ذہنی دباؤ کی سات خاموش علامتیں
ذہنی دبائو کی کئی وجوہات ہوتی ہیں،کچھ لوگ بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر ذہنی دبائو میں آجاتے ہیں،ڈاکٹرز کے مطابق جو لوگ ہر بات پر اسٹرس لیتے ہیں، ان کی صحت خراب ہونے لگتی ہے۔
اکثر لوگ جب بھی ذہنی دبائو سے دوچار ہوتےہیں تو اس کے چہرے پر دانے یاسر میں شدید درد جیسی شکایات ہونی لگتی ہیں۔
لیکن اس کے علاوہ بھی ذہنی دبائو میں آنے کی کئی ساری خاموش علامتیں ہیں، جن کے بارے میں جان کے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ذہنی دبائو انسانی جسم کے لیے کتنا خطرناک ہے۔
٭الرجی

اگر آپ کو اچانک الرجی کی شکایت ہونے لگے اور بھی بہت زیادہ تو عین ممکن ہے کہ آپ اسٹرس سے دوچار ہیں۔ جب انسانی جسم میں اسٹرس حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہ کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتا ہے اور الرجی بھی اسٹرس کی ایک صورت ہے۔اسٹرس آپ کے مدافعتی نظام کو کمزور کردیتا ہے جس کے باعث جسم کے مختلف حصوں میں الرجی نمودار ہونے لگتی ہے۔ جس کے نتیجے میں آپ کو صابن ، لوشن اور دیگر چیزوں سے بھی الرجی محسوس ہونے لگتی ہے۔
٭ وزن کا گھٹنا اور بڑھنا

جب انسان شدید اسٹرس کا شکار ہوتا ہے تو اس کا وزن کبھی بڑھ جاتا ہے یا پھر کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اسٹرس کے باعث انسانی جسم کا نظام ہاضمہ صحیح طرح کام نہیں کرتا ، انسان جو بھی کھاتا ہے وہ صحیح طرح ہضم نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں وزن بڑھ جاتا ہے۔
اسٹرس کی ایک اور علامت یہ بھی ہے کہ اس میں کچھ لوگوں کی بھوک بالکل ختم ہوجاتی ہے یا پھر کچھ لوگوں کو حد سے زیادہ بھوک لگتی ہے۔
٭ مسلسل سر درد

اگر آپ کو زندگی میں کبھی سر کی شکایت نہیں رہی ہو اور اچانک سےہر دوسرے دن آپ کو سر درد ہونا شروع ہوجائے تو ممکن ہے کہ آپ ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آدھے سر کا درد بھی ذہنی دبائو کی وجہ سے ہوتا ہے۔
٭ مسلسل نزلہ زکام

اسٹرس سے سب سے زیادہ مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے جب کوئی ذہنی دبائو کا شکار ہوتا ہے تو اسے مسلسل نزلہ زکام گھیرے رکھتا ہے۔ ہر دوسرے دن نزلہ زکام اس بات کو بیان کرتا ہے کہ آپ ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔
٭ چہرے پر دانے
![]()
چہرے پر دانے آنا اسٹرس کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اسی طرح چہرے پر باریک دانوں کا اچانک سے نمودار ہوجانا بھی ذہنی دبائو کی علامت ہے۔ جب انسان ذہنی دبائو کا شکار ہوتا ہے تو چہرے پر ضرورت سے زیادہ آئل بنانا شروع ہوجاتا ہے، جس کے بعد آپ کے چہرے پر دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔
٭ سستی طاری رہنا

ذہنی دبائو میں ہونے کی وجہ سے انسان میں سستی طاری ہوجاتی ہے، کچھ لوگوں کا کوئی کام کرنے کا دل نہیں چاہتا، کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا، ان کو الگ تھلگ رہنے کا دل چاہتا ہے، مسلسل اکیلے رہنے کے باعث لوگو ں کا ذہنی دبائو ڈپریشن کی صورت اختیار کرلیتاہے۔
٭ بالوں کا گرنا

روز انہ سو بالوں کا گرنا کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔ لیکن ایک دن میں بالوں کا بڑی تعداد میں گرنا یقیناً خطرے کی بات ہے اور عین ممکن ہے آپ ذہنی دبائو میں ہیں جس کی وجہ سے آپ کے بال جھڑ رہے ہیں۔جب بال گرتے ہیں تو فوراً ہی نئے بال ان کی جگہ لے لیتے ہیں اور اس عمل کو فولکلیس کہا جاتا ہے۔ ذہنی دبائو کی باعث یہ عمل متاثر ہوجاتا ہے ، جس کے نتیجے میں بال گرتے ہیں اور نئے بال آنے رُک جاتے ہیں۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔