کیپٹن جیک برڈی سے کیپٹن یوسف اسپیرو تک
-POCآپ مشہور ہالی وڈ فلم سیریز 'پائریٹس آف دی کیریبئین' کے مرکزی کردار کیپٹمن جیک اسپیرو کو تو جانتے ہی ہوںگے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ کردار ایک اسلام قبول کرنٓے والے بحری قذاق یوسف رئیس کی اصل زندگی کو دیکھ کر بنایا گیا تھا۔
اصلی کیپٹن جیک کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے۔ جیک برڈی فیورشیم، کینٹ انگلینڈ میں پیدا ہوا تھا۔ یہ بحیرہ روم میں سفر کرنے والا ایک مشہور ملاح تھا۔
اپنی زندگی کے آخر سالوں میں اس نے اسلام قبول کیا اور الجیرئین گورنر کے زیر نظر خلافت عثمانیہ کیلئے کام کرتا رہا۔
سال 1553 میں جیمز وارڈ کے نام سے پیدا ہونے والا یہ شخص علاقائی مچھیروں کے ساتھ کام کر کے اپنا گزر بسر کرتا تھا۔
فیورشم اس وقت اسمگلروں اور بحری قذاقوں کیلئے ایک جنت تھا۔ وارڈ کو کسی طرح ملاحی کا شوق پیدا ہوا اور اس نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا۔
انگلیںڈ کے ہسپانوی فوجی بیڑے سے ہارنے کے بعد جیک کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے دئے گئے لائسنس کے تحت نجی مسلح جہاز چلانے کی نوکری دی گئی۔ جس کے بعد وہ واپس اپنے آبائی قصبے میں آیا جہاں اسے بادشاہ کی جانب سے ایک نیا کام سونپا گیا تھا۔
لیکن اس نے قانون کی راہ پر چلنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کو چھوڑ دیا اور ایک نئی زندگی اپنائی۔ نوجوان جیک ایک بدنام اور خطرناک بحری قذاق کے روپ میں ابھرا اور 'جیک برڈی' کے نام سے مشہور ہوا۔
بحیرہ روم میں مرچنٹ شپس پر حملوں کے دوران جیک نے ایک مسلمان ملاح کے ساتھ مل کر تونیسیا کے نیول بیس کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس کے زریعے وہ مزید آسانی سے انگلینڈ کے تجارتی جہازوں کو پکڑ سکتا تھا۔
اپنی اس جستجو کے بعد اس نے کنگ جیمز ون سے شاہی معافی کی درخواست کی جسے فوراً مسترد کردیا گیا اور وہ واپس تونیسیا لوٹ آیا۔
الجائر کے خطے میں موجود خلافت عثمانیہ کے حاکم نے کیپٹن جیک کو تونیسیا میں پناہ دی۔ اس کے اگلے ہی سال جیک برڈی نے اپنے پورے جہازی عملے کے ساتھ اسلام قبول کیا اور یوسف رئیس کے نام سے جانا گیا۔
تونیسیا میں رہائش کے دوران جیک کو چھوٹے پرندوں سے اتنا لگاؤ ہو گیا تھا کہ وہاں کے آبائی لوگوں نے اسے جیک 'اسفُر' یعنی اسپیرو (چڑیا) پکارنا شروع کردیا تھا۔
سال 1612 میں ایک انگلش درامہ نگار رابرٹ ڈابورنے نے جیک کے اسلام قبول کرنے پر 'کرسچن ٹرنڈ ترک' کے نام سے ایک ڈرامہ بھی لکھا تھا۔
تو اگلی بار جب آپ فلم 'پائریٹس آف کیریبئین' دیکھیں تو کیپٹن یوسف اسپیرو کو مت بھولئےگا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔