Aaj TV News

BR100 4,795 Decreased By ▼ -30 (-0.62%)
BR30 24,960 Decreased By ▼ -100 (-0.4%)
KSE100 44,707 Decreased By ▼ -223 (-0.5%)
KSE30 18,276 Decreased By ▼ -99 (-0.54%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 800,452 4825
DEATHS 17,187 70
Sindh 278,545 Cases
Punjab 290,788 Cases
Balochistan 21,743 Cases
Islamabad 73,450 Cases
KP 114,077 Cases

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں اسلام دشمنی میں ہوچکے ہیں، فرانس میں مسلمانوں پر اب مزید نئی پابندی عائد کر دی گئی ہیں، اسلام مخالف بل کے منظر عام پر آنے کے بعد پوری دنیا میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی حکومت کا ایک اور اسلام دشمن اقدام سامنے آگیا ہے، تعلیمی اداروں میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی ہے، فرانسیسی سینیٹ نے اسلام علیحدگی بل میں ترمیم کرتے ہوئے یونیورسٹیوں میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

رواں سال 16 فروری کو سینیٹ سے مشاورت کے بعد فرانسیسی قومی اسمبلی نے اس بل کو منظور کیا تھا، فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بل کے منظر عام پر آنے کے بعد پوری دنیا میں اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ اس بل کا بنیادی مقصد مسلمانوں سے ان کی مذہبی آزادی چھیننا ہے۔

یاد رہے مسلمان کے خلاف نئے قوانین کا مقصد فرانس کی بنیادی اقدار آزادی اور مساوات کے اصولوں کو تقویت دیتے ہوئے جبری شادی کو روکنا ہے جس کی مسلم تنظیموں نے مخالفت کی ہے، فرانس میں انتہا پسندی کی روک تھام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف سخت پابندیوں اور کڑی نگرانی کے لیے قانون منظور کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے فرانسیسی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے ایسے مجوزہ قوانین کی مخالفت کی گئی تھی جب کہ دنیا کے 13 ممالک سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی 36 غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں اس قانون سازی اور فرانس میں مسلمان مخالف اقدامات کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔