Aaj TV News

BR100 4,245 Increased By ▲ 14 (0.33%)
BR30 21,400 Increased By ▲ 10 (0.05%)
KSE100 40,854 Increased By ▲ 47 (0.12%)
KSE30 17,177 Increased By ▲ 17 (0.1%)

فیس بک نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ نفرت پر مبنی مواد کے حوالے سے اپنی پالیسی کو جدید تر بناتے ہوئے ایسے کسی بھی مواد پر پابندی عائد کرے گا جو ہولوکاسٹ کی تردید یا اس میں بگاڑ پیدا کرے گا۔

دو سال قبل 2018 میں فیس بک کے چیف ایگزیکٹو، مارک زکربرگ نے ری کوڈ نامی ٹیک ویب سائٹ سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ہولوکاسٹ سے انکار کو سخت ناپسندیدہ سمجھتے ہیں۔ لیکن ان کے نزدیک فیس بک سے ایسے مواد کو نہیں ہٹایا جائے گا۔ تاہم اب دو سال بعد یہ قدم اٹھا لیا گیا ہے۔

یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے زکربرگ نے پیر کے روز فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں آزادی اظہار کا ساتھ دینے اور ہولوکاسٹ سے انکار یا اس کی ہولناکی کو کم کرنے کے درمیان کشمکش میں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈیٹا دیکھا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہود مخالف تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے ان کی سوچ اور ادارے کی نفرت پر مبنی ابلاغ سے متعلق وسیع تر پالیسی میں بتدریج تبدیلی آئی ہے۔

دی ورلڈ جیوش کانگریس اور امیریکن جیوش کمیٹی نے فیس بک کے اس اقدام کو سراہا ہے۔

اپنے ایک بیان میں گروپ کا کہنا تھا کہ ورلڈ جیوش کانگریس کئی برسوں سے مطالبہ کر رہی تھی کہ ہولوکاسٹ سے انکار پر مبنی مواد کو فیس بک اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے۔

اس موسم گرما میں شہری حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپوں نے فیس بک کے اشتہارات سے متعلق بائیکاٹ کا وسیع تر اہتمام کیا تاکہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ نفرت پر مبنی مواد کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ہٹائیں۔