Aaj TV News

BR100 4,846 Increased By ▲ 46 (0.97%)
BR30 24,817 Increased By ▲ 124 (0.5%)
KSE100 45,175 Increased By ▲ 231 (0.51%)
KSE30 18,470 Increased By ▲ 87 (0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 845,833 4198
DEATHS 18,537 108
Sindh 288,680 Cases
Punjab 312,522 Cases
Balochistan 22,900 Cases
Islamabad 77,065 Cases
KP 121,728 Cases

فاطمہ ثنا شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ بالی ووڈ میں کاسٹنگ کاؤچ کلچر موجود ہے اور مجھے بھی اس سے گزرنا پڑا ہے۔

بالی ووڈ میں فلم دنگل سے اپنی پہچان بنانے والی اداکارہ فاطمہ ثنا شیخ اب تک فلم ٹھگس آف ہندوستان، سورج پر منگل بھاری، لڈو میں اداکاری کے جوہر دکھاچکی ہیں جب کہ رواں سال ان کی فلم "بھوت پولیس" ریلیز ہوگی جس میں وہ سیف علی خان اور علی فضل کے مقابل کردار ادا کریں گے۔

ایک انٹریو میں اداکارہ نے انکشاف کیا کہ ایک بار وہ جم سے واپس آرہی تھیں کہ ایک اوباش نوجوان نے ان کا پیچھا کرنا شروع کیا، لیکن جب انہیں محسوس ہوا تو وہ رک گئیں تو وہ گھورنے لگا، جس پر اداکارہ نے پوچھا کیوں گھور رہے ہو، لڑکے نے جواب دیا گھورتا رہوں گا اور پھر مجھے چہرے پر چھوا تو میں نے سے تھپڑ مار دیا۔

فاطمہ ثنا شیخ نے مزید بتایا کہ اوباش نوجوان نے مجھے تھپڑ کے جواب میں مکا دے مارا جس پر میں نے فوراً اپنے والد کو بلایا جو میرے پیچھے پیچھے ہی چلتے ہوئے آ رہے تھے، انہوں نے فوراً اس لڑکے کا پیچھا کیا اور چلاتے ہوئے کہا کون تھا جس نے میری بیٹی کو ہاتھ لگایا لیکن میرے والد کے قریب آئے تو وہ لڑکا گلیوں میں بھاگ گیا۔

اداکارہ نے اپنے فلمی کیریئر پر بات کرتے ہوئے کہا بالی ووڈ میں کاسٹنگ کاؤچ کلچر موجود ہے اور مجھے بھی اس سے گزرنا پڑا ہے، میرے کیریئر میں ایسا وقت بھی آیا جب مجھے کہا گیا کہ فلم چاہیے تو جسمانی تعلق قائم کرنا ہوگا جب کہ متعدد بار میرے پراجیکٹس دیگر اداکاراؤں کو دیے گئے ہیں۔