Aaj TV News

BR100 4,858 Decreased By ▼ -103 (-2.07%)
BR30 23,865 Decreased By ▼ -558 (-2.28%)
KSE100 46,009 Decreased By ▼ -519 (-1.12%)
KSE30 18,179 Decreased By ▼ -243 (-1.32%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,230,238 2,333
DEATHS 27,374 47
Sindh 452,267 Cases
Punjab 424,701 Cases
Balochistan 32,796 Cases
Islamabad 104,472 Cases
KP 171,874 Cases

وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاہے کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے ذریعے معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کیے جائیں گے ،وزارت خزانہ میں اصلاحات یونٹ قائم کیا گیا ہے ،ستمبرسے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ شروع کیا جائیگا،اب وزراءکو ہر مہینے اپنی ٹیم کیساتھ وزیراعظم کے سامنے کھڑا ہونا پڑیگا، چارٹرآف اکانومی ہونا چاہیے۔

وفاقی وزرا شوکت ترین،خسرو بختیار، فخر امام اورمشیر تجارت عبدالزراق داؤد سمیت اکنامک ایڈوائزری کونسل کے اراکین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہاکہ مالی امور کی بہتری کیلئے 1972 کے بعد کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی،اقتصادی مشاورتی کونسل کے ذریعے معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جائینگے، وزارت خزانہ اصلاحات یونٹ قائم کیا گیا ہے، ستمبر کے مہینے سے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ شروع کیا جائیگا، ہماری معیشت مثبت سمت میں جارہی ہے،حکمت عملی کے بغیر معیشت کو بہتر نہیں کیا جاسکتا،اب وزراءکو ہر مہینے اپنی ٹیم کیساتھ وزیر اعظم کے سامنے کھڑا ہونا پڑیگا، اب ہم آرگنائز طریقے سے آگے بڑھیں گے،سب کی پرفارمنس ریویوہوگی،ہم نے ایک حرکت تو کی، حرکت میں برکت ہے، میرے سے پچھلوں کا نہ پوچھیں کہ کیا ہوا کیا نہیں ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پلانز بنے ہیں تمام سیکٹرز کے، ہم نے اب اس پر عملدآمد کرنا ہے، چارٹر آف اکانومی ہونا چاہیے ،اپوزیشن جماعتیں آگے بڑھتی ہیں تو خان صاحب نے کہا ہے کہ آپ بھی بات کریں ،آئی ایم ایف پروگرام کو آگے لیکر چلیں گے آئی ایم۔ایف پروگرام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

مشیر ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کہاکہ گروتھ معیشت میں ہوتی ہے جس میں کچھ لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے،پائیدار اور بہترین ترقی وہی ہوتی جس میں فائدہ تمام لوگوں کو ہو، عام شہری کی بنیادی ضروریات کیلئے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہے، سرمایہ کاری بلحاظ جی ڈی پی کو 20 فیصد تک لیکر جانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبے میں بہتری کیلئے کسانوں کو سہولیات دینی ہونگیں، پاکستان میں آسان کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوا اس کو کم کرنا ہے،برآمدات میں نئے آئٹمز کو شامل کرنے اور روایتی برآمدات میں ویلیو ایڈیشن کریں گے۔

وزیر قومی تحفظ خوراک فخر امام نے کہاکہ ملک میں گزشتہ 20 سالوں میں زراعت کی نمو میں کمی آئی،گزشتہ سال کورونا کے باوجود زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہوا، گندم کی پیداوار میں 22 لاکھ ٹن سے زائد کا اضافہ ہوا،دھان میں 10لاکھ ٹن، مکئی اور کپاس کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا، کپاس کی 10 ملین بیلز کا ہدف ہے جو حاصل کریں گے۔

اس موقعے پر مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہاکہ 38.7 بلین ڈالر ایکسپورٹ کا ہدف ہے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے درآمدات پر قابو پایا جائے،اب میک ان پاکستان ہو رہا ہے، موبائل فون اسوقت ہم درآمد نہیں کر رہے اورمقامی پروڈکشن ہے، ہم نے ٹیرف ریشنلائزیشن کرنی ہے۔