ذہنی دباؤ آپ کی ظاہری خوبصورتی کو متاثر کرسکتا ہے
ذہنی دباؤ آپ کی شخصیت پر برا اثر ڈالتا ہے۔ وقت سے پہلے بالوں کا سفید ہونا، جلد پر جھریاں اور کیل مہاسوں کا نمودار ہونا، جلد کی ناہموار سطح اور گہرے حلقے وہ مسائل ہیں جن کا تعلق آپ کی خوبصورتی سے ہوتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے کچھ بھی استعمال کرنے سے کوئی خاص فرق اس وقت تک نہیں پڑے گا جب تک ذہنی حالت پُرسکون نہیں ہوگی۔
بیوٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ انسان کی ذہنی حالت کا اثر اس کی جلد کی صحت پر براہ راست ہوتا ہے۔ کم عمر افراد میں ذہنی دباؤ کی بناء پر ظاہر ہونے والی علامات میں وقت سے پہلے جلد کی جھریاں اور ناہموار رنگت سب سے ذیادہ عام ہیں۔ ٹینشن اور پریشانی زندگی کا حصہ ہیں، البتہ اس کے اثر کو کم کرنے کے لئے کچھ کیا جاسکتا ہے۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے ظاہر ہونے والی علامات یہ ہیں۔
کیل مہاسے
جب ذہن دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو جسم میں اسٹریس پیدا کرنے والے ہارمونز کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ ہارمونز معدے میں فادہ مند اور نقصان دہ جراثیم کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ جب پیٹ کا نظم وضبط خراب ہوتا ہے تو جلد پر کیل مہاسے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹریس پیدا کرنے والے ہارمونز جلد میں غیر ضروری چکنائی کو بڑھا دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مسام بند ہوجاتےہیں اور نتیجاتاً جلد کیل مہاسوں کا شکار ہوجاتی ہے۔

ناہموار رنگت اور جلد
ذہنی دباؤ جلد تک خون کی پہنچ کو رونے کا کام بھی کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے جلد کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی۔ جب جلد ضروری چیزوں سے محروم ہوتی ہے تو تھکن زدہ اور پھیکی لگنے لگتی ہے۔ جلد میں نمی ختم ہونے کے باعث نرمی اور چمک بھی ماند پڑ جاتی ہے اور جلد ناہموار اور دھبے دار ہوجاتی ہے۔

آنکھوں کے سیاہ حلقے
ذہنی دباؤ کا شکار افراد نیند کی کمی کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ نیند کی کمی آنکھوں کو تھکن زدہ اور ان کے گرد پانی جمع کردیتی ہے جس سے سیاہ حلقے اور سوجن پیدا ہوتی ہے۔

جلد کی خشکی
ذہنی دباؤ میں اکثر لوگ پانی کم پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی انتشار کم کرنے کے لئے چائے یا کافی کا ضرورت سے ذیادہ استعمال جلد میں خشکی پیدا کرتا ہے۔

جھریاں
جب انسان ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتا ہے تو پریشانی سے ماتھے اور باقی چہرے پر شکن آجاتی ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر جلد سے کولاجِن کا خاتمہ کرتا ہے جس کی وجہ سے جلد کی لچک ختم ہوجاتی ہے۔ بے لچک جلد پر یہ شکنیں مستقل اور پکی ہوجاتی ہیں۔

بالوں کا جھڑنا اور وقت سے پہلے سفید ہونا
ذہنی دباؤ نئے بال اُگنے سے روکتا ہے اور موجودہ بالوں کو بھی کمزور کرتا ہے جو جھڑنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بالوں کی سفیدی کی اہم وجہ میلانِن کی پیداوارختم ہوجانا ہے جو ذہنی دباؤ کی بنا پر ہوتا ہے۔ بالوں میں خشکی دماغ منتشر ہونے کی بنا پر ہوتی ہے اور یہ بھی بال جھڑنے کی اہم وجہ ہوتی ہے۔

ذہنی دباؤ کے مضر اثرات سے اپنی جلد کو ان طریقوں پر عمل کر کے محفوظ رکھیں۔
٭ غذا میں پھل اور سبزی کا استعمال ذیادہ کریں جو نظام ہضم کو بہتر بناتے ہیں۔
٭ چائے اور کافی کا استعمال کم کردیں۔ اس کے بجائےشہد کے ساتھ زعفران کی چائے لینا بہتر ہوگا۔
٭ باہر نکلنے سے پہلے اپنا چہرہ کاٹن کے کپڑے سے اور آنکھیں سن گلاسز سے ڈھک لیں۔
٭ غذا میں چینی، میدے، مرچیں اور نمک کی مقدار کم کردیں۔ چکنائی سے بھرپور کھانا کھانے سے گریز کریں۔
٭ جلد کی صفائی کے لئے قدرتی چیزیں استعمال کریں۔ ان میں بیسن، دہی اور ملتانی مٹی شامل ہیں۔ ٹونر کے طور پر گلاب کا عرق، لیموں اور شہد استعمال کیا جسکتا ہے۔
٭ آنکھوں کے گرد حلقوں پر رات کو سونے سے پہلے بادام کا تیل لگائیں۔
٭ ہفتے میں ایک مرتبہ سر میں زیتون کے تیل کی مالش کریں۔
٭ چہرے کی جھریاں ختم کرنے کے لئے زیتون کا تیل اور جلد کو نرم اور چمکدار بنانے کے لئے ناریل کا تیل چہرے پر رات کو لگائیں۔
٭ پانی اور پھلوں کے رس کا ذیادہ سے ذیادہ استعمال کریں۔
Thanks to HT
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔