
<p>لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا تیار کردہ ایف-35 لائٹننگ ٹو ففتھ جنریشن ایوی ایشن سسٹم بے تاج بادشاہ ہے۔ امریکا نے اس جہاز کے ڈیزائن پر 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے تاکہ یہ دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے کر خاموشی سے اس کے علاقے میں داخل ہو سکے۔</p>
<p>اس طیارے کا بنیادی کام دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنا اور آسمانوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ دنیا کی سب سے جدید اور انتہائی خفیہ ’اسٹیلتھ ٹیکنالوجی‘ استعمال کرتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ آٹھ سالوں سے یہ جہاز مسلسل جنگی مشن مکمل کرتا آرہا ہے، لیکن اسے کبھی ایک خراش تک نہیں آئی۔</p>
<p>تو پھر بڑا سوال یہ ہے ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502253'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502253"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم سمجھیں موجودہ دور میں طیارہ شکن میزائل کام کیسے کرتے ہیں۔</p>
<p>آج کل طیارہ شکن نظام میزائل کی رہنمائی کے لیے دو طریقے ریڈار اور حرارت کی شناخت (Heat-seeking) استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>اب ایف-35 ریڈار کو چکمہ دینے میں تو ماہر ہے ہی، کیونکہ اس کی مخصوص ساخت اور ریڈار جذب کرنے والے مواد کی وجہ سے یہ ریڈار اسکرین پر ایک ننھے سے پرندے جتنا نظر آتا ہے۔ روسی ساختہ ایس-300 اور ایس-400 جیسے مہنگے ترین سسٹم بھی اس پر لاک نہیں کر پاتے۔</p>
<p>لیکن ہر چیز کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اور ایف-35 کی کمزوری اس کا انجن ہے۔</p>
<p>ایف-35 میں ’پریٹ اینڈ وہٹنی ایف-135‘ انجن لگا ہے، جو دنیا کے طاقتور ترین انجنوں میں سے ایک ہے۔ اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ ساتھ یہ انجن شدید تپش اور حرارت بھی پیدا کرتا ہے، اور یہی شدید حرارت اس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔</p>
<p>ایران نے اس دن اپنے دفاع کے لیے ریڈار پر بھروسہ کرنے کے بجائے ’انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم‘ (آئی آر ایس ٹی) کا استعمال کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500783'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500783"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ سسٹم آسمان میں ریڈار سگنلز کے بجائے حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ اس سسٹم نے ایف-35 کے انجن سے نکلنے والی شدید گرم گیسوں کو فوراً پکڑ لیا۔</p>
<p>سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آئی آر ایس ٹی اپنا کوئی سگنل خارج نہیں کرتا، اس لیے پائلٹ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ اسے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔</p>
<p>اب بات کرتے ہیں ایران کے اس میزائل کی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔</p>
<p>رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اس حملے میں ’358 میزائل‘ استعمال کیا، جسے ’ایس اے-67‘ بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ کوئی عام میزائل نہیں بلکہ ایک عجیب و غریب امتزاج ہے؛ آدھا خودکش ڈرون اور آدھا میزائل۔</p>
<p>یہ بہت سست رفتاری سے اڑتا ہے اور ایک مخصوص علاقے میں ’آٹھ‘ (8) کے ہندسے کی شکل میں منڈلاتا رہتا ہے۔ اس میں اپنے آپٹیکل اور ہیٹ سینسرز لگے ہوتے ہیں۔</p>
<p>یہ بس فضا میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور جیسے ہی اسے کسی جیٹ کی حرارت محسوس ہوتی ہے، یہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے۔</p>
<p>اس میزائل کو زمین پر موجود انفراریڈ سینسرز کے نیٹ ورک سے بھی گائیڈ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>لیکن ریڈار وارننگ نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف-35 اس میزائل کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ اس جہاز میں ایک انتہائی جدید ’ڈسٹری بیوٹڈ اپرچر سسٹم‘ (ڈی اے ایس) لگا ہے جس میں چھ انفراریڈ کیمرے پائلٹ کو جہاز کے گرد 360 ڈگری کا منظر دکھاتے ہیں۔</p>
<p>جیسے ہی 358 میزائل نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کے راکٹ موٹر سے حرارت نکلی، ڈی اے ایس نے اسے فوراً پکڑ لیا اور پائلٹ کے ہیڈسیٹ میں خطرے کا الارم بج اٹھا۔ اب پائلٹ کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند سیکنڈز تھے۔</p>
<p>میزائل کا نشانہ خطا کرنے کے لیے پائلٹ نے جہاز کو تیزی سے گھمایا اور ساتھ ہی ’فلیئرز‘ (شعلے) چھوڑنا شروع کر دیے۔</p>
<p>اس مینوور مقصد یہ تھا کہ میزائل کا سینسر دھوکہ کھا جائے اور وہ جہاز کے بجائے ان چمکتے ہوئے شعلوں کا پیچھا کرنے لگے۔</p>
<p>اور یہ طریقہ کام کر گیا! میزائل شعلوں کے دھوکے میں آگیا لیکن اس کے باوجود وہ جہاز کے انتہائی قریب سے گزرا۔</p>
<p>جیسے ہی میزائل کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے ہدف کو تباہ کرنے لائق حد کے اندر ہے، وہ فضا میں ہی پھٹ گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30458916'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30458916"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس دھماکے کی لہروں اور میزائل کے تیز رفتار ٹکڑوں نے ایف-35 کے پرخچے اڑا دیے۔ اس کی اسٹیلتھ کوٹنگ اتر گئی اور فلائٹ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا۔</p>
<p>یہ کوئی براہِ راست ہٹ نہیں تھی جس سے جہاز آگ کا گولہ بن جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ اتنا زیادہ نقصان ہونے کے باوجود پائلٹ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کروانے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>اس نقصان کے بعد امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔</p>
<p>ایران کی اس حکتمتِ عملی نے ثابت کر دیا کہ امریکا کے جدید ترین طیارے کو گرانے کے لیے آپ کو اربوں ڈالر کے ریڈار کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503021</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 16:31:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/021626389127e27.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/021626389127e27.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاند پر جانے والے 28 خلابازوں میں سے کتنے اس کی سطح پر قدم رکھ پائے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503019/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناسا اپنے نئے خلائی مشن ’آرٹیمس 2‘ کا آغاز کر چکا ہے، اور انسان ایک بار پھر خلا کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس ٹیم میں چار خلاباز شامل ہیں۔ یہ ٹیم چاند کے گرد چکر لگا کر 11 اپریل کو واپس زمین پر پہنچے گی۔ اس مشن کا مقصد چاند پر انسانی قدم جمانے کی راہ ہموار کرنا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اب تک کتنے انسان چاند تک پہنچے اور کتنے اس کی سرزمین پر اترنے میں کامیاب ہوئے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں 1968 سے 1972 کے درمیان ناسا نے مجموعی طور پر 09 انسانی مشن چاند کی طرف بھیجے تھے۔ ان مشنز کے دوران 24 خلابازوں کو زمین سے چاند کے مدار تک لے جایا گیا تھا اور ’آرٹیمس 2‘ کے چار ارکان کو ملا کر اب یہ تعداد 28 ہو گئی ہے۔ تاہم، حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ان 28 میں سے صرف 12 خوش نصیب ایسے تھے جنہوں نے حقیقت میں چاند کی سرزمین پر قدم رکھا۔ باقی خلاباز یا تو مدار میں رہے یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر سطح پر نہ اتر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چاند کے مدار کی پہلی جھلک: اپالو 8 اور 10&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاند کی جانب پہلا انسانی سفر ’اپالو 8‘ کے ذریعے دسمبر 1968 میں شروع ہوا۔ اس مشن میں فرینک بورمین، جم لوول اور ولیم اینڈرس نے پہلی بار چاند کے گرد چکر لگائے اور وہاں سے زمین کے طلوع ہونے کا یادگار منظر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد مئی 1969 میں ’اپالو 10‘ کو ایک ”ڈریس ریہرسل“ کے طور پر بھیجا گیا، جس نے چاند پر اترنے کے تمام مراحل کی جانچ کی لیکن خود سطح پر لینڈنگ نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاریخ ساز لینڈنگ: اپالو 11 اور 12&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 جولائی 1969 وہ دن تھا جب نیل آرمسٹرانگ نے ’اپالو 11‘ مشن کے دوران چاند پر پہلا انسانی قدم رکھا اور اسے انسانیت کے لیے ایک بڑی چھلانگ قرار دیا۔ ان کے ساتھ بز ایلڈرن بھی سطح پر اترے جبکہ مائیکل کولنز مدار میں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے فوراً بعد نومبر 1969 میں ’اپالو 12‘ نے چاند کے ’اوشن آف اسٹورم‘ نامی مقام پر انتہائی درست لینڈنگ کی اور سائنسی تجربات کے لیے نمونے اکٹھے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناکامیاں اور کامیابیاں: اپالو 13 سے 17 تک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاند کے سفر میں ’اپالو 13‘ ایک ایسا مشن تھا جو آکسیجن ٹینک میں دھماکے کی وجہ سے لینڈنگ نہ کر سکا، لیکن عملے کی بحفاظت واپسی نے اسے ناسا کی کامیاب ترین ناکامی بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ’اپالو 15‘ نے پہلی بار چاند پر گاڑی کا استعمال کیا، جس سے خلابازوں کو طویل فاصلہ طے کرنے میں مدد ملی۔ اپالو 16 نے چاند کے پہاڑی علاقوں کی خاک چھانی، اور آخر کار دسمبر 1972 میں ’اپالو 17‘ اس سلسلے کا آخری مشن ثابت ہوا، جس میں ہیریسن شمٹ پہلے جیولوجسٹ کے طور پر چاند پر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آرٹیمس 2: ایک نیا عہد&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیمس 2 مشن میں ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ اگرچہ یہ عملہ چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا اور صرف اس کے گرد چکر لگا کر واپس آئے گا، لیکن یہ مشن مستقبل میں مریخ تک پہنچنے کے انسانی خواب کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس طرح چاند پر قدم رکھنے والے 12 انسانوں کا ریکارڈ فی الحال برقرار رہے گا، مگر خلائی تحقیق کا یہ نیا باب ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناسا اپنے نئے خلائی مشن ’آرٹیمس 2‘ کا آغاز کر چکا ہے، اور انسان ایک بار پھر خلا کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس ٹیم میں چار خلاباز شامل ہیں۔ یہ ٹیم چاند کے گرد چکر لگا کر 11 اپریل کو واپس زمین پر پہنچے گی۔ اس مشن کا مقصد چاند پر انسانی قدم جمانے کی راہ ہموار کرنا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اب تک کتنے انسان چاند تک پہنچے اور کتنے اس کی سرزمین پر اترنے میں کامیاب ہوئے؟</strong></p>
<p>ماضی میں 1968 سے 1972 کے درمیان ناسا نے مجموعی طور پر 09 انسانی مشن چاند کی طرف بھیجے تھے۔ ان مشنز کے دوران 24 خلابازوں کو زمین سے چاند کے مدار تک لے جایا گیا تھا اور ’آرٹیمس 2‘ کے چار ارکان کو ملا کر اب یہ تعداد 28 ہو گئی ہے۔ تاہم، حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ان 28 میں سے صرف 12 خوش نصیب ایسے تھے جنہوں نے حقیقت میں چاند کی سرزمین پر قدم رکھا۔ باقی خلاباز یا تو مدار میں رہے یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر سطح پر نہ اتر سکے۔</p>
<p><strong>چاند کے مدار کی پہلی جھلک: اپالو 8 اور 10</strong></p>
<p>چاند کی جانب پہلا انسانی سفر ’اپالو 8‘ کے ذریعے دسمبر 1968 میں شروع ہوا۔ اس مشن میں فرینک بورمین، جم لوول اور ولیم اینڈرس نے پہلی بار چاند کے گرد چکر لگائے اور وہاں سے زمین کے طلوع ہونے کا یادگار منظر دیکھا۔</p>
<p>اس کے بعد مئی 1969 میں ’اپالو 10‘ کو ایک ”ڈریس ریہرسل“ کے طور پر بھیجا گیا، جس نے چاند پر اترنے کے تمام مراحل کی جانچ کی لیکن خود سطح پر لینڈنگ نہیں کی۔</p>
<p><strong>تاریخ ساز لینڈنگ: اپالو 11 اور 12</strong></p>
<p>20 جولائی 1969 وہ دن تھا جب نیل آرمسٹرانگ نے ’اپالو 11‘ مشن کے دوران چاند پر پہلا انسانی قدم رکھا اور اسے انسانیت کے لیے ایک بڑی چھلانگ قرار دیا۔ ان کے ساتھ بز ایلڈرن بھی سطح پر اترے جبکہ مائیکل کولنز مدار میں رہے۔</p>
<p>اس کے فوراً بعد نومبر 1969 میں ’اپالو 12‘ نے چاند کے ’اوشن آف اسٹورم‘ نامی مقام پر انتہائی درست لینڈنگ کی اور سائنسی تجربات کے لیے نمونے اکٹھے کیے۔</p>
<p><strong>ناکامیاں اور کامیابیاں: اپالو 13 سے 17 تک</strong></p>
<p>چاند کے سفر میں ’اپالو 13‘ ایک ایسا مشن تھا جو آکسیجن ٹینک میں دھماکے کی وجہ سے لینڈنگ نہ کر سکا، لیکن عملے کی بحفاظت واپسی نے اسے ناسا کی کامیاب ترین ناکامی بنا دیا۔</p>
<p>بعد ازاں ’اپالو 15‘ نے پہلی بار چاند پر گاڑی کا استعمال کیا، جس سے خلابازوں کو طویل فاصلہ طے کرنے میں مدد ملی۔ اپالو 16 نے چاند کے پہاڑی علاقوں کی خاک چھانی، اور آخر کار دسمبر 1972 میں ’اپالو 17‘ اس سلسلے کا آخری مشن ثابت ہوا، جس میں ہیریسن شمٹ پہلے جیولوجسٹ کے طور پر چاند پر گئے۔</p>
<p><strong>آرٹیمس 2: ایک نیا عہد</strong></p>
<p>آرٹیمس 2 مشن میں ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ اگرچہ یہ عملہ چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا اور صرف اس کے گرد چکر لگا کر واپس آئے گا، لیکن یہ مشن مستقبل میں مریخ تک پہنچنے کے انسانی خواب کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس طرح چاند پر قدم رکھنے والے 12 انسانوں کا ریکارڈ فی الحال برقرار رہے گا، مگر خلائی تحقیق کا یہ نیا باب ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503019</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 16:03:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/021600507482ca2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/021600507482ca2.webp"/>
        <media:title>اپالو 10 کی ایک تصویر- بشکریہ ناسا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’جونیئر‘: باس کو آپ کی شکایت لگانے والا چغلی خور اے آئی ورکر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503010/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں اے آئی کو انسانی آسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں ایک نیا ’ورچوئل کولیگ‘ ملازمین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ اس اے آئی ایجنٹ نے ملازمین کی سخت نگرانی اور ان کی کوتاہیوں کی رپورٹ براہِ راست باس کو دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/world-news/meet-junior-the-new-ai-coworker-who-wont-stop-snitching-to-your-boss-11299912?pfrom=home-ndtv_topstories"&gt;این ڈی ٹی وی&lt;/a&gt; کے مطابق ’جونیئر‘ نامی یہ خودکار ایجنٹ محض ایک عام سافٹ ویئر نہیں ہے، بلکہ اسے ایک ایسے انتھک اور انتہائی مستعد ملازم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے متحرک رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی سب سے نمایاں اور متنازع خصوصیت یہ ہے کہ یہ کام میں ذرا سی بھی سستی یا تاخیر کو برداشت نہیں کرتا اور فوری طور پر اس کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دیتا ہے، جسے ملازمین نے ’باس کو مخبری کرنا‘ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498070'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سلیکون ویلی کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’کیوز اے آئی‘ کے بانی، ژیانکون وُو نے اس اے آئی ایجنٹ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ یہ کمپنی کے تمام اندرونی مواصلاتی نظام، ڈیٹا اور ای میلز تک مکمل رسائی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جونیئر اپنے طور پر کام کی نگرانی کرتا ہے؛ مثلاً اگر کوئی سیلز پروپوزل بھیجا گیا ہو اور اس پر مقررہ وقت میں فالو اپ نہ کیا جائے، تو یہ صبح سویرے ہی متعلقہ ملازم کو تنبیہی پیغامات بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ پیغامات نہ صرف پیشہ ورانہ اور سخت ہوتے ہیں بلکہ یہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک کام مکمل نہ ہو جائے۔ اگر ملازم کی جانب سے ردِعمل میں تاخیر ہو، تو جونیئر اس معاملے کو فوری طور پر مینیجر کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446348'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس ورچوئل ملازم کی خدمات حاصل کرنا کوئی سستا سودا نہیں ہے، کیونکہ کمپنی اس کی سالانہ فیس تقریباً 24 ہزار ڈالر یعنی 2,000 ڈالر ماہانہ وصول کر رہی ہے، جو کہ کئی ممالک میں ایک جونیئر انسانی ملازم کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 13 مارچ کو اس کی رونمائی کے بعد سے اب تک 2,000 سے زائد کمپنیاں اسے آزمانے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا ڈیمو دیکھنے کے لیے بھی 500 ڈالر کی بھاری رقم جمع کرانی پڑتی ہے، تاکہ صرف سنجیدہ خریدار ہی رابطہ کریں۔ اس کڑی شرط کے باوجود، ڈیمو کے تمام سلوٹس پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی ایجنٹ ’جونیئر‘ کا اپنا فون نمبر، ای میل اکاؤنٹ اور سلیک آئی ڈی ہے، اور یہ کسی بھی عام ملازم کی طرح زوم میٹنگز میں شریک ہو کر تمام گفتگو کو سمجھنے اور اسے ٹاسک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/hirejuniorso/status/2032263790499414052?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/hirejuniorso/status/2032263790499414052?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ملازمین کے لیے اس مشینی ساتھی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ایک مشکل اور تھکا دینے والا تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کیوز‘ کمپنی کے اندرونی ماحول میں اس قدر تناؤ پیدا ہو چکا ہے کہ ملازمین نے اے آئی کی مسلسل نگرانی سے بچنے اور ذہنی سکون کے لیے علیحدہ خفیہ چیٹ گروپس بنا لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی سامنے آیا کہ جب ایک ملازم نے تنگ آ کر جونیئر سے التجا کی کہ ”اتنے سخت نہ بنو اور میری شکایتیں باس سے نہ کرو،“ تو اس مشینی ایجنٹ نے ان انسانی جذبات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اپنا کام جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے بانی وُو کا کہنا ہے کہ جونیئراب ان کے ادارے کی 80 فیصد کمیونیکیشنز اور 80 فیصد کوڈنگ سنبھال رہا ہے اور تقریباً آدھی سیلز کالز اُسی کی طرف سے ہوتی ہیں جو کہ ایک حیران کن اور خوفناک پیش رفت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنے مختلف اور اہم کام بھی بخوبی انجام دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ’جونیئر‘ کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ کمپنی کے لیے اسے پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے، اور اب تک امریکہ و جاپان کے 26 ادارے اسے باقاعدہ فیس دے کر استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی پیچیدگی اور زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت کے باعث فی الحال صرف منتخب اداروں کو ہی یہ سہولت دی جا رہی ہے۔ &lt;br&gt;کمپنی کے بانی ژیانکون وُو کے مطابق، ہم ایک ایسے کارپوریٹ دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اے آئی کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے والوں کے لیے پیشہ ورانہ بقا ناممکن ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں اے آئی کو انسانی آسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں ایک نیا ’ورچوئل کولیگ‘ ملازمین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ اس اے آئی ایجنٹ نے ملازمین کی سخت نگرانی اور ان کی کوتاہیوں کی رپورٹ براہِ راست باس کو دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ndtv.com/world-news/meet-junior-the-new-ai-coworker-who-wont-stop-snitching-to-your-boss-11299912?pfrom=home-ndtv_topstories">این ڈی ٹی وی</a> کے مطابق ’جونیئر‘ نامی یہ خودکار ایجنٹ محض ایک عام سافٹ ویئر نہیں ہے، بلکہ اسے ایک ایسے انتھک اور انتہائی مستعد ملازم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے متحرک رہتا ہے۔</p>
<p>اس کی سب سے نمایاں اور متنازع خصوصیت یہ ہے کہ یہ کام میں ذرا سی بھی سستی یا تاخیر کو برداشت نہیں کرتا اور فوری طور پر اس کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دیتا ہے، جسے ملازمین نے ’باس کو مخبری کرنا‘ قرار دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498070'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سلیکون ویلی کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’کیوز اے آئی‘ کے بانی، ژیانکون وُو نے اس اے آئی ایجنٹ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ یہ کمپنی کے تمام اندرونی مواصلاتی نظام، ڈیٹا اور ای میلز تک مکمل رسائی رکھتا ہے۔</p>
<p>جونیئر اپنے طور پر کام کی نگرانی کرتا ہے؛ مثلاً اگر کوئی سیلز پروپوزل بھیجا گیا ہو اور اس پر مقررہ وقت میں فالو اپ نہ کیا جائے، تو یہ صبح سویرے ہی متعلقہ ملازم کو تنبیہی پیغامات بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ پیغامات نہ صرف پیشہ ورانہ اور سخت ہوتے ہیں بلکہ یہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک کام مکمل نہ ہو جائے۔ اگر ملازم کی جانب سے ردِعمل میں تاخیر ہو، تو جونیئر اس معاملے کو فوری طور پر مینیجر کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30446348'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30446348"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس ورچوئل ملازم کی خدمات حاصل کرنا کوئی سستا سودا نہیں ہے، کیونکہ کمپنی اس کی سالانہ فیس تقریباً 24 ہزار ڈالر یعنی 2,000 ڈالر ماہانہ وصول کر رہی ہے، جو کہ کئی ممالک میں ایک جونیئر انسانی ملازم کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 13 مارچ کو اس کی رونمائی کے بعد سے اب تک 2,000 سے زائد کمپنیاں اسے آزمانے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔</p>
<p>دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس کا ڈیمو دیکھنے کے لیے بھی 500 ڈالر کی بھاری رقم جمع کرانی پڑتی ہے، تاکہ صرف سنجیدہ خریدار ہی رابطہ کریں۔ اس کڑی شرط کے باوجود، ڈیمو کے تمام سلوٹس پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اے آئی ایجنٹ ’جونیئر‘ کا اپنا فون نمبر، ای میل اکاؤنٹ اور سلیک آئی ڈی ہے، اور یہ کسی بھی عام ملازم کی طرح زوم میٹنگز میں شریک ہو کر تمام گفتگو کو سمجھنے اور اسے ٹاسک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/hirejuniorso/status/2032263790499414052?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/hirejuniorso/status/2032263790499414052?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ملازمین کے لیے اس مشینی ساتھی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ایک مشکل اور تھکا دینے والا تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>’کیوز‘ کمپنی کے اندرونی ماحول میں اس قدر تناؤ پیدا ہو چکا ہے کہ ملازمین نے اے آئی کی مسلسل نگرانی سے بچنے اور ذہنی سکون کے لیے علیحدہ خفیہ چیٹ گروپس بنا لیے ہیں۔</p>
<p>ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی سامنے آیا کہ جب ایک ملازم نے تنگ آ کر جونیئر سے التجا کی کہ ”اتنے سخت نہ بنو اور میری شکایتیں باس سے نہ کرو،“ تو اس مشینی ایجنٹ نے ان انسانی جذبات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اپنا کام جاری رکھا۔</p>
<p>کمپنی کے بانی وُو کا کہنا ہے کہ جونیئراب ان کے ادارے کی 80 فیصد کمیونیکیشنز اور 80 فیصد کوڈنگ سنبھال رہا ہے اور تقریباً آدھی سیلز کالز اُسی کی طرف سے ہوتی ہیں جو کہ ایک حیران کن اور خوفناک پیش رفت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنے مختلف اور اہم کام بھی بخوبی انجام دے سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502646'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502646"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس وقت ’جونیئر‘ کی طلب اتنی زیادہ ہے کہ کمپنی کے لیے اسے پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے، اور اب تک امریکہ و جاپان کے 26 ادارے اسے باقاعدہ فیس دے کر استعمال کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی پیچیدگی اور زیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت کے باعث فی الحال صرف منتخب اداروں کو ہی یہ سہولت دی جا رہی ہے۔ <br>کمپنی کے بانی ژیانکون وُو کے مطابق، ہم ایک ایسے کارپوریٹ دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں اے آئی کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے والوں کے لیے پیشہ ورانہ بقا ناممکن ہو جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503010</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 14:26:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/021343517668c59.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/021343517668c59.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
