پاکستان میں 2010 کی طرز کے خوفناک سیلاب کا خدشہ
کراچی: رواں برس ملک میں مون سون کی معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سال 2010 کے دوران آنے والے خوفناک اور تباہ کن سیلاب کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں بے پناہ تباہی مچی تھی۔
2010 کے سیلاب کے دوران جہاں بے پناہ جانی نقصان ہوا تھا، وہیں ملکی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان بھی ہوا تھا۔
اب ایک تشویش ناک الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان پھر سے خوفناک سیلاب اور تباہی کے دہانے پر ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس ملک میں مون سون کی معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہونے کا امکان ہے۔
معمول سے زیادہ بارشوں کے باعث پاکستان میں تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔
اس حوالے سے فیڈرل فلڈ کمیشن نے بتایا ہے کہ ملک میں ریکارڈ بارشوں اور برف باری کے بعد سپر فلڈ کا خدشہ ہے۔
ایف ایف سی کا کہنا ہے کہ آئندہ مون سون سے پہلے اقدامات نہ کئے تو بڑے تباہی آسکتی ہے۔
فیڈرل فلڈ کمیشن کے اہلکار احمد کمال نے حکومت کو آگاہ کردیا ہے کہ آئندہ مون سون میں تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے اس لیے حفاظت کے پیشگی اقدامات کرلیں۔
احمد کمال کے مطابق فلڈ کنٹرول سسٹم کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
انھوں نے وزارت خزانہ سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 15 ارب روپے رکھنے کی بھی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں رواں برس موسم سرما میں بھی معمول سے زیادہ بارشیں اور برفباری ہوئی ہے۔ بارشوں اور برفباری کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں سردی کی شدت برقرار ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔