Aaj News

گھروں میں عام سبزیاں اُگانے کے آسان طریقے

شائع 21 جون 2020 07:18am

بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک سبق تھا "کوئی چیز بے کار نہیں" وہ پوری کہانی کسی چیز کی ری سائیکلنگ یا دوبارہ استعمال پر مبنی تھی۔

 اس زمانے میں پڑھے اس تصور کا احساس تھا نہ اس حوالے سے کوئی دوسرا علم۔ اس زمانے میں آلودگی اور پلاسٹک کے استعمال کے حوالے سے بھی اتنا شعور نہیں تھا لیکن اب جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو یہ گمان ہوتا ہے کہ ہم نے ایک بہت اہم چیز سیکھی تھی۔

آج وہی سبق آپ لوگوں کے ستھ بھی شیئر کرنا چاہیں گے۔ آج کل کورونا کی وجہ سے ہم کافی پریشانی کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔

کبھی کہا جاتا ہے کہ صورت حال تشویشناک ہے، کبھی قابو میں ہے اور کبھی سنتے ہیں کہ یہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور شہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤن شروع کر دیا جاتا ہے۔

اس نرمی گرمی نے عوام کو بے حال کر دیا ہے، اب تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کیا جائے، مارکیٹ جائیں یا نہیں، ڈریں یا نہیں، سمجھیں یا نہیں۔

ایسے میں گھر کی ضروریات کی چیزیں لینا بھی کسی امتحان سے کم نہیں۔ تو ہم نے سوچا کہ اس کنفیوژن سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈا جائے جو سامنے ہی تھا یعنی اپ سائیکلنگ۔

 اگر گھر میں لائی جانے والی عام سبزیوں کی ہم اپ سائیکلنگ کریں تو کتنے ہی مارکیٹ کے چکروں سے بچ جائیں گے۔

سبزی کے بے کار حصے جو پکانے کے لیے استعمال نہیں ہوتے وہ ہماری غذا کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے چُنی ہیں وہ پانچ سبزیاں جو کہ تمام گھروں میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہوتی ہیں۔

ان میں پیاز، ٹماٹر، آلو، دھنیا اور لیموں شامل ہیں۔

اب کسی بھی بچے یا بڑے کو آدھا کلو ٹماٹر، ایک کلو پیاز، ایک گھٹڑی دھنیا وغیرہ کی لسٹ یاد کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ اب سب کچھ گھر سے ہی دستیاب ہو گا۔

٭ اُگانے کا طریقہ

آپ کو چاہیے ہوں گے شیشے کے چھوٹے جار، پلاسٹک ریپرز، ٹُوتھ پک، لکڑی کی پیٹیاں یا پلانٹر اور کھاد۔

٭ پیاز

پیاز کی جڑ کے علاوہ باقی سارا حصہ کاٹ ڈالیں۔

لکڑی کے کنٹینر کو تین چوتھائی کھاد سے بھر لیں، پھر اس میں پیاز کی جڑ والا حصہ ڈال دیں اور دوبارہ اوپر کھاد ڈال دیں، اس کے بعد اتنا پانی چھڑکیں کہ کھاد گیلی ہو جائے۔

اس کو کسی کھڑکی کے پاس رکھیں تاکہ روزانہ اسے دھوپ ملتی رہے اور جب کھاد خشک ہو جائے تو پانی ڈالتے رہیں۔ آٹھ دس ہفتے میں پیاز تیار ہوں گے۔

٭ ٹماٹر

ایک ٹماٹر لے کر اسے آدھا کریں اور اسے کسی گلاس، جار یا چھوٹے برتن میں کھاد کے اوپر ڈال دیں۔ ٹماٹر کے بیج والا حصہ اوپر کی طرف ہونا چاہیے اور اس کے بعد اوپر سے دوبارہ کھاد ڈال کر اسے ڈھک دیں۔

 اس کے بعد سپرے بوتل سے اس کے اوپر پانی چھڑک دیں۔ اس کو کسی گرم جگہ پر رکھا جا سکتا ہے جیسے فریج کے اوپر یا پھر اے سی کے آؤٹر پر، پانی دو دن چھڑکتے رہیں جب تک پتے نہ نکل آئیں۔

 پھر آپ اسے کسی بڑے برتن میں ڈال سکتے ہیں جب پتے کی لمبائی کم از کم چار انچ تک ہو جائے۔ چار سے چھ ہفتوں میں آپ گھر کے ٹماٹروں سے گھر والوں کو چکن کڑاہی بنا کر کھلا سکتے ہیں۔

٭ آلو

آلو کو دو حصوں میں کاٹ لیں اور کم از کم چوبیس گھنٹے کے لیے خشک ہونے دیں۔ خشک ہو جانے کے بعد برتن میں چھ سے آٹھ انچ تک کی کھاد میں ان کو ڈال دیں تاہم خیال رکھیں کہ آنکھ والی سائیڈ اوپر کی طرف آئے۔

 اوپر سے کھاد ڈال کر اس کے اوپر اتنا پانی ڈالیں کہ کھاد ہلکی سی گیلی ہو جائے۔ تقریباً دس ہفتوں میں جب آلو کا پودا پھوٹ پڑے گا تو سمجھ جائیں کہ آلو تیار ہے اور گرما گرم آلو پکوڑوں کی دعوت بھی۔

٭ لیموں

 ایک دو لیموں لے کر انہیں بیچ میں سے کاٹ کر بہت ہی باریکی اور نرمی سے ان کے بیج کو انگلیوں سے نکال کر اچھی طرح سے دھو لیں تاکہ ان پر کوئی ذرات باقی نہ رہیں۔

 دھلے ہوئے بیجوں کو جار میں ڈالیں جس میں تین چوتھائی کھاد ڈالی گئی ہو، پھر اوپر سے کھاد ڈال کر بیجوں کو ڈھانپ دیں۔

 اوپر پانی چھڑک کر پلاسٹک لپیٹ دیں جبکہ ہوا کے لیے ٹُوتھ پک سے دو سے تین سوراخ کر دیں اور کسی گرم جگہ جیسے فریج کے اوپر رکھ دیں۔ یہ پھل دینے میں باقی پودوں سے زیادہ وقت لے گا لیکن اداس مت ہوئیے کیونکہ لیموں کا اچار اور اس کے فوائد آپ سے کچھ ہی مہینے دور ہیں۔

٭ دھنیا

ایسے مشکل سے ہی کچھ کھانے ہیں جن پر دھنیا نہیں ڈالا جاتا یا جن پر دھنیا ڈالنے سے ان کا ذائقہ دوبالا نہیں ہو جاتا۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس ذائقے اور خوشبو کے سورس کو آپ اپنے گھر میں جگہ دے سکتے ہیں اور پھر جتنی چاہیں چٹنیاں بھی بنائیں۔ بس دھنیے کا ایک تنکا لے کر اسے تین انچ کاٹ لیں اور اسے ایک گلاس جار میں پانی ڈال کر رکھ دیں اور جب اس کی جڑیں نکل آئیں اور دو انچ تک بڑی ہو جائیں تو اسے کھاد والے پودے میں منتقل کر دیں اور بس تین سے چار ہفتے میں اس کی لذت کا لطف اٹھائیں۔

Comments are closed on this story.