Aaj.tv Logo

عدالتی احکامات پر نسلہ ٹاور مسمار کرنے کا معاملہ تاحال موضوع بحث بنا ہوا ہے اور آپریشن کے تیسرے روز نسلہ ٹاور میدان جنگ بن گیا ۔

بلڈر کی نمائندہ تنظیم۔کی جانب سے روڈ بلاک کوشش پر پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا ،تاہم شیلنگ اور آنسو گیس فائر ہوتے ہی مظاہرین منتشر ہوگئے ۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر نسلہ ٹاور منہدم کرنے کے دوران آپریشن کے تیسرے روز دیکھتے ہی دیکھتے نسلہ ٹاور میدان جنگ بن گیا۔

سنگین صورتحال اس وقت ہوئی جب مظاہرین نے روڈ بلاک کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے مظاہرین کو تگنی کا ناچ ناچایا ، خوب ڈنڈے چلائے اور آنسو گیس بھی فائر کئے ، جس پر تمام مظاہرین رفو چکر ہوگئے۔

اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے معاوضے کے جو احکامات دیئے تاحال اس پرعمل درآمد نہیں ہوا ، ہمارے ساتھ قانون کے محافظ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہے ہیں

کسی بھی نہ خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نسلہ ٹاور کے اطراف تعینات رہی ۔

اس دوران کچھ دیر ٹریفک کے لئے روڈ کو بند بھی رکھا گیا ۔

چیف جسٹس کا کمشنر کراچی کو ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی :چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کو ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،اس سلسلے میں کمشنر کراچی اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کےدوران حافظ نعیم الرحمان نے بات کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے حافظ نعیم الرحمان کی سرزنش کی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مجھے تھوڑا سن لیاجائے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں کوئی سیاسی تقریرکی اجازت نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے حافظ نعیم کوہدایت کی کہ آپ جاکربیٹھ جائیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کمشنرصاحب،بلڈنگ کونیچےسےگرانےکاکیاطریقہ ہے؟ جس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ آج شام سےاوپرسےکام بھی شروع ہوگا۔

جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی سے سوال کیا کہ ماہرین سےمددلی ہےیاخودہی کررہےہیں؟عمارت گرانے کاکام کب مکمل کریں گے؟عمارت گرانے کیلئےایک ہفتہ کا وقت دیا تھا،اس پر کمشنر کراچی نے کہا کہ کوئی ٹائم نہیں دے سکتے ،200لوگ کام کررہے ہیں۔