Aaj TV News

BR100 4,445 Increased By ▲ 25 (0.56%)
BR30 22,731 Increased By ▲ 119 (0.53%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

اگر کسی بھی تعلمیم یافتہ شخص سے پوچھا جائے کہ نظام شمسی کا مرکز کہاں پر ہے تو انتہائی اعتماد سے کہا جائے گا کہ نظام شمسی کا مرکز سورج ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔

نظام شمسی کا مرکز سورج نہیں ہے بلکہ وہ فرضی مقام ہے جو نظام شمسی کا سینٹر آف ماس ہے۔ یعنی وہ فرضی نقطہ جہاں سورج، مشتری، اور تمام دوسرے سیاروں کا مجموعی ماس یعنی effective mass کا مرکز ہے.

سورج سمیت تمام شمسی سیارے اس فرضی مقام کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ لیکن یہ فرضی مقام ساکن نہیں ہے بلکہ اپنی جگہ تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کے گرد سیاروں کی پوزیشن ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ جب زمین، مریخ، مشتری، زحل سورج کے ایک ہی سمت پر ہوں تو یہ مرکز بھی اسی سمت کھسک جائے گا۔

اس کے برعکس جب مختلف سیارے سورج کی مختلف اطراف پر ہوں تو یہ مرکز بھی اسی تناسب سے کسی مختلف جگہ پر ہو گا۔ اگرچہ نظام شمسی کے کل ماس کا 99.8 فیصد ماس سورج میں ہے، لیکن باقی ماندہ ماس میں مشتری کا ماس سب سے زیادہ ہے۔ اس وجہ سے سورج کے جس طرف مشتری ہو گا، نظام شمسی کا مرکز بھی اسی طرف کھسک جائے گا۔

اس آرٹیکل میں دیے گئے لنک میں ایک ویڈیو ہے جس میں نظام شمسی کے مرکز کو دکھایا گیا ہے اور تمام سیاروں اور سورج کی اس فرضی نقطے کے گرد گردش کو دکھایا گیا ہے. یہ فرضی نقطہ اکثر اوقات سورج کے اندر ہی ہوتا ہے لیکن بعض اوقات سورج کی سطح سے باہر بھی ہو سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو دیکھنے سے نظام شمسی کے ڈائنامکس کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔