Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 285,191 531
DEATHS 6,112 15
Sindh 124,127 Cases
Punjab 94,586 Cases
Balochistan 11,921 Cases
Islamabad 15,281 Cases
KP 34,755 Cases

چین کے خنزیروں میں پائے جانے والا ایک نیا فلو وائرس انسانوں کے لیے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر "وبائی وائرس" بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس وائرس کو باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔

ایک امریکی جرنل پروسیڈنگس آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی محققین کی ایک ٹیم کو 2011 سے 2018 تک خنزیروں میں انفلوینزا وائرس ملا جو کہ ایچ ون این ون کی "جی فور" سٹرین کا ہے اور جس میں وبا بننے کے تمام عناصر ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خنزیروں کے فارم میں کام کرنے والے افراد کے خون میں بھی اس وائرس کے نشان ملے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس وائرس کے انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ ہیں، خاص طور پر چین کے گنجان آباد علاقوں میں جہاں لوگ فارمز کے قریب رہتے ہیں، جہاں خنزیروں کو ذبح خانوں اور کھانوں کی مارکیٹس میں رکھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کووڈ 19 کی وبا پھیلی ہوئی ہے، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک چمگادڑ کے ذریعے ووہان کی ایک مچھلی منڈی میں انسانوں کے اندر داخل ہوا۔ ووہان کی اس مچھلی منڈی میں یہ وائرس پہلی بار پایا گیا تھا.