Aaj TV News

BR100 4,936 Decreased By ▼ -23 (-0.46%)
BR30 25,403 Decreased By ▼ -331 (-1.28%)
KSE100 45,865 Decreased By ▼ -101 (-0.22%)
KSE30 19,173 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

سعودی عرب کے مغربی شہر ابہا کے ہوائی اڈے پر نجی کمپنی کے مسافر طیارے کو ڈرون کے ذریعے میزائل کا نشانہ بنایا گیا، اب تک کی اطلاعات کے مطابق حملہ حوثی باغیوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔

ریاض سے عرب میڈیا کے مطابق ڈرون حملے کے باعث ایئرپورٹ پر کھڑے کمرشل طیارے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم آگ پر جلد قابو پالیا گیا، عرب میڈیا نے مزید بتایا کہ یہ کمرشل طیارہ نجی ائیرلائن کی ملکیت تھا۔

ادھر عرب عسکری اتحاد کے ترجمان نے اس حادثے کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ کمرشل طیارے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ترجمان عسکری اتحاد نے کہا کہ شہری دفاع نے طیارے میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ حوثیوں کا ابہا ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ ناقابل برداشت ہے۔

پاکستان نے بھی ایران نواز حوثی دہشت گردوں کے ابہا ہوائی اڈے پر سرحد پار سے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اس امر کا اظہار اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قسم کے حملے سعودی عرب اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے حوثی دہشت گردوں کے سعودی عرب پر حملوں کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی سکیورٹی اور علاقائی سالمیت کو کسی بھی قسم کے خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس نے بدھ کے روز یمن میں سرگرم حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے ابھا ائر پورٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ پریس سیکرٹری جین ساکی نے میڈیا کے نمائندوں کے سامنے ایران کی پروردہ ملیشیا کو یمن میں جنگ کو طوالت دینے پر ہدف تنقید بنایا۔

ان کا کہنا تھا 'کہ ہم ابھا میں سعودی عرب کے سویلین ہوائی اڈے پر حوثیوں کی جانب سے آج بروز بدھ کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب خصوصی ایلچی لینڈر کنگ خطے کے اپنے پہلے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔'

العربیہ کی نامہ نگار کے سوال کے جواب میں جین ساکی کا کہنا تھا کہ 'ایسا لگتا ہے حوثی سعودی عرب بشمول سویلین شہریوں پر آئے روز حملوں کے ذریعے یمن کی جنگ کو طول دینے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔'

وائٹ ہاؤس کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ 'امریکا اپنی سفارت تعلقات اور خطے میں دوسرے ہم خیال اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر مذکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی کوشش جاری رکھے گا۔'

امریکا کے علاوہ دہشت گردانہ اور افسوسناک واقعہ پر مصر، اردن، یمن اور بحرین کی جانب سے بھرپور مذمت کی گئی ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کےجنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے جانے پر مصر اس حملے کی مذمت کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ائیرپورٹ پر کھڑےہوائی جہاز کو آگ لگ گئی تھی۔

مصر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کی ان مجرمانہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے میں مصر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی دہشت گرد کارروائیوں سے مملکت کی سلامتی، استحکام اور سعودی شہریوں کے ساتھ غیر ملکی رہائشیوں کی حفاظت کو بھی خطرہ ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر العریانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابہا ائیر پورٹ پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے سے مختلف قومیتوں کے ہزاروں شہری مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ معمر العریانی نے مزید کہا کہ یہ حملہ مکمل جنگی جرائم کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ حوثی ملیشیا کے ذریعہ ایرانی ہتھیاروں اور ماہرین کے ذریعہ کئے گئے دہشت گردانہ حملوں کی توسیع ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے حملوں سے شہری رہائشی علاقوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے بنیادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے ایران کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

اردن کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ائیرپورٹ پر کھڑے جہاز کو نشانہ بنا ئے جانے کے واقعہ نے بے گناہ شہری مسافروں کی جان کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردن اس طرح کی "بزدلانہ دہشت گردی کی کارروائیوں" کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ بحرین نے اس حملے کو بین الاقوامی انسانیت سوز قانون کی صریحا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔