<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:16:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 14:16:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خوش ترین ممالک کی درجہ بندی پر تنازع، الگ الگ سروے میں 3 مختلف نتائج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512801/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے خوش ترین ممالک کی نئی عالمی رپورٹس نے ایک دلچسپ تصویر پیش کی ہے۔ ایک رپورٹ میں فن لینڈ مسلسل نویں سال پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ایک دوسرے سروے میں انڈونیشیا کو سب سے زیادہ خوش ملک قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر دونوں نتائج ایک دوسرے سے مختلف لگتے ہیں، لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ دونوں سروے خوشی کو مختلف انداز سے ناپتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کی ورلڈ ہیپینس رپورٹ، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر نے گیلپ اور اقوام متحدہ کے ادارے کے اشتراک سے جاری کی، 147 ممالک میں لوگوں سے ان کی مجموعی زندگی کے بارے میں رائے لی گئی۔ اس رپورٹ میں فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے اور یہ مسلسل نویں مرتبہ ہے کہ فن لینڈ نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس درجہ بندی میں لوگوں سے بنیادی طور پر یہ پوچھا گیا کہ وہ اپنی زندگی کو مجموعی طور پر کس مقام پر دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے صفر سے 10 تک کی ایک ریٹنگ استعمال کی گئی، جہاں صفر بدترین ممکنہ زندگی اور 10 بہترین ممکنہ زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے کینٹریل لیڈر کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30277267'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30277267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کے بعد آئس لینڈ، ڈنمارک، کوسٹا ریکا، سویڈن اور ناروے بالترتیب نمایاں ترین ممالک میں شامل ہیں۔ کوسٹا ریکا کا چوتھے نمبر پر آنا خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ کسی لاطینی امریکی ملک کی اب تک کی سب سے بلند پوزیشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خوشی کی ایک دوسری تصویر مارچ 2026 میں جاری ہونے والے آئیپسوس ہیپینس انڈیکس نے پیش کی۔ اس سروے میں 29 ممالک کے 23 ہزار 268 بالغ افراد شامل تھے۔ انڈونیشیا میں 85 فیصد لوگوں نے خود کو بہت خوش یا نسبتاً خوش قرار دیا، جس کے باعث وہ اس سروے میں پہلے نمبر پر رہا۔ نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیپسوس کے نتائج میں میکسیکو اور نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ، کولمبیا 83 فیصد، ملائیشیا اور تھائی لینڈ 81 فیصد جبکہ برازیل 80 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔ امریکا 73 فیصد کے ساتھ اس فہرست میں 20ویں نمبر پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے پیدا ہوا کیونکہ ورلڈ ہیپینس رپورٹ یہ نہیں پوچھتی کہ لوگ روزانہ کتنی بار مسکراتے ہیں یا انہیں اس وقت خوشی محسوس ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس کے بجائے یہ لوگوں سے ان کی پوری زندگی کے بارے میں مجموعی رائے معلوم کرتی ہے۔ دوسری جانب آئیپسوس زیادہ براہِ راست یہ پوچھتا ہے کہ لوگ خود کو خوش سمجھتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30448805'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30448805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خوشی کو جانچنے کا ایک تیسرا طریقہ بھی ہے۔ گیلپ کا گلوبل ایموشنز ریسرچ یہ دیکھتا ہے کہ لوگوں نے گزشتہ روز کیا محسوس کیا۔ اس میں خوشی، مسکرانے یا ہنسنے، اچھی نیند یا آرام، عزت کے ساتھ برتاؤ اور کوئی دلچسپ چیز سیکھنے جیسے مثبت تجربات شامل ہیں، جبکہ پریشانی، ذہنی دباؤ، اداسی، غصے اور جسمانی تکلیف جیسے منفی احساسات بھی دیکھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی مجموعی زندگی سے بہت مطمئن ہو سکتا ہے لیکن اس کا گزشتہ دن انتہائی تھکا دینے والا یا دباؤ سے بھرپور گزرا ہو۔ اسی طرح کوئی شخص ایک دن بہت خوش گزار سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اپنی زندگی کے حالات سے مطمئن نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ ہیپینس رپورٹ کے مطابق دنیا کے سرفہرست 20 ممالک کے اسکور میں ایک پوائنٹ سے بھی کم فرق ہے۔ اس لیے کسی ملک کا ساتویں نمبر پر آنا لازمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں کے لوگ چوتھے نمبر والے ملک کے لوگوں سے بہت کم مطمئن ہیں۔ معمولی فرق بھی درجہ بندی میں کئی نمبروں کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/131308449b175d0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/131308449b175d0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2006 سے 2010 کے عرصے کے مقابلے میں دنیا کے 79 ممالک میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں مجموعی رائے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کا کردار خاص طور پر نمایاں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئیپسوس کے مطابق خوشی کی سب سے اہم وجوہات میں خود کو دوسروں کی نظر میں اہم، قابلِ قدر یا محبوب محسوس کرنا شامل ہے، جبکہ خاندان اور بچوں کے ساتھ تعلقات بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مالی حالات لوگوں میں ناخوشی پیدا کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل رہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464412'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464412"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان تمام نتائج سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کا ایک ہی ملک ہر معنی میں سب سے خوش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر سوال یہ ہو کہ لوگ اپنی پوری زندگی کو کتنا بہتر سمجھتے ہیں تو فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ لوگ خود کو اس وقت کتنا خوش محسوس کرتے ہیں تو آئیپسوس کے سروے میں انڈونیشیا سب سے آگے ہے۔ اور اگر سوال گزشتہ روز کے جذبات کا ہو تو نتیجہ ایک بار پھر مختلف ہو سکتا ہے، یوں خوشی صرف دولت اور سہولتوں کا نام نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان رپورٹس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اپنی زندگی کو بہتر سمجھنا، مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگوں کا ہونا اور اپنی زندگی کے بارے میں بامعنی فیصلے کرنے کی آزادی بھی انسانی خوش حالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فن لینڈ کی مسلسل کامیابی بھی اسی وسیع معنی میں زندگی سے اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے خوش ترین ممالک کی نئی عالمی رپورٹس نے ایک دلچسپ تصویر پیش کی ہے۔ ایک رپورٹ میں فن لینڈ مسلسل نویں سال پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ایک دوسرے سروے میں انڈونیشیا کو سب سے زیادہ خوش ملک قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر دونوں نتائج ایک دوسرے سے مختلف لگتے ہیں، لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ دونوں سروے خوشی کو مختلف انداز سے ناپتے ہیں۔</strong></p>
<p>2026 کی ورلڈ ہیپینس رپورٹ، جو آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویلبیئنگ ریسرچ سینٹر نے گیلپ اور اقوام متحدہ کے ادارے کے اشتراک سے جاری کی، 147 ممالک میں لوگوں سے ان کی مجموعی زندگی کے بارے میں رائے لی گئی۔ اس رپورٹ میں فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے اور یہ مسلسل نویں مرتبہ ہے کہ فن لینڈ نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔</p>
<p>اس درجہ بندی میں لوگوں سے بنیادی طور پر یہ پوچھا گیا کہ وہ اپنی زندگی کو مجموعی طور پر کس مقام پر دیکھتے ہیں۔ اس کے لیے صفر سے 10 تک کی ایک ریٹنگ استعمال کی گئی، جہاں صفر بدترین ممکنہ زندگی اور 10 بہترین ممکنہ زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسے کینٹریل لیڈر کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30277267'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30277267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کے بعد آئس لینڈ، ڈنمارک، کوسٹا ریکا، سویڈن اور ناروے بالترتیب نمایاں ترین ممالک میں شامل ہیں۔ کوسٹا ریکا کا چوتھے نمبر پر آنا خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ کسی لاطینی امریکی ملک کی اب تک کی سب سے بلند پوزیشن ہے۔</p>
<p>تاہم خوشی کی ایک دوسری تصویر مارچ 2026 میں جاری ہونے والے آئیپسوس ہیپینس انڈیکس نے پیش کی۔ اس سروے میں 29 ممالک کے 23 ہزار 268 بالغ افراد شامل تھے۔ انڈونیشیا میں 85 فیصد لوگوں نے خود کو بہت خوش یا نسبتاً خوش قرار دیا، جس کے باعث وہ اس سروے میں پہلے نمبر پر رہا۔ نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔</p>
<p>آئیپسوس کے نتائج میں میکسیکو اور نیدرلینڈز 84 فیصد کے ساتھ، کولمبیا 83 فیصد، ملائیشیا اور تھائی لینڈ 81 فیصد جبکہ برازیل 80 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔ امریکا 73 فیصد کے ساتھ اس فہرست میں 20ویں نمبر پر تھا۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے پیدا ہوا کیونکہ ورلڈ ہیپینس رپورٹ یہ نہیں پوچھتی کہ لوگ روزانہ کتنی بار مسکراتے ہیں یا انہیں اس وقت خوشی محسوس ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس کے بجائے یہ لوگوں سے ان کی پوری زندگی کے بارے میں مجموعی رائے معلوم کرتی ہے۔ دوسری جانب آئیپسوس زیادہ براہِ راست یہ پوچھتا ہے کہ لوگ خود کو خوش سمجھتے ہیں یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30448805'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30448805"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خوشی کو جانچنے کا ایک تیسرا طریقہ بھی ہے۔ گیلپ کا گلوبل ایموشنز ریسرچ یہ دیکھتا ہے کہ لوگوں نے گزشتہ روز کیا محسوس کیا۔ اس میں خوشی، مسکرانے یا ہنسنے، اچھی نیند یا آرام، عزت کے ساتھ برتاؤ اور کوئی دلچسپ چیز سیکھنے جیسے مثبت تجربات شامل ہیں، جبکہ پریشانی، ذہنی دباؤ، اداسی، غصے اور جسمانی تکلیف جیسے منفی احساسات بھی دیکھے جاتے ہیں۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی مجموعی زندگی سے بہت مطمئن ہو سکتا ہے لیکن اس کا گزشتہ دن انتہائی تھکا دینے والا یا دباؤ سے بھرپور گزرا ہو۔ اسی طرح کوئی شخص ایک دن بہت خوش گزار سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اپنی زندگی کے حالات سے مطمئن نہ ہو۔</p>
<p>ورلڈ ہیپینس رپورٹ کے مطابق دنیا کے سرفہرست 20 ممالک کے اسکور میں ایک پوائنٹ سے بھی کم فرق ہے۔ اس لیے کسی ملک کا ساتویں نمبر پر آنا لازمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں کے لوگ چوتھے نمبر والے ملک کے لوگوں سے بہت کم مطمئن ہیں۔ معمولی فرق بھی درجہ بندی میں کئی نمبروں کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/131308449b175d0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/131308449b175d0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2006 سے 2010 کے عرصے کے مقابلے میں دنیا کے 79 ممالک میں لوگوں کی زندگی کے بارے میں مجموعی رائے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کا کردار خاص طور پر نمایاں رہا۔</p>
<p>آئیپسوس کے مطابق خوشی کی سب سے اہم وجوہات میں خود کو دوسروں کی نظر میں اہم، قابلِ قدر یا محبوب محسوس کرنا شامل ہے، جبکہ خاندان اور بچوں کے ساتھ تعلقات بھی خوشی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مالی حالات لوگوں میں ناخوشی پیدا کرنے والی بڑی وجوہات میں شامل رہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30464412'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30464412"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان تمام نتائج سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کا ایک ہی ملک ہر معنی میں سب سے خوش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر سوال یہ ہو کہ لوگ اپنی پوری زندگی کو کتنا بہتر سمجھتے ہیں تو فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ لوگ خود کو اس وقت کتنا خوش محسوس کرتے ہیں تو آئیپسوس کے سروے میں انڈونیشیا سب سے آگے ہے۔ اور اگر سوال گزشتہ روز کے جذبات کا ہو تو نتیجہ ایک بار پھر مختلف ہو سکتا ہے، یوں خوشی صرف دولت اور سہولتوں کا نام نہیں۔</p>
<p>ان رپورٹس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اپنی زندگی کو بہتر سمجھنا، مشکل وقت میں ساتھ دینے والے لوگوں کا ہونا اور اپنی زندگی کے بارے میں بامعنی فیصلے کرنے کی آزادی بھی انسانی خوش حالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فن لینڈ کی مسلسل کامیابی بھی اسی وسیع معنی میں زندگی سے اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512801</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 13:22:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/13131617f456ae4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/13131617f456ae4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیا میں شدید گرمی: تپش سے آلو زمین کے اندر ہی 'اُبلنے' لگے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512792/asia-extreme-heat-potatoes-boil-underground</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقی ایشیا کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے جنوبی کوریا، جاپان اور ہانگ کانگ میں انسانی زندگی، زراعت اور جانوروں کو متاثر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر یانگسان میں 2 اگست کو درجہ حرارت 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جو سن 1904 کے موسمی ریکارڈ شروع ہونے کے بعد ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 9 لاکھ سے زائد مویشی اور 14 لاکھ سے زائد فارم میں رکھی جانے والی مچھلیاں مر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرمی کا اثر کسانوں پر بھی نمایاں ہوا ہے۔ یانگ گو کاؤنٹی کے کسان لی سانگ ہائوک نے آلو کی فصل زمین سے نکالی تو آلو نرم اور خراب ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا، ”یہ صرف ایک یا دو کھیتوں کی بات نہیں۔ میں اسے الفاظ میں کیسے بیان کروں؟ یہ بہت افسوسناک ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوانگ جو میں تربوز کے کاشتکار ہونگ کیونگ ہی نے بتایا کہ ان کے تربوز تین دن کے اندر خراب ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اندر سے سب کچھ اچھا تھا، مٹھاس بھی ٹھیک تھی، لیکن تین دن بعد یہ راتوں رات خراب ہوگیا۔ میں نے 50 سال کی کاشت کاری میں ایسا پہلی بار دیکھا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512469/beijing-on-high-alert-as-one-third-of-annual-rainfall-expected-in-next-24-hours'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512469"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شدید گرم موسم کو ایسی صورتحال قرار دیا جس کا ہم نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا، اور کہا کہ ملک کے ہنگامی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ موسم نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں بھی کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری اور اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں پہلی بار 40 ڈگری سے زیادہ گرمی کے لیے ”کوکوشوبی“ یعنی انتہائی ظالمانہ گرم دن کی نئی اصطلاح استعمال کی گئی۔ ٹوکیو کے ایک چڑیا گھر میں شدید گرمی کے باعث تین شیروں کی مبینہ طور پر ہیٹ اسٹروک سے موت بھی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 36.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو وہاں سن 1884 سے جاری ریکارڈ میں سب سے زیادہ ہے۔ سابق ہانگ کانگ آبزرویٹری سربراہ لام چیو ینگ نے گرمی سے متعلق وارننگ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ وارننگ کی حد واضح طور پر بہت زیادہ رکھی گئی ہے۔ اگر ریکارڈ توڑ درجہ حرارت بھی اسے متحرک نہیں کر سکتا تو کیا یہ صرف دکان کی کھڑکی سجانے کے لیے ہے؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چین کے سنکیانگ میں جولائی کے دوران 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شمالی کوریا میں رات کے وقت بھی درجہ حرارت 25 ڈگری سے نیچے نہیں گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں بڑھتی گرمی کی بڑی وجوہات میں موسمی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایشیا میں 1991 سے 2025 کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار اس سے پہلے کی تین دہائیوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے کا امکان ہے، جس کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ کسانوں اور عام لوگوں کو بدلتے موسم کے مطابق تیار کرنا بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقی ایشیا کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے جنوبی کوریا، جاپان اور ہانگ کانگ میں انسانی زندگی، زراعت اور جانوروں کو متاثر کیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر یانگسان میں 2 اگست کو درجہ حرارت 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جو سن 1904 کے موسمی ریکارڈ شروع ہونے کے بعد ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 9 لاکھ سے زائد مویشی اور 14 لاکھ سے زائد فارم میں رکھی جانے والی مچھلیاں مر چکی ہیں۔</p>
<p>گرمی کا اثر کسانوں پر بھی نمایاں ہوا ہے۔ یانگ گو کاؤنٹی کے کسان لی سانگ ہائوک نے آلو کی فصل زمین سے نکالی تو آلو نرم اور خراب ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا، ”یہ صرف ایک یا دو کھیتوں کی بات نہیں۔ میں اسے الفاظ میں کیسے بیان کروں؟ یہ بہت افسوسناک ہے۔“</p>
<p>گوانگ جو میں تربوز کے کاشتکار ہونگ کیونگ ہی نے بتایا کہ ان کے تربوز تین دن کے اندر خراب ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اندر سے سب کچھ اچھا تھا، مٹھاس بھی ٹھیک تھی، لیکن تین دن بعد یہ راتوں رات خراب ہوگیا۔ میں نے 50 سال کی کاشت کاری میں ایسا پہلی بار دیکھا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512469/beijing-on-high-alert-as-one-third-of-annual-rainfall-expected-in-next-24-hours'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512469"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شدید گرم موسم کو ایسی صورتحال قرار دیا جس کا ہم نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا، اور کہا کہ ملک کے ہنگامی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ موسم نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔</p>
<p>جاپان میں بھی کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری اور اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں پہلی بار 40 ڈگری سے زیادہ گرمی کے لیے ”کوکوشوبی“ یعنی انتہائی ظالمانہ گرم دن کی نئی اصطلاح استعمال کی گئی۔ ٹوکیو کے ایک چڑیا گھر میں شدید گرمی کے باعث تین شیروں کی مبینہ طور پر ہیٹ اسٹروک سے موت بھی ہوئی۔</p>
<p>ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 36.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو وہاں سن 1884 سے جاری ریکارڈ میں سب سے زیادہ ہے۔ سابق ہانگ کانگ آبزرویٹری سربراہ لام چیو ینگ نے گرمی سے متعلق وارننگ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ وارننگ کی حد واضح طور پر بہت زیادہ رکھی گئی ہے۔ اگر ریکارڈ توڑ درجہ حرارت بھی اسے متحرک نہیں کر سکتا تو کیا یہ صرف دکان کی کھڑکی سجانے کے لیے ہے؟</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>چین کے سنکیانگ میں جولائی کے دوران 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شمالی کوریا میں رات کے وقت بھی درجہ حرارت 25 ڈگری سے نیچے نہیں گیا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں بڑھتی گرمی کی بڑی وجوہات میں موسمی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایشیا میں 1991 سے 2025 کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار اس سے پہلے کی تین دہائیوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رہی ہے۔</p>
<p>ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے کا امکان ہے، جس کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ کسانوں اور عام لوگوں کو بدلتے موسم کے مطابق تیار کرنا بھی ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512792</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 12:18:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/13121709c8b532a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/13121709c8b532a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سورج گرہن نے یورپ میں دن کو رات بنا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512772/solar-eclipse-2026-solar-eclipse-2027-astronomy-space-total-solar-eclipse-europe-north-africa</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بدھ، 12 اگست 2026 کو دنیا نے 21ویں صدی کا ایک انتہائی نادر اور شاندار فلکیاتی منظر دیکھا، جب مکمل سورج گرہن نے زمین کے بڑے حصے بالخصوص یورپ کو چند منٹوں کے لیے پراسرار تاریکی کی آغوش میں لے لیا۔ برّی یورپ میں 1999 کے بعد یعنی تقریباً 27 سالوں بعد دیکھا جانے والا یہ پہلا مکمل سورج گرہن تھا، جس نے سائنسدانوں، سیاحوں اور عام شہریوں کو یکساں طور پر حیرت زدہ کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس گرہن کے مرکزی راستے کا جائزہ لیا جائے تو تاریکی کے اہم مراکز میں چاند کے سائے کی شروعات قطب شمالی کے قریب روس کے دور دراز شمالی علاقوں سے ہوئی، جس کے بعد اس نے گرین لینڈ، آئس لینڈ اور اتلانتک سمندر کو عبور کرتے ہوئے سپین اور پرتگال کا رخ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک اور مغربی ساحلی پٹی پر شام پونے چھ بجے کے قریب چاند نے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا اور دوپہر کے فوراً بعد دن اچانک رات کا منظر پیش کرنے لگا، جس سے آسمان پر سورج کا چمکتا ہوا بیرونی ہالہ صاف دکھائی دینے لگا، جسے کرونا کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سپین کے شمالی اور مشرقی علاقوں بشمول آکورونیا، لیان، ساراگوسا، والنسیا اور جزائرِ بالیارک میں یہ منظر شام کو غروبِ آفتاب کے بالکل قريب پیش آیا، جہاں شفق کی سرخ روشنی کے درمیان سورج کا مکمل تاریک ہو جانا ایک جادوئی فضا قائم کر گیا۔ علاوہ ازیں، آرکٹک کے انتہائی برفانی خطوں میں دوپہر کے وقت گرہن اپنے عروج پر تھا، جہاں چاند نے سورج کو تقریباً دو منٹ اور اٹھارہ سیکنڈز کے لیے مکمل طور پر چھپا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F903877945647316%2F&amp;show_text=false&amp;width=267&amp;t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مکمل تاریکی مخصوص علاقوں تک محدود تھی، لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی نے اس واقعے کو جزوی گرہن کی صورت میں دیکھا۔ یورپ کے دیگر ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ میں سورج کا 80 فیصد سے 95فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے دوپہر کے وقت روشنی مدہم ہو کر ڈوبتی شام میں بدل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، شمالی امریکا میں امریکا اور کینیڈا کے شمالی و مشرقی حصوں بشمول الاسکا، نیویارک اور بوسٹن میں صبح اور دوپہر کے اوائل میں جزوی گرہن دیکھا گیا، جہاں سورج کا ایک چھوٹا حصہ کٹا ہوا نظر آیا، جبکہ شمال مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں بھی سورج گرہن کا جزوی اثر دیکھا گیا۔ تاہم، پاکستان، بھارت اور بیشتر ایشیائی ممالک میں اس وقت رات کا وقت ہونے کی وجہ سے یہ گرہن براہِ راست نہیں دیکھا جا سکا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512768/solar-eclipse-2026-total-solar-eclipse-august-2026-eclipse-europe-astronomy-celestial-event-eclipse-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی منظر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اور ماہرینِ فلکیات اسپین اور آئس لینڈ پہنچے ہوئے تھے، جہاں ساحلوں، فلک بوس عمارتوں کی چھتوں اور تاریخی مقامات پر لوگوں نے مخصوص حفاظتی چشموں کے ذریعے اس منظر کو محفوظ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکمل گرہن کے ان چند منٹوں میں درجہ حرارت میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور ہوا میں ٹھنڈک پھیل گئی۔ قدرتی ماحول پر بھی اس کا گہرا اثر دیکھا گیا، پرندے اور دیگر جنگلی جانور ماحول میں اچانک آنے والی اس تاریکی سے دھوکا کھا کر خاموش ہو گئے اور اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگے، جبکہ سڑکوں پر خودکار لائٹس خود بخود روشن ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلکیاتی سائنسدانوں کے مطابق یورپ کو آنے والے کچھ سالوں میں مزید نایاب فلکیاتی نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ یورپی خلائی ایجنسی اور ناسا کی پیش گوئی کے مطابق 2 اگست 2027 کو یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں ایک اور مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کا دورانیہ تاریخ کا طویل ترین دورانیہ بتایا جارہا ہے جو تقریباً 6 منٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ 26 جنوری 2028 اسپین اور جنوب مغربی یورپ میں رنگ آف فائر سورج گرہن کا نظارہ ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کے حالیہ سورج گرہن نے سائنسی تحقیق کے لیے بھی اہم موقع فراہم کیا اوریہ سائنسدانوں، ماہرینِ فلکیات اور قدرتی مناظر کے شوقین افراد کے لیے سائنسی تحقیق اور فلکیاتی خوبصورتی کا ایک ناقابلِ فراموش امتزاج ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بدھ، 12 اگست 2026 کو دنیا نے 21ویں صدی کا ایک انتہائی نادر اور شاندار فلکیاتی منظر دیکھا، جب مکمل سورج گرہن نے زمین کے بڑے حصے بالخصوص یورپ کو چند منٹوں کے لیے پراسرار تاریکی کی آغوش میں لے لیا۔ برّی یورپ میں 1999 کے بعد یعنی تقریباً 27 سالوں بعد دیکھا جانے والا یہ پہلا مکمل سورج گرہن تھا، جس نے سائنسدانوں، سیاحوں اور عام شہریوں کو یکساں طور پر حیرت زدہ کر دیا۔</strong></p>
<p>اگر اس گرہن کے مرکزی راستے کا جائزہ لیا جائے تو تاریکی کے اہم مراکز میں چاند کے سائے کی شروعات قطب شمالی کے قریب روس کے دور دراز شمالی علاقوں سے ہوئی، جس کے بعد اس نے گرین لینڈ، آئس لینڈ اور اتلانتک سمندر کو عبور کرتے ہوئے سپین اور پرتگال کا رخ کیا۔</p>
<p>آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک اور مغربی ساحلی پٹی پر شام پونے چھ بجے کے قریب چاند نے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا اور دوپہر کے فوراً بعد دن اچانک رات کا منظر پیش کرنے لگا، جس سے آسمان پر سورج کا چمکتا ہوا بیرونی ہالہ صاف دکھائی دینے لگا، جسے کرونا کہا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح سپین کے شمالی اور مشرقی علاقوں بشمول آکورونیا، لیان، ساراگوسا، والنسیا اور جزائرِ بالیارک میں یہ منظر شام کو غروبِ آفتاب کے بالکل قريب پیش آیا، جہاں شفق کی سرخ روشنی کے درمیان سورج کا مکمل تاریک ہو جانا ایک جادوئی فضا قائم کر گیا۔ علاوہ ازیں، آرکٹک کے انتہائی برفانی خطوں میں دوپہر کے وقت گرہن اپنے عروج پر تھا، جہاں چاند نے سورج کو تقریباً دو منٹ اور اٹھارہ سیکنڈز کے لیے مکمل طور پر چھپا دیا۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F903877945647316%2F&show_text=false&width=267&t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe></raw-html>
<p>اگرچہ مکمل تاریکی مخصوص علاقوں تک محدود تھی، لیکن دنیا کی ایک بڑی آبادی نے اس واقعے کو جزوی گرہن کی صورت میں دیکھا۔ یورپ کے دیگر ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ میں سورج کا 80 فیصد سے 95فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے دوپہر کے وقت روشنی مدہم ہو کر ڈوبتی شام میں بدل گئی۔</p>
<p>دوسری جانب، شمالی امریکا میں امریکا اور کینیڈا کے شمالی و مشرقی حصوں بشمول الاسکا، نیویارک اور بوسٹن میں صبح اور دوپہر کے اوائل میں جزوی گرہن دیکھا گیا، جہاں سورج کا ایک چھوٹا حصہ کٹا ہوا نظر آیا، جبکہ شمال مغربی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں بھی سورج گرہن کا جزوی اثر دیکھا گیا۔ تاہم، پاکستان، بھارت اور بیشتر ایشیائی ممالک میں اس وقت رات کا وقت ہونے کی وجہ سے یہ گرہن براہِ راست نہیں دیکھا جا سکا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512768/solar-eclipse-2026-total-solar-eclipse-august-2026-eclipse-europe-astronomy-celestial-event-eclipse-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512768"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس تاریخی منظر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں سیاح اور ماہرینِ فلکیات اسپین اور آئس لینڈ پہنچے ہوئے تھے، جہاں ساحلوں، فلک بوس عمارتوں کی چھتوں اور تاریخی مقامات پر لوگوں نے مخصوص حفاظتی چشموں کے ذریعے اس منظر کو محفوظ کیا۔</p>
<p>مکمل گرہن کے ان چند منٹوں میں درجہ حرارت میں اچانک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور ہوا میں ٹھنڈک پھیل گئی۔ قدرتی ماحول پر بھی اس کا گہرا اثر دیکھا گیا، پرندے اور دیگر جنگلی جانور ماحول میں اچانک آنے والی اس تاریکی سے دھوکا کھا کر خاموش ہو گئے اور اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹنے لگے، جبکہ سڑکوں پر خودکار لائٹس خود بخود روشن ہو گئیں۔</p>
<p>فلکیاتی سائنسدانوں کے مطابق یورپ کو آنے والے کچھ سالوں میں مزید نایاب فلکیاتی نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔ یورپی خلائی ایجنسی اور ناسا کی پیش گوئی کے مطابق 2 اگست 2027 کو یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں ایک اور مکمل سورج گرہن ہوگا، جس کا دورانیہ تاریخ کا طویل ترین دورانیہ بتایا جارہا ہے جو تقریباً 6 منٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ 26 جنوری 2028 اسپین اور جنوب مغربی یورپ میں رنگ آف فائر سورج گرہن کا نظارہ ممکن ہوگا۔</p>
<p>2026 کے حالیہ سورج گرہن نے سائنسی تحقیق کے لیے بھی اہم موقع فراہم کیا اوریہ سائنسدانوں، ماہرینِ فلکیات اور قدرتی مناظر کے شوقین افراد کے لیے سائنسی تحقیق اور فلکیاتی خوبصورتی کا ایک ناقابلِ فراموش امتزاج ثابت ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512772</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Aug 2026 11:39:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/131128132666779.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/131128132666779.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کو ایرانی فضائی حملے کا خوف، گالف کھلیتے ہوئے بھی ایئر ڈیفنس سسٹم ساتھ رکھنے لگے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512659/donald-trump-f-16-new-jersey-norad-airspace-restrictions-liv-golf</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فضائی خطرات کی گونج اب امریکی صدرکی تفریحی سرگرمیوں تک جا پہنچی ہے۔ نیو جرسی کے ایک مشہور ریزورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کھیلنے کے دوران ان کی حفاظت کے لیے ایک جدید اور غیر معمولی ’ایوینجر‘ ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ گالف کھیل رہے ہیں جبکہ ان کے پس منظر میں خاردار تاروں کے پیچھے یہ میزائل سسٹم موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ان تصاویر کے بالکل سچے ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ وہاں الیکٹرانک سیکیورٹی کے دیگر پوشیدہ نظام بھی فعال تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوینجر ایک ایسا متحرک دفاعی نظام ہے جو حرارت کا تعاقب کرنے والے سٹنگر میزائل فائر کرتا ہے اور نیچی پرواز کرنے والے ڈرونز یا طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MeidasTouch/status/2086866236613538294?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MeidasTouch/status/2086866236613538294?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سیکیورٹی سسٹم کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گالف کے دوران جیسے ہی دو چھوٹے شہری طیارے  اس علاقے میں قائم عارضی ممنوعہ ہوائی حد میں داخل ہو گئے۔ امریکہ اور کینیڈا کی مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈ کے ایف سولہ جنگی طیاروں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان طیاروں کو گھیر کر علاقے سے باہر نکال دیا۔ یکی فضائی دفاعی کمانڈ نے فوری طور پر ایف سولہ جنگی طیارے روانہ کر کے انہیں علاقے سے باہر نکال دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MargoMartin47/status/2083578489920184542?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MargoMartin47/status/2083578489920184542?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کے لیے اس سطح کی فضائی سیکیورٹی کا بنیادی مقصد ممکنہ فضائی یا ڈرون حملوں کا سدباب کرنا اور ان پر ہونے والے ماضی کے قاتلانہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2024 میں ایک جلسے کے دوران صدر ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو ان کے کان کو چھو کر گزری تھی۔  اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر ان کے گالف کورس اور رہائش گاہوں کے قریب سے مسلح افراد کی گرفتاری اور سیکیورٹی کی خلاف ورزیاں رپورٹ کی گئی ہیں۔ انہی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ان کے کھیلوں کی سرگرمیوں کے دوران بھی اس طرح کے فوجی دفاعی نظام تعینات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ فضائی خطرات کی گونج اب امریکی صدرکی تفریحی سرگرمیوں تک جا پہنچی ہے۔ نیو جرسی کے ایک مشہور ریزورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کھیلنے کے دوران ان کی حفاظت کے لیے ایک جدید اور غیر معمولی ’ایوینجر‘ ایئر ڈیفنس سسٹم تعینات کیا گیا۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ گالف کھیل رہے ہیں جبکہ ان کے پس منظر میں خاردار تاروں کے پیچھے یہ میزائل سسٹم موجود ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ان تصاویر کے بالکل سچے ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ وہاں الیکٹرانک سیکیورٹی کے دیگر پوشیدہ نظام بھی فعال تھے۔</p>
<p>ایوینجر ایک ایسا متحرک دفاعی نظام ہے جو حرارت کا تعاقب کرنے والے سٹنگر میزائل فائر کرتا ہے اور نیچی پرواز کرنے والے ڈرونز یا طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MeidasTouch/status/2086866236613538294?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MeidasTouch/status/2086866236613538294?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس سیکیورٹی سسٹم کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گالف کے دوران جیسے ہی دو چھوٹے شہری طیارے  اس علاقے میں قائم عارضی ممنوعہ ہوائی حد میں داخل ہو گئے۔ امریکہ اور کینیڈا کی مشترکہ فضائی دفاعی کمانڈ کے ایف سولہ جنگی طیاروں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان طیاروں کو گھیر کر علاقے سے باہر نکال دیا۔ یکی فضائی دفاعی کمانڈ نے فوری طور پر ایف سولہ جنگی طیارے روانہ کر کے انہیں علاقے سے باہر نکال دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MargoMartin47/status/2083578489920184542?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MargoMartin47/status/2083578489920184542?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر کے لیے اس سطح کی فضائی سیکیورٹی کا بنیادی مقصد ممکنہ فضائی یا ڈرون حملوں کا سدباب کرنا اور ان پر ہونے والے ماضی کے قاتلانہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والے خدشات کو دور کرنا ہے۔</p>
<p>جولائی 2024 میں ایک جلسے کے دوران صدر ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو ان کے کان کو چھو کر گزری تھی۔  اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر ان کے گالف کورس اور رہائش گاہوں کے قریب سے مسلح افراد کی گرفتاری اور سیکیورٹی کی خلاف ورزیاں رپورٹ کی گئی ہیں۔ انہی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ان کے کھیلوں کی سرگرمیوں کے دوران بھی اس طرح کے فوجی دفاعی نظام تعینات کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512659</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Aug 2026 14:14:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/12141219144c9cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/12141219144c9cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاطینی امریکا کے 10 تباہ کن زلزلے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512484/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاطینی امریکا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زمین کی مختلف تہوں کی حرکت کے باعث زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ خطے میں ماضی کے کئی زلزلے ایسی تباہی لائے جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جان سے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبیا میں 10 اگست کو آنے والے طاقتور زلزلے میں اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کے وجہ سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں آنے والے بڑے زلزلوں اور ان سے ہونے والی تباہی کی یاد تازہ کر دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/environment/latin-americas-10-deadliest-earthquakes-2026-08-10/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt;، لاطینی امریکا کی تاریخ میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں میں بعض کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن کئی ایسے زلزلے بھی تھے جن کی تباہ کاری کی بڑی وجہ کمزور عمارتیں، زیادہ آبادی، ناقص تعمیرات اور امدادی سہولتوں کی کمی بنی۔ ذیل میں خطے کے 10 ہلاکت خیز ترین زلزلوں کی تفصیل پیش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" href="#1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;1۔ 2010 کا ہیٹی زلزلہ  (3 لاکھ 16 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں اندازاً 3 لاکھ 16 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ شدت کے اعتبار سے یہ فہرست میں موجود بعض دوسرے زلزلوں سے کم تھا، لیکن جانی نقصان کے لحاظ سے یہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کا سب سے بڑا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس پر پڑا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور عمارتیں شدید زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ کمزور تعمیرات، ناقص معیار کا کنکریٹ، عمارتوں کے ڈیزائن میں حفاظتی اصولوں کی کمی اور ہنگامی امداد کے محدود وسائل نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زلزلے کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2009 میں ہیٹی کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے برابر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" href="#2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;2۔ 1868 کے ایکواڈور اور کولمبیا کے زلزلے (70 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;15 اگست 1868 کو ایکواڈور اور کولمبیا میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا۔ ابتدا میں نسبتاً کم شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن اگلی صبح 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے کے نتیجے میں ایکواڈور میں تقریباً 40 ہزار جبکہ کولمبیا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کئی قصبے تباہ ہوگئے۔ اس وقت کی تحریری دستاویزات کے مطابق ایکواڈور کے شہر ایبارا میں زلزلہ رات تقریباً سوا ایک بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف چند سیکنڈ کے شدید جھٹکوں نے شہر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ بہت سے لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" href="#3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;3۔ 1970 کا پیرو زلزلہ (66 ہزار 794 اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;31 مئی 1970 کو پیرو میں 7.9 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے ایک انتہائی خطرناک قدرتی آفت کو جنم دیا۔ زلزلے کے نتیجے میں پیرو کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی شمالی ڈھلوان غیر مستحکم ہوئی اور برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے کی جانب تیزی سے آنے لگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ تودہ تقریباً 335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یُونگے اور رَانراہیرکا کے علاقوں کی طرف بڑھا۔ اندازاً 8 کروڑ مکعب میٹر برف اور چٹانیں اپنے راستے میں آنے والی آبادیوں پر جا گریں اور کئی مقامات پر ملبے کی تہہ چار میٹر تک بلند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونگے شہر میں اندازاً 19 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف تقریباً ڈھائی ہزار(2,500) لوگ زندہ بچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، جن میں چمبوٹے اور ہُواراز شامل تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" href="#4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;4۔ 1797 کا ایکواڈور زلزلہ (40 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1797 میں ایکواڈور میں آنے والا زلزلہ ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اندازاً شدت 8.3 تھی اور اس نے ملک کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے اور کئی شہروں میں عمارتیں چند ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔ کوئٹو، رِیوبامبا، لاتاکونگا اور امباتو سمیت کئی علاقوں میں تباہی پھیلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور کی تاریخی تحریروں اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق زمین اس شدت سے ہلی کہ کئی عمارتیں کھڑے رہنے کے بجائے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" href="#5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;5۔ 1939 کا چلی زلزلہ (30 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;چلی کو دنیا کے طاقتور ترین ریکارڈ شدہ زلزلے کا سامنا بھی رہا ہے۔ 1960 میں یہاں 9.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1939 کا زلزلہ ملک کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی شہر چِیان میں آنے والے اس 8.3 شدت کے زلزلے نے چِیان اور کونسیپسیون سمیت کئی علاقوں کو تباہ کردیا۔ اس وقت بڑی تعداد میں عمارتیں ایڈوب یعنی مٹی اور اینٹوں جیسے کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلہ ماہر سِنّا لومنٹز کے مطابق تعمیرات میں انجینئرنگ کے اصولوں اور زلزلے کے دوران عمارتوں کو افقی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کی شدید کمی تھی۔ اس تباہی کے بعد چلی نے پہلی بار زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ حفاظتی قوانین بنائے اور ملک میں زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات کے لیے اپنا پہلا اہم بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" href="#6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;6۔ 1812 کا وینزویلا زلزلہ (26 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1812 میں وینزویلا میں آنے والے 7۔7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1962 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ایک ہی زلزلہ نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے قریب آنے والے تین زلزلوں کا سلسلہ ہو، جنہوں نے ایک دوسرے کو متحرک کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آفت نے دارالحکومت کراکس کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کردیا۔ بارکیسیمیتو، میریدا، لا گوئیرا اور سان فیلیپے سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زلزلہ ایسے وقت آیا جب وینزویلا اسپین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس وقت ہسپانوی حکام نے زلزلے کو انقلابی تحریک کے خلاف خدائی سزا قرار دیا۔ دوسری جانب امریکا نے متاثرین کے لیے خوراک اور مالی امداد بھیجی، جسے بیرونِ ملک سے قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کی ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" href="#7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;7۔ 1868 کا اریکا زلزلہ (25 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1868 میں 8.5 شدت کا ایک انتہائی طاقتور زلزلہ اریکا کے علاقے میں آیا۔ اس وقت اریکا پیرو کا حصہ تھا، جبکہ آج یہ علاقہ چلی میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے نے اریکا کے ساتھ ساتھ اریکیپا، موکیگوا، مولینڈو اور ایلو سمیت کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم تباہی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ زلزلے کے بعد سمندر میں سونامی پیدا ہوا، جس نے پیرو کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونامی کی لہروں کا اثر بہت دور تک محسوس ہوا اور ہوائی اور نیوزی لینڈ تک تباہ کن لہریں پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ مجموعی طور پر اس آفت میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" href="#8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;8۔ 1976 کا گوئٹے مالا زلزلہ (23 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;4 فروری 1976 کو گوئٹے مالا میں 7.5 شدت کا زلزلہ رات تقریباً 3 بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔ دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سمیت گنجان آباد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506698/islamabad-khyber-pakhtunkhwa-5-4-magnitude-earthquake-hit-pakistan'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں نقصان ہوا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنی بڑی تعداد میں گھروں کا وجود مٹ گیا، جبکہ بعد میں آنے والے طاقتور جھٹکوں نے مزید اموات اور نقصان کا سبب بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ملک کے تقریباً دو پانچویں حصے کے اسپتال بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مزید مشکل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" href="#9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;9۔ 1797 کا وینزویلا زلزلہ (16 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1797 میں وینزویلا میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے نے تقریباً 16 ہزار جانیں لیں۔ اس زلزلے کی شدت کا درست اندازہ موجود نہیں، کیونکہ اس زمانے میں زلزلے ریکارڈ کرنے کے لیے جدید آلات دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن ماہرِ جغرافیہ اور قدرتی علوم کے محقق الیگزینڈر فان ہمبولٹ نے بعد میں اس زلزلے کے بارے میں معلومات درج کیں۔ زلزلے نے کومانا شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو تباہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کے بعض عینی شاہدین نے زلزلے سے پہلے زمین کے اندر سے تیز آوازیں آنے اور گندھک جیسی بو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ 1855 میں شائع ہونے والے زلزلوں کے ایک ریکارڈ میں بھی زمین سے شعلے نکلنے اور اس کے بعد زیرِ زمین ابلتے پانی جیسی آوازوں کا ذکر کیا گیا، تاہم ان تاریخی مشاہدات کی جدید سائنسی تشریح مختلف ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" href="#10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;10۔ 1861 کا ارجنٹینا زلزلہ (14 ہزار اموات)&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1861 میں ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا کے قریب آنے والے زلزلے نے تقریباً 14 ہزار افراد کی جان لی۔ زلزلہ رات کے قریب آیا اور شہر کی زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تباہ ہونے والی عمارتوں میں سین فرانسسکو باسیلیکا بھی شامل تھی۔ اس دور میں شہروں میں گیس کے چراغ عام استعمال ہوتے تھے۔ عمارتوں کے ملبے کے ساتھ ان چراغوں سے لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور آگ کئی دن تک جلتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زلزلے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن کے اہم زلزلہ ڈیٹا بیس میں اس زلزلے کی شدت درج نہیں، تاہم بعض تاریخی ریکارڈ اسے تقریباً 7.2 شدت کا زلزلہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" href="#زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;زلزلوں کی تباہی صرف شدت سے طے نہیں ہوتی&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;لاطینی امریکا کی ان 10 بڑی قدرتی آفات کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زلزلے کی شدت جانی نقصان کا واحد سبب نہیں ہوتی۔ ہیٹی کا 2010 کا 7.0 شدت کا زلزلہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں 3 لاکھ 16 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمزور عمارتیں، گنجان آبادی، تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہونا، امدادی سہولتوں کی کمی اور زلزلے کے بعد آنے والے دیگر خطرات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ اور سونامی، کسی زلزلے کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار میں معمولی فرق مختلف تاریخی ذرائع اور اس دور میں ریکارڈنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفت کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مضبوط تعمیرات، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت امدادی نظام کے ذریعے اس کے انسانی نقصان کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن اور ورلڈ ڈیٹا سروس فار جیو فزکس سے مرتب کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاطینی امریکا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں زمین کی مختلف تہوں کی حرکت کے باعث زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ خطے میں ماضی کے کئی زلزلے ایسی تباہی لائے جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد جان سے گئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔</strong></p>
<p>کولمبیا میں 10 اگست کو آنے والے طاقتور زلزلے میں اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں مزید ہلاکتوں کا امکان ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کے وجہ سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں آنے والے بڑے زلزلوں اور ان سے ہونے والی تباہی کی یاد تازہ کر دی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512467/rescue-operation-natural-disaster-colambia-colombia-earthquake-74-magnitude-earthquake-earthquake-deaths-earthquake-news-colombia-disaster'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512467"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/environment/latin-americas-10-deadliest-earthquakes-2026-08-10/">رائٹرز کے مطابق</a>، لاطینی امریکا کی تاریخ میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلوں میں بعض کی شدت بہت زیادہ تھی، لیکن کئی ایسے زلزلے بھی تھے جن کی تباہ کاری کی بڑی وجہ کمزور عمارتیں، زیادہ آبادی، ناقص تعمیرات اور امدادی سہولتوں کی کمی بنی۔ ذیل میں خطے کے 10 ہلاکت خیز ترین زلزلوں کی تفصیل پیش ہے۔</p>
<h3><a id="1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" href="#1-2010-کا-ہیٹی-زلزلہ-3-لاکھ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>1۔ 2010 کا ہیٹی زلزلہ  (3 لاکھ 16 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>12 جنوری 2010 کو ہیٹی میں 7.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں اندازاً 3 لاکھ 16 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ شدت کے اعتبار سے یہ فہرست میں موجود بعض دوسرے زلزلوں سے کم تھا، لیکن جانی نقصان کے لحاظ سے یہ تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شامل ہے۔</p>
<p>زلزلے کا سب سے بڑا اثر دارالحکومت پورٹ او پرنس پر پڑا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور عمارتیں شدید زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ کمزور تعمیرات، ناقص معیار کا کنکریٹ، عمارتوں کے ڈیزائن میں حفاظتی اصولوں کی کمی اور ہنگامی امداد کے محدود وسائل نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔</p>
<p>اس زلزلے کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جو 2009 میں ہیٹی کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 120 فیصد کے برابر تھا۔</p>
<h3><a id="2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" href="#2-1868-کے-ایکواڈور-اور-کولمبیا-کے-زلزلے-70-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>2۔ 1868 کے ایکواڈور اور کولمبیا کے زلزلے (70 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>15 اگست 1868 کو ایکواڈور اور کولمبیا میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا۔ ابتدا میں نسبتاً کم شدت کے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن اگلی صبح 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔</p>
<p>اس سلسلے کے نتیجے میں ایکواڈور میں تقریباً 40 ہزار جبکہ کولمبیا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ کئی قصبے تباہ ہوگئے۔ اس وقت کی تحریری دستاویزات کے مطابق ایکواڈور کے شہر ایبارا میں زلزلہ رات تقریباً سوا ایک بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔</p>
<p>صرف چند سیکنڈ کے شدید جھٹکوں نے شہر کو اس قدر تباہ کر دیا کہ بہت سے لوگ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے۔</p>
<h3><a id="3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" href="#3-1970-کا-پیرو-زلزلہ-66-ہزار-794-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>3۔ 1970 کا پیرو زلزلہ (66 ہزار 794 اموات)</strong></h3>
<p>31 مئی 1970 کو پیرو میں 7.9 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس زلزلے نے ایک انتہائی خطرناک قدرتی آفت کو جنم دیا۔ زلزلے کے نتیجے میں پیرو کے بلند ترین پہاڑوں میں سے ایک کی شمالی ڈھلوان غیر مستحکم ہوئی اور برف، چٹانوں اور مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ نیچے کی جانب تیزی سے آنے لگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506788'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506788"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ تودہ تقریباً 335 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یُونگے اور رَانراہیرکا کے علاقوں کی طرف بڑھا۔ اندازاً 8 کروڑ مکعب میٹر برف اور چٹانیں اپنے راستے میں آنے والی آبادیوں پر جا گریں اور کئی مقامات پر ملبے کی تہہ چار میٹر تک بلند ہوگئی۔</p>
<p>یونگے شہر میں اندازاً 19 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ صرف تقریباً ڈھائی ہزار(2,500) لوگ زندہ بچ سکے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر شہروں کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، جن میں چمبوٹے اور ہُواراز شامل تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔</p>
<h3><a id="4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" href="#4-1797-کا-ایکواڈور-زلزلہ-40-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>4۔ 1797 کا ایکواڈور زلزلہ (40 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1797 میں ایکواڈور میں آنے والا زلزلہ ملک میں ریکارڈ کیے گئے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اندازاً شدت 8.3 تھی اور اس نے ملک کے بڑے حصے کو شدید متاثر کیا۔</p>
<p>زلزلے کے باعث بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرے اور کئی شہروں میں عمارتیں چند ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئیں۔ کوئٹو، رِیوبامبا، لاتاکونگا اور امباتو سمیت کئی علاقوں میں تباہی پھیلی۔</p>
<p>اس دور کی تاریخی تحریروں اور عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق زمین اس شدت سے ہلی کہ کئی عمارتیں کھڑے رہنے کے بجائے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل ہوگئیں۔</p>
<h3><a id="5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" href="#5-1939-کا-چلی-زلزلہ-30-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>5۔ 1939 کا چلی زلزلہ (30 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>چلی کو دنیا کے طاقتور ترین ریکارڈ شدہ زلزلے کا سامنا بھی رہا ہے۔ 1960 میں یہاں 9.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، لیکن انسانی جانوں کے نقصان کے لحاظ سے 1939 کا زلزلہ ملک کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ ثابت ہوا۔</p>
<p>جنوبی شہر چِیان میں آنے والے اس 8.3 شدت کے زلزلے نے چِیان اور کونسیپسیون سمیت کئی علاقوں کو تباہ کردیا۔ اس وقت بڑی تعداد میں عمارتیں ایڈوب یعنی مٹی اور اینٹوں جیسے کمزور تعمیراتی مواد سے بنی ہوئی تھیں۔</p>
<p>زلزلہ ماہر سِنّا لومنٹز کے مطابق تعمیرات میں انجینئرنگ کے اصولوں اور زلزلے کے دوران عمارتوں کو افقی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کی شدید کمی تھی۔ اس تباہی کے بعد چلی نے پہلی بار زلزلہ برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے باقاعدہ حفاظتی قوانین بنائے اور ملک میں زلزلہ برداشت کرنے والی تعمیرات کے لیے اپنا پہلا اہم بلڈنگ کوڈ متعارف کرایا۔</p>
<h3><a id="6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" href="#6-1812-کا-وینزویلا-زلزلہ-26-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>6۔ 1812 کا وینزویلا زلزلہ (26 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1812 میں وینزویلا میں آنے والے 7۔7 شدت کے زلزلے میں تقریباً 26 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1962 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ یہ ایک ہی زلزلہ نہ ہو بلکہ ایک دوسرے کے قریب آنے والے تین زلزلوں کا سلسلہ ہو، جنہوں نے ایک دوسرے کو متحرک کیا۔</p>
<p>اس آفت نے دارالحکومت کراکس کا تقریباً 90 فیصد حصہ تباہ کردیا۔ بارکیسیمیتو، میریدا، لا گوئیرا اور سان فیلیپے سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی ہزاروں افراد جان سے گئے۔</p>
<p>یہ زلزلہ ایسے وقت آیا جب وینزویلا اسپین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس وقت ہسپانوی حکام نے زلزلے کو انقلابی تحریک کے خلاف خدائی سزا قرار دیا۔ دوسری جانب امریکا نے متاثرین کے لیے خوراک اور مالی امداد بھیجی، جسے بیرونِ ملک سے قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کی ابتدائی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<h3><a id="7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" href="#7-1868-کا-اریکا-زلزلہ-25-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>7۔ 1868 کا اریکا زلزلہ (25 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1868 میں 8.5 شدت کا ایک انتہائی طاقتور زلزلہ اریکا کے علاقے میں آیا۔ اس وقت اریکا پیرو کا حصہ تھا، جبکہ آج یہ علاقہ چلی میں شامل ہے۔</p>
<p>زلزلے نے اریکا کے ساتھ ساتھ اریکیپا، موکیگوا، مولینڈو اور ایلو سمیت کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ تاہم تباہی صرف زمین تک محدود نہیں رہی۔ زلزلے کے بعد سمندر میں سونامی پیدا ہوا، جس نے پیرو کے ساحلی علاقوں اور بندرگاہی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>سونامی کی لہروں کا اثر بہت دور تک محسوس ہوا اور ہوائی اور نیوزی لینڈ تک تباہ کن لہریں پہنچنے کی اطلاعات ملیں۔ مجموعی طور پر اس آفت میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<h3><a id="8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" href="#8-1976-کا-گوئٹے-مالا-زلزلہ-23-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>8۔ 1976 کا گوئٹے مالا زلزلہ (23 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>4 فروری 1976 کو گوئٹے مالا میں 7.5 شدت کا زلزلہ رات تقریباً 3 بجے آیا، جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔ دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی سمیت گنجان آباد علاقوں میں شدید تباہی ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506698/islamabad-khyber-pakhtunkhwa-5-4-magnitude-earthquake-hit-pakistan'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506698"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں نقصان ہوا۔ مٹی اور اینٹوں سے بنی بڑی تعداد میں گھروں کا وجود مٹ گیا، جبکہ بعد میں آنے والے طاقتور جھٹکوں نے مزید اموات اور نقصان کا سبب بنایا۔</p>
<p>تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔ ملک کے تقریباً دو پانچویں حصے کے اسپتال بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئے، جس کے باعث زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا مزید مشکل ہوگیا۔</p>
<h3><a id="9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" href="#9-1797-کا-وینزویلا-زلزلہ-16-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>9۔ 1797 کا وینزویلا زلزلہ (16 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1797 میں وینزویلا میں آنے والے ایک اور بڑے زلزلے نے تقریباً 16 ہزار جانیں لیں۔ اس زلزلے کی شدت کا درست اندازہ موجود نہیں، کیونکہ اس زمانے میں زلزلے ریکارڈ کرنے کے لیے جدید آلات دستیاب نہیں تھے۔</p>
<p>جرمن ماہرِ جغرافیہ اور قدرتی علوم کے محقق الیگزینڈر فان ہمبولٹ نے بعد میں اس زلزلے کے بارے میں معلومات درج کیں۔ زلزلے نے کومانا شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو تباہ کردیا۔</p>
<p>اس وقت کے بعض عینی شاہدین نے زلزلے سے پہلے زمین کے اندر سے تیز آوازیں آنے اور گندھک جیسی بو محسوس ہونے کا ذکر کیا۔ 1855 میں شائع ہونے والے زلزلوں کے ایک ریکارڈ میں بھی زمین سے شعلے نکلنے اور اس کے بعد زیرِ زمین ابلتے پانی جیسی آوازوں کا ذکر کیا گیا، تاہم ان تاریخی مشاہدات کی جدید سائنسی تشریح مختلف ہوسکتی ہے۔</p>
<h3><a id="10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" href="#10-1861-کا-ارجنٹینا-زلزلہ-14-ہزار-اموات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>10۔ 1861 کا ارجنٹینا زلزلہ (14 ہزار اموات)</strong></h3>
<p>1861 میں ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا کے قریب آنے والے زلزلے نے تقریباً 14 ہزار افراد کی جان لی۔ زلزلہ رات کے قریب آیا اور شہر کی زیادہ تر عمارتیں تباہ ہوگئیں۔</p>
<p>تباہ ہونے والی عمارتوں میں سین فرانسسکو باسیلیکا بھی شامل تھی۔ اس دور میں شہروں میں گیس کے چراغ عام استعمال ہوتے تھے۔ عمارتوں کے ملبے کے ساتھ ان چراغوں سے لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا اور آگ کئی دن تک جلتی رہی۔</p>
<p>زلزلے کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلی اور لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے۔ نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن کے اہم زلزلہ ڈیٹا بیس میں اس زلزلے کی شدت درج نہیں، تاہم بعض تاریخی ریکارڈ اسے تقریباً 7.2 شدت کا زلزلہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<h3><a id="زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" href="#زلزلوں-کی-تباہی-صرف-شدت-سے-طے-نہیں-ہوتی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>زلزلوں کی تباہی صرف شدت سے طے نہیں ہوتی</strong></h3>
<p>لاطینی امریکا کی ان 10 بڑی قدرتی آفات کی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زلزلے کی شدت جانی نقصان کا واحد سبب نہیں ہوتی۔ ہیٹی کا 2010 کا 7.0 شدت کا زلزلہ اس کی واضح مثال ہے، جس میں 3 لاکھ 16 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔</p>
<p>کمزور عمارتیں، گنجان آبادی، تعمیراتی قوانین پر عمل نہ ہونا، امدادی سہولتوں کی کمی اور زلزلے کے بعد آنے والے دیگر خطرات، جیسے لینڈ سلائیڈنگ اور سونامی، کسی زلزلے کو زیادہ خطرناک بنا سکتے ہیں۔</p>
<p>ان اعداد و شمار میں معمولی فرق مختلف تاریخی ذرائع اور اس دور میں ریکارڈنگ کی محدود سہولتوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قدرتی آفت کو روکا نہیں جاسکتا، لیکن مضبوط تعمیرات، بہتر منصوبہ بندی اور بروقت امدادی نظام کے ذریعے اس کے انسانی نقصان کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق یہ اعداد و شمار نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن اور ورلڈ ڈیٹا سروس فار جیو فزکس سے مرتب کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512484</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 11:37:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/11112817b8e9662.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/11112817b8e9662.webp"/>
        <media:title>(وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں زلزلے سے منہدم عمارت کا منظر، 25 جون 2026 )</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>12 اگست کو انوکھی رات: چار فلکیاتی مظاہر ایک ساتھ رونما ہوں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512376/solar-eclipse-perseid-meteor-shower-astronomy-night-sky-planets-stargazing-space</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلکیاتی سائنس میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے 12 اگست کی رات ایک انتہائی شاندار اور تاریخی موقع بننے جا رہی ہے، اس رات میں چار بڑے فلکیاتی مظاہر ایک ساتھ رونما ہوں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مظاہر میں چھ سیاروں کی ایک قطار میں آمد، نیا چاند، مکمل اور جزوی سورج گرہن، اور سال کی سب سے بڑی شہاب ثاقب کی بارش شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’فاکس ویدر‘ کے مطابق اگست کا مہینہ عام طور پر آسمان کا مشاہدہ کرنے کے لیے موزوں مہینوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں متعدد فلکیاتی مظاہر سامنے آتے ہیں، جبکہ رات کے وقت موسم نسبتاً معتدل ہونے کے باعث کھلے آسمان کے نیچے مشاہدہ کرنا آسان رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 اور 12 اگست کے دوران چھ سیارے آسمان میں ایک خاص ترتیب میں دکھائی دیں گے۔ پلانیٹری سوسائٹی کے مطابق یہ منظر منگل کی صبح سے پہلے کے اوقات میں نمایاں ہونا شروع ہوگا اور کئی راتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس قطار میں مشتری، عطارد، مریخ، یورینس، زحل اور نیپچون شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478517'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478517"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے مشتری، عطارد، مریخ اور زحل کو مناسب حالات میں عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ یورینس کے لیے بائنوکولر یا دوربین کی ضرورت ہوگی۔ نیپچون نسبتاً زیادہ دور ہونے کی وجہ سے اسے دیکھنے کے لیے بڑی ٹیلی اسکوپ درکار ہوگی۔ اس لیے چھوں سیاروں کو ایک ساتھ عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 اگست کو نیا چاند بھی ہوگا۔ نئے چاند کے مرحلے میں چاند کی روشن سطح زمین سے تقریباً نظر نہیں آتی، جس کے نتیجے میں رات کا آسمان زیادہ تاریک رہتا ہے۔ فلکیاتی مشاہدے کے لیے یہ صورت حال خاص طور پر فائدہ مند ہوتی ہے، کیونکہ کم چاندنی کی وجہ سے دور کے ستاروں اور شہابیوں کو دیکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دن ایک سورج گرہن بھی رونما ہوگا۔ ناسا کے مطابق مکمل سورج گرہن کا راستہ شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی اسپین کے علاقوں سے گزرے گا، جبکہ پرتگال کا ایک محدود حصہ بھی مکمل گرہن کے راستے میں شامل ہوگا۔ امریکا میں الاسکا سے شمالی کیرولائنا تک بعض علاقوں سے جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سورج گرہن کے مشاہدے کے دوران آنکھوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ ناسا کے مطابق مکمل یا جزوی سورج گرہن کو براہ راست عام آنکھ سے دیکھنا نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس لیے خصوصی سولر ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر استعمال کیے جانے چاہییں۔ عام دھوپ کے چشمے اس مقصد کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 اور 13 اگست کی درمیانی رات پرسیڈز شہابی بارش بھی اپنے عروج پر ہوگی۔ یہ شہابی بارش سویفٹ ٹٹل نامی دمدار ستارے کے چھوڑے ہوئے ذرات اور ملبے سے پیدا ہوتی ہے اور آسمان پر ٹوٹتے ہوئے تاروں جیسی نظر آنے والی روشن لکیروں کا قدرتی نظارہ دیکھا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497774'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سازگار حالات میں فی گھنٹہ تقریباً 100 شہاب دیکھنے کا امکان ہوسکتا ہے، اگرچہ حقیقی تعداد مقام، موسم اور آسمان کی تاریکی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال شہابی بارش کو دیکھنے کے حالات نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے، کیونکہ شہابی بارش کا عروج نئے چاند کے مرحلے کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چاندنی کم ہونے کے باعث آسمان زیادہ تاریک ہوگا اور شہاب دیکھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا کے مطابق شہابی بارش دیکھنے کے لیے مکمل اندھیرا ہونے کے بعد شمال مشرقی آسمان کی جانب دیکھنا ایک اچھا طریقہ ہے۔ تاہم شہاب صرف ایک ہی سمت میں نہیں آتے، اس لیے بہتر ہے کہ نظر کو پورے آسمان پر مرکوز رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق شہر کی مصنوعی روشنی سے دور کسی تاریک اور کھلی جگہ کا انتخاب مشاہدے کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے بعد آنکھوں کو مکمل اندھیرے کا عادی ہونے کے لیے تقریباً 30 منٹ کا وقت دینا بھی مفید رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام مظاہر کا ایک ہی مقام سے بیک وقت نظر آنا ضروری نہیں، کیونکہ سورج گرہن کا مشاہدہ مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہوگا، جبکہ سیاروں اور شہابی بارش کو دیکھنے کے امکانات مقام اور مقامی موسمی حالات کے مطابق مختلف ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فلکیاتی سائنس میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے 12 اگست کی رات ایک انتہائی شاندار اور تاریخی موقع بننے جا رہی ہے، اس رات میں چار بڑے فلکیاتی مظاہر ایک ساتھ رونما ہوں گے۔</strong></p>
<p>ان مظاہر میں چھ سیاروں کی ایک قطار میں آمد، نیا چاند، مکمل اور جزوی سورج گرہن، اور سال کی سب سے بڑی شہاب ثاقب کی بارش شامل ہے۔</p>
<p>’فاکس ویدر‘ کے مطابق اگست کا مہینہ عام طور پر آسمان کا مشاہدہ کرنے کے لیے موزوں مہینوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں متعدد فلکیاتی مظاہر سامنے آتے ہیں، جبکہ رات کے وقت موسم نسبتاً معتدل ہونے کے باعث کھلے آسمان کے نیچے مشاہدہ کرنا آسان رہتا ہے۔</p>
<p>11 اور 12 اگست کے دوران چھ سیارے آسمان میں ایک خاص ترتیب میں دکھائی دیں گے۔ پلانیٹری سوسائٹی کے مطابق یہ منظر منگل کی صبح سے پہلے کے اوقات میں نمایاں ہونا شروع ہوگا اور کئی راتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس قطار میں مشتری، عطارد، مریخ، یورینس، زحل اور نیپچون شامل ہوں گے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30478517'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30478517"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان میں سے مشتری، عطارد، مریخ اور زحل کو مناسب حالات میں عام آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ یورینس کے لیے بائنوکولر یا دوربین کی ضرورت ہوگی۔ نیپچون نسبتاً زیادہ دور ہونے کی وجہ سے اسے دیکھنے کے لیے بڑی ٹیلی اسکوپ درکار ہوگی۔ اس لیے چھوں سیاروں کو ایک ساتھ عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔</p>
<p>12 اگست کو نیا چاند بھی ہوگا۔ نئے چاند کے مرحلے میں چاند کی روشن سطح زمین سے تقریباً نظر نہیں آتی، جس کے نتیجے میں رات کا آسمان زیادہ تاریک رہتا ہے۔ فلکیاتی مشاہدے کے لیے یہ صورت حال خاص طور پر فائدہ مند ہوتی ہے، کیونکہ کم چاندنی کی وجہ سے دور کے ستاروں اور شہابیوں کو دیکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔</p>
<p>اسی دن ایک سورج گرہن بھی رونما ہوگا۔ ناسا کے مطابق مکمل سورج گرہن کا راستہ شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ اور شمالی اسپین کے علاقوں سے گزرے گا، جبکہ پرتگال کا ایک محدود حصہ بھی مکمل گرہن کے راستے میں شامل ہوگا۔ امریکا میں الاسکا سے شمالی کیرولائنا تک بعض علاقوں سے جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔</p>
<p>سورج گرہن کے مشاہدے کے دوران آنکھوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ ناسا کے مطابق مکمل یا جزوی سورج گرہن کو براہ راست عام آنکھ سے دیکھنا نقصان دہ ہوسکتا ہے، اس لیے خصوصی سولر ایکلپس چشمے یا مناسب سولر فلٹر استعمال کیے جانے چاہییں۔ عام دھوپ کے چشمے اس مقصد کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔</p>
<p>12 اور 13 اگست کی درمیانی رات پرسیڈز شہابی بارش بھی اپنے عروج پر ہوگی۔ یہ شہابی بارش سویفٹ ٹٹل نامی دمدار ستارے کے چھوڑے ہوئے ذرات اور ملبے سے پیدا ہوتی ہے اور آسمان پر ٹوٹتے ہوئے تاروں جیسی نظر آنے والی روشن لکیروں کا قدرتی نظارہ دیکھا جاسکے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30497774'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30497774"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سازگار حالات میں فی گھنٹہ تقریباً 100 شہاب دیکھنے کا امکان ہوسکتا ہے، اگرچہ حقیقی تعداد مقام، موسم اور آسمان کی تاریکی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔</p>
<p>اس سال شہابی بارش کو دیکھنے کے حالات نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے، کیونکہ شہابی بارش کا عروج نئے چاند کے مرحلے کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چاندنی کم ہونے کے باعث آسمان زیادہ تاریک ہوگا اور شہاب دیکھنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔</p>
<p>ناسا کے مطابق شہابی بارش دیکھنے کے لیے مکمل اندھیرا ہونے کے بعد شمال مشرقی آسمان کی جانب دیکھنا ایک اچھا طریقہ ہے۔ تاہم شہاب صرف ایک ہی سمت میں نہیں آتے، اس لیے بہتر ہے کہ نظر کو پورے آسمان پر مرکوز رکھا جائے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق شہر کی مصنوعی روشنی سے دور کسی تاریک اور کھلی جگہ کا انتخاب مشاہدے کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ وہاں پہنچنے کے بعد آنکھوں کو مکمل اندھیرے کا عادی ہونے کے لیے تقریباً 30 منٹ کا وقت دینا بھی مفید رہتا ہے۔</p>
<p>ان تمام مظاہر کا ایک ہی مقام سے بیک وقت نظر آنا ضروری نہیں، کیونکہ سورج گرہن کا مشاہدہ مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہوگا، جبکہ سیاروں اور شہابی بارش کو دیکھنے کے امکانات مقام اور مقامی موسمی حالات کے مطابق مختلف ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512376</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Aug 2026 15:53:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/1015440970ca861.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/1015440970ca861.webp"/>
        <media:title>تصویر: اےآئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضمانت کے لیے بھارتی چیف جسٹس پر کالا جادو کرنے والا گرفتار</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512232/man-arrested-for-performing-black-magic-on-indian-chief-justice-to-secure-bail</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر بلاسپور کی پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے جس نے اپنے رشتے دار کی کورٹ سے ضمانت کروانے کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جج کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے کالا جادو اور تانترک عمل کیا۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے یہ سب ایک ویڈیو دیکھ کر کیا تاکہ وہ اپنے رشتے دار کو جیل سے باہر نکال سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ دیوری نامی گاؤں میں اس وقت سامنے آیا جب جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات دیہاتیوں نے شمشان گھاٹ میں چار لوگوں کو مشکوک اور عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا۔ لوگوں کو شک ہوا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دیہاتیوں کو دیکھ کر تین افراد موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ریشی کیش کمار نامی ایک شخص کو دیہاتیوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512111/woman-seeking-rs-175-refund-for-spoilt-milk-loses-nearly-rs-2-lakh-in-scam'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512111"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے موقع پر پہنچ کر کالے جادو میں استعمال ہونے والی کئی چیزیں برآمد کر لیں۔ ان میں ایک مچھلی، لیموں، سندور اور چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رمیش سنہا کی تصویر شامل تھی۔ اس کے علاوہ ایک تصویر چاقو مارنے کے کیس میں گرفتار ملزم پرریانشو بولے کی تھی اور دوسری تصویر اسی کیس کے متاثرہ شخص کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس تفتیش کے دوران ریشی کیش نے بتایا کہ اس کا رشتہ دار پرریانشو بولے ایک بندے کو چاقو مارنے کے جرم میں جیل میں بند ہے۔ اس کیس کے ایک ملزم کو تو ضمانت مل گئی تھی لیکن باقی ملزمان کی ضمانتیں ابھی عدالت میں زیر سماعت تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریشی کیش نے ایک تانترک کی ویڈیو دیکھی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایسا عمل کرنے سے کورٹ سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اس ویڈیو سے متاثر ہو کر وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ رات کو شمشان گھاٹ چلا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511561/quot18-year-old-becomes-the-worlds-youngest-professor-after-306-years'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511561"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے پر بات کرتے ہوئے بلاسپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجنیش سنگھ نے کہا کہ جادو ٹونہ کرنے سے کسی کو کبھی ضمانت نہیں مل سکتی اور مجرموں کو چاہیے کہ وہ جادو ٹونے کے بجائے خود کو سدھارنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وہم اور خرافات پر عمل کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید چھان بین اور تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس عمل میں شامل دیگر افراد کون تھے اور انہوں نے یہ قدم کس مقصد سے اٹھایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر بلاسپور کی پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی ہے جس نے اپنے رشتے دار کی کورٹ سے ضمانت کروانے کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جج کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے کالا جادو اور تانترک عمل کیا۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے یہ سب ایک ویڈیو دیکھ کر کیا تاکہ وہ اپنے رشتے دار کو جیل سے باہر نکال سکے۔</strong></p>
<p>یہ واقعہ دیوری نامی گاؤں میں اس وقت سامنے آیا جب جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات دیہاتیوں نے شمشان گھاٹ میں چار لوگوں کو مشکوک اور عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا۔ لوگوں کو شک ہوا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔</p>
<p>پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی دیہاتیوں کو دیکھ کر تین افراد موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ریشی کیش کمار نامی ایک شخص کو دیہاتیوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30512111/woman-seeking-rs-175-refund-for-spoilt-milk-loses-nearly-rs-2-lakh-in-scam'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30512111"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس نے موقع پر پہنچ کر کالے جادو میں استعمال ہونے والی کئی چیزیں برآمد کر لیں۔ ان میں ایک مچھلی، لیموں، سندور اور چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رمیش سنہا کی تصویر شامل تھی۔ اس کے علاوہ ایک تصویر چاقو مارنے کے کیس میں گرفتار ملزم پرریانشو بولے کی تھی اور دوسری تصویر اسی کیس کے متاثرہ شخص کی تھی۔</p>
<p>پولیس تفتیش کے دوران ریشی کیش نے بتایا کہ اس کا رشتہ دار پرریانشو بولے ایک بندے کو چاقو مارنے کے جرم میں جیل میں بند ہے۔ اس کیس کے ایک ملزم کو تو ضمانت مل گئی تھی لیکن باقی ملزمان کی ضمانتیں ابھی عدالت میں زیر سماعت تھیں۔</p>
<p>ریشی کیش نے ایک تانترک کی ویڈیو دیکھی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایسا عمل کرنے سے کورٹ سے ضمانت مل جاتی ہے۔ اس ویڈیو سے متاثر ہو کر وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ رات کو شمشان گھاٹ چلا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511561/quot18-year-old-becomes-the-worlds-youngest-professor-after-306-years'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511561"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے پر بات کرتے ہوئے بلاسپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجنیش سنگھ نے کہا کہ جادو ٹونہ کرنے سے کسی کو کبھی ضمانت نہیں مل سکتی اور مجرموں کو چاہیے کہ وہ جادو ٹونے کے بجائے خود کو سدھارنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>انہوں نے سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وہم اور خرافات پر عمل کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید چھان بین اور تفتیش جاری ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس عمل میں شامل دیگر افراد کون تھے اور انہوں نے یہ قدم کس مقصد سے اٹھایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512232</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 10:58:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/091102101946f24.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/091102101946f24.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>1947 میں دبئی کس طرح پاکستان کا حصہ بنتے بنتے رہ گیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512233/dubai-nearly-became-part-of-pakistan-in-1947</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج کے جدید اور معاشی طور پر دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہونے والے دبئی کو متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی اور ملک کا حصہ تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ اگر سنہ 1947 میں برطانوی حکومت کی ایک تجویز کو تسلیم کر لیا جاتا، تو آج پاکستان کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بالکل مختلف ہوتا اور دبئی سمیت خلیج کے کئی اہم علاقے پاکستان کا حصہ ہوتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حیرت انگیز انکشاف مشہور مؤرخ اور مصنف سیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ میں کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح تقسیمِ ہند کے وقت خلیجِ فارس کے یہ عرب علاقے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریز دور میں خلیجی ریاستوں کا انتظام براہِ راست لندن سے چلایا جاتا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہائیوں تک دبئی سمیت خلیج کے زیادہ تر علاقوں کا نظامِ حکومت لندن کے بجائے برطانوی ہند کے دارالحکومت دہلی سے چلایا جاتا تھا اور یہ تمام علاقے عملی طور پر برطانوی ہند کی سلطنت کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'  alt=' تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تاریخی رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیم ڈیلریمپل بتاتے ہیں کہ عدن سے لے کر کویت تک عرب کے تمام برطانوی زیرِ قبضہ علاقوں کا انتظام دہلی سے ہی چلایا جاتا تھا، جن کی نگرانی انڈین پولیٹیکل سروس کرتی تھی، وہاں انڈین فوج کی تعیناتی ہوتی تھی اور وہ سب بھارت کے وائسرائے کو جوابدہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان تمام ریاستوں کو قانونی طور پر بھارت کا ہی حصہ مانا جاتا تھا اور یہاں تک کہ موجودہ یمن کے شہر عدن میں بھی لوگوں کو انڈین پاسپورٹ جاری کیے جاتے تھے کیونکہ وہ ممبئی صوبے کے ماتحت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1931 میں مہاتما گاندھی نے ان علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کے کئی نوجوان عرب خود کو انڈین نیشنلسٹ یعنی تحریکِ آزادی کے حامیوں کے طور پر پیش کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل کے مطابق، جب 1947 میں انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑنے اور پاکستان و بھارت کی صورت میں دو خود مختار ممالک بنانے کا فیصلہ کیا، تو برطانوی حکام کے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان خلیجی ریاستوں کا انتظام اب کس کے حوالے کیا جائے۔ اس موقع پر برطانوی حکومت کے اندر ایک اہم بحث شروع ہوئی کہ کیا آزاد ہونے والے نئے ملک پاکستان کو اس خلیجِ فارس کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کا جغرافیہ خلیجی ممالک کے بالکل قریب تھا اور اس کے تاریخی و مذہبی روابط بھی عرب دنیا سے گہرے تھے، اس لیے اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ ان مسلم اکثریتی عرب علاقوں کو نو زائیدہ مسلم ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام دے دیا جائے یا انہیں پاکستان کی دیگر نوابی ریاستوں کی طرح اس کے وفاق میں شامل کرنے کا موقع دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل کے مطابق، انگریزوں نے یہ خلیجی علاقے مستقبل کی حکومتوں کو دینے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن اس وقت دہلی میں بیٹھے افسران کی ترجیحات مختلف تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں تعینات ایک برطانوی سفارت کار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دہلی کے عہدیداروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ خلیجِ فارس میں ان کی حکومت کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی انتظامیہ کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان عرب علاقوں کا کنٹرول مقامی لوگوں کو دینے کے حق میں نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ کے مطابق، خلیج میں مقیم ایک برطانوی باشندے ولیم ہے نے اس سوچ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ خلیجی عربوں کے معاملات کو سنبھالنے کی ذمہ داری انڈینز یا پاکستانیوں کو سونپنا واضح طور پر نامناسب ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'  alt=' انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکام کی اس ہچکچاہٹ اور دہلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل گیا، اور آزادی سے چند ماہ قبل، یعنی یکم اپریل 1947 کو برطانوی حکومت نے ایک باقاعدہ فیصلے کے تحت دبئی سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو قانونی طور پر برطانوی ہند کی حدود سے الگ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ جب چند ماہ بعد اگست 1947 میں پاکستان اور بھارت نے اپنی حدود میں موجود سیکڑوں شاہی ریاستوں اور نوابی علاقوں کو اپنے ممالک میں شامل کرنا شروع کیا، تو یہ عرب ریاستیں اس مساوات سے باہر نکل چکی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیم ڈیلریمپل کے مطابق، اگر اس وقت پاکستان کی قیادت خلیجی ریاستوں پر اصرار کرتی اور انگریزوں کی پیشکش کو قبول کر لیا جاتا، تو آج پاکستان نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ پورے خلیجِ فارس کا سب سے طاقتور ملک ہوتا اور دبئی کی تمام معاشی ترقی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہوتی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج کے جدید اور معاشی طور پر دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہونے والے دبئی کو متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی اور ملک کا حصہ تصور کرنا بھی ناممکن لگتا ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ ایک سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ اگر سنہ 1947 میں برطانوی حکومت کی ایک تجویز کو تسلیم کر لیا جاتا، تو آج پاکستان کا سیاسی اور جغرافیائی نقشہ بالکل مختلف ہوتا اور دبئی سمیت خلیج کے کئی اہم علاقے پاکستان کا حصہ ہوتے۔</strong></p>
<p>یہ حیرت انگیز انکشاف مشہور مؤرخ اور مصنف سیم ڈیلریمپل نے اپنی کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ میں کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح تقسیمِ ہند کے وقت خلیجِ فارس کے یہ عرب علاقے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DLANXggtmX3/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=AVjfLXNCxEXTk-xd2L599KH" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریز دور میں خلیجی ریاستوں کا انتظام براہِ راست لندن سے چلایا جاتا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دہائیوں تک دبئی سمیت خلیج کے زیادہ تر علاقوں کا نظامِ حکومت لندن کے بجائے برطانوی ہند کے دارالحکومت دہلی سے چلایا جاتا تھا اور یہ تمام علاقے عملی طور پر برطانوی ہند کی سلطنت کا حصہ تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/09104659124ccc0.webp'  alt=' تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل</figcaption>
    </figure>
<p>اس تاریخی رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیم ڈیلریمپل بتاتے ہیں کہ عدن سے لے کر کویت تک عرب کے تمام برطانوی زیرِ قبضہ علاقوں کا انتظام دہلی سے ہی چلایا جاتا تھا، جن کی نگرانی انڈین پولیٹیکل سروس کرتی تھی، وہاں انڈین فوج کی تعیناتی ہوتی تھی اور وہ سب بھارت کے وائسرائے کو جوابدہ تھے۔</p>
<p>سیم ڈیلریمپل نے بتایا کہ قانون کے مطابق ان تمام ریاستوں کو قانونی طور پر بھارت کا ہی حصہ مانا جاتا تھا اور یہاں تک کہ موجودہ یمن کے شہر عدن میں بھی لوگوں کو انڈین پاسپورٹ جاری کیے جاتے تھے کیونکہ وہ ممبئی صوبے کے ماتحت تھا۔</p>
<p>اس گہرے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1931 میں مہاتما گاندھی نے ان علاقوں کا دورہ کیا تو وہاں کے کئی نوجوان عرب خود کو انڈین نیشنلسٹ یعنی تحریکِ آزادی کے حامیوں کے طور پر پیش کرتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SamDalrymple123/status/1974395014521446474"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سیم ڈیلریمپل کے مطابق، جب 1947 میں انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑنے اور پاکستان و بھارت کی صورت میں دو خود مختار ممالک بنانے کا فیصلہ کیا، تو برطانوی حکام کے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان خلیجی ریاستوں کا انتظام اب کس کے حوالے کیا جائے۔ اس موقع پر برطانوی حکومت کے اندر ایک اہم بحث شروع ہوئی کہ کیا آزاد ہونے والے نئے ملک پاکستان کو اس خلیجِ فارس کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟</p>
<p>سیم ڈیلریمپل نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کا جغرافیہ خلیجی ممالک کے بالکل قریب تھا اور اس کے تاریخی و مذہبی روابط بھی عرب دنیا سے گہرے تھے، اس لیے اس بات کا قوی امکان موجود تھا کہ ان مسلم اکثریتی عرب علاقوں کو نو زائیدہ مسلم ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام دے دیا جائے یا انہیں پاکستان کی دیگر نوابی ریاستوں کی طرح اس کے وفاق میں شامل کرنے کا موقع دیا جائے۔</p>
<p>سیم ڈیلریمپل کے مطابق، انگریزوں نے یہ خلیجی علاقے مستقبل کی حکومتوں کو دینے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن اس وقت دہلی میں بیٹھے افسران کی ترجیحات مختلف تھیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ تہران میں تعینات ایک برطانوی سفارت کار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دہلی کے عہدیداروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ خلیجِ فارس میں ان کی حکومت کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی انتظامیہ کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ان عرب علاقوں کا کنٹرول مقامی لوگوں کو دینے کے حق میں نہیں تھے۔</p>
<p>کتاب ’شیٹرڈ لینڈز‘ کے مطابق، خلیج میں مقیم ایک برطانوی باشندے ولیم ہے نے اس سوچ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ خلیجی عربوں کے معاملات کو سنبھالنے کی ذمہ داری انڈینز یا پاکستانیوں کو سونپنا واضح طور پر نامناسب ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/091048598b8b4b5.webp'  alt=' انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>انڈین پولیٹیکل سروس  کے افسران، جو خلیجِ فارس کی ریزیڈنسی میں تعینات تھے۔ (تصویر: ایکس/سیم ڈیلریمپل)</figcaption>
    </figure>
<p>برطانوی حکام کی اس ہچکچاہٹ اور دہلی میں بیٹھے فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل گیا، اور آزادی سے چند ماہ قبل، یعنی یکم اپریل 1947 کو برطانوی حکومت نے ایک باقاعدہ فیصلے کے تحت دبئی سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو قانونی طور پر برطانوی ہند کی حدود سے الگ کر دیا۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ جب چند ماہ بعد اگست 1947 میں پاکستان اور بھارت نے اپنی حدود میں موجود سیکڑوں شاہی ریاستوں اور نوابی علاقوں کو اپنے ممالک میں شامل کرنا شروع کیا، تو یہ عرب ریاستیں اس مساوات سے باہر نکل چکی تھیں۔</p>
<p>سیم ڈیلریمپل کے مطابق، اگر اس وقت پاکستان کی قیادت خلیجی ریاستوں پر اصرار کرتی اور انگریزوں کی پیشکش کو قبول کر لیا جاتا، تو آج پاکستان نہ صرف بحیرہ عرب بلکہ پورے خلیجِ فارس کا سب سے طاقتور ملک ہوتا اور دبئی کی تمام معاشی ترقی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہوتی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512233</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 10:57:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/09105544bd657f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/09105544bd657f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا میں سائنس دانوں نے شارک سے انوکھا کام لینا شروع کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512142/scientists-in-us-are-using-sharks-to-get-ocean-data-for-improving-hurricane-predictions</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین شارکس پر ایسے چھوٹے سینسر نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی سے متعلق معلومات جمع کرکے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں تک پہنچاتی ہیں۔ شارکس سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن امریکی سائنس دان اب انہی سمندری شکاریوں کو سمندر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے قدرتی ’ڈیٹا آبزرور‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو ایسے متحرک سمندری مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ جمع کر کے اسے سمندری، ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے شارکس پر الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاتے ہیں جو سمندر کے پانی کی میں موجود نمکیات کے ساتھ ساتھ پانی کے درجہ حرارت اور گہرائی کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مسلسل معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی کے اسکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں۔ شارکس اس تحقیق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں حرکت کرتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل شارکس کی ٹیگنگ زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال کردہ سمندری ٹھکانوں کا پتا لگانے تک محدود رہی ہے۔ تاہم ڈیلاویئر یونیورسٹی کی ٹیم اب شارک کی ایسی نسلوں کا انتخاب کر رہی ہے جو سمندری طوفانوں کی تحقیق کے لیے زیادہ مفید ڈیٹا فراہم کر سکیں اور اتنی مرتبہ سطح آب کے قریب آئیں کہ ان پر نصب ٹیگز سیٹلائٹس کو معلومات منتقل کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی بحرِ اوقیانوس میں کیے گئے سابقہ تجزیوں میں شارک کی مختلف نسلوں مثلاً شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اسموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک کو اس تحقیق کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466818/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرون کارلائل کے مطابق محققین کی خاص توجہ سمندر کی اوپری تہہ میں موجود حرارت پر ہے جسے ’مکسڈ لیئر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی یہی اوپری تہہ سمندری طوفان کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مکسڈ لیئر جتنی گرم ہوگی، طوفان اتنا ہی طاقتور ہو سکتا ہے کیونکہ یہی گرم پانی سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلاویئر یونیورسٹی میں ہی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کیرولین ویرنکی کے مطابق شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی کے آغاز میں شروع ہوتا ہے، جب طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی کچھ شارک نسلیں بحرِ اوقیانوس کے نسبتاً دور علاقوں میں موسم سرما گزارنے کے بعد ساحل کے قریب آتی ہیں۔ محققین ایک تحقیقی جہاز پر ساحل سے تقریباً 50 سے 65 کلومیٹر دور جاتے ہیں، چارہ لگی ڈوریاں سمندر میں ڈالتے ہیں اور عموماً دو سے تین گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارک پکڑے جانے کے بعد اس کی پشت پر موجود پنکھ پر ٹیگ نصب کیا جاتا ہے۔ جب بھی شارک سطح آب کے قریب تیرتی ہے تو ٹیگ سیٹلائٹس کے گردشی نیٹ ورک سے رابطہ قائم کرکے جمع کیا گیا ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے۔ یہ پورا عمل عموماً پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شارکس پر ٹیگ لگانے کا عمل جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ ٹیگز کو اس طرح سے پیوست کیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جائے۔ ہر شارک کو واپس سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق اگر شارک کو دباؤ یا نقصان پہنچا ہو تو اس کے قدرتی رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے تحقیق کے لیے حاصل ہونے والا ڈیٹا متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیش گوئی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق اس معلومات سے شمالی کیرولائنا سے میساچوسس تک ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو قابلِ اعتماد پیش گوئی فراہم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان علاقوں کو مستقبل کے زیادہ طاقتور سمندری طوفانوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق بہت سے افراد شارک کو خوفناک جانور کے طور پر جانتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ شارکس سمندر کے لیے انتہائی موزوں اور حیرت انگیز جانور ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شارکس انسانوں کے لیے مفید معلومات فراہم کر سکتی ہیں تو یہ جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے ایک فائدہ مند صورت حال ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست ڈیلاویئر کی یونیورسٹی کے محققین شارکس پر ایسے چھوٹے سینسر نصب کر رہے ہیں جو سمندر کے درجہ حرارت، نمکیات اور گہرائی سے متعلق معلومات جمع کرکے سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسدانوں تک پہنچاتی ہیں۔ شارکس سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں سمندری طوفانوں کی پیش گوئی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔</strong></p>
<p>فلموں میں شارک مچھلی کو ہمیشہ خوف کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن امریکی سائنس دان اب انہی سمندری شکاریوں کو سمندر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرنے والے قدرتی ’ڈیٹا آبزرور‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>امریکا کی یونیورسٹی آف ڈیلاویئر شارکس کو ایسے متحرک سمندری مشاہدہ کاروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے سمندر کی بدلتی صورت حال کا ’ریئل ٹائم ڈیٹا‘ جمع کر کے اسے سمندری، ماحولیاتی اور موسمیاتی ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے شارکس پر الیکٹرانک سینسرز نصب کیے جاتے ہیں جو سمندر کے پانی کی میں موجود نمکیات کے ساتھ ساتھ پانی کے درجہ حرارت اور گہرائی کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مسلسل معلومات جمع کرتے رہتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SIMS_Australia/status/1787746856111321565/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یونیورسٹی کے اسکول آف میرین سائنس اینڈ پالیسی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ آرون کارلائل کے مطابق جانوروں پر نصب سینسر پہلے بھی سمندری تحقیق میں کامیابی سے استعمال ہو چکے ہیں۔ شارکس اس تحقیق کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں کیونکہ یہ بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں، وسیع سمندری علاقوں میں حرکت کرتی ہیں اور کئی محفوظ سمندری ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔</p>
<p>اس سے قبل شارکس کی ٹیگنگ زیادہ تر ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال کردہ سمندری ٹھکانوں کا پتا لگانے تک محدود رہی ہے۔ تاہم ڈیلاویئر یونیورسٹی کی ٹیم اب شارک کی ایسی نسلوں کا انتخاب کر رہی ہے جو سمندری طوفانوں کی تحقیق کے لیے زیادہ مفید ڈیٹا فراہم کر سکیں اور اتنی مرتبہ سطح آب کے قریب آئیں کہ ان پر نصب ٹیگز سیٹلائٹس کو معلومات منتقل کر سکیں۔</p>
<p>شمالی بحرِ اوقیانوس میں کیے گئے سابقہ تجزیوں میں شارک کی مختلف نسلوں مثلاً شارٹ فِن ماکو، بلیو شارک، اسموتھ ہیمر ہیڈ اور کم عمر گریٹ وائٹ شارک کو اس تحقیق کے لیے موزوں امیدوار قرار دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30466818/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30466818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آرون کارلائل کے مطابق محققین کی خاص توجہ سمندر کی اوپری تہہ میں موجود حرارت پر ہے جسے ’مکسڈ لیئر‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی یہی اوپری تہہ سمندری طوفان کی شدت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مکسڈ لیئر جتنی گرم ہوگی، طوفان اتنا ہی طاقتور ہو سکتا ہے کیونکہ یہی گرم پانی سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>ڈیلاویئر یونیورسٹی میں ہی ڈاکٹریٹ کی طالبہ کیرولین ویرنکی کے مطابق شارکس کی ٹیگنگ کا عمل مئی کے آغاز میں شروع ہوتا ہے، جب طویل فاصلے تک ہجرت کرنے والی کچھ شارک نسلیں بحرِ اوقیانوس کے نسبتاً دور علاقوں میں موسم سرما گزارنے کے بعد ساحل کے قریب آتی ہیں۔ محققین ایک تحقیقی جہاز پر ساحل سے تقریباً 50 سے 65 کلومیٹر دور جاتے ہیں، چارہ لگی ڈوریاں سمندر میں ڈالتے ہیں اور عموماً دو سے تین گھنٹے انتظار کرتے ہیں۔</p>
<p>شارک پکڑے جانے کے بعد اس کی پشت پر موجود پنکھ پر ٹیگ نصب کیا جاتا ہے۔ جب بھی شارک سطح آب کے قریب تیرتی ہے تو ٹیگ سیٹلائٹس کے گردشی نیٹ ورک سے رابطہ قائم کرکے جمع کیا گیا ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے۔ یہ پورا عمل عموماً پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/VOANews/status/1237857077495771136/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>شارکس پر ٹیگ لگانے کا عمل جانوروں کی فلاح و بہبود کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ ٹیگز کو اس طرح سے پیوست کیا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ گل کر خود بخود الگ ہو جائے۔ ہر شارک کو واپس سمندر میں چھوڑنے سے پہلے اس کی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ محققین کے مطابق اگر شارک کو دباؤ یا نقصان پہنچا ہو تو اس کے قدرتی رویے میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے تحقیق کے لیے حاصل ہونے والا ڈیٹا متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو شارکس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکی مشرقی ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفانوں کی شدت کی پیش گوئی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>
<p>محققین کے مطابق اس معلومات سے شمالی کیرولائنا سے میساچوسس تک ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو قابلِ اعتماد پیش گوئی فراہم کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ان علاقوں کو مستقبل کے زیادہ طاقتور سمندری طوفانوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>محققین کے مطابق بہت سے افراد شارک کو خوفناک جانور کے طور پر جانتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ شارکس سمندر کے لیے انتہائی موزوں اور حیرت انگیز جانور ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شارکس انسانوں کے لیے مفید معلومات فراہم کر سکتی ہیں تو یہ جانوروں اور انسانوں دونوں کے لیے ایک فائدہ مند صورت حال ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512142</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 15:14:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08151323c3fbc1d.webp" type="image/webp" medium="image" height="1500" width="2500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08151323c3fbc1d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خراب دودھ کے 175 روپے واپس مانگنے والی خاتون کے ساتھ تقریباً 2 لاکھ کا فراڈ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30512111/woman-seeking-rs-175-refund-for-spoilt-milk-loses-nearly-rs-2-lakh-in-scam</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست گجرات کے شہر راجکوٹ میں ایک 63 سالہ ریٹائرڈ خاتون صرف 175 روپے کے ریفنڈ کے لیے مبینہ طور پر ایک بڑے سائبر فراڈ کا شکار ہوگئیں۔ دھوکے باز نے خود کو آن لائن گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم کے کسٹمر کیئر نمائندے کے طور پر ظاہر کیا اور خاتون سے مبینہ طور پر 1 لاکھ 91 ہزار روپے ہتھیا لیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے ایک معروف فوری گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم سے دودھ کے 5 پیکٹ منگوائے تھے۔ گھر پر آرڈر پہنچنے کے بعد خاتون نے دیکھا کہ دودھ خراب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رقم واپس لینے کے لیے گوگل پر جا کر کمپنی کےکسٹمر کیئر نمبر کی تلاش شروع کردی۔ سرچ کے دوران سامنے آنے والے ایک فون نمبر پر رابطہ کیا۔ کال موصول کرنے والے شخص نے اپنا نام اسماعیل انصاری بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کا نمائندہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511963/india-narendra-modi-instagram-social-media-snapchat-gen-z-ministry-of-external-affairs'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ اسماعیل انصاری نے ان کا اعتماد جیتا اور کہا کہ رقم کی واپسی یو پی آئی کے ذریعے کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد اس نے خاتون کو ایک اے پی کے فائل بھیجی اور کہا کہ اسے اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کریں۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے بعد اس شخص نے چالاکی سے مجھ سے مختلف بینک اکاؤنٹس اور یو پی آئی آئی ڈیز میں کل 1 لاکھ 91 ہزار روپے منتقل کروا لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب خاتون کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو انہوں نے فوراً سائبر ہیلپ لائن پر رابطہ کیا اور واقعے کی شکایت درج کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راجکوٹ شہر کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں اس معاملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے دھوکہ دہی اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان موبائل نمبروں اور بینک اکاؤنٹس کی جانچ شروع کر دی ہے جو اس فریب میں استعمال ہوئے تھے تاکہ فراڈ میں ملوث افراد تک پہنچا جاسکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آن لائن کسٹمر کیئر نمبر تلاش کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرچ انجن پر نظر آنے والا ہر فون نمبر متعلقہ کمپنی کا سرکاری نمبر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی نامعلوم شخص کی جانب سے بھیجی گئی اے پی کے فائل یا کوئی غیر معروف ایپ موبائل میں انسٹال کرنا بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری یا رقم کی واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست گجرات کے شہر راجکوٹ میں ایک 63 سالہ ریٹائرڈ خاتون صرف 175 روپے کے ریفنڈ کے لیے مبینہ طور پر ایک بڑے سائبر فراڈ کا شکار ہوگئیں۔ دھوکے باز نے خود کو آن لائن گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم کے کسٹمر کیئر نمائندے کے طور پر ظاہر کیا اور خاتون سے مبینہ طور پر 1 لاکھ 91 ہزار روپے ہتھیا لیے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون نے ایک معروف فوری گروسری ڈیلیوری پلیٹ فارم سے دودھ کے 5 پیکٹ منگوائے تھے۔ گھر پر آرڈر پہنچنے کے بعد خاتون نے دیکھا کہ دودھ خراب تھا۔</p>
<p>انہوں نے رقم واپس لینے کے لیے گوگل پر جا کر کمپنی کےکسٹمر کیئر نمبر کی تلاش شروع کردی۔ سرچ کے دوران سامنے آنے والے ایک فون نمبر پر رابطہ کیا۔ کال موصول کرنے والے شخص نے اپنا نام اسماعیل انصاری بتایا اور دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کا نمائندہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511963/india-narendra-modi-instagram-social-media-snapchat-gen-z-ministry-of-external-affairs'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں بتایا کہ اسماعیل انصاری نے ان کا اعتماد جیتا اور کہا کہ رقم کی واپسی یو پی آئی کے ذریعے کی جائے گی۔</p>
<p>اس کے بعد اس نے خاتون کو ایک اے پی کے فائل بھیجی اور کہا کہ اسے اپنے فون میں ڈاؤن لوڈ کریں۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے بعد اس شخص نے چالاکی سے مجھ سے مختلف بینک اکاؤنٹس اور یو پی آئی آئی ڈیز میں کل 1 لاکھ 91 ہزار روپے منتقل کروا لیے۔</p>
<p>جب خاتون کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو انہوں نے فوراً سائبر ہیلپ لائن پر رابطہ کیا اور واقعے کی شکایت درج کرائی۔</p>
<p>راجکوٹ شہر کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں اس معاملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے دھوکہ دہی اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان موبائل نمبروں اور بینک اکاؤنٹس کی جانچ شروع کر دی ہے جو اس فریب میں استعمال ہوئے تھے تاکہ فراڈ میں ملوث افراد تک پہنچا جاسکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آن لائن کسٹمر کیئر نمبر تلاش کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔</p>
<p>سرچ انجن پر نظر آنے والا ہر فون نمبر متعلقہ کمپنی کا سرکاری نمبر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی نامعلوم شخص کی جانب سے بھیجی گئی اے پی کے فائل یا کوئی غیر معروف ایپ موبائل میں انسٹال کرنا بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فی الحال فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری یا رقم کی واپسی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30512111</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 12:08:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/08120529ea94321.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/08120529ea94321.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نوجوانوں تک رسائی کی نئی کوشش، بھارتی وزارتِ خارجہ اسنیپ چیٹ پر آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511963/india-narendra-modi-instagram-social-media-snapchat-gen-z-ministry-of-external-affairs</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوجوان نسل، خصوصاً جین زی، تک مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے  اور ان کو سمجھنے کے لیے اب حکومتوں  نے بھی اپنی سوشل میڈیا حکمت عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اب اسنیپ چیٹ پر اپنا سرکاری اکاؤنٹ بنا لیا ہے، جو نوجوان صارفین میں مقبول ترین پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/mea-snapchat-launch-foreign-ministry-gen-z-outreach-modi-2965473-2026-08-07"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت دی تھی کہ وہ نوجوانوں سے، بہتر رابطے کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ مودی نے وزرا سے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود ہے، اس لیے حکومت کو بھی انہی پلیٹ فارمز پر فعال ہو کر ان سے رابطہ قائم رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حکمتِ عملی کے تحت وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو کے ذریعے اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ کے آغاز کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے ہی وزارت خارجہ کو ایکس، انسٹاگرام اور لنکڈ اِن پر فالو کر رہے ہیں، وہ اب اسنیپ چیٹ پر بھی وزارت کی سرگرمیوں، بھارت اور بیرون ملک سفارتی مشنز سے متعلق معلومات اور دیگر دلچسپ مواد دیکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے اپنے پیغام میں صارفین سے اسنیپ چیٹ پر اکاؤنٹ فالو کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم پر خصوصی اپ ڈیٹس, کہانیاں اور دیگر معلومات بھی شیئر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MEAIndia/status/2085268635116093623?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/2085268635116093623?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے وزرا کو مشورہ دیا کہ وہ صرف سرکاری اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ریلز، مختصر ویڈیوز اور دیگر انٹرایکٹو مواد کے ذریعے نوجوانوں کے ساتھ مؤثر انداز میں بات چیت کریں تاکہ حکومتی اقدامات کو زیادہ آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حکمت عملی کے تحت وزارت خارجہ نے بھی اسنیپ چیٹ پر اپنی موجودگی کا آغاز کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اعلان کیا کہ جو لوگ وزارت کو ایکس، انسٹاگرام اور لنکڈ اِن پر فالو کرتے ہیں، وہ اب اسنیپ چیٹ پر بھی سفارتی سرگرمیوں، بیرون ملک بھارتی مشنز اور دیگر اہم معلومات سے آگاہ رہ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حکومت کی یہ نئی ڈیجیٹل حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران انسٹاگرام، ریلز اور دیگر سوشل میڈیا مواد نے طلبہ اور نوجوانوں کو منظم کرنے اور ان کی آواز کو وسیع پیمانے پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے نوجوانوں تک براہ راست رسائی بڑھانے کے لیے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نوجوان نسل، خصوصاً جین زی، تک مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے  اور ان کو سمجھنے کے لیے اب حکومتوں  نے بھی اپنی سوشل میڈیا حکمت عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں بھارتی وزارت خارجہ نے بھی اب اسنیپ چیٹ پر اپنا سرکاری اکاؤنٹ بنا لیا ہے، جو نوجوان صارفین میں مقبول ترین پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/mea-snapchat-launch-foreign-ministry-gen-z-outreach-modi-2965473-2026-08-07">انڈیا ٹوڈے</a> کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ کے ارکان کو ہدایت دی تھی کہ وہ نوجوانوں سے، بہتر رابطے کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ مودی نے وزرا سے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود ہے، اس لیے حکومت کو بھی انہی پلیٹ فارمز پر فعال ہو کر ان سے رابطہ قائم رکھنا چاہیے۔</p>
<p>اسی حکمتِ عملی کے تحت وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو کے ذریعے اسنیپ چیٹ اکاؤنٹ کے آغاز کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے ہی وزارت خارجہ کو ایکس، انسٹاگرام اور لنکڈ اِن پر فالو کر رہے ہیں، وہ اب اسنیپ چیٹ پر بھی وزارت کی سرگرمیوں، بھارت اور بیرون ملک سفارتی مشنز سے متعلق معلومات اور دیگر دلچسپ مواد دیکھ سکیں گے۔</p>
<p>وزارت خارجہ نے اپنے پیغام میں صارفین سے اسنیپ چیٹ پر اکاؤنٹ فالو کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم پر خصوصی اپ ڈیٹس, کہانیاں اور دیگر معلومات بھی شیئر کی جائیں گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MEAIndia/status/2085268635116093623?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/2085268635116093623?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے وزرا کو مشورہ دیا کہ وہ صرف سرکاری اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ریلز، مختصر ویڈیوز اور دیگر انٹرایکٹو مواد کے ذریعے نوجوانوں کے ساتھ مؤثر انداز میں بات چیت کریں تاکہ حکومتی اقدامات کو زیادہ آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جا سکے۔</p>
<p>اسی حکمت عملی کے تحت وزارت خارجہ نے بھی اسنیپ چیٹ پر اپنی موجودگی کا آغاز کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اعلان کیا کہ جو لوگ وزارت کو ایکس، انسٹاگرام اور لنکڈ اِن پر فالو کرتے ہیں، وہ اب اسنیپ چیٹ پر بھی سفارتی سرگرمیوں، بیرون ملک بھارتی مشنز اور دیگر اہم معلومات سے آگاہ رہ سکیں گے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حکومت کی یہ نئی ڈیجیٹل حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران انسٹاگرام، ریلز اور دیگر سوشل میڈیا مواد نے طلبہ اور نوجوانوں کو منظم کرنے اور ان کی آواز کو وسیع پیمانے پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے نوجوانوں تک براہ راست رسائی بڑھانے کے لیے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511963</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 10:22:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0710070631fb879.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0710070631fb879.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی جنگِ عظیم نے معروف کولڈ ڈرنک 'فانٹا' کو کیسے جنم دیا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511553/germany-coca-cola-world-war-ii-soft-drinks-fanta-food-history-coca-cola-can</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج فانٹا دنیا کے مقبول ترین سافٹ ڈرنکس میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا شوخ نارنجی رنگ اور میٹھا اور ہلکا کھٹا ذائقہ اسے دیگر مشروبات سے الگ پہچان دیتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس مشروب کی ابتدا دوسری جنگ عظیم کے دوران پیش آنے والے غیر معمولی حالات کے باعث ہوئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1941 میں جب امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تو امریکا اور جرمنی کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں جرمنی میں قائم کوکا کولا کے کارخانوں کو وہ خصوصی شربت ملنا بند ہوگیا جس سے اصل کوکا کولا تیار کی جاتی تھی۔ اس صورتحال نے کمپنی کے لیے پیداوار جاری رکھنا مشکل بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کوکا کولا جرمنی کے سربراہ میکس کیتھ نے فیصلہ کیا کہ مقامی طور پر دستیاب اشیا استعمال کرکے ایک نیا مشروب تیار کیا جائے۔ ان کی ٹیم نے سیب کے رس کی تیاری کے بعد بچ جانے والے گودے، پنیر بنانے کے عمل سے حاصل ہونے والے پانی  اور چقندر کی چینی کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیا مشروب تیار کیا۔ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.retromobe.com/2020/04/fanta-1940.html"&gt;مختلف ذرائع کے مطابق&lt;/a&gt; یہی مشروب بعد میں فانٹا کے نام سے مشہور ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے مشروب کا نام رکھنے کے لیے میکس کیتھ نے اپنی ٹیم سے تخلیقی انداز میں سوچنے کو کہا۔ اسی دوران کمپنی کے ایک سیلز مین جو کنیپ نے ”فانٹا“ نام تجویز کیا، جو جرمن لفظ ”فینٹاسی“ سے لیا گیا تھا، جس کا مطلب ”تخیل“ یا ”تصور“ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/041308333c32224.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/041308333c32224.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے زمانے میں چونکہ یہ مشروب مقامی اجزا سے تیار کیا جاتا تھا، اس لیے یہ جرمنی میں مقبول ہوگیا اور کمپنی کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی فانٹا نارنجی ذائقے کا نہیں تھا۔ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا مختلف علاقوں میں دستیاب اشیا کے مطابق بدلتے رہتے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04130652f911a8b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04130652f911a8b.webp'  alt=' (1960 کی دہائی کے فانٹا کینز کا کلیکشن) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(1960 کی دہائی کے فانٹا کینز کا کلیکشن)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اٹلی میں سنگترے کی فراوانی کے باعث فانٹا کا نارنجی ذائقہ تیار کیا گیا، جو بعد میں دنیا بھر میں اس برانڈ کی شناخت بن گیا۔ اسی کے ساتھ فانٹا کا مشہور نارنجی رنگ بھی عالمی سطح پر مقبول ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فانٹا کی کہانی کو سمجھنے کے لیے کوکا کولا کی تاریخ بھی اہم ہے۔ 1884 میں امریکی فارماسسٹ جان پیمبرٹن نے ایک مشروب تیار کیا تھا جسے ”پیمبرٹنز فرنچ وائن کوکا“ کہا جاتا تھا۔ اس میں کوکا کے پتے، الکحل اور کولا نٹس کا عرق شامل تھا، جن میں قدرتی طور پر کیفین پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1886 میں امریکی ریاست جارجیا میں الکحل کی فروخت پر پابندی کے بعد جان پیمبرٹن کو اپنے مشروب کا نیا فارمولا تیار کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے اکاؤنٹنٹ فرینک رابنسن کے ساتھ مل کر کوکا کے پتوں اور کولا نٹس پر مشتمل لیکن بغیر الکحل کے ایک نیا سیرپ بنایا۔ بعد ازاں یہ سیرپ اٹلانٹا کی جیکبز فارمیسی لے جایا گیا، جہاں اسے سوڈا واٹر میں ملا کر پیش کیا گیا۔ اسی تجربے سے کوکا کولا کی بنیاد پڑی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04131931dcf5790.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04131931dcf5790.webp'  alt=' (موجودہ دور کے فانٹا اور کوکا کولا کے کین) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(موجودہ دور کے فانٹا اور کوکا کولا کے کین)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی دور میں کوکا کولا میں کوکا کے پتوں سے حاصل ہونے والی کوکین کی بہت معمولی مقدار موجود ہوتی تھی، تاہم 1903 میں کمپنی نے اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔ بعد ازاں کولا نٹس کا استعمال بھی بند کردیا گیا اور کیفین الگ سے شامل کی جانے لگی، جبکہ مشروب کا بھورا رنگ کیریمل سے حاصل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1936 کے برلن اولمپکس میں کوکا کولا اسپانسر کے طور پر شریک تھی اور 1930 کی دہائی کے آخر تک یہ برانڈ جرمنی میں مضبوط مقام حاصل کر چکا تھا۔ تاہم جنگ کے دوران امریکا سے سیرپ کی فراہمی بند ہونے کے بعد مقامی اجزا سے تیار کیا گیا متبادل مشروب ہی بعد میں فانٹا کی شکل میں دنیا بھر میں مشہور ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج فانٹا دنیا کے مقبول ترین سافٹ ڈرنکس میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا شوخ نارنجی رنگ اور میٹھا اور ہلکا کھٹا ذائقہ اسے دیگر مشروبات سے الگ پہچان دیتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس مشروب کی ابتدا دوسری جنگ عظیم کے دوران پیش آنے والے غیر معمولی حالات کے باعث ہوئی تھی۔</strong></p>
<p>1941 میں جب امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تو امریکا اور جرمنی کے درمیان تجارتی تعلقات منقطع ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں جرمنی میں قائم کوکا کولا کے کارخانوں کو وہ خصوصی شربت ملنا بند ہوگیا جس سے اصل کوکا کولا تیار کی جاتی تھی۔ اس صورتحال نے کمپنی کے لیے پیداوار جاری رکھنا مشکل بنا دیا۔</p>
<p>اس وقت کوکا کولا جرمنی کے سربراہ میکس کیتھ نے فیصلہ کیا کہ مقامی طور پر دستیاب اشیا استعمال کرکے ایک نیا مشروب تیار کیا جائے۔ ان کی ٹیم نے سیب کے رس کی تیاری کے بعد بچ جانے والے گودے، پنیر بنانے کے عمل سے حاصل ہونے والے پانی  اور چقندر کی چینی کو استعمال کرتے ہوئے ایک نیا مشروب تیار کیا۔ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.retromobe.com/2020/04/fanta-1940.html">مختلف ذرائع کے مطابق</a> یہی مشروب بعد میں فانٹا کے نام سے مشہور ہوا۔</p>
<p>نئے مشروب کا نام رکھنے کے لیے میکس کیتھ نے اپنی ٹیم سے تخلیقی انداز میں سوچنے کو کہا۔ اسی دوران کمپنی کے ایک سیلز مین جو کنیپ نے ”فانٹا“ نام تجویز کیا، جو جرمن لفظ ”فینٹاسی“ سے لیا گیا تھا، جس کا مطلب ”تخیل“ یا ”تصور“ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/041308333c32224.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/041308333c32224.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جنگ کے زمانے میں چونکہ یہ مشروب مقامی اجزا سے تیار کیا جاتا تھا، اس لیے یہ جرمنی میں مقبول ہوگیا اور کمپنی کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد ملی۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی فانٹا نارنجی ذائقے کا نہیں تھا۔ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا مختلف علاقوں میں دستیاب اشیا کے مطابق بدلتے رہتے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04130652f911a8b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04130652f911a8b.webp'  alt=' (1960 کی دہائی کے فانٹا کینز کا کلیکشن) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(1960 کی دہائی کے فانٹا کینز کا کلیکشن)</figcaption>
    </figure>
<p>دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اٹلی میں سنگترے کی فراوانی کے باعث فانٹا کا نارنجی ذائقہ تیار کیا گیا، جو بعد میں دنیا بھر میں اس برانڈ کی شناخت بن گیا۔ اسی کے ساتھ فانٹا کا مشہور نارنجی رنگ بھی عالمی سطح پر مقبول ہوا۔</p>
<p>فانٹا کی کہانی کو سمجھنے کے لیے کوکا کولا کی تاریخ بھی اہم ہے۔ 1884 میں امریکی فارماسسٹ جان پیمبرٹن نے ایک مشروب تیار کیا تھا جسے ”پیمبرٹنز فرنچ وائن کوکا“ کہا جاتا تھا۔ اس میں کوکا کے پتے، الکحل اور کولا نٹس کا عرق شامل تھا، جن میں قدرتی طور پر کیفین پائی جاتی ہے۔</p>
<p>1886 میں امریکی ریاست جارجیا میں الکحل کی فروخت پر پابندی کے بعد جان پیمبرٹن کو اپنے مشروب کا نیا فارمولا تیار کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے اکاؤنٹنٹ فرینک رابنسن کے ساتھ مل کر کوکا کے پتوں اور کولا نٹس پر مشتمل لیکن بغیر الکحل کے ایک نیا سیرپ بنایا۔ بعد ازاں یہ سیرپ اٹلانٹا کی جیکبز فارمیسی لے جایا گیا، جہاں اسے سوڈا واٹر میں ملا کر پیش کیا گیا۔ اسی تجربے سے کوکا کولا کی بنیاد پڑی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04131931dcf5790.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/04131931dcf5790.webp'  alt=' (موجودہ دور کے فانٹا اور کوکا کولا کے کین) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(موجودہ دور کے فانٹا اور کوکا کولا کے کین)</figcaption>
    </figure>
<p>ابتدائی دور میں کوکا کولا میں کوکا کے پتوں سے حاصل ہونے والی کوکین کی بہت معمولی مقدار موجود ہوتی تھی، تاہم 1903 میں کمپنی نے اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔ بعد ازاں کولا نٹس کا استعمال بھی بند کردیا گیا اور کیفین الگ سے شامل کی جانے لگی، جبکہ مشروب کا بھورا رنگ کیریمل سے حاصل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>1936 کے برلن اولمپکس میں کوکا کولا اسپانسر کے طور پر شریک تھی اور 1930 کی دہائی کے آخر تک یہ برانڈ جرمنی میں مضبوط مقام حاصل کر چکا تھا۔ تاہم جنگ کے دوران امریکا سے سیرپ کی فراہمی بند ہونے کے بعد مقامی اجزا سے تیار کیا گیا متبادل مشروب ہی بعد میں فانٹا کی شکل میں دنیا بھر میں مشہور ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511553</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 13:48:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/04133950cabc304.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/04133950cabc304.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/04133839c1d8f5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/04133839c1d8f5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کم عمر ترین پروفیسر؛ 18 سالہ امریکی نوجوان نے 306 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511561/quot18-year-old-becomes-the-worlds-youngest-professor-after-306-years</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست فلوریڈا کے 18 سالہ ناتھن تھامس دنیا کے سب سے کم عمر مرد پروفیسر قرار پائے ہیں، جس کے بعد ان کا نام گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر 18 سال کی عمر میں نوجوان یونیورسٹی میں داخلے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں یا اپنی تعلیم کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں، لیکن امریکا کے نوجوان ناتھن تھامس نے اسی عمر میں یہ اعزاز حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ناتھن تھامس نے 18 سال اور 346 دن کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ انسٹرکٹر کے طور پر تدریس کا آغاز کیا، جس کے بعد ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کے کم عمر ترین مرد پروفیسر کے طور پر درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کی کامیابی نے 306 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا جو اس سے پہلے اسکاٹ لینڈ کے مشہور ریاضی دان کولن میک لارین کے پاس تھا۔ کولن میک لارین نے 1717 میں 19 سال کی عمر میں پروفیسر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناتھن تھامس کا تعلیمی سفر عام بچوں سے بالکل مختلف اور تیز رفتار رہا ہے۔ انہوں نے محض 10 سال کی عمر میں اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ میامی ڈیڈ کالج میں ڈوئل انرولمنٹ پروگرام کے ذریعے داخلہ لیا، جہاں وہ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کالج کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 سال کی عمر تک ناتھن نے فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرز اور ماسٹرز دونوں ڈگریاں اعزاز کے ساتھ مکمل کرلیں۔ کچھ سال بعد وہ اسی کالج میں واپس آئے جہاں کبھی وہ خود طالب علم تھے، لیکن اس بار وہ طالب علم نہیں بلکہ استاد کے طور پر موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2023 میں ناتھن نے میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ کے طلبہ کو پڑھانا شروع کیا، جس میں طلبہ کو سی پروگرامنگ اور کمپیوٹر کے ذریعے مسائل حل کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے ہم عمر یا اپنے سے بڑے طلبہ کو پڑھانے کے بارے میں ناتھن تھامس کا کہنا ہے،”سیکھنے اور پڑھنے کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ انسان کے اندر کی لگن اور شوق سے ہوتا ہے۔ کلاس روم میں آنے والے تمام افراد کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، یعنی علم حاصل کرنا، خود کو بہتر بنانا اور آگے بڑھنا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510902/generative-ai-ai-art-digital-art-halftone-art-graphic-design-creative-design-ai-portrait'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510902"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ناتھن بتاتے ہیں کہ ایک استاد کے طور پر ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی طالب علم کسی ایسی مشکل بات کو اچانک سمجھ جاتا ہے جو اسے پہلے بہت دشوار لگتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناتھن کی اس کامیابی میں ان کے خاندانی ماحول کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے، کیونکہ ان کا تعلق انجینئرز کے خاندان سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنی ابتدائی کامیابی کا سہرا اپنی والدہ کے سر باندھتے ہوئے کہتے ہیں، ”میری والدہ نے بچپن میں ہی میرے لیے ریاضی کو ایک آسان اور دلچسپ چیز بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے سائنس کے بارے میں میری بنیاد بہت مضبوط ہوئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناتھن کے ارادے صرف انجینئرنگ اور تدریس تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اس وقت پڑھانے کے ساتھ ساتھ میامی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کر رہے ہیں جو 2028 میں مکمل ہوگی۔ وہ ٹیکنالوجی اور قانون کی معلومات کو ملا کر نئی سائنسی ایجادات کی قانونی حفاظت کے شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ان کا کہنا ہے، ”انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران سوچنے اور مسائل حل کرنے کا جو انداز پیدا ہوتا ہے، وہ قانون پڑھنے میں بھی اتنا ہی کام آتا ہے۔“&lt;br&gt;ا&lt;br&gt;10 سال کی عمر میں کالج میں داخلہ لینے سے لے کر 306 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑنے اور اب بیک وقت پڑھانے اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے تک، ناتھن تھامس نیتھن تھامس کی کہانی صرف ایک عالمی ریکارڈ بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ کم عمری میں محنت، شوق اور تعلیم کے ذریعے حاصل کی جانے والی کامیابی کی مثال بھی ہے۔ 10 سال کی عمر میں کالج شروع کرنے سے لے کر 18 سال کی عمر میں پروفیسر بننے تک ان کا سفر غیر معمولی تعلیمی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست فلوریڈا کے 18 سالہ ناتھن تھامس دنیا کے سب سے کم عمر مرد پروفیسر قرار پائے ہیں، جس کے بعد ان کا نام گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>عام طور پر 18 سال کی عمر میں نوجوان یونیورسٹی میں داخلے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں یا اپنی تعلیم کے ابتدائی مرحلے میں ہوتے ہیں، لیکن امریکا کے نوجوان ناتھن تھامس نے اسی عمر میں یہ اعزاز حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔</p>
<p>فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ناتھن تھامس نے 18 سال اور 346 دن کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ انسٹرکٹر کے طور پر تدریس کا آغاز کیا، جس کے بعد ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کے کم عمر ترین مرد پروفیسر کے طور پر درج کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30511379"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کی کامیابی نے 306 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا جو اس سے پہلے اسکاٹ لینڈ کے مشہور ریاضی دان کولن میک لارین کے پاس تھا۔ کولن میک لارین نے 1717 میں 19 سال کی عمر میں پروفیسر کا عہدہ حاصل کیا تھا۔</p>
<p>ناتھن تھامس کا تعلیمی سفر عام بچوں سے بالکل مختلف اور تیز رفتار رہا ہے۔ انہوں نے محض 10 سال کی عمر میں اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ میامی ڈیڈ کالج میں ڈوئل انرولمنٹ پروگرام کے ذریعے داخلہ لیا، جہاں وہ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کالج کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔</p>
<p>14 سال کی عمر تک ناتھن نے فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرز اور ماسٹرز دونوں ڈگریاں اعزاز کے ساتھ مکمل کرلیں۔ کچھ سال بعد وہ اسی کالج میں واپس آئے جہاں کبھی وہ خود طالب علم تھے، لیکن اس بار وہ طالب علم نہیں بلکہ استاد کے طور پر موجود تھے۔</p>
<p>اگست 2023 میں ناتھن نے میامی ڈیڈ کالج میں انجینئرنگ کے طلبہ کو پڑھانا شروع کیا، جس میں طلبہ کو سی پروگرامنگ اور کمپیوٹر کے ذریعے مسائل حل کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔</p>
<p>اپنے ہم عمر یا اپنے سے بڑے طلبہ کو پڑھانے کے بارے میں ناتھن تھامس کا کہنا ہے،”سیکھنے اور پڑھنے کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ انسان کے اندر کی لگن اور شوق سے ہوتا ہے۔ کلاس روم میں آنے والے تمام افراد کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، یعنی علم حاصل کرنا، خود کو بہتر بنانا اور آگے بڑھنا۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510902/generative-ai-ai-art-digital-art-halftone-art-graphic-design-creative-design-ai-portrait'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510902"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ناتھن بتاتے ہیں کہ ایک استاد کے طور پر ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی طالب علم کسی ایسی مشکل بات کو اچانک سمجھ جاتا ہے جو اسے پہلے بہت دشوار لگتی تھی۔</p>
<p>ناتھن کی اس کامیابی میں ان کے خاندانی ماحول کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے، کیونکہ ان کا تعلق انجینئرز کے خاندان سے ہے۔</p>
<p>وہ اپنی ابتدائی کامیابی کا سہرا اپنی والدہ کے سر باندھتے ہوئے کہتے ہیں، ”میری والدہ نے بچپن میں ہی میرے لیے ریاضی کو ایک آسان اور دلچسپ چیز بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے سائنس کے بارے میں میری بنیاد بہت مضبوط ہوئی۔“</p>
<p>ناتھن کے ارادے صرف انجینئرنگ اور تدریس تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اس وقت پڑھانے کے ساتھ ساتھ میامی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کر رہے ہیں جو 2028 میں مکمل ہوگی۔ وہ ٹیکنالوجی اور قانون کی معلومات کو ملا کر نئی سائنسی ایجادات کی قانونی حفاظت کے شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے ان کا کہنا ہے، ”انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران سوچنے اور مسائل حل کرنے کا جو انداز پیدا ہوتا ہے، وہ قانون پڑھنے میں بھی اتنا ہی کام آتا ہے۔“<br>ا<br>10 سال کی عمر میں کالج میں داخلہ لینے سے لے کر 306 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑنے اور اب بیک وقت پڑھانے اور قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے تک، ناتھن تھامس نیتھن تھامس کی کہانی صرف ایک عالمی ریکارڈ بنانے تک محدود نہیں بلکہ یہ کم عمری میں محنت، شوق اور تعلیم کے ذریعے حاصل کی جانے والی کامیابی کی مثال بھی ہے۔ 10 سال کی عمر میں کالج شروع کرنے سے لے کر 18 سال کی عمر میں پروفیسر بننے تک ان کا سفر غیر معمولی تعلیمی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511561</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 16:23:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/04133846b786800.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/04133846b786800.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت سیٹ سیدھی کیوں کروا دی جاتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511530/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے ہر شخص نے یہ اعلان ضرور سنا ہوگا  کہ ’اپنی سیٹوں کو مکمل طور پر سیدھا کرلیں‘۔  بہت سے مسافر اسے محض ایک عام سی رسمی ہدایت سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ہوابازی کے سب سے اہم اور بنیادی حفاظتی اصولوں میں سے ایک ہے۔ اس چھوٹی سی ہدایت کے پیچھے برسوں کی سائنسی تحقیق، حفاظتی تجربات اور ہزاروں جانیں بچانے کی کوششیں موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضائی سفر کو دنیا کے محفوظ ترین سفری ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ہر پرواز میں دو مرحلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں سب سے زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے۔ یہ مراحل ٹیک آف اور لینڈنگ ہیں۔ زیادہ تر فضائی حادثات انہی لمحوں میں پیش آتے ہیں، کیونکہ اس وقت جہاز زمین کے قریب ہوتا ہے اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے پائلٹ کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے ایئرلائنز ان چند منٹوں کے دوران ہر حفاظتی اصول پر سختی سے عمل کراتی ہیں، جن میں نشست کو مکمل طور پر سیدھا رکھنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر ایک عام سی نشست دراصل ایک پیچیدہ حفاظتی نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے قوانین کے مطابق ہر نشست کو سخت حفاظتی ٹیسٹوں سے گزارا جاتا ہے۔ انجینئرز حادثے جیسی صورتحال پیدا کرکے ڈمی کو نشست پر بٹھاتے ہیں اور جانچتے ہیں کہ آیا نشست شدید جھٹکوں کے باوجود مسافر کو محفوظ رکھ سکتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30411237'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام ٹیسٹ صرف اس وقت کیے جاتے ہیں جب نشست مکمل طور پر سیدھی حالت میں ہو۔ یہی وہ پوزیشن ہے جس میں نشست کا فریم، اس کے لاک اور فرش سے جڑے تمام حصے ایک مضبوط ڈھانچے کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر نشست پیچھے کی طرف جھکی ہو تو وہ اسی معیار کی حفاظت فراہم کرے گی یا نہیں، اس کی باقاعدہ جانچ نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیٹ بیلٹ بھی اسی اصول کے مطابق کام کرتی ہے۔ ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والی بیلٹ دو نکاتی لیپ بیلٹ ہوتی ہے جو جسم کے مضبوط حصے یعنی کولہے کی ہڈیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب مسافر سیدھا بیٹھتا ہے تو اچانک جھٹکے کی صورت میں طاقت ہڈیوں پر منتقل ہوتی ہے، جس سے جسم کے نازک اندرونی اعضا نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر نشست جھکی ہوئی ہو تو جسم کی پوزیشن بدل جاتی ہے۔ شدید جھٹکے کے دوران امکان ہوتا ہے کہ جسم بیلٹ کے نیچے سے سرک جائے۔ اس صورتحال کو انجینئرنگ کی زبان میں ”سب میریننگ“ کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں بیلٹ جسم کے نرم حصوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے پیٹ اور ریڑھ کی ہڈی کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایک اور سادہ سی وجہ بھی ہے۔ جب نشست پیچھے جھکی ہوتی ہے تو سر اور جسم کو رکنے سے پہلے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس اضافی فاصلے کی وجہ سے جسم زیادہ رفتار حاصل کر لیتا ہے، جس سے ٹکر کی شدت بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حفاظت صرف حادثے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے بعد جہاز سے جلد باہر نکلنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ بین الاقوامی حفاظتی قوانین کے مطابق ہوائی جہاز کو ہنگامی صورتحال میں صرف 90 سیکنڈ کے اندر خالی کیا جا نا چاہیے، چاہے تمام ایمرجنسی راستے بھی دستیاب نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی مسافر کی نشست پیچھے جھکی ہوئی ہو تو اس کے پیچھے بیٹھے افراد کے لیے باہر نکلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ہنگامی حالات میں چند سیکنڈ کی تاخیر بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیبن کریو ٹیک آف اور لینڈنگ سے پہلے ہر نشست کو سیدھا کروانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30431419'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431419"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر نشست سیدھی رکھنا اتنا ہی ضروری ہے تو پھر پوری پرواز کے دوران اسے پیچھے کرنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ اس کا جواب بھی اعداد و شمار میں چھپا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پرواز کی بلندی پر پہنچنے کے بعد حادثات کا امکان نہایت کم ہو جاتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر مسافروں کو نسبتاً آرام دینے کے لیے نشست پیچھے کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تاہم جیسے ہی جہاز لینڈنگ یا ٹیک آف کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، وہی حفاظتی اصول دوبارہ نافذ ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر پروازیں کسی بھی مشکل کے بغیر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہیں اور شاید کبھی کسی مسافر کو اس احتیاط کی اہمیت کا عملی احساس نہ ہو۔ لیکن فضائی حفاظت کا پورا نظام اسی سوچ پر قائم ہے کہ اگر کبھی غیر متوقع صورتحال پیدا ہو جائے تو ہر چھوٹی سے چھوٹی احتیاط بھی کسی کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رکھیں اگلی بار جب فضائی میزبان آپ سے نشست سیدھی کرنے کو کہیں تو یہ صرف ایک معمول کی ہدایت نہیں بلکہ برسوں کی سائنسی تحقیق اور حفاظتی تجربات کا نتیجہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے ہر شخص نے یہ اعلان ضرور سنا ہوگا  کہ ’اپنی سیٹوں کو مکمل طور پر سیدھا کرلیں‘۔  بہت سے مسافر اسے محض ایک عام سی رسمی ہدایت سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ہوابازی کے سب سے اہم اور بنیادی حفاظتی اصولوں میں سے ایک ہے۔ اس چھوٹی سی ہدایت کے پیچھے برسوں کی سائنسی تحقیق، حفاظتی تجربات اور ہزاروں جانیں بچانے کی کوششیں موجود ہیں۔</strong></p>
<p>فضائی سفر کو دنیا کے محفوظ ترین سفری ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ہر پرواز میں دو مرحلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں سب سے زیادہ حساس سمجھا جاتا ہے۔ یہ مراحل ٹیک آف اور لینڈنگ ہیں۔ زیادہ تر فضائی حادثات انہی لمحوں میں پیش آتے ہیں، کیونکہ اس وقت جہاز زمین کے قریب ہوتا ہے اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے پائلٹ کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے ایئرلائنز ان چند منٹوں کے دوران ہر حفاظتی اصول پر سختی سے عمل کراتی ہیں، جن میں نشست کو مکمل طور پر سیدھا رکھنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>بظاہر ایک عام سی نشست دراصل ایک پیچیدہ حفاظتی نظام کا حصہ ہوتی ہے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے قوانین کے مطابق ہر نشست کو سخت حفاظتی ٹیسٹوں سے گزارا جاتا ہے۔ انجینئرز حادثے جیسی صورتحال پیدا کرکے ڈمی کو نشست پر بٹھاتے ہیں اور جانچتے ہیں کہ آیا نشست شدید جھٹکوں کے باوجود مسافر کو محفوظ رکھ سکتی ہے یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30411237'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام ٹیسٹ صرف اس وقت کیے جاتے ہیں جب نشست مکمل طور پر سیدھی حالت میں ہو۔ یہی وہ پوزیشن ہے جس میں نشست کا فریم، اس کے لاک اور فرش سے جڑے تمام حصے ایک مضبوط ڈھانچے کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر نشست پیچھے کی طرف جھکی ہو تو وہ اسی معیار کی حفاظت فراہم کرے گی یا نہیں، اس کی باقاعدہ جانچ نہیں کی جاتی۔</p>
<p>سیٹ بیلٹ بھی اسی اصول کے مطابق کام کرتی ہے۔ ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والی بیلٹ دو نکاتی لیپ بیلٹ ہوتی ہے جو جسم کے مضبوط حصے یعنی کولہے کی ہڈیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب مسافر سیدھا بیٹھتا ہے تو اچانک جھٹکے کی صورت میں طاقت ہڈیوں پر منتقل ہوتی ہے، جس سے جسم کے نازک اندرونی اعضا نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر نشست جھکی ہوئی ہو تو جسم کی پوزیشن بدل جاتی ہے۔ شدید جھٹکے کے دوران امکان ہوتا ہے کہ جسم بیلٹ کے نیچے سے سرک جائے۔ اس صورتحال کو انجینئرنگ کی زبان میں ”سب میریننگ“ کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں بیلٹ جسم کے نرم حصوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے پیٹ اور ریڑھ کی ہڈی کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایک اور سادہ سی وجہ بھی ہے۔ جب نشست پیچھے جھکی ہوتی ہے تو سر اور جسم کو رکنے سے پہلے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اس اضافی فاصلے کی وجہ سے جسم زیادہ رفتار حاصل کر لیتا ہے، جس سے ٹکر کی شدت بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>حفاظت صرف حادثے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے بعد جہاز سے جلد باہر نکلنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ بین الاقوامی حفاظتی قوانین کے مطابق ہوائی جہاز کو ہنگامی صورتحال میں صرف 90 سیکنڈ کے اندر خالی کیا جا نا چاہیے، چاہے تمام ایمرجنسی راستے بھی دستیاب نہ ہوں۔</p>
<p>اگر کسی مسافر کی نشست پیچھے جھکی ہوئی ہو تو اس کے پیچھے بیٹھے افراد کے لیے باہر نکلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ہنگامی حالات میں چند سیکنڈ کی تاخیر بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیبن کریو ٹیک آف اور لینڈنگ سے پہلے ہر نشست کو سیدھا کروانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30431419'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30431419"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بہت سے لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر نشست سیدھی رکھنا اتنا ہی ضروری ہے تو پھر پوری پرواز کے دوران اسے پیچھے کرنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ اس کا جواب بھی اعداد و شمار میں چھپا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پرواز کی بلندی پر پہنچنے کے بعد حادثات کا امکان نہایت کم ہو جاتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر مسافروں کو نسبتاً آرام دینے کے لیے نشست پیچھے کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تاہم جیسے ہی جہاز لینڈنگ یا ٹیک آف کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، وہی حفاظتی اصول دوبارہ نافذ ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>زیادہ تر پروازیں کسی بھی مشکل کے بغیر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہیں اور شاید کبھی کسی مسافر کو اس احتیاط کی اہمیت کا عملی احساس نہ ہو۔ لیکن فضائی حفاظت کا پورا نظام اسی سوچ پر قائم ہے کہ اگر کبھی غیر متوقع صورتحال پیدا ہو جائے تو ہر چھوٹی سے چھوٹی احتیاط بھی کسی کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔</p>
<p>یاد رکھیں اگلی بار جب فضائی میزبان آپ سے نشست سیدھی کرنے کو کہیں تو یہ صرف ایک معمول کی ہدایت نہیں بلکہ برسوں کی سائنسی تحقیق اور حفاظتی تجربات کا نتیجہ ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511530</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 12:22:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/0412131827de2e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/0412131827de2e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>13 سالہ طالب علم کا کمال، ہوا سے پانی بنانے والی مشین تیار کرلی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511529/13-year-old-students-amazing-achievement-develops-a-machine-that-turns-air-into-water</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں قحط سالی اور پانی کی شدید کمی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے درمیان امریکہ کی ریاست اوریگن کے ایک 13 سالہ طالب علم نے ایک ایسی جدید مشین (چیمبر) تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو پانی میں تبدیل کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وٹ فورڈ مڈل سکول کے ہونہار طالب علم روئے کم کی اس منفرد ایجاد کا مقصد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنا ہے۔ اس اہم اور کارآمد تکنیک کے باعث روئے کم کا نام 2026 کے تھری ایم ینگ سائنٹسٹ چیلنج کے ٹاپ 10 فائنلسٹس میں شامل کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جدید مشین ایک خاص الیکٹرانک آلے کی مدد سے کام کرتی ہے جو بجلی ملنے پر ایک طرف سے گرم اور دوسری طرف سے بے حد ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ مشین کے اندر پہلے ہوا داخل کی جاتی ہے جسے تھوڑا گرم کرنے کے بعد پنکھے کے ذریعے ٹھنڈی سطح پر بھیجا جاتا ہے۔ جیسے ہی گرم ہوا اس ٹھنڈی جگہ سے ٹکراتی ہے تو ہوا میں موجود نمی کے قطرے پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510706/labubu-doll-enters-the-bakery-fascinating-and-surprising-cakes-take-center-stage'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510706"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس پانی کو ایک کیف کے ذریعے جمع کر کے نالی کی مدد سے پودوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس سسٹم میں مٹی کی نمی اور موسم کا حال بتانے والے سینسر بھی لگے ہیں جو یہ خود طے کرتے ہیں کہ پودوں کو کب اور کتنے پانی کی ضرورت ہے، تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزمائش کے دوران اس مشین نے دو گھنٹے کے اندر 10 ملی لیٹر پانی تیار کیا، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی 135.8 گرام فی کلو واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئے کم نے یہ پروجیکٹ زراعت کے سب سے بڑے مسئلے یعنی پینے اور آبپاشی کے پانی کی کمی کو حل کرنے کے لیے بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں کسان اب بھی بارشوں، زیر زمین پانی اور ندی نالوں پر انحصار کرتے ہیں جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے روز بروز کم ہو رہے ہیں۔ ۔ ایسے میں فضا سے پانی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے، اگرچہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے مزید تحقیق اور بہتری کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508430/why-are-parents-repeatedly-abducting-their-own-children-in-japan-tags'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508430"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تھری ایم تھری ینگ سائنٹسٹ چیلنج، جس کا انعقاد تھری ایم اور ڈسکوری ایجوکیشن مشترکہ طور پر کرتے ہیں، امریکا کے پانچویں سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد نوجوانوں کو سائنس اور انجینئرنگ کے ذریعے حقیقی مسائل کے حل تلاش کرنے کی ترغیب دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئے کم نے اپنی اس کامیابی پر امید ظاہر کی کہ ان کی یہ ایجاد دنیا بھر میں زراعت کے نئے اور جدید طریقوں کو فروغ دینے کا سبب بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روئے کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں انجینئرنگ کے شعبے میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاکہ پانی کی قلت اور ماحول کے بگڑتے ہوئے حالات جیسے عالمی مسائل کے حل کے لیے مزید کام کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں قحط سالی اور پانی کی شدید کمی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے درمیان امریکہ کی ریاست اوریگن کے ایک 13 سالہ طالب علم نے ایک ایسی جدید مشین (چیمبر) تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو پانی میں تبدیل کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>وٹ فورڈ مڈل سکول کے ہونہار طالب علم روئے کم کی اس منفرد ایجاد کا مقصد خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنا ہے۔ اس اہم اور کارآمد تکنیک کے باعث روئے کم کا نام 2026 کے تھری ایم ینگ سائنٹسٹ چیلنج کے ٹاپ 10 فائنلسٹس میں شامل کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ جدید مشین ایک خاص الیکٹرانک آلے کی مدد سے کام کرتی ہے جو بجلی ملنے پر ایک طرف سے گرم اور دوسری طرف سے بے حد ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ مشین کے اندر پہلے ہوا داخل کی جاتی ہے جسے تھوڑا گرم کرنے کے بعد پنکھے کے ذریعے ٹھنڈی سطح پر بھیجا جاتا ہے۔ جیسے ہی گرم ہوا اس ٹھنڈی جگہ سے ٹکراتی ہے تو ہوا میں موجود نمی کے قطرے پانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510706/labubu-doll-enters-the-bakery-fascinating-and-surprising-cakes-take-center-stage'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510706"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس پانی کو ایک کیف کے ذریعے جمع کر کے نالی کی مدد سے پودوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس سسٹم میں مٹی کی نمی اور موسم کا حال بتانے والے سینسر بھی لگے ہیں جو یہ خود طے کرتے ہیں کہ پودوں کو کب اور کتنے پانی کی ضرورت ہے، تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔</p>
<p>آزمائش کے دوران اس مشین نے دو گھنٹے کے اندر 10 ملی لیٹر پانی تیار کیا، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ کارکردگی 135.8 گرام فی کلو واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>روئے کم نے یہ پروجیکٹ زراعت کے سب سے بڑے مسئلے یعنی پینے اور آبپاشی کے پانی کی کمی کو حل کرنے کے لیے بنایا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں کسان اب بھی بارشوں، زیر زمین پانی اور ندی نالوں پر انحصار کرتے ہیں جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے روز بروز کم ہو رہے ہیں۔ ۔ ایسے میں فضا سے پانی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی مستقبل میں ایک اہم متبادل ثابت ہو سکتی ہے، اگرچہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے مزید تحقیق اور بہتری کی ضرورت ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508430/why-are-parents-repeatedly-abducting-their-own-children-in-japan-tags'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508430"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تھری ایم تھری ینگ سائنٹسٹ چیلنج، جس کا انعقاد تھری ایم اور ڈسکوری ایجوکیشن مشترکہ طور پر کرتے ہیں، امریکا کے پانچویں سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد نوجوانوں کو سائنس اور انجینئرنگ کے ذریعے حقیقی مسائل کے حل تلاش کرنے کی ترغیب دینا ہے۔</p>
<p>روئے کم نے اپنی اس کامیابی پر امید ظاہر کی کہ ان کی یہ ایجاد دنیا بھر میں زراعت کے نئے اور جدید طریقوں کو فروغ دینے کا سبب بنے گی۔</p>
<p>روئے کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں انجینئرنگ کے شعبے میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاکہ پانی کی قلت اور ماحول کے بگڑتے ہوئے حالات جیسے عالمی مسائل کے حل کے لیے مزید کام کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511529</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 11:38:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/04112935904e8f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/04112935904e8f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'2026ء کی دو پیش گوئیاں سچ ہو گئیں، تباہ کن تصادم قریب ہے'، معروف نجومی کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511524/living-nostradamus-athos-salome-2026-predictions-iran-israel-tensions-russia-nato-fifa-worldcup-2026-global-prophecies-predictions-claims</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برازیل سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ نجومی اور پیرا سائیکالوجسٹ ایتھوس سالومے، جنہیں بعض حلقوں میں ”لیونگ نوسٹراڈیمس“ کہا جاتا ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2026 سے متعلق ان کی دو اہم پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں، جبکہ اب انہوں نے ایک اور ممکنہ بڑے عالمی تنازع کے بارے میں خبردار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایتھوس سالومے اس سے قبل بھی اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کووڈ-19 وبا اور برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات جیسے واقعات کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/08/01/lifestyle/living-nostradamus-takes-credit-for-predicting-world-cup-outcome-iran-conflict/"&gt;نیویارک پوسٹ کے مطابق&lt;/a&gt; اب انہوں نے اپنی 2026 کی پیش گوئیوں کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پہلی پیش گوئی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے متعلق تھی، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان یورینیم افزودگی پروگرام کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے حوالے سے۔ سالومے کے مطابق حالیہ پیش رفت ان کی اسی پیش گوئی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503041'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سالومے کا دعویٰ ہے کہ ان کی دوسری درست ثابت ہونے والی پیش گوئی 2026 فیفا ورلڈ کپ سے متعلق تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی پیش گوئی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا بھر میں کئی ماہرین اور تبصرہ نگار پرتگال یا دیگر ٹیموں کو فاتح قرار دے رہے تھے، اس وقت انہوں نے نہ صرف فائنل کھیلنے والی ٹیموں کی نشاندہی کی بلکہ بار بار اسپین کو سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا تھا، اور ان کے مطابق نتائج نے ان کی پیش گوئی کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیلی نجومی نے اپنی ایک اور پیش گوئی میں کہا تھا کہ روس آرکٹک کے اہم علاقوں میں میزائل نظام منتقل کر رہا ہے، جس سے 2026 میں برف پگھلنے کے بعد نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق آرکٹک میں برف کے پگھلنے سے نئے بحری راستے اور توانائی کے ذخائر زیادہ اہمیت اختیار کریں گے، جس کی وجہ سے اس خطے میں عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی ادارے فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ جوہری خطرات کے ماہر کارل پارکن نے بھی ایک حالیہ مضمون میں خبردار کیا ہے کہ آرکٹک میں برف پگھلنے سے روس کو معاشی فوائد حاصل کرنے اور اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے مواقع مل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صورتحال مکمل طور پر روس کے حق میں نہیں ہوگی، کیونکہ برف پگھلنے سے روس کے جوہری ہتھیار نسبتاً زیادہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی اتحادیوں کو اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے وقت انتہائی محتاط رہنا ہوگا تاکہ روس کی شدید جوابی کارروائی کو بھی روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505302/tamil-nadu-astrologer-post-cancelled'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505302"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سالومے نے افریقہ کے ساہیل کے علاقے کو بھی ممکنہ خطرناک خطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی افواج کے انخلا کے بعد نائجر میں شدت پسند گروہوں کے درمیان تصادم کا امکان بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی دیگر پیش گوئیوں میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا تعطل برقرار رہنا، چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ لیکن مکمل حملے سے گریز، جبکہ برڈ فلو، ڈینگی اور ایم پاکس جیسی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اتھوس سالومے کے دعوے ان کی ذاتی پیش گوئیوں پر مبنی ہیں اور ان کے دعووں کی سائنسی یا آزادانہ تصدیق نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برازیل سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ نجومی اور پیرا سائیکالوجسٹ ایتھوس سالومے، جنہیں بعض حلقوں میں ”لیونگ نوسٹراڈیمس“ کہا جاتا ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2026 سے متعلق ان کی دو اہم پیش گوئیاں درست ثابت ہو چکی ہیں، جبکہ اب انہوں نے ایک اور ممکنہ بڑے عالمی تنازع کے بارے میں خبردار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایتھوس سالومے اس سے قبل بھی اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کووڈ-19 وبا اور برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی وفات جیسے واقعات کی پیش گوئی کی تھی۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/08/01/lifestyle/living-nostradamus-takes-credit-for-predicting-world-cup-outcome-iran-conflict/">نیویارک پوسٹ کے مطابق</a> اب انہوں نے اپنی 2026 کی پیش گوئیوں کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پہلی پیش گوئی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے متعلق تھی، خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان یورینیم افزودگی پروگرام کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے حوالے سے۔ سالومے کے مطابق حالیہ پیش رفت ان کی اسی پیش گوئی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503041'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سالومے کا دعویٰ ہے کہ ان کی دوسری درست ثابت ہونے والی پیش گوئی 2026 فیفا ورلڈ کپ سے متعلق تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی پیش گوئی کی تھی۔</p>
<p>انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا بھر میں کئی ماہرین اور تبصرہ نگار پرتگال یا دیگر ٹیموں کو فاتح قرار دے رہے تھے، اس وقت انہوں نے نہ صرف فائنل کھیلنے والی ٹیموں کی نشاندہی کی بلکہ بار بار اسپین کو سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا تھا، اور ان کے مطابق نتائج نے ان کی پیش گوئی کی تصدیق کی۔</p>
<p>برازیلی نجومی نے اپنی ایک اور پیش گوئی میں کہا تھا کہ روس آرکٹک کے اہم علاقوں میں میزائل نظام منتقل کر رہا ہے، جس سے 2026 میں برف پگھلنے کے بعد نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DSVt42WkeeG/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق آرکٹک میں برف کے پگھلنے سے نئے بحری راستے اور توانائی کے ذخائر زیادہ اہمیت اختیار کریں گے، جس کی وجہ سے اس خطے میں عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی ادارے فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ جوہری خطرات کے ماہر کارل پارکن نے بھی ایک حالیہ مضمون میں خبردار کیا ہے کہ آرکٹک میں برف پگھلنے سے روس کو معاشی فوائد حاصل کرنے اور اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے مواقع مل رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صورتحال مکمل طور پر روس کے حق میں نہیں ہوگی، کیونکہ برف پگھلنے سے روس کے جوہری ہتھیار نسبتاً زیادہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی اتحادیوں کو اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے وقت انتہائی محتاط رہنا ہوگا تاکہ روس کی شدید جوابی کارروائی کو بھی روکا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505302/tamil-nadu-astrologer-post-cancelled'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505302"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سالومے نے افریقہ کے ساہیل کے علاقے کو بھی ممکنہ خطرناک خطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی افواج کے انخلا کے بعد نائجر میں شدت پسند گروہوں کے درمیان تصادم کا امکان بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>ان کی دیگر پیش گوئیوں میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کا تعطل برقرار رہنا، چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ لیکن مکمل حملے سے گریز، جبکہ برڈ فلو، ڈینگی اور ایم پاکس جیسی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ اتھوس سالومے کے دعوے ان کی ذاتی پیش گوئیوں پر مبنی ہیں اور ان کے دعووں کی سائنسی یا آزادانہ تصدیق نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511524</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 10:21:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/04101625f5dc917.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/04101625f5dc917.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رونالڈو کی شادی: مہمانوں کے لیے سیاہ لباس کی شرط کیوں رکھی گئی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511428/cristiano-ronaldo-portugal-georgina-rodriguez-celebrity-wedding-ronaldo-wedding-madeira</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پرتگال کے معروف فٹبالر اور سعودی کلب النصر کے اسٹار کرسٹیانو رونالڈو اور ان کی طویل عرصے سے ساتھی جورجینا روڈریگز کی متوقع شادی سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ مبینہ دعوت نامے میں مہمانوں سے مکمل سیاہ لباس پہن کر تقریب میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے۔ اس غیر معمولی شرط نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین میں مختلف انداز کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/08/02/sports/cristiano-ronaldos-wedding-marks-taylor-swift-travis-kelce-shift/"&gt;رپورٹس کے مطابق&lt;/a&gt; شادی کی تقریب ہفتہ 8 اگست کو پرتگال کے جزیرے مادیرا کے دارالحکومت فونشال میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فونشال کے تاریخی کیتھڈرل کو ایک بڑی نجی تقریب کے لیے بک کر لیا گیا ہے، جبکہ مہمانوں کی رہائش کے لیے کیتھڈرل کے قریب واقع فائیو اسٹار ہوٹل ”سافوئے پیلس“ بھی مخصوص کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506373/from-a-salesgirl-to-cristiano-ronaldos-fiancee-the-fascinating-story-of-georgina-rodriguez-tags'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوٹل انتظامیہ نے اپنے مہمانوں کو آگاہ کیا ہے کہ جمعہ اور ہفتے کے روز ہوٹل کی دو منزلیں اور بعض سہولیات اس نجی تقریب کے باعث عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی اخبار ”مرر“ کے مطابق افشا ہونے والے دعوت نامے میں تمام مہمانوں سے سیاہ لباس پہننے کی درخواست کی گئی ہے۔ اگرچہ اس شرط کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا مقصد دلہن جورجینا کے متوقع سفید عروسی لباس اور مہمانوں کے سیاہ لباس کے درمیان نمایاں بصری تضاد پیدا کرنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر شادی کی تصاویر کسی بین الاقوامی جریدے یا خصوصی اشاعت کے لیے تیار کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹیانو رونالڈو، جن کی پرورش مادیرا کے شہر فونشال میں ہوئی، اور ہسپانوی و ارجنٹائنی نژاد ماڈل جورجینا روڈریگز کی ملاقات 2016 میں ہوئی تھی۔ دونوں کئی برسوں سے ساتھ ہیں اور گزشتہ سال رونالڈو نے جورجینا کو شادی کی پیشکش کی تھی۔ حالیہ دنوں میں اس جوڑے کی مایورکا میں ایک بحری جہاز پر موجود تصاویر بھی سامنے آئی تھیں، جن میں دونوں ہیرے کی انگوٹھیاں پہنے ہوئے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/031522510e36f17.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/031522510e36f17.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رونالڈو اس سے قبل بھی کہہ چکے تھے کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب جبکہ ورلڈ کپ اختتام پذیر ہو چکا ہے، مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شادی کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، تاہم دونوں کی جانب سے ابھی تک ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شادی کی تقریب مذہبی انداز میں چرچ میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق رونالڈو نے کیتھولک خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے چرچ کا انتخاب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500019'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مدعو مہمانوں کی حتمی فہرست سامنے نہیں آئی، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فٹ بال اور شوبز کی کئی معروف شخصیات کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ ان میں ریو فرڈینینڈ، ونیسیئس جونیئر، کائلین ایمباپے، اداکار ون ڈیزل، ہسپانوی اداکارہ ایسٹر ایکسپوزیٹو، گلوکارہ ریحانہ، جینیفر لوپیز، ڈریک، ٹریوس سکاٹ اور برطانوی صحافی پیئرس مورگن کے نام بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان ناموں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا رونالڈو اور جورجینا اپنی شادی کی تقریب کو مکمل طور پر نجی رکھیں گے یا نہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق مداح اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا تقریب کے دوران تصاویر لینے کی اجازت ہوگی یا تقریب کی تفصیلات محدود رکھی جائیں گی۔ دنیا کے مشہور ترین جوڑوں میں شمار ہونے کی وجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ شادی کی پہلی تصاویر حاصل کرنے کے لیے عالمی ذرائع ابلاغ کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پرتگال کے معروف فٹبالر اور سعودی کلب النصر کے اسٹار کرسٹیانو رونالڈو اور ان کی طویل عرصے سے ساتھی جورجینا روڈریگز کی متوقع شادی سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ مبینہ دعوت نامے میں مہمانوں سے مکمل سیاہ لباس پہن کر تقریب میں شرکت کی درخواست کی گئی ہے۔ اس غیر معمولی شرط نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین میں مختلف انداز کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/08/02/sports/cristiano-ronaldos-wedding-marks-taylor-swift-travis-kelce-shift/">رپورٹس کے مطابق</a> شادی کی تقریب ہفتہ 8 اگست کو پرتگال کے جزیرے مادیرا کے دارالحکومت فونشال میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فونشال کے تاریخی کیتھڈرل کو ایک بڑی نجی تقریب کے لیے بک کر لیا گیا ہے، جبکہ مہمانوں کی رہائش کے لیے کیتھڈرل کے قریب واقع فائیو اسٹار ہوٹل ”سافوئے پیلس“ بھی مخصوص کر دیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506373/from-a-salesgirl-to-cristiano-ronaldos-fiancee-the-fascinating-story-of-georgina-rodriguez-tags'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوٹل انتظامیہ نے اپنے مہمانوں کو آگاہ کیا ہے کہ جمعہ اور ہفتے کے روز ہوٹل کی دو منزلیں اور بعض سہولیات اس نجی تقریب کے باعث عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔</p>
<p>برطانوی اخبار ”مرر“ کے مطابق افشا ہونے والے دعوت نامے میں تمام مہمانوں سے سیاہ لباس پہننے کی درخواست کی گئی ہے۔ اگرچہ اس شرط کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس کا مقصد دلہن جورجینا کے متوقع سفید عروسی لباس اور مہمانوں کے سیاہ لباس کے درمیان نمایاں بصری تضاد پیدا کرنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر شادی کی تصاویر کسی بین الاقوامی جریدے یا خصوصی اشاعت کے لیے تیار کی جائیں۔</p>
<p>کرسٹیانو رونالڈو، جن کی پرورش مادیرا کے شہر فونشال میں ہوئی، اور ہسپانوی و ارجنٹائنی نژاد ماڈل جورجینا روڈریگز کی ملاقات 2016 میں ہوئی تھی۔ دونوں کئی برسوں سے ساتھ ہیں اور گزشتہ سال رونالڈو نے جورجینا کو شادی کی پیشکش کی تھی۔ حالیہ دنوں میں اس جوڑے کی مایورکا میں ایک بحری جہاز پر موجود تصاویر بھی سامنے آئی تھیں، جن میں دونوں ہیرے کی انگوٹھیاں پہنے ہوئے دکھائی دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/031522510e36f17.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/031522510e36f17.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>رونالڈو اس سے قبل بھی کہہ چکے تھے کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد شادی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب جبکہ ورلڈ کپ اختتام پذیر ہو چکا ہے، مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شادی کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، تاہم دونوں کی جانب سے ابھی تک ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
<p>رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شادی کی تقریب مذہبی انداز میں چرچ میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق رونالڈو نے کیتھولک خاندانی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے چرچ کا انتخاب کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30500019'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30500019"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مدعو مہمانوں کی حتمی فہرست سامنے نہیں آئی، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فٹ بال اور شوبز کی کئی معروف شخصیات کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ ان میں ریو فرڈینینڈ، ونیسیئس جونیئر، کائلین ایمباپے، اداکار ون ڈیزل، ہسپانوی اداکارہ ایسٹر ایکسپوزیٹو، گلوکارہ ریحانہ، جینیفر لوپیز، ڈریک، ٹریوس سکاٹ اور برطانوی صحافی پیئرس مورگن کے نام بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان ناموں کی بھی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔</p>
<p>میڈیا میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا رونالڈو اور جورجینا اپنی شادی کی تقریب کو مکمل طور پر نجی رکھیں گے یا نہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق مداح اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا تقریب کے دوران تصاویر لینے کی اجازت ہوگی یا تقریب کی تفصیلات محدود رکھی جائیں گی۔ دنیا کے مشہور ترین جوڑوں میں شمار ہونے کی وجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ شادی کی پہلی تصاویر حاصل کرنے کے لیے عالمی ذرائع ابلاغ کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511428</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 15:32:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/031616191092145.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/031616191092145.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب کھانسی سے 'کون بنے گا کروڑ پتی' شو میں لاکھوں پاؤنڈز کا فراڈ ہوا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511379/tv-show-charles-ingram-diana-ingram-who-wants-to-be-a-millionaire-coughing-major-chris-tarrant-quiz-show-scandal-million-pound-winner-kon-banay-ga-karor-pati</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قسمت کے سہارے ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ یا ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ جیسے شوز جیتے جا سکتے ہیں تو حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے کیونکہ اگر عین فیصلہ کن لمحے پر کسی کی کھانسی آپ کی رہنمائی کرنے لگے تو پھر صرف ہزاروں نہیں، بلکہ آپ 10 لاکھ پاؤنڈ کا انعام بھی جیت سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سننے میں یہ کسی فلمی کہانی کا حصہ لگتا ہے، مگر برطانیہ کے مقبول کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں پیش آنے والا یہ واقعہ حقیقت ہے، جسے آج بھی ٹی وی کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ ہے کہ آخر کھانسی کا کوئز شو سے کیا تعلق تھا؟ اس کا جواب جاننے کے لیے اس واقعے پر نظر ڈالنا ہوگی جہاں سوالات کے دوران وقفے وقفے سے سنائی دینے والی ہلکی سی کھانسی بعد میں ایک مبینہ خفیہ اشارہ قرار دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی فوج کے سابق میجر چارلس اینگرام مشہور کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں شریک ہوئے۔ شو کے میزبان کرس ٹیرنٹ نے ان کا استقبال کیا، جبکہ حاضرین میں ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور دوست ٹیکوین ویٹاک بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈیانا اینگرام اس سے پہلے بھی اسی پروگرام میں حصہ لے چکی تھیں اور 32 ہزار پاؤنڈ جیتنے میں کامیاب رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/0311061133c6c0f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/0311061133c6c0f.webp'  alt=' (چارلس اینگرام سے پہلے ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام بھی شو میں 32 ہزار پاؤنڈ جیت چکی تھیں۔) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(چارلس اینگرام سے پہلے ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام بھی شو میں 32 ہزار پاؤنڈ جیت چکی تھیں۔)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی گفتگو کے بعد چارلس اینگرام سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام کے اصول کے مطابق ابتدا میں نسبتاً آسان سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ہر درست جواب کے ساتھ انعامی رقم بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھتا ہے، سوالات بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلس اینگرام نے ابتدائی سوالات کے درست جواب دیے، اگرچہ کئی مواقع پر وہ کافی دیر سوچتے رہے۔ اسی دوران حاضرین میں سے کبھی کبھار کھانسی کی آواز بھی سنائی دیتی رہی، مگر اس وقت کسی نے اسے غیر معمولی نہیں سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت گزرتا گیا اور وہ ایک ایک مرحلہ عبور کرتے ہوئے آخری سوال تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="آخری-سوال-اور-10-لاکھ-پاؤنڈ-کا-چیک" href="#آخری-سوال-اور-10-لاکھ-پاؤنڈ-کا-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;آخری سوال اور 10 لاکھ پاؤنڈ کا چیک&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پروگرام میں تمام سوالات کے جوابات درست دیتے ہوئے چارلس اینگرام آخری اور فیصلہ کن سوال تک پہنچ گئے، جوش اور ولووہ اپنے عروج پر تھا آخری سوال پر آر یا پار کا مرحلہ آچکا تھا،  یا تو 10 لاکھ پاؤنڈ  یا بڑا نقصان۔ بس اس آخری سوال کا درست جواب 10 لاکھ پاؤنڈ کا مالک بنا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/03111210f12af7f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/03111210f12af7f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوال تھا، ”ایک کے ساتھ 100 صفر لگانے سے بننے والے عدد کو کیا کہا جاتا ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکرین پر چار آپشنز ظاہر ہوئے، پہلا آپشن تھا گوگول، دوسرا آپشن تھا میگاٹرون، تیسرا آپشن تھا گیگا بٹ اور چوتھا آپشن تھا نینومول۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چارلس اینگرام واضح طور پر تذبذب کا شکار تھے۔ وہ بار بار چاروں آپشنز بلند آواز میں دہراتے، کسی ایک پر آتے اور پھر اپنی رائے بدل لیتے۔ اس دوران شو کا روایتی سنسنی خیز پس منظر، موسیقی بھی ماحول کو مزید پرجوش بنا رہی تھی۔ اسی کشمکش کے دوران ایک مرتبہ پھر حاضرین میں سے کھانسی کی آواز سنائی دی، لیکن اس وقت بھی کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ساڑھے-نو-منٹ-کا-سنسنی-خیز-لمحہ" href="#ساڑھے-نو-منٹ-کا-سنسنی-خیز-لمحہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ساڑھے نو منٹ کا سنسنی خیز لمحہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;آخری جواب دینے سے پہلے میزبان نے وہ چیک بھی تیار کر رکھا تھا جس کی رقم چارلس اس مرحلے تک یقینی طور پر جیت چکے تھے۔ اگر آخری جواب غلط ہوتا تو انہیں اسی رقم پر اکتفا کرنا پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ساڑھے نو منٹ تک جاری رہنے والی سوچ بچار کے بعد چارلس اینگرام نے بالآخر گوگول کو اپنا حتمی جواب قرار دے کر لاک کر دیا اور اس کے ساتھ ہی شو میں سسپنس اپنے عروج پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزبان کا انداز دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جواب غلط ہو چکا ہو۔ حاضرین بھی خاموش تھے جبکہ ڈیانا اینگرام کے چہرے پر بھی پریشانی نمایاں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند لمحوں بعد کرس ٹیرنٹ نے چارلس سے پہلے والا چیک واپس لیا، اسے سب کے سامنے پھاڑ دیا اور مسکراتے ہوئے اعلان کیا کہ انہیں اب اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ 10 لاکھ پاؤنڈ جیت چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اعلان کے ساتھ ہی اسٹوڈیو خوشی سے گونج اٹھا، چارلس اور ان کی اہلیہ نے جشن منایا اور انہیں ایک نیا چیک دے دیا گیا، جس کی رقم چند روز بعد ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونا تھی، لیکن پھر کیا ہوا؟ ایک معمولی شک نے سب کچھ بدل دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30444170'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30444170"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پروگرام ختم ہونے کے بعد پروڈکشن ٹیم کے ایک رکن کو مقابلے کے دوران سنائی دینے والی ایک کھانسی کی آواز مشکوک محسوس ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے ریکارڈ کیا ہوا پروگرام دوبارہ دیکھا اور اس کا شک یقین میں بدل گیا کیونکہ چارلس اینگرام جب بھی درست جواب والے آپشن پر پہنچتے، عین اسی لمحے حاضرین میں سے کھانسی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس بات کے انکشاف کے بعد پوری ٹیم نے غیر ایڈٹ شدہ ریکارڈنگ کا تفصیلی جائزہ لیا اور معاملہ قانونی کارروائی تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران پروگرام انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اور دوست ٹیکوین ویٹاک پہلے سے ایک منصوبہ بنا کر آئے تھے۔ الزام کے مطابق چارلس جان بوجھ کر تمام آپشنز ایک ایک کرکے بلند آواز میں پڑھتے تھے اور جب وہ صحیح جواب پر پہنچتے تو حاضرین میں سے کھانسی کے ذریعے درست جواب پر انہیں اشارہ دیا جاتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410609'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی مبینہ طریقہ کار کی مدد سے وہ مرحلہ وار مشکل سوالات کے درست جواب دیتے ہوئے ایک ملین پاؤنڈ تک پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور ٹیکوین ویٹاک کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ چلایا گیا اور 10 لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم کی ادائیگی روک دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چارلس اینگرام نے ابتدا سے آخر تک خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا۔ عدالت میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں کی بلکہ کئی سوالوں کے جواب اندازے اور تّکے کی بنیاد پر دیے تھے، اس لیے انہیں مجرم قرار دینا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2001 کے اس اسکینڈل کو برسوں گزر چکے ہیں، لیکن یہ آج بھی ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل قرار دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قسمت کے سہارے ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ یا ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ جیسے شوز جیتے جا سکتے ہیں تو حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے کیونکہ اگر عین فیصلہ کن لمحے پر کسی کی کھانسی آپ کی رہنمائی کرنے لگے تو پھر صرف ہزاروں نہیں، بلکہ آپ 10 لاکھ پاؤنڈ کا انعام بھی جیت سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>سننے میں یہ کسی فلمی کہانی کا حصہ لگتا ہے، مگر برطانیہ کے مقبول کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں پیش آنے والا یہ واقعہ حقیقت ہے، جسے آج بھی ٹی وی کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>سوال یہ ہے کہ آخر کھانسی کا کوئز شو سے کیا تعلق تھا؟ اس کا جواب جاننے کے لیے اس واقعے پر نظر ڈالنا ہوگی جہاں سوالات کے دوران وقفے وقفے سے سنائی دینے والی ہلکی سی کھانسی بعد میں ایک مبینہ خفیہ اشارہ قرار دی گئی۔</p>
<p>برطانوی فوج کے سابق میجر چارلس اینگرام مشہور کوئز شو ’ہو وانٹس ٹو بی اے میلینیئر‘ میں شریک ہوئے۔ شو کے میزبان کرس ٹیرنٹ نے ان کا استقبال کیا، جبکہ حاضرین میں ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور دوست ٹیکوین ویٹاک بھی موجود تھے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈیانا اینگرام اس سے پہلے بھی اسی پروگرام میں حصہ لے چکی تھیں اور 32 ہزار پاؤنڈ جیتنے میں کامیاب رہی تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/0311061133c6c0f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/0311061133c6c0f.webp'  alt=' (چارلس اینگرام سے پہلے ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام بھی شو میں 32 ہزار پاؤنڈ جیت چکی تھیں۔) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(چارلس اینگرام سے پہلے ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام بھی شو میں 32 ہزار پاؤنڈ جیت چکی تھیں۔)</figcaption>
    </figure>
<p>ابتدائی گفتگو کے بعد چارلس اینگرام سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔</p>
<p>پروگرام کے اصول کے مطابق ابتدا میں نسبتاً آسان سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ہر درست جواب کے ساتھ انعامی رقم بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھتا ہے، سوالات بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔</p>
<p>چارلس اینگرام نے ابتدائی سوالات کے درست جواب دیے، اگرچہ کئی مواقع پر وہ کافی دیر سوچتے رہے۔ اسی دوران حاضرین میں سے کبھی کبھار کھانسی کی آواز بھی سنائی دیتی رہی، مگر اس وقت کسی نے اسے غیر معمولی نہیں سمجھا۔</p>
<p>وقت گزرتا گیا اور وہ ایک ایک مرحلہ عبور کرتے ہوئے آخری سوال تک پہنچ گئے۔</p>
<h3><a id="آخری-سوال-اور-10-لاکھ-پاؤنڈ-کا-چیک" href="#آخری-سوال-اور-10-لاکھ-پاؤنڈ-کا-چیک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>آخری سوال اور 10 لاکھ پاؤنڈ کا چیک</strong></h3>
<p>پروگرام میں تمام سوالات کے جوابات درست دیتے ہوئے چارلس اینگرام آخری اور فیصلہ کن سوال تک پہنچ گئے، جوش اور ولووہ اپنے عروج پر تھا آخری سوال پر آر یا پار کا مرحلہ آچکا تھا،  یا تو 10 لاکھ پاؤنڈ  یا بڑا نقصان۔ بس اس آخری سوال کا درست جواب 10 لاکھ پاؤنڈ کا مالک بنا سکتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/03111210f12af7f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/08/03111210f12af7f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>سوال تھا، ”ایک کے ساتھ 100 صفر لگانے سے بننے والے عدد کو کیا کہا جاتا ہے؟“</p>
<p>اسکرین پر چار آپشنز ظاہر ہوئے، پہلا آپشن تھا گوگول، دوسرا آپشن تھا میگاٹرون، تیسرا آپشن تھا گیگا بٹ اور چوتھا آپشن تھا نینومول۔</p>
<p>چارلس اینگرام واضح طور پر تذبذب کا شکار تھے۔ وہ بار بار چاروں آپشنز بلند آواز میں دہراتے، کسی ایک پر آتے اور پھر اپنی رائے بدل لیتے۔ اس دوران شو کا روایتی سنسنی خیز پس منظر، موسیقی بھی ماحول کو مزید پرجوش بنا رہی تھی۔ اسی کشمکش کے دوران ایک مرتبہ پھر حاضرین میں سے کھانسی کی آواز سنائی دی، لیکن اس وقت بھی کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔</p>
<h3><a id="ساڑھے-نو-منٹ-کا-سنسنی-خیز-لمحہ" href="#ساڑھے-نو-منٹ-کا-سنسنی-خیز-لمحہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ساڑھے نو منٹ کا سنسنی خیز لمحہ</strong></h3>
<p>آخری جواب دینے سے پہلے میزبان نے وہ چیک بھی تیار کر رکھا تھا جس کی رقم چارلس اس مرحلے تک یقینی طور پر جیت چکے تھے۔ اگر آخری جواب غلط ہوتا تو انہیں اسی رقم پر اکتفا کرنا پڑتا۔</p>
<p>تقریباً ساڑھے نو منٹ تک جاری رہنے والی سوچ بچار کے بعد چارلس اینگرام نے بالآخر گوگول کو اپنا حتمی جواب قرار دے کر لاک کر دیا اور اس کے ساتھ ہی شو میں سسپنس اپنے عروج پر پہنچ گیا۔</p>
<p>میزبان کا انداز دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جواب غلط ہو چکا ہو۔ حاضرین بھی خاموش تھے جبکہ ڈیانا اینگرام کے چہرے پر بھی پریشانی نمایاں تھی۔</p>
<p>چند لمحوں بعد کرس ٹیرنٹ نے چارلس سے پہلے والا چیک واپس لیا، اسے سب کے سامنے پھاڑ دیا اور مسکراتے ہوئے اعلان کیا کہ انہیں اب اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ 10 لاکھ پاؤنڈ جیت چکے ہیں۔</p>
<p>اس اعلان کے ساتھ ہی اسٹوڈیو خوشی سے گونج اٹھا، چارلس اور ان کی اہلیہ نے جشن منایا اور انہیں ایک نیا چیک دے دیا گیا، جس کی رقم چند روز بعد ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونا تھی، لیکن پھر کیا ہوا؟ ایک معمولی شک نے سب کچھ بدل دیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30444170'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30444170"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پروگرام ختم ہونے کے بعد پروڈکشن ٹیم کے ایک رکن کو مقابلے کے دوران سنائی دینے والی ایک کھانسی کی آواز مشکوک محسوس ہوئی۔</p>
<p>اس نے ریکارڈ کیا ہوا پروگرام دوبارہ دیکھا اور اس کا شک یقین میں بدل گیا کیونکہ چارلس اینگرام جب بھی درست جواب والے آپشن پر پہنچتے، عین اسی لمحے حاضرین میں سے کھانسی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اس بات کے انکشاف کے بعد پوری ٹیم نے غیر ایڈٹ شدہ ریکارڈنگ کا تفصیلی جائزہ لیا اور معاملہ قانونی کارروائی تک جا پہنچا۔</p>
<p>اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران پروگرام انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اور دوست ٹیکوین ویٹاک پہلے سے ایک منصوبہ بنا کر آئے تھے۔ الزام کے مطابق چارلس جان بوجھ کر تمام آپشنز ایک ایک کرکے بلند آواز میں پڑھتے تھے اور جب وہ صحیح جواب پر پہنچتے تو حاضرین میں سے کھانسی کے ذریعے درست جواب پر انہیں اشارہ دیا جاتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410609'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی مبینہ طریقہ کار کی مدد سے وہ مرحلہ وار مشکل سوالات کے درست جواب دیتے ہوئے ایک ملین پاؤنڈ تک پہنچے۔</p>
<p>تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چارلس اینگرام، ان کی اہلیہ ڈیانا اینگرام اور ٹیکوین ویٹاک کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ چلایا گیا اور 10 لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم کی ادائیگی روک دی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب چارلس اینگرام نے ابتدا سے آخر تک خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا۔ عدالت میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں کی بلکہ کئی سوالوں کے جواب اندازے اور تّکے کی بنیاد پر دیے تھے، اس لیے انہیں مجرم قرار دینا درست نہیں۔</p>
<p>اگرچہ 2001 کے اس اسکینڈل کو برسوں گزر چکے ہیں، لیکن یہ آج بھی ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل قرار دیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511379</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 11:32:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/031105447fff939.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/031105447fff939.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسافر طیارے کے پائلٹ کا اُڑتی ہوئی پُراسرار شے دیکھنے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511377/london-mysterious-object-pilot-ufo-sighting-gatwick-airport-airbus-a319-aviation-incident-flying-saucer</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کے شہر لندن کے گیٹ وِک ایئرپورٹ کے قریب ایک مسافر طیارے کے پائلٹ نے پرواز کے دوران ایک پراسرار گول شے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں، تاہم حکام اس شے کی اصل شناخت معلوم نہیں کر سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://metro.co.uk/2026/08/02/pilot-spots-flying-saucer-cockpit-plane-near-london-gatwick-airport-29280510/"&gt;میڈیا رپورٹس&lt;/a&gt; کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ایئربس اے 319 مسافر طیارہ گیٹ وِک ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ طیارہ بلندی کم کرتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہا تھا کہ اسی دوران پائلٹ نے اپنے دائیں بازو کے قریب ایک گول اور چپٹی شکل کی شے دیکھی، جو بظاہر ”اڑن طشتری“ یا کسی غیر معمولی ڈرون سے مشابہ تھی۔ پائلٹ کے مطابق یہ شے مخالف سمت میں تقریباً اسی بلندی پر پرواز کر رہی تھی اور طیارے سے تقریباً 100 فٹ کے فاصلے پر تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30257122'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30257122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کی تحقیقات برطانیہ کے یو کے ایئر پراکس بورڈ نے کیں، جو فضائی سفر کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیتا ہے جن میں دو فضائی اشیا خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔ بورڈ کی جون میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ جب طیارہ نیچے اترتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہا تھا تو اس نے ایک گول یا اڑن طشتری نما مشتبہ ڈرون کو اپنے طیارے کے دائیں بازو کے قریب انتہائی کم فاصلے سے گزرتے دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ شے سسیکس کے دیہی علاقے میں ہینگ کراس نامی گاؤں کے قریب دیکھی گئی، جو گیٹ وِک ایئرپورٹ سے تقریباً سات میل جنوب میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائلٹ نے بتایا کہ اس شے کی شکل واضح طور پر ایک گول ڈسک جیسی تھی اور اس کے کناروں پر گہرے رنگ کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ اگرچہ عملے کو شبہ تھا کہ یہ کوئی جدید یا غیر معمولی ڈرون ہو سکتا ہے، لیکن وہ اس کی اصل نوعیت یا مقام کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30252075'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30252075"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ شے طیارے کے انتہائی قریب سے گزری، لیکن پائلٹ کو ہنگامی طور پر طیارے کا رخ تبدیل کرنے یا بچاؤ کی کوئی اضافی کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ طیارہ پہلے ہی اپنے معمول کے مطابق مڑنے کے عمل میں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات کے دوران علاقے میں موجود کسی دوسرے پائلٹ نے ایسی کسی شے کو دیکھنے کی اطلاع نہیں دی، تاہم فضائی ٹریفک کنٹرول نے احتیاط کے طور پر دیگر طیاروں کو خبردار کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یو کے ایئر پراکس بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دستیاب معلومات، شے کی بلندی اور اس کی بیان کردہ خصوصیات کی بنیاد پر یہ طے کرنا ممکن نہیں ہو سکا کہ پائلٹ نے دراصل کیا دیکھا تھا۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اس واقعے سے پرواز کی حفاظت کسی حد تک متاثر ہوئی، تاہم تصادم کا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کے شہر لندن کے گیٹ وِک ایئرپورٹ کے قریب ایک مسافر طیارے کے پائلٹ نے پرواز کے دوران ایک پراسرار گول شے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اس واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں، تاہم حکام اس شے کی اصل شناخت معلوم نہیں کر سکے۔</strong></p>
<p>برطانوی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://metro.co.uk/2026/08/02/pilot-spots-flying-saucer-cockpit-plane-near-london-gatwick-airport-29280510/">میڈیا رپورٹس</a> کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ایئربس اے 319 مسافر طیارہ گیٹ وِک ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ طیارہ بلندی کم کرتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہا تھا کہ اسی دوران پائلٹ نے اپنے دائیں بازو کے قریب ایک گول اور چپٹی شکل کی شے دیکھی، جو بظاہر ”اڑن طشتری“ یا کسی غیر معمولی ڈرون سے مشابہ تھی۔ پائلٹ کے مطابق یہ شے مخالف سمت میں تقریباً اسی بلندی پر پرواز کر رہی تھی اور طیارے سے تقریباً 100 فٹ کے فاصلے پر تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30257122'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30257122"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس واقعے کی تحقیقات برطانیہ کے یو کے ایئر پراکس بورڈ نے کیں، جو فضائی سفر کے دوران پیش آنے والے ایسے واقعات کا جائزہ لیتا ہے جن میں دو فضائی اشیا خطرناک حد تک ایک دوسرے کے قریب آ جائیں۔ بورڈ کی جون میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ جب طیارہ نیچے اترتے ہوئے بائیں جانب مڑ رہا تھا تو اس نے ایک گول یا اڑن طشتری نما مشتبہ ڈرون کو اپنے طیارے کے دائیں بازو کے قریب انتہائی کم فاصلے سے گزرتے دیکھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ شے سسیکس کے دیہی علاقے میں ہینگ کراس نامی گاؤں کے قریب دیکھی گئی، جو گیٹ وِک ایئرپورٹ سے تقریباً سات میل جنوب میں واقع ہے۔</p>
<p>پائلٹ نے بتایا کہ اس شے کی شکل واضح طور پر ایک گول ڈسک جیسی تھی اور اس کے کناروں پر گہرے رنگ کے نشانات دکھائی دے رہے تھے۔ اگرچہ عملے کو شبہ تھا کہ یہ کوئی جدید یا غیر معمولی ڈرون ہو سکتا ہے، لیکن وہ اس کی اصل نوعیت یا مقام کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30252075'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30252075"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ شے طیارے کے انتہائی قریب سے گزری، لیکن پائلٹ کو ہنگامی طور پر طیارے کا رخ تبدیل کرنے یا بچاؤ کی کوئی اضافی کارروائی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی، کیونکہ طیارہ پہلے ہی اپنے معمول کے مطابق مڑنے کے عمل میں تھا۔</p>
<p>تحقیقات کے دوران علاقے میں موجود کسی دوسرے پائلٹ نے ایسی کسی شے کو دیکھنے کی اطلاع نہیں دی، تاہم فضائی ٹریفک کنٹرول نے احتیاط کے طور پر دیگر طیاروں کو خبردار کر دیا تھا۔</p>
<p>تحقیقات مکمل ہونے کے بعد یو کے ایئر پراکس بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دستیاب معلومات، شے کی بلندی اور اس کی بیان کردہ خصوصیات کی بنیاد پر یہ طے کرنا ممکن نہیں ہو سکا کہ پائلٹ نے دراصل کیا دیکھا تھا۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اس واقعے سے پرواز کی حفاظت کسی حد تک متاثر ہوئی، تاہم تصادم کا کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511377</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Aug 2026 10:18:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/03092249a690df9.webp" type="image/webp" medium="image" height="972" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/03092249a690df9.webp"/>
        <media:title>تصویر: اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسان مگرمچھ کو کندھے پر اُٹھا کر تھانے پہنچ گیا، دلچسپ ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511261/farmer-carries-a-dangerous-crocodile-on-his-shoulder-to-a-police-station-video-goes-viral</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی ریاست بہار کے ضلع سپول میں ایک کسان پانچ فٹ لمبے زندہ مگرمچھ کو اپنے کندھے پر اٹھا کر سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ اس غیر معمولی واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جبکہ محکمہ جنگلات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلی جانور نظر آنے کی صورت میں خود انہیں پکڑنے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دیہاتی کھیتوں میں کام کر رہے تھے اور اچانک ان کی نظر دھان کی فصل میں چھپے ایک مگرمچھ پر پڑی جسے دیکھ کر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں دیہاتی موقع پر جمع ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاؤں والوں نے مگرمچھ کو نقصان پہنچانے کے بجائے اسے محفوظ طریقے سے پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ دیہاتیوں کی مدد سے کسان امیت کمار نے مگرمچھ کے منہ کو رسی سے باندھ دیا تاکہ وہ کسی پر حملہ نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/4  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509242/banking-news-plastic-currency-polymer-note-currency-indian-rupee-india'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509242"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کا کوئی بندہ موقع پر نہ ملا تو امیت کمار نے بنا وقت ضائع کیے تقریباً 5 فٹ لمبے مگرمچھ کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور پیدل ہی قریبی محکمہ جنگلات کے دفتر کی جانب روانہ ہو گئے۔ تاہم وہاں بھی کوئی اہلکار موجود نہ ہونے پر وہ مگرمچھ کو کندھے پر اٹھائے پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راستے میں لوگ اس غیر معمولی منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کئی افراد اپنی گاڑیاں روک کر ویڈیوز بناتے رہے جو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Rameshbhimtal/status/2083512292067729892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Rameshbhimtal/status/2083512292067729892"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی اطلاع پر جنگلات کے محکمے کی ٹیم تھانے پہنچی اور مگرمچھ کو اپنی تحویل میں لے کر کوسی ندی میں محفوظ طریقے سے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ جنگلات کے افسر روی رنجن نے اس واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا، ”برسات کے موسم میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کی وجہ سے جنگلی جانور اکثر آبادی اور کھیتوں کا رخ کر لیتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کسانوں کی اس بات پر تعریف کی کہ انہوں نے مگرمچھ کو نقصان نہیں پہنچایا، لیکن ساتھ ہی شہریوں کو خبردار کیا کہ ایسے خطرناک جانوروں کو خود پکڑنے کی کوشش نہ کریں اور فوراً متعلقہ محکمے کو اطلاع دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مون سون کے دوران دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی بڑھنے سے مگرمچھ، سانپ اور دیگر جنگلی جانور اکثر آبادیوں اور کھیتوں کا رخ کر لیتے ہیں، جس کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے احتیاط اور متعلقہ اداروں سے بروقت رابطہ کرنا ہی سب سے محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی ریاست بہار کے ضلع سپول میں ایک کسان پانچ فٹ لمبے زندہ مگرمچھ کو اپنے کندھے پر اٹھا کر سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ اس غیر معمولی واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جبکہ محکمہ جنگلات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلی جانور نظر آنے کی صورت میں خود انہیں پکڑنے کے بجائے متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔</strong></p>
<p>یہ دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دیہاتی کھیتوں میں کام کر رہے تھے اور اچانک ان کی نظر دھان کی فصل میں چھپے ایک مگرمچھ پر پڑی جسے دیکھ کر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں دیہاتی موقع پر جمع ہو گئے۔</p>
<p>گاؤں والوں نے مگرمچھ کو نقصان پہنچانے کے بجائے اسے محفوظ طریقے سے پکڑنے کا فیصلہ کیا۔ دیہاتیوں کی مدد سے کسان امیت کمار نے مگرمچھ کے منہ کو رسی سے باندھ دیا تاکہ وہ کسی پر حملہ نہ کر سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/4  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509242/banking-news-plastic-currency-polymer-note-currency-indian-rupee-india'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509242"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کا کوئی بندہ موقع پر نہ ملا تو امیت کمار نے بنا وقت ضائع کیے تقریباً 5 فٹ لمبے مگرمچھ کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور پیدل ہی قریبی محکمہ جنگلات کے دفتر کی جانب روانہ ہو گئے۔ تاہم وہاں بھی کوئی اہلکار موجود نہ ہونے پر وہ مگرمچھ کو کندھے پر اٹھائے پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔</p>
<p>راستے میں لوگ اس غیر معمولی منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کئی افراد اپنی گاڑیاں روک کر ویڈیوز بناتے رہے جو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Rameshbhimtal/status/2083512292067729892'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Rameshbhimtal/status/2083512292067729892"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پولیس کی اطلاع پر جنگلات کے محکمے کی ٹیم تھانے پہنچی اور مگرمچھ کو اپنی تحویل میں لے کر کوسی ندی میں محفوظ طریقے سے چھوڑ دیا۔</p>
<p>محکمہ جنگلات کے افسر روی رنجن نے اس واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا، ”برسات کے موسم میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کی وجہ سے جنگلی جانور اکثر آبادی اور کھیتوں کا رخ کر لیتے ہیں۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کسانوں کی اس بات پر تعریف کی کہ انہوں نے مگرمچھ کو نقصان نہیں پہنچایا، لیکن ساتھ ہی شہریوں کو خبردار کیا کہ ایسے خطرناک جانوروں کو خود پکڑنے کی کوشش نہ کریں اور فوراً متعلقہ محکمے کو اطلاع دیں۔</p>
<p>مون سون کے دوران دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی بڑھنے سے مگرمچھ، سانپ اور دیگر جنگلی جانور اکثر آبادیوں اور کھیتوں کا رخ کر لیتے ہیں، جس کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے احتیاط اور متعلقہ اداروں سے بروقت رابطہ کرنا ہی سب سے محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511261</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Aug 2026 12:16:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/021150210238ec2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/021150210238ec2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پرنگلز چپس کی شکل گھوڑے کی زین جیسی کیوں رکھی گئی؟ دلچسپ سائنسی وجہ جانیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511159/engineering-potato-chips-food-science-pringles-snack-innovation-product-design</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آلو کے چپس کی کئی اقسام موجود ہیں، لیکن دنیا بھر میں مشہور پرنگلز چپس صرف اپنے منفرد سلنڈر نما ڈبے کی وجہ سے ہی الگ شناخت نہیں رکھتی بلکہ اس کی خاص گھوڑے کی زین جیسی خم دار شکل بھی اسے دوسری چپس سے مختلف بناتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ شکل محض ڈیزائن نہیں بلکہ ایک خاص سائنسی اصول کے تحت تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد چپس کو مضبوط، کرنچی اور ٹوٹنے سے محفوظ رکھنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام آلو کے چپس جہاں آلو کو پتلے ٹکڑوں میں کاٹ کر بنائے جاتے ہیں، وہیں پرنگلز بنانے کا طریقہ مختلف ہے۔ اس کے لیے خشک کیے گئے آلو کے ذرات کو دیگر اجزا کے ساتھ ملا کر ایک آٹے جیسا مرکب تیار کیا جاتا ہے۔ اس مرکب کو باریک شیٹ کی شکل میں پھیلایا جاتا ہے، پھر مشینوں کے ذریعے ایک جیسی شکل کے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں تلا جاتا ہے، ذائقہ دیا جاتا ہے اور خاص سلنڈر ڈبوں میں ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرنگلز کی خاص خم دار شکل کو سائنسی زبان میں ”ہائپربولک پیرا بولوئڈ“ کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایک ایسی تین جہتی خم دار شکل ہے جو گھوڑے کی زین سے ملتی جلتی ہے۔ اس ڈیزائن کی وجہ سے چپس پر پڑنے والا دباؤ ایک جگہ جمع نہیں ہوتا بلکہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عام چپس کے مقابلے میں آسانی سے نہیں ٹوٹتی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510833/coca-cola-atlanta-soft-drink-secret-formula-coca-cola-recipe-world-of-coca-cola-business-secrets'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510833"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس شکل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چپس میں کمزور جگہ بننے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر دباؤ پڑے بھی تو یہ ایک سیدھی لائن میں ٹوٹنے کے بجائے مختلف انداز میں ٹوٹتی ہے، جس سے اس کی مضبوطی برقرار رہتی ہے اور کھانے کے وقت وہ مخصوص کرنچ محسوس ہوتا ہے جو پرنگلز کی پہچان بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرنگلز چپس کی منفرد زین جیسی شکل کے پیچھے ایک دلچسپ سائنسی کہانی بھی موجود ہے۔ 1960 کی دہائی میں صارفین نے شکایت کی تھی کہ عام چپس پیکٹ کے اندر آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں اور ان میں ہوا کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروکٹر اینڈ گیمبل کے انجینئرز نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تقریباً دو سال تک تحقیق کی اور آئی بی ایم سپر کمپیوٹرز کی مدد سے چپس کے لیے ایسی بہترین شکل تلاش کی جو مضبوط بھی ہو اور ٹوٹنے کے امکانات بھی کم ہوں۔ کئی تجربات کے بعد تیار ہونے والے اس منفرد ڈیزائن کے ساتھ 1968 میں ”پرنگلز نیو فینگلڈ پوٹیٹو چپس“ کے نام سے یہ چپس مارکیٹ میں متعارف کرائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ڈیزائن کا تعلق صرف مضبوطی سے نہیں بلکہ پیداوار کے عمل سے بھی ہے۔ چپس کی خم دار سطح اس بات میں مدد دیتی ہے کہ تیز رفتار مشینوں پر چلتے وقت وہ اپنی جگہ پر قائم رہیں اور آسانی سے ادھر ادھر نہ گریں۔ یہ اصول کچھ حد تک ان ڈیزائنز سے ملتا جلتا ہے جو ہوائی جہاز کے پروں اور ریسنگ گاڑیوں میں ہوا کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498738'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498738"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پرنگلز بنانے میں معیار کو برقرار رکھنے پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ تیاری شروع ہونے سے پہلے آلو کے ذرات کو جانچا جاتا ہے تاکہ ان کا سائز اور معیار مقررہ معیار کے مطابق ہو۔ بعد میں تیار ہونے والی ہر زائقے دار چپ کے سائز اور رنگ کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق پیداوار کے دوران بڑی تعداد میں معیار کے معائنے کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر ذائقہ یا معیار مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہو تو پیداوار کے عمل کو روک کر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیکنگ کے بعد بھی چپس کے نمونوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ذائقہ جانچنے والے ماہرین مخصوص ماحول میں چپس کو پرکھتے ہیں تاکہ رنگ یا ظاہری شکل ان کے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو اور وہ صرف ذائقے، خوشبو اور ساخت کو جانچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں پرنگلز کی زین جیسی منفرد شکل صرف ایک خوبصورت انداز نہیں بلکہ کئی برسوں کی سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کا نتیجہ ہے، جس نے ایک عام اسنیک کو دنیا بھر میں منفرد شناخت دے دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آلو کے چپس کی کئی اقسام موجود ہیں، لیکن دنیا بھر میں مشہور پرنگلز چپس صرف اپنے منفرد سلنڈر نما ڈبے کی وجہ سے ہی الگ شناخت نہیں رکھتی بلکہ اس کی خاص گھوڑے کی زین جیسی خم دار شکل بھی اسے دوسری چپس سے مختلف بناتی ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ شکل محض ڈیزائن نہیں بلکہ ایک خاص سائنسی اصول کے تحت تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد چپس کو مضبوط، کرنچی اور ٹوٹنے سے محفوظ رکھنا ہے۔</strong></p>
<p>عام آلو کے چپس جہاں آلو کو پتلے ٹکڑوں میں کاٹ کر بنائے جاتے ہیں، وہیں پرنگلز بنانے کا طریقہ مختلف ہے۔ اس کے لیے خشک کیے گئے آلو کے ذرات کو دیگر اجزا کے ساتھ ملا کر ایک آٹے جیسا مرکب تیار کیا جاتا ہے۔ اس مرکب کو باریک شیٹ کی شکل میں پھیلایا جاتا ہے، پھر مشینوں کے ذریعے ایک جیسی شکل کے ٹکڑے کاٹے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں تلا جاتا ہے، ذائقہ دیا جاتا ہے اور خاص سلنڈر ڈبوں میں ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔</p>
<p>پرنگلز کی خاص خم دار شکل کو سائنسی زبان میں ”ہائپربولک پیرا بولوئڈ“ کہا جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ایک ایسی تین جہتی خم دار شکل ہے جو گھوڑے کی زین سے ملتی جلتی ہے۔ اس ڈیزائن کی وجہ سے چپس پر پڑنے والا دباؤ ایک جگہ جمع نہیں ہوتا بلکہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عام چپس کے مقابلے میں آسانی سے نہیں ٹوٹتی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30510833/coca-cola-atlanta-soft-drink-secret-formula-coca-cola-recipe-world-of-coca-cola-business-secrets'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30510833"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس شکل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چپس میں کمزور جگہ بننے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر دباؤ پڑے بھی تو یہ ایک سیدھی لائن میں ٹوٹنے کے بجائے مختلف انداز میں ٹوٹتی ہے، جس سے اس کی مضبوطی برقرار رہتی ہے اور کھانے کے وقت وہ مخصوص کرنچ محسوس ہوتا ہے جو پرنگلز کی پہچان بن چکا ہے۔</p>
<p>پرنگلز چپس کی منفرد زین جیسی شکل کے پیچھے ایک دلچسپ سائنسی کہانی بھی موجود ہے۔ 1960 کی دہائی میں صارفین نے شکایت کی تھی کہ عام چپس پیکٹ کے اندر آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں اور ان میں ہوا کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔</p>
<p>پروکٹر اینڈ گیمبل کے انجینئرز نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تقریباً دو سال تک تحقیق کی اور آئی بی ایم سپر کمپیوٹرز کی مدد سے چپس کے لیے ایسی بہترین شکل تلاش کی جو مضبوط بھی ہو اور ٹوٹنے کے امکانات بھی کم ہوں۔ کئی تجربات کے بعد تیار ہونے والے اس منفرد ڈیزائن کے ساتھ 1968 میں ”پرنگلز نیو فینگلڈ پوٹیٹو چپس“ کے نام سے یہ چپس مارکیٹ میں متعارف کرائی گئیں۔</p>
<p>اس ڈیزائن کا تعلق صرف مضبوطی سے نہیں بلکہ پیداوار کے عمل سے بھی ہے۔ چپس کی خم دار سطح اس بات میں مدد دیتی ہے کہ تیز رفتار مشینوں پر چلتے وقت وہ اپنی جگہ پر قائم رہیں اور آسانی سے ادھر ادھر نہ گریں۔ یہ اصول کچھ حد تک ان ڈیزائنز سے ملتا جلتا ہے جو ہوائی جہاز کے پروں اور ریسنگ گاڑیوں میں ہوا کے دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30498738'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30498738"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پرنگلز بنانے میں معیار کو برقرار رکھنے پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ تیاری شروع ہونے سے پہلے آلو کے ذرات کو جانچا جاتا ہے تاکہ ان کا سائز اور معیار مقررہ معیار کے مطابق ہو۔ بعد میں تیار ہونے والی ہر زائقے دار چپ کے سائز اور رنگ کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق پیداوار کے دوران بڑی تعداد میں معیار کے معائنے کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر ذائقہ یا معیار مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہو تو پیداوار کے عمل کو روک کر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>پیکنگ کے بعد بھی چپس کے نمونوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ذائقہ جانچنے والے ماہرین مخصوص ماحول میں چپس کو پرکھتے ہیں تاکہ رنگ یا ظاہری شکل ان کے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو اور وہ صرف ذائقے، خوشبو اور ساخت کو جانچ سکیں۔</p>
<p>یوں پرنگلز کی زین جیسی منفرد شکل صرف ایک خوبصورت انداز نہیں بلکہ کئی برسوں کی سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کا نتیجہ ہے، جس نے ایک عام اسنیک کو دنیا بھر میں منفرد شناخت دے دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511159</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 14:45:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/08/01144042f66f010.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/08/01144042f66f010.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ میں ہیٹ ویو کے اثرات، دریا میں ڈوبے نازی دور کے جنگی جہاز منظر عام پر آگئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30511002/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ میں جاری شدید گرمی اور بارشوں کی کمی نے دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم کر دی ہے، جس کے باعث دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے درجنوں نازی جرمن جنگی جہاز دوبارہ نظر آنے لگے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر نہ صرف تاریخ کی ایک جھلک پیش کرتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی بھی واضح نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہر اور طویل خشک سالی کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک گر گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے دریا کی تہہ میں موجود دوسری جنگِ عظیم کے نازی دور کے جنگی جہاز دوبارہ منظر عام پر آ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگی جہاز سربیا کے شہر پراہوو کے قریب دیکھے گئے ہیں، جہاں 1944 میں پسپا ہونے والی نازی جرمن افواج نے انہیں جان بوجھ کر ڈبو دیا تھا تاکہ وہ پیش قدمی کرنے والی سوویت فوج کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کم ہونے کے بعد ان جہازوں کے کمانڈ برج، توپوں کے برج، زنگ آلود مستول، مڑے ہوئے ڈھانچے اور دیگر حصے پانی سے باہر نمایاں ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق بعض جہازوں میں اب بھی غیر پھٹا ہوا گولہ بارود موجود ہو سکتا ہے، جس کے باعث جب بھی پانی کی سطح مزید کم ہوتی ہے تو دریائی آمدورفت کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے ڈینیوب کے دیگر حصوں، جن میں ہنگری اور کروشیا شامل ہیں، وہاں بھی کئی پرانے بحری جہازوں کے ملبے دوبارہ دکھائی دینے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 2 ہزار 850 کلومیٹر طویل دریائے ڈینیوب 10 یورپی ممالک سے گزرتا ہوا بحیرہ اسود میں جا گرتا ہے، تاہم کئی ہفتوں سے جاری شدید گرمی اور نہ ہونے کے برابر بارش کے باعث اس میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک گر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں حال ہی میں دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح صرف 23 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو 2018 کے سابقہ ریکارڈ سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی سطح گرنے سے مال بردار بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، کئی کشتیاں پھنس گئی ہیں، دریائی سیاحت کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض بجلی گھروں کو بھی پانی کی کمی کے باعث آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یورپ حالیہ برسوں کے بدترین جنگلاتی آتشزدگی کے موسم سے بھی گزر رہا ہے۔ اسپین، پرتگال، فرانس، یونان اور بلقان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جہاں شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ پر قابو پانا مشکل بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ بنیادی ڈھانچے، جنگلات اور زرعی اراضی کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ میں شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پانی سے ابھرنے والے یہ جنگی جہاز اگرچہ دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک نادر منظر پیش کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ اس مستقبل کی بھی جھلک دکھاتے ہیں جہاں موسمیاتی شدتیں معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ میں جاری شدید گرمی اور بارشوں کی کمی نے دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم کر دی ہے، جس کے باعث دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے درجنوں نازی جرمن جنگی جہاز دوبارہ نظر آنے لگے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر نہ صرف تاریخ کی ایک جھلک پیش کرتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی بھی واضح نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہر اور طویل خشک سالی کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک گر گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے دریا کی تہہ میں موجود دوسری جنگِ عظیم کے نازی دور کے جنگی جہاز دوبارہ منظر عام پر آ گئے ہیں۔</p>
<p>یہ جنگی جہاز سربیا کے شہر پراہوو کے قریب دیکھے گئے ہیں، جہاں 1944 میں پسپا ہونے والی نازی جرمن افواج نے انہیں جان بوجھ کر ڈبو دیا تھا تاکہ وہ پیش قدمی کرنے والی سوویت فوج کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔</p>
<p>پانی کم ہونے کے بعد ان جہازوں کے کمانڈ برج، توپوں کے برج، زنگ آلود مستول، مڑے ہوئے ڈھانچے اور دیگر حصے پانی سے باہر نمایاں ہو گئے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق بعض جہازوں میں اب بھی غیر پھٹا ہوا گولہ بارود موجود ہو سکتا ہے، جس کے باعث جب بھی پانی کی سطح مزید کم ہوتی ہے تو دریائی آمدورفت کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>دریائے ڈینیوب کے دیگر حصوں، جن میں ہنگری اور کروشیا شامل ہیں، وہاں بھی کئی پرانے بحری جہازوں کے ملبے دوبارہ دکھائی دینے لگے ہیں۔</p>
<p>تقریباً 2 ہزار 850 کلومیٹر طویل دریائے ڈینیوب 10 یورپی ممالک سے گزرتا ہوا بحیرہ اسود میں جا گرتا ہے، تاہم کئی ہفتوں سے جاری شدید گرمی اور نہ ہونے کے برابر بارش کے باعث اس میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک گر چکی ہے۔</p>
<p>ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں حال ہی میں دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح صرف 23 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو 2018 کے سابقہ ریکارڈ سے بھی کم ہے۔</p>
<p>پانی کی سطح گرنے سے مال بردار بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، کئی کشتیاں پھنس گئی ہیں، دریائی سیاحت کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض بجلی گھروں کو بھی پانی کی کمی کے باعث آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یورپ حالیہ برسوں کے بدترین جنگلاتی آتشزدگی کے موسم سے بھی گزر رہا ہے۔ اسپین، پرتگال، فرانس، یونان اور بلقان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جہاں شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ پر قابو پانا مشکل بنا دیا ہے۔</p>
<p>کئی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ بنیادی ڈھانچے، جنگلات اور زرعی اراضی کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ میں شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق پانی سے ابھرنے والے یہ جنگی جہاز اگرچہ دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک نادر منظر پیش کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ اس مستقبل کی بھی جھلک دکھاتے ہیں جہاں موسمیاتی شدتیں معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30511002</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 11:46:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/31114419afc43a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="1260" width="2100">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/31114419afc43a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی ڈراموں کے لیے اپنا چہرہ کرائے پر دیں اور 700 ڈالر تک کمائیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510902/generative-ai-ai-art-digital-art-halftone-art-graphic-design-creative-design-ai-portrait</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین میں آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کی تیزی سے ترقی نے لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا کر دیا ہے۔ اب اداکار، ماڈلز اور عام شہری بھی اپنی تصویر یا چہرے کے استعمال کی اجازت دے کر 15 سے 700 امریکی ڈالر تک معاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ چہرے بعد میں اے آئی کی مدد سے تیار کیے جانے والے ویڈیوز اور ڈراموں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی پلیٹ فارم ریسٹ آف ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق چین میں کئی ایسے آن لائن پلیٹ فارم کام کر رہے ہیں جہاں لوگ اپنی تصاویر رجسٹر کراتے ہیں اور پھر پروڈیوسرز اپنی ضرورت کے مطابق مختلف چہروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر عمر، جنس اور ظاہری شکل کے مطابق چہروں کی الگ الگ فہرستیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض کیٹیگریز میں ”عام لڑکی“، ”سپر ماڈل“ اور دیگر انداز شامل ہیں، جبکہ پروڈیوسرز کامیڈی، رومانوی یا سنسنی خیز کہانیوں کے مطابق بھی چہرے منتخب کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://restofworld.org/2026/china-ai-microdramas-face-licensing/"&gt;ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق&lt;/a&gt; اس رجحان کی ایک بڑی وجہ چین میں مائیکرو ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ یہ مختصر دورانیے کے ڈرامے خاص طور پر موبائل فون پر دیکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ رواں سال 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران چین میں تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار مائیکرو ڈرامے جاری کیے گئے، جن میں سے 95 فیصد سے زیادہ کی تیاری میں کسی نہ کسی مرحلے پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509587/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شین ژین میں قائم ایک کمپنی ”ایکٹ آئی ڈی“ نے مارچ 2026 میں اپنی سروس شروع کی۔ کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 800 افراد نے اس پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے تقریباً 300 افراد نے اپنے چہرے کو اے آئی پروڈکشنز کے لیے لائسنس دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کے مطابق اب تک دو اے آئی ڈراموں میں تقریباً 10 افراد کے چہرے استعمال کیے جا چکے ہیں، جن کے بدلے فی قسط 15 سے 74 ڈالر تک ادائیگی کی گئی، جبکہ کمپنی اس رقم پر 10 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت یا ماڈل جیسے چہروں کی ہی نہیں بلکہ منفرد شکل و صورت رکھنے والے افراد اور معمر لوگوں کی بھی مانگ موجود ہے۔ چونکہ اصل شخص خود اداکاری نہیں کرتا، اس لیے اس کا چہرہ صرف اے آئی کے لیے بنیادی مواد کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت اسی بنیاد پر ایک نیا کردار تیار کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح چینگڈو میں قائم ”نیو کلا“ نامی کمپنی نے بھی چہروں کے لائسنس دینے کا کاروبار شروع کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث روایتی ڈراموں اور اشتہارات کے بجٹ میں کمی آئی ہے، جبکہ کئی مہنگے برانڈز بھی اب اے آئی سے تیار کردہ مواد کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ کمپنی نے ہر تصویر کی کم از کم قیمت 74 ڈالر مقرر کی ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے کم قیمت پر مقابلہ نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے کاروبار کے ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چین میں متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ ان کے چہرے اجازت کے بغیر اے آئی ویڈیوز میں استعمال کیے گئے۔ ایک واقعے میں دو سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے الزام لگایا کہ ان کے چہرے ایک اے آئی ڈرامے میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے، جسے چار کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا، بعد ازاں متعلقہ پلیٹ فارم نے وہ مواد ہٹا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعلقہ کمپنی نے بتایا کہ 2026 کے آغاز سے اب تک ایسے 85 ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہٹائے جا چکے ہیں جن میں لوگوں کے چہرے یا آواز بغیر اجازت اے آئی کے ذریعے دوبارہ تیار کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں اس حوالے سے قانونی مقدمات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ گوانگ ژو انٹرنیٹ کورٹ نے گزشتہ تین برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے کے غیر مجاز استعمال سے متعلق تقریباً 700 مقدمات کی سماعت کی ہے۔ مارچ 2026 میں بیجنگ انٹرنیٹ کورٹ نے بھی فیصلہ دیا کہ اگر کسی شخص کی تصویر کو اس کی اجازت کے بغیر اے آئی فیس سوئپ ٹیکنالوجی میں استعمال کیا جائے تو یہ غیر قانونی ہو سکتا ہے، چاہے بعد میں تصویر میں تبدیلی ہی کیوں نہ کر دی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہر یی لے ڈینگ کا کہنا ہے کہ اگر چہروں کی خرید و فروخت واضح قانونی اصولوں کے تحت ہو تو اس سے کاروباری معاملات میں شفافیت آ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک بار کسی شخص کی تصاویر ایسے نظام میں شامل ہو جائیں تو وہ مستقبل میں اپنے بائیومیٹرک ڈیٹا پر مکمل کنٹرول کھو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ لائسنس یافتہ تصاویر بعد میں غیر قانونی طریقے سے حاصل نہیں کی جائیں گی، انہیں غیر مجاز اے آئی فیس سوئپ میں استعمال نہیں کیا جائے گا یا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض معاہدے اتنے غیر واضح ہوتے ہیں کہ صارف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مستقبل میں اس کا چہرہ کون استعمال کرے گا اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خدشات کی وجہ سے بعض ماڈلز اس کاروبار سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شنگھائی سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ماڈل شو فینگ نے ایک فیشن کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے ان کا چہرہ ان مصنوعات پر استعمال کیا جن کی انہوں نے کبھی ماڈلنگ ہی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چہرے کے حقوق فروخت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت ان کی تصویر کو کس انداز میں تبدیل کرے گی یا کس مقصد کے لیے استعمال کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چہروں کو لائسنس دینے کا یہ کاروبار مستقبل میں کتنا بڑا بنے گا۔ ایک اے آئی ڈرامہ ڈائریکٹر کے مطابق زیادہ تر پروڈکشنز اب بھی مکمل طور پر مصنوعی کردار استعمال کرتی ہیں، کیونکہ حقیقی افراد کے چہرے خریدنا لازمی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق پروڈیوسرز کا حتمی فیصلہ اکثر لاگت اور بجٹ کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین میں آرٹیفیشیل انٹیلیجنس کی تیزی سے ترقی نے لوگوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا کر دیا ہے۔ اب اداکار، ماڈلز اور عام شہری بھی اپنی تصویر یا چہرے کے استعمال کی اجازت دے کر 15 سے 700 امریکی ڈالر تک معاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ چہرے بعد میں اے آئی کی مدد سے تیار کیے جانے والے ویڈیوز اور ڈراموں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔</strong></p>
<p>چینی پلیٹ فارم ریسٹ آف ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق چین میں کئی ایسے آن لائن پلیٹ فارم کام کر رہے ہیں جہاں لوگ اپنی تصاویر رجسٹر کراتے ہیں اور پھر پروڈیوسرز اپنی ضرورت کے مطابق مختلف چہروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر عمر، جنس اور ظاہری شکل کے مطابق چہروں کی الگ الگ فہرستیں موجود ہوتی ہیں۔ بعض کیٹیگریز میں ”عام لڑکی“، ”سپر ماڈل“ اور دیگر انداز شامل ہیں، جبکہ پروڈیوسرز کامیڈی، رومانوی یا سنسنی خیز کہانیوں کے مطابق بھی چہرے منتخب کر سکتے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://restofworld.org/2026/china-ai-microdramas-face-licensing/">ریسٹ آف ورلڈ کے مطابق</a> اس رجحان کی ایک بڑی وجہ چین میں مائیکرو ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ یہ مختصر دورانیے کے ڈرامے خاص طور پر موبائل فون پر دیکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ رواں سال 2026 کے پہلے تین ماہ کے دوران چین میں تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار مائیکرو ڈرامے جاری کیے گئے، جن میں سے 95 فیصد سے زیادہ کی تیاری میں کسی نہ کسی مرحلے پر مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509587/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509587"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>شین ژین میں قائم ایک کمپنی ”ایکٹ آئی ڈی“ نے مارچ 2026 میں اپنی سروس شروع کی۔ کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 800 افراد نے اس پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کرائی ہے، جن میں سے تقریباً 300 افراد نے اپنے چہرے کو اے آئی پروڈکشنز کے لیے لائسنس دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ کمپنی کے مطابق اب تک دو اے آئی ڈراموں میں تقریباً 10 افراد کے چہرے استعمال کیے جا چکے ہیں، جن کے بدلے فی قسط 15 سے 74 ڈالر تک ادائیگی کی گئی، جبکہ کمپنی اس رقم پر 10 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت یا ماڈل جیسے چہروں کی ہی نہیں بلکہ منفرد شکل و صورت رکھنے والے افراد اور معمر لوگوں کی بھی مانگ موجود ہے۔ چونکہ اصل شخص خود اداکاری نہیں کرتا، اس لیے اس کا چہرہ صرف اے آئی کے لیے بنیادی مواد کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس کے بعد مصنوعی ذہانت اسی بنیاد پر ایک نیا کردار تیار کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/301600585a49777.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح چینگڈو میں قائم ”نیو کلا“ نامی کمپنی نے بھی چہروں کے لائسنس دینے کا کاروبار شروع کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث روایتی ڈراموں اور اشتہارات کے بجٹ میں کمی آئی ہے، جبکہ کئی مہنگے برانڈز بھی اب اے آئی سے تیار کردہ مواد کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ کمپنی نے ہر تصویر کی کم از کم قیمت 74 ڈالر مقرر کی ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے کم قیمت پر مقابلہ نہ کریں۔</p>
<p>دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے کاروبار کے ساتھ کئی قانونی اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چین میں متعدد افراد نے شکایت کی ہے کہ ان کے چہرے اجازت کے بغیر اے آئی ویڈیوز میں استعمال کیے گئے۔ ایک واقعے میں دو سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے الزام لگایا کہ ان کے چہرے ایک اے آئی ڈرامے میں ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیے گئے، جسے چار کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا، بعد ازاں متعلقہ پلیٹ فارم نے وہ مواد ہٹا دیا۔</p>
<p>متعلقہ کمپنی نے بتایا کہ 2026 کے آغاز سے اب تک ایسے 85 ہزار سے زیادہ ویڈیوز ہٹائے جا چکے ہیں جن میں لوگوں کے چہرے یا آواز بغیر اجازت اے آئی کے ذریعے دوبارہ تیار کی گئی تھی۔</p>
<p>چین میں اس حوالے سے قانونی مقدمات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ گوانگ ژو انٹرنیٹ کورٹ نے گزشتہ تین برسوں کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے کے غیر مجاز استعمال سے متعلق تقریباً 700 مقدمات کی سماعت کی ہے۔ مارچ 2026 میں بیجنگ انٹرنیٹ کورٹ نے بھی فیصلہ دیا کہ اگر کسی شخص کی تصویر کو اس کی اجازت کے بغیر اے آئی فیس سوئپ ٹیکنالوجی میں استعمال کیا جائے تو یہ غیر قانونی ہو سکتا ہے، چاہے بعد میں تصویر میں تبدیلی ہی کیوں نہ کر دی گئی ہو۔</p>
<p>قانونی ماہر یی لے ڈینگ کا کہنا ہے کہ اگر چہروں کی خرید و فروخت واضح قانونی اصولوں کے تحت ہو تو اس سے کاروباری معاملات میں شفافیت آ سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک بار کسی شخص کی تصاویر ایسے نظام میں شامل ہو جائیں تو وہ مستقبل میں اپنے بائیومیٹرک ڈیٹا پر مکمل کنٹرول کھو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30507793/anthropic-claude-artificialintelligence-airesearch-machinelearning-aisafety-technologynews'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30507793"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ لائسنس یافتہ تصاویر بعد میں غیر قانونی طریقے سے حاصل نہیں کی جائیں گی، انہیں غیر مجاز اے آئی فیس سوئپ میں استعمال نہیں کیا جائے گا یا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے کے لیے استعمال نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض معاہدے اتنے غیر واضح ہوتے ہیں کہ صارف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مستقبل میں اس کا چہرہ کون استعمال کرے گا اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔</p>
<p>ان خدشات کی وجہ سے بعض ماڈلز اس کاروبار سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شنگھائی سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ماڈل شو فینگ نے ایک فیشن کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے ان کا چہرہ ان مصنوعات پر استعمال کیا جن کی انہوں نے کبھی ماڈلنگ ہی نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چہرے کے حقوق فروخت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں معلوم نہیں کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت ان کی تصویر کو کس انداز میں تبدیل کرے گی یا کس مقصد کے لیے استعمال کرے گی۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چہروں کو لائسنس دینے کا یہ کاروبار مستقبل میں کتنا بڑا بنے گا۔ ایک اے آئی ڈرامہ ڈائریکٹر کے مطابق زیادہ تر پروڈکشنز اب بھی مکمل طور پر مصنوعی کردار استعمال کرتی ہیں، کیونکہ حقیقی افراد کے چہرے خریدنا لازمی نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق پروڈیوسرز کا حتمی فیصلہ اکثر لاگت اور بجٹ کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510902</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 16:04:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/30153259212aaa8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/30153259212aaa8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوکا کولا اپنی کولڈ ڈرنک بنانے کی ترکیب ایک تجوری میں کیوں بند رکھتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510833/coca-cola-atlanta-soft-drink-secret-formula-coca-cola-recipe-world-of-coca-cola-business-secrets</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں لوگ کوکا کولا پیتے ہیں، لیکن اس مشروب کا اصل فارمولا آج بھی ایک ایسا راز ہے جسے کمپنی نے انتہائی سخت سیکیورٹی والے والٹ میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ کئی دہائیوں سے لوگ اس کے اجزا جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مگر کمپنی نے کبھی بھی اپنے اصل نسخے کو عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس راز میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کی تاریخ جاننے کا ایک منفرد موقع مل رہا ہے۔ امریکا کے شہر اٹلانٹا میں قائم ورلڈ آف کوکا کولا میں ”دی والٹ آف دی سیکرٹ فارمولا“ کے نام سے ایک مستقل نمائش موجود ہے، جہاں آنے والے افراد کو اس مشہور مشروب کے خفیہ فارمولے کی کہانی اور اس کی تاریخی اہمیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم، کمپنی کے مطابق اصل فارمولا اب بھی مکمل طور پر محفوظ اور خفیہ رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30454600'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30454600"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کوکا کولا کی تاریخ کا آغاز 1886 میں ہوا، جب ڈاکٹر جان ایس پیمبرٹن نے یہ مشروب تیار کیا۔ ابتدا ہی سے کمپنی نے اس کے نسخے کو خفیہ رکھنے پر خاص توجہ دی۔ بتایا جاتا ہے کہ شروع میں صرف چند افراد ہی اس فارمولا سے واقف تھے اور اسے تحریری شکل میں بھی محفوظ نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1892 میں آسا کینڈلر نے کوکا کولا کے حقوق خرید لیے اور کمپنی کے مالک بن گئے۔ بعد ازاں 1919 میں ارنسٹ ووڈرف اور سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے کینڈلر کے خاندان سے کمپنی خرید لی۔ اس خریداری کے لیے قرض حاصل کرنے کے دوران خفیہ فارمولا ضمانت کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسی مقصد کے لیے کینڈلر کے بیٹے سے پہلی مرتبہ فارمولا تحریری شکل میں لکھوایا گیا، جسے نیویارک کے ایک بینک کے محفوظ والٹ میں رکھ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/30104712923c360.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/30104712923c360.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب قرض ادا کر دیا گیا تو 1925 میں فارمولا دوبارہ اٹلانٹا منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہ 86 برس تک ایک اور بینک کے محفوظ والٹ میں رکھا رہا۔ بعد میں اسے ورلڈ آف کوکا کولا منتقل کر دیا گیا، جہاں آج بھی اس کی تاریخ سے متعلق معلومات عوام کے لیے دستیاب ہیں، لیکن اصل نسخہ بدستور خفیہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408516'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نمائش میں آنے والے افراد کو اگرچہ اصل فارمولا دیکھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن انہیں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے یہ جاننے کا موقع دیا جاتا ہے کہ کوکا کولا کے منفرد ذائقے کے بارے میں کیا معلومات دستیاب ہیں۔ یہاں ایک ورچوئل ”ٹیسٹ میکر“ بھی موجود ہے، جس کے ذریعے لوگ اپنی پسند کا ذائقہ تیار کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہاں ”مِتھس اینڈ لیجنڈز“ کے نام سے ایک حصہ بھی بنایا گیا ہے، جہاں مشروب سے متعلق مشہور کہانیوں، حقائق، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اس کے خفیہ فارمولے کی تاریخ اور اس سے جڑے رازوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوکا کولا کا اصل فارمولا آج بھی دنیا کے معروف کاروباری رازوں میں شمار ہوتا ہے، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے محفوظ رکھنے کی روایت اب بھی اسی طرح برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں لوگ کوکا کولا پیتے ہیں، لیکن اس مشروب کا اصل فارمولا آج بھی ایک ایسا راز ہے جسے کمپنی نے انتہائی سخت سیکیورٹی والے والٹ میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ کئی دہائیوں سے لوگ اس کے اجزا جاننے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مگر کمپنی نے کبھی بھی اپنے اصل نسخے کو عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔</strong></p>
<p>اب اس راز میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو اس کی تاریخ جاننے کا ایک منفرد موقع مل رہا ہے۔ امریکا کے شہر اٹلانٹا میں قائم ورلڈ آف کوکا کولا میں ”دی والٹ آف دی سیکرٹ فارمولا“ کے نام سے ایک مستقل نمائش موجود ہے، جہاں آنے والے افراد کو اس مشہور مشروب کے خفیہ فارمولے کی کہانی اور اس کی تاریخی اہمیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم، کمپنی کے مطابق اصل فارمولا اب بھی مکمل طور پر محفوظ اور خفیہ رکھا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30454600'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30454600"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کوکا کولا کی تاریخ کا آغاز 1886 میں ہوا، جب ڈاکٹر جان ایس پیمبرٹن نے یہ مشروب تیار کیا۔ ابتدا ہی سے کمپنی نے اس کے نسخے کو خفیہ رکھنے پر خاص توجہ دی۔ بتایا جاتا ہے کہ شروع میں صرف چند افراد ہی اس فارمولا سے واقف تھے اور اسے تحریری شکل میں بھی محفوظ نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>1892 میں آسا کینڈلر نے کوکا کولا کے حقوق خرید لیے اور کمپنی کے مالک بن گئے۔ بعد ازاں 1919 میں ارنسٹ ووڈرف اور سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے کینڈلر کے خاندان سے کمپنی خرید لی۔ اس خریداری کے لیے قرض حاصل کرنے کے دوران خفیہ فارمولا ضمانت کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسی مقصد کے لیے کینڈلر کے بیٹے سے پہلی مرتبہ فارمولا تحریری شکل میں لکھوایا گیا، جسے نیویارک کے ایک بینک کے محفوظ والٹ میں رکھ دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/30104712923c360.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/30104712923c360.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جب قرض ادا کر دیا گیا تو 1925 میں فارمولا دوبارہ اٹلانٹا منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہ 86 برس تک ایک اور بینک کے محفوظ والٹ میں رکھا رہا۔ بعد میں اسے ورلڈ آف کوکا کولا منتقل کر دیا گیا، جہاں آج بھی اس کی تاریخ سے متعلق معلومات عوام کے لیے دستیاب ہیں، لیکن اصل نسخہ بدستور خفیہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30408516'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30408516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>نمائش میں آنے والے افراد کو اگرچہ اصل فارمولا دیکھنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن انہیں مختلف سرگرمیوں کے ذریعے یہ جاننے کا موقع دیا جاتا ہے کہ کوکا کولا کے منفرد ذائقے کے بارے میں کیا معلومات دستیاب ہیں۔ یہاں ایک ورچوئل ”ٹیسٹ میکر“ بھی موجود ہے، جس کے ذریعے لوگ اپنی پسند کا ذائقہ تیار کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ یہاں ”مِتھس اینڈ لیجنڈز“ کے نام سے ایک حصہ بھی بنایا گیا ہے، جہاں مشروب سے متعلق مشہور کہانیوں، حقائق، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اس کے خفیہ فارمولے کی تاریخ اور اس سے جڑے رازوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔</p>
<p>کوکا کولا کا اصل فارمولا آج بھی دنیا کے معروف کاروباری رازوں میں شمار ہوتا ہے، اور کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے محفوظ رکھنے کی روایت اب بھی اسی طرح برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510833</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 12:31:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/301033356bfdb98.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/301033356bfdb98.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'لبوبو' گڑیا کی بیکری میں انٹری، دلچسپ اور حیران کُن کیکس کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510706/labubu-doll-enters-the-bakery-fascinating-and-surprising-cakes-take-center-stage</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کی معروف کھلونا ساز کمپنی پاپ مارٹ نے اپنے مشہور کردار ”لبوبو“ کو کھلونوں کی دنیا سے باہر نکال کر میٹھے پکوانوں کی دنیا میں متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی نے سنگاپور میں اپنی پہلی بین الاقوامی بیکری کا افتتاح کیا ہے، جہاں لبوبو اور دیگر مقبول کرداروں سے متاثر ہو کر تیار کیے گئے کیک، پیسٹریاں، مشروبات اور آئس کریم فروخت کی جا رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/retail-consumer/pop-mart-brings-labubu-dessert-table-global-bakery-push-2026-07-29/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;کے مطابق، یہ دو منزلہ بیکری سنگاپور کے ریزورٹس ورلڈ سینٹوسا میں یونیورسل اسٹوڈیوز کے سامنے قائم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیکری میں کھلونوں کی شکل کی 45 مختلف اقسام کی مٹھائیاں اور مشروبات فروخت کیے جا رہے ہیں، جن کی قیمت 5 سے 32 سنگاپور ڈالر کے درمیان رکھی گئی ہے۔ ان میں بلیک سیسمی لبوبو پاپسیکل، ”مولی“ ڈبل چیز کیک اور دیگر کرداروں سے متاثرہ میٹھے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508858/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508858"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاپ مارٹ کے ذیلی ادارے ”پاپ بیکری“ کے سربراہ ژانگ شیاؤیانگ نے ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم اپنے کھلونوں کے کرداروں کو صارفین کی زندگی کے ہر حصے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، اور میٹھی چیزیں بھی اسی کا ایک ذریعہ ہیں۔ دیگر کمپنیاں اپنے کیک پر صر ف سادہ تصویر بناتی ہیں یا پلاسٹک کے کھلونے رکھ دیتی ہیں، جبکہ ہم نے اپنے کرداروں کو مکمل طور پر کھانے کے قابل بنایا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے کہا، ”سنگاپور ہماری پہلی منزل ہے۔ ہم یورپ اور امریکہ میں بھی ایسی ہی بیکریاں کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے مناسب وقت اور مقامی سپلائی چین جیسے معاملات کو دیکھنا ضروری ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک، جن میں تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں، میں بھی میٹھے کی دکانیں کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگاپور میں بیکری کے افتتاح سے قبل پاپ مارٹ نے اپریل 2026 میں چین کے ساحلی شہر چھن ہوانگ ڈاؤ میں اپنی پہلی بیکری کھولی تھی۔ اس سے پہلے کمپنی چین میں 30 سے زائد عارضی ڈیزرٹ ٹرک بھی آزما چکی ہے، جنہیں صارفین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کا یہ قدم اس کے کاروبار کو مزید وسعت دینے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاپ مارٹ صرف بیکری تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔ کمپنی نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ وہ سونی پکچرز کے اشتراک سے لبوبو پر ایک فلم بھی بنا رہی ہے، جبکہ بیجنگ میں اپنے تھیم پارک ”پاپ لینڈ“ کی توسیع بھی کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ژانگ شیاؤیانگ نے کہا، ”ہماری کوشش ہے کہ ہمارے کردار صارفین کی زندگی کے ہر پہلو کا حصہ بن جائیں۔ دیگر تفریحی کمپنیاں عموماً کیکس پر پلاسٹک کی سجاوٹ استعمال کرتی ہیں، لیکن ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنے کرداروں کو مکمل طور پر قابلِ خوردنی اور تھری ڈی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق، پاپ مارٹ کی یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کمپنی عارضی مقبولیت کو طویل مدتی کامیابی میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں لبوبو صرف کھلونوں اور فلموں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا بھر کی بیکریوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کی معروف کھلونا ساز کمپنی پاپ مارٹ نے اپنے مشہور کردار ”لبوبو“ کو کھلونوں کی دنیا سے باہر نکال کر میٹھے پکوانوں کی دنیا میں متعارف کرا دیا ہے۔ کمپنی نے سنگاپور میں اپنی پہلی بین الاقوامی بیکری کا افتتاح کیا ہے، جہاں لبوبو اور دیگر مقبول کرداروں سے متاثر ہو کر تیار کیے گئے کیک، پیسٹریاں، مشروبات اور آئس کریم فروخت کی جا رہی ہیں۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/retail-consumer/pop-mart-brings-labubu-dessert-table-global-bakery-push-2026-07-29/">رائٹرز </a>کے مطابق، یہ دو منزلہ بیکری سنگاپور کے ریزورٹس ورلڈ سینٹوسا میں یونیورسل اسٹوڈیوز کے سامنے قائم کی گئی ہے۔</p>
<p>بیکری میں کھلونوں کی شکل کی 45 مختلف اقسام کی مٹھائیاں اور مشروبات فروخت کیے جا رہے ہیں، جن کی قیمت 5 سے 32 سنگاپور ڈالر کے درمیان رکھی گئی ہے۔ ان میں بلیک سیسمی لبوبو پاپسیکل، ”مولی“ ڈبل چیز کیک اور دیگر کرداروں سے متاثرہ میٹھے شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508858/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508858"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>پاپ مارٹ کے ذیلی ادارے ”پاپ بیکری“ کے سربراہ ژانگ شیاؤیانگ نے ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم اپنے کھلونوں کے کرداروں کو صارفین کی زندگی کے ہر حصے کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، اور میٹھی چیزیں بھی اسی کا ایک ذریعہ ہیں۔ دیگر کمپنیاں اپنے کیک پر صر ف سادہ تصویر بناتی ہیں یا پلاسٹک کے کھلونے رکھ دیتی ہیں، جبکہ ہم نے اپنے کرداروں کو مکمل طور پر کھانے کے قابل بنایا ہے۔“</p>
<p>اس موقع پر انہوں نے کہا، ”سنگاپور ہماری پہلی منزل ہے۔ ہم یورپ اور امریکہ میں بھی ایسی ہی بیکریاں کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے مناسب وقت اور مقامی سپلائی چین جیسے معاملات کو دیکھنا ضروری ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک، جن میں تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل ہیں، میں بھی میٹھے کی دکانیں کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔</p>
<p>سنگاپور میں بیکری کے افتتاح سے قبل پاپ مارٹ نے اپریل 2026 میں چین کے ساحلی شہر چھن ہوانگ ڈاؤ میں اپنی پہلی بیکری کھولی تھی۔ اس سے پہلے کمپنی چین میں 30 سے زائد عارضی ڈیزرٹ ٹرک بھی آزما چکی ہے، جنہیں صارفین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کا یہ قدم اس کے کاروبار کو مزید وسعت دینے کی کوشش ہے۔</p>
<p>پاپ مارٹ صرف بیکری تک محدود نہیں رہنا چاہتی۔ کمپنی نے رواں سال اعلان کیا تھا کہ وہ سونی پکچرز کے اشتراک سے لبوبو پر ایک فلم بھی بنا رہی ہے، جبکہ بیجنگ میں اپنے تھیم پارک ”پاپ لینڈ“ کی توسیع بھی کر چکی ہے۔</p>
<p>ژانگ شیاؤیانگ نے کہا، ”ہماری کوشش ہے کہ ہمارے کردار صارفین کی زندگی کے ہر پہلو کا حصہ بن جائیں۔ دیگر تفریحی کمپنیاں عموماً کیکس پر پلاسٹک کی سجاوٹ استعمال کرتی ہیں، لیکن ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنے کرداروں کو مکمل طور پر قابلِ خوردنی اور تھری ڈی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔“</p>
<p>ماہرین کے مطابق، پاپ مارٹ کی یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کمپنی عارضی مقبولیت کو طویل مدتی کامیابی میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں لبوبو صرف کھلونوں اور فلموں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دنیا بھر کی بیکریوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510706</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 12:20:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/291214443f5d971.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/291214443f5d971.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور ہائیکورٹ نے 'قائد اعظم' کو ملک بدر کرنے سے روک دیا، شناختی کارڈ کی تصدیق کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک ہونے اور ممکنہ ملک بدری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ’قائد اعظم‘ نامی درخواست گزار کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے اور اسے نادرا کے تصدیقی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور ہائیکورٹ کے  جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو اس کیس کی سماعت کی جہاں درخواست گزار کے وکلاء اور نادرا کے قانونی نمائندے نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے دوران درخواست گزار قائد اعظم کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ”ان کا موکل ایک پاکستانی شہری ہے جو باقاعدہ کاروبار کر رہا ہے اور حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30411881'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411881"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ”شناختی کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ان کے موکل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اسے ایک قسم کی سزا دی جا رہی ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نادرا کی جانب سے اب درخواست گزار کو اپنے چچا کو پیش کرنے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد کے پاس پہلے سے پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران گیگیانی نے عدالت میں اتھارٹی کی نمائندگی کی اور بینچ کو بتایا کہ ”نادرا نے اس معاملے پر اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/103239/%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF-13-%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8-%DB%81%DB%92%D8%9F-cnic'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/103239"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نادرا کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک قرار دیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اسے بلاک کیا گیا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد نادرا کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار کے کیس کا جائزہ لے اور قائد اعظم کو نادرا کے بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا، جبکہ بورڈ کے فیصلے تک حکام کو انہیں کسی بھی قسم کی ملک بدری یا زبردستی کارروائی سے روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک ہونے اور ممکنہ ملک بدری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ’قائد اعظم‘ نامی درخواست گزار کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے اور اسے نادرا کے تصدیقی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔</strong></p>
<p>پشاور ہائیکورٹ کے  جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر کو اس کیس کی سماعت کی جہاں درخواست گزار کے وکلاء اور نادرا کے قانونی نمائندے نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔</p>
<p>سماعت کے دوران درخواست گزار قائد اعظم کے وکیل سیف اللہ محب کاکا خیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ”ان کا موکل ایک پاکستانی شہری ہے جو باقاعدہ کاروبار کر رہا ہے اور حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہے“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30411881'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411881"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وکیل صفائی نے مزید کہا کہ ”شناختی کارڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ان کے موکل کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اسے ایک قسم کی سزا دی جا رہی ہے“۔</p>
<p>انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نادرا کی جانب سے اب درخواست گزار کو اپنے چچا کو پیش کرنے کا کہا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خاندان کے دیگر تمام افراد کے پاس پہلے سے پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل شاہد عمران گیگیانی نے عدالت میں اتھارٹی کی نمائندگی کی اور بینچ کو بتایا کہ ”نادرا نے اس معاملے پر اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/103239/%D9%BE%D8%B1-%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF-13-%DB%81%D9%86%D8%AF%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8-%DB%81%DB%92%D8%9F-cnic'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/103239"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے نادرا کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک قرار دیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اسے بلاک کیا گیا ہے“۔</p>
<p>عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد نادرا کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار کے کیس کا جائزہ لے اور قائد اعظم کو نادرا کے بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا، جبکہ بورڈ کے فیصلے تک حکام کو انہیں کسی بھی قسم کی ملک بدری یا زبردستی کارروائی سے روک دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510703</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Jul 2026 11:28:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/2911250386ae00e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/2911250386ae00e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریئلٹی شو دیکھنے پر شوہر سے جھگڑا، خاتون کی عمارت سے کودنے کی کوشش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510568/a-woman-tried-to-jump-from-a-building-after-an-argument-with-her-husband-over-watching-a-reality-show</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں ایک خاتون کی جانب سے بلند و بالا عمارت کی بالکونی سے کودنے کی دھمکی دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک ریئلٹی شو دیکھنے کے دوران ہونے والی تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے علاقے گریٹر نوئیڈا کی ایک اونچی عمارت میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب ایک لڑکی اپنے ساتھی سے معمولی سی بات پر جھگڑے کے بعد اٹھارہویں منزل کے بالکونی کے جنگلے پر چڑھ گئی اور نیچے چھلانگ لگانے کی دھمکی دینے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق یہ واقعہ 26 جولائی کو گریٹر نوئیڈا ویسٹ کی ایک سوسائٹی کی 18ویں منزل پر واقع ایک فلیٹ میں پیش آیا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص بالکونی کے اندر کھڑا خاتون کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ عمارت کے دیگر رہائشی یہ منظر اپنے موبائل فونز میں ریکارڈ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GreaterNoidaW/status/2081724528678600744'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GreaterNoidaW/status/2081724528678600744"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوراً اس ہاؤسنگ سوسائٹی کا رخ کیا اور واقعے سے متعلق دونوں افراد سے پوچھ گچھ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد گریما اور موہیت ہیں، جو میرٹھ کے رہائشی ہیں اور باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کے مطابق  دونوں گھر میں بیٹھ کر ایک ساتھ ریئلٹی شو ”لاک اپ“ دیکھ رہے تھے کہ شو کے ایک منظر پر ان دونوں کی رائے الگ تھی جس کی وجہ سے ان کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحث اتنی بڑھی کہ لڑکی غصے میں بالکونی کی طرف بھاگی اور جنگلے کے باہر لٹک گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام نے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں بتاتے ہوئے کہا کہ موقع پر امن و امان کی کوئی خرابی دیکھنے میں نہیں آئی، جبکہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی بڑا حادثہ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، خطرناک اور سنسنی خیز مناظر پر مبنی یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیلی جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں ایک خاتون کی جانب سے بلند و بالا عمارت کی بالکونی سے کودنے کی دھمکی دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایک ریئلٹی شو دیکھنے کے دوران ہونے والی تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔</strong></p>
<p>بھارت کے علاقے گریٹر نوئیڈا کی ایک اونچی عمارت میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب ایک لڑکی اپنے ساتھی سے معمولی سی بات پر جھگڑے کے بعد اٹھارہویں منزل کے بالکونی کے جنگلے پر چڑھ گئی اور نیچے چھلانگ لگانے کی دھمکی دینے لگی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق یہ واقعہ 26 جولائی کو گریٹر نوئیڈا ویسٹ کی ایک سوسائٹی کی 18ویں منزل پر واقع ایک فلیٹ میں پیش آیا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص بالکونی کے اندر کھڑا خاتون کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ عمارت کے دیگر رہائشی یہ منظر اپنے موبائل فونز میں ریکارڈ کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GreaterNoidaW/status/2081724528678600744'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GreaterNoidaW/status/2081724528678600744"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا پر ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوراً اس ہاؤسنگ سوسائٹی کا رخ کیا اور واقعے سے متعلق دونوں افراد سے پوچھ گچھ کی۔</p>
<p>ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد گریما اور موہیت ہیں، جو میرٹھ کے رہائشی ہیں اور باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہ رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس ذرائع کے مطابق  دونوں گھر میں بیٹھ کر ایک ساتھ ریئلٹی شو ”لاک اپ“ دیکھ رہے تھے کہ شو کے ایک منظر پر ان دونوں کی رائے الگ تھی جس کی وجہ سے ان کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔</p>
<p>یہ بحث اتنی بڑھی کہ لڑکی غصے میں بالکونی کی طرف بھاگی اور جنگلے کے باہر لٹک گئی۔</p>
<p>پولیس حکام نے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں بتاتے ہوئے کہا کہ موقع پر امن و امان کی کوئی خرابی دیکھنے میں نہیں آئی، جبکہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی بڑا حادثہ پیش آیا۔</p>
<p>دوسری جانب، خطرناک اور سنسنی خیز مناظر پر مبنی یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیلی جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510568</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 11:41:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/28111935b8cec18.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/28111935b8cec18.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپسٹین کی کروڑوں ڈالرز کی جائیداد کی وارث 'ڈینٹسٹ' خاتون کون ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510431/jeffrey-epstein-karyna-shuliak-us-justice-department-epstein-files-jeffrey-epstein-estate</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے بدنام ترین سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی زندگی ایک بار پھر خبروں میں ہے، لیکن اس بار توجہ کا مرکز خود ایپسٹین نہیں بلکہ ان کی قریبی ساتھی، بیلاروس میں پیدا ہونے والی ڈینٹسٹ ڈاکٹر کیرینا شولیاک ہیں۔ 2026 کے آغاز میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل تحقیقاتی ریکارڈ نے دونوں کے تعلق سے متعلق کئی نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے 2019 میں اپنی موت سے چند روز قبل کیرینا شولیاک کو تقریباً 10 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے ٹرسٹ کا بنیادی وارث نامزد کیا تھا۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایپسٹین کے بیشتر اثاثے منجمد کیے جانے کے باعث امکان ہے کہ یہ دولت متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی پر خرچ ہوگی، نہ کہ شولیاک کو ملے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499278'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کیرینا شولیاک بیلاروس سے طالب علم ویزے پر امریکا آئیں، جہاں ان کی ملاقات 2011 میں ایپسٹین سے ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 21 برس جبکہ ایپسٹین 58 برس کے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق ایپسٹین نے نہ صرف ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں مدد کی بلکہ انہیں امریکا میں رہائش برقرار رکھنے کے لیے بھی مختلف طریقوں سے تعاون فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقاتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں داخلے سے لے کر دندان سازی کی تعلیم مکمل کرنے اور مختلف امریکی ریاستوں میں لائسنس حاصل کرنے تک ایپسٹین نے ان کے اخراجات اور دیگر معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران وہ ایپسٹین کی ذاتی زندگی اور کاروباری امور کا بھی اہم حصہ بنتی گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509867/jeffrey-epstein-french-model-recruiter-daniel-siad-found-dead-france'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509867"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق شولیاک ایپسٹین کے گھروں، عملے اور جائیدادوں کے انتظام میں سرگرم رہتی تھیں۔ وہ امریکی ورجن آئی لینڈز میں واقع ان کے نجی جزیرے سمیت مختلف مقامات پر انتظامی ذمہ داریاں نبھاتی تھیں اور ملازمین انہیں ایپسٹین کی قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے شولیاک اور ان کے خاندان کو لاکھوں ڈالر کی مالی مدد فراہم کی، جبکہ ان کی والدہ کے علاج کے اخراجات بھی برداشت کیے۔ ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شولیاک نے کئی مواقع پر ایپسٹین کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے محبت بھرے جذبات کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری شدہ ریکارڈ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شولیاک ایپسٹین کی بعض سرگرمیوں سے آگاہ تھیں۔ وہ ان کے نجی طیارے میں سفر کرتی تھیں اور مختلف جائیدادوں پر بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ ایک ای میل میں انہوں نے ایپسٹین سے درخواست کی تھی کہ اگر وہ دوسری خواتین سے تعلقات رکھتے ہیں تو انہیں ان معاملات سے دور رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504921'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود امریکی تفتیش کاروں نے کیرینا شولیاک پر ایپسٹین کے جنسی جرائم یا انسانی اسمگلنگ میں شریک ہونے کا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ دستیاب ریکارڈ میں انہیں شریکِ جرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آئی نے اس معاملے میں ان سے باضابطہ پوچھ گچھ کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپسٹین کی موت کے بعد شولیاک نے عوامی زندگی سے خود کو الگ رکھا اور بطور ڈینٹسٹ اپنا کیریئر جاری رکھا۔ تاہم 2026 میں سرکاری دستاویزات منظرعام پر آنے کے بعد ان کی شناخت دوبارہ خبروں کا حصہ بن گئی اور میڈیا کی توجہ ایک بار پھر ان پر مرکوز ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ انصاف کی تازہ دستاویزات کسی نئے مجرمانہ الزام کی نشاندہی نہیں کرتیں، لیکن وہ ایک ایسی خاتون کی تصویر ضرور پیش کرتی ہیں جس کی تعلیم، کیریئر، مالی حیثیت اور طرزِ زندگی پر جیفری ایپسٹین کا غیرمعمولی اثر رہا۔ اگرچہ ایپسٹین نے انہیں اپنی وسیع جائیداد کا وارث بنایا تھا، لیکن موجودہ قانونی صورتحال میں اس دولت کا بڑا حصہ متاثرین کے معاوضے کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے بدنام ترین سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی زندگی ایک بار پھر خبروں میں ہے، لیکن اس بار توجہ کا مرکز خود ایپسٹین نہیں بلکہ ان کی قریبی ساتھی، بیلاروس میں پیدا ہونے والی ڈینٹسٹ ڈاکٹر کیرینا شولیاک ہیں۔ 2026 کے آغاز میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل تحقیقاتی ریکارڈ نے دونوں کے تعلق سے متعلق کئی نئی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔</strong></p>
<p>دستاویزات کے مطابق ایپسٹین نے 2019 میں اپنی موت سے چند روز قبل کیرینا شولیاک کو تقریباً 10 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے ٹرسٹ کا بنیادی وارث نامزد کیا تھا۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایپسٹین کے بیشتر اثاثے منجمد کیے جانے کے باعث امکان ہے کہ یہ دولت متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی پر خرچ ہوگی، نہ کہ شولیاک کو ملے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499278'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499278"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کیرینا شولیاک بیلاروس سے طالب علم ویزے پر امریکا آئیں، جہاں ان کی ملاقات 2011 میں ایپسٹین سے ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 21 برس جبکہ ایپسٹین 58 برس کے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق ایپسٹین نے نہ صرف ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں مدد کی بلکہ انہیں امریکا میں رہائش برقرار رکھنے کے لیے بھی مختلف طریقوں سے تعاون فراہم کیا۔</p>
<p>تحقیقاتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں داخلے سے لے کر دندان سازی کی تعلیم مکمل کرنے اور مختلف امریکی ریاستوں میں لائسنس حاصل کرنے تک ایپسٹین نے ان کے اخراجات اور دیگر معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی دوران وہ ایپسٹین کی ذاتی زندگی اور کاروباری امور کا بھی اہم حصہ بنتی گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509867/jeffrey-epstein-french-model-recruiter-daniel-siad-found-dead-france'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509867"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دستاویزات کے مطابق شولیاک ایپسٹین کے گھروں، عملے اور جائیدادوں کے انتظام میں سرگرم رہتی تھیں۔ وہ امریکی ورجن آئی لینڈز میں واقع ان کے نجی جزیرے سمیت مختلف مقامات پر انتظامی ذمہ داریاں نبھاتی تھیں اور ملازمین انہیں ایپسٹین کی قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار کرتے تھے۔</p>
<p>ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے شولیاک اور ان کے خاندان کو لاکھوں ڈالر کی مالی مدد فراہم کی، جبکہ ان کی والدہ کے علاج کے اخراجات بھی برداشت کیے۔ ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شولیاک نے کئی مواقع پر ایپسٹین کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے محبت بھرے جذبات کا اظہار بھی کیا۔</p>
<p>جاری شدہ ریکارڈ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شولیاک ایپسٹین کی بعض سرگرمیوں سے آگاہ تھیں۔ وہ ان کے نجی طیارے میں سفر کرتی تھیں اور مختلف جائیدادوں پر بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ ایک ای میل میں انہوں نے ایپسٹین سے درخواست کی تھی کہ اگر وہ دوسری خواتین سے تعلقات رکھتے ہیں تو انہیں ان معاملات سے دور رکھا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504921'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے باوجود امریکی تفتیش کاروں نے کیرینا شولیاک پر ایپسٹین کے جنسی جرائم یا انسانی اسمگلنگ میں شریک ہونے کا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ دستیاب ریکارڈ میں انہیں شریکِ جرم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایف بی آئی نے اس معاملے میں ان سے باضابطہ پوچھ گچھ کی ہو۔</p>
<p>ایپسٹین کی موت کے بعد شولیاک نے عوامی زندگی سے خود کو الگ رکھا اور بطور ڈینٹسٹ اپنا کیریئر جاری رکھا۔ تاہم 2026 میں سرکاری دستاویزات منظرعام پر آنے کے بعد ان کی شناخت دوبارہ خبروں کا حصہ بن گئی اور میڈیا کی توجہ ایک بار پھر ان پر مرکوز ہو گئی۔</p>
<p>امریکی محکمہ انصاف کی تازہ دستاویزات کسی نئے مجرمانہ الزام کی نشاندہی نہیں کرتیں، لیکن وہ ایک ایسی خاتون کی تصویر ضرور پیش کرتی ہیں جس کی تعلیم، کیریئر، مالی حیثیت اور طرزِ زندگی پر جیفری ایپسٹین کا غیرمعمولی اثر رہا۔ اگرچہ ایپسٹین نے انہیں اپنی وسیع جائیداد کا وارث بنایا تھا، لیکن موجودہ قانونی صورتحال میں اس دولت کا بڑا حصہ متاثرین کے معاوضے کے لیے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510431</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 10:26:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/271021126e1931c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/271021126e1931c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج: سابق بھارتی کرکٹرز طلبہ کے حق میں بول پڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30510040/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ تحریک کو سابق بھارتی کرکٹرز کی بھی حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ سچن ٹنڈولکر سمیت دیگر سابق کرکٹرز بھی طلبہ کے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور پرامن احتجاج کے حق میں بول پڑے ہیں، انہوں نے اپنی حمایت اپنے خیالات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تفصیلی پیغام میں لکھا کہ ان کے والد ایک پروفیسر تھے، جنہوں نے انہیں بچپن سے یہ سبق دیا تھا کہ ناکامی قابل قبول ہے لیکن دھوکا دہی نہیں، اور زندگی میں کبھی شارٹ کٹ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچن ٹنڈولکر نے لکھا کہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دے جس میں محنت، دیانت داری اور میرٹ کو اہمیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو ترجیح دے تو وہاں میرٹ کے بجائے شارٹ کٹ تلاش کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق بھارتی کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر طلبہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو ان کے جذبات قابلِ فہم ہیں، اس لیے سب کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں نوجوانوں کو دوبارہ ایسی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سچن نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ ملک مل کر ایسے حل تلاش کرے گا جو بچوں کے مستقبل اور ان کے خوابوں کا تحفظ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے نئی دہلی طلبا احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم اپنے بہتر مستقبل کے لیے برسوں محنت کرتا ہے جبکہ اس کے اہل خانہ بھی اس سفر میں قربانیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت پرچہ لیک ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے طلبہ کی امیدیں متاثر ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ہر طالب علم کو منصفانہ موقع فراہم کریں گے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں، اس لیے ان کے خوابوں کا تحفظ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سابق بھارتی کرکٹر محمد کیف بھی طلبا پر ہونے والے ظلم کے خلاف خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے پولیس کی بدترین کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج بند ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا جلد کوئی حل نکل آئے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور مبصر سنجے منجریکر نے بھی نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں کیونکہ یہی نوجوان مستقبل میں بھارت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وہیں ایک اور سابق بھارتی سریش رائنا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر کہا کہ ہر چیلنج بہتر حل تلاش کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ صورتحال پرسکون اور تعمیری مذاکرات کی طرف لے جائے گی، جہاں سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جائیں گے جو طلبہ، تعلیمی اداروں اور پورے ملک کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ImRaina/status/2080348081795604580'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ImRaina/status/2080348081795604580"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نامی ایک تحریک کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیکل امتحانات کے پرچوں کے بار بار لیک ہونے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایک معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے بعد اس میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، تاہم اب 26 روز بعد حکومتی یقین دہانیوں کے بعد وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے لیکن سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کی جانب سے یہ احتجاج مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی خرابیوں کے معاملے پر جاری احتجاج حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گیا ہے اور اسے شوبز شخصیات ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات اور اب معروف کرکٹرز کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ تحریک کو سابق بھارتی کرکٹرز کی بھی حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔ سچن ٹنڈولکر سمیت دیگر سابق کرکٹرز بھی طلبہ کے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور پرامن احتجاج کے حق میں بول پڑے ہیں، انہوں نے اپنی حمایت اپنے خیالات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تفصیلی پیغام میں لکھا کہ ان کے والد ایک پروفیسر تھے، جنہوں نے انہیں بچپن سے یہ سبق دیا تھا کہ ناکامی قابل قبول ہے لیکن دھوکا دہی نہیں، اور زندگی میں کبھی شارٹ کٹ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>سچن ٹنڈولکر نے لکھا کہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ثقافت کو فروغ دے جس میں محنت، دیانت داری اور میرٹ کو اہمیت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو ترجیح دے تو وہاں میرٹ کے بجائے شارٹ کٹ تلاش کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>سابق بھارتی کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر طلبہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو ان کے جذبات قابلِ فہم ہیں، اس لیے سب کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں نوجوانوں کو دوبارہ ایسی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سچن نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ ملک مل کر ایسے حل تلاش کرے گا جو بچوں کے مستقبل اور ان کے خوابوں کا تحفظ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sachin_rt/status/2080307190221664539?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے نئی دہلی طلبا احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم اپنے بہتر مستقبل کے لیے برسوں محنت کرتا ہے جبکہ اس کے اہل خانہ بھی اس سفر میں قربانیاں دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت پرچہ لیک ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے طلبہ کی امیدیں متاثر ہوتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ہر طالب علم کو منصفانہ موقع فراہم کریں گے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں، اس لیے ان کے خوابوں کا تحفظ ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IrfanPathan/status/2080318624116727976?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک اور سابق بھارتی کرکٹر محمد کیف بھی طلبا پر ہونے والے ظلم کے خلاف خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے پولیس کی بدترین کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ سختی سے نمٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج بند ہونا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا جلد کوئی حل نکل آئے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MohammadKaif/status/2080213099450433934?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور مبصر سنجے منجریکر نے بھی نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں کیونکہ یہی نوجوان مستقبل میں بھارت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sanjaymanjrekar/status/2080409537576591630?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وہیں ایک اور سابق بھارتی سریش رائنا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر کہا کہ ہر چیلنج بہتر حل تلاش کرنے کا ایک موقع ہوتا ہے۔ امید ہے کہ موجودہ صورتحال پرسکون اور تعمیری مذاکرات کی طرف لے جائے گی، جہاں سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جائیں گے جو طلبہ، تعلیمی اداروں اور پورے ملک کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے اور ایک مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ImRaina/status/2080348081795604580'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ImRaina/status/2080348081795604580"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ احتجاج ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نامی ایک تحریک کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جس کا آغاز مئی میں سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے میڈیکل امتحانات کے پرچوں کے بار بار لیک ہونے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔</p>
<p>اگرچہ احتجاج گزشتہ ماہ سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایک معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے بعد اس میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، تاہم اب 26 روز بعد حکومتی یقین دہانیوں کے بعد وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کردی ہے لیکن سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کی جانب سے یہ احتجاج مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔</p>
<p>پرچے لیک ہونے اور تعلیمی نظام کی خرابیوں کے معاملے پر جاری احتجاج حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر گیا ہے اور اسے شوبز شخصیات ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات اور اب معروف کرکٹرز کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30510040</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 12:26:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/24115022a74e12a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/24115022a74e12a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چونٹیوں سے میٹھی ڈش بنانے پر معروف ترین شیف گرفتار، کتنے سال قید کی سزا مل سکتی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509878/breaking-news-south-korea-seoul-arrested-restaurant-food-safety-michelin-star-ant-dessert</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا میں دو مشیلین اسٹار رکھنے والے ایک معروف ریستوران کے مالک کو چیونٹیوں سے سجی مٹھائی پیش کرنا مہنگا پڑ گیا۔ سرکاری استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ریستوران کے مالک کو ایک سال قید کی سزا دی جائے، جبکہ ریستوران چلانے والی کمپنی پر 2 کروڑ جنوبی کوریائی وون جرمانہ بھی عائد کیا جائے، یہ رقم ڈالرز میں 13 ہزار 500 اور پاکستانی روپوں میں تقریباً 37 لاکھ 80 ہزار بنتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب جنوبی کوریا کی وزارت خوراک و ادویات کی حفاظت کے حکام نے انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور تبصرے دیکھے، جن میں مٹھائیوں اور دیگر کھانوں پر خشک چیونٹیاں چھڑکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان پوسٹس کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے قوانین کے مطابق اس وقت صرف 10 اقسام کے حشرات کو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ان میں ٹڈے، لوکسٹ، دو دھبوں والے کرکٹ اور چند دیگر اقسام شامل ہیں، تاہم چیونٹیاں اس فہرست میں شامل نہیں ہیں، اس لیے انہیں خوراک میں استعمال کرنا قانونی طور پر منظور شدہ نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508591/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508591"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;استغاثہ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ریستوران نے امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں چار سال کے دوران مختلف ڈشز میں استعمال کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان چیونٹیوں کو خاص طور پر سوربے نامی ٹھنڈی مٹھائی پر بطور ٹاپنگ پیش کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی اخبار دی چوسن ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق صحت کے حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ استعمال کی جانے والی چیونٹیوں میں عام طور پر خوراک کے لیے منظور شدہ حشرات کے مقابلے میں 55 گنا تک زیادہ بھاری دھاتیں موجود تھیں، جس کی وجہ سے ان کے استعمال پر مزید سوالات اٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں ریستوران کے مالک نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چیونٹیاں استعمال کی گئی تھیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف 15 کورسز پر مشتمل مینو کے ایک بہت چھوٹے حصے میں شامل تھیں۔ ان کے مطابق چیونٹیاں صرف سوربے نامی مٹھائی پر بطور ٹاپنگ پیش کی جاتی تھیں اور ہر گاہک کو پہلے سے بتایا جاتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو چیونٹیوں کے بجائے خمیر شدہ سرکے یا کھانے کے قابل پھولوں کی ٹاپنگ بھی منتخب کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریستوران کے مالک نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ صرف تقریباً 60 فیصد گاہکوں نے چیونٹیوں والی ٹاپنگ کا انتخاب کیا، جبکہ باقی گاہکوں نے متبادل ٹاپنگ استعمال کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا، ڈنمارک اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے ریستورانوں میں بھی چیونٹیاں مختلف کھانوں میں بطور جزو استعمال کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات میں نہ تو ریستوران کا نام ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے مالک کی شناخت سامنے لائی گئی ہے۔ جنوبی کوریا میں اس وقت صرف 10 ریستوران ایسے ہیں جنہیں دو مشیلین اسٹار حاصل ہیں اور یہ تمام دارالحکومت سیول میں واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشیلین گائیڈ دنیا بھر کے ریستورانوں کو کھانوں کے معیار، ذائقے، پکانے کی مہارت، شیف کی انفرادیت اور مستقل معیار کی بنیاد پر ایک سے تین اسٹار دیتا ہے۔ دو مشیلین اسٹار اس بات کی علامت سمجھے جاتے ہیں کہ ریستوران کا کھانا غیر معمولی معیار کا ہے اور وہاں کھانے کے لیے خاص طور پر راستہ بدل کر جانا بھی قابلِ قدر سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا میں کسی بھی انسیکٹ کو خوراک کے طور پر منظور کرنے سے پہلے کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان میں خوراک کی حفاظت، زہریلے اثرات، غذائی اہمیت، اور یہ بات شامل ہوتی ہے کہ آیا اس حشرے کی افزائش اور پراسیسنگ صاف اور محفوظ طریقے سے کی جا سکتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقدمے میں عدالت کی جانب سے سزا کا حتمی فیصلہ 2 ستمبر کو سنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا میں دو مشیلین اسٹار رکھنے والے ایک معروف ریستوران کے مالک کو چیونٹیوں سے سجی مٹھائی پیش کرنا مہنگا پڑ گیا۔ سرکاری استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ریستوران کے مالک کو ایک سال قید کی سزا دی جائے، جبکہ ریستوران چلانے والی کمپنی پر 2 کروڑ جنوبی کوریائی وون جرمانہ بھی عائد کیا جائے، یہ رقم ڈالرز میں 13 ہزار 500 اور پاکستانی روپوں میں تقریباً 37 لاکھ 80 ہزار بنتی ہے۔</strong></p>
<p>یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب جنوبی کوریا کی وزارت خوراک و ادویات کی حفاظت کے حکام نے انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور تبصرے دیکھے، جن میں مٹھائیوں اور دیگر کھانوں پر خشک چیونٹیاں چھڑکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان پوسٹس کے بعد حکام نے تحقیقات شروع کیں۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے قوانین کے مطابق اس وقت صرف 10 اقسام کے حشرات کو انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ان میں ٹڈے، لوکسٹ، دو دھبوں والے کرکٹ اور چند دیگر اقسام شامل ہیں، تاہم چیونٹیاں اس فہرست میں شامل نہیں ہیں، اس لیے انہیں خوراک میں استعمال کرنا قانونی طور پر منظور شدہ نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508591/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508591"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>استغاثہ کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ریستوران نے امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں چار سال کے دوران مختلف ڈشز میں استعمال کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان چیونٹیوں کو خاص طور پر سوربے نامی ٹھنڈی مٹھائی پر بطور ٹاپنگ پیش کیا جاتا تھا۔</p>
<p>مقامی اخبار دی چوسن ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق صحت کے حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ استعمال کی جانے والی چیونٹیوں میں عام طور پر خوراک کے لیے منظور شدہ حشرات کے مقابلے میں 55 گنا تک زیادہ بھاری دھاتیں موجود تھیں، جس کی وجہ سے ان کے استعمال پر مزید سوالات اٹھے۔</p>
<p>عدالت میں ریستوران کے مالک نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چیونٹیاں استعمال کی گئی تھیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف 15 کورسز پر مشتمل مینو کے ایک بہت چھوٹے حصے میں شامل تھیں۔ ان کے مطابق چیونٹیاں صرف سوربے نامی مٹھائی پر بطور ٹاپنگ پیش کی جاتی تھیں اور ہر گاہک کو پہلے سے بتایا جاتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو چیونٹیوں کے بجائے خمیر شدہ سرکے یا کھانے کے قابل پھولوں کی ٹاپنگ بھی منتخب کر سکتا ہے۔</p>
<p>ریستوران کے مالک نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ صرف تقریباً 60 فیصد گاہکوں نے چیونٹیوں والی ٹاپنگ کا انتخاب کیا، جبکہ باقی گاہکوں نے متبادل ٹاپنگ استعمال کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا، ڈنمارک اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے ریستورانوں میں بھی چیونٹیاں مختلف کھانوں میں بطور جزو استعمال کی جاتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508865/agra-shivling-viralnews-uttarpradesh-social-media-belief-vs-science-india-news-ram-mandir-pooja-paat'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508865"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالتی دستاویزات میں نہ تو ریستوران کا نام ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کے مالک کی شناخت سامنے لائی گئی ہے۔ جنوبی کوریا میں اس وقت صرف 10 ریستوران ایسے ہیں جنہیں دو مشیلین اسٹار حاصل ہیں اور یہ تمام دارالحکومت سیول میں واقع ہیں۔</p>
<p>مشیلین گائیڈ دنیا بھر کے ریستورانوں کو کھانوں کے معیار، ذائقے، پکانے کی مہارت، شیف کی انفرادیت اور مستقل معیار کی بنیاد پر ایک سے تین اسٹار دیتا ہے۔ دو مشیلین اسٹار اس بات کی علامت سمجھے جاتے ہیں کہ ریستوران کا کھانا غیر معمولی معیار کا ہے اور وہاں کھانے کے لیے خاص طور پر راستہ بدل کر جانا بھی قابلِ قدر سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>جنوبی کوریا میں کسی بھی انسیکٹ کو خوراک کے طور پر منظور کرنے سے پہلے کئی پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان میں خوراک کی حفاظت، زہریلے اثرات، غذائی اہمیت، اور یہ بات شامل ہوتی ہے کہ آیا اس حشرے کی افزائش اور پراسیسنگ صاف اور محفوظ طریقے سے کی جا سکتی ہے یا نہیں۔</p>
<p>اس مقدمے میں عدالت کی جانب سے سزا کا حتمی فیصلہ 2 ستمبر کو سنایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509878</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:07:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/230920406c3a3b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/230920406c3a3b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
