Aaj TV News

BR100 4,979 Decreased By ▼ -47 (-0.94%)
BR30 24,460 Decreased By ▼ -313 (-1.26%)
KSE100 46,636 Decreased By ▼ -284 (-0.61%)
KSE30 18,480 Decreased By ▼ -178 (-0.95%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

حکومت نے غریب عوام کو آٹا تینتالیس روپے فی کلو دینے کا اعلان کردیا۔

معاون خصوصی فوڈ سیکیورٹی جمشید اقبال چیمہ کہتے ہیں حکومت نے گندم کی قیمت انیس سو پچاس روپے فی من مقرر کردی ۔ جس سے عام مارکیٹ میں آٹے کی فی کلو قیمت پچپن روپے ہوجائے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکز اور صوبے گندم اورآٹے کی یکساں قیمت رکھیں گے۔

جمشید چیمہ نے مزید کہا کہ گندم کی قیمت1950روپے فی من مقررکی ہے،اب 20کلوتھیلےکی قیمت1100روپےتک ہوگی۔

دوسری جانب گندم کی فی من قیمت میں چار سو روپے اضافہ بھی کاشتکاروں کو ریلیف فراہم نہ کر سکا۔ کھاد، بجلی اور تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافے نے ریلیف کے اقدامات کو ملیا میٹ کر دیا۔

پنجاب حکومت نے گندم کی فی من قیمت چودہ سو سے بڑھا کر اٹھارہ سو روپے مقرر کی۔ لیکن یہ اضافہ کاشتکاروں کی مشکلات کم نہ کر سکا۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بجلی، تیل، کھاد، زرعی ادویات اور مشینری کی قیمتوں میں اضافہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے کئی گنا زیادہ ہے۔

آڑھتیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناکام پالیسی کی وجہ سے منڈیوں میں گندم کی فی من قیمت اکیس روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے گندم کی قیمت تو بڑھائی لیکن زرعی ضروریات کی آؤٹ آف کنٹرول قیمتیں نئے مسائل جنم دے رہی ہیں۔

ایک سال کے دوران ڈی اے پی کھاد کی فی بوری کی قیمت تین ہزار، زرعی مشینری اور ٹریکٹرز کی قیمتوں میں سو فیصد، جبکہ تیل اور بجلی کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔