شاعرحبیب جالب کوہم سےبچھڑے 23 برس بیت گئے
لاہور:اردو ادب میں انقلابی شاعر کے طور پر پہچان رکھنے والے معروف شاعر حبیب جالب کی آج تئیسویں برسی منائی جارہی ہے، انقلابی سوچ کے مالک حبیب جالب ایخر دم تک معاشرے کے محکوم عوام کو استحصالی طبقے سے نجات دلانے کیلئے جدو جہد کرتے رہے۔
اٹھائیس فروری انیس سو اٹھائیس کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولنے والے انقلابی شاعر حبیب جالب نے اوائل عمر سے ہی مشق سخن شروع کردی تھی،تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی آگئے اور سیاسی جدوجہد میں حصہ لیا،یہی دور تھا جب انہوں نے معاشرتی نا انصافیوں کو انتہائی قریب سے دیکھا جو بعد ازاں ان کی نظموں کا موضوع بن گئیں۔
حبیب جالب نے اپنے مشاہدات کو نتائج کی پرواہ کیے بغیر اشعار کے قالب میں ڈھالا، حبیب جالب نے جنرل ایوب اور پھر جنرل ضیاالحق کے دور آمریت میں کئے مقدمات میں قید و بند کی صعبتیں بھی برداشت کیں۔
حبیب جالب نے کئی مشہور پاکستانی فلموں کیلئے گیت بھی لکھے جن میں فلم زرقا، ہم ایک ہیں، موت کا نشہ، ناگ منی، دو راستے اور زخمی قابل ذکر ہیں، وقت کے حکمرانوں کو اپنی شاعری سے للکارنے والے حبیب جالب کو دنیا سے گزرے تئیس برس بیت گئے لیکن ان کی انقلابی شاعری آج بھی زبان زد عام ہے۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔