<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:04:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:04:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معروف بھارتی سوشل میڈیا شخصیت 'خان سر' کے سینٹر پر حملہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506066/khansir-patna-bihar-coachingcentre-india-education</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت: ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں معروف ماہرِ تعلیم خان سر کے کوچنگ سینٹر پر منگل کی رات نقاب پوش افراد نے حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں ایک سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہو گیا جبکہ عمارت کے باہر توڑ پھوڑ اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور رات کے وقت اچانک کوچنگ سینٹر کے باہر پہنچے اور حملے کی کارروائی کی ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کے آغاز میں دو افراد کے درمیان جھگڑا ہوا جو بعد میں بڑے ہجوم کی صورت اختیار کر گیا۔ اس دوران سکیورٹی گارڈ پر بھی حملہ کیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ٹی وی کو حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً ایک درجن نقاب پوش افراد کوچنگ سینٹر کے باہر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں مصروف ہیں۔ ویڈیو میں حملہ آوروں کو اینٹیں پھینکتے، پوسٹرز اور فلیکس بورڈز پھاڑتے اور عمارت کے باہر موجود املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ndtv/status/2062036908809879886?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ndtv/status/2062036908809879886?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خان سر نے جن کا اصل نام فیصل خان ہے، میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں واقعے کی اطلاع رات دیر گئے ملی، جس کے بعد وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ خان سر نے بتایا کہ ان کے ادارے کے ہزاروں طلبہ نے بہار پولیس بھرتی امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسی مناسبت سے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب کے بعد انہیں دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بعض دیگر کوچنگ اداروں سے وابستہ افراد ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس واقعے میں کچھ طلبہ کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے۔ پولیس نے این ڈی ٹی وی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد حاصل کر لیے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت: ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں معروف ماہرِ تعلیم خان سر کے کوچنگ سینٹر پر منگل کی رات نقاب پوش افراد نے حملہ کر دیا۔ اس واقعے میں ایک سکیورٹی گارڈ شدید زخمی ہو گیا جبکہ عمارت کے باہر توڑ پھوڑ اور نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</strong></p>
<p>پولیس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور رات کے وقت اچانک کوچنگ سینٹر کے باہر پہنچے اور حملے کی کارروائی کی ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کے آغاز میں دو افراد کے درمیان جھگڑا ہوا جو بعد میں بڑے ہجوم کی صورت اختیار کر گیا۔ اس دوران سکیورٹی گارڈ پر بھی حملہ کیا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔</p>
<p>این ڈی ٹی وی کو حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً ایک درجن نقاب پوش افراد کوچنگ سینٹر کے باہر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں مصروف ہیں۔ ویڈیو میں حملہ آوروں کو اینٹیں پھینکتے، پوسٹرز اور فلیکس بورڈز پھاڑتے اور عمارت کے باہر موجود املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ndtv/status/2062036908809879886?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ndtv/status/2062036908809879886?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>خان سر نے جن کا اصل نام فیصل خان ہے، میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں واقعے کی اطلاع رات دیر گئے ملی، جس کے بعد وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ خان سر نے بتایا کہ ان کے ادارے کے ہزاروں طلبہ نے بہار پولیس بھرتی امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسی مناسبت سے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب کے بعد انہیں دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بعض دیگر کوچنگ اداروں سے وابستہ افراد ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس واقعے میں کچھ طلبہ کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے۔ پولیس نے این ڈی ٹی وی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد حاصل کر لیے ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506066</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:33:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/031425002f89b7b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/031425002f89b7b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی کانگریس میں ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506079/us-house-votes-for-measure-that-would-end-iran-war-in-blow-to-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لگام ڈال دی۔ ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے۔4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سینیٹ گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک الگ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھا چکی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی سات کوششیں ناکام رہی تھیں۔ تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بہت کم ریپبلکن ارکان ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی روز ایوانِ نمائندگان نے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ بھی ہموار کر دی، جس کے تحت روسی حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کی حمایت میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی ووٹ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹے رہن قرضوں کے شعبے سے وابستہ ریگولیٹر ہیں اور انہیں قومی سلامتی کے معاملات کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مقننہ کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی مبصرین کے مطابق ایوانِ نمائندگان کی یہ ووٹنگ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران جنگ اپنے چوتھے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ ان کی اپنی جماعت کے بعض ارکان بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لگام ڈال دی۔ ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے۔4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا۔</p>
<p>قرارداد کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔</p>
<p>ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔</p>
<p>قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>دوسری جانب سینیٹ گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک الگ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھا چکی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی سات کوششیں ناکام رہی تھیں۔ تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بہت کم ریپبلکن ارکان ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے۔</p>
<p>اسی روز ایوانِ نمائندگان نے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ بھی ہموار کر دی، جس کے تحت روسی حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کی حمایت میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی ووٹ دیا۔</p>
<p>ادھر بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹے رہن قرضوں کے شعبے سے وابستہ ریگولیٹر ہیں اور انہیں قومی سلامتی کے معاملات کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔</p>
<p>ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مقننہ کے پاس ہے۔</p>
<p>ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>سیاسی مبصرین کے مطابق ایوانِ نمائندگان کی یہ ووٹنگ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ایران جنگ اپنے چوتھے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ ان کی اپنی جماعت کے بعض ارکان بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506079</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:04:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/040902348fc32c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/040902348fc32c1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو نتائج سنگین ہوں گے: ایران</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506047/us-attack-on-iran-iran-israel-war-israeli-attack-on-lebanon-southern-lebanon-mohammad-bagher-ghalibaf-ebrahim-azizi-benjamin-netanyahu-president-donald-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے وحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیوں میں اب تک 17 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ صیہونی فورسز نے نبطیہ، شقین، کفر طیبنیت اور تبنین کے علاقوں کو توپ خانے اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نبطیہ خردالی روڈ پر ایک گاڑی پر ہونے والے ڈرون حملے میں دانتوں کے ایک ڈاکٹر اپنے دو بچوں سمیت جاں بحق ہو گئے، جبکہ صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں چھ افراد کی جان چلی گئی.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ جیبچٹ قصبے میں دو شامی باشندے مارے گئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں دو لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سخت لہجہ اختیار کیا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Ebrahimazizi33/status/2061506484677042635?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Ebrahimazizi33/status/2061506484677042635?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/mb_ghalibaf/status/2061368308205502475?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mb_ghalibaf/status/2061368308205502475?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، ان تمام دھمکیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506035/disagreements-over-lebanon-ceasefire-israeli-minister-calls-on-netanyahu-to-say-no-to-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بنجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طرف جہاں یہ خونی جھڑپیں اور بیانات کا تبادلہ جاری ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر اپنے وحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.</strong></p>
<p>جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائیوں میں اب تک 17 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ صیہونی فورسز نے نبطیہ، شقین، کفر طیبنیت اور تبنین کے علاقوں کو توپ خانے اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے.</p>
<p>نبطیہ خردالی روڈ پر ایک گاڑی پر ہونے والے ڈرون حملے میں دانتوں کے ایک ڈاکٹر اپنے دو بچوں سمیت جاں بحق ہو گئے، جبکہ صیدا میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے نتیجے میں چھ افراد کی جان چلی گئی.</p>
<p>اس کے علاوہ جیبچٹ قصبے میں دو شامی باشندے مارے گئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے جبکہ پچاس سے زائد افراد زخمی ہیں.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں دو لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.</p>
<p>لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سخت لہجہ اختیار کیا ہے.</p>
<p>ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Ebrahimazizi33/status/2061506484677042635?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Ebrahimazizi33/status/2061506484677042635?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.</p>
<p>اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/mb_ghalibaf/status/2061368308205502475?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mb_ghalibaf/status/2061368308205502475?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.</p>
<p>دوسری طرف، ان تمام دھمکیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506035/disagreements-over-lebanon-ceasefire-israeli-minister-calls-on-netanyahu-to-say-no-to-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بنجمن نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.</p>
<p>ایک طرف جہاں یہ خونی جھڑپیں اور بیانات کا تبادلہ جاری ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506047</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:43:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03084925fa2b87d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03084925fa2b87d.webp"/>
        <media:title>اسرائیل کے آئرن ڈوم اینٹی میزائل سسٹم سے داغے جانے کے فوراً بعد ایک ناقص انٹرسیپٹر میزائل جنوبی لبنان کے اوپر فضا میں ہی تباہ ہو گیا (تصویر: رائٹرز)</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے، ایران سے معاہدے کی امیدیں بھی بڑھ گئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506078/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے باہمی رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق تنازع کے حل اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن و استحکام کے قیام کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506047/us-attack-on-iran-iran-israel-war-israeli-attack-on-lebanon-southern-lebanon-mohammad-bagher-ghalibaf-ebrahim-azizi-benjamin-netanyahu-president-donald-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506047"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل اور لبنان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے تاکہ طے پانے والے معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں گے، جبکہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل اور لبنان گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل سے خطے میں تناؤ میں کمی آئے گی اور فریقین کے درمیان دیرپا استحکام کے لیے راہ ہموار ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506072/iran-agrees-not-to-have-nuclear-weapons-may-meet-supreme-leader-in-future-president-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506072"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس پیش رفت کو ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے کی امیدوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کا اشارہ دیا تھا، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز لبنانی نشریاتی ادارے ”المیادین“ سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیش رفت بھی نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں لڑائی کے خاتمے کے علاوہ اسے اربوں ڈالر کی تیل آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اثرورسوخ برقرار رکھنے کی ضمانت بھی درکار ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506063/funeral-of-former-iranian-supreme-leader-ali-khamenei'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506063"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہو چکا ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مذاکرات میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت اسی ہفتے کے اختتام پر سامنے آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو لبنان کے تنازع سے الگ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی پر اتفاق کرتے ہوئے باہمی رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق تنازع کے حل اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔</p>
<p>محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امن و استحکام کے قیام کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506047/us-attack-on-iran-iran-israel-war-israeli-attack-on-lebanon-southern-lebanon-mohammad-bagher-ghalibaf-ebrahim-azizi-benjamin-netanyahu-president-donald-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506047"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیل اور لبنان 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے تاکہ طے پانے والے معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا سکے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں گے، جبکہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری رہیں گے۔</p>
<p>اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل اور لبنان گزشتہ ماہ بھی جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی، جس نے تہران کی حمایت میں سرحد پار حملے کیے تھے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل سے خطے میں تناؤ میں کمی آئے گی اور فریقین کے درمیان دیرپا استحکام کے لیے راہ ہموار ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506072/iran-agrees-not-to-have-nuclear-weapons-may-meet-supreme-leader-in-future-president-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506072"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب اس پیش رفت کو ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے کی امیدوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کا اشارہ دیا تھا، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے۔</p>
<p>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز لبنانی نشریاتی ادارے ”المیادین“ سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، تاہم اب تک کوئی نمایاں پیش رفت بھی نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں لڑائی کے خاتمے کے علاوہ اسے اربوں ڈالر کی تیل آمدنی تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اثرورسوخ برقرار رکھنے کی ضمانت بھی درکار ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506063/funeral-of-former-iranian-supreme-leader-ali-khamenei'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506063"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔</p>
<p>بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہو چکا ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای مذاکرات میں شامل ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت اسی ہفتے کے اختتام پر سامنے آ سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو لبنان کے تنازع سے الگ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506078</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 08:54:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/04083537f197af1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/04083537f197af1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کویت پر حملے کے بعد 2 ایرانی سفارت کاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506075/two-iranian-diplomats-ordered-to-leave-country-within-24-hours-after-kuwait-attack</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کویت نے ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے بعد 2 ایرانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے فوری ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویتی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد دو ایرانی سفارت کاروں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے جب کہ دونوں سفارت کاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر کویت چھوڑنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ نے ایران کے قائم مقام چارج ڈی افیئرز (ناظم الامور) کو طلب کر کے ایران کی جانب سے کی جانے والی وحشیانہ اور مسلسل جارحیت پر سخت الفاظ میں باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ کویت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سفارتی مشن میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کے اقدام کے تحت کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506067/several-wounded-in-kuwait-as-iran-airport-attack-forces-flight-suspension'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506067"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ایران کی جانب سے حالیہ حملے اور جاری کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاہم اس معاملے پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کویت نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، ایسے اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی اور تناؤ سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MOFAKuwait/status/2062110248563777981?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOFAKuwait/status/2062110248563777981?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویت نے واضح کیا کہ وہ اس نوعیت کی جارحانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ریاست کویت بحرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ بحرین کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویتی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جب کہ 63 افراد زخمی ہوئے جب کہ متعدد اہم تنصیبات اور سفارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سعودی-عرب" href="#سعودی-عرب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ادھر سعودی عرب نے بھی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی حملے خلیجی ممالک کی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KSAmofaEN/status/2062172609043697760?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KSAmofaEN/status/2062172609043697760?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے بحرین اور کویت سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دونوں ممالک کو ان کی سالمیت اور سیکیورٹی کے لیے ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قطر-عمان" href="#قطر-عمان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;قطر، عمان&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;قطر نے بھی کویت اور بحرین میں سویلین اہداف پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان نے بھی اپنے پڑوسی ممالک کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور شہریوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FMofOman/status/2062157511944507652?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FMofOman/status/2062157511944507652?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عمان بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو دونوں ممالک اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کے مطابق عمان نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی سے گریز کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر سفارتی راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بحرین-ڈیفنس-فورس" href="#بحرین-ڈیفنس-فورس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;بحرین ڈیفنس فورس&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح  بحرین ڈیفنس فورس کی جنرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اپنے مجرمانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران بحرین میں سویلین املاک کو بھی نشانہ بنارہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ علاقائی کشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز ہوا تھا، جن میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تاہم خطے میں دیرپا امن کے لیے جامع معاہدے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کویت نے ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے بعد 2 ایرانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے فوری ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔</strong></p>
<p>کویتی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد دو ایرانی سفارت کاروں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے جب کہ دونوں سفارت کاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر کویت چھوڑنا ہوگا۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ نے ایران کے قائم مقام چارج ڈی افیئرز (ناظم الامور) کو طلب کر کے ایران کی جانب سے کی جانے والی وحشیانہ اور مسلسل جارحیت پر سخت الفاظ میں باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ کویت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سفارتی مشن میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کے اقدام کے تحت کیا گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506067/several-wounded-in-kuwait-as-iran-airport-attack-forces-flight-suspension'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506067"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ اقدام ایران کی جانب سے حالیہ حملے اور جاری کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاہم اس معاملے پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>دوسری جانب کویت نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، ایسے اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی اور تناؤ سے بچایا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MOFAKuwait/status/2062110248563777981?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOFAKuwait/status/2062110248563777981?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کویت نے واضح کیا کہ وہ اس نوعیت کی جارحانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ریاست کویت بحرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ بحرین کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کویتی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جب کہ 63 افراد زخمی ہوئے جب کہ متعدد اہم تنصیبات اور سفارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔</p>
<h1><a id="سعودی-عرب" href="#سعودی-عرب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>سعودی عرب</strong></h1>
<p>ادھر سعودی عرب نے بھی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی حملے خلیجی ممالک کی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/KSAmofaEN/status/2062172609043697760?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KSAmofaEN/status/2062172609043697760?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سعودی عرب نے بحرین اور کویت سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دونوں ممالک کو ان کی سالمیت اور سیکیورٹی کے لیے ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلایا۔</p>
<h1><a id="قطر-عمان" href="#قطر-عمان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>قطر، عمان</strong></h1>
<p>قطر نے بھی کویت اور بحرین میں سویلین اہداف پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔</p>
<p>عمان نے بھی اپنے پڑوسی ممالک کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور شہریوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/FMofOman/status/2062157511944507652?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FMofOman/status/2062157511944507652?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عمان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عمان بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو دونوں ممالک اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔</p>
<p>وزارت خارجہ کے مطابق عمان نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی سے گریز کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر سفارتی راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔</p>
<h1><a id="بحرین-ڈیفنس-فورس" href="#بحرین-ڈیفنس-فورس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>بحرین ڈیفنس فورس</strong></h1>
<p>اسی طرح  بحرین ڈیفنس فورس کی جنرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اپنے مجرمانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران بحرین میں سویلین املاک کو بھی نشانہ بنارہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ علاقائی کشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز ہوا تھا، جن میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔</p>
<p>بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تاہم خطے میں دیرپا امن کے لیے جامع معاہدے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506075</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:00:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/032222349873166.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/032222349873166.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہلی میں احتجاج کی تیاری، کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی پہلی پریس کانفرنس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506074/cockroach-janta-party-first-press-conference</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں نوجوانوں کی نئی احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 6 جون کو دہلی میں احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے 6 جون کی صبح 8 بجے دہلی پہنچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے بتایا کہ ابھیجیت دیپکے نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کریں، ان کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جائیں اور جنتر منتر پر احتجاج کے لیے باضابطہ اجازت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران تحریک کی فنڈنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ تحریک کے خلاف منظم ”کاؤنٹر نیریٹو“ چلایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لوگوں سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ تحریک کو فنڈنگ کہاں سے مل رہی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک پوسٹر صرف چند سو روپے میں تیار کیا گیا اور بیشتر شرکا اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرکے یہاں پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی عوامی تحریک زور پکڑتی ہے تو اس کے خلاف بیرونی مداخلت یا خفیہ فنڈنگ جیسے الزامات سامنے لائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ یہ بھارت کی تاریخ کی ”سب سے شفاف عوامی تحریک“ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ ابھیجیت دیپکے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس تحریک کا آغاز ایک طنزیہ ردعمل کے طور پر ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/whattalawyer/status/2062155473059811564?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/whattalawyer/status/2062155473059811564?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر بھارتی نوجوانوں کو ”کاکروچ“ قرار دیا گیا، جس کے بعد نوجوانوں کی جانب سے غیر معمولی ردعمل سامنے آیا۔ ان کے مطابق اس ردعمل نے ظاہر کیا کہ ملک کا نوجوان طبقہ مایوسی، بے یقینی اور ناامیدی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے تحریک منظم ہوتی گئی، یہ بات واضح ہوتی گئی کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ تعلیمی نظام ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت تحریک کا صرف ایک مطالبہ ہے اور وہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے۔ ان کے بقول اس کے بعد تحریک شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے تحت اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں سوربھ داس نے کہا کہ اگر کسی احتجاج میں توقع سے کم نوجوان شریک ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جس بات کو درست سمجھتے ہیں، اس کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی حالیہ ہفتوں میں بھارت میں نوجوانوں کے ایک غیر معمولی احتجاجی رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس تحریک کا آغاز نوجوانوں کو ”کاکروچ“ کہے جانے کے ردعمل میں ہوا تھا، تاہم بعد ازاں یہ بے روزگاری، امتحانی نظام، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تر احتجاجی مہم میں تبدیل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں اور سوشل میڈیا پر انھیں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، جب کہ مبصرین انھیں بھارتی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی اظہار کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں نوجوانوں کی نئی احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 6 جون کو دہلی میں احتجاجی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارت میں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے 6 جون کی صبح 8 بجے دہلی پہنچیں گے۔</p>
<p>پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے بتایا کہ ابھیجیت دیپکے نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا استقبال کریں، ان کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جائیں اور جنتر منتر پر احتجاج کے لیے باضابطہ اجازت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران تحریک کی فنڈنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ تحریک کے خلاف منظم ”کاؤنٹر نیریٹو“ چلایا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لوگوں سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ تحریک کو فنڈنگ کہاں سے مل رہی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک پوسٹر صرف چند سو روپے میں تیار کیا گیا اور بیشتر شرکا اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرکے یہاں پہنچے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی عوامی تحریک زور پکڑتی ہے تو اس کے خلاف بیرونی مداخلت یا خفیہ فنڈنگ جیسے الزامات سامنے لائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔</p>
<p>سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ یہ بھارت کی تاریخ کی ”سب سے شفاف عوامی تحریک“ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ ابھیجیت دیپکے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس تحریک کا آغاز ایک طنزیہ ردعمل کے طور پر ہوا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/whattalawyer/status/2062155473059811564?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/whattalawyer/status/2062155473059811564?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر بھارتی نوجوانوں کو ”کاکروچ“ قرار دیا گیا، جس کے بعد نوجوانوں کی جانب سے غیر معمولی ردعمل سامنے آیا۔ ان کے مطابق اس ردعمل نے ظاہر کیا کہ ملک کا نوجوان طبقہ مایوسی، بے یقینی اور ناامیدی کا شکار ہے۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے تحریک منظم ہوتی گئی، یہ بات واضح ہوتی گئی کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ تعلیمی نظام ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت تحریک کا صرف ایک مطالبہ ہے اور وہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے۔ ان کے بقول اس کے بعد تحریک شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کے تحت اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں سوربھ داس نے کہا کہ اگر کسی احتجاج میں توقع سے کم نوجوان شریک ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جس بات کو درست سمجھتے ہیں، اس کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔</p>
<p>واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی حالیہ ہفتوں میں بھارت میں نوجوانوں کے ایک غیر معمولی احتجاجی رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس تحریک کا آغاز نوجوانوں کو ”کاکروچ“ کہے جانے کے ردعمل میں ہوا تھا، تاہم بعد ازاں یہ بے روزگاری، امتحانی نظام، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تر احتجاجی مہم میں تبدیل ہوگئی۔</p>
<p>تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں اور سوشل میڈیا پر انھیں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، جب کہ مبصرین انھیں بھارتی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی اظہار کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506074</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:29:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03202638a95b338.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03202638a95b338.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر مان گیا، مستقبل میں سپریم لیڈر سے ملاقات ہوسکتی ہے: صدر ٹرمپ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506072/iran-agrees-not-to-have-nuclear-weapons-may-meet-supreme-leader-in-future-president-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مان گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا جب کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں اور مستقبل میں ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے سخت گفتگو اور اختلافات کا اعتراف بھی کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ”پوڈ فورس ون“ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2062117419280118191?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2062117419280118191?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے گا اور خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سفارتی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506065/trump-berated-netanyahu-us-israel-feud-rumours'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا تھا۔ ان کے بقول ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے حوالے سے امریکی فوجی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا کو ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور زمینی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے ساتھ مسلسل کشیدگی اور فوجی کارروائیوں پر انہیں تشویش تھی اور اسی وجہ سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cnn.com/2026/06/02/world/live-news/iran-trump-israel-lebanon-war-intl-hnk?post-id=cmpxxuyc400003b6r4ls5jbdj"&gt;رپورٹس&lt;/a&gt; کے مطابق رواں ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک فون کال میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی، جس دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اختلافات کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنما مختلف معاملات پر رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کے حالیہ بیانات کو ایران کے جوہری پروگرام، امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جب کہ عالمی سطح پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مان گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا جب کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں اور مستقبل میں ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے سخت گفتگو اور اختلافات کا اعتراف بھی کیا ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ”پوڈ فورس ون“ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2062117419280118191?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2062117419280118191?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔</p>
<p>امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے گا اور خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سفارتی پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506065/trump-berated-netanyahu-us-israel-feud-rumours'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506065"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا تھا۔ ان کے بقول ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p>ایران کے حوالے سے امریکی فوجی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت امریکا کو ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور زمینی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے ساتھ مسلسل کشیدگی اور فوجی کارروائیوں پر انہیں تشویش تھی اور اسی وجہ سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو ہوئی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔</p>
<p>امریکی میڈیا <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cnn.com/2026/06/02/world/live-news/iran-trump-israel-lebanon-war-intl-hnk?post-id=cmpxxuyc400003b6r4ls5jbdj">رپورٹس</a> کے مطابق رواں ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک فون کال میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر بھی بات ہوئی، جس دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اختلافات کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنما مختلف معاملات پر رابطے میں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر کے حالیہ بیانات کو ایران کے جوہری پروگرام، امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جب کہ عالمی سطح پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506072</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:03:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0316595032139e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0316595032139e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی سیاح باعث ہزیمت: سوئٹزرلینڈ کے ہوٹل کا ایکشن</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506053/indian-tourists-worldwide-a-cause-of-embarrassment</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی سیاحوں کے رویوں سے متعلق دنیا کے مختلف ممالک میں شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ بھارتی سیاحوں کے طرزِ عمل پر تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل نے بھارتی مہمانوں کے لیے خصوصی ہدایات پر مشتمل نوٹس بھی آویزاں کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سیاحوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں مقامی آداب اور قواعد کی مکمل پاسداری نہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کے رویوں پر بحث جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل نے بھارتی مہمانوں کے لیے خصوصی اصول و ضوابط پر مشتمل نوٹس جاری کیا۔ نوٹس میں ”انڈین گیسٹس“ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ناشتے کے بعد ریستوران سے کھانے پینے کی اشیا پیک کرکے باہر نہ لے جائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی نوٹس میں یہ بھی درج تھا کہ اگر ایک سے زیادہ مہمان ایک ہی ڈش کو شیئر کریں گے تو اس کے لیے اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔ مزید یہ کہ مہمانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کوریڈورز، بالکونیوں اور دیگر مشترکہ مقامات پر اونچی آواز میں گفتگو سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/hvgoenka/status/2061027394497232927?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2061027394497232927%7Ctwgr%5E370f3a5d8250efdbe505e83a981cccef997e035e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2815590%2Fswiss-hotel-warns-indian-costumers-2815590%2F'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/hvgoenka/status/2061027394497232927?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2061027394497232927%7Ctwgr%5E370f3a5d8250efdbe505e83a981cccef997e035e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2815590%2Fswiss-hotel-warns-indian-costumers-2815590%2F"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ایک بھارتی کاروباری شخصیت کی جانب سے ایک کلب میں انتہائی بلند آواز میں پنجابی موسیقی چلانے کا واقعہ بھی زیر بحث رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ویتنام کے ایک ہوائی اڈے کا حوالہ بھی دیا گیا، جہاں متعدد بھارتی سیاحوں نے طیارے کے قریب روایتی بھارتی رقص کیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور مختلف آرا سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بھارتی کاروباری شخصیت نے کہا کہ ہوٹل کا نوٹس پڑھ کر انہیں شرمندگی محسوس ہوئی۔ ان کے بقول بطور سیاح بھارتی شہری اکثر بلند آواز، غیر محتاط اور بعض اوقات مقامی ثقافت کے حوالے سے حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا میں بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک بھارتی سیاحوں کے بعض رویے ملک کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقوں کے مطابق چند واقعات کی بنیاد پر پوری قوم کے سیاحوں کے بارے میں عمومی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی سیاحوں کے رویوں سے متعلق دنیا کے مختلف ممالک میں شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ بھارتی سیاحوں کے طرزِ عمل پر تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل نے بھارتی مہمانوں کے لیے خصوصی ہدایات پر مشتمل نوٹس بھی آویزاں کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی سیاحوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں مقامی آداب اور قواعد کی مکمل پاسداری نہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کے رویوں پر بحث جاری ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل نے بھارتی مہمانوں کے لیے خصوصی اصول و ضوابط پر مشتمل نوٹس جاری کیا۔ نوٹس میں ”انڈین گیسٹس“ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ناشتے کے بعد ریستوران سے کھانے پینے کی اشیا پیک کرکے باہر نہ لے جائی جائیں۔</p>
<p>اسی نوٹس میں یہ بھی درج تھا کہ اگر ایک سے زیادہ مہمان ایک ہی ڈش کو شیئر کریں گے تو اس کے لیے اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔ مزید یہ کہ مہمانوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کوریڈورز، بالکونیوں اور دیگر مشترکہ مقامات پر اونچی آواز میں گفتگو سے گریز کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/hvgoenka/status/2061027394497232927?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2061027394497232927%7Ctwgr%5E370f3a5d8250efdbe505e83a981cccef997e035e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2815590%2Fswiss-hotel-warns-indian-costumers-2815590%2F'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/hvgoenka/status/2061027394497232927?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2061027394497232927%7Ctwgr%5E370f3a5d8250efdbe505e83a981cccef997e035e%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2815590%2Fswiss-hotel-warns-indian-costumers-2815590%2F"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بی بی سی کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ایک بھارتی کاروباری شخصیت کی جانب سے ایک کلب میں انتہائی بلند آواز میں پنجابی موسیقی چلانے کا واقعہ بھی زیر بحث رہا۔</p>
<p>رپورٹ میں ویتنام کے ایک ہوائی اڈے کا حوالہ بھی دیا گیا، جہاں متعدد بھارتی سیاحوں نے طیارے کے قریب روایتی بھارتی رقص کیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور مختلف آرا سامنے آئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بھارتی کاروباری شخصیت نے کہا کہ ہوٹل کا نوٹس پڑھ کر انہیں شرمندگی محسوس ہوئی۔ ان کے بقول بطور سیاح بھارتی شہری اکثر بلند آواز، غیر محتاط اور بعض اوقات مقامی ثقافت کے حوالے سے حساسیت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔</p>
<p>بھارتی میڈیا میں بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک بھارتی سیاحوں کے بعض رویے ملک کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقوں کے مطابق چند واقعات کی بنیاد پر پوری قوم کے سیاحوں کے بارے میں عمومی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506053</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/031013357c4b323.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/031013357c4b323.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کویت پر ایران کے حملے میں ایک شخص ہلاک، 63 زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506067/several-wounded-in-kuwait-as-iran-airport-attack-forces-flight-suspension</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت اور قریبی سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تلخی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان ”وحشیانہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MOFAKuwait/status/2062093466306294237?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOFAKuwait/status/2062093466306294237?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت شہری اور اہم تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک فرد کی موت واقع ہوئی ہے اور کم سے کم 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، سفارتی مشنز سمیت اہم املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MarioNawfal/status/2062089405402317112?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MarioNawfal/status/2062089405402317112?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویت نے واضح کیا ہے کہ وہ ان بار بار کی ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے کا اپنا مکمل اور موروثی حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے پیچھے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کویت اور بحرین کو خطے میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کویت اور بحرین ان امریکی حملوں کی براہِ راست اور واضح ذمہ داری اٹھائیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے مرکز کو نشانہ بنانے سمیت ہر دستیاب طریقہ استعمال کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت اور قریبی سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تلخی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔</strong></p>
<p>کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔</p>
<p>کویتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان ”وحشیانہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں“۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MOFAKuwait/status/2062093466306294237?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOFAKuwait/status/2062093466306294237?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت شہری اور اہم تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک فرد کی موت واقع ہوئی ہے اور کم سے کم 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، سفارتی مشنز سمیت اہم املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MarioNawfal/status/2062089405402317112?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MarioNawfal/status/2062089405402317112?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کویت نے واضح کیا ہے کہ وہ ان بار بار کی ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے کا اپنا مکمل اور موروثی حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے پیچھے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کویت اور بحرین کو خطے میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506045"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کویت اور بحرین ان امریکی حملوں کی براہِ راست اور واضح ذمہ داری اٹھائیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔</p>
<p>ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے مرکز کو نشانہ بنانے سمیت ہر دستیاب طریقہ استعمال کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506067</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:04:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03141910eb3a909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03141910eb3a909.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی نیتن یاہو کو گالیاں؛ لڑائی کی خبروں کی حقیقت کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506065/trump-berated-netanyahu-us-israel-feud-rumours</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون پر گالیاں دیے جانے اور لعن طعن کی خبریں بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں، لیکن ماہرینِ سیاست نے ان خبروں پر شک کا ظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک فون کال کے دوران انتہائی سخت الفاظ کہے اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں پر انہیں شدید جھاڑ پلائی.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ غصے کی ان خبروں کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان تعلقات میں خرابی کی خبریں سامنے آئی ہوں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جنوری 2024 میں جب غزہ میں جنگ جاری تھی، تب اس وقت کے صدر جو بائیڈن کے بارے میں بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان کا صبر جواب دے رہا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ٹرمپ کے دور میں بھی بالکل اسی نوعیت کی خبریں میڈیا کو خفیہ ذرائع سے فراہم کی جا رہی ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال پر نیشنل ایرانی امریکن کونسل ایکشن کے پالیسی ڈائریکٹر رائن کوسٹیلو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تو سیاسی مبصرین امریکی صدور کے نیتن یاہو پر بند کمروں میں غصہ ہونے کی رپورٹس کا مذاق اڑانے لگے ہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ عملی طور پر زمین پر کیا ہو رہا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقوق انسانی کی تنظیم ڈاؤن سے وابستہ ازابیل ہیسلپ بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ٹرمپ کی غصیلی فون کالز کی کہانیاں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/6/2/trump-berated-netanyahu-scepticism-abounds-about-us-israel-feud-rumour"&gt;’الجزیرہ‘&lt;/a&gt; سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسے طاقتور رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فون اٹھا کر نیتن یاہو کو امریکی پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈانٹتا ہے، لیکن یہ بات عملی پالیسی کے نتائج سے بالکل الٹ ہے کیونکہ نیتن یاہو کو وہی کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا اسرائیلی اقدامات پر کوئی آخری اختیار نہیں ہے اور اپنے پیشرو رہنماؤں کی طرح وہ بھی امریکی مفادات کو ترجیح دینے میں مکمل ناکام رہے ہیں اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ خواہشات کے آگے جھک رہے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے اندرونی طور پر سخت دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں امریکا کو گھسیٹنے کی اجازت دی جو واشنگٹن کے مفاد میں نہیں ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف ٹرمپ نے عوامی سطح پر ہمیشہ نیتن یاہو کی تعریف کی ہے اور انہیں ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تضاد پر بات کرتے ہوئے سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینیئر فیلو نگار مرتضوی کہتی ہیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کال کی یہ خبر جان بوجھ کر اس لیے باہر لائی گئی ہو گی تاکہ ٹرمپ کو اسرائیل کے خلاف سخت دکھایا جا سکے اور جنگ پر امریکی عوام کے غصے کو کم کیا جا سکے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ دیکھو ہم اسرائیل سے بہت ناراض ہیں، ہم ان پر چلاتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اصل چیز بیانیے سے زیادہ پالیسی ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زمین پر حقائق بدلتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک کثیر الجہتی جنگ ہے جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ انٹیلیجنس، بیانیے اور معلومات کی بھی جنگ ہے جس میں آدھی سچائیوں اور سٹریٹجک لیکس کا سہارا لیا جا رہا ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506035/disagreements-over-lebanon-ceasefire-israeli-minister-calls-on-netanyahu-to-say-no-to-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ان خبروں کو چھاپنے والے ادارے نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیوس کے ترجمان جیمی ولکنز کا کہنا ہے کہ ہم اپنی رپورٹنگ پر قائم ہیں اور ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح بھی کیا تھا کہ ماضی میں بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایران اور دیگر اہم معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکا کی طرف سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور سفارتی تحفظ ملنا بند نہیں ہوتا، تب تک ایسی خبریں محض زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون پر گالیاں دیے جانے اور لعن طعن کی خبریں بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں، لیکن ماہرینِ سیاست نے ان خبروں پر شک کا ظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>حال ہی میں ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک فون کال کے دوران انتہائی سخت الفاظ کہے اور لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں پر انہیں شدید جھاڑ پلائی.</p>
<p>تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ غصے کی ان خبروں کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.</p>
<p>یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان تعلقات میں خرابی کی خبریں سامنے آئی ہوں.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل جنوری 2024 میں جب غزہ میں جنگ جاری تھی، تب اس وقت کے صدر جو بائیڈن کے بارے میں بھی ایسی ہی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان کا صبر جواب دے رہا ہے.</p>
<p>اب ٹرمپ کے دور میں بھی بالکل اسی نوعیت کی خبریں میڈیا کو خفیہ ذرائع سے فراہم کی جا رہی ہیں.</p>
<p>اس صورتحال پر نیشنل ایرانی امریکن کونسل ایکشن کے پالیسی ڈائریکٹر رائن کوسٹیلو نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تو سیاسی مبصرین امریکی صدور کے نیتن یاہو پر بند کمروں میں غصہ ہونے کی رپورٹس کا مذاق اڑانے لگے ہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ عملی طور پر زمین پر کیا ہو رہا ہے.</p>
<p>حقوق انسانی کی تنظیم ڈاؤن سے وابستہ ازابیل ہیسلپ بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ٹرمپ کی غصیلی فون کالز کی کہانیاں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں.</p>
<p>انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/6/2/trump-berated-netanyahu-scepticism-abounds-about-us-israel-feud-rumour">’الجزیرہ‘</a> سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ کو ایک ایسے طاقتور رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فون اٹھا کر نیتن یاہو کو امریکی پالیسی کی خلاف ورزی پر ڈانٹتا ہے، لیکن یہ بات عملی پالیسی کے نتائج سے بالکل الٹ ہے کیونکہ نیتن یاہو کو وہی کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتے ہیں.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا اسرائیلی اقدامات پر کوئی آخری اختیار نہیں ہے اور اپنے پیشرو رہنماؤں کی طرح وہ بھی امریکی مفادات کو ترجیح دینے میں مکمل ناکام رہے ہیں اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ خواہشات کے آگے جھک رہے ہیں.</p>
<p>یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے اندرونی طور پر سخت دباؤ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے.</p>
<p>ناقدین کا الزام ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایک ایسی جنگ میں امریکا کو گھسیٹنے کی اجازت دی جو واشنگٹن کے مفاد میں نہیں ہے.</p>
<p>دوسری طرف ٹرمپ نے عوامی سطح پر ہمیشہ نیتن یاہو کی تعریف کی ہے اور انہیں ایک ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے.</p>
<p>اس تضاد پر بات کرتے ہوئے سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینیئر فیلو نگار مرتضوی کہتی ہیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کال کی یہ خبر جان بوجھ کر اس لیے باہر لائی گئی ہو گی تاکہ ٹرمپ کو اسرائیل کے خلاف سخت دکھایا جا سکے اور جنگ پر امریکی عوام کے غصے کو کم کیا جا سکے.</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہو سکتا ہے کہ دیکھو ہم اسرائیل سے بہت ناراض ہیں، ہم ان پر چلاتے ہیں اور انہیں برا بھلا کہتے ہیں، لیکن اصل چیز بیانیے سے زیادہ پالیسی ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زمین پر حقائق بدلتے ہیں؟</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک کثیر الجہتی جنگ ہے جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ انٹیلیجنس، بیانیے اور معلومات کی بھی جنگ ہے جس میں آدھی سچائیوں اور سٹریٹجک لیکس کا سہارا لیا جا رہا ہے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506035/disagreements-over-lebanon-ceasefire-israeli-minister-calls-on-netanyahu-to-say-no-to-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506035"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب، ان خبروں کو چھاپنے والے ادارے نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے.</p>
<p>ایگزیوس کے ترجمان جیمی ولکنز کا کہنا ہے کہ ہم اپنی رپورٹنگ پر قائم ہیں اور ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ واضح بھی کیا تھا کہ ماضی میں بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ گفتگو ہوتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایران اور دیگر اہم معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں.</p>
<p>پالیسی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک امریکا کی طرف سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور سفارتی تحفظ ملنا بند نہیں ہوتا، تب تک ایسی خبریں محض زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506065</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:55:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03132036b3d5fc9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03132036b3d5fc9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے غیر تجربہ کار اتحادی کو قائم مقام انٹیلی جینس چیف مقرر کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وفاقی ہاؤسنگ ریگولیٹر بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجینس مقرر کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/trump-appoints-ally-fhfa-chief-pulte-acting-us-intelligence-director-2026-06-02/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; کے مطابق اس تقرری کے ساتھ 38 سالہ بل پلٹے، جن کے پاس قومی سلامتی یا انٹیلی جنس کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں، ایسے وقت میں امریکی انٹیلی جنس ادارے کی قیادت سنبھالیں گے جب امریکا ایران کے ساتھ جنگ سمیت متعدد عالمی کشیدگیوں اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل پلٹے اس سے قبل وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے دورِ سربراہی میں انہوں نے ٹرمپ کے بعض سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ مارگیج فراڈ کی تحقیقات کی حمایت کی تھی، تاہم اب تک ان تحقیقات کے نتیجے میں کسی کے خلاف فوجداری الزامات عائد نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل پلٹے اس عہدے سے استعفا دینے والی سابق انٹیلیجینس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کی جگہ لیں گے، جو فروری 2025 سے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے منصب پر فائز تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلسی گبارڈ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 30 جون سے اپنا عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلافات کے باعث انہیں اس منصب سے ہٹایا گیا، تاہم تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے شوہر میں کینسر کی تشخیص کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505702'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505702"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قائم مقام تقرری کے تحت بل پلٹے سینیٹ کی توثیق کے بغیر 210 دن تک اس عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔ اس مدت کے دوران نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات بھی منعقد ہوں گے، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پلٹے اپنی موجودہ ذمہ داریاں بھی برقرار رکھیں گے۔ وہ وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے ڈائریکٹر اور سرکاری حمایت یافتہ مارگیج اداروں فینی مے اور فریڈی میک کے چیئرمین کے طور پر بھی کام جاری رکھیں گے، جبکہ بیک وقت امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے 18 اداروں کی نگرانی بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ولیم پلٹے کو امریکا کے حساس ترین معاملات، مالیاتی منڈیوں کے استحکام اور فینی مے و فریڈی میک کے تحت 10 ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثوں کے انتظام کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116680659724813616/embed" class="truthsocial-embed" style="max-width: 100%; border: 0" width="600" allowfullscreen="allowfullscreen"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;script src="https://truthsocial.com/embed.js" async="async"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;قومی سلامتی کے شعبے میں تجربہ نہ رکھنے کے باوجود پلٹے اب سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) سمیت اہم انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تقرری پر ڈیموکریٹک رہنماؤں اور بعض ریپبلکن ارکان نے شدید تنقید کی ہے۔ سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن ریپبلکن سینیٹر جان کورنن نے کہا کہ انہیں اس منصب کے لیے بل پلٹے کی اہلیت کا کوئی واضح ثبوت نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ میں ریپبلکن اکثریتی رہنما جان تھیون نے بھی اشارہ دیا کہ اگر ٹرمپ مستقبل میں پلٹے کو مستقل طور پر اس منصب کے لیے نامزد کرتے ہیں تو انہیں سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان کے بقول، مستقل تقرری کی صورت میں پلٹے کو ایک طویل اور دشوار راستے سے گزرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وفاقی ہاؤسنگ ریگولیٹر بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجینس مقرر کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/trump-appoints-ally-fhfa-chief-pulte-acting-us-intelligence-director-2026-06-02/">رائٹرز</a> کے مطابق اس تقرری کے ساتھ 38 سالہ بل پلٹے، جن کے پاس قومی سلامتی یا انٹیلی جنس کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں، ایسے وقت میں امریکی انٹیلی جنس ادارے کی قیادت سنبھالیں گے جب امریکا ایران کے ساتھ جنگ سمیت متعدد عالمی کشیدگیوں اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔</p>
<p>بل پلٹے اس سے قبل وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے دورِ سربراہی میں انہوں نے ٹرمپ کے بعض سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ مارگیج فراڈ کی تحقیقات کی حمایت کی تھی، تاہم اب تک ان تحقیقات کے نتیجے میں کسی کے خلاف فوجداری الزامات عائد نہیں کیے گئے۔</p>
<p>بل پلٹے اس عہدے سے استعفا دینے والی سابق انٹیلیجینس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کی جگہ لیں گے، جو فروری 2025 سے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے منصب پر فائز تھیں۔</p>
<p>تلسی گبارڈ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 30 جون سے اپنا عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلافات کے باعث انہیں اس منصب سے ہٹایا گیا، تاہم تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے شوہر میں کینسر کی تشخیص کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505702'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505702"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>قائم مقام تقرری کے تحت بل پلٹے سینیٹ کی توثیق کے بغیر 210 دن تک اس عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔ اس مدت کے دوران نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات بھی منعقد ہوں گے، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پلٹے اپنی موجودہ ذمہ داریاں بھی برقرار رکھیں گے۔ وہ وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے ڈائریکٹر اور سرکاری حمایت یافتہ مارگیج اداروں فینی مے اور فریڈی میک کے چیئرمین کے طور پر بھی کام جاری رکھیں گے، جبکہ بیک وقت امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے 18 اداروں کی نگرانی بھی کریں گے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ولیم پلٹے کو امریکا کے حساس ترین معاملات، مالیاتی منڈیوں کے استحکام اور فینی مے و فریڈی میک کے تحت 10 ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثوں کے انتظام کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116680659724813616/embed" class="truthsocial-embed" style="max-width: 100%; border: 0" width="600" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe><script src="https://truthsocial.com/embed.js" async="async"></script>
</raw-html>
<p>قومی سلامتی کے شعبے میں تجربہ نہ رکھنے کے باوجود پلٹے اب سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) سمیت اہم انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کریں گے۔</p>
<p>اس تقرری پر ڈیموکریٹک رہنماؤں اور بعض ریپبلکن ارکان نے شدید تنقید کی ہے۔ سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن ریپبلکن سینیٹر جان کورنن نے کہا کہ انہیں اس منصب کے لیے بل پلٹے کی اہلیت کا کوئی واضح ثبوت نظر نہیں آتا۔</p>
<p>سینیٹ میں ریپبلکن اکثریتی رہنما جان تھیون نے بھی اشارہ دیا کہ اگر ٹرمپ مستقبل میں پلٹے کو مستقل طور پر اس منصب کے لیے نامزد کرتے ہیں تو انہیں سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان کے بقول، مستقل تقرری کی صورت میں پلٹے کو ایک طویل اور دشوار راستے سے گزرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506043</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 23:17:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0222514904301bd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0222514904301bd.webp"/>
        <media:title>تصویر بشکریہ: رائٹرز ایجنسی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی دہلی کے ہوٹل میں آتشزدگی، 21 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں ایک ہوٹل میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت میں پھنسے افراد میں بھگدڑ مچ گئی اور جان بچانے کی کوشش میں دو خواتین عمارت سے کودتی ہوئی بھی دیکھی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکام کے مطابق بدھ کی صبح جنوبی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں واقع ”فلورش اسٹے بی اینڈ بی“ نامی ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی فائر سروس کو صبح تقریباً 9 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں، واٹر ٹینکرز، واٹر باؤزرز اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق آگ اور دھوئیں سے بچنے کے لیے عمارت میں موجود افراد نے شدید خوف و ہراس میں باہر نکلنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دو خواتین کو جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو حکام نے عمارت میں پھنسے 40 سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر تہہ خانے سے تین افراد کو زندہ نکالا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو آپریشن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور بعد ازاں حکام نے 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MirrorNow/status/2062070964285010229'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MirrorNow/status/2062070964285010229"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ہوٹل کو دہلی حکومت کی بیڈ اینڈ بریک فاسٹ اسکیم کے تحت صرف 6 کمروں کے آپریشن کی اجازت دی گئی تھی، تاہم مبینہ طور پر وہاں 25 کمرے چلائے جا رہے تھے، جن میں کچھ تہہ خانے میں بھی قائم تھے۔ اس انکشاف کے بعد حفاظتی ضوابط اور لائسنس کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آگ پر قابو پانے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں عمارت کا اگلا حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا، جبکہ کئی منزلوں کی کھڑکیاں دھوئیں اور شعلوں سے سیاہ ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فائر سیفٹی قوانین پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ بھارتی روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ مالویہ نگر میں آتشزدگی کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں ایک ہوٹل میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ آگ لگنے کے بعد عمارت میں پھنسے افراد میں بھگدڑ مچ گئی اور جان بچانے کی کوشش میں دو خواتین عمارت سے کودتی ہوئی بھی دیکھی گئیں۔</strong></p>
<p>بھارتی حکام کے مطابق بدھ کی صبح جنوبی دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں واقع ”فلورش اسٹے بی اینڈ بی“ نامی ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔</p>
<p>دہلی فائر سروس کو صبح تقریباً 9 بجے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں، واٹر ٹینکرز، واٹر باؤزرز اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔</p>
<p>عینی شاہدین کے مطابق آگ اور دھوئیں سے بچنے کے لیے عمارت میں موجود افراد نے شدید خوف و ہراس میں باہر نکلنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دو خواتین کو جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں۔</p>
<p>ریسکیو حکام نے عمارت میں پھنسے 40 سے زائد افراد کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ابتدائی طور پر تہہ خانے سے تین افراد کو زندہ نکالا گیا تھا۔</p>
<p>ریسکیو آپریشن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور بعد ازاں حکام نے 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/MirrorNow/status/2062070964285010229'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MirrorNow/status/2062070964285010229"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ذرائع کے مطابق ہوٹل کو دہلی حکومت کی بیڈ اینڈ بریک فاسٹ اسکیم کے تحت صرف 6 کمروں کے آپریشن کی اجازت دی گئی تھی، تاہم مبینہ طور پر وہاں 25 کمرے چلائے جا رہے تھے، جن میں کچھ تہہ خانے میں بھی قائم تھے۔ اس انکشاف کے بعد حفاظتی ضوابط اور لائسنس کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آگ پر قابو پانے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں عمارت کا اگلا حصہ مکمل طور پر جل چکا تھا، جبکہ کئی منزلوں کی کھڑکیاں دھوئیں اور شعلوں سے سیاہ ہو گئی تھیں۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا فائر سیفٹی قوانین پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔</p>
<p>دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ بھارتی روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ مالویہ نگر میں آتشزدگی کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506064</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 13:31:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03133027cfbefbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03133027cfbefbb.webp"/>
        <media:title>تصویر بزریعہ این ڈی ٹی وی</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے امریکا سے تمام رابطے معطل کر دیے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506061/iran-suspended-all-contact-with-us-irani-media-claims</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506040/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا، ”ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے۔ چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں۔</strong></p>
<p>ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔</p>
<p>ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506040/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا، ”ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے۔ چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506061</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:30:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03123029fd6fc15.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03123029fd6fc15.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آیت اللہ خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کی تیاریاں: تین روزہ تقریبات کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506063/funeral-of-former-iranian-supreme-leader-ali-khamenei</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق علی خامنہ کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد امین توکلی زادہ کے مطابق تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506061/iran-suspended-all-contact-with-us-irani-media-claims'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق علی خامنہ کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506044"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>محمد امین توکلی زادہ کے مطابق تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506061/iran-suspended-all-contact-with-us-irani-media-claims'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506063</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:52:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0312400959557d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0312400959557d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے کویت اور بحرین پر حملے: امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506045/us-strikes-irans-qeshm-island-says-tehran-targeted-kuwait-bahrain</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے اور آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں. دونوں جانب سے ان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TehranTimes79/status/2061936172318839084?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TehranTimes79/status/2061936172318839084?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاسداران انقلاب کے حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PresstvExtra/status/2061975119560364099?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PresstvExtra/status/2061975119560364099?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک الگ موقف پیش کیا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2061982709723906359?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2061982709723906359?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی کمانڈ نے مزید کہا کہ ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2061960381245891028?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2061960381245891028?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PeteHegseth/status/2061936599970070978?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PeteHegseth/status/2061936599970070978?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس وقت دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور خطے میں امن و امان کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہا پر پہنچ گئی ہے اور آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں. دونوں جانب سے ان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے.</strong></p>
<p>ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TehranTimes79/status/2061936172318839084?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TehranTimes79/status/2061936172318839084?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاسداران انقلاب کے حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.</p>
<p>ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PresstvExtra/status/2061975119560364099?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PresstvExtra/status/2061975119560364099?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.</p>
<p>دوسری طرف، امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک الگ موقف پیش کیا ہے.</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں.</p>
<p>امریکی فوج کے مطابق ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2061982709723906359?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2061982709723906359?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی کمانڈ نے مزید کہا کہ ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔</p>
<p>امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2061960381245891028?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2061960381245891028?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.</p>
<p>اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PeteHegseth/status/2061936599970070978?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PeteHegseth/status/2061936599970070978?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس وقت دونوں ممالک کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور خطے میں امن و امان کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506045</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:14:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03122010e74f263.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03122010e74f263.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی یونیورسٹی کا مکروہ دھندہ: اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506051/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کی معروف یونیورسٹی کا ایک مکروہ دھندہ سامنے آیا ہے، جو مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے امریکی بحریہ کو لاشیں فروخت کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ریاست نیواڈا میں میڈیکل کیس مینیجر کے طور پر کام کرنے والی مریم وولپن کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا یعنی یو ایس سی کے ایک طالب علم صحافی کی طرف سے ایک ایسا پیغام ملا جس نے انہیں شدید پریشان کر دیا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طالب علم جینیفر نیہرر اس ٹیم کا حصہ تھیں جو اس سنگین الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کو عطیہ کیے جانے والے انسانی جسم مبینہ طور پر امریکی مسلح افواج کو فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ان میں سے کچھ لاشیں اسرائیلی فوج کے سرجنوں کے پاس بھی پہنچائی گئی ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مریم وولپن نے قطر کے نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/longform/2026/6/2/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training"&gt;’الجزیرہ‘&lt;/a&gt; کو بتایا کہ یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا، میری 101 سالہ والدہ جینیٹ کا انتقال 2021 میں ہوا تھا، وہ دوسری جنگ عظیم میں فلائٹ نرس کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا جسم یو ایس سی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب مجھے یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں میری والدہ کا جسم بھی غزہ کی جنگ جیسے تنازعات کے لیے فوجی ٹیموں کی جراحی کی تربیت میں تو استعمال نہیں ہوا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے بنائی گئی دستاویزی فلم ’ڈائریکٹ فرام‘ میں ایسے کئی خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے پیاروں کی باقیات فوجیوں کی تربیت کے لیے استعمال ہوئیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالب علم صحافیوں کی اس ٹیم نے 2025 میں اس کہانی کو بے نقاب کیا تھا، اور ان کی رپورٹ کے مطابق یو ایس سی سدرن کیلیفورنیا کے ان دو اداروں میں سے ایک ہے جو امریکی بحریہ کو اسرائیلی سرجنوں کی تربیت کے لیے لاشیں فراہم کرتے رہے ہیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=GXkfo_ImlUk'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/GXkfo_ImlUk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;الجزیرہ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ 2018 سے اب تک یو ایس سی نے امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی معاہدوں کے تحت کم از کم 90 کے قریب تازہ لاشیں فراہم کی ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس اسرائیلی تربیتی پروگرام کی عوامی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن 2020 میں یو ایس سی اور امریکی بحریہ کے انسٹرکٹرز کے لکھے گئے ایک طبی مقالے سے اس عمل کی اندرونی تفصیلات سامنے آتی ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ان سرجنوں کو  جنگ میں جراحی کی مہارت کا چار روزہ کورس کرایا جاتا ہے جو بالکل فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں. اس تربیت کے دوران عطیہ شدہ جسموں میں ایک خاص طریقے سے مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل زندہ انسانوں کی طرح نظر آئیں اور میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کی طرح ان کے جسم سے خون بہتا ہوا دکھائی دے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ان لاشوں پر گولیوں کے زخم اور دھماکا خیز مواد سے لگنے والی چوٹوں کی نقل تیار کر کے فوجیوں کو تربیت دی جاتی ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30422497'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30422497"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس حساس معاملے پر جب یو ایس سی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس تربیت کے دوران تجربہ کار ٹراما سرجن جراحی کے آلات کی مدد سے پیچیدہ زخموں کے نمونے تیار کرتے ہیں تاکہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کئی ماہر سرجنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار عام تعلیمی پروگراموں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انتہائی مخصوص فوجی تربیت کے لیے ہی ہوتا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، وفاقی معاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے اور اسرائیلی فوجی ڈاکٹرز 2013 میں ہی اس تربیت کے لیے لاس اینجلس پہنچنا شروع ہو گئے تھے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو ایس سی نے اپنے ایک ای میل جواب میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی فوجی پروگرام ہے، بلکہ اسے ایک تعلیمی کورس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل اسرائیلی طبی عملہ فوج سے تعلق نہیں رکھتا تھا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو یعنی یو سی ایس ڈی کی مدد لینا پڑی، اور طلبہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2024 سے 2026 کے اوائل تک 124 لاشیں یو سی ایس ڈی سے یو ایس سی منتقل کی گئیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو سی ایس ڈی نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ ملٹری ٹریننگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اس کورس کی غلط عکاسی کرتا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تنازع نے اب عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ عطیہ کے دستاویزات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے جسم امریکی یا غیر ملکی فوج کی تربیت کے لیے استعمال ہوں گے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440566'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یو ایس سی سے وابستہ ایک ڈاکٹر محمد رعد نے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا مریض کو اس بات کا علم تھا، اور کیا وہ غیر ملکی فوجوں کے ساتھ اس طرح کے طریقہ کار کو جان کر کبھی اس کی اجازت دیتے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جینیفر گومز، جن کی دادی نے 2012 میں اپنا جسم عطیہ کیا تھا، انہوں نے بھی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ہم بین الاقوامی افواج کو اپنے خاندان کے جسموں پر تربیت کے لیے یہاں بلا رہے ہیں، خاص طور پر ان افواج کو جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میری دادی جیسے لوگ یہ سوچ کر جسم عطیہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہے ہیں، یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کسی ملٹری فورس کو زیادہ طاقتور بنائیں گے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انکشاف کے بعد انگریزی کی پروفیسر ونڈی سمتھ نے بتایا کہ اب وہ اپنا جسم عطیہ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنا چاہتیں، اور انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام صورتحال پر ریسرچ کے حامیوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے لاشوں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن مریم وولپن جیسے لواحقین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس معاملے میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30391154/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30391154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;طالب علم صحافیوں نے یونیورسٹیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، طالب علم صحافی ساشا ریو کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد ایجنڈا صرف سچائی کو سامنے لانا تھا، جبکہ ان کے ساتھی تھامس مٹھی نے بتایا کہ جن خاندانوں سے انہوں نے بات کی ہے وہ اس صورتحال سے شدید صدمے میں ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزی فلم کے سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیلتھ نے اپنے سوال و جواب کے صفحے پر یہ نئی معلومات شامل کی ہیں کہ عطیہ کردہ جسموں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور انہیں ملٹری میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے دفاع کی ایک کوشش ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام احتجاج کے باوجود، امریکی بحریہ نے یو ایس سی کے ساتھ اس پروگرام کے معاہدوں کی 2029 تک تجدید کا ارادہ ظاہر کیا ہے.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کی معروف یونیورسٹی کا ایک مکروہ دھندہ سامنے آیا ہے، جو مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے امریکی بحریہ کو لاشیں فروخت کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی ریاست نیواڈا میں میڈیکل کیس مینیجر کے طور پر کام کرنے والی مریم وولپن کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا یعنی یو ایس سی کے ایک طالب علم صحافی کی طرف سے ایک ایسا پیغام ملا جس نے انہیں شدید پریشان کر دیا.</p>
<p>یہ طالب علم جینیفر نیہرر اس ٹیم کا حصہ تھیں جو اس سنگین الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کو عطیہ کیے جانے والے انسانی جسم مبینہ طور پر امریکی مسلح افواج کو فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ان میں سے کچھ لاشیں اسرائیلی فوج کے سرجنوں کے پاس بھی پہنچائی گئی ہیں.</p>
<p>اس خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مریم وولپن نے قطر کے نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/longform/2026/6/2/us-university-sells-dead-bodies-to-navy-for-israeli-military-training">’الجزیرہ‘</a> کو بتایا کہ یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا، میری 101 سالہ والدہ جینیٹ کا انتقال 2021 میں ہوا تھا، وہ دوسری جنگ عظیم میں فلائٹ نرس کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا جسم یو ایس سی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب مجھے یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں میری والدہ کا جسم بھی غزہ کی جنگ جیسے تنازعات کے لیے فوجی ٹیموں کی جراحی کی تربیت میں تو استعمال نہیں ہوا.</p>
<p>اس حوالے سے بنائی گئی دستاویزی فلم ’ڈائریکٹ فرام‘ میں ایسے کئی خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے پیاروں کی باقیات فوجیوں کی تربیت کے لیے استعمال ہوئیں.</p>
<p>طالب علم صحافیوں کی اس ٹیم نے 2025 میں اس کہانی کو بے نقاب کیا تھا، اور ان کی رپورٹ کے مطابق یو ایس سی سدرن کیلیفورنیا کے ان دو اداروں میں سے ایک ہے جو امریکی بحریہ کو اسرائیلی سرجنوں کی تربیت کے لیے لاشیں فراہم کرتے رہے ہیں.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=GXkfo_ImlUk'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/GXkfo_ImlUk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>الجزیرہ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ 2018 سے اب تک یو ایس سی نے امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی معاہدوں کے تحت کم از کم 90 کے قریب تازہ لاشیں فراہم کی ہیں.</p>
<p>اگرچہ اس اسرائیلی تربیتی پروگرام کی عوامی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن 2020 میں یو ایس سی اور امریکی بحریہ کے انسٹرکٹرز کے لکھے گئے ایک طبی مقالے سے اس عمل کی اندرونی تفصیلات سامنے آتی ہیں.</p>
<p>اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ان سرجنوں کو  جنگ میں جراحی کی مہارت کا چار روزہ کورس کرایا جاتا ہے جو بالکل فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں. اس تربیت کے دوران عطیہ شدہ جسموں میں ایک خاص طریقے سے مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل زندہ انسانوں کی طرح نظر آئیں اور میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کی طرح ان کے جسم سے خون بہتا ہوا دکھائی دے.</p>
<p>اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ان لاشوں پر گولیوں کے زخم اور دھماکا خیز مواد سے لگنے والی چوٹوں کی نقل تیار کر کے فوجیوں کو تربیت دی جاتی ہے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30422497'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30422497"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس حساس معاملے پر جب یو ایس سی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس تربیت کے دوران تجربہ کار ٹراما سرجن جراحی کے آلات کی مدد سے پیچیدہ زخموں کے نمونے تیار کرتے ہیں تاکہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے.</p>
<p>دوسری جانب کئی ماہر سرجنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار عام تعلیمی پروگراموں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انتہائی مخصوص فوجی تربیت کے لیے ہی ہوتا ہے.</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، وفاقی معاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے اور اسرائیلی فوجی ڈاکٹرز 2013 میں ہی اس تربیت کے لیے لاس اینجلس پہنچنا شروع ہو گئے تھے.</p>
<p>یو ایس سی نے اپنے ایک ای میل جواب میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی فوجی پروگرام ہے، بلکہ اسے ایک تعلیمی کورس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل اسرائیلی طبی عملہ فوج سے تعلق نہیں رکھتا تھا.</p>
<p>تاہم رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو یعنی یو سی ایس ڈی کی مدد لینا پڑی، اور طلبہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2024 سے 2026 کے اوائل تک 124 لاشیں یو سی ایس ڈی سے یو ایس سی منتقل کی گئیں.</p>
<p>یو سی ایس ڈی نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ ملٹری ٹریننگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اس کورس کی غلط عکاسی کرتا ہے.</p>
<p>اس تنازع نے اب عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ عطیہ کے دستاویزات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے جسم امریکی یا غیر ملکی فوج کی تربیت کے لیے استعمال ہوں گے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30440566'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30440566"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یو ایس سی سے وابستہ ایک ڈاکٹر محمد رعد نے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا مریض کو اس بات کا علم تھا، اور کیا وہ غیر ملکی فوجوں کے ساتھ اس طرح کے طریقہ کار کو جان کر کبھی اس کی اجازت دیتے؟</p>
<p>اسی طرح جینیفر گومز، جن کی دادی نے 2012 میں اپنا جسم عطیہ کیا تھا، انہوں نے بھی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ہم بین الاقوامی افواج کو اپنے خاندان کے جسموں پر تربیت کے لیے یہاں بلا رہے ہیں، خاص طور پر ان افواج کو جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں.</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میری دادی جیسے لوگ یہ سوچ کر جسم عطیہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہے ہیں، یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کسی ملٹری فورس کو زیادہ طاقتور بنائیں گے.</p>
<p>اس انکشاف کے بعد انگریزی کی پروفیسر ونڈی سمتھ نے بتایا کہ اب وہ اپنا جسم عطیہ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنا چاہتیں، اور انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں.</p>
<p>اس تمام صورتحال پر ریسرچ کے حامیوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے لاشوں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن مریم وولپن جیسے لواحقین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس معاملے میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30391154/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30391154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>طالب علم صحافیوں نے یونیورسٹیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، طالب علم صحافی ساشا ریو کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد ایجنڈا صرف سچائی کو سامنے لانا تھا، جبکہ ان کے ساتھی تھامس مٹھی نے بتایا کہ جن خاندانوں سے انہوں نے بات کی ہے وہ اس صورتحال سے شدید صدمے میں ہیں.</p>
<p>دستاویزی فلم کے سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیلتھ نے اپنے سوال و جواب کے صفحے پر یہ نئی معلومات شامل کی ہیں کہ عطیہ کردہ جسموں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور انہیں ملٹری میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>جس پر لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے دفاع کی ایک کوشش ہے.</p>
<p>اس تمام احتجاج کے باوجود، امریکی بحریہ نے یو ایس سی کے ساتھ اس پروگرام کے معاہدوں کی 2029 تک تجدید کا ارادہ ظاہر کیا ہے.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506051</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 09:25:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/03091841b991068.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/03091841b991068.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے لیے ویزوں کا اجرا شروع کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506033/saudiarabia-umrahvisa-umrahseason-nusukplatform-pilgrimagetravel</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے لیے ویزا درخواستوں کا اجرا شروع کر دیا ہے۔ وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق رواں سال کے حج سیزن کے اختتام کے بعد، دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین کی سعودی عرب آمد کا سلسلہ اتوار سے شروع  ہوچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ حج و عمرہ نے بتایا کہ نئے عمرہ سیزن کے دوران عمرہ ویزوں کا اجرا 9 مارچ 2027 تک جاری رہے گا، جو یکم شوال 1448 ہجری کے مطابق ہے۔ اس کے بعد عمرہ ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔ بین الاقوامی زائرین 23 مارچ 2027 تک سعودی عرب میں داخل ہو سکیں گے، جبکہ تمام عمرہ زائرین کے لیے 7 اپریل 2027 تک مملکت سے روانگی لازمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق عمرہ زائرین اب سعودی حکومت کی ”نُسک“ ایپلی کیشن کے ذریعے مکہ مکرمہ میں داخلے اور عمرہ پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔ یہ پلیٹ فارم عمرہ اور حج سے متعلق اجازت ناموں، بکنگ، رہنمائی اور دیگر خدمات کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام کے طور پر کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495498'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495498"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب نے گزشتہ چند برسوں کے دوران عمرہ خدمات میں ڈیجیٹل نظام کو تیزی سے فروغ دیا ہے۔ نسک پلیٹ فارم کے ذریعے الیکٹرانک پرمٹس، خودکار معاہداتی طریقہ کار اور کیو آر کوڈ کی تصدیق جیسے جدید نظام متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ زائرین کو زیادہ آسان اور منظم سہولیات فراہم کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکومت وژن 2030 کے تحت عمرہ اور حج کے شعبے میں مزید بہتری کے لیے ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں بڑھتی ہوئی تعداد میں آنے والے زائرین کو بہتر خدمات فراہم کرنا اور ان کے سفر کو مزید آسان بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے لیے ویزا درخواستوں کا اجرا شروع کر دیا ہے۔ وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق رواں سال کے حج سیزن کے اختتام کے بعد، دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین کی سعودی عرب آمد کا سلسلہ اتوار سے شروع  ہوچکا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ حج و عمرہ نے بتایا کہ نئے عمرہ سیزن کے دوران عمرہ ویزوں کا اجرا 9 مارچ 2027 تک جاری رہے گا، جو یکم شوال 1448 ہجری کے مطابق ہے۔ اس کے بعد عمرہ ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔ بین الاقوامی زائرین 23 مارچ 2027 تک سعودی عرب میں داخل ہو سکیں گے، جبکہ تمام عمرہ زائرین کے لیے 7 اپریل 2027 تک مملکت سے روانگی لازمی ہوگی۔</p>
<p>حکام کے مطابق عمرہ زائرین اب سعودی حکومت کی ”نُسک“ ایپلی کیشن کے ذریعے مکہ مکرمہ میں داخلے اور عمرہ پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔ یہ پلیٹ فارم عمرہ اور حج سے متعلق اجازت ناموں، بکنگ، رہنمائی اور دیگر خدمات کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام کے طور پر کام کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30495498'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30495498"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سعودی عرب نے گزشتہ چند برسوں کے دوران عمرہ خدمات میں ڈیجیٹل نظام کو تیزی سے فروغ دیا ہے۔ نسک پلیٹ فارم کے ذریعے الیکٹرانک پرمٹس، خودکار معاہداتی طریقہ کار اور کیو آر کوڈ کی تصدیق جیسے جدید نظام متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ زائرین کو زیادہ آسان اور منظم سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p>سعودی حکومت وژن 2030 کے تحت عمرہ اور حج کے شعبے میں مزید بہتری کے لیے ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں بڑھتی ہوئی تعداد میں آنے والے زائرین کو بہتر خدمات فراہم کرنا اور ان کے سفر کو مزید آسان بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506033</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 14:59:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/021455585bee3ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/021455585bee3ee.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صحافیوں کے پینٹاگون میں داخلے پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506023/us-pentagon-bans-journalists-from-entering-the-pentagon</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/06/01/pentagon-bans-journalists-press-office-designating-it-classified-space/?utm_campaign=wp_main&amp;amp;utm_source=twitter&amp;amp;utm_medium=social"&gt;دی واشنگٹن پوسٹ&lt;/a&gt; کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی۔ تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات تقریر نویس (اسپیچ رائٹرز) خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پریس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Global_ReportHQ/status/2061608469556289972'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Global_ReportHQ/status/2061608469556289972"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صحافیوں اور پینٹاگون کے درمیان کشیدگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے،  اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عدالتی تنازع&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں۔ اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تاہم امریکی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ تنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے پریس آفس کو حساس اور خفیہ مقام قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد میڈیا نمائندے امریکی فوج کے معاملات پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے افسران تک براہِ راست رسائی سے محروم ہو جائیں گے ۔</strong></p>
<p>امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/06/01/pentagon-bans-journalists-press-office-designating-it-classified-space/?utm_campaign=wp_main&amp;utm_source=twitter&amp;utm_medium=social">دی واشنگٹن پوسٹ</a> کے مطابق پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں اپنے پریس آفس کی سیکیورٹی حیثیت تبدیل کر دی ہے، جس کے بعد صحافیوں کا اس دفتر میں داخلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔</p>
<p>ماضی میں یہ دفتر ایک کھلی جگہ تصور کیا جاتا تھا جہاں صحافی آزادانہ طور پر جا سکتے تھے، فوجی ترجمانوں سے ملاقات کر سکتے تھے اور مختلف حکام سے غیر رسمی گفتگو بھی ممکن تھی۔ تاہم اس نئے فیصلے کے بعد صحافیوں کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع ہوگا۔</p>
<p>پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ اسی دفتر میں تعینات تقریر نویس (اسپیچ رائٹرز) خفیہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور ان اہلکاروں کو خفیہ نوعیت کے مواد تک رسائی درکار ہوتی ہے، جس کے لیے خصوصی محفوظ کمپیوٹر نیٹ ورک استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق اسی وجہ سے دفتر کو حساس نوعیت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے، جہاں سیکیورٹی قواعد کے تحت عام افراد یا صحافی داخل نہیں ہو سکتے اور عوامی امور کے دفتر اور پریس سیکریٹری سے ملاقات پیشگی وقت لینے کے بعد ممکن ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/Global_ReportHQ/status/2061608469556289972'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Global_ReportHQ/status/2061608469556289972"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><strong>صحافیوں اور پینٹاگون کے درمیان کشیدگی</strong></p>
<p>یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون اور صحافیوں کے درمیان پینٹاگون میں دفاتر اور رسائی کے معاملات پر کئی ماہ سے رسہ کشی جاری ہے۔</p>
<p>روایتی طور پر صحافیوں کو پینٹاگون کے غیر خفیہ حصوں تک رسائی حاصل رہی ہے، جہاں وہ ذرائع سے ملاقات اور بریفنگز میں شرکت کرتے تھے۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے دور میں میڈیا کے لیے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>نئے ضوابط کے تحت صحافیوں کے لیے عمارت کے اندر نقل و حرکت کے دوران سرکاری اہلکار کی نگرانی کی شرط بھی عائد کی گئی ہے، جس کے خلاف نیویارک ٹائمز نے الگ قانونی مقدمہ دائر کر رکھا ہے،  اس مقدمے کی سماعت تاحال جاری ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق پریس آفس کو خفیہ علاقہ قرار دینے سے صحافیوں اور پینٹاگون کے ترجمانوں کے درمیان روزمرہ رابطے مزید محدود ہو جائیں گے۔</p>
<p><strong>عدالتی تنازع</strong></p>
<p>گزشتہ اکتوبر میں سینکڑوں صحافیوں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی صحافتی اسناد واپس کر دی تھیں۔ اس پالیسی میں صحافیوں سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کی اشاعت کی سرکاری طور پر اجازت نہ ہو۔</p>
<p>بعد ازاں مارچ میں ایک وفاقی جج نے نیویارک ٹائمز کی درخواست پر اس متنازع پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، تاہم امریکی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔</p>
<p>امریکا کی بڑی صحافتی تنظیم نیشنل پریس کلب نے اس اقدام کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ تنظیم کے صدر مارک شوف جونیئر کے مطابق، امریکی عوام کو فوج کے بارے میں مکمل اور آزاد معلومات ملنا ضروری ہے، اور ایسے اقدامات سے شفاف رپورٹنگ متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پینٹاگون کا یہ تازہ فیصلہ امریکی فوج اور میڈیا کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات فوجی امور کی رپورٹنگ اور عوامی شفافیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506023</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 12:31:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0211303309c7dfa.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0211303309c7dfa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اور امریکا کے درمیان رابطے منقطع نہیں ہوئے، مذاکرات جاری ہیں: صدر ٹرمپ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506044/trump-says-us-iran-talks-continue-despite-reports</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے منقطع ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے ختم ہونے یا مذاکرات رک جانے سے متعلق رپورٹس غلط اور گمراہ کن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی روز سے مسلسل رابطے اور بات چیت جاری ہے، جب کہ دونوں فریق آج بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/022346459d9e9f3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/022346459d9e9f3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے، تاہم انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتِ حال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن سفارتی راستے کو کھلا رکھے ہوئے ہے، تاہم ایران کو بھی معاملات کے حل کے لیے عملی پیش رفت کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506040/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور بعض معاملات پر پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض ایسے پہلوؤں پر آمادگی ظاہر کی ہے جن پر وہ ماضی میں رضامند نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی نظر میں مذاکرات کی اہم شرائط میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی بھی شامل ہے اور ایران کو واضح طور پر اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کا اعلان کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی ٹھوس وعدے کرنا ہوں گے، جب کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔ مارکو روبیو کے مطابق صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دینا پابندیوں میں نرمی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرمیاں تیز کی جا رہی ہیں، جسے واشنگٹن سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے منقطع ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے ختم ہونے یا مذاکرات رک جانے سے متعلق رپورٹس غلط اور گمراہ کن ہیں۔</p>
<p>اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی روز سے مسلسل رابطے اور بات چیت جاری ہے، جب کہ دونوں فریق آج بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/022346459d9e9f3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/022346459d9e9f3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے، تاہم انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدہ کیا جائے۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتِ حال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن سفارتی راستے کو کھلا رکھے ہوئے ہے، تاہم ایران کو بھی معاملات کے حل کے لیے عملی پیش رفت کرنا ہوگی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506040/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور بعض معاملات پر پیش رفت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض ایسے پہلوؤں پر آمادگی ظاہر کی ہے جن پر وہ ماضی میں رضامند نہیں تھا۔</p>
<p>مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی نظر میں مذاکرات کی اہم شرائط میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی بھی شامل ہے اور ایران کو واضح طور پر اس آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کا اعلان کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے معاملے پر بھی ٹھوس وعدے کرنا ہوں گے، جب کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی مخصوص شرائط سے مشروط ہوگی۔ مارکو روبیو کے مطابق صرف آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دینا پابندیوں میں نرمی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرمیاں تیز کی جا رہی ہیں، جسے واشنگٹن سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506044</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 23:56:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02235054b2a51e6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02235054b2a51e6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں: روبیو</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506040/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر زیادہ فعال کردار ادا کررہے ہیں اور مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس کے جوہری پروگرام کے ایسے پہلو بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں جن پر تہران ماضی میں بات کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے ایسے پہلو شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ صرف ایک ماہ قبل یا ایک سال قبل انکار کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ مذاکرات بالآخر ایسے معاہدے پر منتج ہوں گے جو امریکا کے لیے قابلِ قبول ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کے مطابق ایران کے مؤقف میں بعض معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ممکنہ لچک دیکھی جا رہی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2061820807815262394'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2061820807815262394"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہو کر روس، ایران، غزہ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سمیت کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دراصل دیگر ممالک کی مدد کے مترادف ہے، تاہم اس سے امریکا کو کوئی براہِ راست فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی تیل سے امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے وہاں عوامی امداد کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506039/iran-allows-24-commercial-ships-through-strait-of-hormuz'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506039"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اے آئی کے میدان میں عالمی رہنما ہے اور اس شعبے میں اپنی قیادت برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی بندش دراصل ایک جوابی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث یہ اقدامات زیر غور آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ آبی گزرگاہ سب کے لیے کھلی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو کے مطابق کسی بھی جہاز کو نہ روکا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کا ٹول عائد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو یورینیم افزودگی نہ کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد ہر پابندی کے خاتمے کو مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کا انحصار ایران کے اقدامات پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر زیادہ فعال کردار ادا کررہے ہیں اور مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں اس کے جوہری پروگرام کے ایسے پہلو بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں جن پر تہران ماضی میں بات کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے ایسے پہلو شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ صرف ایک ماہ قبل یا ایک سال قبل انکار کر رہے تھے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ مذاکرات بالآخر ایسے معاہدے پر منتج ہوں گے جو امریکا کے لیے قابلِ قبول ہو۔</p>
<p>مارکو روبیو کے مطابق ایران کے مؤقف میں بعض معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ممکنہ لچک دیکھی جا رہی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/RapidResponse47/status/2061820807815262394'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidResponse47/status/2061820807815262394"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہو کر روس، ایران، غزہ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سمیت کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ روس کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دراصل دیگر ممالک کی مدد کے مترادف ہے، تاہم اس سے امریکا کو کوئی براہِ راست فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ روسی تیل سے امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے وہاں عوامی امداد کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506039/iran-allows-24-commercial-ships-through-strait-of-hormuz'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506039"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مارکو روبیو نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اے آئی کے میدان میں عالمی رہنما ہے اور اس شعبے میں اپنی قیادت برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی بندش دراصل ایک جوابی عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث یہ اقدامات زیر غور آئے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ آبی گزرگاہ سب کے لیے کھلی رہے۔</p>
<p>مارکو روبیو کے مطابق کسی بھی جہاز کو نہ روکا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کا ٹول عائد کیا جائے گا۔</p>
<p>ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو یورینیم افزودگی نہ کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد ہر پابندی کے خاتمے کو مخصوص شرائط سے مشروط رکھا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کا انحصار ایران کے اقدامات پر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506040</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 00:01:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/022356482fb3291.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/022356482fb3291.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت تیز، ایران کا 24 جہازوں کو اجازت دینے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506039/iran-allows-24-commercial-ships-through-strait-of-hormuz</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل اور گیس کی ترسیل میں محدود پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج سے باہر نکل گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایل این جی ٹینکر نے گیس کا کارگو بھی لوڈ کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/yvduu6?update=4620268"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt;‘ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو ٹینکر تیل کی مصنوعات لے کر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے، جب کہ ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات میں کارگو لوڈ کیا۔ اگرچہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی تجارتی جہاز خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم ایران اور امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی ترسیل اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپنگ ڈیٹا کے مطابق ’’سی وکٹریئس‘‘ نامی افرا میکس ٹینکر کم از کم 80 ہزار ٹن ہائی سلفر فیول آئل لے کر ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔ یہ جہاز عراق کی خور الزبیر بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور توقع ہے کہ جون کے دوسرے نصف میں ملائیشیا پہنچ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ’’ایس ٹی آئی ایلیسیز‘‘ نامی ایک اور ٹینکر بھی جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ یہ جہاز کویت سے صاف شدہ تیل کی مصنوعات لے کر روانہ ہوا تھا، تاہم اس کی حتمی منزل کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506025/interim-agreement-with-us-iran-new-strategy-to-reduce-economic-pressure'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506025"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’میری گولڈ‘‘ ایل این جی ٹینکر نے 24 اور 25 مئی کو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ ٹرمینل سے گیس کا کارگو لوڈ کیا۔ شپنگ تجزیاتی ادارے ووَرٹیکسا کے مطابق اس جہاز نے 3 مئی کو اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) بند کر دیا تھا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کی نقل و حرکت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی نیوی) سے پیشگی اجازت حاصل کی تھی اور ان کی نقل و حرکت متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت انجام پائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/yvduu6?update=4620013"&gt;بیان&lt;/a&gt; میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ’’ذہانت پر مبنی کنٹرول‘‘ مکمل اختیار کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ بیان کے مطابق آئی آر جی سی نیوی بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے جبکہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مقررہ قواعد، پیشگی اجازت اور باہمی رابطے کے تحت جاری رکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شرپسند غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی اور خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اپنی شناختی نشریات عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی لیے اس آبی راستے کی صورتحال پر عالمی توانائی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل اور گیس کی ترسیل میں محدود پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے دو تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج سے باہر نکل گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایل این جی ٹینکر نے گیس کا کارگو بھی لوڈ کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/yvduu6?update=4620268">الجزیرہ</a>‘ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو ٹینکر تیل کی مصنوعات لے کر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے، جب کہ ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات میں کارگو لوڈ کیا۔ اگرچہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی تجارتی جہاز خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں، تاہم ایران اور امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی ترسیل اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>شپنگ ڈیٹا کے مطابق ’’سی وکٹریئس‘‘ نامی افرا میکس ٹینکر کم از کم 80 ہزار ٹن ہائی سلفر فیول آئل لے کر ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔ یہ جہاز عراق کی خور الزبیر بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور توقع ہے کہ جون کے دوسرے نصف میں ملائیشیا پہنچ جائے گا۔</p>
<p>اسی طرح ’’ایس ٹی آئی ایلیسیز‘‘ نامی ایک اور ٹینکر بھی جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔ یہ جہاز کویت سے صاف شدہ تیل کی مصنوعات لے کر روانہ ہوا تھا، تاہم اس کی حتمی منزل کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آئیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506025/interim-agreement-with-us-iran-new-strategy-to-reduce-economic-pressure'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506025"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’میری گولڈ‘‘ ایل این جی ٹینکر نے 24 اور 25 مئی کو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ ٹرمینل سے گیس کا کارگو لوڈ کیا۔ شپنگ تجزیاتی ادارے ووَرٹیکسا کے مطابق اس جہاز نے 3 مئی کو اپنا خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) بند کر دیا تھا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اس کی نقل و حرکت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔</p>
<p>ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی نیوی) سے پیشگی اجازت حاصل کی تھی اور ان کی نقل و حرکت متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت انجام پائی۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/yvduu6?update=4620013">بیان</a> میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ’’ذہانت پر مبنی کنٹرول‘‘ مکمل اختیار کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ بیان کے مطابق آئی آر جی سی نیوی بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے جبکہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مقررہ قواعد، پیشگی اجازت اور باہمی رابطے کے تحت جاری رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شرپسند غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی اور خطے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران اپنی شناختی نشریات عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ نہ لگایا جا سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اسی لیے اس آبی راستے کی صورتحال پر عالمی توانائی منڈیاں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506039</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 18:16:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02175748e5a6b5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02175748e5a6b5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیروت پر حملے روکنے کا فیصلہ: اسرائیلی وزرا وزیرِاعظم نیتن یاہو پر چڑھ دوڑے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506035/disagreements-over-lebanon-ceasefire-israeli-minister-calls-on-netanyahu-to-say-no-to-trump</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے روکنے کے اعلان پر اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کھل کر کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعلان کی توثیق کی بعد ان کی کابینہ کے متعصب ترین وزیر نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کےسخت گیر نظریات رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں مجوزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کریں اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بن گویر نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپ نے خود کہا تھا کہ ایک مضبوط وزیراعظم امریکی صدر کو جہاں ممکن ہو ’ہاں‘ اور جہاں ضروری ہو ’نہیں‘ کہتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہہ کر صاف انکار کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں جنگ بندی کے بجائے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اقدامات کیے جائیں جو ضروری ہیں، حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے، ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ کھولے جائیں اور شمالی اسرائیل میں سکیورٹی بحال کی جائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتمار بن گویر اسرائیلی کابینہ کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی جنگ بندی کی مختلف تجاویز کی مخالفت کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بن گویر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی حکومت کے بعض سخت گیر وزرا اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.axios.com/2026/06/01/trump-netanyahu-israel-lebanon-call"&gt;ایگزیوس &lt;/a&gt;کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان پر حملے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے پر اسرائیل میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے علاوہ کابینہ کی جانب سے بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.i24news.tv/en/news/israel/politics/artc-a-gov-t-that-has-lost-control-of-israeli-sovereignty-politicians-lash-out-at-netanyahu-after-trump-halts-beirut-op"&gt;اسرائیلی اخبار&lt;/a&gt; کے مطابق سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس معاملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’یروشلم، بیت شمس، لبنان یا غزہ، جگہیں بدلتی ہیں لیکن ایک ہی کہانی ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جس نے اسرائیلی خودمختاری پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تاریخ میں شاید ہی کوئی وزیراعظم ایسا ہوا ہو جو نامناسب مطالبے پر اس حد تک جھکا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمران جماعت لیکود کے رکنِ پارلیمنٹ ڈین ایلوز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کوئی بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو اپنے دفاع سے نہیں روک سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کے مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لبنان پر جارحیت جاری رکھی، تو تہران براہِ راست اس جنگ میں کود پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے روکنے کے اعلان پر اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم کھل کر کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اعلان کی توثیق کی بعد ان کی کابینہ کے متعصب ترین وزیر نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل کےسخت گیر نظریات رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں مجوزہ جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کریں اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کریں۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بن گویر نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’آپ نے خود کہا تھا کہ ایک مضبوط وزیراعظم امریکی صدر کو جہاں ممکن ہو ’ہاں‘ اور جہاں ضروری ہو ’نہیں‘ کہتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہا جائے۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ہمارے دوست صدر ٹرمپ کو ’نہیں‘ کہہ کر صاف انکار کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں جنگ بندی کے بجائے حزب اللہ کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/itamarbengvir/status/2061513201011831185"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اقدامات کیے جائیں جو ضروری ہیں، حزب اللہ کو نشانہ بنایا جائے، ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ کھولے جائیں اور شمالی اسرائیل میں سکیورٹی بحال کی جائے‘۔</p>
<p>اتمار بن گویر اسرائیلی کابینہ کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو لبنان اور غزہ میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی جنگ بندی کی مختلف تجاویز کی مخالفت کر چکے ہیں۔</p>
<p>بن گویر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا لبنان میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے، وہیں اسرائیلی حکومت کے بعض سخت گیر وزرا اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی نیوز ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.axios.com/2026/06/01/trump-netanyahu-israel-lebanon-call">ایگزیوس </a>کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملوں کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فون کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ماضی میں بھی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں لیکن امریکی حکام کے مطابق حالیہ فون کال دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت ترین گفتگو تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان پر حملے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے پر اسرائیل میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے علاوہ کابینہ کی جانب سے بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.i24news.tv/en/news/israel/politics/artc-a-gov-t-that-has-lost-control-of-israeli-sovereignty-politicians-lash-out-at-netanyahu-after-trump-halts-beirut-op">اسرائیلی اخبار</a> کے مطابق سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی اس معاملے پر نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’یروشلم، بیت شمس، لبنان یا غزہ، جگہیں بدلتی ہیں لیکن ایک ہی کہانی ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جس نے اسرائیلی خودمختاری پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے‘۔</p>
<p>اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی تاریخ میں شاید ہی کوئی وزیراعظم ایسا ہوا ہو جو نامناسب مطالبے پر اس حد تک جھکا ہو۔</p>
<p>حکمران جماعت لیکود کے رکنِ پارلیمنٹ ڈین ایلوز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیا کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’کوئی بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو اپنے دفاع سے نہیں روک سکتا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کے مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے لبنان پر جارحیت جاری رکھی، تو تہران براہِ راست اس جنگ میں کود پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506035</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:58:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/021546069569b63.webp" type="image/webp" medium="image" height="1600" width="2666">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/021546069569b63.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کا کروڑوں مچھروں کو امریکی فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506010/mosquitoes-debug-program-google-new-project-epa-wolbachia-google</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوگل کا یہ منصوبہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://debug.com/"&gt;“ڈی بگ“ پروگرام&lt;/a&gt;  کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مچھر دنیا کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cdc.gov/global-health/impact/fighting-the-worlds-deadliest-animal.html"&gt;خطرناک ترین حشرات&lt;/a&gt; میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.govinfo.gov/content/pkg/FR-2026-05-06/pdf/2026-08808.pdf"&gt;کمپنی کے مطابق&lt;/a&gt; اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے۔ نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے۔ جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30411055'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی کا مچھروں کی افزائش اور سائنسی تحقیق میں شامل ہونا غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ کئی برسوں سے صحت اور سائنسی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی رہی ہے۔ ”ویریلی ہیلتھ“ نامی ادارہ، جو پہلے الفابیٹ کے تحت کام کرتا تھا، اس منصوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406715/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی  نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا۔ گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ مخصوص نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گوگل ہر سال 1 کروڑ 60 لاکھ مچھر دونوں ریاستوں میں چھوڑنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے عوامی رائے لینے کا عمل 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد ایجنسی فیصلہ کرے گی کہ کمپنی کو تجرباتی اجازت نامہ دیا جائے یا نہیں۔</p>
<p>گوگل کا یہ منصوبہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://debug.com/">“ڈی بگ“ پروگرام</a>  کا حصہ ہے، جس کے تحت کمپنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کی مدد سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>مچھر دنیا کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cdc.gov/global-health/impact/fighting-the-worlds-deadliest-animal.html">خطرناک ترین حشرات</a> میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ یہ ڈینگی، زیکا، ویسٹ نائل وائرس، چکن گونیا اور ملیریا جیسی بیماریوں کو انسانوں تک منتقل کرتے ہیں۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.govinfo.gov/content/pkg/FR-2026-05-06/pdf/2026-08808.pdf">کمپنی کے مطابق</a> اس منصوبے میں صرف نر مچھر استعمال کیے جائیں گے۔ نر مچھر نہ انسانوں کو کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بیکٹیریا ”وولباخیا“ کو شامل کیا جاتا ہے۔ جب ایسا نر مچھر جنگلی مادہ مچھر کے ساتھ ملاپ کرتا ہے تو مادہ کے انڈے نہیں نکلتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30411055'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30411055"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی طریقے، جیسے کیڑے مار ادویات کا استعمال، بعض اوقات ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی افادیت بھی کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مچھروں کی افزائش کے تمام مقامات تلاش کرنا اور ختم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p>اگرچہ ایک ٹیکنالوجی کمپنی کا مچھروں کی افزائش اور سائنسی تحقیق میں شامل ہونا غیر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ کئی برسوں سے صحت اور سائنسی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتی رہی ہے۔ ”ویریلی ہیلتھ“ نامی ادارہ، جو پہلے الفابیٹ کے تحت کام کرتا تھا، اس منصوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ رواں سال کے آغاز میں گوگل نے ڈی بگ پروگرام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق گوگل جس طریقہ کار کو استعمال کر رہی ہے وہ مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ ”سٹرائل انسیکٹ ٹیکنیک“ یا جراثیم سے پاک کیڑوں کی تکنیک کئی دہائیوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہر ایرک کاراگاتا کے مطابق وولباخیا بیکٹیریا کی مدد سے مچھروں کی افزائش روکنے کا طریقہ تقریباً 15 برس سے استعمال ہو رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30406715/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30406715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فی الحال گوگل اپنی توجہ ایڈیز ایجپٹی  نامی مچھر پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو ڈینگی، زیکا، پیلا بخار اور چکن گونیا کے زیادہ تر کیسز پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ کمپنی کے انجینئرز اور سائنس دان ڈیٹا اینالیٹکس، سینسرز اور اے آئی کی مدد سے ایسے خودکار نظام تیار کر رہے ہیں جو نر اور مادہ مچھروں میں درست فرق کر سکیں اور مطلوبہ تعداد میں نر مچھروں کو مناسب مقامات پر چھوڑ سکیں۔</p>
<p>ڈی بگ پروگرام کو سنگاپور میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، جو اس منصوبے کا پہلا بین الاقوامی تحقیقی مرکز تھا۔ گوگل کے مطابق سنگاپور میں لاکھوں نر وولباخیا مچھروں کو چھوڑنے کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی آبادی میں 80 سے 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ 6 سے 12 ماہ کے اندر ڈینگی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان نتائج کے بعد کمپنی نے سنگاپور میں اپنے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔</p>
<p>ڈی بگ پروگرام کے سربراہ لائنس اپسن کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں حاصل ہونے والے نتائج نے کمپنی کو مزید علاقوں تک اس منصوبے کو پھیلانے کا اعتماد دیا ہے، خاص طور پر ایشیا میں جہاں دنیا کے تقریباً 70 فیصد ڈینگی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔</p>
<p>امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اس منصوبے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ اگر اجازت مل جاتی ہے تو یہ منصوبہ بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506010</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 11:00:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/021056293875fd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/021056293875fd5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں موجود اسرائیلی فوجی کو گرفتار کیا جائے، ہند رجب فاؤنڈیشن کا مودی حکومت سے مطالبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506030/hind-rajab-foundation-urges-indian-government-to-arrest-israeli-soldier-in-india</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فلسطین میں جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کے لیے سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارت میں موجود ایک اسرائیلی فوجی ایتان گلبووا کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ داخلہ اور امیگریشن حکام کو شکایت جمع کرادی ہے۔ شکایت میں جنیوا کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکار جنگی مجرم ہے اور بھارتی حکومت اسے گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلانے کی پابند ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہند رجب فاؤنڈیشن کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindrajabfoundation.org/posts/hrf-demands-india-immediately-arrest-israeli-reservist-eitan-gilboa"&gt;ویب سائٹ&lt;/a&gt; پر موجود تفصیلات کے مطابق اس نے بھارتی پولیس، وزارتِ داخلہ اور بیورو آف امیگریشن کو ایک تفصیلی رپورٹ ارسال کی ہے، جس میں اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو اہلکار ایتان گلبووا کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ غزہ میں تباہی پھیلانے میں براہِ راست ملوث رہا ہے اور اس وقت سیاح کے روپ میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کی جانب سے بھارتی حکام کو تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، جس میں شواہد کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اہلکار ایتان گلبووا نے غزہ میں انتقامی کارروائیوں کے دوران پوری کی پوری رہائشی عمارتوں کو دانستہ طور پر تباہ کیا اور ان کارروائیوں کا جشن بھی منایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق جنیوا کنونشن ایکٹ کے تحت یہ اقدامات واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور بھارت جنیوا کنونشنز کا دستخط کنندہ ملک ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے، چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/HindRFoundation/status/2061667000141644260'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/HindRFoundation/status/2061667000141644260"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہند رجب فاؤنڈیشن نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ایتان گلبووا ایک عام سیاح نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو جنگی جرائم کے الزامات کے باوجود بھارت میں آزادانہ طور پر گھوم رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوری ایکشن لے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہند رجب فاؤنڈیشن بیلجیم میں قائم کی گئی بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا نام غزہ میں شہید ہونے والی 6 سالہ فلسطینی بچی ’ہند رجب‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جس کی المناک شہادت اور مدد کے لیے پکارنے والی آخری آڈیو کال نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کی یاد میں قائم ہونے والی اس تنظیم کا بنیادی مقصد جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنظیم سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز کا جائزہ لے کر ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات تیار کرتی ہے اور مختلف ممالک کی عدالتوں میں کیس فائل کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہند رجب کی دلسوز کہانی پر ’وائس آف ہند رجب‘ نامی باقاعدہ فلم بھی بن چکی ہے، جسے عالمی سطح پر بے پناہ پذیرائی ملی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2025897896999076278'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2025897896999076278"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وینس فلم فیسٹیول میں جب اس فلم کا پریمیئر ہوا تو وہاں موجود حاضرین جذباتی ہو کر 23 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہے جب کہ فلم کو 7 ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ اس فلم سمیت ہند رجب پر بننے والی دستاویزی فلمیں اس وقت دنیا بھر میں فلسطینی بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ایک بڑا دستاویزی ثبوت بن چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فلسطین میں جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کے لیے سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارت میں موجود ایک اسرائیلی فوجی ایتان گلبووا کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ داخلہ اور امیگریشن حکام کو شکایت جمع کرادی ہے۔ شکایت میں جنیوا کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکار جنگی مجرم ہے اور بھارتی حکومت اسے گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلانے کی پابند ہے۔</strong></p>
<p>ہند رجب فاؤنڈیشن کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindrajabfoundation.org/posts/hrf-demands-india-immediately-arrest-israeli-reservist-eitan-gilboa">ویب سائٹ</a> پر موجود تفصیلات کے مطابق اس نے بھارتی پولیس، وزارتِ داخلہ اور بیورو آف امیگریشن کو ایک تفصیلی رپورٹ ارسال کی ہے، جس میں اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو اہلکار ایتان گلبووا کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ غزہ میں تباہی پھیلانے میں براہِ راست ملوث رہا ہے اور اس وقت سیاح کے روپ میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں موجود ہے۔</p>
<p>تنظیم کی جانب سے بھارتی حکام کو تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، جس میں شواہد کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اہلکار ایتان گلبووا نے غزہ میں انتقامی کارروائیوں کے دوران پوری کی پوری رہائشی عمارتوں کو دانستہ طور پر تباہ کیا اور ان کارروائیوں کا جشن بھی منایا۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق جنیوا کنونشن ایکٹ کے تحت یہ اقدامات واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور بھارت جنیوا کنونشنز کا دستخط کنندہ ملک ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے، چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/HindRFoundation/status/2061667000141644260'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/HindRFoundation/status/2061667000141644260"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ہند رجب فاؤنڈیشن نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ایتان گلبووا ایک عام سیاح نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو جنگی جرائم کے الزامات کے باوجود بھارت میں آزادانہ طور پر گھوم رہا ہے۔</p>
<p>تنظیم نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوری ایکشن لے۔</p>
<p>ہند رجب فاؤنڈیشن بیلجیم میں قائم کی گئی بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا نام غزہ میں شہید ہونے والی 6 سالہ فلسطینی بچی ’ہند رجب‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جس کی المناک شہادت اور مدد کے لیے پکارنے والی آخری آڈیو کال نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔</p>
<p>اسی کی یاد میں قائم ہونے والی اس تنظیم کا بنیادی مقصد جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔</p>
<p>یہ تنظیم سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز کا جائزہ لے کر ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات تیار کرتی ہے اور مختلف ممالک کی عدالتوں میں کیس فائل کرتی ہے۔</p>
<p>ہند رجب کی دلسوز کہانی پر ’وائس آف ہند رجب‘ نامی باقاعدہ فلم بھی بن چکی ہے، جسے عالمی سطح پر بے پناہ پذیرائی ملی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2025897896999076278'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2025897896999076278"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وینس فلم فیسٹیول میں جب اس فلم کا پریمیئر ہوا تو وہاں موجود حاضرین جذباتی ہو کر 23 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہے جب کہ فلم کو 7 ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ اس فلم سمیت ہند رجب پر بننے والی دستاویزی فلمیں اس وقت دنیا بھر میں فلسطینی بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ایک بڑا دستاویزی ثبوت بن چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506030</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 13:23:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02132618f36a728.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02132618f36a728.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکیلے پن کا کاروبار: چین میں ساڑھے 7 ارب ڈالر کی ’رفاقت کی معیشت‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506007/china-companionshipeconomy-gigeconomy-youthemployment-socialtrends</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین میں تنہائی کا شکار نوجوان طبقہ اپنی سماجی اور جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رقم کے عوض ساتھی حاصل کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ایک نئی 7.4 ارب ڈالر کی ”کمپینین شپ اکانومی“ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برظانوی خبر رساں ایجنسی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/hiking-hotpot-lonely-consumers-china-fuel-74-billion-companionship-economy-2026-06-02/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; اس شعبے میں لوگ معاوضے کے عوض دوسروں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، سفر میں ساتھ دیتے ہیں، پہاڑوں پر چڑھنے میں مدد کرتے ہیں، دوڑ لگانے کے ساتھی بنتے ہیں اور یہاں تک کہ ہاٹ پاٹ جیسے روایتی اجتماعی کھانوں میں بھی ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کے مشہور ’ماؤنٹ تائی‘ پر آنے والے سیاح اب چند سو یوآن ادا کرکے ”کلائمبنگ بڈی“ کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ساتھی راستے میں گفتگو کرتے ہیں، سامان اٹھانے میں مدد دیتے ہیں اور تصاویر بھی بناتے ہیں۔ یہ سروس حالیہ برسوں میں خاصی مقبول ہوئی ہے اور اسے چین میں ابھرتی ہوئی ”رفاقت کی معیشت“ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خدمات زیادہ تر طلبہ، نوجوان فری لانسرز اور عارضی ملازمت کرنے والے افراد فراہم کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی خدمات کی تشہیر کرتے ہیں اور جذباتی سہارا، دوستانہ گفتگو اور عملی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ جو کام پہلے دوست احباب یا جاننے والے بغیر معاوضے کے کر دیتے تھے، اب وہ باقاعدہ طور پر بُک کیے جانے والے کاروباری خدمات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0209411326e49b8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0209411326e49b8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس شعبے کے حجم سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، تاہم سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے اندازوں کے مطابق 2025 میں اس کی مالیت تقریباً 50 ارب یوآن، یعنی 7.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے چین کے شہری طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بہت سے نوجوان روزگار اور تعلیم کی خاطر اپنے خاندانوں سے دور رہتے ہیں، طویل اوقات کار کا سامنا کرتے ہیں اور روایتی سماجی تعلقات برقرار رکھنا ان کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے جذباتی آسودگی اور انسانی تعلق کا احساس حاصل کرنے کے لیے ایسی خدمات کی طلب بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چین میں نوجوانوں کی بے روزگاری بھی ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ مستقل ملازمتوں کی کمی کے باعث بہت سے نوجوان ڈلیوری سروسز، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے عارضی یا لچکدار کام کر رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد افراد لچکدار نوعیت کے روزگار سے وابستہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد چن وین شِن نامی شخص نے مشرقی صوبے شان ڈونگ میں ہائیکنگ ساتھی فراہم کرنے والی کمپنی قائم کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود ایک تجربہ کار ہائیکر ہیں اور انہوں نے اس شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے کاروبار شروع کیا۔ ان کے مطابق کمپنی کا عملہ 10 افراد سے بڑھ کر اب تقریباً 370 افراد تک پہنچ چکا ہے۔ وہ ماؤنٹ تائی پر دن کے وقت چڑھائی کے لیے 800 یوآن (116 ڈالرز) 4فیس وصول کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر نفسیات سامی وونگ کا کہنا ہے کہ معاوضے کے عوض ساتھ دینے والی خدمات کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں صارف کو یقین اور کنٹرول کا احساس ملتا ہے۔ ان کے مطابق نئے لوگوں سے تعلقات قائم کرنے میں جذباتی محنت درکار ہوتی ہے اور نتیجہ غیر یقینی ہوتا ہے، جس سے بعض افراد میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ادائیگی کے ذریعے حاصل کیا جانے والا ساتھ انہیں مسترد کیے جانے کے خدشے سے بچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/020939223542cfa.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/020939223542cfa.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جنوبی چین کے شہر گویلن کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم 24 سالہ تانگ جون شِنگ بھی سفری ساتھی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کام کا خیال اس وقت آیا جب ان کی ایک پروفیسر نے ایک ہفتے کے سفری پروگرام کے دوران انہیں ڈرائیور اور ساتھی کے طور پر ساتھ لے جانے کی درخواست کی۔ اس تجربے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ سفر میں لوگوں کا ساتھ دے کر بھی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تانگ کے مطابق وہ اس کام سے ہر ماہ تقریباً 3 ہزار سے 5 ہزار یوآن تک کما لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے زیادہ تر گاہک خواتین ہوتی ہیں اور ان کی بنیادی ضرورت جذباتی سکون، خوشگوار صحبت اور ایسا ساتھی ہوتا ہے جو سفر کو آسان اور آرام دہ بنا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین کا کہنا ہے کہ کمپینین شپ اکانومی چین میں سماجی اور معاشی تبدیلیوں کی عکاس ہے، جہاں انسانی تعلقات اور جذباتی ضرورتیں اب ایک نئے کاروباری ماڈل کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین میں تنہائی کا شکار نوجوان طبقہ اپنی سماجی اور جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رقم کے عوض ساتھی حاصل کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ایک نئی 7.4 ارب ڈالر کی ”کمپینین شپ اکانومی“ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔</strong></p>
<p>برظانوی خبر رساں ایجنسی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/asia-pacific/hiking-hotpot-lonely-consumers-china-fuel-74-billion-companionship-economy-2026-06-02/">رائٹرز کے مطابق</a> اس شعبے میں لوگ معاوضے کے عوض دوسروں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، سفر میں ساتھ دیتے ہیں، پہاڑوں پر چڑھنے میں مدد کرتے ہیں، دوڑ لگانے کے ساتھی بنتے ہیں اور یہاں تک کہ ہاٹ پاٹ جیسے روایتی اجتماعی کھانوں میں بھی ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔</p>
<p>چین کے مشہور ’ماؤنٹ تائی‘ پر آنے والے سیاح اب چند سو یوآن ادا کرکے ”کلائمبنگ بڈی“ کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ساتھی راستے میں گفتگو کرتے ہیں، سامان اٹھانے میں مدد دیتے ہیں اور تصاویر بھی بناتے ہیں۔ یہ سروس حالیہ برسوں میں خاصی مقبول ہوئی ہے اور اسے چین میں ابھرتی ہوئی ”رفاقت کی معیشت“ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ خدمات زیادہ تر طلبہ، نوجوان فری لانسرز اور عارضی ملازمت کرنے والے افراد فراہم کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی خدمات کی تشہیر کرتے ہیں اور جذباتی سہارا، دوستانہ گفتگو اور عملی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ جو کام پہلے دوست احباب یا جاننے والے بغیر معاوضے کے کر دیتے تھے، اب وہ باقاعدہ طور پر بُک کیے جانے والے کاروباری خدمات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0209411326e49b8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/0209411326e49b8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ اس شعبے کے حجم سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، تاہم سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے اندازوں کے مطابق 2025 میں اس کی مالیت تقریباً 50 ارب یوآن، یعنی 7.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے چین کے شہری طرز زندگی میں آنے والی تبدیلیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بہت سے نوجوان روزگار اور تعلیم کی خاطر اپنے خاندانوں سے دور رہتے ہیں، طویل اوقات کار کا سامنا کرتے ہیں اور روایتی سماجی تعلقات برقرار رکھنا ان کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے جذباتی آسودگی اور انسانی تعلق کا احساس حاصل کرنے کے لیے ایسی خدمات کی طلب بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب چین میں نوجوانوں کی بے روزگاری بھی ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ مستقل ملازمتوں کی کمی کے باعث بہت سے نوجوان ڈلیوری سروسز، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے عارضی یا لچکدار کام کر رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد افراد لچکدار نوعیت کے روزگار سے وابستہ ہیں۔</p>
<p>2022 میں فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد چن وین شِن نامی شخص نے مشرقی صوبے شان ڈونگ میں ہائیکنگ ساتھی فراہم کرنے والی کمپنی قائم کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود ایک تجربہ کار ہائیکر ہیں اور انہوں نے اس شعبے میں بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے کاروبار شروع کیا۔ ان کے مطابق کمپنی کا عملہ 10 افراد سے بڑھ کر اب تقریباً 370 افراد تک پہنچ چکا ہے۔ وہ ماؤنٹ تائی پر دن کے وقت چڑھائی کے لیے 800 یوآن (116 ڈالرز) 4فیس وصول کرتے ہیں۔</p>
<p>ماہر نفسیات سامی وونگ کا کہنا ہے کہ معاوضے کے عوض ساتھ دینے والی خدمات کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں صارف کو یقین اور کنٹرول کا احساس ملتا ہے۔ ان کے مطابق نئے لوگوں سے تعلقات قائم کرنے میں جذباتی محنت درکار ہوتی ہے اور نتیجہ غیر یقینی ہوتا ہے، جس سے بعض افراد میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ادائیگی کے ذریعے حاصل کیا جانے والا ساتھ انہیں مسترد کیے جانے کے خدشے سے بچاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/020939223542cfa.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/020939223542cfa.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جنوبی چین کے شہر گویلن کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم 24 سالہ تانگ جون شِنگ بھی سفری ساتھی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کام کا خیال اس وقت آیا جب ان کی ایک پروفیسر نے ایک ہفتے کے سفری پروگرام کے دوران انہیں ڈرائیور اور ساتھی کے طور پر ساتھ لے جانے کی درخواست کی۔ اس تجربے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ سفر میں لوگوں کا ساتھ دے کر بھی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>تانگ کے مطابق وہ اس کام سے ہر ماہ تقریباً 3 ہزار سے 5 ہزار یوآن تک کما لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے زیادہ تر گاہک خواتین ہوتی ہیں اور ان کی بنیادی ضرورت جذباتی سکون، خوشگوار صحبت اور ایسا ساتھی ہوتا ہے جو سفر کو آسان اور آرام دہ بنا سکے۔</p>
<p>مبصرین کا کہنا ہے کہ کمپینین شپ اکانومی چین میں سماجی اور معاشی تبدیلیوں کی عکاس ہے، جہاں انسانی تعلقات اور جذباتی ضرورتیں اب ایک نئے کاروباری ماڈل کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506007</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 09:54:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0209421331a864f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0209421331a864f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے کے پیچھے ایران کی کیا حکمتِ عملی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506025/interim-agreement-with-us-iran-new-strategy-to-reduce-economic-pressure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے جاری کوششوں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنے اور اندرونی حالات کو مستحکم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک عبوری معاہدے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کا بنیادی مقصد جوہری پروگرام پر کسی حتمی اور بڑی رعایت سے گریز کرتے ہوئے وقت حاصل کرنا، مالی ریلیف کا حصول یقینی بنانا اور درپیش معاشی خطرات پر فوری قابو پانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-eyes-limited-us-deal-relieve-economic-strain-buy-time-2026-06-01/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;کے مطابق مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقتی طور پر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے کسی بھی ناقابلِ واپسی فیصلوں سے گریز اور اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر مذاکرات کو زندہ رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام اس محدود معاہدے کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے متنازع ترین مسائل کو چھیڑے بغیر بھی مالی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی کوشش یہ ہے کہ فی الحال ایک ’عارضی معاہدہ‘ ہو جائے جس کے ذریعے اسے معاشی پابندیوں میں کچھ نرمی ملے، برآمدات کے راستے کھل جائیں اور فوری مالی مشکلات میں کمی آسکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالیہ دنوں میں فریقین کے درمیان دوبارہ جھڑپوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تہران کی اس ابتدائی معاہدے میں دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ قلیل مدتی مالی فوائد کا حصول ہے۔ رواں سال جنوری میں معاشی مسائل کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری مالی ریلیف سے ایرانی حکومت کو معیشت کا پہیہ چلانے اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ عارضی معاہدے کے ذریعے وہ اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو روکے بغیر عسکری اور معاشی دباؤ کو کم کرے، تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جاری جنگ کا خاتمہ ہو، اسے اربوں ڈالر کی تیل کی آمدنی تک رسائی ملے، خام تیل کی برآمدات پر چھوٹ دی جائے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایران کے لیے آبنائے ہرمز سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔ تہران اسے صرف سفارتی سودے بازی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مستقل طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506004/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی عارضی معاہدے کے تحت اگر بحری تجارت بحال بھی ہو جائے تو ایران اس راستے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ عارضی معاہدہ نہ صرف ایران کا معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ نظامِ حکومت کی مجموعی بقا اور استحکام کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ وقتی نوعیت کا ہو گا، ایران اور امریکا کے درمیان اصل اختلافات خصوصاً جوہری پروگرام کا معاملہ پھر بھی اہم ترین اور حل طلب ہی رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے جاری کوششوں کے درمیان یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنے اور اندرونی حالات کو مستحکم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ ایک عبوری معاہدے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ اس سفارتی پیش رفت کا بنیادی مقصد جوہری پروگرام پر کسی حتمی اور بڑی رعایت سے گریز کرتے ہوئے وقت حاصل کرنا، مالی ریلیف کا حصول یقینی بنانا اور درپیش معاشی خطرات پر فوری قابو پانا ہے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-eyes-limited-us-deal-relieve-economic-strain-buy-time-2026-06-01/">رائٹرز </a>کے مطابق مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقتی طور پر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے کسی بھی ناقابلِ واپسی فیصلوں سے گریز اور اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹے بغیر مذاکرات کو زندہ رکھا جائے۔</p>
<p>ایرانی حکام اس محدود معاہدے کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے متنازع ترین مسائل کو چھیڑے بغیر بھی مالی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کی کوشش یہ ہے کہ فی الحال ایک ’عارضی معاہدہ‘ ہو جائے جس کے ذریعے اسے معاشی پابندیوں میں کچھ نرمی ملے، برآمدات کے راستے کھل جائیں اور فوری مالی مشکلات میں کمی آسکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506003/trump-lashed-out-at-netanyahu-over-escalation-in-lebanon'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506003"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد حالیہ دنوں میں فریقین کے درمیان دوبارہ جھڑپوں سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تہران کی اس ابتدائی معاہدے میں دلچسپی کی سب سے بڑی وجہ قلیل مدتی مالی فوائد کا حصول ہے۔ رواں سال جنوری میں معاشی مسائل کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔</p>
<p>فوری مالی ریلیف سے ایرانی حکومت کو معیشت کا پہیہ چلانے اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کی امید ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ عارضی معاہدے کے ذریعے وہ اپنی حساس جوہری سرگرمیوں کو روکے بغیر عسکری اور معاشی دباؤ کو کم کرے، تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جاری جنگ کا خاتمہ ہو، اسے اربوں ڈالر کی تیل کی آمدنی تک رسائی ملے، خام تیل کی برآمدات پر چھوٹ دی جائے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایران کے لیے آبنائے ہرمز سب سے اہم اسٹریٹجک اثاثہ ثابت ہوئی ہے۔ تہران اسے صرف سفارتی سودے بازی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مستقل طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506004/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی عارضی معاہدے کے تحت اگر بحری تجارت بحال بھی ہو جائے تو ایران اس راستے پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ عارضی معاہدہ نہ صرف ایران کا معاشی دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ نظامِ حکومت کی مجموعی بقا اور استحکام کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سب کچھ وقتی نوعیت کا ہو گا، ایران اور امریکا کے درمیان اصل اختلافات خصوصاً جوہری پروگرام کا معاملہ پھر بھی اہم ترین اور حل طلب ہی رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506025</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 12:30:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02122241a657b4d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02122241a657b4d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی نیوز چینل 'اسکائی' کا یو اے ای کے ساتھ 'متنازع' پارٹنر شپ ختم کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506013/sky-ends-controversial-news-joint-venture-in-united-arab-emirates</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس چوبیس گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506012/hundreds-of-kenyans-protest-against-planned-us-ebola-quarantine-facility-in-kenya'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/business/2026/may/31/sky-exits-tv-news-joint-venture-uae-genocide-denial-accusations"&gt;’دی گارڈین‘ &lt;/a&gt;نے اندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کے اعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506011/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506011"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کے مشہور میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساتھ اپنے ٹی وی نیوز کے مشترکہ منصوبے ’اسکائی نیوز عربیہ‘ سے الگ ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے.</strong></p>
<p>یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان جنگ کے دوران اس چینل کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی تھی اور اس پر نسل کشی کے حقائق چھپانے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے.</p>
<p>اسکائی نے اپنے اماراتی پارٹنر ’آئی ایم آئی‘ کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اب وہ اس چوبیس گھنٹے چلنے والے عربی نیوز چینل کی تمام اسٹریٹجک اور آپریشنل ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے گا، تاہم ایک کثیر السالہ برانڈ لائسنسنگ معاہدے کے تحت یہ چینل اپنا پرانا نام برقرار رکھ سکے گا.</p>
<p>ابوظہبی سے نشر ہونے والا یہ چینل 2010 میں الجزیرہ اور بی بی سی عربی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جس نے 2012 میں باقاعدہ نشریات کا آغاز کیا تھا.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506012/hundreds-of-kenyans-protest-against-planned-us-ebola-quarantine-facility-in-kenya'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506012"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس اہم تبدیلی کے موقع پر اسکائی نیوز گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ روڈز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آئی ایم آئی کے ساتھ ہماری شراکت داری کے ذریعے برسوں کے دوران بہت کچھ تیار کیا گیا اور پورے خطے میں ایک نمایاں شناخت بنائی گئی، اس تبدیلی کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے اور ہم اسکائی نیوز عربیہ کے اگلے مرحلے میں اپنے تعلقات کو جاری رکھنے کے منتظر ہیں.</p>
<p>تاہم، برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/business/2026/may/31/sky-exits-tv-news-joint-venture-uae-genocide-denial-accusations">’دی گارڈین‘ </a>نے اندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسکائی کے اعلیٰ حکام خطے کی خبروں پر اسکائی نیوز عربیہ کی پالیسی پر کافی عرصے سے فکر مند تھے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے سوڈان میں مبینہ مظالم کی کوریج پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے.</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506011/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506011"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسی وجہ سے نومبر میں سوڈان کی حکومت نے اسکائی نیوز عربیہ پر اپنے ملک میں کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی تھی کیونکہ چینل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہاں انسانی صورتحال مستحکم ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے واضح ثبوتوں کا ذکر کیا تھا، اگرچہ متحدہ عرب امارات ان مظالم میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے.</p>
<p>اسکائی نیوز کا مشرق وسطیٰ میں خبروں کی فراہمی سے پیچھے ہٹنے کا یہ فیصلہ آسٹریلیا میں کیے گئے ایسے ہی ایک فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جہاں امریکی کمپنی کامکاسٹ نے آسٹریلیا میں اسکائی نیوز کا برانڈ لائسنس تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وہ چینل اب نیوز ٹوئنٹی فور کے نام سے کام کرے گا.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506013</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 10:54:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0210512115c6a21.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0210512115c6a21.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسم فروش خواتین کی 'زبردستی مدد': بھارتی سپریم کورٹ نے پولیس کو 70 سال پرانے قانون کا پابند کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30505984/india-illegal-supremecourt-sexworkersrights-humantrafficking-legalrights</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بالغ افراد اپنی مرضی اور رضامندی سے جنسی عمل کرتے ہیں تو یہ خود میں غیر قانونی نہیں ہے، اور پولیس کو ایسے افراد کو ہراساں کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/law-news/story/supreme-court-voluntary-sex-work-ruling-police-cannot-force-rehabilitation-2920071-2026-06-01"&gt;انڈیا ٹوڈے کے مطابق&lt;/a&gt; یہ فیصلہ انسانی اسمگلنگ اور جبری جنسی استحصال کے مقدمات سے متعلق ایک سماعت کے دوران سامنے آیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جنسی کاروبار میں رضامندی سے شامل بالغ افراد کے ساتھ قانون کا رویہ مختلف ہونا چاہیے، اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505978/man-from-azad-kashmir-crosses-line-of-control-to-meet-jampk-woman-he-met-online'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ اگرچہ کوٹھے چلانا قانون کے مطابق غیر قانونی ہے، لیکن صرف اس وجہ سے بالغ جنسی کارکنوں کو گرفتار کرنا یا چھاپوں کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا درست نہیں۔ عدالت کے مطابق پولیس کو ایسے معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے اور رضامند بالغ افراد کو ”ریسکیو“ کے نام پر زبردستی کسی عمل کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ بحالی اور دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کے عمل میں سب سے اہم بات متاثرہ افراد کی رضامندی ہونی چاہیے۔ عدالت نے زور دیا کہ ریاست کسی بھی بالغ فرد پر زبردستی بحالی کا عمل مسلط نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ ستّر سال پرانا قانون جسے ”امورل ٹریفک پریوینشن ایکٹ“ کہا جاتا ہے، اکثر ہر ایسے شخص کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے جو جنسی کاروبار سے جڑا ہو، چاہے وہ مجبور کیا گیا ہو یا اپنی مرضی سے اس شعبے میں آیا ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کا ایک جیسا رویہ ہر کیس کی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505974/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505974"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ اصول بھی سامنے آیا کہ بالغ جنسی کارکنوں کو اپنی زندگی اور فیصلوں کے بارے میں خود اختیار حاصل ہے، اور انہیں صرف اسی وقت مدد دی جا سکتی ہے جب وہ خود یہ مدد چاہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ بحالی کا عمل ہمدردی پر مبنی ہو سکتا ہے، لیکن اسے زبردستی نہیں بنایا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب عدالت انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے رہنما اصول طے کرنے پر غور کر رہی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ہر کیس کو اس کی انفرادی صورتحال اور متعلقہ شخص کی رضامندی کو سامنے رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بالغ افراد اپنی مرضی اور رضامندی سے جنسی عمل کرتے ہیں تو یہ خود میں غیر قانونی نہیں ہے، اور پولیس کو ایسے افراد کو ہراساں کرنے یا ان کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/law-news/story/supreme-court-voluntary-sex-work-ruling-police-cannot-force-rehabilitation-2920071-2026-06-01">انڈیا ٹوڈے کے مطابق</a> یہ فیصلہ انسانی اسمگلنگ اور جبری جنسی استحصال کے مقدمات سے متعلق ایک سماعت کے دوران سامنے آیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جنسی کاروبار میں رضامندی سے شامل بالغ افراد کے ساتھ قانون کا رویہ مختلف ہونا چاہیے، اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505978/man-from-azad-kashmir-crosses-line-of-control-to-meet-jampk-woman-he-met-online'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505978"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عدالت نے کہا کہ اگرچہ کوٹھے چلانا قانون کے مطابق غیر قانونی ہے، لیکن صرف اس وجہ سے بالغ جنسی کارکنوں کو گرفتار کرنا یا چھاپوں کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا درست نہیں۔ عدالت کے مطابق پولیس کو ایسے معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے اور رضامند بالغ افراد کو ”ریسکیو“ کے نام پر زبردستی کسی عمل کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔</p>
<p>فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ بحالی اور دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کے عمل میں سب سے اہم بات متاثرہ افراد کی رضامندی ہونی چاہیے۔ عدالت نے زور دیا کہ ریاست کسی بھی بالغ فرد پر زبردستی بحالی کا عمل مسلط نہیں کر سکتی۔</p>
<p>عدالت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ ستّر سال پرانا قانون جسے ”امورل ٹریفک پریوینشن ایکٹ“ کہا جاتا ہے، اکثر ہر ایسے شخص کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے جو جنسی کاروبار سے جڑا ہو، چاہے وہ مجبور کیا گیا ہو یا اپنی مرضی سے اس شعبے میں آیا ہو۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کا ایک جیسا رویہ ہر کیس کی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505974/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505974"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>فیصلے میں یہ اصول بھی سامنے آیا کہ بالغ جنسی کارکنوں کو اپنی زندگی اور فیصلوں کے بارے میں خود اختیار حاصل ہے، اور انہیں صرف اسی وقت مدد دی جا سکتی ہے جب وہ خود یہ مدد چاہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ بحالی کا عمل ہمدردی پر مبنی ہو سکتا ہے، لیکن اسے زبردستی نہیں بنایا جا سکتا۔</p>
<p>یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب عدالت انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کے حوالے سے رہنما اصول طے کرنے پر غور کر رہی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ہر کیس کو اس کی انفرادی صورتحال اور متعلقہ شخص کی رضامندی کو سامنے رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30505984</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 14:15:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/011344147344845.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/011344147344845.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیا میں امریکی ایبولا قرنطینہ سینٹر کے خلاف عوامی غیظ و غضب کیوں ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506012/hundreds-of-kenyans-protest-against-planned-us-ebola-quarantine-facility-in-kenya</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کینیا کے وسطی شہر نانیوکی میں امریکی فوجی اڈے میں ایبولا وائرس کے قرنطینہ مرکز کے قیام کے خلاف مقامی باشندوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اس مرکز کے قیام سے مقامی آبادی کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جبکہ کینیا کی ہائی کورٹ پہلے ہی اس منصوبے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/hundreds-protest-against-planned-us-ebola-quarantine-facility-kenya-2026-06-01/"&gt;رائٹرز &lt;/a&gt;کے مطابق نانیوکی میں سیکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لگ بھگ 100 افراد مجوزہ قرنطینہ مرکز کے مقام سے تقریباً 4 کلومیٹر دور جمع ہیں، جہاں انہوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر رکاوٹیں کھڑی کیں اور شدید نعرے بازی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں کینیا کی ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرنطینہ مرکز کے قیام کے منصوبے کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ یہ مرکز عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق لائیکیپیا کاؤنٹی میں واقع ایک فضائیہ کے اڈے پر 50 بستروں پر مشتمل قرنطینہ یونٹ قائم کیا جانا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں ایسے امریکی شہریوں کو رکھا جائے گا جو ایبولا وائرس کے ممکنہ رابطے میں آئے ہوں لیکن ان میں ابھی بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061666798714617973'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/i/status/2061666798714617973"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے ایک اہم منتظم پیٹرک واہومے کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں اس مرکز کو 9 جون تک مستقل طور پر بند کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نانیوکی ایک انتہائی چھوٹا شہر ہے۔ فوجی اڈے پر تعینات اہلکار ہماری کمیونٹی کے ساتھ ہی رہتے ہیں اور ان کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ سکول جاتے ہیں۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگر وہاں ایک بھی شخص ایبولا سے متاثر ہوا تو پوری آبادی اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کینیا کے وزیر صحت عدن دوالے نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حکومت کے ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کے خدشات پر دائر کی گئی ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے، کینیا کی ہائیکورٹ نے جمعے کے روز اس منصوبے پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے باوجود، فلائٹ ٹریکنگ سروس کے ڈیٹا کے مطابق جمعے کی سہ پہر ایک امریکی فوجی سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے نے نانیوکی میں لینڈ کیا۔ سفارت کاروں اور مقامی افراد نے بھی ہفتے کے اختتام پر فوجی طیاروں کی مسلسل پروازیں دیکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا ہے کہ احتجاج کے بعد فوجی اڈے کے باہر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جہاں ٹینک اور مسلح فوجی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں، جبکہ اڈے کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور فوج کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کینیا کے وسطی شہر نانیوکی میں امریکی فوجی اڈے میں ایبولا وائرس کے قرنطینہ مرکز کے قیام کے خلاف مقامی باشندوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ اس مرکز کے قیام سے مقامی آبادی کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں جبکہ کینیا کی ہائی کورٹ پہلے ہی اس منصوبے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/hundreds-protest-against-planned-us-ebola-quarantine-facility-kenya-2026-06-01/">رائٹرز </a>کے مطابق نانیوکی میں سیکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لگ بھگ 100 افراد مجوزہ قرنطینہ مرکز کے مقام سے تقریباً 4 کلومیٹر دور جمع ہیں، جہاں انہوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر رکاوٹیں کھڑی کیں اور شدید نعرے بازی کی۔</p>
<p>یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا جب حال ہی میں کینیا کی ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرنطینہ مرکز کے قیام کے منصوبے کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ یہ مرکز عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق لائیکیپیا کاؤنٹی میں واقع ایک فضائیہ کے اڈے پر 50 بستروں پر مشتمل قرنطینہ یونٹ قائم کیا جانا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں ایسے امریکی شہریوں کو رکھا جائے گا جو ایبولا وائرس کے ممکنہ رابطے میں آئے ہوں لیکن ان میں ابھی بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/i/status/2061666798714617973'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/i/status/2061666798714617973"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>احتجاج کے ایک اہم منتظم پیٹرک واہومے کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں اس مرکز کو 9 جون تک مستقل طور پر بند کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نانیوکی ایک انتہائی چھوٹا شہر ہے۔ فوجی اڈے پر تعینات اہلکار ہماری کمیونٹی کے ساتھ ہی رہتے ہیں اور ان کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ سکول جاتے ہیں۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اگر وہاں ایک بھی شخص ایبولا سے متاثر ہوا تو پوری آبادی اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔</p>
<p>دوسری جانب کینیا کے وزیر صحت عدن دوالے نے ہفتے کو جاری ایک بیان میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حکومت کے ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے۔</p>
<p>شہریوں کے خدشات پر دائر کی گئی ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے، کینیا کی ہائیکورٹ نے جمعے کے روز اس منصوبے پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کے باوجود، فلائٹ ٹریکنگ سروس کے ڈیٹا کے مطابق جمعے کی سہ پہر ایک امریکی فوجی سی-130 ٹرانسپورٹ طیارے نے نانیوکی میں لینڈ کیا۔ سفارت کاروں اور مقامی افراد نے بھی ہفتے کے اختتام پر فوجی طیاروں کی مسلسل پروازیں دیکھی ہیں۔</p>
<p>مقامی ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں بھی دکھایا گیا ہے کہ احتجاج کے بعد فوجی اڈے کے باہر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جہاں ٹینک اور مسلح فوجی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں، جبکہ اڈے کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور فوج کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506012</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 10:16:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/0210152543ac438.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/0210152543ac438.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قدامت پسند یہودیوں کا اسرائیل میں صیہونیت کے خلاف بڑا احتجاج، سڑکیں اور ٹرینیں بند</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30506011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں.&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/021013130294c87.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/021013130294c87.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ مظاہرین کے پاس ایسے بورڈز بھی تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے.“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101316e0c6ed2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101316e0c6ed2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے، جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506018'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506018"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101321041e159.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101321041e159.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اب یہ رعایتی قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں.</strong></p>
<p>اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.</p>
<p>مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/021013130294c87.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/021013130294c87.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>کچھ مظاہرین کے پاس ایسے بورڈز بھی تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے.“</p>
<p>اس کے علاوہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101316e0c6ed2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101316e0c6ed2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے، جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506018'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506018"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>تاہم، اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101321041e159.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101321041e159.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اب یہ رعایتی قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30506011</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 12:28:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02100917decf85e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02100917decf85e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/06/02101324c44c4b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="3667" width="5500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/06/02101324c44c4b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
