Aaj TV News

BR100 4,856 Decreased By ▼ -10 (-0.2%)
BR30 24,724 Decreased By ▼ -97 (-0.39%)
KSE100 45,868 Decreased By ▼ -116 (-0.25%)
KSE30 19,061 Decreased By ▼ -87 (-0.46%)

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جمبو سائز سے بھی اوپر کے سیارچے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ کائنات انسانوں کے ساتھ کوئی مذاق کرنے جا رہی ہے کیونکہ ایک نہیں بلکہ پانچ سیارچے 2020 میں زمین کے ساتھ ٹکرانے کے لیے خلا سے نیچے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کچھ دنوں تک 2700 فٹ چوڑی خلائی چٹان زمین تک پہنچ سکتی ہے جو کسی بھی قسم کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

اس چٹان کا قطر0.51 کلومیٹر ہے جسے آپ عام اندازے کے مطابق دبئی کے برج خلیفہ جتنی لمبی چوڑی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سیارچہ بظاہر خلا میں گھومتا پھرتا نظر آ رہا ہے جیسے سیر سپاٹے کے موڈ میں ہو اور اس کے حرکت کرنے کی رفتار 90000 کلومیٹر فی گھنٹہ نوٹ کی گئی ہے۔

ناسا کے مطابق یکے بعد دیگرے پانچ چٹانیں 2020 کے آخر میں زمین کی طرف آئیں گی۔ سائنس دان ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے ان سیارچوں کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں کیونکہ ان کے زمین پر پہنچنے کے ساتھ کائنات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔

سیارچوں کی آمد کی رفتار عام گولی کی رفتار سے کئی گنا تیز ہے اور ان کے سائز سے لگتا ہے کہ ایک بڑی بھاری چٹان زمین کی جانب محو سفر ہے۔ ناسا کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ چٹان دبئی کے برج خلیفہ جو کہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہے کے سائز سے بھی بڑا ہے اور یہ رواں برس کے آخر تک زمین پر آ رہے گا۔

اس حوالے سے سائنس دان سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ سیارچوں کی آمد کے بعد کیا حالات وقع پذیر ہوں گے اور کس قسم کی تباہی کا انسان کو منتظر رہنا چاہیے۔