Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

وفاقی حکومت نے کھاد مہنگی ہونے کا ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرا دیا ۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیرفخرامام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرخسروبختیارنے کہا کہ سندھ میں یوریا کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے، وفاق کیا کرے، پنجاب میں دو لاکھ سے زائد بوریاں برآمد کرکے نیلام کی گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فرٹیلائزر کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے، سندھ حکومت کی وجہ سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تین سے چار ماہ میں مہنگائی میں کمی آنا شروع ہو گی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جلد نئی فرٹیلائزر پالیسی لا رہے ہیں جس سے ڈی اے پی کی قیمت کم ہو گی۔

خسرو بختیار نے مزید کہا کہ چنیوٹ میں کوئلے کے نئے ذخائرمل رہے ہیں، اپریل میں کامیابی ملے گی۔ ڈی اے پی کی قیمت میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اسے درآمد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کاتعلق عوام سے نہیں مفاد سے ہے،وفاقی وزیرنے کہا کہ سندھ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ اس موقع پر سید فخر امام نے کہا کہ ملک میں گندم کا ذخیرہ موجود ہے ۔ پنجاب اور سندھ میں آٹے کی قیمت میں فرق ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں آٹے کی قیمت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، ڈی اے پی پر کاشتکاروں کو 15 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں ۔