Aaj News

ملکہ برطانیہ کی صحت سے متعلق شاہی معالجین کا اظہارِ تشویش

ملکہ برطانیہ کے اہل خانہ ان کے پاس بالمورل محل میں جمع ہونے شروع ہوگئے ہیں۔
شائع 08 ستمبر 2022 08:47pm
<p>تصویر: شون گیلپ/گیٹی امیجز</p>

تصویر: شون گیلپ/گیٹی امیجز

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی ناسازیِ طبیعت متعلق خبروں کی گردش کے بعد شاہی محل سے جاری ہونے والے بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ ملکہ برطانیہ کے معالجین ان کی صحت سے متعلق تشویش کا شکار ہیں۔

روئٹرز کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بکنگھم پیلس سے بیان جاری ہوتے ہی ملکہ برطانیہ کے اہل خانہ ان کے پاس بالمورل محل میں جمع ہونے شروع ہوگئے ہیں۔

ملکہ برطانیہ اس وقت لندن کے بکنگھم پیلس کے بجائے اسکاٹ لینڈ کے بالمورل کیسل میں مقیم ہیں۔

چھیانوے سالہ ملکہ الزبتھ برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک حاکم رہنے والی اور اس وقت دنیا کی معمر ترین شاہی حکمران ہیں۔

گزشتہ برس کے آخر میں جاری کردہ بیان میں بکنگھم پیلس نے کہا تھا کہ انہیں وقفے وقفے سے نقل و حرکت میں دشواری کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شاہی محل کے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکہ کے ڈاکٹروں نے ان کی صحت سے متعلق فکر مندی کا اظہار کیا ہے اور انہیں طبی نگہداشت میں رکھنے کی تجویز دی ہے۔

شاہی محل کے حکام کے مطابق ملکہ کے بڑے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ چارلس اپنی اہلیہ کمیلا اور اپنے بڑے بیٹے شہزادہ ولیمز کے ساتھ اسکاٹ لینڈ میں واقع شاہی خاندان کے بالمورل قلعے میں پہنچ چکے ہیں جہاں اس وقت ملکہ مقیم ہیں۔

گزشتہ برس اکتوبر میں ملکہ الزبتھ نے ایک رات اسپتال میں گزاری تھی، جس کے بعد ان کی عوامی مصروفیات محدود کردی گئی تھیں۔

ڈاکٹروں کے آرام کرنے کے مشورے پر انہوں نے بدھ کو سینئر وزرا ءکے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس بھی ملتوی کردیا تھا۔

گزشتہ روز وزیراعظم لز ٹرس کی نامزدگی کے موقع پر ان کی ایک تصویر بھی جاری کی گئی تھی۔

ملکہ الزبتھ دوم 1952 سے برطانیہ سمیت دیگر درجن بھر ممالک کی ملکہ ہیں۔ رواں برس انہیں تخت نشیں ہوئے 70 برس مکمل ہوچکے ہیں ، اس موقع پر ان کی تاج پوشی کی ڈائمنڈ جوبلی بھی منائی گئی تھی۔

ملکہ کی صحت سے متعلق خبروں پر وزیرِ اعظم برطانیہ لز ٹرس ، برطانیہ میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائد حزبِ اختلاف کیئر اسٹارمر اور برطانوی دارالعوام کے اسپیکر لنزے ہوئل نے بھی اپنے پیغامات میں فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔

ملکہ برطانیہ

الزبتھ دوم

Comments are closed on this story.