Aaj TV News

BR100 4,423 Increased By ▲ 3 (0.08%)
BR30 22,591 Decreased By ▼ -21 (-0.09%)
KSE100 42,420 Increased By ▲ 85 (0.2%)
KSE30 17,966 Increased By ▲ 22 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 288,047 747
DEATHS 6,162 9

امریکی ماہرین نے کلاسک گیم پلئیر "گیم بوائے" سے اس کی بیٹری نکال کر اس میں شمسی توانائی سے بجلی بنانے یا پھر بٹن دبانے سے چارجنگ کی سہولت شامل کردی ہے۔ اس طرح گیم کھیلتے ہوئے بھی گیم بوائے بجلی بناتا رہتا ہے۔

الینوائے میں واقع نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اپنی تخلیق کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ'اس سے بیٹریوں کے بغیر کمپیوٹنگ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ یوں دستی گیموں کو کھیل کے دوران بار بار بند کرنے اور چارج کرنے سے خلاصی مل جائے گی۔'

اس نئے گیمنگ پلیٹ فارم کو "انگیج" کا نام دیا گیا ہے جو ہوبہو ننٹینڈو کے گیم بوائے جیسا ہے لیکن اس کا باضابطہ طور پر کمپنی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے اوپر شمسی سیل لگائے گئے ہیں جبکہ بٹن دبانے کی قوت کو یہ بجلی میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اس پر پرانے ریٹرو گیم بھی کارٹریج کے ذریعے کھیلے جاسکتے ہیں۔

یہ بار بار بجلی کا استعمال بدلتا رہتا ہے اور اسے جھٹکوں سے بچانے کے لیے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ ایک اور دلچسپ پہلو میموری کا بھی ہے جس میں گیم کو محفوظ ( سیو) کئے بغیر اگلے دن اسی جگہ سے شروع کیا جاسکتا ہے، خواہ ماریو کو ہوا میں اچھلتے دوران ہی گیم کو بند کیوں نہ کیا گیا ہو۔

لیکن ہر گیم میں بٹن دبانے کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے۔ اگر مطلع صاف ہو اور اچھی روشنی ہو تو گیم بٹنوں کو کم دبانے سے بھی کام چل جائے گا جبکہ ہر دس سیکنڈ بعد ایک سیکنڈ کا جھٹکا یا وقفہ آسکتا ہے۔ فی الحال اس تناظر میں شطرنج اور ٹیٹرس جیسے گیم ہی کھیلے جاسکتے ہیں، تاہم ایکشن گیم کے لیے بیٹری نصب کرنا ہوگی۔

صرف یہ سوچیئے کہ اس وقت پوری دنیا میں بیٹریاں کتنے بڑے پیمانے پر استعمال ہورہی ہیں اور کس طرح ماحول کا حصہ بن کر اطراف کو آلودہ کررہی ہیں۔

اگرچہ دستی گیموں میں بیٹری کی ضرورت فی الحال تو رہے گی لیکن یہ تجربہ بتاتا ہے کہ بس چند برسوں بعد بیٹری کا تکلف نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔