<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 21:27:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 21:27:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے ایران میں پُلوں، بجلی گھروں اور واٹر پلانٹس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509296/us-intensifies-attacks-on-iran-expands-targets-to-critical-infrastructure</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے امریکا پر جنگی جرائم کے ارتکاب اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں پلوں، سرنگوں، شاہراہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تک جانے والے زمینی راستے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے ایران کے مختلف شہروں اور جزائر پر مسلسل ساتویں رات بھی حملے جاری رکھے اور ان حملوں میں خاص طور پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اب اپنے حملوں کو صرف ساحلی علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایران کے اندرونی حصوں میں بھی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/7/18/iran-accuses-us-of-striking-critical-infrastructure-as-war-intensifies"&gt;الجزیرہ &lt;/a&gt;کے مطابق ایران نے امریکا پر اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جس میں پُل، بجلی کا نظام اور صاف پانی کے پلانٹس وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صوبہ ہرمزگان کی واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے مطابق امریکی فوج کے حالیہ حملوں میں جنوبی ایران کے شہر جاسک میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن پلانٹ کا پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کے ٹرانسفارمر تباہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق اس تباہی کے نتیجے میں اس پلاںٹ کے قریب واقع 20 دیہاتوں کو پانی کی فراہمی منقطع ہوگئی اور تقریباً 10 ہزار افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_Fa/status/2078424513935446023/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Tasnimnews_Fa/status/2078424513935446023/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر اس واٹر پلاںٹ کی تصاویر شیئر کین اور امریکی وزیرِ جنگ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بونجی ایران کا ایک چھوٹا سا ساحلی گاؤں ہے، کیا امریکا کا ہدف صاف پانی فراہم کرنے والے پمپ تھے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارت خانے نے بیان میں لکھا کہ ’ان پمپس سے مقامی آبادی کو پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ اگر امریکا اس کی تباہی کو اپنی جیت سمجھتا ہے تو یہ اسکی مرضی ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iraninyerevan/status/2078375287293727031'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/iraninyerevan/status/2078375287293727031"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.iranintl.com/en/202607185204"&gt;ایرانی میڈیا&lt;/a&gt; کے مطابق ایران کے مختلف حصوں میں مسلسل ساتویں شب ہونے والے امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں زیادہ تر سڑکوں، پلوں اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایران میں اہم ترین ہائی وے پر واقع شاہدوست مرزئی روڈ ٹنل کو دونوں اطراف سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے بعد یہ شاہراہ ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidReport2025/status/2078393697947857054/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RapidReport2025/status/2078393697947857054/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گورنر ہرمزگان کے دفتر نے جمعہ کو بتایا تھا کہ صرف خامیر میں 6 پُل تباہ ہوچکے ہیں، جس کے باعث بندر عباس اور جزیرہ ’لار‘ کو ملانے والی مرکزی شاہراہ میں رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندر عباس سے سیرجان جانے والے راستے پر واقع رودخانہ شور پل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح میناب جنکشن سے رودان جانے والی شاہراہ پر مزید دو پل بھی امریکی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے کل رات کے حملوں کے بعد جنوبی صوبوں کے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RyanRozbiani/status/2078174105262547385/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RyanRozbiani/status/2078174105262547385/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق چابہار میں واقع بحری جہازوں کی رہنمائی اور سمندری امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو ایک ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509269/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویت نے ہفتے کی صبح اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے والے دو پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحرین میں بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے، جبکہ اردن کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے ایران کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/anadoluagency/status/2078450139551695158?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2078450139551695158%7Ctwgr%5E696ab68ca3bd1680952fd1532b72c5ebcc957e1c%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Flive%2Firan-israel-war'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/anadoluagency/status/2078450139551695158?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2078450139551695158%7Ctwgr%5E696ab68ca3bd1680952fd1532b72c5ebcc957e1c%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Flive%2Firan-israel-war"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہری آبادی کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے مزید جاری رہے تو ایران باقاعدہ جنگ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے امریکا پر جنگی جرائم کے ارتکاب اور اہم شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ امریکی حملوں میں پلوں، سرنگوں، شاہراہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تک جانے والے زمینی راستے متاثر ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکا نے ایران کے مختلف شہروں اور جزائر پر مسلسل ساتویں رات بھی حملے جاری رکھے اور ان حملوں میں خاص طور پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</p>
<p>امریکا اب اپنے حملوں کو صرف ساحلی علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایران کے اندرونی حصوں میں بھی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.aljazeera.com/news/2026/7/18/iran-accuses-us-of-striking-critical-infrastructure-as-war-intensifies">الجزیرہ </a>کے مطابق ایران نے امریکا پر اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جس میں پُل، بجلی کا نظام اور صاف پانی کے پلانٹس وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صوبہ ہرمزگان کی واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے مطابق امریکی فوج کے حالیہ حملوں میں جنوبی ایران کے شہر جاسک میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن پلانٹ کا پمپنگ اسٹیشن اور بجلی کے ٹرانسفارمر تباہ ہوگیا ہے۔</p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق اس تباہی کے نتیجے میں اس پلاںٹ کے قریب واقع 20 دیہاتوں کو پانی کی فراہمی منقطع ہوگئی اور تقریباً 10 ہزار افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_Fa/status/2078424513935446023/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Tasnimnews_Fa/status/2078424513935446023/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر اس واٹر پلاںٹ کی تصاویر شیئر کین اور امریکی وزیرِ جنگ کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بونجی ایران کا ایک چھوٹا سا ساحلی گاؤں ہے، کیا امریکا کا ہدف صاف پانی فراہم کرنے والے پمپ تھے؟‘</p>
<p>سفارت خانے نے بیان میں لکھا کہ ’ان پمپس سے مقامی آبادی کو پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ اگر امریکا اس کی تباہی کو اپنی جیت سمجھتا ہے تو یہ اسکی مرضی ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iraninyerevan/status/2078375287293727031'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/iraninyerevan/status/2078375287293727031"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.iranintl.com/en/202607185204">ایرانی میڈیا</a> کے مطابق ایران کے مختلف حصوں میں مسلسل ساتویں شب ہونے والے امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں زیادہ تر سڑکوں، پلوں اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>جنوبی ایران میں اہم ترین ہائی وے پر واقع شاہدوست مرزئی روڈ ٹنل کو دونوں اطراف سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، جس کے بعد یہ شاہراہ ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RapidReport2025/status/2078393697947857054/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RapidReport2025/status/2078393697947857054/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>گورنر ہرمزگان کے دفتر نے جمعہ کو بتایا تھا کہ صرف خامیر میں 6 پُل تباہ ہوچکے ہیں، جس کے باعث بندر عباس اور جزیرہ ’لار‘ کو ملانے والی مرکزی شاہراہ میں رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔</p>
<p>بندر عباس سے سیرجان جانے والے راستے پر واقع رودخانہ شور پل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح میناب جنکشن سے رودان جانے والی شاہراہ پر مزید دو پل بھی امریکی حملوں کی زد میں آئے ہیں۔</p>
<p>ایرانی حکام نے کل رات کے حملوں کے بعد جنوبی صوبوں کے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RyanRozbiani/status/2078174105262547385/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RyanRozbiani/status/2078174105262547385/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق چابہار میں واقع بحری جہازوں کی رہنمائی اور سمندری امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو ایک ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509269/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کویت نے ہفتے کی صبح اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے والے دو پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>بحرین میں بھی متعدد مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے، جبکہ اردن کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورس نے ایران کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/anadoluagency/status/2078450139551695158?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2078450139551695158%7Ctwgr%5E696ab68ca3bd1680952fd1532b72c5ebcc957e1c%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Flive%2Firan-israel-war'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/anadoluagency/status/2078450139551695158?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2078450139551695158%7Ctwgr%5E696ab68ca3bd1680952fd1532b72c5ebcc957e1c%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Flive%2Firan-israel-war"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہری آبادی کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے مزید جاری رہے تو ایران باقاعدہ جنگ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509296</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:59:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/18193300f9821d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/18193300f9821d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایرانی جوہری تنصیبات پر نئے حملوں کی تیاری؛ اسرائیل کو درجنوں طیارے بھیجنے پر غور</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509244/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف جاری عسکری مہم کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کے لیے انتہائی اہم اور بڑے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبوں پر بریفنگ لی۔ اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے  جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/axios/status/2078148094789566897'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/axios/status/2078148094789566897"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید  طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس شدید عسکری کشیدگی کے درمیان خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، مغربی سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قطر نے امریکا اور ایران کو ایک نئی پیشکش کی ہے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ تہران اس قطری پیشکش کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ یہ اس کے کچھ مطالبات کو پورا کرتی ہے، اور اسی وجہ سے ایران نے فی الحال قطر کی جانب اپنے حملے روک دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام سفارتی اور عسکری تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے اندر عسکری ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، اور واشنگٹن کا موقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد صرف ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف جاری عسکری مہم کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کے لیے انتہائی اہم اور بڑے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایک اہم میٹنگ کی، جہاں انہوں نے کئی نئے فوجی منصوبوں پر بریفنگ لی۔ اس بریفنگ کے بعد اب وہ آبنائے ہرمز کے گرد جاری موجودہ حملوں سے ہٹ کر، ایران کے اندرونی حصوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر بمباری کرنے کا سوچ رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا خطے میں ممکنہ شدید لڑائی کی تیاریوں کے سلسلے میں اسرائیل کو درجنوں ایسے طیارے بھیج رہا ہے  جو فضا میں ہی دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/axios/status/2078148094789566897'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/axios/status/2078148094789566897"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایگزیوس نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو ایندھن بھرنے والے مزید  طیارے بھیجنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔</p>
<p>جوہری تنصیبات کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کے جوہری مراکز پر نئے حملے کیے جائیں تاکہ وہاں موجود یورینیم کے ذخائر کو زمین میں مزید گہرائی میں دفن کر دیا جائے۔</p>
<p>اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایران کے لیے ان ذخائر تک پہنچنے یا انہیں استعمال کرنے کے تمام امکانات کو ختم کیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو بھی بڑھا رہی ہے، تاہم ان نئے مقامات کی نوعیت یا کسی حتمی فیصلے کے وقت کو ابھی خفیہ رکھا گیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی رپورٹس سے ان منصوبوں کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع یا اسرائیل کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا اور فوجی آپشنز پر غور کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر عمل کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، اسرائیل کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اس عسکری محاذ آرائی میں مزید تیزی آئے گی۔</p>
<p>اسرائیلی میڈیا خصوصاً ’چینل 12‘ کے مطابق، واشنگٹن اب ایران کے بجلی گھروں اور توانائی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جنہیں وہ ایرانی بنیادی ڈھانچے کی سب سے کمزور کڑی سمجھتا ہے۔</p>
<p>یروشلم میں ہونے والے سیکیورٹی اجلاسوں کے بعد ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم محاذ آرائی میں اضافے کے امکان کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور ہم ہر اس منظر نامے کے لیے تیار ہیں جس کے اثرات اسرائیل پر پڑ سکتے ہیں“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس شدید عسکری کشیدگی کے درمیان خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، مغربی سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ قطر نے امریکا اور ایران کو ایک نئی پیشکش کی ہے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ تہران اس قطری پیشکش کو مثبت نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ یہ اس کے کچھ مطالبات کو پورا کرتی ہے، اور اسی وجہ سے ایران نے فی الحال قطر کی جانب اپنے حملے روک دیے ہیں۔</p>
<p>یہ تمام سفارتی اور عسکری تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے اندر عسکری ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، اور واشنگٹن کا موقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد صرف ایران کی جنگی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509244</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 12:30:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181228597b106c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181228597b106c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی قیادت پر حملے 'انٹیلی جینس لیک' کا نتیجہ تھے، خطرات اب بھی موجود ہیں: عباس عراقچی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509411/abbas-araghchi-says-us-and-israel-had-intelligence-on-iranian-leadership-meetings-before-attack</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کی وجہ سیکیورٹی خلا تھا۔ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی قیادت کے اہم اجلاسوں کی معلومات حاصل تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر یہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معروف مقامی فلم ساز اور میڈیا ایکٹیوسٹ جواد مغوئی کو ماجرائے جنگ (جنگ کی کہانی) کے عنوان سے ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔ اس خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک سفارت کاری سمیت دیگر اہم پہلوؤں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے بتایا کہ 28 فروری کی صبح انہوں نے سابق سپریم لیڈر کو امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ان کے چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے روز جب وہ رہائش گاہ سے باہر نکل رہے تھے تو انہوں نے علی اصغر حجازی سے پوچھا کہ آیا رہبرِ اعلیٰ بھی موجود ہیں تو حجازی نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حملے کے وقت خامنہ ای اپنے دفتر میں ہی موجود تھے، اس وقت خارجہ تعلقات سے متعلق مشاورتی اسٹریٹجک کونسل کا ہفتہ وار اجلاس جاری تھا جب کہ دفاعی کونسل کا اجلاس بھی ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی اعلیٰ قیادت کی میٹنگز کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ دشمن کو سابق رہبرِ اعلیٰ کی روزمرہ سرگرمیوں کا علم تھا اور اسی بنیاد پر حملے کے لیے درست وقت اور مقام کا انتخاب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ساتھ مختلف اجلاسوں کا ہونا غیر معمولی بات نہیں تھی بلکہ دشمن کو ان تمام میٹنگز کی معلومات مل جانا ایک بڑے سیکیورٹی خلا کا نتیجہ تھا جو ممکنہ طور پر اب بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2078827946886746192/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2078827946886746192/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اندرونی معلومات تک رسائی یا جاسوسی تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات یہ فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کرنا چاہتے، سیکیورٹی ادارے بھی اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی انٹرویو میں عباس عراقچی نے ایک اور دلچسپ انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر سے ان کی اب تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم لیڈر تک رسائی انتہائی محدود ہے اور چند مخصوص افراد ہی ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر کے طور پر سامنے آنا امریکا کے لیے ایک پیغام تھا کہ جنگ ہو یا امن، حالات جیسے بھی ہوں، ایران اپنی پالیسی، اصولوں اور نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe id="raw-html-6a5cecd90f33a" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 100vh; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;style&amp;gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;
    
&amp;lt;blockquote class=&amp;quot;twitter-tweet&amp;quot; data-media-max-width=&amp;quot;1080&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;p lang=&amp;quot;en&amp;quot; dir=&amp;quot;ltr&amp;quot;&amp;gt;Iran’s FM Araghchi hasn’t yet personally met Supreme Leader Mojtaba Khamenei&amp;lt;br&amp;gt;&amp;lt;br&amp;gt;&amp;amp;#39;I don’t think, aside from a very few people, anyone has seen him&amp;amp;#39; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/ZnaQwp9YSF&amp;quot;&amp;gt;https://t.co/ZnaQwp9YSF&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/DqeGxR9P7M&amp;quot;&amp;gt;pic.twitter.com/DqeGxR9P7M&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/p&amp;gt;&amp;amp;mdash; RT Intl (@RT_on_X) &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/RT_on_X/status/2078812708418253281?ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;July 19, 2026&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/blockquote&amp;gt; &amp;lt;script async src=&amp;quot;https://platform.x.com/widgets.js&amp;quot; charset=&amp;quot;utf-8&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;script&amp;gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &amp;#039;raw-html-resize&amp;#039;, id: &amp;#039;raw-html-6a5cecd90f33a&amp;#039;, height: h }, &amp;#039;*&amp;#039;);
        }
        window.addEventListener(&amp;#039;load&amp;#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script&gt;
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data &amp;&amp; event.data.type === 'raw-html-resize' &amp;&amp; event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
&lt;/script&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 26 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے کیوں کہ ایران افزودگی معطل کرنے پر آمادہ نہیں تھا تاہم تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رہنے کی توقع تھی جو بعد میں صورتحال خراب ہونے کے باعث متاثر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں جوہری معاملہ محض ایک بہانہ تھا، امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں سیاسی تبدیلی لانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اسٹیو وٹکوف سے سوال کیا کہ ’کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی اہم میٹنگ میں بیٹھے ہوں اور خطرہ ہو کہ آپ کسی بھی لمحے بمباری کا نشانہ بننے والے ہیں‘۔ جس پر اسٹیو وٹکوف چونک گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے پھر سوال کیا کہ ’آپ فون پر بات کر رہے ہوں اور خطرہ ہو وہ کسی بھی لمحے آپ کے ہاتھ میں ہی پھٹ سکتا ہے‘ یا کبھی ایسا ہوا ہو کہ ’اہلِ خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے آپ کو اندیشہ ہو کہ یہ ان کے ساتھ آخری ملاقات ہوسکتی ہے؟‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو میں نے انہیں کہا کہ ’ہم روزانہ اسی صورت حال سے گزرتے ہیں مگر دیکھ لیں کہ ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ایران کو بمباری کی دھمکیوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا کیوں ایران وینزویلا نہیں ہے کہ ایک لیڈر کے نشانہ بننے پر گھٹنے ٹیک دے، بلکہ یہ ادارہ جاتی مزاحمت پر مبنی نظام ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;iframe id="raw-html-6a5cecd90f385" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 100vh; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;style&amp;gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;
    
&amp;lt;blockquote class=&amp;quot;twitter-tweet&amp;quot; data-media-max-width=&amp;quot;1080&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;p lang=&amp;quot;en&amp;quot; dir=&amp;quot;ltr&amp;quot;&amp;gt;&amp;amp;#39;I asked Witkoff, have you ever been in a meeting where there was a chance of being BOMBED at any moment?&amp;amp;#39;&amp;lt;br&amp;gt;&amp;lt;br&amp;gt;Araghchi adds Iran wasn’t scared by US threats:&amp;lt;br&amp;gt;&amp;lt;br&amp;gt;&amp;amp;#39;This isn’t Venezuela where you take 1 person and everyone else gets scared and backs down&amp;amp;#39; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/f8tvFK1SN4&amp;quot;&amp;gt;https://t.co/f8tvFK1SN4&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/Selj3ZY1a0&amp;quot;&amp;gt;pic.twitter.com/Selj3ZY1a0&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/p&amp;gt;&amp;amp;mdash; RT Intl (@RT_on_X) &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/RT_on_X/status/2078804556981448945?ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;July 19, 2026&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/blockquote&amp;gt; &amp;lt;script async src=&amp;quot;https://platform.x.com/widgets.js&amp;quot; charset=&amp;quot;utf-8&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;script&amp;gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &amp;#039;raw-html-resize&amp;#039;, id: &amp;#039;raw-html-6a5cecd90f385&amp;#039;, height: h }, &amp;#039;*&amp;#039;);
        }
        window.addEventListener(&amp;#039;load&amp;#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script&gt;
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data &amp;&amp; event.data.type === 'raw-html-resize' &amp;&amp; event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
&lt;/script&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ابتدا ہی سے ایران سے یورینیم افزودگی صفر تک لانے کا مطالبہ کیا لیکن ایران نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مخالف فریق مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا تو اس نے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تاہم اسکی یہ کوشش بھی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اس بات کا ثبوت دینے کے لیے بھی ضروری تھا کہ امریکا اور اسرائیل سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایرانی اعلیٰ قیادت نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔ ان کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس بارے میں فیصلہ کیا اور کونسل کی منظوریوں کے تحت ہی ان کے نفاذ کا وقت بھی طے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران پر حملوں سے قبل ہی ایک علاقائی ملک کے اہم رہنما نے انہیں خبردار کیا تھا کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس رہنما نے آگاہ کیا کہ جنگ یقینی ہے اور جوابی حملے نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انہوں نے جواب دیا کہ ایران پر کے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے اس دوران جنگ سے متعلق احوال بتاتے ہوئے کہا کہ اس پورے تنازع کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارتِ خارجہ کی عمارت میں ہی موجود رہے اور تمام تر خطرات کے باوجود دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ، ایرانی سفارت خانوں اور حکام سے رابطے جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق سیکیورٹی خطرات کے باعث وہ کئی کئی گھنٹے سفر میں رہتے تھے تاکہ ایک ہی مقام پر مسلسل موجود نہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بعض اجلاسوں کے لیے زیرِ زمین مراکز میں بھی گئے لیکن وہاں مستقل قیام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں متعدد سرنگیں اور محفوظ عمارتیں موجود ہیں، تاہم مستقبل کے ممکنہ حالات کے لیے ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe id="raw-html-6a5cecd90f3cd" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 100vh; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&amp;lt;!DOCTYPE html&amp;gt;
&amp;lt;html&amp;gt;
&amp;lt;head&amp;gt;
    &amp;lt;style&amp;gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &amp;lt;/style&amp;gt;
&amp;lt;/head&amp;gt;
&amp;lt;body&amp;gt;
    
&amp;lt;blockquote class=&amp;quot;twitter-tweet&amp;quot; data-media-max-width=&amp;quot;1080&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;p lang=&amp;quot;en&amp;quot; dir=&amp;quot;ltr&amp;quot;&amp;gt;It wasn&amp;amp;#39;t just about building or enduring, it was about letting the enemy get what it wanted. That&amp;amp;#39;s where defeat lies — Iran’s FM Araghchi&amp;lt;br&amp;gt;&amp;lt;br&amp;gt;&amp;amp;#39;We don’t fight because war is costly and dangerous. We fight only when not fighting costs more&amp;amp;#39;&amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/quwhWtqQhw&amp;quot;&amp;gt;https://t.co/quwhWtqQhw&amp;lt;/a&amp;gt; &amp;lt;a href=&amp;quot;https://t.co/nqSAY1LjPw&amp;quot;&amp;gt;pic.twitter.com/nqSAY1LjPw&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/p&amp;gt;&amp;amp;mdash; RT (@RT_com) &amp;lt;a href=&amp;quot;https://x.com/RT_com/status/2078841908013486186?ref_src=twsrc%5Etfw&amp;quot;&amp;gt;July 19, 2026&amp;lt;/a&amp;gt;&amp;lt;/blockquote&amp;gt; &amp;lt;script async src=&amp;quot;https://platform.x.com/widgets.js&amp;quot; charset=&amp;quot;utf-8&amp;quot;&amp;gt;&amp;lt;/script&amp;gt;
    &amp;lt;script&amp;gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &amp;#039;raw-html-resize&amp;#039;, id: &amp;#039;raw-html-6a5cecd90f3cd&amp;#039;, height: h }, &amp;#039;*&amp;#039;);
        }
        window.addEventListener(&amp;#039;load&amp;#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &amp;lt;/script&amp;gt;
&amp;lt;/body&amp;gt;
&amp;lt;/html&amp;gt;"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script&gt;
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data &amp;&amp; event.data.type === 'raw-html-resize' &amp;&amp; event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
&lt;/script&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دشمن نے یہ غلط اندازہ لگایا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے، اس کی دفاعی صلاحیت ختم ہوچکی ہے اور ان کا خیال تھا کہ ایران کی قیادت کو ختم کرنے سے نظام کمزور ہو جائے گا۔ ان کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران ایران نے عسکری محاذ پر کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا تاہم اسے سیاسی شخصیات کے تحفظ کے معاملے میں مزید اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم جنگ اس وقت نہیں لڑتے جب یہ بہت مہنگی اور خطرناک ہو بلکہ صرف اس وقت لڑتے ہیں جب نہ لڑنا زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب اصولی مؤقف سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ یہ ایک حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد مزید نقصانات سے بچنا اور اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کی وجہ سیکیورٹی خلا تھا۔ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی قیادت کے اہم اجلاسوں کی معلومات حاصل تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر یہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معروف مقامی فلم ساز اور میڈیا ایکٹیوسٹ جواد مغوئی کو ماجرائے جنگ (جنگ کی کہانی) کے عنوان سے ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔ اس خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک سفارت کاری سمیت دیگر اہم پہلوؤں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔</p>
<p>عباس عراقچی نے بتایا کہ 28 فروری کی صبح انہوں نے سابق سپریم لیڈر کو امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ان کے چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی سے ملاقات کی تھی۔</p>
<p>انہوں نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے روز جب وہ رہائش گاہ سے باہر نکل رہے تھے تو انہوں نے علی اصغر حجازی سے پوچھا کہ آیا رہبرِ اعلیٰ بھی موجود ہیں تو حجازی نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حملے کے وقت خامنہ ای اپنے دفتر میں ہی موجود تھے، اس وقت خارجہ تعلقات سے متعلق مشاورتی اسٹریٹجک کونسل کا ہفتہ وار اجلاس جاری تھا جب کہ دفاعی کونسل کا اجلاس بھی ہو رہا تھا۔</p>
<p>عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی اعلیٰ قیادت کی میٹنگز کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ دشمن کو سابق رہبرِ اعلیٰ کی روزمرہ سرگرمیوں کا علم تھا اور اسی بنیاد پر حملے کے لیے درست وقت اور مقام کا انتخاب کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ساتھ مختلف اجلاسوں کا ہونا غیر معمولی بات نہیں تھی بلکہ دشمن کو ان تمام میٹنگز کی معلومات مل جانا ایک بڑے سیکیورٹی خلا کا نتیجہ تھا جو ممکنہ طور پر اب بھی موجود ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2078827946886746192/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2078827946886746192/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اندرونی معلومات تک رسائی یا جاسوسی تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات یہ فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کرنا چاہتے، سیکیورٹی ادارے بھی اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسی انٹرویو میں عباس عراقچی نے ایک اور دلچسپ انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر سے ان کی اب تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم لیڈر تک رسائی انتہائی محدود ہے اور چند مخصوص افراد ہی ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر کے طور پر سامنے آنا امریکا کے لیے ایک پیغام تھا کہ جنگ ہو یا امن، حالات جیسے بھی ہوں، ایران اپنی پالیسی، اصولوں اور نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔</p>
<iframe id="raw-html-6a5cecd90f33a" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 100vh; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;style&gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;
    
&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot; data-media-max-width=&quot;1080&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;Iran’s FM Araghchi hasn’t yet personally met Supreme Leader Mojtaba Khamenei&lt;br&gt;&lt;br&gt;&amp;#39;I don’t think, aside from a very few people, anyone has seen him&amp;#39; &lt;a href=&quot;https://t.co/ZnaQwp9YSF&quot;&gt;https://t.co/ZnaQwp9YSF&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/DqeGxR9P7M&quot;&gt;pic.twitter.com/DqeGxR9P7M&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; RT Intl (@RT_on_X) &lt;a href=&quot;https://x.com/RT_on_X/status/2078812708418253281?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;July 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src=&quot;https://platform.x.com/widgets.js&quot; charset=&quot;utf-8&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;script&gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &#039;raw-html-resize&#039;, id: &#039;raw-html-6a5cecd90f33a&#039;, height: h }, &#039;*&#039;);
        }
        window.addEventListener(&#039;load&#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;"></iframe>
<script>
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data && event.data.type === 'raw-html-resize' && event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
</script>
<p>انہوں نے بتایا کہ 26 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے کیوں کہ ایران افزودگی معطل کرنے پر آمادہ نہیں تھا تاہم تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رہنے کی توقع تھی جو بعد میں صورتحال خراب ہونے کے باعث متاثر ہوگئے۔</p>
<p>عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں جوہری معاملہ محض ایک بہانہ تھا، امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں سیاسی تبدیلی لانا تھا۔</p>
<p>امریکی نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اسٹیو وٹکوف سے سوال کیا کہ ’کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی اہم میٹنگ میں بیٹھے ہوں اور خطرہ ہو کہ آپ کسی بھی لمحے بمباری کا نشانہ بننے والے ہیں‘۔ جس پر اسٹیو وٹکوف چونک گئے۔</p>
<p>میں نے پھر سوال کیا کہ ’آپ فون پر بات کر رہے ہوں اور خطرہ ہو وہ کسی بھی لمحے آپ کے ہاتھ میں ہی پھٹ سکتا ہے‘ یا کبھی ایسا ہوا ہو کہ ’اہلِ خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے آپ کو اندیشہ ہو کہ یہ ان کے ساتھ آخری ملاقات ہوسکتی ہے؟‘۔</p>
<p>عباس عراقچی کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو میں نے انہیں کہا کہ ’ہم روزانہ اسی صورت حال سے گزرتے ہیں مگر دیکھ لیں کہ ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ایران کو بمباری کی دھمکیوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا کیوں ایران وینزویلا نہیں ہے کہ ایک لیڈر کے نشانہ بننے پر گھٹنے ٹیک دے، بلکہ یہ ادارہ جاتی مزاحمت پر مبنی نظام ہے۔‘</p>
<iframe id="raw-html-6a5cecd90f385" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 100vh; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;style&gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;
    
&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot; data-media-max-width=&quot;1080&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;&amp;#39;I asked Witkoff, have you ever been in a meeting where there was a chance of being BOMBED at any moment?&amp;#39;&lt;br&gt;&lt;br&gt;Araghchi adds Iran wasn’t scared by US threats:&lt;br&gt;&lt;br&gt;&amp;#39;This isn’t Venezuela where you take 1 person and everyone else gets scared and backs down&amp;#39; &lt;a href=&quot;https://t.co/f8tvFK1SN4&quot;&gt;https://t.co/f8tvFK1SN4&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/Selj3ZY1a0&quot;&gt;pic.twitter.com/Selj3ZY1a0&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; RT Intl (@RT_on_X) &lt;a href=&quot;https://x.com/RT_on_X/status/2078804556981448945?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;July 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src=&quot;https://platform.x.com/widgets.js&quot; charset=&quot;utf-8&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;script&gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &#039;raw-html-resize&#039;, id: &#039;raw-html-6a5cecd90f385&#039;, height: h }, &#039;*&#039;);
        }
        window.addEventListener(&#039;load&#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;"></iframe>
<script>
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data && event.data.type === 'raw-html-resize' && event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
</script>
<p>ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ابتدا ہی سے ایران سے یورینیم افزودگی صفر تک لانے کا مطالبہ کیا لیکن ایران نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مخالف فریق مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا تو اس نے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تاہم اسکی یہ کوشش بھی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اس بات کا ثبوت دینے کے لیے بھی ضروری تھا کہ امریکا اور اسرائیل سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔</p>
<p>جنگ بندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایرانی اعلیٰ قیادت نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔ ان کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس بارے میں فیصلہ کیا اور کونسل کی منظوریوں کے تحت ہی ان کے نفاذ کا وقت بھی طے کیا جاتا ہے۔</p>
<p>عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران پر حملوں سے قبل ہی ایک علاقائی ملک کے اہم رہنما نے انہیں خبردار کیا تھا کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس رہنما نے آگاہ کیا کہ جنگ یقینی ہے اور جوابی حملے نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انہوں نے جواب دیا کہ ایران پر کے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>عباس عراقچی نے اس دوران جنگ سے متعلق احوال بتاتے ہوئے کہا کہ اس پورے تنازع کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارتِ خارجہ کی عمارت میں ہی موجود رہے اور تمام تر خطرات کے باوجود دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ، ایرانی سفارت خانوں اور حکام سے رابطے جاری رکھے۔</p>
<p>ان کے مطابق سیکیورٹی خطرات کے باعث وہ کئی کئی گھنٹے سفر میں رہتے تھے تاکہ ایک ہی مقام پر مسلسل موجود نہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بعض اجلاسوں کے لیے زیرِ زمین مراکز میں بھی گئے لیکن وہاں مستقل قیام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں متعدد سرنگیں اور محفوظ عمارتیں موجود ہیں، تاہم مستقبل کے ممکنہ حالات کے لیے ان کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔</p>
<iframe id="raw-html-6a5cecd90f3cd" class="raw-html-embed" style="width: 100%; min-height: 50px; max-height: 100vh; border: none; overflow: hidden;" scrolling="no" srcdoc="&lt;!DOCTYPE html&gt;
&lt;html&gt;
&lt;head&gt;
    &lt;style&gt;
        body { margin: 0; padding: 0; font-family: system-ui, -apple-system, sans-serif; overflow-wrap: anywhere; }
    &lt;/style&gt;
&lt;/head&gt;
&lt;body&gt;
    
&lt;blockquote class=&quot;twitter-tweet&quot; data-media-max-width=&quot;1080&quot;&gt;&lt;p lang=&quot;en&quot; dir=&quot;ltr&quot;&gt;It wasn&amp;#39;t just about building or enduring, it was about letting the enemy get what it wanted. That&amp;#39;s where defeat lies — Iran’s FM Araghchi&lt;br&gt;&lt;br&gt;&amp;#39;We don’t fight because war is costly and dangerous. We fight only when not fighting costs more&amp;#39;&lt;a href=&quot;https://t.co/quwhWtqQhw&quot;&gt;https://t.co/quwhWtqQhw&lt;/a&gt; &lt;a href=&quot;https://t.co/nqSAY1LjPw&quot;&gt;pic.twitter.com/nqSAY1LjPw&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; RT (@RT_com) &lt;a href=&quot;https://x.com/RT_com/status/2078841908013486186?ref_src=twsrc%5Etfw&quot;&gt;July 19, 2026&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src=&quot;https://platform.x.com/widgets.js&quot; charset=&quot;utf-8&quot;&gt;&lt;/script&gt;
    &lt;script&gt;
        function reportHeight() {
            var h = document.documentElement.scrollHeight;
            window.parent.postMessage({ type: &#039;raw-html-resize&#039;, id: &#039;raw-html-6a5cecd90f3cd&#039;, height: h }, &#039;*&#039;);
        }
        window.addEventListener(&#039;load&#039;, reportHeight);
        if (window.ResizeObserver) {
            new ResizeObserver(reportHeight).observe(document.body);
        }
    &lt;/script&gt;
&lt;/body&gt;
&lt;/html&gt;"></iframe>
<script>
if (!window._rawHtmlListenerAttached) {
    window._rawHtmlListenerAttached = true;
    window.addEventListener('message', function(event) {
        if (event.data && event.data.type === 'raw-html-resize' && event.data.id) {
            var iframe = document.getElementById(event.data.id);
            if (iframe) {
                var height = Math.min(Math.max(event.data.height, 50), 9200);
                iframe.style.height = height + 'px';
            }
        }
    });
}
</script>
<p>انہوں نے کہا کہ دشمن نے یہ غلط اندازہ لگایا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے، اس کی دفاعی صلاحیت ختم ہوچکی ہے اور ان کا خیال تھا کہ ایران کی قیادت کو ختم کرنے سے نظام کمزور ہو جائے گا۔ ان کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران ایران نے عسکری محاذ پر کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا تاہم اسے سیاسی شخصیات کے تحفظ کے معاملے میں مزید اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم جنگ اس وقت نہیں لڑتے جب یہ بہت مہنگی اور خطرناک ہو بلکہ صرف اس وقت لڑتے ہیں جب نہ لڑنا زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب اصولی مؤقف سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ یہ ایک حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد مزید نقصانات سے بچنا اور اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509411</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 20:29:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19201626f0ca277.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19201626f0ca277.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں پر حملے، اہواز میں جدید ڈرون مار گرانے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509394/iran-claims-shoting-down-us-mq-9-drone-over-ahvaz-amid-escalating-military-tensions</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے ایرو اسپیس فورس کی جانب سے جنوب مغربی شہر اہواز کے اوپر ایک امریکی ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اتوار کو جاری ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/07/19/3650899/irgc-downs-us-mq-9-drone-southwest-of-iran"&gt;بیان &lt;/a&gt;میں کہا گیا کہ اہواز پر پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے گرایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کا ردعمل ہیں جن میں شہری اہداف اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق یہ گزشتہ 8 روز کے دوران تباہ ہونے والا چوتھا امریکی ڈرون ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون ہے جنہیں جدید اور مہنگے بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرونز نگرانی کے علاوہ حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 150 سے زائد امریکی ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے، جن میں تقریباً 30 ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرونز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/zpl6ns?update=4785470"&gt;الجریزہ&lt;/a&gt; کی ایک رپورٹ میں 2024 کے تخمینوں کے مطابق ایک ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کی اوسط قیمت تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اگر ایران کے چار ماہ کے دوران 30 ڈرونز کی تباہی کے دعوے کو درست مانا جائے تو صرف ڈرونز کی مد میں امریکا کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_EN/status/2078784032758768012/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Tasnimnews_EN/status/2078784032758768012/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللٰہی نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو ایرانی مسلح افواج مزید سخت جواب دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کو اس مقام تک پہنچانے کی سکت رکھتا ہے جہاں اس کے نقصانات کا تخمینہ گزشتہ دو مراحل پر مشتمل کارروائیوں سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی فوج کی جانب سے مسلسل آٹھ روز سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے جاری ہیں۔ جواب میں ایران بھی خطے میں واقع امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_EN/status/2078784486141997250/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Tasnimnews_EN/status/2078784486141997250/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج نے اتوار کو جاری ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/07/19/3650688/iran-s-army-launches-retaliatory-drone-attacks-on-us-bases-in-kuwait"&gt;بیان &lt;/a&gt;میں کہا ہے کہ آپریشن ’تھنڈربولٹ‘ کے 16ویں اور 17ویں مرحلے کے تحت کویت میں واقع دو بڑے امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں خودکش ڈرونز استعمال کیے گئے اور امریکی فوج کے اسٹریٹجک اثاثوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے مطابق آپریشن کے 16ویں مرحلے میں کیمپ اُدیری میں قائم امریکی اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جب کہ علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار اور فضائی نگرانی کے ریڈار پر بھی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق کیمپ اُدیری خطے میں امریکا کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک ہے جو ایران کی سرحد سے تقریباً 104 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور امریکی افواج کی معاونت اور ازسرِ نو تنظیم کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس اڈے کو نشانہ بنانے سے خطے میں امریکی فوجی معاونت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_EN/status/2078765056121069910'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Tasnimnews_EN/status/2078765056121069910"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج نے علی السالم ایئر بیس کو بھی امریکی فوج کے لیے فضائی نقل و حمل کا ایک اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی ایشیا میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور لاجسٹک سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509342/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اتوار کی صبح آپریشن کے 17ویں مرحلے میں ایک بار پھر کیمپ اُدیری کے اسلحہ ڈپو کے علاوہ علی السالم ایئر بیس میں موجود فوجی سازوسامان کے گوداموں اور اہلکاروں کی پناہ گاہوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کویتی حکام نے بتایا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے ایک پلانٹ پر دو روز کے دوران دوسری مرتبہ حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ اس حملے میں آگ سے بجلی پیدا کرنے والے متعدد یونٹس متاثر ہوئے ہیں، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحرین کی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایران کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/zpl6ns?update=4785798"&gt;ایٹمی توانائی تنظیم&lt;/a&gt; نے خوزستان صوبے میں زیرِ تعمیر دارخوین ایٹمی بجلی گھر پر متعدد حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق یہ حملے مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 39 منٹ پر ہوئے۔ دارخوین جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا اور منصوبہ تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے اردن کے موفق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جب کہ 420 سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس نے ایرو اسپیس فورس کی جانب سے جنوب مغربی شہر اہواز کے اوپر ایک امریکی ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</strong></p>
<p>پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اتوار کو جاری ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/07/19/3650899/irgc-downs-us-mq-9-drone-southwest-of-iran">بیان </a>میں کہا گیا کہ اہواز پر پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے گرایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں ان امریکی حملوں کا ردعمل ہیں جن میں شہری اہداف اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔</p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق یہ گزشتہ 8 روز کے دوران تباہ ہونے والا چوتھا امریکی ڈرون ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون ہے جنہیں جدید اور مہنگے بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ڈرونز نگرانی کے علاوہ حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 150 سے زائد امریکی ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے، جن میں تقریباً 30 ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرونز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>قطری نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/zpl6ns?update=4785470">الجریزہ</a> کی ایک رپورٹ میں 2024 کے تخمینوں کے مطابق ایک ’ایم کیو نائن ریپر‘ ڈرون کی اوسط قیمت تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اگر ایران کے چار ماہ کے دوران 30 ڈرونز کی تباہی کے دعوے کو درست مانا جائے تو صرف ڈرونز کی مد میں امریکا کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرجاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_EN/status/2078784032758768012/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Tasnimnews_EN/status/2078784032758768012/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللٰہی نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو ایرانی مسلح افواج مزید سخت جواب دیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کو اس مقام تک پہنچانے کی سکت رکھتا ہے جہاں اس کے نقصانات کا تخمینہ گزشتہ دو مراحل پر مشتمل کارروائیوں سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی فوج کی جانب سے مسلسل آٹھ روز سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے جاری ہیں۔ جواب میں ایران بھی خطے میں واقع امریکی فوجی اہداف پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_EN/status/2078784486141997250/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Tasnimnews_EN/status/2078784486141997250/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی فوج نے اتوار کو جاری ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.tasnimnews.ir/en/news/2026/07/19/3650688/iran-s-army-launches-retaliatory-drone-attacks-on-us-bases-in-kuwait">بیان </a>میں کہا ہے کہ آپریشن ’تھنڈربولٹ‘ کے 16ویں اور 17ویں مرحلے کے تحت کویت میں واقع دو بڑے امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں خودکش ڈرونز استعمال کیے گئے اور امریکی فوج کے اسٹریٹجک اثاثوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ایرانی فوج کے مطابق آپریشن کے 16ویں مرحلے میں کیمپ اُدیری میں قائم امریکی اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جب کہ علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار اور فضائی نگرانی کے ریڈار پر بھی حملے کیے گئے۔</p>
<p>بیان کے مطابق کیمپ اُدیری خطے میں امریکا کے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک ہے جو ایران کی سرحد سے تقریباً 104 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور امریکی افواج کی معاونت اور ازسرِ نو تنظیم کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس اڈے کو نشانہ بنانے سے خطے میں امریکی فوجی معاونت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_EN/status/2078765056121069910'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Tasnimnews_EN/status/2078765056121069910"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی فوج نے علی السالم ایئر بیس کو بھی امریکی فوج کے لیے فضائی نقل و حمل کا ایک اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی ایشیا میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور لاجسٹک سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509342/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان کے مطابق اتوار کی صبح آپریشن کے 17ویں مرحلے میں ایک بار پھر کیمپ اُدیری کے اسلحہ ڈپو کے علاوہ علی السالم ایئر بیس میں موجود فوجی سازوسامان کے گوداموں اور اہلکاروں کی پناہ گاہوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب کویتی حکام نے بتایا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے ایک پلانٹ پر دو روز کے دوران دوسری مرتبہ حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔</p>
<p>کویت کی وزارتِ توانائی نے ایک بیان میں کہا کہ اس حملے میں آگ سے بجلی پیدا کرنے والے متعدد یونٹس متاثر ہوئے ہیں، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔</p>
<p>بحرین کی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنائے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ایران کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/zpl6ns?update=4785798">ایٹمی توانائی تنظیم</a> نے خوزستان صوبے میں زیرِ تعمیر دارخوین ایٹمی بجلی گھر پر متعدد حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق یہ حملے مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 39 منٹ پر ہوئے۔ دارخوین جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا اور منصوبہ تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے اردن کے موفق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جب کہ 420 سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509394</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 18:32:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19161530051065a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19161530051065a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمندری پانی میٹھا بنانے والے پلانٹس پر ایران کے حملے خلیجی ممالک کے لیے کتنے خطرناک ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509384/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس پر ہونے والے حملوں نے پورے خطے کی زندگی اور معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایرانی افواج پر ملک کے ایک واٹر پلانٹ کو دوسری بار نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جس کے بعد خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج کا موسم انتہائی گرم اور خشک ہے اور یہاں بارشیں بھی بہت کم ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے قدرتی ذرائع پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلف ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق، زمین کے نیچے کا پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے بنایا جانے والا پانی مل کر اس خطے کے پانی کے ذرائع کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمین کے نیچے کا پانی مزید کم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممالک سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509365/trump-orders-us-military-to-open-the-gates-of-hell-on-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کے ساحلوں پر 400 سے زیادہ واٹر پلانٹس موجود ہیں جو دنیا کے اس سب سے خشک خطے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تحقیقی مقالے کے مطابق، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ ملک پوری دنیا میں سمندری پانی صاف کرنے کی کل صلاحیت کا 60 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور دنیا کا 40 فیصد صاف پانی پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت میں پینے کے پانی کا 90 فیصد، عمان میں 86 فیصد، سعودی عرب میں 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات میں 42 فیصد پانی انہی پلانٹس سے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ صاف پانی پیدا کرنے والا ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، ایران بھی اپنے ساحلی علاقوں جیسے کہ جزیرہ قشم میں یہ پلانٹ استعمال کرتا ہے، لیکن اس کے پاس بہت سے دریا اور ڈیم موجود ہیں، اس لیے وہ ان پلانٹس پر اتنا زیادہ انحصار نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج کے ممالک میں یہ پلانٹس بنیادی طور پر سمندری پانی سے نمک، جڑی بوٹیاں اور دیگر آلودگی کو تھرمل یا میمبرین ٹیکنالوجی کے ذریعے الگ کر کے اسے پینے، زراعت اور صنعت کے قابل بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ملکوں میں سب سے زیادہ ریورس اوسموسس ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس میں توانائی کم خرچ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی امور کے ماہر اور ماحولیاتی محقق ناصر السید نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “1930 کی دہائی کے آخر میں تیل کی دریافت کے بعد، خلیجی ریاستوں کے پاس پانی کے قدرتی ذرائع اتنے نہیں تھے کہ وہ بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت پوری کر سکیں، اسی لیے یہ پلانٹس لگائے گئے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر السید کے مطابق، ”خلیج کی ترقی میں اس صاف پانی کی اہمیت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ان تنصیبات کو نشانہ بنانے یا ان میں خلل ڈالنے سے خطے کی معاشی استحکام اور ترقی شدید خطرے میں پڑ جائے گی“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ پانی بنیادی طور پر انسانوں کے پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کا ایک مضبوط انسانی پہلو بھی ہے اور یہ روزمرہ کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جس کی وجہ سے ان تنصیبات میں کوئی بھی خلل آبادی کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پلانٹس پر حملے کے اثرات ہر ملک کی اپنی جغرافیائی صورتحال پر منحصر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر السید کے مطابق، سعودی عرب کے پاس وسیع جگہ ہے اور بحیرہ احمر پر موجود اس کی تنصیبات اسے تحفظ فراہم کرتی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے پاس اپنی واٹر سیکیورٹی حکمتِ عملی کے تحت 45 دنوں کے پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انتباہ کیا کہ ”اس کے اثرات کویت، قطر اور بحرين جیسے چھوٹے ملکوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے جائیں گے جن کے پاس پانی کے اسٹریٹجک ذخائر بہت کم ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناصر السید نے سب سے بڑے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میری نظر میں سب سے اہم اثر نفسیاتی ہے۔ پانی انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، اور پانی ختم ہونے کا محض احساس ہی عوام میں خوف و ہراس پھیلا سکتا ہے، جو کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں حکام کے لیے امن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی 2010 میں شائع ایک پرانی رپورٹ میں بھی یہ وارننگ دی گئی تھی کہ ان عرب ممالک میں واٹر پلانٹس کی تباہی کے نتائج کسی بھی دوسری صنعت یا چیز کے نقصان سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں، 1990-1991 کی خلیجی جنگ کے دوران عراقی افواج نے جان بوجھ کر کویت کے واٹر پلانٹس کو تباہ کر دیا تھا، جس سے پانی کی فراہمی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈرولوجسٹ راحا حاکمدوار نے الجزیرہ کو بتایا کہ طویل مدت میں ان پلانٹس پر حملے مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جو زیادہ تر زمین کے نیچے کے پانی پر چلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راحا حاکمدوار، جو قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی اور ارتھ کامنز میں ڈیڈز کی سینئر ایڈوائزر ہیں، انہوں نے کہا کہ “دیگر ضروریات کے دباؤ کی وجہ سے یہ پانی زراعت سے ہٹا کر شہریوں کو دینا پڑ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ خطہ اپنی خوراک کے لیے بیرونی ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے اسے پہلے ہی غذائی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے پاس فی الحال اس نظام کا کوئی فوری متبادل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحران سے نمٹنے اور واٹر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناصر السید نے مشورہ دیا کہ جی سی سی کے ممالک کو پانی کے تحفظ کو کسی ایک ملک کا ذاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک مشترکہ علاقائی معاملہ سمجھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509369/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”ممالک کو آپس میں قریبی رابطہ قائم کرکے مل کر کام کرنا ہوگا، جی سی سی کے پاس پانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم موجود ہے لیکن اس کا پورا فائدہ نہیں اٹھایا گیا“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جی سی سی کی واٹر اسٹریٹجی 2035 کے تحت تمام ملکوں کے لیے سال 2020 تک توانائی اور پانی کا ایک مربوط پلان بنانا لازمی تھا، مگر یہ اب تک حاصل نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”چاہے پانی کے نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑنا ہو، پانی کے علاقائی ذخائر کو شیئر کرنا ہو، یا پانی کے ذرائع کو تبدیل کرنا ہو، یہی خلیج کی واٹر سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا نیا راستہ ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، راحا حاکمدوار کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک پانی کے بڑے ذخائر پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو شہروں کو کئی دنوں تک پانی دے سکیں، اور اس کے ساتھ ہی انہیں دھوپ یا ہوا کی توانائی سے چلنے والے چھوٹے واٹر پلانٹس لگانے چاہئیں تاکہ چند بڑے پلانٹس پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس پر ہونے والے حملوں نے پورے خطے کی زندگی اور معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کویت نے حال ہی میں ایرانی افواج پر ملک کے ایک واٹر پلانٹ کو دوسری بار نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے، جس کے بعد خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>خلیج کا موسم انتہائی گرم اور خشک ہے اور یہاں بارشیں بھی بہت کم ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کے قدرتی ذرائع پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں۔</p>
<p>گلف ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق، زمین کے نیچے کا پانی اور سمندری پانی کو صاف کر کے بنایا جانے والا پانی مل کر اس خطے کے پانی کے ذرائع کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمین کے نیچے کا پانی مزید کم ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممالک سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509365/trump-orders-us-military-to-open-the-gates-of-hell-on-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>متحدہ عرب امارات سے لے کر کویت تک خلیج کے ساحلوں پر 400 سے زیادہ واٹر پلانٹس موجود ہیں جو دنیا کے اس سب سے خشک خطے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>ایک تحقیقی مقالے کے مطابق، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ ملک پوری دنیا میں سمندری پانی صاف کرنے کی کل صلاحیت کا 60 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور دنیا کا 40 فیصد صاف پانی پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>کویت میں پینے کے پانی کا 90 فیصد، عمان میں 86 فیصد، سعودی عرب میں 70 فیصد اور متحدہ عرب امارات میں 42 فیصد پانی انہی پلانٹس سے آتا ہے۔</p>
<p>سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ صاف پانی پیدا کرنے والا ملک ہے۔</p>
<p>دوسری طرف، ایران بھی اپنے ساحلی علاقوں جیسے کہ جزیرہ قشم میں یہ پلانٹ استعمال کرتا ہے، لیکن اس کے پاس بہت سے دریا اور ڈیم موجود ہیں، اس لیے وہ ان پلانٹس پر اتنا زیادہ انحصار نہیں کرتا۔</p>
<p>خلیج کے ممالک میں یہ پلانٹس بنیادی طور پر سمندری پانی سے نمک، جڑی بوٹیاں اور دیگر آلودگی کو تھرمل یا میمبرین ٹیکنالوجی کے ذریعے الگ کر کے اسے پینے، زراعت اور صنعت کے قابل بناتے ہیں۔</p>
<p>خلیجی ملکوں میں سب سے زیادہ ریورس اوسموسس ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے کیونکہ اس میں توانائی کم خرچ ہوتی ہے۔</p>
<p>خلیجی امور کے ماہر اور ماحولیاتی محقق ناصر السید نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس نظام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “1930 کی دہائی کے آخر میں تیل کی دریافت کے بعد، خلیجی ریاستوں کے پاس پانی کے قدرتی ذرائع اتنے نہیں تھے کہ وہ بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی سرگرمیوں کی ضرورت پوری کر سکیں، اسی لیے یہ پلانٹس لگائے گئے۔“</p>
<p>ناصر السید کے مطابق، ”خلیج کی ترقی میں اس صاف پانی کی اہمیت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ان تنصیبات کو نشانہ بنانے یا ان میں خلل ڈالنے سے خطے کی معاشی استحکام اور ترقی شدید خطرے میں پڑ جائے گی“۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ پانی بنیادی طور پر انسانوں کے پینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کا ایک مضبوط انسانی پہلو بھی ہے اور یہ روزمرہ کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جس کی وجہ سے ان تنصیبات میں کوئی بھی خلل آبادی کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا“۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پلانٹس پر حملے کے اثرات ہر ملک کی اپنی جغرافیائی صورتحال پر منحصر ہیں۔</p>
<p>ناصر السید کے مطابق، سعودی عرب کے پاس وسیع جگہ ہے اور بحیرہ احمر پر موجود اس کی تنصیبات اسے تحفظ فراہم کرتی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کے پاس اپنی واٹر سیکیورٹی حکمتِ عملی کے تحت 45 دنوں کے پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے انتباہ کیا کہ ”اس کے اثرات کویت، قطر اور بحرين جیسے چھوٹے ملکوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے جائیں گے جن کے پاس پانی کے اسٹریٹجک ذخائر بہت کم ہیں“۔</p>
<p>ناصر السید نے سب سے بڑے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”میری نظر میں سب سے اہم اثر نفسیاتی ہے۔ پانی انسانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، اور پانی ختم ہونے کا محض احساس ہی عوام میں خوف و ہراس پھیلا سکتا ہے، جو کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں حکام کے لیے امن برقرار رکھنے کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے“۔</p>
<p>امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی 2010 میں شائع ایک پرانی رپورٹ میں بھی یہ وارننگ دی گئی تھی کہ ان عرب ممالک میں واٹر پلانٹس کی تباہی کے نتائج کسی بھی دوسری صنعت یا چیز کے نقصان سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ماضی میں، 1990-1991 کی خلیجی جنگ کے دوران عراقی افواج نے جان بوجھ کر کویت کے واٹر پلانٹس کو تباہ کر دیا تھا، جس سے پانی کی فراہمی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔</p>
<p>ہائیڈرولوجسٹ راحا حاکمدوار نے الجزیرہ کو بتایا کہ طویل مدت میں ان پلانٹس پر حملے مقامی سطح پر خوراک کی پیداوار کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جو زیادہ تر زمین کے نیچے کے پانی پر چلتی ہے۔</p>
<p>راحا حاکمدوار، جو قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی اور ارتھ کامنز میں ڈیڈز کی سینئر ایڈوائزر ہیں، انہوں نے کہا کہ “دیگر ضروریات کے دباؤ کی وجہ سے یہ پانی زراعت سے ہٹا کر شہریوں کو دینا پڑ سکتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ خطہ اپنی خوراک کے لیے بیرونی ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے اسے پہلے ہی غذائی تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے“۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے پاس فی الحال اس نظام کا کوئی فوری متبادل نہیں ہے۔</p>
<p>اس بحران سے نمٹنے اور واٹر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناصر السید نے مشورہ دیا کہ جی سی سی کے ممالک کو پانی کے تحفظ کو کسی ایک ملک کا ذاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک مشترکہ علاقائی معاملہ سمجھنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509369/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509369"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ ”ممالک کو آپس میں قریبی رابطہ قائم کرکے مل کر کام کرنا ہوگا، جی سی سی کے پاس پانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم موجود ہے لیکن اس کا پورا فائدہ نہیں اٹھایا گیا“۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ جی سی سی کی واٹر اسٹریٹجی 2035 کے تحت تمام ملکوں کے لیے سال 2020 تک توانائی اور پانی کا ایک مربوط پلان بنانا لازمی تھا، مگر یہ اب تک حاصل نہیں ہو سکا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”چاہے پانی کے نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑنا ہو، پانی کے علاقائی ذخائر کو شیئر کرنا ہو، یا پانی کے ذرائع کو تبدیل کرنا ہو، یہی خلیج کی واٹر سیکیورٹی کو مضبوط کرنے کا نیا راستہ ہے“۔</p>
<p>دوسری طرف، راحا حاکمدوار کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک پانی کے بڑے ذخائر پر بھروسہ کر سکتے ہیں جو شہروں کو کئی دنوں تک پانی دے سکیں، اور اس کے ساتھ ہی انہیں دھوپ یا ہوا کی توانائی سے چلنے والے چھوٹے واٹر پلانٹس لگانے چاہئیں تاکہ چند بڑے پلانٹس پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509384</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 15:20:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/191518187bd3f9f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/191518187bd3f9f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی افواج کے پاس میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509369/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اردن ایک نئے محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2026/07/18/world/middleeast/iran-war-jordan-attacks.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن میں موجود امریکی افواج کو چار بڑے حملوں میں نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد ہیلی کاپٹرز متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مسلسل حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو درپیش خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509365/trump-orders-us-military-to-open-the-gates-of-hell-on-iran'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار کے مطابق اردن میں ہونے والے یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس اب بھی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی ایرانی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی کارروائیوں کے جواب میں اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں پہلا حملہ کنگ فیصل ایئربیس کی رہائشی عمارت پر ہوا، جس میں 5 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے اور کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509342/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس کے بعد عراق کی سرحد کے قریب واقع موفق السلتی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جمعے کو ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے ازرق ایئربیس پر امریکی اڈے کے ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے طیاروں کے شیلٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فضائیہ کے سابق جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے کہا کہ یہ صرف ایک فوجی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ امریکا کے علاقائی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی تاکہ امریکی فوج کی میزبانی کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون نے حملوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اردن خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جہاں امریکی فوجی دستے مختلف سیکیورٹی اور دفاعی مشنز کے لیے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اردن ایک نئے محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2026/07/18/world/middleeast/iran-war-jordan-attacks.html">رپورٹ</a> کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن میں موجود امریکی افواج کو چار بڑے حملوں میں نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد ہیلی کاپٹرز متاثر ہوئے۔</p>
<p>نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مسلسل حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو درپیش خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509365/trump-orders-us-military-to-open-the-gates-of-hell-on-iran'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509365"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی اخبار کے مطابق اردن میں ہونے والے یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس اب بھی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی ایرانی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی کارروائیوں کے جواب میں اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں پہلا حملہ کنگ فیصل ایئربیس کی رہائشی عمارت پر ہوا، جس میں 5 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے اور کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509342/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حکام کے مطابق اس کے بعد عراق کی سرحد کے قریب واقع موفق السلتی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جمعے کو ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔</p>
<p>ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے ازرق ایئربیس پر امریکی اڈے کے ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے طیاروں کے شیلٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>امریکی فضائیہ کے سابق جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے کہا کہ یہ صرف ایک فوجی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ امریکا کے علاقائی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی تاکہ امریکی فوج کی میزبانی کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پینٹاگون نے حملوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اردن خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جہاں امریکی فوجی دستے مختلف سیکیورٹی اور دفاعی مشنز کے لیے موجود ہیں۔</p>
<p>ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509369</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 13:32:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/191300150587ced.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/191300150587ced.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو'، ٹرمپ کی امریکی فوج کو سخت ہدایت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509365/trump-orders-us-military-to-open-the-gates-of-hell-on-iran</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکی فوج کو کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، دونوں فوجیوں نے اپنے وطن کے لیے جان قربان کی اور قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509342/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک جب کہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد ہیلی کاپٹر شدید متاثر ہوئے اور فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکا خیز ڈرون تباہ کیا، کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہینگرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکی فوج کو کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</strong></p>
<p>امریکی میڈیا کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کیں۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، دونوں فوجیوں نے اپنے وطن کے لیے جان قربان کی اور قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔</p>
<p>بعد ازاں صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509342/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔</p>
<p>سینٹ کام نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک جب کہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد ہیلی کاپٹر شدید متاثر ہوئے اور فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔</p>
<p>ایران کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکا خیز ڈرون تباہ کیا، کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہینگرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509365</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 12:39:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/19123435a8010ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/19123435a8010ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی پوسٹس تک سب سے پہلے رسائی کے لیے ماہانہ 1 لاکھ ڈالر فیس وصول کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509220/stock-market-wall-street-truth-social-us-politics-donald-trump-trump-media-truth-api</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (ٹی ایم ٹی جی) نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں، ٹریڈنگ فرموں اور مالیاتی اداروں کو ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس تک عام صارفین کے مقابلے میں زیادہ تیز رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک نئی سروس متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/media-telecom/trump-media-pitched-100000-monthly-fee-fast-feed-us-presidents-posts-ft-reports-2026-07-17/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; اس منصوبے کے تحت کمپنی بعض اداروں سے ہر ماہ ایک لاکھ ڈالر تک فیس لینے پر بات چیت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کمپنی نے تین سالہ معاہدہ کرنے والے اداروں کے لیے رعایتی پیکیج بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت ماہانہ فیس 60 ہزار ڈالر ہوگی۔ یہ معلومات ایسے افراد نے فراہم کی ہیں جو ان مذاکرات سے واقف ہیں، تاہم چونکہ بات چیت خفیہ ہے اس لیے انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ میڈیا نے جمعرات کو ”ٹروتھ اے پی آئی“  کے نام سے ایک نئی سروس کا اعلان کیا، جس کے ذریعے بینکوں اور ٹریڈنگ کمپنیوں کو ٹروتھ سوشل پر موجود 10 اہم اکاؤنٹس کی پوسٹس سب سے پہلے اور تیز رفتار انداز میں فراہم کی جائیں گی۔ کمپنی نے اس سروس کی قیمتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم بتایا کہ یہ سروس یکم اگست سے شروع کی جائے گی اور اس کے لیے پہلے ہی کچھ صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں، اگرچہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ سروس کمپنی کے لیے ڈیٹا لائسنسنگ کے شعبے میں پہلا قدم سمجھی جا رہی ہے، جس سے اسے آمدنی کا نیا ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن رون وائیڈن نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹرمپ خاندان کو مالی فائدہ پہنچے گا جبکہ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار مزید منافع کما سکیں گے۔ وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے تبصرے کے لیے معاملہ ٹرمپ میڈیا کے حوالے کر دیا، جبکہ کمپنی نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18101957ae54f97.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18101957ae54f97.webp'  alt=' (تصویر بشکریہ رائٹرز : قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ کا پرنٹ رکھا ہوا ہے۔) ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;(تصویر بشکریہ رائٹرز : قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ کا پرنٹ رکھا ہوا ہے۔)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس اکثر امریکی اسٹاک مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر 9 اپریل 2025 کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کئی نئے ٹیرف 90 دن کے لیے معطل کر رہے ہیں، جس کے بعد وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کرنے والی کمپنیاں انتہائی کم وقت میں خرید و فروخت کے فیصلے کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ادارے کو صرف چند ملی سیکنڈ پہلے معلومات مل جائیں تو بڑے سودوں میں اسے لاکھوں ڈالر کا اضافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹروتھ اے پی آئی جیسی سروس ان اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509117/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509117"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی سروس میں نہ صرف اہم اکاؤنٹس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی بلکہ 2022 سے اب تک کی پوسٹس کا ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹروتھ سوشل پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے اکاؤنٹس میں خود ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کے علاوہ ان کے قریبی حامی ڈین بونجینو اور شان ہینیٹی بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ جے ٹرمپ ریووکیبل ٹرسٹ کے پاس ٹرمپ میڈیا کے تقریباً 11 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار شیئرز موجود ہیں، جو کمپنی کے مجموعی شیئرز کا تقریباً 41 فیصد بنتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کی نگرانی ٹرمپ کے بچے کرتے ہیں، تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے اصل فائدہ اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سوال اہم ہے کہ آیا حکومتی پالیسیوں سے متعلق اعلانات کے ذریعے کاروباری فائدہ حاصل کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں۔ غیرجانبدار نگرانی کرنے والی تنظیم ”سٹیزنز فار رسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن“ کے صدر ڈونلڈ شرمین نے کہا کہ صدر کی پوسٹس تک جلد رسائی کے بدلے رقم لینا وسیع پیمانے پر غیر اخلاقی عمل قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ عوامی معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ یہ غیر قانونی بھی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرمین کے مطابق امریکی آئین کی وہ شقیں، جن کا مقصد سرکاری عہدیداروں کو غیر مناسب مالی فوائد سے روکنا ہے، اس معاملے پر براہ راست لاگو نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین اس صورتحال کو واضح طور پر مدنظر رکھ کر نہیں بنائے گئے تھے، جہاں کسی صدر کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والی معلومات تک تیز رسائی فروخت کی جا رہی ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن الزبتھ وارن نے بھی اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایسا طریقہ قرار دیا جس سے صدارت کے عہدے سے مالی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور وال اسٹریٹ کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ عام امریکیوں کو اس سے کوئی براہ راست فائدہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کاروباری معاملات ان کے بچوں کی نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں، تاہم ٹرسٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حتمی فائدہ اٹھانے والے خود صدر ٹرمپ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے دوران ٹرمپ میڈیا کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً 27 فیصد کمی آ چکی ہے۔ جمعہ کے روز کمپنی کا شیئر تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے 9.66 ڈالر پر بند ہوا، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مارکیٹ مالیت تقریباً 2.7 ارب ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (ٹی ایم ٹی جی) نے وال اسٹریٹ کے سرمایہ کاروں، ٹریڈنگ فرموں اور مالیاتی اداروں کو ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس تک عام صارفین کے مقابلے میں زیادہ تیز رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک نئی سروس متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/media-telecom/trump-media-pitched-100000-monthly-fee-fast-feed-us-presidents-posts-ft-reports-2026-07-17/">رائٹرز کے مطابق</a> اس منصوبے کے تحت کمپنی بعض اداروں سے ہر ماہ ایک لاکھ ڈالر تک فیس لینے پر بات چیت کر رہی ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کمپنی نے تین سالہ معاہدہ کرنے والے اداروں کے لیے رعایتی پیکیج بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت ماہانہ فیس 60 ہزار ڈالر ہوگی۔ یہ معلومات ایسے افراد نے فراہم کی ہیں جو ان مذاکرات سے واقف ہیں، تاہم چونکہ بات چیت خفیہ ہے اس لیے انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>ٹرمپ میڈیا نے جمعرات کو ”ٹروتھ اے پی آئی“  کے نام سے ایک نئی سروس کا اعلان کیا، جس کے ذریعے بینکوں اور ٹریڈنگ کمپنیوں کو ٹروتھ سوشل پر موجود 10 اہم اکاؤنٹس کی پوسٹس سب سے پہلے اور تیز رفتار انداز میں فراہم کی جائیں گی۔ کمپنی نے اس سروس کی قیمتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم بتایا کہ یہ سروس یکم اگست سے شروع کی جائے گی اور اس کے لیے پہلے ہی کچھ صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں، اگرچہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ سروس کمپنی کے لیے ڈیٹا لائسنسنگ کے شعبے میں پہلا قدم سمجھی جا رہی ہے، جس سے اسے آمدنی کا نیا ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔</p>
<p>امریکی سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن رون وائیڈن نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹرمپ خاندان کو مالی فائدہ پہنچے گا جبکہ وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار مزید منافع کما سکیں گے۔ وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے تبصرے کے لیے معاملہ ٹرمپ میڈیا کے حوالے کر دیا، جبکہ کمپنی نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18101957ae54f97.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/18101957ae54f97.webp'  alt=' (تصویر بشکریہ رائٹرز : قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ کا پرنٹ رکھا ہوا ہے۔) ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>(تصویر بشکریہ رائٹرز : قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ کا پرنٹ رکھا ہوا ہے۔)</figcaption>
    </figure>
<p>مالیاتی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس اکثر امریکی اسٹاک مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر 9 اپریل 2025 کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے کئی نئے ٹیرف 90 دن کے لیے معطل کر رہے ہیں، جس کے بعد وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>مارکیٹ میں ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کرنے والی کمپنیاں انتہائی کم وقت میں خرید و فروخت کے فیصلے کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ادارے کو صرف چند ملی سیکنڈ پہلے معلومات مل جائیں تو بڑے سودوں میں اسے لاکھوں ڈالر کا اضافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹروتھ اے پی آئی جیسی سروس ان اداروں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509117/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509117"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی سروس میں نہ صرف اہم اکاؤنٹس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جائے گی بلکہ 2022 سے اب تک کی پوسٹس کا ریکارڈ بھی دستیاب ہوگا۔</p>
<p>ٹروتھ سوشل پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے اکاؤنٹس میں خود ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ کے علاوہ ان کے قریبی حامی ڈین بونجینو اور شان ہینیٹی بھی شامل ہیں۔</p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ جے ٹرمپ ریووکیبل ٹرسٹ کے پاس ٹرمپ میڈیا کے تقریباً 11 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار شیئرز موجود ہیں، جو کمپنی کے مجموعی شیئرز کا تقریباً 41 فیصد بنتے ہیں۔ اس ٹرسٹ کی نگرانی ٹرمپ کے بچے کرتے ہیں، تاہم اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے اصل فائدہ اٹھانے والے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔</p>
<p>ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سوال اہم ہے کہ آیا حکومتی پالیسیوں سے متعلق اعلانات کے ذریعے کاروباری فائدہ حاصل کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں۔ غیرجانبدار نگرانی کرنے والی تنظیم ”سٹیزنز فار رسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن“ کے صدر ڈونلڈ شرمین نے کہا کہ صدر کی پوسٹس تک جلد رسائی کے بدلے رقم لینا وسیع پیمانے پر غیر اخلاقی عمل قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ عوامی معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ یہ غیر قانونی بھی ہے یا نہیں۔</p>
<p>شرمین کے مطابق امریکی آئین کی وہ شقیں، جن کا مقصد سرکاری عہدیداروں کو غیر مناسب مالی فوائد سے روکنا ہے، اس معاملے پر براہ راست لاگو نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین اس صورتحال کو واضح طور پر مدنظر رکھ کر نہیں بنائے گئے تھے، جہاں کسی صدر کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والی معلومات تک تیز رسائی فروخت کی جا رہی ہو۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ رکن الزبتھ وارن نے بھی اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایسا طریقہ قرار دیا جس سے صدارت کے عہدے سے مالی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور وال اسٹریٹ کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ عام امریکیوں کو اس سے کوئی براہ راست فائدہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب وائٹ ہاؤس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کاروباری معاملات ان کے بچوں کی نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں، تاہم ٹرسٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے حتمی فائدہ اٹھانے والے خود صدر ٹرمپ ہیں۔</p>
<p>رواں سال کے دوران ٹرمپ میڈیا کے شیئرز کی قیمت میں تقریباً 27 فیصد کمی آ چکی ہے۔ جمعہ کے روز کمپنی کا شیئر تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے 9.66 ڈالر پر بند ہوا، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مارکیٹ مالیت تقریباً 2.7 ارب ڈالر رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509220</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 10:23:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181014347a26204.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181014347a26204.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی لابی امریکا-ایران مذاکرات ناکام بنانا چاہتی ہے: امریکی نائب صدر کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ اسرائیلی عناصر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری رکھنے کے لیے امن معاہدے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی لابی نے ہی میری ساکھ خراب کے لیے میرے خلاف بھی ایک منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم چلائی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے معروف پوڈکاسٹر جوئے روگن کے ساتھ گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے شدید مخالف اور اس امن عمل سے خوش نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے گفتگو کے دوران حال ہی میں ٹائم میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں بھی یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح ایران جنگ بندی معاہدے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مالی وسائل کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی فنڈنگ سے چلنے والی ایک عالمی اشتہاری ایجنسی نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے خلاف اور جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکا میں بھاری فنڈنگ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کمپنی نے اس مقصد کے لیے صدر ٹرمپ کی گزشتہ انتخابی مہم کے مینیجر اور ڈیجیٹل اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکیل اور ان کی کمپنی ’کلاک ٹاور ایکس‘ کی مدد حاصل کی تھی اور فنڈنگ کے ذریعے قدامت پسند اور ٹرمپ کے حامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو استعمال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے کہا ’میرے خیال میں یہ ایک منظم، خفیہ اور بڑی فنڈنگ کے تحت چلائی گئی مہم تھی جس کا مقصد یہی تھا کہ مذاکرات اور معاہدے کو ناکام بنایا جا سکے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نائب صدر کے مطابق اس مہم میں شامل افراد نے انہیں بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے خلاف صحافیوں کو معلومات فراہم کیں اور یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ امریکا کو ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں اور اس جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/alexbruesewitz/status/2077450739207610427/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/alexbruesewitz/status/2077450739207610427/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھ پر قطر اور دیگر غیر ملکی حکومتوں کے زیرِ اثر ہونے جیسے الزامات بھی لگائے گئے، تاہم میرا مقصد صرف اور صرف صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے اہداف کو پورا کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس بات پر اعتراض نہیں کہ اسرائیل یا دیگر ممالک امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کیوں کہ بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک عام سی بات ہے۔ تاہم اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے اگر یہی بیرونی اثرورسوخ امریکی مفادات کے برعکس اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077475841764720952/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077475841764720952/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل اتحادی ضرور ہیں لیکن دیگر اتحادی ممالک کی طرح دونوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی پوڈکاسٹ میں انہوں نے اسرائیل مخالف یہود دشمن ہونے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وینس نے اسرائیل کے بعض حلقوں پر تنقید کی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اسرائیل کے دباؤ میں آ کر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزبان جوئے روگن نے جے ڈی وینس سے سوال کیا کہ اگر ایران جنگ کا فیصلہ صرف ان کا ہوتا تو کیا وہ بھی یہی راستہ اختیار کرتے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے اس کا واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ صدر ٹرمپ بتا چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نائب صدر کی حیثیت سے ان کا کام حکومتی فیصلوں پر تبصرے کرنا نہیں بلکہ صدر کے فیصلوں کی حمایت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے حوالے سے فیصلوں کے وقت وہ بھی موجود تھے اور ان کے مطابق ایران پر حملوں سے متعلق فیصلہ صدر ٹرمپ کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق صدر ٹرمپ خود اس بات پر مضبوط یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور وہ بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے امریکا کی جانب سے ایران کو 300 ارب ڈالر فراہمی سے متعلق رپورٹس کو بھی مسترد کیا۔ ان کے مطابق امریکا ایران کو براہِ راست کوئی رقم نہیں دے رہا البتہ پابندیوں میں نرمی کے باعث خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077472728991342769/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077472728991342769/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو کے دوران جوئے روگن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کے اجرا میں تاخیر اور اس پر اٹھنے والے سوالات بھی سامنے رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس نے ایپسٹین فائلز کے معاملے پر حکومتی حکمت عملی کو غلط تسلیم کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی حقیقت کو چھپانا نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، تاہم حکومت کے پاس ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس سے ان روابط کی باضابطہ تصدیق ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اس نوعیت کے کوئی شواہد کبھی موجود بھی تھے تو ممکن ہے کہ وہ 2008 میں ایپسٹین کے خلاف مقدمے کے دوران ہی ختم کر دیے گئے ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ اسرائیلی عناصر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری رکھنے کے لیے امن معاہدے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی لابی نے ہی میری ساکھ خراب کے لیے میرے خلاف بھی ایک منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم چلائی تھی۔</strong></p>
<p>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے معروف پوڈکاسٹر جوئے روگن کے ساتھ گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے شدید مخالف اور اس امن عمل سے خوش نہیں تھے۔</p>
<p>جے ڈی وینس نے گفتگو کے دوران حال ہی میں ٹائم میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں بھی یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح ایران جنگ بندی معاہدے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مالی وسائل کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔</p>
<p>اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی فنڈنگ سے چلنے والی ایک عالمی اشتہاری ایجنسی نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے خلاف اور جنگ جاری رکھنے کے لیے امریکا میں بھاری فنڈنگ کی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کمپنی نے اس مقصد کے لیے صدر ٹرمپ کی گزشتہ انتخابی مہم کے مینیجر اور ڈیجیٹل اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکیل اور ان کی کمپنی ’کلاک ٹاور ایکس‘ کی مدد حاصل کی تھی اور فنڈنگ کے ذریعے قدامت پسند اور ٹرمپ کے حامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو استعمال کیا گیا تھا۔</p>
<p>جے ڈی وینس نے کہا ’میرے خیال میں یہ ایک منظم، خفیہ اور بڑی فنڈنگ کے تحت چلائی گئی مہم تھی جس کا مقصد یہی تھا کہ مذاکرات اور معاہدے کو ناکام بنایا جا سکے۔‘</p>
<p>امریکی نائب صدر کے مطابق اس مہم میں شامل افراد نے انہیں بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے خلاف صحافیوں کو معلومات فراہم کیں اور یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ امریکا کو ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں اور اس جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا چاہیے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/alexbruesewitz/status/2077450739207610427/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/alexbruesewitz/status/2077450739207610427/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھ پر قطر اور دیگر غیر ملکی حکومتوں کے زیرِ اثر ہونے جیسے الزامات بھی لگائے گئے، تاہم میرا مقصد صرف اور صرف صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے اہداف کو پورا کرنا تھا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس بات پر اعتراض نہیں کہ اسرائیل یا دیگر ممالک امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، کیوں کہ بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک عام سی بات ہے۔ تاہم اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے اگر یہی بیرونی اثرورسوخ امریکی مفادات کے برعکس اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077475841764720952/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077475841764720952/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل اتحادی ضرور ہیں لیکن دیگر اتحادی ممالک کی طرح دونوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی پوڈکاسٹ میں انہوں نے اسرائیل مخالف یہود دشمن ہونے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔</p>
<p>اگرچہ وینس نے اسرائیل کے بعض حلقوں پر تنقید کی لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خیال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اسرائیل کے دباؤ میں آ کر نہیں کیا۔</p>
<p>میزبان جوئے روگن نے جے ڈی وینس سے سوال کیا کہ اگر ایران جنگ کا فیصلہ صرف ان کا ہوتا تو کیا وہ بھی یہی راستہ اختیار کرتے؟</p>
<p>جے ڈی وینس نے اس کا واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ صدر ٹرمپ بتا چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نائب صدر کی حیثیت سے ان کا کام حکومتی فیصلوں پر تبصرے کرنا نہیں بلکہ صدر کے فیصلوں کی حمایت کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے حوالے سے فیصلوں کے وقت وہ بھی موجود تھے اور ان کے مطابق ایران پر حملوں سے متعلق فیصلہ صدر ٹرمپ کا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق صدر ٹرمپ خود اس بات پر مضبوط یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں اور وہ بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔</p>
<p>جے ڈی وینس نے امریکا کی جانب سے ایران کو 300 ارب ڈالر فراہمی سے متعلق رپورٹس کو بھی مسترد کیا۔ ان کے مطابق امریکا ایران کو براہِ راست کوئی رقم نہیں دے رہا البتہ پابندیوں میں نرمی کے باعث خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077472728991342769/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077472728991342769/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انٹرویو کے دوران جوئے روگن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کے اجرا میں تاخیر اور اس پر اٹھنے والے سوالات بھی سامنے رکھے۔</p>
<p>جے ڈی وینس نے ایپسٹین فائلز کے معاملے پر حکومتی حکمت عملی کو غلط تسلیم کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد کسی حقیقت کو چھپانا نہیں تھا۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حلقوں سے روابط تھے، تاہم حکومت کے پاس ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس سے ان روابط کی باضابطہ تصدیق ہو سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اس نوعیت کے کوئی شواہد کبھی موجود بھی تھے تو ممکن ہے کہ وہ 2008 میں ایپسٹین کے خلاف مقدمے کے دوران ہی ختم کر دیے گئے ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509020</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 17:53:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16171622af4648a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16171622af4648a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے خلیجی ممالک پر نئے جوابی حملے، ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہوگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509342/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات بمباری کی ہے، جس کے جواب میں تہران نے بھی خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 18 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور دور مکمل کیا گیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2078685229418483982?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2078685229418483982?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام نے بتایا کہ  ان فضائی حملوں میں ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور میزائلوں و ڈرونز کے ذخیرہ کرنے والے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق، یہ کارروائی ان پاسدارانِ انقلاب کے دستوں کے خلاف بھی کی گئی جنہوں نے ایک دن قبل اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام نے تصدیق کی کہ جمعہ کے روز اردن میں ہونے والے ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں سریک کے مقام پر حملہ کیا ہے، تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”ان کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے ایرانی پلوں، بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد ایران نے بھی ہفتے کے روز سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509292/iran-suspends-islamabad-mou-after-us-attacks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ٹریول الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ فضائی حدود کی بندش سے سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ریاستی میڈیا پر جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بالکل بے اعتبار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کو اس کی اس سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا“۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509325/irans-supreme-leader-calls-us-great-satan-questions-credibility-of-trumps-commitments'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رہبرِ اعلیٰ اس وقت کہاں موجود ہیں، یہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پوری جنگ کا سب سے اہم مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا نے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان جہازوں کو روک رہا ہے جو اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509244/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دوران یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری جہاز رانی میں مداخلت اور تمام حملے فوری طور پر بند کرے اور بغیر کسی فیس یا شرط کے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں امریکی حملوں کی وجہ سے ایران میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات بمباری کی ہے، جس کے جواب میں تہران نے بھی خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 18 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور دور مکمل کیا گیا ہے۔‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2078685229418483982?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2078685229418483982?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سینٹ کام نے بتایا کہ  ان فضائی حملوں میں ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور میزائلوں و ڈرونز کے ذخیرہ کرنے والے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔</p>
<p>سینٹ کام کے مطابق، یہ کارروائی ان پاسدارانِ انقلاب کے دستوں کے خلاف بھی کی گئی جنہوں نے ایک دن قبل اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔</p>
<p>سینٹ کام نے تصدیق کی کہ جمعہ کے روز اردن میں ہونے والے ایرانی حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509332"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران کی نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق امریکا نے جنوبی ایران میں سریک کے مقام پر حملہ کیا ہے، تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>اس جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”ان کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے“۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے ایرانی پلوں، بجلی گھروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد ایران نے بھی ہفتے کے روز سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509292/iran-suspends-islamabad-mou-after-us-attacks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ٹریول الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ فضائی حدود کی بندش سے سفری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ریاستی میڈیا پر جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ بالکل بے اعتبار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کو اس کی اس سے بھی بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور مزید ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا“۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509325/irans-supreme-leader-calls-us-great-satan-questions-credibility-of-trumps-commitments'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ رہبرِ اعلیٰ اس وقت کہاں موجود ہیں، یہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔</p>
<p>اس پوری جنگ کا سب سے اہم مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے“۔</p>
<p>دونوں ممالک ایک دوسرے کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکا نے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان جہازوں کو روک رہا ہے جو اس کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509244/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509244"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس دوران یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری جہاز رانی میں مداخلت اور تمام حملے فوری طور پر بند کرے اور بغیر کسی فیس یا شرط کے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھے۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں میں امریکی حملوں کی وجہ سے ایران میں 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509342</guid>
      <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 09:38:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/192034548b536a7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/192034548b536a7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں 2 اہلکار ہلاک، ایک لاپتہ: سینٹ کام کی تصدیق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509332/two-us-soldiers-killed-one-missing-in-iranian-strike-on-jordan-centcom-confirms</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک جب کہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق یہ حملے کے وقت امریکی اور اتحادی افواج ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مصروف تھیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2078530691109974522'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2078530691109974522"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معمولی زخمی ہونے والے دیگر اہلکاروں کا بھی طبی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایران نے 17 جولائی کی شب امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں واقع امریکا کے ’موفق السلطي ایئر بیس‘ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں امریکی ایئربیس پر میزائلوں کے گرنے کے بعد دھویں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2078169924954992780/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_com/status/2078169924954992780/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تازہ کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی فوج نے اپنے اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد اس جنگ میں ہلاک امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 16 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج نے اردن کے ایئربیس میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی فی الحال شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اہل خانہ کو اطلاع دینے کے کم از کم 24 گھنٹے بعد ہی ہلاک اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔</strong></p>
<p>سینٹ کام نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک جب کہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق یہ حملے کے وقت امریکی اور اتحادی افواج ایرانی حملوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مصروف تھیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2078530691109974522'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2078530691109974522"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سینٹ کام کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معمولی زخمی ہونے والے دیگر اہلکاروں کا بھی طبی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ ایران نے 17 جولائی کی شب امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں واقع امریکا کے ’موفق السلطي ایئر بیس‘ پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں امریکی ایئربیس پر میزائلوں کے گرنے کے بعد دھویں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2078169924954992780/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_com/status/2078169924954992780/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس تازہ کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی فوج نے اپنے اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد اس جنگ میں ہلاک امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 16 ہو گئی ہے۔</p>
<p>امریکی فوج نے اردن کے ایئربیس میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی فی الحال شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اہل خانہ کو اطلاع دینے کے کم از کم 24 گھنٹے بعد ہی ہلاک اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509332</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 23:34:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/18234252bed2cfb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/18234252bed2cfb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا 'بڑا شیطان'، صدر ٹرمپ کے دستخط ناقابلِ اعتبار ہیں: ایرانی سپریم لیڈر</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509325/irans-supreme-leader-calls-us-great-satan-questions-credibility-of-trumps-commitments</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ جتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا کے لیے ’بڑا شیطان‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جبر، آمریت اور سفاکیت امریکی نظریے اور پالیسی کا لازمی حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ناقابلِ اعتبار ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کو ’بڑا شیطان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات امریکا کی مجرمانہ کارروائیوں، بے ایمانی، ناقابلِ اعتبار ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں، جس سے اس بڑے شیطان کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MKhamenei_ir/status/2078522223174758595'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MKhamenei_ir/status/2078522223174758595"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی عوام کو اتحاد برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنوبی ایران کے عوام کا عزم اور بہادری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی تو یہ اقدام اس کے لیے مزید نقصان اور بدنامی مول لینے کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور مزاحمتی قوتیں اسے ناقابلِ فراموش سبق سکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MKhamenei_ir/status/2078525742829220301'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MKhamenei_ir/status/2078525742829220301"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی قوم کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب ملک کو ایک مکار دشمن کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان یکجہتی اور سب سے اہم ذمہ داری ایران کے وقار، آزادی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے حالات ایک بار پھر شدید کشیدہ ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509292/iran-suspends-islamabad-mou-after-us-attacks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ایران نے بھی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509296/us-intensifies-attacks-on-iran-expands-targets-to-critical-infrastructure'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509296"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی افواج کی جانب سے گزشتہ سات روز سے ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ امریکی افواج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے تاہم گزشتہ رات امریکی حملوں میں شہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں پُل، بجلی کی تنصیبات، سرنگیں اور صاف پانی کے پلانٹس وغیرہ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں واقع امریکی اہداف پر بھی حملے جاری ہیں، جن میں خاص طور کویت اور بحرین شامل ہیں۔ کویت نے ہفتے کی صبح اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے والے دو پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509269/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بحرین میں بھی ہفتے کو متعدد مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے جب کہ اردن نے بھی ایران کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ شہری آبادی کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے امریکی حملے جاری رہے تو ایران باقاعدہ جنگ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ جتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا کے لیے ’بڑا شیطان‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔</strong></p>
<p>ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جبر، آمریت اور سفاکیت امریکی نظریے اور پالیسی کا لازمی حصہ ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ناقابلِ اعتبار ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔</p>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کو ’بڑا شیطان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات امریکا کی مجرمانہ کارروائیوں، بے ایمانی، ناقابلِ اعتبار ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں، جس سے اس بڑے شیطان کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MKhamenei_ir/status/2078522223174758595'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MKhamenei_ir/status/2078522223174758595"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی عوام کو اتحاد برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنوبی ایران کے عوام کا عزم اور بہادری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی تو یہ اقدام اس کے لیے مزید نقصان اور بدنامی مول لینے کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور مزاحمتی قوتیں اسے ناقابلِ فراموش سبق سکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MKhamenei_ir/status/2078525742829220301'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MKhamenei_ir/status/2078525742829220301"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی قوم کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب ملک کو ایک مکار دشمن کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان یکجہتی اور سب سے اہم ذمہ داری ایران کے وقار، آزادی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔</p>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے حالات ایک بار پھر شدید کشیدہ ہوگئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509292/iran-suspends-islamabad-mou-after-us-attacks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509292"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ایران نے بھی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509296/us-intensifies-attacks-on-iran-expands-targets-to-critical-infrastructure'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509296"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>واضح رہے کہ امریکی افواج کی جانب سے گزشتہ سات روز سے ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں۔ امریکی افواج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے تاہم گزشتہ رات امریکی حملوں میں شہری اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں پُل، بجلی کی تنصیبات، سرنگیں اور صاف پانی کے پلانٹس وغیرہ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں واقع امریکی اہداف پر بھی حملے جاری ہیں، جن میں خاص طور کویت اور بحرین شامل ہیں۔ کویت نے ہفتے کی صبح اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملوں میں بجلی اور سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے والے دو پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509269/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بحرین میں بھی ہفتے کو متعدد مرتبہ فضائی حملوں کے سائرن بجائے گئے جب کہ اردن نے بھی ایران کے داغے گئے 10 بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ شہری آبادی کی بقا کے لیے ضروری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے امریکی حملے جاری رہے تو ایران باقاعدہ جنگ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509325</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:54:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/18225631cb7be2d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/18225631cb7be2d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد روک دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509292/iran-suspends-islamabad-mou-after-us-attacks</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کے نشریاتی ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/btz9aq?update=4782854"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt;‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدے عملاً معطل کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انھوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے معاہدے کی روح کو ختم کر دیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اس وقت اس کی اولین ترجیح ملک کا دفاع ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FarsNews_Agency/status/2078452467646222719'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FarsNews_Agency/status/2078452467646222719"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;غریب آبادی نے کہا کہ ایران اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا، تاہم یہ پہلا موقع ہے جب تہران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق پر مزید عمل درآمد نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں معاہدے پر عمل ممکن نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت مذاکرات چھ ماہ تک جاری رہنے تھے، تاہم واشنگٹن نے اس یادداشت کی من مانی تشریح کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا تاکہ امریکا وہ مقاصد حاصل کر سکے جو میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IranAmbPak/status/2078426539138646432'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IranAmbPak/status/2078426539138646432"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امریکا کی یہ تشریح مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تھی، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے بقول امریکا نے اب معاہدے اور بین الاقوامی اصولوں کے برخلاف جنگ شروع کر دی ہے اور ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر مسلسل ساتویں روز بھی حملے جاری رکھے، جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تازہ کارروائیوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملوں میں ایران کے نگرانی مراکز، فوجی رسد کے انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2078473237281857666'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2078473237281857666"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں واقع امریکی فضائی اڈے ”موفق السلطي ایئربیس“ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد اڈے سے دھویں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جب کہ آگ کی شدت کے باعث دھواں دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_Fa/status/2078457387753591117'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Tasnimnews_Fa/status/2078457387753591117"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویتی ذرائع کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں ایک فوجی تربیتی مرکز میں آگ لگ گئی، تاہم حکام نے فوری طور پر نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ ہو گئے، جس کے باعث بندر عباس، حاجی آباد اور شمالی علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ضلع جاسک کے مغربی علاقے میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں پینے کے پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ &lt;br&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_Fa/status/2078392939076608244'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Tasnimnews_Fa/status/2078392939076608244"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/btz9aq?update=4782724"&gt;الجزیرہ&lt;/a&gt;‘ کے مطابق خوزستان کے نائب گورنر برائے سیکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ گزشتہ دس روز کے دوران امریکا نے صوبے کے 95 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں 12 اضلاع شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم آٹھ شہری شہید ہوئے، جب کہ ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے اب تک امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد شہید اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔</strong></p>
<p>قطر کے نشریاتی ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/btz9aq?update=4782854">الجزیرہ</a>‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدے عملاً معطل کر دیے ہیں۔</p>
<p>انھوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے معاہدے کی روح کو ختم کر دیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اس وقت اس کی اولین ترجیح ملک کا دفاع ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FarsNews_Agency/status/2078452467646222719'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FarsNews_Agency/status/2078452467646222719"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>غریب آبادی نے کہا کہ ایران اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا، تاہم یہ پہلا موقع ہے جب تہران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق پر مزید عمل درآمد نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں معاہدے پر عمل ممکن نہیں رہا۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت مذاکرات چھ ماہ تک جاری رہنے تھے، تاہم واشنگٹن نے اس یادداشت کی من مانی تشریح کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا تاکہ امریکا وہ مقاصد حاصل کر سکے جو میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IranAmbPak/status/2078426539138646432'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IranAmbPak/status/2078426539138646432"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ امریکا کی یہ تشریح مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی تھی، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے بقول امریکا نے اب معاہدے اور بین الاقوامی اصولوں کے برخلاف جنگ شروع کر دی ہے اور ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو اس جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ اقدام کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا نے ایران پر مسلسل ساتویں روز بھی حملے جاری رکھے، جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تازہ کارروائیوں کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملوں میں ایران کے نگرانی مراکز، فوجی رسد کے انفراسٹرکچر، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/FoxNews/status/2078473237281857666'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FoxNews/status/2078473237281857666"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سینٹ کام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں واقع امریکی فضائی اڈے ”موفق السلطي ایئربیس“ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد اڈے سے دھویں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے گئے، جب کہ آگ کی شدت کے باعث دھواں دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_Fa/status/2078457387753591117'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Tasnimnews_Fa/status/2078457387753591117"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کویتی ذرائع کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں ایک فوجی تربیتی مرکز میں آگ لگ گئی، تاہم حکام نے فوری طور پر نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ ہو گئے، جس کے باعث بندر عباس، حاجی آباد اور شمالی علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔</p>
<p>ایرانی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ضلع جاسک کے مغربی علاقے میں واقع بونجی ڈی سیلینیشن (سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے) پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں پینے کے پانی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ <br></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Tasnimnews_Fa/status/2078392939076608244'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Tasnimnews_Fa/status/2078392939076608244"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aje.news/btz9aq?update=4782724">الجزیرہ</a>‘ کے مطابق خوزستان کے نائب گورنر برائے سیکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ گزشتہ دس روز کے دوران امریکا نے صوبے کے 95 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں 12 اضلاع شامل ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم آٹھ شہری شہید ہوئے، جب کہ ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے اب تک امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد شہید اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509292</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:42:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/18193348d5e1fc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/18193348d5e1fc4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل تنصیبات تباہ، ایئرپورٹس بند، کئی افراد زخمی؛ کویت پر نئے ایرانی حملوں میں کتنا نقصان ہوا؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509269/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کی فائر فورس نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ آج صبح ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد دو مقامات پر لگی آگ بجھانے کے دوران ان کے متعدد فائر فائٹرز اور ایک عام ورکر زخمی ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائر فورس کا کہنا تھا کہ پہلے واقعے کے نتیجے میں، آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران، فائر فائٹرز اور کارکنوں میں سے کچھ افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد اس جگہ کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عسکری لہر میں کویت کا تیل کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔  کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کونا‘ کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن نے  ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تیل کے شعبے میں ایک انتہائی اہم اور فعال سائٹ کو ایران کے پے در پے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509269/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کارپوریشن نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور متاثرہ جگہ کو خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ اس حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاست کے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی کویت کی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے بتایا کہ ایرانی حملوں کے تازہ دور کے بعد بجلی اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے فوراً بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر عسکری آپریشنل اقدامات کرنا پڑے، جن کے تحت پلانٹ اور اس کے ملازمین کی حفاظت کو برقرار رکھنے اور بجلی کے پورے نیٹ ورک کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کئی پیداواری یونٹس کو منقطع کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ واقعے کے فوراً بعد تمام ہنگامی پلان فعال کر دیے گئے تھے تاکہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں کوئی بڑا خلل نہ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے عسکری دعوے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کی بحری افواج نے کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بیڑے کے ایندھن فراہم کرنے والے گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحرین میں قائم شیخ عیسیٰ ایئربیس پر امریکی جنگی طیاروں کے جمع ہونے کے مرکز پر ڈرون اور میزائل داغے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509217/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509217"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، ایران نے بحرین میں قائم امریکی انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر، جسے ’بیٹل کو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت میں امریکی سگنلز اور ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی تکبر کے جرائم کے جواب میں انہوں نے بحرین میں ایئربیس کے ہوائی جہاز کے ہینگر، پارکنگ لاٹ اور ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ امریکا اس بیس کو علاقائی اہداف، خاص طور پر ہمارے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے ان تمام ممالک کو سخت وارننگ دی ہے جو اپنے ہاں امریکی عسکری افواج کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے سول ڈیفنس یونٹس کو فوری فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور لے جائیں، کیونکہ ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی زمینی افواج نے کویت میں قائم کیمپ عارفجان میں امریکی فوجی لاجسٹکس ہب کو بھی نشانہ بنا کر وہاں جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شدید ترین بمباری کے باعث سفری شعبہ بری طرح مفلوج ہو گیا ہے اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیاروں کے اترنے اور اڑان بھرنے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کی قومی ایئرلائن کویت ائیرویز نے مسافروں کو آگاہ کیا ہے کہ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے زیادہ تر پروازوں کے اوقات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضائی حدود کی یہ بندش اس سے قبل فروری سے اپریل کے درمیان دیکھی گئی کشیدگی کی یاد تازہ کرتی ہے، جب پورے خلیج کی فضائی حدود بند ہونے سے لاکھوں مسافروں کے لیے افراتفری پیدا ہو گئی تھی اور کچھ مسافر تو ہفتوں تک خطے میں پھنس کر رہ گئے تھے کیونکہ کوئی متبادل پرواز دستیاب نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;موجودہ صورتحال انتہائی تیزی سے بدل رہی ہے لیکن خلیجی ممالک اس وقت کثیر جہتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک طرف تو اپنے شہریوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے محفوظ رکھنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر میزائل فضا میں ہی تباہ کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام کو صرف سرکاری ذرائع سے معلومات لینے کا کہہ رہے ہیں تاکہ افواہوں سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ممالک ایک طرف ایران کے ان میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کر رہے ہیں اور دوسری طرف سفارت کاری اور بات چیت کی اپیل بھی کر رہے ہیں، مگر موجودہ حالات میں سفارت کاری کا کام انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ امریکا یا ایران میں سے کوئی بھی فی الحال پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران اردن کی مسلح افواج نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا ہے، اور اس کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں قائم امریکی عسکری ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں متعدد اہم شہری اور تجارتی مقامات شدید متاثر ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>کویت کی فائر فورس نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ آج صبح ہونے والے ایرانی حملوں کے بعد دو مقامات پر لگی آگ بجھانے کے دوران ان کے متعدد فائر فائٹرز اور ایک عام ورکر زخمی ہو گئے ہیں۔</p>
<p>فائر فورس کا کہنا تھا کہ پہلے واقعے کے نتیجے میں، آگ بجھانے کے آپریشن کے دوران، فائر فائٹرز اور کارکنوں میں سے کچھ افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد اس جگہ کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس عسکری لہر میں کویت کا تیل کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔  کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کونا‘ کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن نے  ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تیل کے شعبے میں ایک انتہائی اہم اور فعال سائٹ کو ایران کے پے در پے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509269/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کارپوریشن نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور متاثرہ جگہ کو خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ اس حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاست کے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی کویت کی وزارتِ بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے بتایا کہ ایرانی حملوں کے تازہ دور کے بعد بجلی اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے پلانٹ کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔</p>
<p>وزارت کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے فوراً بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر عسکری آپریشنل اقدامات کرنا پڑے، جن کے تحت پلانٹ اور اس کے ملازمین کی حفاظت کو برقرار رکھنے اور بجلی کے پورے نیٹ ورک کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کئی پیداواری یونٹس کو منقطع کرنا پڑا۔</p>
<p>وزارت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ واقعے کے فوراً بعد تمام ہنگامی پلان فعال کر دیے گئے تھے تاکہ بجلی اور پانی کی سپلائی میں کوئی بڑا خلل نہ آئے۔</p>
<p>دوسری طرف، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بڑے عسکری دعوے کیے ہیں۔</p>
<p>ایرانی فورسز کا کہنا ہے کہ ان کی بحری افواج نے کویت کی الاحمدی بندرگاہ پر امریکی بیڑے کے ایندھن فراہم کرنے والے گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بحرین میں قائم شیخ عیسیٰ ایئربیس پر امریکی جنگی طیاروں کے جمع ہونے کے مرکز پر ڈرون اور میزائل داغے گئے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509217/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509217"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، ایران نے بحرین میں قائم امریکی انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر، جسے ’بیٹل کو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اسے بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کویت میں امریکی سگنلز اور ٹیلی کمیونیکیشن سینٹر کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p>ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی تکبر کے جرائم کے جواب میں انہوں نے بحرین میں ایئربیس کے ہوائی جہاز کے ہینگر، پارکنگ لاٹ اور ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ امریکا اس بیس کو علاقائی اہداف، خاص طور پر ہمارے ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے ان تمام ممالک کو سخت وارننگ دی ہے جو اپنے ہاں امریکی عسکری افواج کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے سول ڈیفنس یونٹس کو فوری فعال کریں اور شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور لے جائیں، کیونکہ ان کی سرزمین کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایران کی زمینی افواج نے کویت میں قائم کیمپ عارفجان میں امریکی فوجی لاجسٹکس ہب کو بھی نشانہ بنا کر وہاں جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>اس شدید ترین بمباری کے باعث سفری شعبہ بری طرح مفلوج ہو گیا ہے اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیاروں کے اترنے اور اڑان بھرنے کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>کویت کی قومی ایئرلائن کویت ائیرویز نے مسافروں کو آگاہ کیا ہے کہ فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے زیادہ تر پروازوں کے اوقات تبدیل کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>فضائی حدود کی یہ بندش اس سے قبل فروری سے اپریل کے درمیان دیکھی گئی کشیدگی کی یاد تازہ کرتی ہے، جب پورے خلیج کی فضائی حدود بند ہونے سے لاکھوں مسافروں کے لیے افراتفری پیدا ہو گئی تھی اور کچھ مسافر تو ہفتوں تک خطے میں پھنس کر رہ گئے تھے کیونکہ کوئی متبادل پرواز دستیاب نہیں تھی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>موجودہ صورتحال انتہائی تیزی سے بدل رہی ہے لیکن خلیجی ممالک اس وقت کثیر جہتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ ایک طرف تو اپنے شہریوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے محفوظ رکھنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر میزائل فضا میں ہی تباہ کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ عوام کو صرف سرکاری ذرائع سے معلومات لینے کا کہہ رہے ہیں تاکہ افواہوں سے بچا جا سکے۔</p>
<p>یہ ممالک ایک طرف ایران کے ان میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کر رہے ہیں اور دوسری طرف سفارت کاری اور بات چیت کی اپیل بھی کر رہے ہیں، مگر موجودہ حالات میں سفارت کاری کا کام انتہائی مشکل ہو چکا ہے کیونکہ امریکا یا ایران میں سے کوئی بھی فی الحال پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا۔</p>
<p>اس دوران اردن کی مسلح افواج نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا ہے، اور اس کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509269</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:32:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1815300206c7a68.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1815300206c7a68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں 20 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگ چُک زبردستی اسپتال منتقل</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509219/indian-activist-sonam-wangchuk-on-a-20-day-hunger-strike-forcibly-shifted-to-hospital</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگ چُک کو 21 روز تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے بعد ہفتے کی صبح نئی دہلی کے جنتر منتر سے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی اچانک منتقلی نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ نے اسپتال انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر سونم وانگ چُک کو کسی قسم کی دوا یا طبی محلول نہ دیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;59 سالہ سونم وانگ چُک گزشتہ 28 جون سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ وہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور قومی سطح کے امتحانات میں پیپر لیک سمیت دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نامی آن لائن احتجاجی تحریک کی حمایت کر رہے تھے۔ اس دوران وہ صرف نمک اور پانی استعمال کر رہے تھے اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا وزن 9 کلوگرام سے زیادہ گر چکا تھا اور وہ شدید تکلیف میں تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508829/india-delhi-high-court-hunger-strike-sonam-wangchuk-force-feeding-petition-neet-ug-paper-leak-education-reforms'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508829"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے پیر کے روز بھارتی پارلیمنٹ کی جانب پرامن مارچ کا اعلان بھی کر رکھا تھا، جس میں سونم وانگ چُک نے اپنی کمزور جسمانی حالت کے باوجود شرکت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کی صبح سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کو احتجاجی مقام پر پہنچتے دیکھا گیا۔ اہلکاروں نے سونم وانگ چُک کو چادروں کے پردے میں چھپا کر اسٹیج سے اٹھایا اور ایمبولینس کے ذریعے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&amp;href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F2094139671480823%2F&amp;show_text=false&amp;width=267&amp;t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/raw-html&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض مظاہرین نے مزاحمت کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔ اس کارروائی کے دوران تحریک کے بانی ابھیجیت دیپک کو بھی پولیس نے ایک دوست کے گھر پر نظربند کر دیا اور باہر نکلنے سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر سچن شرما نے اس کاروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگ چُک کو ان کی صحت کے پیش نظر طبی ماہرین کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ”سونم وانگ چُک کو ضروری طبی علاج کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اس وقت وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ سونم وانگ چُک کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف سونم وانگ چُک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اسپتال انتظامیہ کو اپنے شوہر کو کوئی بھی دوا یا خوراک دینے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508859/rakhi-sawant-announces-her-visit-to-delhi-to-end-sonam-wangchuks-hunger-strike'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صفدر جنگ اسپتال سے انٹرنیٹ پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میری، ہمارے خاندان اور ان ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر جو پچھلے بیس دنوں سے ان کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں، میرے شوہر کو منہ کے ذریعے یا سوئی کے ذریعے کچھ بھی نہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہسپتال لانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دن پہلے تک بالکل ٹھیک تھے اور انہیں اسپتال لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ قانون کے تحت یہ میرا آئینی حق ہے اور میری مرضی کے بغیر انہیں کوئی چیز نہیں دی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یہ احتجاجی تحریک مئی میں میڈیکل کے داخلہ امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر شروع ہوئی تھی جس میں اب کئی طالب علم تنظیمیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان امتحانات میں ہونے والی گڑبڑ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کریں اور اپنے عہدے سے فوری استعفیٰ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اس تحریک کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک میں افراتفری پھیلانے والے عناصر کا گروہ قرار دیا ہے اور حکومت نے ابھی تک مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی طرف سے حکومت پر بات چیت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی احتجاجی مقام پر جا کر سونم وانگ چُک سے ملاقات کی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے مظاہرین کی بات سنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے پیر کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا جائے گا یا نہیں، تاہم سونم وانگ چُک کی موجودہ طبی حالت کے پیش نظر ان کی اس میں شرکت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگ چُک کو 21 روز تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال کے بعد ہفتے کی صبح نئی دہلی کے جنتر منتر سے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کی اچانک منتقلی نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ان کی اہلیہ نے اسپتال انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر سونم وانگ چُک کو کسی قسم کی دوا یا طبی محلول نہ دیا جائے۔</strong></p>
<p>59 سالہ سونم وانگ چُک گزشتہ 28 جون سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ وہ تعلیمی نظام میں اصلاحات اور قومی سطح کے امتحانات میں پیپر لیک سمیت دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نامی آن لائن احتجاجی تحریک کی حمایت کر رہے تھے۔ اس دوران وہ صرف نمک اور پانی استعمال کر رہے تھے اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا وزن 9 کلوگرام سے زیادہ گر چکا تھا اور وہ شدید تکلیف میں تھے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508829/india-delhi-high-court-hunger-strike-sonam-wangchuk-force-feeding-petition-neet-ug-paper-leak-education-reforms'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508829"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مظاہرین نے پیر کے روز بھارتی پارلیمنٹ کی جانب پرامن مارچ کا اعلان بھی کر رکھا تھا، جس میں سونم وانگ چُک نے اپنی کمزور جسمانی حالت کے باوجود شرکت کے عزم کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>ہفتے کی صبح سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد کو احتجاجی مقام پر پہنچتے دیکھا گیا۔ اہلکاروں نے سونم وانگ چُک کو چادروں کے پردے میں چھپا کر اسٹیج سے اٹھایا اور ایمبولینس کے ذریعے صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا۔</p>
<raw-html>
<iframe src="https://www.facebook.com/plugins/video.php?height=476&href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Freel%2F2094139671480823%2F&show_text=false&width=267&t=0" width="267" height="476" style="border:none;overflow:hidden" scrolling="no" frameborder="0" allowfullscreen="true" allow="autoplay; clipboard-write; encrypted-media; picture-in-picture; web-share" allowFullScreen="true"></iframe></raw-html>
<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض مظاہرین نے مزاحمت کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس نے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔ اس کارروائی کے دوران تحریک کے بانی ابھیجیت دیپک کو بھی پولیس نے ایک دوست کے گھر پر نظربند کر دیا اور باہر نکلنے سے روک دیا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر سچن شرما نے اس کاروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگ چُک کو ان کی صحت کے پیش نظر طبی ماہرین کے مشورے اور دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ”سونم وانگ چُک کو ضروری طبی علاج کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اس وقت وہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔“</p>
<p>واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ سونم وانگ چُک کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔</p>
<p>دوسری طرف سونم وانگ چُک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اسپتال انتظامیہ کو اپنے شوہر کو کوئی بھی دوا یا خوراک دینے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508859/rakhi-sawant-announces-her-visit-to-delhi-to-end-sonam-wangchuks-hunger-strike'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508859"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>صفدر جنگ اسپتال سے انٹرنیٹ پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میری، ہمارے خاندان اور ان ڈاکٹروں کی اجازت کے بغیر جو پچھلے بیس دنوں سے ان کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں، میرے شوہر کو منہ کے ذریعے یا سوئی کے ذریعے کچھ بھی نہ دیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے ہسپتال لانے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک دن پہلے تک بالکل ٹھیک تھے اور انہیں اسپتال لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ قانون کے تحت یہ میرا آئینی حق ہے اور میری مرضی کے بغیر انہیں کوئی چیز نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p>واضح رہے کہ یہ احتجاجی تحریک مئی میں میڈیکل کے داخلہ امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر شروع ہوئی تھی جس میں اب کئی طالب علم تنظیمیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان امتحانات میں ہونے والی گڑبڑ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کریں اور اپنے عہدے سے فوری استعفیٰ دیں۔</p>
<p>دوسری طرف وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اس تحریک کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک میں افراتفری پھیلانے والے عناصر کا گروہ قرار دیا ہے اور حکومت نے ابھی تک مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ تاہم اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی طرف سے حکومت پر بات چیت کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی احتجاجی مقام پر جا کر سونم وانگ چُک سے ملاقات کی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے مظاہرین کی بات سنیں۔</p>
<p>تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے پیر کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا جائے گا یا نہیں، تاہم سونم وانگ چُک کی موجودہ طبی حالت کے پیش نظر ان کی اس میں شرکت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509219</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 11:05:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/181014033e2d5d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/181014033e2d5d5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فوجیوں کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے’ٹیسٹو سٹیرون اسکریننگ‘ کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509021/us-military-mandatory-testosterone-screening</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے فوجیوں کی جسمانی صحت اور پیشہ ورانہ استعداد بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کا ہر سال ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کیا جائے گا، جب کہ ضرورت پڑنے پر انہیں علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے ’&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/hegseth-announces-testosterone-screening-us-troops-2026-07-16/?utm_source=Facebook&amp;amp;utm_medium=Social"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt;‘ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کے لیے سالانہ ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے اہلکاروں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جن میں اس اہم ہارمون کی کمی کے باعث صحت اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹ ہیگستھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسمانی طاقت، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی، ذہنی چستی، برداشت اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کے باعث تھکاوٹ، کمزوری، توجہ میں کمی، جسمانی صلاحیت متاثر ہونے اور دیگر طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SecWar/status/2077425458430230838'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SecWar/status/2077425458430230838"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی کے تحت اگر کسی فوجی میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی تشخیص ہوتی ہے تو اسے ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی کی پیش کش کی جائے گی۔ تاہم علاج کروانا لازمی نہیں ہوگا اور اس کا فیصلہ متعلقہ فوجی اپنی رضامندی سے کرے گا۔ 30 سال سے کم عمر اہلکار بھی اگر ضرورت محسوس کریں تو رضاکارانہ طور پر یہ ٹیسٹ کرا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ صحت نے گزشتہ ماہ عمر سے متعلق ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کے شکار افراد کے لیے ہارمون ری پلیسمنٹ تھراپی پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر فوجیوں کے لیے ہارمون تھراپی پر پابندی عائد کرنے والی حکومت اب دوسرے فوجیوں کے لیے اسی نوعیت کے علاج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2077626783093162317'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Reuters/status/2077626783093162317"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ رکن کانگریس سمر لی اور سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے اس فیصلے کو ”جینڈر افارمنگ کیئر“ سے تشبیہ دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا مقصد فوجیوں کی جنگی تیاری، جسمانی استعداد اور مجموعی صحت کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیسٹوسٹیرون کیا ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیسٹوسٹیرون ایک قدرتی ہارمون ہے جو بنیادی طور پر مردوں میں خصیوں اور خواتین میں معمولی مقدار میں بیضہ دانی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی نشوونما، پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی صحت، جسمانی طاقت، توانائی، جنسی صحت اور ذہنی چستی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوغت کے دوران آواز بھاری ہونے، جسم پر بال آنے اور پٹھوں کی افزائش جیسے جسمانی تغیرات بھی اسی ہارمون کی بدولت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ، خاص طور پر 30 سال کے بعد، ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں بتدریج کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ تاہم بعض افراد میں اس کی سطح معمول سے زیادہ کم ہو جائے تو مسلسل تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، پٹھوں کے حجم میں کمی، وزن میں اضافہ، توجہ اور یادداشت متاثر ہونے، ہڈیوں کی کمزوری اور جنسی خواہش میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر طبی معائنے سے ہارمون کی غیر معمولی کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر بعض مریضوں کو ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی تجویز کرتے ہیں، جس کے ذریعے جسم میں ہارمون کی سطح کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین اس علاج کو صرف ضرورت اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی تجویز کرتے ہیں، کیونکہ غیر ضروری یا بے احتیاط استعمال سے دل کی بیماریوں، خون گاڑھا ہونے، جگر کے مسائل اور دیگر مضر اثرات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے امریکی محکمہ دفاع کی نئی پالیسی میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ فوجیوں کو صرف طبی تشخیص کے بعد ہی علاج کی پیش کش کی جائے گی اور اسے قبول کرنا ان کی اپنی مرضی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے فوجیوں کی جسمانی صحت اور پیشہ ورانہ استعداد بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کا ہر سال ٹیسٹوسٹیرون ٹیسٹ کیا جائے گا، جب کہ ضرورت پڑنے پر انہیں علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے ’<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/litigation/hegseth-announces-testosterone-screening-us-troops-2026-07-16/?utm_source=Facebook&amp;utm_medium=Social">رائٹرز</a>‘ کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ 30 سال یا اس سے زائد عمر کے فوجیوں کے لیے سالانہ ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے اہلکاروں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جن میں اس اہم ہارمون کی کمی کے باعث صحت اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پیٹ ہیگستھ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح قدرتی طور پر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسمانی طاقت، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی، ذہنی چستی، برداشت اور مجموعی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کے باعث تھکاوٹ، کمزوری، توجہ میں کمی، جسمانی صلاحیت متاثر ہونے اور دیگر طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SecWar/status/2077425458430230838'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SecWar/status/2077425458430230838"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>نئی پالیسی کے تحت اگر کسی فوجی میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی تشخیص ہوتی ہے تو اسے ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی کی پیش کش کی جائے گی۔ تاہم علاج کروانا لازمی نہیں ہوگا اور اس کا فیصلہ متعلقہ فوجی اپنی رضامندی سے کرے گا۔ 30 سال سے کم عمر اہلکار بھی اگر ضرورت محسوس کریں تو رضاکارانہ طور پر یہ ٹیسٹ کرا سکیں گے۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ صحت نے گزشتہ ماہ عمر سے متعلق ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کے شکار افراد کے لیے ہارمون ری پلیسمنٹ تھراپی پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب اس اعلان پر سیاسی حلقوں میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر فوجیوں کے لیے ہارمون تھراپی پر پابندی عائد کرنے والی حکومت اب دوسرے فوجیوں کے لیے اسی نوعیت کے علاج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/Reuters/status/2077626783093162317'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Reuters/status/2077626783093162317"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ڈیموکریٹ رکن کانگریس سمر لی اور سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے اس فیصلے کو ”جینڈر افارمنگ کیئر“ سے تشبیہ دیتے ہوئے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکی وزیرِ جنگ کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا مقصد فوجیوں کی جنگی تیاری، جسمانی استعداد اور مجموعی صحت کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے سکیں۔</p>
<p><strong>ٹیسٹوسٹیرون کیا ہے؟</strong></p>
<p>ٹیسٹوسٹیرون ایک قدرتی ہارمون ہے جو بنیادی طور پر مردوں میں خصیوں اور خواتین میں معمولی مقدار میں بیضہ دانی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ہارمون جسمانی نشوونما، پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی صحت، جسمانی طاقت، توانائی، جنسی صحت اور ذہنی چستی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔</p>
<p>بلوغت کے دوران آواز بھاری ہونے، جسم پر بال آنے اور پٹھوں کی افزائش جیسے جسمانی تغیرات بھی اسی ہارمون کی بدولت ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ، خاص طور پر 30 سال کے بعد، ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں بتدریج کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ تاہم بعض افراد میں اس کی سطح معمول سے زیادہ کم ہو جائے تو مسلسل تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، پٹھوں کے حجم میں کمی، وزن میں اضافہ، توجہ اور یادداشت متاثر ہونے، ہڈیوں کی کمزوری اور جنسی خواہش میں کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>اگر طبی معائنے سے ہارمون کی غیر معمولی کمی ثابت ہو جائے تو ڈاکٹر بعض مریضوں کو ٹیسٹوسٹیرون ری پلیسمنٹ تھراپی تجویز کرتے ہیں، جس کے ذریعے جسم میں ہارمون کی سطح کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔</p>
<p>تاہم ماہرین اس علاج کو صرف ضرورت اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی تجویز کرتے ہیں، کیونکہ غیر ضروری یا بے احتیاط استعمال سے دل کی بیماریوں، خون گاڑھا ہونے، جگر کے مسائل اور دیگر مضر اثرات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>اسی لیے امریکی محکمہ دفاع کی نئی پالیسی میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ فوجیوں کو صرف طبی تشخیص کے بعد ہی علاج کی پیش کش کی جائے گی اور اسے قبول کرنا ان کی اپنی مرضی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509021</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 17:36:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16172046f1b99e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16172046f1b99e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے امریکی حملے میں شہید 8 شہریوں کی تصاویر جاری کردیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509217/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے ہرمزگان صوبے میں امریکی حملوں میں شہید ہونے والے آٹھ شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں خواتین اور معذور افراد بھی جان سے گئے، جبکہ ایرانی قیادت نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق ہرمزگان صوبے میں امریکی حملوں میں شہید ہونے والے آٹھ شہریوں میں چار خواتین، دو معذور بھائیوں سمیت چار مرد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران حکام کے مطابق یہ افراد مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کا نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بندر خمیر میں شہید ہونے والے تین شہریوں کی تصویر بھی جاری کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تینوں شہری بندر خمیر کے پل سے گزر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2078183136274370678'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/araghchi/status/2078183136274370678"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی نے کہا کہ شہید افراد کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آخری سانس تک وطن کا دفاع کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ہرمزگان میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام اب پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم اور متحد ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2078218515157246275'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2078218515157246275"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اپنے محبوب وطن کے خلاف اس مجرمانہ جارحیت پر اپنے سفاک دشمنوں کو سخت پچھتاوا دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے شہدا کی تصاویر اور بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے ہرمزگان صوبے میں امریکی حملوں میں شہید ہونے والے آٹھ شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں خواتین اور معذور افراد بھی جان سے گئے، جبکہ ایرانی قیادت نے اس واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق ہرمزگان صوبے میں امریکی حملوں میں شہید ہونے والے آٹھ شہریوں میں چار خواتین، دو معذور بھائیوں سمیت چار مرد شامل ہیں۔</p>
<p>ایران حکام کے مطابق یہ افراد مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کا نشانہ بنے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بندر خمیر میں شہید ہونے والے تین شہریوں کی تصویر بھی جاری کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تینوں شہری بندر خمیر کے پل سے گزر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں نشانہ بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/araghchi/status/2078183136274370678'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/araghchi/status/2078183136274370678"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>عباس عراقچی نے کہا کہ شہید افراد کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آخری سانس تک وطن کا دفاع کیا جائے گا۔</p>
<p>دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ہرمزگان میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کیں۔</p>
<p>انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام اب پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم اور متحد ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRIMFA_SPOX/status/2078218515157246275'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IRIMFA_SPOX/status/2078218515157246275"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اپنے محبوب وطن کے خلاف اس مجرمانہ جارحیت پر اپنے سفاک دشمنوں کو سخت پچھتاوا دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔</p>
<p>ایران کی جانب سے شہدا کی تصاویر اور بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509217</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:53:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/180845599fed749.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/180845599fed749.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/Rm3fRkFpClM/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/Rm3fRkFpClM/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=Rm3fRkFpClM"/>
        <media:title>Iran Releases Civilian Victims' Photos | Hormozgan | US-Iran Conflict - Aaj News</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کا امریکی جنگی بحری جہاز پر میزائل داغنے کا دعویٰ، سعودی عرب، کویت اور بحرین پر بھی حملے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509216/iran-claims-firing-missile-at-a-us-warship-also-launches-attacks-on-saudi-arabia-kuwait-and-bahrain</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فورسز نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے متعدد فوجی اور مواصلاتی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے کویت اور سعوی عرب میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ ترین امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی شہر اہواز، وسطی شہر یزد اور تزویراتی لحاظ سے اہم خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسطی شہر یزد میں امریکی میزائل گرنے کے بعد پانچ زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں امریکی میزائلوں نے بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی راکٹوں نے جاسک کاؤنٹی کے ساحلی گاؤں بونجی کی بندرگاہ پر لگے پانی کے پمپوں کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے کئی دیہاتوں کو پینے کے پانی کی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے بندر عباس سے رودان جانے والی اہم ترین شاہراہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو بڑے پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس اہم سفری اور تجارتی راستے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایران کے صوبہ لورستان کے شہر خرم آباد میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے داغے گئے میزائلوں کے گرنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق امریکی فوج نے خارگ جزیرے کے قریب کھڑے ایک خالی ایرانی آئل ٹینکر ’بیلما این آئی 22‘ پر دو دنوں میں دوسری بار حملہ کیا ہے، اس ٹینکر کو دو روز قبل بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران پر کارروائیوں کا نیا دور امریکی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع کیا گیا جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2078293429830775271?s=20'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2078293429830775271?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی مہم کے دوران گزشتہ تین دنوں میں چار تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا جبکہ ایک مشکوک جہاز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق، اس وقت خطے میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی انتہائی جارحانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے اور خلیجی خطے میں موجود امریکی اتحادیوں پر حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی بحریہ نے بحرِ ہند کے شمالی حصے میں موجود ایک امریکی جنگی جہاز پر زمین سے سمندر میں مار کرنے والا کروز میزائل داغ دیا، جس کے بعد امریکی جہاز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی مہم کے دوران ان کے میزائلوں نے اردن میں موجود امریکی لڑاکا طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کی صبح ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردن کی فوج نے واضح کیا کہ یہ کارروائی مملکت کی خودمختاری کی حفاظت اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھی، اور ان میزائلوں کے گرنے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ رائل انجینئرز کی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے کے کام میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ہی ایران نے کویت میں موجود امریکی فوجی کیمپوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509042"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویتی فوج کے مطابق ایران نے اپنے حملوں میں شہری تنصیبات خصوصاً بجلی بنانے اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے اسٹیشن کو نشانہ بنایا جس سے بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس کو نقصان پہنچا اور وہاں آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ڈرون اور میزائل حملوں میں کویتی فوج کے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کویتی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فضا میں ہی ایران کے کئی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ بحرین میں بھی امریکی ڈرون ڈپو کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے امریکا کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے اگلے دو روز تک اسی طرح جاری رہے تو ایران اپنے دفاع سے نکل کر مکمل طور پر انتہائی جارحانہ کارروائیوں کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی فوج اب میزائلوں اور ڈرون حملوں کی پے در پے لہروں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ یا مفاہمتی یادداشت اب عملاً ختم ہو چکی ہے کیونکہ امریکا نے لبنان، آبنائے ہرمز اور ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکا پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف جنگ کی ڈبل پالیسی اپنا رکھی ہے اور اس نے عارضی جنگ بندی کے وقت کو صرف ایران کی ناکہ بندی مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے میں سویلین انفرا اسٹرکچر یعنی عام شہریوں کے استعمال کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پلوں اور بجلی گھروں پر ہونے والے ان حملوں پر اقوامِ متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”سیکرٹری جنرل ایران اور پورے خطے میں سویلین انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہرے طور پر فکرمند ہیں۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس شدید لڑائی اور کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک چار فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل اندرونی طور پر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع نے بھی احتیاط کے طور پر الخرج اور ینبع کے علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا جسے بعد میں ہٹا لیا گیا، تاہم اب تک سعودی عرب میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فورسز نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے متعدد فوجی اور مواصلاتی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے کویت اور سعوی عرب میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ ترین امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی شہر اہواز، وسطی شہر یزد اور تزویراتی لحاظ سے اہم خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>وسطی شہر یزد میں امریکی میزائل گرنے کے بعد پانچ زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔</p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں امریکی میزائلوں نے بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی راکٹوں نے جاسک کاؤنٹی کے ساحلی گاؤں بونجی کی بندرگاہ پر لگے پانی کے پمپوں کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے کئی دیہاتوں کو پینے کے پانی کی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔</p>
<p>ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے بندر عباس سے رودان جانے والی اہم ترین شاہراہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو بڑے پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس اہم سفری اور تجارتی راستے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایران کے صوبہ لورستان کے شہر خرم آباد میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے داغے گئے میزائلوں کے گرنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق امریکی فوج نے خارگ جزیرے کے قریب کھڑے ایک خالی ایرانی آئل ٹینکر ’بیلما این آئی 22‘ پر دو دنوں میں دوسری بار حملہ کیا ہے، اس ٹینکر کو دو روز قبل بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران پر کارروائیوں کا نیا دور امریکی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع کیا گیا جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا استعمال کیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2078293429830775271?s=20'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2078293429830775271?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی مہم کے دوران گزشتہ تین دنوں میں چار تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا جبکہ ایک مشکوک جہاز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔</p>
<p>سینٹ کام کے مطابق، اس وقت خطے میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ ہیں۔</p>
<p>امریکا کے ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی انتہائی جارحانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے اور خلیجی خطے میں موجود امریکی اتحادیوں پر حملے کیے ہیں۔</p>
<p>ایرانی بحریہ نے بحرِ ہند کے شمالی حصے میں موجود ایک امریکی جنگی جہاز پر زمین سے سمندر میں مار کرنے والا کروز میزائل داغ دیا، جس کے بعد امریکی جہاز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔</p>
<p>ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی مہم کے دوران ان کے میزائلوں نے اردن میں موجود امریکی لڑاکا طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>دوسری طرف اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کی صبح ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔</p>
<p>اردن کی فوج نے واضح کیا کہ یہ کارروائی مملکت کی خودمختاری کی حفاظت اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھی، اور ان میزائلوں کے گرنے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ رائل انجینئرز کی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے کے کام میں مصروف ہیں۔</p>
<p>اس کے ساتھ ہی ایران نے کویت میں موجود امریکی فوجی کیمپوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509042"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کویتی فوج کے مطابق ایران نے اپنے حملوں میں شہری تنصیبات خصوصاً بجلی بنانے اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے اسٹیشن کو نشانہ بنایا جس سے بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس کو نقصان پہنچا اور وہاں آگ لگ گئی۔</p>
<p>ان ڈرون اور میزائل حملوں میں کویتی فوج کے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کویتی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فضا میں ہی ایران کے کئی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ بحرین میں بھی امریکی ڈرون ڈپو کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔</p>
<p>ان بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے امریکا کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے اگلے دو روز تک اسی طرح جاری رہے تو ایران اپنے دفاع سے نکل کر مکمل طور پر انتہائی جارحانہ کارروائیوں کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی فوج اب میزائلوں اور ڈرون حملوں کی پے در پے لہروں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔“</p>
<p>محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ یا مفاہمتی یادداشت اب عملاً ختم ہو چکی ہے کیونکہ امریکا نے لبنان، آبنائے ہرمز اور ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے امریکا پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف جنگ کی ڈبل پالیسی اپنا رکھی ہے اور اس نے عارضی جنگ بندی کے وقت کو صرف ایران کی ناکہ بندی مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا۔</p>
<p>خطے میں سویلین انفرا اسٹرکچر یعنی عام شہریوں کے استعمال کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پلوں اور بجلی گھروں پر ہونے والے ان حملوں پر اقوامِ متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”سیکرٹری جنرل ایران اور پورے خطے میں سویلین انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہرے طور پر فکرمند ہیں۔“</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس شدید لڑائی اور کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک چار فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل اندرونی طور پر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔</p>
<p>سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع نے بھی احتیاط کے طور پر الخرج اور ینبع کے علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا جسے بعد میں ہٹا لیا گیا، تاہم اب تک سعودی عرب میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509216</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 09:08:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/180853405e053dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/180853405e053dd.webp"/>
        <media:title>علامتی تصویر</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیئر اسٹارمر کی جگہ لینے والے برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم 'کنگ آف دی نارتھ' کون ہیں؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509155/andy-burnham-becomes-labour-leader-will-replace-keir-starmer-as-pm</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا قائد منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد وہ پیر کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ مسلسل تین مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر رہنے والے اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ملک کے نظر انداز علاقوں کو بااختیار بنانے اور ریفارم یو کے پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی سیاست میں حالیہ دہائی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی حامل رہی ہے۔ اس عرصے میں ملک میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں۔ جمعے کے روز لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو نیا سربراہ مقرر کرلیا ہے۔ یوں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اینڈی برنہم 10 سال میں 7 ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم اس سے پہلے بھی دو مرتبہ لیبر پارٹی کی قیادت کا انتخاب لڑچکے ہیں تاہم انہیں دونوں مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس شکست کے بعد وہ لندن کی سیاست چھوڑ کر واپس مانچسٹر منتقل ہوگئے تھے تاہم یہی فیصلہ ان کے سیاسی عروج کا سبب بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں اختیارات کی تقسیم کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے پارلیمانی نظام میں عام طور پر حکمران جماعت کا سربراہ ہی ملک کا وزیراعظم بنتا ہے۔ برطانوی عوام براہِ راست وزیراعظم کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی طرح اراکینِ پارلیمنٹ (ایم پیز) کو منتخب کرتے ہیں۔ جس پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہوتی ہے، اس کا سربراہ ہی وزیراعظم قرار پاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز سینٹرل لندن میں منعقد ہونے والی لیبر پارٹی کی خصوصی کانفرنس میں پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرپرسن شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے بلامقابلہ پارٹی سربراہ منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق کسی بھی امیدوار کو پارٹی قیادت کا الیکشن لڑنے کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم 80 ارکان (ایم پیز) کی تائید یا نامزدگی حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم کو ہاؤس آف کامنز میں موجود پارٹی کے 403 ارکان میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ 94 فیصد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے مقابل کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ لیبر پارٹی سے وابستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈ یونینز اور پارٹی کی مختلف برانچز نے بھی باضابطہ طور پر اینڈی برنہم کے نام کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر اسٹارمر 5 جولائی 2024 کو برطانیہ کے وزیراعظم بنے تھے۔ انہوں نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ایک تاریخی اور بھاری اکثریت سے جتوایا تھا۔ تاہم دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد 22 جون کو انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506710/7-prime-ministers-in-10-years-story-behind-britains-successive-resignations'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں مئی میں ہونے والے کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہی ان کے استعفے کی بڑی وجہ بنی تھی اور لیبر پارٹی کے اندر ہی کیئر اسٹارمر کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی تھی۔ کئی اہم وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے واضح اختلافات کی وجہ سے کیئر اسٹارمر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کو شاہی محل (بکنگھم پیلس) میں کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے فوراً بعد اینڈی برنہم کنگ چارلس سے ملاقات کریں گے، جہاں برطانوی روایت کے مطابق بادشاہ انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دیں گے اور وہ باقاعدہ طور پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) کا چارج سنبھال لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;56 سالہ اینڈی برنہم کا سیاسی سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے تجربے اور عوام سے براہِ راست رابطے کی صلاحیت کی بدولت ریفارم یو کے پارٹی کا مؤثر مقابلہ کرکے ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 2001 سے 2017 تک ویسٹ مِنسٹر میں رکنِ پارلیمنٹ رہے اور اس دوران ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن دونوں کی کابینہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ وزیرِ صحت بھی رہے تاہم لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے دو مرتبہ انتخاب میں شکست کو تکلیف دہ تجربہ قرار دینے کے بعد وہ مرکزی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وہ اپنے آبائی علاقے مانچسٹر کی سیاست میں فعال ہوئے اور پھر مسلسل 3 مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوتے رہے۔ وہ مجموعی طور پر 9 سال اس عہدے پر فائز رہے اور جون 2026 میں پارلیمنٹ کا رکن (ایم پی) منتخب ہونے کے بعد انہوں نے قانوناً میئر کا عہدہ چھوڑ دیا تاکہ وہ ملک کا وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی قیادت میں مانچسٹر کی معیشت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ اینڈی برنہم متوسط طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے پورے برطانیہ میں مقبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومت تمام بجٹ اور ترقیاتی فنڈز لندن (جنوب) پر خرچ کرتی ہے اور شمالی انگلینڈ یعنی مانچسٹر، لیورپول، لیڈز وغیرہ کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم نے بطور میئر ہمیشہ لندن کی اس اجارہ داری کو چیلنج کرتے رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ، صحت اور روزگار کے شعبوں میں شمالی علاقوں کے لیے اربوں پاؤنڈز کے فنڈز حاصل کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;فلسطین کے معاملے پر بھی اینڈی برنہم کا مؤقف کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں انتہائی سخت اور واضح رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں غزہ جنگ پر لیبر پارٹی کے سابقہ مؤقف پر معافی مانگی اور پارٹی کے مؤقف کو غلط قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے وقت جب کیئر اسٹارمر جنگ بندی کے خلاف تھے، اس وقت بھی اینڈی برنہم نے پارٹی قیادت کے مؤقف کے خلاف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے بھی مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/politics/2026/jul/09/andy-burnham-labour-didnt-get-it-right-stance-gaza-war"&gt;دی گارجین&lt;/a&gt; کو ایک انٹرویو میں انہوں نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کو آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ نیتن یاہو حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visegrad24/status/2077496173061910836'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/visegrad24/status/2077496173061910836"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اینڈی برنہم ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب برطانیہ میں عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اینڈی برنہم کی ایک بڑی طاقت ان کی ابلاغی صلاحیت ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں عوام سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو زیادہ واضح انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ ان کی حکومت اب لندن کے بجائے ملک کے دیگر پسماندہ حصوں کو معاشی طاقت بنانے اور عوامی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا قائد منتخب کر لیا ہے، جس کے بعد وہ پیر کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ مسلسل تین مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر رہنے والے اینڈی برنہم نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ملک کے نظر انداز علاقوں کو بااختیار بنانے اور ریفارم یو کے پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانیہ کی سیاست میں حالیہ دہائی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کی حامل رہی ہے۔ اس عرصے میں ملک میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں۔ جمعے کے روز لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو نیا سربراہ مقرر کرلیا ہے۔ یوں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اینڈی برنہم 10 سال میں 7 ویں وزیراعظم بن جائیں گے۔</p>
<p>اینڈی برنہم اس سے پہلے بھی دو مرتبہ لیبر پارٹی کی قیادت کا انتخاب لڑچکے ہیں تاہم انہیں دونوں مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس شکست کے بعد وہ لندن کی سیاست چھوڑ کر واپس مانچسٹر منتقل ہوگئے تھے تاہم یہی فیصلہ ان کے سیاسی عروج کا سبب بنا۔</p>
<p>لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے نئے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالیں گے۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں اختیارات کی تقسیم کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ کے پارلیمانی نظام میں عام طور پر حکمران جماعت کا سربراہ ہی ملک کا وزیراعظم بنتا ہے۔ برطانوی عوام براہِ راست وزیراعظم کو ووٹ نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی طرح اراکینِ پارلیمنٹ (ایم پیز) کو منتخب کرتے ہیں۔ جس پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت ہوتی ہے، اس کا سربراہ ہی وزیراعظم قرار پاتا ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز سینٹرل لندن میں منعقد ہونے والی لیبر پارٹی کی خصوصی کانفرنس میں پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرپرسن شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے بلامقابلہ پارٹی سربراہ منتخب ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SkyNews/status/2078077101341634748/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>لیبر پارٹی کے قوانین کے مطابق کسی بھی امیدوار کو پارٹی قیادت کا الیکشن لڑنے کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم 80 ارکان (ایم پیز) کی تائید یا نامزدگی حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔</p>
<p>اینڈی برنہم کو ہاؤس آف کامنز میں موجود پارٹی کے 403 ارکان میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ 94 فیصد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے ان کے مقابل کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ لیبر پارٹی سے وابستہ برطانیہ کی بڑی ٹریڈ یونینز اور پارٹی کی مختلف برانچز نے بھی باضابطہ طور پر اینڈی برنہم کے نام کی منظوری دی۔</p>
<p>کیئر اسٹارمر 5 جولائی 2024 کو برطانیہ کے وزیراعظم بنے تھے۔ انہوں نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ایک تاریخی اور بھاری اکثریت سے جتوایا تھا۔ تاہم دو سال سے بھی کم عرصے کے بعد 22 جون کو انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506710/7-prime-ministers-in-10-years-story-behind-britains-successive-resignations'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506710"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>برطانیہ میں مئی میں ہونے والے کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہی ان کے استعفے کی بڑی وجہ بنی تھی اور لیبر پارٹی کے اندر ہی کیئر اسٹارمر کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی تھی۔ کئی اہم وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کے واضح اختلافات کی وجہ سے کیئر اسٹارمر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔</p>
<p>لیبر پارٹی کا انتخاب مکمل ہونے کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ موجودہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر پیر کو شاہی محل (بکنگھم پیلس) میں کنگ چارلس سوم کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔</p>
<p>ان کے فوراً بعد اینڈی برنہم کنگ چارلس سے ملاقات کریں گے، جہاں برطانوی روایت کے مطابق بادشاہ انہیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دیں گے اور وہ باقاعدہ طور پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم ہاؤس) کا چارج سنبھال لیں گے۔</p>
<p>56 سالہ اینڈی برنہم کا سیاسی سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اپنے تجربے اور عوام سے براہِ راست رابطے کی صلاحیت کی بدولت ریفارم یو کے پارٹی کا مؤثر مقابلہ کرکے ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>وہ 2001 سے 2017 تک ویسٹ مِنسٹر میں رکنِ پارلیمنٹ رہے اور اس دوران ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن دونوں کی کابینہ میں مختلف ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ وزیرِ صحت بھی رہے تاہم لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے دو مرتبہ انتخاب میں شکست کو تکلیف دہ تجربہ قرار دینے کے بعد وہ مرکزی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔</p>
<p>بعد ازاں وہ اپنے آبائی علاقے مانچسٹر کی سیاست میں فعال ہوئے اور پھر مسلسل 3 مرتبہ گریٹر مانچسٹر کے میئر منتخب ہوتے رہے۔ وہ مجموعی طور پر 9 سال اس عہدے پر فائز رہے اور جون 2026 میں پارلیمنٹ کا رکن (ایم پی) منتخب ہونے کے بعد انہوں نے قانوناً میئر کا عہدہ چھوڑ دیا تاکہ وہ ملک کا وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔</p>
<p>ان کی قیادت میں مانچسٹر کی معیشت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی۔ اینڈی برنہم متوسط طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے پورے برطانیہ میں مقبول ہیں۔</p>
<p>برطانیہ میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومت تمام بجٹ اور ترقیاتی فنڈز لندن (جنوب) پر خرچ کرتی ہے اور شمالی انگلینڈ یعنی مانچسٹر، لیورپول، لیڈز وغیرہ کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اینڈی برنہم نے بطور میئر ہمیشہ لندن کی اس اجارہ داری کو چیلنج کرتے رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ، صحت اور روزگار کے شعبوں میں شمالی علاقوں کے لیے اربوں پاؤنڈز کے فنڈز حاصل کرتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ بھی کہا جاتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BBCBreaking/status/2078077922397565263/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>فلسطین کے معاملے پر بھی اینڈی برنہم کا مؤقف کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں انتہائی سخت اور واضح رہا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں غزہ جنگ پر لیبر پارٹی کے سابقہ مؤقف پر معافی مانگی اور پارٹی کے مؤقف کو غلط قرار دیا۔</p>
<p>اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے وقت جب کیئر اسٹارمر جنگ بندی کے خلاف تھے، اس وقت بھی اینڈی برنہم نے پارٹی قیادت کے مؤقف کے خلاف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>اینڈی برنہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے بھی مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.theguardian.com/politics/2026/jul/09/andy-burnham-labour-didnt-get-it-right-stance-gaza-war">دی گارجین</a> کو ایک انٹرویو میں انہوں نے نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں کو آزاد فلسطینی ریاست کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ نیتن یاہو حکومت پر دباؤ بڑھائیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/visegrad24/status/2077496173061910836'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/visegrad24/status/2077496173061910836"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اینڈی برنہم ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب برطانیہ میں عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اینڈی برنہم کی ایک بڑی طاقت ان کی ابلاغی صلاحیت ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کیئر اسٹارمر کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں عوام سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو زیادہ واضح انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اینڈی برنہم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ ان کی حکومت اب لندن کے بجائے ملک کے دیگر پسماندہ حصوں کو معاشی طاقت بنانے اور عوامی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509155</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 18:23:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/17180518d25bb67.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/17180518d25bb67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی خلائی ایجنسی کے 100 سے زائد سائنس دان مستعفی، وجہ کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508955/india-isro-space-mission-space-research-gaganyaan-indian-scientists</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو کے سو سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے اچانک استعفوں نے پریشانی کی صورتِ حال پیدا کردی ہے، جس کے بعد حکومت کو مجبوراً، استعفے منظور کرنے کے قوانین کو سخت کرنا پڑا ہے۔ اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملازمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30335487'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335487"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا۔ نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460395'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد صرف لوگوں کو روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم منصوبوں کا کام اچانک متاثر نہ ہو۔ اگر کوئی ملازم جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ماہرین کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30417797'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30417797"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اسرو میں مجموعی طور پر 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور100 افراد  کا استعفیٰ بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن اصل تشویش ان سائنس دانوں کے پاس موجود برسوں کا وہ تجربہ ہے جو انہوں نے پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کر کے حاصل کیا ہے۔ نئے لوگوں کو بھرتی کرنا تو آسان ہے لیکن ان کی جگہ ایسے ماہرین لانا انتہائی مشکل ہے جو حساس منصوبوں کی باریکیوں سے واقف ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانوں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو کے سو سے زائد تجربہ کار سائنس دانوں کے اچانک استعفوں نے پریشانی کی صورتِ حال پیدا کردی ہے، جس کے بعد حکومت کو مجبوراً، استعفے منظور کرنے کے قوانین کو سخت کرنا پڑا ہے۔ اس اچانک فیصلے اور سائنس دانوں کے جانے کی سب سے بڑی وجہ نجی شعبے یعنی پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے ملنے والی پرکشش مراعات اور کام کا شدید دباؤ ہے۔</strong></p>
<p>حالیہ برسوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں کئی پرائیویٹ کمپنیاں اور نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئے ہیں جو ان تجربہ کار سائنس دانوں کو سرکاری ملازمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تنخواہیں، بہتر عہدے اور جدید سہولیات پیش کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30335487'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30335487"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری بڑی وجہ گگن یان اور چندریان جیسے بڑے اور حساس ملکی مشنز کا شدید دباؤ ہے، جہاں دن رات کام کرنے کی وجہ سے بہت سے سائنس دان ذہنی سکون اور ذاتی زندگی کو وقت دینے کے لیے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں۔</p>
<p>اس صورتِ حال کے پیش نظر بھارتی محکمہ خلائی امور نے اب استعفوں کے قواعد کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ کوئی بھی سائنس دان اب آسانی سے نوکری نہیں چھوڑ سکے گا۔ نئے قانون کے تحت اب اسرو کے مقامی سینٹرز کے ڈائریکٹرز براہ راست کسی سائنس دان کا استعفیٰ قبول نہیں کر پائیں گے، بلکہ ہر درخواست حتمی منظوری کے لیے براہ راست حکومت کے مرکزی محکمے کو بھیجی جائے گی تاکہ اہم ترین منصوبے ادھورے نہ رہ جائیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30460395'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30460395"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے اس صورتِ حال کو زیادہ تشویشناک قرار نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمین کا آنا جانا ہر ادارے کا حصہ ہوتا ہے اور وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد صرف لوگوں کو روکنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم منصوبوں کا کام اچانک متاثر نہ ہو۔ اگر کوئی ملازم جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرے ماہرین کو ذمہ داری سونپ دی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30417797'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30417797"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ اسرو میں مجموعی طور پر 14 ہزار 600 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں اور100 افراد  کا استعفیٰ بظاہر ایک چھوٹا عدد لگتا ہے، لیکن اصل تشویش ان سائنس دانوں کے پاس موجود برسوں کا وہ تجربہ ہے جو انہوں نے پیچیدہ خلائی مشنز پر کام کر کے حاصل کیا ہے۔ نئے لوگوں کو بھرتی کرنا تو آسان ہے لیکن ان کی جگہ ایسے ماہرین لانا انتہائی مشکل ہے جو حساس منصوبوں کی باریکیوں سے واقف ہوں۔</p>
<p>اسرو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی ایک ہزار سے زائد نئی سائنسی اور تکنیکی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے، تاہم بھارت کے مستقبل کے خلائی عزائم کے لیے پرانے اور تجربہ کار سائنس دانوں کو روکنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508955</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 12:19:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16122956e7a2747.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16122956e7a2747.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی میت کا دیوہیکل بل بورڈ تہران میں آویزاں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509117/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقے انقلاب اسکوائر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر متنازع بل بورڈ آویزاں کیا گیا ہے، جن میں انہیں کھلے تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ بل بورڈز بدھ کے روز شہر کی مختلف شاہراہوں اور عمارتوں پر لگائے گئے، جن پر انگریزی اور فارسی زبان میں نعرے درج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل بورڈز پر ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے جیسے جملے تحریر تھے، جبکہ کچھ دیگر بینرز میں امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کے ساتھ ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور بچوں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ بل بورڈ کے قریب ایک مجسمہ بھی نصب ہے جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی مٹھی کو علامتی طور پر دکھایا گیا ہے، جو ایران کے سخت موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بِل بورڈز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508784/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508784"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیش رو اور والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد بدلہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری بیان ہفتہ 11 جولائی کو جاری کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سابق رہنما کی موت کا بدلہ لیا جائے گا، چاہے ایران کو کسی بھی صورت حال کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی گزشتہ ہفتے ہونے والی تدفین کی تقریبات کے موقع پر سامنے آیا تھا، تاہم نئے رہبر خود اُن تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 جولائی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے امریکی فوج کو ایران کے خلاف ہزاروں میزائل داغنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508287/trump-says-thousands-of-missiles-aimed-at-iran-if-it-tries-to-kill-him'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکی میڈیا، جن میں وال اسٹریٹ جرنل بھی شامل ہے نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جن کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر حالیہ عرصے میں ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جمعرات 9 جولائی کو ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر بعض افراد ایسے بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ہم ’ٹرمپ کو قتل کریں گے‘ جیسے نعرے درج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور امریکا کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر مبصرین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے دارالحکومت تہران کے مرکزی علاقے انقلاب اسکوائر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر متنازع بل بورڈ آویزاں کیا گیا ہے، جن میں انہیں کھلے تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ بل بورڈز بدھ کے روز شہر کی مختلف شاہراہوں اور عمارتوں پر لگائے گئے، جن پر انگریزی اور فارسی زبان میں نعرے درج تھے۔</p>
<p>بل بورڈز پر ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے جیسے جملے تحریر تھے، جبکہ کچھ دیگر بینرز میں امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کے ساتھ ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور بچوں کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ بل بورڈ کے قریب ایک مجسمہ بھی نصب ہے جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی مٹھی کو علامتی طور پر دکھایا گیا ہے، جو ایران کے سخت موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔</p>
<p>یہ بِل بورڈز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508784/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508784"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیش رو اور والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد بدلہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔</p>
<p>آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک تحریری بیان ہفتہ 11 جولائی کو جاری کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سابق رہنما کی موت کا بدلہ لیا جائے گا، چاہے ایران کو کسی بھی صورت حال کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>یہ بیان سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی گزشتہ ہفتے ہونے والی تدفین کی تقریبات کے موقع پر سامنے آیا تھا، تاہم نئے رہبر خود اُن تقریبات میں شریک نہیں ہوئے تھے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 جولائی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر تہران نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے امریکی فوج کو ایران کے خلاف ہزاروں میزائل داغنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508287/trump-says-thousands-of-missiles-aimed-at-iran-if-it-tries-to-kill-him'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508287"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>امریکی میڈیا، جن میں وال اسٹریٹ جرنل بھی شامل ہے نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جن کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر حالیہ عرصے میں ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل جمعرات 9 جولائی کو ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر بعض افراد ایسے بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ہم ’ٹرمپ کو قتل کریں گے‘ جیسے نعرے درج تھے۔</p>
<p>ایران کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور امریکا کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر مبصرین صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509117</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 13:30:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1713201287938ed.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1713201287938ed.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش سے عالمی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف ایران، امریکا یا اسرائیل تک محدود نہیں رہی، بل کہ اس کے اثرات دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو عالمی تجارت، تیل کی ترسیل، بحری جہاز رانی اور توانائی کی منڈیاں شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی معیشت کا ایک بڑا حصہ چند اہم بحری راستوں پر انحصار کرتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں مشرق وسطیٰ سے دنیا بھر تک خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان علاقوں میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بل کہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ یہی راستہ نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا کے درمیان بحری تجارت کو ممکن بناتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل برآمدات سمیت دنیا کے بڑی تجارتی مال بردار جہاز بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/161951429f609f2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/161951429f609f2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جغرافیائی اعتبار سے باب المندب مشرق میں یمن اور مغرب میں افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے، جب کہ اسی راستے سے جہاز نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم اور یورپ تک پہنچتے ہیں۔ اسی محل وقوع کے باعث باب المندب مشرق وسطیٰ، افریقا اور یورپ کے درمیان سمندری تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے عالمی خام تیل کا تقریباً ایک تہائی، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا لگ بھگ پانچواں حصہ اور عالمی تجارت کا تقریباً 20 فی صد گزرتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنی تیل و گیس کی بڑی برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی بحری تجارت کا تقریباً 10 سے 12 فی صد حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، خوراک، صنعتی خام مال، کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا منتقل کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو فوری متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر کے اپنی اہم دفاعی طاقت کا مظاہرہ کیا، جب کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تہران اپنے یمنی اتحادی حوثیوں کے ذریعے باب المندب میں بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اسی خدشے نے عالمی منڈیوں اور شپنگ کمپنیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16192539b06b432.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16192539b06b432.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک دوسرے سے مختلف مقامات پر واقع ہیں، تاہم عالمی توانائی کی ترسیل میں دونوں کی اہمیت تقریباً یکساں سمجھی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، جب کہ باب المندب بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین دونوں گزرگاہوں کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دونوں راستے ایک ہی وقت میں متاثر ہوئے تو دنیا کو ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں نہ صرف خام تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوگی بل کہ خوراک، صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی سپلائی بھی سست پڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508817/were-going-to-knock-out-irans-all-power-plants-president-donald-trump'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 14 جولائی کو ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا اگلے مرحلے میں اس کے بجلی گھروں، پلوں اور بعد ازاں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر فوجی دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک وہ امریکا کی شرائط کے مطابق مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں اپنے یمنی اتحادی حوثیوں تک پیغام پہنچا دیا کہ اگر امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات یا بجلی گھروں کو نشانہ بنایا تو باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرنے سمیت مختلف جوابی آپشنز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ تہران نے حوثیوں کو ممکنہ ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’رائٹرز‘ کے مطابق ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے یمن کے حوثی باغی پہلے بھی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ باب المندب کے ذریعے عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک یا اس کی حمایت کرنے والے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے باعث دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر اور نہر سویز کا راستہ استعمال کرنا محدود کر دیا تھا اور جہاز جنوبی افریقا کے گرد طویل سمندری راستہ اختیار کرنے لگے تھے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف سامان کی ترسیل میں کئی دن کی تاخیر ہوئی بل کہ مال برداری کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتِ حال اس قدر سنگین ہوئی کہ امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جب کہ بین الاقوامی بحری اتحاد نے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے خصوصی مشن بھی تشکیل دیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509033/iran-told-houthis-to-be-ready-for-closing-bab-al-mandeb-if-us-hits-their-power-network'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور حوثی قیادت کے بعض بیانات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حوثی رہنما محمد الفرح نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر حملے جاری رکھے تو باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کو ایک مشترکہ عملی حکمت عملی کے تحت بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز دنیا پر دباؤ ڈالنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، تاہم باب المندب اس کا دوسرا اہم کارڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ لندن کے کنگز کالج سے وابستہ سیکیورٹی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اگر امریکا نے ایران کے حساس فوجی یا بنیادی ڈھانچے پر حملے مزید بڑھائے تو تہران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں کشیدگی پیدا کر کے عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد تجزیہ کار موجودہ صورتِ حال کو براہ راست جنگ کے بجائے بتدریج بڑھتی ہوئی کشیدگی قرار دیتے ہیں، جہاں ہر فریق دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تنازع خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ احمر تک پھیل گیا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ دنیا بھر کی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے سربراہ عبدالعزیز نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں کہا کہ حوثیوں کے پاس باب المندب میں جہاز رانی متاثر کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے، تاہم وہ تہران کی واضح ہدایت کے بغیر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حوثیوں نے عالمی جہاز رانی کو براہ راست نشانہ بنایا تو امریکا اور اس کے اتحادی ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب صرف دو آبی گزرگاہیں نہیں بل کہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگیں ہیں جن پر دنیا کی توانائی، تجارت اور سپلائی چین کا بڑا انحصار ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی مستقل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرتی ہے، اور اگر دونوں راستے بیک وقت متاثر ہوئے تو عالمی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب صرف ایران، امریکا یا اسرائیل تک محدود نہیں رہی، بل کہ اس کے اثرات دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں تک پہنچنے لگے ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو عالمی تجارت، تیل کی ترسیل، بحری جہاز رانی اور توانائی کی منڈیاں شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہیں۔</strong></p>
<p>دنیا کی معیشت کا ایک بڑا حصہ چند اہم بحری راستوں پر انحصار کرتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ دونوں آبی گزرگاہیں مشرق وسطیٰ سے دنیا بھر تک خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ان علاقوں میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہتے بل کہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ یہی راستہ نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا کے درمیان بحری تجارت کو ممکن بناتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل برآمدات سمیت دنیا کے بڑی تجارتی مال بردار جہاز بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔ اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی سپلائی چین فوری طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/161951429f609f2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/161951429f609f2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جغرافیائی اعتبار سے باب المندب مشرق میں یمن اور مغرب میں افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے، جب کہ اسی راستے سے جہاز نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم اور یورپ تک پہنچتے ہیں۔ اسی محل وقوع کے باعث باب المندب مشرق وسطیٰ، افریقا اور یورپ کے درمیان سمندری تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے عالمی خام تیل کا تقریباً ایک تہائی، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا لگ بھگ پانچواں حصہ اور عالمی تجارت کا تقریباً 20 فی صد گزرتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور ایران اپنی تیل و گیس کی بڑی برآمدات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی بحری تجارت کا تقریباً 10 سے 12 فی صد حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے سے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، خوراک، صنعتی خام مال، کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان نہر سویز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور افریقا منتقل کیا جاتا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو فوری متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر کے اپنی اہم دفاعی طاقت کا مظاہرہ کیا، جب کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تہران اپنے یمنی اتحادی حوثیوں کے ذریعے باب المندب میں بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اسی خدشے نے عالمی منڈیوں اور شپنگ کمپنیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16192539b06b432.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2026/07/16192539b06b432.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک دوسرے سے مختلف مقامات پر واقع ہیں، تاہم عالمی توانائی کی ترسیل میں دونوں کی اہمیت تقریباً یکساں سمجھی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتی ہے، جہاں سے دنیا کے سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، جب کہ باب المندب بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے ماہرین دونوں گزرگاہوں کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>اگر دونوں راستے ایک ہی وقت میں متاثر ہوئے تو دنیا کو ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔ ایسی صورت میں نہ صرف خام تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوگی بل کہ خوراک، صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی سپلائی بھی سست پڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508817/were-going-to-knock-out-irans-all-power-plants-president-donald-trump'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508817"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ 14 جولائی کو ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا اگلے مرحلے میں اس کے بجلی گھروں، پلوں اور بعد ازاں توانائی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پر فوجی دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک وہ امریکا کی شرائط کے مطابق مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں اپنے یمنی اتحادی حوثیوں تک پیغام پہنچا دیا کہ اگر امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات یا بجلی گھروں کو نشانہ بنایا تو باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بند کرنے سمیت مختلف جوابی آپشنز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ تہران نے حوثیوں کو ممکنہ ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔</p>
<p>’رائٹرز‘ کے مطابق ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے یمن کے حوثی باغی پہلے بھی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ باب المندب کے ذریعے عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک یا اس کی حمایت کرنے والے جہازوں پر حملے کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان حملوں کے باعث دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بحیرہ احمر اور نہر سویز کا راستہ استعمال کرنا محدود کر دیا تھا اور جہاز جنوبی افریقا کے گرد طویل سمندری راستہ اختیار کرنے لگے تھے۔ اس تبدیلی سے نہ صرف سامان کی ترسیل میں کئی دن کی تاخیر ہوئی بل کہ مال برداری کے اخراجات بھی نمایاں طور پر بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>صورتِ حال اس قدر سنگین ہوئی کہ امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جب کہ بین الاقوامی بحری اتحاد نے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے خصوصی مشن بھی تشکیل دیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509033/iran-told-houthis-to-be-ready-for-closing-bab-al-mandeb-if-us-hits-their-power-network'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ دنوں میں ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور حوثی قیادت کے بعض بیانات نے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حوثی رہنما محمد الفرح نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر حملے جاری رکھے تو باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں کو ایک مشترکہ عملی حکمت عملی کے تحت بند کیا جا سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز دنیا پر دباؤ ڈالنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، تاہم باب المندب اس کا دوسرا اہم کارڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ لندن کے کنگز کالج سے وابستہ سیکیورٹی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اگر امریکا نے ایران کے حساس فوجی یا بنیادی ڈھانچے پر حملے مزید بڑھائے تو تہران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں کشیدگی پیدا کر کے عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد تجزیہ کار موجودہ صورتِ حال کو براہ راست جنگ کے بجائے بتدریج بڑھتی ہوئی کشیدگی قرار دیتے ہیں، جہاں ہر فریق دوسرے پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ تنازع خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ احمر تک پھیل گیا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ دنیا بھر کی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سپلائی چین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے سربراہ عبدالعزیز نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں کہا کہ حوثیوں کے پاس باب المندب میں جہاز رانی متاثر کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے، تاہم وہ تہران کی واضح ہدایت کے بغیر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے سے گریز کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حوثیوں نے عالمی جہاز رانی کو براہ راست نشانہ بنایا تو امریکا اور اس کے اتحادی ایک مرتبہ پھر ان کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب صرف دو آبی گزرگاہیں نہیں بل کہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگیں ہیں جن پر دنیا کی توانائی، تجارت اور سپلائی چین کا بڑا انحصار ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی مستقل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرتی ہے، اور اگر دونوں راستے بیک وقت متاثر ہوئے تو عالمی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509042</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 20:24:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید عباس)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16192426434eeb3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16192426434eeb3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509095/iran-oil-prices-brent-crude-america-red-sea-strait-of-hormuz-us-iran-conflict-us-iran-war-2026-wti-crude-global-energy-market</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/energy/oil-rises-intensifying-us-iran-hostilities-threat-red-sea-closure-2026-07-17/"&gt;رائٹرز کے مطابق &lt;/a&gt;عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 70 سینٹ اضافے کے بعد 84.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 81 سینٹ مہنگا ہو کر 79.76 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔ اس اضافے کے ساتھ دونوں اہم عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے تقریباً 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے ہفتے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی دوسرے ہفتے بھی اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر بھی تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کا ایک بڑا مرکز بن جاتا ہے تو عالمی تیل کی مارکیٹ مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق خلیج اور بحیرہ احمر، دونوں علاقوں میں خطرات موجود ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خدشات کا اثر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509091/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت لڑائی میں عارضی وقفہ آیا تھا، تاہم اب امریکا نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی افواج نے بدھ کو ایک ہی دن میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب دو بڑے حملے کیے، جبکہ جمعرات کو بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈہ بھی ان حملوں کی زد میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے جمعہ کی صبح ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل حملہ ناکام بنا دیا۔ قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے دوران اڑنے والے ٹکڑوں سے ایک بچہ زخمی ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509042"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنے حوثی اتحادیوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکا ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کرتا ہے تو وہ بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ تاہم اس حوالے سے ایران یا حوثیوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی محفوظ فراہمی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ چند ہفتوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی توانائی کی منڈی کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی خام تیل کی قیمت 70 ڈالر کے درمیانی حصے میں موجود اہم سطح سے نیچے نہیں آتی  تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور قیمت 80 ڈالر کے درمیانی حصے تک جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/energy/oil-rises-intensifying-us-iran-hostilities-threat-red-sea-closure-2026-07-17/">رائٹرز کے مطابق </a>عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 70 سینٹ اضافے کے بعد 84.93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 81 سینٹ مہنگا ہو کر 79.76 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔ اس اضافے کے ساتھ دونوں اہم عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتوں میں رواں ہفتے تقریباً 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے ہفتے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی دوسرے ہفتے بھی اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر بھی تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کا ایک بڑا مرکز بن جاتا ہے تو عالمی تیل کی مارکیٹ مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق خلیج اور بحیرہ احمر، دونوں علاقوں میں خطرات موجود ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خدشات کا اثر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509091/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت لڑائی میں عارضی وقفہ آیا تھا، تاہم اب امریکا نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>امریکی افواج نے بدھ کو ایک ہی دن میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب دو بڑے حملے کیے، جبکہ جمعرات کو بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملے کیے گئے۔</p>
<p>دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اردن میں واقع ایک امریکی فضائی اڈہ بھی ان حملوں کی زد میں آیا۔</p>
<p>ادھر قطر کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے جمعہ کی صبح ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل حملہ ناکام بنا دیا۔ قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے دوران اڑنے والے ٹکڑوں سے ایک بچہ زخمی ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509042"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رائٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنے حوثی اتحادیوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر امریکا ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کرتا ہے تو وہ بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ تاہم اس حوالے سے ایران یا حوثیوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی محفوظ فراہمی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ چند ہفتوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی توانائی کی منڈی کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی خام تیل کی قیمت 70 ڈالر کے درمیانی حصے میں موجود اہم سطح سے نیچے نہیں آتی  تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور قیمت 80 ڈالر کے درمیانی حصے تک جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509095</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 11:59:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1712014049d3f7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1712014049d3f7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی فوجیوں کی شہادت، ایران کا شام میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509091/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کے کمانڈ سینٹر ”التنف“ کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/irans-irgc-say-they-targeted-us-command-centre-syria-state-media-reports-2026-07-17/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی شہر ایرانشہر میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام کے التنف میں موجود امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو ایرانشہر میں ہمارے فوجیوں کی شہادت کے ردعمل میں نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ دوسری جانب شام کی حکومت اور امریکی فوج کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iribnews_irib/status/2077972795502534927'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/iribnews_irib/status/2077972795502534927"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امریکی فوج نے رواں برس فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے شام، اردن اور عراق کی سرحدوں کے سنگم پر واقع التنف فوجی اڈے سے اپنی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام نے اب تک خطے میں جاری کشیدگی سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے دوران لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان لڑائی ہوئی، جبکہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور راکٹ حملے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شامی صدر احمد الشرع نے مارچ میں لندن میں چیتھم ہاؤس کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھ کہ اگر شام پر کسی بھی فریق کی جانب سے حملہ نہیں کیا جاتا تو شام کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508979/us-approves-potential-arms-deals-for-saudi-arabia-kuwait'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک امریکا کے حملے جاری رہیں گے، اس وقت تک آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی کوئی برآمدات نہیں ہونے دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال امریکی حکام کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جب کہ شامی فوج کے ایک اہلکار نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے التنف اڈے پر حملوں کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے شامی فوجی نے بتایا کہ ہم التنف کے علاقے کو نشانہ بنانے والی کسی بھی ایرانی بمباری کی تردید کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے شام کے علاقے التنف میں امریکی افواج کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں واقع امریکی اسپیشل آپریشنز کے کمانڈ سینٹر ”التنف“ کو نشانہ بنایا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/irans-irgc-say-they-targeted-us-command-centre-syria-state-media-reports-2026-07-17/">رائٹرز</a> نے ایرانی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی شہر ایرانشہر میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام کے التنف میں موجود امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹر کو ایرانشہر میں ہمارے فوجیوں کی شہادت کے ردعمل میں نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ دوسری جانب شام کی حکومت اور امریکی فوج کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/iribnews_irib/status/2077972795502534927'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/iribnews_irib/status/2077972795502534927"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ امریکی فوج نے رواں برس فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے شام، اردن اور عراق کی سرحدوں کے سنگم پر واقع التنف فوجی اڈے سے اپنی واپسی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔</p>
<p>شام نے اب تک خطے میں جاری کشیدگی سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے دوران لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان لڑائی ہوئی، جبکہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور راکٹ حملے کیے۔</p>
<p>شامی صدر احمد الشرع نے مارچ میں لندن میں چیتھم ہاؤس کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھ کہ اگر شام پر کسی بھی فریق کی جانب سے حملہ نہیں کیا جاتا تو شام کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508979/us-approves-potential-arms-deals-for-saudi-arabia-kuwait'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508979"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے۔</p>
<p>سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک امریکا کے حملے جاری رہیں گے، اس وقت تک آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی کوئی برآمدات نہیں ہونے دی جائیں گی۔</p>
<p>تاحال امریکی حکام کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جب کہ شامی فوج کے ایک اہلکار نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے التنف اڈے پر حملوں کی تردید کی ہے۔</p>
<p>نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے شامی فوجی نے بتایا کہ ہم التنف کے علاقے کو نشانہ بنانے والی کسی بھی ایرانی بمباری کی تردید کرتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے شام کے علاقے التنف میں امریکی افواج کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509091</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 17:58:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1714504901dae65.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1714504901dae65.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں 'ڈیٹا ہیکنگ' کا الزام، بیجنگ کی تردید</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509087/china-election-security-president-donald-trump-us-politics-voter-data-white-house-us-election-2020</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/trump-alleges-china-committed-2020-election-fraud-2026-07-17/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ٹرمپ رواں سال کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات میں سیکیورٹی کی کمزوریاں موجود ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/government/three-things-know-about-trumps-election-fraud-allegations-2026-07-17/"&gt;رائٹرز کے مطابق&lt;/a&gt; صدر ٹرمپ ان الزامات کی بنیاد پر کانگریس سے ”سیو امریکہ ایکٹ“ منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے سخت شناختی شرائط نافذ کی جائیں گی اور وفاقی حکومت کو انتخابی معاملات میں زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے کئی بار منظور ہو چکا ہے، تاہم سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے سرورق کے مطابق اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے۔ ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی۔ چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/trump-alleges-china-committed-2020-election-fraud-2026-07-17/">رائٹرز کے مطابق</a> ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ٹرمپ رواں سال کے دوران متعدد مواقع پر یہ دعویٰ دہرا چکے ہیں۔ نہوں نے کہا کہ امریکی انتخابات میں سیکیورٹی کی کمزوریاں موجود ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WhiteHouse/status/2077958024916783570"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/legal/government/three-things-know-about-trumps-election-fraud-allegations-2026-07-17/">رائٹرز کے مطابق</a> صدر ٹرمپ ان الزامات کی بنیاد پر کانگریس سے ”سیو امریکہ ایکٹ“ منظور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت ووٹ ڈالنے کے لیے سخت شناختی شرائط نافذ کی جائیں گی اور وفاقی حکومت کو انتخابی معاملات میں زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ یہ بل ایوانِ نمائندگان سے کئی بار منظور ہو چکا ہے، تاہم سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔</p>
<p>ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔</p>
<p>یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے۔</p>
<p>رپورٹ کے سرورق کے مطابق اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔</p>
<p>تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے۔ ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی۔ چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509087</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 09:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/170906497fef16f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/170906497fef16f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی ایران پر مسلسل چھٹی رات فضائی بمباری، حملوں میں 7 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509088/us-airstrikes-on-iran-sixth-consecutive-night-two-killed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے جواب میں ایران نے بھی جواب کارروائی کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ ایران نے ان حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی طیاروں نے مختلف شہروں میں فوجی اور بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملے میں 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ خورستان پل اور بندر خمیر کے علاقے میں تین پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRNA_1313/status/2077875041258070370'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/IRNA_1313/status/2077875041258070370"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق بندر عباس میں ایک رہائشی عمارت اور مواصلاتی ٹاور بھی حملے کی زد میں آئے، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانشہر ایئرپورٹ پر بھی بمباری کی گئی، جبکہ قشم جزیرے میں کم از کم 8 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بندر عباس کے ریلوے اسٹیشن پر حملے میں مزید 2 افراد زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509042"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران پر حملے سے قبل &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/CENTCOM/status/2077932932400865598"&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ &lt;/a&gt;(سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا، بعد ازاں ایک اور بیان جاری کیا جس میں سینٹ کام نے کہا تھا 9 بج کر چالیس منٹ پر ایران پر حملوں کی نئی لہر مکمل کر لی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل چھٹی رات ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا اور ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر کارروائی کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی فوج کے مطابق بحرین کے سخیر بیس پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے، جن کے بعد مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی میڈیا کے مطابق ایرانی ڈرونز نے امریکی میزائل دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کویتی فوج کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KuwaitArmyGHQ/status/2077898001238970841'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KuwaitArmyGHQ/status/2077898001238970841"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کویتی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں متعدد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے جواب میں ایران نے بھی جواب کارروائی کی ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ ایران نے ان حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی طیاروں نے مختلف شہروں میں فوجی اور بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملے میں 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ خورستان پل اور بندر خمیر کے علاقے میں تین پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/IRNA_1313/status/2077875041258070370'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/IRNA_1313/status/2077875041258070370"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹس کے مطابق بندر عباس میں ایک رہائشی عمارت اور مواصلاتی ٹاور بھی حملے کی زد میں آئے، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔</p>
<p>ایرانشہر ایئرپورٹ پر بھی بمباری کی گئی، جبکہ قشم جزیرے میں کم از کم 8 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بندر عباس کے ریلوے اسٹیشن پر حملے میں مزید 2 افراد زخمی ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509042/bab-el-mandeb-after-strait-of-hormuz-global-impact-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509042"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران پر حملے سے قبل <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://x.com/CENTCOM/status/2077932932400865598">امریکی سینٹرل کمانڈ </a>(سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا، بعد ازاں ایک اور بیان جاری کیا جس میں سینٹ کام نے کہا تھا 9 بج کر چالیس منٹ پر ایران پر حملوں کی نئی لہر مکمل کر لی گئی ہے۔</p>
<p>سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل چھٹی رات ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا اور ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔</p>
<p>ادھر ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات پر کارروائی کا دعویٰ کیا۔</p>
<p>ایرانی فوج کے مطابق بحرین کے سخیر بیس پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں اور جاسوس طیاروں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30509020/jd-vance-says-israeli-lobby-wants-to-derail-us-iran-talks'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30509020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے، جن کے بعد مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔</p>
<p>روسی میڈیا کے مطابق ایرانی ڈرونز نے امریکی میزائل دفاعی نظام کی ایک بیٹری کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
<p>دوسری جانب کویتی فوج کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنا دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/KuwaitArmyGHQ/status/2077898001238970841'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KuwaitArmyGHQ/status/2077898001238970841"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>کویتی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں متعدد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509088</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Jul 2026 11:59:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/17090700d740460.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/17090700d740460.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران اب بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے: وائٹ ہاؤس</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509076/iran-express-that-they-want-to-make-a-deal-with-united-states</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور تہران اب بھی امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ساتھ معاہدہ ختم یا برقرار ہونے سے متعلق سوال پر کیولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں بتایا ہے کہ ایران مسلسل امریکا سے رابطے میں ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077811363414426022/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077811363414426022/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی نے حالیہ حملے اس لیے کیے کیوں کہ ایران نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا تاہم بعد میں اس نے وعدے کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں صرف ان جہازوں پر لاگو ہوں گی جو ایرانی بندرگاہوں کی جانب جا رہے ہوں یا وہاں سے واپس آرہے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق آبنائے ہرمز دیگر بین الاقوامی جہازوں کے لیے کھلی رہے گی اور امریکی بحریہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ غیر ایرانی جہاز محفوظ طریقے سے اس آبی گزرگاہ سے گزر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ چند روز کے دوران کشیدگی میں پھر سے اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد اس تنازع کا مستقل خاتمہ اور دیرپا امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے کے بعد صورت حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور تہران اب بھی امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔</strong></p>
<p>وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>ایران کے ساتھ معاہدہ ختم یا برقرار ہونے سے متعلق سوال پر کیولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں بتایا ہے کہ ایران مسلسل امریکا سے رابطے میں ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077811363414426022/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077811363414426022/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی نے حالیہ حملے اس لیے کیے کیوں کہ ایران نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا تاہم بعد میں اس نے وعدے کی خلاف ورزی کی۔</p>
<p>کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں صرف ان جہازوں پر لاگو ہوں گی جو ایرانی بندرگاہوں کی جانب جا رہے ہوں یا وہاں سے واپس آرہے ہوں گے۔</p>
<p>ان کے مطابق آبنائے ہرمز دیگر بین الاقوامی جہازوں کے لیے کھلی رہے گی اور امریکی بحریہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ غیر ایرانی جہاز محفوظ طریقے سے اس آبی گزرگاہ سے گزر سکیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ چند روز کے دوران کشیدگی میں پھر سے اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد اس تنازع کا مستقل خاتمہ اور دیرپا امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم بعد ازاں دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے کے بعد صورت حال دوبارہ کشیدہ ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509076</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 23:59:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16235728da82f8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="1500" width="2500">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16235728da82f8c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی حکومت کے خلاف بھوک ہڑتال کرنے والے سونم وانگ چُک کی دو دن میں موت کا خدشہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508829/india-delhi-high-court-hunger-strike-sonam-wangchuk-force-feeding-petition-neet-ug-paper-leak-education-reforms</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دہلی ہائی کورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف سماجی کارکن اور ماہرِتعلیم سونم وانگ چُک کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں زبردستی کھانا کھلایا جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/law-news/story/sonam-wangchuk-hunger-strike-petition-delhi-high-court-2948145-2026-07-15"&gt;انڈیا ٹوڈے&lt;/a&gt; کے مطابق سونم وانگ چُک کی بھوک ہڑتال کو اٹھارہ دن ہو چکے ہیں اور ان کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ ان کی یہ احتجاجی تحریک تعلیمی اصلاحات، مبینہ نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے پر کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506097'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506097"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ درخواست سماجی کارکن اور وکیل راکیش کمار سینی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر وانگ چُک نے بھوک ہڑتال جاری رکھی تواگلے دو دنوں میں ان کی جان جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ مرکز اور دہلی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وانگ چُک کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی صحت بچانے کے لیے انہیں ضروری غذائی اجزا فراہم کیے جائیں۔ رپورٹس کے مطابق بھوک ہڑتال کے دوران ان کا وزن اب تک 8.5 کلو گرام کم ہو چکا ہے اور ان کا بلڈ پریشر بھی گر 109/70 تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکز اور دہلی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے اور متعلقہ فریقوں کو جمعرات تک جواب جمع کرانے کو کہا ہے، جس کے بعد اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505610'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سونم وانگ چُک نے اپنی یہ بھوک ہڑتال 28 جون کو جنتر منتر پر شروع کی تھی، جس کی حمایت کاکروچ جنتا پارٹی نامی تنظیم کر رہی ہے۔ تنظیم نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا پہلا دن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں یہ گلہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومت اس پورے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور ان کے ساتھ ایک مجرم جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونم وانگ چک کا نام فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے کردار پھنسوک وانگڈو سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ فلم کے اس کردار کو وانگچک کی زندگی، ان کے تعلیمی نظریات اور لداخ میں کیے گئے کاموں سے جزوی طور پر متاثر قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم فلم کا کردار براہِ راست سونم وانگ چک کی شخصیت نہیں تھا۔ وانگ چک ایک انجینئر اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرنے والے کارکن ہیں، جو لداخ میں اپنی اختراعات اور تعلیمی اقدامات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سونم وانگ چُک نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ وہ کوئی ہیرو یا نئے دور کے گاندھی نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف ایک عام شہری کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دہلی ہائی کورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف سماجی کارکن اور ماہرِتعلیم سونم وانگ چُک کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں زبردستی کھانا کھلایا جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔</strong></p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/india/law-news/story/sonam-wangchuk-hunger-strike-petition-delhi-high-court-2948145-2026-07-15">انڈیا ٹوڈے</a> کے مطابق سونم وانگ چُک کی بھوک ہڑتال کو اٹھارہ دن ہو چکے ہیں اور ان کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ ان کی یہ احتجاجی تحریک تعلیمی اصلاحات، مبینہ نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے پر کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30506097'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30506097"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>یہ درخواست سماجی کارکن اور وکیل راکیش کمار سینی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر وانگ چُک نے بھوک ہڑتال جاری رکھی تواگلے دو دنوں میں ان کی جان جاسکتی ہے۔</p>
<p>درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ مرکز اور دہلی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وانگ چُک کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی صحت بچانے کے لیے انہیں ضروری غذائی اجزا فراہم کیے جائیں۔ رپورٹس کے مطابق بھوک ہڑتال کے دوران ان کا وزن اب تک 8.5 کلو گرام کم ہو چکا ہے اور ان کا بلڈ پریشر بھی گر 109/70 تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکز اور دہلی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے اور متعلقہ فریقوں کو جمعرات تک جواب جمع کرانے کو کہا ہے، جس کے بعد اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30505610'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30505610"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سونم وانگ چُک نے اپنی یہ بھوک ہڑتال 28 جون کو جنتر منتر پر شروع کی تھی، جس کی حمایت کاکروچ جنتا پارٹی نامی تنظیم کر رہی ہے۔ تنظیم نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا پہلا دن ہوگا۔</p>
<p>درخواست میں یہ گلہ بھی کیا گیا ہے کہ حکومت اس پورے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور ان کے ساتھ ایک مجرم جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>سونم وانگ چک کا نام فلم ’3 ایڈیٹس‘ کے کردار پھنسوک وانگڈو سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ فلم کے اس کردار کو وانگچک کی زندگی، ان کے تعلیمی نظریات اور لداخ میں کیے گئے کاموں سے جزوی طور پر متاثر قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم فلم کا کردار براہِ راست سونم وانگ چک کی شخصیت نہیں تھا۔ وانگ چک ایک انجینئر اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرنے والے کارکن ہیں، جو لداخ میں اپنی اختراعات اور تعلیمی اقدامات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سونم وانگ چُک نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ وہ کوئی ہیرو یا نئے دور کے گاندھی نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف ایک عام شہری کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508829</guid>
      <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 12:34:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/15121539d1809d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/15121539d1809d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، ایران کی حوثیوں کو تیار رہنے کی ہدایت</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30509033/iran-told-houthis-to-be-ready-for-closing-bab-al-mandeb-if-us-hits-their-power-network</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثی باغیوں کو پیغام پہنچایا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-tells-houthis-close-red-sea-gateway-if-us-hits-power-network-sources-say-2026-07-16/"&gt;رائٹرز&lt;/a&gt; نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل متاثر کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایرانی قیادت نے اس معاملے پر تفصیلی غور و فکر کے بعد حال ہی میں حوثیوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دنوں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران اگلے ہفتے تک دوبارہ مذاکرات اور نئے معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو ہم ان کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کردیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2077158001329287598/video/1'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RT_com/status/2077158001329287598/video/1"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب رائٹرز نے حوثی گروپ کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب کارروائیوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے پہاڑی علاقوں، الحدیدہ بندرگاہ اور خلیجِ عدن کے قریب میزائل اور ڈرونز تعینات کر دیے ہیں اور کارروائی کے حکم کے انتظار میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باب المندب دنیا کی اہم ترین اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بحری گزرگاہ اس لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے کہ کیوں کہ بحر ہند سے آنے والے تمام بحری جہاز اسی راستے سے گزر کر بحیرہ احمر اور پھر وہاں سے نہرِ سویز کے ذریعے یورپ اور بحیرہ روم تک پہنچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باب المندب کے ایک طرف یمن واقع ہے جب کہ دوسری جانب افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077671708002033906'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077671708002033906"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ کیوں کہ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے دو اہم راستے بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورت حال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر دباؤ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ باب المندب سے متعلق کسی بھی کارروائی کے فیصلے میں مرکزی کردار یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند روز کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے یمنی حکومت کی جانب سے عدن ایئرپورٹ پر حملوں کے جواب میں سعودی عرب پر بھی میزائیل حملے کیے گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ریاض ایران اور حوثیوں کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یمنی گروپ بحیرۂ احمر کے معاملے پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایران حوثیوں کو خطے میں اپنے مزاحمتی محور کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کے بعض مسلح گروہ بھی شامل ہیں تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے خطے میں شروع ہونے والی جنگ میں حوثی گروپ نے اب تک باضابطہ طور پر براہ راست شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران نے مبینہ طور پر یمن کے حوثی باغیوں کو پیغام پہنچایا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ تیل کی ترسیل کے اہم راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-tells-houthis-close-red-sea-gateway-if-us-hits-power-network-sources-say-2026-07-16/">رائٹرز</a> نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل متاثر کرنے کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ ایرانی قیادت نے اس معاملے پر تفصیلی غور و فکر کے بعد حال ہی میں حوثیوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>گزشتہ دنوں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران اگلے ہفتے تک دوبارہ مذاکرات اور نئے معاہدے پر رضامند نہ ہوا تو ہم ان کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کردیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/RT_com/status/2077158001329287598/video/1'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RT_com/status/2077158001329287598/video/1"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب رائٹرز نے حوثی گروپ کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے قریب کارروائیوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے یمن کے پہاڑی علاقوں، الحدیدہ بندرگاہ اور خلیجِ عدن کے قریب میزائل اور ڈرونز تعینات کر دیے ہیں اور کارروائی کے حکم کے انتظار میں ہیں۔</p>
<p>باب المندب دنیا کی اہم ترین اور اسٹریٹجک بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بحری گزرگاہ اس لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے کہ کیوں کہ بحر ہند سے آنے والے تمام بحری جہاز اسی راستے سے گزر کر بحیرہ احمر اور پھر وہاں سے نہرِ سویز کے ذریعے یورپ اور بحیرہ روم تک پہنچتے ہیں۔</p>
<p>باب المندب کے ایک طرف یمن واقع ہے جب کہ دوسری جانب افریقی ممالک جبوتی اور اریٹیریا موجود ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/clashreport/status/2077671708002033906'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/clashreport/status/2077671708002033906"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ کیوں کہ بحیرۂ احمر میں حوثیوں کے حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے دو اہم راستے بیک وقت متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اس صورت حال میں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں راستوں پر دباؤ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ باب المندب سے متعلق کسی بھی کارروائی کے فیصلے میں مرکزی کردار یمن میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب کے نمائندوں کا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508906/who-are-the-houthis-iran-allies-yemen-explainer'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508906"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ چند روز کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے یمنی حکومت کی جانب سے عدن ایئرپورٹ پر حملوں کے جواب میں سعودی عرب پر بھی میزائیل حملے کیے گئے ہیں، جس کے باعث خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رائٹرز نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ریاض ایران اور حوثیوں کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اسے معلوم ہے کہ یمنی گروپ بحیرۂ احمر کے معاملے پر ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ ایران حوثیوں کو خطے میں اپنے مزاحمتی محور کا حصہ سمجھتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کے بعض مسلح گروہ بھی شامل ہیں تاہم امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے خطے میں شروع ہونے والی جنگ میں حوثی گروپ نے اب تک باضابطہ طور پر براہ راست شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30509033</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 20:04:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/16192017b2d87cd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/16192017b2d87cd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے سعودی عرب اور کویت کو اربوں ڈالرز کے بڑے ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30508979/us-approves-potential-arms-deals-for-saudi-arabia-kuwait</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے مشرق وسطیٰ کے دو اہم ممالک، سعودی عرب اور کویت کے لیے اربوں ڈالرز مالیت کے ممکنہ فوجی اور دفاعی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک باضابطہ بیان کے مطابق، ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب کو تقریباً دو ارب ڈالرز کے جدید ہتھیار فراہم کیے جائیں گے جبکہ کویت کے لیے بھی کروڑوں ڈالرز کے دفاعی سپورٹ پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کے لیے منظور کیے جانے والے اس ممکنہ منصوبے کی کل مالیت ایک ارب چھیانوے کروڑ ڈالرز ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508948/iran-says-it-targeted-bases-in-kuwait-and-jordan-after-new-wave-of-us-strikes'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508948"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس دفاعی پیکج میں انتہائی جدید گائیڈڈ میزائل سسٹم شامل ہے۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے دس ہزار گائیڈڈ سسٹم اور اتنی ہی تعداد میں فضا سے زمین پر مار کرنے والے جدید ترین گائیڈنس سسٹم فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کو عام زبان میں گائیڈڈ راکٹ ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے جو اپنے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس بڑے فوجی پیکیج میں صرف میزائل اور گائیڈنس سسٹم ہی شامل نہیں ہیں بلکہ اس میں لانچرز، دھماکہ خیز وار ہیڈز، راکٹوں کو چلانے والے انجن، فیوز، اور اسپیئر پارٹس بھی دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کو درست حالت میں رکھنے کے لیے تکنیکی مدد، فوجیوں کو تربیت دینے کا سامان اور لاجسٹک یعنی مواصلاتی اور سفری خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق اس بڑے منصوبے کو مکمل کرنے والی اہم ترین کمپنی بی اے ای سسٹمز ہوگی جو امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں قائم ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508825/after-hormuz-iran-turns-to-red-sea-gateway-as-new-pressure-point'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امریکا نے اپنے ایک اور اہم اتحادی ملک کویت کے لیے بھی اڑتالیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز مالیت کے دفاعی معاہدے کی منظوری دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت کے لیے منظور کیا گیا یہ معاہدہ بنیادی طور پر ان کے پاس موجود سی-17 نامی بڑے فوجی مال بردار طیاروں کی دیکھ بھال اور ان کی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیکیج کے تحت کویتی فضائیہ کو ان طیاروں کے پرزے، ضروری لوازمات، طیاروں میں جدید تبدیلیاں کرنے کا سامان، مواصلاتی نظام، سافٹ ویئر، تکنیکی دستاویزات اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ کویتی فوج اپنے نقل و حمل کے طیاروں کو ہر وقت تیار حالت میں رکھ سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے مشرق وسطیٰ کے دو اہم ممالک، سعودی عرب اور کویت کے لیے اربوں ڈالرز مالیت کے ممکنہ فوجی اور دفاعی سازوسامان کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک باضابطہ بیان کے مطابق، ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب کو تقریباً دو ارب ڈالرز کے جدید ہتھیار فراہم کیے جائیں گے جبکہ کویت کے لیے بھی کروڑوں ڈالرز کے دفاعی سپورٹ پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔</p>
<p>ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کے لیے منظور کیے جانے والے اس ممکنہ منصوبے کی کل مالیت ایک ارب چھیانوے کروڑ ڈالرز ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508948/iran-says-it-targeted-bases-in-kuwait-and-jordan-after-new-wave-of-us-strikes'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508948"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس دفاعی پیکج میں انتہائی جدید گائیڈڈ میزائل سسٹم شامل ہے۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے دس ہزار گائیڈڈ سسٹم اور اتنی ہی تعداد میں فضا سے زمین پر مار کرنے والے جدید ترین گائیڈنس سسٹم فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>اس نظام کو عام زبان میں گائیڈڈ راکٹ ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے جو اپنے ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس بڑے فوجی پیکیج میں صرف میزائل اور گائیڈنس سسٹم ہی شامل نہیں ہیں بلکہ اس میں لانچرز، دھماکہ خیز وار ہیڈز، راکٹوں کو چلانے والے انجن، فیوز، اور اسپیئر پارٹس بھی دیے جائیں گے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کو درست حالت میں رکھنے کے لیے تکنیکی مدد، فوجیوں کو تربیت دینے کا سامان اور لاجسٹک یعنی مواصلاتی اور سفری خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق اس بڑے منصوبے کو مکمل کرنے والی اہم ترین کمپنی بی اے ای سسٹمز ہوگی جو امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں قائم ہے۔</p>
    <figure class='media  w-1/2 sm:w-1/3  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.aaj.tv/news/30508825/after-hormuz-iran-turns-to-red-sea-gateway-as-new-pressure-point'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30508825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امریکا نے اپنے ایک اور اہم اتحادی ملک کویت کے لیے بھی اڑتالیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز مالیت کے دفاعی معاہدے کی منظوری دی ہے۔</p>
<p>کویت کے لیے منظور کیا گیا یہ معاہدہ بنیادی طور پر ان کے پاس موجود سی-17 نامی بڑے فوجی مال بردار طیاروں کی دیکھ بھال اور ان کی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔</p>
<p>اس پیکیج کے تحت کویتی فضائیہ کو ان طیاروں کے پرزے، ضروری لوازمات، طیاروں میں جدید تبدیلیاں کرنے کا سامان، مواصلاتی نظام، سافٹ ویئر، تکنیکی دستاویزات اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ کویتی فوج اپنے نقل و حمل کے طیاروں کو ہر وقت تیار حالت میں رکھ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30508979</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 12:24:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2026/07/1612215923e1591.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2026/07/1612215923e1591.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
