Aaj TV News

BR100 4,231 Decreased By ▼ -22 (-0.51%)
BR30 21,389 Decreased By ▼ -14 (-0.07%)
KSE100 40,807 Decreased By ▼ -224 (-0.55%)
KSE30 17,160 Decreased By ▼ -135 (-0.78%)

آسٹریلیا کے سائنس دان ان دنوں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات پر قابو پانے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہے ہیں تاکہ بادلوں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی بجلی کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی تحلیل کر دیا جائے۔

اس منصوبے کا مقصد جنگلات میں بڑے پیمانے پر بھڑک اٹھنے والی آگ کے واقعات کو رونما ہونے سے روکنا ہے۔

آسٹریلیا سمیت دنیا کے اکثر بڑے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھنے سے ہر سال لاکھوں ایکٹر رقبہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے، جس سے جنگلات کے ساتھ ساتھ شہری املاک اور انسانی جانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنگلات میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے کے زیادہ تر واقعات آسمانی بجلی گرنے سے ہوتے ہیں۔

آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم لیزر کی طاقت ور شعاعیں خارج کرنے والے ایک ایسے آلے کی تیاری پر کام کر رہی ہے، جو آسمانی بجلی کو زمین پر گرنے سے روک سکے گی۔

سائنس دانوں کا نظریہ ہے کہ ایک طاقت ور لیزر بیم کے ذریعے بادلوں میں اس بجلی کی قوت کو زائل کیا جا سکتا ہے جو کڑک اور چمک کے ساتھ زمین پر گرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بادلوں میں زمین پر گرنے کی قوت رکھنے والی بجلی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بارش کے منجمد قطرات طاقت ور برقی چارج رکھنے والے بادل کے کسی ٹکڑے سے ٹکراتے ہیں۔ جس سے ایک طاقت ور سپارک پیدا ہوتا ہے اور آسمانی بجلی کا کوندا زمین پر موجود اس چیز کی جانب لپکتا ہے جس کا اس مقام پر فاصلہ برقی چارج رکھنے والے بادل کے ٹکڑے سے سب سے کم ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے آسمانی بجلی عموماً اونچی جگہوں اور اونچے درختوں پر گرتی ہے۔ جن علاقوں میں بجلی گرنے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں وہاں عمارتوں کی چھتوں پر دھات کا ایک بڑا ٹکڑا نصب کر کے اسے تار کے ذریعے زمین سے ملا دیا جاتا ہے تاکہ آسمانی بجلی عمارت کو نقصان پہنچائے بغیر زمین میں چلی جائے۔

آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے لیزر کے پوائنٹر سے بجلی گرنے کے راستے اور سمت کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور اس سلسلے میں ان کے تجربات کامیاب رہے ہیں۔

سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ کڑکتی بجلی کو گرنے سے پہلے ہی قابو میں کر لیا جائے، کیونکہ گزشتہ برس آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات کا سبب آسمانی بجلی کا گرنا تھا۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ بجلی گرنے کے راستے اور سمت کو، ایک چھوٹے سے لیزر پوائنٹر سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ لیزر بیم سے بادل کے اس ٹکڑے کو شارٹ سرکٹ کر کے بجلی گرنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے جس پر بہت زیادہ چارج اکھٹا ہو گیا ہو۔ اور اسی طرح بجلی گرنے کا سبب بننے والے بارش کے منجمد قطروں کو لیزر بیم کے ذریعے حرارت پہنچا کر بجلی کا راستہ اور سمت تبدیل کی جا سکتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لیبارٹری میں اپنے آلے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

کینبرا میں قائم یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے پروفیسر اینڈرے مائروشنی چنکو اس تحقیق میں شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق کا مقصد ایسے حالات کا کھوج لگانا ہے جہاں ہم آسمانی بجلی کو، جب چاہیں اور جہاں چاہیں پیدا کر سکیں اور اسے اپنے قابو میں رکھ سکیں۔ اب ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ یہ ایک کم خرچ اور مؤثر کام ہے اور ہم اس کے بڑی سطح کے تجربات کریں گے۔​

بڑے پیمانے کے تجربات جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس تحقیق کو نیچر کمیونیکشنز نامی جرنل میں شائع کیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں کینبرا میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، قطر میں ٹیکسس اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا نے حصہ لیا۔

آسٹریلیا کی تاریخ میں جنگلات میں سب سے بڑی آتشزدگی گزشتہ برس اکتوبر میں ہوئی تھی جس کا سبب آسمانی بجلی تھی۔ یہ آگ تقریباً 80 دن تک بھڑکتی رہی اور اس سے ایک ملین ہیکٹر یعنی 20 لاکھ ایکٹر سے زیادہ علاقے میں موجود ہر چیز جل کر راکھ ہو گئی تھی۔