Aaj TV News

BR100 4,668 Increased By ▲ 50 (1.09%)
BR30 20,892 Increased By ▲ 107 (0.52%)
KSE100 44,822 Increased By ▲ 488 (1.1%)
KSE30 17,521 Increased By ▲ 178 (1.03%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,263,664 893
DEATHS 28,252 24
Sindh 465,175 Cases
Punjab 437,572 Cases
Balochistan 33,114 Cases
Islamabad 106,402 Cases
KP 176,650 Cases

گندم کی فی من قیمت میں چار سو روپے اضافہ بھی کاشتکاروں کو ریلیف فراہم نہ کر سکا۔ کھاد، بجلی اور تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے ریلیف کے اقدامات کو ملیا میٹ کر دیا۔

پنجاب حکومت نے گندم کی فی من قیمت چودہ سو سے بڑھا کر اٹھارہ سو روپے مقرر کی۔ لیکن یہ اضافہ کاشتکاروں کی مشکلات کم نہ کر سکا۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی، تیل، کھاد، زرعی ادویات اور مشینری کی قیمتوں میں اضافہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے کئی گنا زیادہ ہے۔

آڑھتیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے منڈیوں میں گندم کی فی من قیمت اکیس روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے گندم کی قیمت تو بڑھائی لیکن زرعی ضروریات کی آؤٹ آف کنٹرول قیمتیں نئے مسائل جنم دے رہی ہیں۔

ایک سال کے دوران ڈی اے پی کھاد کی فی بوری کی قیمت تین ہزار، زرعی مشینری اور ٹریکٹرز کی قیمتوں میں سو فیصد، جبکہ تیل اور بجلی کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔