ڈان لیکس کا اصل کردار کون تھا؟باقاعدہ کارروائی کاآغاز
File Photoاسلام آباد: ڈان لیکس کا اصل کردار کون تھا؟ باقاعدہ کارروائی کا آغاز آج سے کردیا گیا۔ وزیراعظم نے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی رپورٹ کی سفارشات منظور کرلیں۔
معاون خصوصی طارق فاطمی سے قلمدان واپس لینے اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کیخلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دے دیا گیا۔
چھ اکتوبرکوڈان اخبارمیں شائع ہونے والی خبرنے تہلکہ مچا دیا، معاملہ تھا کالعدم تنظیموں سے متعلق خبر لیک کرنے کا ۔ جس میں دعوی کیا گیا کالعدم تنظیموں سے متعلق ملٹری پالیسی سے سول حکومت کونالاں قراردیا گیا ہے۔
تاہم حکومتی حلقوں نے خبرکوبے بنیاد اورپلانٹڈ اسٹوری کہا گیا لیکن کچھ ہی ہفتوں بعد وزیراعظم نوازشریف نے وفاقی وزیراطلاعات پرویزرشید سے قلم دان واپس لیا ، عہدے سے برطرفی پرچوہدری نثارکا کہنا تھاکہ پرویزرشید خبررکوانے میں ناکامی پروزارت واپس لی گئی ہے۔
سات نومبرکو خبرلیکس کی تحقیقات کیلئے جسٹس عامررضا خان ریٹائرڈ کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔
کمیٹی کو خبرکی اشاعات ، پس پردہ مفادات اور ذمہ داران کا تعین کا مینڈیٹ دیا گیا اور ساتھ ساتھ تیس روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ جمع کرنے کی میعاد ختم ہونے پرہرپریس کانفرنس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارسے خبر لیکس کی رپورٹ کا سوال کیا گیا۔
یہ موقف تو چوہدری نثار کا تھا لیکن معاون خصوصی طارق فاطمی اورراؤ تحسین کے خلاف کارروائی کی باتیں فروری سے ہی گردش کرنی شروع ہوگئیں تھی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔