Aaj TV News

BR100 4,856 Decreased By ▼ -10 (-0.2%)
BR30 24,724 Decreased By ▼ -97 (-0.39%)
KSE100 45,868 Decreased By ▼ -116 (-0.25%)
KSE30 19,061 Decreased By ▼ -87 (-0.46%)

لاطینی امریکا میں ایمیزون کے برساتی جنگلات کے کولمبیا میں واقع حصے میں چٹان پر بنائے گئے فن پارے کی 8 میل لمبی دیوار کا انکشاف ہوا ہے۔ اس فن پارے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے 12500 سال قبل بنایا گیا تھا۔

چٹان پر بنائی گئی تصاویر اور نقوش کو برطانیہ اور کولمبیا کی ایک مشترکہ ٹیم نے گذشتہ برس دریافت کیا تھا۔ تاہم اس کے انکشاف کا اعلان محض چند روز قبل کیا گیا ہے۔

آئندہ ہفتے کے روز برطانیہ کا Channel 4 ٹیلی وژن اس دستاویزی فلم کی پہلی قساط نشر کرے گا جس کی عکس بندی دریافت کیے گئے مقام Serrania de la Lindosa پر کی گئی ہے۔ یہ جگہ کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا سے 400 کلو میٹر کی دوری پر ایمیزون کے برساتی جنگلات میں واقع ہے۔

دستاویزی فلم کی دوسری قسط ہفتہ 12 دسمبر کو نشر کی جائے گی۔ اس طرح دنیا آثار قدیمہ کے اس خزانے سے متعارف ہو گی۔

اس دستاویزی فلم کا نام Lost Kingdoms of the Amazon ہے۔ فلم کی پروڈیوسر یمنی شامی نژاد برطانوی خاتون تحقیقات کار "اِيلا الشماحی" ہیں۔ وہ 36 برس قبل برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پیدا ہوئیں۔ ایلا کے والدین یمن سے ہجرت کر کے برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ نسلاً وہ شام سے تعلق رکھتی ہیں۔

ایلا الشماحی نے برطانوی اخبار Observer کو اتوار کے روز بتایا کہ دریافت کیے گئے مقام پر چٹانوں پر بنی ہوئی تصاویر ان شخصیات اور جانوروں کی ہیں جو کولمیبیا میں واقع ایمیزون جنگلات کے حصے میں رہا کرتے تھے۔ ان میں بعض جانوروں کی نسل معدوم ہو چکی ہے۔

ان میں اہم ترین جانور کو سائنس دان mastodon (ہاتھی سے مشابہ ایک جانور جو اب معدوم ہے) کے نام سے جانتے ہیں۔ اس لحیم و شحیم جانور کی نسل 10 سے 11 ہزار سال قبل معدوم ہو چکی ہے۔ اسی طرح چٹان پر بنے خاکوں میں اونٹ سے ملتے جلتے جانور Palaeolama کی بھی تصاویر ہیں۔ یہ بھی طویل عرصہ قبل معدوم ہو چکا ہے۔ ان کے علاوہ مختلف جانوروں کی تصاویر ہیں جن میں گھوڑوں سے ملتے جلتے جانور کے علاوہ مچھلی، کچھوا اور پرندے شامل ہیں۔ اسی طرح رقص کرتے انسانوں کے بھی خاکے موجود ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے مطابق چٹانوں پر یہ فن پارے ایمیزون کے علاقے میں سب سے پہلے پہنچنے والے انسانوں نے بنائے تھے۔ چٹانوں پر یہ فن پارے اور تصاویر تقریباً 12 کلو میٹر طویل ہیں لہٰذا ان کا تحقیقی مطالعہ کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ اسی بنیاد پر دریافت ہونے والے خاکوں کو تاریخ سے قبل کے زمانے کے چٹانوں کے سب سے بڑے فن پاروں کے مجموعے میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اس چٹان کی دریافت کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کو مذکورہ مقام تک پہنچنے کے لیے 4 گھنٹے پیدل چلنا پڑا۔ اس ٹیم کو یورپی تحقیقی کونسل نے تشکیل دیا۔ ٹیم کی قیادت Exeter University میں آثار قدیمہ کے علوم کے پروفیسر اور امیزون کے علاقے کے ماہرJosé Iriarte کر رہے تھے۔

پروفیسر ہوزے کے نزدیک اتنی بلند تصاویر بنانے کے واسطے اس وقت کے لوگوں نے لکڑی کی سیڑھیاں تیار کی ہوں گی۔ تصاویر اور خاکوں میں سرخ رنگ نمایاں ہے۔ جوز کے مطابق بعض تصاویر میں بلند و بالا جانوروں کے اطراف چھوٹے حجم میں انسانوں کو دکھایا گیا ہے۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ لوگ جانوروں کی پرستش کرتے تھے!