Aaj TV News

BR100 4,231 Decreased By ▼ -22 (-0.51%)
BR30 21,389 Decreased By ▼ -14 (-0.07%)
KSE100 40,807 Decreased By ▼ -224 (-0.55%)
KSE30 17,160 Decreased By ▼ -135 (-0.78%)

رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح ڈیڑھ سے ڈھائی فیصد اور برآمدی حجم 23 ارب ڈالر سے زائد رہے گا، مہنگائی میں اضافے کی شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کورونا سے، تجارتی، پیداواری اور ٹرانسپورٹ کے شعبے متاثر ہوئے۔ تین ماہ میں شرح سود سوا 6 فیصد کم کی، گذشتہ مالی سال سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

مالی سال 2019-20 کے 9 ماہ کے دوران معیشت مستحکم بحالی کی راہ پر چل نکلی تھی تاہم کوویڈ نائنٹین کے نتیجے میں ضروری لاک ڈاؤن کے باعث پیداواری، تجارتی، ریٹیل اور ٹرانسپورٹ سے متعلق سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

گذشتہ مالی سال معاشی ترقی 1952 کے بعد اعشاریہ 4 فیصد رہی، معاشی بہتری کیلئے 3 ماہ میں شرح سود سوا 6 فیصد کم کرنے کے ساتھ کئی اقدامات کئے تاہم اب معیشت کی سمت کورونا سے پہلے کی طرز پر ہے۔

معاشی سرگرمیاں نمایاں طور پر بحال ہوئی ہیں، ویکسین کے حوالے سے خبریں حوصلہ افزا ہیں۔ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح ڈیڑھ سے ڈھائی فیصد اور برآمدی حجم 23 ارب ڈالر سے زائد رہے گا۔

اس کے علاوہ مہنگائی میں اضافے کی شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔