Aaj.tv Logo

کیا انسان جسم کی خشبو کی بنیاد پر دوستیاں قائم کرتے ہیں؟

03 جولائ 2022
<p>محقق کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسانی تعلقات کا انحصار مکمل طور پر جسم کی خشبو پر ہوتا ہے۔ تصویر: روئٹرز (فائل)</p>

محقق کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسانی تعلقات کا انحصار مکمل طور پر جسم کی خشبو پر ہوتا ہے۔ تصویر: روئٹرز (فائل)

کچھ جانوروں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوسرے انسان یا جانور کو اس کی خشبو سے پرکھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسانوں میں بھی ایک دوسرے سے دوستی قائم کرنے میں جسم کی خشبو کچھ حد تک کردار ادا کرتی ہے۔

ویزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کی اس تحقیق کے مطابق انسانوں میں یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں جن کے جسم کی خشبو سے ان کی ملتی جلتی ہو۔

محققین نے الیکٹرک نوز یا ای نوز نامی ڈیوائس سے بھی اس کا اندازہ لگایا، کہ مکمل طور پر اجنبی افراد بھی ایک دوسرے سے اچھے تعلقات قائم کر سکتے ہیں اگر ان کے جسم کی خشبو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہو۔

عام طور پر یہ بات تو مانی جاتی ہے کہ لوگ ان افراد کو اپنا دوست بنانے کے قائل ہوتے ہیں جو ان کے جیسے دکھتے ہوں یا جن کے ساتھ ان کی اقدار وغیرہ ملتی ہوں۔

تاہم سائنسی جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان زیادہ تر لاشعوری طور پر اپنے آپ کو اور دوسروں کو سونگھ رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے یہ بات ممکن ہے کہ ایک شخص اس انسان کی طرف متوجہ ہو جس کے جسم کی خشبو اس کے جسم کی خشبو سے ملتی جلتی ہو۔

اپنی تحقیق کو ٹیسٹ کرنے کے لیے ویزمین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کی طالب علم انبل ریوربی نے ایسے دو افراد کو چنا جن کا تعلق ایک ہی جنس سے تھا اور جو بہت جلدی غیر رومانوی دوست بن گئے تھے۔

انہوں نے ان دونوں افراد کے جسم کی خشبو کے نمونو اکھٹے کیے۔ اس کے بعد انہوں نے پہلے ای نوز ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے دونوں نوموں کی خشبو کا تعین کیا۔ پھر دیگر افراد کو دونوں خشبو سونگھنے کا کہا۔

دونوں تجربوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان دوستوں کے جسم کی خشبو ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھی۔

یہ بات ممکن ہے کہ جو لوگ آپس میں دوست ہوں ان کے جسم کی خشبو ایک دوسرے سے اس لیے ملتی جلتی ہو کیونکہ وہ ایک ہی طرح کا کھانا کھاتے ہوں یا ان کا طرزِ زندگی ایک جیسا ہو۔

اس کے لیے انبل ریوربی نے مزید تجربے کیے۔

ایک میں تو انہوں نے مکمل طور پر اجنبی افراد کو اکھٹا کیا اور ان کو ایک دوسرے سے بات چیت کیے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ گھلنے ملنے کے لیے کہا۔

جن افراد کی ایک دوسرے سے ملاقات مثبت رہی ان کے بارے میں ای نوز ڈیوائس کی مدد سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کے جسم کی خشبو ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھی۔

محقق کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسانی تعلقات کا انحصار مکمل طور پر جسم کی خشبو پر ہوتا ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ عنصر سماجی تعلقات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔