Aaj TV News

BR100 4,131 Increased By ▲ 20 (0.48%)
BR30 20,689 Increased By ▲ 67 (0.32%)
KSE100 39,863 Increased By ▲ 231 (0.58%)
KSE30 16,752 Increased By ▲ 58 (0.35%)

امریکہ کا خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا 2030 تک اپنے عملے کو مریخ پر بھیجے گا۔ جو تین ماہ میں 4 کروڑ میل کا سفر طے کرے گا۔

ناسا کے لیے تیار کردہ نیوکلیئر انجن صرف تین ماہ میں انسانوں کو مریخ تک پہنچا سکتا ہے۔ الٹرا سیف نیو کلئیر ٹیکنالوجی کمپنی کے مطابق ایٹمی پاور سے چلنے والے انجن میں دو راکٹ نصب کیے جائیں گے۔

عام طور پر مریخ پر جانے کے لیے سات ماہ کا وقت لگتا ہے، تاہم نئے نیوکلئیر انجن سے یہ سفر تین ماہ میں ممکن ہو جائیگا۔

کمپنی کے مطابق تیار ہونے کے بعد نیوکلئیر انجن ماضی کی نسبت زیادہ محفوظ اور تیز تر ہوگا۔ اس انجن کی مدد سے مریخ کے علاوہ دیگر سیاروں تک سفر کو بھی تیز بنایا جاسکے گا۔

اس انجن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

اس انجن میں ایک خاص ایندھن استعمال کیا جائیگا، جو کم یورینیم کے ساتھ زیادہ انرجی پیدا کرے گا۔ فرم نے ایندھن کو زیر کونیم کاربائیڈ کے ٹکڑوں میں پیک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جو زیادہ سے زیادہ ایندھن کے ذریعے نقصان پہنچائے بغیر درجہ حرارت کو برداشت کرسکتاہے ۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری ترجیح ہوگی کہ سائنس دان مریخ پر کم سے کم تیس دن گزاریں گے اور یہ وقت ایک یا تین سال تک بڑھایا جاسکتاہے۔