Aaj TV News

BR100 4,980 Decreased By ▼ -46 (-0.92%)
BR30 24,448 Decreased By ▼ -325 (-1.31%)
KSE100 46,580 Decreased By ▼ -341 (-0.73%)
KSE30 18,463 Decreased By ▼ -195 (-1.04%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

گندم کی فی من قیمت میں چار سو روپے اضافہ بھی کاشتکاروں کو ریلیف فراہم نہ کر سکا۔ کھاد، بجلی اور تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے ریلیف کے اقدامات کو ملیا میٹ کر دیا۔

پنجاب حکومت نے گندم کی فی من قیمت چودہ سو سے بڑھا کر اٹھارہ سو روپے مقرر کی۔ لیکن یہ اضافہ کاشتکاروں کی مشکلات کم نہ کر سکا۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی، تیل، کھاد، زرعی ادویات اور مشینری کی قیمتوں میں اضافہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے کئی گنا زیادہ ہے۔

آڑھتیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے منڈیوں میں گندم کی فی من قیمت اکیس روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے گندم کی قیمت تو بڑھائی لیکن زرعی ضروریات کی آؤٹ آف کنٹرول قیمتیں نئے مسائل جنم دے رہی ہیں۔

ایک سال کے دوران ڈی اے پی کھاد کی فی بوری کی قیمت تین ہزار، زرعی مشینری اور ٹریکٹرز کی قیمتوں میں سو فیصد، جبکہ تیل اور بجلی کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔