Aaj TV News

BR100 4,849 Decreased By ▼ -3 (-0.06%)
BR30 25,752 Increased By ▲ 81 (0.31%)
KSE100 45,086 Decreased By ▼ -100 (-0.22%)
KSE30 18,473 Decreased By ▼ -12 (-0.06%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

بھارت میں ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران 22 سیکیورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے فورسز کو باغیوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن شروع کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

خیال رہے کہ ہفتے کو ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بجاپور میں ماؤ نواز باغیوں کے خلاف آپریشن کے دوران 22 سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے تھے جس پر بھارت میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

پیر کو بھارتی کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ وہ ماؤ نواز باغیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں۔

اس فیصلے کا اعلان امت شاہ نے ہلاک ہونے والے سیکیورٹی اہل کاروں کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد ہونے والے اعلٰی سطحی اجلاس میں کیا۔

اجلاس میں ریاستی سیکیورٹی فورسز کے حکام نے شرکت کی اور ریاست کی مجموعی سیکیورٹی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں بھارت کے سیکریٹری داخلہ اجے بھالا ،انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اروند کمار اور دوسرے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے امت شاہ نے بتایا کہ پورا ملک ان سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کی قربانیوں کو یاد رکھے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ باغیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کن موڑ آ گیا ہے۔ لہذٰا اب کسی کو نہیں بخشا جائے گا اور جیت آخر کار بھارت کی ہو گی۔

امت شاہ کا کہنا تھا کہ ہفتے کا واقعہ باغیوں کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے کیوں کہ سیکیورٹی فورسز نے باغیوں کے علاقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بجاپور میں ماؤ نواز باغوں کے خلاف آپریشن مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق آپریشن میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے کوبرا یونٹ، ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈز اور اسپیشل ٹاسک فورس کے اہل کاروں نے حصہ لیا تھا لیکن باغیوں نے گھات لگا کر حملہ کیا جس سے 22 سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہوئے۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں سیکیورٹی اہل کاروں کی ہلاکت کو انٹیلی جنس ناکامی قرار دے رہی ہیں۔

کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہل کاروں کی ہلاکت پر سیکیورٹی حکام کو جواب دہ ٹھیرانا چاہیے۔

تاہم 'سی آر پی ایف' کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ نے اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے کہ یہ انٹیلی جنس کی ناکامی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی اس مشترکہ کارروائی میں 25 سے 30 باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔