پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ جانیوالے مزاحیہ فنکار
حس مزاح کسی بھی سوگوار سے سوگوار ماحول کو تبدیل کرکے اسکے خوشگواربنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستانی قوم کا شمار ایسے اقوام میں ہوتا ہے جس نے نہ صرف کئی زرخیز ذہن پیدا کیے ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ کئی ایسے مزاحیہ اداکار بھی دیئے ہیں جو کہ پلک جھپکتے ہیں اپنی حاضر مزاجی سے کسی بھی سوگوار ماحول یا ناخوشگوار طبیعت کو خوشگواری میں بدلنے میں ملکہ رکھتے ہیں ، لیکن صد افسوس اب یہ کامیڈین ہمارے درمیان موجود نہیں رہے ۔ ذیل میں ایسے ہی کامیڈین بیان کیے گئے ہیں۔
ببو برال
ببو برال کا شمار پاکستان کے معروف مزاحیہ اسٹیج اور ٹی وی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ گجرانوالہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ معروف گلوکاروں کی ممکری کی وجہ سے کافی مقبول تھے۔ وہ بھی سولہ اپریل دوہزار گیارہ کو پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ گئے۔ برال کینسر ، گردے اور یرقان کے عارضے میں مبتلا تھے۔ اور لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں ان کا علاج جاری تھا۔
مرتضی حسین عرف مستانہ
مرتضی حسین پاکستانی اداکاروں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی مقبولیت مستانہ کے نام سے ہوئی۔ وہ بھی گیارہ اپریل دوہزار گیارہ کو پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ کر چلے گئے۔
سکندر صنم
سکندر صنم کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ انہوں نے اسٹیج پر ممکری سے کافی مقبولیت حاصل کی۔ سکندر صنم کے والد عبدالستار شوقین بھی بھارت میں بحیثیت شاعر کافی مقبول تھے۔ ستمبر دوہزار بارہ میں سکندر صنم کے کینسر میں مبتلا ہونے کی تشخیص ہوئی۔ وہ پانچ نومبر دوہزار بارہ کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔
سفیر اللہ صدیقی المعروف لہری
سفیراللہ دو جنوری انیس سو انتیس کو کان پور بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے زمانہ طالبعلمی سے ہی ریڈیو اور اسٹیج سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے گیارہ مرتبہ نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ وہ تیراسی سال کی عمر میں تیرہ ستمبر دوہزار بارہ کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔
لیاقت سولجر
لیاقت سولجر کا شمار بھی پاکستان کے معروف کامیڈینز میں ہوتا ہے۔ وہ تیس مارچ دوہزار گیارہ کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ وہ ایک لائیو شو میں اپنے فن کے جوہر دکھارہے تھے کہ ان کو دل کا دورہ پڑ گیا تاہم جس کے بعد ان کو ہسپتال لے جایا گیا تو وہ جانبر نہ ہوسکے۔
خواجہ اکمل
خواجہ اکمل کا شمار بھی پاکستان کے معروف کامیڈین میں ہوتا ہے۔ وہ معروف ڈرامے بلبلے میں خوبصورت کے والد کا کردار نبھارہے تھے۔ وہ بھی اٹھائیس نومبر دوہزار سترہ کو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
معین اختر
معین اختر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ، وہ نہ صرف پاکستانی ٹیلی ویژن، فلم اور اسٹیج کے معروف اداکار تھے بلکہ ایک پرمزاح میزبان اور کئی ڈراموں میں مزاحیہ کردار بھی نبھاچکے تھے۔ تاہم یہ مایہ ناز کامیڈین بائیس اپریل دوہزار گیارہ کو پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ گیا۔
























اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔