<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 15:48:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 15:48:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکا جنگ بندی پر شرط لگانے والا راتوں رات کروڑ پتی بن گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503227/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی واقعات اور سیاست پر شرطیں لگانے والی مشہور ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر ایک گمنام صارف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کی بالکل درست پیش گوئی کر کے چار لاکھ ڈالرز یعنی کروڑوں روپے جیت لیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر پولی مارکیٹ کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ایک اکاؤنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اس صارف نے دو ایسی شرطیں لگائیں جو حیران کن حد تک درست ثابت ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شخص نے نہ صرف ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کا صحیح وقت بتایا بلکہ بدھ کے روز ہونے والی جنگ بندی کی تاریخ کی بھی بالکل درست پیش گوئی کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503224/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503224"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی جیت نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض قسمت کا کھیل نہیں بلکہ ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ یعنی اندرونی معلومات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ’پولی مارکیٹ ہسٹری‘ نامی اکاؤنٹ نے ان مشکوک شرطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہی صارف نے دو ایسی شرطیں جیتیں جن کا وقت اور نتیجہ سو فیصد درست تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PolymarketStory/status/2041660934695915993?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PolymarketStory/status/2041660934695915993?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل بھی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا فیصلہ کیا تھا، تو اسی طرح کے چند گمنام اکاؤنٹس نے عین وقت پر درست شرطیں لگا کر بھاری رقم جیتی تھی، اور اب ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان واقعات کے بعد پولی مارکیٹ کو شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید کچھ لوگوں کو امریکی حکومت کے اہم فیصلوں کی پہلے سے خبر ہوتی ہے جو اس پلیٹ فارم کا استعمال کر کے بڑی رقم بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503222/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب عام دنیا جنگ کے سائے میں ڈری ہوئی ہوتی ہے، اس وقت کچھ گمنام لوگ ان فیصلوں سے لاکھوں ڈالرز کما رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال اس صارف کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے لیکن اس واقعے نے آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی شفافیت پر بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی واقعات اور سیاست پر شرطیں لگانے والی مشہور ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر ایک گمنام صارف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کی بالکل درست پیش گوئی کر کے چار لاکھ ڈالرز یعنی کروڑوں روپے جیت لیے ہیں۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر پولی مارکیٹ کی مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے ایک اکاؤنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اس صارف نے دو ایسی شرطیں لگائیں جو حیران کن حد تک درست ثابت ہوئیں۔</p>
<p>اس شخص نے نہ صرف ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کا صحیح وقت بتایا بلکہ بدھ کے روز ہونے والی جنگ بندی کی تاریخ کی بھی بالکل درست پیش گوئی کی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503224/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503224"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس غیر معمولی جیت نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض قسمت کا کھیل نہیں بلکہ ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ یعنی اندرونی معلومات کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ’پولی مارکیٹ ہسٹری‘ نامی اکاؤنٹ نے ان مشکوک شرطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہی صارف نے دو ایسی شرطیں جیتیں جن کا وقت اور نتیجہ سو فیصد درست تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PolymarketStory/status/2041660934695915993?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PolymarketStory/status/2041660934695915993?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل بھی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا فیصلہ کیا تھا، تو اسی طرح کے چند گمنام اکاؤنٹس نے عین وقت پر درست شرطیں لگا کر بھاری رقم جیتی تھی، اور اب ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p>ان واقعات کے بعد پولی مارکیٹ کو شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید کچھ لوگوں کو امریکی حکومت کے اہم فیصلوں کی پہلے سے خبر ہوتی ہے جو اس پلیٹ فارم کا استعمال کر کے بڑی رقم بناتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503222/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503222"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب عام دنیا جنگ کے سائے میں ڈری ہوئی ہوتی ہے، اس وقت کچھ گمنام لوگ ان فیصلوں سے لاکھوں ڈالرز کما رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>فی الحال اس صارف کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے لیکن اس واقعے نے آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی شفافیت پر بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503227</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 08:31:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/080829539bc9167.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/080829539bc9167.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبادی آؤٹ آف کنٹرول: زمین کی سکت جواب دے گئی، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503200/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے نامور ماہرین کی ایک نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی تعداد اب اس حد سے تجاوز کر چکی ہے، اور موجودہ وسائل کے استعمال کے معیار پر یہ بڑھتی ہوئی آبادی پائیدار نہیں رہ سکتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر کوری بریڈ شا کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں گزشتہ دو سو سالوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانیت اب ان قدرتی حدود سے بہت آگے نکل چکی ہے جن کے اندر رہ کر زمین اپنے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماحول دوست نظام میں کسی بھی جگہ کی آبادی سنبھالنے کی حد  سے مراد جانداروں کی وہ تعداد ہوتی ہے جو دستیاب وسائل اور ان کے دوبارہ بننے کی رفتار کے مطابق وہاں زندہ رہ سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30334926'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30334926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق انسانوں نے ٹیکنالوجی اور خاص طور پر فوسل فیولز یعنی کوئلے اور تیل کے بے دریغ استعمال سے ان قدرتی حدود کو عارضی طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ آبادی سنبھالنے کی حد یا ’کیریئنگ کیپیسٹی‘ کی اصطلاح 1880 کی دہائی میں جہاز رانی کی صنعت سے نکلی تھی جب یہ حساب لگایا جاتا تھا کہ ایک بحری جہاز اپنے ایندھن اور عملے کی جگہ بچاتے ہوئے کتنا سامان لے جا سکتا ہے۔ اسی ایندھن کے استعمال نے بیسویں صدی میں انسانی آبادی کو تیزی سے بڑھنے کا موقع دیا لیکن حالیہ عالمی حالات اور ایندھن کی سپلائی میں آنے والے جھٹکوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ نظام کتنا کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت دنیا کی آبادی تقریبا 8 ارب 30 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین نے دو طرح کی حدود کا تعین کیا ہے جن میں سے ایک انتہائی حد ہے جہاں قحط اور بیماریوں کے باوجود بس انسانوں کا گزارا ہوتا رہے، جبکہ دوسری مثالی حد ہے جہاں ہر انسان کو بہترین معیار زندگی اور پائیدار وسائل میسر ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30424339'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30424339"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کے مطابق زمین کے وسائل کے موجودہ استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں کے لیے مثالی آبادی صرف ڈھائی ارب ہونی چاہیے، جبکہ موجودہ آبادی اس سے تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر بریڈ شا کا کہنا ہے کہ زمین اب اس بوجھ کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 1960 کی دہائی سے آبادی کے بڑھنے کی رفتار میں کچھ کمی تو آئی ہے لیکن مجموعی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو2070 کی دہائی تک انسانی آبادی 12 ارب کے قریب پہنچ کر اپنی بلند ترین سطح کو چھو لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ آخری حد ہوگی جہاں زمین کے پاس دینے کے لیے مزید کچھ نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں پانی کی شدید قلت  اور جانوروں کی نسلوں کا تیزی سے ختم ہونا اسی بڑھتی ہوئی آبادی کا نتیجہ ہے کیونکہ انسان اور دیگر جاندار اب محدود وسائل کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440504'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440504"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ زمین پر پڑنے والے ماحولیاتی اثرات اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف فی کس استعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانوں کی مجموعی تعداد کی وجہ سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر قومیں مل کر توانائی، زمین اور خوراک کے استعمال کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں لائیں تو اس تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانیت کو اب ایسے سماجی اور ثقافتی رویے اپنانے ہوں گے جو وسائل کو بچانے اور آبادی کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مستحکم اور محفوظ زمین پر سانس لے سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے نامور ماہرین کی ایک نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی تعداد اب اس حد سے تجاوز کر چکی ہے، اور موجودہ وسائل کے استعمال کے معیار پر یہ بڑھتی ہوئی آبادی پائیدار نہیں رہ سکتی۔</strong></p>
<p>آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر کوری بریڈ شا کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں گزشتہ دو سو سالوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانیت اب ان قدرتی حدود سے بہت آگے نکل چکی ہے جن کے اندر رہ کر زمین اپنے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماحول دوست نظام میں کسی بھی جگہ کی آبادی سنبھالنے کی حد  سے مراد جانداروں کی وہ تعداد ہوتی ہے جو دستیاب وسائل اور ان کے دوبارہ بننے کی رفتار کے مطابق وہاں زندہ رہ سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30334926'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30334926"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق کے مطابق انسانوں نے ٹیکنالوجی اور خاص طور پر فوسل فیولز یعنی کوئلے اور تیل کے بے دریغ استعمال سے ان قدرتی حدود کو عارضی طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ آبادی سنبھالنے کی حد یا ’کیریئنگ کیپیسٹی‘ کی اصطلاح 1880 کی دہائی میں جہاز رانی کی صنعت سے نکلی تھی جب یہ حساب لگایا جاتا تھا کہ ایک بحری جہاز اپنے ایندھن اور عملے کی جگہ بچاتے ہوئے کتنا سامان لے جا سکتا ہے۔ اسی ایندھن کے استعمال نے بیسویں صدی میں انسانی آبادی کو تیزی سے بڑھنے کا موقع دیا لیکن حالیہ عالمی حالات اور ایندھن کی سپلائی میں آنے والے جھٹکوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ نظام کتنا کمزور ہے۔</p>
<p>اس وقت دنیا کی آبادی تقریبا 8 ارب 30 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین نے دو طرح کی حدود کا تعین کیا ہے جن میں سے ایک انتہائی حد ہے جہاں قحط اور بیماریوں کے باوجود بس انسانوں کا گزارا ہوتا رہے، جبکہ دوسری مثالی حد ہے جہاں ہر انسان کو بہترین معیار زندگی اور پائیدار وسائل میسر ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30424339'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30424339"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تحقیق کے مطابق زمین کے وسائل کے موجودہ استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں کے لیے مثالی آبادی صرف ڈھائی ارب ہونی چاہیے، جبکہ موجودہ آبادی اس سے تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔</p>
<p>پروفیسر بریڈ شا کا کہنا ہے کہ زمین اب اس بوجھ کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 1960 کی دہائی سے آبادی کے بڑھنے کی رفتار میں کچھ کمی تو آئی ہے لیکن مجموعی تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو2070 کی دہائی تک انسانی آبادی 12 ارب کے قریب پہنچ کر اپنی بلند ترین سطح کو چھو لے گی۔</p>
<p>یہ وہ آخری حد ہوگی جہاں زمین کے پاس دینے کے لیے مزید کچھ نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں پانی کی شدید قلت  اور جانوروں کی نسلوں کا تیزی سے ختم ہونا اسی بڑھتی ہوئی آبادی کا نتیجہ ہے کیونکہ انسان اور دیگر جاندار اب محدود وسائل کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440504'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440504"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ زمین پر پڑنے والے ماحولیاتی اثرات اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت صرف فی کس استعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانوں کی مجموعی تعداد کی وجہ سے ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر قومیں مل کر توانائی، زمین اور خوراک کے استعمال کے طریقوں میں بڑی تبدیلیاں لائیں تو اس تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انسانیت کو اب ایسے سماجی اور ثقافتی رویے اپنانے ہوں گے جو وسائل کو بچانے اور آبادی کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مستحکم اور محفوظ زمین پر سانس لے سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503200</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 14:22:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/07140827d4b6a26.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/07140827d4b6a26.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناسا کے نئے چاند مشن میں خلائی جہاز کا ٹوائلٹ سردرد بن گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503196/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناسا کا چاند مشن ’آرٹیمس 2‘ مشن جس کا مقصد خلانوردوں کو چاند کے قریب لے جانا ہے، اپنی روانگی کے بعد سے مجموعی طور پر درست سمت میں گامزن ہے لیکن اس سفر کے دوران عملے کو ایک عجیب اور مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اورین کیپسول میں نصب جدید ترین ٹوائلٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے خلانوردوں کے لیے خلا میں قیام دشوار ہونے لگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سسٹم جسے ’یونیورسل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی دن سے خرابی کا شکار ہونے لگا تھا جس نے ناسا کے ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشن کی ماہر کرسٹینا کوچ نے، جنہوں نے خود کو مزاحاً ”خلائی پلمبر“ کہا، زمینی مرکز کی مدد سے اسے ٹھیک کیا۔ معلوم ہوا کہ سسٹم کے پمپ کو چلانے کے لیے پانی کی جتنی مقدار چاہیے تھی وہ کم تھی، جسے پورا کرنے پر نظام دوبارہ چل پڑا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503182/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ سکون عارضی ثابت ہوا اور ٹوائلٹ نے دوسری مرتبہ گڑبڑ شروع کر دی۔ اس بار مسئلہ مائع فضلے کے نکاس کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے برعکس، جہاں پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے، اس مشن میں اضافی مائع کو وقتاً فوقتاً خلا میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران نالی کے منہ پر برف جم گئی جس نے نکاس کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا، جس کے نتیجے میں نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتِ حال اس وقت زیادہ سنگین ہو گئی جب ناسا نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ عارضی طور پر اس سہولت کا استعمال بند کر دیں کیونکہ جہاز کے اندر یورین ٹینک بہت چھوٹا ہے اور اس کے بھر جانے کا خطرہ تھا۔ اس دوران عملے کو ہنگامی حالات کے لیے بنے مخصوص تھیلوں پر گزارا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مشکل کو حل کرنے کے لیے خلائی مرکز کے انجنیئروں نے ایک دلچسپ طریقہ اپنایا۔ انہوں نے خلائی جہاز کی سمت کو اس طرح تبدیل کیا کہ بیت الخلا کے نکاس والے حصے پر سورج کی براہِ راست روشنی اور تپش پڑ سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503094/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503094"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سورج کی اس حرارت نے نالی میں جمی ہوئی برف کو پگھلا دیا جس سے رکاوٹ ختم ہو گئی۔ اس دوران مشن کی ماہر کرسٹینا کوچ نے ایک بار پھر ’خلائی پلمبر‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے زمینی مرکز کی ہدایات پر عمل کیا اور نظام کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر کار ناسا کی جانب سے یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ برف پگھلنے کے بعد یہ نظام مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے اور عملہ اب اسے بلا جھجھک استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے خلا کے طویل سفر میں اس طرح کی بنیادی سہولیات کا درست کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ انسانی ضروریات کا انتظام کیے بغیر چاند یا مریخ جیسے بڑے مشن مکمل کرنا ممکن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناسا کا چاند مشن ’آرٹیمس 2‘ مشن جس کا مقصد خلانوردوں کو چاند کے قریب لے جانا ہے، اپنی روانگی کے بعد سے مجموعی طور پر درست سمت میں گامزن ہے لیکن اس سفر کے دوران عملے کو ایک عجیب اور مشکل صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ اورین کیپسول میں نصب جدید ترین ٹوائلٹ نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے خلانوردوں کے لیے خلا میں قیام دشوار ہونے لگا۔</strong></p>
<p>یہ سسٹم جسے ’یونیورسل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم‘ کہا جاتا ہے، پہلے ہی دن سے خرابی کا شکار ہونے لگا تھا جس نے ناسا کے ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا۔</p>
<p>مشن کی ماہر کرسٹینا کوچ نے، جنہوں نے خود کو مزاحاً ”خلائی پلمبر“ کہا، زمینی مرکز کی مدد سے اسے ٹھیک کیا۔ معلوم ہوا کہ سسٹم کے پمپ کو چلانے کے لیے پانی کی جتنی مقدار چاہیے تھی وہ کم تھی، جسے پورا کرنے پر نظام دوبارہ چل پڑا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503182/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503182"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم یہ سکون عارضی ثابت ہوا اور ٹوائلٹ نے دوسری مرتبہ گڑبڑ شروع کر دی۔ اس بار مسئلہ مائع فضلے کے نکاس کا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے برعکس، جہاں پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے، اس مشن میں اضافی مائع کو وقتاً فوقتاً خلا میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران نالی کے منہ پر برف جم گئی جس نے نکاس کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا، جس کے نتیجے میں نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا۔</p>
<p>صورتِ حال اس وقت زیادہ سنگین ہو گئی جب ناسا نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ عارضی طور پر اس سہولت کا استعمال بند کر دیں کیونکہ جہاز کے اندر یورین ٹینک بہت چھوٹا ہے اور اس کے بھر جانے کا خطرہ تھا۔ اس دوران عملے کو ہنگامی حالات کے لیے بنے مخصوص تھیلوں پر گزارا کرنا پڑا۔</p>
<p>اس مشکل کو حل کرنے کے لیے خلائی مرکز کے انجنیئروں نے ایک دلچسپ طریقہ اپنایا۔ انہوں نے خلائی جہاز کی سمت کو اس طرح تبدیل کیا کہ بیت الخلا کے نکاس والے حصے پر سورج کی براہِ راست روشنی اور تپش پڑ سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503094/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503094"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سورج کی اس حرارت نے نالی میں جمی ہوئی برف کو پگھلا دیا جس سے رکاوٹ ختم ہو گئی۔ اس دوران مشن کی ماہر کرسٹینا کوچ نے ایک بار پھر ’خلائی پلمبر‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے زمینی مرکز کی ہدایات پر عمل کیا اور نظام کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد فراہم کی۔</p>
<p>آخر کار ناسا کی جانب سے یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ برف پگھلنے کے بعد یہ نظام مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے اور عملہ اب اسے بلا جھجھک استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے خلا کے طویل سفر میں اس طرح کی بنیادی سہولیات کا درست کام کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ انسانی ضروریات کا انتظام کیے بغیر چاند یا مریخ جیسے بڑے مشن مکمل کرنا ممکن نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503196</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 12:53:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/07124517f21cbf1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/07124517f21cbf1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی 20 سب سے بلند عمارتیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی سرزمین پر افق کو چھوتی بلند و بالا عمارتوں کا راج ہمیشہ سے ہی سیاحوں اور ماہرینِ تعمیرات کے لیے کشش کا باعث بنارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.skyscrapercenter.com/buildings"&gt;کونسل آن ورٹیکل اربن ازم &lt;/a&gt;(جو پہلے کونسل آن ٹال بلڈنگز اینڈ اربن ہیبیٹٹ کے نام سے جانی جاتی تھی) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر امریکا کی 20 بلند ترین عمارتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں نیویارک اور شکاگو کی اجارہ داری برقرار ہے، کیونکہ ملک کی 20 بلند ترین عمارتوں میں سے 14 انہی دو شہروں میں واقع ہیں، جو یہاں کی طویل تعمیراتی تاریخ اور جدید انجینئرنگ کی مثالیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپریل 2026 تک امریکہ کی 20 سب سے بلند عمارتوں کی درجہ بندی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;table&gt;
&lt;thead&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;th&gt;رینک&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;بلندی (فٹ)&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;شہر&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;عمارت کا نام&lt;/th&gt;
&lt;th&gt;مکمل ہونے کا سال&lt;/th&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/thead&gt;
&lt;tbody&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;1&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,776&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2014&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;2&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,550&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;سینٹرل پارک ٹاور&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2020&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;3&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,451&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;شکاگو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ولس ٹاور&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1974&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;4&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,428&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;111 ویسٹ 57 اسٹریٹ&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2021&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;5&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,401&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ون وینڈر بیلٹ ایونیو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2020&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;6&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,397&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;432 پارک ایونیو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2015&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;7&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,389&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;شکاگو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2009&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;8&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,388&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;جے پی مورگن چیس ورلڈ ہیڈکوارٹر&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2025&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;9&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,270&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;30 ہڈسن یارڈز&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2019&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;10&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,250&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1931&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;11&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,200&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;بینک آف امریکہ ٹاور&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2009&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;12&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,191&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;شکاگو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;دی سینٹ ریجس شکاگو 1,191 2020&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2020&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;13&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,136&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;شکاگو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ایون سینٹر&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1973&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;14&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,128&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;شکاگو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;875 نارتھ مشی گن ایونیو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1969&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;15&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,112&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;فلاڈیلفیا&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;کامکاسٹ ٹیکنالوجی سینٹر&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2018&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;16&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,100&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;لاس اینجلس&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;ولشائر گرینڈ سینٹر&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2017&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;17&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,079&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;3 ورلڈ ٹریڈ سینٹر&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2018&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;18&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,070&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;سان فرانسسکو&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;سیلز فورس ٹاور&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2018&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;19&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,050&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;53 ویسٹ 53&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;2019&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;tr&gt;
&lt;td&gt;20&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1,046&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;نیویارک&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;کرائسلر بلڈنگ&lt;/td&gt;
&lt;td&gt;1930&lt;/td&gt;
&lt;/tr&gt;
&lt;/tbody&gt;
&lt;/table&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے تازہ ترین حقائق اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک میں 2014 میں مکمل ہونے والی ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر (1,776 فٹ) نے امریکی اسکائی لائن پر راج قائم کر رکھا ہے۔&lt;br&gt;دوسرے نمبر پر نیویارک ہی کی ’سینٹرل پارک ٹاور‘ ہے جس کی بلندی 1,550 فٹ ہے۔ سینٹرل پارک ٹاور (1,550 فٹ) اور دیگر کئی سپر ٹال عمارتیں زیادہ تر مین ہٹن میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکاگو نے ابتدائی اسکائی سکریپر کے دور میں نمایاں کردار ادا کیا، اور یہاں اب بھی مشہور عمارتیں جیسے ولس ٹاور (1,451 فٹ) اور ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور (1,389 فٹ) موجود ہیں، لیکن نیویارک اب بلندی اور کثافت دونوں میں آگے ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502752/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502752"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی بلند ترین عمارتوں کا سفر دلچسپ ہے۔ 1930 میں کرائسلر بلڈنگ (1,046 فٹ) دنیا کی سب سے بلند عمارت بنی، لیکن صرف ایک سال بعد ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ (1,250 فٹ) نے بلند عمارت کا اعزاز لے لیا، جو تقریباً 40 سال تک برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکاگو کا سیئرز ٹاور جسے بعد میں ولس ٹاور کا نام دیا گیا 1974 میں سب سے بلند عمارت بن گیا۔ 2014 میں ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے یہ اعزاز حاصل کیا۔&lt;br&gt;صرف نیویارک اور شکاگو ہی نہیں بلکہ چند دیگر شہر بھی ٹاپ 20 میں شامل ہیں، جیسے فلاڈیلفیا کا کامکاسٹ ٹیکنالوجی سینٹر، لاس اینجلس کا ولشائر گرینڈ سینٹر اور سان فرانسسکو کا سیلز فورس ٹاور۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسکائی اسکریپر کی تعمیر دیگر شہروں تک پھیلی ہے، لیکن امریکا کی سب سے شاندار عمارتیں اب بھی تاریخی شہروں میں مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 میں مکمل ہونے والا 1,388 فٹ بلند جے پی مورگن چیس ورلڈ ہیڈ کوارٹر کی طرح نئی عمارتیں بھی اسکائی لائن کو بدل رہی ہیں، لیکن مغربی ساحل کی نئی بلند عمارتیں اب بھی کچھ پرانی مشرقی اور وسطی شہروں کی عمارتوں سے چھوٹی ہیں، جو امریکا کے اسکائی اسکریپر شہروں کی دیرپا میراث کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی سرزمین پر افق کو چھوتی بلند و بالا عمارتوں کا راج ہمیشہ سے ہی سیاحوں اور ماہرینِ تعمیرات کے لیے کشش کا باعث بنارہا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.skyscrapercenter.com/buildings">کونسل آن ورٹیکل اربن ازم </a>(جو پہلے کونسل آن ٹال بلڈنگز اینڈ اربن ہیبیٹٹ کے نام سے جانی جاتی تھی) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر امریکا کی 20 بلند ترین عمارتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے، جس میں نیویارک اور شکاگو کی اجارہ داری برقرار ہے، کیونکہ ملک کی 20 بلند ترین عمارتوں میں سے 14 انہی دو شہروں میں واقع ہیں، جو یہاں کی طویل تعمیراتی تاریخ اور جدید انجینئرنگ کی مثالیں ہیں۔</p>
<p><strong>اپریل 2026 تک امریکہ کی 20 سب سے بلند عمارتوں کی درجہ بندی</strong></p>
<table>
<thead>
<tr>
<th>رینک</th>
<th>بلندی (فٹ)</th>
<th>شہر</th>
<th>عمارت کا نام</th>
<th>مکمل ہونے کا سال</th>
</tr>
</thead>
<tbody>
<tr>
<td>1</td>
<td>1,776</td>
<td>نیویارک</td>
<td>ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر</td>
<td>2014</td>
</tr>
<tr>
<td>2</td>
<td>1,550</td>
<td>نیویارک</td>
<td>سینٹرل پارک ٹاور</td>
<td>2020</td>
</tr>
<tr>
<td>3</td>
<td>1,451</td>
<td>شکاگو</td>
<td>ولس ٹاور</td>
<td>1974</td>
</tr>
<tr>
<td>4</td>
<td>1,428</td>
<td>نیویارک</td>
<td>111 ویسٹ 57 اسٹریٹ</td>
<td>2021</td>
</tr>
<tr>
<td>5</td>
<td>1,401</td>
<td>نیویارک</td>
<td>ون وینڈر بیلٹ ایونیو</td>
<td>2020</td>
</tr>
<tr>
<td>6</td>
<td>1,397</td>
<td>نیویارک</td>
<td>432 پارک ایونیو</td>
<td>2015</td>
</tr>
<tr>
<td>7</td>
<td>1,389</td>
<td>شکاگو</td>
<td>ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور</td>
<td>2009</td>
</tr>
<tr>
<td>8</td>
<td>1,388</td>
<td>نیویارک</td>
<td>جے پی مورگن چیس ورلڈ ہیڈکوارٹر</td>
<td>2025</td>
</tr>
<tr>
<td>9</td>
<td>1,270</td>
<td>نیویارک</td>
<td>30 ہڈسن یارڈز</td>
<td>2019</td>
</tr>
<tr>
<td>10</td>
<td>1,250</td>
<td>نیویارک</td>
<td>ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ</td>
<td>1931</td>
</tr>
<tr>
<td>11</td>
<td>1,200</td>
<td>نیویارک</td>
<td>بینک آف امریکہ ٹاور</td>
<td>2009</td>
</tr>
<tr>
<td>12</td>
<td>1,191</td>
<td>شکاگو</td>
<td>دی سینٹ ریجس شکاگو 1,191 2020</td>
<td>2020</td>
</tr>
<tr>
<td>13</td>
<td>1,136</td>
<td>شکاگو</td>
<td>ایون سینٹر</td>
<td>1973</td>
</tr>
<tr>
<td>14</td>
<td>1,128</td>
<td>شکاگو</td>
<td>875 نارتھ مشی گن ایونیو</td>
<td>1969</td>
</tr>
<tr>
<td>15</td>
<td>1,112</td>
<td>فلاڈیلفیا</td>
<td>کامکاسٹ ٹیکنالوجی سینٹر</td>
<td>2018</td>
</tr>
<tr>
<td>16</td>
<td>1,100</td>
<td>لاس اینجلس</td>
<td>ولشائر گرینڈ سینٹر</td>
<td>2017</td>
</tr>
<tr>
<td>17</td>
<td>1,079</td>
<td>نیویارک</td>
<td>3 ورلڈ ٹریڈ سینٹر</td>
<td>2018</td>
</tr>
<tr>
<td>18</td>
<td>1,070</td>
<td>سان فرانسسکو</td>
<td>سیلز فورس ٹاور</td>
<td>2018</td>
</tr>
<tr>
<td>19</td>
<td>1,050</td>
<td>نیویارک</td>
<td>53 ویسٹ 53</td>
<td>2019</td>
</tr>
<tr>
<td>20</td>
<td>1,046</td>
<td>نیویارک</td>
<td>کرائسلر بلڈنگ</td>
<td>1930</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<p>اس حوالے سے تازہ ترین حقائق اور اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔</p>
<p>نیویارک میں 2014 میں مکمل ہونے والی ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر (1,776 فٹ) نے امریکی اسکائی لائن پر راج قائم کر رکھا ہے۔<br>دوسرے نمبر پر نیویارک ہی کی ’سینٹرل پارک ٹاور‘ ہے جس کی بلندی 1,550 فٹ ہے۔ سینٹرل پارک ٹاور (1,550 فٹ) اور دیگر کئی سپر ٹال عمارتیں زیادہ تر مین ہٹن میں واقع ہیں۔</p>
<p>شکاگو نے ابتدائی اسکائی سکریپر کے دور میں نمایاں کردار ادا کیا، اور یہاں اب بھی مشہور عمارتیں جیسے ولس ٹاور (1,451 فٹ) اور ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اینڈ ٹاور (1,389 فٹ) موجود ہیں، لیکن نیویارک اب بلندی اور کثافت دونوں میں آگے ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502752/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502752"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکا کی بلند ترین عمارتوں کا سفر دلچسپ ہے۔ 1930 میں کرائسلر بلڈنگ (1,046 فٹ) دنیا کی سب سے بلند عمارت بنی، لیکن صرف ایک سال بعد ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ (1,250 فٹ) نے بلند عمارت کا اعزاز لے لیا، جو تقریباً 40 سال تک برقرار رہا۔</p>
<p>شکاگو کا سیئرز ٹاور جسے بعد میں ولس ٹاور کا نام دیا گیا 1974 میں سب سے بلند عمارت بن گیا۔ 2014 میں ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے یہ اعزاز حاصل کیا۔<br>صرف نیویارک اور شکاگو ہی نہیں بلکہ چند دیگر شہر بھی ٹاپ 20 میں شامل ہیں، جیسے فلاڈیلفیا کا کامکاسٹ ٹیکنالوجی سینٹر، لاس اینجلس کا ولشائر گرینڈ سینٹر اور سان فرانسسکو کا سیلز فورس ٹاور۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسکائی اسکریپر کی تعمیر دیگر شہروں تک پھیلی ہے، لیکن امریکا کی سب سے شاندار عمارتیں اب بھی تاریخی شہروں میں مرکوز ہیں۔</p>
<p>2025 میں مکمل ہونے والا 1,388 فٹ بلند جے پی مورگن چیس ورلڈ ہیڈ کوارٹر کی طرح نئی عمارتیں بھی اسکائی لائن کو بدل رہی ہیں، لیکن مغربی ساحل کی نئی بلند عمارتیں اب بھی کچھ پرانی مشرقی اور وسطی شہروں کی عمارتوں سے چھوٹی ہیں، جو امریکا کے اسکائی اسکریپر شہروں کی دیرپا میراث کو ظاہر کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503195</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 14:39:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/07124812b8457fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="481" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/07124812b8457fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈر یا جوش میں انسانوں کے رونگٹے کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503188/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہم سب نے زندگی میں کبھی نہ کبھی محسوس کیا ہے کہ کسی ڈراؤنی فلم کو دیکھتے ہوئے، سردی لگنے پر یا کسی جذباتی گانے کو سنتے وقت اچانک ہماری جلد پر چھوٹے چھوٹے ابھاربن جاتے ہیں اور بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسے عام زبان میں ’رونگٹے کھڑے ہونا‘  کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس کی ایک دلچسپ حقیقت ہے جو ہمارے جسم کے ارتقائی ماضی سے جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈر، جوش یا شدید جذبات میں رونگٹے کھڑے ہونا ایک فطری ردعمل ہے جو ہارمونز اور پٹھوں کی مدد سے پیدا ہوتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسان کی جلد کے نیچے ہر بال کی جڑ کے پاس ایک چھوٹا عضلہ یا پٹھا موجود ہوتا ہے جسے ایریکٹر پائیلی کہتے ہیں۔ جب ہم ڈر یا جوش کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ کا ایمگڈالا حصہ فوری طور پر ہارمون ایڈرینالین خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون پٹھوں کو سکڑنے پر مجبور کر دیتا ہے، جس سے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور جلد پر چھوٹے چھوٹے ٹیبوں کی طرح رونگٹے ابھر آتے ہیں۔ یہ ردعمل پیلوایریکشن کہلاتا ہے اور چند سیکنڈز میں ختم ہو جاتا ہے ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30470724'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30470724"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سردی میں بھی یہی عمل ہوتا ہے، جہاں جسم بالوں کو کھڑا کرکے گرم ہوا کی تہہ بناتا ہے، لیکن انسانوں میں بالوں کی کمی کی وجہ سے اب یہ زیادہ کارآمد نہیں رہا۔ البتہ جذبات میں یہ دماغ کی لمیبک سسٹم کی وجہ سے متحرک ہوتا ہے، جو خوشی، غم یا حیرت جیسے احساسات کو کنٹرول کرتی ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ موجودہ دور میں انسانوں کے لیے یہ عمل زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا، تاہم ہمارے قدیم اجداد اور دیگر ممالیہ جانوروں کے لیے اس کے دو نہایت اہم مقاصد تھے۔ پہلا مقصد سردی سے بچاؤ اور گرمی کا حصول تھا۔ جب جانوروں کے بال کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان ہوا کی ایک مخصوص تہہ بن جاتی ہے جو سردی کے خلاف ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ انسانوں کے جسمانی بال اب اتنے گھنے نہیں رہے، اس لیے ہمیں اب اس سے گرمی محسوس نہیں ہوتی۔ آج یہ صرف ایک فوسل ری ایکشن ہے جو موسیقی، فلموں یا جذباتی تقریر سنتے وقت رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/154871'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/154871"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسرا اہم مقصد دشمن کو ڈرانا یا خود کو بڑا دکھانا تھا، جیسے بلی یا دیگر جانور خطرے کے وقت اپنے بال کھڑے کر لیتے ہیں تاکہ وہ جسامت میں بڑے اور خوفناک نظر آئیں، بالکل اسی طرح قدیم انسانوں میں بھی یہ دفاعی نظام موجود تھا جو انہیں کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف مستعد دکھاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ شدید موسیقی سننے پر دماغ کا نوڈیسٹری ایٹ علاقہ متحرک ہوتا ہے، جو رونگٹوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جوش اور ڈر دونوں ایک ہی سائنسی راستے سے جسم کو متاثر کرتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30438771/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438771"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈر کی صورت میں جسم فائٹ یا فلائٹ موڈ میں چلا جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور رونگٹے دفاعی تیاری کا اشارہ ہیں، جبکہ جوش میں گانے یا محبت کے لمحات میں دماغ ڈوپامائن خارج کرتا ہے، جو خوشی کا باعث بنتا ہے اور رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسان لفظوں میں، رونگٹے کھڑے ہونا ہمارے جسم کا ایک ایسا ’قدیم پروگرام‘ ہے جو اس وقت لکھا گیا تھا جب انسان کے جسم پر گھنے بال تھے اور اسے جنگل میں ہر وقت شکاریوں کا سامنا رہتا تھا۔ آج یہ صرف ایک حیرت انگیز جسمانی یادگار کے طور پر باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ردعمل نارمل ہے، البتہ بار بار ہونے پر تناؤ یا ہارمونل مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ سائنسی راز بتاتا ہے کہ ہمارا جسم اب بھی پرانے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہم سب نے زندگی میں کبھی نہ کبھی محسوس کیا ہے کہ کسی ڈراؤنی فلم کو دیکھتے ہوئے، سردی لگنے پر یا کسی جذباتی گانے کو سنتے وقت اچانک ہماری جلد پر چھوٹے چھوٹے ابھاربن جاتے ہیں اور بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسے عام زبان میں ’رونگٹے کھڑے ہونا‘  کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟</strong></p>
<p>سائنس کی ایک دلچسپ حقیقت ہے جو ہمارے جسم کے ارتقائی ماضی سے جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈر، جوش یا شدید جذبات میں رونگٹے کھڑے ہونا ایک فطری ردعمل ہے جو ہارمونز اور پٹھوں کی مدد سے پیدا ہوتا ہے ۔</p>
<p>انسان کی جلد کے نیچے ہر بال کی جڑ کے پاس ایک چھوٹا عضلہ یا پٹھا موجود ہوتا ہے جسے ایریکٹر پائیلی کہتے ہیں۔ جب ہم ڈر یا جوش کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ کا ایمگڈالا حصہ فوری طور پر ہارمون ایڈرینالین خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون پٹھوں کو سکڑنے پر مجبور کر دیتا ہے، جس سے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور جلد پر چھوٹے چھوٹے ٹیبوں کی طرح رونگٹے ابھر آتے ہیں۔ یہ ردعمل پیلوایریکشن کہلاتا ہے اور چند سیکنڈز میں ختم ہو جاتا ہے ۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30470724'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30470724"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سردی میں بھی یہی عمل ہوتا ہے، جہاں جسم بالوں کو کھڑا کرکے گرم ہوا کی تہہ بناتا ہے، لیکن انسانوں میں بالوں کی کمی کی وجہ سے اب یہ زیادہ کارآمد نہیں رہا۔ البتہ جذبات میں یہ دماغ کی لمیبک سسٹم کی وجہ سے متحرک ہوتا ہے، جو خوشی، غم یا حیرت جیسے احساسات کو کنٹرول کرتی ہے ۔</p>
<p>اگرچہ موجودہ دور میں انسانوں کے لیے یہ عمل زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا، تاہم ہمارے قدیم اجداد اور دیگر ممالیہ جانوروں کے لیے اس کے دو نہایت اہم مقاصد تھے۔ پہلا مقصد سردی سے بچاؤ اور گرمی کا حصول تھا۔ جب جانوروں کے بال کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان ہوا کی ایک مخصوص تہہ بن جاتی ہے جو سردی کے خلاف ایک قدرتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔</p>
<p>چونکہ انسانوں کے جسمانی بال اب اتنے گھنے نہیں رہے، اس لیے ہمیں اب اس سے گرمی محسوس نہیں ہوتی۔ آج یہ صرف ایک فوسل ری ایکشن ہے جو موسیقی، فلموں یا جذباتی تقریر سنتے وقت رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/154871'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/154871"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسرا اہم مقصد دشمن کو ڈرانا یا خود کو بڑا دکھانا تھا، جیسے بلی یا دیگر جانور خطرے کے وقت اپنے بال کھڑے کر لیتے ہیں تاکہ وہ جسامت میں بڑے اور خوفناک نظر آئیں، بالکل اسی طرح قدیم انسانوں میں بھی یہ دفاعی نظام موجود تھا جو انہیں کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف مستعد دکھاتا تھا۔</p>
<p>حال ہی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ شدید موسیقی سننے پر دماغ کا نوڈیسٹری ایٹ علاقہ متحرک ہوتا ہے، جو رونگٹوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جوش اور ڈر دونوں ایک ہی سائنسی راستے سے جسم کو متاثر کرتے ہیں ۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30438771/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30438771"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈر کی صورت میں جسم فائٹ یا فلائٹ موڈ میں چلا جاتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور رونگٹے دفاعی تیاری کا اشارہ ہیں، جبکہ جوش میں گانے یا محبت کے لمحات میں دماغ ڈوپامائن خارج کرتا ہے، جو خوشی کا باعث بنتا ہے اور رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے ۔</p>
<p>آسان لفظوں میں، رونگٹے کھڑے ہونا ہمارے جسم کا ایک ایسا ’قدیم پروگرام‘ ہے جو اس وقت لکھا گیا تھا جب انسان کے جسم پر گھنے بال تھے اور اسے جنگل میں ہر وقت شکاریوں کا سامنا رہتا تھا۔ آج یہ صرف ایک حیرت انگیز جسمانی یادگار کے طور پر باقی ہے۔</p>
<p>یہ ردعمل نارمل ہے، البتہ بار بار ہونے پر تناؤ یا ہارمونل مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ سائنسی راز بتاتا ہے کہ ہمارا جسم اب بھی پرانے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503188</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 11:46:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/07114351aa7ddc3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/07114351aa7ddc3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پریس کانفرنس کے دوران عجیب آواز: امریکی وزیرِ دفاع مذاق کا نشانہ بن گئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503175/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک عجیب و غریب بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ 6 اپریل 2026 کو کی گئی ان کی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیو ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین اس ویڈیو کلپ کو تیزی سے شیئر کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دورانِ تقریر ایک ایسی آواز سنائی دی جو بظاہر ’ریح خارج‘ ہونے کی معلوم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹ ہیگسیتھ کی اس ویڈیو کو کینیا میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی شیئر کیا اور ساتھ میں طنزیہ لکھا: ”آبنائے کھل گئی“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2041245853038281077'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2041245853038281077"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فی الحال یہ واضح نہیں کہ پیٹ ہیگسیتھ کی وائرل ہونے والی ویڈیو اصلی ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس واقعے نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور لوگ اسے مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وزیرِ دفاع امریکی حکومت کے عسکری موقف اور ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر بات کرنے کے لیے پوڈیم پر آئے تو اسی دوران ایک ناگوار آواز سنائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے اس مخصوص حصے کو کاٹ کر اسے مزاحیہ ویڈیوز اور میمز کی شکل دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ’ایکس‘ صارف نے طنزیہ لکھا کہ ”ہیگستھ نے آبنائے ہرمز پر ایسی شدید بمباری کی کہ اسے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ElysiusThor/status/2041288455750127796?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ElysiusThor/status/2041288455750127796?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سوشل میڈیا صارف نے ایران کے حسِ مزاح کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی ہونے کو باوجود وہ ایران کی حسِ مزاح سے لطف اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/cat17777777/status/2041326727310274726?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cat17777777/status/2041326727310274726?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ایکس صارف نے لکھا: کیا ایران نے اپنے بہترین سوشل میڈیا ماہرین مختلف سفارت خانوں میں تعینات کیے ہیں یا پھر تمام سفارت خانوں کا عملہ ہی پوسٹنگ کرنے میں بہت ماہر ہے؟“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SteTimz/status/2041364867957825960?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SteTimz/status/2041364867957825960?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جہاں ایک طرف حکومت کے مخالفین اس موقع کو انتظامیہ کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بہت سے لوگ اسے محض ایک انسانی تقاضا یا مائیکروفون کی خرابی (آڈیو گلچ) قرار دے کر نظر انداز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور وزیرِ دفاع ایران پر حملوں اور امریکی پائلٹس کی بحالی جیسے انتہائی حساس موضوعات پر بریفنگ دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سنجیدہ ماحول میں اس طرح کی ایک غیر متوقع آواز کے وائرل ہونے نے صارفین کو ایک طرف تو ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے اور دوسری طرف سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث شروع کر دی ہے کہ آیا اس طرح کے چھوٹے واقعات کو اتنی اہمیت دینی چاہیے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس وائرل ویڈیو پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک عجیب و غریب بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ 6 اپریل 2026 کو کی گئی ان کی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران وائرل ہونے والی ویڈیو ہے۔</strong></p>
<p>انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین اس ویڈیو کلپ کو تیزی سے شیئر کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دورانِ تقریر ایک ایسی آواز سنائی دی جو بظاہر ’ریح خارج‘ ہونے کی معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>پیٹ ہیگسیتھ کی اس ویڈیو کو کینیا میں موجود ایرانی سفارت خانے نے بھی شیئر کیا اور ساتھ میں طنزیہ لکھا: ”آبنائے کھل گئی“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2041245853038281077'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2041245853038281077"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فی الحال یہ واضح نہیں کہ پیٹ ہیگسیتھ کی وائرل ہونے والی ویڈیو اصلی ہے یا اس میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔</p>
<p>تاہم، اس واقعے نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور لوگ اسے مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>اس وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وزیرِ دفاع امریکی حکومت کے عسکری موقف اور ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر بات کرنے کے لیے پوڈیم پر آئے تو اسی دوران ایک ناگوار آواز سنائی دیتی ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے اس مخصوص حصے کو کاٹ کر اسے مزاحیہ ویڈیوز اور میمز کی شکل دے دی ہے۔</p>
<p>ایک ’ایکس‘ صارف نے طنزیہ لکھا کہ ”ہیگستھ نے آبنائے ہرمز پر ایسی شدید بمباری کی کہ اسے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ElysiusThor/status/2041288455750127796?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ElysiusThor/status/2041288455750127796?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک سوشل میڈیا صارف نے ایران کے حسِ مزاح کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی ہونے کو باوجود وہ ایران کی حسِ مزاح سے لطف اٹھاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/cat17777777/status/2041326727310274726?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cat17777777/status/2041326727310274726?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور ایکس صارف نے لکھا: کیا ایران نے اپنے بہترین سوشل میڈیا ماہرین مختلف سفارت خانوں میں تعینات کیے ہیں یا پھر تمام سفارت خانوں کا عملہ ہی پوسٹنگ کرنے میں بہت ماہر ہے؟“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SteTimz/status/2041364867957825960?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SteTimz/status/2041364867957825960?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جہاں ایک طرف حکومت کے مخالفین اس موقع کو انتظامیہ کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بہت سے لوگ اسے محض ایک انسانی تقاضا یا مائیکروفون کی خرابی (آڈیو گلچ) قرار دے کر نظر انداز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب خطے میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور وزیرِ دفاع ایران پر حملوں اور امریکی پائلٹس کی بحالی جیسے انتہائی حساس موضوعات پر بریفنگ دے رہے تھے۔</p>
<p>اس سنجیدہ ماحول میں اس طرح کی ایک غیر متوقع آواز کے وائرل ہونے نے صارفین کو ایک طرف تو ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے اور دوسری طرف سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث شروع کر دی ہے کہ آیا اس طرح کے چھوٹے واقعات کو اتنی اہمیت دینی چاہیے یا نہیں۔</p>
<p>فی الحال امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس وائرل ویڈیو پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503175</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 09:13:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/070911367a73724.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/070911367a73724.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیلکولیٹر پر AC اور CE کے بٹن کس کام آتے ہیں ؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503126/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہماری روزمرہ زندگی میں حساب کتاب کے لیے کیلکولیٹر اہم حصہ بن چکا ہے۔ چاہے اسکول ہو، دفتر یا کاروبار، لوگ تیز اور درست حساب کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر صارفین جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم جیسے بنیادی بٹن ہی استعمال کرتے ہیں، لیکن کیلکولیٹر میں کچھ ایسے بٹن بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں زیادہ تر لوگ لاعلم ہوتے ہیں، خاص طور پر AC اور CE بٹن۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30452149/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30452149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;AC بٹن کیا کرتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ’AC‘ کا مطلب صرف کیلکولیٹر کو آن کرنا ہے، لیکن تکنیکی طور پر یہ All Clear کا مخفف ہے۔ یہ بٹن اس وقت استعمال ہوتا ہے جب آپ کیلکولیٹر پر موجود تمام حساب کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی آپ AC دبائیں گے، تمام نمبرز اور آپریشنز مٹ جائیں گے۔ کیلکولیٹر دوبارہ صفر (0) پر آ جائے گا۔ اب آپ نیا حساب شروع کر سکتے ہیں&lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;strong&gt;CE بٹن کس کام آتا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکثر لوگ ایک لمبا حساب کرتے ہوئے آخری نمبر غلط ٹائپ کر دیتے ہیں اور پھر پورا حساب مٹا کر شروع سے شروع کرتے ہیں۔ یہیں ’CE‘ یعنی ’Clear Entry‘ کا جادو کام آتا ہے۔ یہ بٹن صرف آخری درج کیے گئے نمبر کو حذف کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ سے کوئی نمبر غلطی سے ٹائپ ہو جائے تو CE دبائیں اس سے صرف وہی نمبر ختم ہوگا، باقی حساب محفوظ رہے گا، آپ کو پورا حساب دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499658'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آج کل موبائل فونز میں بھی کیلکولیٹر موجود ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر موبائل ایپس میں AC اور CE بٹن الگ سے نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے استعمال سے واقف نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسمارٹ فونز کے کیلکولیٹر میں اکثر یہ دونوں بٹن نظر نہیں آتے۔ وہاں عام طور پر ’C‘ کا بٹن ہوتا ہے جو ایک بار دبانے پر ’CE‘ (آخری انٹری مٹانا) اور دو بار دبانے پر ’AC‘ (سب کچھ مٹانا) کا کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیلکولیٹر کے یہ چھوٹے بٹن دراصل بہت کارآمد ہیں اور حساب کو آسان بناتے ہیں۔ اگر ان کا درست استعمال سیکھ لیا جائے تو وقت بھی بچتا ہے اور غلطیوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ان کے اصل مقصد سے ناواقف ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہماری روزمرہ زندگی میں حساب کتاب کے لیے کیلکولیٹر اہم حصہ بن چکا ہے۔ چاہے اسکول ہو، دفتر یا کاروبار، لوگ تیز اور درست حساب کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>عام طور پر صارفین جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم جیسے بنیادی بٹن ہی استعمال کرتے ہیں، لیکن کیلکولیٹر میں کچھ ایسے بٹن بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں زیادہ تر لوگ لاعلم ہوتے ہیں، خاص طور پر AC اور CE بٹن۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30452149/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30452149"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>AC بٹن کیا کرتا ہے؟</strong></p>
<p>عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ’AC‘ کا مطلب صرف کیلکولیٹر کو آن کرنا ہے، لیکن تکنیکی طور پر یہ All Clear کا مخفف ہے۔ یہ بٹن اس وقت استعمال ہوتا ہے جب آپ کیلکولیٹر پر موجود تمام حساب کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>جیسے ہی آپ AC دبائیں گے، تمام نمبرز اور آپریشنز مٹ جائیں گے۔ کیلکولیٹر دوبارہ صفر (0) پر آ جائے گا۔ اب آپ نیا حساب شروع کر سکتے ہیں<br><br><strong>CE بٹن کس کام آتا ہے؟</strong></p>
<p>اکثر لوگ ایک لمبا حساب کرتے ہوئے آخری نمبر غلط ٹائپ کر دیتے ہیں اور پھر پورا حساب مٹا کر شروع سے شروع کرتے ہیں۔ یہیں ’CE‘ یعنی ’Clear Entry‘ کا جادو کام آتا ہے۔ یہ بٹن صرف آخری درج کیے گئے نمبر کو حذف کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>اگر آپ سے کوئی نمبر غلطی سے ٹائپ ہو جائے تو CE دبائیں اس سے صرف وہی نمبر ختم ہوگا، باقی حساب محفوظ رہے گا، آپ کو پورا حساب دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499658'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499658"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آج کل موبائل فونز میں بھی کیلکولیٹر موجود ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر موبائل ایپس میں AC اور CE بٹن الگ سے نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے استعمال سے واقف نہیں ہوتے۔</p>
<p>اسمارٹ فونز کے کیلکولیٹر میں اکثر یہ دونوں بٹن نظر نہیں آتے۔ وہاں عام طور پر ’C‘ کا بٹن ہوتا ہے جو ایک بار دبانے پر ’CE‘ (آخری انٹری مٹانا) اور دو بار دبانے پر ’AC‘ (سب کچھ مٹانا) کا کام کرتا ہے۔</p>
<p>کیلکولیٹر کے یہ چھوٹے بٹن دراصل بہت کارآمد ہیں اور حساب کو آسان بناتے ہیں۔ اگر ان کا درست استعمال سیکھ لیا جائے تو وقت بھی بچتا ہے اور غلطیوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ان کے اصل مقصد سے ناواقف ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503126</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 14:59:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/05145749768edd2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/05145749768edd2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کوک میں تیرتی مونگ پھلی‘: یہ انوکھی ڈرنک کیا ہے اور کیوں مقبول ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503114/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ نے کبھی ٹھنڈی کوک کی بوتل میں نمکین مونگ پھلی ڈال کر پینے کا سوچا ہے؟ سننے میں یہ کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انٹرنیٹ پرایک عجیب لیکن مزیدار کمبو ’فارمرز کوک‘  کے نام سے تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو بھی اسے ایک بار چکھتا ہے، وہ اس کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سنہری نسخہ کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ امریکی ریاستوں کے کسانوں اور محںت کشوں کا 1900 کی دہائی کا ایک کلاسک نسخہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لوگ جب کھیتوں میں مصروف ہوتے تو کام کے دوران ہاتھ گندے ہونے کی وجہ سے اسنیکس نہیں کھا پاتے تھے اور نمکین بھنی ہوئی مونگ پھلی کوک کی بوتل میں ڈال دیتے تھے تاکہ ایک ہی وقت میں مشروب اور اسنیک دونوں کا مزہ لے سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502845/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یعنی صرف ایک ٹھنڈی بوتل کوکا کولا لیں، اس میں تھوڑی سی نمکین بھنی ہوئی مونگ پھلی ڈالیں، ہلائیں نہیں، اور سیدھا بوتل سے پی لیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف آکاش گپتا نے وضاحت کی کہ یہ امتزاج اتنا خوش ذائقہ کیوں لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوکا کولا کی تیزابیت جب مونگ پھلی کی بیرونی تہہ کو توڑتی ہے، جس سے ’گلوٹامیٹ‘ نکلتا ہےجس سے ایک خاص نمکین و لذیذ ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔ مونگ پھلی کا نمکین ذائقہ کولا کی تلخی کو کم کردیتا ہے، جس سے کوکا اور بھی میٹھی محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/aakashgupta/status/2039961148079079463?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2039961148079079463%7Ctwgr%5E09ba012b8d6ff5970d1c717487cc6736dc30e0da%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Ffood.ndtv.com%2Ffood-drinks%2Fpeanuts-in-coke-from-the-1900s-is-going-viral-heres-why-the-combination-works-11309092'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/aakashgupta/status/2039961148079079463?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2039961148079079463%7Ctwgr%5E09ba012b8d6ff5970d1c717487cc6736dc30e0da%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Ffood.ndtv.com%2Ffood-drinks%2Fpeanuts-in-coke-from-the-1900s-is-going-viral-heres-why-the-combination-works-11309092"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ  کوک  کی ببلز ذائقہ کے ریسیپٹرز کو متحرک کرتی ہیں اور مونگ پھلی کی چکنائی دماغ کو خوشی کے سگنلزبھیجتی ہے۔ نتیجتاً، ہر گھونٹ میں میٹھا، نمکین فززی سب کچھ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے بار بار پینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ صارفین نے اس کمبو پر متضاد رائے دی۔ کچھ نے اسے مزیدار اور منفرد قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے عجیب اور ہلکا سا غیر روایتی کہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502823/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے اپنی جگہ کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سورج مکھی کے بیج کے ساتھ بھی یہ کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ نے مذاق میں کہا، ”لیمن تو ٹھیک، لیکن مونگ پھلی؟ کبھی نہیں!“ لیکن زیادہ تر لوگوں نے تسلیم کیا کہ یہ میٹھا، نمکین، کرنچی اور فززی سب ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے واقعی لاجواب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ ذائقے میں بہترین ہے لیکن طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شوگر اور نمک کی زیادتی کی وجہ سے اسے کبھی کبھار ہی بطورِ تفریح استعمال کرنا چاہیے، خاص طور پر وہ لوگ جنہیں مونگ پھلی سے الرجی ہو، وہ اس سے دور رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بھی کسی نئی اور منفرد چیز کے شوقین ہیں، تو شاید یہ ’فارمرز کوک‘ آپ کا اگلا پسندیدہ مشروب بن جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ نے کبھی ٹھنڈی کوک کی بوتل میں نمکین مونگ پھلی ڈال کر پینے کا سوچا ہے؟ سننے میں یہ کچھ عجیب سا لگتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انٹرنیٹ پرایک عجیب لیکن مزیدار کمبو ’فارمرز کوک‘  کے نام سے تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو بھی اسے ایک بار چکھتا ہے، وہ اس کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ سنہری نسخہ کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ امریکی ریاستوں کے کسانوں اور محںت کشوں کا 1900 کی دہائی کا ایک کلاسک نسخہ ہے۔</p>
<p>وہ لوگ جب کھیتوں میں مصروف ہوتے تو کام کے دوران ہاتھ گندے ہونے کی وجہ سے اسنیکس نہیں کھا پاتے تھے اور نمکین بھنی ہوئی مونگ پھلی کوک کی بوتل میں ڈال دیتے تھے تاکہ ایک ہی وقت میں مشروب اور اسنیک دونوں کا مزہ لے سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502845/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یعنی صرف ایک ٹھنڈی بوتل کوکا کولا لیں، اس میں تھوڑی سی نمکین بھنی ہوئی مونگ پھلی ڈالیں، ہلائیں نہیں، اور سیدھا بوتل سے پی لیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف آکاش گپتا نے وضاحت کی کہ یہ امتزاج اتنا خوش ذائقہ کیوں لگتا ہے۔</p>
<p>کوکا کولا کی تیزابیت جب مونگ پھلی کی بیرونی تہہ کو توڑتی ہے، جس سے ’گلوٹامیٹ‘ نکلتا ہےجس سے ایک خاص نمکین و لذیذ ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔ مونگ پھلی کا نمکین ذائقہ کولا کی تلخی کو کم کردیتا ہے، جس سے کوکا اور بھی میٹھی محسوس ہوتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/aakashgupta/status/2039961148079079463?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2039961148079079463%7Ctwgr%5E09ba012b8d6ff5970d1c717487cc6736dc30e0da%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Ffood.ndtv.com%2Ffood-drinks%2Fpeanuts-in-coke-from-the-1900s-is-going-viral-heres-why-the-combination-works-11309092'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/aakashgupta/status/2039961148079079463?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2039961148079079463%7Ctwgr%5E09ba012b8d6ff5970d1c717487cc6736dc30e0da%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Ffood.ndtv.com%2Ffood-drinks%2Fpeanuts-in-coke-from-the-1900s-is-going-viral-heres-why-the-combination-works-11309092"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مزید یہ کہ  کوک  کی ببلز ذائقہ کے ریسیپٹرز کو متحرک کرتی ہیں اور مونگ پھلی کی چکنائی دماغ کو خوشی کے سگنلزبھیجتی ہے۔ نتیجتاً، ہر گھونٹ میں میٹھا، نمکین فززی سب کچھ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے بار بار پینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ صارفین نے اس کمبو پر متضاد رائے دی۔ کچھ نے اسے مزیدار اور منفرد قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے عجیب اور ہلکا سا غیر روایتی کہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502823/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک صارف نے اپنی جگہ کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سورج مکھی کے بیج کے ساتھ بھی یہ کرتے تھے۔</p>
<p>کچھ نے مذاق میں کہا، ”لیمن تو ٹھیک، لیکن مونگ پھلی؟ کبھی نہیں!“ لیکن زیادہ تر لوگوں نے تسلیم کیا کہ یہ میٹھا، نمکین، کرنچی اور فززی سب ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے واقعی لاجواب ہے۔</p>
<p>اگرچہ یہ ذائقے میں بہترین ہے لیکن طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شوگر اور نمک کی زیادتی کی وجہ سے اسے کبھی کبھار ہی بطورِ تفریح استعمال کرنا چاہیے، خاص طور پر وہ لوگ جنہیں مونگ پھلی سے الرجی ہو، وہ اس سے دور رہیں۔</p>
<p>اگر آپ بھی کسی نئی اور منفرد چیز کے شوقین ہیں، تو شاید یہ ’فارمرز کوک‘ آپ کا اگلا پسندیدہ مشروب بن جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503114</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 11:07:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0511051103cdb83.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0511051103cdb83.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوکیو تھیم پارک میں کوؤں نے ’ریپنزِل‘ کے بالوں کو کیوں نوچ ڈالا؟ ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹوکیو ڈزنی سی کے تھیم پارک میں ایک نہایت ہی عجیب اور دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے، جس نے وہاں موجود سیاحوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ پارک کے نئے حصے ’روپنزل فارسٹ‘ میں نصب مشہور کارٹون کردار ’رویپنزل‘  کے روبوٹ پر کوّوں کے ایک جوڑے نے اچانک حملہ کر دیا اور اس کے لمبے سنہری بالوں کو نوچنا شروع کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جسے اب تک لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔ ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشینی رویپنزل اپنے ٹاور کی کھڑکی میں کھڑی روایتی انداز میں گانا گنگنا رہی ہے، لیکن اسی دوران دو کوّے اس کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں اور اپنی چونچوں سے شہزادی کے مصنوعی بالوں کے گچھے بے دردی سے نوچ کر نکالنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0311382106559fd.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0311382106559fd.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ منظر دیکھنے میں الفریڈ ہچکاک کی 1963 کی مشہور ہارر فلم ’دی برڈز‘ کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ اور کسی حد تک مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ کوّوں کی اس چھیڑ چھاڑ کے باوجود رویپنزل کا روبوٹ اپنی پروگرامنگ کے مطابق مسکراتے ہوئے سر گھما رہا تھا اور گانا گانے میں مصروف تھا، گویا اسے اپنے بالوں کے ساتھ ہونے والی اس ’ناپسندیدہ کٹنگ‘ کا ذرا بھی علم نہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/nypost/status/2039821780982944029?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/nypost/status/2039821780982944029?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ کوّے غالباً اپنا گھونسلہ بنانے کے لیے نرم مواد کی تلاش میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ کوّے اپنے گھونسلوں کے لیے لکڑیوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بال اور ریشے بھی استعمال کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے ریپنزل کے ان طویل سنہری بالوں کو گھونسلہ بنانے کے لیے آئیڈیل سمجھ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف نے مزاح کا انداز اپناتے ہوئے لکھا، ”اب یہ بال یقینی طور پر الجھے ہوئے ہیں“، جو 2010 کی ڈزنی فلم رویپنزِل کا حوالہ بھی تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/031143167c96f74.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/031143167c96f74.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر رویپنزل کے اس مشینی مجسمے کو ٹاور سے ہٹا دیا ہے۔ ’انسائیڈ دی میجک‘ کے مطابق یہ ایک عارضی اقدام ہے تاکہ متاثرہ بالوں کو درست کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ مشینی روبوٹس کے ساتھ پیش آنے والا یہ حالیہ دنوں کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پیرس ڈزنی لینڈ میں ’فروزن‘  فلم کے مشہور کردار ’اولاف‘ کا نیا روبوٹ اپنی نمائش کے دوران توازن بگڑنے کی وجہ سے پیچھے کی طرف گر گیا تھا، جس سے اس کی گاجر نما ناک ٹوٹ کر دور جا گری تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹوکیو ڈزنی سی کے تھیم پارک میں ایک نہایت ہی عجیب اور دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے، جس نے وہاں موجود سیاحوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ پارک کے نئے حصے ’روپنزل فارسٹ‘ میں نصب مشہور کارٹون کردار ’رویپنزل‘  کے روبوٹ پر کوّوں کے ایک جوڑے نے اچانک حملہ کر دیا اور اس کے لمبے سنہری بالوں کو نوچنا شروع کر دیا۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جسے اب تک لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے۔ ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشینی رویپنزل اپنے ٹاور کی کھڑکی میں کھڑی روایتی انداز میں گانا گنگنا رہی ہے، لیکن اسی دوران دو کوّے اس کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں اور اپنی چونچوں سے شہزادی کے مصنوعی بالوں کے گچھے بے دردی سے نوچ کر نکالنے لگتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0311382106559fd.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/0311382106559fd.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ منظر دیکھنے میں الفریڈ ہچکاک کی 1963 کی مشہور ہارر فلم ’دی برڈز‘ کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔</p>
<p>دلچسپ اور کسی حد تک مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ کوّوں کی اس چھیڑ چھاڑ کے باوجود رویپنزل کا روبوٹ اپنی پروگرامنگ کے مطابق مسکراتے ہوئے سر گھما رہا تھا اور گانا گانے میں مصروف تھا، گویا اسے اپنے بالوں کے ساتھ ہونے والی اس ’ناپسندیدہ کٹنگ‘ کا ذرا بھی علم نہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/nypost/status/2039821780982944029?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/nypost/status/2039821780982944029?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ کوّے غالباً اپنا گھونسلہ بنانے کے لیے نرم مواد کی تلاش میں تھے۔</p>
<p>چونکہ کوّے اپنے گھونسلوں کے لیے لکڑیوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بال اور ریشے بھی استعمال کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے ریپنزل کے ان طویل سنہری بالوں کو گھونسلہ بنانے کے لیے آئیڈیل سمجھ لیا۔</p>
<p>ایک اور صارف نے مزاح کا انداز اپناتے ہوئے لکھا، ”اب یہ بال یقینی طور پر الجھے ہوئے ہیں“، جو 2010 کی ڈزنی فلم رویپنزِل کا حوالہ بھی تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/031143167c96f74.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/04/031143167c96f74.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر رویپنزل کے اس مشینی مجسمے کو ٹاور سے ہٹا دیا ہے۔ ’انسائیڈ دی میجک‘ کے مطابق یہ ایک عارضی اقدام ہے تاکہ متاثرہ بالوں کو درست کیا جا سکے۔</p>
<p>واضح رہے کہ مشینی روبوٹس کے ساتھ پیش آنے والا یہ حالیہ دنوں کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پیرس ڈزنی لینڈ میں ’فروزن‘  فلم کے مشہور کردار ’اولاف‘ کا نیا روبوٹ اپنی نمائش کے دوران توازن بگڑنے کی وجہ سے پیچھے کی طرف گر گیا تھا، جس سے اس کی گاجر نما ناک ٹوٹ کر دور جا گری تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503043</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 11:57:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/0311550135cc8a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/0311550135cc8a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بابا وانگا کی 2026 سے متعلق پیشگوئیاں: کیا واقعی تیسری عالمی جنگ اور خلائی مخلوق کا خطرہ ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30503041/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بلغاریہ کی مشہور نابینا نجومی، بابا وانگا، کی پیشگوئیاں اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ زور پکڑ رہا ہے کہ انہوں نے سال 2026 میں تیسری عالمی جنگ اور خلائی مخلوق سے رابطے کی پیش گوئی کی تھی، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پوسٹس میں بابا وانگا کے نام کو عالمی جنگ، بڑے پیمانے پر قدرتی آفات اور غیر معمولی واقعات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، لیکن محققین اور تاریخ دان کہتے ہیں کہ ان دعووں کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بابا وانگا کی وفات 1996ء میں ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی پیش گوئیوں کو کبھی تحریری شکل میں درج نہیں کیا۔ ان سے منسوب معلومات زیادہ تر زبان سے زبان تک منتقل ہونے والی روایات اور بعد کی تعبیرات پر مبنی ہیں، جو اکثر موجودہ عالمی حالات کے مطابق دوبارہ بیان کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30250627'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30250627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے والی یہ پیشگوئیاں مبہم ہیں اور جدید خدشات کے مطابق تعبیر کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی ایک پیش گوئی کے مطابق، 2028 تک انسان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ کی طرف پیش رفت کرے گا، حالانکہ سائنسی شواہد کے مطابق یہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس بات کے ٹھوس سائنسی حقائق موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 2020 کے حوالے سے انہوں نے 2020ء کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی کی پیش گوئی کی تھی اورکہا تھا کہ یورپ شدید معاشی بحران اور کساد بازاری  کا شکار ہوگا اور اس کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا، کرونا کی وجہ سے یورپ معاشی صورتِ حال کا شکار تو ہوا لیکن ان کا یہ کہنا کہ ”یورپ کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا“ ایسا بلکل نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلکہ مزید یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ ”یہ براعظم بے کار زمین بن کر رہ جائے گا اور لگ بھگ ہر طرح کی زندگی یہاں ختم ہو جائے گی“ یہ بات بھی درست ثابت نہ ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30431160'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431160"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;2020 کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی کی پیشگوئی کو ماہرین اورتجزیہ نگار ثقافتی رجحان اور سوشل میڈیا کے اثرات کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ تصدیق شدہ حقیقت کے طور پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی پیشگوئیاں اصل میں غیر یقینی حالات میں عوام کے خوف اور تشویش کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ درست مستقبل بینی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بلغاریہ کی مشہور نابینا نجومی، بابا وانگا، کی پیشگوئیاں اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ زور پکڑ رہا ہے کہ انہوں نے سال 2026 میں تیسری عالمی جنگ اور خلائی مخلوق سے رابطے کی پیش گوئی کی تھی، جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔</strong></p>
<p>ان پوسٹس میں بابا وانگا کے نام کو عالمی جنگ، بڑے پیمانے پر قدرتی آفات اور غیر معمولی واقعات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، لیکن محققین اور تاریخ دان کہتے ہیں کہ ان دعووں کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں۔</p>
<p>بابا وانگا کی وفات 1996ء میں ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی پیش گوئیوں کو کبھی تحریری شکل میں درج نہیں کیا۔ ان سے منسوب معلومات زیادہ تر زبان سے زبان تک منتقل ہونے والی روایات اور بعد کی تعبیرات پر مبنی ہیں، جو اکثر موجودہ عالمی حالات کے مطابق دوبارہ بیان کی جاتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30250627'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30250627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے والی یہ پیشگوئیاں مبہم ہیں اور جدید خدشات کے مطابق تعبیر کی گئی ہیں۔</p>
<p>ان کی ایک پیش گوئی کے مطابق، 2028 تک انسان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ کی طرف پیش رفت کرے گا، حالانکہ سائنسی شواہد کے مطابق یہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس بات کے ٹھوس سائنسی حقائق موجود ہیں۔</p>
<p>اسی طرح 2020 کے حوالے سے انہوں نے 2020ء کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی کی پیش گوئی کی تھی اورکہا تھا کہ یورپ شدید معاشی بحران اور کساد بازاری  کا شکار ہوگا اور اس کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا، کرونا کی وجہ سے یورپ معاشی صورتِ حال کا شکار تو ہوا لیکن ان کا یہ کہنا کہ ”یورپ کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا“ ایسا بلکل نہ ہوا۔</p>
<p>بلکہ مزید یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ ”یہ براعظم بے کار زمین بن کر رہ جائے گا اور لگ بھگ ہر طرح کی زندگی یہاں ختم ہو جائے گی“ یہ بات بھی درست ثابت نہ ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30431160'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431160"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>2020 کی دہائی کے وسط میں جنگ اور تباہی کی پیشگوئی کو ماہرین اورتجزیہ نگار ثقافتی رجحان اور سوشل میڈیا کے اثرات کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ تصدیق شدہ حقیقت کے طور پر۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی پیشگوئیاں اصل میں غیر یقینی حالات میں عوام کے خوف اور تشویش کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ درست مستقبل بینی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30503041</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 12:26:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/03110733e5c47b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/03110733e5c47b4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امتحانات میں نقل کا ہائی ٹیک طریقہ: چین میں ’اسمارٹ چشمے‘ کرایے پر دستیاب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502988/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین میں ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جہاں طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیے اسمارٹ چشمے کرائے پر لے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، چینی مارکیٹ پلیس ’شیان یو‘ پر یہ اسمارٹ چشمے 40 سے 80 یوآن تک کرائے پر مل رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کا منفی استعمال تعلیمی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں ان دنوں طلبہ کی جانب سے امتحانات میں نقل کے لیے ’اسمارٹ گلاسز‘ (خفیہ کیمروں والی عینک) کرایے پر لینے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://futurism.com/artificial-intelligence/students-renting-smart-glasses-cheat-tests"&gt;فیوچریزیم &lt;/a&gt;کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ چینی طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیے یہ اسمارٹ ڈیوائسز سستے داموں کرائے پر لے رہے ہیں تاکہ بغیر پکڑے گئے کامیاب ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/3760'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/3760"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسمارٹ چشموں کی صنعت میں اے آئی کے آ جانے سے بڑی ترقی ہوئی ہے، جس کی بدولت یہ آلات تصاویر لینے، ویڈیوز ریکارڈ کرنے، ارد گرد کی دنیا کا تجزیہ کرنے، سڑک کے نشانات کا ترجمہ کرنے، راستہ دیکھنے اور پریزینٹیشن کے دوران اسکرپٹ پڑھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، ان کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے، چین کے لوگ ان چشموں کو خریدنے کے بجائے  سستے مارکیٹ پلیسز سے کرائے پر لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق، چین کی مشہور سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ ’شیان یو‘  پر ایسے تاجر سرگرم ہیں جو صرف 40 سے 80 یوآن (تقریباً 1,500 سے 3,000 پاکستانی روپے) روزانہ کے عوض یہ جدید عینکیں کرایے پر فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شینزین سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کا دعویٰ ہے کہ اس نے محض چار ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد طلبہ کو یہ آلات فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30482850'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30482850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ اسمارٹ چشمے خاص طور پر انگریزی اور ریاضی کے امتحانات میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں کیمرے، آڈیو فیچرز اور جدید ٹیکنالوجی ہوتی ہے، جو طلباء کو امتحانی سوالات دیکھ کر فوراً جواب مہیا کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طلبہ ان عینکوں کے ذریعے سوالنامے کو اسکین کرتے ہیں، جس کے بعد  اے آئی سسٹم فوری طور پر انگریزی اور ریاضی جیسے مشکل مضامین کے جوابات عینک کے اندر لگی چھوٹی اسکرین پر ظاہر کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسمارٹ گلاسز عام نظر آنے والی عینکوں جیسے ہی ہوتے ہیں، لیکن ان میں چھپے ہوئے کیمرے، آڈیو سسٹم اور مصنوعی ذہانت  کے جدید ماڈلز موجود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان آلات کا ڈیزائن اتنا سادہ اور روایتی ہوتا ہے کہ امتحانی عملے کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ طالب علم نے عام نظر والی عینک پہنی ہے یا کوئی جاسوسی آلہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ان آلات کا غلط استعمال ہو رہا ہے، تو دوسری طرف چینی حکومت اپنی قومی سبسڈی اسکیم کے ذریعے ’روکڈ‘  اور ’کوارک‘  جیسے مقامی برانڈز کی فروخت کو فروغ دے رہی ہے۔ مارکیٹ میں میٹا  کے ساتھ ساتھ اب ژیومی اور علی بابا جیسے بڑے نام بھی اپنے اسمارٹ گلاسز متعارف کروا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب امتحانات کے طریقے بدلنے کا وقت آ گیا ہے، ورنہ ’ٹیکنالوجی کی نقل‘ محنت کی جگہ لے لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ چینی تعلیمی ادارے اس ’ڈیجیٹل نقل‘ سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین میں ایک نیا ٹرینڈ سامنے آیا ہے جہاں طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیے اسمارٹ چشمے کرائے پر لے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، چینی مارکیٹ پلیس ’شیان یو‘ پر یہ اسمارٹ چشمے 40 سے 80 یوآن تک کرائے پر مل رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کا منفی استعمال تعلیمی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔</p>
<p>چین میں ان دنوں طلبہ کی جانب سے امتحانات میں نقل کے لیے ’اسمارٹ گلاسز‘ (خفیہ کیمروں والی عینک) کرایے پر لینے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://futurism.com/artificial-intelligence/students-renting-smart-glasses-cheat-tests">فیوچریزیم </a>کی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ چینی طلباء امتحانات میں نقل کرنے کے لیے یہ اسمارٹ ڈیوائسز سستے داموں کرائے پر لے رہے ہیں تاکہ بغیر پکڑے گئے کامیاب ہو سکیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/3760'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/3760"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسمارٹ چشموں کی صنعت میں اے آئی کے آ جانے سے بڑی ترقی ہوئی ہے، جس کی بدولت یہ آلات تصاویر لینے، ویڈیوز ریکارڈ کرنے، ارد گرد کی دنیا کا تجزیہ کرنے، سڑک کے نشانات کا ترجمہ کرنے، راستہ دیکھنے اور پریزینٹیشن کے دوران اسکرپٹ پڑھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، ان کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے، چین کے لوگ ان چشموں کو خریدنے کے بجائے  سستے مارکیٹ پلیسز سے کرائے پر لے رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق، چین کی مشہور سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ ’شیان یو‘  پر ایسے تاجر سرگرم ہیں جو صرف 40 سے 80 یوآن (تقریباً 1,500 سے 3,000 پاکستانی روپے) روزانہ کے عوض یہ جدید عینکیں کرایے پر فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>شینزین سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کا دعویٰ ہے کہ اس نے محض چار ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد طلبہ کو یہ آلات فراہم کیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30482850'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30482850"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ اسمارٹ چشمے خاص طور پر انگریزی اور ریاضی کے امتحانات میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں کیمرے، آڈیو فیچرز اور جدید ٹیکنالوجی ہوتی ہے، جو طلباء کو امتحانی سوالات دیکھ کر فوراً جواب مہیا کر دیتی ہے۔</p>
<p>طلبہ ان عینکوں کے ذریعے سوالنامے کو اسکین کرتے ہیں، جس کے بعد  اے آئی سسٹم فوری طور پر انگریزی اور ریاضی جیسے مشکل مضامین کے جوابات عینک کے اندر لگی چھوٹی اسکرین پر ظاہر کر دیتا ہے۔</p>
<p>یہ اسمارٹ گلاسز عام نظر آنے والی عینکوں جیسے ہی ہوتے ہیں، لیکن ان میں چھپے ہوئے کیمرے، آڈیو سسٹم اور مصنوعی ذہانت  کے جدید ماڈلز موجود ہوتے ہیں۔</p>
<p>ان آلات کا ڈیزائن اتنا سادہ اور روایتی ہوتا ہے کہ امتحانی عملے کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ طالب علم نے عام نظر والی عینک پہنی ہے یا کوئی جاسوسی آلہ۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف ان آلات کا غلط استعمال ہو رہا ہے، تو دوسری طرف چینی حکومت اپنی قومی سبسڈی اسکیم کے ذریعے ’روکڈ‘  اور ’کوارک‘  جیسے مقامی برانڈز کی فروخت کو فروغ دے رہی ہے۔ مارکیٹ میں میٹا  کے ساتھ ساتھ اب ژیومی اور علی بابا جیسے بڑے نام بھی اپنے اسمارٹ گلاسز متعارف کروا چکے ہیں۔</p>
<p>تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب امتحانات کے طریقے بدلنے کا وقت آ گیا ہے، ورنہ ’ٹیکنالوجی کی نقل‘ محنت کی جگہ لے لے گی۔</p>
<p>اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ چینی تعلیمی ادارے اس ’ڈیجیٹل نقل‘ سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502988</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 10:06:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/02094711144f8fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/02094711144f8fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیو ہیکل وہیل نے سمندر میں وِنڈ سَرفر کو اڑا دیا: ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیلیفورنیا کی خلیج میں ونڈ سرفنگ کرتے ہوئے تیز رفتار سرفر اچانک پانی سے ابھرتی ہوئی دیوہیکل ہمپ بیک وہیل سے ٹکرا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوکس نیوز کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ونڈ سرفر گولڈن گیٹ برج کے قریب تیزی سے لہروں پر سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک دیوہیکل وہیل سطحِ سمندر پر ابھری اور راستے میں آنے والی اس وہیل سے ونڈ سرفر ٹکرا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ٹکر کے نتیجے میں ونڈ سرفر توازن برقرار نہ رکھ سکا اور پانی میں گر گیا، جبکہ وہیل فوراً گہرے پانیوں میں غوطہ لگا گئی۔ خوش قسمتی سے، چند لمحوں بعد ونڈ سرفر اپنے سامان کے ساتھ دوبارہ سطح پر نمودار ہو گیا، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس واقعے میں کسی کو کوئی سنگین چوٹ آئی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2039191804940104005?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2039191804940104005?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہمپ بیک وہیلز اس وقت اپنی سالانہ ہجرت کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ یہ سمندری مخلوق اس سیزن میں سان فرانسسکو کے ساحلوں سے ہوتی ہوئی الاسکا کی جانب سفر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ ہجرت کا سیزن وہیل مچھلیوں کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس سال اب تک چار وہیلز ہلاک ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک 17 مارچ کو بحری جہاز کے ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیلیفورنیا کی خلیج میں ونڈ سرفنگ کرتے ہوئے تیز رفتار سرفر اچانک پانی سے ابھرتی ہوئی دیوہیکل ہمپ بیک وہیل سے ٹکرا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوکس نیوز کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ونڈ سرفر گولڈن گیٹ برج کے قریب تیزی سے لہروں پر سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک دیوہیکل وہیل سطحِ سمندر پر ابھری اور راستے میں آنے والی اس وہیل سے ونڈ سرفر ٹکرا گیا۔</p>
<p>اس ٹکر کے نتیجے میں ونڈ سرفر توازن برقرار نہ رکھ سکا اور پانی میں گر گیا، جبکہ وہیل فوراً گہرے پانیوں میں غوطہ لگا گئی۔ خوش قسمتی سے، چند لمحوں بعد ونڈ سرفر اپنے سامان کے ساتھ دوبارہ سطح پر نمودار ہو گیا، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس واقعے میں کسی کو کوئی سنگین چوٹ آئی ہے یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2039191804940104005?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2039191804940104005?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ہمپ بیک وہیلز اس وقت اپنی سالانہ ہجرت کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ یہ سمندری مخلوق اس سیزن میں سان فرانسسکو کے ساحلوں سے ہوتی ہوئی الاسکا کی جانب سفر کرتی ہے۔</p>
<p>ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ ہجرت کا سیزن وہیل مچھلیوں کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ اس سال اب تک چار وہیلز ہلاک ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک 17 مارچ کو بحری جہاز کے ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502968</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 15:14:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/04/011518368e804df.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/04/011518368e804df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا آپ کو بھی ’غلط لوگ‘ ہی پسند آتے ہیں؟ جانیے اس پراسرار کشش کی حقیقت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ہم بار بار ایسے لوگوں کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں؟ لاشعوری طور پرایسے ساتھیوں کا انتخاب کرلینا جو ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، درحقیقت یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ہمارے لاشعورکی ایک گہری کارستانی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل سائیکلوجی کی ماہر ڈاکٹر لیراز مارگلٹ اس رجحان کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس کی جڑیں ہمارے اٹیچمنٹ پیٹرنز میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں بار بار انہی جذباتی تجربات کی طرف دھکیلتی ہے جن سے ہم پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30483543'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس نفسیاتی گُتھی کا سرا ہمارے بچپن سے جڑا ہوتا ہے جہاں والدین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہمارے مستقبل کے فیصلوں کی بنیاد رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ہم کسی ایسے شخص کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں یا شدید کشش محسوس کرتے ہیں جو تعلقات میں ہمارے لیے جذباتی طور پر تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، تو دراصل ہمارا لاشعور ماضی کے کسی ادھورے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا فکری عمل ہے جس میں انسان انجانے میں اپنے والدین کے ساتھ پیش آنے والے تلخ تجربات کو نئے رشتوں میں دوبارہ تخلیق کرتا ہے تاکہ شاید اس بار وہ اس پر قابو پا سکے یا اسے درست کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسان کی یہ لاشعوری کوشش اکثر ایک تباہ کن چکر کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس میں وہ بار بار دکھ پانے کے باوجود پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید مائل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460231'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر مارگلٹ کے مطابق وابستگی کے ان مخصوص انداز یا اٹیچمنٹ پیٹرنز کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس تکلیف دہ سلسلے کو توڑا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے، اس تکلیف دہ  چکر کو توڑنا ممکن ہے۔ جب انسان اپنی ان لاشعوری ترجیحات اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے نفسیاتی اسباب کو سمجھ لیتا ہے، تو وہ شعوری طور پر خود کو اس نفسیاتی قید سے آزاد کر کے ایک بہتر اور خوشگوار زندگی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اپنے ماضی کے اثرات کو پہچاننا ہی ایک مستحکم اور پرسکون مستقبل کی طرف پہلا قدم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ہم بار بار ایسے لوگوں کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں؟ لاشعوری طور پرایسے ساتھیوں کا انتخاب کرلینا جو ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں، درحقیقت یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ہمارے لاشعورکی ایک گہری کارستانی ہے۔</strong></p>
<p>سوشل سائیکلوجی کی ماہر ڈاکٹر لیراز مارگلٹ اس رجحان کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس کی جڑیں ہمارے اٹیچمنٹ پیٹرنز میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں بار بار انہی جذباتی تجربات کی طرف دھکیلتی ہے جن سے ہم پہلے گزر چکے ہوتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30483543'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30483543"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس نفسیاتی گُتھی کا سرا ہمارے بچپن سے جڑا ہوتا ہے جہاں والدین کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہمارے مستقبل کے فیصلوں کی بنیاد رکھتی ہے۔</p>
<p>جب ہم کسی ایسے شخص کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں یا شدید کشش محسوس کرتے ہیں جو تعلقات میں ہمارے لیے جذباتی طور پر تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، تو دراصل ہمارا لاشعور ماضی کے کسی ادھورے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا فکری عمل ہے جس میں انسان انجانے میں اپنے والدین کے ساتھ پیش آنے والے تلخ تجربات کو نئے رشتوں میں دوبارہ تخلیق کرتا ہے تاکہ شاید اس بار وہ اس پر قابو پا سکے یا اسے درست کر سکے۔</p>
<p>انسان کی یہ لاشعوری کوشش اکثر ایک تباہ کن چکر کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس میں وہ بار بار دکھ پانے کے باوجود پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید مائل ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460231'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460231"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈاکٹر مارگلٹ کے مطابق وابستگی کے ان مخصوص انداز یا اٹیچمنٹ پیٹرنز کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس تکلیف دہ سلسلے کو توڑا جا سکے۔</p>
<p>خوش قسمتی سے، اس تکلیف دہ  چکر کو توڑنا ممکن ہے۔ جب انسان اپنی ان لاشعوری ترجیحات اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے نفسیاتی اسباب کو سمجھ لیتا ہے، تو وہ شعوری طور پر خود کو اس نفسیاتی قید سے آزاد کر کے ایک بہتر اور خوشگوار زندگی کا آغاز کر سکتا ہے۔ اپنے ماضی کے اثرات کو پہچاننا ہی ایک مستحکم اور پرسکون مستقبل کی طرف پہلا قدم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502909</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 14:58:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/3114511094bef40.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/3114511094bef40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اب آپ تیار شدہ گھر آن لائن آرڈر کر سکیں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502903/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر گھر بنانا ایک سردرد سمجھا جاتا ہے۔ نقشے، اینٹیں، سیمنٹ اور مہینوں کی محنت۔ لیکن اب مشہور ڈیزائنر جوڑی ’چارلس اور رے ایمز‘ کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے پوتے ڈیمیٹریس نے ایک ایسا طریقہ متعارف کروایا ہے جس سے گھر بنانا کسی ’لیگو‘ بلاکس کو جوڑنے جیسا آسان ہو جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/03/30/style/eames-house-prefab-pavilion-system"&gt;سی این این&lt;/a&gt; کے مطابق اییمز آفس نے ”اییمز پیویلین سسٹم“ متعارف کروایا ہے، جس کے ذریعے آپ اپنا گھر، دفتر، چھوٹی دکان یا نمائش کی جگہ آسانی سے بنا اور ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ اس سسٹم میں گھر کے ڈیزائن کے اصول اور انداز کو آسان اور ماڈیولر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/trending'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.aaj.tv/trending'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ دراصل بنے بنائے ڈھانچوں  کا ایک مجموعہ ہے۔ یعنی آپ کو گھر کے حصے الگ الگ ملیں گے جنہیں آپ اپنی ضرورت کے مطابق جوڑ کر ایک کمرہ، دفتر یا پورا گھر تیار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اییمز کے پوتے، اییمز ڈیمٹریوس، کہتے ہیں کہ انہوں نے خود ایک پری فیب ہوائی جہاز ہینگر بطور گیراج بنایا ہے، اس لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہر چیز پہلے سے ترتیب کے ساتھ تیار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، یہ ان عام کٹس سے بہت بہتر ہے جہاں لوگ آپ کو ڈھیر سارے پرزے بھیج دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خود ہی سمجھ لو کہ کیا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اییمز پیویلین ماڈلز اییمز ہاؤس کی طرح دکھتے ہیں، یہ اصل عمارت کی نقل نہیں ہیں۔ یہ مختلف ڈیزائنز سے متاثر ہیں، جیسے پڑوس میں موجود انٹینزا ہاؤس اور فلم ساز بلی وائلڈر کے لیے کبھی تصور کیا گیا گھر۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502892/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیمٹریوس کے مطابق صرف اییمز ہاؤس کی نقل دینا عجیب لگے گا،اس کے بجائے، انہوں نے اس ”سسٹم“ کے اصل خیال کو پیش کیا ہے تاکہ اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیویلینز میں وہی مشہور بلیک بیمز، سلائیڈنگ اسکرینز اور لکڑی کے گرم اندرونی حصے شامل ہیں جو اییمز ہاؤس میں تھے۔ آپ بیرونی حصے کو اپنی مرضی کے مطابق کھڑکیوں، رنگین یا جیومیٹرک پینلز اور اسٹیل بارز کے ساتھ ڈیزائن کر سکتے ہیں اور مستقبل میں اضافے بھی کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے چھوٹا ماڈل ایک میٹنگ روم جیسا ہو سکتا ہے جبکہ سب سے بڑا ماڈل بڑی کھلی جگہ کے لیے بنایا جا سکتا ہے۔ فی الحال یہ سسٹم صرف دو منزلہ عمارت تک محدود ہے اور ماہرین اس کی اونچائی بڑھانے کے لیے انجینئرنگ پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک منزلہ پویلین اس سال موسم خزاں میں دستیاب ہوگا، جبکہ دو منزلہ ورژن بعد میں آئے گا۔ یہ نظام  ڈی آئی وائی نہیں ہے۔ کیٹل کے انجینئرز ہر پویلین کو سائٹ پر جمع کرتے ہیں تاکہ یہ ہر ملک کے قوانین اور ماحول کے مطابق ہو، جیسے جاپان میں زلزلے یا فلوریڈا میں طوفان۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موسم بہار میں ایک نئی کتاب ”دی ایمز ہاؤسز“ بھی شائع ہوگی، جو ایمس کے ڈیزائن کے اصولوں کو مزید آسان اور سمجھنے کے قابل طریقے سے پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیمیٹریوس کے مطابق، یہ ماڈیولر سسٹم ان کے دادا دادی کی سوچ کو آگے بڑھانے کا ایک بہترین طریقہ ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ان کے کام کو زیادہ سے زیادہ لوگ استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سسٹم ان لوگوں کے لیے ایک بہترین حل ہے جو کم وقت میں جدید ڈیزائن اور پائیدار مواد کے ساتھ اپنی پسند کا گھر یا کام کرنے کی جگہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف ایک گھر نہیں، بلکہ تعمیرات کی دنیا میں ایک ”ٹول کٹ“ ہے جسے آپ اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر گھر بنانا ایک سردرد سمجھا جاتا ہے۔ نقشے، اینٹیں، سیمنٹ اور مہینوں کی محنت۔ لیکن اب مشہور ڈیزائنر جوڑی ’چارلس اور رے ایمز‘ کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے پوتے ڈیمیٹریس نے ایک ایسا طریقہ متعارف کروایا ہے جس سے گھر بنانا کسی ’لیگو‘ بلاکس کو جوڑنے جیسا آسان ہو جائے گا۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2026/03/30/style/eames-house-prefab-pavilion-system">سی این این</a> کے مطابق اییمز آفس نے ”اییمز پیویلین سسٹم“ متعارف کروایا ہے، جس کے ذریعے آپ اپنا گھر، دفتر، چھوٹی دکان یا نمائش کی جگہ آسانی سے بنا اور ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ اس سسٹم میں گھر کے ڈیزائن کے اصول اور انداز کو آسان اور ماڈیولر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/trending'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.aaj.tv/trending'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ دراصل بنے بنائے ڈھانچوں  کا ایک مجموعہ ہے۔ یعنی آپ کو گھر کے حصے الگ الگ ملیں گے جنہیں آپ اپنی ضرورت کے مطابق جوڑ کر ایک کمرہ، دفتر یا پورا گھر تیار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اییمز کے پوتے، اییمز ڈیمٹریوس، کہتے ہیں کہ انہوں نے خود ایک پری فیب ہوائی جہاز ہینگر بطور گیراج بنایا ہے، اس لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہر چیز پہلے سے ترتیب کے ساتھ تیار ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا، یہ ان عام کٹس سے بہت بہتر ہے جہاں لوگ آپ کو ڈھیر سارے پرزے بھیج دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خود ہی سمجھ لو کہ کیا کرنا ہے۔</p>
<p>اگرچہ اییمز پیویلین ماڈلز اییمز ہاؤس کی طرح دکھتے ہیں، یہ اصل عمارت کی نقل نہیں ہیں۔ یہ مختلف ڈیزائنز سے متاثر ہیں، جیسے پڑوس میں موجود انٹینزا ہاؤس اور فلم ساز بلی وائلڈر کے لیے کبھی تصور کیا گیا گھر۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502892/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈیمٹریوس کے مطابق صرف اییمز ہاؤس کی نقل دینا عجیب لگے گا،اس کے بجائے، انہوں نے اس ”سسٹم“ کے اصل خیال کو پیش کیا ہے تاکہ اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>پیویلینز میں وہی مشہور بلیک بیمز، سلائیڈنگ اسکرینز اور لکڑی کے گرم اندرونی حصے شامل ہیں جو اییمز ہاؤس میں تھے۔ آپ بیرونی حصے کو اپنی مرضی کے مطابق کھڑکیوں، رنگین یا جیومیٹرک پینلز اور اسٹیل بارز کے ساتھ ڈیزائن کر سکتے ہیں اور مستقبل میں اضافے بھی کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>سب سے چھوٹا ماڈل ایک میٹنگ روم جیسا ہو سکتا ہے جبکہ سب سے بڑا ماڈل بڑی کھلی جگہ کے لیے بنایا جا سکتا ہے۔ فی الحال یہ سسٹم صرف دو منزلہ عمارت تک محدود ہے اور ماہرین اس کی اونچائی بڑھانے کے لیے انجینئرنگ پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایک منزلہ پویلین اس سال موسم خزاں میں دستیاب ہوگا، جبکہ دو منزلہ ورژن بعد میں آئے گا۔ یہ نظام  ڈی آئی وائی نہیں ہے۔ کیٹل کے انجینئرز ہر پویلین کو سائٹ پر جمع کرتے ہیں تاکہ یہ ہر ملک کے قوانین اور ماحول کے مطابق ہو، جیسے جاپان میں زلزلے یا فلوریڈا میں طوفان۔</p>
<p>اس موسم بہار میں ایک نئی کتاب ”دی ایمز ہاؤسز“ بھی شائع ہوگی، جو ایمس کے ڈیزائن کے اصولوں کو مزید آسان اور سمجھنے کے قابل طریقے سے پیش کرے گی۔</p>
<p>ڈیمیٹریوس کے مطابق، یہ ماڈیولر سسٹم ان کے دادا دادی کی سوچ کو آگے بڑھانے کا ایک بہترین طریقہ ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ان کے کام کو زیادہ سے زیادہ لوگ استعمال کریں۔</p>
<p>یہ سسٹم ان لوگوں کے لیے ایک بہترین حل ہے جو کم وقت میں جدید ڈیزائن اور پائیدار مواد کے ساتھ اپنی پسند کا گھر یا کام کرنے کی جگہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>یہ صرف ایک گھر نہیں، بلکہ تعمیرات کی دنیا میں ایک ”ٹول کٹ“ ہے جسے آپ اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502903</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 13:22:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/31132023b01858f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/31132023b01858f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپ کا متنازع ڈیزائن: تہران میں کافی شاپ کی پوری چین بند کرا دی گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502902/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے دارالحکومت تہران میں حکام نے ایک مشہور کافی شاپ چین ’لامیز‘ کی متعدد شاخوں کو ان کے ڈسپوزایبل کپ پر بنا ڈیزائن مشتبہ قرار دیتے ہوئے بند کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی عدلیہ اور سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کپوں پر بنی تصویر میں ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہین آمیز اشارے موجود ہیں، جبکہ کمپنی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک اتفاق قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کافی کے کپ پر ایک ’خالی کرسی‘ کی تصویر بنی ہوئی تھی، جسے سوشل میڈیا صارفین نے حال ہی میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خالی نشست سے تشبیہ دی ہے۔ اور اس کرسی پر کچھ برستا ہوا دکھایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/talaye73877/status/2037219773147214222?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/talaye73877/status/2037219773147214222?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ ڈیزائن اسرائیل اور امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے تناظر میں خامنہ ای کے جانشین اور بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی منظر نامے سے مسلسل غیر حاضری پر طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین نے اس ڈیزائن کو ’شہید امام‘ کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ’لامیز‘ انتظامیہ نے اپنے سوشل میڈیا بیانات میں وضاحت کی ہے کہ ان کپوں کا حالیہ سیاسی واقعات یا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیزائن ایرانی آرٹسٹ فرشید مثقالی کے 1975 کے ایک مشہور فن پارے سے لیا گیا ہے جس میں رنگین چھینٹوں کے درمیان ایک کرسی دکھائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ کپ فارسی نئے سال ’نوروز‘ کی مناسبت سے مہینوں پہلے ڈیزائن اور پرنٹ کیے گئے تھے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی گوداموں میں پہنچا دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے دارالحکومت تہران میں حکام نے ایک مشہور کافی شاپ چین ’لامیز‘ کی متعدد شاخوں کو ان کے ڈسپوزایبل کپ پر بنا ڈیزائن مشتبہ قرار دیتے ہوئے بند کردیا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی عدلیہ اور سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کپوں پر بنی تصویر میں ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف توہین آمیز اشارے موجود ہیں، جبکہ کمپنی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک اتفاق قرار دیا ہے۔</p>
<p>کافی کے کپ پر ایک ’خالی کرسی‘ کی تصویر بنی ہوئی تھی، جسے سوشل میڈیا صارفین نے حال ہی میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی خالی نشست سے تشبیہ دی ہے۔ اور اس کرسی پر کچھ برستا ہوا دکھایا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/talaye73877/status/2037219773147214222?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/talaye73877/status/2037219773147214222?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انٹرنیٹ صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ ڈیزائن اسرائیل اور امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے تناظر میں خامنہ ای کے جانشین اور بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی منظر نامے سے مسلسل غیر حاضری پر طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p>صارفین نے اس ڈیزائن کو ’شہید امام‘ کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ’لامیز‘ انتظامیہ نے اپنے سوشل میڈیا بیانات میں وضاحت کی ہے کہ ان کپوں کا حالیہ سیاسی واقعات یا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیزائن ایرانی آرٹسٹ فرشید مثقالی کے 1975 کے ایک مشہور فن پارے سے لیا گیا ہے جس میں رنگین چھینٹوں کے درمیان ایک کرسی دکھائی گئی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق یہ کپ فارسی نئے سال ’نوروز‘ کی مناسبت سے مہینوں پہلے ڈیزائن اور پرنٹ کیے گئے تھے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی گوداموں میں پہنچا دیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502902</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 13:01:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/31125915e456e07.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/31125915e456e07.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف 3 منٹ اور 3 شاہکار غائب: پینٹنگز چوری کی سب سے بڑی اور حیران کن واردات</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502898/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹلی کے شمالی شہر پارما کے قریب واقع میگنانی روکا فاؤنڈیشن کے میوزیم سے تین عالمی شہرت یافتہ مصوروں کے قیمتی فن پارے چوری کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ چوری صرف تین منٹ میں مکمل کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوری شدہ فن پاروں میں پیئر اگست رینوار کا 1917 کا تیل کا پینٹنگ ”لی پواسن“، پال سیزان کی 1890 کی واٹر کلر پینٹنگ ”تاس ای پلا دے سریز“ اور ہنری ماٹیس کا 1922 کا کام ”اوڈالیسک سور لا ٹیرَس“ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واردات کی تفصیلات کے مطابق اٹلی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب چار نقاب پوش افراد ’ولا آف ماسٹر پیس‘ کی پہلی منزل کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور الارم بجنے کے باوجود چور یہ فن پارے لے کر لوش گارڈنز کے راستے انتہائی تیزی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30487891'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30487891"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بتاتی ہیں کہ الارم بجنے کے باوجود چور انتہائی تیزی سے ولا کے سرسبز باغات کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر میوزیم انتظامیہ اور پولیس نے اس واقعے کو ابتدائی طور پر خفیہ رکھا تاکہ ملزمان کے دوبارہ وہاں آنے کی صورت میں انہیں پکڑا جا سکے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میوزیم کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی منظم ڈکیتی تھی، جس کا منصوبہ شاید پیرس کے لوور میوزیم میں ہونے والی حالیہ چوری سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.reuters.com/resizer/v2/OGXWTGAR6VNCRBS3VOKRDUBNCY.jpg?auth=fe81bc17949ab8fa74565da81054305c7c72ae024032499cf237e69002b28f89&amp;amp;width=960&amp;amp;quality=80'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.reuters.com/resizer/v2/OGXWTGAR6VNCRBS3VOKRDUBNCY.jpg?auth=fe81bc17949ab8fa74565da81054305c7c72ae024032499cf237e69002b28f89&amp;amp;width=960&amp;amp;quality=80'  alt=' (پال سیزان کا فن پارہ کپ اینڈ پلیٹ آف چیریز ۔ چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(پال سیزان کا فن پارہ کپ اینڈ پلیٹ آف چیریز ۔ چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میگنانی روکا فاؤنڈیشن کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ دنیا بھر کے شہرت یافتہ گیلریز اور میوزیمزسے شاہکار فن پارے مستعار لے کر انہیں اپنے ہاں نمائش کے لیے پیش کرتا ہے، جس سے فن کے متوالوں کو ایک ہی چھت تلے عالمی ورثہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30489038'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30489038"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے فاؤنڈیشن نے امریکا میں واقع نیویارک کی ڈیوڈ زوئرنر گیلری اور لاس اینجلس کے مشہورِ زمانہ گیٹی میوزیم جیسے معتبر اداروں کے ساتھ اشتراک کر رکھا ہے،  جس سے اٹلی میں عالمی معیار کے فن پاروں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنون لطیفہ کے شعبے میں اٹلی کے ماہر کارابینیری ہر سال دنیا بھر سے تقریباً ایک لاکھ  چوری شدہ فن پاروں کو بازیاب کرتے ہیں، جن کے پاس چوری شدہ آرٹ ٹریک کرنے کا ایک انتہائی جدید نیٹ ورک موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.reuters.com/resizer/v2/RWTV442IPBKFVCA4DDW6SE46QI.jpg?auth=d895808ab8231fc512420b7a92319505a9252c16220f4a3a5c012d3d5f891b62&amp;amp;width=1080&amp;amp;quality=80'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.reuters.com/resizer/v2/RWTV442IPBKFVCA4DDW6SE46QI.jpg?auth=d895808ab8231fc512420b7a92319505a9252c16220f4a3a5c012d3d5f891b62&amp;amp;width=1080&amp;amp;quality=80'  alt=' (ہنری ماٹیس کا فن پارہ - چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(ہنری ماٹیس کا فن پارہ - چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ فاؤنڈیشن 1990 میں عوام کے لیے کھولی گئی تھی، جس میں ٹیسیان، البرٹ ڈورر، روبنز، گویا، کانووا، مونیٹ اور مورانڈی کے شاہکار فن پارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30489151'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30489151"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پارما کے باغات میں نو کلاسیکل اور ایمپائر طرز کے فرنیچر کے ساتھ شاندار درخت اور نایاب پودے ہیں، اور رنگین و سفید مور آزادانہ طور پر باغ میں گھومتے نظر آتے ہیں، جو یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی اہمیت کے حامل اس میوزیم میں ہونے والی یہ ڈکیتی نہ صرف قیمتی فنون کی چوری ہے بلکہ اٹلی کے آرٹ سیکٹر کی چیلنجز اور عالمی آرٹ مارکیٹ کی حساسیت کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کا مخصوص آرٹ اسکواڈ اس وقت متحرک ہے، تاہم فی الحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اس بڑی چوری کے باوجود، میوزیم اپنی معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ کھلا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹلی کے شمالی شہر پارما کے قریب واقع میگنانی روکا فاؤنڈیشن کے میوزیم سے تین عالمی شہرت یافتہ مصوروں کے قیمتی فن پارے چوری کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ چوری صرف تین منٹ میں مکمل کی گئی۔</strong></p>
<p>چوری شدہ فن پاروں میں پیئر اگست رینوار کا 1917 کا تیل کا پینٹنگ ”لی پواسن“، پال سیزان کی 1890 کی واٹر کلر پینٹنگ ”تاس ای پلا دے سریز“ اور ہنری ماٹیس کا 1922 کا کام ”اوڈالیسک سور لا ٹیرَس“ شامل ہیں۔</p>
<p>واردات کی تفصیلات کے مطابق اٹلی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ 22 اور 23 مارچ کی درمیانی شب چار نقاب پوش افراد ’ولا آف ماسٹر پیس‘ کی پہلی منزل کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور الارم بجنے کے باوجود چور یہ فن پارے لے کر لوش گارڈنز کے راستے انتہائی تیزی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30487891'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30487891"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بتاتی ہیں کہ الارم بجنے کے باوجود چور انتہائی تیزی سے ولا کے سرسبز باغات کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p>حیرت انگیز طور پر میوزیم انتظامیہ اور پولیس نے اس واقعے کو ابتدائی طور پر خفیہ رکھا تاکہ ملزمان کے دوبارہ وہاں آنے کی صورت میں انہیں پکڑا جا سکے</p>
<p>میوزیم کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی منظم ڈکیتی تھی، جس کا منصوبہ شاید پیرس کے لوور میوزیم میں ہونے والی حالیہ چوری سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.reuters.com/resizer/v2/OGXWTGAR6VNCRBS3VOKRDUBNCY.jpg?auth=fe81bc17949ab8fa74565da81054305c7c72ae024032499cf237e69002b28f89&amp;width=960&amp;quality=80'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.reuters.com/resizer/v2/OGXWTGAR6VNCRBS3VOKRDUBNCY.jpg?auth=fe81bc17949ab8fa74565da81054305c7c72ae024032499cf237e69002b28f89&amp;width=960&amp;quality=80'  alt=' (پال سیزان کا فن پارہ کپ اینڈ پلیٹ آف چیریز ۔ چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(پال سیزان کا فن پارہ کپ اینڈ پلیٹ آف چیریز ۔ چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک)</figcaption>
    </figure>
<p>میگنانی روکا فاؤنڈیشن کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ دنیا بھر کے شہرت یافتہ گیلریز اور میوزیمزسے شاہکار فن پارے مستعار لے کر انہیں اپنے ہاں نمائش کے لیے پیش کرتا ہے، جس سے فن کے متوالوں کو ایک ہی چھت تلے عالمی ورثہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30489038'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30489038"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس مقصد کے لیے فاؤنڈیشن نے امریکا میں واقع نیویارک کی ڈیوڈ زوئرنر گیلری اور لاس اینجلس کے مشہورِ زمانہ گیٹی میوزیم جیسے معتبر اداروں کے ساتھ اشتراک کر رکھا ہے،  جس سے اٹلی میں عالمی معیار کے فن پاروں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p>فنون لطیفہ کے شعبے میں اٹلی کے ماہر کارابینیری ہر سال دنیا بھر سے تقریباً ایک لاکھ  چوری شدہ فن پاروں کو بازیاب کرتے ہیں، جن کے پاس چوری شدہ آرٹ ٹریک کرنے کا ایک انتہائی جدید نیٹ ورک موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.reuters.com/resizer/v2/RWTV442IPBKFVCA4DDW6SE46QI.jpg?auth=d895808ab8231fc512420b7a92319505a9252c16220f4a3a5c012d3d5f891b62&amp;width=1080&amp;quality=80'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.reuters.com/resizer/v2/RWTV442IPBKFVCA4DDW6SE46QI.jpg?auth=d895808ab8231fc512420b7a92319505a9252c16220f4a3a5c012d3d5f891b62&amp;width=1080&amp;quality=80'  alt=' (ہنری ماٹیس کا فن پارہ - چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(ہنری ماٹیس کا فن پارہ - چوری شدہ تین پینٹنگز میں سے ایک)</figcaption>
    </figure>
<p>یہ فاؤنڈیشن 1990 میں عوام کے لیے کھولی گئی تھی، جس میں ٹیسیان، البرٹ ڈورر، روبنز، گویا، کانووا، مونیٹ اور مورانڈی کے شاہکار فن پارے شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30489151'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30489151"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پارما کے باغات میں نو کلاسیکل اور ایمپائر طرز کے فرنیچر کے ساتھ شاندار درخت اور نایاب پودے ہیں، اور رنگین و سفید مور آزادانہ طور پر باغ میں گھومتے نظر آتے ہیں، جو یہاں کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی اہمیت کے حامل اس میوزیم میں ہونے والی یہ ڈکیتی نہ صرف قیمتی فنون کی چوری ہے بلکہ اٹلی کے آرٹ سیکٹر کی چیلنجز اور عالمی آرٹ مارکیٹ کی حساسیت کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>اٹلی کا مخصوص آرٹ اسکواڈ اس وقت متحرک ہے، تاہم فی الحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اس بڑی چوری کے باوجود، میوزیم اپنی معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ کھلا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502898</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 13:04:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/3112494803bb1c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/3112494803bb1c7.webp"/>
        <media:title>(پیئر اگست رینوار کا چوری شدہ فن پارہ)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وائٹ ہاؤس کی شاہانہ تزئین و آرائش، ٹرمپ پر طنز کے لیے سنہری ٹوائلٹ نصب</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502892/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن کے ’نیشنل مال‘  پر حال ہی میں ایک ’گولڈن ٹوائلٹ‘ نصب کیا گیا ہے، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں جاری مہنگی تزئین و آرائش کے منصوبوں پر طنز کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگِ مرمر اور سونے کی وضع میں ڈھلے اس شاہی تخت میں نشست کی جگہ ایک ’سنہرا ٹوائلٹ‘ نصب کیا گیا ہے، جس پر لگی ایک تختی اسے ”ایک بادشاہ کے لیے موزوں تخت“ قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30488156'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30488156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس طنزیہ فن پارے میں ایک ٹوائلٹ پیپر رول بھی شامل ہے جس پر ”دی سیکرٹ ہینڈ شیک“ لکھا ہوا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسی نام کے ایک گروپ نے اس سے پہلے بھی ایک متنازعہ مجسمہ بنایا تھا جس میں ٹرمپ کو مرحوم سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ تاہم اس نئے مجسمے کے حوالے سے اس گروپ سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنصیب ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں سیاسی تقسیم اور معاشی مسائل پر بحث جاری ہے، مگر اس فن پارے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدر کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے وائٹ ہاؤس کے باتھ رومز کو سنوارنے تک محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/3111165544b9244.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/3111165544b9244.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مجسمے پر درج عبارت میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بے مثال ملکی تقسیم اور معاشی بحران کے دور میں صدر ٹرمپ نے ان امور پر توجہ مرکوز کی جو ان کے نزدیک واقعی اہمیت رکھتے تھے، جیسے کہ وائٹ ہاؤس کے ’لنکن باتھ روم‘ کی تزئین و آرائش۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30490104'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30490104"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ فن پارہ دراصل ایک ایسے وژنری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ڈھونگ رچاتا ہے جس نے ہر مسئلے کا حل صرف اسے ’سنہرا‘ کر دینے میں تلاش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی تبدیلیاں شروع کر رکھی ہیں، جن میں اوول آفس میں سونے کی ملمع کاری اور ایسٹ ونگ کو گرا کر وہاں ایک وسیع بال روم کی تعمیر شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/311116553afd861.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/311116553afd861.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس انوکھے احتجاجی فن پارے نے امریکی دارالحکومت میں بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے، جس پر وائٹ ہاؤس نے بھی اپنا ردِعمل جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس اور پورے دارالحکومت کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران ’نیشنل پارک سروس‘ نے فی الحال اس احتجاجی مجسمے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن کے ’نیشنل مال‘  پر حال ہی میں ایک ’گولڈن ٹوائلٹ‘ نصب کیا گیا ہے، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں جاری مہنگی تزئین و آرائش کے منصوبوں پر طنز کرنا ہے۔</strong></p>
<p>سنگِ مرمر اور سونے کی وضع میں ڈھلے اس شاہی تخت میں نشست کی جگہ ایک ’سنہرا ٹوائلٹ‘ نصب کیا گیا ہے، جس پر لگی ایک تختی اسے ”ایک بادشاہ کے لیے موزوں تخت“ قرار دیتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30488156'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30488156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس طنزیہ فن پارے میں ایک ٹوائلٹ پیپر رول بھی شامل ہے جس پر ”دی سیکرٹ ہینڈ شیک“ لکھا ہوا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اسی نام کے ایک گروپ نے اس سے پہلے بھی ایک متنازعہ مجسمہ بنایا تھا جس میں ٹرمپ کو مرحوم سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ تاہم اس نئے مجسمے کے حوالے سے اس گروپ سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔</p>
<p>یہ تنصیب ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں سیاسی تقسیم اور معاشی مسائل پر بحث جاری ہے، مگر اس فن پارے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ صدر کی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے وائٹ ہاؤس کے باتھ رومز کو سنوارنے تک محدود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/3111165544b9244.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/3111165544b9244.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس مجسمے پر درج عبارت میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بے مثال ملکی تقسیم اور معاشی بحران کے دور میں صدر ٹرمپ نے ان امور پر توجہ مرکوز کی جو ان کے نزدیک واقعی اہمیت رکھتے تھے، جیسے کہ وائٹ ہاؤس کے ’لنکن باتھ روم‘ کی تزئین و آرائش۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30490104'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30490104"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ فن پارہ دراصل ایک ایسے وژنری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ڈھونگ رچاتا ہے جس نے ہر مسئلے کا حل صرف اسے ’سنہرا‘ کر دینے میں تلاش کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ برس دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی تبدیلیاں شروع کر رکھی ہیں، جن میں اوول آفس میں سونے کی ملمع کاری اور ایسٹ ونگ کو گرا کر وہاں ایک وسیع بال روم کی تعمیر شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/311116553afd861.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/311116553afd861.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس انوکھے احتجاجی فن پارے نے امریکی دارالحکومت میں بحث کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے، جس پر وائٹ ہاؤس نے بھی اپنا ردِعمل جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس اور پورے دارالحکومت کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔</p>
<p>اس دوران ’نیشنل پارک سروس‘ نے فی الحال اس احتجاجی مجسمے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502892</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 11:35:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/311116557aa269d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/311116557aa269d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/311116553afd861.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/311116553afd861.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/3111165544b9244.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/3111165544b9244.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طلاق کا انوکھا جشن، شکرانے کی منت کے لیے لیٹ کر 9 کلومیٹر کا سفر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502887/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک ایسے وقت میں جب ”ڈائیورس پارٹیز“ ٹرینڈ بن رہی ہیں، وہیں  بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بستی کے ایک 25 سالہ نوجوان نے اپنی طلاق کو منفرد انداز میں منایا، جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوگیش نامی اس نوجوان نے اپنی ازدواجی زندگی کی تلخیوں سے نجات ملنے پر مذہبی عقیدت کا راستہ چنا۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوگیش نامی نوجوان نے ہندووں کے مذہبی تہوار نوراتری کے  موقع پر 9 کلومیٹر طویل’دندوت یاترا‘ مکمل کی۔ اس روایت میں عقیدت مند زمین پر مکمل لیٹ کر آگے بڑھتا ہے اور یہی عمل پورے راستے دہراتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502823/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مشکل سفر کے دوران وہ پورے دن روزے سے رہے اور تقریباً 12 گھنٹوں میں اپنا یہ عہد پورا کیا۔ اس دوران وہ مسلسل مذہبی نعرے بلند کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوگیش کی شادی 2022 میں ہوئی تھی، لیکن جلد ہی میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑے شروع ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذہنی تناؤ اور گھریلو ناچاقی سے تنگ آکر انہوں نے عدالت کا رخ کیا، جس کے بعد جنوری 2026 میں قانونی طور پر طلاق کاعمل مکمل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوگیش کے مطابق، انہوں نے مشکل وقت میں منت مانی تھی کہ علیحدگی کی صورت میں وہ یہ یاترا کریں گے۔جوگیش نے روزہ رکھتے ہوئے صبح سویرے سفر شروع کیا اور شام تک مسلسل زمین پر لیٹ کر آگے بڑھتے رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/31100356ddd8ee7.gif'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/31100356ddd8ee7.gif'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سفر کے دوران جوگیش کےکے والدین، بہن بھائی اور گاؤں کے دیگر افراد بھی ان کے ساتھ رہے، جبکہ راستے میں لوگ انہیں دیکھنے اور حوصلہ افزائی کے لیے جمع ہوتے رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502670/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس انوکھی یاترا کے لیے باقاعدہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سے اجازت لی گئی تھی۔ مقامی پولیس نے سڑک پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک کانسٹیبل بھی تعینات کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندر پہنچ کر جوگیش نے پوجا کی، ناریل توڑا اور اپنا روزہ کھول کر اس نئی زندگی کا آغاز کیا جسے وہ اپنے لیے ایک ’سکھ کا سانس‘ قرار دے رہے ہیں۔ جسمانی تھکن اور زخموں کے باوجود ان کے چہرے پر اطمینان اور سکون نمایاں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک ایسے وقت میں جب ”ڈائیورس پارٹیز“ ٹرینڈ بن رہی ہیں، وہیں  بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بستی کے ایک 25 سالہ نوجوان نے اپنی طلاق کو منفرد انداز میں منایا، جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔</strong></p>
<p>جوگیش نامی اس نوجوان نے اپنی ازدواجی زندگی کی تلخیوں سے نجات ملنے پر مذہبی عقیدت کا راستہ چنا۔<br></p>
<p>جوگیش نامی نوجوان نے ہندووں کے مذہبی تہوار نوراتری کے  موقع پر 9 کلومیٹر طویل’دندوت یاترا‘ مکمل کی۔ اس روایت میں عقیدت مند زمین پر مکمل لیٹ کر آگے بڑھتا ہے اور یہی عمل پورے راستے دہراتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502823/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502823"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس مشکل سفر کے دوران وہ پورے دن روزے سے رہے اور تقریباً 12 گھنٹوں میں اپنا یہ عہد پورا کیا۔ اس دوران وہ مسلسل مذہبی نعرے بلند کرتے رہے۔</p>
<p>جوگیش کی شادی 2022 میں ہوئی تھی، لیکن جلد ہی میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑے شروع ہو گئے۔</p>
<p>ذہنی تناؤ اور گھریلو ناچاقی سے تنگ آکر انہوں نے عدالت کا رخ کیا، جس کے بعد جنوری 2026 میں قانونی طور پر طلاق کاعمل مکمل ہوگیا۔</p>
<p>جوگیش کے مطابق، انہوں نے مشکل وقت میں منت مانی تھی کہ علیحدگی کی صورت میں وہ یہ یاترا کریں گے۔جوگیش نے روزہ رکھتے ہوئے صبح سویرے سفر شروع کیا اور شام تک مسلسل زمین پر لیٹ کر آگے بڑھتے رہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/31100356ddd8ee7.gif'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/31100356ddd8ee7.gif'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>سفر کے دوران جوگیش کےکے والدین، بہن بھائی اور گاؤں کے دیگر افراد بھی ان کے ساتھ رہے، جبکہ راستے میں لوگ انہیں دیکھنے اور حوصلہ افزائی کے لیے جمع ہوتے رہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502670/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502670"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس انوکھی یاترا کے لیے باقاعدہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سے اجازت لی گئی تھی۔ مقامی پولیس نے سڑک پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک کانسٹیبل بھی تعینات کیا تھا۔</p>
<p>مندر پہنچ کر جوگیش نے پوجا کی، ناریل توڑا اور اپنا روزہ کھول کر اس نئی زندگی کا آغاز کیا جسے وہ اپنے لیے ایک ’سکھ کا سانس‘ قرار دے رہے ہیں۔ جسمانی تھکن اور زخموں کے باوجود ان کے چہرے پر اطمینان اور سکون نمایاں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502887</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 10:19:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/3110125252162e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/3110125252162e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا میں سرخ آندھی، آسمان خونی ہوگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کے مغربی ساحلی علاقوں میں حال ہی میں ایک ایسا قدرتی منظر دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ سمندری طوفان نریل کے باعث شارک بے اور گردونواح کے علاقوں میں آسمان گہرے خونیں سرخ رنگ میں بدل گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح فضا میں چھائی سرخ دھول نے دن کے اجالے کو ایک خوفناک منظر میں تبدیل کر دیا، جس کی وجہ سے حدِ نگاہ تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499027'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.foxweather.com/weather-news/western-australia-sky-eerie-red-before-tropical-cyclone-narelle-landfall"&gt;فوکس نیوز&lt;/a&gt; کے مطابق ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس عجیب و غریب منظر کی اصل وجہ مٹی اور روشنی کا باہمی ملاپ ہے۔ جب طوفانی ہواؤں نے آسٹریلیا کے بنجر علاقوں سے لوہے کے اجزا پر مشتمل سرخ مٹی کو فضا میں بلند کیا تو اس نے سورج کی روشنی کے لیے ایک فلٹر کا کام کیا۔ سائنسی اعتبار سے اس عمل کو مائی سکیٹرنگ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں مٹی کے باریک ذرات روشنی کی چھوٹی لہروں یعنی نیلے اور سبز رنگ کو بکھیر دیتے ہیں، جبکہ لمبی لہریں یعنی سرخ اور گلابی رنگ زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں، جس سے پورا آسمان سرخ دکھائی دینے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2038225068069658956?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2038225068069658956?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مقامی آبادی کے لیے یہ صورتِ حال کافی مشکل ثابت ہوئی کیونکہ ہر طرف مٹی کی دبیز تہہ جم گئی اور ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین نے اس گرد و غبار کے سرخ طوفان کے دوران شہریوں، خصوصاً سانس اور الرجی کے مریضوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔ فضا میں معلق باریک ذرات پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اسی لیے مقامی انتظامیہ نے حفاظتی ماسک کے استعمال کی بھی ہدایات جاری کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارک بے کے ایک مقامی کاروان پارک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طوفان کے عروج کے وقت ہر چیز گرد میں اٹی ہوئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463583'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463583"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال سنہ 2019 میں آنے والے گرد و غبار کے طوفانوں کی یاد دلاتی ہے جن سے آسٹریلیا کی زراعت اور انفراسٹرکچر کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان پہنچا تھا، مگر اس بار انتظامیہ اور شہری کسی بڑے معاشی بحران سے محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً اڑتالیس گھنٹوں کے بعد جب طوفانی ہوائیں تھم گئیں تو آسمان اپنی اصل نیلی رنگت میں واپس آ گیا، لیکن مقامی لوگ اب بھی گھروں اور کاروباری مقامات سے مٹی صاف کرنے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کائنات میں کبھی کبھی موسمیاتی تبدیلیاں اور زمینی جغرافیہ مل کر ایسے غیر معمولی مناظر تخلیق کرتے ہیں جو بظاہر ڈراؤنے معلوم ہوتے ہیں اور انسان کو خوفزدہ بھی کر دیتے ہیں مگر ان کے پیچھے خالصتاً قدرتی اور سائنسی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کے مغربی ساحلی علاقوں میں حال ہی میں ایک ایسا قدرتی منظر دیکھا گیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ سمندری طوفان نریل کے باعث شارک بے اور گردونواح کے علاقوں میں آسمان گہرے خونیں سرخ رنگ میں بدل گیا۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح فضا میں چھائی سرخ دھول نے دن کے اجالے کو ایک خوفناک منظر میں تبدیل کر دیا، جس کی وجہ سے حدِ نگاہ تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499027'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.foxweather.com/weather-news/western-australia-sky-eerie-red-before-tropical-cyclone-narelle-landfall">فوکس نیوز</a> کے مطابق ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس عجیب و غریب منظر کی اصل وجہ مٹی اور روشنی کا باہمی ملاپ ہے۔ جب طوفانی ہواؤں نے آسٹریلیا کے بنجر علاقوں سے لوہے کے اجزا پر مشتمل سرخ مٹی کو فضا میں بلند کیا تو اس نے سورج کی روشنی کے لیے ایک فلٹر کا کام کیا۔ سائنسی اعتبار سے اس عمل کو مائی سکیٹرنگ کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اس عمل میں مٹی کے باریک ذرات روشنی کی چھوٹی لہروں یعنی نیلے اور سبز رنگ کو بکھیر دیتے ہیں، جبکہ لمبی لہریں یعنی سرخ اور گلابی رنگ زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں، جس سے پورا آسمان سرخ دکھائی دینے لگتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2038225068069658956?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2038225068069658956?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مقامی آبادی کے لیے یہ صورتِ حال کافی مشکل ثابت ہوئی کیونکہ ہر طرف مٹی کی دبیز تہہ جم گئی اور ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔</p>
<p>طبی ماہرین نے اس گرد و غبار کے سرخ طوفان کے دوران شہریوں، خصوصاً سانس اور الرجی کے مریضوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔ فضا میں معلق باریک ذرات پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اسی لیے مقامی انتظامیہ نے حفاظتی ماسک کے استعمال کی بھی ہدایات جاری کیں۔</p>
<p>شارک بے کے ایک مقامی کاروان پارک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طوفان کے عروج کے وقت ہر چیز گرد میں اٹی ہوئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463583'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463583"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ صورتِ حال سنہ 2019 میں آنے والے گرد و غبار کے طوفانوں کی یاد دلاتی ہے جن سے آسٹریلیا کی زراعت اور انفراسٹرکچر کو کروڑوں ڈالرز کا نقصان پہنچا تھا، مگر اس بار انتظامیہ اور شہری کسی بڑے معاشی بحران سے محفوظ رہے۔</p>
<p>تقریباً اڑتالیس گھنٹوں کے بعد جب طوفانی ہوائیں تھم گئیں تو آسمان اپنی اصل نیلی رنگت میں واپس آ گیا، لیکن مقامی لوگ اب بھی گھروں اور کاروباری مقامات سے مٹی صاف کرنے میں مصروف ہیں۔</p>
<p>اس کائنات میں کبھی کبھی موسمیاتی تبدیلیاں اور زمینی جغرافیہ مل کر ایسے غیر معمولی مناظر تخلیق کرتے ہیں جو بظاہر ڈراؤنے معلوم ہوتے ہیں اور انسان کو خوفزدہ بھی کر دیتے ہیں مگر ان کے پیچھے خالصتاً قدرتی اور سائنسی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502861</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 15:02:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/301344214d68eb7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/301344214d68eb7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کی سب سے بڑی میٹھی چوری، لُٹیرے 12 ٹن چاکلیٹ سے بھرا ٹرک لے اُڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502845/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئٹزر لینڈ میں عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر سے قبل ’’کِٹ کیٹ‘‘ چاکلیٹ کی 12 ٹن کھیپ چوری ہوگئی، ٹرک یورپ جاتے ہوئے راستے میں پراسرار طور پر غائب ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.france24.com/en/live-news/20260328-sweet-heist-nestle-says-12-tonnes-of-kitkat-stolen"&gt;میڈیا&lt;/a&gt; کے مطابق نیسلے نے تصدیق کی ہے کہ اس کی مقبول ’کِٹ کیٹ‘ چاکلیٹ کی تقریباً 12 ٹن کھیپ چوری ہوگئی ہے۔ یہ کھیپ گزشتہ ہفتے اٹلی سے پولینڈ منتقل کی جا رہی تھی اور راستے میں مختلف یورپی ممالک میں تقسیم ہونا تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق چوری ہونے والے ٹرک میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 13 ہزار 793 چاکلیٹ بارز لوڈ تھیں، تاہم یہ ٹرک راستے میں کسی نامعلوم مقام پر پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سپلائی چین کے دوران پیش آیا اور تاحال نہ تو ٹرک کا سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی اس میں موجود چاکلیٹ کی کھیپ کا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KITKAT/status/2038313618509377852?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KITKAT/status/2038313618509377852?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نیسلے کے مطابق اس بڑے واقعے کے باعث یورپ کے بعض ممالک میں ایسٹر کے موقع پر ’کِٹ کیٹ‘ چاکلیٹ کی قلت پیدا ہوسکتی ہے، جس سے صارفین کو اپنی پسندیدہ چاکلیٹ حاصل کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چوری شدہ چاکلیٹ غیر سرکاری چینلز کے ذریعے یورپی مارکیٹ میں فروخت کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہر چاکلیٹ بار پر موجود مخصوص کوڈ کے ذریعے ان مصنوعات کو ٹریک کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ کمپنی ہمیشہ لوگوں کو ’کِٹ کیٹ‘ کے ساتھ وقفہ لینے کا مشورہ دیتی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ چوروں نے اس پیغام کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے لیا اور پوری کھیپ ہی لے اڑے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئٹزر لینڈ میں عیسائیوں کے مذہبی تہوار ایسٹر سے قبل ’’کِٹ کیٹ‘‘ چاکلیٹ کی 12 ٹن کھیپ چوری ہوگئی، ٹرک یورپ جاتے ہوئے راستے میں پراسرار طور پر غائب ہوگیا۔</strong></p>
<p>غیر ملکی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.france24.com/en/live-news/20260328-sweet-heist-nestle-says-12-tonnes-of-kitkat-stolen">میڈیا</a> کے مطابق نیسلے نے تصدیق کی ہے کہ اس کی مقبول ’کِٹ کیٹ‘ چاکلیٹ کی تقریباً 12 ٹن کھیپ چوری ہوگئی ہے۔ یہ کھیپ گزشتہ ہفتے اٹلی سے پولینڈ منتقل کی جا رہی تھی اور راستے میں مختلف یورپی ممالک میں تقسیم ہونا تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق چوری ہونے والے ٹرک میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 13 ہزار 793 چاکلیٹ بارز لوڈ تھیں، تاہم یہ ٹرک راستے میں کسی نامعلوم مقام پر پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔</p>
<p>کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سپلائی چین کے دوران پیش آیا اور تاحال نہ تو ٹرک کا سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی اس میں موجود چاکلیٹ کی کھیپ کا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی حکام اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KITKAT/status/2038313618509377852?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KITKAT/status/2038313618509377852?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نیسلے کے مطابق اس بڑے واقعے کے باعث یورپ کے بعض ممالک میں ایسٹر کے موقع پر ’کِٹ کیٹ‘ چاکلیٹ کی قلت پیدا ہوسکتی ہے، جس سے صارفین کو اپنی پسندیدہ چاکلیٹ حاصل کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p>کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چوری شدہ چاکلیٹ غیر سرکاری چینلز کے ذریعے یورپی مارکیٹ میں فروخت کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہر چاکلیٹ بار پر موجود مخصوص کوڈ کے ذریعے ان مصنوعات کو ٹریک کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>ترجمان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ کمپنی ہمیشہ لوگوں کو ’کِٹ کیٹ‘ کے ساتھ وقفہ لینے کا مشورہ دیتی ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ چوروں نے اس پیغام کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے لیا اور پوری کھیپ ہی لے اڑے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502845</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 09:45:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/30094002e5e7d99.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/30094002e5e7d99.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینک کی غلطی نے کسان کی بیوی کو کروڑ پتی بنا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502823/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریاست اتر پردیش کے ضلع مین پوری میں ایک غریب کسان کی اہلیہ نے اپنی دیانتداری سے سب کے دل جیت لیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کی فنی خرابی کے باعث خاتون کے اکاؤنٹ میں اچانک تقریباً 10 کروڑ روپے منتقل ہو گئے، لیکن خاتون نے ایک روپیہ بھی نکالنے سے انکار کر دیا اور حکام کو رقم واپس لینے کی ہدایت کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیو گنج گاؤں کی رہائشی ریتا، جو کہ پیشے سے کسان پارس بھن کی اہلیہ ہیں، نوراتری کے موقع پر رقم نکلوانے بینک گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502654/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502654"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بینک بند ہونے کی وجہ سے وہ  قریبی اے ٹی ایم گئیں تاکہ اپنا بیلنس چیک کر سکیں۔ جب اسکرین پر رقم ظاہر ہوئی تو وہ دنگ رہ گئیں ان کے اکاؤنٹ میں 9,99,49,588 روپے موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی آنکھوں پر یقین نہ آنے پر انہوں نے دوسرے اے ٹی ایم سے دوبارہ چیک کیا اور اسکرین کی ویڈیو بھی بنائی، جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی بڑی رقم دیکھ کر بھی ریتا نے ایک روپیہ تک استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے نہ صرف خود رقم نکالنے سے گریز کیا بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی سخت تاکید کی کہ وہ ان فنڈز کو ہاتھ نہ لگائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریتا کا کہنا تھا کہ ”یہ رقم میری نہیں ہے، اس لیے میں اسے استعمال نہیں کر سکتی۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502619/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;بینک آف انڈیا کے مقامی برانچ منیجر رشی کانت پانڈے کے مطابق، یہ واقعہ کسی تکنیکی خرابی یا ٹرانزیکشن کی غلطی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ برانچ کھلتے ہی اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور غلطی کو درست کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے پورے علاقے میں ریتا کو ہیرو بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین ریتا کی اس غیر معمولی ایمانداری کو سراہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آج کے دور میں جہاں لوگ تھوڑے سے فائدے کے لیے ایمان تک بیچ دیتے ہیں، وہاں ریتا نے دیانت داری کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریاست اتر پردیش کے ضلع مین پوری میں ایک غریب کسان کی اہلیہ نے اپنی دیانتداری سے سب کے دل جیت لیے۔</strong></p>
<p>بینک کی فنی خرابی کے باعث خاتون کے اکاؤنٹ میں اچانک تقریباً 10 کروڑ روپے منتقل ہو گئے، لیکن خاتون نے ایک روپیہ بھی نکالنے سے انکار کر دیا اور حکام کو رقم واپس لینے کی ہدایت کر دی۔</p>
<p>دیو گنج گاؤں کی رہائشی ریتا، جو کہ پیشے سے کسان پارس بھن کی اہلیہ ہیں، نوراتری کے موقع پر رقم نکلوانے بینک گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502654/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502654"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بینک بند ہونے کی وجہ سے وہ  قریبی اے ٹی ایم گئیں تاکہ اپنا بیلنس چیک کر سکیں۔ جب اسکرین پر رقم ظاہر ہوئی تو وہ دنگ رہ گئیں ان کے اکاؤنٹ میں 9,99,49,588 روپے موجود تھے۔</p>
<p>اپنی آنکھوں پر یقین نہ آنے پر انہوں نے دوسرے اے ٹی ایم سے دوبارہ چیک کیا اور اسکرین کی ویڈیو بھی بنائی، جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔</p>
<p>اتنی بڑی رقم دیکھ کر بھی ریتا نے ایک روپیہ تک استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے نہ صرف خود رقم نکالنے سے گریز کیا بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی سخت تاکید کی کہ وہ ان فنڈز کو ہاتھ نہ لگائیں۔</p>
<p>ریتا کا کہنا تھا کہ ”یہ رقم میری نہیں ہے، اس لیے میں اسے استعمال نہیں کر سکتی۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502619/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502619"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><br>بینک آف انڈیا کے مقامی برانچ منیجر رشی کانت پانڈے کے مطابق، یہ واقعہ کسی تکنیکی خرابی یا ٹرانزیکشن کی غلطی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>بینک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ برانچ کھلتے ہی اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور غلطی کو درست کیا جائے گا۔</p>
<p>اس واقعے نے پورے علاقے میں ریتا کو ہیرو بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین ریتا کی اس غیر معمولی ایمانداری کو سراہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آج کے دور میں جہاں لوگ تھوڑے سے فائدے کے لیے ایمان تک بیچ دیتے ہیں، وہاں ریتا نے دیانت داری کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502823</guid>
      <pubDate>Sun, 29 Mar 2026 12:42:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/29123827efac599.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/29123827efac599.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی حملوں کے دوران برج خلیفہ پر بجلی گرنے کی ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دبئی کے آسمان پر قدرت کا ایک سحر انگیز نظارہ اُس وقت دیکھنے کو ملا جب آسمانی بجلی برج خلیفہ کی چوٹی سے ٹکرائی اور اس کے مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر جمعہ کی رات کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں شدید بارش اور طوفان کے دوران بجلی کو برج خلیفہ کی چوٹی پر گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501623'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں بجلی کی چمک واضح طور پر نظر آتی ہے، جسے دیکھ کر صارفین حیران رہ گئے اور انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/_A_khalifa/status/2037271783355932851?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2037271783355932851%7Ctwgr%5E3657f55c67449992fabecba5e8c8553cd4c6bb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.livehindustan.com%2Finternational%2Fburj-khalifa-dubai-bijli-giri-viral-video-get-shocked-amid-iran-missile-attack-201774613637866.html'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/_A_khalifa/status/2037271783355932851?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2037271783355932851%7Ctwgr%5E3657f55c67449992fabecba5e8c8553cd4c6bb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.livehindustan.com%2Finternational%2Fburj-khalifa-dubai-bijli-giri-viral-video-get-shocked-amid-iran-missile-attack-201774613637866.html"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق برج خلیفہ پر بجلی گرنا اس کی غیر معمولی بلندی کا نتیجہ ہے۔ سائنسی طور پر بلند عمارتیں بجلی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں کیونکہ وہ بادلوں کے برقی چارج کے قریب ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی شدید بجلی گرنے کے باوجود عمارت مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28090611a75e14c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28090611a75e14c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ برج خلیفہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے، جس میں ایک طاقتور لائٹننگ راڈ شامل ہے جو بجلی کو اپنی طرف کھینچ کر محفوظ طریقے سے زمین میں منتقل کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظام نہ صرف عمارت بلکہ اردگرد کے علاقوں کو بھی نقصان سے بچاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دبئی، ابوظہبی اور شارجہ میں طوفانی موسم کے باعث گرج چمک اور بارش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501612'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی موسمی نظام نے متحدہ عرب امارات سمیت پورے خطے کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش اور ژالہ باری نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیجی خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28091913ae7c2ba.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28091913ae7c2ba.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں سوشل میڈیا پر برج خلیفہ کے قریب دھماکوں اور دھوئیں کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت بعض اوقات ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دبئی کے آسمان پر قدرت کا ایک سحر انگیز نظارہ اُس وقت دیکھنے کو ملا جب آسمانی بجلی برج خلیفہ کی چوٹی سے ٹکرائی اور اس کے مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر جمعہ کی رات کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں شدید بارش اور طوفان کے دوران بجلی کو برج خلیفہ کی چوٹی پر گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501623'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501623"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو میں بجلی کی چمک واضح طور پر نظر آتی ہے، جسے دیکھ کر صارفین حیران رہ گئے اور انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی۔</p>
<p>تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/_A_khalifa/status/2037271783355932851?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2037271783355932851%7Ctwgr%5E3657f55c67449992fabecba5e8c8553cd4c6bb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.livehindustan.com%2Finternational%2Fburj-khalifa-dubai-bijli-giri-viral-video-get-shocked-amid-iran-missile-attack-201774613637866.html'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/_A_khalifa/status/2037271783355932851?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2037271783355932851%7Ctwgr%5E3657f55c67449992fabecba5e8c8553cd4c6bb73%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.livehindustan.com%2Finternational%2Fburj-khalifa-dubai-bijli-giri-viral-video-get-shocked-amid-iran-missile-attack-201774613637866.html"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق برج خلیفہ پر بجلی گرنا اس کی غیر معمولی بلندی کا نتیجہ ہے۔ سائنسی طور پر بلند عمارتیں بجلی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں کیونکہ وہ بادلوں کے برقی چارج کے قریب ہوتی ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی شدید بجلی گرنے کے باوجود عمارت مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28090611a75e14c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28090611a75e14c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ برج خلیفہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے، جس میں ایک طاقتور لائٹننگ راڈ شامل ہے جو بجلی کو اپنی طرف کھینچ کر محفوظ طریقے سے زمین میں منتقل کر دیتا ہے۔</p>
<p>یہ نظام نہ صرف عمارت بلکہ اردگرد کے علاقوں کو بھی نقصان سے بچاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دبئی، ابوظہبی اور شارجہ میں طوفانی موسم کے باعث گرج چمک اور بارش میں اضافہ ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501612'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی موسمی نظام نے متحدہ عرب امارات سمیت پورے خطے کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش اور ژالہ باری نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیجی خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28091913ae7c2ba.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/28091913ae7c2ba.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ماضی میں سوشل میڈیا پر برج خلیفہ کے قریب دھماکوں اور دھوئیں کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت بعض اوقات ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502763</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Mar 2026 10:22:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/28085409c517b86.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/28085409c517b86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ میں کم عمر بچوں کے لیے اسکرین استعمال پر مکمل پابندی کی سفارش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502752/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ نے بچوں کے اسکرین استعمال محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کر دیں، حکام کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم نیند، کھیل اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/uk-joins-global-push-rein-childrens-screen-use-with-national-guidance-2026-03-27/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق برطانیہ نے بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کرتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ دو سال سے کم عمر چوں کو اسکرین سے مکمل دور رکھا جائے، جب کہ دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے  اس کا استعمال روزانہ ایک گھنٹے تک محدود رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک اکیلے اسکرین استعمال کرنے سے بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے اور یہ کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کے آن لائن استعمال سے متعلق قوانین سخت کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ فرانس، ڈنمارک اور نیدرلینڈز جیسے ممالک نے ذہنی صحت، سائبر بُلنگ اور نقصان دہ مواد تک رسائی کے خدشات کے پیش نظر نئی پابندیوں اور عمر کی تصدیق کے اقدامات پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات ٹیبلٹ، ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے استعمال سے متعلق اب تک کا سب سے واضح حکومتی مؤقف ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ والدین کو اب تک اس معاملے میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501295/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تین سے پانچ سال کے بچوں کے والدین میں سے ایک چوتھائی نے اعتراف کیا کہ انہیں بچوں کے اسکرین ٹائم کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جب کہ تقریباً 98 فی صد دو سالہ بچے روزانہ اسکرین استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات اور سونے سے ایک گھنٹہ قبل اسکرین کے استعمال سے گریز کیا جائے اور بچوں کو ان کی عمر کے مطابق سادہ اور آہستہ رفتار مواد دکھایا جائے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اسکرین استعمال کریں تاکہ ان کی زبان اور سماجی مہارتوں کی نشوونما میں مدد ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ حکومت والدین کو اس چیلنج میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے دور میں واضح اور قابل عمل رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502710/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کی ایک کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کم عمر بچوں کو تیز رفتار سوشل میڈیا ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کچھ کھلونوں سے دور رکھا جائے، تاہم خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی عائد نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بڑے بچوں کے لیے کبھی آن لائن تحفظ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر کی حد، رات کے اوقات میں پابندیاں اور اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، امریکا میں ایک جیوری نے حال ہی میں میٹا اور گوگل کو ایک مقدمے میں غفلت کا مرتکب قرار دیا، جس میں الزام تھا کہ ان کے پلیٹ فارمز کی کچھ خصوصیات نے ایک کم عمر صارف کو نقصان پہنچایا اور یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مزید مقدمات کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ نے بچوں کے اسکرین استعمال محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کر دیں، حکام کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم نیند، کھیل اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>برطانی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/technology/uk-joins-global-push-rein-childrens-screen-use-with-national-guidance-2026-03-27/">رائٹرز</a> کے مطابق برطانیہ نے بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کرتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ دو سال سے کم عمر چوں کو اسکرین سے مکمل دور رکھا جائے، جب کہ دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے  اس کا استعمال روزانہ ایک گھنٹے تک محدود رکھا جائے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک اکیلے اسکرین استعمال کرنے سے بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے اور یہ کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کے آن لائن استعمال سے متعلق قوانین سخت کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ فرانس، ڈنمارک اور نیدرلینڈز جیسے ممالک نے ذہنی صحت، سائبر بُلنگ اور نقصان دہ مواد تک رسائی کے خدشات کے پیش نظر نئی پابندیوں اور عمر کی تصدیق کے اقدامات پر زور دیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات ٹیبلٹ، ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے استعمال سے متعلق اب تک کا سب سے واضح حکومتی مؤقف ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ والدین کو اب تک اس معاملے میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501295/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501295"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تین سے پانچ سال کے بچوں کے والدین میں سے ایک چوتھائی نے اعتراف کیا کہ انہیں بچوں کے اسکرین ٹائم کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جب کہ تقریباً 98 فی صد دو سالہ بچے روزانہ اسکرین استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات اور سونے سے ایک گھنٹہ قبل اسکرین کے استعمال سے گریز کیا جائے اور بچوں کو ان کی عمر کے مطابق سادہ اور آہستہ رفتار مواد دکھایا جائے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اسکرین استعمال کریں تاکہ ان کی زبان اور سماجی مہارتوں کی نشوونما میں مدد ملے۔</p>
<p>وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ حکومت والدین کو اس چیلنج میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے دور میں واضح اور قابل عمل رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30502710/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30502710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کی ایک کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کم عمر بچوں کو تیز رفتار سوشل میڈیا ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کچھ کھلونوں سے دور رکھا جائے، تاہم خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی عائد نہ کی جائے۔</p>
<p>ادھر برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بڑے بچوں کے لیے کبھی آن لائن تحفظ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر کی حد، رات کے اوقات میں پابندیاں اور اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی شامل ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، امریکا میں ایک جیوری نے حال ہی میں میٹا اور گوگل کو ایک مقدمے میں غفلت کا مرتکب قرار دیا، جس میں الزام تھا کہ ان کے پلیٹ فارمز کی کچھ خصوصیات نے ایک کم عمر صارف کو نقصان پہنچایا اور یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مزید مقدمات کو متاثر کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502752</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 17:20:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/271712198e70bcb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/271712198e70bcb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقابلہ حسن کے دوران ماڈل کے دانت گر گئے، ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502747/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھائی لینڈ میں معروف مقابلۂ حسن ”مس گرینڈ تھائی لینڈ 2026“ کے دوران امیدوار کے مصنوعی دانت تقریر کے دوران اسٹیج پر نکل کر گر گئے، تاہم انہوں نے نہایت چابک دستی اور خود اعتمادی سے صورتِ حال کو سنبھال لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقابلے میں شریک امیدوار کملوان چناگو جب اسٹیج پر اپنا تعارف کروانے کے لیے مائیک کے سامنے پہنچیں اور بولنا شروع کیا، تو اچانک ان کے ڈینٹل وینیئرز منہ سے نکل گئے، فوراً ہی انہوں نےاپنا اینگل تبدیل کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے انہیں لگالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر ایسے لمحات کسی بھی فنکار یا ماڈل کے لیے شدید شرمندگی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن کملوان چناگو نے کمال کی حاضر دماغی اور مہارت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دانت باہر آتے ہی ہلکا سا اپنا رخ تبدیل کیا اور انہیں ہاتھ سے واپس لگالیا اور چہرے پر مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے اپنا تعارف مکمل کیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PeriodismoP_Ec/status/2037230385449337291?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PeriodismoP_Ec/status/2037230385449337291?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے اس پُراعتماد انداز نے حاضرین کو متاثر کیا اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایوننگ گاؤن کے مرحلے میں بھی بھرپور انداز میں شرکت کی اور مسکراتے ہوئے اپنی پرفارمنس مکمل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے حوصلے، اعتماد اور پیشہ ورانہ رویے کو سراہا ہے۔ مبصرین کے مطابق انہوں نے ایک ممکنہ شرمندگی کے لمحے کو اپنی ذہانت اور حوصلے سے ایک مثبت اور متاثر کن لمحے میں تبدیل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق حسن کے مقابلوں میں شرکاء پر ظاہری خوبصورتی کے لیے شدید دباؤ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر امیدوار ’کاسمیٹک ڈینٹسٹری‘ کا سہارا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ مقابلے کا فائنل مرحلہ ہفتے کے روز منعقد ہوگا، جس کی فاتح امیدوار عالمی مقابلہ &lt;em&gt;مس گرینڈ انٹرنیشنل 2026&lt;/em&gt; میں تھائی لینڈ کی نمائندگی کرے گی، جو بھارت میں منعقد ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تھائی لینڈ میں معروف مقابلۂ حسن ”مس گرینڈ تھائی لینڈ 2026“ کے دوران امیدوار کے مصنوعی دانت تقریر کے دوران اسٹیج پر نکل کر گر گئے، تاہم انہوں نے نہایت چابک دستی اور خود اعتمادی سے صورتِ حال کو سنبھال لیا۔</strong></p>
<p>مقابلے میں شریک امیدوار کملوان چناگو جب اسٹیج پر اپنا تعارف کروانے کے لیے مائیک کے سامنے پہنچیں اور بولنا شروع کیا، تو اچانک ان کے ڈینٹل وینیئرز منہ سے نکل گئے، فوراً ہی انہوں نےاپنا اینگل تبدیل کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے انہیں لگالیا۔</p>
<p>عام طور پر ایسے لمحات کسی بھی فنکار یا ماڈل کے لیے شدید شرمندگی کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن کملوان چناگو نے کمال کی حاضر دماغی اور مہارت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دانت باہر آتے ہی ہلکا سا اپنا رخ تبدیل کیا اور انہیں ہاتھ سے واپس لگالیا اور چہرے پر مسکراہٹ برقرار رکھتے ہوئے اپنا تعارف مکمل کیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PeriodismoP_Ec/status/2037230385449337291?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PeriodismoP_Ec/status/2037230385449337291?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ان کے اس پُراعتماد انداز نے حاضرین کو متاثر کیا اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ بعد ازاں انہوں نے ایوننگ گاؤن کے مرحلے میں بھی بھرپور انداز میں شرکت کی اور مسکراتے ہوئے اپنی پرفارمنس مکمل کی۔</p>
<p>واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے حوصلے، اعتماد اور پیشہ ورانہ رویے کو سراہا ہے۔ مبصرین کے مطابق انہوں نے ایک ممکنہ شرمندگی کے لمحے کو اپنی ذہانت اور حوصلے سے ایک مثبت اور متاثر کن لمحے میں تبدیل کر دیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق حسن کے مقابلوں میں شرکاء پر ظاہری خوبصورتی کے لیے شدید دباؤ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر امیدوار ’کاسمیٹک ڈینٹسٹری‘ کا سہارا لیتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ مقابلے کا فائنل مرحلہ ہفتے کے روز منعقد ہوگا، جس کی فاتح امیدوار عالمی مقابلہ <em>مس گرینڈ انٹرنیشنل 2026</em> میں تھائی لینڈ کی نمائندگی کرے گی، جو بھارت میں منعقد ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502747</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 15:37:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/2715291107d4a7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/2715291107d4a7c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی ساحل بندرعباس پر جنگ کے سائے، معصوم بچی کی جھولا جھولتی ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502745/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی شہر بندر عباس میں جنگ کے اثرات کے درمیان ایک منفرد منظر نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ تصویر میں ایک کمسن بچی ساحل سمندر پر جھولے جھولتی نظر آتی ہے، جبکہ اس کے پیچھے دھوئیں کے بادل واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یہ دھواں ایک قریبی بحری اڈے پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد اٹھ رہا ہے۔ اگرچہ حملے کی تفصیلات اور نقصان کے بارے میں حکام کی جانب سے مکمل معلومات سامنے نہیں آئیں، تاہم علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheInsiderPaper/status/2037450060007653823?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheInsiderPaper/status/2037450060007653823?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کو صارفین جنگ اور عام زندگی کے تضاد کی علامت قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک طرف حملوں اور تباہی کے مناظر ہیں تو دوسری جانب معصوم بچی اپنی دنیا میں مگن دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کشیدہ حالات کے باوجود عام شہری، خصوصاً بچے، اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی شہر بندر عباس میں جنگ کے اثرات کے درمیان ایک منفرد منظر نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ تصویر میں ایک کمسن بچی ساحل سمندر پر جھولے جھولتی نظر آتی ہے، جبکہ اس کے پیچھے دھوئیں کے بادل واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹس کے مطابق یہ دھواں ایک قریبی بحری اڈے پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد اٹھ رہا ہے۔ اگرچہ حملے کی تفصیلات اور نقصان کے بارے میں حکام کی جانب سے مکمل معلومات سامنے نہیں آئیں، تاہم علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TheInsiderPaper/status/2037450060007653823?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheInsiderPaper/status/2037450060007653823?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کو صارفین جنگ اور عام زندگی کے تضاد کی علامت قرار دے رہے ہیں، جہاں ایک طرف حملوں اور تباہی کے مناظر ہیں تو دوسری جانب معصوم بچی اپنی دنیا میں مگن دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کشیدہ حالات کے باوجود عام شہری، خصوصاً بچے، اپنی روزمرہ زندگی جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502745</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Mar 2026 15:27:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/27145917faf877c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/27145917faf877c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا تل ابیب میں کوؤں کا غول، برا شگون یا تباہی کی علامت؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502713/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کے شہر تل ابیب کے آسمان پر ہزاروں کوؤں کی بیک وقت پرواز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اس پراسرار اور غیر معمولی منظر نے جہاں شہریوں میں تجسس پیدا کیا ہے، وہی تشویش کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بالخصوص ایکس پر صارفین کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوؤں کے غول کے غول شہر کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر انٹرنیٹ صارفین مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.facebook.com/reel/25958450380522433'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/25958450380522433" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کئی صارفین نے اسے اسرائیل کے لیے نحوست یا بڑی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے کو اسرائیل کے لیے ’برا شگون‘ بھی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Jvnior/status/2036677697674289208?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Jvnior/status/2036677697674289208?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”ایسا منظر کوئی بھی ملک کبھی نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ یہ سب مکمل تباہی کی علامت ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تل ابیب کے آسمان پر ہزاروں کّووں کا ایک ساتھ اڑنا، اسے بہت سے لوگ ”عذاب کا پیش خیمہ“ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بعد اکثر تباہی آتی ہے، اور یہ ایک نہایت نایاب منظر ہے جسے کوئی ملک دیکھنا نہیں چاہتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/HousebotGuy/status/2036644131293081989?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/HousebotGuy/status/2036644131293081989?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جہاں سوشل میڈیا پر اسے مافوق الفطرت واقعات سے جوڑا جا رہا ہے، وہیں سائنسی ماہرین اور پرندہ شناسوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خالصتاً فطری عمل ہے جس کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غول کے غول کّوؤں کے جھنڈ کا پرواز کرنا، ان کی نقل مکانی ہوسکتی ہے جوموسم کی تبدیلی کے باعث محفوظ اور گرم مقامات کی تلاش، یا وافر خوراک کے حصول کے لیے ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ایک دفاعی حکمتِ عملی بھی ہوسکتی ہے، جس میں پرندے شکاریوں سے بچاؤ اور اپنی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بڑے غول بنا کر اڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منظر بصری طور پر حیران کن ہے، لیکن اسے کسی بھی قسم کی آفات یا سیاسی حالات سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ یہ پرندوں کی زندگی کا ایک عام حصہ ہے جو وقت اور ضرورت کے مطابق پیش آتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل کے شہر تل ابیب کے آسمان پر ہزاروں کوؤں کی بیک وقت پرواز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اس پراسرار اور غیر معمولی منظر نے جہاں شہریوں میں تجسس پیدا کیا ہے، وہی تشویش کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، بالخصوص ایکس پر صارفین کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوؤں کے غول کے غول شہر کے اوپر منڈلا رہے ہیں۔ ان مناظر کو دیکھ کر انٹرنیٹ صارفین مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.facebook.com/reel/25958450380522433'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-post" data-href="https://www.facebook.com/reel/25958450380522433" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure>
<p>کئی صارفین نے اسے اسرائیل کے لیے نحوست یا بڑی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے کو اسرائیل کے لیے ’برا شگون‘ بھی قرار دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Jvnior/status/2036677697674289208?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Jvnior/status/2036677697674289208?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ”ایسا منظر کوئی بھی ملک کبھی نہیں دیکھنا چاہتا، کیونکہ یہ سب مکمل تباہی کی علامت ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تل ابیب کے آسمان پر ہزاروں کّووں کا ایک ساتھ اڑنا، اسے بہت سے لوگ ”عذاب کا پیش خیمہ“ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بعد اکثر تباہی آتی ہے، اور یہ ایک نہایت نایاب منظر ہے جسے کوئی ملک دیکھنا نہیں چاہتا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/HousebotGuy/status/2036644131293081989?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/HousebotGuy/status/2036644131293081989?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جہاں سوشل میڈیا پر اسے مافوق الفطرت واقعات سے جوڑا جا رہا ہے، وہیں سائنسی ماہرین اور پرندہ شناسوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خالصتاً فطری عمل ہے جس کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>یہ غول کے غول کّوؤں کے جھنڈ کا پرواز کرنا، ان کی نقل مکانی ہوسکتی ہے جوموسم کی تبدیلی کے باعث محفوظ اور گرم مقامات کی تلاش، یا وافر خوراک کے حصول کے لیے ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ایک دفاعی حکمتِ عملی بھی ہوسکتی ہے، جس میں پرندے شکاریوں سے بچاؤ اور اپنی حفاظت یقینی بنانے کے لیے بڑے غول بنا کر اڑتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منظر بصری طور پر حیران کن ہے، لیکن اسے کسی بھی قسم کی آفات یا سیاسی حالات سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ یہ پرندوں کی زندگی کا ایک عام حصہ ہے جو وقت اور ضرورت کے مطابق پیش آتا رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502713</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Mar 2026 16:01:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/261550465102e52.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/261550465102e52.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مچھر آپ کو ہی کیوں کاٹتے ہیں؟ وہ وجوہات جو آپ کو پسندیدہ ڈنر بناتی ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502700/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مچھر سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ آپ کا وہم نہیں بلکہ درست ہے، اس کے پیچھے ٹھوس سائنسی وجوہات کارفرما ہیں۔ سائنسدانوں نے ایک طویل تحقیق کے بعد اس معمے کو حل کر لیا ہے کہ مچھر اپنے شکار کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں اور کیوں کچھ لوگ ان کے لیے ”مقناطیس“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق مچھر کسی ایک خاص اشارے پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف ماحولیاتی عوامل کے تحت ردعمل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں کا گروہ یا جھنڈ کسی لیڈر کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ ہر مچھر آزادانہ طور پر اپنے حواس کا استعمال کرتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کسی ایک شخص پر اس لیے اکٹھے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں موجود کشش کے محرکات ان سب کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں سب سے بنیادی کردار کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری علامات کا ہے۔ یاد رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ انسانی سانس کے ذریعے بھی خارج ہوتی ہے اور فضا یا کسی خاص ایریا میں بھی موجود ہوسکتی ہے یا اس کے مختلف عوامل بھی ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463053'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب مچھر کو فضا میں گیس کی بو آتی ہے، تو وہ فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے اور گہرے رنگوں یا حرکت کرتی ہوئی چیزوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.science.org/doi/10.1126/sciadv.adz7063"&gt;تحقیق کے مطابق&lt;/a&gt; یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری اشارے یعنی  رنگ مچھروں کو ہدف کی طرف کھینچنے میں سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنے شکار کے قریب پہنچ کر دیگر عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ مچھر ڈارک رنگ یا کالے رنگ کی طرف زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانوں کے درمیان مچھروں کی پسندیدگی کا فرق دراصل ان کے پسینے اور جلد کی کیمیا میں چھپا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے پسینے میں موجود مختلف کیمیکلز اور خاص طور پر کاربو آکسیلک ایسڈزکی مخصوص مقدار بعض افراد کو مچھروں کے لیے دوسروں کی نسبت زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/_irnoXS4Dko?si=xSS5-J_Us0AwYTeE'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/_irnoXS4Dko?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہر انسان کے جسم کی بو اور اس میں موجود مرکبات کی شرح مختلف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں موجود دو افراد میں سے مچھر کسی ایک کا انتخاب کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتخاب میں انسانی جسم سے نکلنے والی حرارت اور نمی بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو مچھر کو عین ہدف پر بیٹھنے میں مدد دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ مچھروں کی مختلف اقسام کی پسند بھی مختلف ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے لیے بہت زیادہ پرکشش ہے، تو ممکن ہے کہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر اسے زیادہ اہمیت نہ دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/26114919e5c37de.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/26114919e5c37de.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سب مچھروں کے انٹینا پر موجود مخصوص ریسیپٹرز کا کمال ہے جو پسینے میں موجود مختلف کیمیکلز کو پہچانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جارجیا ٹیک کے محقق کرسٹوفر ژو اور ان کی ٹیم نے تین مختلف تجربات کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مچھر، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری اشاروں (Visual Cues) کو آپس میں کیسے جوڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30398481'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30398481"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ مچھر کسی ”چھوٹے روبوٹ“ کی طرح کام کرتے ہیں، جو اپنے ماحول سے ملنے والے سگنلز کے مطابق پہلے سے طے شدہ اصولوں کے تحت پرواز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے نتائج سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں مچھروں کے ان اصولوں کو سمجھنے سے ملیریا اور زیکا جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف زیادہ مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں گے، جو ہر سال دنیا بھر میں سات لاکھ سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مچھر سب کو چھوڑ کر صرف آپ ہی کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ آپ کا وہم نہیں بلکہ درست ہے، اس کے پیچھے ٹھوس سائنسی وجوہات کارفرما ہیں۔ سائنسدانوں نے ایک طویل تحقیق کے بعد اس معمے کو حل کر لیا ہے کہ مچھر اپنے شکار کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں اور کیوں کچھ لوگ ان کے لیے ”مقناطیس“ کی حیثیت رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>تحقیق کے مطابق مچھر کسی ایک خاص اشارے پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف ماحولیاتی عوامل کے تحت ردعمل دیتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں کا گروہ یا جھنڈ کسی لیڈر کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ ہر مچھر آزادانہ طور پر اپنے حواس کا استعمال کرتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔ وہ کسی ایک شخص پر اس لیے اکٹھے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں موجود کشش کے محرکات ان سب کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>اس عمل میں سب سے بنیادی کردار کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری علامات کا ہے۔ یاد رہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ انسانی سانس کے ذریعے بھی خارج ہوتی ہے اور فضا یا کسی خاص ایریا میں بھی موجود ہوسکتی ہے یا اس کے مختلف عوامل بھی ہوسکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30463053'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30463053"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب مچھر کو فضا میں گیس کی بو آتی ہے، تو وہ فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے اور گہرے رنگوں یا حرکت کرتی ہوئی چیزوں کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔</p>
<p>سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.science.org/doi/10.1126/sciadv.adz7063">تحقیق کے مطابق</a> یہ بات سامنے آئی ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری اشارے یعنی  رنگ مچھروں کو ہدف کی طرف کھینچنے میں سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنے شکار کے قریب پہنچ کر دیگر عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ مچھر ڈارک رنگ یا کالے رنگ کی طرف زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>انسانوں کے درمیان مچھروں کی پسندیدگی کا فرق دراصل ان کے پسینے اور جلد کی کیمیا میں چھپا ہے۔</p>
<p>ہمارے پسینے میں موجود مختلف کیمیکلز اور خاص طور پر کاربو آکسیلک ایسڈزکی مخصوص مقدار بعض افراد کو مچھروں کے لیے دوسروں کی نسبت زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://youtu.be/_irnoXS4Dko?si=xSS5-J_Us0AwYTeE'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/_irnoXS4Dko?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہر انسان کے جسم کی بو اور اس میں موجود مرکبات کی شرح مختلف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں موجود دو افراد میں سے مچھر کسی ایک کا انتخاب کر لیتے ہیں۔</p>
<p>اس انتخاب میں انسانی جسم سے نکلنے والی حرارت اور نمی بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو مچھر کو عین ہدف پر بیٹھنے میں مدد دیتی ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ مچھروں کی مختلف اقسام کی پسند بھی مختلف ہوتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے لیے بہت زیادہ پرکشش ہے، تو ممکن ہے کہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر اسے زیادہ اہمیت نہ دیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/26114919e5c37de.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/03/26114919e5c37de.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ سب مچھروں کے انٹینا پر موجود مخصوص ریسیپٹرز کا کمال ہے جو پسینے میں موجود مختلف کیمیکلز کو پہچانتے ہیں۔</p>
<p>جارجیا ٹیک کے محقق کرسٹوفر ژو اور ان کی ٹیم نے تین مختلف تجربات کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ مچھر، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بصری اشاروں (Visual Cues) کو آپس میں کیسے جوڑتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30398481'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30398481"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا ہے کہ مچھر کسی ”چھوٹے روبوٹ“ کی طرح کام کرتے ہیں، جو اپنے ماحول سے ملنے والے سگنلز کے مطابق پہلے سے طے شدہ اصولوں کے تحت پرواز کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق کے نتائج سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں مچھروں کے ان اصولوں کو سمجھنے سے ملیریا اور زیکا جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف زیادہ مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں گے، جو ہر سال دنیا بھر میں سات لاکھ سے زائد انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502700</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Mar 2026 12:40:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/261220007c90d36.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/261220007c90d36.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کتنا لمبا جئیں گے؟ جسم کی ایک سادہ پیمائش سے عمر کا اندازہ ممکن</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502670/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام طور پر صحت اور لمبی زندگی کا اندازہ وزن یا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) سے لگایا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین اب ایک نئے اور سادہ پیمانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور وہ یہ کہ انسان کی پنڈلیوں کا گھیراؤ یہ بتا سکتا ہے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے اور بڑھاپے میں صحت کی حالت کیسی رہے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورولوجسٹ ڈاکٹر سدھیر کمار حیدرآباد بھارت کے اپولو ہسپتال سے وابستہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں وضاحت کی ہے کہ عام طور پر لوگ صحت کو جانچنے کے لیے وزن یا باڈی ماس انڈیکس پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اصل اشارہ جسم کے نچلے حصے یعنی پنڈلیوں میں موجود پٹھوں کی مقدار میں چھپا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491828'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں کمی دراصل جسم میں پٹھوں کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے جسے طبی زبان میں سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت جسمانی کمزوری، بیماری کے دوران پیچیدگیوں اور بڑھاپے میں زیادہ کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ صرف وزن ٹھیک ہونا ہمیشہ اچھی صحت کی ضمانت نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر سدھیر کمار نے مختلف طبی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنڈلی کے کم سائز اور زیادہ شرح اموات کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض بڑے سائنسی تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کی پنڈلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/hyderabaddoctor/status/2036085445818544499?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/hyderabaddoctor/status/2036085445818544499?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ موت کے خطرے میں تقریباً پانچ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مردوں اور عورتوں کے لیے ایک عمومی معیار بھی بتایا جس کے مطابق اگر مردوں میں پنڈلی کا گھیراؤ 34 سینٹی میٹر سے کم ہو اور خواتین میں 33 سینٹی میٹر سے کم ہو تو یہ کمزوری اور زیادہ صحت کے خطرات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں گرنے، فریکچر اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ اعصاب کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے پٹھے قدرتی طور پر کم ہونے لگتے ہیں، لیکن اس عمل کو سست یا روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے طاقت بڑھانے والی ورزشیں، خاص طور پر ویٹ ٹریننگ، بہت ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیورولوجسٹ ڈاکٹر کمار کا کہنا ہے کہ پٹھوں کی مضبوطی صرف خوبصورتی یا فٹنس کا معاملہ نہیں بلکہ یہ صحت مند اور طویل زندگی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498385'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498385"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ صحت کا اندازہ صرف وزن یا ترازو پر موجود عدد سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ جسم میں پٹھوں کی حالت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مضبوط پنڈلیاں نہ صرف جسمانی طاقت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ یہ طویل اور صحت مند زندگی کی ایک اہم علامت بھی ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان معلومات پر جہاں کچھ لوگوں نے مثبت ردِ عمل دیا ہے وہیں صارفین مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے، کیونکہ ان دعووں کی کوئی توثیق یا تحقیق موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کا کہنا ہے کہ صرف پنڈلی کا سائز دیکھ کر یہ کہنا کہ کوئی شخص زیادہ یا کم عمر جئے گا، یہ بات سائنسی طور پر یا حتمی طور پر ثابت نہیں۔ صحت اور عمر پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جیسے دل کی صحت، خوراک، جینیات، ورزش، بیماریوں کی تاریخ وغیرہ۔ اس لیے پنڈلی کا سائز ایک مددگار اشارہ ہو سکتا ہے، مگر اس وقت تک فیصلہ کن یا واحد معیار نہیں مانا جاسکتا جب تک اس پر تحقیق نہ کی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عام طور پر صحت اور لمبی زندگی کا اندازہ وزن یا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) سے لگایا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین اب ایک نئے اور سادہ پیمانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور وہ یہ کہ انسان کی پنڈلیوں کا گھیراؤ یہ بتا سکتا ہے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے اور بڑھاپے میں صحت کی حالت کیسی رہے گی۔</strong></p>
<p>نیورولوجسٹ ڈاکٹر سدھیر کمار حیدرآباد بھارت کے اپولو ہسپتال سے وابستہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں وضاحت کی ہے کہ عام طور پر لوگ صحت کو جانچنے کے لیے وزن یا باڈی ماس انڈیکس پر توجہ دیتے ہیں، لیکن اصل اشارہ جسم کے نچلے حصے یعنی پنڈلیوں میں موجود پٹھوں کی مقدار میں چھپا ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30491828'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30491828"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں کمی دراصل جسم میں پٹھوں کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے جسے طبی زبان میں سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت جسمانی کمزوری، بیماری کے دوران پیچیدگیوں اور بڑھاپے میں زیادہ کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ صرف وزن ٹھیک ہونا ہمیشہ اچھی صحت کی ضمانت نہیں ہوتا۔</p>
<p>ڈاکٹر سدھیر کمار نے مختلف طبی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنڈلی کے کم سائز اور زیادہ شرح اموات کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض بڑے سائنسی تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کی پنڈلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/hyderabaddoctor/status/2036085445818544499?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/hyderabaddoctor/status/2036085445818544499?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ موت کے خطرے میں تقریباً پانچ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مردوں اور عورتوں کے لیے ایک عمومی معیار بھی بتایا جس کے مطابق اگر مردوں میں پنڈلی کا گھیراؤ 34 سینٹی میٹر سے کم ہو اور خواتین میں 33 سینٹی میٹر سے کم ہو تو یہ کمزوری اور زیادہ صحت کے خطرات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں گرنے، فریکچر اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرِ اعصاب کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے پٹھے قدرتی طور پر کم ہونے لگتے ہیں، لیکن اس عمل کو سست یا روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے طاقت بڑھانے والی ورزشیں، خاص طور پر ویٹ ٹریننگ، بہت ضروری ہیں۔</p>
<p>نیورولوجسٹ ڈاکٹر کمار کا کہنا ہے کہ پٹھوں کی مضبوطی صرف خوبصورتی یا فٹنس کا معاملہ نہیں بلکہ یہ صحت مند اور طویل زندگی کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498385'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498385"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ صحت کا اندازہ صرف وزن یا ترازو پر موجود عدد سے نہیں لگایا جانا چاہیے، بلکہ جسم میں پٹھوں کی حالت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ مضبوط پنڈلیاں نہ صرف جسمانی طاقت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ یہ طویل اور صحت مند زندگی کی ایک اہم علامت بھی ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ان معلومات پر جہاں کچھ لوگوں نے مثبت ردِ عمل دیا ہے وہیں صارفین مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے، کیونکہ ان دعووں کی کوئی توثیق یا تحقیق موجود نہیں۔</p>
<p>صارفین کا کہنا ہے کہ صرف پنڈلی کا سائز دیکھ کر یہ کہنا کہ کوئی شخص زیادہ یا کم عمر جئے گا، یہ بات سائنسی طور پر یا حتمی طور پر ثابت نہیں۔ صحت اور عمر پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں جیسے دل کی صحت، خوراک، جینیات، ورزش، بیماریوں کی تاریخ وغیرہ۔ اس لیے پنڈلی کا سائز ایک مددگار اشارہ ہو سکتا ہے، مگر اس وقت تک فیصلہ کن یا واحد معیار نہیں مانا جاسکتا جب تک اس پر تحقیق نہ کی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502670</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 14:59:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/25150136efad1c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/25150136efad1c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جہاز اُڑانے میں 11 سالہ بچے کی مہارت نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502654/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیلیفورنیا کے آکسنارڈ ایئرپورٹ سے ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں محض 11 سال کی عمر میں رشی نامی کمسن پائلٹ کو تربیتی پرواز کے دوران ”ٹچ اینڈ گو“ لینڈنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں وہ ہوائی جہاز کو اتنی آسانی اور اعتماد کے ساتھ کنٹرول کر رہا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹچ اینڈ گو ایک بنیادی مگر مشکل تکنیک ہے، جس میں ہوائی جہاز کو رن وے پر مختصر لینڈنگ کے بعد دوبارہ اڑان بھرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501422/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501422"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں رشی  رن وے 25 پر جہاز کو ہموار طریقے سے اتارتا ہے، انسٹرکٹر نے اسے ”بہت اچھی لینڈنگ“ کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طیارے کے پہیے زمین کو چھوتے ہی رشی بڑی مہارت سے انجن کی طاقت بڑھاتا ہے، فلیپس کو ایڈجسٹ کرتا ہے اور چند لمحوں میں طیارہ دوبارہ بادلوں کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کو اب تک 2 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے اور دیکھنے والوں نے رشی کی مہارت اور پختگی کو سراہا ہے۔ کئی صارفین نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ بچہ زیادہ تر بڑوں سے بہتر ڈرائیو کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501387/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو کے کیپشن کے مطابق رشی نے صرف سات سال کی عمر سے تربیت شروع کی تھی اور وہ پائلٹ بننے کے اپنے خواب کی طرف مسلسل قدم بڑھا رہا ہے۔ انسٹرکٹر اور ویڈیو دیکھنے والے دونوں رشی کی خاموش خود اعتمادی اور ڈسپلن کی تعریف کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ویڈیو اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اگر کسی شوق کو بچپن سے ہی صحیح سمت مل جائے، تو کامیابی کی پرواز بلند ترین آسمانوں کو چھو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیلیفورنیا کے آکسنارڈ ایئرپورٹ سے ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔</strong></p>
<p>ویڈیو میں محض 11 سال کی عمر میں رشی نامی کمسن پائلٹ کو تربیتی پرواز کے دوران ”ٹچ اینڈ گو“ لینڈنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں وہ ہوائی جہاز کو اتنی آسانی اور اعتماد کے ساتھ کنٹرول کر رہا ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔</p>
<p>ٹچ اینڈ گو ایک بنیادی مگر مشکل تکنیک ہے، جس میں ہوائی جہاز کو رن وے پر مختصر لینڈنگ کے بعد دوبارہ اڑان بھرنا ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501422/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501422"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو میں رشی  رن وے 25 پر جہاز کو ہموار طریقے سے اتارتا ہے، انسٹرکٹر نے اسے ”بہت اچھی لینڈنگ“ کہا۔</p>
<p>طیارے کے پہیے زمین کو چھوتے ہی رشی بڑی مہارت سے انجن کی طاقت بڑھاتا ہے، فلیپس کو ایڈجسٹ کرتا ہے اور چند لمحوں میں طیارہ دوبارہ بادلوں کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DWBwLsoFNI_/?utm_source=ig_web_copy_link" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو کو اب تک 2 ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے اور دیکھنے والوں نے رشی کی مہارت اور پختگی کو سراہا ہے۔ کئی صارفین نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ بچہ زیادہ تر بڑوں سے بہتر ڈرائیو کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501387/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ویڈیو کے کیپشن کے مطابق رشی نے صرف سات سال کی عمر سے تربیت شروع کی تھی اور وہ پائلٹ بننے کے اپنے خواب کی طرف مسلسل قدم بڑھا رہا ہے۔ انسٹرکٹر اور ویڈیو دیکھنے والے دونوں رشی کی خاموش خود اعتمادی اور ڈسپلن کی تعریف کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ ویڈیو اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اگر کسی شوق کو بچپن سے ہی صحیح سمت مل جائے، تو کامیابی کی پرواز بلند ترین آسمانوں کو چھو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502654</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Mar 2026 11:40:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/25113933940f8eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/25113933940f8eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>13 گھنٹے کی پرواز میں مسافر کی موت، لیکن جہاز واپس کیوں نہیں لوٹا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30502619/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہانگ کانگ سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 32 میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 60 سالہ خاتون کی دورانِ پرواز موت ہوگئی، تاہم طیارے کو واپس اتارنے کے بجائے مسافروں نے لاش کے ساتھ ساڑھے 13 گھنٹے کا طویل سفر طے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے کے محض ایک گھنٹے بعد پیش آیا۔ جہاز کے عملے نے خاتون کی موت کے باوجود پرواز کو واپس ہانگ کانگ کرنے یا کسی اور ہوائی اڈے پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوا بازی کے قوانین کے تحت کسی مسافر کی موت کو ’میڈیکل ایمرجنسی‘ تصور نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر طیارے کا رخ موڑا جائے یا اسے ہنگامی طور پر اتارا جائے۔ اسی تکنیکی بنیاد پر پائلٹ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور جہاز کو براہِ راست لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہی لینڈ کروایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501546/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر عملے نے  مردہ جسم کو راہداری میں رکھنے کا سوچا، لیکن بعد میں اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔ آخر کار جسم کو کپڑے میں لپیٹ کر جہاز کے پچھلے حصے میں رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسافروں کے مطابق گیلری کا فرش گرم ہونے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میت سے تعفن اٹھنے لگا، جس پر کئی مسافروں نے لندن پہنچ کر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ طیارے میں سوار 331 مسافروں کے لیے یہ سفر کسی اذیت سے کم نہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بہت افسردہ تھے اور عملہ بھی اس واقعے سے پریشان تھا۔ کئی مسافروں نے پرواز کو واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک مسافر کی موت کو ایمرجنسی نہیں سمجھا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میں لینڈ کرنے کے بعد پولیس نے مسافروں کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور تقریباً 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور تمام مسافروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501387/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برٹش ایئرویز نے اپنے بیان میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے نے تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹش ایئر ویز نے بتایا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ مرحومہ کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ایئرلائن نے عملے کی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دوران پرواز موت کی صورت میں مردہ جسم کو عام طور پر باڈی بیگ یا کمبل میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے۔ جہاں ممکن ہو، جسم کو جہاز کے کم حرکت والے حصے میں رکھا جاتا ہے۔ اگر تمام سیٹیں بھری ہوں، تو جسم کو اسی سیٹ پر رکھا جا سکتا ہے جس پر مسافر بیٹھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2013 کی تحقیق کے مطابق دوران پرواز اموات بہت کم ہوتی ہیں، صرف 0.3 فیصد میڈیکل ایمرجنسیز میں موت واقع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہانگ کانگ سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 32 میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 60 سالہ خاتون کی دورانِ پرواز موت ہوگئی، تاہم طیارے کو واپس اتارنے کے بجائے مسافروں نے لاش کے ساتھ ساڑھے 13 گھنٹے کا طویل سفر طے کیا۔</strong></p>
<p>یہ واقعہ ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے کے محض ایک گھنٹے بعد پیش آیا۔ جہاز کے عملے نے خاتون کی موت کے باوجود پرواز کو واپس ہانگ کانگ کرنے یا کسی اور ہوائی اڈے پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا۔</p>
<p>ہوا بازی کے قوانین کے تحت کسی مسافر کی موت کو ’میڈیکل ایمرجنسی‘ تصور نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر طیارے کا رخ موڑا جائے یا اسے ہنگامی طور پر اتارا جائے۔ اسی تکنیکی بنیاد پر پائلٹ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور جہاز کو براہِ راست لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہی لینڈ کروایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501546/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501546"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابتدائی طور پر عملے نے  مردہ جسم کو راہداری میں رکھنے کا سوچا، لیکن بعد میں اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔ آخر کار جسم کو کپڑے میں لپیٹ کر جہاز کے پچھلے حصے میں رکھا گیا۔</p>
<p>مسافروں کے مطابق گیلری کا فرش گرم ہونے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میت سے تعفن اٹھنے لگا، جس پر کئی مسافروں نے لندن پہنچ کر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ طیارے میں سوار 331 مسافروں کے لیے یہ سفر کسی اذیت سے کم نہ تھا۔</p>
<p>جہاز پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بہت افسردہ تھے اور عملہ بھی اس واقعے سے پریشان تھا۔ کئی مسافروں نے پرواز کو واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک مسافر کی موت کو ایمرجنسی نہیں سمجھا جاتا۔</p>
<p>لندن میں لینڈ کرنے کے بعد پولیس نے مسافروں کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور تقریباً 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور تمام مسافروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30501387/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30501387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برٹش ایئرویز نے اپنے بیان میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے نے تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا۔</p>
<p>برٹش ایئر ویز نے بتایا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ مرحومہ کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ ایئرلائن نے عملے کی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔</p>
<p>انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دوران پرواز موت کی صورت میں مردہ جسم کو عام طور پر باڈی بیگ یا کمبل میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے۔ جہاں ممکن ہو، جسم کو جہاز کے کم حرکت والے حصے میں رکھا جاتا ہے۔ اگر تمام سیٹیں بھری ہوں، تو جسم کو اسی سیٹ پر رکھا جا سکتا ہے جس پر مسافر بیٹھا تھا۔</p>
<p>نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2013 کی تحقیق کے مطابق دوران پرواز اموات بہت کم ہوتی ہیں، صرف 0.3 فیصد میڈیکل ایمرجنسیز میں موت واقع ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30502619</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Mar 2026 13:20:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/03/2413215372a4ec0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/03/2413215372a4ec0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
