Aaj TV News

BR100 4,445 Increased By ▲ 25 (0.56%)
BR30 22,731 Increased By ▲ 119 (0.53%)
KSE100 42,505 Increased By ▲ 170 (0.4%)
KSE30 18,046 Increased By ▲ 102 (0.57%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے 103ویب پیجز،78 گروپس،453 انفرادی اکاؤنٹس اور 107 انسٹا گرام اکاؤنٹس پر مشتمل ایک ایسے 'نیٹ ورک' کو معطل کر دیا ہے جو مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

فیس بک کے مطابق انہوں نے ان مشتبہ اکاؤنٹس کی چھان بین کی تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ اکاؤنٹس 'منظم اور غیر مصدقہ رویے' کے مرتکب ہوئے ہیں۔

فیس بک نےاپنی اس رپورٹ کو 'کووآرڈینیٹڈ ان اتھینٹک بیہیوئر' کے عنوان سے شائع کیا ہےیعنی ایک ایسی رپورٹ جو ان اکاؤنٹس کی نشاندہی کرتی ہےجو بڑے منظم طریقے سے چلائے جا رہے ہیں اور عوامی بحث و مباحثے کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فیس بک نے ان اکاؤنٹس اور صفحات سے متعلق معلومات امریکاکی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیٹ آبزرویٹری گروپ (ایس آئی او) کو فراہم کیں تھیں۔

اس گروپ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں سب سے اہم قدر مشترک یہ سامنے آئی کہ معطل کیے جانے والے اکاؤنٹس فیس بک کی پالیسیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 'منظم طریقے سے بڑے پیمانے پر ایسے اکاؤنٹس کو رپورٹ کر رہے تھے جو پاکستان، اسلام، پاکستانی حکومت اور ریاستی ادارے کے خلاف مواد شائع کرتے تھے۔'

ایس آئی او کی جانب سےکی گئی تحقیق سےیہ بھی سامنے آیا ہے کہ معطل کیے جانے والے اکاؤنٹس قادیانیوں سے منسلک اکاؤنٹس کو بھی معطل کرنے کےلئے رپورٹ کرتے اور اس نیٹ ورک کے پیجز اور اکاؤنٹس پر شائع مواد پاکستانی ریاستی ادارے اور حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تعریف سے بھرے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی فیس بک نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 100سے زیادہ ایسے اکاؤنٹس معطل کیےتھے جن کے بارے میں کمپنی کاکہنا تھا وہ بھی 'منظم اور غیرمصدقہ رویے' کے مرتکب پائے گئے تھے۔