<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Trending</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 07:13:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 07:13:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلیا میں بڑی کارروائی، غیر قانونی طور پر رکھے گئے ایک لاکھ سے زائد کاکروچز برآمد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506135/australia-cockroach-biosecurity-illegal-wildlife-trade-insect-seizure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا میں محکمہ تحفظِ ماحول کے حکام نے ایک منفرد اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے ایک لاکھ سے زیادہ زندہ کاکروچ برآمد کر لیے ہیں۔ یہ تمام کاکروچ ملک میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے تھے اور انہیں تجارتی پیمانے پر پالا جا رہا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق، آسٹریلیا کی تاریخ میں غیر ملکی بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کو اتنی بڑی تعداد میں ضبط کرنے کا یہ پہلا اور سب سے بڑا واقعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق یہ واقعہ نیو ساؤتھ ویلز ریاست کے شہر باتھرسٹ میں پیش آیا، جہاں ایک کاروباری بریڈر کے پاس سے مڈگاسکر ہِسنگ اور ڈوبیا نسل کے کاکروچ پکڑے گئے۔ ان کی مجموعی مالیت تقریباً دو لاکھ آسٹریلوی ڈالر بتائی گئی ہے، یہ رقم پاکستانی روپوں میں 3 کروڑ 95 لاکھ  روپے سے زیادہ بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق مڈگاسکر ہِسنگ کاکروچ دنیا کے بڑے کاکروچوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی لمبائی تقریباً پانچ سے آٹھ سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں یہ حشرات عام کاکروچ کے مقابلے میں کافی بڑے اور چمکدار بھورے رنگ کے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا میں پائے جانے والے عام کاکروچ اس کے مقابلے میں کافی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ملک میں کاکروچ کی سینکڑوں اقسام موجود ہیں کیونکہ یہاں کی آب و ہوا ان کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی نسل کے یہ کاکروچ ممکنہ طور پر پالتو جانوروں، خاص طور پر چھپکلیوں اور دیگر رینگنے والے جانوروں کی خوراک کے طور پر فروخت کیے جا رہے تھے، کیونکہ ان کا سائز بڑا ہونے کی وجہ سے کم تعداد میں بھی خوراک پوری ہو جاتی ہے۔ تاہم حکام نے پالتو جانور رکھنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس کے بجائے محفوظ اقسام جیسے کرکٹ یا مقامی لکڑی والے کاکروچ استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں غیر ملکی نسلوں کو آسٹریلیا میں درآمد کرنا، پالنا یا فروخت کرنا قانوناً ممنوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حشرات ماحولیاتی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں، بیماری پھیلا سکتے ہیں اور مقامی جنگلی حیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا میں سخت بایو سکیورٹی قوانین موجود ہیں تاکہ زراعت اور قدرتی ماحول کو نقصان دہ کیڑوں اور جانداروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ایسے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمے کے ترجمان کے مطابق فی الحال اس کارروائی میں ملوث شخص پر کوئی باقاعدہ مقدمہ یا چارجز نہیں لگائے گئے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کیڑے رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ برآمد کیے گئے تمام کاکروچوں کو مروجہ طریقہ کار کے تحت تلف کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا میں محکمہ تحفظِ ماحول کے حکام نے ایک منفرد اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کے پاس سے ایک لاکھ سے زیادہ زندہ کاکروچ برآمد کر لیے ہیں۔ یہ تمام کاکروچ ملک میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے تھے اور انہیں تجارتی پیمانے پر پالا جا رہا تھا۔</strong></p>
<p>حکام کے مطابق، آسٹریلیا کی تاریخ میں غیر ملکی بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کو اتنی بڑی تعداد میں ضبط کرنے کا یہ پہلا اور سب سے بڑا واقعہ ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق یہ واقعہ نیو ساؤتھ ویلز ریاست کے شہر باتھرسٹ میں پیش آیا، جہاں ایک کاروباری بریڈر کے پاس سے مڈگاسکر ہِسنگ اور ڈوبیا نسل کے کاکروچ پکڑے گئے۔ ان کی مجموعی مالیت تقریباً دو لاکھ آسٹریلوی ڈالر بتائی گئی ہے، یہ رقم پاکستانی روپوں میں 3 کروڑ 95 لاکھ  روپے سے زیادہ بنتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق مڈگاسکر ہِسنگ کاکروچ دنیا کے بڑے کاکروچوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کی لمبائی تقریباً پانچ سے آٹھ سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں یہ حشرات عام کاکروچ کے مقابلے میں کافی بڑے اور چمکدار بھورے رنگ کے دکھائی دیے۔</p>
<p>آسٹریلیا میں پائے جانے والے عام کاکروچ اس کے مقابلے میں کافی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ملک میں کاکروچ کی سینکڑوں اقسام موجود ہیں کیونکہ یہاں کی آب و ہوا ان کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>مقامی حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی نسل کے یہ کاکروچ ممکنہ طور پر پالتو جانوروں، خاص طور پر چھپکلیوں اور دیگر رینگنے والے جانوروں کی خوراک کے طور پر فروخت کیے جا رہے تھے، کیونکہ ان کا سائز بڑا ہونے کی وجہ سے کم تعداد میں بھی خوراک پوری ہو جاتی ہے۔ تاہم حکام نے پالتو جانور رکھنے والوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس کے بجائے محفوظ اقسام جیسے کرکٹ یا مقامی لکڑی والے کاکروچ استعمال کریں۔</p>
<p>حکام نے واضح کیا ہے کہ ان دونوں غیر ملکی نسلوں کو آسٹریلیا میں درآمد کرنا، پالنا یا فروخت کرنا قانوناً ممنوع ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حشرات ماحولیاتی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں، بیماری پھیلا سکتے ہیں اور مقامی جنگلی حیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>آسٹریلیا میں سخت بایو سکیورٹی قوانین موجود ہیں تاکہ زراعت اور قدرتی ماحول کو نقصان دہ کیڑوں اور جانداروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ایسے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>محکمے کے ترجمان کے مطابق فی الحال اس کارروائی میں ملوث شخص پر کوئی باقاعدہ مقدمہ یا چارجز نہیں لگائے گئے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی کیڑے رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ برآمد کیے گئے تمام کاکروچوں کو مروجہ طریقہ کار کے تحت تلف کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506135</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 13:37:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/051330329923d29.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/051330329923d29.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی پی ایس کو فالو کرتے ہوئے خاتون نےگاڑی ریلوے ٹریک پر چڑھا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506126/gps-seattle-lightrail-viralnews-transportationsafety-washington-dc-usa-america-female-driver-car-on-railway-track</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن میں ایک 70 سالہ خاتون جی پی ایس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی گاڑی لائٹ ریل کے ٹریک پر لے گئیں، جس کے نتیجے میں ٹرین سروس تقریباً دو گھنٹے تک معطل رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حیران کن واقعہ سیئٹل کے ماؤنٹ بیکر اسٹیشن پر منگل کی شام 6 بجکر 20 منٹ پر پیش آیا، جہاں مسافر اس وقت دنگ رہ گئے جب ایک سرخ مزدا CX-5 گاڑی آہستہ آہستہ ٹرین پلیٹ فارم تک پہنچ گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں گاڑی کو ریل کی پٹری پر چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کے مطابق وہ جی پی ایس کو فالو کرتی ہوئی گاڑی ڈرائیو کر رہی تھیں اور پھر سڑک کے بجائے ٹرین کی پٹری آگئی اور وہ ڈرائیو کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئیں۔ وہ تقریباً ایک چوتھائی میل تک پٹری پر گاڑی چلاتی رہیں اور بالآخر بلند ریلوے اسٹیشن تک جا پہنچیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد حکام نے فوری طور پر ٹرین سروس روک دی، بجلی منقطع کی گئی اور خصوصی کرین کے ذریعے گاڑی کو ٹریک سے ہٹایا گیا۔ سروس تقریباً دو گھنٹے بعد بحال کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیئٹل پولیس کے ترجمان سارجنٹ پیٹرک مائیکوڈ نے بتایا کہ خاتون نشے یا کسی ظاہری اثر کے زیرِ اثر نہیں لگ رہی تھیں، تاہم وہ سوالات کے جواب دینے میں غیر معمولی تاخیر کر رہی تھیں۔ طبی معائنے کے بعد انہیں ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرانزٹ حکام تاحال یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گاڑی ٹریک پر کیسے داخل ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق امکان ہے کہ گاڑی اس مقام سے ٹریک پر چڑھی جہاں ریل لائن اور سڑک ایک ہی سطح پر واقع ہیں۔ وہاں سے آگے ٹریک بلند ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اسٹیشن تقریباً 35 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جس کی وجہ سے گاڑی کو شدید جھٹکوں اور رگڑ کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساؤنڈ ٹرانزٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ ریکارڈ کے مطابق 2009 سے 2025 کے دوران ٹرانزٹ نظام سے متعلق متعدد حادثات پیش آئے، تاہم کسی گاڑی کے اس طرح براہِ راست ریلوے ٹریک پر چڑھ جانے کا واقعہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔ بعض افراد نے اسے ویڈیو گیم کے منظر سے تشبیہ دی، جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ جدید نیویگیشن ٹیکنالوجی مفید ضرور ہے، لیکن ڈرائیونگ کے دوران انسانی مشاہدہ اور بنیادی سمجھ بوجھ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اور یہ کہ جی پی ایس اپنی جگہ، لیکن کبھی کبھی اپنی آنکھوں پر بھی بھروسا کر لینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن میں ایک 70 سالہ خاتون جی پی ایس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی گاڑی لائٹ ریل کے ٹریک پر لے گئیں، جس کے نتیجے میں ٹرین سروس تقریباً دو گھنٹے تک معطل رہی۔</strong></p>
<p>یہ حیران کن واقعہ سیئٹل کے ماؤنٹ بیکر اسٹیشن پر منگل کی شام 6 بجکر 20 منٹ پر پیش آیا، جہاں مسافر اس وقت دنگ رہ گئے جب ایک سرخ مزدا CX-5 گاڑی آہستہ آہستہ ٹرین پلیٹ فارم تک پہنچ گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں گاڑی کو ریل کی پٹری پر چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>خاتون کے مطابق وہ جی پی ایس کو فالو کرتی ہوئی گاڑی ڈرائیو کر رہی تھیں اور پھر سڑک کے بجائے ٹرین کی پٹری آگئی اور وہ ڈرائیو کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئیں۔ وہ تقریباً ایک چوتھائی میل تک پٹری پر گاڑی چلاتی رہیں اور بالآخر بلند ریلوے اسٹیشن تک جا پہنچیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DZJ89ShlISS/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>واقعے کے بعد حکام نے فوری طور پر ٹرین سروس روک دی، بجلی منقطع کی گئی اور خصوصی کرین کے ذریعے گاڑی کو ٹریک سے ہٹایا گیا۔ سروس تقریباً دو گھنٹے بعد بحال کی گئی۔</p>
<p>سیئٹل پولیس کے ترجمان سارجنٹ پیٹرک مائیکوڈ نے بتایا کہ خاتون نشے یا کسی ظاہری اثر کے زیرِ اثر نہیں لگ رہی تھیں، تاہم وہ سوالات کے جواب دینے میں غیر معمولی تاخیر کر رہی تھیں۔ طبی معائنے کے بعد انہیں ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DZJKAO2BxOn/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>ٹرانزٹ حکام تاحال یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گاڑی ٹریک پر کیسے داخل ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق امکان ہے کہ گاڑی اس مقام سے ٹریک پر چڑھی جہاں ریل لائن اور سڑک ایک ہی سطح پر واقع ہیں۔ وہاں سے آگے ٹریک بلند ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اسٹیشن تقریباً 35 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جس کی وجہ سے گاڑی کو شدید جھٹکوں اور رگڑ کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>ساؤنڈ ٹرانزٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ ریکارڈ کے مطابق 2009 سے 2025 کے دوران ٹرانزٹ نظام سے متعلق متعدد حادثات پیش آئے، تاہم کسی گاڑی کے اس طرح براہِ راست ریلوے ٹریک پر چڑھ جانے کا واقعہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>دوسری جانب واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔ بعض افراد نے اسے ویڈیو گیم کے منظر سے تشبیہ دی، جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ جدید نیویگیشن ٹیکنالوجی مفید ضرور ہے، لیکن ڈرائیونگ کے دوران انسانی مشاہدہ اور بنیادی سمجھ بوجھ بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اور یہ کہ جی پی ایس اپنی جگہ، لیکن کبھی کبھی اپنی آنکھوں پر بھی بھروسا کر لینا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506126</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 10:43:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/051036129af6045.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/051036129af6045.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/05105311de752b0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/05105311de752b0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں جیت کس کی؟ شارک نے پیش گوئی کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریو ڈی جنیرو کے معروف ایکویریم ”ایکوا ریو“ میں فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ایک منفرد اور دلچسپ تقریب منعقد کی گئی، جہاں ریٹینیہ نامی مادہ شارک نے برازیل اور مراکش کے درمیان ہونے والے افتتاحی میچ کے ممکنہ فاتح کے بارے میں علامتی پیش گوئی کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران ایکویریم کے غوطہ خور پانی کے اندر دو کین لے کر آئے جن پر برازیل اور مراکش کے نام درج تھے۔ حاضرین کی موجودگی میں ریٹینیا نے برازیل کے نام والا کین منتخب کیا، جسے برازیل کی جیت کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ اس موقع پر شائقین نے دلچسپی کا اظہار کیا اور تقریب کو خوب سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرگرمی کھیلوں کے بڑے مقابلوں سے قبل جانوروں کے ذریعے نتائج کی علامتی پیش گوئی کرنے کی روایت کا حصہ ہے، جس کا مقصد شائقین کو تفریح فراہم کرنا اور ٹورنامنٹ کے حوالے سے جوش و خروش میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکوا ریو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارسیلو سپیلمین نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد شارک مچھلیوں کے بارے میں عوام میں موجود منفی تصورات کو تبدیل کرنا ہے۔ ان کے مطابق شارک اکثر خوف اور خطرے کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہیں، حالانکہ ان کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں لوگوں کو ان جانوروں کے بارے میں بہتر انداز میں جاننے اور سمندری حیات کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ کی رونقوں کے درمیان تقریب کا ایک اور نمایاں پہلو برازیل کے عظیم فٹ بالر پیلے کے مومی مجسمے کی رونمائی تھی۔ یہ مجسمہ ریو ڈی جنیرو کے ڈریم لینڈ ویکس میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اسے لندن کے ماہر فنکاروں نے دو سال سے زائد عرصے کی محنت کے بعد تیار کیا ہے۔ مجسمے کو ورلڈ کپ کے لیے قائم کی گئی خصوصی گیلری کا حصہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ”بریزیل 70: دی ساگا آف دی تھرڈ ٹائٹل“ نامی منی سیریز میں پیلے کا کردار ادا کرنے والے اداکار لوکاس اگری کولا بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجسمے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیلے کی شخصیت اور انداز کی بہترین عکاسی کرتا ہے اور اسے تیار کرنے والی ٹیم تعریف کی مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل اس ورلڈ کپ میں اپنی سرزمین پر کھیلتے ہوئے ریکارڈ چھٹی عالمی ٹرافی حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے۔ افتتاحی میچ سے قبل منعقد ہونے والی اس تقریب نے نہ صرف شائقین کی دلچسپی میں اضافہ کیا بلکہ ورلڈ کپ کے جشن کو بھی مزید رنگا رنگ بنا دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریو ڈی جنیرو کے معروف ایکویریم ”ایکوا ریو“ میں فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ایک منفرد اور دلچسپ تقریب منعقد کی گئی، جہاں ریٹینیہ نامی مادہ شارک نے برازیل اور مراکش کے درمیان ہونے والے افتتاحی میچ کے ممکنہ فاتح کے بارے میں علامتی پیش گوئی کی۔</strong></p>
<p>تقریب کے دوران ایکویریم کے غوطہ خور پانی کے اندر دو کین لے کر آئے جن پر برازیل اور مراکش کے نام درج تھے۔ حاضرین کی موجودگی میں ریٹینیا نے برازیل کے نام والا کین منتخب کیا، جسے برازیل کی جیت کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ اس موقع پر شائقین نے دلچسپی کا اظہار کیا اور تقریب کو خوب سراہا۔</p>
<p>یہ سرگرمی کھیلوں کے بڑے مقابلوں سے قبل جانوروں کے ذریعے نتائج کی علامتی پیش گوئی کرنے کی روایت کا حصہ ہے، جس کا مقصد شائقین کو تفریح فراہم کرنا اور ٹورنامنٹ کے حوالے سے جوش و خروش میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>ایکوا ریو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارسیلو سپیلمین نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد شارک مچھلیوں کے بارے میں عوام میں موجود منفی تصورات کو تبدیل کرنا ہے۔ ان کے مطابق شارک اکثر خوف اور خطرے کی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہیں، حالانکہ ان کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں لوگوں کو ان جانوروں کے بارے میں بہتر انداز میں جاننے اور سمندری حیات کے تحفظ کی اہمیت کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>ورلڈ کپ کی رونقوں کے درمیان تقریب کا ایک اور نمایاں پہلو برازیل کے عظیم فٹ بالر پیلے کے مومی مجسمے کی رونمائی تھی۔ یہ مجسمہ ریو ڈی جنیرو کے ڈریم لینڈ ویکس میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے اور اسے لندن کے ماہر فنکاروں نے دو سال سے زائد عرصے کی محنت کے بعد تیار کیا ہے۔ مجسمے کو ورلڈ کپ کے لیے قائم کی گئی خصوصی گیلری کا حصہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر ”بریزیل 70: دی ساگا آف دی تھرڈ ٹائٹل“ نامی منی سیریز میں پیلے کا کردار ادا کرنے والے اداکار لوکاس اگری کولا بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجسمے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیلے کی شخصیت اور انداز کی بہترین عکاسی کرتا ہے اور اسے تیار کرنے والی ٹیم تعریف کی مستحق ہے۔</p>
<p>برازیل اس ورلڈ کپ میں اپنی سرزمین پر کھیلتے ہوئے ریکارڈ چھٹی عالمی ٹرافی حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے۔ افتتاحی میچ سے قبل منعقد ہونے والی اس تقریب نے نہ صرف شائقین کی دلچسپی میں اضافہ کیا بلکہ ورلڈ کپ کے جشن کو بھی مزید رنگا رنگ بنا دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506096</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 15:24:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/041523099588162.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/041523099588162.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی لاش میں زندگی کے آثار، سائنسدان حیران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506084/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔ یہ انکشاف &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://link.springer.com/article/10.1186/s40168-026-02417-6"&gt;سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“&lt;/a&gt; میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے۔ تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30369585'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30369585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیوں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30402028'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30402028"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں۔ یہ انکشاف <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://link.springer.com/article/10.1186/s40168-026-02417-6">سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“</a> میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔</p>
<p>اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے۔ تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30369585'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30369585"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔</p>
<p>ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیوں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30402028'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30402028"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506084</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:22:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/04100014885ba86.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/04100014885ba86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'تھری ایڈیٹس' کے اصل 'پھُنسکھ وانگڑو' کا کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شمولیت کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن اور ماحولیاتی تحفظ کے علمبردار سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان پانچ جون تک مستعفی نہ ہوئے تو وہ چھ جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر جوابدہی ناگزیر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی اصلاحات کے لیے معروف شخصیت اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ وہ چھ جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے، بشرطیکہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان 5 جون تک اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج نوجوانوں کی قیادت میں قائم ایک سوشل میڈیا تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کی جانب سے طلب کیا گیا ہے، جو تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونم وانگچک نے کہا کہ ان کی حمایت صرف حالیہ امتحانی تنازعات تک محدود نہیں بلکہ وہ تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کے مجموعی طریقہ کار پر بھی سوالات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک میں شامل نوجوان نیٹ (NEET)، سی یو ای ٹی (CUET) اور سی بی ایس ای (CBSE) امتحانات سے متعلق مسائل اجاگر کر رہے ہیں، جو نظام میں موجود گہرے نقائص کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت کی نیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، ”میں حکومت کو نیت کے معاملے میں دس میں سے دس نمبر دوں گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ زمینی سطح پر عمل درآمد کتنا ہوتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وانگچک نے کہا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک بھارت کے دیہی اور دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی حالت ہی ملک کے مستقبل کا تعین کرے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505630/cockroach-emerges-to-launch-his-new-political-party-in-india'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کا تصور مثبت ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب ان منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کی حمایت کے اعلان سے قبل وانگچک نے سی جے پی کے بانی ابھجیت ڈپکے سے تفصیلی گفتگو بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ یقین دہانی چاہتے تھے کہ یہ تحریک بھارتی نوجوانوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے اور اس میں کسی بیرونی قوت کا اثر و رسوخ شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق وضاحت ملنے کے بعد وہ تحریک کے مقاصد سے مطمئن ہوئے اور احتجاج کی حمایت کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھجیت ڈپکے نے وانگچک کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تحریک کو مزید تقویت ملے گی اور 6 جون کا احتجاج طے شدہ منصوبے کے مطابق جنتر منتر پر منعقد ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505985/india-resignation-abhijeetdipke-dharmendrapradhan-neet2026-delhiprotest-educationminister-studentprotest'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505985"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;توقع کی جا رہی ہے کہ اس احتجاج میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، تعلیمی پالیسیوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے متعلق معاملات کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سونم-وانگچک-کون-ہیں" href="#سونم-وانگچک-کون-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سونم وانگچک کون ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;59 سالہ سونم وانگچک بھارتی علاقے لداخ کے معروف انجینئر، ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔ انہیں بالی ووڈ فلم’’ 3 ایڈیٹ‘‘ میں عامر خان کے کردار ”پھُنسکھ وانگڑو“ کے حقیقی محرک کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 1988 میں لداخ میں تعلیمی اصلاحات کے لیے (اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنت آف لداخ) نامی تنظیم قائم کی اور بعد ازاں ”آئس اسٹوپا“ منصوبے سمیت متعدد ماحول دوست اور تعلیمی منصوبوں کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔ انہیں ایشیا کے ممتاز اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن اور ماحولیاتی تحفظ کے علمبردار سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ اگر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان پانچ جون تک مستعفی نہ ہوئے تو وہ چھ جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر جوابدہی ناگزیر ہے۔</strong></p>
<p>تعلیمی اصلاحات کے لیے معروف شخصیت اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ وہ چھ جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے، بشرطیکہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان 5 جون تک اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیں۔</p>
<p>یہ احتجاج نوجوانوں کی قیادت میں قائم ایک سوشل میڈیا تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کی جانب سے طلب کیا گیا ہے، جو تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔</p>
<p>سونم وانگچک نے کہا کہ ان کی حمایت صرف حالیہ امتحانی تنازعات تک محدود نہیں بلکہ وہ تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کے مجموعی طریقہ کار پر بھی سوالات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک میں شامل نوجوان نیٹ (NEET)، سی یو ای ٹی (CUET) اور سی بی ایس ای (CBSE) امتحانات سے متعلق مسائل اجاگر کر رہے ہیں، جو نظام میں موجود گہرے نقائص کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے حکومت کی نیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، ”میں حکومت کو نیت کے معاملے میں دس میں سے دس نمبر دوں گا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ زمینی سطح پر عمل درآمد کتنا ہوتا ہے۔“</p>
<p>وانگچک نے کہا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک بھارت کے دیہی اور دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی حالت ہی ملک کے مستقبل کا تعین کرے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505630/cockroach-emerges-to-launch-his-new-political-party-in-india'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کا تصور مثبت ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب ان منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کیا جائے۔</p>
<p>احتجاج کی حمایت کے اعلان سے قبل وانگچک نے سی جے پی کے بانی ابھجیت ڈپکے سے تفصیلی گفتگو بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ یقین دہانی چاہتے تھے کہ یہ تحریک بھارتی نوجوانوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے اور اس میں کسی بیرونی قوت کا اثر و رسوخ شامل نہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق وضاحت ملنے کے بعد وہ تحریک کے مقاصد سے مطمئن ہوئے اور احتجاج کی حمایت کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھجیت ڈپکے نے وانگچک کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تحریک کو مزید تقویت ملے گی اور 6 جون کا احتجاج طے شدہ منصوبے کے مطابق جنتر منتر پر منعقد ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505985/india-resignation-abhijeetdipke-dharmendrapradhan-neet2026-delhiprotest-educationminister-studentprotest'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505985"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>توقع کی جا رہی ہے کہ اس احتجاج میں امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، تعلیمی پالیسیوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے متعلق معاملات کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔</p>
<h2><a id="سونم-وانگچک-کون-ہیں" href="#سونم-وانگچک-کون-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سونم وانگچک کون ہیں؟</strong></h2>
<p>59 سالہ سونم وانگچک بھارتی علاقے لداخ کے معروف انجینئر، ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن ہیں۔ انہیں بالی ووڈ فلم’’ 3 ایڈیٹ‘‘ میں عامر خان کے کردار ”پھُنسکھ وانگڑو“ کے حقیقی محرک کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے 1988 میں لداخ میں تعلیمی اصلاحات کے لیے (اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنت آف لداخ) نامی تنظیم قائم کی اور بعد ازاں ”آئس اسٹوپا“ منصوبے سمیت متعدد ماحول دوست اور تعلیمی منصوبوں کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی۔ انہیں ایشیا کے ممتاز اعزاز ریمن میگسیسے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506068</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:46:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/031434261649e43.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/031434261649e43.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کی 100 سالہ تاریخ میں پہلے جنگلی گدھے کی پیدائش</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506058/first-wild-donkey-born-in-saudi-arabia-over-100-years</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ نایاب نسل سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی پیدائش کا اعلان ایک سال بعد کیا گیا، کیونکہ جنگلی گدھوں کے لیے زندگی کا پہلا سال انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://saudigazette.com.sa/article/661781/saudi-arabia/saudi-arabia-marks-first-birth-of-onager-one-of-worlds-rarest-animals-in-over-100-years"&gt;سعودی گزٹ&lt;/a&gt; کے شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو میں 100 سال سے زائد عرصے بعد مملکت کی سرزمین پر ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے پہلے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریزرو انتظامیہ کے مطابق نر بچے کی پیدائش جون 2025 میں ہوئی تھی، تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی 12 ماہ کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگلی گدھوں کے بچوں کے لیے پہلا سال سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے اور ان کی بقا کی شرح 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کامیابی جزیرہ نما عرب کی جنگلی حیات کی بحالی کے پروگرام کے تحت حاصل ہوئی، جس کا مقصد 23 مقامی انواع کو ان کے تاریخی قدرتی مساکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسے جانوروں کی واپسی ممکن بنائی جا رہی ہے جو کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عرب کے صحراؤں سے غائب تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریزرو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو زالومیس کے مطابق یہ تاریخی پیش رفت اپریل 2024 میں اردن کے رائل سوسائٹی فار دی کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ اس پروگرام کے تحت پانچ مادہ اور دو نر ایشیائی جنگلی گدھوں کو اردن کے شومری وائلڈ لائف ریزرو سے 935 کلومیٹر کا سفر طے کرا کے سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتقلی کے بعد ایک مادہ بچے کی پیدائش ہوئی، تاہم بعد میں دو پیدائشیں کامیاب نہ ہو سکیں، جس سے اس نایاب نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے عمل میں درپیش چیلنجز کا اندازہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 11 ماہ کے حمل کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیدائش کے 15 سے 20 منٹ کے اندر کھڑا ہو سکے اور دودھ پینا شروع کر دے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505495/clean-energy-climate-tech-cooling-paint-water-harvesting-sustainable-innovation-urban-heat-island-renewable-materials'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس وقت ریزرو میں پانچ ماداؤں اور تین نر جانوروں پر مشتمل ایک ریوڑ موجود ہے، جو سعودی عرب میں اس نسل کا واحد گروپ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریزرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رواں موسم سرما میں مزید دو بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جو تحفظ کی جاری کوششوں کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ قدرت کے مطابق دنیا بھر میں جنگلوں میں اس نسل کے 600 سے بھی کم جانور باقی رہ گئے ہیں۔ ادارے نے 2025 میں اس نوع کی حیثیت کو ”شدید خطرے سے دوچار“ قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک اس کی آبادی میں 90 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505885/blue-origin-new-glenn-rocket-explodes-during-ground-test'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505885"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریزرو اس وقت جنگلی گدھوں کے جینیاتی تنوع میں اضافے پر بھی کام کر رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اردن سے ایک نئی مادہ کو لایا جا رہا ہے جو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد ریوڑ کا حصہ بنے گی۔ منصوبے کے تحت افزائش نسل کے لیے دو الگ الگ ریوڑ قائم کیے جائیں گے تاکہ نسل کی طویل مدتی بقا، جینیاتی تنوع اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو کا یہ منصوبہ سعودی عرب کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو بچانے کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ نایاب نسل سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی پیدائش کا اعلان ایک سال بعد کیا گیا، کیونکہ جنگلی گدھوں کے لیے زندگی کا پہلا سال انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>سعودی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://saudigazette.com.sa/article/661781/saudi-arabia/saudi-arabia-marks-first-birth-of-onager-one-of-worlds-rarest-animals-in-over-100-years">سعودی گزٹ</a> کے شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو میں 100 سال سے زائد عرصے بعد مملکت کی سرزمین پر ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے پہلے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p>ریزرو انتظامیہ کے مطابق نر بچے کی پیدائش جون 2025 میں ہوئی تھی، تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی 12 ماہ کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنگلی گدھوں کے بچوں کے لیے پہلا سال سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے اور ان کی بقا کی شرح 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔</p>
<p>یہ کامیابی جزیرہ نما عرب کی جنگلی حیات کی بحالی کے پروگرام کے تحت حاصل ہوئی، جس کا مقصد 23 مقامی انواع کو ان کے تاریخی قدرتی مساکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسے جانوروں کی واپسی ممکن بنائی جا رہی ہے جو کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عرب کے صحراؤں سے غائب تھے۔</p>
<p>ریزرو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو زالومیس کے مطابق یہ تاریخی پیش رفت اپریل 2024 میں اردن کے رائل سوسائٹی فار دی کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ اس پروگرام کے تحت پانچ مادہ اور دو نر ایشیائی جنگلی گدھوں کو اردن کے شومری وائلڈ لائف ریزرو سے 935 کلومیٹر کا سفر طے کرا کے سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p>منتقلی کے بعد ایک مادہ بچے کی پیدائش ہوئی، تاہم بعد میں دو پیدائشیں کامیاب نہ ہو سکیں، جس سے اس نایاب نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے عمل میں درپیش چیلنجز کا اندازہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 11 ماہ کے حمل کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیدائش کے 15 سے 20 منٹ کے اندر کھڑا ہو سکے اور دودھ پینا شروع کر دے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505495/clean-energy-climate-tech-cooling-paint-water-harvesting-sustainable-innovation-urban-heat-island-renewable-materials'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505495"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس وقت ریزرو میں پانچ ماداؤں اور تین نر جانوروں پر مشتمل ایک ریوڑ موجود ہے، جو سعودی عرب میں اس نسل کا واحد گروپ ہے۔</p>
<p>ریزرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رواں موسم سرما میں مزید دو بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جو تحفظ کی جاری کوششوں کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہوگی۔</p>
<p>بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ قدرت کے مطابق دنیا بھر میں جنگلوں میں اس نسل کے 600 سے بھی کم جانور باقی رہ گئے ہیں۔ ادارے نے 2025 میں اس نوع کی حیثیت کو ”شدید خطرے سے دوچار“ قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک اس کی آبادی میں 90 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505885/blue-origin-new-glenn-rocket-explodes-during-ground-test'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505885"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریزرو اس وقت جنگلی گدھوں کے جینیاتی تنوع میں اضافے پر بھی کام کر رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اردن سے ایک نئی مادہ کو لایا جا رہا ہے جو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد ریوڑ کا حصہ بنے گی۔ منصوبے کے تحت افزائش نسل کے لیے دو الگ الگ ریوڑ قائم کیے جائیں گے تاکہ نسل کی طویل مدتی بقا، جینیاتی تنوع اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو کا یہ منصوبہ سعودی عرب کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو بچانے کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506058</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 11:22:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03111428e9af29c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03111428e9af29c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کبوتروں کا جگر گھر کا راستہ ڈھونڈنے میں کیسے مدد کرتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505915/pigeons-animal-behavior-scientific-research-animal-behavior-navigation-magnetic-field-wildlife-science-biology</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کبوتروں کی غیرمعمولی صلاحیت کہ وہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتے ہیں، یہ صلاحیت طویل عرصے سے سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ اب ایک نئی تحقیق نے اس راز کے بارے میں ایک حیران کن انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کے جانور اپنے راستے تلاش کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بعض جانور ستاروں کی مدد لیتے ہیں جبکہ کچھ اہم نشانیوں کو یاد رکھتے ہیں۔ پرندے، مچھلیاں اور کچھوے زمین کے مقناطیسی میدان کو ایک قدرتی کمپاس کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن سائنس دان اب تک پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ عمل دراصل کیسے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبوتر ان پرندوں میں شامل ہیں جو طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک ہی دن میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں۔ ہزاروں سال سے انسان کبوتروں کو خبریں، خطوط اور فوجی پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی سمت شناسی کی صلاحیت ہمیشہ تحقیق کا مرکز رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30247612'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30247612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں بعض ماہرین کا خیال تھا کہ کبوتر اپنی آنکھوں میں موجود روشنی کے حساس مالیکیولز کے ذریعے مقناطیسی اشاروں کو محسوس کرتے ہیں۔ کچھ دیگر سائنس دانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ صلاحیت چونچ یا اندرونی کان میں موجود کسی نظام سے وابستہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر سے وابستہ سائنس دان مارٹن ویکلسکی کے مطابق مقناطیسی حس تقریباً ایک صدی سے سائنس کے لیے ایک پراسرار موضوع بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے کبوتروں کے مختلف اعضا کا جائزہ لیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مقناطیسی اشارے کہاں محسوس کیے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر سب سے مضبوط مقناطیسی اشارہ جگر میں پایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص مدافعتی خلیات پرانے سرخ خون کے خلیات کو توڑتے ہیں اور آئرن کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے تجرباتی طور پر ان مدافعتی خلیات کو عارضی طور پر غیر فعال کیا اور پھر کبوتروں کو اڑایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پرندے اپنا راستہ تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کی یونیورسٹی آف بون سے تعلق رکھنے والے محقق کرسچین کرٹس کا کہنا ہے کہ جب یہ خلیات موجود نہیں تھے تو کبوتر درست سمت کا تعین نہیں کر پا رہے تھے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوا کہ جگر میں موجود آئرن سے بھرپور خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30386742/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386742"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کبوتروں کا مقناطیسی کمپاس زیادہ تر ابر آلود دنوں میں متاثر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبوتر راستہ تلاش کرنے کے لیے سورج کی روشنی کو بھی بطور رہنما استعمال کرتے ہیں۔ صاف موسم میں وہ سورج کی مدد سے اپنی سمت برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن بادلوں کی موجودگی میں مقناطیسی نظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق سائنسی جریدے ”سائنس“ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں پہلی بار ایک مکمل نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ مدافعتی خلیات مقناطیسی حس میں کس طرح شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس نظریے نے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے، لیکن کئی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی آف میساچوسٹس بوسٹن کے ماہر ماحولیات البرٹ کاؤ نے کہا کہ ابتدا میں یہ خیال غیر متوقع لگا، لیکن وضاحت سننے کے بعد یہ معقول محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کے مطابق جگر میں موجود یہ مدافعتی خلیات اعصابی ریشوں کے قریب واقع ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہی اعصابی رابطے مقناطیسی معلومات دماغ تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے کبوتر اپنی سمت کا تعین کر پاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/232051'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/232051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سائنس دانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دیگر پرندے اور بعض جانور، جیسے چوہے، بھی اسی طرح کے نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم بیرونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید تحقیق درکار ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ سگنلز دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں اور آیا واقعی یہی نظام راستہ تلاش کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے مدافعتی خلیات صرف جگر میں ہی نہیں بلکہ چونچ اور تلی جیسے دیگر اعضا میں بھی پائے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مقناطیسی حس کا یہ معمہ شاید کسی ایک جواب تک محدود نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے ایک اداریے میں ماہرین نے لکھا کہ ممکن ہے کبوتر مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے مقناطیسی میدان کو محسوس کرتے ہوں۔ مثال کے طور پر طویل فاصلے کے سفر اور کسی مخصوص مقام کی تلاش کے دوران وہ الگ الگ نظام استعمال کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق قدرت نے شاید ان پرندوں کو گھر واپسی کے ایک سے زیادہ طریقے دیے ہیں، تاکہ مشکل حالات اور کم روشنی میں بھی وہ اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کبوتروں کی غیرمعمولی صلاحیت کہ وہ سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتے ہیں، یہ صلاحیت طویل عرصے سے سائنس دانوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھی۔ اب ایک نئی تحقیق نے اس راز کے بارے میں ایک حیران کن انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا بھر کے جانور اپنے راستے تلاش کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بعض جانور ستاروں کی مدد لیتے ہیں جبکہ کچھ اہم نشانیوں کو یاد رکھتے ہیں۔ پرندے، مچھلیاں اور کچھوے زمین کے مقناطیسی میدان کو ایک قدرتی کمپاس کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن سائنس دان اب تک پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ عمل دراصل کیسے ہوتا ہے۔</p>
<p>کبوتر ان پرندوں میں شامل ہیں جو طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ ایک ہی دن میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں۔ ہزاروں سال سے انسان کبوتروں کو خبریں، خطوط اور فوجی پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی سمت شناسی کی صلاحیت ہمیشہ تحقیق کا مرکز رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30247612'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30247612"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماضی میں بعض ماہرین کا خیال تھا کہ کبوتر اپنی آنکھوں میں موجود روشنی کے حساس مالیکیولز کے ذریعے مقناطیسی اشاروں کو محسوس کرتے ہیں۔ کچھ دیگر سائنس دانوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ صلاحیت چونچ یا اندرونی کان میں موجود کسی نظام سے وابستہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر سے وابستہ سائنس دان مارٹن ویکلسکی کے مطابق مقناطیسی حس تقریباً ایک صدی سے سائنس کے لیے ایک پراسرار موضوع بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے کبوتروں کے مختلف اعضا کا جائزہ لیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ مقناطیسی اشارے کہاں محسوس کیے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر سب سے مضبوط مقناطیسی اشارہ جگر میں پایا گیا۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق کبوتروں کے جگر میں موجود مخصوص مدافعتی خلیات پرانے سرخ خون کے خلیات کو توڑتے ہیں اور آئرن کو ذخیرہ کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے تجرباتی طور پر ان مدافعتی خلیات کو عارضی طور پر غیر فعال کیا اور پھر کبوتروں کو اڑایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پرندے اپنا راستہ تلاش کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔</p>
<p>جرمنی کی یونیورسٹی آف بون سے تعلق رکھنے والے محقق کرسچین کرٹس کا کہنا ہے کہ جب یہ خلیات موجود نہیں تھے تو کبوتر درست سمت کا تعین نہیں کر پا رہے تھے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوا کہ جگر میں موجود آئرن سے بھرپور خلیات ان کی سمت شناسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30386742/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30386742"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کبوتروں کا مقناطیسی کمپاس زیادہ تر ابر آلود دنوں میں متاثر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبوتر راستہ تلاش کرنے کے لیے سورج کی روشنی کو بھی بطور رہنما استعمال کرتے ہیں۔ صاف موسم میں وہ سورج کی مدد سے اپنی سمت برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن بادلوں کی موجودگی میں مقناطیسی نظام کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>یہ تحقیق سائنسی جریدے ”سائنس“ میں شائع ہوئی ہے اور اس میں پہلی بار ایک مکمل نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ مدافعتی خلیات مقناطیسی حس میں کس طرح شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس نظریے نے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے، لیکن کئی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی مزید تصدیق کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی آف میساچوسٹس بوسٹن کے ماہر ماحولیات البرٹ کاؤ نے کہا کہ ابتدا میں یہ خیال غیر متوقع لگا، لیکن وضاحت سننے کے بعد یہ معقول محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>محققین کے مطابق جگر میں موجود یہ مدافعتی خلیات اعصابی ریشوں کے قریب واقع ہوتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہی اعصابی رابطے مقناطیسی معلومات دماغ تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں، جس سے کبوتر اپنی سمت کا تعین کر پاتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/232051'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/232051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سائنس دانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ دیگر پرندے اور بعض جانور، جیسے چوہے، بھی اسی طرح کے نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم بیرونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید تحقیق درکار ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ سگنلز دماغ تک کیسے پہنچتے ہیں اور آیا واقعی یہی نظام راستہ تلاش کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے مدافعتی خلیات صرف جگر میں ہی نہیں بلکہ چونچ اور تلی جیسے دیگر اعضا میں بھی پائے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مقناطیسی حس کا یہ معمہ شاید کسی ایک جواب تک محدود نہ ہو۔</p>
<p>تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے ایک اداریے میں ماہرین نے لکھا کہ ممکن ہے کبوتر مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے مقناطیسی میدان کو محسوس کرتے ہوں۔ مثال کے طور پر طویل فاصلے کے سفر اور کسی مخصوص مقام کی تلاش کے دوران وہ الگ الگ نظام استعمال کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق قدرت نے شاید ان پرندوں کو گھر واپسی کے ایک سے زیادہ طریقے دیے ہیں، تاکہ مشکل حالات اور کم روشنی میں بھی وہ اپنا راستہ تلاش کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505915</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 12:18:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/301208350024b47.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/301208350024b47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نفسیاتی مریضوں کا گدھوں سے علاج</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505990/mentalhealth-animaltherapy-psychiatriccare-therapydonkeys-healthcareinnovation</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ’ویلے ایورارڈ‘ نفسیاتی اسپتال میں ذہنی صحت کے مریضوں کے لیے ایک منفرد پروگرام جاری ہے، جہاں گدھوں کی مدد سے علاج کا ایک خاص طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا مقصد مریضوں کی ذہنی اور جذباتی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/france-donkey-therapy-mental-health-hospital-a751b540ba27e82797a2cf5a64baf045"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق&lt;/a&gt; اسپتال کے پرانے فارم ہاؤس نما ماحول اور درختوں سے گھری پرسکون جگہ میں مریض باقاعدگی سے گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ ایک حالیہ سیشن کے دوران مریضوں نے پانچ گدھوں کو سیر کرائی، ان کی دیکھ بھال کی اور ان کے کھروں سے مٹی بھی صاف کی۔ کئی مریضوں نے سرگرمی کے اختتام پر گدھوں کو گلے بھی لگایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410929'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410929"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;60 سالہ ناتھالی، جو اس پروگرام میں شریک ہیں، کا کہنا ہے کہ گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا بعض اوقات آرام پہنچانے والی ادویات سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جانوروں کے ساتھ یہ تعلق ذہنی دباؤ کم کرتا ہے اور انسان کو اپنی پریشانیوں سے وقتی طور پر دور لے جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پروگرام میں مریض مفت شرکت کرتے ہیں اور اس کے اخراجات فرانس کا سرکاری ہیلتھ سسٹم برداشت کرتا ہے۔ ہر مریض کو عموماً ایک مخصوص گدھے کا ساتھ دیا جاتا ہے، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جانوروں کی مدد سے علاج کے شعبے میں کام کرنے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق ناتھالی میں چند ہی نشستوں کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ناتھالی جسمانی مشکلات کے باعث فراہم کی گئی گاڑی سے باہر نہیں نکلتی تھیں، لیکن حوصلہ افزائی اور گدھے کے ساتھ تعلق نے انہیں آہستہ آہستہ اعتماد دیا اور اب وہ خود چل کر اس کے ساتھ وقت گزار سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام نے ان کی تنہائی میں کمی لانے میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کرنے سے روزمرہ زندگی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرگرمی علاج اور ادویات کے معمول سے ہٹ کر ایک مثبت تجربہ فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویل ایورارڈ اسپتال میں گدھوں کی آمد 2016 میں ایک منصوبے کے تحت ہوئی تھی جسے ایرمیلندا اور فرانسوا ہادے نے شروع کیا۔ ایرمیلندا نفسیاتی شعبے سے وابستہ نرس ہیں اور وہ جانوروں کے ذریعے علاج کے فوائد پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کے خیال میں گدھے اپنی پرسکون اور سماجی فطرت کے باعث اس مقصد کے لیے موزوں تھے۔ ان کے شوہر فرانسوا نے گدھوں کو علاجی سرگرمیوں کے لیے تربیت دی۔ کچھ گدھوں کو پناہ گاہوں سے گود لیا گیا تھا جہاں وہ پہلے نظرانداز کیے جانے یا بدسلوکی کا شکار رہے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30421911'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30421911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فرانسوا ہادے کے مطابق گدھے ذہین جانور ہیں جو بات جلد سمجھ لیتے ہیں، تاہم انہیں نرمی اور صبر کے ساتھ سمجھانا پڑتا ہے۔ ان کے بقول گدھے انسانوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں اور مریضوں کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی لیے وہ علاجی عمل میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں اس پروگرام کو اسپتال کے اندر باضابطہ طور پر ایک صحت کے یونٹ کا درجہ دے دیا گیا، جس کے بعد تین کل وقتی نرسوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال میں ایک غیر منافع بخش تنظیم کے رضاکار بھی مدد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ اس منصوبے کو مزید وسعت دی گئی اور اب اس میں مرغیاں، کبوتر، بکریاں، کچھوے اور خرگوش بھی شامل ہیں۔ مریضوں کی ضروریات اور پسند کے مطابق سرگرمیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جبکہ چھوٹے جانوروں کو مریضوں کے کمروں تک بھی لے جایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نرسنگ کی طالبہ ایلیسیا فابی کے مطابق یہ سرگرمیاں مریضوں کو اسپتال کے ماحول سے باہر نکلنے اور ایک مختلف تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض واپسی پر خود کو پرسکون، خوش اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فابی کے مطابق ان سرگرمیوں کے دوران مریضوں اور طبی عملے کے درمیان تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اس دوران صرف بیماری پر بات نہیں کی جاتی بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی ہے، جس سے مریض خود کو زیادہ بہتر انداز میں اظہار کرنے کے قابل محسوس کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپتال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیشن بے چینی، ڈپریشن، آٹزم، شیزوفرینیا اور دیگر ذہنی مسائل کے شکار افراد کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جانوروں کے ساتھ رابطہ جذباتی توازن، سماجی روابط، گفتگو کی صلاحیت اور خود اعتمادی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرمیلندا ہادے کا کہنا ہے کہ جانوروں کے ساتھ کی جانے والی ہر سرگرمی دراصل مریض کے ساتھ کام کرنے کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جانور کو کھانا کھلانے کے عمل سے مریض کی اپنی غذائی عادات پر بات کی جا سکتی ہے، جبکہ جانور کی صفائی کے ذریعے مریض کی ذاتی صفائی سے متعلق رویوں پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30421911'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30421911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ طریقہ ڈاکٹر یا طبی نسخے کا متبادل نہیں ہے، لیکن مریضوں میں اعتماد بحال کرنے اور اپنی اہمیت کا احساس پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس شعبے میں مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جانوروں کے ذریعے علاج کو نفسیاتی نگہداشت کے ایک باقاعدہ معاون طریقے کے طور پر زیادہ مضبوط بنیادوں پر تسلیم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریضوں اور نگہداشت کرنے والے افراد کے تجربات اس کے مثبت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس حوالے سے مزید تحقیقی شواہد جمع کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز ہونے والے ایک سیشن کے اختتام پر جب مریض آپس میں گفتگو کر رہے تھے تو ایک نرس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گدھے ان کے بہترین ساتھی کارکن ہیں۔ یہ جملہ اس پروگرام کی مقبولیت اور اس کے مثبت اثرات کی ایک مختصر مگر دلچسپ عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع ’ویلے ایورارڈ‘ نفسیاتی اسپتال میں ذہنی صحت کے مریضوں کے لیے ایک منفرد پروگرام جاری ہے، جہاں گدھوں کی مدد سے علاج کا ایک خاص طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا مقصد مریضوں کی ذہنی اور جذباتی بحالی میں مدد فراہم کرنا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/france-donkey-therapy-mental-health-hospital-a751b540ba27e82797a2cf5a64baf045">ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق</a> اسپتال کے پرانے فارم ہاؤس نما ماحول اور درختوں سے گھری پرسکون جگہ میں مریض باقاعدگی سے گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ ایک حالیہ سیشن کے دوران مریضوں نے پانچ گدھوں کو سیر کرائی، ان کی دیکھ بھال کی اور ان کے کھروں سے مٹی بھی صاف کی۔ کئی مریضوں نے سرگرمی کے اختتام پر گدھوں کو گلے بھی لگایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30410929'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30410929"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>60 سالہ ناتھالی، جو اس پروگرام میں شریک ہیں، کا کہنا ہے کہ گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا بعض اوقات آرام پہنچانے والی ادویات سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جانوروں کے ساتھ یہ تعلق ذہنی دباؤ کم کرتا ہے اور انسان کو اپنی پریشانیوں سے وقتی طور پر دور لے جاتا ہے۔</p>
<p>اس پروگرام میں مریض مفت شرکت کرتے ہیں اور اس کے اخراجات فرانس کا سرکاری ہیلتھ سسٹم برداشت کرتا ہے۔ ہر مریض کو عموماً ایک مخصوص گدھے کا ساتھ دیا جاتا ہے، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>جانوروں کی مدد سے علاج کے شعبے میں کام کرنے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق ناتھالی میں چند ہی نشستوں کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں ناتھالی جسمانی مشکلات کے باعث فراہم کی گئی گاڑی سے باہر نہیں نکلتی تھیں، لیکن حوصلہ افزائی اور گدھے کے ساتھ تعلق نے انہیں آہستہ آہستہ اعتماد دیا اور اب وہ خود چل کر اس کے ساتھ وقت گزار سکتی ہیں۔</p>
<p>52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس پروگرام نے ان کی تنہائی میں کمی لانے میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کرنے سے روزمرہ زندگی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرگرمی علاج اور ادویات کے معمول سے ہٹ کر ایک مثبت تجربہ فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>ویل ایورارڈ اسپتال میں گدھوں کی آمد 2016 میں ایک منصوبے کے تحت ہوئی تھی جسے ایرمیلندا اور فرانسوا ہادے نے شروع کیا۔ ایرمیلندا نفسیاتی شعبے سے وابستہ نرس ہیں اور وہ جانوروں کے ذریعے علاج کے فوائد پر یقین رکھتی تھیں۔ ان کے خیال میں گدھے اپنی پرسکون اور سماجی فطرت کے باعث اس مقصد کے لیے موزوں تھے۔ ان کے شوہر فرانسوا نے گدھوں کو علاجی سرگرمیوں کے لیے تربیت دی۔ کچھ گدھوں کو پناہ گاہوں سے گود لیا گیا تھا جہاں وہ پہلے نظرانداز کیے جانے یا بدسلوکی کا شکار رہے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30421911'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30421911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فرانسوا ہادے کے مطابق گدھے ذہین جانور ہیں جو بات جلد سمجھ لیتے ہیں، تاہم انہیں نرمی اور صبر کے ساتھ سمجھانا پڑتا ہے۔ ان کے بقول گدھے انسانوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں اور مریضوں کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی لیے وہ علاجی عمل میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>2022 میں اس پروگرام کو اسپتال کے اندر باضابطہ طور پر ایک صحت کے یونٹ کا درجہ دے دیا گیا، جس کے بعد تین کل وقتی نرسوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال میں ایک غیر منافع بخش تنظیم کے رضاکار بھی مدد کرتے ہیں۔</p>
<p>وقت کے ساتھ اس منصوبے کو مزید وسعت دی گئی اور اب اس میں مرغیاں، کبوتر، بکریاں، کچھوے اور خرگوش بھی شامل ہیں۔ مریضوں کی ضروریات اور پسند کے مطابق سرگرمیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، جبکہ چھوٹے جانوروں کو مریضوں کے کمروں تک بھی لے جایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>نرسنگ کی طالبہ ایلیسیا فابی کے مطابق یہ سرگرمیاں مریضوں کو اسپتال کے ماحول سے باہر نکلنے اور ایک مختلف تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض واپسی پر خود کو پرسکون، خوش اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>فابی کے مطابق ان سرگرمیوں کے دوران مریضوں اور طبی عملے کے درمیان تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اس دوران صرف بیماری پر بات نہیں کی جاتی بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی ہے، جس سے مریض خود کو زیادہ بہتر انداز میں اظہار کرنے کے قابل محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p>اسپتال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیشن بے چینی، ڈپریشن، آٹزم، شیزوفرینیا اور دیگر ذہنی مسائل کے شکار افراد کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جانوروں کے ساتھ رابطہ جذباتی توازن، سماجی روابط، گفتگو کی صلاحیت اور خود اعتمادی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<p>ایرمیلندا ہادے کا کہنا ہے کہ جانوروں کے ساتھ کی جانے والی ہر سرگرمی دراصل مریض کے ساتھ کام کرنے کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔ مثال کے طور پر جانور کو کھانا کھلانے کے عمل سے مریض کی اپنی غذائی عادات پر بات کی جا سکتی ہے، جبکہ جانور کی صفائی کے ذریعے مریض کی ذاتی صفائی سے متعلق رویوں پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30421911'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30421911"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق یہ طریقہ ڈاکٹر یا طبی نسخے کا متبادل نہیں ہے، لیکن مریضوں میں اعتماد بحال کرنے اور اپنی اہمیت کا احساس پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس شعبے میں مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ جانوروں کے ذریعے علاج کو نفسیاتی نگہداشت کے ایک باقاعدہ معاون طریقے کے طور پر زیادہ مضبوط بنیادوں پر تسلیم کیا جا سکے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریضوں اور نگہداشت کرنے والے افراد کے تجربات اس کے مثبت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اس حوالے سے مزید تحقیقی شواہد جمع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز ہونے والے ایک سیشن کے اختتام پر جب مریض آپس میں گفتگو کر رہے تھے تو ایک نرس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گدھے ان کے بہترین ساتھی کارکن ہیں۔ یہ جملہ اس پروگرام کی مقبولیت اور اس کے مثبت اثرات کی ایک مختصر مگر دلچسپ عکاسی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505990</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 15:18:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01151330929604c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01151330929604c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/01151427d796873.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/01151427d796873.webp"/>
        <media:title>تصویر: بشکریہ اے پی نیوز</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ہڑپہ کی مہر پر موجود مورت 'شیوا نہیں' امریکی مؤرخ کے دعوے پر بھارت میں نیا تنازع</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505918/mohenjo-daro-indus-valley-civilization-harappan-seal-archaeology-debate-ancient-history</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک انتہائی قدیم مہر اس وقت تاریخ دانوں اور ماہرین کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ مہر پر موجود تصویر شیوا کی نہیں ہے۔ یہ مہر تقریباً تینتالیس سو سال پرانی ہے اور اسے موہنجوداڑو سے دریافت کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/audrey-truschke-harappan-seal-row-mohenjo-daro-pashupati-shiva-debate-indian-history-explained-2919036-2026-05-29"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ہندوستان کی وزارتِ ثقافت نے انٹرنیٹ پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے بھارت کی قدیم اور مسلسل تہذیب کی علامت قرار دیا اور مہر پر موجود شکل کو شیوا پشوپتی یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دعوے کے سامنے آتے ہی امریکا کی ایک معروف خاتون تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے اس پر اعتراض اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصویر شیو کی نہیں ہے بلکہ یہ پرانے زمانے کے ایران کی ایک قدیم تہذیب کے فن اور علامات سے ملتی جلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ تصویر پورے یورپ اور ایشیا کے خطے میں مانے جانے والے کسی ایسے قدیم دیوتا کی ہو سکتی ہے جسے جانوروں کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ ان کے اس بیان نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ برصغیر کی قدیم تاریخ کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30389887'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30389887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان کے بہت سے ادیبوں اور تاریخ دانوں نے آڈری ٹروشکے کے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مقامی تاریخ کو نظر انداز کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر مشہور مصنف امیش تریپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس مہر پر ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بنے ہوئے ہیں جو کہ ہندوستان ہی میں پائے جاتے ہیں، جبکہ ایران کے ان علاقوں میں یہ جانور نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مہر پر موجود شکل یوگا کے انداز میں بیٹھی ہے، تو کیا یوگا بھی ایران سے آیا تھا؟ اسی طرح ایک اور پروفیسر لاونیا ویمسانی نے کہا کہ ایرانی تہذیب کی مہریں اس مہر سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں ایک فیصد بھی مماثلت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف کچھ ایسے تاریخ دان بھی ہیں جو آڈری ٹروشکے کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہر کو شیو سے جوڑنے کا نظریہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اس کے حق میں کوئی پختہ ثبوت نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30358801'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358801"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان ماہرین کے مطابق 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ جان مارشل نے پہلی بار اسے شیو کی ابتدائی شکل کہا تھا، لیکن وہ کوئی باقاعدہ تربیت یافتہ ماہر نہیں تھے اور انہوں نے صرف اندازے سے یہ بات کہی تھی۔ ان تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود شکل کے سر پر جو چیز ہے وہ شیو کا تریشول نہیں بلکہ بھینس کے سینگ ہیں، اور یہ تصویر کسی مقامی جادوگر یا کسی اور قدیم عقیدے کی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مہر کے بارے میں مشہور مصنف دیودت پٹنائک کا ایک الگ ہی نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب زیادہ تر ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا شیو سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ عام کتابوں میں اب بھی یہی لکھا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس مہر کے دو ورژن ہیں، ایک دلی میں ہے اور دوسرا اسلام آباد میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق مہر پر موجود شکل کے سینگ بنے ہوئے ہیں جو عام طور پر شیو کی تصویروں میں نہیں ہوتے۔ البتہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس شکل کے بیٹھنے کا انداز بالکل یوگا کے ایک خاص آسن جیسا ہی ہے۔ لندن کی یونیورسٹی سے وابستہ ایک نارویجن محقق الیگزینڈر اینجسکاگ نے بھی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہر کا شیو، یوگا یا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/244254'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/244254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ بحث اب صرف پرانی تاریخ اور آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکی ہے۔ وزارتِ ثقافت اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ مہر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ہندو روایات اور یوگا کا سلسلہ ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔ جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ کی لکھائی کو آج تک کوئی پڑھ نہیں سکا ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے بعد کے دور کے مذہبی عقائد کو اتنی پرانی تہذیب پر زبردستی تھوپنا درست نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ دریافت کے سو سال بعد بھی موہنجوداڑو کی یہ مہر ایک ایسا معمہ بنی ہوئی ہے جس کی حقیقت اب بھی الگ الگ نظریات کے پردوں میں چھپی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک انتہائی قدیم مہر اس وقت تاریخ دانوں اور ماہرین کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ مہر پر موجود تصویر شیوا کی نہیں ہے۔ یہ مہر تقریباً تینتالیس سو سال پرانی ہے اور اسے موہنجوداڑو سے دریافت کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/audrey-truschke-harappan-seal-row-mohenjo-daro-pashupati-shiva-debate-indian-history-explained-2919036-2026-05-29">انڈیا ٹوڈے</a> کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ہندوستان کی وزارتِ ثقافت نے انٹرنیٹ پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے بھارت کی قدیم اور مسلسل تہذیب کی علامت قرار دیا اور مہر پر موجود شکل کو شیوا پشوپتی یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل قرار دیا۔</p>
<p>اس دعوے کے سامنے آتے ہی امریکا کی ایک معروف خاتون تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے اس پر اعتراض اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصویر شیو کی نہیں ہے بلکہ یہ پرانے زمانے کے ایران کی ایک قدیم تہذیب کے فن اور علامات سے ملتی جلتی ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق یہ تصویر پورے یورپ اور ایشیا کے خطے میں مانے جانے والے کسی ایسے قدیم دیوتا کی ہو سکتی ہے جسے جانوروں کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ ان کے اس بیان نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ برصغیر کی قدیم تاریخ کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30389887'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30389887"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہندوستان کے بہت سے ادیبوں اور تاریخ دانوں نے آڈری ٹروشکے کے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مقامی تاریخ کو نظر انداز کر رہی ہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر مشہور مصنف امیش تریپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس مہر پر ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بنے ہوئے ہیں جو کہ ہندوستان ہی میں پائے جاتے ہیں، جبکہ ایران کے ان علاقوں میں یہ جانور نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مہر پر موجود شکل یوگا کے انداز میں بیٹھی ہے، تو کیا یوگا بھی ایران سے آیا تھا؟ اسی طرح ایک اور پروفیسر لاونیا ویمسانی نے کہا کہ ایرانی تہذیب کی مہریں اس مہر سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں ایک فیصد بھی مماثلت نہیں ہے۔</p>
<p>دوسری طرف کچھ ایسے تاریخ دان بھی ہیں جو آڈری ٹروشکے کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مہر کو شیو سے جوڑنے کا نظریہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اس کے حق میں کوئی پختہ ثبوت نہیں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30358801'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358801"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان ماہرین کے مطابق 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ جان مارشل نے پہلی بار اسے شیو کی ابتدائی شکل کہا تھا، لیکن وہ کوئی باقاعدہ تربیت یافتہ ماہر نہیں تھے اور انہوں نے صرف اندازے سے یہ بات کہی تھی۔ ان تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود شکل کے سر پر جو چیز ہے وہ شیو کا تریشول نہیں بلکہ بھینس کے سینگ ہیں، اور یہ تصویر کسی مقامی جادوگر یا کسی اور قدیم عقیدے کی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس مہر کے بارے میں مشہور مصنف دیودت پٹنائک کا ایک الگ ہی نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب زیادہ تر ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا شیو سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ عام کتابوں میں اب بھی یہی لکھا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس مہر کے دو ورژن ہیں، ایک دلی میں ہے اور دوسرا اسلام آباد میں۔</p>
<p>ان کے مطابق مہر پر موجود شکل کے سینگ بنے ہوئے ہیں جو عام طور پر شیو کی تصویروں میں نہیں ہوتے۔ البتہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس شکل کے بیٹھنے کا انداز بالکل یوگا کے ایک خاص آسن جیسا ہی ہے۔ لندن کی یونیورسٹی سے وابستہ ایک نارویجن محقق الیگزینڈر اینجسکاگ نے بھی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہر کا شیو، یوگا یا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/244254'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/244254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ بحث اب صرف پرانی تاریخ اور آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکی ہے۔ وزارتِ ثقافت اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ مہر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ہندو روایات اور یوگا کا سلسلہ ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔ جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ کی لکھائی کو آج تک کوئی پڑھ نہیں سکا ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے بعد کے دور کے مذہبی عقائد کو اتنی پرانی تہذیب پر زبردستی تھوپنا درست نہیں ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ دریافت کے سو سال بعد بھی موہنجوداڑو کی یہ مہر ایک ایسا معمہ بنی ہوئی ہے جس کی حقیقت اب بھی الگ الگ نظریات کے پردوں میں چھپی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505918</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 13:29:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/301323151c285d7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/301323151c285d7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹِنڈ نے بائیومیٹرک ناممکن بنا دی: مزدور کا حاضری لگانے کے لیے انوکھا جگاڑ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505908/shaved-head-made-biometric-attendance-impossible-worker-uses-unusual-hack-to-mark-presence</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ کام پر جائیں اور مشین آپ کی حاضری لگانے سے صرف اس لیے انکار کر دے کیونکہ آپ نے بال کٹوا لیے ہیں؟ بھارت کی ریاست تلنگانہ میں ایک مزدور کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا، لیکن اس کی ساتھی خاتون نے ایسا دیسی حل نکالا کہ جدید ٹیکنالوجی بھی دھوکہ کھا گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دلچسپ واقعہ ضلع محبوب آباد کے گاؤں کماٹی پلی میں پیش آیا۔ جہاں منریگا منصوبےکے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی حاضری اب فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لگائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گاؤں کے ایک مزدور سری نواس نے کچھ دن پہلے ایک مذہبی رسم ادا کرتے ہوئے مندر میں اپنے بال نذر کیے تھے، جس کے بعد اس نے مکمل طور پر سر منڈوا لیا۔ جب وہ جمعرات کے دن اپنے گنجے سر کے ساتھ مزدوری کرنے کے لیے کام کی جگہ پر پہنچا تو ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505674/a-harasser-taught-a-harsh-lesson-on-the-road-brave-girls-video-goes-viral-on-social-media'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کام کی جگہ پر موجود سپروائزر نے معمول کے مطابق حاضری والی ایپ کے ذریعے اس کا چہرہ اسکین کرنے کی کوشش کی، لیکن ایپ نے سری نواس کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق، وہاں موجود تمام مزدور یہ دیکھ کر شدید الجھن میں پڑ گئے کہ محض بال کٹوانے سے یہ مشین ان کے ساتھی کو کیسے بھول سکتی ہے اور اس کی موجودہ شکل کو پرانی تصویر سے ملانے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ایک خاتون مزدور نے مسئلے کا غیر معمولی حل پیش کیا۔ اس خاتون نے اپنے بال آگے کی طرف کیے اور انہیں سری نواس کے گنجے سر پر رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے وہ عارضی طور پر پہلے جیسا دکھائی دینے لگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504092/man-digs-up-sisters-skeleton'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوبارہ اسکین کیے جانے پر فیشل ریکگنیشن سسٹم نے فوراً اسے شناخت کر لیا اور اس کی حاضری درج ہو گئی۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے کیے، جبکہ کئی افراد نے جدید شناختی نظام کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ظاہری شکل میں تھوڑی سی بھی تبدیلی آ جائے تو یہ چہرہ پہچاننے والے جدید نظام کس قدر آسانی سے ناکام ہو سکتے ہیں، اور کبھی کبھار ایک سادہ سا دیسی حل بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی کو مات دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ کام پر جائیں اور مشین آپ کی حاضری لگانے سے صرف اس لیے انکار کر دے کیونکہ آپ نے بال کٹوا لیے ہیں؟ بھارت کی ریاست تلنگانہ میں ایک مزدور کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا، لیکن اس کی ساتھی خاتون نے ایسا دیسی حل نکالا کہ جدید ٹیکنالوجی بھی دھوکہ کھا گئی۔</strong></p>
<p>یہ دلچسپ واقعہ ضلع محبوب آباد کے گاؤں کماٹی پلی میں پیش آیا۔ جہاں منریگا منصوبےکے تحت کام کرنے والے مزدوروں کی حاضری اب فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لگائی جاتی ہے۔</p>
<p>اس گاؤں کے ایک مزدور سری نواس نے کچھ دن پہلے ایک مذہبی رسم ادا کرتے ہوئے مندر میں اپنے بال نذر کیے تھے، جس کے بعد اس نے مکمل طور پر سر منڈوا لیا۔ جب وہ جمعرات کے دن اپنے گنجے سر کے ساتھ مزدوری کرنے کے لیے کام کی جگہ پر پہنچا تو ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505674/a-harasser-taught-a-harsh-lesson-on-the-road-brave-girls-video-goes-viral-on-social-media'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کام کی جگہ پر موجود سپروائزر نے معمول کے مطابق حاضری والی ایپ کے ذریعے اس کا چہرہ اسکین کرنے کی کوشش کی، لیکن ایپ نے سری نواس کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا۔</p>
<p>عینی شاہدین کے مطابق، وہاں موجود تمام مزدور یہ دیکھ کر شدید الجھن میں پڑ گئے کہ محض بال کٹوانے سے یہ مشین ان کے ساتھی کو کیسے بھول سکتی ہے اور اس کی موجودہ شکل کو پرانی تصویر سے ملانے میں کیوں ناکام ہو رہی ہے۔</p>
<p>صورتحال اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ایک خاتون مزدور نے مسئلے کا غیر معمولی حل پیش کیا۔ اس خاتون نے اپنے بال آگے کی طرف کیے اور انہیں سری نواس کے گنجے سر پر رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے وہ عارضی طور پر پہلے جیسا دکھائی دینے لگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504092/man-digs-up-sisters-skeleton'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوبارہ اسکین کیے جانے پر فیشل ریکگنیشن سسٹم نے فوراً اسے شناخت کر لیا اور اس کی حاضری درج ہو گئی۔<br></p>
<p>واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے اس پر دلچسپ تبصرے کیے، جبکہ کئی افراد نے جدید شناختی نظام کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے۔</p>
<p>اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ظاہری شکل میں تھوڑی سی بھی تبدیلی آ جائے تو یہ چہرہ پہچاننے والے جدید نظام کس قدر آسانی سے ناکام ہو سکتے ہیں، اور کبھی کبھار ایک سادہ سا دیسی حل بڑی سے بڑی ٹیکنالوجی کو مات دے سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505908</guid>
      <pubDate>Sat, 30 May 2026 10:09:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/30094415fe11de9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/30094415fe11de9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاجین، کیتوپت: دنیا میں عیدالاضحیٰ پر بننے والے خاص پکوان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505817/sacrifice-bakraeid-kavurma-tagine-ketupat-kabsa-sangza-plov-manti-eidulazha</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں اور اس کا گوشت غرباء، رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز عید کی نماز سے ہوتا ہے جو کھلے میدانوں اور مساجد میں بڑے اجتماعات کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کو بقرعید اور عیدِ قربان بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عیدالاضحیٰ صرف قربانی کا تہوار نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی رنگا رنگ ثقافتوں، ذائقوں اور روایات کا خوبصورت امتزاج بھی ہے۔ ہر ملک نے اس عید کو اپنے مخصوص انداز سے منفرد بنا دیا ہے۔ کہیں مصالحوں کی خوشبو سے صبح ہوتی ہے، کہیں اجتماعی دعوتیں سجتی ہیں، اور کہیں خاندان مل کر روایتی کھانے تیار کرتے ہیں۔ ایک ہی جذبہ اور پیغام ہونے کے باوجود دنیا بھر کی عیدیں اپنی ثقافتی جھلک میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف محسوس ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ہندوستان میں عید الاضحیٰ کا انداز ہم سب کے لیے جانا پہچانا ہے۔ گلیوں میں جانوروں کی رونق، گھروں میں کلیجی کا فوری ناشتہ، کچن میں پکتی بریانی اور رشتہ داروں کے ہاں گوشت بھیجنے کی روایت اس تہوار کو خاص بنا دیتی ہے۔ مگر دنیا کے دوسرے خطوں میں عید کے رنگ اپنے کھانوں اور روایات کے باعث اور بھی دلچسپ دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنی اپنی ثقافت کے مطابق اس تہوار کو منفرد پکوانوں اور روایات کے ساتھ مناتے ہیں۔ چلیں اس ذائقہ بھرے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ میں عید الاضحیٰ صرف قربانی تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہاں ”کاورمہ“  بنانے کی روایت بہت مشہور ہے۔ قربانی کے تازہ گوشت کو اس کی اپنی چربی میں آہستہ آہستہ بھونا جاتا ہے تاکہ وہ کئی دن تک محفوظ رہ سکے۔&lt;br&gt;ترک خاندان عید کے پہلے دن ناشتے میں بھی گوشت کھانے کو معیوب نہیں سمجھتے، بلکہ لذیذ کاورمہ گرم روٹی کے ساتھ کھانا ایک خاص روایت مانی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084444487a4eb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084444487a4eb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح آذربائیجان اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک میں بھی ملتی جلتی روایات موجود ہیں، اگرچہ وہاں مصالحوں اور پکانے کے انداز میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مراکش&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراکش میں عید الاضحیٰ کا سب سے خوبصورت پہلو ”تاجین“ ہے۔ یہ مٹی کا مخروطی ڈھکن والا برتن صدیوں سے مراکشی کھانوں کی جان سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قربانی کے گوشت کو خشک خوبانی، آلو بخارے، بادام اور ہلکے مصالحوں کے ساتھ دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے، جس سے میٹھا اور نمکین ذائقہ ایک ساتھ ابھرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084608669819b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084608669819b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہاں عید کے دن خاندان ایک ہی بڑے دسترخوان پر جمع ہو کر کھانا کھاتے ہیں، اور ہاتھ سے کھانا اب بھی روایت کا حصہ ہے۔&lt;br&gt;الجزائر اور تیونس میں بھی تاجین جیسی ڈشز مقبول ہیں، مگر مراکش کے کھانوں میں میٹھے خشک پھلوں کا استعمال انہیں الگ پہچان دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="انڈونیشیا" href="#انڈونیشیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں عید الاضحیٰ کا رنگ بے حد منفرد ہوتا ہے۔ یہاں ”کیتوپت“  عید کی خاص پہچان ہے۔&lt;br&gt;چاولوں کو ناریل کے پتوں سے بنی خوبصورت جالی دار ٹوکریوں میں بند کر کے پکایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں گوشت کے سالن یا ناریل والے شوربے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084820aaaa90c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084820aaaa90c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ عید کے دن اجتماعی باورچی خانے بناتے ہیں جہاں پڑوسی اور دوست مل کر کھانا تیار کرتے ہیں۔&lt;br&gt;ملائیشیا اور برونائی میں بھی کیتوپت بہت مقبول ہے، اگرچہ وہاں اسے نسبتاً ہلکے مصالحوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سعودی-عرب" href="#سعودی-عرب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بکرے یا اونٹ کے گوشت سے مختلف روایتی اور مزیدار پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور ڈشز کبسا، مندی، ہریس اور مدفون شامل ہیں، جو اپنی منفرد خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبسا سعودی عرب کا سب سے مقبول قومی کھانا ہے جو بکرے یا دنبے کے گوشت اور چاولوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں دار چینی، الائچی، لونگ اور زعفران جیسے مصالحے استعمال ہوتے ہیں جو اسے خاص ذائقہ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26094346f13fc7f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26094346f13fc7f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ہریس ایک روایتی ڈش ہے جو پسے ہوئے گندم اور گوشت کے شوربے سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ نرم، غذائیت سے بھرپور اور ہلکے ذائقے کی وجہ سے بہت پسند کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، بحرین اور کویت میں بھی تقریباً یہی کھانے پسند کیے جاتے ہیں، البتہ ہر ملک اپنے مخصوص مصالحوں اور خوشبوؤں کے استعمال کے باعث ذائقے میں فرق رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے مسلمان اکثریتی علاقوں، خصوصاً سنکیانگ میں، عید الاضحیٰ نہایت منفرد انداز سے منائی جاتی ہے۔ یہاں ”سانگزا“  نامی تلی ہوئی خستہ ڈش بہت مشہور ہے، جسے باریک آٹے کی لڑیوں سے بنا کر اہرام کی شکل دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26085559dfdfdbf.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26085559dfdfdbf.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عید کے موقع پر لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں، گھروں کو سجاتے ہیں اور بڑی تعداد میں اجتماعی میل ملاقات کرتے ہیں۔&lt;br&gt;یہاں کھانوں میں مصالحے نسبتاً کم لیکن گوشت اور آٹے کی بنی اشیاء زیادہ استعمال ہوتی ہیں، جو وسطی ایشیائی ثقافت کی جھلک پیش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح قازقستان اور کرغزستان کے کچھ علاقوں میں بھی آٹے اور گوشت سے بنی سادہ مگر بھرپور ڈشز عید کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ازبکستان" href="#ازبکستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ازبکستان&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ازبکستان میں عید الاضحیٰ کا تصور پلاؤ کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بڑے دیگچوں میں چاول، گوشت، گاجر اور مصالحے ملا کر تیار کیا جانے والا یہ پکوان سینکڑوں لوگوں کو ایک ساتھ کھلایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہاں ”مندی“ یعنی بھاپ میں پکے گوشت بھرے ڈمپلنگز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/2608582687a0f71.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/2608582687a0f71.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قازقستان اور کرغزستان میں بھی پلو اور منتی بے حد مقبول ہیں، اگرچہ ہر خطہ اپنی مقامی جڑی بوٹیوں اور گوشت کے انتخاب سے ذائقہ بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="عید-کا-اصل-پیغام" href="#عید-کا-اصل-پیغام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;عید کا اصل پیغام&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، عید الاضحیٰ کا اصل پیغام ایک ہی رہتا ہے اور وہ ہے سنتِ ابراہیمی کے تحت اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی کرنا۔ باہمی محبت اور حسنِ معاشرت اور احساس کے ساتھ فرائض ادا کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلچر میں فرق ایک حسن ہے، کہیں ناریل کے پتوں میں لپٹے چاول ہیں، کہیں مٹی کے برتنوں میں پکتا گوشت، کہیں باربی کیو کی خوشبو ہے ، کہیں لذیذ پلاؤ اوع بریانی اور کہیں بکرے یا دنبے کے گوشت کو چاولوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تنوع اس تہوار کو مزید خوبصورت بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عیدالاضحیٰ کے موقع پر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں اور اس کا گوشت غرباء، رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس دن کا آغاز عید کی نماز سے ہوتا ہے جو کھلے میدانوں اور مساجد میں بڑے اجتماعات کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کو بقرعید اور عیدِ قربان بھی کہا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>عیدالاضحیٰ صرف قربانی کا تہوار نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی رنگا رنگ ثقافتوں، ذائقوں اور روایات کا خوبصورت امتزاج بھی ہے۔ ہر ملک نے اس عید کو اپنے مخصوص انداز سے منفرد بنا دیا ہے۔ کہیں مصالحوں کی خوشبو سے صبح ہوتی ہے، کہیں اجتماعی دعوتیں سجتی ہیں، اور کہیں خاندان مل کر روایتی کھانے تیار کرتے ہیں۔ ایک ہی جذبہ اور پیغام ہونے کے باوجود دنیا بھر کی عیدیں اپنی ثقافتی جھلک میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف محسوس ہوتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان اور ہندوستان میں عید الاضحیٰ کا انداز ہم سب کے لیے جانا پہچانا ہے۔ گلیوں میں جانوروں کی رونق، گھروں میں کلیجی کا فوری ناشتہ، کچن میں پکتی بریانی اور رشتہ داروں کے ہاں گوشت بھیجنے کی روایت اس تہوار کو خاص بنا دیتی ہے۔ مگر دنیا کے دوسرے خطوں میں عید کے رنگ اپنے کھانوں اور روایات کے باعث اور بھی دلچسپ دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنی اپنی ثقافت کے مطابق اس تہوار کو منفرد پکوانوں اور روایات کے ساتھ مناتے ہیں۔ چلیں اس ذائقہ بھرے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>ترکیہ</strong></p>
<p>ترکیہ میں عید الاضحیٰ صرف قربانی تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہاں ”کاورمہ“  بنانے کی روایت بہت مشہور ہے۔ قربانی کے تازہ گوشت کو اس کی اپنی چربی میں آہستہ آہستہ بھونا جاتا ہے تاکہ وہ کئی دن تک محفوظ رہ سکے۔<br>ترک خاندان عید کے پہلے دن ناشتے میں بھی گوشت کھانے کو معیوب نہیں سمجھتے، بلکہ لذیذ کاورمہ گرم روٹی کے ساتھ کھانا ایک خاص روایت مانی جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084444487a4eb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084444487a4eb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح آذربائیجان اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک میں بھی ملتی جلتی روایات موجود ہیں، اگرچہ وہاں مصالحوں اور پکانے کے انداز میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے۔</p>
<p><strong>مراکش</strong></p>
<p>مراکش میں عید الاضحیٰ کا سب سے خوبصورت پہلو ”تاجین“ ہے۔ یہ مٹی کا مخروطی ڈھکن والا برتن صدیوں سے مراکشی کھانوں کی جان سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>قربانی کے گوشت کو خشک خوبانی، آلو بخارے، بادام اور ہلکے مصالحوں کے ساتھ دھیمی آنچ پر پکایا جاتا ہے، جس سے میٹھا اور نمکین ذائقہ ایک ساتھ ابھرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084608669819b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084608669819b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہاں عید کے دن خاندان ایک ہی بڑے دسترخوان پر جمع ہو کر کھانا کھاتے ہیں، اور ہاتھ سے کھانا اب بھی روایت کا حصہ ہے۔<br>الجزائر اور تیونس میں بھی تاجین جیسی ڈشز مقبول ہیں، مگر مراکش کے کھانوں میں میٹھے خشک پھلوں کا استعمال انہیں الگ پہچان دیتا ہے۔</p>
<h2><a id="انڈونیشیا" href="#انڈونیشیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>انڈونیشیا</strong></h2>
<p>دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں عید الاضحیٰ کا رنگ بے حد منفرد ہوتا ہے۔ یہاں ”کیتوپت“  عید کی خاص پہچان ہے۔<br>چاولوں کو ناریل کے پتوں سے بنی خوبصورت جالی دار ٹوکریوں میں بند کر کے پکایا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں گوشت کے سالن یا ناریل والے شوربے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084820aaaa90c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084820aaaa90c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ عید کے دن اجتماعی باورچی خانے بناتے ہیں جہاں پڑوسی اور دوست مل کر کھانا تیار کرتے ہیں۔<br>ملائیشیا اور برونائی میں بھی کیتوپت بہت مقبول ہے، اگرچہ وہاں اسے نسبتاً ہلکے مصالحوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔</p>
<h2><a id="سعودی-عرب" href="#سعودی-عرب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سعودی عرب</strong></h2>
<p>سعودی عرب میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بکرے یا اونٹ کے گوشت سے مختلف روایتی اور مزیدار پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور ڈشز کبسا، مندی، ہریس اور مدفون شامل ہیں، جو اپنی منفرد خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی ہیں۔</p>
<p>کبسا سعودی عرب کا سب سے مقبول قومی کھانا ہے جو بکرے یا دنبے کے گوشت اور چاولوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں دار چینی، الائچی، لونگ اور زعفران جیسے مصالحے استعمال ہوتے ہیں جو اسے خاص ذائقہ دیتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26094346f13fc7f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26094346f13fc7f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ ہریس ایک روایتی ڈش ہے جو پسے ہوئے گندم اور گوشت کے شوربے سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ نرم، غذائیت سے بھرپور اور ہلکے ذائقے کی وجہ سے بہت پسند کی جاتی ہے۔</p>
<p>قطر، بحرین اور کویت میں بھی تقریباً یہی کھانے پسند کیے جاتے ہیں، البتہ ہر ملک اپنے مخصوص مصالحوں اور خوشبوؤں کے استعمال کے باعث ذائقے میں فرق رکھتا ہے۔</p>
<p><strong>چین</strong></p>
<p>چین کے مسلمان اکثریتی علاقوں، خصوصاً سنکیانگ میں، عید الاضحیٰ نہایت منفرد انداز سے منائی جاتی ہے۔ یہاں ”سانگزا“  نامی تلی ہوئی خستہ ڈش بہت مشہور ہے، جسے باریک آٹے کی لڑیوں سے بنا کر اہرام کی شکل دی جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26085559dfdfdbf.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/26085559dfdfdbf.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>عید کے موقع پر لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں، گھروں کو سجاتے ہیں اور بڑی تعداد میں اجتماعی میل ملاقات کرتے ہیں۔<br>یہاں کھانوں میں مصالحے نسبتاً کم لیکن گوشت اور آٹے کی بنی اشیاء زیادہ استعمال ہوتی ہیں، جو وسطی ایشیائی ثقافت کی جھلک پیش کرتی ہیں۔</p>
<p>اسی طرح قازقستان اور کرغزستان کے کچھ علاقوں میں بھی آٹے اور گوشت سے بنی سادہ مگر بھرپور ڈشز عید کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<h2><a id="ازبکستان" href="#ازبکستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ازبکستان</strong></h2>
<p>ازبکستان میں عید الاضحیٰ کا تصور پلاؤ کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بڑے دیگچوں میں چاول، گوشت، گاجر اور مصالحے ملا کر تیار کیا جانے والا یہ پکوان سینکڑوں لوگوں کو ایک ساتھ کھلایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ یہاں ”مندی“ یعنی بھاپ میں پکے گوشت بھرے ڈمپلنگز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/2608582687a0f71.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/2608582687a0f71.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>قازقستان اور کرغزستان میں بھی پلو اور منتی بے حد مقبول ہیں، اگرچہ ہر خطہ اپنی مقامی جڑی بوٹیوں اور گوشت کے انتخاب سے ذائقہ بدل دیتا ہے۔</p>
<h2><a id="عید-کا-اصل-پیغام" href="#عید-کا-اصل-پیغام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>عید کا اصل پیغام</strong></h2>
<p>دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، عید الاضحیٰ کا اصل پیغام ایک ہی رہتا ہے اور وہ ہے سنتِ ابراہیمی کے تحت اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی کرنا۔ باہمی محبت اور حسنِ معاشرت اور احساس کے ساتھ فرائض ادا کرنا۔</p>
<p>کلچر میں فرق ایک حسن ہے، کہیں ناریل کے پتوں میں لپٹے چاول ہیں، کہیں مٹی کے برتنوں میں پکتا گوشت، کہیں باربی کیو کی خوشبو ہے ، کہیں لذیذ پلاؤ اوع بریانی اور کہیں بکرے یا دنبے کے گوشت کو چاولوں کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے۔ یہی تنوع اس تہوار کو مزید خوبصورت بناتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505817</guid>
      <pubDate>Tue, 26 May 2026 09:50:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/26084608669819b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/26084608669819b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اذان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے والا اٹلی کا شہری حج کی ادائیگی میں مصروف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505794/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حج کے مقدس مناسک کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین میں ایک ایسا چہرہ بھی شامل ہے، جس کا سفرِ ایمان دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ کہانی ہے اٹلی سے تعلق رکھنے والے نومسلم محمد لوقا کی، جنہیں بچپن میں ٹی وی پر سنی گئی اذان کی مسحور کن آواز نے اسلام کے دامنِ رحمت سے وابستہ کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد لوقا آج خیموں کے شہر منیٰ  میں دیگر حجاج کے ساتھ مناسکِ حج ادا کرنے میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد لوقا کے مطابق، انہوں نے زندگی میں پہلی بار اذان کی آواز 12 سال کی عمر میں ٹی وی پر سنی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اذان کی اس پکار نے ان کے کانوں میں رس گھول دیا اور یہ آواز ان کے دل میں اترتی چلی گئی۔ یہ پکار ان کے لیے دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا ایک غیبی بلاوا بن گئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505785/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505785"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی اثر کے تحت انہوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ شروع کیا، اس کے بنیادی عقائد کو سمجھا اور دیگر مذاہب کے ساتھ اس کے فرق کا تقابلی جائزہ لیا۔ اسلام کو سمجھنے اور سچائی کی تلاش کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد لوقا نے اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی کو دینِ حق کی پیروی میں پایا اور بالاخر اسلام قبول کر لیا۔ وہ کہتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;”اسلام لانے سے مجھے نہ صرف دین کی درست تفہیم حاصل ہوئی، بلکہ میری زندگی میں ایک واضح راہِ عمل آگئی۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت اور دلچسپ تجربہ تھا، جس نے زندگی اور موت کے بارے میں میرے پورے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا اور میرا طرزِ زندگی یکسر تبدیل ہو گیا۔“&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505755/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے انہیں معاشرے میں ایک خاص عزت اور خود اعتمادی عطا کی ہے، اور وہ ان تمام الجھنوں اور بے یقینی کی کیفیت سے آزاد ہو چکے ہیں جو ماضی میں ان کا پیچھا کرتی تھیں۔ اس عظیم نعمت پر وہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب آمد پر ملنے والے پروٹوکول اور احترام کا ذکر کرتے ہوئے محمد لوقا نے حرمین شریفین کے بہترین انتظام و انصرام کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کے لیے کیے گئے شاندار اقدامات نے ان کے دل میں سعودی مملکت کا احترام مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ حج کے ان مبارک دنوں میں حرمین کے بلند میناروں سے گونجنے والی اذانیں اور چاروں طرف سے بلند ہونے والی ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صدائیں ان کے اندر بندگی کا ایک انوکھا احساس بیدار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حج کے مقدس مناسک کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین میں ایک ایسا چہرہ بھی شامل ہے، جس کا سفرِ ایمان دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ کہانی ہے اٹلی سے تعلق رکھنے والے نومسلم محمد لوقا کی، جنہیں بچپن میں ٹی وی پر سنی گئی اذان کی مسحور کن آواز نے اسلام کے دامنِ رحمت سے وابستہ کر دیا۔</strong></p>
<p>محمد لوقا آج خیموں کے شہر منیٰ  میں دیگر حجاج کے ساتھ مناسکِ حج ادا کرنے میں مصروف ہیں۔</p>
<p>محمد لوقا کے مطابق، انہوں نے زندگی میں پہلی بار اذان کی آواز 12 سال کی عمر میں ٹی وی پر سنی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اذان کی اس پکار نے ان کے کانوں میں رس گھول دیا اور یہ آواز ان کے دل میں اترتی چلی گئی۔ یہ پکار ان کے لیے دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا ایک غیبی بلاوا بن گئی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505785/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505785"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی اثر کے تحت انہوں نے اسلام کا گہرا مطالعہ شروع کیا، اس کے بنیادی عقائد کو سمجھا اور دیگر مذاہب کے ساتھ اس کے فرق کا تقابلی جائزہ لیا۔ اسلام کو سمجھنے اور سچائی کی تلاش کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔</p>
<p>محمد لوقا نے اپنی دنیا اور آخرت کی کامیابی کو دینِ حق کی پیروی میں پایا اور بالاخر اسلام قبول کر لیا۔ وہ کہتے ہیں:</p>
<p><em>”اسلام لانے سے مجھے نہ صرف دین کی درست تفہیم حاصل ہوئی، بلکہ میری زندگی میں ایک واضح راہِ عمل آگئی۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت اور دلچسپ تجربہ تھا، جس نے زندگی اور موت کے بارے میں میرے پورے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا اور میرا طرزِ زندگی یکسر تبدیل ہو گیا۔“</em></p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505755/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505755"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے انہیں معاشرے میں ایک خاص عزت اور خود اعتمادی عطا کی ہے، اور وہ ان تمام الجھنوں اور بے یقینی کی کیفیت سے آزاد ہو چکے ہیں جو ماضی میں ان کا پیچھا کرتی تھیں۔ اس عظیم نعمت پر وہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب آمد پر ملنے والے پروٹوکول اور احترام کا ذکر کرتے ہوئے محمد لوقا نے حرمین شریفین کے بہترین انتظام و انصرام کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کے لیے کیے گئے شاندار اقدامات نے ان کے دل میں سعودی مملکت کا احترام مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ حج کے ان مبارک دنوں میں حرمین کے بلند میناروں سے گونجنے والی اذانیں اور چاروں طرف سے بلند ہونے والی ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صدائیں ان کے اندر بندگی کا ایک انوکھا احساس بیدار کر رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505794</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 13:06:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/25125916677f021.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/25125916677f021.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خاتون پیراگلائیڈر اور طیارے کی فضا میں خوفناک ٹکر: ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505791/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریا کے شمالی علاقے میں واقع خوبصورت پہاڑی مقام شمتن ہوئہ کے قریب ایک حیران کن اور خطرناک فضائی حادثہ پیش آیا جس میں ایک پیراگلائیڈر خاتون اور ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ فضا میں آپس میں ٹکرا گئے۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں لمحہ بہ لمحہ خوفناک صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;44 سالہ خاتون، جن کا نام سبرینا بتایا گیا ہے، ہفتے کی دوپہر پیراگلائیڈنگ کر رہی تھیں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں کہ اچانک ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ آناً فاناً ان کے بہت قریب آ گیا اور لمحوں میں ان کے پیراگلائیڈنگ چھتری سے ٹکرا گیا۔ یہ ٹکر اتنی اچانک تھی کہ وہ فضا میں بے قابو ہو کر گھومنے لگیں اور چیختی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے دوران سبرینا کسی طرح اپنے پیراشوٹ کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور زمین کی طرف تیزی سے گرتے ہوئے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ نیچے گرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ لینڈنگ بہت سخت تھی اور انہیں چوٹیں آئیں لیکن وہ زندہ بچ گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/aviationbrk/status/2058593929646248017?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/aviationbrk/status/2058593929646248017?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بعد میں انہیں پولیس ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا اور قریبی ایئرپورٹ منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں چند چوٹیں اور خراشیں آئیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سبرینا نے سوشل میڈیا پر جرمن زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ وہ اس واقعے کے بعد محفوظ ہیں اور صرف معمولی چوٹوں کے ساتھ بچ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب طیارے کے 28 سالہ پائلٹ نے بتایا کہ اسے اس صورتحال سے بچنے کا کوئی موقع نہیں ملا اور وہ طیارے کو محفوظ طریقے سے لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فضا میں یہ خطرناک ٹکر کیسے پیش آئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریا کے شمالی علاقے میں واقع خوبصورت پہاڑی مقام شمتن ہوئہ کے قریب ایک حیران کن اور خطرناک فضائی حادثہ پیش آیا جس میں ایک پیراگلائیڈر خاتون اور ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ فضا میں آپس میں ٹکرا گئے۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں لمحہ بہ لمحہ خوفناک صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>44 سالہ خاتون، جن کا نام سبرینا بتایا گیا ہے، ہفتے کی دوپہر پیراگلائیڈنگ کر رہی تھیں اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں کہ اچانک ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ آناً فاناً ان کے بہت قریب آ گیا اور لمحوں میں ان کے پیراگلائیڈنگ چھتری سے ٹکرا گیا۔ یہ ٹکر اتنی اچانک تھی کہ وہ فضا میں بے قابو ہو کر گھومنے لگیں اور چیختی رہیں۔</p>
<p>حادثے کے دوران سبرینا کسی طرح اپنے پیراشوٹ کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور زمین کی طرف تیزی سے گرتے ہوئے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ نیچے گرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ لینڈنگ بہت سخت تھی اور انہیں چوٹیں آئیں لیکن وہ زندہ بچ گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/aviationbrk/status/2058593929646248017?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/aviationbrk/status/2058593929646248017?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بعد میں انہیں پولیس ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا اور قریبی ایئرپورٹ منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہیں چند چوٹیں اور خراشیں آئیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔</p>
<p>سبرینا نے سوشل میڈیا پر جرمن زبان میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ وہ اس واقعے کے بعد محفوظ ہیں اور صرف معمولی چوٹوں کے ساتھ بچ گئی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب طیارے کے 28 سالہ پائلٹ نے بتایا کہ اسے اس صورتحال سے بچنے کا کوئی موقع نہیں ملا اور وہ طیارے کو محفوظ طریقے سے لینڈ کرنے میں کامیاب رہا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فضا میں یہ خطرناک ٹکر کیسے پیش آئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505791</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 11:53:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/25115124dde9ecb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/25115124dde9ecb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر انسان کی آواز دوسرے سے الگ کیوں؟ سائنس نے قدرت کے انوکھے راز سے پردہ اٹھا دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505731/evolution-biology-human-voice-formants-vocal-tract-speech-science-acoustics-vocal-cord</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انسانی آواز کائنات کی سب سے منفرد اور ذاتی پہچانوں میں سے ایک ہے۔ ایک ہجوم سے بھرے کمرے میں بھی ہم اپنے عزیز یا دوست کی آواز محض چند الفاظ  سن کر پہچان لیتے ہیں اور ہمارا دماغ یہ عمل سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں کر گزرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کے اربوں انسانوں میں سے کسی بھی دو افراد کی آواز سو فیصد ایک جیسی کیوں نہیں ہوتی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، انسانی آواز کی یہ خوبصورتی اور صفائی صرف اس لیے نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارا جسم کا کائی نظام پیچیدہ ہوگیا، بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ارتقاء کے عمل نے ہمارے اندر سے وہ چیزیں ختم کر دیں جو ہمیں دوسروں میں پائی جاتی ہیں، مثلاً جانوروں میں پائی جاتی ہیں، مثال کے طور پربندر کی اقسام پرائی میٹس میں پائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2022 میں ”نیشنل لائبریری آف میڈیسن“ میں شائع ہونے والی ایک اہم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/35951711/"&gt;تحقیق کے مطابق&lt;/a&gt;، زیادہ تر بندر اور لنگوروں کے گلے میں ’ووکل کورڈز‘ تو ہوتی ہیں، مگر ان کے اوپر چھوٹی ووکل ممبرین اور گلے میں ہوا کی تھیلیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔ ارتقاء کے طویل سفر کے دوران انسانوں کے اندر سے یہ اضافی کورڈز اور ہوا کی تھیلیاں ختم ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کا فائدہ یہ ہوا کہ انسان کا وائس باکس انتہائی مستحکم ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جانوروں کی طرح شور مچانے یا افراتفری کا شکار آوازیں نکالنے کے بجائے، انتہائی صاف، سلجھی ہوئی اور کنٹرول شدہ  آوازیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504086/taylor-swift-an-american-singer-has-filed-an-application-to-trademark-her-voice-and-likeness'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504086"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب آواز ’ووکل فولڈز‘ سے نکلتی ہے تو وہ گلے، منہ اور ناک سے گزرتی ہے۔ یہ تمام حصے آواز کے لیے ایک طرح کے ایکو چیمبر کا کام کرتے ہیں جو آواز کو نئی شکل دیتے ہیں اور اس کی گونج کو بدل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدان ان طاقتور آوازوں یا فریکوئنسیز کو جو اس عمل کے بعد باقی رہتی ہیں ”فارمنٹس“ کہتے ہیں۔ یہی فارمنٹس ہر انسان کی آواز کو دوسروں سے الگ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارمنٹس کا تعلق انسان کے ووکل ٹریک کی لمبائی، منہ کی ساخت، تالو کے خم، گلے کی گہرائی، کھوپڑی اور سائنَسز کی بناوٹ سے ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ان حصوں میں معمولی سا فرق بھی آواز کی گونج کو بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے سائنسدان کہتے ہیں کہ ایک ہی قد کے دو مردوں کی آوازیں بھی مکمل طور پر مختلف ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کی کھوپڑی اور سائینَس کی ساخت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اسی طرح مردوں اور خواتین کی آوازوں میں فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مردوں کا ’ووکل ٹریک‘ عموماً بڑا اور لمبا ہوتا ہے جبکہ خواتین کا نسبتاً چھوٹا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503845/plants-feel-hear-sound'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/7375928/"&gt;نیشنل لائبریری آٖف میڈیسن&lt;/a&gt; اور دوسری کی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہی اپنی والدہ کی آواز پہچاننا شروع کر دیتا ہے اور دوسری آوازوں کے مقابلے میں اس پر مختلف ردعمل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہزاروں سال کے دوران بعض جینز نے انسانی ’ووکل سسٹم‘ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج سے تقریباً 50 ہزار سے ایک لاکھ سال پہلے، جب انسانوں نے بڑے گروہوں میں رہنا، بستیاں بسانا اور اتحاد قائم کرنا شروع کیا، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی پہچان لازمی ہو گئی۔ ایسے میں قدرت نے انسان کو منفرد آواز کا تحفہ دیا تاکہ گھنے جنگلات، اندھیرے یا ہجوم کے پار بھی ایک انسان دوسرے انسان کو صرف اس کی آواز سے دوری سے ہی پہچان سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی ارتقاء نے ہمیں منفرد آوازیں اس لیے دیں کیونکہ ہماری سماجی زندگی کا دارومدار ایک دوسرے کو تیزی سے اور درست طریقے سے پہچاننے پر تھا۔ آپ کی آواز محض ایک آواز نہیں، بلکہ آپ کے پورے ارتقائی سفر اور جسمانی خوبصورتی کا ایک صوتی دستخط ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انسانی آواز کائنات کی سب سے منفرد اور ذاتی پہچانوں میں سے ایک ہے۔ ایک ہجوم سے بھرے کمرے میں بھی ہم اپنے عزیز یا دوست کی آواز محض چند الفاظ  سن کر پہچان لیتے ہیں اور ہمارا دماغ یہ عمل سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں کر گزرتا ہے۔</strong></p>
<p>کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کے اربوں انسانوں میں سے کسی بھی دو افراد کی آواز سو فیصد ایک جیسی کیوں نہیں ہوتی؟</p>
<p>سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، انسانی آواز کی یہ خوبصورتی اور صفائی صرف اس لیے نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارا جسم کا کائی نظام پیچیدہ ہوگیا، بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ارتقاء کے عمل نے ہمارے اندر سے وہ چیزیں ختم کر دیں جو ہمیں دوسروں میں پائی جاتی ہیں، مثلاً جانوروں میں پائی جاتی ہیں، مثال کے طور پربندر کی اقسام پرائی میٹس میں پائی جاتی ہیں۔</p>
<p>سال 2022 میں ”نیشنل لائبریری آف میڈیسن“ میں شائع ہونے والی ایک اہم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/35951711/">تحقیق کے مطابق</a>، زیادہ تر بندر اور لنگوروں کے گلے میں ’ووکل کورڈز‘ تو ہوتی ہیں، مگر ان کے اوپر چھوٹی ووکل ممبرین اور گلے میں ہوا کی تھیلیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔ ارتقاء کے طویل سفر کے دوران انسانوں کے اندر سے یہ اضافی کورڈز اور ہوا کی تھیلیاں ختم ہو گئیں۔</p>
<p>اس تبدیلی کا فائدہ یہ ہوا کہ انسان کا وائس باکس انتہائی مستحکم ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جانوروں کی طرح شور مچانے یا افراتفری کا شکار آوازیں نکالنے کے بجائے، انتہائی صاف، سلجھی ہوئی اور کنٹرول شدہ  آوازیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504086/taylor-swift-an-american-singer-has-filed-an-application-to-trademark-her-voice-and-likeness'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504086"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب آواز ’ووکل فولڈز‘ سے نکلتی ہے تو وہ گلے، منہ اور ناک سے گزرتی ہے۔ یہ تمام حصے آواز کے لیے ایک طرح کے ایکو چیمبر کا کام کرتے ہیں جو آواز کو نئی شکل دیتے ہیں اور اس کی گونج کو بدل دیتے ہیں۔</p>
<p>سائنسدان ان طاقتور آوازوں یا فریکوئنسیز کو جو اس عمل کے بعد باقی رہتی ہیں ”فارمنٹس“ کہتے ہیں۔ یہی فارمنٹس ہر انسان کی آواز کو دوسروں سے الگ بناتے ہیں۔</p>
<p>فارمنٹس کا تعلق انسان کے ووکل ٹریک کی لمبائی، منہ کی ساخت، تالو کے خم، گلے کی گہرائی، کھوپڑی اور سائنَسز کی بناوٹ سے ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ان حصوں میں معمولی سا فرق بھی آواز کی گونج کو بدل دیتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے سائنسدان کہتے ہیں کہ ایک ہی قد کے دو مردوں کی آوازیں بھی مکمل طور پر مختلف ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کی کھوپڑی اور سائینَس کی ساخت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اسی طرح مردوں اور خواتین کی آوازوں میں فرق کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مردوں کا ’ووکل ٹریک‘ عموماً بڑا اور لمبا ہوتا ہے جبکہ خواتین کا نسبتاً چھوٹا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503845/plants-feel-hear-sound'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/7375928/">نیشنل لائبریری آٖف میڈیسن</a> اور دوسری کی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں ہی اپنی والدہ کی آواز پہچاننا شروع کر دیتا ہے اور دوسری آوازوں کے مقابلے میں اس پر مختلف ردعمل دیتا ہے۔</p>
<p>سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہزاروں سال کے دوران بعض جینز نے انسانی ’ووکل سسٹم‘ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>آج سے تقریباً 50 ہزار سے ایک لاکھ سال پہلے، جب انسانوں نے بڑے گروہوں میں رہنا، بستیاں بسانا اور اتحاد قائم کرنا شروع کیا، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی پہچان لازمی ہو گئی۔ ایسے میں قدرت نے انسان کو منفرد آواز کا تحفہ دیا تاکہ گھنے جنگلات، اندھیرے یا ہجوم کے پار بھی ایک انسان دوسرے انسان کو صرف اس کی آواز سے دوری سے ہی پہچان سکے۔</p>
<p>انسانی ارتقاء نے ہمیں منفرد آوازیں اس لیے دیں کیونکہ ہماری سماجی زندگی کا دارومدار ایک دوسرے کو تیزی سے اور درست طریقے سے پہچاننے پر تھا۔ آپ کی آواز محض ایک آواز نہیں، بلکہ آپ کے پورے ارتقائی سفر اور جسمانی خوبصورتی کا ایک صوتی دستخط ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505731</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 16:02:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23151959b148a73.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23151959b148a73.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نقشوں سے غائب دنیا: تفریحی بحری جہاز انجان اور فرضی مقام کی طرف کیوں جا رہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505720/travel-tourism-ocean-cruiseship-geography-null-island-data-science</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا آپ کسی ایسی جگہ کا سفر کرنا چاہیں گے جو دنیا کے نقشوں سے بالکل غائب ہو اور جہاں زمین کا کوئی ٹکڑا تو دور، ایک چٹان تک موجود نہ ہو؟ سننے میں یہ کسی جادوئی فلم کی کہانی لگتا ہے، لیکن اس وقت دنیا کے مہنگے ترین تفریحی بحری جہاز ہزاروں سیاحوں کو لے کر سمندر کے ایک ایسے ہی انجان اور فرضی مقام کی طرف جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل دنیا کی ایک دلچسپ تیکنیکی غلطی سے جنم لینے والا یہ مقام اب بین الاقوامی سیاحت کا ایک انوکھا مرکز بن چکا ہے، جہاں کچھ نہ دیکھ کر بھی مسافر خود کو دنیا کے خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور سفری بلاگ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.worldtrippers.com/24vikingwc/06/l240417.htm"&gt;’دی ورلڈ ٹرپرز’&lt;/a&gt; چلانے والے جوڑے، رسل اور گیل لی کے مطابق، اپریل کی ایک روشن اور شفاف صبح جب ان کے تفریحی بحری جہاز پر سوار مسافر مغربی افریقہ کے ساحل سے دور کھلے سمندر میں موجود تھے، تو اچانک ہر طرف جوش و خروش پھیل گیا۔ جہاز پر موجود تمام مسافر اپنے فون نکال کر جغرافیائی لوکیشن پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23131335fd9c9cf.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23131335fd9c9cf.webp'  alt='  (رسل اور گیل لی کروز لیکچررز اور ثقافتی مبصرین کے طور پر ہر سال کئی سمندری و دریائی سفر کرتے ہیں۔)  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(رسل اور گیل لی کروز لیکچررز اور ثقافتی مبصرین کے طور پر ہر سال کئی سمندری و دریائی سفر کرتے ہیں۔)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جیسے ہی اسکرین پر ہندسے کم ہوتے ہوئے صفر پر پہنچے، لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور سیلفیاں لینا شروع کر دیں۔ کپتان نے خاص طور پر جہاز کا رخ بدلا تھا اور اس نادیدہ مقام پر پہنچنے کی خوشی میں مسافروں کو ایک خاص اعزازی لقب ’ایمرالڈ شیل بیکس‘ سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23130632d738281.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23130632d738281.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ مسافر دنیا کے ایک ایسے عجیب و غریب مقام پر پہنچ چکے تھے جو دنیا کے کسی مروجہ نقشے پر موجود نہیں، اور اسے ”نل آئی لینڈ“ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="وہ-جزیرہ-جس-کا-کوئی-وجود-نہیں" href="#وہ-جزیرہ-جس-کا-کوئی-وجود-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;وہ جزیرہ جس کا کوئی وجود نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام پر پہنچنے کے بعد جب مسافروں نے کھڑکیوں سے باہر دیکھا، تو وہاں جزیرے نام کی کوئی چیز نہیں تھی؛ چاروں طرف صرف اور صرف نیلا سمندر تھا۔ دراصل، ”نل آئی لینڈ“ کوئی حقیقی زمین یا جزیرہ نہیں ہے، بلکہ یہ انٹرنیٹ کے دور کا سب سے بڑا جغرافیائی مذاق ہے، جو کمپیوٹر اور نقشہ سازی کی ایک تیکنیکی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23132920a43658c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23132920a43658c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی نظام کے ماہرین کے مطابق، یہ مقام وہاں بنتا ہے جہاں زمین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا خطِ استوا اور وقت کا تعین کرنے والا خطِ نصف النہار ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں۔ تیکنیکی زبان میں اس کے نقاط صفر ڈگری طول بلد اور صفر ڈگری عرض بلد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="یہ-فرضی-جزیرہ-کیسے-بنا" href="#یہ-فرضی-جزیرہ-کیسے-بنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;یہ فرضی جزیرہ کیسے بنا؟&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا کسی ایپ پر کسی جگہ کی لوکیشن کا اندراج غلط ہو جاتا ہے یا ڈیٹا غائب ہو جاتا ہے، تو کمپیوٹر کا نظام خودکار طریقے سے اسے ”نَل“ یعنی صفر تسلیم کر لیتا ہے۔ یہ تمام غلط اور نامکمل ڈیٹا سمندر کے اس مخصوص حصے پر جا کر جمع ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505188/british-'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505188"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب اسمارٹ فونز یا ایپس کو کسی جگہ کی درست لوکیشن نہیں ملتی، تو وہ اس کا مقام اسی فرضی جزیرے پر دکھا دیتے ہیں۔ اس جگہ پر دنیا بھر کے غائب شدہ ڈیٹا، جیسے اسٹروا کی دوڑ کے راستے، ایئر بی این بی کے فرضی ہوٹل اور گمشدہ کرائم رپورٹس کا ڈیجیٹل ڈھیر لگا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شروع میں یہ نقشہ بنانے والے ماہرین کے درمیان ایک اندرونی مذاق تھا۔ لیکن 2010 میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر نے تفریحاً اس جزیرے کی ایک فرضی ویب سائٹ بنا دی، جس میں اس کا اپنا جھنڈا، تاریخ اور زبان تک ایجاد کر ڈالی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انٹرنیٹ پر بے حد مشہور ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505695/how-many-ships-crossed-the-strait-of-hormuz-in-24-hours-revolutionary-guards-revealed'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505695"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فرضی جزیرہ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ڈیجیٹل نقشوں کی خامیاں بھی ظاہر کرتا ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر لیونٹے جوہاس کا کہنا ہے کہ، ”لوگ نقشوں پر اندھا دھند بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر کسی ہنگامی صورتِ حال کے دوران کمپیوٹر سسٹم نے کسی فائر بریگیڈ یا ایمبولینس کو غلط ڈیٹا کی وجہ سے سمندر کے اس خالی حصے کی طرف روانہ کر دیا، تو قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس ترقی یافتہ دنیا میں، جہاں انسان ہر انوکھی چیز کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے، ”نل آئی لینڈ“ ڈیجیٹل دنیا کی ایک ایسی دلچسپ جگہ بن چکا ہے جہاں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیا آپ کسی ایسی جگہ کا سفر کرنا چاہیں گے جو دنیا کے نقشوں سے بالکل غائب ہو اور جہاں زمین کا کوئی ٹکڑا تو دور، ایک چٹان تک موجود نہ ہو؟ سننے میں یہ کسی جادوئی فلم کی کہانی لگتا ہے، لیکن اس وقت دنیا کے مہنگے ترین تفریحی بحری جہاز ہزاروں سیاحوں کو لے کر سمندر کے ایک ایسے ہی انجان اور فرضی مقام کی طرف جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ڈیجیٹل دنیا کی ایک دلچسپ تیکنیکی غلطی سے جنم لینے والا یہ مقام اب بین الاقوامی سیاحت کا ایک انوکھا مرکز بن چکا ہے، جہاں کچھ نہ دیکھ کر بھی مسافر خود کو دنیا کے خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہے ہیں۔</p>
<p>مشہور سفری بلاگ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.worldtrippers.com/24vikingwc/06/l240417.htm">’دی ورلڈ ٹرپرز’</a> چلانے والے جوڑے، رسل اور گیل لی کے مطابق، اپریل کی ایک روشن اور شفاف صبح جب ان کے تفریحی بحری جہاز پر سوار مسافر مغربی افریقہ کے ساحل سے دور کھلے سمندر میں موجود تھے، تو اچانک ہر طرف جوش و خروش پھیل گیا۔ جہاز پر موجود تمام مسافر اپنے فون نکال کر جغرافیائی لوکیشن پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23131335fd9c9cf.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23131335fd9c9cf.webp'  alt='  (رسل اور گیل لی کروز لیکچررز اور ثقافتی مبصرین کے طور پر ہر سال کئی سمندری و دریائی سفر کرتے ہیں۔)  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(رسل اور گیل لی کروز لیکچررز اور ثقافتی مبصرین کے طور پر ہر سال کئی سمندری و دریائی سفر کرتے ہیں۔)</figcaption>
    </figure>
<p>جیسے ہی اسکرین پر ہندسے کم ہوتے ہوئے صفر پر پہنچے، لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور سیلفیاں لینا شروع کر دیں۔ کپتان نے خاص طور پر جہاز کا رخ بدلا تھا اور اس نادیدہ مقام پر پہنچنے کی خوشی میں مسافروں کو ایک خاص اعزازی لقب ’ایمرالڈ شیل بیکس‘ سے بھی نوازا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23130632d738281.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23130632d738281.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ مسافر دنیا کے ایک ایسے عجیب و غریب مقام پر پہنچ چکے تھے جو دنیا کے کسی مروجہ نقشے پر موجود نہیں، اور اسے ”نل آئی لینڈ“ کہا جاتا ہے۔</p>
<h3><a id="وہ-جزیرہ-جس-کا-کوئی-وجود-نہیں" href="#وہ-جزیرہ-جس-کا-کوئی-وجود-نہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>وہ جزیرہ جس کا کوئی وجود نہیں</strong></h3>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام پر پہنچنے کے بعد جب مسافروں نے کھڑکیوں سے باہر دیکھا، تو وہاں جزیرے نام کی کوئی چیز نہیں تھی؛ چاروں طرف صرف اور صرف نیلا سمندر تھا۔ دراصل، ”نل آئی لینڈ“ کوئی حقیقی زمین یا جزیرہ نہیں ہے، بلکہ یہ انٹرنیٹ کے دور کا سب سے بڑا جغرافیائی مذاق ہے، جو کمپیوٹر اور نقشہ سازی کی ایک تیکنیکی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23132920a43658c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23132920a43658c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جغرافیائی نظام کے ماہرین کے مطابق، یہ مقام وہاں بنتا ہے جہاں زمین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا خطِ استوا اور وقت کا تعین کرنے والا خطِ نصف النہار ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں۔ تیکنیکی زبان میں اس کے نقاط صفر ڈگری طول بلد اور صفر ڈگری عرض بلد ہیں۔</p>
<h3><a id="یہ-فرضی-جزیرہ-کیسے-بنا" href="#یہ-فرضی-جزیرہ-کیسے-بنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>یہ فرضی جزیرہ کیسے بنا؟</strong></h3>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا کسی ایپ پر کسی جگہ کی لوکیشن کا اندراج غلط ہو جاتا ہے یا ڈیٹا غائب ہو جاتا ہے، تو کمپیوٹر کا نظام خودکار طریقے سے اسے ”نَل“ یعنی صفر تسلیم کر لیتا ہے۔ یہ تمام غلط اور نامکمل ڈیٹا سمندر کے اس مخصوص حصے پر جا کر جمع ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505188/british-'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505188"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جب اسمارٹ فونز یا ایپس کو کسی جگہ کی درست لوکیشن نہیں ملتی، تو وہ اس کا مقام اسی فرضی جزیرے پر دکھا دیتے ہیں۔ اس جگہ پر دنیا بھر کے غائب شدہ ڈیٹا، جیسے اسٹروا کی دوڑ کے راستے، ایئر بی این بی کے فرضی ہوٹل اور گمشدہ کرائم رپورٹس کا ڈیجیٹل ڈھیر لگا ہوا ہے۔</p>
<p>شروع میں یہ نقشہ بنانے والے ماہرین کے درمیان ایک اندرونی مذاق تھا۔ لیکن 2010 میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر نے تفریحاً اس جزیرے کی ایک فرضی ویب سائٹ بنا دی، جس میں اس کا اپنا جھنڈا، تاریخ اور زبان تک ایجاد کر ڈالی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انٹرنیٹ پر بے حد مشہور ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505695/how-many-ships-crossed-the-strait-of-hormuz-in-24-hours-revolutionary-guards-revealed'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505695"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فرضی جزیرہ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ڈیجیٹل نقشوں کی خامیاں بھی ظاہر کرتا ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر لیونٹے جوہاس کا کہنا ہے کہ، ”لوگ نقشوں پر اندھا دھند بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر کسی ہنگامی صورتِ حال کے دوران کمپیوٹر سسٹم نے کسی فائر بریگیڈ یا ایمبولینس کو غلط ڈیٹا کی وجہ سے سمندر کے اس خالی حصے کی طرف روانہ کر دیا، تو قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے جو کہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔“</p>
<p>سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس ترقی یافتہ دنیا میں، جہاں انسان ہر انوکھی چیز کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے، ”نل آئی لینڈ“ ڈیجیٹل دنیا کی ایک ایسی دلچسپ جگہ بن چکا ہے جہاں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505720</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 13:58:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23135734c4eacb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23135734c4eacb4.webp"/>
        <media:title>تصویر: بشکریہ سی این این</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/23132920a43658c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/23132920a43658c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاکروچ جنتا پارٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا: بانی کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505711/cockroach-janta-partys-instagram-account-has-been-hacked-founder-claims</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی دہلی میں سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ کئی بار اکاؤنٹ ریکور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نوجوانوں کی اس نئی تحریک نے انٹرنیٹ پر سیاسی بحث و مباحثے میں ایک بڑا مقام بنا لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھیجیت دیپکے کے مطابق نہ صرف ان کا ذاتی اکاؤنٹ بلکہ پارٹی کا بیک اپ انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تھا، جسے بعد میں بحال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505610'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، انسٹاگرام پیج ہیک ہو گیا ہے، میرا ذاتی انسٹاگرام بھی ہیک ہو چکا ہے، ٹوئٹر اکاؤنٹ روک دیا گیا ہے اور بیک اپ اکاؤنٹ بھی ہٹا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے حامیوں کو خبردار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ براہ کرم نوٹ کریں کہ اس وقت ہماری کسی بھی پلیٹ فارم تک رسائی نہیں ہے، اس کے بعد کی جانے والی کسی بھی پوسٹ کو کاکروچ جنتا پارٹی کا باضابطہ بیان تسلیم نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/230940083222120.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/230940083222120.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ڈپکے کے مطابق انسٹاگرام کی جانب سے ہر بار یہ پیغام موصول ہو رہا تھا کہ ”آپ کے اکاؤنٹ کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر لاک کر دیا گیا ہے، شناخت کی تصدیق اور نیا پاس ورڈ بنانے کے بعد ہی رسائی ممکن ہوگی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ متعدد کوششوں کے باوجود وہ اپنا اکاؤنٹ واپس حاصل نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23093848d9061eb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23093848d9061eb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;اس سے قبل اسی ہفتے کے اوائل میں بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا اصل ٹوئٹر یعنی ایکس اکاؤنٹ بھی روک دیا گیا تھا۔ تاہم اس گروپ نے فوری طور پر ’کاکروچ از بیک‘ کے نام سے ایک نیا اکاؤنٹ بنا کر واپسی کی اور اپنے مخالفین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ کیا آپ نے سوچا تھا کہ آپ ہم سے چھٹکارا پا لیں گے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض چند روز قبل انٹرنیٹ پر ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب ملک کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی ڈیجیٹل سیاسی تحریک بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پارٹی نے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد میں حکمران جماعت بی جے پی اور پھر ملک کی قدیم ترین جماعت کانگریس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی مقبولیت کی بڑی وجہ نوجوان نسل ہے جو سوشل میڈیا پر میمز اور ویڈیوز کے ذریعے بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور سیاسی جوابدہی جیسے سنجیدہ مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف اس تحریک پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے حامیوں نے اس گروپ کو قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس کے مبینہ طور پر بیرونی روابط یا اپوزیشن پارٹیوں کی پشت پناہی کا الزام بھی لگایا ہے۔ تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس کئی اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے اس تحریک میں دلچسپی دکھائی ہے جس سے یہ بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد بوسٹن میں مقیم ابھیجیت دیپکے نے رکھی ہے جو ماضی میں عام آدمی پارٹی کے لیے سوشل میڈیا مہم کا کام کر چکے ہیں۔ پارٹی نے نوجوانوں کے مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں اور سیاسی احتساب جیسے موضوعات کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحریک کا آغاز چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کے اس مبینہ بیان کے بعد ہوا جس میں سوشل میڈیا پر ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کا موازنہ کاکروچ اور طفیلوں سے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کے بیان کو غلط پیش کیا گیا تھا، لیکن یہ معاملہ ایک بڑی آن لائن مہم میں بدل گیا۔ یہ پارٹی طنز و مزاح کے ساتھ انتخابی اصلاحات، خواتین کے تحفظات اور تعلیمی امتحانات کی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ تحریک ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنتی ہے یا صرف انٹرنیٹ تک محدود رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی دہلی میں سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق وہ کئی بار اکاؤنٹ ریکور کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔</strong></p>
<p>یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نوجوانوں کی اس نئی تحریک نے انٹرنیٹ پر سیاسی بحث و مباحثے میں ایک بڑا مقام بنا لیا ہے۔</p>
<p>ابھیجیت دیپکے کے مطابق نہ صرف ان کا ذاتی اکاؤنٹ بلکہ پارٹی کا بیک اپ انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی عارضی طور پر ہٹا دیا گیا تھا، جسے بعد میں بحال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505610'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، انسٹاگرام پیج ہیک ہو گیا ہے، میرا ذاتی انسٹاگرام بھی ہیک ہو چکا ہے، ٹوئٹر اکاؤنٹ روک دیا گیا ہے اور بیک اپ اکاؤنٹ بھی ہٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے حامیوں کو خبردار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ براہ کرم نوٹ کریں کہ اس وقت ہماری کسی بھی پلیٹ فارم تک رسائی نہیں ہے، اس کے بعد کی جانے والی کسی بھی پوسٹ کو کاکروچ جنتا پارٹی کا باضابطہ بیان تسلیم نہ کیا جائے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/230940083222120.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/230940083222120.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p><br>ڈپکے کے مطابق انسٹاگرام کی جانب سے ہر بار یہ پیغام موصول ہو رہا تھا کہ ”آپ کے اکاؤنٹ کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر لاک کر دیا گیا ہے، شناخت کی تصدیق اور نیا پاس ورڈ بنانے کے بعد ہی رسائی ممکن ہوگی“۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ متعدد کوششوں کے باوجود وہ اپنا اکاؤنٹ واپس حاصل نہیں کر سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23093848d9061eb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/23093848d9061eb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p><br>اس سے قبل اسی ہفتے کے اوائل میں بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا اصل ٹوئٹر یعنی ایکس اکاؤنٹ بھی روک دیا گیا تھا۔ تاہم اس گروپ نے فوری طور پر ’کاکروچ از بیک‘ کے نام سے ایک نیا اکاؤنٹ بنا کر واپسی کی اور اپنے مخالفین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ کیا آپ نے سوچا تھا کہ آپ ہم سے چھٹکارا پا لیں گے؟</p>
<p>انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>محض چند روز قبل انٹرنیٹ پر ایک طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب ملک کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی ڈیجیٹل سیاسی تحریک بن چکی ہے۔</p>
<p>اس پارٹی نے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد میں حکمران جماعت بی جے پی اور پھر ملک کی قدیم ترین جماعت کانگریس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>اس غیر معمولی مقبولیت کی بڑی وجہ نوجوان نسل ہے جو سوشل میڈیا پر میمز اور ویڈیوز کے ذریعے بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے آؤٹ ہونے اور سیاسی جوابدہی جیسے سنجیدہ مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے۔</p>
<p>دوسری طرف اس تحریک پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے حامیوں نے اس گروپ کو قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس کے مبینہ طور پر بیرونی روابط یا اپوزیشن پارٹیوں کی پشت پناہی کا الزام بھی لگایا ہے۔ تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔</p>
<p>اس کے برعکس کئی اپوزیشن رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے اس تحریک میں دلچسپی دکھائی ہے جس سے یہ بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔</p>
<p>کاکروچ جنتا پارٹی کی بنیاد بوسٹن میں مقیم ابھیجیت دیپکے نے رکھی ہے جو ماضی میں عام آدمی پارٹی کے لیے سوشل میڈیا مہم کا کام کر چکے ہیں۔ پارٹی نے نوجوانوں کے مسائل، امتحانی بے ضابطگیوں اور سیاسی احتساب جیسے موضوعات کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔</p>
<p>اس تحریک کا آغاز چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کے اس مبینہ بیان کے بعد ہوا جس میں سوشل میڈیا پر ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کا موازنہ کاکروچ اور طفیلوں سے کیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کے بیان کو غلط پیش کیا گیا تھا، لیکن یہ معاملہ ایک بڑی آن لائن مہم میں بدل گیا۔ یہ پارٹی طنز و مزاح کے ساتھ انتخابی اصلاحات، خواتین کے تحفظات اور تعلیمی امتحانات کی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے۔</p>
<p>اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ تحریک ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنتی ہے یا صرف انٹرنیٹ تک محدود رہتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505711</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 10:00:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/230954016b97b73.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/230954016b97b73.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سڑک پر منچلے کو عبرتناک سبق، بہادر لڑکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505674/a-harasser-taught-a-harsh-lesson-on-the-road-brave-girls-video-goes-viral-on-social-media</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شملہ میں ایک نوجوان لڑکی نے دن دیہاڑے پیچھا کرنے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے موٹر سائیکل سوار نوجوان کی تمام حرکتوں کو نہ صرف ناکام بنا دیا بلکہ اس کی بہادری کی ویڈیو بھی اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں لوگ لڑکی کی حاضر دماغی اور جرات کی تعریف کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبہ پیدل اپنے گھر جا رہی تھی۔ جب وہ اپنے گھر سے کچھ ہی دوری پر تھی تو موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان اس کے پیچھے لگ گیا۔  یہ نوجوان بار بار موٹر سائیکل گھما کر لڑکی کے قریب آ رہا تھا اور اسے زبردستی اپنی بائیک پر بیٹھنے کے لیے کہہ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیچ سڑک میں مسلسل پیچھا کیے جانے کی وجہ سے پہلے تو لڑکی ایک لمحے کے لیے گھبرا گئی، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505630/cockroach-emerges-to-launch-his-new-political-party-in-india'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لڑکی نے فوری طور پر عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا موبائل فون نکالا اور کیمرہ آن کر کے اس نوجوان کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو بنتی دیکھ کر ملزم کے ہوش اڑ گئے اور اس کے تیوربالکل بدل گئے۔ وہ کیمرے سے اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کرنے لگا اور لڑکی کو دیدی کہہ کر وہاں سے جلدی نکلنے کا بہانہ بنانے لگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/4mc4UHNIN00'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/4mc4UHNIN00?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سڑک سے گزرنے والے دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے بھی اپنی گاڑیاں روک دی۔ جب ملزم نے دیکھا کہ لوگوں کی نظریں اس پر ٹک گئی ہیں تو وہ شدید خوفزدہ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں لڑکی کو منچلے کو تھپڑ مارتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر لڑکی نے بروقت موبائل کیمرہ آن نہ کیا ہوتا تو ملزم اپنے برے ارادوں میں کامیاب ہو سکتا تھا، اسی لیے لڑکی کی سمجھداری اور ہمت کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505319/rs-15-crore-jewellery-stolen-jewellery-shop-employee-caught-on-camera'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتےے ہوئے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کیس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شملہ میں ایک نوجوان لڑکی نے دن دیہاڑے پیچھا کرنے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے موٹر سائیکل سوار نوجوان کی تمام حرکتوں کو نہ صرف ناکام بنا دیا بلکہ اس کی بہادری کی ویڈیو بھی اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں لوگ لڑکی کی حاضر دماغی اور جرات کی تعریف کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>طالبہ پیدل اپنے گھر جا رہی تھی۔ جب وہ اپنے گھر سے کچھ ہی دوری پر تھی تو موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان اس کے پیچھے لگ گیا۔  یہ نوجوان بار بار موٹر سائیکل گھما کر لڑکی کے قریب آ رہا تھا اور اسے زبردستی اپنی بائیک پر بیٹھنے کے لیے کہہ رہا تھا۔</p>
<p>بیچ سڑک میں مسلسل پیچھا کیے جانے کی وجہ سے پہلے تو لڑکی ایک لمحے کے لیے گھبرا گئی، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505630/cockroach-emerges-to-launch-his-new-political-party-in-india'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505630"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>لڑکی نے فوری طور پر عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا موبائل فون نکالا اور کیمرہ آن کر کے اس نوجوان کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔</p>
<p>ویڈیو بنتی دیکھ کر ملزم کے ہوش اڑ گئے اور اس کے تیوربالکل بدل گئے۔ وہ کیمرے سے اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کرنے لگا اور لڑکی کو دیدی کہہ کر وہاں سے جلدی نکلنے کا بہانہ بنانے لگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/4mc4UHNIN00'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/4mc4UHNIN00?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>اسی دوران سڑک سے گزرنے والے دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے بھی اپنی گاڑیاں روک دی۔ جب ملزم نے دیکھا کہ لوگوں کی نظریں اس پر ٹک گئی ہیں تو وہ شدید خوفزدہ ہو گیا۔</p>
<p>ویڈیو میں لڑکی کو منچلے کو تھپڑ مارتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر لڑکی نے بروقت موبائل کیمرہ آن نہ کیا ہوتا تو ملزم اپنے برے ارادوں میں کامیاب ہو سکتا تھا، اسی لیے لڑکی کی سمجھداری اور ہمت کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505319/rs-15-crore-jewellery-stolen-jewellery-shop-employee-caught-on-camera'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505319"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتےے ہوئے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔</p>
<p>پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کیس کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505674</guid>
      <pubDate>Fri, 22 May 2026 09:54:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/22094544cf433bc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/22094544cf433bc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں جین زی کی نئی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505610/cockroach-janta-party-satirical-indian-political-movement</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ایک طنزیہ سیاسی مہم غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی اس آن لائن مہم کو چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد نے فالو کیا جب کہ ہزاروں نوجوان اس میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے طنزیہ سیاسی مہم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ مہم 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس کے متنازع ریمارکس کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے جمعے کے روز عدالتی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے مخصوص طبقے کو کاکروچ (لال بیگ) سے تشبیہ دی تھی۔ بھارتی چیف جسٹس کے الفاظ تھے کہ ’وہ نوجوان جنہیں کوئی روزگار نہیں ملتا، وہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بن جاتے ہیں اور پھر ہر ایک پر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یہ معاشرے کے کاکروچ ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے بعض افراد کی طرف تھا اور ان کا مقصد بھارتی نوجوانوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بیان کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور یہ طنزیہ مہم سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی جو کہ اب ایک بڑی آن لائن سیاسی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صرف 3 سے 4 روز کے دوران اس مہم نے بھارت کی ’جین زی‘ کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور لاکھوں افراد اس کا حصہ بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/REDBOXINDIIA/status/2056064797096202614'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/REDBOXINDIIA/status/2056064797096202614"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تحریک کا آغاز 16 مئی کو سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ابھیجیت دیپکے نے ایک مذاقیہ سوشل میڈیا پوسٹ سے کیا تھا۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیسا رہے گا؟‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز لانچ کر دیے اور اس پلیٹ فارم کو ’سست اور بے روزگار لوگوں کی آواز‘ قرار دیا اور ساتھ ہی ایک گوگل فارم کے ذریعے لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی بھی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2057070820925616154'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2057070820925616154"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حیران کن طور پر صرف 72 گھنٹوں کے اندر اس پلیٹ فارم کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لاکھوں فالوورز آ گئے اور 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد نوجوانوں نے گوگل فارم کے ذریعے اس کی آن لائن رکنیت فارم بھی بھر دیے۔ انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد اب 3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ سیاسی شخصیات، یہاں تک کہ ممبران اسمبلی بھی اس تحریک میں شامل ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/abhijeet_dipke/status/2055965272788369422'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/abhijeet_dipke/status/2055965272788369422"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس مہم کے وائرل ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نام پر طنزیہ انداز میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا ہے، جس نے اسے مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق فی الحال تو یہ سوشل میڈیا کی حد تک ایک طنزیہ تحریک ہے لیکن اس کے پیچھے بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بیروزگاری، امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے اسکینڈلز اور دیگر مسائل کے حوالے سے گہرا غصہ چھپا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم نے اب عام مسائل پر بھی آواز اٹھانا شروع کردی ہے اور 5 نکاتی منشور بھی جاری کیا ہے، جس میں ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کے سیاسی یا سرکاری عہدے دینے پر پابندی، امتحانی نظام میں کرپشن پر احتساب، پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ، سوشل میڈیا پر آزادی اظہارِ رائے اور ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا حصہ بننے والے سیاسی رہنماؤں پر 20 سال کی پابندی جیسے مطالبات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CJP_2029/status/2055880884859891895'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CJP_2029/status/2055880884859891895"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تحریک کو اس قدر تیزی سے مقبولیت ملنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھنے لگے کہ آیا یہ نیپال اور بنگلہ دیش کی طرز پر جین زی کی انقلابی تحریک کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ بھارت کے نوجوان سیاسی طور پر باشعور اور حکومت میں موجود بیشتر افراد سے زیادہ قابل ہیں۔ وہ اپنے آئینی حقوق کو سمجھتے ہیں اور پرامن اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اختلاف کے حق کو استعمال کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ایک طنزیہ سیاسی مہم غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی اس آن لائن مہم کو چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد نے فالو کیا جب کہ ہزاروں نوجوان اس میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔</strong></p>
<p>بھارت میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے طنزیہ سیاسی مہم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ مہم 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس کے متنازع ریمارکس کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی۔</p>
<p>بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے جمعے کے روز عدالتی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے مخصوص طبقے کو کاکروچ (لال بیگ) سے تشبیہ دی تھی۔ بھارتی چیف جسٹس کے الفاظ تھے کہ ’وہ نوجوان جنہیں کوئی روزگار نہیں ملتا، وہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بن جاتے ہیں اور پھر ہر ایک پر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یہ معاشرے کے کاکروچ ہیں‘۔</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے بعض افراد کی طرف تھا اور ان کا مقصد بھارتی نوجوانوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔</p>
<p>تاہم اس بیان کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور یہ طنزیہ مہم سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی جو کہ اب ایک بڑی آن لائن سیاسی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صرف 3 سے 4 روز کے دوران اس مہم نے بھارت کی ’جین زی‘ کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور لاکھوں افراد اس کا حصہ بن چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/REDBOXINDIIA/status/2056064797096202614'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/REDBOXINDIIA/status/2056064797096202614"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس تحریک کا آغاز 16 مئی کو سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ابھیجیت دیپکے نے ایک مذاقیہ سوشل میڈیا پوسٹ سے کیا تھا۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیسا رہے گا؟‘۔</p>
<p>اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز لانچ کر دیے اور اس پلیٹ فارم کو ’سست اور بے روزگار لوگوں کی آواز‘ قرار دیا اور ساتھ ہی ایک گوگل فارم کے ذریعے لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی بھی دعوت دی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2057070820925616154'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2057070820925616154"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>حیران کن طور پر صرف 72 گھنٹوں کے اندر اس پلیٹ فارم کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لاکھوں فالوورز آ گئے اور 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد نوجوانوں نے گوگل فارم کے ذریعے اس کی آن لائن رکنیت فارم بھی بھر دیے۔ انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد اب 3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ سیاسی شخصیات، یہاں تک کہ ممبران اسمبلی بھی اس تحریک میں شامل ہورہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/abhijeet_dipke/status/2055965272788369422'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/abhijeet_dipke/status/2055965272788369422"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق اس مہم کے وائرل ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نام پر طنزیہ انداز میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا ہے، جس نے اسے مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق فی الحال تو یہ سوشل میڈیا کی حد تک ایک طنزیہ تحریک ہے لیکن اس کے پیچھے بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بیروزگاری، امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے اسکینڈلز اور دیگر مسائل کے حوالے سے گہرا غصہ چھپا ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم نے اب عام مسائل پر بھی آواز اٹھانا شروع کردی ہے اور 5 نکاتی منشور بھی جاری کیا ہے، جس میں ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کے سیاسی یا سرکاری عہدے دینے پر پابندی، امتحانی نظام میں کرپشن پر احتساب، پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ، سوشل میڈیا پر آزادی اظہارِ رائے اور ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا حصہ بننے والے سیاسی رہنماؤں پر 20 سال کی پابندی جیسے مطالبات شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CJP_2029/status/2055880884859891895'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CJP_2029/status/2055880884859891895"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس تحریک کو اس قدر تیزی سے مقبولیت ملنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھنے لگے کہ آیا یہ نیپال اور بنگلہ دیش کی طرز پر جین زی کی انقلابی تحریک کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔</p>
<p>اس پر تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ بھارت کے نوجوان سیاسی طور پر باشعور اور حکومت میں موجود بیشتر افراد سے زیادہ قابل ہیں۔ وہ اپنے آئینی حقوق کو سمجھتے ہیں اور پرامن اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اختلاف کے حق کو استعمال کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505610</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 17:20:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20165845c813c9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20165845c813c9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/cy7TBCjjAzE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/cy7TBCjjAzE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=cy7TBCjjAzE"/>
        <media:title>India Viral Trend | Cockroach Janta Party Meme Movement After Chief Justice Remark - Aaj News</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رونے پر بھی سزا: قدیم چین کے عجیب و غریب قوانین جنہیں سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505603/ancient-china-strange-laws-chinese-history-imperial-china-ancient-punishments-historical-facts-weird-laws</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قدیم چین میں ایسے عجیب اور سخت قوانین موجود تھے جنہیں آج کے دور میں لوگ سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اُس زمانے میں بعض ایسے کام بھی جرم تصور کیے جاتے تھے جو عام انسانی رویہ سمجھے جاتے ہیں، جن میں عوامی مقام پر رونا اور خراب لکھائی شامل تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ دانوں کے مطابق قدیم چینی حکمران معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، عوام کو قابو میں رکھنے اور شہنشاہ سے وفاداری قائم رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرتے تھے۔ ان قوانین کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ لوگوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں مکمل فرمانبردار بنانا بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قِن خاندان کے دور حکومت میں بالغ مردوں کے رونے کو کمزوری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی اہلکاروں کا ماننا تھا کہ مردوں کے آنسو طاقت اور بہادری کے اُس تصور کو نقصان پہنچاتے ہیں جو ریاست اپنے شہریوں میں دیکھنا چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے اگر کسی مرد کو روتے ہوئے دیکھا جاتا تو اسے سزا دی جا سکتی تھی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ایسے افراد کی بھنویں اور داڑھی مونڈ دی جاتی تھیں تاکہ انہیں عوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور دوسروں کے لیے بھی یہ ایک مثال بن جائے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30480542'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30480542"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سوئی خاندان کے دور میں شاہی امتحانی نظام کے دوران ایک اور حیران کن قانون سامنے آیا۔ اس دور میں سرکاری امتحانات انتہائی اہم سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے ذریعے عام لوگ بھی حکومتی عہدے حاصل کر سکتے تھے۔ ان امتحانات میں صرف علم ہی نہیں بلکہ لکھائی کو بھی بہت اہمیت دی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صاف اور خوبصورت لکھائی کو شہنشاہ کے احترام اور اعلیٰ کردار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اگر کسی امیدوار کی لکھائی خراب یا بےترتیب ہوتی تو اسے بطور سزا سیاہی پینے پر مجبور کیا جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق قدیم چین میں بعض سزائیں اس سے بھی کہیں زیادہ سخت اور خوفناک تھیں۔ تاریخی دستاویزات میں چہرے پر مستقل نشان یا ٹیٹو بنانے، جسم کے بعض اعضا کاٹنے اور مخصوص جرائم پر عوامی پھانسی دینے جیسی سزاؤں کا ذکر بھی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505326'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کئی مرتبہ سزاؤں کا مقصد صرف جسمانی تکلیف پہنچانا نہیں ہوتا تھا بلکہ مجرم کو پوری زندگی کے لیے معاشرتی طور پر بدنام اور رسوا کرنا بھی شامل ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین اُس دور کی سماجی اور حکومتی سوچ کی عکاسی کرتے تھے جہاں اطاعت، نظم و ضبط اور اختیار کا احترام ریاستی نظام کو قائم رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حکمرانوں کا خیال تھا کہ سخت سزاؤں کے ذریعے معاشرے پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ قدیم چین کے یہ سخت اور عجیب قوانین اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن آج بھی یہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حیرت اور دلچسپی کا باعث ہیں کیونکہ جدید دور کے قوانین اور انسانی حقوق کے تصورات ان سے بالکل مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قدیم چین میں ایسے عجیب اور سخت قوانین موجود تھے جنہیں آج کے دور میں لوگ سن کر حیران رہ جاتے ہیں۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اُس زمانے میں بعض ایسے کام بھی جرم تصور کیے جاتے تھے جو عام انسانی رویہ سمجھے جاتے ہیں، جن میں عوامی مقام پر رونا اور خراب لکھائی شامل تھے۔</strong></p>
<p>تاریخ دانوں کے مطابق قدیم چینی حکمران معاشرے میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، عوام کو قابو میں رکھنے اور شہنشاہ سے وفاداری قائم رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرتے تھے۔ ان قوانین کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ لوگوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں مکمل فرمانبردار بنانا بھی تھا۔</p>
<p>قِن خاندان کے دور حکومت میں بالغ مردوں کے رونے کو کمزوری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی اہلکاروں کا ماننا تھا کہ مردوں کے آنسو طاقت اور بہادری کے اُس تصور کو نقصان پہنچاتے ہیں جو ریاست اپنے شہریوں میں دیکھنا چاہتی تھی۔ اسی وجہ سے اگر کسی مرد کو روتے ہوئے دیکھا جاتا تو اسے سزا دی جا سکتی تھی۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ایسے افراد کی بھنویں اور داڑھی مونڈ دی جاتی تھیں تاکہ انہیں عوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور دوسروں کے لیے بھی یہ ایک مثال بن جائے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30480542'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30480542"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی طرح سوئی خاندان کے دور میں شاہی امتحانی نظام کے دوران ایک اور حیران کن قانون سامنے آیا۔ اس دور میں سرکاری امتحانات انتہائی اہم سمجھے جاتے تھے کیونکہ ان کے ذریعے عام لوگ بھی حکومتی عہدے حاصل کر سکتے تھے۔ ان امتحانات میں صرف علم ہی نہیں بلکہ لکھائی کو بھی بہت اہمیت دی جاتی تھی۔</p>
<p>صاف اور خوبصورت لکھائی کو شہنشاہ کے احترام اور اعلیٰ کردار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق اگر کسی امیدوار کی لکھائی خراب یا بےترتیب ہوتی تو اسے بطور سزا سیاہی پینے پر مجبور کیا جا سکتا تھا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق قدیم چین میں بعض سزائیں اس سے بھی کہیں زیادہ سخت اور خوفناک تھیں۔ تاریخی دستاویزات میں چہرے پر مستقل نشان یا ٹیٹو بنانے، جسم کے بعض اعضا کاٹنے اور مخصوص جرائم پر عوامی پھانسی دینے جیسی سزاؤں کا ذکر بھی ملتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505326'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505326"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کئی مرتبہ سزاؤں کا مقصد صرف جسمانی تکلیف پہنچانا نہیں ہوتا تھا بلکہ مجرم کو پوری زندگی کے لیے معاشرتی طور پر بدنام اور رسوا کرنا بھی شامل ہوتا تھا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین اُس دور کی سماجی اور حکومتی سوچ کی عکاسی کرتے تھے جہاں اطاعت، نظم و ضبط اور اختیار کا احترام ریاستی نظام کو قائم رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حکمرانوں کا خیال تھا کہ سخت سزاؤں کے ذریعے معاشرے پر بہتر کنٹرول رکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ قدیم چین کے یہ سخت اور عجیب قوانین اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، لیکن آج بھی یہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حیرت اور دلچسپی کا باعث ہیں کیونکہ جدید دور کے قوانین اور انسانی حقوق کے تصورات ان سے بالکل مختلف ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505603</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 15:26:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20150316edcabde.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20150316edcabde.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نارویجین اخبار میں مودی کے کارٹون پر ہنگامہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505593/narendra-modi-norway-media-freedom-indian-aggression-international-relations-aftenposten-cartoon-controversy</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ناروے کے ایک معروف اخبار نے نریندر مودی کا ایک ایسا  کارٹون شائع کیا ہے جس پر دنیا بھر میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارٹون میں بھارتی وزیراعظم کو ایک سانپوں کے کرتب دکھانے والے جوگی کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ میں بین ہے اور سامنے ٹوکری میں فیولنگ پائپ ہے جو سانپ کی شکل کی ہے۔ یہ خاکہ ایک رائے عامہ کے مضمون کے ساتھ چھاپا گیا جس کا عنوان ”ایک شاطر اور تھوڑا پریشان کن آدمی“ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارٹون کے سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر اپنا ردِعمل دینا شروع کردیا۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ خاکہ پرانی اور روایتی مغربی سوچ  کو ظاہر کرتا ہے، جس میں بھارت کو ماضی میں صرف جادوگروں اور سانپوں کا ملک سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم مودی ناروے کے سرکاری دورے پر تھے اور وہاں ایک پریس بریفنگ کے دوران ناروے کی ایک صحافی ہیلے لنگ نے ان سے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/20120102aae6e76.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/20120102aae6e76.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صحافی نے پوچھا کہ بھارتی وزیراعظم کھلے عام میڈیا کے سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے اور انہوں نے بھارت میں پریس کی آزادی اور انسانی حقوق پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اگرچہ اس وقت دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن صحافی نے اس واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارٹون میں مبینہ طور پر وزیرِاعظم مودی کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا جو بِین اور سامنے ٹوکری میں سانپ جیسی شکل والی پٹرول پائپ ہے، جسے کئی لوگوں نے پرانی نوآبادیاتی سوچ اور ہندوستان سے منسلک دقیانوسی تصورات کی عکاسی قرار دیا۔ اسی اخبار میں شائع ایک مضمون کا عنوان بھی اس تنازع کا حصہ بنا، جس میں مودی کو ”شاطرمگر قدرے پریشان شخص“ کہا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع کے دوران بھارت کی وزارتِ خارجہ کے سینئر اہلکار سبی جارج  نے بھی ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے جمہوری نظام اور میڈیا کے وسیع دائرے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مختلف زبانوں میں سینکڑوں ٹی وی چینلز اور روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں خبریں نشر ہوتی ہیں، اس لیے ملک کی صورتِ حال کو محدود رپورٹوں کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر بحث کے دوران کئی صارفین نے وزیراعظم نریندر مودی کے پرانے بیانات کا بھی حوالہ دیا، جن میں انہوں نے خود کہا تھا کہ اب دنیا بھارت کو ”سانپوں کا کرتب دکھانے والا ملک“ نہیں بلکہ کمپیوٹر کا ماؤس چلانے والے نوجوانوں کا ملک سمجھتی ہے۔ اس سے پہلے 2022 میں بھی اسپین کے ایک اخبار نے بھارت کی معاشی ترقی پر بات کرتے ہوئے اسی طرح کا خاکہ بنایا تھا، جس پر تب بھی کافی احتجاج ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ناروے کے ایک معروف اخبار نے نریندر مودی کا ایک ایسا  کارٹون شائع کیا ہے جس پر دنیا بھر میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔</strong></p>
<p>اس کارٹون میں بھارتی وزیراعظم کو ایک سانپوں کے کرتب دکھانے والے جوگی کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ میں بین ہے اور سامنے ٹوکری میں فیولنگ پائپ ہے جو سانپ کی شکل کی ہے۔ یہ خاکہ ایک رائے عامہ کے مضمون کے ساتھ چھاپا گیا جس کا عنوان ”ایک شاطر اور تھوڑا پریشان کن آدمی“ تھا۔</p>
<p>اس کارٹون کے سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر اپنا ردِعمل دینا شروع کردیا۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ خاکہ پرانی اور روایتی مغربی سوچ  کو ظاہر کرتا ہے، جس میں بھارت کو ماضی میں صرف جادوگروں اور سانپوں کا ملک سمجھا جاتا تھا۔</p>
<p>یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم مودی ناروے کے سرکاری دورے پر تھے اور وہاں ایک پریس بریفنگ کے دوران ناروے کی ایک صحافی ہیلے لنگ نے ان سے ایک چبھتا ہوا سوال کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/20120102aae6e76.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/20120102aae6e76.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>صحافی نے پوچھا کہ بھارتی وزیراعظم کھلے عام میڈیا کے سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے اور انہوں نے بھارت میں پریس کی آزادی اور انسانی حقوق پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اگرچہ اس وقت دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن صحافی نے اس واقعے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔</p>
<p>کارٹون میں مبینہ طور پر وزیرِاعظم مودی کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا جو بِین اور سامنے ٹوکری میں سانپ جیسی شکل والی پٹرول پائپ ہے، جسے کئی لوگوں نے پرانی نوآبادیاتی سوچ اور ہندوستان سے منسلک دقیانوسی تصورات کی عکاسی قرار دیا۔ اسی اخبار میں شائع ایک مضمون کا عنوان بھی اس تنازع کا حصہ بنا، جس میں مودی کو ”شاطرمگر قدرے پریشان شخص“ کہا گیا تھا۔</p>
<p>اس تنازع کے دوران بھارت کی وزارتِ خارجہ کے سینئر اہلکار سبی جارج  نے بھی ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے جمہوری نظام اور میڈیا کے وسیع دائرے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مختلف زبانوں میں سینکڑوں ٹی وی چینلز اور روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں خبریں نشر ہوتی ہیں، اس لیے ملک کی صورتِ حال کو محدود رپورٹوں کی بنیاد پر نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر بحث کے دوران کئی صارفین نے وزیراعظم نریندر مودی کے پرانے بیانات کا بھی حوالہ دیا، جن میں انہوں نے خود کہا تھا کہ اب دنیا بھارت کو ”سانپوں کا کرتب دکھانے والا ملک“ نہیں بلکہ کمپیوٹر کا ماؤس چلانے والے نوجوانوں کا ملک سمجھتی ہے۔ اس سے پہلے 2022 میں بھی اسپین کے ایک اخبار نے بھارت کی معاشی ترقی پر بات کرتے ہوئے اسی طرح کا خاکہ بنایا تھا، جس پر تب بھی کافی احتجاج ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505593</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 12:39:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/201232044a18fe0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/201232044a18fe0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی پروازوں میں چرس ساتھ لے جانے کی اجازت: لیکن ایک بڑے سرپرائز کے ساتھ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505594/us-allows-passengers-to-carry-weed-on-flights-but-theres-a-big-surprise</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ میں ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک بڑی خبر آئی ہے کہ وہ اب مقامی پروازوں کے دوران طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی چرس یعنی میڈیکل ماریجوانا اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم شرط بھی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ائیرپورٹس پر سیکیورٹی کے ذمہ دار ادارے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) نے اپنے قوانین میں یہ تبدیلی کی ہے، جس کے تحت میڈیکل استعمال کے لیے تجویز کی گئی کیمبس مصنوعات کو کیری آن یا چیکڈ بیگج میں لے جایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے، جب امریکی حکومت نے ماریجوانا کو کم خطرناک ادویات کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کا طبی استعمال ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504108/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسافر کے پاس چھوٹے پیمانے پر قانونی میڈیکل ویڈ ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان کم ہے، بشرطیکہ وہ ایسے ریاست میں سفر کر رہے ہوں جہاں ماریجوانا قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ہر ریاست کے قوانین کو اچھی طرح جانچ لیں کیونکہ قوانین اب بھی ریاست بہ ریاست مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نئے قانون سے برسوں سے الجھن کا شکار مسافروں کو بڑی راحت ملے گی کیونکہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں چرس کے حوالے سے قوانین الگ الگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے امریکی صوبوں میں طبی یا تفریحی مقاصد کے لیے چرس قانونی ہے لیکن وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ اشیاء میں شمار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ائیرپورٹس اور ہوائی سفر کے قوانین وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے مسافر ہمیشہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس کے ساتھ پکڑے جانے سے ڈرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی ہدایات کے مطابق ٹی ایس اے کے اہلکار عام چیکنگ کے دوران خاص طور پر منشیات کی تلاش نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ان کا اصل کام مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ہتھیاروں یا دھماکہ خیز مواد جیسے خطرناک خطرات کو روکنا ہے۔ تاہم ادارے نے اس اجازت کے ساتھ ایک بڑی شرط بھی رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503682/family-disappearance-mystery-solved'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹی ایس اے کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اہلکاروں کو چرس ملتی ہے اور انہیں شک ہوتا ہے کہ اس سے کسی وفاقی یا مقامی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو وہ اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چیک پوائنٹ پر موجود ڈیوٹی افسر کا فیصلہ ہی آخری مانا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جن ریاستوں میں چرس قانونی ہے، وہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ کم مقدار میں چرس لے جانے والے مسافروں پر مقدمہ چلنے کا امکان بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود مسافروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ پرواز سے پہلے متعلقہ ریاستوں کے قوانین اچھی طرح چیک کر لیں کیونکہ قوانین اب بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ مختلف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پالیسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں چرس کی قبولیت بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر مسافر کے لیے ماریجوانا مکمل طور پر قانونی ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ میں ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک بڑی خبر آئی ہے کہ وہ اب مقامی پروازوں کے دوران طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی چرس یعنی میڈیکل ماریجوانا اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم شرط بھی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی ائیرپورٹس پر سیکیورٹی کے ذمہ دار ادارے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) نے اپنے قوانین میں یہ تبدیلی کی ہے، جس کے تحت میڈیکل استعمال کے لیے تجویز کی گئی کیمبس مصنوعات کو کیری آن یا چیکڈ بیگج میں لے جایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے، جب امریکی حکومت نے ماریجوانا کو کم خطرناک ادویات کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کا طبی استعمال ممکن ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504108/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504108"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مسافر کے پاس چھوٹے پیمانے پر قانونی میڈیکل ویڈ ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کا امکان کم ہے، بشرطیکہ وہ ایسے ریاست میں سفر کر رہے ہوں جہاں ماریجوانا قانونی ہے۔</p>
<p>تاہم، مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ہر ریاست کے قوانین کو اچھی طرح جانچ لیں کیونکہ قوانین اب بھی ریاست بہ ریاست مختلف ہیں۔</p>
<p>اس نئے قانون سے برسوں سے الجھن کا شکار مسافروں کو بڑی راحت ملے گی کیونکہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں چرس کے حوالے سے قوانین الگ الگ ہیں۔</p>
<p>بہت سے امریکی صوبوں میں طبی یا تفریحی مقاصد کے لیے چرس قانونی ہے لیکن وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ اشیاء میں شمار ہوتی ہے۔</p>
<p>چونکہ ائیرپورٹس اور ہوائی سفر کے قوانین وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے مسافر ہمیشہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس کے ساتھ پکڑے جانے سے ڈرتے تھے۔</p>
<p>نئی ہدایات کے مطابق ٹی ایس اے کے اہلکار عام چیکنگ کے دوران خاص طور پر منشیات کی تلاش نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ان کا اصل کام مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ہتھیاروں یا دھماکہ خیز مواد جیسے خطرناک خطرات کو روکنا ہے۔ تاہم ادارے نے اس اجازت کے ساتھ ایک بڑی شرط بھی رکھی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503682/family-disappearance-mystery-solved'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503682"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ٹی ایس اے کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اہلکاروں کو چرس ملتی ہے اور انہیں شک ہوتا ہے کہ اس سے کسی وفاقی یا مقامی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو وہ اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چیک پوائنٹ پر موجود ڈیوٹی افسر کا فیصلہ ہی آخری مانا جائے گا۔</p>
<p>قانونی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جن ریاستوں میں چرس قانونی ہے، وہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ کم مقدار میں چرس لے جانے والے مسافروں پر مقدمہ چلنے کا امکان بہت کم ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود مسافروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ پرواز سے پہلے متعلقہ ریاستوں کے قوانین اچھی طرح چیک کر لیں کیونکہ قوانین اب بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ مختلف ہیں۔</p>
<p>اس پالیسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں چرس کی قبولیت بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر مسافر کے لیے ماریجوانا مکمل طور پر قانونی ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505594</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 12:03:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20120148dcc9396.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20120148dcc9396.webp"/>
        <media:title>تصویر/ اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پرانی پینٹ کی جیب سے 57 کروڑ روپے کا لاٹری ٹکٹ نکل آیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505583/lottery-ticket-worth-rs-57-crore-found-in-old-pants-pocket</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک شخص کی  قسمت اس وقت حیرت انگیز طور پر بدل گئی جب اسے اپنی ایک پرانی پینٹ کی جیب سے 5.9 ملین ڈالر(ایک ارب 640 کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد مالیت کا لاٹری ٹکٹ ملا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹکٹ اس وقت ملا جب اس کی میعاد ختم ہونے میں صرف آٹھ دن باقی رہ گئے تھے۔ اگر یہ چند دن مزید نہ ملتا تو یہ خطیر رقم ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://people.com/man-finds-5-9-million-winning-lottery-ticket-old-pants-pocket-8-days-before-it-expired-11978948"&gt;پیپلز میگزین&lt;/a&gt; کے مطابق اس خوش قسمت شخص نے یہ لاٹری ٹکٹ مئی 2025 میں ایک پٹرول پمپ سے خریدا تھا جہاں وہ اکثر جاتا رہتا تھا۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد وہ اسے کہیں رکھ کر بھول گیا اور تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505359/man-jumps-on-railway-track-to-retrieve-indonesian-womans-dupatta-video-viral'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505359"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لاٹری کے محکمے نے اعلان کیا کہ ایک سال پہلے بیچا گیا جیک پاٹ ٹکٹ ابھی تک کسی نے وصول نہیں کیا اوراس کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔ لاٹری قوانین کے تحت جیتنے والے کے پاس انعام وصول کرنے کے لیے ایک سال کا وقت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان سن کر اس شخص کا دھیان اس طرف گیا کیونکہ وہ لاٹری ٹکٹ اسی پٹرول پمپ سے بیچا گیا تھا جہاں وہ روز جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے تجسس میں آ کر پٹرول پمپ کا رخ کیا اور وہاں کے ملازمین سے بات چیت کی۔ ملازمین نے اسے بتایا کہ یہ خاص لاٹری گیم صرف چند پرانے اور مستقل گاہک ہی کھیلتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاٹری حکام کے بیان کے مطابق اگرچہ انہیں یقین نہیں تھا کہ اصل فاتح کون ہے، لیکن انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی تمام چیزیں دوبارہ اچھی طرح چیک کرے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504161/140-chickens-die-due-to-dj-noise-at-a-wedding'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504161"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس مشورے کے بعد اس شخص نے اپنے گھر کے ہر کونے کی تلاشی لی۔اس نے گھر کی درازیں، الماریاں اور دکانیں چھان ماریں اور آخر میں جب اپنے وارڈرب میں لٹکے پرانے کپڑوں کی جیبیں دیکھنا شروع کیں تو اسے ایک پرانی پینٹ کی جیب سے مڑا تڑا ٹکٹ مل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اس نے لاٹری کے نمبروں کو اخبار سے ملایا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ واقعی ارب پتی بن چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ فوراً لاٹری کے دفتر پہنچا اور آخری تاریخ سے محض آٹھ دن پہلے اپنا انعام وصول کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد لاٹری حکام نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اپنے پرانے ٹکٹ باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اکثر لوگ انعام جیتنے کے بعد بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ٹکٹ کہاں رکھا تھا اور یوں وہ اپنے کروڑوں روپے کے انعامات سے محروم رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں ایک شخص کی  قسمت اس وقت حیرت انگیز طور پر بدل گئی جب اسے اپنی ایک پرانی پینٹ کی جیب سے 5.9 ملین ڈالر(ایک ارب 640 کروڑ پاکستانی روپے) سے زائد مالیت کا لاٹری ٹکٹ ملا۔</strong></p>
<p>یہ ٹکٹ اس وقت ملا جب اس کی میعاد ختم ہونے میں صرف آٹھ دن باقی رہ گئے تھے۔ اگر یہ چند دن مزید نہ ملتا تو یہ خطیر رقم ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://people.com/man-finds-5-9-million-winning-lottery-ticket-old-pants-pocket-8-days-before-it-expired-11978948">پیپلز میگزین</a> کے مطابق اس خوش قسمت شخص نے یہ لاٹری ٹکٹ مئی 2025 میں ایک پٹرول پمپ سے خریدا تھا جہاں وہ اکثر جاتا رہتا تھا۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد وہ اسے کہیں رکھ کر بھول گیا اور تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505359/man-jumps-on-railway-track-to-retrieve-indonesian-womans-dupatta-video-viral'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505359"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ ماہ لاٹری کے محکمے نے اعلان کیا کہ ایک سال پہلے بیچا گیا جیک پاٹ ٹکٹ ابھی تک کسی نے وصول نہیں کیا اوراس کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔ لاٹری قوانین کے تحت جیتنے والے کے پاس انعام وصول کرنے کے لیے ایک سال کا وقت ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ اعلان سن کر اس شخص کا دھیان اس طرف گیا کیونکہ وہ لاٹری ٹکٹ اسی پٹرول پمپ سے بیچا گیا تھا جہاں وہ روز جاتا تھا۔</p>
<p>اس نے تجسس میں آ کر پٹرول پمپ کا رخ کیا اور وہاں کے ملازمین سے بات چیت کی۔ ملازمین نے اسے بتایا کہ یہ خاص لاٹری گیم صرف چند پرانے اور مستقل گاہک ہی کھیلتے ہیں۔</p>
<p>لاٹری حکام کے بیان کے مطابق اگرچہ انہیں یقین نہیں تھا کہ اصل فاتح کون ہے، لیکن انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ اپنی تمام چیزیں دوبارہ اچھی طرح چیک کرے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504161/140-chickens-die-due-to-dj-noise-at-a-wedding'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504161"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس مشورے کے بعد اس شخص نے اپنے گھر کے ہر کونے کی تلاشی لی۔اس نے گھر کی درازیں، الماریاں اور دکانیں چھان ماریں اور آخر میں جب اپنے وارڈرب میں لٹکے پرانے کپڑوں کی جیبیں دیکھنا شروع کیں تو اسے ایک پرانی پینٹ کی جیب سے مڑا تڑا ٹکٹ مل گیا۔</p>
<p>جب اس نے لاٹری کے نمبروں کو اخبار سے ملایا تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ وہ واقعی ارب پتی بن چکا تھا۔</p>
<p>وہ فوراً لاٹری کے دفتر پہنچا اور آخری تاریخ سے محض آٹھ دن پہلے اپنا انعام وصول کرلیا۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد لاٹری حکام نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اپنے پرانے ٹکٹ باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اکثر لوگ انعام جیتنے کے بعد بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ٹکٹ کہاں رکھا تھا اور یوں وہ اپنے کروڑوں روپے کے انعامات سے محروم رہ جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505583</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 09:32:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/20092541e75f6d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/20092541e75f6d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'کرائے کے ماتمی'؛ قدیم روایت جہاں پیشہ ور افراد غم میں رونے کا معاوضہ لیتے ہیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505559/professional-mourners-ancient-tradition-where-people-are-paid-just-to-cry-in-grief</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کسی جنازے میں زور زور سے رونے، سینہ کوبی کرنے یا بین ڈالنے والے افراد کو دیکھ کر عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ مرحوم کے قریبی عزیز ہوں گے۔ مگر دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں پرانی ایسی روایت بھی موجود ہے جہاں بعض لوگ غم منانے کے لیے باقاعدہ معاوضہ لیتے ہیں۔ ’پیشہ ور ماتمی‘ یا ’موئیرو لوجسٹ‘ کہلانے والے یہ افراد نہ صرف جنازوں میں شریک ہوتے ہیں بلکہ سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو بانٹنے کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ جدید دور میں یہ روایت پہلے جتنی عام نہیں رہی لیکن دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی پیشہ ور ماتم داری ایک باقاعدہ پیشہ سمجھی جاتی ہے۔ ان افراد کو مختلف ثقافتوں میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا ہے، مگر ان کا بنیادی کام ایک ہی ہوتا ہے، مرنے والے کے لیے غم کا اظہار کرنا، چاہے ان کا مرحوم سے کوئی ذاتی تعلق نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پیشہ ورانہ سوگ منانے کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے اور اس کے آثار قدیم مصر، روم، چین اور مشرقِ وسطیٰ کی تہذیبوں میں ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر میں قائم &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://arce.org/resource/crying-for-the-departed-how-mourning-women-helped-the-dead-reach-the-afterlife-in-ancient-egypt/"&gt;امریکن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ&lt;/a&gt; کے مطابق قدیم مصر میں اس پیشے کے لیے سخت قواعد موجود تھے۔ صرف بے اولاد خواتین کو ہی ماتم دار بننے کی اجازت تھی۔ اس دور میں مردوں کے لیے عوامی طور پر رونا معیوب سمجھا جاتا تھا، اسی لیے خواتین ماتم داروں کی اہمیت زیادہ تھی۔ ان خواتین کے کندھوں پر دیویوں کے نام گدوائے جاتے تھے تاکہ وہ جنازے میں روحانی علامت کے طور پر شریک ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدیم روم میں بھی دولت مند خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے۔ وہاں جنازے میں جتنے زیادہ رونے والے موجود ہوتے، اسے اتنی ہی عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا۔ بلند آواز میں رونا، کپڑے پھاڑنا اور بال نوچنا غم کے قابلِ احترام اظہار مانے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت کے ساتھ یہ روایت مختلف معاشروں میں تبدیل ہوتی گئی۔ آج کے پیشہ ور ماتم دار ماضی کی طرح ڈرامائی انداز میں غم کا اظہار کم کرتے ہیں، تاہم ان کا کردار اب بھی ثقافتی اور جذباتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/kenya-professional-mourners-tribal-tradition-christianity-83ed730ccaa8b7c55ca55dd71f3ea5b9?taid=6a0c269c5bba4e0001a518ea&amp;amp;utm_campaign=TrueAnthem&amp;amp;utm_medium=AP&amp;amp;utm_source=Twitter"&gt;ایسوسی ایٹڈ پریس&lt;/a&gt; نے حال ہی میں کینیا میں کرائے داروں پر ایک فیچر اسٹوری شائع کی ہے جس کے مطابق کینیا کے مغربی علاقوں میں، خاص طور پر جھیل وکٹوریہ کے اطراف آباد لوؤ برادری میں، جنازے صرف سوگ کی تقریبات نہیں بلکہ ایک سماجی اور روحانی روایت بھی سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بلند آواز میں رونا، گیت گانا، زمین پر شاخیں پٹخنا اور اجتماعی ماتم کرنا مرنے والے کے احترام اور بری روحوں کو دور رکھنے کا ایک طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔ پیشہ ور ماتم داروں کا کردار اب ایک مستقل اور نسبتاً منافع بخش روزگار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2012901683353825518'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2012901683353825518"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کرائے کے ماتمیوں کے مطابق وہ دوسروں کے غم میں شریک ہونے کے لیے اپنے ذاتی دکھوں کو محسوس کرکے غمگین کیفیت اختیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرائے پر ماتم کرنے والوں کی یہ روایت صرف کینیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ باقاعدہ ایک منافع بخش روزگار اور قدیم ثقافت کا حصہ ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں یہ روایت الگ الگ شکلوں میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2046609832208388428'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2046609832208388428"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;چین میں آج بھی بعض علاقوں میں جنازوں کے لیے پیشہ ور ماتم داروں کی خدمات حاصل کرنا عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چینی ثقافت میں جہاں عمومی حالات میں عوامی جذبات کا اظہار کم کیا جاتا ہے، مگر جنازے کے موقع پر رونا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے بعض خاندان کرائے کے سوگوار افراد کو بلاتے ہیں تاکہ مناسب انداز میں غم کا اظہار کیا جا سکے، اس روایت کو ’کو سانگ‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ’رونا اور سوگ منانا‘ جب کہ بین کرنے والی خواتین کو ’کو سانگ پو‘ (رونے والی خواتین) کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theworldofchinese.com/2022/02/the-extraordinary-life-of-a-professional-mourner/"&gt;دی ورلڈ فار چائینز&lt;/a&gt; نامی جریدے کے مطابق چین میں بعض پیشہ ور ماتم دار اتنے مقبول ہیں کہ وہ میت کی آخری رسومات میں صرف روتے ہی نہیں بلکہ باقاعدہ ڈرامائی پرفارمنس دیتے ہیں جس میں وہ گھٹنوں کے بل چل کر تابوت تک جاتے ہیں، موسیقی بجاتے ہیں اور بعد میں میت کی روح کو خوش کرنے کے لیے رقص بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے سرکاری میڈیا &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.globaltimes.cn/content/1171401.shtml"&gt;گلوبل ٹائمز&lt;/a&gt; کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیشہ ور ماتم دار اس کام سے سالانہ 2 لاکھ یوآن تک کما لیتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس سروس کی مانگ کتنی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر، جیسلمیر، جودھ پور اور باڑمیر جیسے علاقوں میں بھی یہ صدیوں پرانی روایت موجود ہے جہاں &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thefinancialexpress.com.bd/lifestyle/culture/rudaalis-rajasthan-the-women-who-cry-and-mourn-as-a-profession"&gt;رودالی &lt;/a&gt;(رونے والی خاتون) نامی خواتین اس روایت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ خواتین جنازوں میں سینہ کوبی، چیخ و پکار اور بین کے ذریعے غم کا اظہار کرتی ہیں، بعض اوقات 12 روز تک جاری رہنے والی رسومات میں بھی شریک رہتی ہیں۔ کسی خاندان کی سماجی حیثیت کا اندازہ بھی اس بات سے لگایا جاتا تھا کہ ان کے جنازے میں سوگ کی شدت کتنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی مصنفہ ندھی ڈوگر کنڈالیا کی مشہور کتاب ’دی لوسٹ جنریشن‘ کے مطابق یہ روایت اب صرف چند دور دراز دیہاتوں تک محدود رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/thecaravanindia/status/706502184007921664'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/thecaravanindia/status/706502184007921664"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی کتاب میں راجستھان کے ایک جاگیردار کا قول نقل ہے کہ ’ہم اپنے گھر کی خواتین کو باہر تماشہ بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ اونچی ذات کی خواتین عام لوگوں کے سامنے رو کر اپنا وقار خراب نہیں کرتیں، اس لیے یہ کام نچلی ذات کی رودالی خواتین سے کروایا جاتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب میں بتایا گیا ہے کہ راجستھان میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور نچلی ذات کی خواتین میں بیداری کی وجہ سے نئی نسل نے اس پیشے کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تامل ناڈو کے کچھ حصوں میں ’اوپاری‘ نامی روایتی لوک فن موجود ہے، جس میں خواتین جنازوں پر مرنے والے کی زندگی کی کہانیاں گیتوں اور بین کی شکل میں گا کر روتی ہیں۔ تاہم یہاں پیشہ ور افراد کے بجائے خاندان کے قریبی لوگ ہی یہ رسومات ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جدید دور میں ترقی میں سب آگے سمجھے جانے والے ممالک امریکا اور برطانیہ میں یہ سروس کمرشل بنیادوں پر آج بھی دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں کرائے کی ماتم داری کی روایت وکٹورین دور میں شروع ہوئی تھی، اس دور میں سوگ کو ایک باقاعدہ سماجی رسم کی حیثیت حاصل تھی۔ امیر خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے تاکہ مرنے والے کے لیے غم کا اظہار کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MonarchSuccess/status/1835199387670393038'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MonarchSuccess/status/1835199387670393038"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں آج بھی یہ سروس باقاعدہ کاروباری شکل میں فعال ہے۔ اگرچہ اس شعبے کو کمرشلائز کرنے کی بنیاد رکھنے والی مشہور ترین کمپنی ’رینٹ اے مورنر‘ اب آپریشنز بند کر چکی ہے لیکن اس کی جگہ برطانیہ کی بڑی پروموشنل اور کراؤڈ ہائرنگ ایجنسیوں نے لے لی ہے اور فیس بک گروپس میں ان افراد کی بھرتیوں کے اشتہارات عام ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191501000379898.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191501000379898.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کمپنیاں اب پورے برطانیہ میں باقاعدہ کرائے کے ماتمی فراہم کرتی ہیں۔ یہ خدمات تب حاصل کی جاتی ہیں جب مرنے والا بہت بوڑھا ہو اور اس کے تمام ہم عمر دوست انتقال کر چکے ہوں، یا وہ خاندان اس علاقے میں نیا منتقل ہوا ہو اور جنازے میں حاضری کم ہونے کا خدشہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں یہ سروس برطانیہ کی طرح کسی مخصوص بڑی کمپنی کے تحت کمرشلائز نہیں ہوسکی، بلکہ یہ زیادہ تر کاسٹنگ ایجنسیوں، فری لانسرز اور مخصوص روایتی فیونرل ہومز کے ذریعے کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میں آخری رسومات کی تقریبات کے انتظامات کرنے والی ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dalewoodwardfuneralhomes.com/resources/our-blog/introducing-professional-mourners"&gt;ایجنسی&lt;/a&gt; کے مطابق امریکا میں پیشہ ور ماتم داروں کی مانگ اب بھی موجود ہے اور یہ ان خاندانوں کے لیے ایک اہم ضرورت ہے جو اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں یا جنازے کا ماحول بہتر بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پیشہ ور ماتم داری کے لیے کسی باقاعدہ ڈگری یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم اداکاری، جذباتی اظہار اور عوامی تقریبات میں شرکت کی صلاحیت اس کام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بعض افراد اپنی ذاتی زندگی کے غم اور نقصان کے تجربات کو دوسروں کے دکھ سے جڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے کرائے کے ماتم داروں کا تصور غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن کئی ثقافتوں میں انہیں ایک ایسی خدمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو کم کرنے اور جنازے کو زیادہ بامعنی بنانے میں مدد دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کسی جنازے میں زور زور سے رونے، سینہ کوبی کرنے یا بین ڈالنے والے افراد کو دیکھ کر عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ مرحوم کے قریبی عزیز ہوں گے۔ مگر دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں پرانی ایسی روایت بھی موجود ہے جہاں بعض لوگ غم منانے کے لیے باقاعدہ معاوضہ لیتے ہیں۔ ’پیشہ ور ماتمی‘ یا ’موئیرو لوجسٹ‘ کہلانے والے یہ افراد نہ صرف جنازوں میں شریک ہوتے ہیں بلکہ سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو بانٹنے کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ جدید دور میں یہ روایت پہلے جتنی عام نہیں رہی لیکن دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی پیشہ ور ماتم داری ایک باقاعدہ پیشہ سمجھی جاتی ہے۔ ان افراد کو مختلف ثقافتوں میں الگ الگ ناموں سے جانا جاتا ہے، مگر ان کا بنیادی کام ایک ہی ہوتا ہے، مرنے والے کے لیے غم کا اظہار کرنا، چاہے ان کا مرحوم سے کوئی ذاتی تعلق نہ ہو۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پیشہ ورانہ سوگ منانے کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے اور اس کے آثار قدیم مصر، روم، چین اور مشرقِ وسطیٰ کی تہذیبوں میں ملتے ہیں۔</p>
<p>مصر میں قائم <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://arce.org/resource/crying-for-the-departed-how-mourning-women-helped-the-dead-reach-the-afterlife-in-ancient-egypt/">امریکن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ</a> کے مطابق قدیم مصر میں اس پیشے کے لیے سخت قواعد موجود تھے۔ صرف بے اولاد خواتین کو ہی ماتم دار بننے کی اجازت تھی۔ اس دور میں مردوں کے لیے عوامی طور پر رونا معیوب سمجھا جاتا تھا، اسی لیے خواتین ماتم داروں کی اہمیت زیادہ تھی۔ ان خواتین کے کندھوں پر دیویوں کے نام گدوائے جاتے تھے تاکہ وہ جنازے میں روحانی علامت کے طور پر شریک ہو سکیں۔</p>
<p>قدیم روم میں بھی دولت مند خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے۔ وہاں جنازے میں جتنے زیادہ رونے والے موجود ہوتے، اسے اتنی ہی عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا۔ بلند آواز میں رونا، کپڑے پھاڑنا اور بال نوچنا غم کے قابلِ احترام اظہار مانے جاتے تھے۔</p>
<p>وقت کے ساتھ یہ روایت مختلف معاشروں میں تبدیل ہوتی گئی۔ آج کے پیشہ ور ماتم دار ماضی کی طرح ڈرامائی انداز میں غم کا اظہار کم کرتے ہیں، تاہم ان کا کردار اب بھی ثقافتی اور جذباتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>امریکی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/kenya-professional-mourners-tribal-tradition-christianity-83ed730ccaa8b7c55ca55dd71f3ea5b9?taid=6a0c269c5bba4e0001a518ea&amp;utm_campaign=TrueAnthem&amp;utm_medium=AP&amp;utm_source=Twitter">ایسوسی ایٹڈ پریس</a> نے حال ہی میں کینیا میں کرائے داروں پر ایک فیچر اسٹوری شائع کی ہے جس کے مطابق کینیا کے مغربی علاقوں میں، خاص طور پر جھیل وکٹوریہ کے اطراف آباد لوؤ برادری میں، جنازے صرف سوگ کی تقریبات نہیں بلکہ ایک سماجی اور روحانی روایت بھی سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>یہاں بلند آواز میں رونا، گیت گانا، زمین پر شاخیں پٹخنا اور اجتماعی ماتم کرنا مرنے والے کے احترام اور بری روحوں کو دور رکھنے کا ایک طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔ پیشہ ور ماتم داروں کا کردار اب ایک مستقل اور نسبتاً منافع بخش روزگار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2012901683353825518'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2012901683353825518"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کرائے کے ماتمیوں کے مطابق وہ دوسروں کے غم میں شریک ہونے کے لیے اپنے ذاتی دکھوں کو محسوس کرکے غمگین کیفیت اختیار کرتے ہیں۔</p>
<p>کرائے پر ماتم کرنے والوں کی یہ روایت صرف کینیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ باقاعدہ ایک منافع بخش روزگار اور قدیم ثقافت کا حصہ ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں یہ روایت الگ الگ شکلوں میں موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2046609832208388428'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2046609832208388428"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>چین میں آج بھی بعض علاقوں میں جنازوں کے لیے پیشہ ور ماتم داروں کی خدمات حاصل کرنا عزت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چینی ثقافت میں جہاں عمومی حالات میں عوامی جذبات کا اظہار کم کیا جاتا ہے، مگر جنازے کے موقع پر رونا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے بعض خاندان کرائے کے سوگوار افراد کو بلاتے ہیں تاکہ مناسب انداز میں غم کا اظہار کیا جا سکے، اس روایت کو ’کو سانگ‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ’رونا اور سوگ منانا‘ جب کہ بین کرنے والی خواتین کو ’کو سانگ پو‘ (رونے والی خواتین) کہا جاتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theworldofchinese.com/2022/02/the-extraordinary-life-of-a-professional-mourner/">دی ورلڈ فار چائینز</a> نامی جریدے کے مطابق چین میں بعض پیشہ ور ماتم دار اتنے مقبول ہیں کہ وہ میت کی آخری رسومات میں صرف روتے ہی نہیں بلکہ باقاعدہ ڈرامائی پرفارمنس دیتے ہیں جس میں وہ گھٹنوں کے بل چل کر تابوت تک جاتے ہیں، موسیقی بجاتے ہیں اور بعد میں میت کی روح کو خوش کرنے کے لیے رقص بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>چین کے سرکاری میڈیا <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.globaltimes.cn/content/1171401.shtml">گلوبل ٹائمز</a> کی 2019 کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیشہ ور ماتم دار اس کام سے سالانہ 2 لاکھ یوآن تک کما لیتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس سروس کی مانگ کتنی زیادہ ہے۔</p>
<p>بھارت کی ریاست راجستھان کے صحرائے تھر، جیسلمیر، جودھ پور اور باڑمیر جیسے علاقوں میں بھی یہ صدیوں پرانی روایت موجود ہے جہاں <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://thefinancialexpress.com.bd/lifestyle/culture/rudaalis-rajasthan-the-women-who-cry-and-mourn-as-a-profession">رودالی </a>(رونے والی خاتون) نامی خواتین اس روایت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ خواتین جنازوں میں سینہ کوبی، چیخ و پکار اور بین کے ذریعے غم کا اظہار کرتی ہیں، بعض اوقات 12 روز تک جاری رہنے والی رسومات میں بھی شریک رہتی ہیں۔ کسی خاندان کی سماجی حیثیت کا اندازہ بھی اس بات سے لگایا جاتا تھا کہ ان کے جنازے میں سوگ کی شدت کتنی ہے۔</p>
<p>بھارتی مصنفہ ندھی ڈوگر کنڈالیا کی مشہور کتاب ’دی لوسٹ جنریشن‘ کے مطابق یہ روایت اب صرف چند دور دراز دیہاتوں تک محدود رہ گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/thecaravanindia/status/706502184007921664'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/thecaravanindia/status/706502184007921664"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسی کتاب میں راجستھان کے ایک جاگیردار کا قول نقل ہے کہ ’ہم اپنے گھر کی خواتین کو باہر تماشہ بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ اونچی ذات کی خواتین عام لوگوں کے سامنے رو کر اپنا وقار خراب نہیں کرتیں، اس لیے یہ کام نچلی ذات کی رودالی خواتین سے کروایا جاتا ہے‘۔</p>
<p>کتاب میں بتایا گیا ہے کہ راجستھان میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور نچلی ذات کی خواتین میں بیداری کی وجہ سے نئی نسل نے اس پیشے کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے۔</p>
<p>تامل ناڈو کے کچھ حصوں میں ’اوپاری‘ نامی روایتی لوک فن موجود ہے، جس میں خواتین جنازوں پر مرنے والے کی زندگی کی کہانیاں گیتوں اور بین کی شکل میں گا کر روتی ہیں۔ تاہم یہاں پیشہ ور افراد کے بجائے خاندان کے قریبی لوگ ہی یہ رسومات ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جدید دور میں ترقی میں سب آگے سمجھے جانے والے ممالک امریکا اور برطانیہ میں یہ سروس کمرشل بنیادوں پر آج بھی دستیاب ہے۔</p>
<p>برطانیہ میں کرائے کی ماتم داری کی روایت وکٹورین دور میں شروع ہوئی تھی، اس دور میں سوگ کو ایک باقاعدہ سماجی رسم کی حیثیت حاصل تھی۔ امیر خاندان جنازوں میں پیشہ ور ماتم داروں کو بلاتے تھے تاکہ مرنے والے کے لیے غم کا اظہار کیا جاسکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MonarchSuccess/status/1835199387670393038'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MonarchSuccess/status/1835199387670393038"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں آج بھی یہ سروس باقاعدہ کاروباری شکل میں فعال ہے۔ اگرچہ اس شعبے کو کمرشلائز کرنے کی بنیاد رکھنے والی مشہور ترین کمپنی ’رینٹ اے مورنر‘ اب آپریشنز بند کر چکی ہے لیکن اس کی جگہ برطانیہ کی بڑی پروموشنل اور کراؤڈ ہائرنگ ایجنسیوں نے لے لی ہے اور فیس بک گروپس میں ان افراد کی بھرتیوں کے اشتہارات عام ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191501000379898.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/191501000379898.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یہ کمپنیاں اب پورے برطانیہ میں باقاعدہ کرائے کے ماتمی فراہم کرتی ہیں۔ یہ خدمات تب حاصل کی جاتی ہیں جب مرنے والا بہت بوڑھا ہو اور اس کے تمام ہم عمر دوست انتقال کر چکے ہوں، یا وہ خاندان اس علاقے میں نیا منتقل ہوا ہو اور جنازے میں حاضری کم ہونے کا خدشہ ہو۔</p>
<p>امریکا میں یہ سروس برطانیہ کی طرح کسی مخصوص بڑی کمپنی کے تحت کمرشلائز نہیں ہوسکی، بلکہ یہ زیادہ تر کاسٹنگ ایجنسیوں، فری لانسرز اور مخصوص روایتی فیونرل ہومز کے ذریعے کام کرتی ہے۔</p>
<p>امریکی میں آخری رسومات کی تقریبات کے انتظامات کرنے والی ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dalewoodwardfuneralhomes.com/resources/our-blog/introducing-professional-mourners">ایجنسی</a> کے مطابق امریکا میں پیشہ ور ماتم داروں کی مانگ اب بھی موجود ہے اور یہ ان خاندانوں کے لیے ایک اہم ضرورت ہے جو اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں یا جنازے کا ماحول بہتر بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پیشہ ور ماتم داری کے لیے کسی باقاعدہ ڈگری یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم اداکاری، جذباتی اظہار اور عوامی تقریبات میں شرکت کی صلاحیت اس کام میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بعض افراد اپنی ذاتی زندگی کے غم اور نقصان کے تجربات کو دوسروں کے دکھ سے جڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض لوگوں کے لیے کرائے کے ماتم داروں کا تصور غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن کئی ثقافتوں میں انہیں ایک ایسی خدمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سوگوار خاندانوں کے جذباتی بوجھ کو کم کرنے اور جنازے کو زیادہ بامعنی بنانے میں مدد دیتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505559</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 15:53:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/19151539e7188bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/19151539e7188bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں اپنی نئی سیاسی جماعت لانچ کرنے والا 'کاکروچ' کون ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505630/cockroach-emerges-to-launch-his-new-political-party-in-india</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے تیس سالہ طالب علم ابھیجیت دیپکے نے انٹرنیٹ پر ملنے والے ایک طعنے کو سیاسی شناخت میں بدلتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھیجیت حال ہی میں بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں اورملازمت کے لیے درخواستیں دے رہے تھے کہ اسی دوران بھارت کے چیف جسٹس کے ایک بیان نے انٹرنیٹ پر نوجوانوں میں غصے کی لہر دوڑا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس آف انڈیا نے سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو کاکروچ یعنی لال بیگ اور پیرا سائٹ سے تشبیہہ دی تھی جس پر نوجوانوں نے شدید احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505610/cockroach-janta-party-satirical-indian-political-movement'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/abhijeet-dipke-cockroach-janata-party-how-cji-remark-sparked-a-gen-z-movement-indias-newest-political-party-launched-2914516-2026-05-20"&gt;انڈیا ٹو ڈے &lt;/a&gt;کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاکروچ کا لفظ سن کر بہت غصہ آیا اور یہ غصہ اس لیے زیادہ تھا کیونکہ یہ بات ملک کے چیف جسٹس کی طرف سے آئی تھی جو آئین کے محافظ ہیں اور ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ تبصرہ حکمران جماعت کے کسی بندے نے کیا ہوتا تو شاید اتنی ہلچل نہ مچتی، لیکن جب آپ کو اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنے والا ہی لال بیگ کہے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھیجیت دیپکے کا ماننا ہے کہ یہ ردعمل دراصل بھارتی نوجوانوں، خاص طور پر نوجوان نسل کے اس شدید غصے اور مایوسی کو ظاہر کرتا ہے جو وہ نمائندگی، روزگار اور موجودہ سیاسی گفتگو پر طویل عرصے سے محسوس کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انوکھی تحریک سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی ہے اور صرف چند ہی دنوں میں اس کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان جڑ چکے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد تینتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زیادہ لوگ باقاعدہ رجسٹر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;ابھیجیت کے مطابق یہ کوئی منصوبہ بند مہم نہیں تھی بلکہ نوجوانوں کے برسوں کے دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے، کیونکہ بھارت میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی موجود ہے لیکن ان کی اکثریت کے پاس روزگار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505359/man-jumps-on-railway-track-to-retrieve-indonesian-womans-dupatta-video-viral'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505359"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ابھیجیت نے بتایا کہ ان کی جماعت کا مقصد نوجوانوں کی آواز کو سیاسی سطح پر پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان برسوں سے موجود سیاسی نظام سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور انہیں سننے والا کوئی نہیں ہے۔ دیپکے کا کہنا ہے کہ جماعت نوجوانوں کی رائے اور مسائل کو سن کر ان کے لیے مناسب سیاسی ڈسکورس تیار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر پانچ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کی سیٹ یا کوئی سرکاری عہدہ نہ دیا جائے، خواتین کو کابینہ اور اسمبلیوں میں تینتیس فیصد کے بجائے پچاس فیصد ریزرویشن ملے اور بڑے کاروباری خاندانوں کے میڈیا لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ ابھیجیت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا بھارت چاہتے ہیں جہاں عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا جیسے تمام ادارے آزاد ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ جنتا پارٹی کے مستقبل اور انتخابی سیاست میں آنے کے سوال پر ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس تحریک کو شروع ہوئے صرف چند دن ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس مہم میں کسی دوسری سیاسی جماعت کو شامل نہیں ہونے دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقول ابھیجیت ان کا مقصد بھارت کے سیاسی رخ کو بدلنا ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے صرف ہندو مسلم کے موضوعات پر پھنسا ہوا ہے، جبکہ نوجوان نسل اب ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سیمی کنڈکٹر جیسے جدید موضوعات پر بات کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈنگ اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ جلد بازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے اس تحریک کو نقصان پہنچے، اس لیے وہ تھوڑا وقت لے کر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیپکے کے مطابق یہ تحریک صرف سوشل میڈیا کا رجحان نہیں بلکہ ایک حقیقی تنظیم میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پاس لاکھوں ممبرز اور فالوورز ہیں، جو بھارت کے نوجوانوں کی وسیع سیاسی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے تیس سالہ طالب علم ابھیجیت دیپکے نے انٹرنیٹ پر ملنے والے ایک طعنے کو سیاسی شناخت میں بدلتے ہوئے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ابھیجیت حال ہی میں بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں اورملازمت کے لیے درخواستیں دے رہے تھے کہ اسی دوران بھارت کے چیف جسٹس کے ایک بیان نے انٹرنیٹ پر نوجوانوں میں غصے کی لہر دوڑا دی۔</p>
<p>چیف جسٹس آف انڈیا نے سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوانوں کو کاکروچ یعنی لال بیگ اور پیرا سائٹ سے تشبیہہ دی تھی جس پر نوجوانوں نے شدید احتجاج کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505610/cockroach-janta-party-satirical-indian-political-movement'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/story/abhijeet-dipke-cockroach-janata-party-how-cji-remark-sparked-a-gen-z-movement-indias-newest-political-party-launched-2914516-2026-05-20">انڈیا ٹو ڈے </a>کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کاکروچ کا لفظ سن کر بہت غصہ آیا اور یہ غصہ اس لیے زیادہ تھا کیونکہ یہ بات ملک کے چیف جسٹس کی طرف سے آئی تھی جو آئین کے محافظ ہیں اور ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی دیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ تبصرہ حکمران جماعت کے کسی بندے نے کیا ہوتا تو شاید اتنی ہلچل نہ مچتی، لیکن جب آپ کو اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنے والا ہی لال بیگ کہے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔</p>
<p>ابھیجیت دیپکے کا ماننا ہے کہ یہ ردعمل دراصل بھارتی نوجوانوں، خاص طور پر نوجوان نسل کے اس شدید غصے اور مایوسی کو ظاہر کرتا ہے جو وہ نمائندگی، روزگار اور موجودہ سیاسی گفتگو پر طویل عرصے سے محسوس کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ انوکھی تحریک سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی ہے اور صرف چند ہی دنوں میں اس کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں نوجوان جڑ چکے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد تینتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زیادہ لوگ باقاعدہ رجسٹر ہو چکے ہیں۔</p>
<p><br>ابھیجیت کے مطابق یہ کوئی منصوبہ بند مہم نہیں تھی بلکہ نوجوانوں کے برسوں کے دبے ہوئے غصے کا نتیجہ ہے، کیونکہ بھارت میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی موجود ہے لیکن ان کی اکثریت کے پاس روزگار نہیں ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505359/man-jumps-on-railway-track-to-retrieve-indonesian-womans-dupatta-video-viral'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505359"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ابھیجیت نے بتایا کہ ان کی جماعت کا مقصد نوجوانوں کی آواز کو سیاسی سطح پر پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان برسوں سے موجود سیاسی نظام سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں اور انہیں سننے والا کوئی نہیں ہے۔ دیپکے کا کہنا ہے کہ جماعت نوجوانوں کی رائے اور مسائل کو سن کر ان کے لیے مناسب سیاسی ڈسکورس تیار کرے گی۔</p>
<p>کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنی ویب سائٹ پر پانچ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کی سیٹ یا کوئی سرکاری عہدہ نہ دیا جائے، خواتین کو کابینہ اور اسمبلیوں میں تینتیس فیصد کے بجائے پچاس فیصد ریزرویشن ملے اور بڑے کاروباری خاندانوں کے میڈیا لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ ابھیجیت کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسا بھارت چاہتے ہیں جہاں عدلیہ، الیکشن کمیشن اور میڈیا جیسے تمام ادارے آزاد ہوں۔</p>
<p>کاکروچ جنتا پارٹی کے مستقبل اور انتخابی سیاست میں آنے کے سوال پر ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس تحریک کو شروع ہوئے صرف چند دن ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس مہم میں کسی دوسری سیاسی جماعت کو شامل نہیں ہونے دیں گے۔</p>
<p>بقول ابھیجیت ان کا مقصد بھارت کے سیاسی رخ کو بدلنا ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے صرف ہندو مسلم کے موضوعات پر پھنسا ہوا ہے، جبکہ نوجوان نسل اب ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سیمی کنڈکٹر جیسے جدید موضوعات پر بات کرنا چاہتی ہے۔</p>
<p>فنڈنگ اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ جلد بازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے اس تحریک کو نقصان پہنچے، اس لیے وہ تھوڑا وقت لے کر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔</p>
<p>دیپکے کے مطابق یہ تحریک صرف سوشل میڈیا کا رجحان نہیں بلکہ ایک حقیقی تنظیم میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پاس لاکھوں ممبرز اور فالوورز ہیں، جو بھارت کے نوجوانوں کی وسیع سیاسی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505630</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 11:08:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/21105536701e24d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/21105536701e24d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حج بیگ میں کون سی چیزیں رکھنا لازمی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505557/what-essential-items-should-be-packed-in-a-hajj-bag</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقدس ترین فریضے حج کی ادائیگی ہر مسلمان کے لیے ایک یادگار اور بے پناہ روحانی خوشی کا موقع ہوتی ہے۔ اس بابرکت اور ایمان افروز سفر پر روانگی سے قبل جہاں دینی اور روحانی تیاری ناگزیرہے، وہیں اپنے ضروری سامان کو بہترین انداز میں ترتیب دینا بھی بے حد ضروری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجربہ کار حاجیوں اور حج کے امور سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عازمین اپنے حج بیگ کو ایک خاص، منظم اور جدید تقاضوں کے مطابق تیار کریں، تو وہ دوران سفر بہت سی الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حج کے انتظامات سنبھالنے والے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عازمین کو بھاری اور غیر ضروری اشیاء ساتھ لے جانے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے اور صرف وہی چیزیں رکھنی چاہییں جو واقعی کام آئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504427/saudi-arabia-impose-new-rules-for-haj'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504427"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر عازمین کی سہولت کے لیے حج بیگ کو تین بنیادی حصوں میں بانٹا جاتا ہے جن میں روزمرہ استعمال کی چیزیں، عبادات سے متعلق اشیاء اور صحت کی حفاظت کا سامان شامل ہے، تاہم موجودہ دور کے جدید سفری اصولوں کے تحت اب اسمارٹ فون اور مالیاتی منصوبہ بندی بھی اس سفر کا اہم حصہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی سامان کی بات کی جائے تو لباس اور احرام کے انتخاب کے حوالے سے ماہرین کا مشورہ ہے کہ مرد حضرات اپنے ساتھ کم از کم دو عدد احرام ضرور رکھیں تاکہ بوقت ضرورت انہیں بدلا جا سکے، جبکہ خواتین کے لیے آرام دہ، ہلکے اور ڈھیلے عبایے سب سے موزوں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ پہننے کے کپڑے، تولیہ، سوتی موزے، رات کو سونے کا ہلکا لباس اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی آرام دہ چپل یا سینڈل کا انتخاب کریں جس سے پیدل چلنے میں آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی، مکہ کے ہوٹل سے پانچ دنوں کے لیے منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے سفر کے لیے ایک چھوٹا بیک بیگ  بھی لازمی پاس رکھیں، تاکہ بڑا بیگ ہوٹل میں چھوڑ کر صرف پانچ دنوں کا ضروری سامان اس چھوٹے بیگ میں آسانی سے لے جایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک سفری دستاویزات اور مالی معاملات کا تعلق ہے، پاسپورٹ، ویزا، حج پرمٹ، ہوٹل کی بکنگ اور ٹکٹ وغیرہ کو ایک ایسے پاؤچ میں رکھیں جو پانی سے خراب نہ ہو، جبکہ ان تمام کاغذات کی فوٹو کاپیاں بھی لازمی اپنے پاس الگ سے محفوظ رکھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499150/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق عازمین کو اپنے ساتھ مناسب مقدار میں سعودی ریال رکھنے چاہییں، خاص طور پر چھوٹے نوٹ جیسے ایک، پانچ اور دس ریال روزمرہ کے چھوٹے اخراجات اور صدقہ و خیرات کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں، جبکہ ہنگامی ضرورت کے لیے بین الاقوامی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ پاس رکھنا بھی ایک اسمارٹ فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل کے ڈیجیٹل دور میں رابطے بحال رکھنے کے لیے موبائل فون اور چارجر کے ساتھ پاور بینک بھی انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحت اور ادویات کے شعبے میں ڈاکٹرز عازمین کو خاص تاکید کرتے ہیں کہ اگر کوئی عازمِ حج شوگر، بلڈ پریشر یا دل کے مرض میں مبتلا ہے تو وہ اپنی باقاعدہ ادویات وافر مقدار میں ہمراہ لے کر جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ عام ضرورت کی چیزیں جیسے درد دور کرنے کی گولیاں، بینڈیج، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر بیگ میں لازمی ہونے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی شدید گرمی اور تپش سے بچنے کے لیے عازمین اپنے ساتھ ایک سفید رنگ کی چھتری اور سن بلاک کریم ضرور رکھیں، جبکہ گرمی کے باعث جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی سے بچنے کے لیے او آر ایس کے پیکٹ اور پانی کی ایک اچھی بوتل ساتھ رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبادات کو یکسوئی سے ادا کرنے کے لیے ایک چھوٹا قرآن پاک، دعاؤں کی کتاب، تسبیح، ہلکی جائے نماز اور پیسے یا موبائل سنبھالنے کے لیے کمر پر باندھنے والا بیلٹ پاؤچ عازمین کے بہت کام آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ عازمین اپنے تجربات لکھنے کے لیے چھوٹی ڈائری اور قلم بھی پاس رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خشک خوراک جیسے کھجوریں، بسکٹ، گری دار میوے اور روزمرہ صفائی کے لیے ٹوتھ برش، صابن اور ٹشو پیپر بھی اپنے پاس رکھنے چاہییں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے عازمین کو ایک بہت ہی مفید مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے تمام بیگز کے اوپر اپنا نام، موبائل نمبر، پتہ اور مکتب یا گروپ کا نمبر واضح طور پر لکھیں تاکہ ہجوم میں سامان گم ہونے کی صورت میں اسے ڈھونڈنا آسان ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عازمین حج کا خود بھی یہ کہنا ہے کہ سامان کی پہلے سے کی گئی اچھی تیاری اور مناسب ڈیجیٹل و سفری منصوبہ بندی نہ صرف سفر کی تھکان کو کم کرتی ہے بلکہ انسان کو پورے سکون، یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقدس ترین فریضے حج کی ادائیگی ہر مسلمان کے لیے ایک یادگار اور بے پناہ روحانی خوشی کا موقع ہوتی ہے۔ اس بابرکت اور ایمان افروز سفر پر روانگی سے قبل جہاں دینی اور روحانی تیاری ناگزیرہے، وہیں اپنے ضروری سامان کو بہترین انداز میں ترتیب دینا بھی بے حد ضروری ہے۔</strong></p>
<p>تجربہ کار حاجیوں اور حج کے امور سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عازمین اپنے حج بیگ کو ایک خاص، منظم اور جدید تقاضوں کے مطابق تیار کریں، تو وہ دوران سفر بہت سی الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>حج کے انتظامات سنبھالنے والے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عازمین کو بھاری اور غیر ضروری اشیاء ساتھ لے جانے سے سخت پرہیز کرنا چاہیے اور صرف وہی چیزیں رکھنی چاہییں جو واقعی کام آئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30504427/saudi-arabia-impose-new-rules-for-haj'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30504427"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عام طور پر عازمین کی سہولت کے لیے حج بیگ کو تین بنیادی حصوں میں بانٹا جاتا ہے جن میں روزمرہ استعمال کی چیزیں، عبادات سے متعلق اشیاء اور صحت کی حفاظت کا سامان شامل ہے، تاہم موجودہ دور کے جدید سفری اصولوں کے تحت اب اسمارٹ فون اور مالیاتی منصوبہ بندی بھی اس سفر کا اہم حصہ بن چکی ہے۔</p>
<p>روایتی سامان کی بات کی جائے تو لباس اور احرام کے انتخاب کے حوالے سے ماہرین کا مشورہ ہے کہ مرد حضرات اپنے ساتھ کم از کم دو عدد احرام ضرور رکھیں تاکہ بوقت ضرورت انہیں بدلا جا سکے، جبکہ خواتین کے لیے آرام دہ، ہلکے اور ڈھیلے عبایے سب سے موزوں رہتے ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ پہننے کے کپڑے، تولیہ، سوتی موزے، رات کو سونے کا ہلکا لباس اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی آرام دہ چپل یا سینڈل کا انتخاب کریں جس سے پیدل چلنے میں آسانی ہو۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی، مکہ کے ہوٹل سے پانچ دنوں کے لیے منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے سفر کے لیے ایک چھوٹا بیک بیگ  بھی لازمی پاس رکھیں، تاکہ بڑا بیگ ہوٹل میں چھوڑ کر صرف پانچ دنوں کا ضروری سامان اس چھوٹے بیگ میں آسانی سے لے جایا جا سکے۔</p>
<p>جہاں تک سفری دستاویزات اور مالی معاملات کا تعلق ہے، پاسپورٹ، ویزا، حج پرمٹ، ہوٹل کی بکنگ اور ٹکٹ وغیرہ کو ایک ایسے پاؤچ میں رکھیں جو پانی سے خراب نہ ہو، جبکہ ان تمام کاغذات کی فوٹو کاپیاں بھی لازمی اپنے پاس الگ سے محفوظ رکھیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30499150/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30499150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق عازمین کو اپنے ساتھ مناسب مقدار میں سعودی ریال رکھنے چاہییں، خاص طور پر چھوٹے نوٹ جیسے ایک، پانچ اور دس ریال روزمرہ کے چھوٹے اخراجات اور صدقہ و خیرات کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں، جبکہ ہنگامی ضرورت کے لیے بین الاقوامی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ پاس رکھنا بھی ایک اسمارٹ فیصلہ ہے۔</p>
<p>آج کل کے ڈیجیٹل دور میں رابطے بحال رکھنے کے لیے موبائل فون اور چارجر کے ساتھ پاور بینک بھی انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p>صحت اور ادویات کے شعبے میں ڈاکٹرز عازمین کو خاص تاکید کرتے ہیں کہ اگر کوئی عازمِ حج شوگر، بلڈ پریشر یا دل کے مرض میں مبتلا ہے تو وہ اپنی باقاعدہ ادویات وافر مقدار میں ہمراہ لے کر جائے۔</p>
<p>اس کے علاوہ عام ضرورت کی چیزیں جیسے درد دور کرنے کی گولیاں، بینڈیج، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر بیگ میں لازمی ہونے چاہییں۔</p>
<p>سعودی عرب کی شدید گرمی اور تپش سے بچنے کے لیے عازمین اپنے ساتھ ایک سفید رنگ کی چھتری اور سن بلاک کریم ضرور رکھیں، جبکہ گرمی کے باعث جسم میں نمکیات اور پانی کی کمی سے بچنے کے لیے او آر ایس کے پیکٹ اور پانی کی ایک اچھی بوتل ساتھ رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>عبادات کو یکسوئی سے ادا کرنے کے لیے ایک چھوٹا قرآن پاک، دعاؤں کی کتاب، تسبیح، ہلکی جائے نماز اور پیسے یا موبائل سنبھالنے کے لیے کمر پر باندھنے والا بیلٹ پاؤچ عازمین کے بہت کام آتا ہے۔</p>
<p>کچھ عازمین اپنے تجربات لکھنے کے لیے چھوٹی ڈائری اور قلم بھی پاس رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خشک خوراک جیسے کھجوریں، بسکٹ، گری دار میوے اور روزمرہ صفائی کے لیے ٹوتھ برش، صابن اور ٹشو پیپر بھی اپنے پاس رکھنے چاہییں۔</p>
<p>ماہرین نے عازمین کو ایک بہت ہی مفید مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے تمام بیگز کے اوپر اپنا نام، موبائل نمبر، پتہ اور مکتب یا گروپ کا نمبر واضح طور پر لکھیں تاکہ ہجوم میں سامان گم ہونے کی صورت میں اسے ڈھونڈنا آسان ہو۔</p>
<p>عازمین حج کا خود بھی یہ کہنا ہے کہ سامان کی پہلے سے کی گئی اچھی تیاری اور مناسب ڈیجیٹل و سفری منصوبہ بندی نہ صرف سفر کی تھکان کو کم کرتی ہے بلکہ انسان کو پورے سکون، یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505557</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 15:06:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1915050532960ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1915050532960ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی یوٹیوبر نے 140 سال پرانا قرض ادا کر کے پاکستانی خاندان کو غلامی سے چھڑا لیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505541/pakistan-kasur-bondedlabour-humanrights-modernslavery-debtbondage-socialimpact</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ضلع قصور میں اینٹوں کے بھٹے پر نسلوں سے جبری مشقت کرنے والے ایک خاندان کی آزادی کی خبر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو جذباتی کر دیا ہے۔ ایرن ہچنگز نامی ایک غیر ملکی  نے خاندان کا پرانا قرض ادا کر کے انہیں تقریباً 140 سال بعد اس نظام سے نجات دلائی، جس میں خاندان کی چار نسلیں پھنسی ہوئی تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یہ خاندان کئی دہائیوں سے بھٹے پر کام کر رہا تھا۔ ان پر موجود قرض نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، جس کے باعث خاندان کے افراد اپنی پوری زندگی محنت مزدوری کرنے کے باوجود اس قرض سے آزادی حاصل نہ کر سکے۔ اس نظام میں اکثر مزدور خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں، لیکن سود، کم اجرت اور دیگر اخراجات کی وجہ سے قرض ختم ہونے کے بجائے بڑھتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505549/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرن ہچنگز نے “پروجیکٹ جوبلی” کے ذریعے اس خاندان کی مدد کی، جو ایسے افراد اور خاندانوں کو آزادی دلانے کے لیے کام کرتا ہے جو جبری مشقت یا قرض کے بدلے مزدوری کے نظام میں پھنسے ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت یہ پانچواں خاندان ہے جسے آزاد کرایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرن ہچنگز ایک انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں جو مختلف ممالک میں جبری مشقت کے شکار افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قرض کی ادائیگی کے بعد خاندان کو آخرکار بھٹے سے نکلنے اور آزاد زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد ہزاروں افراد نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے حیرت ظاہر کی کہ جدید دور میں بھی ایسے حالات موجود ہیں جہاں لوگ اپنے آباؤ اجداد کے قرض کی وجہ سے غلامی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے لوگوں نے ایرن ہچنگز کے اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی قدم اٹھایا۔ کچھ صارفین نے اس واقعے کو غربت، استحصال اور معاشی کمزوری کے درمیان گہرے تعلق کی یاد دہانی بھی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جبری مشقت اور قرض کے بدلے مزدوری کا نظام کئی ممالک میں غیر قانونی ہے، لیکن غریب اور کمزور طبقات اب بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے خاندان اکثر مالی مشکلات کے باعث مالکان پر انحصار کرنے لگتے ہیں اور پھر اس چکر سے باہر نکلنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505540/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505540"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگوں کی توجہ خاندان کی رہائی کے جذباتی پہلو پر رہی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ چار نسلوں کے بعد آزادی ملنا صرف قرض ختم ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے بوجھ کا خاتمہ ہے جس نے کئی نسلوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی افراد نے اس واقعے کو انسانیت کی بہترین مثال قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ ایک شخص کا قدم پورے خاندان کا مستقبل بدل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ضلع قصور میں اینٹوں کے بھٹے پر نسلوں سے جبری مشقت کرنے والے ایک خاندان کی آزادی کی خبر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو جذباتی کر دیا ہے۔ ایرن ہچنگز نامی ایک غیر ملکی  نے خاندان کا پرانا قرض ادا کر کے انہیں تقریباً 140 سال بعد اس نظام سے نجات دلائی، جس میں خاندان کی چار نسلیں پھنسی ہوئی تھیں۔</strong></p>
<p>رپورٹس کے مطابق یہ خاندان کئی دہائیوں سے بھٹے پر کام کر رہا تھا۔ ان پر موجود قرض نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، جس کے باعث خاندان کے افراد اپنی پوری زندگی محنت مزدوری کرنے کے باوجود اس قرض سے آزادی حاصل نہ کر سکے۔ اس نظام میں اکثر مزدور خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں، لیکن سود، کم اجرت اور دیگر اخراجات کی وجہ سے قرض ختم ہونے کے بجائے بڑھتا رہتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505549/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرن ہچنگز نے “پروجیکٹ جوبلی” کے ذریعے اس خاندان کی مدد کی، جو ایسے افراد اور خاندانوں کو آزادی دلانے کے لیے کام کرتا ہے جو جبری مشقت یا قرض کے بدلے مزدوری کے نظام میں پھنسے ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت یہ پانچواں خاندان ہے جسے آزاد کرایا گیا ہے۔</p>
<p>ایرن ہچنگز ایک انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں جو مختلف ممالک میں جبری مشقت کے شکار افراد کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DYfFgRmJB56/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>قرض کی ادائیگی کے بعد خاندان کو آخرکار بھٹے سے نکلنے اور آزاد زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد ہزاروں افراد نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کئی صارفین نے حیرت ظاہر کی کہ جدید دور میں بھی ایسے حالات موجود ہیں جہاں لوگ اپنے آباؤ اجداد کے قرض کی وجہ سے غلامی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>بہت سے لوگوں نے ایرن ہچنگز کے اقدام کو انسانیت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی قدم اٹھایا۔ کچھ صارفین نے اس واقعے کو غربت، استحصال اور معاشی کمزوری کے درمیان گہرے تعلق کی یاد دہانی بھی قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DYbYRywMUCp/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق جبری مشقت اور قرض کے بدلے مزدوری کا نظام کئی ممالک میں غیر قانونی ہے، لیکن غریب اور کمزور طبقات اب بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے خاندان اکثر مالی مشکلات کے باعث مالکان پر انحصار کرنے لگتے ہیں اور پھر اس چکر سے باہر نکلنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505540/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505540"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگوں کی توجہ خاندان کی رہائی کے جذباتی پہلو پر رہی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ چار نسلوں کے بعد آزادی ملنا صرف قرض ختم ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے بوجھ کا خاتمہ ہے جس نے کئی نسلوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔</p>
<p>کئی افراد نے اس واقعے کو انسانیت کی بہترین مثال قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ ایک شخص کا قدم پورے خاندان کا مستقبل بدل سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505541</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 12:36:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/19123052c7815de.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/19123052c7815de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عیدالاضحیٰ پر 'ڈونلڈ ٹرمپ' کو قربان کرنے کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505516/bangladesh-donaldtrump-buffalo-viralnews-eidaladha</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش میں عید الاضحیٰ کے موقع پر دو ایسے بھینسے سوشل میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جن کے نام دنیا کے معروف لیڈروں پر رکھے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت ایک ایسے نایاب بھینسے کو ملی ہے جس کی رنگت اور سر کے بال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہت رکھتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے شہر نارائن گنج کے علاقے پائیک پارا میں موجود اس بھینسے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور لوگ خاص طور پر اس کے سنہری رنگ کے بالوں اور چہرے کی ساخت کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملتا جلتا بتا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فارم ہاؤس میں موجود تقریباً سات سو کلو گرام وزنی سفید بھینسا راتوں رات مشہور ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس بھینسے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے فارم کا رخ کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بھینسے کے سر پر موجود سنہری بال اور اس کے چہرے کی بناوٹ بالکل ڈونلڈ ٹرمپ سے ملتی جلتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Alhamdhulillaah/status/2053893469643420077?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Alhamdhulillaah/status/2053893469643420077?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فارم کے مالک ضیاء الدین نے بتایا کہ انہوں نے یہ جانور تقریباً دس ماہ قبل راجشاہی کی ایک مویشی منڈی سے خریدا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی نے مذاق میں اس کے سر کے بالوں کو دیکھ کر اس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھ دیا تھا۔ فارم کے مالک کے مطابق یہ نایاب نسل کا جانور ہے جو عام طور پر جنوبی ایشیا میں بہت کم پایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ جانور اب فروخت ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارم پر آنے والے مقامی لوگوں نے اس مشابہت پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے جب فیس بک پر اس کی تصویر دیکھی تو انہیں یقین نہیں آیا، لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ واقعی اس کے بال اور چہرہ امریکی لیڈر جیسا ہے، البتہ یہ جانور مزاج میں بہت پرسکون اور شریف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور مقامی شہری رسل نے بھی فیس بک ویڈیو دیکھنے کے بعد فارم کا دورہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جانور کی شکل واقعی ٹرمپ سے ملتی ہے۔ ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اسے محض ایک مبالغہ آرائی سمجھ رہی تھیں لیکن اب وہ مانتی ہیں کہ یہ نام اس جانور پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/HINDUSTAN_PLUSE/status/2055946108078280770?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/HINDUSTAN_PLUSE/status/2055946108078280770?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالک کے مطابق اس نایاب سفید بھینسے کی صحت اور وزن کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور اسے مکئی، سویا بین اور چوکر جیسی غذائیت سے بھرپور خوراک دی جاتی رہی ہے۔ یہ نسل عام طور پر بہت پرامن ہوتی ہے اور جب تک اسے چھیڑا نہ جائے، یہ غصہ نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فارم پر ایک دوسرا بھینسا بھی موجود ہے جس کا وزن ساڑھے سات سو کلو گرام سے زیادہ ہے اور اس کا نام اسرائیلی وزیر اعظم کے نام پر بنجمن نیتن یاہو رکھا گیا ہے۔ فارم کے ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ دوسرا بھینسا پہلے والے کے مقابلے میں کافی چست، شریر اور غصیلا ہے جو اکثر زور سے پھنکارتا ہے اور اپنے رکھوالوں پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش میں عید الاضحیٰ کے موقع پر دو ایسے بھینسے سوشل میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جن کے نام دنیا کے معروف لیڈروں پر رکھے گئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت ایک ایسے نایاب بھینسے کو ملی ہے جس کی رنگت اور سر کے بال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہت رکھتے ہیں۔</strong></p>
<p>بنگلہ دیش کے شہر نارائن گنج کے علاقے پائیک پارا میں موجود اس بھینسے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں اور لوگ خاص طور پر اس کے سنہری رنگ کے بالوں اور چہرے کی ساخت کو ڈونلڈ ٹرمپ سے ملتا جلتا بتا رہے ہیں۔</p>
<p>ایک فارم ہاؤس میں موجود تقریباً سات سو کلو گرام وزنی سفید بھینسا راتوں رات مشہور ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر اس بھینسے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے فارم کا رخ کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بھینسے کے سر پر موجود سنہری بال اور اس کے چہرے کی بناوٹ بالکل ڈونلڈ ٹرمپ سے ملتی جلتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Alhamdhulillaah/status/2053893469643420077?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Alhamdhulillaah/status/2053893469643420077?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فارم کے مالک ضیاء الدین نے بتایا کہ انہوں نے یہ جانور تقریباً دس ماہ قبل راجشاہی کی ایک مویشی منڈی سے خریدا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی نے مذاق میں اس کے سر کے بالوں کو دیکھ کر اس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ رکھ دیا تھا۔ فارم کے مالک کے مطابق یہ نایاب نسل کا جانور ہے جو عام طور پر جنوبی ایشیا میں بہت کم پایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ جانور اب فروخت ہو چکا ہے۔</p>
<p>فارم پر آنے والے مقامی لوگوں نے اس مشابہت پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے جب فیس بک پر اس کی تصویر دیکھی تو انہیں یقین نہیں آیا، لیکن یہاں آ کر معلوم ہوا کہ واقعی اس کے بال اور چہرہ امریکی لیڈر جیسا ہے، البتہ یہ جانور مزاج میں بہت پرسکون اور شریف ہے۔</p>
<p>ایک اور مقامی شہری رسل نے بھی فیس بک ویڈیو دیکھنے کے بعد فارم کا دورہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جانور کی شکل واقعی ٹرمپ سے ملتی ہے۔ ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اسے محض ایک مبالغہ آرائی سمجھ رہی تھیں لیکن اب وہ مانتی ہیں کہ یہ نام اس جانور پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/HINDUSTAN_PLUSE/status/2055946108078280770?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/HINDUSTAN_PLUSE/status/2055946108078280770?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مالک کے مطابق اس نایاب سفید بھینسے کی صحت اور وزن کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور اسے مکئی، سویا بین اور چوکر جیسی غذائیت سے بھرپور خوراک دی جاتی رہی ہے۔ یہ نسل عام طور پر بہت پرامن ہوتی ہے اور جب تک اسے چھیڑا نہ جائے، یہ غصہ نہیں کرتی۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فارم پر ایک دوسرا بھینسا بھی موجود ہے جس کا وزن ساڑھے سات سو کلو گرام سے زیادہ ہے اور اس کا نام اسرائیلی وزیر اعظم کے نام پر بنجمن نیتن یاہو رکھا گیا ہے۔ فارم کے ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ دوسرا بھینسا پہلے والے کے مقابلے میں کافی چست، شریر اور غصیلا ہے جو اکثر زور سے پھنکارتا ہے اور اپنے رکھوالوں پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505516</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 16:13:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/18161202aacdcd8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/18161202aacdcd8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کے پاس اُڑن طشتریوں سے نکالی گئی 4 خلائی مخلوق ہیں: سابق سی آئی اے محقق کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505510/ufo-aliens-cia-us-government-extraterrestrial-life-donald-trump-alien-files</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق محقق نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے زمین پر گرنے والی اُڑن طشتریوں یعنی یعنی یو ایف اوز سے چار مختلف اقسام کی خلائی مخلوق کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔  یہ دعویٰ سابق محقق ہال پوتھوف نے ایک مشہور پوڈکاسٹ ”دی ڈائری آف اے سی ای او“ میں کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/05/16/us-news/four-species-of-aliens-have-been-pulled-from-crashed-ufos-ex-government-researcher-claims/"&gt;نیویارک پوسٹ&lt;/a&gt; کے مطابق ہال پوتھوف نے کہا کہ جن افراد نے مبینہ طور پر ان حادثات کے بعد ریکوری آپریشنز میں حصہ لیا، ان کے مطابق کم از کم چار اقسام کی غیر انسانی مخلوقات موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں خود براہ راست ان مخلوقات تک رسائی حاصل نہیں ہوئی، لیکن جن لوگوں سے انہوں نے بات کی، ان کی معلومات پر وہ یقین رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوتھوف نے ان مخلوقات کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے قریبی ساتھی ایرک ڈیوس نے گزشتہ برس دعویٰ کیا تھا کہ ان چار اقسام کو گریز، نورڈکس، انسیکٹوئیڈز اور ریپٹیلینز کے نام دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505109/pentagon-releases-ufo-files-public-transparency-us-2026'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505109"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی پوڈکاسٹ میں فلم ساز ڈین فراح نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں مبینہ طور پر غیر انسانی مخلوقات سے تعلق رکھنے والی پروازیں تباہ ہوئیں۔ ان کے مطابق کئی یو ایف اوز یا تو خود حادثے کا شکار ہو کر زمین پر گرے یا پھر کسی وجہ سے انہیں گرایا گیا، جس کے بعد امریکی اداروں نے ان کی بازیابی کی کارروائیاں کیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181532458878499.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181532458878499.webp'  alt='  تصویر: نیویارک پوسٹ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تصویر: نیویارک پوسٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ ”ایلین فائلز“ کا پہلا حصہ جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں حالیہ دنوں میں خلائی مخلوقات اور یو ایف اوز سے متعلق بحث میں تیزی آئی ہے۔ بہت سے یو ایف او ماہرین اور شوقین افراد کا ماننا ہے کہ ”ڈسکلوژر ڈے“ قریب ہے، یعنی وہ دن جب حکومتیں کئی دہائیوں سے چھپائے گئے شواہد عوام کے سامنے پیش کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر عوامی دلچسپی گزشتہ چند برسوں میں مسلسل بڑھی ہے اور یو ایف اوز اور خلائی مخلوقات سے متعلق گفتگو اب مرکزی دھارے میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503041'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے آغاز میں ان فائلز کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب سابق امریکی صدر براک اوباما کے ایک بیان کو بعض حلقوں نے خلائی مخلوقات کے وجود سے جوڑ کر دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ ایلین فائلز کی نگرانی اور اجراء کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جس کی سربراہی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرک ڈیوس کے مطابق ریپٹیلین اور انسیکٹوئیڈ نام اس لیے رکھے گئے کیونکہ ان مخلوقات کی شکل انسانوں کو رینگنے والے جانوروں یا کیڑوں جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے بقول ان مخلوقات کا سر، دھڑ اور چار اعضا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں انسان نما تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30260884'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30260884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیوس نے مزید دعویٰ کیا کہ ”گریز“ نامی مخلوقات 1947 میں پیش آنے والے مشہور روزویل یو ایف او حادثے میں برآمد ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق گریز تقریباً چار فٹ قد کی جبکہ نورڈکس عام انسانوں کی طرح پانچ سے چھ فٹ لمبی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریپٹیلینز اور انسیکٹوئیڈز کا قد بھی تقریباً اسی کے برابر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ گریز کو چھوٹے قد، بڑی آنکھوں اور بغیر بالوں والی مخلوق کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جیسا کہ کئی ہالی ووڈ فلموں میں دکھایا گیا ہے۔ دوسری جانب ریپٹیلینز کو چھپکلی نما جلد، انسانی بازوؤں اور لمبی دم والی مخلوق قرار دیا جاتا ہے جو سیدھا چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب تک امریکی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ اور حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ سائنسی حلقوں میں بھی ان بیانات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق محقق نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے زمین پر گرنے والی اُڑن طشتریوں یعنی یعنی یو ایف اوز سے چار مختلف اقسام کی خلائی مخلوق کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔  یہ دعویٰ سابق محقق ہال پوتھوف نے ایک مشہور پوڈکاسٹ ”دی ڈائری آف اے سی ای او“ میں کیا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://nypost.com/2026/05/16/us-news/four-species-of-aliens-have-been-pulled-from-crashed-ufos-ex-government-researcher-claims/">نیویارک پوسٹ</a> کے مطابق ہال پوتھوف نے کہا کہ جن افراد نے مبینہ طور پر ان حادثات کے بعد ریکوری آپریشنز میں حصہ لیا، ان کے مطابق کم از کم چار اقسام کی غیر انسانی مخلوقات موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں خود براہ راست ان مخلوقات تک رسائی حاصل نہیں ہوئی، لیکن جن لوگوں سے انہوں نے بات کی، ان کی معلومات پر وہ یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p>پوتھوف نے ان مخلوقات کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے قریبی ساتھی ایرک ڈیوس نے گزشتہ برس دعویٰ کیا تھا کہ ان چار اقسام کو گریز، نورڈکس، انسیکٹوئیڈز اور ریپٹیلینز کے نام دیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505109/pentagon-releases-ufo-files-public-transparency-us-2026'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505109"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی پوڈکاسٹ میں فلم ساز ڈین فراح نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں متعدد ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں مبینہ طور پر غیر انسانی مخلوقات سے تعلق رکھنے والی پروازیں تباہ ہوئیں۔ ان کے مطابق کئی یو ایف اوز یا تو خود حادثے کا شکار ہو کر زمین پر گرے یا پھر کسی وجہ سے انہیں گرایا گیا، جس کے بعد امریکی اداروں نے ان کی بازیابی کی کارروائیاں کیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-4/5  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181532458878499.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/05/181532458878499.webp'  alt='  تصویر: نیویارک پوسٹ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تصویر: نیویارک پوسٹ</figcaption>
    </figure>
<p>یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ ”ایلین فائلز“ کا پہلا حصہ جاری کیا ہے۔</p>
<p>امریکا میں حالیہ دنوں میں خلائی مخلوقات اور یو ایف اوز سے متعلق بحث میں تیزی آئی ہے۔ بہت سے یو ایف او ماہرین اور شوقین افراد کا ماننا ہے کہ ”ڈسکلوژر ڈے“ قریب ہے، یعنی وہ دن جب حکومتیں کئی دہائیوں سے چھپائے گئے شواہد عوام کے سامنے پیش کریں گی۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر عوامی دلچسپی گزشتہ چند برسوں میں مسلسل بڑھی ہے اور یو ایف اوز اور خلائی مخلوقات سے متعلق گفتگو اب مرکزی دھارے میں شامل ہوتی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503041'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے آغاز میں ان فائلز کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب سابق امریکی صدر براک اوباما کے ایک بیان کو بعض حلقوں نے خلائی مخلوقات کے وجود سے جوڑ کر دیکھا۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ ایلین فائلز کی نگرانی اور اجراء کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جس کی سربراہی امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایرک ڈیوس کے مطابق ریپٹیلین اور انسیکٹوئیڈ نام اس لیے رکھے گئے کیونکہ ان مخلوقات کی شکل انسانوں کو رینگنے والے جانوروں یا کیڑوں جیسی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے بقول ان مخلوقات کا سر، دھڑ اور چار اعضا ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں انسان نما تصور کیا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30260884'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30260884"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈیوس نے مزید دعویٰ کیا کہ ”گریز“ نامی مخلوقات 1947 میں پیش آنے والے مشہور روزویل یو ایف او حادثے میں برآمد ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق گریز تقریباً چار فٹ قد کی جبکہ نورڈکس عام انسانوں کی طرح پانچ سے چھ فٹ لمبی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریپٹیلینز اور انسیکٹوئیڈز کا قد بھی تقریباً اسی کے برابر ہوتا ہے۔</p>
<p>امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ گریز کو چھوٹے قد، بڑی آنکھوں اور بغیر بالوں والی مخلوق کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جیسا کہ کئی ہالی ووڈ فلموں میں دکھایا گیا ہے۔ دوسری جانب ریپٹیلینز کو چھپکلی نما جلد، انسانی بازوؤں اور لمبی دم والی مخلوق قرار دیا جاتا ہے جو سیدھا چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>تاہم اب تک امریکی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی آزادانہ اور حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ سائنسی حلقوں میں بھی ان بیانات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505510</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 15:46:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/181542363e47818.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/181542363e47818.webp"/>
        <media:title>تصویر اے آئی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'راہول صحیح وقت پر آ گیا' نوجوان نے دوپٹہ اٹھانے کے لیے ریلوے ٹریک پر چھلانگ لگا دی، ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505359/man-jumps-on-railway-track-to-retrieve-indonesian-womans-dupatta-video-viral</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص نے غیرملکی خاتون کا دوپٹہ واپس لانے کے لیے خطرہ مول لیا ور ریلوے ٹریک پر اتر کر سب کی توجہ حاصل کر لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کے دروازے کے قریب موجود تھیں اور اپنے کیمرے کو سنبھال رہی تھیں۔ اسی دوران ان کا دوپٹہ اچانک ٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان جا گرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قریب سے گزرنے والے شخص نے صورت حال دیکھی تو خاتون کو ہاتھ سے زرا رکنے کا اشارہ کیا اور انہوں نے  دوپٹہ نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد وہ نیچے ٹریک پر اتر گئے اور چند لمحوں بعد دوپٹہ نکال کر واپس پلیٹ فارم پر آ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اس شخص نے دوپٹہ خاتون کے حوالے کیا اور بغیر کسی تعریف یا شکریے کا انتظار کیے خاموشی سے وہاں سے روانہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خاتون کو ان کا یہ خلوص بہت پسند آیا اور انہوں نے بعد میں انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بالکل امید نہیں تھی کہ کوئی شخص ان کی مدد کے لیے اس حد تک چلا جائے گا۔ ان کے مطابق وہ حیران تھیں اور سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ اس شخص کا شکریہ کیسے ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ویڈیو کے کیپشن میں فلم ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ”راہُل صحیح وقت پر آ گیا۔“ خاتون نے مزید کہا کہ انہیں لگا تھا شاید کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا لیکن ایک شخص نے فوراً مدد کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا جس کی ویڈیو اب تک لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے جبکہ ہزاروں صارفین اس پر تبصرے کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے اس شخص کے عمل کو انسانیت اور شرافت کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی لالچ یا نمائش کے صرف مدد کرنے کی نیت سے یہ کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے لکھا کہ وہ مدد کرکے ایسے خاموشی سے چلے گئے جیسے کسی فلم کا ہیرو آخری منظر میں جاتا ہے۔ جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ بزرگ شخص نے صرف انسانیت دکھائی اور بدلے میں کچھ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص نے غیرملکی خاتون کا دوپٹہ واپس لانے کے لیے خطرہ مول لیا ور ریلوے ٹریک پر اتر کر سب کی توجہ حاصل کر لی۔</strong></p>
<p>انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کے دروازے کے قریب موجود تھیں اور اپنے کیمرے کو سنبھال رہی تھیں۔ اسی دوران ان کا دوپٹہ اچانک ٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان جا گرا۔</p>
<p>قریب سے گزرنے والے شخص نے صورت حال دیکھی تو خاتون کو ہاتھ سے زرا رکنے کا اشارہ کیا اور انہوں نے  دوپٹہ نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد وہ نیچے ٹریک پر اتر گئے اور چند لمحوں بعد دوپٹہ نکال کر واپس پلیٹ فارم پر آ گئے۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اس شخص نے دوپٹہ خاتون کے حوالے کیا اور بغیر کسی تعریف یا شکریے کا انتظار کیے خاموشی سے وہاں سے روانہ ہوگئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DYSKdcmuCmU/?utm_source=ig_web_button_share_sheet" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure>
<p>خاتون کو ان کا یہ خلوص بہت پسند آیا اور انہوں نے بعد میں انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بالکل امید نہیں تھی کہ کوئی شخص ان کی مدد کے لیے اس حد تک چلا جائے گا۔ ان کے مطابق وہ حیران تھیں اور سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ اس شخص کا شکریہ کیسے ادا کریں۔</p>
<p>انہوں نے ویڈیو کے کیپشن میں فلم ”کچھ کچھ ہوتا ہے“ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ”راہُل صحیح وقت پر آ گیا۔“ خاتون نے مزید کہا کہ انہیں لگا تھا شاید کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا لیکن ایک شخص نے فوراً مدد کی۔</p>
<p>یہ واقعہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا جس کی ویڈیو اب تک لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے جبکہ ہزاروں صارفین اس پر تبصرے کر چکے ہیں۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے اس شخص کے عمل کو انسانیت اور شرافت کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی لالچ یا نمائش کے صرف مدد کرنے کی نیت سے یہ کام کیا۔</p>
<p>ایک صارف نے لکھا کہ وہ مدد کرکے ایسے خاموشی سے چلے گئے جیسے کسی فلم کا ہیرو آخری منظر میں جاتا ہے۔ جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ بزرگ شخص نے صرف انسانیت دکھائی اور بدلے میں کچھ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505359</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 13:21:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/1509594900d6859.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/1509594900d6859.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیڑھ کروڑ کے زیورات پر ہاتھ صاف: جیولری شاپ ملازمہ کی مہارت کیمرے میں ریکارڈ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505319/rs-15-crore-jewellery-stolen-jewellery-shop-employee-caught-on-camera</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک مشہور جیولری اسٹور میں چوری کی ایک انوکھی اور حیران کن واردات سامنے آئی ہے جہاں اسٹور میں کام کرنے والی ایک سیلز گرل نے مبینہ طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے زیورات چوری کر لیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹور میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خاتون بڑی بے خوفی کے ساتھ زیورات کی ٹرے خالی کر رہی ہے اور اس دوران وہ مسکراتی ہوئی زیورات کے ٹرے دیکھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503622/wife-throws-money-window-after-fight'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پولیس میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق ملزمہ گزشتہ گیارہ ماہ سے اس شوروم میں سیلز گرل کے طور پر کام کر رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا گیا کہ خاتون پہلے زیورات کی ٹرے کا جائزہ لیتی ہے اور پھر ایک ایک کر کے سونے کے زیورات نکال کر اپنی جیبوں میں بھرنا شروع کر دیتی ہے۔ اس نے بڑی مہارت سے سونے کی انگوٹھیاں، چین، منگل سوتر اور پازیب غائب کر دیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.facebook.com/watch/?v=2468764513608654'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=2468764513608654" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب اسٹور کے حساب کتاب میں گڑبڑ پائی گئی جس پر مینیجر نے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی تو خاتون کی یہ حرکت سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمہ اس وقت مفرور ہے اور اس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گجرات پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات کو تیز کر دیا ہے تاکہ ملزمہ کو گرفتار کر کے مسروقہ زیورات برآمد کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی کافی زیر بحث ہے کیونکہ ویڈیو میں خاتون کے تاثرات کسی قسم کے خوف یا پچھتاوے کے بجائے بالکل نارمل اور مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک مشہور جیولری اسٹور میں چوری کی ایک انوکھی اور حیران کن واردات سامنے آئی ہے جہاں اسٹور میں کام کرنے والی ایک سیلز گرل نے مبینہ طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے زیورات چوری کر لیے۔</strong></p>
<p>اسٹور میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خاتون بڑی بے خوفی کے ساتھ زیورات کی ٹرے خالی کر رہی ہے اور اس دوران وہ مسکراتی ہوئی زیورات کے ٹرے دیکھ رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30503622/wife-throws-money-window-after-fight'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30503622"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پولیس میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق ملزمہ گزشتہ گیارہ ماہ سے اس شوروم میں سیلز گرل کے طور پر کام کر رہی تھی۔</p>
<p>ویڈیو میں دیکھا گیا کہ خاتون پہلے زیورات کی ٹرے کا جائزہ لیتی ہے اور پھر ایک ایک کر کے سونے کے زیورات نکال کر اپنی جیبوں میں بھرنا شروع کر دیتی ہے۔ اس نے بڑی مہارت سے سونے کی انگوٹھیاں، چین، منگل سوتر اور پازیب غائب کر دیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.facebook.com/watch/?v=2468764513608654'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=2468764513608654" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure>
<p>اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب اسٹور کے حساب کتاب میں گڑبڑ پائی گئی جس پر مینیجر نے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی تو خاتون کی یہ حرکت سامنے آئی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزمہ اس وقت مفرور ہے اور اس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گجرات پولیس نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات کو تیز کر دیا ہے تاکہ ملزمہ کو گرفتار کر کے مسروقہ زیورات برآمد کیے جا سکیں۔</p>
<p>یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی کافی زیر بحث ہے کیونکہ ویڈیو میں خاتون کے تاثرات کسی قسم کے خوف یا پچھتاوے کے بجائے بالکل نارمل اور مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Trending</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505319</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 11:10:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/05/141117176d7f4bd.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/05/141117176d7f4bd.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
