استھما (دمہ) سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر

شائع 02 مئ 2017 06:05am

asthma

استھما(دمہ) ایک ایسا مرض ہے جس سے دنیا بھر میں تقریباً235ملین  لوگ متاثر ہوتے ہیں ، بار بار سانس کا اکھڑنا اور  گھبراہٹ اس مرض کی بنیا دی علامات ہیں ۔استھما ایک خطرناک مرض ہے   جسے  چند احتیاطی تدابیر اپنا کر  کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اس بیماری کو بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔

دو مئی کو پوری دنیا میں دمہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے ،اس دن کے موقع پر   ایک  تحقیق کے ذریعے   یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ  اس بیماری میں کس  طرح احتیاطی تدابیر کی جاتی ہے۔

٭ناروے  میں ہونے والی ایک تحقیق  کے مطابق  استھما کا خطرہ ان بالغ افراد میں بڑھ جاتا ہے جو بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق  وہ لو گ جنہیں سونے میں مشکل ہوتی ہے   ان میں اگلے 11 سالوں میں 65 فیصد سے 108 فیصد تک  دمہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جن کی آنکھ  نیند کے درمیان میں کھل جاتی ہے  اور دوبارہ مشکل سے نیند آتی ہےاور ان کے ساتھ  تقریباً ہر رات ایسا  ہوتا ہے ایسے لوگوں میں 36فیصد سے 92فیصد تک دمہ ہونے کا خطرہ   بڑھ جاتا ہے،ریسرچ کے نتائج کے مطابق    لوگوں کو اپنی نیند کا خیال رکھنا چاہئے اور پوری نیند لینی چاہئے۔

٭ سوئزر لینڈ میں 2016 میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق شیر خوار بچوں کو  ایک سال تک ماں کا دودھ پلانے سے  استھما کے حملے سے بچایا جاسکتا ہے،تحقیقاتی ٹیم کے مطابق  جب بچوں کو   ماں کا دودھ پلایا جارہا ہوتا ہے اس وقت  27فیصد   استھما ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

٭کینیڈین تحقیق کے مطابق وہ تمام لوگ جو استھما کا شکار ہیں  یوگا ان کیلئے بےحد مفید ہے ،ریسرچ ٹیم   نےاستھما کا شکار  23 برس کے 1 ہزار 48 افراد   سے روزانہ کی بنیاد پر یوگا کروایا جبکہ اس دوران وہ لوگ اپنا  ریگولر علاج بھی کروارہے تھے ،نتائج کے مطابق ان افراد میں   تنفس کا نظام بہتر ہوگیا۔

٭کنساس  یونیورسٹی کی 2016 میں ہونے والی  ایک تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین میں   وٹامن ڈی کی مناسب مقدار بچے میں   دمہ  کا مرض   ہونے کا خطرہ کم کردیتی ہے ،حاملہ خواتین کو چاہئے کہ وہ   ایسی جگہ رہیں جہاں سورج کی روشنی مناسب مقدار میں پہنچتی ہو کیو نکہ وٹامن ڈی  حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ سورج کی شعائیں ہیں ۔سورج کی شعاؤں سے بچے میں 25 فیصد تک دمہ ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

نوٹ:یہ تحریر محض عام معلومات عامہ کیلئے دی جارہی ہے

Thanks to:hindustantimes.com