اگرمجرم ہوں تو حکومت پکڑ لے، عمران
میں سیاست میں صرف ایک نقطے پر آیا کہ کرپشن کا خاتمہ کرسکوں ، عمران خاناسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاناما لیکس کی تحقیقات میں اپنے اوپر لگے الزامات کی تحقیقات کی پیشکش کر دی۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں پاناما لیکس کے معاملے پر خطاب میں عمران نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فرض ہمارے سوالا ت کا جواب دینا ہے ناکہ محض الزام تراشی کرنا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران 'بنی گالہ میں ان کے گھر کو محل سے تشبیہ دیتے ہوئے پوچھا اس گھر کیلئے پیسہ کہاں سے آرہا ہے ؟'
عمران نے کہا کہ وزیر اعظم سوال پوچھنے کے بجائے اپنے اختیارات استعما ل کرتے ہوئے ْ میرے خلاف تحقیقات کروائیں۔ وزیراعظم کاکام مجھ پر الزام لگانا نہیں بلکہ پکڑنا ہے'۔
انھوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوریت بچائیں کیونکہ' فوج اور پولیس جمہوریت نہیں بچاتیں، جتنی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اتنا ہی ملک ترقی کرتا ہے'۔
انھوں نے کہا کہ وہ صرف کرپشن ختم کرنے کے مقصد سے سیاست میں آئے۔
اپنے اثاثوں کے حوالے سے انھوں نے واضح کیا کہ ان کا کوئی اثاثہ بیوی بچوں کے نام نہیں سب کچھ ان کےنا م ہے۔
شوکت خانم اسپتال پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں عمران نےوضاحت کی کہ 1997 میں لوگوں نے اسپتال کیلئے چندہ دینا بند کردیا۔
' حکومت محض اس لئے اسپتال کو تباہ کرنے کی کوشش اس لئے کر رہی ہے کیونکہ میں تنقید کر رہا ہوں'۔
'نواز شریف نے شوکت خانم اسپتال کو ایک پلاٹ 1987 میں اور دوسرا 1992 میں دیے تھے'۔
اس موقع پر انھوں نے پیشکش کی کہ شوکت خانم اسپتال کے تمام اکاؤنٹس سامنے لائے جائیں ۔
اپنے کیرئیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ' 12 سال کر کٹ کھیل کرمیں نے انگلینڈ میں فلیٹ لیا، کوئی مجھے بتا دے کہ کیر ئیر کے دوران مجھ پر میچ فکسنگ کا الزام لگا؟'
لندن میں موجود اپنے فلیٹ کے بار ے میں انھوں نے بتایا کہ اس فلیٹ میں میرے کئی انٹرویوز ہوئے ، لیکن میں نے کبھی اسےنہیں چھپایا۔ میاں صاحب نے پوچھا تیز ہوا سے فلیٹ اڑ گیا تو کیا ہوگا؟
انھوں نے کہا کہ جن ٹی او آرز پر تحقیقات کرنی ہے تو اس پر میری بھی تحقیقات کریں۔
عمران خان نے مریم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نواز شریف کی زیر کفالت تھیں اور وہ دو کمپنیوں کی مالک ہیں لہذا وزیراعظم براہ راست ملوث ہوئے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں کرپشن کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔
احتساب مانگنے والوں کا اپنا دامن صاف ہونا چاہیئے،خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کیا خدشہ تھا کہ وہ کل ایوان سے باہر چلے گئے؟
'شوکت خانم اسپتال کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتےلیکن سب سے زیادہ نقصان اس ادارے کو خود عمران خان نے پہنچایا ۔ عمران شوکت خانم کے پیچھے چھپتے ہیں تو وہ اسے اور زیادہ متنازعہ ہو جاتے ہیں'۔
ان کا مزید کہنا ہے تھا کہ آج احتساب کا مطالبہ وہ کررہے ہیں جن کا دامن خود داغدار ہے۔' ہم احتساب سے نہیں بھاگ رہے، احتساب مانگنے والوں کا اپنا دامن صاف ہونا چاہیئے'۔
انھوں نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا 'کنٹینر پر کھڑے ہوکرآپ گالیاں دیں گے تو آپ کی نیک نیتی بھی شک سے دیکھی جائے گی۔انہوں نےکنٹینر پر کھڑے ہوکر خورشید شاہ کو گا لیاں دیں'۔
آف شور کمپنیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ' 4 سال پہلے عمران خان نے ایک کیس میں کہا بیرون ملک آف شور کمپنی غیر قانونی نہیں ہوتی اور اب اپنی آف شور کمپنی کی تشریح یکسر تبدیل کردی۔ وہ موسم کی طرح آف شور کمپنی کی تشریحات تبدیل کرتے رہتے ہیں'۔
انھوں نے کے پی کے کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پشاور کو مدینے کی ریاست بنائیں۔
خورشید شاہ کا قومی اسمبلی سے خطاب
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پاناما لیکس سے متعلق بات کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ سوالات کے جواب نہ ملنے پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ چونکہ پانامالیکس کا معاملہ وزیر اعظم سے منسلک ہے، اس لیے وزیر اعظم کو بار بار کہا کہ پارلیمنٹ میں آکے خطاب کریں، ان کو کہا کہ آپ کا فورم پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمنٹ میں ہمیں ہر مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہے،اس میں ناراض ہونے والی کیا بات ہے؟
ٹیکس کے حوالے سے خورشید شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1939 میں قائد اعظم نے 4490 ٹیکس دیا اور آپ نے(وزیر اعظم ) 1992 میں 2700 ٹیکس دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کمپنی میں 8 سے 10 ڈائریکٹر ہیں اور 23 سال میں 13 کمپنیاں 10 ارب روپے کا ٹیکس دے رہی ہیں، وزیراعظم نے کہا ہم 10 ارب روپے کا ٹیکس دیتے ہیں۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔