Aaj News

امریکہ نے شرح سود پھر بڑھا دی، پاکستان پر سنگین اثرات ہوں گے

مہنگائی بڑھنے پر فیڈرل ریزرو نے مسلسل چوتھی مرتبہ بڑا اضافہ کیا
شائع 03 نومبر 2022 09:08am

امریکا میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے بعد امریکی فیڈرل ریزور نے مہنگائی سے نمٹنے کے لیے شرح سو میں 0.75 فیصد اضافہ کردیا۔ پاکستان جیسے ملکوں پر اس کے گہرے اثرات ہوں گے۔

امریکہ میں حالیہ مہینوں کے دوران شرح سود میں چھٹی مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے اور ملک کی شرح سود 40 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ مسلسل چوتھا موقع ہے کہ شرح سود میں 0.75 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو ایک بڑا اضافہ شمار ہوتا ہے۔

آخری مرتبہ 1980 کے عشرے یمیں شرح سود میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اس وقت مہنگائی 14 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔

شرح سود بڑھنے سے کیا ہوگا

چیئرمین امریکی فیڈرل ریزور جیرول پاول کا کہنا ہے شرح سود بڑھنے سے ہر طرح کے قرضے مزید مہنگے ہو جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ میں کاروباری قرضوں، کریڈٹ کارڈ اور مارگیج پر شرح سود 3.75 فیصد اور 4 فیصد کے درمیان ہو جائے گی۔ یہ شرح سود کرونا وبا کے دنوں میں صفر فیصد تھی۔ پاکستان کے لحاظ سے یہ شرح سود شاید زیادہ معلوم نہ ہو لیکن امریکہ میں یہ عمومی شرح سود کا دگنے سے بھی زائد ہے۔

پاول نے اشارہ دیا کہ شرح سود میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ رواں برس کے اختتام تک 4.4 فیصد ہو جائے گی۔ جب کہ 2024 سے اس میں کمی آنا شروع ہو گی۔

سرکاری بینک شرح سود مہنگائی سے نمٹنے کے لیے بڑھاتے ہیں۔ شرح سود بڑھتی ہے تو اشیا کی طلب کم ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھنا رک جاتی ہے۔

پاول نے بتایا کہ فیڈرل ریزرو کو مہنگائی کی شرح 2 فیصد تک لانے کا ہدف دیا گیا ہے اور جب تک یہ ہدف حاصل نہیں ہوتا شرح سود میں اضافہ جاری رہے گا۔

پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے

امریکہ میں شرح سود بڑھنے کے دنیا بھر پر اثرات ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عالمی معیشت ڈالر سے جڑی ہے۔

چونکہ امریکہ میں شرح سود عموماً بہت کم ہوتی ہے دنیا بھر کے سرمایہ کار ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ لگاتے ہیں تاکہ زیادہ منافع کما سکیں۔ اس طرح کی سرمایہ کاری کو عموماً خطرے سے خالی نہیں سمجھا جاتا لیکن زیادہ شرح منافع کی وجہ سے سرمایہ کار یہ خطرہ مول لیتے ہیں۔

جیسے ہی امریکہ میں شرح سود بڑھتی ہے سرمایہ کاروں کے لیے امریکہ کے اندر ہی سرمایہ لگانا زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں پر سرمایہ کاری محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ خود ترقی پذیر ممالک کے سرمایہ کار بھی امریکہ میں پیسہ رکھنا محفوظ سمجھتے ہیں۔

لیکن اس سے بھی زیادہ بڑا اثر ڈالر کے ریٹ پر پڑا ہے۔ ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے اور نتیجے میں پوری دنیا میں بھونچال آجاتا ہے۔

غریب ملکوں کا قرض راتوں رات بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے حکومت کے لیے معیشت سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان حکومتوں کو یہ مشکل آ پڑتی ہے کہ قرض پر سود دیں یا بجٹ ترقیاتی منصوبوں پر لگائیں۔ نتیجہ بے روزگاری میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

دنیا بھر میں خام تیل، اناج سمیت مختلف اشیا کی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے یہ تمام اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے لیے ان کی قیمت غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر کے پیچھے یہ عوامل ہیں اور پی ٹی آئی بھی اپنی حکومت ختم ہونے سے پہلے یہی بات کہہ رہی تھی۔

چونکہ امریکی شرح سود بڑھنے کے سبب سرمایہ کاروں کا رخ اس طرف ہو جاتا ہے تو ان سرمایہ کاروں کو روکنے کے لیے ترقی پزیر ممالک کے سرکاری بینک بھی شرح سود بڑھا دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں میں قرض پر شرح سود بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔ ان ملکوں میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نجی شعبے میں ملازمت و کاروبار کے مواقع پر ضرب پڑتی ہے۔

امریکی شرح سود سود بڑھنے کا غریب ملکوں پر ایک اور منفی اثر ان کی برآمدت میں کمی کی صورت میں ہوتا ہے۔ امریکہ دنیا کی ایک بڑی منڈی بھی ہے۔ جب وہاں شرح سود بڑھتی ہے تو امریکی صارفین کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے۔ امریکہ میں دیگر اشیا کی طرح ترقی پذیر سے ممالک سے آنے والی اشیا کی فروخت بھی کم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امریکی درآمد کنندگان ترقی پذیر ملکوں سے سامان منگوانا بند کردیتے ہیں۔

امریکی شرح سود میں اضافے کی مضمرات پاکستان پہلے ہی بھگت رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمت ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور قرضے مہنگے ہونے کی وجہ سے بالخصوص تعمیراتی شعبے میں کام بند ہو رہا ہے۔ امریکہ میں شرح سود بڑھنے سے یہ مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک فوری اثر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید متاثر ہوں گی۔ اگر عالمی منڈی میں قیمت کم بھی ہوتی ہے تو ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو اس کا فائدہ نہیں ہوگا۔

Comments are closed on this story.

مقبول ترین