Aaj TV News

BR100 4,401 Decreased By ▼ -270 (-5.78%)
BR30 17,494 Decreased By ▼ -1340 (-7.12%)
KSE100 43,234 Decreased By ▼ -2135 (-4.71%)
KSE30 16,698 Decreased By ▼ -878 (-4.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

کراچی: پاکستان میں سرکاری نِرخ پر اشیاء کی فروخت ایک خواب ہی نظر آتا ہے۔ ایک جانب جہاں منافع خور عوام کو لوٹنے کے درپے رہتے ہیں تو وہیں انتظامیہ کی بھی کچھ غلطیاں ہیں۔

آج ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں کہ مارکیٹ میں گوشت سرکاری نرخوں پر کیوں فروخت نہیں ہورہا اور اس کے پیچھے وہ کونسے عوامل ہیں جو اشیاء کی سرکاری قیمتوں میں فروخت کیلئے رکاوٹ بنتے ہیں۔

آج کراچی میں گوشت کی سرکاری قیمت

بچھیا کا گوشت (بغیر ہڈی والا) سرکاری قیمت 470 روپے فی کلو

بچھیا کا گوشت (ہڈی والا) سرکاری قیمت 380 روپے فی کلو

بیف (بغیر ہڈی والا) سرکاری قیمت 340 روپے فی کلو

بیف (ہڈی والا) سرکاری قیمت 300 روپے فی کلو

بکرے کا گوشت سرکاری قیمت 740 روپے فی کلو

اس کے برعکس بازار میں بغیر ہڈی والے گوشت کی قیمت 640 جبکہ ہڈی والے گوشت کی قیمت 540 روپے دیکھنے کو ملی۔ اس کے علاوہ بکرے کے گوشت کی قیمت بھی 1000 روپے سے 1200 کے آس پاس دیکھنے کو ملی۔

اوپر آپ نے سرکاری اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والے ریٹس کے درمیان واضح فرق ملاحظہ کیا لیکن ہم یہاں آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ شیخ القریش سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن کراچی، سندھ کے مطابق گزشتہ 4 سال سے گوشت کے نرخوں میں سرکاری سطح پر ردوبدل ہی نہیں کیا گیا ہے۔

چیئرمین ایسوسی ایشن شاہد حسین قریشی اور وائس چیئرمین حاجی عارف قریشی کا کہنا ہے کہ بارہا کمشنر کراچی کے نمائندگان سے میٹنگ کے باوجود قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق باضابطہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

چیئرمین ایسوسی ایشن شاہد حسین قریشی
چیئرمین ایسوسی ایشن شاہد حسین قریشی

گزشتہ برس مئی میں کمشنر کراچی نے اپنے نمائندگان اور ایسوسی ایشن کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا کام زمینی حقائق کو جانچ کر قیمت میں ردوبدل سے متعلق فیصلہ کرنا تھا تاہم جب کمیٹی نے جانور کی خرید اور اُس کی کٹائی تک کی لاگت کا اندازہ لگایا تو بیف کا ریٹ تقریباً 350، بچھیا کا گوشت 500 اور مٹن 1060 روپے فی کلو تھوک میں پڑا۔ جس کے بعد شیخ القریش ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا کہ جب اُنہیں تھوک میں بیف 350، بچھیا 500 اور مٹن 1060 پڑتا ہے تو وہ کس طرح اسے سرکاری نرخوں پر فروخت کریں۔

وائس چیئرمین حاجی عارف قریشی
وائس چیئرمین حاجی عارف قریشی

شاہد حسین قریشی نے کہا کہ ایک جانب جہاں گوشت کی دکانوں پر چھاپے مارکر بھاری جرمانے کئے جاتے ہیں وہیں مالز اور دیگر برانڈز پر جب یہی گوشت اس سے دگنی قیمت میں فروخت کیا جاتا ہے تو ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ اسی موقع پر حاجی عارف قریشی نے مطالبہ کیا کہ قصابوں کیخلاف دوہرا معیار ختم کیا جائے اور اس طرح کی کارووائیاں بند کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں ردو بدل سے متعلق بارہا درخواستیں دی گئیں مگر حکام کے سر پر جوں تک نہ رینگی۔

ترجمان القریش ویلفیئر ایسوسی ایشن معین قریشی نے حکومت سندھ، کمشنر کراچی اور وزیراعظم پاکستان سے گزارش کی ہے کہ اس معاملے کو سرکاری سطح پر حل کروایا جائے تاکہ اس پیشے سے وابستہ لوگوں پر جرمانے عائد کرکے ان کا معاشی قتل بند کیا ہوسکے۔