سپریم کورٹ نے پاناما پیپرزکیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی
فائل فوٹواسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اگر800افراد کی تحقیقات شروع کی تو20سال لگ جائیں گے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب خود ساختہ جلا وطنی میں چین گئے توہم کیا کریں ۔
چیف جسٹس نے کہاکہ جوابات سے لگتا ہے مقدمہ کا فیصلہ نہیں چاہتے ،ایک درخواست میں 1947سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی درخواست 4فلیٹس تک محدود ہے اسے پہلے سنیں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے کہ کل 6636 دستاویزات جمع کرائے گئے جن کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ایک دستاویزصرف اخباری خبریں ہیں، انہوں نے کہا کہ تراشے گئے اخباری دستاویز کوئی ثبوت نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اخبارایک دن خبرہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں ۔
جسٹس عظمت نے حامد خان سے استفسارکی کہ پہلے چارفلیٹس کی بات کی اب 1982 سے لے کراب تک کے دستاویزات جمع کرادیئے جن کا کوئی سر ہے نہ پیر ،اگرسارے ریکارڈ کا جائزہ لیا توچھ ماہ میں بھی رپورٹ نہیں آئے گی ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جلد ازجلد معاملہ نمٹانا چاہتے ہیں ،انہوں نے وزیراعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ سے جواب جمع نہ کرنے کا استفسارکرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ جمع نہیں کرانا توہمیں بتا دیں۔ جس پراکرم شیخ نے عدالت سے وقت مانگتےہوئے کہاکہ حسن اورحسین نوازپاکستان میں مقیم نہیں ،مریم نواز کی جانب سے دستاویزات جمع کروا دی ہیں ۔
قطرکے سربراہ کا ایک دستاویزصرف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں جس پرعدالت کا کہنا تھاکہ دستاویزریکارڈ پرلائے ہیں تو دوسرے فریق کوبھی دینا پڑے گا۔
اکرم شیخ نے قطرکے وزیرخارجہ کی جانب سے دستاویزات جمع کرانے کی اجازت مانگی توعدالت کا کہنا تھاکہ یہ شخصیت بطورگواہ عدالت میں پیش ہوں گے اکرم شیخ نے قطرکے وزیرخارجہ کی دستاویزات عدالت میں جمع کروائیں ۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسارکیا کہ کیا یہ کوئی قابل اعتماد دستاویزات ہیں دستاویزتوچند دن پہلے تیارکی گئی ہیں ۔
اکرم شیخ نے شریف خاندان کی 1972 سے اب تک کی تفصیلات بتائیں تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ وزیراعظم کے عوامی موقف میں اوران کے بیان میں فرق ہے ۔ جس پر اکرم شیخ نے یہ بات واضح کی کہ وہ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل ہیں نہ کہ نوازشریف کے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا جواب سلمان بٹ دیں گے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔