Aaj News

دنیا کی سب سے پر تعیش ٹرین، جس میں ہر قسم کی عیاشی کا سامان پایا جاتا ہے

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2020 08:15am

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کا ذکر آئے تو ایک غریب اور پسماندہ ملک کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے جہاں ایک مطلق العنان حکمران کی حکومت ہے جو پوری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رکھتا ہے۔

لیکن اب اس غریب ملک کے حکمران کم جونگ ان کی ٹرین کے متعلق ایسا انکشاف سامنے آیا ہے کہ سن کر یقین نہ آئے۔

میل آن لائن نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کم جونگ ان ملک کے اندر اور باہر اسی ٹرین پر سفر کرتے تھے جو دنیا کی سب سے پرتعیش ٹرین ہے جس میں ہر طرح کی عیاشی کا سامان موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ٹرین میں ہر طرح کے تازہ کھانے اور عمدہ شراب میسر ہوتی ہے اور ٹرین کے اندر ایک حرم بھی ہے جس میں کم جونگ ان کی "تفریح طبع" کے لیے کئی خوبصورت لڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔

اس حرم کے لیے لڑکیاں خاص طور پر بھرتی کی جاتی تھیں اور ملازمت کے لیے لڑکی کا دراز قد، خوبصورت اور کنواری ہونا لازمی شرائط تھیں۔ ڈاکٹر بھرتی سے پہلے ان لڑکیوں کے کنوار پن کے ٹیسٹ بھی کرتے تھے۔

اس حرم میں موجود لڑکیوں کے دستے کو "Gippeumjo" کہا جاتا ہے اور انہیں فی کس 14 ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 2 لاکھ 82 ہزار روپے) تنخواہ دی جاتی ہے جو شمالی کوریا جیسے ملک میں بہت زیادہ تنخواہ ہے۔

اس ٹرین میں کورل پنک رنگ کے لیدر صوفے رکھے ہوئے ہیں اور ایک جدید کانفرنس روم ہے جو سفید رنگ میں ڈھکا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ٹرین میں کم جونگ ان کا ایک آفس ہے اور سیٹلائٹ ٹی وی کی سہولت بھی میسر ہے۔

اس ٹرین پر بھاری اسلحہ بھی نصب ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اتنی بھاری ہوتی ہے کہ اسے دو انجن بمشکل 37 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کھینچتے ہیں۔

اس ٹرین کی وجہ سے ہی امریکا اور جنوبی کوریا ہمیشہ کم جونگ ان کی موجودگی کی جگہوں سے باخبر رہے کیونکہ ایک طرف اس کا سائز بہت بڑا ہے اور دوسری طرف یہ بہت سست رفتاری سے چلتی ہے چنانچہ خلاء سے اس کی نقل و حرکت کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

دنیا کی اس سب سے لگژری ٹرین کے متعلق بہت کم معلومات دنیا کو پتا ہیں لیکن اب چونکہ کم جونگ ان کی موت کی خبریں آ رہی ہیں، چنانچہ امکان ہے کہ مستقبل قریب میں اس پراسرار ٹرین کے راز بھی دنیا کے سامنے آ جائیں۔

واضح رہے کہ کم جونگ ان کے دل کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد سے امریکی اور جنوبی کورین حکام کے مطابق ان کی حالت تشویشناک تھی۔ چینی ڈاکٹروں کا ایک وفد بھی ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر شمالی کوریا گیا تھا۔ اب مبینہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ کم جونگ ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔

Comments are closed on this story.