Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 324,744 667
DEATHS 6,692 19

کلراچی :سپریم کورٹ میں بل بورڈ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کہاں ہیں میئرکراچی ؟جائیں بھائی اب جان چھوڑیں، لگتا ہے لوکل باڈی اور صوبائی حکومت شہر سے دشمنی نکال رہے ہیں،وزیر اعلی سندھ صرف ہیلی کاپٹر پر دورہ کر کے آجاتے ہیں ہوتا کچھ نہیں ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بل بورڈز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ ان عمارتوں میں رہتے کیسے ہیں جہاں نہ ہوا جاتی نہ روشنی نہ دن کا پتہ چلتا ہےاورنہ رات کا، یہ سب بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی ہے یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کیسے بل بورڈز لگانے کی اجازات دے دی جاتی ہے کہاں ہے حکومت کی رٹ؟ وزیر اعلی سندھ کا حال یہ ہے کہ وہ صرف ہیلی کاپٹر پر دورہ کر کے آجاتے ہیں، ہوتا کچھ نہیں ہے، پورے شہر میں کچرا گندگی ہے ہر طرف تعفن کی صورتحال ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کوئی اس شہر کیلئے کام کرنے والا ہے ، کیا یہاں کہ لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی دشمی نکالی جاتی ہے؟، لگتا ہے لوکل باڈی اور صوبائی حکومت کی اس شہر سے دشمنی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے مزیدکہا مئیر کراچی صاحب بھی شہر سے دشمنی نکال رہے ہیں، لوگوں نے ان کو ووٹ دیا تھا کہ کراچی کیلئے کچھ کریں گےلیکن شہر کا حلیہ بگاڑ دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہاں ہے مئیر کراچی ؟ جس پر مئیر کراچی نشست سے کھڑے ہوگئے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ جاؤ بھائی جب کرنا ہی کچھ نہیں ہے تو اب جان چھوڑو اس شہر کی۔